پیر، 15 اکتوبر، 2018

میرا آخری اردو مضمون / تصنیف حیدر

یہ میرا اردو زبان میں آخری مضمون ہے۔آخری اس لیے کیونکہ اب میں اس زبان میں کچھ بھی لکھنے پر خود کو آمادہ نہیں پاتا ہوں۔میری آنکھ جن کتابوں کے درمیان کھلی تھی وہ زیادہ تر اردو کی تھیں۔میں نے جس سکول میں داخلہ لیا وہ اردو کا تھا اور جن لوگوں سے ابتدا میں ملنا جلنا رہا وہ اردو بولنے والے معاشرے کا حصہ تھے۔اس لیے یہ زبان میرے لہو میں ایسی رچ بس گئی کہ مجھے اس سے بہتر اپنے اظہار کا وسیلہ اور کوئی نہ مل سکا۔مگر میں اب اردو شاعری اور ادب دونوں سے قریب قریب اکتاچکا ہوں۔(فکشن کی بات الگ ہے کہ وہ کسی بھی زبان کا ہو، اس کا میرا ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک رہے گا)۔آپ اس مضمون کو میرا خودکشی نامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔میں اسباب پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ اتنے لجلجے اور گندے ہیں کہ اب ان کی طرف دیکھنے سے بھی مجھے گھن آتی ہے۔ہاں مگر کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں کا ایک تنگ دائرہ روزی روٹی کی عجیب سی ہوڑ میں پھنسا ہوا ہے۔میں نے بارہا یہ بات کہی ہے اور اپنے اس آخری مضمون میں ہندوستان میں رہنے والے اردو داں افراد سے بھی یہی بات کہوں گا کہ انہیں اپنے بچوں کو اس زبان سے نابلد ہی رکھنا چاہیے۔کلدیپ نیر نے اپنی سوانح میں لکھا ہے کہ حسرت موہانی نے انہیں تقسیم کے فورا بعد یہی مشورہ دیا تھا کہ اردو میں نہ لکھو۔ہندوستان میں اردو لکھنے والے کسی جمعہ اخبار میں شائع ہونے والے ضمیمہ کے پھٹے حال مضمون نگارسے زیادہ اور کچھ نہیں بن سکتے اور ان کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ یہ خالد جاوید، صدیق عالم اور ذکیہ مشہدی کو بار بار پیدا کرسکیں۔بار بار تو چھوڑیے۔میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر آپ مجھے بیس سے تیس سال کی عمر میں ہندوستان کا کوئی ایسا اہم نام بتادیں جو تخلیقی نثر پر دسترس رکھتا ہو تو میں ردی کے بھائو آپ کے ہاتھوں بکنے کو تیار ہوجائوں گا۔یونیورسٹیاں اور ان میں موجود اردو کے شعبوں کو دیکھ کر تو مجھے الٹی آتی ہے۔وہاں مدرسوں سے نکلنے والے قیٹ دماغ لوگ ٹھسے سے کرسیوں پر بیٹھے ہیں، وہ جن امتحانوں کو پاس کرکے یہاں تک پہنچتے ہیں ، ان کی کوئی تک ہی نہیں ہے۔یہ بے دماغ لوگ پروفیسر ہیں اور پروفیسر ہی ہوسکتے ہیں، جو کسی دوسری زبان میں لفظوں کے صحیح تلفظ تک سے واقف نہیں ہوتے۔میں نے جب ریختہ چھوڑا تھا تو سوال کیا تھا کہ آخر اردو بولنے والوں کی تنخواہ انگریزی بولنے والوں کی تنخواہ سے آدھی سے بھی کم کیونکر ہوتی ہے۔مگر وہ احتجاج بے وقوفی پر مبنی تھا، اردو والے اسی لائق ہیں۔ان کے یہاں علم کی تلاش، زیرکی اور دوسری زبانوں کے ادب سے واقف ہونے کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔میرا یقین نہ ہو تو کبھی کسی ادبی قسم کے 'سیمینار' یا 'سمپوزیم' میں تشریف لے جائیے۔پھر میں سوچتا ہوں کہ ہر زبان اور اس کے بولنے والے کسی نہ کسی طور پرایسے لوگوں کو ضرورdeserveکرتے ہیں جن سے دنیا میں ان کی بہترین نمائندگی ہو۔مگر اردو اس معاملے میں بھی قلیل دماغ لوگوں کی محتاج ہے جو عالمی اردو کانفرنس یا قطر، دبئی، لندن یا امریکہ میں ہونے والے مشاعروں کے آگے زبان نکالے گھومتے ہیں۔اردو کا کوئی بھی ادیب ، ادب کو لے کر اتنا کمیٹڈ ہے ہی نہیں کہ اس کے لیے کسی قسم کی قربانی دے سکے۔یہ اخباروں کا ادب لکھنے والے لوگ ہیں جو اتفاق سے رسالوں میں چھپنے لگے ہیں۔
اردو اب ان لوگوں کی زبان ہے جو ظاہری طور پر اپنے سفید کالروں پر لکھی گئی عبارت دنیا کو دکھاتے پھرتے ہیں اور اسی سفید کالر کے ساتھ دوسروں کی ذات (حتیٰ کہ مردہ افراد)پرکیچڑ اچھالنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔یہ اپنے اپنے مسلکوں اور اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرنے والے لوگوں کی زبان ہے۔یہ ان لوگوں کی زبان ہے، جو لڑکیوں کو تنہائی میں ننگے، فحش اور گھٹیا پیغامات بھیجنے سے نہیں چوکتے، انہیں اپنے دل کے سطحی جذبات کچی پکی نظموں اور غزلوں کے لفافے میں قید کرکے بھیجتے ہیں اور مجھ جیسے لوگوں کی عریانیت پسندی پر کھلے دل سے معترض ہوتے ہیں اور مجھے توبہ کی طرف راغب کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔کسی مشہور ہالی ووڈ فلم میں ایک کمال کا جملہ سنا تھا۔'آپ کبھی کسی شخص کو نہیں جان سکتے، جب تک اس سے آپ کی لڑائی نہ ہوئی ہو۔'اس بات کی صداقت ایسے ظاہر ہوئی کہ میں نے جب بھی کسی شخص سے اپنی مرضی سے فاصلہ بنایا(لڑائی تو خیر مجھ سے ممکن نہیں)اس نے گندی اور گھنونی سازشوں کا ایک ڈھیر لگادیا۔میں نے یہاں یہ بھی کرشمے دیکھے کہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے نہایت غلیظ زبان میں برا بھلا بکنے والے لوگ، کیسے ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کو 'بھائی جان!' ، 'حضور والا' اور 'سرکارورکار' کہہ کر مخاطب کرتے نظر آئے۔یہ کہانیاں لکھنے والے، شاعری کرنے والے اور عالمی ادب کی بن دیکھی واہ واہ کرنے والے اصل میں اندر سے اتنے خالی ہیں کہ ان کے اندر توادب کی ہلکی سی گرم ہوا تک کا گزر نہیں، بس پیدائش سے اب تک ایک قسم کا ہرا پانی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ سڑتا جارہا ہے۔
ذکر اگر شاعری کا ہوتو سوچ کر دیکھیے کہ اس زبان میں کس قسم کی شاعری ہورہی ہے۔یہاں لوگ غزل کہتے ہیں، اس کی بنیاد پر اپنی پہچان بناتے ہیں۔ٹچے اور چھچھورے قسم کے غزل گو شعرا کو جانے بھی دیجیے اور بڑے 'ادیبوں ' کو ہی دیکھیے تب بھی محسوس ہوتا ہے کہ ایک جامد قاموس سے نکلنے والی متواتر ایک ہی قسم کی لفظیات اور مضامین والی غزلیں ان لوگوں کی نہیں بلکہ ان کی نسلوں کی شناخت بن چکی ہیں۔یہ شاعری کے نام پر صدیوں سے لوگوں کو وہ بنا رہے ہیں، جو سڑک پر بنتے ہوئے انہی کو شرم آئے گی۔پھر ایسی شاعری کوئی کیوں اور کہاں تک پڑھے، جو اپنی طوالت میں شیطان کی آنت ہو اور اپنے تقدس میں خدا کا کلمہ۔بس اندھےبوروں کی طرح اس پر سر دھنتے رہیے تو ٹھیک وگرنہ سب بے کار۔
میری عمر بتیس سال ہے اور بتیس سال کی عمر تک اس بات کا اندازہ ہوجانا اتنا بھی برا نہیں کہ اردو ادب ، زیادہ تر شاعری سے عبارت ہے اور شاعری زیادہ تر بے وقوفی سے۔میں لوگوں کو اردو نہ پڑھنے کی تلقین کروں گا اور یہ بھی کہوں گا کہ وہ اگر اب اردو کا بھلا(کم از کم ہندوستان میں)چاہتے ہیں تودیوناگری رسم الخط کو زیادہ سے زیادہ عام کریں اور اسی میں لکھا اور پڑھا کریں۔تنو مند گوشت خور داڑھی والے ملائوں کو لات مار کر ایک دفعہ عقل سے کام لیجیے تو معلوم ہوگا کہ دیوناگری میں لکھنے سے آئندہ نسلوں کی دال روٹی کا بہتر انتظام ہوسکتا ہے۔بتیس سال کی عمر اس لحاظ سے بھی اتنی بری نہیں کہ انسان کسی دوسری زبان کی طرف دھیرے دھیرے ہی سہی ، بڑھ جائے۔وقت لگ سکتا ہے، خموشی کی بساط زیادہ لمبی اور توقف کی کھائی زیادہ گہری ہوسکتی ہے،مگر اب میں جس زبان کے قالب میں نظر آئوں گا وہ معاشی طور پر اتنی پست اور ذہنی طور پر اتنی پسماندہ نہیں ہوگی۔
ادبی دنیا یوٹیوب چینل پر کہانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔مگر اگلے سال تک کچھ لوگوں کے لیے ہوئے پراجیکٹس مکمل کرنے کے بعد ممکن ہے کہ وہ بھی بند ہوجائے۔میں ادب کی دنیا سے ایک قاری کی حد تک شاید ہی کبھی غائب ہوسکوں مگر اب فلسفیانہ قسم کی ادبی تحریریں اور عاشقانہ قسم کی مجنونانہ شاعری رات کو اکثر ایک برے خواب کی طرح میری دیوار پر وحشت آمیز رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اگر ان سے چھٹکارا حاصل نہ کیا تو میری ذہنی حالت کے نہایت بگڑ جانے کا اندیشہ ہے اور میں ایک ذمہ دار گھریلوشخص کے طور پر یہ خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں ہوں۔
مجھے اردو والوں سے کوئی شکایت نہیں۔انہوں نے بلراج مین را سے لے کر محمد سلیم الرحمٰن جیسے اہم ترین لکھنے والوں کی قدر نہیں سمجھی ۔میں تو خیر ایک نہایت حقیر ذرہ ہوں۔مگر اس بات کو سمجھنے کے لیے مجھے اسی برس کی لمبی قید کی ضرورت نہیں ہے۔میں اس بات سے دل برداشتہ تھا کہ کچھ لوگوں نے مجھ پر الزامات لگا کر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی۔مگر پھر میں نے سوچا کہ ہر زبان کے لکھنے والوں کے ضبط و تحمل اور ان کو نمایاں کرنے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔یہاں لوگ اپنی مٹھیوں میں اپنی دل شکنیوں کو پانسے کے معدوم اعداد کی طرح چھپائے رکھتے ہیں کہ موقع ملتے ہی سانپ کی طرح کسی پر چھوڑیں گے اور اچھل اچھل کر تماشا دیکھیں گے۔میں اس تہذیب کے نمایاں ہوتے ہی بہت دنوں تک کسی ٹروما کی کیفیت میں رہا، عجیب بات یہ ہے کہ اس سے کچھ قبل ہی میرے اندر کا لکھاری اور شاعر دونوں تصنیف حیدر دم توڑتے جارہے تھے۔یہ آخری وار تھا اور نہایت کارگر ، چنانچہ ان تمام لوگوں کو اس بات کی مبارکباد ضرورملنی چاہیے کہ وہ اپنے کام میں یقینی طور پر سو فی صدی کامیاب رہے ہیں۔
میرے فیس بک پیج پر اردو لکھنے اور جاننے والوں کی تعداد کم سے کم ہوگئی ہے۔سید کاشف رضا اور واجد علی سید سے میں کتابوں کے بارے میں جانتا ہوں اس لیے وہ دونوں میرے پسندیدہ افراد ہیں۔رامش میری دوست ہے اور وجاہت مسعود اور محمد شعیب میرے وہ محسن ہیں ، جن کی وجہ سے میں اپنے پیغامات ، الفاظ کے میووں میں ملا کر آپ تک پہنچاتا آیا ہوں۔رمشٰی اشرف، کومل راجہ اور شامل شمس کی شخصیات اپنے طرز زندگی، خیالات اور تفکر کی وجہ سے مجھے بے انتہا پسند ہیں اور صبا حسین کے بغیر تو زندگی کا تصور ہی ممکن ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے علاوہ اگر باقی افراد مجھ سے یا میں ان سے دور ہوجائوں تو ایسا کوئی مضائقہ نہیں۔
اپناخیال رکھیں اور خوش رہیں، آباد رہیں۔
٭٭٭

منگل، 11 ستمبر، 2018

گیارہ سو لفظوں کی روداد/ تصنیف حیدر


ہم لوگ بھی عجیب لوگ ہیں، خاموش زندگی ایک کونے میں گزار رہے ہوتے ہیں اور اچانک ایک جھکڑ کہیں سے آتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ ادھر سنا ہے کہ مبشر علی زیدی (وہی جو سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں)سو لفظوں کا ہنٹر لےکر میری پیٹھ پر سواری کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کی وال ان دنوں پچاس ہزار کے صدمے سے چور چور ہے۔کوئی انہیں دلاسہ دے رہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ بھول جائو۔ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو میری فیس بک وال پر بھی موجود ہیں اور مجھ سے یہ پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کررہے کہ میاں تصنیف ! معاملہ کیا ہے۔جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ میری زندگی ایک ننگا سچ ہے۔میں جتنی خوبی سے اپنی اچھائیوں کو تسلیم کرتا ہوں، اتنی ہی بے غیرتی سے اپنی برائیوں کو مان لینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتا۔تو سب سے پہلی بات کہ کیا مبشر علی زیدی کے پچاس ہزار روپے میری وجہ سے ڈوبے؟ تو جوا ب یہ ہے کہ ہاں ایسا ہوا ہے اور اس بات کا جتنا مجھے افسوس ہے، اتنا شاید ہی کسی کو ہو۔
لیکن حیرت بس اس بات پر ہے کہ چار سال بعد اچانک یہ زخم کیوں تازہ ہوا۔میں دونوں قسم کے معاملات پر بات کروں گا، مگر نام لینے سے گریز کروں گا کہ اب میں وہ چار سال پرانا تصنیف نہیں ہوں، جو ادھر ادھر لڑتا بھڑتا پھرے۔ مبشر کا کہنا ہے، بقول میرے کچھ دوستوں کے کہ میں نے ان سے لچے طریقے سے بات کی۔ اول تو کی نہیں اور دوم یہ کہ اگر کی بھی تو صرف اتنی کہ انہوں نے کسی کا نام لے کر کہا کہ فلاں شخص نے انہیں 'چونا' لگایا ہے اور میں نے بھی انہیں 'چونا 'لگادیا۔ میں نے کہا کہ بھائی، آپ ادیب ہیں، یہ چونا وونا والی زبان نہ استعمال کیجیے۔ اب سنیے معاملہ شروعات سے، تاکہ جو بات آپ کو مبشر نے نہیں بتائی، جو سچ وہ اپنی کسی مصلحت کی بنیاد پر چھپا لے گئے، اسے بھی جان لیجیے۔
اس چھیچھا لیدر کے پیچھے جو کہ حضرت نے مچا رکھی ہے۔میری اتنی بے وقوفی ضرور ہے کہ اس زمانے میں میں نے اپنے ایک دوست کے بھروسے پر یہ ارادہ کیا کہ پاکستان کے ادیبوں کی کتابیں ہندوستان میں دیوناگری میں شائع کرائی جائیں اور اچھے ادب کو ان تک پہنچایا جائے۔ مبشر کی تحریر مجھے پسند آتی تھی۔(اب نہیں آتی، اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ میری مخالفت پر کمربستہ ہیں، بس جب سے میں سو لفظوں سے آگے بڑھا ہوں، سمجھ میں آیا ہے کہ لکھنے کے لیے تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔)خیرمیں نے اس سلسلے میں تین ادیبوں سے رابطہ کیا، جن میں سے دو کے نام میں نہیں بتائوں گا کیونکہ وہ اس معاملے میں کہیں موجود نہیں ہیں، انہیں میں مبشر بھی تھے۔ان کی مجھ سے ان دنوں فون پر اور فیس بک میسجز پر بات ہوتی تھی۔میں نے انہیں وہ رقم بتائی جو کہ میرے دوست نے مجھے بتائی تھی۔مبشر نے ہامی بھری اور رقم مجھے ایک دوسرے ادیب کے ہاتھ ڈالر کی شکل میں بھیج دی جو کہ ان دنوں ہندوستان آئےتھے۔ہم نے کروفر سے تیاریاں شروع کیں۔ 'کتاب شناسی' کا پروگرام تیار کیا گیا، موجودہ رقم میں سے جو فائدہ مجھے ہونے والا تھا، اس کی ایک اچھی خاصی رقم پروگرام پر خرچ کی اور اپنے وقت کے بہترین ادیبوں کو ان کتابوں کے اجرا کے موقع پر بلوایا گیا۔ اب چونکہ جن حضرت کو میں نے یہ کام دلوایا تھا، انہوں نے ایک کے علاوہ دوسری کتابیں شائع نہیں کی تھیں، تو وہ کہنے لگے کہ پروگرام کی تاریخ تو نہیں ٹالی جاسکتی۔آپ مسودہ دے کر ادیبوں سے بات کروالیں اور پھر اگلے ہی ہفتے کتابیں شائع ہوجائیں گی۔میں نے ان پر ویسا ہی اندھا یقین کرتا تھا، جیسا کہ میری ایک ادیب دوست مبشر پر کرتی ہیں کہ مبشر سب کچھ کرسکتے ہیں، مگر جھوٹ نہیں بول سکتے۔
پروگرام کے دوران کسی بات پر میرے چھوٹے بھائی سے پبلشر صاحب کی تو تو میں میں ہوگئی۔میں نے ہرچند معاملے کو رفع دفع کرنا چاہا۔اپنے چھوٹے بھائی کو ڈانٹا ڈپٹا اور پورے معاملے میں پبلشر صاحب کی ہی پچھ لیتا رہا۔(اس کے گواہ اس وقت وہاں موجو د کچھ لوگ بھی ہیں)مگر پبلشر صاحب ہتھے سے اکھڑ چکے تھے، انہوں نے یہ طے کرلیا کہ اب جو کچھ ہوجائے وہ میرا نام بدنام کرکے ہی رہیں گے اور یہ بھی نہ سوچا کہ تمام لوگوں سے میں نے بات کی تھی، اس لیے نام میرا اچھالا جائے گا۔سارا یقین تار تار کرکے حضرت نے نہ وہ کتابیں چھاپیں اور جو چھپ گئی تھیں، وہ مجھے دینے سے بھی انکار کردیا تاکہ میں ہر طرف سے پریشان و رسوا ہوتا رہوں۔اس دوران مبشر مجھ سے کتابوں کے بارے میں پوچھتے تو مجھے مجبورا کوئی بہانہ کرنا پڑتا۔تب تک میں سوچتا تھا کہ میں کسی طرح اپنے دوست کو اس کے وعدوں کا یقین دلاکر سمجھا بجھا لوں گا ،مگر بات بنی نہیں۔اور جب انہوں نے میرا فون ریسیو کرنا بھی بند کردیا تو میں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ ان سے کہیے کہ کم از کم مجھے پیسے ہی لوٹا دیں تاکہ میں وہ کتابیں چھاپ کر ان لوگوں کو بھیج تو سکوں جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کرکے رقم دی ہے۔مگر حضرت نے ان سے صاف کہہ دیا کہ انہیں تو کوئی رقم ملی ہی نہیں۔اتنے صاف جھوٹ کے بعد پھر میں نے پبلشر صاحب سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ کوشش کی۔تب تک مبشر مجھ سے مطالبہ کرنا چھوڑ کر مجھے فیس بک سے ان فرینڈ اور بلاک کرچکے تھے۔میری ان سے کوئی بات نہیں ہوسکی۔مگر جب بھی کسی شخص نے جو ان کا اور میرا مشترکہ دوست تھا، اس حوالے سے پوچھا تو میں نے یہی کہا کہ ہاں غلطی میری ہے اور ان کا نقصان میری وجہ سے ہوا ہے، جس کی بھرپائی میں کبھی نہ کبھی ضرور کردوں گا۔
اب رہیں وہ باتیں جو مبشر نے اس قضیے میں بالکل نہیں بتائیں ، جن پر مجھے زیادہ حیرت ہوئی جب معلوم ہوا کہ مجھ سے رابطے کی کوشش کے بغیر انہوں نے میرے بارے میں ایک پوسٹ لکھ دی ہے۔وہ باتیں یہ ہیں کہ حضرت ان دنوں مجھے اردو ادب کا سب سے بڑا ادیب اور محسن فون پر ثابت کرتے رہتے تھے، انہوں نے مجھ سے یہ بھی درخواست کی کہ میں لوگوں کو یہ ہرگز نہ بتائوں کہ وہ خود اپنی رقم لگا کر یہ کتابیں شائع کروارہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں پر یہ تاثر قائم ہو کہ ہندوستان میں ان کی کہانیوں کی شہرت کی وجہ سے ان کی کتابیں شائع ہورہی ہیں۔میں نے انہیں جب بتایا کہ میری کوشش ہے کہ ان کی مختصر کہانیوں کو میں شارٹ فلموں کا روپ دے سکوں تو وہ اتنے اکسائٹڈہوئے کہ مجھ سے کہا کہ وہ جیو نیوز پر یہ خبر چلوائیں گے کہ ہندوستان میں ایک پروڈکشن ہائوس نے ان کی کہانیوں پر فلمیں بنائی ہیں۔بعد ازاں انہوں نے مجھے ہندوستان کے ایک اور پبلشر کے ہاتھوں دھوکا کھانے کی روداد بھی سنائی تھی، جس کو پیسے دے کر وہ اس کے مشہور رسالے میں اپنی کہانیاں شائع کروانے کا اعتراف کرچکے تھے۔
مجھے ان کی ان سب باتوں سے کل بھی کوئی پریشانی نہیں تھی، آج بھی نہیں ہے۔شہرت کی خواہش کسے نہیں ہے۔اور جس کے پاس پیسے ہیں، وہ انہیں خرچ کرکے بھی شہرت خریدے تو کیا مسئلہ ہے۔مگر بات صرف اتنی ہے کہ میں انہیں برا آدمی نہیں سمجھتا ہوں۔ان کے نقصان کا ذمہ دار بھی خود کو مانتا ہوں اور سبھی کے سامنے اس بات کا اعادہ بھی کرتا ہوں کہ جب کبھی مجھ سے بن پڑا، میں ضرور ان کی کتاب ہندوستان سے دیوناگری میں شائع کروائوں گا۔وہ مجھ پر الزام لگاتے وقت یہ بھول رہے ہیں کہ وہ جس معاشرے میں سو لفظوں کی کہانیاں لکھتے ہیں ، وہاں کبھی کبھی مجھ جیسے ناتجربہ کار لڑکے ایسے بھیانک دھوکوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جن سے ان کا نکل پانا ناممکن ہوتا ہے۔میرے ساتھ جو دھوکا ہوا، اس پر میں نے شور نہیں مچایا۔بلکہ پاکستان کے ایک اور دوسرے ادیب و شاعر ہیں، جن کی کتابیں شائع ہونے کے باوجود ان تک نہیں پہنچ پائی تھیں۔مگر جب ادبی دنیا کے ایک آڈیو پراجیکٹ کو سپانسر کرنے کی بات آئی اور میں نے وہ رقم ان کے نقصان کے طور پر کٹوانا چاہی تو انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو ان کی شخصیت اور ظرف کو تازندگی میرے کاندھوں پر سوار رکھے گا اور وہ جملہ یہ تھا کہ تصنیف میاں! جو ہوگیا سو ہوگیا،آپ کہیں بھاگے نہیں جارہے، جب آپ اس لائق ہوں گے تو ہم آپ سے خود وہ رقم لے لیں گے۔'
کہانی سو لفظوں کی ہوسکتی ہے، زندگی سو لفظوں کی نہیں ہوتی۔اس میں بڑے پیچ ہیں۔لوگ پہلے بھی میرانام اچھال چکے ہیں، مجھے بدنام کرچکے ہیں، میرے بارے میں الٹا سیدھا بول چکے ہیں۔سو مجھے بدنامی سے کوئی خاصا فرق نہیں پڑتابلکہ ایک دلچسپ واقعہ اسی ذیل میں یہ بھی ہوا کہ ایک صاحب جنہوں نے ادبی دنیا کے لیے چھوٹی سی رقم بطور سپانسر دی تھی، مبشر کے سٹیٹس پر کود پڑے اور کہنے لگےکہ اس لڑکے سے میں نے بھی دھوکا کھایا ہے۔ اور ان کے بقول میں انہیں دھوکا دے کر بلاک کرچکا تھا۔کسی کے یہ بتانے پر جب میں ان کی پروفائل پر گیا تو دیکھا وہ تو میری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں اور ان کی کور فوٹو گنبد خضریٰ کے نور سے جگ مگ کررہی ہے۔میں نے انہیں میسج بھیج کر پوچھا کہ بھائی! میں نے کب آپ کو بلاک کیا ہے۔تو معصومیت سے کہنے لگے کہ میں کنہی اور صاحب کی بات کررہا تھا، مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ وہ آپ کی بات کررہے ہیں۔اب مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے میرے علاوہ اور کتنے لوگوں کو ٹھیک اتنی ہی رقم سپانسر شپ کے طور پر دی ہے، جتنی مجھے بھیجی تھی۔ہوسکتا ہے کہ ایسے فیاض آدمی کے ساتھ کسی نے دھوکا کردیا ہو، کوئی بڑی بات نہیں۔کوئی گنبد خضریٰ کو چوبیس گھنٹے اپنی پروفائل پر سجا کر ایسا صاف جھوٹ تو ہرگز نہ بولے گا۔
یقین جانیے کہ میں مبشر کے سفید بالوں کی بھی بڑی قدر کرتا ہوں۔ان کی لکھی ہوئی کہانیاں بہت سے اہم موضوعات پر ہیں، وہ سچ اور جھوٹ کو سفید و سیاہ میں دیکھنے کے بجائےمعاملے کی تہہ تک جانا پسند کرتے ہیں اور سماج کے صحیح نباض اس لیے ہیں کیونکہ صحافی بھی ہیں۔مگر میں ان کی طرح اس شخص کا نام لینے سے پرہیز ہی کروں گا جس نے مجھے دھوکا دیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان بعض دفعہ ایسی غلطیاں کرجاتا ہے، جس پر بعد میں کبھی نہ کبھی اسے افسوس ہوتا ہے۔اتنی کہانیاں پڑھنے، اتنے لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کے بعد اگر میں یہ بھی نہ سمجھا تو کیا خاک سمجھا کہ انسان ہمیشہ اچھائیاں ہی نہیں کرتا، اس سے برائیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں۔مگر میں اس دن کے بارے میں سوچ کر تھوڑا سا فکر مند ضرور ہوں، جب میں اس نقصان کی تلافی کرچکا ہوں گا اور مبشر کی کتاب ہندوستان سے شائع کرواکر یہاں کسی سے اس پر بات کرواتے ہوئے فیس بک لائیو کروارہا ہوں گا، سوچتا ہوں کہ جب مبشر بھی میری طرح کسی گوشے میں بیٹھے اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہورہے ہوں گے تو میرا افسوس ان کے تعلق سے تھوڑا گہرا ہوجاتا ہے۔

(یہ اس سلسلے میں میرا آخری اور حتمی جواب ہے، اب جسے یقین کرنا ہے کرے، نہیں کرنا نہ کرے۔میں دونوں طرح کے لوگوں کو برا نہیں سمجھتا، کیونکہ ان میں سے کچھ میرے خیر خواہ ہیں، کچھ مبشر کے اور ہم دونوں ہی کہیں نہ کہیں قلم سے وابستہ ہیں۔قلم جو زبان کی طرح الزام گڑھنے سے پہلے تھوڑا ہچکچاتا ضرور ہے۔)

پیر، 28 اگست، 2017

ستیہ جیت رے کی کہانیاں



تعارف

ستیہ جیت رے 2مئی 1921کو کلکتہ میں پیدا ہوے تھے۔ عام طور سے انھیں ہندوستان کا سب سے بڑا فلم ساز تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ستیہ جیت رے نے اپنا سفر بطور ایک مصور (Illustrator) شروع کیا تھا۔ وہ ایک اشتہاری کمپنی کے ایڈوائزر بھی رہے ۔ 1947میں انھوں نے کلکتہ فلم سوسائٹی کو قائم کرنے میں اپنا تعاون دیا۔ پاتھیر پنچالی (1955)، اپرا جیتو (1956)، پارس پتھر (1958)، جلسہ گھر (1958)، اَپُر سنسار (1959)، دیوی (1960)، چارولتا(1964)، شطرنج کے کھلاڑی (1977)، سدگتی(1981) اور گھرے با ہرے (1984) ان کی چند ایسی فلموں میں سے ہیں جن کی وجہ سے ستیہ جیت رے کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اور ان کا شمار دنیا کے عظیم فلمسازوں میں کیا جانے لگا۔
مگر ستیہ جیت رے صرف ایک فلم ساز ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے ادیب، مصور اور سنگیت کار بھی تھے۔ 1961میں ستیہ جیت رے نے بنگالی زبان میں شائع ہونے والے بچوں کے مشہور رسالے سندیش کو دوبارہ نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس رسالے کے بانیوں میں ان کے والد اور دادا بھی شامل رہے تھے۔ کچھ عرصے کے لیے ستیہ جیت رے نے کیمرے کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اورسندیش کے صفحات کو اپنی مصوری اور اسکیچوں کے بہترین نمونوں سے بھر کر رکھ دیا۔ انہوں نے سندیش کے لیے بے شمار کہانیاں، نظمیں اور مضامین بھی لکھے۔ بعد میں ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوے جو بے حد مقبول ہوے۔ ان میں ’’فیلودا سیریز‘‘ کے تحت لکھی گئی جاسوسی کہانیوں کے علاوہ ’’پروفیسر شونکوسیریز‘‘ کے سائنس فکشن بھی شامل ہیں۔ ستیہ جیت رے نے بچپن کے دن اور اپو کے ساتھ میرے سال کے عنوانات سے اپنی یادداشتیں بھی تحریر کی ہیں۔
ستیہ جیت رے کا انتقال اپریل 1992کو کلکتہ میں ہوا اور ان کے ساتھ ہی گویا ایک پورے عہد کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
ستیہ جیت رے کی فلمیں عام طور پر بنگلہ ادیبوں کی تخلیقات پر ہی مبنی ہیں۔ وہ فلم کو ایک مغربی آرٹ سمجھتے تھے مگر ان کا مقصد بنگال کے لوگوں کے لیے بھی فلم بنانا تھا۔ ان کی فلموں کو سمجھنے کے لیے ان کی کہانیوں کا مطالعہ بھی کرنا ضروری ہے۔
یہ انتخاب ستیہ جیت رے کی ان کہانیوں سے کیا گیا ہے جو پر اسرار یا فوق الفطرت کہانیوں کے زمرے میں آتی ہیں، اگرچہ سہل پسندی سے کام لیتے ہوے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ یہ انتہا پسند حد تک مافوق الفطرت عناصر رکھنے والی کہانیاں نہیں ہیں۔زیر مطالعہ کہانیاں ان کہانیوں میں سے ہیں جن میں ایک دھیما دھیما سا اسرار پوشیدہ ہے۔ ان کہانیوں کا لہجہ بہت مدھم اور نغمہ آمیز ہے۔ ان میں غصے کی کوئی لہر یا تشدد کی کوئی کیفیت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح ان کی فلموں میں بھی غصے ، برہمی یا بلند آواز میں احتجاج کی جگہ انسانی وجود کے نرم پہلوؤں کی ہی زیادہ عکاسی نظر آتی ہے۔ کہانیوں میں اگرچہ واقعہ موجود ہے، اور وہ بہت اہم بھی ہے، مگرستیہ جیت رے ’واقعے‘ سے زیادہ ترایک قسم کی دوری بنائے رکھتے ہیں۔ یہاں سب کچھ ، سارا ماجرا، صرف ایک ’اتفاق‘ نظر آتا ہے۔ کردار جن حالات میں گھرے ہوے ہیں، ان کو وہ خود اپنے لیے نہیں پیدا کرتے۔ ان کی فلموں کے کرداروں کی طرح ان کہانیوں کے کردار بھی زیادہ تر ان حالات سے باہر آنے کی جدوجہد کرتے ہیں؛ خوف، بے چینی، اپنی ذات کے کرب، ناقابل یقین واقعات اور اتفاقات کے پر اسرار حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی انسانی زندگی کا وقار ہے۔ اپنی خوش مزاجی اور witکے ذریعے ناقابل یقین اور پراسرارحالات کے بھیانک عناصر کو تحلیل کردینے والے ان کرداروں کی یہ کوشش انسانی وجود کو ایک بامعنی جہت بخشتی ہے۔
بہت غور کرنے پر یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ستیہ جیت رے کی ان کہانیوں کی زیریں سطح پر ایک قسم کی ’بیراگ‘ کی دھندلی سی کیفیت بھی پائی جاتی ہے۔دوری، بیراگ اور ایک پُر اسرار مگر روحانی اُداسی کی کیفیت ستیہ جیت رے کو ٹیگور کے ویدانتی فلسفے کے بہت قریب لے آتی ہے۔ اس لیے ان کہانیوں کا پر اسرار ہونا محض سطحی نوعیت کا نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کا ناقابل فہم ’روحانی اسرار‘ ہے۔ اس کائنات، زمان و مکان سے ماورا ایک بھید اور ایک رہسیہ جو حقیقت اور صداقت کے وسیع مفہوم میں ہی اپنی جھلک پیش کرسکتا ہے۔ ’اسرار‘ حقیقت کے ساتھ منسلک ہےـ اسے زندگی کی جاری و ساری کلیات میں ہی دیکھنا ہوگا۔ ستیہ جیت رے نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ بغیر کسی قسم کی سررےئلسٹک تکنیک یا اسلوب کو اختیار کیے، سیدھے سادھے، سچے اور حقیقی بیانیے کے ذریعے ہی اس اسرار کو محسوس کیا جاسکتا ہے، اور دکھایا بھی جاسکتا ہے۔چنانچہ ستیہ جیت رے کی ان کہانیوں کو اس مذہبی فلسفیانہ فکر کی روشنی میں ہی پڑھا جاسکتا ہے جو کہ ٹیگور کے ویدانتی نظریے کا سرچشمہ ہے، جس کی رو سے انسان اور کائنات کا رشتہ بجاے خود ایک بھید یا اسرار ہے۔ یہیں سے ستیہ جیت رے کی کہانیوں میں ایک وجودی جہت بھی شامل ہوجاتی ہے۔
ان کی بیشتر کہانیوں میں خیروشر کی کشمکش کوئی واضح شناخت بنتی نظر نہیں آتی۔ خیروشر دونوں ہی اضافی ہیں ۔ ستیہ جیت رے ان دونوں کے درمیان کوئی تناؤ یا ٹکراؤ پیدا کرنے سے بچتے ہیں۔ ان کے یہاں جو ’بھیانک پن‘ (horror)ہے وہ بھی ’شر‘ کے پورے قد تک نہیں پہنچتا، بلکہ زندگی کی تفہیم کے واسطے بس ایک دھندلی سی بصیرت کا نشان دکھا کر اوجھل ہوجاتا ہے۔ ’شر‘ یعنی شیطانی طاقت کا اظہار ہی ’بھیانک پن ‘ کی کیفیت کا نام ہوتا ہے، مگر ستیہ جیت رے ’شر‘ کو ویدانت کے اخلاقی نظریے کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ دنیا ’مایا‘ ’اگیان‘ اور کھیل تماشے سے بڑھ کر کچھ نہیں رہ جاتی۔
مغربی افکار، فلموں اور نظریات سے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ خالص ہندوستانی فلسفیانہ نقطۂ نظر نہ صرف ستیہ جیت رے کی تحریروں میں بلکہ ان کی فلموں میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ چونکہ وہ ایک سائنسی اندازِفکر رکھنے والے دانشور بھی تھے، اس لیے ان کے آرٹ میں انوکھے پن کا پہلو اس سائنسی فکر، جدید خیالات، کھوج بین کے مادے اور ویدانتی فلسفے کے تال میل سے پیدا ہوا ہے۔
ستیہ جیت رے ماحول کی جزئیات نگاری میں گویا قلم سے نہیں بلکہ اپنے اس انوکھے کیمرے سے کام لیتے ہیں جس سے وہ فلمیں بناتے ہیں۔ ان کہانیوں کے بیانیے میں ماضی، حال اور مستقبل ایک اسمبلاژ کی سی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔ اکثران کے بیانیے میں بصری سچویشن ، اچانک زمانۂحال کے صیغے میں اس طرح آکر سامنے کھڑی ہوجاتی ہے جیسے سنیما گھر کے گاڑھے اندھیرے میں سفید پردے پر کوئی جیتا جاگتا منظر۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ستیہ جیت رے کی ساری فکر اور سارا شعور ہی visualمیں تبدیل ہوگئے ہوں۔میری رائے میں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اگرچہ ان کا کیمرا رےئلزم (Realism) کی مکمل نمائندگی کرتا تھا مگر اس رےئلزم کے ساتھ وہ اسرار بھی ناگزیر طور پر ان کی بصیرت کا حصہ بن گیا تھا جس کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔
دوسری وجہ شاید یہ بھی ہو کہ ان کی کہانیوں میں جس قسم کا آہنگ ہے اسے ایک قسم کی موسیقی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جولَے ان کہانیوں کی ہے وہ ان کی فلموں کے visualکی لَے سے ملتی جلتی ہے۔ ستیہ جیت رے مغربی کلاسیکل موسیقی کے بہت قائل تھے۔ ان کے خیال میں مغربی کلاسیکل موسیقی میں ایک ڈراما، ایک کہانی کی روایت بھی موجود رہی ہے۔ بیتھوون کی کسی سمفنی کو ایک درد بھری روح کی پکار، تقدیر کے خلاف انسان کی جدوجہد یا بین الاقوامی بھائی چارے کی شکل میں بھی مانا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی میں یہ بات نہیں ہے۔ یہاں صرف ایک راگ ہے، پہلے سے ہی طے کیا گیا ایک موڈ اور ایک سُر جو شروع ہوتا ہے اور پھر ختم ہوجاتا ہے۔ اس لیے شاید ان کہانیوں میں الفاظ کے ذریعے جو داخلی موسیقی تشکیل دی گئی ہے وہ فلموں کے مناظر کی طرح ہی اپنے آپ میں اس کہانی کو پیوست کیے ہوے ہے جسے کہا بھی جارہا ہے۔
خالد جاوید


مداح

اَرُوپ بابوـ یعنی اروپ رتن سرکارـ گیارہ سال کے بعد پوری آئے ہیں۔ شہر میں تھوڑی بہت تبدیلی نظر آرہی ہےـ جیسے کچھ نئے مکان، نئے سرے سے بنائی گئی کچھ سڑکیں، دو چار چھوٹے بڑے ہوٹل ـمگر جب وہ سمندر کے کنارے آئے تو انھیں لگا، یہ سمندر بدلنے والی چیز نہیں ہے۔ وہ ساگرِکا ہوٹل میں ٹھہرے ہیں؛ وہاں سے سمندر حالانکہ نظر نہیں آتا، لیکن رات میں جب لوگوں کا شورغل تھم جاتا ہے تو لہرو ں کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ اس آواز کو سن کر کل اروپ بابو باہر نکل آئے تھے۔ وہ کل ہی پوری آئے ہیں۔ دن کے وقت انھیں کچھ خرید فروخت کرنا تھی، اس لیے سمندر کے کنارے کی طرف نہیں گئے تھے ۔ رات میں جاکر دیکھا،اماوس کے اندھیرے میں بھی لہروں کے جھاگ صاف صاف نظر آتے ہیں۔ اروپ بابو کو یاد آیا، بچپن میں انھوں نے کہیں پڑھاتھا کہ سمندر کے پانی میں فاسفورس رہتا ہے اور اس لیے اندھیرے میں بھی لہریں دکھائی دیتی ہیں۔ اروپ بابو کو روشنی سے جگمگاتی پُر اسرار لہروں کو دیکھنا بہت ہی اچھا لگا۔ کلکتہ میں دیکھ کر کوئی انھیں حساس طبیعت کا نہیں کہہ سکتا تو نہ کہے، اروپ بابو جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں وہ کتنے حساس تھے۔ کام کے بوجھ تلے کہیں وہ جذبات گم نہ ہوجائیں اس لیے وہ اب بھی بیچ بیچ میں گنگا کے کنارے اور اِیڈن گارڈن میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ پیڑوں، پانی اور پھولوں کو دیکھ کر انھیں خوشی ہوتی ہے۔ پرندوں کا گیت سن کر پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کوئل کی آواز ہے یا پپیہے کی۔ اندھیرے میں بہت دیر تک سمندر کی طرف لگاتار دیکھتے رہنے کے بعد انھیں لگا، سولہ سال کی نوکری کی زندگی کی اکتاہٹ یا اداسی بہت کچھ دور ہوگئی ہے۔
آج تیسرے پہر بھی اروپ بابو سمندر کے کنارے آئے ہیں۔ کچھ دور تک پیدل چلنے کے بعد اب ان کی خواہش نہیں ہورہی ہے کہ چہل قدمی کریں۔ ایک گیروا دھاری، سادھو بابا یاگرو جیسا شخص تیز قدموں سے ریت کے اوپر چلا آرہا ہے۔ پیچھے پیچھے عورت مرد چیلوں چپانٹوں کا ایک غول اس کے قدموں سے قدم ملاکر ہانپتا ہوا چلا جارہا ہے ۔ اروپ بابو کو یہ منظر بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ تبھی ان کی بائیں جانب سے ایک بچے کی آواز تیرتی ہوئی ان کے کانوں میں آتی ہے:
’’منّا کا سپنا کیا آپ نے ہی لکھی ہے؟‘‘
اروپ بابو نے گردن گھماکر دیکھا۔ سات آٹھ سال کا ایک لڑکا ہے،سفید شرٹ اور نیلی پینٹ پہنے۔ ہاتھ کی کہنی تک ریت لگی ہے۔ گردن اٹھاکر حیرت سے وہ اروپ بابو کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اروپ بابو کے جواب کا انتظار نہ کر کے لڑکے نے کہا، ’’میں منّا کاسپنا پڑھ چکا ہوں۔ بابوجی نے سالگرہ پر دیاتھا مجھے...مجھے...‘‘
’’کہوکہو، اس میں شرمانے کی کیابات ہے؟‘‘ یہ ایک عورت کی آواز تھی۔
لڑکے کی تھوڑی ہمت بڑھی اور اس نے کہا، ’’مجھے وہ کتاب بہت اچھی لگی تھی۔‘‘
اروپ بابو نے اب عورت کی طرف دیکھا۔ تقریباً تیس سال عمر ہوگی، خوبصورت چہرہ۔ مسکراتی ہوئی ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔
اروپ بابو نے لڑکے سے کہا، ’’نہیں مُنّا، میں نے کوئی کتاب نہیں لکھی ہے۔ تم شاید غلط فہمی کا شکار ہو۔‘‘
عورت لڑکے کی ماں ہے، اس میں کوئی شک نہیں؛ دونوں کے چہروں میں صاف مشابہت نظر آتی ہےـ خاص طور پرٹھوڑی کے گڈھوں میں۔
اروپ بابو کی بات سے عورت کی ہنسی کم نہیں ہوئی۔ وہ اور بھی آگے بڑھ آئی اور پہلے سے زیادہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر بکھیر کر بولی، ’’سننے میں آیا ہے کہ آپ لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتے۔ میرے ایک دیور نے ایک جلسے میں آپ کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کے لیے ایک خط لکھا تھا۔ آپ نے جواب دیاتھا کہ آپ یہ سب قطعی پسند نہیں کرتے ، مگر اس بار ہم آپ کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ آپ حالانکہ بچوں کے لیے لکھتے ہیں، لیکن ہم بھی آپ کی تخلیقات پڑھا کرتے ہیں۔‘‘
منا کا سپنا کتاب کا مصنف چاہے جو بھی ہو، مگر ماں اور بیٹا اس کے ایک جیسے مداح ہیں، یہ بات سمجھتے انھیں دیر نہ لگی۔ اس قسم کے بے ڈھب حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کاانھوں نے تصور تک نہیں کیا تھا۔ انھیں یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہیں، مگر بے رخی سے بتایا جائے تو انھیں تکلیف ہوگی، یہ سوچ کر اروپ بابو تذبذب میں پڑگئے۔ اصل میں اروپ بابوبہت ہی نرم دل انسان ہیں۔ ایک بار ان کے دھوبی گنگا چرن نے ایک نئے کھادی کے کرتے میں استری کا داغ لگا کر کرتے کا حلیہ بگاڑ دیاتھا۔ ان کی جگہ اور کوئی ہوتا تو اسے ضرور ہی دو چار تھپڑ جمادیتا، مگر اروپ بابونے دھوبی کو شرمندہ اور پریشان حال دیکھ کر نرم لہجے میں صرف اتنا ہی کہا تھا،’ ’استری ذرا ہوشیاری سے کیاکرو۔‘‘
اپنی اس نرم دلی کی وجہ سے ہی انھوں نے کچھ اور نہ کہہ کر اتنا ہی کہا، ’’میں منّا کاسپنا کا مصنف ہوں، آپ اتنے یقین کے ساتھ یہ بات کیسے کہہ رہی ہیں؟‘‘
خاتون نے حیرت میں آکر کہا، ’’واہ، اس دن ےُگانتر میں تصویر چھپی تھی۔ ریڈیو سے اعلان نشر کیا گیا کہ آپ کو بنگلہ زبان میں بچوں کے بہترین ادب کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ جی ہاں، میرے خیال میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کی بات تھی۔ہم ہی نہیں، اب بے شمار لوگ املیش مولِک کے چہرے سے واقف ہوگئے ہیں۔‘‘
املیش مولِک ـاروپ بابو نام سے واقف ہیں، مگر چہرہ نہیں دیکھا ہے۔ دونوں کے چہرے میں کیا اتنی مشابہت ہے؟ اتناضرور ہے کہ آج کل کے اخبارات میں چھپے چہرے کا صاف صاف پتا نہیں چلتا ہے۔
’’آپ پوری آرہے ہیں، یہ بات چاروں طرف پھیل گئی ہے،‘‘ خاتون نے کہا۔ ’’ہم اس روز سی ویو ہوٹل گئے ہوے تھے۔ میرے شوہر کے ایک دوست کل تک وہیں ٹھہرے ہوے تھے۔ ان کو ہوٹل کے منیجر نے بتایاتھا کہ آپ جمعرات کو آرہے ہیں۔ آج ہی تو جمعرات ہے۔ آپ سی ویو میں ٹھہرے ہوے ہیں نا؟‘‘
’’ایں ؟او... نہیں۔ میں ، وہ... سناتھا کہ وہاں لذیذ کھانا نہیں ملتا ہے۔‘‘
’’آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے۔ ہم یہی سوچ رہے تھے کہ اتنے بہترین ہوٹل ہونے کے باوجود آپ وہاں کیوں ٹھہرنے جارہے ہیں۔ آپ کہاں ٹھہرے ہیں؟‘‘
’میں...ساگرِکا میں۔‘‘
’’اوہ! وہ تو نیا ہوٹل ہے۔ کس طرح کا ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہی کہیے، کچھ دنوں تک ٹھہرنا ہے۔‘‘
’’کتنے دنوں تک ٹھہریں گے؟‘‘
’’تقریباً پانچ روز۔‘‘
’’پھر کسی روز ہمارے یہاں تشریف لائیے گا۔ ہم پوری ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ آپ کو دیکھنے کے لیے کتنے ہی لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ بچوں کا تو کچھ کہنا ہی نہیں۔ یہ کیا، آپ کے پیر بھیگ گئے؟‘‘
لہر جوآگے بڑھ آئی ہے، اروپ بابو کا اس طرف دھیان ہی نہیں ہے۔ پیر ہی بھیگے ہیں، یہ کہنا غلط ہوگا؛ تیز ہوا ہونے کے باوجود اروپ بابو کاپورابدن پسینے سے بھیگنے لگا ہے۔ حقیقت بیان کرنے کاموقع کب اور کیسے ٹل گیا، یہ ان کی سمجھ میں آیا ہی نہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ وہاں سے کھسک جائیں۔ مصیبت کہاں تک آگے بڑھ آئی ہے، تنہائی میں بیٹھ کر سوچنے پر ہی یہ بات سمجھ میں آئے گی۔
’’میں اب... چلتا ہوں...‘‘
’’ضرور ہی کچھ نئی چیز لکھ رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں، ابھی... کہنے کا مطلب ہے کہ آرام کروں گا۔‘‘
’’پھر ملیں گے۔ اپنے شوہر سے کہوں گی ۔ کل تیسرے پہر اِدھر آرہے ہیں نا؟‘‘
سی ویو کے منیجر وِویک رائے نے ابھی اپنے گال کے اندر ایک پان ٹھونسا ہی تھا کہ اروپ بابو ان کے سامنے حاضر ہوگئے۔
’’یہاں املیش مولک آنے والے ہیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اب تک نہیں آئے ہیں؟‘‘
’’اوں ہوں۔‘‘
’’کب...آئیں گے...یہ...؟‘‘
’’منگلوار۔ ٹیلیگرام آیا ہے۔ کیوں؟‘‘
منگلوار... آج ہے جمعرات ...اروپ بابومنگل تک ہی ٹھہریں گے۔ٹیلیگرام آنے کا مطلب ہے کہ مولک بابو نے کسی وجہ سے آنے کی تاریخ آگے بڑھادی ہے۔
منیجر سے پوچھنے پر اروپ بابو کو پتا چلاکہ ان کا اندازہ صحیح ہے۔ املیش مولک آج ہی آنے والے تھے۔
وِویک بابو کے’’کیوں؟‘‘ کے جواب میں اروپ بابو نے انھیں بتایا کہ انھیں املیش بابو سے ایک ضروری کام ہے۔ وہ منگل کی دوپہر میں آکر پتا لگائیں گے۔
اروپ بابو سی ویو ہوٹل سے سیدھے بازار کی طرف چلے گئے۔ ایک دکان سے املیش بابو کی لکھی چار کتابیں خریدیں۔ منّا کاسپنا وہاں نہیں ملا۔ خیر، کوئی حرج نہیں، چار ہی کافی ہیں۔ دو ناول ہیں، دو چھوٹی کہانیوں کے مجموعے۔
ہوٹل پہنچتے پہنچتے ساڑھے چھ بج گئے۔ سامنے کے دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک کمرہ ہے، اس کے بائیں طرف منیجر کے بیٹھنے کی جگہ ہے، داہنے ہاتھ دس پانچ فٹ جگہ میں ایک بنچ اور دو کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ کرسیوں پر دو آدمی بیٹھے ہوے ہیں۔ بنچ پر دو لڑکے اور ایک لڑکی، جن کی عمر دس بارہ کے بیچ ہوگی۔ اروپ بابو پر نگاہ پڑتے ہی دونوں آدمیوں نے مسکراتے ہوے ہاتھ جوڑ کر انھیں نمسکار کیا او راٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد بچو ں کی طرف گردن ہلائی۔ بچے شرماتے ہوے اروپ بابو کی طرف بڑھ آئے اور پیر چھوکر پرنام کیا۔ اروپ بابو منع کرنے جارہے تھے ، مگر کرنہیں سکے۔
دونوں حضرات بھی آگے بڑھ گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا، ’’ہم پوری ہوٹل سے آرہے ہیں۔ میرا نام سہرد سین ہے اور آپ ہیں مسٹر گانگلی۔ مسز گھوش نے بتایا کہ آج آپ سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور آپ یہیں ٹھہرے ہیں۔ اس لیے سوچا کہ...‘‘
شکر ہے کتابیں بانس کے کاغذ میں بندھی ہیں ورنہ اپنی ہی کتابیں خود خرید کر لارہے ہیں، یہ دیکھ کر وہ کیا سوچتے!
اروپ بابو نے ان کی ہر بات پر گردن ہلاکر ہامی بھری۔ یہ نہیں کہ اب بھی معاملہ صاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایسی کون سی بات ہے؟ اتناکہنا ہی کافی ہے: دیکھیے صاحب، ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ میں نے خود املیش مولک کی تصویر نہیں دیکھی ہے ۔ مگر ہاں، یہ بات مان لیتا ہوں کہ ان کا چہرہ مجھ سے بہت کچھ ملتا جلتا ہے۔ ہوسکتا ہے ، ان کی بھی مونچھیں پتلی ہیں، ان کے بال بھی گھنگھرالے ہیں، ان کی آنکھوں پر بھی میرا جیسا ہی چشمہ ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہ پوری آنے والے ہیں۔لیکن صاحب، میں وہ آدمی نہیں ہوں۔ میں بال ساہتیہ کا مصنف نہیں ہوں۔ میں ادب کا آدمی ہوں ہی نہیں۔ کچھ لکھتا بھی نہیں ہوں۔ انشورنس آفس میں نوکری کرتا ہوں۔ تنہائی میں چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔ آپ لوگ مہربانی کر کے میری جان چھوڑ دیں۔ اصلی املیش مولک منگل کو ہوٹل سی ویو میں آرہے ہیں۔
مگر اتناکہنے سے ہی کیا اس جھنجھٹ سے چھٹکارامل جائے گا؟ ایک بار جب ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وہی املیش مولک ہیں، اور پہلی بار انکار کرنے پر بھی جب کوئی کام نہ بنا تو پھر کیا سی ویو کے منیجر کا ٹیلیگرام دکھایا جائے تبھی ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہوگی؟ یہ لوگ تو مان لیں گے کہ یہ بھی مولک جی کا ایک کرشمہ ہے۔ دراصل وہ فرضی نام سے ساگرِکا میں ٹھہرے ہوے ہیں اور آنے سے پہلے سی ویو میں اپنے نام سے ایک جھوٹاٹیلیگرام بھیج دیا ہے تاکہ انھیں لوگوں کے مجمعے سے نجات مل سکے۔مگر شاید سب سے بڑی رکاوٹ ان تین بچوں نے ڈال دی ہے۔ وہ تینوں حیرت و عقیدت بھری نگاہوں سے اروپ بابو کو گھور رہے ہیں۔ اصل بات کہتے ہی ان تینوں بچوں کی امید، خوشی اور جوش پر ایک ہی پل میں پانی پھر جائے گا۔
’’بابُن، تم جس چیز کی معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے، املیش بابو سے پوچھ لو،‘‘ دونوں لڑکوں میں جوبڑا ہے، اسے مخاطب کرتے ہوے سہرد سین نے کہا۔
اروپ بابو گھبراہٹ محسوس کرنے لگے۔ اب بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بابن اپنی گردن ٹیڑھی کر، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسا کر سوال کرنے کے لیے تیارہے۔
’’اچھا، منا کی آنکھوں میں جس بوڑھے نے نیند لادی تھی، وہ کیا جادو جانتاتھا؟‘‘
کشمکش کی اس گھڑی میں اروپ بابو کو اچانک پتاچلا کہ ان کا دماغ غضب کا کام کررہا ہے۔ سامنے جھک کر بابن کے کان کے پاس اپنا منھ لے جاکر بولے، ’’تمھیں کیا لگتا ہے؟‘‘
تینوں بچے اروپ بابو کی اس بات پر بے حد خوش ہوے۔ جاتے وقت سہردبابو اروپ بابو کو دعوت دے گئے کہ انھیں آج رات پوری ہوٹل میں آکر کھاناکھانا ہے۔ وہاں آٹھ بنگالی خاندان آکر ٹھہرے ہوے ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو املیش بابو کے بھگت ہیں ۔ اروپ بابو نے کوئی اعتراض نہیں کیا، کیونکہ اس بیچ انھوں نے مان لیا ہے کہ کچھ وقت کے لیے انھیں املیش مولک کی اداکاری کرنا ہے۔ اس کانتیجہ کیا ہوسکتا ہے، اس موضوع پر سوچنے کا ابھی وقت نہیں ہے۔ بس، ایک ہی بات انھوں نے سہرد بابو سے کہی۔
’’دیکھیے صاحب، میں شور غل پسند نہیں کرتا ہوں۔ لوگوں سے ملنے جلنے کابھی میں عادی نہیں ہوں، اس لیے آپ لوگوں سے اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ میں یہاں ٹھہرا ہوں، یہ بات مہربانی کر کے کہیں پھیلائیں نہیں۔‘‘
سہرد بابو نے وعدہ کیا کہ کل کی دعوت کے بعد وہ لوگ پھر کبھی انھیں تنگ نہیں کریں گے اور وہ اس کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اور لوگ بھی انھیں پریشان نہ کریں۔
رات میں کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھاکر اروپ بابوبستر پر لیٹ گئے اور املیش مولک کی حابو کے کارنامیکتاب پڑھنے لگے۔ اس کے علاوہ اور جو تین کتابیں ہیں، وہ ہیں ٹٹل کا ایڈونچر، کشتی مات اور پھولوں کی ڈلیا۔ آخری دو کہانیوں کے مجموعے ہیں۔ادبی آدمی نہ ہونے پر بھی اروپ بابونے نوکری پیشہ زندگی کے پہلے، خاص طور سے اسکول کی زندگی کے آخری تین سالوں کے درمیان، بچوں کی بہت سی دیسی بدیسی کہانیاں پڑھی ہیں۔ اتنے دنوں کے بعد، انتالیس سال کی عمر میں، نئے سرے سے بچو ں کی کہانیاں پڑھنے پر انھیں حیرت اس بات کی ہے کہ بچپن میں پڑھی ہوئی کتنی ہی کہانیاں انھیں اب بھی یاد ہیں اور ان کہانیوں سے املیش مولک کی کہانیاں بہت کچھ ملتی جلتی ہیں۔
بڑے بڑے حروف میں چھپی سو سَوا سو اوراق کی چاروں کتابوں کو پڑھنے کے بعد، جب کمرے کی بتی بجھا کر لیٹ گئے تو اس وقت ساگرِ کا ہوٹل میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سمندر کی آواز آرہی ہے؟ کتنی رات گزر چکی ہے؟ اروپ بابو نے تکیے کی بغل سے گھڑی اٹھالی۔ یہ گھڑی ان کے والد کی تھی۔ پرانے زمانے کا ریڈیم کا ڈائل ہے۔ سمندر کے پھین کی طرح ہی اندھیرے میں چمکتا ہے۔ پون بج چکا ہے۔
ساہتیہ اکادمی سے بال ساہتیہ میں انعام حاصل کرنے والے مصنف املیش کی زبان سہل ہے، اسلوب منجھا ہوا۔ شروع کرنے پر بغیر انجام تک پڑھے رہانہیں جاتا۔ پھر بھی مولک جی کی تخلیقات میں نئے پن کا فقدان ہے۔ کتنے ہی طرح کے آدمی، کتنی ہی طرح کے واقعات اور کتنے ہی طرح کے تجربات کی بات ہم ہمیشہ سنتے رہتے ہیں۔ ہم لوگوں کی ذاتی زندگی میں بھی طرح طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ اگر تھوڑے بہت تصورات شامل کرلیے جائیں تو کہانی بن جائے۔ پھر دوسروں کی تخلیقات سے موادلینے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟
اروپ بابو کے دل میں املیش مولک کے تئیں جو عزت تھی، اس میں تھوڑی بہت کمی آگئی۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا دل بھی ہلکا ہوگیا۔ کل سے وہ اور بھی آزادی سے مولک جی کی اداکاری کر سکیں گے۔
پوری ہوٹل کی پارٹی میں املیش مولک کے مداحوں کی عقیدت دگنی ہوگئی۔ اروپ بابو اس بیچ ایک دوسری دکان سے منا کاسپنا کتاب خرید کر پڑھ چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تیرہ ننھے منے بھگتوں کے تین سو تینتیس قسم کے سوالات کا جواب اپنے ڈھنگ سے دینے میں انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ پارٹی ختم ہونے کے پہلے سے ہی بچوں نے انھیں’شہد چٹا‘ بابو کہہ کر پکارنا شروع کردیا، کیونکہ اروپ بابو نے انھیں سکھایا کہ ’مو‘ کا مطلب ہے شہد اور’ لِک‘ انگریزی لفظ ہے، جس کے معنی ہے چاٹنا۔ یہ سن کر داس گپت بابو نے اپنی رائے ظاہر کی، ’’شہد کی برسات تو آپ کر رہے ہیں اور اسے یہ بچے چاٹ رہے ہیں!‘‘ اس پر ان کی بیوی سرنگنا دیوی نے کہا،’ ’وہی کیوں، ہم بھی چاٹ رہے ہیں!‘‘
کھانا پینا ختم ہونے کے بعد دو باتیں ہوئیں۔ ایک توبچوں نے ضد کی کہ انھیں کم سے کم ایک کہانی سنائی جائے۔ اس پر اروپ بابو نے کہا کہ وہ زبانی کہانی سنانے میں ماہر نہیں ہیں مگر ہاں، انھوں نے اپنے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ بچپن میں اروپ بابو بانچھا رام اکرودت لین میں رہتے تھے۔جب وہ پانچ سال کے تھے تو ان کے گھر سے ایک دن ایک قیمتی کلائی گھڑی چوری ہوگئی ۔ چور پکڑنے کے لیے اروپ بابو کے والد گھر پر ایک سُوپ جھاڑنے والے کو لے آئے۔ اس سوپ جھاڑنے والے نے ایک قینچی کو چمٹے کی طرح استعمال میں لاکر اس کے سہارے ایک سوپ کو خلا میں ٹکا دیا اور مٹھیوں میں چاول بھرکر اس سوپ پر ڈالنے لگا اور ساتھ ہی ساتھ منتر بھی پڑھنے لگا۔
اس طرح اس نے گھر کے نئے نوکر نٹور کو چور کی شکل میں پکڑوا دیا ۔ اروپ بابو کے منجھلے چاچا نٹور کے بال پکڑ کر جب اسے مکا مارنے جارہے تھے تو عین اسی وقت دستی گھڑی ایک بستر کی چادر کے نیچے سے باہر نکل آئی۔
تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے بیچ کہانی ختم کر کے جب وہ جانے کے لیے اٹھنے لگے تو چار پانچ بچے چلا اٹھے، ’’ٹھہریے، ٹھہریے، جائیے گا نہیں!‘‘ اس کے بعد وہ دوڑتے ہوے اپنے اپنے کمروں میں گئے اور وہاں سے املیش مولک کی لکھی ہوئی سات نئی کتابیں لے آئے اور ان کے سامنے رکھ کر بولے، ’’اپنا نام لکھ دیجیے۔‘‘
اروپ بابو نے جواب دیا، ’’میں کتابوں پر اپنے دستخط نہیں کرتا ہوں۔ کبھی نہیں۔ میں انھیں لے جارہا ہوں، ہر کتاب پر ایک ایک تصویر بنا دوں گا۔ تم لوگ پرسوں تیسرے پہر ساڑھے چار بجے میرے ہوٹل میں آکر کتابیں واپس لے جانا۔‘‘
جن کی کتابیں تھیں انھوں نے تالیاں بجائیںـ دستخط کے بجاے تصویر کہیں بہتر رہے گی۔
اروپ بابو کو اسکول میں پڑھتے وقت دو بار اچھی ڈرائنگ کا انعام ملا تھا۔ اس کے بعد سے حالانکہ تصویریں بنائی نہیں ہیں مگر ایک دن اگر ذرا مشق کر لیں تو کیا کسی چیز کی تصویر نہیں بنائی جاسکتی؟
دوسرے دن، ہفتے کی صبح، اروپ بابو اپنا ڈاٹ پین اورکتابیں لے کر باہر نکل گئے۔ مچھیروں کی بستی کی طرف جانے پر انھوں نے دیکھا، وہاں تصویریں بنانے کے لیے مناسب مواد ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں ہی وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئے ۔ ایک کتاب میں انھوں نے کیکڑے کی تصویر بنائی، دوسری میں تین سیپیوں کو ریت پر آس پاس پڑے دکھایا، تیسری میں دو کوّوں کی تصویر بنائی، چوتھی میں مچھلی پکڑنے کی ناؤ، پانچویں میں مچھیرے کامکان، چھٹی میں مچھیرے کے بچے کی تصویر اور آخری کتاب کی تصویر میں چنگی دار ٹوپی پہنے ہوے مچھیرے کو مچھلی پکڑنے کا جال بنتے ہوے دکھایا۔
اتوار کو تیسرے پہر ٹھیک ساڑھے چار بجے جھنی، پنٹو، چھکی، شانتنو، بابن، پرسین اور نونیتہ ہوٹل میںآئے اور اپنی اپنی کتابیں لے کر کلکاریاں مارتے ہوے واپس چلے گئے۔
اس دن بستر پر لیٹنے کے بعد اروپ بابو کی سمجھ میں اچانک یہ بات آئی کہ ان کے دل میں مسرت کے جذبے کے ساتھ ایک قسم کی فکر بھی پیدا ہوگئی ہے۔
’’میں املیش مولک ہوں،‘‘ یہ بات حالانکہ انھوں نے کبھی کسی کے سامنے اپنے منھ سے نہیں کہی ہے، پھر بھی ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وہ پچھلے تین دنو ں سے جو کام کرتے چلے آرہے ہیں، وہ دھوکے بازی کے سوا دوسرا کچھ نہیں ہے۔ پرسوں، منگل کی صبح، اصلی املیش مولک آنے والے ہیں۔ اروپ بابو کو ان تین چار دنوں کے درمیان ان بچوں اور ان کے ماں باپ ، موسی، بوا سے جو عزت و احترام ملا ہے، اس کے حقدار تو وہ ہیں جو منگل کے روز تشریف لارہے ہیں۔ وہ جب خود موجود ہوں گے اور سی ویو ہوٹل کے منیجر وویک رائے جب اس خبر کی فخر کے ساتھ تشہیر کریں گے، اس وقت کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا! اس بات کو سوچتے ہی اروپ بابو کے ہوش اڑگئے۔
تو کیا ایک دن پہلے ہی چلے جانا ان کے لیے عقلمندی ہوگی؟ نہیں تو پھر منگل کی صبح سے رات تک وہ کیا کریں گے؟ اپنے آپ کو کیسے چھپائیں گے؟ اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو یہ لوگ انھیں کیسے چھوڑ دیں گے؟ مکار، دھوکے باز کہہ کر ان کی چمڑی نہیں ادھیڑ دیں گے؟مولک جی کو یہ بات معلوم ہوجائے گی تو وہ کیا بغیر پٹائی کیے چھوڑ دیں گے ؟ کوئی کوئی ادیب کیاسانڈ جیسا طاقتور نہیں ہوتا؟ اور پولیس؟ پولیس کابھی ڈر ہے۔
اس قسم کی دھوکے بازی کرنے سے جیل کی سزا دی جاتی ہے یا نہیں، یہ بات اروپ بابو کو معلوم نہیں ہے۔ اگر دی جاتی ہو تو اروپ بابو کو کوئی حیرانی نہیں ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بہت بڑاگناہ کربیٹھے ہیں۔ فکر کی وجہ سے نیند نہیں آئے گی، یہ سوچ کر اروپ بابو نے نیند کی ایک گولی کھالی۔
آخر کار اروپ بابو نے منگل کی رات کی ٹرین سے جانا ہی طے کیا۔ دراصل املیش مولک کو ایک بار اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی خواہش کو وہ کس طرح روک نہ سکے۔ پیر کی صبح اپنے ہوٹل میں ہی تلاش کرنے پر ےُگانتر کا وہ پرچہ انھیں مل گیا جس میں املیش مولک کی تصویر چھپی تھی۔ پتلی مونچھیں، گھنگھرالے بال، موٹے فریم کا چشمہـیہ ساری چیزیں ہیں، لیکن مشابہت کی مقدار کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے اصل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا، کیونکہ تصویر صاف نہیں چھپی ہے۔ جہاں تک سمجھ میں آرہا ہے، اس سے انھیں پہچاننے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اروپ بابو اسٹیشن جائیں گے، انھیں نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، بلکہ ان سے دو چار باتیں بھی کرلیں گے، جیسے ’’آپ مسٹر مولک ہیں نا؟ آپ کی تصویر اس دن رسالے میں دیکھی تھی۔ آپ کی کہانیاں میں نے پڑھی ہیں۔ بہت ہی اچھی لگتی ہیں،‘‘ وغیرہ۔ اس کے بعد اپنا سامان اسٹیشن پر رکھ کر اروپ بابوشہر چھوڑ کرنکل جائیں گے۔ کونارک اب تک دیکھ نہیں سکے ہیں۔ مندر دیکھ کر شام کو لوٹیں گے اور سیدھے اسٹیشن جاکر ٹرین میں بیٹھ جائیں گے۔ خود کو چھپانے کا اس سے بڑھ کر کوئی طریقہ نہیں ہے۔
منگل کے دن پوری ایکسپریس بیس منٹ دیر سے پہنچی۔ مسافر نیچے اتر رہے ہیں۔ اروپ بابو ایک کھمبے کی آڑ میں کھڑے ہوکر فرسٹ کلاس کے ارد گرد کی دونوں بوگیوں کوبغور دیکھ رہے ہیں۔ ایک دروازے سے ہاف پینٹ پہنے دو بدیسی اترے، اس کے بعد ایک لحیم شحیم مارواڑی۔ دوسرے دروازے سے ایک بوڑھی عورت اتری، جس کا ہاتھ ایک سفید پینٹ پہنے نوجوان تھامے ہوے تھا۔ نوجوان کے بعد ایک بوڑھا، اس کے بعد... ہاں، کسی طرح کی کوئی غلطی نہیں ہورہی ہے، یہی املیش بابو ہیں۔ اروپ بابو سے چہرہ کافی ملتا جلتا ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر برابر کھڑے ہو جائیں تو جڑواں بھائی سمجھ لیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مولک کی اونچائی اروپ بابو سے کم از کم دو انچ کم ہے اور جسم کا رنگ دگنا کالا ہے۔ عمر بھی شاید زیادہ ہے، کیونکہ بال بہت پک گئے ہیںـ اروپ بابو کے بال اتنے پکے نہیں ہیں۔
سوٹ کیس ہاتھ میں سنبھال کر اترتے ہی انھوں نے قلی کو پکارا ۔ اروپ بابو بھی قلی کے ساتھ ان کی طرف بڑھ گئے ۔
’’آپ ہی مسٹر مولک ہیں نا؟‘‘
انھوں نے تھوڑا حیران ہوکر اروپ بابو کی طرف دیکھا اورذراساسرہلاکر کہا،’’ہاں۔‘‘
قلی اپنے سر پر سوٹ کیس رکھ چکا ہے۔ اس کے علاوہ املیش بابوکے ساتھ جوسامان ہے وہ ہے کندھے پرلٹکا ہوا ایک بیگ اور تھرماس۔ تینوں لوگ گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔ اروپ بابو نے کہا، ’’ میں آپ کی کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ اخبار میں آپ کوایوارڈ ملنے کی بات پڑھ چکا ہوں اور تصویر بھی دیکھی ہے۔‘‘
’’اوہ!‘‘
’’آپ سی ویو میں ٹھہریں گے؟‘‘
املیش مولک نے اور زیادہ حیران ہوکر اس بار اروپ بابو کو ذرا مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ اروپ بابو نے مولک جی کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوے کہا، ’’سی ویو کا منیجر آپ کا مداح ہے۔ اسی نے یہ خبر پھیلائی ہے۔‘‘
’’اوہ۔‘‘
’’آپ آرہے ہیں، یہ سن کر بہت سے بچے بے چین ہیں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
یہ آدمی اتنا کم کیوں بولتا ہے؟ اس کی چہل قدمی کی رفتار بھی جیسے کم ہوتی جارہی ہے۔ یہ آدمی کیاسوچ رہا ہے؟
املیش مولک اس بار ٹھٹک کر کھڑے ہوگئے اور اروپ بابو کی طرف مڑتے ہوے بولے، ’’کافی لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے؟‘‘
’’سنا تو یہی ہے۔ کیوں؟ اس سے کیا آپ کو کوئی پریشانی ہوگی؟‘‘
’’نہیں، مطلب ہے کہ میں ذرا اکیلے رہنا پپ...پپ...پپ...‘‘
’’پسند کرتے ہیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
ہکلاتے ہیں۔ اروپ بابو کو یاد آیا،ایڈورڈ ہشتم نے جب اچانک تخت و تاج ٹھکرادیا تھا تو ان کا بھائی فکر مند ہوگیا تھا، کیونکہ وہ تتلاتا تھا۔ لیکن بادشاہ اسی کو بنناتھا، اور بادشاہ بننے کے بعد تقریر کرنا بھی ضروری تھا۔
قلی سامان لے کر گیٹ کے سامنے کھڑا ہے، یہ دیکھ کر دونوں پھر سے چہل قدمی کرنے لگے۔
’’اسی کو کہتے ہیں شہرت کی ستم ظریفی۔‘‘
اروپ بابو نے اس بات کا تصور کرنے کی کوشش کی کہ اس ہکلانے والے ادیب سے گفتگو کرنے کے بعد جھنی، پنٹو، چمکی، شانتنو، بابن اور نونیتہ کے چہروں کی کیا حالت ہوگی۔ تصور میں انھوں نے جو کچھ دیکھا وہ انھیں ذرا بھی اچھا نہ لگا۔
’’ایک کام کریں گے؟‘‘ گیٹ کے باہر آکر اروپ بابو نے پوچھا۔
’’کیا؟‘‘
’’آپ کی چھٹی مداحوں کے چکر میں برباد ہو جائے، یہ سوچنے میں ذرا بھی اچھا نہیں لگتا ۔‘‘
’’مجھے بھی نہیں۔‘‘
’’میرا مشورہ ہے کہ آپ سی ویو مت جائیں۔‘‘
’’ت...تب؟‘‘
’’سی ویو میں کھانا بھی اچھا نہیں ملتا ہے ۔ میں ساگرِ کا میں ٹھہراتھا۔ اب میرا کمرہ خالی ہے۔ آپ وہیں تشریف لے جائیں۔’’
’’اوہ!‘‘
’’اور آپ اپنا نام استعمال نہ کریں۔ بہتر تو یہی ہوگا کہ آپ اپنی مونچھیں صاف کرالیں۔‘‘
’’موں...مونچھ؟‘‘
’’ابھی فوراً ویٹنگ روم میں چلے جائیے۔ دس منٹ کی بات ہے۔ ایسا کرنے سے کوئی آپ کی چھٹی برباد نہیں کرسکے گا۔ بلکہ میں کل کلکتہ پہنچ کر آپ کے نام سے سی ویو میں تار بھیج دوں گا کہ آپ نہیںآرہے ہیں۔‘‘
املیش مولک کی پیشانی سے فکر کی لکیروں کو مٹنے میں تقریباً بیس سیکنڈ لگے۔ اس کے بعد ان کے لبوں اور آنکھوں کے دونوں طرف نئی لکیریں ابھر آئیں۔ مولک جی ہنس رہے ہیں۔
’’آپ کاکیا کہہ کر ش...ش...ش...‘‘
’’کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس آپ ان کتابوں پر اپنے دستخط کردیجیے۔ اس نیم کے درخت کے پیچھے چلے آئیے۔ کسی کی نظر نہیں پڑے گی۔‘‘
پیڑ کی اوٹ میں جاکر املیش مولک اپنے مداح کی طرف دیکھتے ہوے ایک نرم ہنسی ہنسے اور انھوں نے جیب سے ایک لال پارکر قلم باہر نکالا۔ جس دن سے ایوارڈ ملا ہے، ڈھیر سارا کاغذ اور روشنائی خرید کر انھوں نے اپنا ایک بہت خوبصورت دستخط تیار کرلیا ہے۔ پانچوں کتابوں پر انھوں نے دستخط کردیے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زبان حالانکہ ہکلاتی ہے، مگر قلم نہیں ہکلائے گا۔


بارین بھومِک کی بیماری

کنڈکٹر کی ہدایت کے مطابق ’ڈی‘ ڈبے میں داخل ہوکر بارین بھومک نے اپنا بڑا سوٹ کیس سیٹ کے نیچے رکھ دیا ۔ اسے راستے میں کھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کنگھی، برش، ٹوتھ برش، داڑھی بنانے کا سامان، ریل میں پڑھنے کے لیے ہیڈلی چیز کا ناول ـ سب کچھ دستی بیگ میں ہے۔ اس کے علاوہ تھروٹ پلز بھی ہیں ۔ ٹھنڈے ڈبے میں سردی گھسنے کی وجہ سے کہیں گلا بیٹھ جائے تو کل گانا نہیں گا سکیں گے۔ جھٹ سے ایک ٹکیہ منھ میں ڈال کر بارین بھومک نے بیگ کو کھڑکی کے سامنے میز پر رکھ دیا۔
دلی جانے والی ٹرین کے چلنے میں اب صرف سات منٹ کی دیر ہے، لیکن ان کے ڈبے میں کوئی اور مسافر کیوں نہیں ہے؟ اتنی دور کا سفر کیا انھیں اکیلے ہی طے کرنا ہوگا؟ یہ تو ایک طرح سے عیاشی کی انتہا ہے۔ حالات کا تصور کر کے بارین بھومک کے گلے سے خود بخود ایک گانے کے بول پھوٹ پڑے۔
’’او باغ کی بلبل، پھولوں کی ڈالی پر نہیں تم جھولو!‘‘ بارین بھومک نے کھڑکی سے ہاوڑا اسٹیشن پلیٹ فارم پر کی بھیڑ کی طرف ایک نظر ڈالی۔ دو نوجوان ان کی طرف تاکتے ہوے آپس میں کچھ گفتگو کر رہے ہیں۔ بارین بھومک کو ان لوگوں نے پہچان لیا ہے۔ بہت سے آدمی انھیں پہچانتے ہیں۔ کلکتہ ہی نہیں بلکہ بہت سے قصبوں کے لوگ نہ صرف ان کی آواز کو پہچانتے ہیں بلکہ ان کے چہرے سے واقف ہیں۔ ہر مہینے چھ سات پروگراموں میں ان کو مدعو کیا جاتا ہے۔ بارین بھومک نذرل کے نغمے اور جدید موسیقی کا پروگرام پیش کریں گے۔ شہرت اور دولت دونوں چیزیں اب بارین بھومک کی مٹھی میں ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ایسے حالات پچھلے پانچ سال سے ہی ہیں۔ اس سے پہلے انھیں کئی برس تک بے حد جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ نغمے کے لیے نہیں؛ وہ گانا گانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر صرف گانے سے کام نہیں چلتا، اس کے ساتھ چاہیے قسمت اور بینکنگ ۔ 1968میں انیس پلّی کے پوجا کے پنڈال پر بھولا دا ـ بھولا بانڈوجیہـ ان سے اگر زبردستی ’بیٹھ وزن‘ میں گانا نہ گواتے...
اسی گانے کے بدولت بارین بھومک دلی جارہے ہیں۔ دلی کی بنگالی ایسوسی ایشن اول درجے کا کرایہ دے کر اپنی جوبلی کے موقعے پر نذرل کے گیت گانے کے لیے انھیں لے جارہی ہے۔ ان کے ٹھہرنے کا انتظام بھی ان کی طرف سے کیا جائے گا ۔ دو دن دلّی میں گزار کر آگرہ، فتح پور سیکری سے ہوتے ہوے ٹھیک سات روز کے بعد بارین بھومک کلکتہ واپس چلے آئیں گے۔ اس کے بعد پوجا آجائے گی اور تب انھیں فرصت ہی نہیں ملے گی۔ ہر پہر موسیقی کی محفل میں حاضری دینا ہوگی، سامعین کے کانوں میں رس برسانے کے لیے۔
’’آپ کے لنچ کا آرڈر، سر...‘‘ کنڈکٹر گارڈ آکر کھڑا ہے۔
’’کیا کیا ملتا ہے؟‘‘ بارین نے پوچھا۔
’’آپ نان ویجیٹیرین ہیں نا؟ دیسی کھانا کھائیے گا یا ویسٹرن اسٹائل؟‘‘
’’دیسی چاہیے تو...‘‘
اپنی پسند کے کھانے کا آرڈر دے کر بارین نے ابھی ایک تھری کیسلز سگریٹ سلگائی ہی تھی کہ اسی وقت ڈبے کے اندر ایک اور مسافر داخل ہوا اور اس کے بعد ہی گاڑی روانہ ہوگئی۔
آنے والے مسافر سے آنکھیں ملتے ہی بارین کو وہ آدمی پہچانا سا لگا اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی، مگر اجنبی کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہ پاکر وہ مسکراہٹ ایک ہی پل میں معدوم ہوگئی۔ کیاپھربارین سے غلطی ہوگئی؟ چھی چھی... اس طرح مسکرانے کی کیا ضرورت تھی؟ کتنے عجیب حالات سے گزرنا پڑا! یاد آیا، ایک بار گھڑدوڑ کے میدان میں بھورے رنگ کا کرتا پہنے ایک عمر دراز آدمی کو پیچھے کی طرف سے ’ ’کیا حال ہیں تِروِدا!‘‘ کہہ کر اس کی پشت پر ایک دھول جمانے کے بعدبارین کی سمجھ میں آیا تھا کہ دراصل وہ ترودا نہیں ہیں۔ یہ شرمناک یاد بہت دنوں تک ان کے دل کو کریدتی رہی تھی۔ آدمی کو اس طرح کے مشکل حالات میں ڈالنے کے لیے چاروں طرف کتنی پریشانیاں بکھری پڑی ہیں۔
بارین بھومک نے دوبارہ اجنبی کے چہرے پر نظر ڈالی۔ موصوف چپلیں اتارکر، سیٹ پر پاؤں پھیلائے السٹریٹڈ ویکلی کی ورق گردانی کر رہے ہیں۔کتنی حیرت کی بات ہے! انھیں پھر محسو س ہورہا ہے کہ یہ شخص جانا پہچانا ہے۔ یہ جان پہچان سرسری نہیں بلکہ کافی لمبی ملاقات ہے۔ مگر کب کی جان پہچان ہے؟ کہاں ملاقات ہوئی تھی؟ گھنی بھنویں، پتلی مونچھیں، پامیڑ سے رنگے ہوے بال، گال کے بیچوں بیچ ایک داغـ اس چہرے سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔ ہاں، واقف ہی نہیں، وہ جب سینٹرل ٹیلیگراف میں نوکری کرتے تھے تب سے جانتے ہیں۔ کیایہ یک طرفہ شناسائی تھی؟ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بارین بھومک ان کے لیے بالکل اجنبی ہیں۔
’’آپ اپنے کھانے کا آرڈر...‘‘
کنڈکٹر گارڈ دوبارہ آیا ہے۔ بہت ہی خوش مزاج اور صحتمند شخص ہے یہ۔
’’سنیے،‘‘اجنبی نے کہا، ’کھانا تو بعد کی چیز ہے،پہلے ایک پیالی چائے مل سکتی ہے؟‘‘
’’یقینا۔‘‘
’’بس ایک کپ سے ہی کام چل جائے گا۔ میں را ٹی لیتا ہوں۔‘‘
بارین بھومک کو محسوس ہوا ان کے پیڑو سے ناف اور آنتیں باہر نکل آئی ہیں اور وہ جگہ بالکل خالی ہوگئی ہے۔ اس کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ ان کے کلیجے میں ہاتھ پیر اُگ آئے ہیں اور وہ ہاتھ پیر سانس کی نلی کے پنجرے میں اچھل کود کر رہے ہیں۔ نہ صرف اس گلے کی آواز بلکہ خاص زور ڈال کر کہے گئے لفظ ’’را ٹی‘‘ (Raw Tea)نے ہی ان کے اندر ہلچل پیدا کردی۔
بارین نے اس شخص کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ ان کے ساتھ بالکل اسی طرح دلّی جاتی ہوئی ٹرین کے فرسٹ کلاس کے اے سی ڈبے میں آمنے سامنے بیٹھ کر قریب قریب آٹھ گھنٹے کا سفر کیا ہے۔ وہ خود پٹنہ جارہے تھے، اپنی ممیری بہن شپرا کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے۔ اس کے تین دن قبل گھڑدوڑ کے میدان میں ٹریول ٹوٹ میں ایک ہی ساتھ ساڑھے سات ہزار روپے جیت کر وہ زندگی میں پہلی بار ریل کے اول درجے میں سفر کرنے کی خواہش کو روک نہیں پائے تھے۔ اس وقت ایک گلوکار کی حیثیت سے وہ اتنے مشہور نہیں تھے۔ یہ واقعہ 1964ہے ،نو سال پہلے کی بات ۔ اس آدمی کے خاندانی نام کی بھی دھندلی سی یاد آرہی ہے... چ سے اس لفظ کی شروعات ہوتی تھی... چودھری؟ چکرورتی؟ چٹرجی؟
کنڈکٹر گارڈ کھانے کا آرڈر لے کر چلا گیا۔ بارین کو لگا، اس آدمی کے سامنے بیٹھنے میں وہ گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ باہر کاریڈور میں جاکر کھڑے ہوگئے، دروازے کے سامنے سے پانچ ہاتھ داہنی طرف، ’چ‘ کی نظروں سے دور۔ اتفاق کے معنی کیا ہیں؟ یہ بات بارین بھومک کومعلوم نہیں۔لیکن وہ جانتے ہیں کہ ہر آدمی کو زندگی میں اس قسم کے واقعات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ مگر ’چ‘ نے کیا انھیں پہچان لیا ہے؟ نہ پہچاننے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں: ایک، ہوسکتا ہے ’چ‘ کی یادداشت کمزور ہو؛ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے ان نو برسوں کے درمیان بارین کے چہرے میں کافی تبدیلی آگئی ہو۔ کھڑکی سے باہر کے چلتے ہوے مناظر کی طرف دیکھتے ہوے بارین نے سوچنے کی کوشش کی ، ان کے نو برس پہلے کے چہرے اور ان کے آج کے چہرے میں کتنا فرق ہے۔
ان کا وزن کافی بڑھ گیا ہے ، لہٰذا ظاہر ہے کہ ان کا چہرہ بھی پہلے سے زیادہ بھر گیا ہے۔ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ چشمہ نہیں تھا، مگر اب ہے۔ مونچھیں؟ کب انھوں نے مونچھیں منڈوا دی تھیں؟ ہاں، یاد آیا، زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ہاجرا روڈ کا وہ سیلون... ایک نیا نوجوان حجام دونوں طرف کی مونچھوں کو یکساں نہیں تراش سکا تھا۔ بارین نے خود اتنا محسوس نہیں کیا، لیکن دفتر کے اس گپّی لفٹ مین شکدیو سے لے کر باسٹھ سال کے بوڑھے خزانچی کیشو بابو نے بھی جب ان کی مونچھوں پر تبصرہ کیا تو بارین کو لاچار ہوکر اپنی پیاری مونچھیں تراشنا پڑیں۔ اس کے بعد سے انھوں نے مونچھیں رکھی ہی نہیں۔
مونچھیں ہٹ گئی ہیں، گال بھر گئے ہیں، آنکھوں پر عینک لگ گئی ہے۔ بارین بہت کچھ مطمئن ہوکر ڈبے کے اندر چلے آئے۔
بیرا ایک ٹرے میں چائے کی پیالی اور چائے لاکر ’چ ‘ کے سامنے رکھ کر چلا گیا۔ بارین بھی کسی مشروب کی طلب محسوس کر رہے تھے، چاہے ٹھنڈا ہو یا گرم۔ لیکن کہتے کہتے رک گئے۔
اگر گلے کی آواز پہچان لے؟
اور پہچاننے کے بعد نتیجہ کیا ہوسکتا ہے، بارین اس کا تصور تک نہیں کرناچاہتے۔ اتنا ضرور ہے کہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ’چ‘ کس قسم کا آدمی ہے۔ اگر وہ اینمیش دا کی طرح ہوا تو پھر بارین اطمینان کی سانس لے پائیں گے ۔ ایک بار بس میں ایک آدمی اینمیش دا کی جیب ٹٹول رہا تھا۔ اس بات کا علم ہونے پر بھی شرم کے مارے وہ کچھ نہ کہہ سکے۔ بعد میں گھر آکر کہنے لگے، ’’پبلک بس میں اتنے لوگوں کے درمیان ایک سین ہوجائے اور اس میں خاص پارٹ میرا ہی ہوـ ایساکیسے ہونے دوں؟‘‘
یہ آدمی کیا اسی قسم کا ہے؟ ایسا ہونابہت مشکل ہے، کیونکہ اینمیش دا جیسے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ چہرے سے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی اس قسم کا نہیں ہے۔ یہ گھنی بھنویں، نکیلی ناک، سامنے کی طرف نکلا ہوا نتھنا۔ سب کچھ ملانے کے بعد لگتا ہے یہ شخص اگر بارین کو پہچان لے گا تو اپنے روئیں دار ہاتھ سے شرٹ کا کالر کس کر پکڑتے ہوے کہے گا، ’’تم ہی وہ آدمی ہونا جس نے سنہ 64میں میری گھڑی چرا ئی تھی؟ اسکا ؤنڈرل! نو برس سے میں تمھاری تلاش میں ہوں۔ آج میں تمھیں...‘‘
اس کے بعد بارین بھومک سوچ نہیں سکے۔ اس ٹھنڈے ڈبے میں بھی ان کی پیشانی پسینے سے تر ہوگئی ۔ ریلوے کے ریکسین منڈھے تکیے پر سر رکھ کر وہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے اور بائیں ہاتھ سے اپنا چہرہ ڈھک لیا۔ آنکھوں کو دیکھ کر ہی انسان کو بہ آسانی پہچانا جاسکتا ہے۔
بارین نے بھی آنکھوں کو دیکھ کر ہی شروع میں اسے پہچانا تھا۔
ہر واقعہ انھیں تفصیل سے یاد آنے لگا ہےـ نہ صرف ’چ‘ کی گھڑی کی چوری کی کہانی، بلکہ بچپن سے ہی وہ جن لوگوں کی جو جو چیز چراتے رہے ہیں، وہ تمام منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ایک معمولی ڈاٹ پین بھی ہوسکتا ہے (مکل ماما کا) یاپھر چھینی دا کے ہڈیوں کے کف لنکس ، جن کی نہ تو بارین کو ضرورت تھی اور نہ وہ کسی روز انھیں اپنے استعمال میں لائے تھے۔ چوری کی وجہ یہ تھی کہ وہ چیزیں ہاتھوں کے قریب تھیں اور پرائے لوگوں کی تھیں۔ بارہ برس کی عمر سے لے کر پچیس سال تک کم از کم پچاس پرائی چیزیں بارین بھومک کسی طرح ہتھیا کر اپنے گھر لے آئے۔ اسے چوری کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے؟ محض فرق اتنا ہی ہے کہ چور کسی مجبوری یا حالات کے تحت چوری کرتا ہے اور انھوں نے عادتاً چوری کی ہے۔ لوگوں نے کبھی ان پر شک نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ کبھی پکڑ میں نہیں آئے۔ بارین جانتے ہیں کہ اس طرح چوری کرنا ایک قسم کی بیماری ہے۔ ایک بار انھوں نے اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے باتوں باتوں میں اس بیماری کانام بھی جان لیا تھا، لیکن اب یاد نہیں آرہا ہے۔
بس اتنا ضرور ہے کہ نو سال قبل ’چ‘ کی گھڑی چرانے کے بعد سے آج تک ایک بھی بار ایسا کام نہیں کیا ہے، یہاں تک کہ چوری کرنے کی وقتی مگر قوی خواہش بھی ان کے اندر ابھی تک نہیں جاگی ہے۔ بارین کو معلوم ہے کہ اس خطرناک بیماری سے چھٹکارا مل چکا ہے۔
ان کی دوسری چوریوں اور اس گھڑی کی چوری میں بس یہی فرق تھا کہ انھیں حقیقت میں اس کی ضرورت تھی۔ وہ دستی گھڑی نہیں بلکہ سوئٹزر لینڈ کی بنی ایک بہت ہی خوبصورت سفری گھڑی ہے۔ ایک نیلا چوکور بکسا ہے ، اس کا ڈھکن کھولتے ہی گھڑی باہر نکل کر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے۔ الارم گھڑی ہے اور اس الارم گھڑی کی آواز اتنی شیریں ہے کہ نیند سے بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ کانوں میں میٹھا سنگیت گونجنے لگتا ہے۔ ان نو برسوں کے درمیان بارین بھومک ہمیشہ اسے استعمال میں لائے ہیں۔ وہ جہاں کہیں گئے ہیں، ان کے ساتھ وہ گھڑی رہی ہے۔
آج بھی گھڑی ان کے ساتھ ہےـ کھڑکی کے سامنے میز پر رکھے اس بیگ کے اندر۔
’’کہاں جائیے گا؟‘‘
بارین یوں چونک پڑے جیسے ان کے بدن سے بجلی کا تار چھوگیا ہو۔ یہ آدمی ان سے مخاطب ہے، سوال پوچھ رہا ہے!
’’دلّی۔‘‘
’’جی؟‘‘
’’دلّی۔‘‘
پہلی مرتبہ بے حد احتیاط برتنے کی غرض سے بارین نے بہت ہلکی آواز میں جواب دیاتھا۔
’’آپ کاگلا کیا سردی کی وجہ سے بیٹھ گیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اکثر ایسا ہوتا ہے۔ دراصل ایرکنڈیشننگ کا صرف ایک ہی فائدہ ہے اور یہ کہ دھول سے نجات ملتی ہے، ورنہ میں فرسٹ کلاس میں ہی سفر کرتا ہوں۔‘‘
بارین چپ ہیں۔ اگر یہ ممکن ہوتا تو وہ ’چ‘ کی طرف دیکھتے بھی نہیں، لیکن ’چ‘ ان کی طرف دیکھ رہا ہے یا نہیں، یہ بات جاننے کی خواہش میں بار بار ان کی نظر اس کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ لیکن ’چ‘ مطمئن اور پُرسکون نظر آرہا ہے ۔ اداکاری کر رہا ہے کیا؟ یہ بات بارین کو معلوم نہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے اس آدمی کو اور زیادہ جاننا ضروری ہے۔ بارین جو کچھ جانتے ہیں، وہ معلومات پچھلی دفعہ کی ہے۔ ایک یہ کہ دودھ چینی کے بغیر چائے اور پان کی عادت۔دوسری یہ کہ اسٹیشن آتے ہی نیچے اتر کر کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز لے آنے کی عادت۔ نمکین چیزیں، میٹھی نہیں۔ یاد ہے، پچھلی مرتبہ ’چ‘ کی بدولت بارین بھومک کو کئی قسم کی چٹپٹی چیزیں کھانے کا موقع ملا تھا۔
اس کے علاوہ پٹنہ اسٹیشن کے نزدیک پہنچنے پر اس کے کردار کا ایک اور پہلو سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی اس کی گھڑی کا معاملہ بھی منسلک ہے، لہٰذا وہ قصہ بارین کو بخوبی یاد ہے۔ اس بار امرتسر میل گاڑی تھی۔ گاڑی صبح پانچ بجے پٹنہ پہنچتی تھی۔ کنڈکٹر نے آکر ساڑھے چار بجے بارین کو جگا دیا تھا۔ ’چ‘ بھی غنودگی کی حالت میں تھا، حالانکہ وہ دلی جارہا تھا۔ گاڑی اسٹیشن پہنچنے کے تین منٹ پہلے اچانک رک گئی۔ کیا بات ہے؟
پٹریوں پر لیمپ اور ٹارچ کی بھاگ دوڑ دیکھ کر محسوس ہوا کہ کوئی گڑبڑ ہوئی ہے۔ آخر میں گارڈ نے آکر خبرسنائی کہ ایک بوڑھا لائن پارکرتے وقت انجن سے کٹ گیا ہے۔ اس کی لاش ہٹنے کے بعدگاڑی روانہ ہوگی ۔ یہ سنتے ہی ’چ‘ بے حد بے چین ہوکر سلیپنگ سوٹ پہنے ہی اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے اندھیرے میں چلا گیا۔
اسی موقعے کا فائدہ اٹھاکر بارین نے اس کے بکسے سے گھڑی نکال لی۔ اسی رات انھوں نے ’چ‘ کو گھڑی میں چابی بھرتے ہوے دیکھا تھا۔ گھڑی دیکھ کر لالچ نہ ہوا ہو، ایسی بات نہیں ہے ، لیکن یہ سوچ کر کہ موقع نہیں ملے گا، انھوں نے گھڑی کی بات دل سے نکال دی تھی۔ اس وقت اچانک موقع مل جانے سے ان کا لالچ اتنا بڑھ گیا کہ سیٹ پر ایک دوسرے مسافر کے سوئے ہونے کے باوجود انھیں خطرہ مول لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ چند لمحوں کے وقفے میں انھوں نے اس کام کو انجام دے دیا۔ ’چ‘ لگ بھگ پانچ منٹ کے بعد واپس آیا۔
’’بہت دکھ کی بات ہے! گداگر تھا۔ دھڑ ایک طرف ہے تو سر دوسری طرف۔ سامنے کاؤکیچر رہنے پر بھی انسان کیسے کٹ جاتا ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کا کام یہی ہے کہ اگر لائن پر کوئی چیز پڑی ہو تو اسے ہٹاکر باہر پھینک دے!...‘‘
’’آپ دلّی کے باشندے ہیں یاکلکتہ کے؟‘‘
بارین کو یاد آیا، پچھلی مرتبہ بھی اس نے طرح طرح کے سوال کیے تھے۔ زبردستی کسی سے جان پہچان کرنے کی اس قسم کی عادت کوبارین پسند نہیں کرتے۔
’’کلکتہ کا،‘‘ بارین نے جواب دیا۔ انجانے میں ہی اس بار ان کی اصل آواز باہر نکل آئی۔ بارین نے خود کو کوسا ۔ آئندہ انھیں اور زیادہ ہوشیا رہنا پڑے گا۔
لیکن یہ کیا! وہ بارین کو ایک ٹک دیکھے جارہاہے!ایک دم اس طرح کا تجسس ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ بارین نے محسوس کیا کہ ان کی نبض پھر تیز ہوگئی ہے۔
’’آپ کی حال میں اخبار میں کوئی تصویر چھپی ہے؟‘‘
بارین نے سوچا ، اس معاملے میں سچائی چھپانا عقلمندی کا کام نہیں ہے۔ ریل میں دوسرے بنگالی مسافر بھی موجود ہیں، وہ بھی انھیں پہچان سکتے ہیں۔ اسے اپنی صحیح پہچان بتانے میں نقصان ہی کیا ہے؟ بلکہ اگر اسے اس بات کا علم ہوجائے کہ بارین ایک مشہور ہستی ہیں تو انھیں تو نوبرس پہلے کے گھڑی چور کی شکل میں دیکھنا ’چ‘ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔
’’آپ نے تصویر کہاں دیکھی تھی؟‘‘ بارین نے پوچھا۔
’’آپ گانا گاتے ہیں؟‘ ‘ اس نے دوبارہ سوال کیا۔
’’ہاں، تھوڑ ابہت...‘‘
’’آپ کا اسم گرامی ؟‘‘
’’باریندر ناتھ بھومک۔‘‘
’’اوہ، یہ کہیے نا،بارین بھومک۔ اسی لیے آپ جانے پہچانے سے لگ رہے تھے۔ آپ بیچ میں ریڈیو پربھی گاتے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’میری بیوی آپ کی فین ہے۔ گانے کے سلسلے میں ہی کیا دلّی جارہے ہیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
بارین نے سوچا کہ وہ زیادہ تفصیلی گفتگو سے پرہیز کریں گے۔ صرف ہاں یا نہیں میں ہی مختصر بات کریں گے۔
’’دلّی میں ایک او ربھومک ہیں، فنانس منسٹری میںـ اسکاٹش کالج میں میرے ساتھ پڑھتے تھے۔ پورا نام ہے نتیش بھومک ۔ آپ سے کوئی رشتے داری وغیرہ ہے؟‘‘
رشتے داری ہے۔ بارین کے چچیرے بھائی ہیں۔ سخت نوابی مزاج کے آدمی ہیں، اس لیے بارین کے سگے ہونے پر بھی ایک گوتر کے نہیں ہیں۔
’’جی نہیں، میں انھیں نہیں پہچانتا۔‘‘
یہاں جھوٹ بولنا ہی بارین نے غنیمت سمجھا۔ اب یہ آدمی باتیں کرنا بند کردے تو اچھا رہے۔ آخر اتنی جرح کیوں کر رہاہے؟
خیر، کھانا آگیا ہے۔ امید ہے کچھ دیر تک سوالات کے تیر نہیں برس سکیں گے۔
ہوا بھی یہی۔ ’چ‘ کھانے کا شوقین ہے۔ ایک بار کھانا شروع ہوجاتا ہے تو گفتگو کا سلسلہ خود بخود تھم جاتا ہے ۔ بارین بھومک کا خوف حالانکہ کافی حد تک دور ہوگیا ہے، لیکن پھربھی ایک عجیب سی بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ اب بھی بیس گھنٹے کاراستہ باقی ہے۔ انسان کی یادداشت بھی بڑی غضب کی شے ہے۔ کب دھکا دے کر کس زمانے کی یادوں کو جگا دے کہنا دشوار ہے۔ جیسے اسی بات کو لیجیے۔ بارین کا خیال ہے کہ اگر وہ اُس خاص لفظ کو نہ سنتے تو نو سال پہلے کے گھڑی مالک کی باتیں ان کے ذہن میں ہرگز نہ آتیں۔ اسی طرح بارین کی کوئی بھی حرکت ان کی پرانی واقفیت کو ’چ‘ کے سامنے لاکر کھڑا کردے تو؟ ان تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد بارین نے طے کیا کہ اب وہ نہ تو گفتگو کریں گے اور نہ ہی کوئی کام ۔ کھانے سے فارغ ہوکر وہ اپنے چہرے کے سامنے ہیڈلی چیز کی کتاب کھول کر اور تکیے کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گئے۔ پہلا ورق ختم کر کے انھوں نے ہوشیاری سے گردن گھمائی اور دیکھا کہ ’چ‘ سو گیا ہے۔ کم از کم دیکھنے سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔ رسالہ ہاتھ سے فرش پر گرپڑا ہے۔ آنکھیں ہاتھ سے ڈھکی ہوئی ہیں، مگر سینے کا پھولنا پچکنا دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ سوئے ہوے آدمی کی فطری اور آزاد سانسیں ہیں۔
بارین نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ میدان ،پیڑ پودوں اور مکانوں کا ملا جلا بِہار کا روکھا سوکھا منظر دکھائی دے رہا ہے۔ کھڑکی کے دوہرے شیشے کو پار کر کے ریل کی آواز نہیں کے برابر سنائی دے رہی ہے، جیسے دور بہت سے مِردنگ ایک ساتھ ایک ہی بول میں بج رہے ہوںـ دھادھاناک... ناون ناک... دھاون ناک... ناون ناک... دھاون ناک... ناون ناک...
اس آواز میں اب ایک اور آواز شامل ہوگئی ہے: ’چ‘ کے خراٹوں کی آواز۔
بارین بھومک کو بہت اطمینان کا احساس ہوا۔ نذرل کے ایک چنے ہوے گیت کی سطر گنگنا کر دیکھا۔ صبح کی مانند اتناشیریں نہ ہو نے پربھی انھیں برانہ لگا۔ اب گلے کی آواز کو تیز نہ کرتے ہوے، ایک بار گلے کو کھنکھار کر انھوں نے دوبارہ اس گانے کو گانا شروع کیا۔
ایک چونکانے والی آواز نے ان کے گلے کو خشک کردیا اور ان کا گیت گانا تھم گیا۔وہ گھڑی کے الارم کی آواز تھی۔
ان کے بیگ میں رکھی ہوئی سوئس گھڑی کا الارم نہ جانے کیسے بج اٹھا، اور اب بھی بج رہا ہے۔ بارین بھومک کے ہاتھ پیر جیسے ان کے پیٹ کے اندر سما گئے۔ ان کابدن لکڑی ہوگیا۔ آنکھیں سوئے ہوے ’چ‘ پر جاکر ٹک گئیں۔
’چ‘ جیسے ہل اٹھا ہو۔ بارین مصیبت کے اندیشے سے کانپ اٹھے۔ ’چ‘ کی نیند ٹوٹ چکی ہے۔ آنکھوں پر سے اس کے ہاتھ ہٹ گئے۔
’’گلاس ہے کیا؟ اسے اتارکر رکھ دیجیے۔ وائبریٹ کر رہا ہے۔‘‘
بارین بھومک نے دیوار میں لگے اسٹینڈ کے اندر سے گلاس کو جیسے ہی اٹھایا، آواز تھم گئی۔ اسے میز پر رکھنے سے پیشتر انھوں نے اس کے اندر کے پانی کو پی کر اپنے گلے کو تر کر لیا اور اس سے انھیں تھوڑا آرام ملا۔ پھر بھی گانا گانے میں ابھی وقت لگے گا۔
ہزاری روڈ کے کچھ آگے چائے آئی۔ ایک ایک کر کے دو پیالی گرم چائے پینے کے بعد اور ’چ‘ کی طرف سے کسی قسم کے جرح یا شک کے نشان نہ پاکر بارین کے گلے کاروندھا پن تھوڑا اور کم ہوگیا ۔ باہر تیسرے پہر کی ڈھلتی دھوپ اور دور کے ٹیلے کی طرف دیکھنے کے بعد گاڑی کے چھند سے چھند ملاتے ہوے جب انھوں نے ایک جدید گیت کا ٹکڑا گایا تو اس مصیبت کا بچا کھچا اندیشہ بھی ان کے دل سے دور ہوگیا۔
گیا میں’چ‘ اپنی نو سال کی عادت کے مطابق پلیٹ فارم پر اتر کر سیلوفون میں مڑے ہوے دو پیکٹ چنا چورلے آیا اور ایک پیکٹ بارین کی طرف بڑھا دیا ۔ بارین نے اسے خوب مزے سے کھایا۔ گاڑی کی روانگی کے وقت سورج غروب ہوچکا تھا۔ ڈبے کی بتیاں جلا کر ’چ‘ نے کہا:
’’ہم کیا دیر سے چل رہے ہیں ؟ آپ کی گھڑی کیا بجارہی ہے؟‘‘
اس وقت پہلی مرتبہ بارین کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ’چ‘ کی کلائی میں گھڑی نہیں ہے۔ اس بات کو سوچ کر انھیں حیرانی ہوئی اور اس حیرانی کا ایک ٹکڑا شاید ان کی آنکھوں سے جھانکنے لگا۔ دوسرے ہی پل انھیں یاد آیا کہ ’چ‘ کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اپنی گھڑی کی طرف سرسری نگاہ دوڑاتے ہوے کہا،’ ’ سات بج کر پینتیس منٹ۔‘‘
’’پھر تو ہم ٹھیک وقت پر ہی جارہے ہیں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میری گھڑی آج صبح ہی ... ایچ ایم ٹی بالکل ٹھیک وقت بتاتی تھی!... نوکر نے بستر کو چادر کویوں کھینچا کہ گھڑی ایک دم...‘‘
بارین خاموش ہیں۔ گھڑی کا ذکر آجانا ہی ان کے لیے اشبھ ہے۔
’’آپ کی کون سی گھڑی ہے؟‘‘
’’ایچ ایم ٹی۔‘‘
’’اچھی سروس دیتی ہے؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’دراصل میری گھڑی کی قسمت ہی خراب ہے...‘‘
بارین نے ایک جماہی لے کر خود کو گھبراہٹ اور بے چینی سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان کے اعضا کاسن پن ان کے جبڑوں تک پہنچ چکا ہے۔ سننے کی طاقت ختم ہوجاتی تو انھیں بے حد خوشی ہوتی، لیکن ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ ’چ‘ کی آواز بخوبی ان کے کانوں میں پہنچ رہی ہے...
’’جانتے ہیں، ایک سونے کی سوئس گھڑی، ٹریولنگ کلاک، میرے ایک دوست نے جنیوا سے لاکر مجھے دی تھی۔ ایک مہینہ بھی استعمال نہیں کرسکا...ریل سے دلی جارہا تھا، تقریباً آٹھ سال پہلے کی بات ہے... ہم اور آپ جس طرح سفر کر رہے ہیں، اسی طرح ایک ڈبے میں ہم دو آدمی ـمیں اور ایک دوسراشخص... بنگالی...سوچیے تو کتنی خوفناک بات!
’’شاید میں باتھ روم گیا ہوں گا، یا اسٹیشن پر اترا ہوں گا یا پلیٹ فارم پر ۔ بس، اسی بیچ گھڑی غائب کردی۔ حالانکہ دیکھنے میں ایسا نہیں لگتا تھا۔ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہا تھا، بھلا سا آدمی اور خوبرو چہرہ تھا۔ تقدیر اچھی تھی کہ اس نے قتل نہیں کیا۔ اس کے بعد سے میں ریل میں بیٹھا ہی نہیں۔ اس بار بھی ہوائی جہاز سے جاتا، لیکن پائلٹوں کی ہڑتال کے چلتے...‘‘
بارین بھومک کا گلا خشک ہورہا ہے۔ ہونٹوں کا ہر حصہ بے بس ہوگیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لبوں کو کسی نے سی دیا ہے۔ لیکن وہ اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ ان تمام باتوں کے باوجود خاموش رہنا غیر فطری لگے گا، یہاں تک کہ مشکوک بھی ہوسکتا ہے۔ جی جان سے کوشش کرنے پر ، بے حد ہمت کر کے انھوں نے اپنی زبان سے چندالفاظ ادا کیے۔
’’آپ نے تلاش نہیں کی تھی؟‘‘
’’تلاش کیا کی جائے؟ ڈھونڈنے سے کیا یہ چیزیں واپس ملتی ہیں ؟ بس اتنا ضرور ہے کہ اس شخص کے چہرے کو میں نے بہت دنوں تک یاد رکھا تھا۔ اب بھی دھندلا سا یاد ہےـ سانولا رنگ، مونچھیں، آپ کے برابر ہی قد ہوگا، اور ہاں، دبلا پتلا تھا۔ اگر دوبارہ اس سے ملاقات ہوجاتی تو اسے باپ کانام یاد کرادیتا ۔ جانتے ہیں، کسی زمانے میں میں باکسنگ کیا کرتا تھا۔ لائٹ ہیوی ویٹ چیمپئن تھا۔ اس شخص کے چودہ اجداد کی قسمت اچھی ہے کہ دوبارہ اس پر نظر نہیں پڑی۔‘‘
اس کانام بھی بارین کو یاد آگیاـ چکرورتی، پُلک چکرورتی۔ حیرت ہے! باکسنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہی اس کا نام سنیما کے ٹائٹل کی طرح بارین بھومک کی آنکھوں کے سامنے تیر گیا۔ پچھلی مرتبہ بھی باکسنگ کے بارے میں پلک چکرورتی نے بہت سی باتیں بتائی تھیں۔
مگر نام جاننے سے بھی کیا ہوگا ؟ اس نے تو کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ مجرم تو خود بارین ہیں۔ اور اس جرم کابوجھ انھیں بے حد مضطرب اور بے چین کر رہا ہے۔ اگر اقبال جرم کرلیں تو کیسا رہے؟ گھڑی واپس کردیں تو کیسا رہے؟ ہاتھ کے پاس کے بیگ کو کھولتے ہی...
دھت!... وہ پاگل ہوگئے ہیں کیا؟ وہ اتنے فکر مند کیوں ہورہے ہیں؟ اپنی پہچان چور کی شکل میں کرائیں گے ؟ وہ ایک مشہور گلوکار ہیں، بغیر کہے کیوں وہ پرائی چیز لینے کی بات تسلیم کریں گے؟ اس وجہ سے جب ان کا نام خاک میں مل جائے تو تب کیا گانا گانے کے لیے ان کو مدعو کیا جائے گا؟ ان کے مداحوں کے دل کیا کہیں گے؟ کیا سوچیں گے وہ؟
پلک چکرورتی بار بار ان کی طرف گھور رہاہے۔ اب دلّی پہنچنے میں سولہ گھنٹے رہ گئے ہیں۔ کسی بھی منحوس گھڑی میں پہچان لیے جانے کا خطرہ ہے۔ ارے، یہ تو وہی آدمی ہے۔ بارین نے تصور کیا، ان کی مونچھیں کھسک کر گرپڑی ہیں، گال سے گوشت جھڑگیا ہے، آنکھوں سے چشمہ اتر گیا ہے۔ پلک چکرورتی بغور ان کے نو سال پہلے کے چہرے کو گھور رہاہے۔ اس کی نظر آہستہ آہستہ مرکوز ہوتی جارہی ہے، لبوں پر ایک بے درد ہنسی ابھر آئی ہے۔ ہاں ہاں، پیارے! اب راستے پر آؤ۔ اتنے دنوں کے بعد تم پکڑ میں آئے ہو۔ مزہ تو لوٹا ہے مگر نتیجہ نہیں دیکھا ہے۔
دس بجے بارین بھومک کو کپکپی کے ساتھ بخار آگیا۔ گارڈ کو بلاکر انھوں نے ایک او رکمبل طلب کیا۔ اس کے بعد دونوں کمبلوں کو ایک ساتھ ملا کر پاؤں سے ناک تک ڈھک کر لیٹ گئے۔ پلک چکرورتی نے ڈبے کا دروازہ بند کر کے چٹخنی لگا دی۔ بتی بجھا تے وقت بارین کی طرف مڑ کر کہنے لگا، ’’لگتا ہے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ دوا لیجیے گا؟ میرے پاس بہترین ٹکیہ ہے، دو عدد کھالیں۔ معلوم ہوتا ہے آپ کو ایر کنڈیشننگ کی عادت نہیں ہے۔‘‘
بھومک نے دوا کی ٹکیہ کھالی۔ اب صرف یہی بھروسا ہے کہ اگر پلک چکرورتی گھڑی چور کی شکل میں انھیں پہچان بھی لے تو بیماری کی حالت میں ان پر ترس کھاکر سخت سزا نہیں دے گا۔ اس بیچ انھوں نے ایک بات طے کرلی ہے ۔ پلک اگر انھیں نہ پہچانے تب بھی دلی پہنچنے سے قبل ہی موقع ملتے ہی وہ سوئس گھڑی کو اصلی مالک کے بکسے میں رکھ دیں گے۔ اگر ممکن ہوا تو آدھی رات میں ہی اس کام کو انجام دے دیں گے۔ لیکن اگر بخار کم نہیں ہوتا ہے تو کمبل کے نیچے سے نکلنا دشوار ہے۔ اب بھی بیچ بیچ میں پورا جسم کانپ اٹھتا ہے۔
پلک اپنے سر کے پاس ریڈ نگ لیمپ جلائے ہوے ہے۔ اس کے ہاتھ میں کھلی ہوئی ایک پیپربیک کتاب ہے۔ لیکن کیا وہ واقعی مطالعہ کر رہاہے یا کتاب کے اوراق آنکھ پر رکھے کچھ سوچ رہا ہے؟ کتاب کو ایک ہی طرح سے کیوں تھامے ہوے ہے؟ ورق کیوں نہیں الٹ رہا ہے؟ آمنے سامنے کے دو صفحے پڑھنے میں کتنا وقت لگتا ہے!
اب بارین نے غور کیا کہ پلک کی نظر کتاب کے صفحے سے ہٹتی جارہی ہے۔ اس کا سر آہستہ آہستہ بغل کی طرف مڑ گیا۔ آنکھیں گھوم کر بارین کی طرف آرہی ہیں۔ بارین آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ کچھ دیر تک آنکھیں بند کیے پڑے رہتے ہیں۔ اب بھی کیا پلک ان کی طرف گھور رہا ہے؟ خوب ہوشیاری سے بارین اپنی پلکوں تھوڑا سا کھولتے ہیں، اس کے بعد پھر بند کر لیتے ہیں۔ پُلک ان کو ہی گھور رہا ہے ۔ بارین کو محسوس ہوا کہ ان کی چھاتی کے اندر وہی مینڈک پھر سے کودنے لگا ہے، پسلیوں کی ہڈیوں میں پھر سے دھکا لگ رہا ہے۔
دُھک پُک... دُھک پُک... دُھک پُک...دُھک پُک... دادرے کا چھند ہے۔ ریل گاڑی کے پہیوں کے گمبھیر چھند میں گم ہوتا جارہا ہے۔
ایک بار آہستہ سے کھچ کی آواز ہوتے ہی آنکھیں بند ہونے پر بھی بارین کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ ڈبے کی آخری بتی بجھ چکی ہے۔ اب ہمت کر کے بارین آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں۔ دروازے کے پردے کی درار سے آتی ہوئی ہلکی روشنی نے ڈبے کے اندھیرے کو زیادہ گہرا نہیں ہونے دیا ہے۔ اسی روشنی میں وہ دیکھتے ہیں، پُلک چکرورتی نے اپنے ہاتھ کی کتاب کو بارین کے بیگ کے پاس رکھ دیا ہے، اس کے بعد کمبل کو گھٹنے تک اوڑھ کر کروٹ لی ہے اور پھر بارین کے آمنے سامنے ہوکر ایک جماہی لی ہے۔
بارین بھومک کو احساس ہوا کہ ان کی چھاتی کی دھڑکن آہستہ آہستہ بحال ہوتی جارہی ہے۔ کل صبح... ہاں، کل صبح، پلک کے ٹریولنگ کلاک کو اپنے بیگ سے نکال کر پلک کے سوٹ کیس میں کپڑے لتوں کے نیچے رکھ دینا ہے۔ سوٹ کیس میں تالا نہیں لگا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے ہی پلک نے سلیپنگ سوٹ نکال کر پہنا ہے۔ بارین کی کپکپی بند ہوگئی ہے۔ شاید دوا کام کر گئی ہے۔ اس نے انھیں کون سی دوا دی تھی؟ نام نہیں پوچھ سکے تھے۔ اپنی بیماری کے باعث کہیں دلی کے موسیقی کے شوقینوں کی واہ واہ سے محروم نہ ہوجائیں، اسی خوف سے انھوں نے بہت تیزی کے ساتھ پلک چکرورتی کی دی ہوئی دوا کھالی تھی۔ لیکن اب لگتا ہے...نہیں،ان فکروں کو اب وہ ٹکنے نہیں دیں گے۔ گلاس کی ٹن ٹن کی آواز کو گھڑی کا الارم سمجھ کر ان کی کیسی حالت ہوگئی تھی۔ ان تمام باتوں کے لیے ذمے دار ہے ان کا احساسِ جرم میں ملوث بیمار دل ۔ کل صبح وہ اس احساس سے نجات کاانتظام کریں گے۔ دل اگرپرسکون نہ ہوا تو گلا نہیں کھلے گا، گیت باہرنہیں نکل پائے گا... بنگالی ایسوسی ایشن ...
چائے کے سامان کی کھٹ پٹ سے بارین بھومک کی نیند کھل گئی۔ بیرا ٹرے لے آیا ہے۔ چائے ، روٹی، مکھن، آملیٹ لایا ہے۔ لیکن یہ سب کیا وہ کھاسکتے ہیں؟ اب بھی بخار ہے کیا؟ شایدنہیں ہے۔ جسم ہلکا ہوگیا ہے۔ کمال کی دوا دی تھی پلک چکرورتی نے۔ اس کے تئیں بارین کے دل میں شکرگذاری کا احساس جاگ اٹھا۔
لیکن وہ کہاں چلا گیا؟ معلوم ہوتا ہے، باتھ روم میں ہے، یا پھرکاریڈور میں۔
بیرے کے چلے جانے کے بعد بارین باہر نکلے۔کاریڈور خالی ہے۔ بھلا آدمی کب سے باتھ روم میں ہے؟ کیا چانس لیا جاسکتا ہے؟
بارین نے چانس لیا، لیکن کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ بیگ سے گھڑی نکال کر پلک چکرورتی کے سوٹ کیس کو کھینچ کر نکالنے کے لیے جیسے ہی جھکے، عین اسی وقت تولیہ اور داڑھی بنانے کا سامان ہاتھ میں لیے پلک ڈبے کے اندر داخل ہوا۔ بارین بھومک داہنے ہاتھ کی مٹھی باندھے سیدھے ہوکر کھڑے ہوگئے۔
’’کیسی طبیعت ہے؟ آل رائٹ؟‘‘
’’ہاں، وہ... اِسے پہچان رہے ہیں؟‘‘
بارین نے اپنی مٹھی کھول کر گھڑی سمیت اپنا ہاتھ پلک کے سامنے کردیا۔ اب ان کے دل میں حیرت انگیز توانائی آگئی ہے۔ چوری کی بیماری سے انھیں کافی پہلے نجات مل چکی ہے، لیکن یہ آنکھ مچولی بھی تو چوری ہی ہے۔ اس فطری حالت کو چھپانے کی عادت، اگر مگرکرنا، احساس جرم، یہ پیڑو کا خالی پن ، گلے کی کھسکھساہٹ، کانوں کا گرم ہونا، چھاتی کا دھڑکناـ یہ سب بھی توایک قسم کی بیماری ہی ہے۔ اسے دور کیے بغیر نجات نہیں ، سکون نہیں۔
پلک چکرورتی نے اپنے ہاتھ کے تولیے کے ایک حصے کو اپنے داہنے ہاتھ کی درمیانی انگلی کے سہارے ابھی کانوں پر رکھا ہی تھا کہ تبھی بارین کے ہاتھ میں گھڑی دیکھ کر اس کا ہاتھ کان پر ہی ٹکارہ گیا۔ بارین نے کہا، ’’وہ آدمی میں ہی ہوں۔ موٹاہوگیا ہوں، مونچھیں صاف کردی ہیں اور چشمہ لگ گیا ہے۔ میں پٹنہ جارہا تھا اور آپ دلّی۔ سنہ 64کی بات ہے۔ وہاں جب ایک آدمی کٹ گیا تھا اور آپ اسے دیکھنے گئے، اسی وقت میں نے گھڑی نکال لی تھی۔‘‘
پُلک کی نگاہ اب گھڑی سے ہٹ کر بارین کی آنکھوں پر جاکر ٹک گئی۔ بارین نے دیکھا اس کے ماتھے کے بیچ میں دو متوازی لکیریں ہیں۔ آنکھیں غیر فطری طور پر باہر نکلی ہوئی ہیں۔
دونوں ہونٹ ایک دوسرے سے الگ ہوکر کچھ بولنا چاہتے ہیں، لیکن کہہ نہیں پارہے ہیں۔ بارین کہنے لگے:
’’جانتے ہیں، دراصل یہ میری بیماری ہے۔ یعنی میں حقیقت میں چور نہیں ہوں۔ ڈاکٹر اس کا کچھ نام بتاتے ہیں، لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا ہے۔ بہر حال میں اب میں قطعی طور پر نارمل ہوں۔ اتنے دنوں تک گھڑی میرے پاس تھی، میں نے اسے استعمال بھی کیا ہے، آج بھی وہ میرے ساتھ ہے۔ آپ سے ملاقات ہوگئی، تقریباً معجزے کی طرح، اس لیے آپ کو واپس کر رہا ہوں۔ امید ہے، آپ کے دل میں کوئی میل نہیں رہے گا۔‘‘
پُلک چکرورتی ایک دبے دبے ’’تھینکس‘‘ کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔ اس کی گمشدہ گھڑی اسے واپس مل گئی ہے، حیران سے اسے ہاتھ میں لے کر کھڑا ہے۔بارین نے اپنے بیگ سے دانت کامنجن، دانت صاف کرنے کابرش اور داڑھی بنانے کاسامان باہر نکال کر تو لیے کو ریک سے نیچے اتارا اور ڈبے کے دروازے کے باہر آگئے۔ باتھ روم کے اندر جاکر دروازے کو بند کرلیا۔ نذرل کے ’’کتنی راتیں یونہی بیت جاتی ہیں‘‘ گیت کی ایک سطر گانے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ ان کے گلے میں طاقت لوٹ آئی ہے۔

فنانس منسٹری کے این سی بھومک کو ٹیلیفون پر پانے میں لگ بھگ تین منٹ کا وقت لگا۔ آخر میں ایک مانوس اور سنجیدہ آواز سنائی دی،’ ’ہیلو!‘‘
’’کون، نتیش دا؟ میں بھوندو بول رہا ہوں۔‘‘
’تو پہنچ گیا ہے؟ آج تیری گلے بازی سننے آؤں گا۔ آخر کار تو ناگ ہی نکلا۔ تصور نہیں کیا جا سکتا! خیر، کیا حال چال ہے؟ اچانک نتیش دا کو کیوں یاد کیا؟‘‘
’’وہ... پلک چکرورتی نام کے کسی آدمی سے آپ کی واقفیت تھی؟ آپ کے ساتھ اسکا ٹش کالج میں پڑھتا تھا۔ باکسنگ کرتا تھا؟‘‘
’’تو جھاڑودار کے بارے میں بات کر رہا ہے؟‘‘
’’جھاڑودار؟‘‘
’’وہ سارا سامان جھاڑ پونچھ لیتا تھاـ کسی کا قلم، لائبریری سے کتاب، کامن روم سے ٹینس کابیٹ۔ میرا پہلا رن سن وہی اڑا کر لے گیا تھا۔ حالانکہ اسے کوئی کمی نہیں ہے، بہت امیر آدمی ہے۔ یہ ایک قسم کی بیماری ہے۔‘‘
’’بیماری؟‘‘
’’معلوم نہیں ہے؟ کلپٹومینیا... کے ایل ای پی...‘‘
ٹیلیفون رکھ کر بارین بھومک نے کھلے سوٹ کیس کو دیکھا۔ ہوٹل آکر سوٹ کیس کھولتے ہی انھیں چند چیزیں ندارد ملیں۔ ایک کارٹن تھری کیسلز سگریٹ، ایک عدد جاپانی بائناکلر، ایک ایک سو کے پانچ نوٹ سمیت منی بیگ۔
کلپٹو مینیاـ بارین کو یہ نام معلوم تھا ، لیکن بھول گئے تھے۔ اب نہیں بھولیں گے۔

کھگم

ہم پیٹرومیکس کی روشنی میں بیٹھ کر رات کاکھانا کھارہے تھے۔ شاید ابھی انڈے کو دانتوں سے کاٹا ہی ہوگا کہ چوکیدار لچھمن سنگھ نے آکر پوچھا،’’آپ لوگ املی بابا کے دیدار نہیں کریں گے؟‘‘
لاچار ہوکر اس سے کہنا پڑا کہ املی بابا کا نام ہی ہمارے لیے بالکل نیا ہے، اس لیے دیدار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لچھمن نے کہا کہ جنگل کے محکمے کی جو جیپ ہم لوگوں کے لیے فراہم کی گئی ہے اس کے ڈرائیور کو کہنے سے وہ ہمیں بابا کے ڈیرے پر لے جائے گا۔ جنگل کے اندر ہی ان کی کٹیا ہے۔ وہاں کا ماحول بڑا ہی سندر ہے ۔ اور وہ ایک پہنچے ہوے سادھو ہیں۔ ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ ان کے دیدار کرنے کے لیے آتے ہیں، وغیرہ۔ جس بات کو سن کر سب سے زیادہ حیرت ہوئی وہ یہ کہ بابا کے پاس ایک پالتو ناگ ہے اور وہ بابا کی کٹیاکے قریب ایک گڈھے میں رہتا ہے ۔ ہر روز وہ شام کے وقت گڈھے سے نکل کر بابا کے پاس آتا ہے اور بکری کا دودھ پیتا ہے۔
سب کچھ سننے کے بعد دُھرجٹی بابو نے اپنا خیال ظاہر کیا،’’اس ملک میں دن بدن بازیگری کا بول بالا ہورہا ہے، خاص طور پر بہروپیے سادھو سنیاسیوں کی تعداد بے حساب بڑھتی جا رہی ہے۔ مغربی ممالک میں سائنس جتنی ترقی کررہی ہے، ہمارا ملک اتنا ہی اندھیرے کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ ہوپ لیس معاملہ ہے صاحب! سوچتے ہی دماغ گرما جاتا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر دھرجٹی بابو نے کانٹاچمچہ نیچے رکھ دیا اور بغل سے فلائی فلیپ یعنی مکھی مارنے والی چھڑی اٹھاکر اسے میز پر پٹکا اور ایک مچھر کاخون کرڈالا۔ بابو کی عمر پینتالیس سے پچاس سال ہوگی۔ ناٹا قد، دبلا، گورا، چمکتا ہوا چہرہ، پیلی پیلی آنکھیں۔ بھرت پور آنے پر ہی ان سے جان پہچان ہوئی ہے۔ میں آگرہ سے آیا ہوں اور مجھے منجھلے بھیّا کے پاس جے پور جانا ہے۔ وہاں میں دو ہفتے کی چھٹیاں گزارنے جارہا ہوں۔
یہاں آنے پر جب ڈاک بنگلے یا ٹورسٹ لاج میں جگہ نہ ملی تو آخر کافی خرچ کرنے کے بعد شہر کے باہر فارسٹ ریسٹ ہاؤس میں جگہ ملی۔ اس میں پچھتاوے کی کوئی بات نہیں ہے، کیونکہ جنگل سے گھرے ریسٹ ہاؤس میں رہنے سے ایڈونچر کا احساس ہوتا ہے۔
دُھرجٹی بابو مجھ سے ایک روز پہلے آئے ہیں۔ وہ کیوں آئے ہیں، یہ بات ابھی تک کھل کر نہیں بتائی ہے، حالانکہ سیر سپاٹے کے علاوہ کوئی دوسری وجہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہم دونوں ایک ہی جیپ سے سیر سپاٹا کرتے ہیں۔ کل ہم یہاں سے بائیس میل دور، دیگ نام کی ایک جگہ کے قلعے اور محلات دیکھنے گئے تھے۔ آج صبح بھرت پور کا قلعہ بھی دیکھ لیا ہے۔ تیسرے پہر کیولا داس کی جھیل کے پرندوں کا ٹھکانا دیکھنے گئے تھے۔ وہ ایک بہت ہی دلچسپ جگہ ہے۔ جھیل سات میل سے زیادہ ہی لمبی ہوگی ۔ بیچ بیچ میں ٹاپو کی طرح اونچی زمین ہے اور انھیں زمین کے ٹکڑوں پر گویا تمام دنیاکے پرندے آکر جمع ہوگئے ہیں۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ پرندوں پر کبھی میری نظر نہیں پڑی تھی۔ میں حیران ہوکر پرندوں کو دیکھ رہاتھا اور دُھرجٹی بابو ہر پل کچھ بڑبڑاتے جاتے تھے اور اپنے ہاتھوں کو نچاتے ہوے آس پاس کے بھنگوں کو بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بھنگا ایک قسم کاچھوٹاکیڑا ہوتا ہے۔ یہ جھنڈ بناکر آتے ہیں اور سر کے چاروں طرف چکر کاٹ کر ناک منھ پر بیٹھ جاتے ہیں۔ لیکن وہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انھیں نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے۔ مگر دُھرجٹی بابو باربار اُوب رہے تھے۔ اس طرح ہمت ہارنے سے کام کیسے چلے گا؟
ساڑھے آٹھ بجے کھانا کھاکر ہم سامنے کے برآمدے میں بیٹھے چاندنی رات کی خوبصورتی دیکھ رہے تھے۔میں نے دُھرجٹی بابو سے کہا، ’’وہ جن سادھو بابا کے بارے میں کہہ رہا تھا، انھیں دیکھنے جائیں گے؟‘‘
دُھرجٹی بابو نے اپنی سگریٹ کو یوکلپٹس کے درخت کے تنے کی طرف پھینکتے ہوے کہا، ’’ناگ پالتو نہیں ہوتا ہے، ہو بھی نہیں سکتا۔ سانپوں کے بارے میں مجھے کافی معلومات ہے۔ بچپن میں میں جلپائی گُری میں رہتا تھا اور اپنے ہاتھوں سے ڈھیروں سانپ مار چکا ہوں۔ ناگ خطرناک اور ایک نمبری شیطان سانپ ہوتا ہے، اسے پالنا ناممکن ہے۔ اس لیے سادھو بابا کے بارے میں جو خبر ملی ہے، اس میں کہاں تک سچائی ہے، اس پر مجھے شک ہورہا ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’کل تیسرے پہر کوئی پروگرام بھی نہیں ہے۔ صبح بایان کا قلعہ دیکھنے کے بعد ہم فارغ ہوجائیں گے۔‘‘
’ ’کیا آپ سادھو سنیاسیوں کے تئیں عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں؟‘‘
اس سوال کے پیچھے ایک گہرا طنز ہے، یہ بات میری سمجھ میں آگئی۔ لیکن میں نے اس کا جواب سادگی سے ہی دیا۔
’’اس میں عقیدت کی بات کہاں آتی ہے! کیونکہ ابھی تک مجھے کسی سادھو کی صحبت کاموقع نہیں ملا ہے۔ ہاں، تجسس ضرور ہے۔‘‘
’’کسی زمانے میں مجھے عقیدت تھی ، لیکن ایک بار تجربہ ہوا تو پھر...‘‘
دُھرجٹی بابو کو جو تجربہ ہوا تھا، اس کا بیان کرتا ہوں... وہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ دس سال پہلے انھوں نے اپنے تاؤ جی کی باتوں میں آکر ایک سادھو بابا کی دی ہوئی دوا کھالی تھی جس کی وجہ سے انھیں سات روز تک سخت قسم کے پیٹ درد کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بلڈ پریشر بھی بڑھ گیاتھا۔ اسی روز سے دُھرجٹی بابو کو یہ وہم ہوگیا ہے کہ ہندوستان کے سو میں سے نوے سادھو بہروپیے اور مکار ہیں۔
ان کا سنیاسیوں کے تئیں تعصب مجھے بہت ہی دلچسپ لگ رہا تھا، اس لیے ان کو بھڑکانے کے خیال سے میں نے کہا، ’’آپ یا ہم پالتو نہیں ہوسکتے، مگر میں نے سنا ہے کہ ہمالیہ میں سادھو اور شیر ایک ہی گپھا میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔‘‘
’’سنا ہی ہے نا؟ دیکھا تونہیں؟‘‘
مجھے ماننا پڑا کہ میں نے دیکھا نہیں ہے۔
’’دیکھیں گے بھی نہیں۔ ہمارا ہندوستان قصے کہانی گڑھنے والا ملک ہے۔ سنیں گے بہت کچھ، مگر آنکھوں سے دیکھناچاہیں تو دکھائی کچھ بھی نہیں دے گا۔ رامائن، مہابھارت کو ہی لیجیے نا، لوگ کہتے ہیں کہ وہ تاریخ ہے، مگر اصل میں عجیب عجیب کہانیوں کے نمونے ہیں ۔ راون کے دس سر ہیں۔ ہنومان دُم میں آگ لے کر لنکا میں آگ لگا رہے ہیں۔ بھیم کی بھوک، گھٹوتکچ، ہڑمنبہ، پشپک، کمبھ کرن۔ ان سب سے بڑھ کر نان سینس اور کیا ہوسکتا ہے؟ اور اگر سادھو سنیاسیوں کی بات کریں تو اس کی شروعات پُرانوں سے ہی ہوئی ہے۔ لیکن تمام ملک کے تعلیم یافتہ اور جاہل آدمی اتنے دنوں سے اسی بات پر یقین کرتے آرہے ہیں۔‘‘
بایان کاقلعہ دیکھنے کے بعد ہم ریسٹ ہاؤس میں لوٹ آئے اور کھاناکھاکر آرام کرنے لگے ۔ پھر چار بجے املی بابا کے ڈیرے پر پہنچے۔ اس بار دُھرجٹی بابو نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے بابا کے بارے میں ان میں تھوڑاسا تجسس جاگ رہا ہو۔ جنگل کے بیچ ایک صاف ستھری اور کھلی جگہ میں ایک بڑے سے املی کے درخت کے نیچے بابا کی کٹیا ہے۔ درخت کے نام پر ہی بابا کا نام املی بابا پڑگیا ہے اور یہ مقامی لوگوں نے ہی دے رکھا ہے۔ باباکا اصل نام کسی کوبھی معلوم نہیں ہے۔ کھجور کے پتے کی کٹیا میں اپنے اکلوتے شاگرد کے ساتھ بابا ریچھ کی کھال پر بیٹھے ہیں۔ شاگرد کم عمر کا ہے۔بابا کی عمر کا اندازہ لگانامشکل ہے۔ سور ج غروب ہونے میں ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹے کی دیر ہے ، لیکن املی کے پتوں کی گھنی چھاؤں کی وجہ سے اسی وقت یہاں اندھیرا پھیل چکا ہے۔
کٹیا کے سامنے دھونی جل رہی ہے۔ بابا کے ہاتھ میں گانجے کی چلم ہے۔ دھونی کی روشنی میں دیکھا کہ کٹیا کے پاس ہی ایک رسی ٹنگی ہوئی ہے جس پر انگوچھے اور لنگوٹ کے علاوہ سانپوں کی تقریباً دس کینچلیاں لٹکی ہوئی ہیں۔
ہمیں دیکھ کر بابا چلم کی درار سے مسکرا دیے۔ دُھرجٹی بابو نے پھسپھسا کر کہا، ’’فضول باتیں نہ کر کے اصل بات کا ہی ذکر کیجیے۔ پوچھیے کہ دودھ کس وقت پلایاجاتا ہے۔‘‘
’’آپ بال کشن سے ملنا چاہتے ہیں؟‘‘
مجھے حیرت ہوئی کہ املی بابا نے ہمارے دل کی بات کیسے جان لی۔ ناگ کا نام بال کشن ہے، یہ بات جیپ کا ڈرائیور کچھ دیر پہلے ہی ہمیں بتاچکا ہے۔ ہمیں املی بابا کوبتانا پڑا کہ ہم ان کے سانپ کے بارے میں کافی کچھ سن چکے ہیں اور پالتو سانپ کو دودھ پیتے ہوے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیاہمیں یہ شرف حاصل ہوسکے گا؟
املی بابا نے معذرت کرتے ہوے بتایاکہ بال کشن ہر روز سورج غروب ہونے کے وقت باباکی پکار سن کر گڑھے سے نکل کر کٹیا میں آتاہے اور دودھ پی کر چلا جاتا ہے ۔ دو دن پہلے تک وہ یہاں آچکا ہے مگر کل سے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آج چونکہ پورنیما ہے، اس لیے آج بھی وہ نہیں آئے گا۔ کل سے آناشروع کرے گا۔
سانپ کی طبیعت خراب ہوتی ہے، یہ بات میرے لیے نئی تھی۔ لیکن پالتو ہونے کی وجہ سے ایسابھی ہوسکتا ہے۔ آخر گایوں ،گھوڑوں اور کتوں وغیرہ کے لیے اسپتال ہوتے ہی ہیں۔
بابا کے شاگرد نے ایک اور خبردی ۔ ایک تو اس کی طبیعت خراب تھی، اس پر اس کے گڑھے میں کچھ ماٹے داخل ہوگئے تھے اور اسے پریشان کردیاتھا۔ بابا کی بد دعا سے وہ ماٹے خاک میں مل چکے ہیں۔ یہ بات سن کر دُھرجٹی بابو نے ترچھی نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔ میں املی بابا کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان کے چہرے میں یوں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ایک معمولی ساجبہ پہنے ہیں۔ سر پر جٹاہے، مگر ایسی نہیں کہ متاثر کر سکے۔ کانوں میں لوہے کا کنڈل، گلے میں تقریباً چار چھوٹی بڑی مالائیں، داہنے ہاتھ کی کہنی کے اوپر تعویذ۔ ان میں اور دوسرے سادھوؤں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ پھر بھی شام کی ڈھلتی روشنی میں دھونی کے پیچھے بیٹھے اس آدمی کے چہرے پر سے میری آنکھیں دوسری طرف ہٹنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ ہمیں کھڑا دیکھ کر شاگرد دوچٹائیاں لے آیا اور بابا سے تقریباً دس ہاتھ کی دوری پر انھیں بچھا دیا۔ لیکن بابا کاناگ جب آج آئے گا ہی نہیں تو بیٹھنے سے کیا فائدہ؟ واپسی میں زیادہ دیر کرنے سے رات ہوجائے گی۔
گاڑی تو ہے، مگر راستہ جنگل کے اندر سے ہوکر جاتا ہے اور آس پاس جنگلی جانوروں کی کمی نہیں ۔ ہرنوں کے جھنڈ پر ہر دن نظر پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ہم وہاں بیٹھے نہیں۔ بابا کو جب ہم نے نمسکار کیا تو چلم کو بغیر ہٹائے، آنکھوں کو بند کر کے اور ماتھے کو جھکاکر انھوں نے بھی ہمیں جواب میں نمسکار کیا۔ ہم دونوں تقریباً سو گز کی دوری پر کھڑی اپنی جیپ کی طرف روانہ ہوگئے۔ کچھ دور تک درختوں پر بیٹھے ہوے پرندوں کی آوازیں ہمارے کانوں میں آتی رہیں، اس کے بعد سناٹاچھاگیا۔
کٹیا سے نکلنے کے بعد جب ہم کچھ قدم آگے بڑھ گئے تو اچانک دُھرجٹی بابو نے کہا، ’’سانپ ہم نہیں دیکھ سکے، مگر اس کاگڈھا ایک بار دیکھنے میں کیا حرج ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’اس کے لیے املی بابا کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہمارا ڈرائیور دین دیال بتا ہی چکا ہے کہ اسے گڈھے کا پتا معلوم ہے۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘
گاڑی سے دین دیا ل کو اپنے ساتھ لے کر ہم لوٹ آئے۔ اس بار کٹیا کی طرف نہ جاکر ہم ایک بادام کے درخت کی بغل سے ہوتے ہوے ایک پگڈنڈی سے تھوڑی دور آگے بڑھے۔ سامنے ہی کانٹوں کی جھاڑی تھی۔ آس پاس پتھر کے ٹکڑوں کو دیکھ کر لگا کہ کسی زمانے میں یہاں کوئی عمارت رہی ہوگی۔ دین دیال نے بتایا کہ جھاڑی کے پیچھے ہی سانپ کاگڈھا ہے۔ اگر اسے ہی دیکھا جائے تو کچھ بھی پتا نہیں چل سکتا ، کیونکہ روشنی اور بھی پھیکی ہوگئی ہے۔ دُھرجٹی بابو نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ٹارچ نکالی اور جھاڑی پر روشنی ڈالی۔ جھاڑی کے پیچھے کا گڈھا دکھائی دینے لگا۔ خیر، گڈھا تو موجود ہے، مگر سانپ؟ کیا وہ اپنی طبیعت خرابی کی حالت میں ہمارے اشتیاق اور تجسس کو ختم کرنے کے لیے گڈھے سے باہر آئے گا؟
سچ کہوں، سادھو بابا کے ہاتھ سے ناگ کو دودھ پیتے ہوے دیکھنے کا خواہش مند ہونے کے باوجود گڈھے کے سامنے کھڑے ہوکر سانپ کو دیکھنے کی مجھے ذرا بھی خواہش نہیں تھی۔ مگر دُھرجٹی بابو کے دل میں اب مجھ سے کہیں زیادہ تجسس تھا۔ روشنی سے جب کام نہیں بنا تو انھوں نے زمین سے ڈھیلے چن چن کر جھاڑی پر پھینکنا شروع کردیے۔
مجھے ان کی یہ زیادتی اچھی نہیں لگی۔ میں نے کہا،’’ کیا ہوا صاحب؟ دیکھ رہا ہوں، آپ پر تو دھن سوار ہوگئی ہے۔آپ کو تو یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ سانپ ہے۔‘‘
اس بار انھوں نے ایک بڑا سا ڈھیلا ہاتھ میں اٹھالیا اور بولے،’’مجھے اب بھی یقین نہیں ہورہا ہے۔ اس ڈھیلے سے بھی اگر کچھ نتیجہ نہ نکلا تو میں سمجھوں گا کہ بابا جی کے بارے میں جو کچھ مشہور کیا جارہا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔‘‘
ڈھیلا زور سے آواز کرتا ہوا جھاڑی پر گرا اور اس نے کانٹوں اور پتوں کو تہس نہس کردیا۔ دُھرجٹی بابو اب بھی گڈھے پر روشنی ڈالے ہوے تھے۔ چند پلوں تک خاموشی چھائی رہی ۔ جنگل کے اندر کہیں سے صرف جھینگر کی آواز آرہی تھی۔ اس بار اس آواز کے ساتھ ایک اور آواز سنائی دیـایک پھیکی اور بے سری سِسکاری جیسی آواز۔ اس کے بعد پتوں کی کھڑکھڑاہٹ شروع ہوئی اور پھر ٹارچ کی روشنی میں کسی چیز کاکالا اور چکنا حصہ دکھائی دیا۔ وہ چیز ہل ڈل رہی ہے، زندہ ہے اور آہستہ آہستہ گڈھے کے باہر نکل رہی ہے۔ اس بار جھاڑی کے پتے ہل اٹھے اور دوسرے ہی لمحے ان کے بیچ سے سانپ کاماتھا باہر نکل آیا۔ ٹارچ کی روشنی میں ناگ کی جلتی ہوئی آنکھیں دکھائی دیں، اس کے بعد اس کی دو حصوں میں بٹی ہوئی زبان، جوباربارمنھ سے نکل کر لپلپانے لگتی تھی اور پھر اندر چلی جاتی تھی۔ دین دیال کچھ دیر پہلے سے ہی لوٹنے کی ضد کر رہا تھا۔ اس بار اس نے بھرائی ہوئی التجائیہ آواز میں کہا، ’’چھوڑ دیجیے بابو! اب تو دیکھ چکے، واپس چلیے۔‘‘
شاید ٹارچ کی وجہ سے ہی بال کشن اب بھی اپنا سر نکال کر ہماری طرف گھور رہا ہے اور بیچ بیچ میں زبان باہر نکال رہا ہے ۔ میں ڈھیروں سانپ دیکھ چکا ہوں مگر اتنے نزدیک سے اس قسم کے ناگ کو نہیں دیکھاتھا۔ ناگ حملہ کرنے کی کوشش نہ کر کے اس طرح ہماری طرف کیوں گھور رہا ہے؟ ایسا تو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک ٹارچ کی روشنی کانپتی ہوئی وہاں سے الگ ہٹ گئی۔ اس کے بعد جو حادثہ پیش آیا اس کے لیے میں قطعی تیار نہیں تھا۔دُھرجٹی بابونے اچانک ایک پتھر اٹھاکر بال کشن پر زور سے پھینک دیا، اس کے بعد ایک ایک کر کے دوپتھر اور پھینکے۔ ایک بھیانک اندیشے سے گھبراکر میں نے کہا،’ ’آپ نے یہ کیا کیا دُھرجٹی بابو؟‘‘
دُھرجٹی بابو میری بغل میں ہانپ رہے تھے۔ انھوں نے دھیمی آواز میں مگر دبی دبی مسرت کے ساتھ کہا، ’’ون ناگ لیس!‘‘
دین دیال ہکا بکا سا جھاڑی کی طرف تاک رہا ہے۔دُھرجٹی بابو کے ہاتھ سے ٹارچ لے کر اس بار میں نے ہی گڑھے کی طرف روشنی ڈالی ۔ بال کشن کے نڈھال جسم کاتھوڑا سا حصہ نظر آرہا ہے۔ جھاڑی کے پتوں پر سانپ کے ماتھے سے نکلا ہوا تھوڑا سا خون لگا ہوا ہے۔
اس بیچ کب املی بابا اور ان کے شاگرد ہمارے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے تھے، ہمیں اس بات کا علم ہی نہ ہوسکا۔ پہلے دُھرجٹی بابو ہی پیچھے کی طرف مڑے۔ اس کے بعد میں نے بھی مڑکر دیکھا۔ بابا ہاتھ میں ایک لاٹھی تھامے ہم سے تقریباً دس قدم کی دوری پر، ایک بونے سے کھجور کے پیڑ کے پاس کھڑے ہیں اور دُھرجٹی بابو کو ایک ٹک دیکھ رہے ہیں۔ بابا اتنے لمبے ہیں، اس کااندازہ مجھے اس وقت نہیں ہوسکا تھا جب وہ بیٹھے ہوے تھے۔ ان کی نظروں کابیان کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ اتنا ہی کہہ سکتاہوں کہ اتنے غصے، نفرت اور حیرانی سے ملی جلی نگاہ میں نے کبھی کسی کی نہیں دیکھی تھی۔بابا کا داہنا ہاتھ سامنے کی طرف اٹھ گیا۔ وہ ہاتھ دُھرجٹی بابو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ درمیانی انگلی سامنے کی طرف آگئی اور اس سے اشارہ اور بھی واضح ہوگیا۔ پہلی بار میں نے دیکھا کہ بابا کی ہر انگلی کا ناخن تقریباً دو انچ لمبا ہے۔ بابا کو دیکھ کر مجھے کس کی یاد آرہی ہے؟ بچپن میں دیکھی ہوئی، بیڈن اسٹریٹ میں واقع اپنے ماما کے گھر کی دیوار پر روی ورما کی بنائی ہوئی تصویر مجھے یاد آرہی ہے۔ مُنی درواسا شکنتلا کو بددعا دے رہے ہیں۔ بالکل اسی اندازمیں ان کا ہاتھ اٹھا ہوا ہے۔ آنکھوں میں بھی ویساہی جلال ہے۔
مگر املی بابا نے بددعا نہیں دی۔ اپنی سنجیدہ اور ہلکی آواز میں انھوں نے ہندی میں جو کچھ کہا اس کامطلب یہ ہے: ’’ایک بال کشن چلا گیا تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ کوئی دوسرا آجائے گا۔ بال کشن کی موت نہیں ہوسکتی ۔ وہ امر ہے۔‘‘
دُھرجٹی بابو خاک سے سنے اپنے ہاتھوں کو پونچھ کر میری طرف مڑے اور کہا،’’چلیے۔‘‘
بابا کے چیلے نے وہاں آکر گڈھے کے منھ سے ناگ کی لاش کو باہر نکالا، شاید اس کو دفن کرنے کی غرض سے۔ سانپ کی لمبائی دیکھ کر میرے منھ سے ایک حیرت کا اظہار کرنے والا لفظ خودبخود ادا ہوگیا۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ ناگ اتنا لمبا ہوسکتا ہے۔ املی بابا آہستہ آہستہ کٹیا کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہم تینوں جیپ میں بیٹھ گئے۔
ریسٹ ہاؤس سے واپسی میں دُھرجٹی بابو کو گم سم دیکھ کر میں ان سے کچھ کہے بغیر نہ رہ سکا۔
’’سانپ جبکہ ان کا پالتو تھا اور اس نے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا، تو آپ نے اسے مارا کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
میرا خیال تھاکہ وہ سانپ اور سادھوؤں کے بارے میں کچھ تلخ باتیں کہہ کر اپنے سیاہ کارنامے کاجواز پیش کرنے کی کوشش کریں گے، مگر انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا، بلکہ الٹا مجھ سے ہی ایک سوال کردیا۔
‘’کھگم کون تھا صاحب؟‘‘
کھگم؟ نام تو جانا پہچانا سا لگتا ہے، مگر یاد نہیں آرہا ہے کہ اس کے بارے میں میں نے کہاں پڑھا یا سنا ہے۔ دُھرجٹی بابو نے دو چار مرتبہ اور ’کھگم‘ لفظ ادا کیا اور آخر میں وہ چپ ہوگئے۔ جب ہم ریسٹ ہاؤس پہنچے تو چھ بج چکے تھے۔ املی بابا کا چہرہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے آرہا ہے۔دُھرجٹی بابو کی طرف آنکھیں اٹھائے ، ہاتھ اٹھائے درواسا کی طرح کھڑے ہیں۔ نہ جانے کیوں دُھرجٹی بابو مت کٹ جانے کے شکار ہوگئے ہیں۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ ہم اس حادثے کا انجام دیکھ آئے ہیں، اس لیے اب اس بارے میں سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ باباخود ہی کہہ چکے ہیں کہ بال کشن کی موت نہیں ہوئی ہے۔ بھرت پور کے جنگل میں کیا دوسرا ناگ نہیں ہوگا؟ کل ہی بابا کے چیلے ایک دوسرے ناگ کو پکڑ کر لے آئیں گے۔
ڈنر کے لیے لچھمن نے مرغے کاسالن بنایاتھا۔ اس کے ساتھ پوریاں اور ماش کی دال۔ دن بھر گھومتے پھرتے رہنے سے آدمی کی بھوک خوب کھل جاتی ہے۔ کلکتہ میں رات میں جتناکھاتا ہوں یہاں اس کا دگنا کھالیتاہوں۔ پست قامت ہونے سے کیا ہوا، دُھرجٹی بابو بھی خوش خوراک ہیں۔ لیکن آج ایسا محسوس ہوا کہ انھیں بالکل بھوک نہیں ہے۔ میں نے جب ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔
میں نے کہا، ’’آپ کو کیا بال کشن کے لیے دکھ ہورہا ہے؟‘‘
دُھرجٹی بابو نے جواب تو ضرور دیا، مگر اسے میرے سوال کا جواب نہیں کہاجاسکتا۔ پیٹرومیکس کی طرف گھورتے ہوے اپنی آواز کو بے حد ہلکا اور ملائم بناکر کہا، ’’سانپ پھس پھس ... پھس پھس کر رہا تھا...پھس پھس... کر رہا تھا۔‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’پھس پھس یا پھونس پھونس؟‘‘
آنکھوں کو روشنی کی طرف سے ہٹائے بغیر انھوں نے سرہلاکرکہا، ’’نہیں، پھس پھس... سانپ کی زبان، سانپ کی سسکاری... پھس پھس پھس...‘‘
یہ کہہ کر انھوں نے اپنی زبان کی پھانک سے سانپ کی سسکاری جیسی آواز باہرنکالی۔ اس کے بعد نظم پڑھنے کے سے انداز میں سر ہلاہلا کر کہا، ’’سانپ کی زبان، سانپ کی سسکاری، پھس پھس پھس... بال کشن کا عجیب سا زہر... پھس پھس پھس...یہ کیاچیز ہے؟ بکری کادودھ؟‘‘
آخر کے دو جملے یقیناًنظم کے تو نہ تھےـ یہ انھوں نے ایک معمولی طشتری میں رکھی پڈنگ کے بارے میں کہا تھا۔
لچھمن نے ’بکری‘ نہیں، صرف ’دودھ‘ لفظ ہی سنا تھا، اس لیے کہا، ’’ہاں بابو، دودھ اور انڈا ہے۔‘‘
دودھ اور انڈے سے پڈنگ بنتی ہے، یہ بات کون نہیں جانتا ؟
دُھرجٹی بابو یوں بھی من موجی اور خبطی قسم کے انسان ہیں۔ مگر آج ان کا رویہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔
اس بات کو محسوس کر کے انھوں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور کہا، ’’کئی دنوں سے دھوپ میں بہت چکر کاٹناپڑے ہیں...کل سے ذرااحتیاط برتنا ہوگی۔‘‘
آج کڑاکے کی سردی ہے، اس لیے کھاناکھانے کے بعدباہر بیٹھنے کے بجاے میں اپنا سوٹ کیس ٹھیک کرنے لگا۔ کل شام بھرت پور سے رخصت ہونا ہے۔ آدھی رات کو مادھوپور میں گاڑی بدلنا ہے۔ صبح پانچ بجے میں جے پور پہنچ جاؤں گا۔
میرا یہی ارادہ تھا، مگر میرا ارادہ پورانہ ہوسکا۔ منجھلے بھیا کو تار بھیج کر خبر دے دی کہ کسی خاص وجہ سے میرے پہنچنے کی تاریخ ایک دن آگے بڑھ گئی ہے۔ ایسا کیوں ہوا، یہی بات اب آگے بتانے جارہا ہوں۔ واقعات کو حتی الامکان واضح طور پر بتانے کی کوشش کروں گا۔ جانتا ہوں اس واقعے پر سبھی یقین نہیں کریں گے۔ جس چیز کو میں بطور ثبوت پیش کرسکتا تھا، وہ اب بھی املی بابا کی کٹیا سے پچاس ہاتھ دور پڑی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں سوچتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اس چیز کو ثبوت کے طور پر اپنے ہاتھ میں اٹھاکر نہیں لاسکا۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ خیر، اب واقعہ بیان کرتا ہوں۔
سوٹ کیس سنبھال کر میں نے لالٹین کی روشنی کم کردی اور اسے میز کی آڑ میں رکھ دیا۔ اس کے بعد رات کا لباس پہن کر جیسے ہی بستر پر لیٹنے جارہا تھا کہ مشرق کے دروازے پر طرف دستک ہوئی۔ اس دروازے کے پیچھے کی طرف دُھرجٹی بابو کاکمرہ ہے۔
جیسے ہی دروازہ کھولا، انھوں نے آہستہ سے کہا، ’’آپ کے پاس فلٹ وغیرہ ہے؟یا مچھر بھگانے کی کوئی دوا؟‘‘
میں نے کہا،’’مچھر کہاں سے آگئے؟ آپ کے کمرے کے دروازے کھڑکیوں میں جالی نہیں لگی ہے؟‘‘
’’ہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر بھی کوئی چیز کاٹتی ہے۔‘‘
’’اس کا آپ کو پتا چلتا ہے؟‘‘
’’ہاتھ اور منھ میں داغ ابھرتے جارہے ہیں۔‘‘
دروازے کے سامنے اندھیرا تھا، اس لیے ان کا چہرہ صاف نظرنہیں آرہا تھا۔
’ ’ اندر چلے آئیے،‘‘ میں نے کہا۔ ’’دیکھیں کس طرح کے داغ ہیں۔‘‘
دُھرجٹی بابو کمرے کے اندر چلے آئے۔ ان کے سامنے لالٹین رکھتے ہی داغ دکھائی دیےـ چار کونوں والے کتھئی کتھئی دھبے ۔
اس طرح کے داغ میں نے اس کے پہلے نہیں دیکھے تھے اور دیکھنے پر مجھے اچھا بھی بھی نہیں لگا۔
میں نے کہا، ’’عجیب ہی طرح کی بیماری ہوگئی ہے۔ الرجی سے بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ کل صبح نیند ٹوٹتے ہی ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔ آپ سونے کی کوشش کیجیے۔ اس کے لیے فکر مند نہ ہوں۔ یہ کیڑے کے کاٹنے سے نہیں ہوا ہے، بات کچھ اور ہی ہے۔ درد ہورہا ہے؟‘‘
’’اوں ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ جائیے، سوجائیے۔‘‘
دُھرجٹی بابو چلے گئے اور میں بستر پر آکر کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا۔ رات میں بستر پر لیٹ کر کتاب پڑھنے میں میں ماہر ہوں، مگر یہاں لالٹین کی روشنی میں ایساممکن نہیں ہے۔ سچ کہوں تو اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ دن بھر تھک جانے کے بعد تکیے پر سر رکھتے ہی دس منٹ کے اندر آنکھوں میں نیند اتر آتی ہے۔
مگر آج ایسا نہیں ہوا۔ کسی گاڑی کی آواز سے غنودگی دور ہوگئی۔ صاحبوں کی آواز کے ساتھ ساتھ ایک اجنبی کتے کی آواز سن رہا ہوں۔ ریسٹ ہاؤس میں کچھ سیاح آئے ہیں۔ ڈانٹ سن کر کتے نے بھونکنا بند کردیا۔ معلوم ہوتا ہے صاحب لوگ بھی شاید کمرے کے اندر آگئے ہیں۔ پھر سناٹا ہو گیا۔ باہر سے جھینگر کی آواز آرہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایک اور آواز آرہی ہے۔ میرے مشرق کی طرف واقع کمرے کے پڑوسی ابھی تک جاگ رہے ہیں اور نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ چہل قدمی کر رہے ہیں۔ ان کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ حالانکہ دروازے کے نیچے کے سوراخ سے کچھ دیر پہلے دیکھ چکاہوں کہ لالٹین کو یاتو بجھا دیا گیا ہے یا بغل کے غسلخانے کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ کمرے کے اندر چہل قدمی کیوں کر رہے ہیں؟
مجھے لگا وہ نیم پاگل ہی نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر کچھ ہیں۔ ان سے میری جان پہچان محض دو دنوں کی ہے۔ انھوں نے اپنے بارے میں جو کچھ بتایا ہے، اس سے زیادہ میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ دو گھنٹے پہلے میں نے ان میں پاگل پن کے کوئی آثار نہیں دیکھے تھے۔دیگ اور بایان کے قلعے کو دیکھتے وقت انھوں نے جس قسم کی باتیں کی تھیں اس سے معلوم ہوا کہ تاریخ کے بارے میں انھیں اچھی خاصی معلومات ہے۔ اتنا ہی نہیں، آرٹ کے بارے میں بھی انھیں کافی علم تھا۔ اور اس کی جھلک ان کی بات چیت سے مل رہی تھی۔ راجستھان کی تعمیرات میں ہندو اور مسلمان کاریگروں کے یوگ دان کی بات انھوں نے بہت ہی جوشیلے انداز میں بتائی تھی ۔ لگتا ہے کہ ان کی طبیعت خراب ہے۔
میری گھڑی کاریڈیم ڈائل اس وقت گیارہ بجنے کی خبر دے رہا تھا۔ مشرقی دروازے پر پھر دستک ہوئی۔ اس بار بستر سے اٹھنے کے بجاے میں نے چلاکر پوچھا، ’’کیا بات ہے دُھرجٹی بابو؟‘‘
’’س...س...س...س...‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’س...س...س...س...‘‘
معلوم ہوا کہ بیچارے کی آواز بیٹھ گئی ہے۔ بہت کشمکش میں پڑگیا۔ میں نے دوبارہ پوچھا، ’’کیا کہہ رہے ہیں؟ ٹھیک سے کہیے۔‘‘
’’س...س...س... سنیے ذرا۔‘‘
آخرمجھے اٹھنا ہی پڑا۔ دروازہ کھولتے ہی انھوں نے اس طرح کا سوال کیاکہ مجھے اکتاہٹ ہونے لگی۔
’’اچھا،س...س...س... سانپ میں کیا ’س‘ ہوتی ہے؟‘‘
’’جی ہاں، سانپ کامطلب جب اسنیک ہوتا ہے تو’س‘ ہی ہوتی ہے۔‘‘میں نے اپنی اکتاہٹ چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ ’’آپ نے اسی بات کو جاننے کے لیے اتنی رات گئے دروازہ کھٹکھٹایا؟‘‘
’’س؟‘‘
’’جی ہاں۔ سانپ کامطلب جب سانپ ہوتا ہے تو’س‘ ہی ہوتی ہے۔‘‘
’’اور’ ش‘؟‘‘
’’وہ دوسری چیز ہے... شاپ، یعنی بد دعا۔‘‘
’’بددعا؟‘‘
’’ہاں، ابھی شاپ ... بددعا۔‘‘
’’شکریہ...س...س...سوئیے جاکر۔‘‘
ان کی حالت دیکھ کر مجھے ترس آرہاتھا۔ میں نے کہا، ’’آپ کو نیند کی دوا دیتا ہوں۔ دوامیرے پاس ہے۔ کھائیں گے ؟‘‘
’’نہیں...س ...س... سردی میں نیند آجاتی ہے۔س...س...س... صرف شام میں غروب آفتاب کے وقت...‘‘
میں نے انھیں ٹوکا،’’ آپ کی زبان میں کچھ ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’بات کہیں پر اٹک سی جاتی ہے۔ ذرا اپنی ٹارچ تو دیجیے۔‘‘
ان کے ساتھ میں بھی ان کے کمرے کے اندر گیا۔ ٹارچ سنگھار میز پر پڑی ہوئی تھی، اسے جلا کر میں نے ان کے منھ کے سامنے کیا اور انھوں نے منھ کھول کر زبان باہر نکال دی۔ اس میں شک نہیں کہ زبان میں کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ ایک پتلا ساسرخ داغ زبان کے سرے سے لے کربیچ تک چلا گیا ہے۔
’’اس میں کوئی درد نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
انھیں کس بیماری نے جکڑ لیا ہے، یہ بات میری سمجھ کے باہر ہے۔
اب میری نظر ان کے پلنگ پر گئی۔ بستر کا رنگ ڈھنگ دیکھ کرسمجھ میں آیا، اب تک وہ پلنگ پرلیٹے نہیں ہیں۔ میں نے بے رخی سے کہا، ’’آپ جب لیٹ جائیے گا تبھی میں اپنے کمرے میں جاؤں گا۔ میں ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ اب دروازہ مت کھٹکھٹائیے گا۔کل ریل میں سو نہیں پاؤں گا، اس لیے آج رات سولیناچاہتا ہوں۔‘‘
مگر ان میں پلنگ کی طرف جانے کی کوئی خواہش نظر نہ آئی۔ لالٹین غسلخانے میں رکھی ہوئی ہے، اس وجہ سے کمرے میں روشنی نہیں کے برابر ہے۔ باہر پونم کا چاند روشن ہے۔شمالی کھڑکی سے چاندنی آکر فرش پر لوٹ رہی ہے، اس کی روشنی میں دُھرجٹی بابو دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ رات کے لباس میں ہیں اوربیچ بیچ میں ہونٹوں سے سِسکاری کی طرح آوازنکال رہے ہیں۔ آتے وقت میں نے اپنے بدن پر کمبل لپیٹ لیا تھا، مگر دُھرجٹی بابو کے بدن پر ایک بھی گرم کپڑانہیں ہے۔ کہیں دُھرجٹی بابو حقیقت میں کسی بیماری کے چکر میں پھنس جائیں تو انھیں چھوڑ کر میرایہاں سے جانامشکل ہے۔ پردیس میں اگر کوئی بنگالی مصیبت میں پھنس جائے تو بنگالی ہونے کے ناتے اسے چھوڑ کر جانا میرے لیے ناممکن ہوگا۔
میں نے جب ایک بارپھر ان سے سونے کو کہا اور میرے کہنے کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو سوچا، ہاتھ پکڑ کر زبردستی لٹا دینے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔ اگر وہ چھوٹا بچہ بنتے ہیں تو مجھے بھی بزرگوں کی طرح سلوک کرنا ہوگا۔
مگر ان کا ہاتھ پکڑتے ہی مجھ میں اچانک ایسا رد عمل ہوا کہ گھبراکر میں تین قدم پیچھے ہٹ گیا۔
دُھرجٹی بابو کا بدن برف کی مانند ٹھنڈا ہے۔ ایک زندہ آدمی کابدن اتناٹھنڈا ہوسکتا ہے، یہ بات میری سمجھ کے باہر ہے۔
میری حالت دیکھ کر دُھرجٹی بابو کے ہونٹوں کے گوشے میں ایک ہنسی کھیل گئی۔ اب وہ اپنی پیلی آنکھوں سے میری طرف گھورتے ہوے مسکرا رہے ہیں۔ میں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا،’ ’آپ کو کیا ہوا ہے؟ بتائیے۔‘‘
دُھرجٹی بابو میری طرف سے آنکھیں نہیں ہٹاتے ہیں۔ چند پل بغیر پلک جھپکے میری طرف تاکتے رہے ہیں۔ میں حیرت سے دیکھتا ہوں،ان کی پلکیں ایک بار بھی نہیں جھپکی ہیں۔ اس بیچ ان کی زبان کئی بار ہونٹوں کی پھانک سے باہر نکل چکی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے پھسپسا کر کہا، ’’بابا بلارہے ہیں۔ بال کشن! بال کشن!... بابا بلارہے ہیں...‘‘
اس کے بعد ان کا گھٹنامڑ گیا۔ پہلے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ اس کے بعد اپنے بدن کو آگے کی طرف پھیلا کر فرش پر منھ کے بل لیٹ گئے اور کہنی کے بل چلتے ہوے پلنگ کے نیچے چلے گئے۔
یہ بات میری سمجھ میں آگئی ہے کہ میراپورا جسم پسینے سے تر بتر ہوگیا ہے، میرے ہاتھ پاؤں تھرتھر کانپ رہے ہیں۔ کھڑا رہنے کی مجھ میں سکت نہیں ہے۔ دُھرجٹی بابوکے بارے میں جواندیشہ تھا وہ دورہوگیا ہے، اور اب میں جو کچھ محسوس کر رہاہوں وہ بے یقینی اور دہشت سے ملا جلا ایک خوفناک احساس ہے۔
میں اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔
دروازہ بند کر کے میں نے چٹخنی لگا دی اور پھر سر سے پیر تک کمبل ڈھک لیا۔ اس حالت میں کچھ دیر لیٹے رہنے کے بعد میرے بدن کی کپکپی دور ہوئی اور میرے دماغ نے سوچنا شروع کیا۔ معاملہ کہاں جا چکا ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے جوکچھ ہوتے ہوے دیکھ چکا ہوں، اس سے کس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے، اس پر میں نے ایک بار سوچ کر دیکھا۔ آج تیسرے پہر دُھرجٹی بابونے املی بابا کے پالتو ناگ کو پتھر سے مار دیا۔ اس کے بعدہی املی بابانے دُھرجٹی بابو کی طرف انگلی تان کر کہا تھا: ایک بال کشن چلا گیا تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ اس کی جگہ دوسرا بال کشن چلا آئے گا۔ وہ دوسرا بال کشن کوئی سانپ ہوگایاآدمی؟
یاآدمی سانپ بن جائے گا؟
دُھرجٹی بابوکے سارے بدن پر چکتّے اور داغ کس چیز کے ہیں؟ زبان پر داغ کیاچیز ہوسکتی ہے؟
یہ کیا دو حصوں میں بٹ جانے سے پہلے کی حالت ہے؟
ان کابدن اتنا سرد کیوں تھا؟
وہ پلنگ پر سونے کے بجاے پلنگ کے نیچے کیوں چلے گئے؟
اچانک بجلی کوندنے کی طرح اک بات یاد آگئی۔ کھگم! دُھرجٹی بابو نے کھگم کے بارے میں دریافت کیاتھا۔ نام جانا پہچانا سالگاتھا ، مگر سمجھ میں نہیں آیاتھا۔ اب یاد آیا۔ بچپن میں مہابھارت کی ایک کہانی پڑھی تھی۔ کھگم نام کے ایک سادھو یا رِشی تھے ان کے شاپ سے ان کے دوست سہسرپاد منی ڈوھنورا سانپ ہوگئے تھے۔ کھگم... سانپ... شاپ... سب میں ایک رشتہ تو ہے۔ لیکن وہ ڈوھنورا سانپ ہوگئے تھے، اور دھرجٹی بابو کیا...؟
کوئی میرے دروازے پر پھر سے دستک دے رہا ہے ۔ اوپر کی بجاے نیچے کی طرف کھٹکھٹا رہا ہے۔ چوکھٹ کے ٹھیک اوپرـایک بار... دوبار... تین بار...
میں بستر سے اٹھنے کا نام نہیں لے رہا ہوں۔ میں دروازہ نہیں کھولوں گا۔ ہاں، اب نہیں کھولوں گا۔
آواز تھم جاتی ہے۔ میں سانس روکے دم بخود لیٹا ہوں ۔ اب کانوں میں سسکاری آتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ سسکاری دروازے سے دور سرک جاتی ہے۔اب میرے دل کی دھڑکن کے سوا کوئی دوسری آواز نہیں آرہی ہے۔
وہ کیا ہے؟ چیں چیں جیسی آواز... ایک کریہہ مگر مہین چیخ... چوہا ہے کیا؟ یہاں چوہا ہے۔ پہلی رات ہی اپنے کمرے میں دیکھ چکا ہوں۔ دوسرے روز جب لچھمن سے کہا تو وہ باورچی خانے سے چوہے دان میں ایک زندہ چوہا لاکر دکھا گیاتھا۔ کہاتھا، چوہے کے ساتھ ساتھ چھچھوندر بھی ہے۔
چیخ آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے اور پھر سے سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ گھڑی دیکھتاہوں، پون بج رہا ہے۔ معلوم نہیں، نیند کہاں گم ہوگئی ہے۔کھڑکی سے باہر کے پیڑ پودے نظر آرہے ہیں۔ چاندشاید بیچ آسمان میں ہے۔
دروازہ کھولنے کی آواز ہوتی ہے۔ دُھرجٹی بابوبرآمدے میں جانے کے لیے بغل کے کمرے کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ میرے کمرے میں جس طرف کھڑکی ہے، برآمدے میں جانے کا دروازہ اسی طرف ہے۔ دُھرجٹی بابوکا کمرہ بھی بالکل ایساہی ہے۔ برآمدے پر سے اتر کر بیس ہاتھ آگے جانے کے بعدہی پیڑ پودے ملنے لگتے ہیں۔
دُھرجٹی بابوبرآمدے پر نکل آئے ہیں۔ کہاں جارہے ہیں وہ؟ ان کا ارادہ کیا ہے؟ میں بغیر پلک جھپکے کھڑکی کی طرف تاکتا ہوں۔
سِسکاری کی آواز آتی ہے۔ آواز مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ اب آواز میری کھڑکی کے باہر سے آرہی ہے۔ خوش قسمتی سے کھڑکی بند ہے ورنہ...
کوئی چیز کھڑکی کے نیچے سے اوپر کی طرف آرہی ہے۔ تھوڑی دور تک اوپر آتی ہے اور پھر ٹھٹک جاتی ہے۔ کسی کا سر ہے۔ لالٹین کی دھندلی روشنی میں دو چمکتی ہوئی پیلی آنکھیں نظر آرہی ہیں وہ آنکھیں ایک ٹک میری طرف دیکھ رہی ہیں۔
چند لمحوں تک اسی طرح رہنے کے بعد وہ سر ایک کتے کی آواز سنتے ہی نیچے اتر کر کہیں غائب ہوجاتا ہے۔
کتابھونک رہا ہے۔ پھر اس کی سہمی ہوئی سی چیخ سنائی دیتی ہے۔اس کے بعد کسی کی نیند سے بوجھل آواز کتے کو پھٹکارتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔ ایک دردناک چیخ کے ساتھ کتے کی آوازتھم جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی آواز نہیں آتی۔ میں لگ بھگ دس منٹ تک اپنے حواس و اعصاب کو قائم رکھے لیٹا رہتا ہوں۔ کانوں میں بار بار آج کی سنی ہوئی کویتا کی سطریں چلی آرہی ہیں:
سانپ کی زبان سانپ کی سسکاری
پھس... پھس... پھس...
بال کشن کا وشم وِش
پھس... پھس... پھس...
آہستہ آہستہ وہ کویتابھی خلامیں گم ہوجاتی ہے۔ جسم میں جیسے جان نہ ہونے کا احساس مجھے نیند کی طرف کھینچ کر لے جارہا ہے۔ کسی صاحب کی چلاہٹ سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ گھڑی دیکھنے پر پتا چلا، چھ بجنے میں دس منٹ باقی ہیں۔ لگتا ہے کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔ جلدی جلدی بدن پر ایک گرم کپڑا ڈال کرجب باہر نکلا تو گورے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ دو امریکی لڑکے ہیں۔ نام بروس اور مائیکل۔ ان لوگوں کا پالتو کتا کل رات مر گیا۔ اپنے کمرے میں ہی کتے کو رکھ کر وہ سوئے ہوے تھے۔ کمرے کادروازہ کھلا ہوا تھا۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ سانپ یا بچھو نے اسے کاٹ لیاتھا۔
مائیکل کا خیال ہے کہ بچھو ہوگاکیونکہ سردی کے موسم میں سانپ باہر نہیں نکلتے۔ کتے کے پیچھے وقت ضائع نہ کر کے میں برآمدے کے دوسری طرف دُھرجٹی بابو کے کمرے کے سامنے پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا ہے مگر کمرے میں کوئی نہیں ہے۔ لچھمن ہر روز صبح ساڑھے پانچ بجے جاگ کر چولھا جلاتا ہے اور چائے کے لیے پانی گرم کرتا ہے۔ اس سے پوچھنے پر پتا چلا کہ دُھرجٹی بابوپر اس کی نظر نہیں پڑی ہے۔
دل میں طرح طرح کے خیال آرہے ہیں۔ چاہے جیسے بھی ہو انھیں تلاش تو کرنا ہی ہے۔ پیدل چل کر وہ کتنی دور جاسکتے ہیں؟ مگر تمام جنگل میں تلاش کرنے کے باوجود ان کا کہیں پتانہ چلا۔
ساڑھے دس بجے جیپ آئی۔ میں نے ڈرائیور سے کہا، ’’پوسٹ آفس جاکر مجھے ٹیلیگرام کرنا ہے۔ جب تک دُھرجٹی بابوسے متعلق راز کا پردہ فاش نہیں ہوجاتا، میں بھرت پور سے نہیں جاؤں گا۔‘‘
منجھلے بھیا کو ٹیلیگرام کرنے کے بعد میں نے ریل کا ٹکٹ ایک روز آگے کے لیے بڑھوا لیا اور ریسٹ ہاؤس لوٹ آیا۔ وہاں آنے پر پتا چلاکہ دُھرجٹی بابو کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ دونوں امریکی اس بیچ کتے کو دفنا کر ، بوریا بستر سمیٹ کر وہاں سے روانہ ہوچکے تھے۔
دوپہر بھر میں ریسٹ ہاؤس کے آس پاس چکر کاٹتا رہا۔ میرے کہنے کے مطابق جیپ تیسرے پہر دوبارہ آگئی۔ میرے دماغ میں ایک خیال آیا تھا ۔ دل کہہ رہا تھا، اس سے کچھ پتا چل سکتا ہے۔ میں نے ڈرائیور سے کہا ، ’’املی بابا کے پاس چلو۔‘‘
کل جس وقت پہنچا تھا آج بھی تقریباً اسی وقت بابا کی کٹیا میں پہنچا۔ بابا کل کی طرح دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ آج یہاں دو شاگرد اور ہیں۔ ایک ادھیڑ آدمی اور دوسرا لڑکا سا۔
مجھ پر نگاہ پڑتے ہی بابا نے گردن ترچھی کر کے نمسکار کیا۔ کل کی بھسم کردینے والی نگاہ اور آج کی نگاہ میں کوئی مطابقت نہیں تھی۔
وقت ضائع نہ کر کے میں نے بابا سے سیدھا سوال کیا کہ میرے ساتھ جو صاحب آئے تھے، ان کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں یا نہیں۔ بابا کے چہرے پر خوشی ابھر آئی۔ بولے، ’’بتاسکتا ہوں۔ تمھارے دوست نے میری خواہش پوری کردی ہے، وہ میرے بال کشن کو واپس لے آیا ہے۔‘‘
اتنی دیر کے بعد بابا کے داہنے ہاتھ کے پاس رکھی ہوئی پتھر کی ایک کٹوری پر میری نگاہ پڑی۔ اس میں سفید رنگ کی جو پتلی چیز رکھی ہے، وہ دودھ کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی۔ مگر میں سانپ اور دودھ کی کٹوری دیکھنے کے لیے اتنی دور نہیں آیا ہوں۔ میں دُھرجٹی بابو کی تلاش میں آیا ہوں۔ وہ ہوا میں نہیں مل گئے ہوں گے۔ ان کے وجود کا اگر کوئی نشان بھی مل جاتا تو مجھے اطمینان ہوجاتا۔
یہ پہلے بھی دیکھ چکا ہوں کہ املی بابا آدمی کے دل کی بات سمجھ جاتے ہیں۔ گانجے کی چلم سے ایک لمبا کش لے کر انھوں نے چلم اپنے ادھیڑعمر کے چیلے کو بڑھا دی اور بولے،’ ’اپنے دوست کو تم پہلے کے جیسا واپس نہیں پاسکوگے۔ ہاں، وہ اپنی نشانی رکھ گیا ہے۔ وہ نشانی تمھیں بال کشن کے ڈیرے سے پچاس قدم داہنی طرف ملے گی۔ ہوشیاری سے جانا، راستے میں بہت سے کانٹے دار پودے ہیں۔‘‘
بابا کے کہنے کے مطابق میں بال کشن کے گڈھے کے پاس گیا۔ اس میں سانپ ہے یا نہیں، یہ جاننے کا مجھے اب ذرا بھی تجسس نہیں ہے۔ آسمان میں ڈوبتے ہوے سورج کو نہارتا ہوا جنوب کی طرف بڑھتا گیا۔ پتھر کے ڈھونکے اور کانٹوں کے بیچ سے ہوتا ہوا جب میں پچاس قدم آگے بڑھا تو ارجن کے ایک درخت کے تنے کے قریب جس چیز پر نظر پڑی اس چیز کو کچھ منٹ پہلے املی بابا کی کٹیا میں رسی پر ٹنگے ہوے دیکھ چکا ہوں۔
وہ ایک کینچلی تھی... پوری کینچلی پر چتکبرے داغ۔
یہ کیا سانپ کی کینچلی ہے؟ نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے۔ سانپ اتناچوڑاکہاں ہوتا ہے؟ سانپ کے دونوں طرف سے کیا دو ہاتھ اور نچلے حصے سے دوپیر باہر نکلتے ہیں؟
دراصل یہ آدمی کی کینچلی ہے۔ وہ آدمی اب آدمی کی شکل میں نہیں رہ گیا ہے۔ اب وہ اس گڈھے میں کنڈلی مار کرلیٹا ہے۔ وہ اب ناگ کے روپ میں ہے اور اس کے دانتوں میں زہر ہے۔
لو، اب اس کی سِسکاری سنائی دے رہی ہے۔ سورج غروب ہورہا ہے۔ املی بابا پکار رہے ہیں: ’’بال کشن...بال کشن... بال کشن...‘‘


رتن بابو اور وہ آدمی

ٹرین سے اترنے کے بعد جب رتن بابو نے اپنے آس پاس نگاہ ڈالی تو ان کا دل خوشیوں سے بھرگیا۔ جگہ تو اچھی لگتی ہے۔ اسٹیشن کے پیچھے کا سکھوئے کا درخت اپنا سر اونچا کیے کھڑا ہے اور اس کی ڈال میں ایک سرخ رنگ کی پتنگ اٹکی ہوئی ہے۔ لوگ بہت مصروف بھی نہیں نظر آتے۔
ہوامیں ایک قسم کی سوندھی خوشبوہے۔ مجموعی طور پر یہاں کاماحول بہت دلکش ہے۔
ان کے ساتھ ایک چھوٹابستر اور چمڑے کا ایک سوٹ کیس ہے ۔ قلی کی ضرورت نہیں۔ رتن بابو نے ان چیزوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا لیا اور گیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
باہر رکشا ملنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ دھاری دار ہاف پینٹ پہنے ہوے چھوکرے جیسے رکشاوالے نے پوچھا، ’’کہاں جائیے گا بابو؟‘‘
رتن بابو نے دریافت کیا، ’’نیو مہامایا ہوٹل کہاں ہے، جانتے ہو؟‘‘
چھوکرے نے سرہلاکر ہامی بھری اور کہا، ’’بیٹھیے۔‘‘
گھومنا پھرنا رتن بابو کا جھکی پن ہی کہا جائے گا۔ موقع ملتے ہی وہ کلکتہ کے باہر کہیں گھومنے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انھیں ہمیشہ یہ سنہرا موقع مل جاتا ہے، کیونکہ وہ نوکری کرتے ہیں۔ وہ کلکتہ کے زولاجیکل سروے آفس میں کرانی کا کام کرتے ہیں۔ چوبیس سال سے وہ اسی نوکری پر ہیں، اس لیے انھیں باہر جانے کا موقع سال میں ایک بار ہی ملتا ہے۔ پوجا کی چھٹی کے ساتھ ہی سال بھر میں ملنے والی چھٹی لے کر وہ ہر سال کہیں نہ کہیں سیر سپاٹے کے لیے نکل جاتے ہیں۔ سیر سپاٹے کے معاملے میں وہ کسی کو اپنے ساتھ نہیں لیتے۔ ساتھ لینے کی خواہش بھی ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ یہ بات نہیں کہ شروع میں انھیں ساتھی کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ایک بار برابر کی میز پربیٹھنے والے کیشو بابو سے ان کی اس موضوع پر بات چیت بھی ہوئی تھی۔ مہالیہ کے کئی دن پہلے ہی رتن بابو چھٹی لینے کا منصوبہ بنارہے تھے۔
انھوں نے کہا تھا، ’’آپ بھی تو صاحب، اکیلے آدمی ہیں۔ چلیے نا، اس بار پوجا کی چھٹی میں کہیں گھوم پھر آئیں۔‘‘
کیشو بابو نے اپنا قلم کان میں لگا کر اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر ان کی طرف دیکھاتھا اور سرہلاکر مسکراتے ہوے کہاتھا، ’’آپ کی پسند اور میری پسند کیا ایک ہوپائے گی؟آپ ایسی ایسی عجیب جگہوں میں جائیں گے جن کا ہمیں نام بھی نہیں معلوم ۔ وہاں نہ تو کوئی قابلِ دید جگہ ہوگی اور نہ ہی کھانے پینے کی کوئی آسانی۔ مجھے معاف کریں، میں ہری نا بھی اپنے برادر نسبتی کے یہاں جارہاہوں۔‘‘
آہستہ آہستہ رتن بابو کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اپنی مرضی کے مطابق دوست ملنا بے حد مشکل ہے۔ ان کی پسند ناپسند دوسروں کی پسند ناپسند سے بالکل نہیں ملتی ہے، اس لیے دوست بنانے کی امید چھوڑ ہی دیناچاہیے۔
رتن بابو کے عادت اورمزاج واقعی مختلف تو تھے۔ مثال کے طور پر آب و ہوا کی تبدیلی کی بات کو ہی لے لیجیے۔ کیشو بابو نے غلط نہیں کہاتھا۔ لوگ عام طور سے آب وہوا بدلنے کے خیال سے جن جگہوں پر جاتے ہیں، رتن بابو کی نگاہ اس طرف جاتی ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ارے صاحب، یہ بات تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ پوری کے پاس ہی سمندر ہے، جگن ناتھ جی کا مندر ہے، دارجیلنگ سے کنچن جنگھادکھائی دیتا ہے، ہزاری باغ میں پہاڑ ہیں، جنگل ہیں، رانچی کے پاس ہنڈرو فالز ہیںـ اور لوگوں کے منھ سے بار بار کسی چیز کا ذکر سننے کا مطلب یہ ہوا کہ اسے دیکھ لیا۔‘‘
رتن بابو کو جس جگہ کی تلاش رہتی ہے، وہ ہے ریلوے اسٹیشن کا کوئی چھوٹا سا شہرـ بس، اتنا ہی۔ ہر سال چھٹی کے پہلے ٹائم ٹیبل کھول کر وہ ایک ایسی جگہ کا نام تلاش کرتے ہیں جو زیادہ دور نہ ہو، اور پھر وہ دُرگا کا نا م لے کر نکل پڑتے ہیں۔ کہاں گئے تھے ، کیا کیا دیکھا، یہ سب ان سے کوئی پوچھتا نہیں، اور وہ بھی کسی کو نہیں بتاتے۔ ایسا کئی بار ہوچکا ہے کہ وہ ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جس کا انھوں نے کبھی نام تک نہ سنا ہوگا، اور وہ جہاں بھی گئے ہیں وہاں انھیں ایسی چیز ضرور مل گئی ہے جس کی وجہ سے ان کا دل خوشیوں سے بھر گیا ہے۔ دوسرے لوگوں کی نظروں میں یہ سب چیزیں، ہوسکتا ہے بالکل معمولی ہوں۔ جیسے رات بھات کھاوا کا ایک بوڑھا پیپل جوایک بیر اور ناریل کے پیڑوں سے لپٹ کر کھڑا ہے، مہیش گنج کی ایک نیل کوٹھی کا کھنڈر، مئینا کی ایک مٹھائی کی دکان کی دال کی برفی...
اس بار رتن بابو جہاں آئے ہیں، اس جگہ کا نام سِنی ہے۔ یہ قصبہ ٹاٹا نگر سے پندرہ میل دوری پر ہے۔ اتناضرور ہے کہ اس جگہ کو انھوں نے ٹائم ٹیبل سے تلاش کر کے نہیں نکالا ہے۔ آفس کے قریبی دوستوں نے اس جگہ کے بارے میں بتایا تھا۔ نیومہامایا ہوٹل کا نام بھی انھیں سے سنا تھا۔
رتن بابو کو ہوٹل پسند آیا ۔ کمرہ چھوٹا ہے، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ! مشرق اور جنوب دونوں طرف کھڑکیاں ہیں۔ ان کھڑکیوں سے بہت ہی خوبصورت منظر نظر آتے ہیں۔ پنچا نام کا جو نوکر ہے، وہ سیدھا سادہ ہے ۔ چاہے سردی ہو یا گرمی، رتن بابو ہر موسم میں گرم پانی سے نہاتے ہیں۔ پنچا نے انھیں دلاسا دیاکہ اس کے لیے انھیں فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہوٹل کاکھانا بھی ٹھیک ہی ہے اور رتن بابو بھی یہی پسند کرتے ہیں، کیونکہ کھانے پینے کا انھیں زیادہ مراق نہیں ہے۔ ان کی طرف سے بس ایک ہی مانگ رہتی ہےـبھات اور روٹی۔ یہ دو چیزیں اگر ایک ساتھ نہ ہوں تو وہ کھانا نہیں کھاسکتے ۔ مچھلی کے شور بے کے ساتھ بھات اور دال سبزی کے ساتھ روٹی، یہی ان کا کھانا کھانے کا طریقہ ہے۔ ہوٹل آتے ہی انھوں نے یہ بات پنچا کو بتا دی ہے اور پنچا نے یہ خبر منیجر کو دے دی ہے۔
نئی جگہ آنے پر پہلے دن ہی جب تک وہ تیسرے پہر چہل قدمی نہیں کر آتے، انھیں سکون نہیں ملتا۔ سِنی آنے پر بھی اس معمول میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ چار بجے پنچا کی لائی ہوئی چائے پی کر رتن بابو گھومنے پھرنے نکل گئے۔قصبے سے باہر نکلتے ہی کھلا ہوا ناہموار میدان ملتا ہے۔ اس کے بیچ سے پگڈنڈیاں نکلتی چلی گئی ہیں۔ رتن بابو ایک پگڈنڈی پر چلتے ہوے جب ایک ڈیڑھ میل نکل گئے تو انھوں نے ایک بہت خوبصورت چیز ڈھونڈ نکالی ۔ ایک چھوٹا سا ڈیرا ہے۔ اس میں کچھ کُمد کے پھول کھلے ہیں، اور ان کے چاروں طرف بیشمار پرندوں کا ہجوم لگا ہے۔ بگلا، ڈاہُک، چاہا، کوڈلاّـ ان پرندوں کو رتن بابو پہچانتے ہیں۔ باقی پرندوں کو انھوں نے یہاں پہلی بار دیکھا ہے۔
ہر روز تیسرے پہر اسی ڈیرے کے کنارے بیٹھ کر رتن بابو چھٹی کے باقی دن گزار سکتے ہیں۔ مگر دوسرے روز کسی دوسری چیز کی تلاش میں انھوں نے ایک نئی پگڈنڈی پکڑ کر چلنا شروع کردیا۔ ایک آدھ میل جانے کے بعد راستے میں بکریوں کا ریوڑ ملا اور انھیں اپنی چہل قدمی کچھ دیر کے لیے روکنا پڑی۔ جب راستہ خالی ہوگیا تو وہ آگے بڑھے اور تقریباً پانچ منٹ کے بعد ان کی نگاہ لکڑی کے ایک پُل پر گئی۔ کچھ دور جانے پر انھیں پتاچلا کہ وہ ایک اوور برج ہے۔ اس کے نیچے سے ریلوے کی لائن چلی گئی ہے۔ مشرق کی طرف تھوڑے فاصلے پر اسٹیشن نظر آرہا ہے، اور مغرب کی طرف آنکھیں جتنی دور جاتی ہیں، ریل کی پٹریاں بچھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اچانک ابھی کوئی ریل آکر پل کے نیچے سے نکل جائے تو کتنی عجیب بات ہوگی، یہ بات سوچتے ہی رتن بابو کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
رتن بابو چونکہ ایک ٹک ریل گاڑی کی پٹریوں کی طرف دیکھ رہے تھے، اس لیے کب ایک دوسرا آدمی ان کی بغل میں آکر کھڑا ہوگیا، اس کا انھیں علم ہی نہیں ہوا۔ جب انھوں نے بغل کی طرف نگاہ گھمائی تو چونک گئے۔
وہ آدمی دھوتی اور قمیص پہنے تھا۔ کندھے پر خاکی رنگ کی ایک چادر تھی، پاؤں میں کینوس کے جوتے، آنکھوں پر بائی فوکل چشمہ۔ رتن بابو کے دل میں ایک کھٹکا پیدا ہوا۔ اس آدمی کو کیا وہ اس سے پہلے دیکھ چکے ہیں؟ جانا پہچانا سا نہیں لگتا کیا؟ درمیانی قد کا ہے، بدن کا رنگ بھی گورے کالے کے بیچ کا ہے، آنکھیں اُداس اور جذباتی ہیں۔ کتنی عمر ہوگی؟ پچاس سے زیادہ نہیں ہے۔ بال بہت ہی کم پکے ہیںـ کم سے کم شام کی روشنی میں تو ایسا ہی لگتا ہے۔
اجنبی نے ایک ٹھنڈی ہنسی ہنس کر رتن بابو کو نمسکار کیا۔ رتن بابو ہاتھ جوڑ کر جب اسے نمسکار کرنے لگے تو اچانک یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی کہ ان کے دل میں یہ وہم کیوں پیداہورہا تھا۔ یہ آدمی جو جانا پہچانا سا لگتا ہے، اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں ہے۔ اس ڈھانچے کے چہرے کو رتن بابو بہت بار دیکھ چکے ہیں، اور دیکھا ہے تو آئینے میں ہی۔ اس بھلے آدمی سے ان کا چہرہ ہوبہو ملتا جلتا ہے۔ چوکور چہرہ، بالوں کی مانگ، مونچھوں کی شکل، ٹھوڑی کے بیچ کا گڈھا، کان کے اوپر کا حصہـیہ سب تقریباً ایک جیسے ہیں۔ ہاں، اجنبی کے بدن کا رنگ کچھ زیادہ کالاپن لیے ہوے ہے، بھنویں زیادہ گھنی ہیں اور سر کے پچھلے حصے کے بال کچھ زیادہ لمبے ہیں۔
اس کے بعد اجنبی کے گلے کی آواز سن کر رتن بابو اور بھی زیادہ چونک گئے۔ ایک بارمحلے کے سشانت نام کے ایک لڑکے نے ان کے گلے کی آواز ٹیپ ریکارڈ میں بھرکر انھیں سنائی تھی۔ اس آواز اور اس آدمی کے گلے کی آواز میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اجنبی نے کہا، ’’میرا نام ہے منی لال مجومدار۔آپ نیومہامایا ہوٹل میں ٹھہرے ہوے ہیں نا؟‘‘
رتن لال... منی لال... نام بھی ملتے جلتے ہیں۔ رتن بابو نے حیرانی کے جذبے پر قابو پاکر اپنا تعارف کرایا۔
اجنبی نے کہا، ’’شاید آپ مجھے پہچان نہیں پارہے ہیں، مگر میں اس کے پہلے بھی آپ کو دیکھ چکا ہوں۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’آپ پچھلی پوجا کی چھٹی میں دھلیان نہیں گئے تھے؟‘‘
رتن بابو نے حیران ہوکر کہا، ’’آپ بھی وہاں گئے تھے؟‘‘
’’جی ہاں، میں ہر بار پوجا کی چھٹی میں کہیں نہ کہیں جاتا ہوں۔ اکیلا آدمی ہوں، دوست احباب بھی زیادہ نہیں ہیں۔ اکیلے ہی نئی نئی جگہوں کا سیر سپاٹا کرنا بہت اچھا بھی لگتا ہے۔ سِنی کے بارے میں میرے آفس کے ایک ساتھی نے مجھے بتایاتھا۔ بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ کہیے، ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟‘‘
رتن بابو نے تھوک نگل کر سرہلاتے ہوے ہامی بھری ۔اب کچھ دیسی پرندے بھی وہاں جمع ہوگئے ہیں۔
’’کچھ ایسے پرندے بھی دیکھے جنھیں بنگال میں نہیں دیکھا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
اتنی دیر میں رتن بابو کچھ سنبھل گئے تھے۔ بولے، ’’میرا بھی یہی خیال ہے، میں بھی بہت سے پرندوں کو نہیں پہچان سکا تھا۔‘‘
دور سے ایک دھمک سی سنائی دے رہی ہے۔ ریل آرہی ہے۔ مشرق کی طرف دیکھنے پر ہیڈلائٹ دکھائی دی۔ روشنی آہستہ آہستہ بڑی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ رتن بابو اور منی لال بابو پُل کی ریلنگ کے کنارے جاکر کھڑے ہوگئے۔ تیز آواز کرتی، پل کو دہلاتی ہلاتی، ریل دوسرے کنارے کی طرف چلی گئی۔ دونوں آدمی پیدل چل کر پل کی دوسری طرف بڑھ گئے اور اس وقت تک ریل کو دیکھتے رہے جب تک کہ وہ آنکھوں کے سامنے سے غائب نہ ہوگئی۔ رتن بابو کے دل میں بچوں جیسا سنسنی خیز جذبہ جاگ گیا ہے۔ منی لال بابو نے کہا، ’’حیرت ہے! اتنی عمر ہوگئی، پھر بھی ریل گاڑی دیکھنے کا تجسس دل سے دور نہیں ہوا!‘‘
لوٹتے وقت رتن بابو کو معلوم ہوا کہ منی بابو کو سِنی آئے تین روز ہوے ہیں اور وہ کالکا ہوٹل میں ٹھہرے ہوے ہیں۔ کلکتہ میں ہی ان کا آبائی مکان ہے اور وہ وہیں کے ایک بزنس آفس میں کام کرتے ہیں۔ عام طور سے لوگ ایک دوسرے سے تنخواہ کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرتے ہیں مگر رتن بابو نہ چاہتے ہوے بھی پوچھ ہی بیٹھے۔ جواب سن کر ان کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا۔ کیا یہ ممکن ہے؟ منی لال اور رتن بابو کو بالکل ایک جتنی تنخواہ ملتی ہےـ دونوں میں سے ہر ایک کو چار سو پینتیس روپے۔ پوجا میں دونوں کو بونس بھی ایک جتناملاہے۔
یہ آدمی پہلے سے ہی رتن بابو کے بارے میں سب کچھ پتالگا کر ان کے ساتھ چالبازی کر رہا ہے، رتن بابو کو ایسا محسوس نہیں ہوا۔ پہلی بات تو یہ کہ ان کی روز مرہ کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے، اس پر کبھی کسی نے غور نہیں کیا ہے۔ وہ اپنی رو میں زندگی جی رہے ہیں ۔ آفس کے باہر نوکر کے علاوہ کسی دوسرے سے بات تک نہیں کرتے، کبھی کسی کے گھر جاکر اڈے بازی نہیں کرتے۔اگر یہ مان بھی لیں کہ تنخواہ کے بارے میں باہری لوگوں کو معلوم ہے تو رات میں وہ کب سوتے ہیں، کیا کھانا پسند کرتے ہیں، کون سا اخبار پڑھتے ہیں، کون سا تھیٹر یا بنگالی سنیما ابھی حال میں انھوں نے دیکھا ہےـیہ سب باتیں ان کے علاوہ کسی دوسرے کو معلوم نہیں۔لیکن یہ ساری باتیں اس بھلے آدمی سے ہو بہو مل رہی ہیں۔ رتن بابو یہ بات منھ کھول کر منی لال بابو کو نہیں کہہ سکے۔ راستے بھر وہ صرف منی لال بابو کی باتیں سنتے رہے اور اپنے ساتھ اس کی مشابہت پاکر باربار حیران ہوتے رہے۔ اپنے بارے میں انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔
رتن بابو کا ہوٹل پہلے آتا ہے۔ ہوٹل کے سامنے آکر منی لال بابونے پوچھا،’’آپ کے یہاں کھانا کیساملتا ہے؟‘‘
رتن بابو نے کہا،’ ’مچھلی کاشوربہ اچھاہوتا ہے۔باقی سب بس چالو کہہ لیجیے۔‘‘
’’میرے ہوٹل میں اچھا کھانا نہیں ملتا ہے۔ سنا ہے، یہاں جگن ناتھ مشٹھان بھنڈار میں بہت عمدہ پوریاں اور چنے کی دال ملتی ہے۔ آج رات وہیں کھانا کھایا جائے تو کیسا رہے؟‘‘
رتن بابو نے کہا، ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ آٹھ بجے چلا جائے؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔ اس کے بعد ایک ساتھ چلیں گے۔‘‘
منی لال بابو کے چلے جانے کے بعد رتن بابو ہوٹل کے اندر جانے کے بجاے کچھ دیر تک راستے پر ہی چہل قدمی کرتے رہے۔ شام ڈھلنے لگی ہے۔ آسمان صاف ہے، اتنا صاف کہ تاروں کے بیچ سے گزرتی ہوئی کہکشاں بھی صاف صاف نظر آرہی ہے۔ حیرت ہے، اتنے دنوں تک رتن بابو کو یہی دُکھ تھا کہ انھیں کوئی ایسا دوست نہ ملا جس سے ان کا دل اور خیالات ملتے ہوں؛ لیکن سِنی آنے پر اچانک ایک ایسے آدمی سے ملاقات ہوگئی جسے ان کا ڈپلیکیٹ ہی کہا جاسکتا ہے۔ چہرے میں تھوڑا بہت فرق ہے، پھر بھی عادت، مزاج اور فطرت میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ایسی مماثلت جڑواں بھائیوں میں بھی ملنا مشکل ہوتی ہے۔
اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ اتنے دنوں کے بعد دوست کی کمی پوری ہوگئی؟
رتن بابو کو اس بات کا جواب فوراً نہیں ملا۔ منی لال بابو سے تھوڑا اور ملنے جلنے سے، ہوسکتا ہے یہ بات ان کی سمجھ میں آجائے۔ ایک چیز وہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے، اور وہ یہ کہ ان کے اکیلے پن کی کمی دور ہوگئی ہے۔ اس دنیا میں انھیں کے جیسا ایک آدمی اتنے عرصے سے موجود تھااور اب اس سے اچانک ملاقات ہوگئی۔
جگن ناتھ مشٹھان بھنڈار میں میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوے رتن بابو نے غور کیا کہ منی لال بابو بھی انھیں کی طرح چاٹ پونچھ کر کھانا پسند کرتے ہیں، انھیں کی طرح کھانا کھاتے کھاتے پانی پیتے ہیں، انھیں کی طرح کا غذی لیموں دال میں نچوڑ لیتے ہیں۔ سب کچھ کھانے کے بعد رتن بابو دہی کھاتے ہیں۔ منی لال بابو کے ساتھ بھی یہی بات ہے۔
کھانا کھاتے وقت رتن بابو کو اس لیے بے چینی محسوس ہورہی تھی کیونکہ دوسری میزوں کے لوگ مڑ مڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ لوگ کیا ان دونو ں کی مشابہت کو اتنے غور سے دیکھ رہے ہیں؟ یہ دونوں کیا اس حد تک ایک دوسرے سے ملتے ہیں کہ لوگوں کی توجہ ان کی طرف مائل ہوجاتی ہے؟
کھاناکھانے کے بعد رتن بابو اور منی لال بابو چاندنی رات میں کچھ دیر تک چہل قدمی کرتے رہے۔ ایک سوال رتن بابو کے دماغ میں بہت دیر سے گھوم رہا تھا، بات چیت کے دوران وہ باہرنکل آیا، ’’آپ کیا پچاس پار کرچکے ہیں؟‘‘
منی لال بابونے ہنس کر کہا، ’’جلد ہی پچاس سال پورے کرنے جارہا ہوں۔ پوس کی گیارھویں تاریخ کو پچاس کمپلیٹ ہوجائے گا۔‘‘
رتن بابو کا دماغ چکرانے لگا۔ دونوں کی پیدائش کی تاریخ بھی ایک ہی ہےـ 1916کے پوس مہینے کی گیارھویں۔ آدھے گھنٹے تک چہل قدمی کرنے کے بعد وہاں سے رخصت ہوتے وقت منی لال بابو نے ہنس کر کہا، ’’آپ سے مل کر بے حد خوشی ہوئی۔ میں کسی سے گھلتا ملتا نہیں ہوں، مگر آپ کے ساتھ کچھ اور ہی بات ہے۔ لگتا ہے چھٹی مزے میں گزرے گی۔‘‘
رتن بابو دس بجے سے پہلے ہی سوجاتے ہیں۔ اپنے ساتھ بنگلہ زبان کے دو چار ماہوار رسالے لے کر لیٹے لیٹے جب ان کی ورق گردانی کرتے ہیں تو نیند خود بخود آجاتی ہے۔ لیٹے لیٹے ہی ہاتھ بڑھاکر بجلی کابٹن دباکر بتی بجھا دیتے ہیں اور چند پلوں میں ہی ان کے خراٹے گونجنے لگتے ہیں۔ مگر آج نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ پڑھنے کی خواہش بھی نہیں تھی۔ رسالے کو ہاتھ میں اٹھاکر پھر سے بغل کی میز پر رکھ دیا۔
منی لال مجومدار...رتن بابو نے کہاں پڑھا تھا کہ دنیا میں کروڑوں آدمی ہیں، پھر بھی کہیں ایسے دو آدمی نہیں مل سکتے جن کے چہرے ہوبہو ایک جیسے ہوں، حالانکہ سبھی کی آنکھ، کان، ناک، ہاتھ پیر وغیرہ کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ چہرے کاایک جیسا ہونا ہوسکتا ہے ناممکن ہو، لیکن دولوگوں کے دل کا ایک جیسا ہونا کیا ممکن ہے؟ دل ہی نہیں، عمر، پیشہ، گلے کی آواز، چلنے اوربیٹھنے کا انداز، آنکھوں کی عینک کا پاور وغیرہ، اور بھی بہت سے چیزیں ہوبہو ایک جیسی ہیں۔ سوچنے پر محسوس ہوتا ہے ناممکن ہے، مگر ممکن ہوگیا ہے، اوراس کا ثبوت پچھلے چار گھنٹوں کے دوران رتن بابو کو کئی بار مل چکا ہے۔
رات بارہ بجے رتن بابو نے بستر سے اٹھ کر صراحی سے چلّو میں تھوڑا سا پانی لے کر اسے اپنے سر پر ڈالا۔ ان کا سر چکرانے لگا ہے۔ اس حالت میں نیند نہیں آئے گی۔ گیلے سر کو انگوچھے سے آہستہ سے پونچھا اور دوبارہ بستر پر لیٹ گئے۔ تکیہ بھیگ گیا۔ اچھی ہی بات ہے۔ جب تک تکیہ سوکھ نہیں جاتا ہے، ماتھا ٹھنڈا رہے گا۔
پورے محلے میں سناٹا چھایا ہوا ہے ایک الّو ڈراؤنی آواز میں چلّاتا ہوا ہوٹل کے قریب سے اڑتا ہوا چلا گیا۔ کھڑکی سے چاندنی آکر بستر پر رینگ رہی ہے۔ نہ جانے کب رتن بابو کے دل سے فکر اپنے آپ دور ہوگئی اور ان کی پلکیں جھپک گئیں۔
رات کو دیر سے سونے کے باعث رتن بابو کی نیند صبح آٹھ بجے ٹوٹی۔ نوبجے منی لال بابو آنے والے ہیں۔ آج منگل کا دن ہے۔ یہاں سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر آج ایک جگہ پر ہاٹ لگے گا۔ کل کھانا کھاتے ہوے دونوں نے تقریباً ایک ساتھ ہی ہاٹ جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ خریدنا کوئی خاص چیز نہیں ہے، بس یوں ہی گھوم پھر آئیں گے۔
چائے پیتے پیتے نو بج گئے۔ سامنے رکھی طشتری سے تھوڑی سی سونف اٹھاکر رتن بابو نے منھ میں ڈالی اور ہوٹل سے باہر آتے ہی دیکھا، منی لال بابو مسکراتے ہوے چلے آرہے ہیں۔
قریب آتے ہی منی لال بابو نے پہلی جو بات کہی وہ یہ کہ رتن بابو اور ان میں کتنی مشابہت ہے! یہی بات سوچتے سوچتے کل رات وہ بہت دیر سے سوئے تھے۔ جب سوکر اٹھے تو آٹھ بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ یوں وہ ٹھیک چھ بجے بستر سے اٹھ جاتے ہیں۔
رتن بابو نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دونوں ہاٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔ محلے کے کچھ چھوکروں کا جمگھٹ لگا ہوا تھا۔ رتن بابو اور منی بابو ان کے سامنے سے جانے لگے تو ان میں سے ایک نے طنز کے لہجے میں کہا، ’’مانِک مُکتاکی جوڑی ہے۔‘‘ رتن بابو اس کی بات کو ٹالتے ہوے آگے بڑھ گئے۔ تقریباً بیس منٹ میں وہ ہاٹ پہنچ گئے۔
کافی اچھا ہاٹ لگا ہے ۔ پھل پھول سے لے کر ساگ سبزی، برتن، مٹی کی ہانڈی، مرغوں اوربکروں وغیرہ کی دکانیں سجی ہوئی ہیں۔ لوگوں کی بھیڑ بھی کافی ہے۔ اسی بھیڑ کے بیچ سے دکانوں پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوے رتن بابو اور منی لال بابو آگے بڑھتے گئے۔
وہ کون ہے؟ پنچا؟ نہ جانے کیوں رتن بابو نے اس بھیڑ کے سامنے اپنے ہوٹل کے نوکر کو دیکھ کر اپنی آنکھیں جھکا لیں اور اپنے چہرے کو بھیڑ کی اوٹ میں چھپا لیا۔ اس چھوکرے کی ’’مانک مکتا کی جوڑی‘‘ کی بات سننے کے بعد سے ہی ان کے دل میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر لوگ دل ہی دل میں ہنستے ہیں۔
بھیڑ کے بیچ سے گزرتے ہوے رتن بابو کے دل میں اچانک ایک خیال آیا۔ انھیں لگا کہ وہ جب تنہا تھے تو زیادہ بہتر تھے۔ انھیں دوست کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر دوست ہو بھی تو وہ منی لال بابو کی طرح نہ ہو ۔ وہ منی لال بابو سے جتنی بار گفتگو کرتے ہیں، اتنی بار انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے آپ سے گفتگو کر رہے ہیں۔ سوال کرنے سے اس کا جواب کیا ملے گا، یہ بات جیسے انھیں پہلے سے ہی معلوم ہو۔ بحث کرنے کا کوئی موقع نہیں آتا، سوچ بچار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جھگڑے جھنجھٹ کا کوئی امکان نہیں ہےـ کیا یہ دوستی کی نشانی ہے؟ ان کے دفتر کے کار تک رائے اور مکند چکرورتی میں گہری دوستی ہے۔ مگر ایسا ہونے پر بھی کیا دونوں میں بحث مباحثہ نہیں ہوتا ہے ؟ ہوتا ضرور ہے، مگر پھر بھی وہ دوست ہیںـ ایک دوسرے کے سچے دوست۔
ساری باتو ں پر غور کرنے کے بعد انھیں بار بار یہی محسوس ہونے لگا کہ منی لال مجومدار اگر ان کی زندگی میں نہ آتے تو اچھا رہتا۔ ایک جیسے دو آدمی اگر اس دنیا میں ہوں تو ان کا ایک دوسرے کے قریب آنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ سِنی سے کلکتہ لوٹ جانے پر بھی منی لال بابو سے ملاقات ہوسکتی ہے،یہ بات سوچتے ہی رتن بابو کانپ اٹھتے۔
ایک دکان میں بانس کی لاٹھی بک رہی تھی ۔ رتن بابو کی بہت دنوں سے لاٹھی خریدنے کی خواہش تھی، مگر منی لال بابو کو سودے بازی کرتے دیکھ کر زبردستی اپنی خواہش کو دل میں ہی دبا لیا۔ آخر میں دیکھنے میں یہ آیا کہ منی لال بابو نے ایک کے بجاے دو لاٹھیاں خریدیں اور ان میں سے ایک رتن بابو کو بطور تحفہ پیش کی۔ تحفہ دیتے وقت کہا، ’’امید ہے کہ یہ معمولی لاٹھی دوستی کی نشانی کے طور پر لینے سے آپ انکار نہیں کریں گے۔‘‘
ہاٹ سے لوٹتے وقت منی لال بابو نے بہت سی باتیں بتائیں۔ اپنے بچپن کی بات، اپنے ماں باپ کی بات، اپنے اسکول کالج کی باتـ سنتے وقت رتن بابو کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ان کی باتیں کوئی دھڑلّے سے انھیں ہی سنارہا ہے۔
تیسرے پہرچائے پی کر جب وہ دونوں میدان کے بیچ پگڈنڈی سے ہو کر پل کی طرف جا رہے تھے تو رتن بابو کے دماغ میں ایک خیال آیا۔ انھیں زیادہ بولنا نہیں پڑرہا تھا، اس لیے ان کا دماغ اچھی طرح کام کر رہا تھا۔ دوپہر سے ہی انھیں لگ رہا تھا کہ اس آدمی کو اگر دور ہٹاسکوں تو اچھا رہے، مگر دماغ میں کوئی تدبیر نہیں آرہی تھی۔ اسی لمحے آسمان کے کالے بادلوں پر نگاہ پڑتے ہی رتن بابو کی آنکھوں کے سامنے یہ ترکیب آگئی۔
حیرت ہے! ایک آدمی کو قتل کرنے کی بات سوچ کر بھی رتن بابو خود کو قصور وارنہیں مان سکے۔ منی لال بابو میں اگر کوئی خصوصیت ہوتی، یہاں تک کہ ان کی عادت و اطوار رتن بابو سے اگر ذرا بھی مختلف ہوتے، تو رتن بابو ان کو قتل کرنے کی بات نہیں سوچ سکتے تھے۔ رتن بابو کو یقین ہوگیا ہے کہ ایک ہی طرح کے دو آدمیوں کاایک ساتھ زندہ رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ وہ ہیں اور وہی رہیں گے، یہی کافی ہے۔ منی لال بابو اگر زندہ رہ کر بھی ان سے دور رہتے، جیسے کہ کچھ دن پہلے تک تھے، تو انھیں کوئی اعتراض نہ تھا، مگر اب اس جان پہچان کے بعد ایسا ہونا ناممکن ہے،اس لیے انھیں دور ہٹا دینا نہایت ضروری ہے۔
دونوں آدمی اوور برج پر پہنچ چکے تھے۔
’’بڑی ہی اُمس ہے،‘‘ منی لال بابو نے کہا،’’رات میں بارش ہوسکتی ہے۔ اور اس کا مطلب یہ کہ کل کڑاکے کی سردی پڑے گی۔‘‘
اس بیچ رتن بابو نے ایک بار اپنی گھڑی کی طرف نگاہ ڈالیـچھ بجنے میں بارہ منٹ باقی ہیں۔ ریل ٹھیک وقت پر آتی جاتی ہے، اب دیر نہیں ہے۔ رتن بابو نے اپنی بے چینی کو چھپانے کے لیے جماہی لی او رکہا،’ ’ابھی چار پانچ گھنٹے تک بارش ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔‘‘
’’سپاری کھائیں گے؟‘‘
منی لال بابو نے جیب سے ٹین کی ایک گول ڈبیا نکالی اور اس کے ڈھکن کو کھول کر رتن بابو کی طرف بڑھائی۔ رتن بابو کی جیب میں بھی ایک ڈبیا میں سپاری تھی؛ اس ڈبیا کو جیب سے نکالے بغیر، اور اس کی بابت کچھ کہے بغیر، انھوں نے منی لال بابو کی ڈبیا سے سپاری کا ایک ٹکڑا نکال کر منھ میں ڈال لیا۔
اور عین اسی وقت ریل کی آواز سنائی دی۔
منی لال بابو نے ریلنگ کے پاس جاکر گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا ،’’سیون منٹ بی فور ٹائم۔‘‘
مغرب کی طرف گھٹاچھائی ہونے کی وجہ سے آج اور دنوں کی بہ نسبت اندھیرا ہے، اس لیے ہیڈلائٹ کی روشنی زیادہ اجلی لگ رہی ہے۔ ریل اب بھی کافی دور ہے، اور ہاں، روشنی کا حجم جلدی جلدی بڑھتا جارہا ہے۔ لگاتار دیکھا جائے تو آنکھوں میں پانی بھر آئے۔
ایک آدمی سائیکل پر سوار ہوکر سڑک سے پل کی طرف آرہا ہے۔ بڑی مصیبت ہے یہ آدمیـ یہاں رکنے والا ہے کیا؟
رتن بابو کااندیشہ غلط ثابت ہوا۔ وہ آدمی ان لوگوں کے پاس سے ہوتا ہوا، آندھی کی طرح سائیکل چلاتاہوا،مخالف سمت کے راستے پر شام کے اندھیرے میں گم ہوگیا۔ ریل گاڑی تیز رفتار سے چلی آرہی ہے ۔ آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرنے والی ہیڈلائٹ میں فاصلے کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اب کچھ ہی پلوں کے بعد اوور برج کانپنے لگے گا۔ ریل کی آواز سے کان کا پردہ پھٹاجارہا ہے۔
منی لال بابوریلنگ پکڑ کر ریل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک بار بجلی چمکی اور اس کے ساتھ ہی رتن بابو نے اپنی پوری طاقت لگا کر دونوں ہاتھوں سے منی لال بابو کی پشت پر ایک دھکا دیا۔ منی لال بابو کاجسم دو ہاتھ اونچی لکڑی کی ریلنگ کے اوپر سے ہوتا ہواسیدھا ریل کی پٹریوں کی طرف چلا گیا۔ ٹھیک اسی وقت رتن بابو کو محسوس ہوا کہ اوور برج تھرتھرانے لگاہے۔
آج رتن بابو نے ریل گزرنے کے منظرکو دیکھنے کا انتظار نہیں کیا۔ لکڑی کے برج کی طرح ہی ان کے اندر ایک تھرتھراہٹ شروع ہوگئی ہے۔ مغرب کی طرف گھٹابہت آگے تک چلی آئی ہے اور بیچ بیچ میں بجلی چمک رہی ہے۔
رتن بابو نے شال کو اچھی طرح لپیٹ لیا اور ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے۔
بارش کے پہلے جھونکے کو نظر انداز کرنے کی ناکام کوشش میں رتن بابو نے باقی راستے کو دوڑتے دوڑتے طے کیا اور ہانپتے ہوے ہوٹل پہنچے۔
اندر جاتے ہی انھیں شک ہوا۔
وہ کہاں آگئے! مہامایا ہوٹل کے سامنے ایسامکان نہیں تھا۔ اس طرح کی میز، اس طرح کی کرسیوں کی سجاوٹ ، دیوار پر اس طرح کی تصویر...!
اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اچانک ان کی نگاہ لکڑی کے ایک بورڈپر گئی۔ باپ رے، ان سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے ! وہ تو کالکا ہوٹل کے اندر آگئے ہیں۔ یہیں منی لال بابو ٹھہرے ہوے تھے نا؟
بارش نے انھیں بھگو دیا کیا؟
کسی آدمی نے ان سے کچھ پوچھا۔ رتن بابو نے مڑ کر دیکھا، ایک آدمی ہے جس کے گھنگھرالے بال ہیں، بدن پر ہرے رنگ کی شال ہے۔ معلوم ہوتا ہے ، اسی ہوٹل کارہنے والا ہے۔ وہ ان کی طرف منھ کیے چائے کی پیالی لیے بیٹھا ہوا ہے۔ رتن بابو کے چہرے پر نگاہ پڑنے کے بعد اس نے ذرا گھبراہٹ کے ساتھ کہا، ’’سوری! غلطی ہوگئی۔ آپ پر اچانک نگاہ پڑی تو لگا، منی لال بابو ہیں۔‘‘
اس سوال سے ان کے دل میں یہ شک پیدا ہوا کہ انھوں نے جو قتل کیا ہے، وہ ہر پہلو سے سوچ سمجھ کر اور پوری ہوشیاری برتتے ہوے کیا ہے یا نہیں۔ وہ دونوں ایک ساتھ نکلے تھے، بہت سے لوگوں نے ہوسکتا ہے دیکھا ہو، مگر دیکھنا ہی کیا، غور سے دیکھنا اہم ہے۔جنھوں نے دیکھا ہوگا، انھیں کیا یہ بات یاد ہوگی؟ اور اگر یاد ہو بھی تو کیا ان پر شک کریں گے؟ ہاٹ سے نکلنے کے بعد جب وہ کھلے راستے پر آئے تھے انھیں کسی نے نہیں دیکھا تھا، یہ بات رتن بابو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور اس اووربرج پر پہنچنے کے بعد... او ہ،ہاں... اس سائیکل والے نے انھیں ضرور ہی دیکھا ہوگا۔ مگر تب گہرا اندھیرا اتر آیاتھا، اس طرح تیزی سے سائیکل چلاتے ہوے اس آدمی نے کیا ان کاچہرہ پہچان لیا ہوگا؟ اور پہچان کر یاد رکھا ہوگا؟ ناممکن بات ہے۔
رتن بابو نے اس موضوع پر جتنا زیادہ سوچا وہ اتنا زیادہ مطمئن ہوگئے۔ منی لال بابو کی لاش ضرور ہی برآمد ہوگی۔ مگر اس کی وجہ سے رتن بابو پر شک ہوگا، معاملے پر غور کیا جائے گا، انھیں خونی مان کر پھانسی کی سزا دی جائے گیـ ان باتو ں پر رتن بابو کو قطعی یقین نہیں ہوا۔
باہر بارش ہوتے دیکھ کر رتن بابو نے کالکا ہوٹل میں بیٹھ کر ایک پیالی چائے پی۔ ساڑھے سات بجتے بجتے بارش تھم گئی۔ رتن بابو سیدھے مہامایا چلے آئے۔ کس طرح غلطی سے وہ دوسرے ہوٹل میں چلے گئے تھے، اس پر سوچتے ہی انھیں ہنسی آنے لگی۔
رات میں پیٹ بھر کھانا کھاکر رتن بابو بستر پر لیٹ گئے اور دیش رسالہ کھول کر آسٹریلیا کی جنگلی ذاتو ں کے بارے میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کے بعد بتی بجھا کر اطمینان کے ساتھ آنکھیں بند کرلیں۔ اب پھر وہ اکیلے ہیں اور ان کی طرح کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ان کا کوئی ساتھی نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہی ہے۔ وہ اتنے عرصے سے جس طرح زندگی گزار رہے تھے، اسی طرح زندگی گزاریں گے۔ اس سے بڑھ کر آرام اور کیا ہوسکتا ہے؟
باہر پھر سے بارش ہونے لگی ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کی چمک اوربادلوں کی گڑگڑاہٹ شروع ہوگئی ہے۔ مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ رتن بابو کے خراٹے گونجنے لگے ہیں۔
دوسرے روز جب وہ چائے پی رہے تھے تو پنچا نے پوچھا،’ ’یہ لاٹھی کل ہاٹ میں خریدی ہے کیا بابو؟‘‘
رتن بابو نے کہا،’’ہاں۔‘‘
’’قیمت کتنی ہے؟‘‘
رتن بابو نے اس کے دام بتائے۔ اس کے بعد اپنے لہجے کو عام اور فطری سا بناکر کہا، ’ ’تم ہاٹ گئے تھے؟‘‘
پنچانے ہنستے ہوے جواب دیا، ’’ہاں بابو، آپ کو بھی دیکھاتھا۔ آپ کی نگاہ مجھ پر نہیں پڑی تھی؟‘‘
’’ نہیں۔‘‘
اس کے بعد پنچا سے ان کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
چائے پی کر وہ ہوٹل سے باہر نکلے اور پیدل چلتے ہوے کالکا ہوٹل کے پاس آئے۔ کل کا وہی گھنگھرالے بالوں والا آدمی کچھ بنگالیوں کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا ہوکر بات چیت کر رہا تھا۔ منی لال بابو کا نام اور ’خود کشی‘ لفظ رتن بابو کو سنائی دیا۔ اچھی طرح سننے کی غرض سے وہ تھوڑا اور آگے بڑھ گئے۔ اتناہی نہیں، ایک سوال بھی پوچھ لیا۔
’’کس نے خود کشی کرلی صاحب؟‘‘
کل والے آدمی نے کہا، ’’کل آپ کو دیکھ کر جن آدمی کامجھے گمان ہوا تھا، انھوں نے ہی۔‘‘
’’خود کشی؟‘‘
’’لگتا تو یہی ہے۔ ریل گاڑی کے پاس لاش ملی ہے۔ ایک اوور برج ہے، ٹھیک اسی کے نیچے۔ لگتا ہے اوپر سے چھلانگ مارکر کود پڑے ہیں۔ وہ یوں بھی عجیب قسم کے تھے۔ کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے تھے۔ ہم اُن پر اکثر جملے بازی کیاکرتے تھے۔‘‘
’’لاش کہاں ہے؟‘‘
’’پولیس کے ذمے۔ آب وہوا بدلنے کے خیال سے آئے تھے۔ یہاں ان کا کوئی جاننے والانہیں تھا۔ کلکتہ سے آئے تھے۔ اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں ہے۔‘‘
رتن بابو نے ہمدردانہ انداز میں دوبار سرہلاکر ’’چچ چچ‘‘ کی آواز نکالی اور اس کے بعد پھر سے چہل قدمی شروع کردی۔
خود کشی ... یعنی قتل کی بات کسی کے دماغ میں نہیں آئی ہے۔ ان کی تقدیر کتنی اچھی ہے! پھر قتل کرنا تو بہت ہی آسان کام ہے! لو گ ا تنا ڈرتے کیوں ہیں؟
رتن بابو بہت ہلکا پن محسوس کرنے لگے۔ دو دنو ں کے بعد وہ آج پھر اکیلے گھومنے کے لیے باہر جاسکیں گے، یہ بات سوچ کر انھیں بہت خوشی ہوئی۔
کل منی لال بابو کو دھکا دیتے وقت رتن بابو کا ایک بٹن ٹوٹ کر گرگیا تھا۔ درزی کی دکان پر جاکر انھوں نے اسے ٹکوا لیا۔ اس کے بعد منیہاری کی دکان پر جاکر نیم کاٹوتھ پیسٹ خریدا۔ نہیں خریدتے تو کل صبح دانت صاف نہ کرپاتے۔ ابھی جو ٹوتھ پیسٹ ان کے پاس ہے، دبتے دبتے وہ چپٹا ہوکر آخری حالت میں پہنچ چکا ہے۔
دکان سے نکل کر کچھ دور جاتے ہی انھیں ایک مکان سے کیرتن کی آواز سنائی دی۔ رتن بابو تھوڑی دیر تک رک کر کیرتن سنتے رہے۔ اس کے بعد شہر کے باہر کی ایک نئی سڑک کو پکڑ کر ایک آدھ میل کا چکر کاٹتے رہے۔ اس کے بعد گیارہ بجے ہوٹل لوٹ کر نہائے دھوئے اور کھانا کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد قیلولہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
اور دنو ں کی طرح تین بجے ان کی آنکھ کھلی اور آنکھ کھلتے ہی رتن بابو کو لگاکہ ان کا دل چاہ رہا ہے کہ آج شام ایک بار پھر اوور برج کی طرف گھومنے جائیں۔ کل تووہ، ظاہر ہے کہ بہر حال ریل کے نظارے کالطف نہ اٹھا سکے تھے۔ آسمان سے بادل چھٹے نہیں تھے مگر اس میں حرج ہی کیا ہے۔ آج بار ش کی کوئی امید نہیں ہے۔ آج وہ ریل کو آنے سے لے کرجانے کے وقت تک دیکھتے رہیں گے۔
پانچ بجے رتن بابو چائے پی کر نیچے آئے۔ سامنے ہی منیجر شمبھو بابو بیٹھے ہوے ملے۔ رتن بابو پر نظر پڑتے ہی بولے، ’’کل جس آدمی کی موت ہوئی اس سے آپ واقف تھے؟‘‘
شروع میں بغیر کچھ بولے رتن بابو نے چونکنے کی اداکاری کرتے ہوے شمبھو بابو کی طرف دیکھا، اس کے بعد پوچھا، ’’کیوں، بات کیا ہے؟‘‘
’’نہیں، وہ... یعنی، پنچا نے بتایا کہ ہاٹ میں اس نے آپ دونوں کو ایک ہی ساتھ دیکھا تھا۔‘‘
رتن بابو نے ذرامسکراکر پرسکون لہجے میں جواب دیا، ’’یہاں میری کسی سے واقفیت نہیں ہے۔ ہاٹ میں البتہ دو چار آدمیوں سے گفتگو ضرور ہوئی تھی، مگر کس آدمی کی موت ہوئی ہے، اس بات کامجھے علم نہیں۔‘‘
’’اوہ!‘‘ شمبھو بابو ہنس پڑے۔’’بڑا ہی دلچسپ آدمی تھا۔ آپ کی طرح ہی آب وہوا بدلنے کے خیال سے یہاں آیاتھا۔ کالکا ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔‘‘
’’اوہ، یہ بات ہے!‘‘
اس کے بعد رتن بابو بغیر کچھ کہے باہر نکل آئے۔تقریباً دو میل راستہ طے کرنا ہے، اب دیر کرنے سے ریل نہیں دیکھ پائیں گے۔
راستے میں کسی نے ان پر مشکوک نگاہ نہیں ڈالی۔ کل جن چھوکروں کا جمگھٹ لگاتھا، آج ان میں سے وہاں کوئی نہیں تھا۔’’مانک مکتا کی جوڑی‘‘ والی بات رتن بابو کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ لڑکے کہاں چلے گئے؟ رتن بابو کو ڈھول کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ لڑکے ضرور ہی وہیں گئے ہوں گے۔ رتن بابو اطمینان کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔
کھلے میدان کے بیچ کے راستے پر آج وہ اکیلے ہی ہیں۔ منی لال بابو سے جان پہچان ہونے کے پہلے بھی وہ اطمینان سے رہتے تھے، لیکن آج وہ جتنا ہلکا پن محسوس کر رہے ہیں، اس کے پہلے کبھی اتنا ہلکا پن محسوس نہیں کیا تھا۔
وہ ببول کا پیڑ نظر آرہا ہے۔ اس کو پار کرنے کے بعد کچھ منٹوں تک چلنا پڑے گا اور تب اوور برج ملے گا۔ آسمان میں چاروں طرف گھٹا چھائی ہے۔ ہاں گھٹا کا رنگ گہرا کالا نہیں، بلکہ سلیٹی ہے۔ ہوا نہیں ہے، اس لیے تمام بادل ایک جگہ ٹھہر گئے ہیں۔
اوور برج پر نگاہ پڑتے ہی رتن بابو کا دل خوشی سے ناچ اٹھا۔ وہ لمبے لمبے قدم اٹھانے لگے، کہا نہیں جاسکتا، ریل کہیں وقت سے پہلے نہ آجائے ! سر کے اوپر سے بگلوں کا ایک غول اڑ کر چلا گیا۔ پتا نہیں بدیسی بگلے ہیں یا اسی دیس کے۔
پل پر کھڑے ہونے کے بعد رتن بابو کو شام کے سناٹے کا بھرپور احساس ہوا۔ خوب ہوشیاری سے ، غور سے سننے پر ہی ڈھول کی ہلکی کی سی آواز سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری آوازنہیں ہے۔
رتن بابو ریلنگ کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے۔ دور سگنل دکھائی دے رہا ہے اور اس سے بھی دور اسٹیشن ریلنگ کے نچلے حصے میں لکڑی کی دراڑ میں کوئی چیز چمک رہی ہے۔ رتن بابونے جھک کر اس چیز کو اٹھایا۔ وہ ایک گول ٹین کی ڈبیا ہے۔ اس کے اندر الائچی اور سپاری ہے۔ رتن بابو نے تھوڑا مسکراکر اسے پل کے نیچے ریلوے لائن پر پھینک دیا ۔ ٹھن سے آواز ہوئیـ پتا نہیں سپاری کی یہ ڈبیا وہاں کتنے دنوں تک پڑی رہے گی۔
یہ کس چیزکی روشنی ہے؟
ریل آرہی ہے۔ ابھی آواز نہیں سنائی دے رہی ہے، مگر روشنی آگے بڑھتی ہوئی آرہی ہے۔
رتن بابو حیران ہوکر روشنی دیکھنے لگے۔ اچانک ہوا کاایک تیز جھونکا آتا ہے اور ان کے شانے پر سے شال نیچے گرجاتی ہے۔رتن بابو اسے پھر بدن سے لپیٹ لیتے ہیں۔
اب ریل کی آواز سنائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بادلوں کی گڑگڑاہٹ ۔ اب ریل کی طرف سے آنکھیں ہٹانا مشکل ہے، پھر بھی انھوں نے اپنے آس پاس نظر ڈالی۔ کہیں کوئی نہیں ہے۔ کل کے مقابلے میں آج اندھیرا کم ہے، اس لیے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہورہی ہے۔ تیز رفتار سے آتی ہوئی اس لمبی چوڑی ریل اور رتن بابو کے علاوہ ایک آدھ میل کے دائرے میں شاید اور کوئی نہیں ہے۔
ابھی ریل ایک سوگز کے بیچ ہی ہوگی۔ رتن بابو ریلنگ کی طرف تھوڑا اور بڑھ گئے۔پہلے کے زمانے کا بھاپ کا انجن ہوتا تو اتنا آگے بڑھنا مشکل ہوتا، آنکھ اور منھ میں کوئلے کا دھواں بھر جاتا۔ یہ ڈیزل ٹرین ہے، اس لیے اس سے دھواں نہیں نکلتا۔ بس، چھاتی کو دہلا دینے والی گمبھیر سی آواز ہے اور آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرنے والی ہیڈ لائٹ۔
اب ریل برج کے نیچے آچکی ہے۔
رتن بابو کہنیوں کے بل سامنے کی طرف جھک گئے۔ اور ٹھیک اسی لمحے پیچھے سے دوہاتھوں نے ان کی پشت کو زور سے ڈھکیل دیا۔
رتن بابو اس دھکے کو برداشت نہیں کرسکے، کیونکہ ریلنگ صرف دو ہاتھ ہی اونچی تھی۔
میل ٹرین آواز کرتی، پل کو ہلاتی اور دہلاتی، مغرب کی جانب ، جہاں کے آسمان کا رنگ اب سُرخی مائل ہو چکاتھا، چلی گئی۔
رتن بابو اب پل پر نہیں ہیں، مگر ان کی نشانی بطور ایک چیز اب بھی ریلنگ کی لکڑی کی درار میں اٹکی ہوئی ہےـ اور وہ ہے سپاری اور الائچی سے بھری ہوئی المونیم کی ایک ڈبیا۔

پروفیسر ہج بج بج

میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر شاید ہی کوئی یقین کرے ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھے بنا بہتیرے آدمی بہت سی باتوں پر یقین نہیں کرتےـ جیسے بھوتوں پر۔ اتنا ضرور ہے کہ میں بھوت پریت کی کہانی لکھنے نہیں بیٹھا ہوں۔ سچ کہنے میں حرج ہی کیاـ اسے کس طرح کا واقعہ کہوں یہ میں خود ہی نہیں جانتا۔ مگر واقعہ ہوا ہے ،اور ہوا ہے میری زندگی میں ہی۔ اسی لیے اس میں سچائی ہے اور اس کے بارے میں لکھنا بھی فطری ہے۔
پہلے ہی بتادوں کہ جس کی وجہ سے یہ واقعہ ہواتھا اس کا اصلی نام مجھے نہیں معلوم۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا کوئی نام ہے ہی نہیں۔ اتنا ہی نہیں، نام کے بارے میں اس نے چھوٹا موٹا ایک لیکچر بھی دے ڈالا تھا۔
’’نام سے کیا ہوتا ہے ، صاحب؟ کسی زمانے میں میرا کوئی نام تھا ۔ اب اس کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اس کو میں نے ترک کردیا ہے۔ آپ چونکہ آئے ، بات چیت کی، اپنا نام بتایا، اس لیے نام کا سوال اٹھتا ہے۔ یوں یہاں کوئی نہیں آتا، اورنہ آنے کا مطلب ہے کہ مجھے کوئی نام لے کر نہیں پکارتا ۔ جان پہچان کا کوئی آدمی ہے ہی نہیں، کسی سے خط و کتابت نہیں، اخباروں میں تخلیق نہیں چھپواتا ہوں ، بینک کے چیک پر دستخط نہیں کرنا پڑتا ـ لہٰذا نام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک نوکر ہے،مگر وہ بھی گونگا۔ گونگا نہ ہوتا تو بھی وہ میرا نام لے کر مجھے نہ پکارتا، بلکہ مجھے ’بابو‘ کہتا۔ بس بات ختم ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ مجھے کیا کہہ کر پکاریں گے آپ یہی سوچ رہے ہیں نا ؟‘‘
آخر طے ہوا کہ میں انھیں پروفیسر ہج بج بج کہہ کر پکاروں۔ ایسا کیوں ہوا، یہ بات میں بعد میں بتاؤں گا۔ پہلے ضروری ہے کہ شروع کی کچھ باتیں بتادوں۔
واقعہ گوپال پور میں ہوا تھا۔ اڑیسہ کے گنجم ضلع کے بہرام پور اسٹیشن سے دس میل دور، سمندر کے کنارے گوپال پور نام کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ پچھلے تین سال سے دفتر سے چھٹی نہیں مل رہی تھی، کیونکہ کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ اس بار تین ہفتے کی چھٹی لے کر طے کیا کہ اس ان دیکھی، مگر نام سے شناسا جگہ میں جاؤں گا۔ دفتر کے کاموں کے علاوہ میں ایک اور کام کرتاہوں اور وہ ہے ترجمے کا کام۔ آج تک میرے انگریزی سے بنگالی میں ترجمہ کیے ہوے سات جاسوسی ناول شائع ہوچکے ہیں۔ ناشر کا کہنا ہے کہ ان ناولوں کی کھپت کافی تعداد میں ہورہی ہے۔ بہت کچھ اسی کے دباؤ کی وجہ سے مجھے چھٹی لینا پڑی۔ ان تین ہفتوں کے بیچ ایک پوری کتاب کا ترجمہ کرنے کا بوجھ میرے سر پر ہے۔
اس کے پہلے میں کبھی گوپال پور نہیں آیا تھا۔ جگہ کا انتخاب اچھا ہوا ہے، اس کا پتا مجھے پہلے دن ہی چل گیا۔ اتنی پرسکون اور خوبصورت جگہ اس کے پہلے میں نے بہت ہی کم دیکھی ہے ۔ پرسکون ہونے کی ایک دوسری وجہ بھی ہے کہ یہ اپریل کا مہینہ ہے اور اپریل سیاحوں کے آنے کا موسم نہیں ہوتا۔ آب و ہوا بدلنے کے لیے آنے والے لوگوں کا جھنڈ ابھی یہاں نہیں پہنچاہے۔ میں جس ہوٹل میں آکر ٹھہرا ہوں وہاں میرے علاوہ ایک اور آدمی ہےـ ایک آرمینین بڑے میاں۔ نام مسٹر ایراٹُن۔ وہ ہوٹل کے مغربی سرے کے ایک کمرے میں رہتے ہیں اور میں مشرقی سرے کے ایک دوسرے کمرے میں۔ ہوٹل کے لمبے برآمدے کے ٹھیک نیچے سے ہی ریتیلا میدان شروع ہوجاتا ہے ۔ ایک سوگز کی دوری میں پھیلی ریت پر سمندر کی لہریں آآکر پچھاڑیں کھاتی رہتی ہیں۔ لال کیکڑے بیچ بیچ میں برآمدے پر چڑھ کر چہل قدمی کرتے رہتے ہیں ۔ میں ڈیک چےئر پربیٹھا بیٹھا منظر نگاری کرتا رہتا ہوں۔ شام کے وقت دوگھنٹے کے لیے کام کرنابند کر دیتا ہوں اور ریت پر چہل قدمی کرنے کے لیے نکل جاتا ہوں۔
شروع میں دو دن سمندر کے کنارے سے ہوتا ہوا میں مغرب کی طرف گیا، تیسرے دن سوچا مشرق کی طرف بھی جانا ضروری ہے۔ ریت پر پرانے زمانے کے ٹوٹے پھوٹے گھر عجیب سے ہیں۔ مسٹرایراٹُن نے بتایا تھا کہ یہ گھر تین چار سو سال پرانے ہیں۔ کسی زمانے میں گوپال پور ولندیزیوں کی چوکی تھا۔ان مکانوں میں سے زیادہ تر اسی زمانے کے ہیں۔ دیواروں کی اینٹیں چپٹی اور چھوٹی چھوٹی ہیں، دروازے اور کھڑکیوں کی جگہ پر صرف دراریں رہ گئی ہیں اور چھت کے نام پر چھاؤنی کے بجاے کھلی جگہ ہی زیادہ ہے۔ میں نے ایک گھر کے اندر داخل ہوکر دیکھا اور وہاں سناٹے کا عالم پایا۔
پورب کی طرف کچھ دور جانے پر دیکھا، ایک جگہ ریتیلا حصہ کافی چوڑا ہے۔ اس کی وجہ سے شہر سمندر سے بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ قریب قریب پوری جگہ تقریباً سو ترچھی پڑی ناؤوں سے بھری ہوئی ہے۔ سمجھ گیا کہ مچھیرے انھیں ناؤوں کو لے کر سمندر میں مچھلی پکڑنے نکلتے ہیں۔ دیکھا، مچھیرے جہاں تہاں جمع ہوکر اڈّے بازی کر رہے ہیں، ان کے بچے پانی کے پاس جاکر کیکڑے پکڑ رہے ہیں ، چار پانچ سؤراِدھراُدھر چکر لگا رہے ہیں۔
اسی بیچ ایک الٹی پڑی ناؤ پر دو بنگالی حضرات بیٹھے ہوے نظر آئے۔ ایک صاحب کی آنکھوں پر چشمہ ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے اخبار کو ہوا کے جھونکے کے بیچ موڑنے میں پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔ دوسرے صاحب اپنے ہاتھوں کو سینے کے پاس رکھ کر بغیر پلک جھپکے سمندر کی طرف دیکھتے ہوے بیڑی کا کش لے رہے ہیں۔ میں جیسے ہی ان کے قریب پہنچا، اخبار والے صاحب نے تعارف حاصل کرنے کے انداز میں پوچھا، ’’آپ یہاں نئے نئے آئے ہیں؟‘‘
’’ہاں... دو دن...‘‘
’’صاحبی ہوٹل میں ٹھہرے ہیں؟‘‘
میں نے مسکرا کر کہا ، ’’آپ لوگ یہیں رہتے ہیں؟‘‘
اب وہ اخبار کو سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔ بولے،’’میں یہیں رہتا ہوں۔ چھبیس برسوں سے گوپال پور میں ہی۔نیوبنگال میرا ہی ہوٹل ہے۔ مگر ہاں، گھنشیام بابو آپ ہی کی طرح آب و ہوا بدلنے آئے ہیں۔ ‘‘
میں نے کہا،’’اچھا،‘‘ او ربات چیت کا سلسلہ ختم ہونے کی طرف بڑھنے لگا، تبھی بھلا آدمی ایک دوسرا ہی سوال پوچھ بیٹھا، ’’اُدھر کہاں جارہے ہیں؟‘‘
’’یوں ہی، ذرا گھوموں گا،اور کیا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
بھاری مصیبت میں پھنسا! کیوں گھومنے جارہاہوں، یہ بھی ان کو بتانا ہوگا!
تب تک وہ کھڑے ہوچکے تھے ۔ روشنی آہستہ آہستہ پھیکی پڑتی جارہی ہے۔ آسمان کے شمالی اور مغربی حصے میں بادل کا ایک سیاہ چکتّاآہستہ آہستہ پھیلتا جارہا ہے۔ آندھی آئے گی کیا؟
بھلے آدمی نے کہا، ’’ایک آدھ سال پہلے کچھ کہا نہیں جاسکتاتھا۔ اس وقت ایسی حالت تھی کہ جہاں مرضی ہو آدمی گھوم پھرسکتا تھا۔ پچھلے ستمبر سے مشرق کی طرف ، مچھیروں کی بستی سے ایک آدھ میل دور، ایک آدمی ڈیرا ڈنڈی ڈالے بیٹھ گیا ہے۔ ان ٹوٹے پھوٹے مکانوں کو دیکھ رہے ہیں نا؟ ٹھیک ویسا ہی ایک مکان ہے۔ میں نے اس مکان کو نہیں دیکھا ہے ۔ یہاں کے پوسٹ ماسٹر مہاپاترا نے بتایا کہ اس نے دیکھا ہے۔‘‘
میں نے کہا ، ’’سادھو سنیاسی قسم کا آدمی ہے کیا؟‘‘
’’بالکل نہیں!‘‘
’’پھر؟‘‘
’’وہ کیا ہے، معلوم نہیں۔ مہاپاترا نے بتایا ہے کہ مکان کے ٹوٹے پھوٹے حصے کو ترپال سے ڈھک رکھا ہے۔ اندر کیا کرتا ہے، کسی کو بھی اس کا پتا نہیں۔ مگر ہاں، چھت کے ایک چھید سے بینگنی رنگ کا دھواں نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مکان میں نے نہیں دیکھا ہے مگر اس آدمی کو دو بار دیکھ چکا ہوں۔ میں اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا اور وہ میرے سامنے سے پیدل جارہا تھا۔ ہرے رنگ کا کوٹ پتلون پہنے تھا۔ داڑھی مونچھ نہیں ہے، لیکن سر پر گھنے بال ہیں۔ چہل قدمی کرتا ہوا منھ ہی منھ میں کچھ بڑبڑا رہاتھا۔ یہاں تک کہ ایک بارزور سے ہنستے ہوے بھی دیکھا۔ میں نے باتیں کیں مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ یاتو بدمزاج ہے یا پھر پاگلـ شاید بدمزاج اور پاگل دونوں۔ اس کے پاس ایک نوکر بھی ہے۔ وہ سویرے کے وقت بازار میں دکھائی دیتا ہے۔ اتنا ہٹاکٹا کوئی دوسرا آدمی میں نے نہیں دیکھا ہے، صاحب۔ اس کے سر کے بال چھوٹے چھوٹے ہیں، لمبا چوڑاچہرہ، بہت کچھ سؤرجیسا۔ یا تو وہ گونگا ہے یا پھر منھ بند کیے رہتا ہے۔ سامان خریدتے وقت بھی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکالتا۔ دکاندار کو ہاتھ کے اشارے سے بتادیتا ہے۔ مالک چاہے جیسا ہو، لیکن ویسا نوکر جس گھر میں ہے، وہاں نہ جانا کیا عقل مندی کا کام نہیں ہے؟‘‘
گھنشیام بابو بھی تب تک اٹھ کر کھڑے ہوچکے تھے۔ بیڑی کو ریت پر پھینک کربولے، ’’چلیے صاحب۔‘ ‘دونوں آدمی جب ہوٹل کی طرف روانہ ہونے لگے تومنیجر بابونے بتایاکہ ان کا نام رادھا وِنود چٹرجی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے ہوٹل میں آنے کا اصراربھی کیا۔
جاسوسی ناولوں کا ترجمہ کرتے کرتے پراسرار باتوں کے تئیں میرے دل میں جو ایک فطری رجحان پیدا ہوگیا ہے، یہ بات نیوبنگالی ہوٹل کے منیجر صاحب کو معلوم نہیں تھی۔ میں نے گھر لوٹنے کی بات سوچی ہی نہیں، بلکہ مشرق کی طرف ہی بڑھتا گیا۔ابھی بھاٹے کا وقت ہے۔ سمندر کاپانی پیچھے کی طرف چلا گیا ہے۔ جوار بہت ہی کم آرہے ہیں۔ کنارے کی جس جگہ پرلہریں جھاگ اُگل رہی ہیں، وہاں کچھ کوّے پھدک رہے ہیں۔ جھاگوں کا انبار سرسراتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ فوراً ہی جھاگ کے بلبلوں کو چونچ مارکر کوّے جیسے کچھ کھانے لگتے ہیں۔ مچھیروں کے گاؤں کو پار کرنے کے بعد تقریباً دس منٹ تک میں آگے کی طرف چلتاگیا۔ بھیگی ریت پرایک چلتی ہوئی لال چادر دیکھ کر شروع میں چونک اٹھا ۔ قریب جانے پر پتاچلا کہ یہ کیکڑوں کی ایک فوج ہے جو پانی ہٹ جانے کی وجہ سے جھنڈ بناکر اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پانچ منٹ تک چلنے کے بعد اس مکان پر نگاہ پڑی۔ ترپال کے گھیرے کی بات پہلے ہی سن چکاتھا، اس لیے پہچاننے میں پریشانی نہیں ہوئی۔ لیکن قریب جانے پر دیکھا،وہاں صرف ترپال ہی نہیں ہے؛ بانس،لکڑی کے تختے، زنگ آلود ٹین، یہاں تک کہ پیسٹ بورڈ کے ٹکڑے بھی مکان کی مرمت کے کام میں لائے گئے ہیں۔ دیکھ کر لگا، اگر چھت میں سوراخ کرتے ہوے برسات کاپانی اندر گرتا ہے تو کسی آدمی کے لیے اس مکان میں رہنا ممکن نہیں ہے۔ مگر وہ آدمی ہے کہاں؟
کچھ دیر تک وہاں کھڑا رہنے کے بعد مجھے لگا ، وہ آدمی اگر نیم پاگل ہے اور اس کے پاس سچ مچ ہی ایک لمبا تڑنگانوکر ہے، تو میں جس تجسس کے ساتھ اس مکان کی طرف دیکھ رہا ہوں، میرا یہ دیکھنا عقلمندی کا کام نہیں ہے۔ اس سے تو اچھا یہی ہوگا کہ یہاں سے تھوڑی دور ہٹ کر اکتائے ہوے انداز کے ساتھ چہل قدمی کرتا رہوں۔ اتنی دور جب آہی چکا ہوں تو پھر اسے بغیر دیکھے کیسے چلا جاؤں؟
میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایسا لگا جیسے گھر کے سامنے کے دروازے کی درار کے پیچھے تاریکی میں کوئی چیز حرکت کر رہی ہے۔ اس کے بعد ایک ناٹا آدمی باہر آیا۔ یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہی آدمی اس مکان کامالک ہے اور یہی تاریکی کافائدہ اٹھاکر کچھ دیر سے میری نگرانی کر رہا تھا۔
’’آپ کے ہاتھ میں چھ انگلیاں دیکھ رہا ہوں! ہی ہی!‘‘ اچانک مہین سی آواز سنائی دی۔
بات صحیح ہےـ میرے ہاتھ میں انگوٹھے کے پاس ایک زیادہ انگلی میری پیدائش سے ہی ہے، جس سے میں کوئی کام نہیں لیتا ہوںـ لیکن اس آدمی نے اتنی دور سے اسے کیسے دیکھ لیا؟
جب وہ بالکل پاس چلاآیا تو دیکھا، اس کے ہاتھ میں پرانے زمانے کی ایک آنکھ سے دیکھی جانے والی دوربین ہے اور اسی لیے وہ بے خوف میراجائزہ لے رہا ہے۔
’’دوسری انگلی یقیناًانگوٹھا ہی ہے۔ ہے نا؟ ہی ہی!‘‘ اس آدمی کے گلے کی آواز بہت مہین ہے۔ اتنی عمر کے کسی آدمی کی آواز اس طرح کی میں نے کبھی نہیں سنی تھی۔
’’آئیے باہر کیوں کھڑے ہیں؟‘‘
اس کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا۔ رادھا ونود بابو کی باتوں سے اس آدمی کے بارے میں میں نے کچھ اور ہی اندازہ کیا تھا۔ لیکن اب دیکھنے میں آیا کہ بہت ہی خوش مزاج ہے اور شائستہ بھی۔
ابھی وہ مجھ سے تقریباً دس ہاتھ کی دوری پر ہے۔ شام کے دھندلکے میں اسے صاف صاف نہیں دیکھ پارہاتھا، حالانکہ دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا۔ لہٰذا اس کے اصرار کو ٹال نہ سکا۔
’’ذراہوشیاری سے! آپ لمبے آدمی ہیں اور میرا دروازہ چھوٹا...‘‘
جھک کر اپنے سر کو بچاتے ہوے میں اس کے گھر میں داخل ہوا۔ ایک پرانی سوندھی خوشبو کے ساتھ سمندر کی نمی سے بھری ایک خوشبواورایک اجنبی خوشبو مل جل کر اس پنچ میل پیونددار مکان سے ہم آہنگ ہوتی محسوس ہوئی۔
’’بائیں طرف آئیے۔ داہنی طرف میرا...ہی ہی... کام دھندے کا کمرہ ہے۔‘‘
داہنی طرف سے دروازے کی درار کی طرف دیکھا، وہ لکڑی کے ایک بڑے تختے سے مضبوطی سے بند تھا۔ ہم بائیں طرف کی کوٹھری کے اندر چلے آئے۔ اسے بیٹھک کہا جاسکتا ہے۔ ایک کونے میں لکڑی کی ایک میز پر کچھ موٹی کاپیاں، تین قلم، دوات، گوند کی شیشی اورایک قینچی پڑی ہوئی ہے۔ میز کے سامنے ایک زنگ آلود ٹین کی کرسی، ایک کنارے اُلٹ کر رکھا ہوا ایک پیکنگ کیس اور کوٹھری کے بیچوں بیچ ایک بڑی کرسی۔ اس آخری شے کو کسی راج محل کی بیٹھک میں رہنا چاہیے تھا۔ قیمتی لکڑی پر بہت ہی خوبصورت نقاشی ہے، بیٹھنے کی جگہ پر گہرے لال رنگ کی مخمل ہے جس پر بیل بوٹوں کی کشیدہ کاری ہے۔
’’آپ اس بکسے پر بیٹھ جائیے، میں کرسی پر بیٹھتاہوں۔‘‘
بس یہیں سے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ یہ آدمی اگر قطعی پاگل نہیں ہے تو کم سے کم بے ہودہ اور بے کار تو ضرور ہی ہے۔ ایسانہ ہو تو کہیں ایک باہری آدمی کواپنے گھر کے اندر بلاکر پیکنگ کے بکسے پر بٹھائے اور خود تخت پر براجمان ہوجائے؟لیکن کھڑکی کے ترپال کے سوراخ سے آتی ہوئی شام کی روشنی میں اس کی آنکھوں میں پاگل پن کی کوئی جھلک نہیں دکھ رہی ہے۔ بلکہ بچے کی سی خوشی کا ایک جذبہ تیر رہا ہے اور اس سے اس آدمی کے بے ہودگی سے بھرے اصرار کے باوجود اس کے چہرے پر مکروہ پن کی چھاپ نہیں پڑی ہے۔ میں پیکنگ کیس پر بیٹھ گیا۔
’’کہیے،‘‘ اس نے کہا۔
کیا کہوں؟ دراصل میں کچھ کہنے نہیں آیا ہوں، صرف دیکھنے ہی آیا ہوں، اس لیے جب اس نے جھٹ سے کہا تو میں کشمکش میں پڑ گیا۔ آخر کار جب کوئی دوسرا خیال دل میں نہیں آیا تو میں نے اپنا تعارف ہی کرادیا۔
’’میں چھٹیوں میں کلکتہ سے آیاہوں۔ میں، یعنی... کہنے کامطلب ہے کہ رائٹر ہوں۔ میرا نام ہے ہمانشوچودھری۔ اس طرف گھومنے آیاتھا کہ آپ کے مکان پر نظر پڑ گئی...‘‘
’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔مگر ہاں، میرا کوئی نام نہیں ہے۔‘‘
پھر پر اسرار بات! ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی نام ہوتا ہی ہے، پھر اسے مستثنیٰ کیوں مان لیا جائے؟ یہ پوچھتے ہی بھلے آدمی نے نام کے بارے میں تقریر کر ڈالی۔ اس کا دور جب ختم ہوا تو مجھے خاموش پاکر وہ مسکراتا ہوا بولا:
’’میری باتیں شاید آپ کو پسند نہیں آئیں۔ پھر آپ سے ایک بات کہوں، میں نے دل ہی دل میں اپنا ایک نام رکھ چھوڑا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ یہ نام کسی کو بتایا نہیں ہے، مگر آپ کی چونکہ چھ انگلیاں ہیں، اس لیے آپ کوبتانے میں کوئی ہرج نہیں۔‘‘
میں اس بھلے آدمی کی طرف دیکھتا رہا۔ کمرے کی روشنی آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے۔ نوکر کیوں نہیں دکھائی دے رہا ہے؟ کم سے کم موم بتی یا مٹی کے تیل کی ڈبیا ہی اس وقت رکھنا ہی چاہیے تھی۔
بھلے آدمی نے اپنا سر گھماکر کہا، ’’آپ نے میرے کانوں کو غور سے دیکھا ہے؟‘‘
اب تک میں نے غور نہیں کیا تھا، اب آنکھیں اس طرف گئیں تو چونک پڑا۔
کسی انسان کے اس طرح کے کان میں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اوپری حصہ گول کے بجاے نکیلا ہےـ ٹھیک ویسے جیسے سیار یا کتّے کے ہوا کرتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟
کان دکھانے کے بعد وہ میری طرف گھوما اور ایک عجیب حرکت کر بیٹھا۔ اپنے سر کے بالوں کوایک بار زور سے جھٹکا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بال کھل کر ہاتھ میں آگئے۔ میں نے حیرت سے دیکھا، کھوپڑی اور کنپٹی کے علاوہ کہیں بالوں کانام و نشان نہیں ہے۔ اس نئے چہرے اور جھلکتی ہوئی آنکھوں میں شرارت بھری ہنسی دیکھ کر میرے منھ سے اچانک ایک نام نکل گیا:
’’ہج بج بج!‘‘
’’درست!‘‘ بھلے آدمی نے تالیاں بجائیں اور کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ ’’آپ چاہیں تو تصویر سے ملاکر دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
’’ضرورت نہیں ہے،‘‘ میں نے کہا، ’’ہج بج بج کا چہرہ بچپن سے ہی دل میں بسا ہوا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے! آپ چاہیں تو خوشی سے اس نام کواستعمال کرسکتے ہیں ۔ اگر نام سے پہلے ’پروفیسر‘ لفظ جوڑ دیں تو اور اچھا رہے۔ مگر ہاں، یہ بات کس سے بتائیے گا نہیں۔ اگر بتادیا تو ... ہی ہی ...ہی ہی...!‘‘
اب پہلی بار مجھے ذرا ڈر کا احساس ہوا۔ یہ آدمی یقیناًپاگل ہے یا پھر بے ہودہ قسم کا سنکی۔ ایسے لوگوں کو برداشت کرنا مشکل ہے۔ ہروقت یہی سوچ کر خاموش رہنا پڑتا ہے کہ کیا کروں، کیا نہ کروں، کیا بولوں، کیا نہ بولوں۔
ہم دونوں ایک ساتھ رہ کر بھی خاموش رہیں یہ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے میں نے کہا ، ’’آپ کے کان کے نکیلے حصے کا رنگ کچھ دوسری ہی طرح کا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
’’ یہ تو ہوگا ہی،‘‘ اس آدمی نے کہا ، ’’وہ میرا اپنا نہیں ہے۔پیدائش کے وقت میرے کان اس طرح کے نہیں تھے۔‘‘
’’پھر کیا آپ کے کان بھی آپ کے بالوں کی طرح نقلی ہیں؟ کھینچتے ہی کھل جائیں گے؟‘‘
بھلے آدمی نے اسی طرح کھلکھلاکر کہا، ’’بالکل نہیں۔نہیں، نہیں ،نہیں!‘‘
ہاں، یہ آدمی ضرور ہی پاگل ہے۔’ ’پھر وہ کیا چیز ہے؟‘‘ میں نے پوچھا ۔
’’ٹھہریے، پہلے اپنے نوکر سے آپ کا تعارف کرادوں۔اسے بھی شاید آپ پہچان لیں گے۔‘‘
اب تک میں نے غورنہیں کیا تھا۔ پتا نہیں کب ایک دوسراآدمی پیچھے کے دروازے سے وہاں آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کی ایک ڈبیا تھی۔ یہ وہی نوکر ہے جس کے بارے میں رادھا ونود بابو نے بتایاتھا۔
بھلے آدمی نے جب تالی بجائی تو وہ کمرے کے اندر چلاآیا اور مٹی کے تیل کی ڈبیا میز پر رکھ دی۔ حقیقت میں کبھی اس طرح کا لحیم شحیم آدمی میں نے دیکھا ہو، ایسا یاد نہیں آتا۔ اس آدمی کے بدن پر ایک دھاری دار قمیص ہے اور وہ چھوٹے گھیر ے کی دھوتی پہنے ہے۔ پاؤں اور ہاتھ کی ہڈیاں، کلائی کاگھیرا، سینے اور گردن کی چوڑائی دیکھ کر حیران رہ جانا پڑتا ہے۔ حالانکہ اس آدمی کی لمبائی پانچ فٹ اور دویا تین انچ سے زیادہ نہ ہوگی۔
’’میرے نوکر کو دیکھ کر آپ کو کسی کی بات یاد آرہی ہے کیا؟‘‘ ہج بج بج نے پوچھا۔
وہ ڈبیا رکھ کر اپنے مالک کے حکم کا انتظار کر رہا ہے۔ ایک آدھ پل اس کی طرف دیکھنے کے بعد یاد آگیاکہ یہ چہرہ کس سے ملتا تھا۔ میں نے بے چین ہوکر کہا ۔ ’’ارے یہ تو ششٹھ چرن ہے‘‘۔
’’آپ نے بالکل صحیح بات کہی!‘‘ بھلا آدمی خوشی کے مارے بیٹھے بیٹھے ہی ناچنے لگا۔’’اتنا ضرور ہے کہ اس کا وزن انسٹھ من نہیں، بلکہ ساڑھے تین من سے کچھ ہی زیادہ ہوگاـکم سے کم 1967 میں تو اتنا ہی تھا۔ ہاتھی اٹھانے کی بات تو معلوم نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ روز سویرے دو بڑے بڑے سؤروں کو پکڑ کر اٹھاتا رہتا ہے۔ یہ واقعہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ میری یہ جو کرسی ہے، اسے بھی وہ ایک ہی ہاتھ سے اٹھاکر لے آیا ہے۔‘‘
’’کہاں سے؟‘‘
’’ہی ہی ہی... یہ بات مت پوچھیے ۔ جاؤ ششٹھ، ہم لوگوں کے لیے دو ڈاب لے آؤ۔‘‘
ششٹھ تعمیل حکم کے لیے چلا گیا۔
باہر بادل گرج رہے ہیں۔ ہوا کے ایک جھونکے سے ترپال کھڑکھڑانے لگے۔ اب اگر یہاں سے اٹھ کر نہیں جاتا ہوں تو مصیبت میں پھنسناہوگا۔
’’آپ میرے کانوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے نا؟‘‘ بھلے آدمی نے کہا، ’’اصل میں وہ اودبلاؤ کے کانوں اور اصلی کانوں کو ملاکر بنائے گئے ہیں۔‘‘
اس کی بات پر مجھے ہنسی آگئی۔ میں نے پوچھا، ’’انھیں ملایا کیسے؟‘‘
بھلے آدمی نے کہا ، ’’کیوں، اس میں حیرانی کی کون سی بات ہے؟ ایک آدمی کادل جب دوسرے آدمی میں لگادیا جاتا ہے، تو جانور کے آدھے کان کو آدمی کے کان کے اوپر نہیں لگایاجاسکتا؟‘‘
’’آپ شروع میں کیا ڈاکٹری کرتے تھے؟...پلاسٹک سرجری ٹائپ کا کچھ؟‘‘
’’با ت تو صحیح ہے... کرتا تھا نہیں، بلکہ اب بھی کرتاہوں ... ہی ہی...ہی ہی... مگر ہاں، وہ کوئی معمولی سرجری نہیں ہے۔ مثلاً آپ اپنے انگوٹھے کو ہی لیں۔ اگر وہ نہ ہوتا تو ضرورت پڑنے پر اسے لگا دینا میرے لیے بالکل آسان کام تھا۔‘‘
میں نے بہت کوشش کی کہ اس آدمی کا تصور ایک بڑے ڈاکٹر کے روپ میں کروں، مگر کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ حالانکہ کانوں کو غور سے دیکھنے پر وہ بہت عجیب لگ رہے تھے، لیکن کس صفائی سے جوڑا گیا ہے کہ کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا۔
بھلے آدمی نے کہا ، ’’ڈاکٹری اور سائنس کی کتابوں کے علاوہ میں نے صرف دو ہی چیزیں پڑھی ہیں: اوٹ پٹانگ ، اور ح۔ش۔د۔ل۔1 اور دونوں میں ہی جو چیزیں مجھے سب سے اچھی لگیں وہ ہیں اس طرح کی مخلوقات جنھیں لوگ عجیب اور بے ڈھب کہاکرتے ہیں۔ عام باتوں سے ماورا اگر کچھ ہو یا کچھ کیا اور کہا جائے تو لوگ اسے پاگل پن اور عجیب کہہ کر کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ جانتے ہیں، میں بچپن میں موم بتی چوس کر کھاتا تھا۔ کھانے میں بہت ہی اچھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اتنی مکھیوں کو پکڑپکڑ کر میں کھاچکا ہوں کہ ان کا کوئی شمار ہی نہیں۔‘‘
ششٹھی چرن ڈاب لے آیا، اس لیے بھلے آدمی کو کچھ پلوں تک خاموش رہنا پڑا۔ دو غلاف چڑھے گلاسوں کو میز پر رکھ کر اس نے سلسلہ وار دونوں ڈابوں کو اپنی ہتھیلیوں سے دبایا۔ وہ فوراً ٹوٹ گئے اور ان کا پانی گلاسوں کے اندر گرپڑا۔ ششٹھی چرن نے گلاس ہماری طرف بڑھا دیے۔
پانی کا گھونٹ لے کر بھلے آدمی نے کہا ، ’’ڈاکٹری پڑھ کر میں نے پلاسٹک سرجری میں مہارت حاصل کرلی۔ جانتے ہیں کیوں؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ میرا تجسس بڑھتا جارہا تھا، اور وہ اس لیے کہ میں جاننا چاہتاتھاکہ اس بھلے آدمی کی تخیل کی پرواز کہاں تک ہے۔
ہج بج بج نے کہا ،’’ کیونکہ صرف تصویروں سے ہی میرے دل کو تسلی نہیں ملتی تھی۔ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اس طرح کے جانور اگر حقیقت میں ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ یہ سب مخلوقات کہیں نہ کہیں ہیں، اس بات پر میرے دل میں کوئی شک نہیں تھا۔ مگر میں چاہتاتھا وہ میرے گھر پر رہیں، میرے ہاتھ کے بالکل قریب، آنکھوں کے سامنے، سمجھے؟‘‘
میں نے کہا، ’’نہیں صاحب، بات سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ کون سی مخلوقات کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’یہی جیسے بگلا، گرگٹ یا ہنس۔‘‘
میں نے کہا، ’’سمجھ گیا، اس کے بعد؟‘‘
’’اس کے بعد اور کیا؟ میں نے گرگٹ سے شروعات کی۔ دونوں چیزیں میرے ہاتھ کے قریب ہی تھیں۔ طوطے کا ماتھا اور گرگٹ کی دُم، ٹھیک اسی طرح جس طرح کتاب میں ہے۔ پہلی کوشش میں ہی کامیابی حاصل ہوگئی۔ ایساجوڑ دیا کہ باہر سے کچھ معلوم ہی نہ ہوسکے۔ مگر جانتے ہیں...‘‘
بھلا آدمی سنجیدہ ہوکر ایک پل خاموش بیٹھا رہا۔ اس کے بعد بولا ، ’’زیادہ دن تک زندہ نہیں رہا۔ کچھ کھاتا ہی نہ تھا۔ بغیر کھائے زندہ کیسے رہے گا؟ اصل میں جو لکھا ہوا ہے، وہی ٹھیک ہے۔ بدن سے بدن ملنے پر بھی دل آپس میں نہیں مل پاتے۔ اس لیے اب دھڑ اور سر کو جوڑناچھوڑ کرایک دوسرا تجربہ کر رہا ہوں۔‘‘
وہ اچانک بے دل سا ہوگیا۔ میری تقدیر اچھی ہے کہ ڈاب کا پانی ہی پینے کے لیے دیا ہے۔ اگر چائے بسکٹ ہوتا تو منھ کے اندر رکھنے کی ہمت نہ ہوتی۔
ششٹھی چرن کہاں چلا گیا، معلوم نہیں۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ آواز ہورہی ہے۔ یہ آواز جس طرف سے آرہی ہے، اس سے یہی لگ رہا ہے کہ بھلے آدمی نے جسے اپنے کام دھندے کا کمرہ بتایاتھا ، اسی کے دروازے کھولے جارہے ہیں۔
باہر تیز ہوا چل رہی ہے۔ بادلوں کی گڑگڑاہٹ اچھی نہیں لگ رہی ہے۔ اب بیٹھنا مناسب نہیں ہے۔ بھلے آدمی کاشکریہ ادا کر کے میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’چل دیے ؟ آپ سے ایک بات پوچھنا تھی...‘‘
’’کہیے...‘‘
’’جانتے ہیں بات کیا ہے؟ سارا انتظام کرچکا ہوںـ سیہی کا کانٹا، بکرے کا سینگ، شیر کے پیچھے کے دو پیر، بھالو کے بال لے آیا ہوں، لیکن آدمی کاتھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے، اور وہ بھی ایسا ہونا چاہیے جو تصویر سے ملتا جلتا ہو۔ ایسے آدمی پر اگر آپ کی کبھی نگاہ پڑی ہو تو بتانے کی زحمت کریں۔‘‘
یہ کہہ کر بھلے آدمی نے اپنی میز پر رکھی کاپیوں کے نیچے سے پرانے زمانے کا اوٹ پٹانگ کا شمارہ نکال کر ایک ورق پلٹا اور اسے میرے سامنے رکھ دیا۔ یہ تصویر میری دیکھی ہوئی ہے۔ ہاتھ میں مُدگر لیے ایک عجیب مخلوق ایک بھاگتے ہوے آدمی کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔
’’ڈرو نہیں تم ڈرو نہیں بھئی، ماروں گا میں تمھیں نہیں
’’کشتی میں تم کو پچھاڑ دوں طاقت اتنی مجھ میں نہیں...‘‘
’’بتائیے اگر ایسا بنا سکوں تو کتنااچھا رہے۔ کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ توڑنا ،جوڑنا جو کچھ تھاسب ہوچکا ہے، نیچے کی طرف تھوڑا سا حصہ جوڑ بھی چکا ہوں، اب صرف اسی طرح کے ایک آدمی کی ضرورت ہے۔‘‘
میں نے کہا ، ’’اتنی گول گول آنکھیں آدمی کی کہاں ہوتی ہیں؟‘‘
’’ہاں ہوتی ہیں!‘‘ بھلا آدمی تقریباً اچھل پڑا۔ ’’آنکھیں تو گول ہی ہوتی ہیں۔ پپوٹوں سے چونکہ گولائی کا زیادہ حصہ ڈھکا رہتا ہے اس لیے اتنی گول معلوم نہیں ہوتی ہیں۔‘‘
میں دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ پاگل تو ہے ہی، اس کے علاوہ جلدی چھٹکارا دینے والا انسان بھی نہیں ہے۔الفاظ کابھی اس کے پاس ذخیرہ ہے۔
’’ٹھیک ہے، پروفیسر ہج بج بج ،کسی پر نگاہ پڑی تو بتاؤں گا۔‘‘
’’ ضرور بتائیے گا۔ بڑا آسان ہوگا۔ میں بھی تلاش کر رہا ہوں۔ ‘‘
’’آپ کہاں ٹھہرے ہوے ہیں؟‘‘
آخری سوال کو نہ سننے کا بہانہ بناکر میں تاریکی میں چلا آیا۔ باہر آتے ہی میں دوڑنے لگا۔ بھیگنے میں مجھے پریشانی نہیں ہے، مگر آندھی میں ریت اڑ رہی ہے، اور وہ ناک اور آنکھوں میں داخل ہوکر بہت ہی پریشان کر رہی ہے۔
ہاتھوں سے منھ کو چھپائے کسی طرح آنکھوں کو بچاتے ہوے جب ہوٹل پہنچا تو بارش شروع ہوچکی تھی۔
کمرے میں پہنچ کر جب بٹن دبایا تو بتی نہیں جلی۔ برآمدے میں جاکر بیرے کو پکارنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ بیراموم بتی لیے میرے کمرے کی طرف آرہاتھا۔ جب میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے، تو اس نے بتایا زیادہ آندھی پانی میں گوپال پور میں بجلی کا جانا ایک عام بات ہے۔
آٹھ بجے کھانا کھاکر جب میں پلنگ پر بیٹھ کر ٹمٹماتی روشنی میں لکھنے بیٹھا تو دل نہیں لگا۔ دل باربار دوڑ کر پروفیسر ہج بج بج کی طرف جانے لگا۔ تین سو سال پرانے مکان کو جیسے تیسے مرمت کرنے کے بعد (یہاں بھی اوٹ پٹانگ کی ’تھل تھل‘ کی یاد آتی ہے) یہ آدمی وہاں کیسے رہتا ہے؟ قطعی پاگل کے سوا ایسا کوئی کرسکتا ہے؟ اور ششٹھی چرن؟ سانڈ جیسے اس نوکر کا اس نے کہاں سے انتظام کیا؟ واقعی کیا مشرق کی طر ف کے اس بند کمرے میں وہ کچھ حیرت انگیز کام کرتا ہے؟ اس کی باتوں میں کہاں تک سچائی ہے؟ اس کی پوری بات کو اس کا پاگل پن کہہ کر اُڑایا جاسکتا تھا، مگر ان کانوں کو دیکھنے کے بعد گڑبڑ پیدا ہورہی ہے۔ ان کانوں کو نہ صرف صفائی کے ساتھ جوڑا گیا ہے ، بلکہ آتے وقت ڈبیا کی روشنی میں دیکھا تھا کہ ایک کان کے نکیلے حصے میں پھپھولا بھی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ وہ کا ن جسم کا ہی حصہ ہے اور جسم کے باقی حصوں کی طرح وہاں بھی رگیں اور اعصابی نظام ہیں۔ وہاں بھی خون کا بہاؤ ہوتا ہے۔
واقعی، جتناسوچتاہوں، اتنا ہی دل چاہتا ہے کہ وہ کان نہ ہوتے تو میں راحت کی سانس لیتا۔
دوسرے دن صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھ کر دیکھا، رات میں ہی بدلی چھٹ گئی ہے۔ چائے پینے بیٹھا تو ہج بج بج کی باتیں یاد آئیں اور جی چاہا کہ ہنس پڑوں۔ معمولی سی بات ہےـہلکے اندھیرے میں، ڈبیا کی روشنی میں جو کچھ دیکھا اس کا آدھا ہی حصہ دکھائی دیاتھا اور آدھے کا میں نے تصور کرلیا۔ ہوٹل میں لوٹنے پر بھی اسی طرح کا اندھیرا ملاتھا، اس لیے دل کے وہم کو دور کرنے کا موقع نہیں ملا۔ آج ریت پر صبح کی دھوپ اور خاموش سمندر کی شکل دیکھ کر مجھے لگا کہ وہ آدمی پاگل کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
پاؤں کے نیچے ، ایڑی کے پاس تھوڑا درد محسوس ہورہاتھا۔ غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ ایک جگہ کانٹے کا نشان ہے۔ سمجھ گیا کہ کل اندھیرے میں جب میں ریت میں دوڑتا ہوا واپس آرہا تھا تو سیپ جیسی کوئی چیز چبھ گئی ہوگی۔ اپنے ساتھ میں ڈیٹول یا آیوڈین نہیں لایا تھا، اس لیے نو بجنے پر بازار کی طرف روانہ ہوگیا۔
نیوبنگالی ہوٹل کے سامنے سے سڑک بازار کی طرف گئی ہے۔ ہوٹل کے سامنے، برآمدے پرگھنشیام بابو کو ایک پھیری والے سے مونگالے کر الٹتے پلٹتے دیکھا۔ میرے قدموں کی آہٹ سن کر انھوں نے سراٹھا کر میری طرف دیکھا اور ان کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میرا کلیجا کانپ گیا۔
یہ چہرہ تو ویسا ہی ہے جیسا کہ اوٹ پٹانگ میں تھا۔ پاگل ہج بج بج اسی چہرے کی تلاش میں ہے ـ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح چپٹی ناک کے دونوں طرف پھیلی ہوئی لمبی پکی مونچھیں ہیں، لمبے گلے کے دونوں طرف تصویر کی طرح ہی باہر نکلی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ ٹھوڑی کے نیچے کی بکری جیسی پتلی داڑھی بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ اصل میں کل اس آدمی کی حرکات و سکنات مجھے پسند نہیں آئی تھیں اور اسی وجہ سے میں نے اس کے چہرے کو بغور نہیں دیکھا تھا۔ آج ہم لوگوں کی آنکھیں ملیں اور میں نے نمسکار بھی کیا، مگر اس نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ بڑا ہی عجیب لگا۔
پھر بھی مجھے اس آدمی کی فکر ہوئی۔ اُس پاگل کے سپر د اسے نہیں کیاجاسکتا ۔ ہج بج بج یا اس کا نوکر اگر اسے دیکھ لے تو ضرور ہی بغل میں دبا کر اس ٹوٹے مکان کے اندر لے جائے گا اور اس کے بعد اس کی کیا حالت ہوگی، یہ بھگوان ہی بہتر جانتا ہے۔
سوچا بازار سے لوٹتے وقت ایک بار رادھا ونود بابو سے ملوں گا اور ساری باتیں کھل کر کہوں گا۔ انھیں ہوشیار کردوں گا کہ اپنے ہوٹل کے اس واحدمہمان پر نظر رکھے رہیں۔
مگر ڈیٹول خریدتے وقت یہ خیال میرے دل سے خود بخود دور ہوگیا ۔ رادھا ونود بابو سے مجھے عجیب عجیب باتیں کہنا ہوں گی، اور کیا وہ ان باتوں پر یقین کریں گے؟ ایسا لگتا نہیں۔ یہاں تک کہ ان باتوں کو سن کر مجھے پاگل قرار دیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی بات نہ مان کر میں جو ہج بج بج کے پاس گیا تھا، یہ بات انھیں پسند نہیں آئے گی۔
لوٹتے وقت گھنشیام بابو پر جب دوبارہ نظر پڑی تو مجھے لگا، میری نظر میں جس آدمی کا چہرہ تصویر سے ملتاجلتا ہے،ہج بج بج کے خیال میں ویسا نہیں بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے ڈر کی جتنی وجہ محسوس ہورہی ہے، ہوسکتا ہے اصل میں اتنی نہ ہو۔ اس لیے عقلمندی اسی میں ہے کہ ان لوگوں سے کچھ نہ کہوں اور پروفیسر کو بھی کچھ نہ بتاؤں۔ اب میں صرف مغرب کی طرف ہی گھومنے پھرنے جاؤں گا اور باقی وقت ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر لکھنے کا کام کرتا رہوں گا۔
ہوٹل آتے ہی بیرے نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی مجھ سے ملنے آیاتھا۔ مجھ سے ملاقات نہ ہونے پر وہ ایک خط لکھ کر رکھ گیا ہے۔
بہت ہی چھوٹے چھوٹے چیونٹی جیسے الفاظ میں یہی بات لکھی ہوئی ہے۔
پیارے شٹ انگل جی!
آج شام ضرور میرے گھر تشریف لائیے گا۔ شیر کے پچھلے حصے کے ساتھ سیہی کے کانٹے اور بھالو کے روئیں کو اچھی طرح جوڑ چکا ہوں ۔ ایک بہت عمدہ مُدگر بھی تیار کرلیا ہے۔ اب تینوں سینگوں کے لیے ایک ماتھے کی ضرورت ہے۔ ماتھے اور ہاتھوں کاانتظام ہوجائے تو کام بن جائے۔ ششٹھی چرن کو ایک آدمی کا پتا چلا ہے،جس کا چہرہ اصل تصویر سے بہت کچھ ملتاجلتا ہے۔ امید ہے، آج ہی میرا تجربہ کامیاب ہوجائے گا۔ اس لیے آج شام کو ایک بار ’فرض ناشناس‘ میں آنے کی زحمت کریں تو بے حد خوشی ہوگی۔
خاکسار،ایچ بی بی۔
یاد آیا، ہج بج بج نے بتایا ہی تھا کہ ح۔ش۔د۔ل کے مطابق ہی گھر کا نام ’فرض ناشناس‘ رکھا گیا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد دل میں دوبارہ اندیشہ جاگا کیونکہ میرادل کہہ رہا ہے کہ ششٹھی چرن نے شاید گھنشیام بابو کو ہی دیکھا ہے۔
دوپہر بھر کچھ لکھنے کا کام کیا ۔ تیسرے پہر تیز ہوا چلنے لگی۔ برآمدے میں ڈیک چےئر پر بیٹھے بیٹھے میں سمندر کی طرف دیکھتا رہا، جس سے بہت کچھ ہلکے پن کااحساس ہوا ۔ شمال و مغرب سے آتی ہوئی ہوا لہروں سے ٹکرا رہی ہے، جس کی وجہ سے لہروں کے اوپر پھیلا جھاگ چورچور ہو کر ہوا کے جھونکوں سے بکھر رہا ہے ۔ دیکھنے میں بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔
چھ بجے رادھا ونود بابو کو ریت سے ہوکر اپنے برآمدے کی طرف آتے دیکھا۔ ان کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔
’’میرے اس مہمان کو اس طرف چہل قدمی کرتے ہوے دیکھا ہے؟‘‘
’’کس کو؟ گھنشیام بابو کو ؟‘‘
’’ہاں صاحب، کل ہم آپ سے جس جگہ ملے تھے وہیں ٹھہرنے کی بات کی تھی۔ ابھی میں گیا تو نہیں ۔ آس پاس کوئی آدمی نہیں تھا جس سے پوچھ گچھ کرسکوں۔ ادھر میرے ہوٹل میں شور و غل مچا ہوا ہے۔ میری سونے کی گھڑی چوری ہوگئی ہے۔ نوکر سے سوال جواب کرنے میں دیر ہوگئی۔ وہ کیا اس طرف سے ہوکر نہیں گئے ہیں؟‘‘
میں کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔
’نہیں، اس طرف سے نہیں گئے ہیں،‘‘ میں نے کہا، ’’مگر ہاں، میرے دل میں کچھ شک ہورہا ہے۔ ایک جگہ جاؤں تو ہوسکتا ہے پتا چل جائے۔ آپ کے ہاتھ میں جو لاٹھی ہے، وہ کافی مضبوط ہے نا؟‘‘
رادھا ونود بابونے چونک کر کہا، ’’لاٹھی؟ ہاں، لاٹھی تو میرے داداجی کے زمانے کی ہے... اس لیے...‘‘
میرے ساتھ اور کوئی چیز نہیں۔ جب یہاں پہلی بار آیا تھا تو آرا مچھلی کا ایک دانت خریدا تھا۔ اسے اپنے ساتھ لے لیا۔ دوسرے ہاتھ میں اپنی ٹارچ تھام لی۔
مجھے مشرق کی طرف جاتے دیکھ کر رادھا ونود بابو نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، ’’مچھیروں کی بستی کے پار جائیں گے کیا؟‘‘
’’ہاں، لیکن زیادہ دور نہیں، ایک آدھ میل۔‘‘
راستے بھر رادھا ونودبابوایک ہی بات کو تین بار دہراتے رہے، ’’کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے، صاحب!‘‘
ایک ادھیڑ آدمی کے ساتھ ڈیڑھ میل کا راستہ طے کرنے میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقت لگ گیا۔ شام اتر چکی ہے۔ جب تک گھر کے پاس نہیں پہنچ جاتا ہوں تب تک یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہاں کوئی ہے یا نہیں۔ جتنا زیادہ ہم اس مکان کی طرف بڑھتے جارہے ہیں ، رادھا ونود بابو کا جوش اتنا ہی ڈھیلا پڑتا جارہا ہے۔ آخر کار جب وہ مکان دس ہاتھ دور رہ گیا تو وہ ٹھٹک کر کھڑے ہوگئے اور بولے، ’’آپ کامطلب کیا ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’جب اتنی دور آہی چکے تو اور دس ہاتھ چلنے میں پریشان کیوں ہورہے ہیں؟‘‘
آخر کار وہ میرے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ گھر کے پاس آنے پر ٹارچ روشن کرنا پڑی، کیونکہ اندر گہری تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ کل مٹی کے تیل کی جو ڈبیا جل رہی تھی، اسے اب تک جل جانا چاہیے تھا،مگر یہاں اندھیرا ہے۔
سامنے کے دروازے سے اندر جاکر جب ٹارچ جلائی تو دیکھا، ایک آدمی چت پڑا ہے۔ وہ آدمی ابھی تک مرا نہیں ہے، کیونکہ اس کا چوڑا سینہ ابھی تک پھول پچک رہا ہے۔
’’یہ تو وہی نوکر ہے،‘‘ رادھا ونود بابو نے بھرائی آواز میں کہا۔
’’جی ہاں! یہ ششٹھی چرن ہے۔‘‘
’’آپ کو اس کا نام بھی معلوم ہے؟‘‘
اس بات کا جواب نہ دے کر میں بیٹھک کے اندر چلا گیا۔ کمرہ خالی ہے، پروفیسر کا وہاں کوئی نام ونشان نہیں ہے۔ وہاں سے نکل کر میں اس کی تجربہ گاہ کے اندر گیا۔
یہ کمرہ بھی بیٹھک کی طرح لمبا چوڑا ہے۔ میز پر ایک طرف سارے سامان کا ڈھیر لگا ہے ـ شیشی، بوتل، کانٹا، چھری، دورا دارو وغیرہ۔ ایک تیز بو سے کمرہ بھرا ہوا ہے۔ بچپن میں چڑیا گھر میں جانوروں کے پنجرے کے سامنے کھڑا ہونے پر اسی طرح کی بو کا احساس ہوا تھا۔
’’ارے، اس آدمی کا کرتا تو یہیں پڑا ہے!‘‘ رادھا ونود بابو چیخ پڑے۔
آج صبح اس کرتے پر میری نظر بھی پڑ چکی تھی۔ تین چوتھائی آستین والا بھورے رنگ کا کرتا ہے، سینے کے پاس سفید بٹن... اس میں شک نہیں کہ یہ گھنشیام بابو کا ہی کرتا ہے۔
اور اس کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہی ایسے خوفناک حالات میں بھی رادھا ونود بابو چونک پڑےـ انھیں اپنی سونے کی گھڑی مل گئی تھی۔
’’یہاں کیا کیا جاتا ہے؟ یہ سامان یہاں کیوں ہے؟ کرتا ہے، جیب میں گھڑی موجود ہے، مگر وہ پٹھا کہا چلا گیا؟ اس بوڑھے کابھی پتا نہیں چل رہا ہے!‘‘
میں نے کہا، ’’یہ تو دیکھ ہی رہے ہیں کہ وہ اندر نہیں ہیں۔ باہر چلیے۔‘‘
ششٹھی چرن اب بھی بے ہوش پڑا ہے۔ اسے پھلانگتے ہوے ہم گھر کے باہر ریت پر آئے۔ سمندر کی طرف تاکنے پر ہلکے اندھیرے میں ایک آدمی دکھائی دیا۔ وہ اسی طرف آرہا ہے۔ جب وہ تھوڑا اور قریب آگیا تو میں نے اس پر ٹارچ ڈالیـ پروفیسر ہج بج بج آرہے ہیں۔
’’مشٹ انگل جی ہیں؟‘‘
’’جی ہاں، میں ہمانشو چودھری ہوں۔‘‘
’’تھوڑی دیر پہلے کیوں نہیں آئے؟‘‘ اس نے شکایتی لہجے میں کہا۔
’’کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’وہ تو چلا گیا۔ تصویر کے جیسا آدمی مل گیا تھا۔ ایک ہی گھنٹے میں میں نے جوڑ دیا۔ مزے سے گھومنے پھرنے لگا، بات چیت بھی کی۔ ششٹھی چرن ڈرنے لگا تو اس کے سر پر مُدگر دے پٹکا اور اس کے بعد سیدھا سمندر کی طرف چلا گیا۔ سوچا پکاروں مگر نام تو کچھ تھا ہی نہیں کہ پکارتا... آدمی کا سر ، شیر کے پیر، سیہی کی پیٹھ، بکری کے سینگ... لیکن پانی کے اندر کیوں چلا گیا، سمجھ میں نہیں آیا...‘‘
بات کرتے کرتے وہ اپنے تاریک گھر کے اندر چلاگیا۔ اب تک میری ٹارچ کی روشنی اس پر پڑرہی تھی، اب نیچے کی طرف روشنی پڑی تو ریت پر پیروں کے نشان دکھائی دیے ، پیروں کے تازہ نشانـ پیر نہیں بلکہ پنجے کہنا چاہیے۔
نشانوں کے سہارے ہم آگے بڑھتے گئے۔ آہستہ آہستہ ہم بھیگی ریت کے پاس پہنچے۔ بھیگی ریت پر نشان اور بھی صاف تھے۔ کیکڑوں کے گڈھے کی بغل سے ہوتی ہوئی، ناقابل شمار سیپیوں پر سے ہوتے ہوے پنجوں کے وہ نشان پانی کی طرف جاکر سمندر میں گم ہوگئے تھے۔
اتنی دیر کے بعد رادھا ونود بابو کے منھ سے آواز نکلی، ’’سب کچھ تو سمجھ گیا۔ وہ آدمی نرا پاگل ہے، آپ شاید نیم پاگل ہیں، مگر میرے ہوٹل کا وہ چور باشندہ کہاں چلا گیا؟‘‘
اپنے ہاتھ کے آرا مچھلی کے دانت کو پانی میں پھینک کر ہوٹل کی طرف قدم بڑھاتے ہوے میں نے کہا، ’’اس کی تحقیقات پولیس سے کرنے کو کہیے۔ کرتا جب یہاں ملا ہے تو یہیں تلاش کرنے کو کہیے۔ اور ہاں، مجھے اندیشہ اس بات کا ہے کہ راز کا پتا لگاتے لگاتے پولیس بھی کہیں میری ہی طرح نہ ہوجائےـ یعنی فرض ناشناس۔‘‘

1 یہ دو نوں بنگلہ زبان کے بچوں کے دو رسالوں کے نام ہیں۔’پروفیسر ہج بج بج‘، ’ششٹھی چرن‘وغیرہ انھیں رسالوں کے مقبول افسانوی کردار ہیں۔

فرِنس

جینت کی طرف کچھ دیر تکتے رہنے کے بعد سوال کیے بغیر نہ رہ سکا، ’’آج توبہت مرامرا سا لگ رہا ہے؟ طبیعت خراب ہے کیا؟‘‘
جینت بچے کی طرح ہنس دیا اورکہا ، ’’نہ ! طبیعت خراب نہیں ہے بلکہ تازگی ہی محسوس کررہا ہوں۔ واقعی جگہ بہت اچھی ہے۔‘‘
’’تیری تو جانی پہچانی جگہ ہے۔ پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ جگہ اتنی خوبصورت ہے؟‘‘
’’بھول ہی چکاتھا۔‘‘ جینت نے ایک لمبی سانس لی۔ ’’اتنے دنو ں کے بعد آہستہ آہستہ سب کچھ یاد آرہا ہے۔ بنگلہ پہلے جیسا ہی ہے۔ کمروں میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ فرنیچر بھی پرانے زمانے کا ہی ہے، جیسے بینت کی یہ میزاور کرسیاں۔‘‘
بیرا ٹرے میں چائے اور بسکٹ لے آیا۔ابھی صرف چار ہی بجے ہیں مگر دھوپ ڈھلنے لگی ہے۔ چائے دانی سے چائے انڈیلتے ہوے میں نے پوچھا ؟ ’’کتنے دنوں بعد یہاں آنا ہوا؟‘‘
جینت نے کہا ، ’’اکتیس سال کے بعد۔ اس وقت میں چھ سال کاتھا۔‘‘
ہم لوگ جس جگہ بیٹھے ہیں، وہ بوندی شہر کے سرکٹ ہاؤس کا باغیچہ ہے۔ آج صبح ہم لوگ یہاں پہنچے ہیں۔ جینت میرے بچپن کا دوست ہے ۔ ہم ایک ہی اسکول اور کالج میں ہم جماعت رہ چکے ہیں۔ آج کل وہ ایک اخبار میں نوکری کرتا ہے اور میں اسکول میں پڑھانے کا کام ۔ ہماری نوکرپیشہ زندگی الگ ہونے کے باوجود ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہم لوگوں نے بہت پہلے ہی راجستھان گھومنے کامنصوبہ بنایا تھا۔ دونوں کو ایک ساتھ چھٹی ملنے میں دقت ہورہی تھی، آج اتنے دنوں کے بعد یہ ممکن ہوا ہے۔ عموماً لوگ جب راجستھان آتے ہیں تو شروع میں جے پور ، چتّوڑ اور اُدے پور ہی دیکھتے ہیں، مگر جینت شروع سے ہی بوندی جانے پر زور دے رہاتھا۔ میں نے بھی اعتراض نہیں کیا کیونکہ بچپن میں میں نے رابندر ناتھ کی ’’بوندی کاقلعہ‘‘ نظم پڑھی تھی اور اس قلعے کو اتنے عرصے کے بعد دیکھنے کاموقع ملاتھا۔ زیادہ تر لوگ بوندی نہیں آتے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ یہاں دیکھنے کے لائق کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اُدے پور، جودھپور اور چتّوڑ کی اہمیت زیادہ ہے مگر خوبصورتی کے لحاظ سے بوندی کسی سے کم نہیں ہے۔
جینت نے جب بوندی کے بارے میں اتنا زور دیاتھا تو مجھے عجیب لگ رہاتھا۔ جب ٹرین سے آنے لگا تو اس کی وجہ معلوم ہوئی ۔ بچپن میں ایک بار وہ بوندی آچکا ہے، اس لیے اُن پرانی یادوں کے ساتھ نئے سرے سے ملنے کی خواہش اس کے دل میں شدت اختیار کررہی تھی۔ جینت کے والد امیداس گپتا آثار قدیمہ میں ملازم تھے، اس لیے انھیں بیچ بیچ میں تاریخی مقامات کا معائنہ کرنا پڑتا تھا۔ اسی سلسلے میں جینت بھی بوندی ہو آیا تھا۔
سرکٹ ہاؤس واقعی بہت ہی خوبصورت ہے۔ انگریزوں کے زمانے کا ہے، سو سال سے کم پرانا نہ ہوگا۔ ایک منزلہ عمارت، ٹائلوں کی چھاؤنی کی ہوئی ڈھال اور چھت، کمرے اونچے اونچے۔ اوپر کی طرف اسکائی لائٹ ہے جسے رسی کھینچ کر حسبِ منشا کھولا یابند کیاجاسکتا ہے۔ مشرق کی طرف برآمدہ ہے۔ اس کے سامنے وسیع احاطے کی کیاریوں میں گلاب کھلے ہوے ہیں۔ باغیچے کے پچھلے حصے میں کئی قسم کے بڑے بڑے پیڑ ہیں، جن پر ان گنت چڑیاں بیٹھی رہتی ہیں۔ طوطے بھی ہیں۔ مور کی آواز بھی بیچ بیچ میں سنائی دیتی ہے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ وہ آواز احاطے کے باہر سے آتی ہے۔
ہم صبح پہنچنے کے ساتھ ہی ایک بار شہر کا چکر لگا چکے ہیں ۔ پہاڑ پر بوندی کامشہور قلعہ ہے۔ آج دور سے دیکھ رہے ہیں، کل ہم اندر جاکر دیکھیں گے۔ معلوم ہوتا ہے شہر میں بجلی کے کھمبے نہیں ہیں۔ ہم پرانے راجپوت زمانے میں چلے آئے ہیں۔سڑکیں پتھر کی بنی ہیں، مکانوں کے سامنے دو منزلے سے ٹنگے ہوے نقاشی کیے برآمدے ہیں۔ لکڑی کے دروازوں پربھی ماہر ہاتھوں سے نقاشی کی گئی ہے۔ دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ ہم مشینی تہذیب کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یہاں آنے پر میں نے غور کیا کہ جینت عام طور سے جتنی باتیں کرتا ہے نسبتاً یہاں کم باتیں کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے بہت سی پرانی یادیں اس کے دل میں واپس آرہی ہوں۔ بچپن کی کسی پرانی جگہ بہت دنوں کے بعد آنے سے دل اداس ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اور جینت عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہی جذباتی ہے، یہ بات سبھی کو معلوم ہے۔
چائے کی پیالی ہاتھ سے نیچے رکھ کر جینت نے کہا، ’’ معلوم ہے، شنکر، بہت ہی عجیب بات ہے۔ شروع میں جب یہاں آیا تھا تو ان کرسیوں پر میں پاؤں موڑ کر بابوصاحب کی طرح بیٹھا کرتا تھا۔ لگتا جیسے میں کسی تخت پر بیٹھا ہوا ہوں۔ اب دیکھ رہا ہوں، کرسیاں لمبائی چوڑائی میں بڑی نہیں ہیں اور دیکھنے میں بھی بہت معمولی ہیں۔ سامنے جو ڈرائنگ روم ہے، اس سے دگنا معلوم ہوتا تھا۔ اگر آج میں یہاں نہ آتا تو بچپن کے بہت سے مفروضے ویسے کے ویسے ہی بنے رہتے۔‘‘
میں نے کہا، ’’فطری بات ہے، بچپن میں ہم چھوٹے رہتے ہیں، اس کے مطابق آس پاس کی چیزیں بڑی لگتی ہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ ہم بڑھتے جاتے ہیں، مگر چیزیں تو بڑھتی نہیں۔‘‘
چائے ختم کر کے باغیچے میں چہل قدمی کرتے کرتے اچانک جینت چونک کر کھڑا ہوگیا اور بولا، ’’دیودارو...‘‘
اس کی بات سن کر حیران ہوکر میں نے اس کی طرف دیکھا۔
وہ پھرکہنے لگا، ’’دیودارو کا ایک پیڑ ادھر ہونا چاہیے تھا۔‘‘یہ کہہ کر وہ تیزی سے پیڑ پودوں کے بیچ سے ہوتا ہوا احاطے کے کونے کی طرف بڑھ گیا۔ اچانک جینت کو دیودارو کے ایک پیڑ کی یاد کیوں آگئی؟
چند لمحوں کے بعد جینت کی خوشی سے بھری ہوئی آواز سنائی دی، ’’ہے، اِٹس ہےئر! جہاں تھا ٹھیک وہیں...‘‘
میں نے آگے بڑھ کر کہا ، ’’اگر پیڑ رہا ہوگا تو وہ جس جگہ تھا وہیں ہوگا۔ پیڑ چہل قدمی نہیں کرتے۔‘‘
جینت نے ناراضگی سے سرہلاتے ہوے کہا، ’’وہیں ہے سے میرا مطلب یہ نہیں کہ پیڑ نے اپنی جگہ نہیں بدلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے پیڑ کے جہاں ہونے کا اندازہ لگایاتھا، وہیں ہے۔‘‘
’’لیکن پیڑ کی بات تمھیں اچانک کیوں یاد آگئی؟‘‘
جینت کچھ دیر تک بھنویں سکوڑ ایک ٹک پیڑ کی طرف دیکھتا رہا، اس کے بعد آہستگی سے سر ہلا کر کہا، ’’وہ بات اب یاد نہیں آرہی ہے۔ کسی وجہ سے میں اس پیڑ کے پاس گیاتھا اور وہاں جاکر کچھ کہا تھا۔ ایک انگریز...‘‘
’’انگریز؟‘‘
’’نہ، کچھ بھی یاد نہیں آرہا ہے۔ یادداشت کا معاملہ واقعی بہت عجیب ہے۔‘‘
یہاں کا باورچی کھانااچھا پکاتا ہے۔رات میں ڈائننگ روم میں بیضوی میز پر بیٹھ کر جینت نے کھانا کھاتے ہوے کہا، ’’ان دنو ں جو باورچی تھا، اس کا نام دلاور تھا۔ اس کے بائیں گال پر ایک نشان تھا، چھری کا نشان۔ اور اس کی آنکھیں ہمیشہ اڑھُل کے پھول کی طرح لال رہتی تھیں۔ مگرکھانا بہت عمدہ پکاتا تھا۔‘‘
کھانا کھانے کے بعد جینت جب صوفے پربیٹھا تو آہستہ آہستہ اور بھی پرانی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس کے والد کس صوفے پر بیٹھ کر تمباکو نوشی کر تے تھے، ماں کہاں بیٹھ کر سویٹر بنتی تھیں، میز پر کون کون سے رسالے رکھے رہتے تھےـ ساری باتیں اسے یاد آگئیں، اور اسی طرح اسے پُتلے کی بات بھی یاد آگئی۔ پتلے کا مطلب لڑکیوں کی گڑیا یا پُتلی نہیں۔ جینت کے ماما نے سوئٹزرلینڈ سے دس بارہ انچ لمبی سوئس لباس پہنے ایک بوڑھے کی مورتی اسے لاکر دی تھی۔ دیکھنے میں وہ ایک چھوٹے سے زندہ آدمی کی طرح لگتی تھی۔ اندر کوئی کل قبضہ نہیں تھا، مگر ہاتھ، پاؤں، انگلیاں اور کمر اس قسم کی بنی تھیں کہ حسب منشا اسے گھمایا پھرایا جاسکتا تھا۔ چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ تیرتی رہتی تھی۔ سر پر ایک چھوٹی سی سوئس پہاڑی ٹوپی تھی جس پر پر لگے ہوے تھے۔ اس کے علاوہ لباس میں بھی کوئی خامی نہیں تھی۔ بیلٹ، بٹن، پاکٹ ، کالر، موزہ، یہاں تک کہ جوتے کے بکسوئے میں بھی کوئی خامی نہیں تھی۔
پہلی بار جینت جب بوندی آیا تھا تو اس کے کچھ پہلے ہی اس کے ماما ولایت سے لوٹ آئے تھے اور انھوں نے جینت کو وہ پتلا دیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے کسی گاؤں میں ایک بوڑھے سے انھوں نے وہ پتلا خریدا تھا۔بوڑھے نے کہا تھا کہ اس کا نام فرنس ہے اور اسی نام سے اسے پکارنا۔ دوسرے نام سے پکاریں گے تو جواب نہیں ملے گا۔
جینت نے کہا،’’ بچپن میں مجھے کتنے ہی کھلونے ملے تھے۔ ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے انھوں نے کوئی کمی نہیں رہنے دی تھی۔ مگر ماما نے جب مجھے فرنس دیا تو میں اپنے تمام کھلونوں کو بھول گیا۔ رات دن اسی کو لے کر پڑا رہتا ، یہاں تک کہ ایسا وقت آیا جب میں فرنس سے گھنٹوں بات چیت کرنے لگا۔ بات بے شک یک طرفہ رہتی تھی، مگر فرنس کے چہرے پر ایک ایسی ہنسی اور آنکھوں کی نظر میں ایک ایسا جذبہ رہتا تھا کہ مجھے محسوس ہوتا وہ میری بات سمجھ لیتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے ایسا بھی محسوس ہوتا کہ اگر میں بنگلہ کے بجاے جرمن زبان میں بات چیت کرسکتا تو بات چیت کا سلسلہ یک طرفہ نہ ہوکر دو طرفہ ہوتا۔ اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے وہ بچپنا اور پاگل پن تھا، مگر ان دنوں یہ بات میرے لیے بالکل حقیقت جیسی تھی۔ ماں اور بابو بھی منع کرتے تھے، مگر میں کسی بھی بات پر توجہ نہیں دیتاتھا۔ تب میں نے اسکول جانا شروع نہیں کیا تھا، اس لیے فرنس کو وقت نہ دے پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔‘‘
اتنا کہہ کر جینت خاموش ہوگیا۔ گھڑی کی طرف دیکھنے پر پتاچلا کہ رات کے ساڑھے نو بج چکے ہیں۔ ہم سرکٹ ہاؤں کی بیٹھک میں لیمپ جلاکر بیٹھے تھے۔
میں نے پوچھا، ’’پُتلا کہاں چلا گیا؟‘‘ جینت اب بھی جیسے کچھ سوچ رہا تھا۔ جواب اتنی دیر کے بعد آیا کہ مجھے لگا اس نے کچھ سنا ہی نہیں۔
’’پتلے کوبوندی لے آیا تھا، یہاں آکر ٹوٹ گیا۔‘‘
’’ٹوٹ گیا؟ کیسے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
جینت نے ایک لمبی سانس لی اور کہا ، ’’ایک دن ہم باہربرآمدے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔ پتلے کو بغل میں گھاس پر رکھ دیا ۔ پاس ہی بہت سے کتّے جمع ہوگئے تھے۔ تب میں جس عمر کا تھا مجھے چائے نہیں پینا چاہیے تھی مگر میں نے ضد کر کے چائے لے لی اور پینے لگا۔ چائے کی پیالی اچانک ترچھی ہوگئی اور تھوڑی سی گرم چائے میری پتلون پر گر گئی۔ بنگلے کے اندر جاکر میں نے پتلون بدلی اور اس کے بعد جب باہر آیا تو پتلے کو وہاں نہیں پایا۔ تلاش کرنے پر دیکھا تو معلوم ہوا سڑ ک پر دو کتے میرے فرنس کو لے کر کھیل رہے ہیں۔ چونکہ وہ بہت مضبوط چیز تھی اس لیے پھٹ کر دو ٹکڑوں میں نہیں بٹی۔لیکن اس کا چہرہ مسخ ہوگیا اور کپڑا پھٹ گیا۔ یعنی میرے لیے فرنس کا کوئی وجود ہی نہ رہا۔ہی واز ڈیڈ۔‘‘
’’اس کے بعد؟‘‘ جینت کی کہانی مجھے بے حد دلچسپ لگ رہی تھی۔
’’اس کے بعد کیا؟ رسوم کے مطابق فرنس کی تدفین کردی گئی۔‘‘
’’ اس کامطلب؟‘‘
’’اس دیودارو کے نیچے اسے دفنا دیا گیا۔ آرزو تھی، تابوت کا انتظام کروں کیونکہ ولایتی آدمی تھانا! کوئی بکسا ہوتا تو بھی کام چل جاتا۔ بہت ڈھونڈنے اور تلاش کرنے پر بھی کچھ نہ ملا۔ اس لیے آخرکار اسی طرح دفنا دیا۔‘‘
اتنی دیر کے بعد دیودارو کے پیڑ کا راز میرے سامنے کھل سکا۔
دس بجے ہم سونے چلے گئے۔
ایک خاصے بڑے بیڈروم میں الگ الگ پلنگوں پر ہمارے بستر بچھے تھے۔ کلکتہ میں پیدل چلنے کی عادت نہیں تھی۔ ایک تو یوں بھی تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اور اس پر ڈنلپ پِلو سر کے نیچے رکھتے ہی دس منٹ کے اندر نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
رات کافی ہوچکی تھی، معلوم نہیں کس چیز کی آواز سے نیند ٹوٹ گئی۔ بغل کی طرف مڑنے پر جینت کو بستر پر بیٹھے ہوے دیکھا۔ اس کی بغل میں ٹیبل لیمپ جل رہا تھا۔ اس کی روشنی میں جینت کے چہرے پر گھبراہٹ نظر آرہی تھی۔ میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟ طبیعت خراب ہے کیا؟ ‘‘
اس بات کا جواب نہ دے کر جینت ایک دوسرا ہی سوال پوچھ بیٹھا، ’’سرکٹ ہاؤس میں بلی یا چوہے کے قبیل کی کوئی چیز ہے؟‘‘
میں نے کہا ، ’’اگر ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ مگر تم ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’سینے پر چڑھ کر کوئی چیز چلی گئی اور اسی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
میں نے کہا، ’’چوہا عام طور سے نالی سے آتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ چوہا پلنگ پر چڑھتا ہے یا نہیں۔‘‘
جینت نے کہا ،’ ’اس کے پہلے بھی ایک بار میری نیندٹوٹ چکی ہے۔ تب کھڑکی سے کھچ کھچ کی سی آواز آرہی تھی۔‘‘
’’اگر کھڑکی سے آواز آئی ہے تو زیادہ امکان بلی کے ہی ہوسکتے ہیں۔‘‘
’’مگر...‘‘
جینت کے دل سے وہم دور نہیں ہورہا ہے۔ میں نے کہا، ’’روشنی کرنے پر کسی چیز پر نظر نہیں پڑی؟‘‘
’’نہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ آنکھ کھلتے ہی بتی نہیں جلائی تھی۔ شروع میں چونک اٹھا، سچ کہوں تو تھوڑا تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا۔ روشنی جلانے کے بعد کسی چیز پر نگاہ نہیں پڑی۔‘‘
’’اس کا مطلب یہ کہ اگر کوئی چیز کمرے کے اندر آئی ہوگی تو وہ کمرے کے اندر ہی ہوگی، دروازہ جب کہ بند ہے...‘‘
میں فوراً بستر سے نیچے اتر آیا اور گھر کے ہر کونے میں، پلنگ کے نیچے، سوٹ کیس کے پیچھے، ہر طرف تلاش کیا۔ کہیں کچھ نہ تھا۔باتھ روم کے کواڑ کھلے ہوے تھے۔ میں اس کے اندر بھی تلاش کرنے گیا۔ تبھی جینت نے آہستگی سے مجھے پکارا:
’’شنکر!‘‘
میں کمرے کے اندر لوٹ آیا۔ دیکھا،جینت اپنی رضائی کے سفید غلاف کی طرف دیکھ رہا ہے۔ میں جب اس کے پاس گیا تو اس نے رضائی کے ایک حصے کو روشنی کی طرف بڑھا کر کہا، ’’دیکھو تو، یہ کیاہے؟‘‘
میں نے جب جھک کر کپڑے کی طرف دیکھا تو اس پر ہلکے کتھئی رنگ کے گول گول نشانات دکھائی دیے۔ میں نے کہا، ’’بلی کے پنجے کے نشان ہوسکتے ہیں۔‘‘
جینت کچھ نہیں بولا۔ پتا نہیں کیوں وہ بے حدفکر مند ہوگیا تھا۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ اتنی کم نیند سے میری تھکاوٹ دور نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کل دن بھر چکر لگانا ہے۔ لہٰذا یہ کہہ کر کہ میں برابر میں ہی ہوں، ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے، اور یہ نشان پہلے کے بھی ہوسکتے ہیں، میں نے اسے دلاسا دیا اور بتی بجھا کر دوبارہ لیٹ گیا۔ مجھے اس بات کابالکل شبہ نہیں تھاکہ جینت نے جو کچھ کہا ہے وہ حقیقت ہے؛ شاید اس نے ایک خواب دیکھا ہے ۔ بوندی آنے پر اسے پرانی باتیں یاد آگئی ہیں اور وہ ذہنی تناؤ میں ہے۔ اسی وجہ سے بلی کے چلنے کا خواب دیکھا ہوگا۔
رات میں اگر کوئی اور واقعہ پیش آیا ہو تو اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ جینت نے بھی صبح اٹھنے کے بعد کسی نئے تجربے کے بارے میں نہیں بتایا۔ مگر ہاں، دیکھنے سے ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ رات ٹھیک سے سویا نہیں ہے۔ میں نے دل ہی دل میں طے کیا کہ میرے پاس جو نیند کی ٹکیہ ہے ، آج رات سونے سے پہلے وہ جینت کو کھلا دوں گا۔
اپنے پلان کے مطابق ہم ناشتہ کر کے نو بجے بوندی کا قلعہ دیکھنے چلے گئے۔ گاڑی کاانتظام پہلے ہی کرلیاتھا۔ قلعہ پہنچتے پہنچتے ساڑھے دس بج گئے۔
یہاں آنے پر بھی جینت کو بچپن کی ساری باتیں یاد آنے لگیں ۔ خوش قسمتی سے پتلے سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ سچ کہوں، جینت کی حرکات دیکھ کر لگ رہا تھا وہ پتلے کی بات بھول چکا ہے۔ وہ ایک ایک چیز کو دیکھتا ہے اور چلا اٹھتا ہے،’’ گیٹ کے اوپر وہی ہاتھی ہے! یہ وہی چاندی کا پلنگ اور تخت ہے! دیوار پر یہ تصویر بھی بالکل وہی ہے!‘‘
مگر ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد جوش کم ہونے لگا۔ میں اتنا محو تھا کہ شروع میں اسے سمجھ نہ سکا۔ میں ایک لمبی کوٹھری میں چہل قدمی کر رہا تھا اور چھت کے جھاڑ فانوسوں کودیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے خیال آیا، جینت میرے آس پاس نہیں ہے۔ وہ کہاں گیا؟
ہمارے ساتھ ایک گائیڈ تھا۔ اس نے کہا، ’’بابو باہر چھت کی طرف گئے ہیں۔‘‘
دربان گھر دیکھ کر جب میں باہر آیا تو جینت کوتھوڑی دور پر ، چھت کی دوسری طرف، دیوار کے پاس بے چین سا کھڑا پایا۔ وہ اتنا زیادہ فکر مندتھا کہ جب میں اس کی بغل میں جاکر کھڑا ہوا تو اسے احساس تک نہ ہوا۔ آخر جب میں نے نام لے کر اسے پکارا تو وہ چونک گیا۔ میں نے پوچھا، ’’تجھے کیا ہوا ہے؟ سچ سچ بتا۔ اتنی خوبصورت جگہ آکر بھی تو چپ چاپ منھ سی کر پڑا رہے گا تو یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔‘‘
جینت نے اتنا ہی کہا ، ’’مجھے جو دیکھنا تھا دیکھ چکا ہوں، پھر اب...‘‘
میں تنہا ہوتا تو ضرور ہی کچھ دیر تک رکتا، مگر جینت کا موڈ دیکھ کر سرکٹ ہاؤس لوٹنا ہی طے کیا۔
پہاڑ پر جو راستہ بنا ہوا ہے وہ شہر کی طرف چلا گیا ہے۔ ہم دونوں چپ چاپ گاڑی کے پچھلے حصے میں بیٹھ گئے۔ جینت کو میں نے سگریٹ پیش کی مگر اس نے نہیں پی۔ اس کے اندر ایک عجیب بے چینی تھی جو اس کے ہاتھوں کی حرکت سے ظاہر ہورہی تھی۔ کبھی وہ کھڑکی پر ہاتھ رکھتا ہے، کبھی گود میں، پھر انگلیوں کو چٹخاتا ہے یا ناخن کودانت سے کاٹتا ہے۔ جینت ایک سنجیدہ انسان ہے۔ اسے چھٹپٹاتے ہوے دیکھ کر میں بھی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔
دس منٹ تک جب یہ سلسلہ جاری رہا تو میں چپ نہ رہ سکا۔ میں نے کہا، ’’اپنی پریشانی کی وجہ مجھے بتادے تو ہوسکتا ہے تیرا کچھ بھلا ہوجائے۔‘‘
جینت نے سرہلاکر کہا، ’’کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ کہوں گا تو تو یقین نہیں کرے گا۔‘‘
’’یقین نہ بھی ہو، مگر اس موضوع پر تجھ سے رائے مشورہ تو کر ہی سکتا ہوں۔‘‘
’’کل رات فرنس ہمارے کمرے میں آیا تھا۔ رضائی پر فرنس کے پیروں کے نشان تھے۔ ‘‘
اس بات پر جینت کے کندھوں کو جھنجھوڑنے کے سوامجھے کچھ دوسرا کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جس کے دماغ میں ایک عجیب وہم گھر کر گیا ہے،کیا اسے کچھ کہہ کر سمجھایا جاسکتا ہے؟ پھر بھی میں نے کہا، ’’تو نے اپنی آنکھوں سے تو کچھ نہیں دیکھا تھا؟‘‘
’’نہیں، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے سینے پر جو چیز چل رہی تھی وہ چار پیروں کی نہ ہوکر دو پیروں والی تھی، یہ بات میں صاف صاف سمجھ رہا تھا۔‘‘
سرکٹ ہاؤس کے پاس آکر گاڑی سے اترتے وقت میں نے طے کیا کہ جینت کو اعصابی طاقت والے ٹانک قسم کی کوئی چیز دوں گا۔ صرف نیند کی ٹکیہ سے کام نہیں چلے گا۔ بچپن کی ایک دھندلی سی یاد سینتیس سالہ جوان کو اتنا پریشان کردے گی، یہ کسی بھی حالت میں نہیں ہونے دینا چاہیے۔
کمرے کے اندر آنے پر میں نے جینت سے کہا، ’’بارہ بج چکے ہیں۔ اب نہا لینا چاہیے۔‘‘
جینت نے کہا، ’’پہلے تو نہالے،‘‘ اور وہ پلنگ پر لیٹ گیا۔
نہاتے ہوے میرے دماغ میں ایک خیال آیا۔ جینت کو اصلی حالت میں لانے کایہی طریقہ ہے۔
مجھے جو خیال آیا وہ یہ کہ اگر پتلے کو کسی خاص جگہ دفنایا گیا ہے اور اگر اسے وہ خاص جگہ معلوم ہے تو اس جگہ کی مٹی کھودنے پر پتلا چاہے پہلے جیسی حالت میں نہ ملے مگر اس کاتھوڑابہت حصہ تو مل ہی جائے گا۔ کپڑے لتّے زمین کے نیچے تیس سال کے بعدنہیں رہ سکتے ہیں، مگر دھات کی چیزیں جیسے فرنس کے بیلٹ کا بکسوا ، کوٹ کے پیتل کے بٹن اگر برقرار ہوں تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ جینت کو اگر دکھایا جائے کہ اس کے لاڈلے پتلے کی صرف یہی چیزیں بچی ہوئی ہیں اور باقی سب مٹی میں سما گئی ہیں تو ممکن ہے کہ یہ واہیات خیال اس کے دل سے دور ہوجائے۔ اگر ایسانہ کیا گیا تو وہ پھر رات ایک عجیب خواب دیکھے گا اور صبح جاگنے پر کہے گا کہ فرنس میری چھاتی پر چل رہا تھا۔ اس طرح کہیں اس کا دماغ نہ خراب ہوجائے۔
یہ بات جب میں نے جینت کو بتائی تو اسے میرا خیال اچھا لگا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا ، ’’کھودے گا کون؟ کدال کہاں ملے گی؟‘‘
میں نے ہنس کر کہا، ’’جب اتنا بڑاباغیچہ ہے تو مالی بھی ضرور ہوگا ہی اور مالی رہنے کامطلب ہے کدال بھی ہے۔ اسے ہم کچھ بخشش دیں تو وہ میدان کی تھوڑی سی مٹی کھودنے میں آناکانی نہیں کرے گا۔‘‘
جینت فوراً راضی ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے بھی کچھ نہ کہا۔ ایک دو بار جب ڈانٹ پلائی تو وہ نہا دھو آیا۔ کھانے کا شوقین آدمی ہونے پربھی دوپہر میں دو عدد روٹی اور گوشت کے شوربے کے سوا اس نے کچھ نہیں کھایا۔ کھاناکھانے کے بعد ہم دونوں باغیچے کی طرف کے برآمدے کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں کے سوا سرکٹ ہاؤس میں کوئی نہیں ہے۔ دوپہر میں بھی سناٹا چھایا ہوا ہے۔ داہنی طرف روڑے بچھے راستے کے کنارے ایک گل مہر کے درخت پر کئی بندر بیٹھے ہیں۔
بیچ بیچ میں ان کی ہپ ہپ آواز سنائی دیتی ہے۔
تین بجنے پر ایک پگڑی والا آدمی ہاتھ میں جھاڑی لیے باغیچے میں آیا۔ عمردراز آدمی ہے۔ بال، مونچھیں اور بھنویں سفید ہوچکی ہیں۔
’’تم کہوگے یا میں کہوں؟‘‘
جینت کے سوال پر میں نے دلاسے کے انداز میں ہاتھ اٹھاکر اشارہ کیا اور کرسی چھوڑ کر سیدھا مالی کے پاس چلا گیا۔
مٹی کھودنے کی فرمائش پر مالی نے شروع میں میری طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ میں سمجھ گیا۔ اس کے سوال ’’کاہے بابو؟‘‘ پر میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر شیریں آواز میں کہاکہ وہ اگر نہ جان سکے تو حرج ہی کیا ہے؟ ’’پانچ روپے بخشش دوں گا ، جو کہہ رہا ہوں، وہ کردو۔‘‘
یہ بات سن کر مالی نہ صرف راضی ہوگیا، بلکہ دانت نکال کر سلامی بھی دی اور ایسے اظہار کیا جیسے وہ ہمارا زر خرید غلام ہو۔
برآمدے میں بیٹھے جینت کو میں نے ہاتھ کے اشارے سے بلایا۔ وہ کرسی چھوڑ کر میرے پاس چلا آیا۔ قریب آنے پر دیکھا غیر فطری طور پر بجھا ہوا سا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کھودنے کے بعد پتلے کاتھوڑابہت حصہ ضرورملے گا۔
اس درمیان مالی کدال لے آیا اور ہم تینوں دیودارو کے درخت کی طرف جانے لگے۔
پیڑ کے تنے کے تقریباً ڈیڑھ ہاتھ دور ایک مقام کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوے جینت نے کہا، ’’یہیں۔‘‘
’’ٹھیک سے یاد ہے نا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ جینت نے کہا کچھ نہیں، صرف سر کوایک بار ہلاکر ہامی بھری۔ ’’کتنا نیچے دفنایاتھا؟ایک فٹ تو ہوگا ہی۔‘‘
مالی بے جھجھک اس جگہ کو کھودنے لگا۔ آدمی شوقین معلوم ہوتا ہے۔ کھودتے کھودتے پوچھنے لگا کہ زمین کے نیچے دھن اور دولت ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو اسے حصہ ملے گایا نہیں ؟ یہ بات سن کر میں تو ہنس دیا مگر جینت کے چہرے پر ہنسی کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ اکتوبر میں بوندی میں گرمی نہیں پڑتی ہے مگر جینت کے کالر کا نچلا حصہ بھیگ گیا ہے۔ وہ ایک ٹک زمین کی طرف دیکھ رہا ہے۔ مالی کدال چلائے جارہاہے ۔ پتلے کاکوئی نشان ابھی تک کیوں نہیں نظر آیا ہے؟
ایک مور کی تیز آواز سن کر میں نے اپنا سر گھمایا۔ تبھی اسی وقت جینت کے گلے سے ایک عجیب سی آواز نکلی اوراسی پل میری آنکھ اس طرف چلی گئی۔ اس کی آنکھیں حیرت سے باہر نکل آئیں۔ دوسرے ہی لمحے اس نے اپنے کانپتے ہاتھ کو آہستہ سے بڑھاکر اپنی شہادت کی انگلی سے گڈھے کی طرف اشارہ کیا ۔ اس کی انگلی بھی کانپ رہی ہے۔
اس کے بعد ایک عجیب، خشک اور خوفزدہ آواز میں اس نے کہا ، ’’وہ کیا چیز ہے؟‘‘
مالی کے ہاتھ سے کدال زمین پر گر پڑی۔ زمین کی طرف غور کرنے پر جو منظر میں نے دیکھا اس کی وجہ سے ڈر، حیرت اور بے یقینی کے عالم میں میرے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑنے لگیں۔
دیکھا گڈھے کے اندر خاک سے بھرا ہوا دس بارہ انچ کا ایک مکمل ہڈیوں کاڈھانچہ ہاتھ پیر پھیلائے چت پڑا ہوا ہے۔

سنکی بابو

سنکی بابو کا اصلی نام پوچھ ہی نہ سکا۔ خاندانی نام ہے مکرجی۔ چہرہ ایک بار دیکھ لیا جائے تو بھلانا مشکل ہے۔ قد تقریباً چھ فٹ۔ بدن پر چربی کانام نہیں ہے۔ پشت دھنش کی طرح ٹیڑھی۔ ہاتھ پاؤں، گلے اور گالوں سے بے شمار نسیں جلد کو ہٹا کر باہر نکل آنا چاہتی ہیں۔ ٹینس کالروالی سفید شرٹ، کالے فلالین کی پینٹ، سفید موزے، سفید کڈس۔ دارجیلنگ میں یہی پیٹنٹ لباس تھا۔ اس کے علاوہ ان کے ہاتھ میں ایک مضبوط لاٹھی رہتی تھی۔ جنگل کی اوبڑ کھابڑ زمین پر گھومنے پھرنے کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے ، ہوسکتا ہے، لاٹھی کی ضرورت پڑتی ہو۔
دس سال قبل سنکی بابو سے میری جان پہچان ہوئی تھی۔ میں کلکتہ کے بینک میں نوکری کرتا ہوں۔ دس دنوں کی چھٹی باقی تھی۔بیساکھ کے مہینے میں اپنے پیارے شہر دارجیلنگ پہنچ گیا۔ پہلے دن ہی سنکی بابو کے دیدار ہوگئے۔یہ دیدار کس طرح ہوے، یہی بتانے جارہا ہوں۔
تیسرے پہر ساڑھے چار بجے ہوٹل سے چائے پی کر نکلا۔ بارش کا ایک ریلا دوپہر میں آچکا تھا، اب پھر کب آجائے، کہا نہیں جاسکتا۔ اس لیے بدن پر برساتی ڈال کر نکلا ہوں۔ دارجیلنگ کے سب سے دلکش، سب سے سنسان راستے جل پہاڑ روڈ سے ہوتا ہوا میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ اچانک تقریباً پچاس ہاتھ کی دوری پر ایک موڑ پر ایک آدمی کو سڑک کے کنارے لاٹھی کے سہارے کھڑا ہوا دیکھا۔ وہ جھک کر کسی چیز کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ویسے وہ منظر کچھ زیادہ عجیب نہیں لگا۔ جنگلی پھول یا کیڑے مکوڑوں کے بارے میں دلچسپی ہونے پر آدمی اس طرح گھاس کی طرف نِہارسکتا ہے۔ میں نے اس شخص پر ایک تجسس بھری نگاہ ڈالی اور پھر آگے بڑھنا شروع کیا۔
مگر اس کے نزدیک پہنچنے پر پتا چلا کہ میں اس بات کو جتنی عام سمجھ رہا تھا، اتنی نہیں ہے۔اس آدمی کی محویت پر مجھے حیرت ہوئی۔ میں پانچ ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہوکر اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے رہاتھا مگر وہ مجھے پوری طرح نظر انداز کر کے پہلے کی طرح ہی جھک کر گھاس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بنگالی جان کر میں اس سے کچھ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
’’کوئی چیز گم ہوگئی ہے کیا؟‘‘
کوئی جواب نہ ملا۔ یہ آدمی بہرا ہے کیا؟میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا۔ اس واقعے کاانجام دیکھے بغیر نہیں جاؤں گا۔ میں نے ایک سگریٹ سلگائی ۔ تقریباً تین منٹ کے بعد اس ساکت بدن میں جیسے جان آئی۔ وہ تھوڑا اور جھک گیا اور اپنے داہنے ہاتھ کو گھاس کی طرف بڑھایا۔
گھنی گھاس کے اندر اس کی انگلیاں داخل ہوئیں اور کچھ دیر بعد ہاتھ اوپر کو اٹھ آیا۔ انگوٹھے اور انگلی کے بیچ ایک چھوٹی سی گول چیز تھی۔ غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ وہ ایک بٹن ہے، تقریباً اٹھنی جتنا بڑا۔ شاید کوٹ کابٹن ہے۔
بٹن کو آنکھوں کے سامنے لاکر چند لمحوں تک اسے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس کے بعد زبان سے چار مرتبہ ’’چچ چچ‘‘ جیسی افسوس کا اظہار کرنے والی آواز نکالی اور اسے قمیص کی جیب میں رکھ کر، مجھے نظرانداز کر کے، وہاں سے چلا گیا۔
شام کو لوٹتے وقت مال کے سامنے، فوارے کے پاس دارجیلنگ کے پرانے باشندے ڈاکٹر بھومِک سے ملاقات ہوگئی ۔ وہ کالج کے دنو ں میں بابوجی کے ہم جماعت رہ چکے ہیں۔ مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔
انھیں آج تیسرے پہر کا قصہ سنائے بغیر نہ رہ سکا۔ قصہ سننے کے بعد بھومک صاحب نے کہا، ’’حلیے سے توسنکی بابو معلوم ہوتے ہیں۔‘‘
’’سنکی بابو؟‘‘
’’سیڈ کیس۔ نام یاد نہیں ہے، خاندانی نام ہے مکرجی۔ تقریباً پانچ سال سے دارجیلنگ میں رہ رہے ہیں۔ گرینڈلیز بینک کے پاس ہی کرائے کے ایک مکان میں رہتے ہیں ۔ کٹک کے ریبونشا کالج میں فزکس کے پروفیسر تھے۔ جرمن یونیورسٹی کی ڈگری ان کے پاس ہے۔ سنا ہے، طالب علم کی حیثیت سے بڑے ذہین تھے۔ نوکری چھوڑ کر یہیں چلے آئے ہیں۔ شاید تھوڑی بہت باپ دادا کی جائیداد ہے۔‘‘
’’آپ سے جان پہچان ہے؟‘‘
’’شروع میں ایک بار میرے پاس آئے تھے۔ راستے میں پھسل کر گرجانے کی وجہ سے سیپٹک ہو گیا تھا۔ میں نے ٹھیک کردیا تھا۔‘‘
’’مگر سنکی بابو نام...؟‘‘
بھومک صاحب نے ایک قہقہہ لگایا۔ ’’ان کے ایک بے ڈھب شوق کے چلتے یہ نام پڑگیا ہے۔ لیکن یہ نام کس نے رکھا ہے، کہنامشکل ہے۔‘‘
’’شوق کیا ہے؟‘‘
’’تم تو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ راستے میں پڑے ایک بٹن کو اٹھاکر جیب میں رکھ لیا۔ یہی ہے ان کا شوق یا ہابی۔ اِدھر اُدھر سے چیزیں اٹھاکر بہت سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔‘‘
’’کوئی بھی چیز؟‘‘ پتا نہیں کیوں اس آدمی کے تئیں میرے دل میں تجسس بڑھتاجارہا تھا۔
ڈاکٹر بھومک نے کہا،’ ’ہم اسے معمولی چیز کہیں گے، مگر وہ دعویٰ کریں گے کہ بہت ہی قیمتی چیز ہے۔کیونکہ ان چیزوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی واقعہ جڑاہوا ہے۔‘‘
’’مگر انھیں اس کی معلومات کس طرح حاصل ہوتی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر بھومک نے اپنی دستی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوے کہا،’’یہ بات تم انھیں سے پوچھ لو۔ کوئی ملنے والا ہاتھ آ جائے تو انھیں خوشی ہوتی ہے، کیونکہ ان کے پاس گپوں کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ انھوں نے جن جن چیزوں کو جمع کیا ہے، ہرایک کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ہے۔ سب کی سب وائلڈ اور نانسینس۔ اور ہاں، وہ انھیں سناکر خوش ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ تمھیں سن کر خوشی ہوگی یا نہیں...‘‘
دوسرے دن ناشتہ کرنے کے بعد میں باہرنکلا ۔ گرنڈلیز بینک کے پاس سنکی بابو کامکان ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، کیونکہ محلے کا ہر شخص انھیں پہچانتا ہے۔ سترہ نمبر کے مکان کے دروازے پر دستک دیتے ہی وہ باہر نکل آئے۔ حیرت کی بات ہے کہ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔
’’کل آپ نے مجھ سے کچھ پوچھاتھا، مگر اس وقت میں جواب دینے کی حالت میں نہیں تھا۔ ایسے وقت میں توجہ بٹ جائے تو بھاری مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اندر آئیے۔‘‘
کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی جس چیز پر سب سے پہلے میری نظر پڑی، وہ ایک الماری تھی۔ بائیں طرف کی دیوار کے آدھے حصے تک پھیلی ہوئی، شیشے سے آراستہ اس الماری کے ہر خانے میں ایک کے بغل میں دوسری چیز رکھی ہے۔ وہ حالانکہ بالکل معمولی چیزیں ہیں، مگر ایک سے دوسری کا کوئی میل نہیں ہے۔ سرسری نگاہ دوڑانے پر میری نظریں ایک شیلف پر گئیں۔ وہاں پیڑ کی ایک جڑ، ایک زنگ آلود تالا، ایک پرانے زمانے کا گولڈ فلیک کا ٹین، ایک اون بننے کی سلائی، جوتے صاف کرنے کا ایک برش، اور ٹارچ لائٹ کی ایک بیٹری تھی۔ میں حیران ہوکر ان چیزوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ تبھی انھوں نے کہا، ’’ان چیزوں کو دیکھنے سے آپ کو کوئی خاص خوشی حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ ان چیزوں کی قیمت صرف میں ہی جانتا ہوں۔‘‘
’میں نے کہا، ’’سنا ہے ان چیزو ں کے پیچھے چند خاص واقعات کا ہاتھ ہے۔‘‘
’’ہے۔‘‘
’’مگر ایسی بات تو ہر چیز کے ساتھ رہتی ہے۔ جیسے آپ جس گھڑی کو ہاتھ میں پہنے ہیں...‘‘
شریف شخص نے ہاتھ اٹھاکر مجھے بولنے سے روکا اورکہا، ’’واقعہ تو ضرور موجود رہتا ہے، مگر سبھی چیزوں پر اس واقعے کی چھاپ نہیں رہ جاتی ہے ۔ کبھی کبھی ایسی چیزیں مل جاتی ہیں جن پر چھاپ رہتی ہے۔ جیسے کل کا یہ بٹن...‘‘
کمرے کے داہنی طرف ایک رائٹنگ ڈیسک پر بٹن رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے بٹن کو میری طرف بڑھایا۔ کتھئی رنگ کا کوٹ کابٹن ہے۔ اس میں مجھے کوئی خصوصیت نظر نہیں آئی۔
’’سمجھ میں کچھ آرہا ہے؟‘‘
مجھے ’’نہیں‘‘ کہنا پڑا۔
سنکی بابو نے کہا، ’’یہ بٹن ایک صاحب کے کوٹ کا ہے۔ وہ صاحب گھوڑے پرسوار ہوکر جل پہاڑ روڈ سے گزر رہے تھے۔ عمر ساٹھ کے آس پاس ۔ رائیڈنگ کے لباس میں تھے۔ تندرست، طاقتور ملٹری بدن۔ جہاں یہ بٹن ملا ہے، وہیں آنے پر دل کا دورہ پڑا۔ گھوڑے سے گرپڑے۔ ان پر دو راہگیروں کی نظر پڑی اور وہ دوڑ کر آئے، مگر تب تک ان کی موت ہوچکی تھی۔ گھوڑے سے گرتے وقت ہی بٹن ٹوٹ کر سڑک کے کنارے گرپڑا۔‘‘
’’یہ سب کیا آپ دیکھ لیتے ہیں؟‘‘
’’ووڈی، جتنازیادہ دل لگاتا ہوں، اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے۔اس طرح کی خاص قسم کی خوبی سے بھرپور چیزوں کے پاس آتے ہی میں اپنے سر میں درد محسوس کرنے لگتا ہوں۔ اس کے بعد میری نظر دھندلی ہوجاتی ہے۔لگتا ہے نیچے گرپڑوں گا۔مگر اس کے بعد منظر صاف نظر آنے لگتے ہیں اور میرے پیر سیدھے ہوجاتے ہیں۔ اس تجربے کی وجہ سے میرے جسم کی حرارت بڑھ جاتی ہے۔ ایسا ہر بار ہوتا ہے۔ کل رات تقریباً آٹھ بجے تک بخار تھا۔ اتناضرور ہے کہ بخار زیادہ دیر تک نہیں رہتا ہے۔ اب میں بالکل تندرست ہوں۔‘‘
بات عجیب ہونے پر بھی مجھے دلچسپ لگ رہی تھی۔ میں نے کہا، ’’آپ دوچار مثالیں اور دے سکتے ہیں؟‘‘
سنکی بابو نے جواب دیا، ’’الماری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ جو کاپی دیکھ رہے ہیں، اس میں ہر واقعے کاتفصیلی بیان موجود ہے۔ آپ کس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟‘‘
میں کچھ بولوں اس سے پہلے ہی انھوں نے الماری کا شیشہ ہٹایا اور خانے میں سے دو چیزیں نکال کر میز پر رکھ دیںـ ایک بہت ہی پرانا چمڑے کا دستانہ اور ایک چشمے کا شیشہ۔
’’اس دستانے کو دیکھ رہے ہیں نا؟‘ ‘ سنکی بابو نے کہا، ’’اسے میں نے سب سے پہلے حاصل کیا تھا۔ یعنی یہ میرے ذخیرے کی پہلی چیز ہے۔ اسے میں نے سوئٹزر لینڈ کے لسرن شہر کے باہر ایک جنگل سے حاصل کیا تھا۔ تب ماربُرگ میں میری تعلیم کاسلسلہ ختم ہوچکا تھا۔ اپنے وطن لوٹنے سے قبل میں گھوم پھر کر کانٹینینٹ دیکھ رہا تھا۔ صبح سیر کے لیے لسرن میں نکلا تھا۔ راستہ سنسان جنگل سے ہوکر گزرتا ہے۔ سستانے کے خیال سے ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا، تبھی پاس ہی ایک درخت کے تنے کے نیچے دستانے کے انگوٹھے پر میری نظر پڑی اور ساتھ ہی ساتھ میرا سردرد کرنے لگا۔ اس کے بعد آنکھوں کے سامنے دھندلاپن چھا گیا۔ ا س کے بعد آنکھوں کے سامنے تصویر آئی۔ ایک شخص دیکھنے میں اچھا عالی نسب، منھ میں لمبا ٹیڑھا پائپ، دستانے پہنے، ہاتھ میں چھڑی لیے، سڑک پر پیدل چلا جارہا ہے۔ اچانک جھاڑی کے پیچھے سے دو آدمی نکل کر آتے ہیں اور اس پر حملہ کردیتے ہیں۔ بے بس ہوکر ہاتھ پیر پٹکتا ہے۔ اٹھا پٹک میں اس کے داہنے ہاتھ کا دستانہ گرجاتا ہے۔ حملہ آور اس پر سوار ہوگئے اور بیدردی کے ساتھ اس کو قتل کر کے، کو ٹ کی جیب سے روپیہ پیسہ اور ہاتھ سے سونے کی گھڑی نکال کر رفوچکر ہوگئے۔‘‘
’’کیا سچ مچ اس طرح کا واقعہ پیش آیاتھا؟‘‘
میں تین روز تک اسپتال میں رہا ۔ بخار کی وجہ سے ہذیان کی حالت میں۔ اس کے ساتھ اور بھی تکلیفیں تھیں۔ ڈاکٹر اسٹائنٹس مرض کا پتا نہیں لگا سکے۔ اس کے بعد بیماری خودبخود دور ہوگئی۔ اسپتال سے نکلنے کے بعد میں نے تلاش شروع کردی۔ دو سال قبل اسی جنگل میں ٹھیک اسی مقام پر کاؤنٹ فرڈینینڈ مسیپ نام کے ایک امیر شخص کا اسی طرح قتل ہوا تھا۔ اس کے لڑکے نے دستانے کو پہچان لیا۔‘‘
وہ اس طرح اس واقعے کو بیان کر گئے کہ ان کی بات پر یقین نہ کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے کہا،’ ’تبھی سے آپ نے چیزوں کو جمع کرنا شروع کردیا؟‘‘
سنکی بابو نے کہا، ’’اس دستانے کو حاصل کرنے کے بعد لگ بھگ دس سال تک اس طرح کاکوئی اور تجربہ نہ ہوا۔ اس درمیان میں اپنے وطن واپس لوٹ کر کٹک کے کالج میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوگیا تھا۔ چھٹی میں اکثر گھومنے کے لیے یہاں وہاں نکل جایا کرتاتھا۔ ایک باروالٹےئر جانے پر دوسرا تجربہ حاصل ہوا۔ سمندر کے کنارے ایک پتھر کی تلاش میں جانے پر عینک کا یہ شیشہ ملا۔ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ پلس پاور کاکانچ ہے۔ ایک مدراسی حضرت نے چشمہ اتارکر رکھ دیا اور نہانے چلے گئے۔ وہ پھر پانی سے باہر نہیں نکلے۔ ان کے پاؤں کو کلیمپ نے پکڑ لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پانی میں ڈوب گئے ۔ پانی سے ہاتھ اٹھاکر مدد کے لیے چلاتے رہے۔ بڑی ہی دردناک چیخ تھی ان کی۔ انھیں کی عینک کا یہ شیشہ مجھے چار برس بعد ملا۔ یہ بھی سچا قصہ ہے، تحقیقات کرنے پر مجھے پتا چلا تھا، ویل نون ڈراؤننگ کیس۔ نام تھا شِو رَمن۔ کوئمبٹور میں رہتے تھے۔‘‘
سنکی بابو نے دستانے اور شیشے کو اپنے مقام پر رکھ دیا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔’’جانتے ہیں میری الماری میں کتنی چیزیں ہیں؟ ایک سو بہتر۔ پچھلے تیس برسوں میں انھیں جمع کیا ہے۔ اس قسم کے ذخیرے کی بات آپ نے سنی ہے؟‘‘
میں نے سرہلاکر انکار کیا اور اس کے بعد کہا، ’’آپ کا یہ شوق بالکل انوکھا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر آپ کی ہر چیز کے ساتھ کیا موت کا واقعہ منسلک ہے؟‘‘
انھوں نے سنجیدگی کے ساتھ کہا، ’’ہاں، بات یہی ہے۔ موت نہیں بلکہ اچانک اور غیر فطری موتـ قتل، خود کشی، سفاک موت، دل کا دورہ پڑجانے سے ہوئی موت۔ اس قسم کے واقعات سے منسلک ہونے پر ہی کوئی چیز میرے اندر رد عمل پیدا کرتی ہے۔‘‘
’’یہ تمام چیزیں کیا آپ کو راستہ چلتے ملی ہیں؟‘‘
’’زیادہ تر اسی طرح ملی ہیں۔ باقی چیزیں کالے بازار، نیلام اور کیوریو کی دکانوں میں ملی ہیں۔ یہ جوکٹ گلاس کا شراب کا پیالہ دیکھ رہے ہیں، وہ مجھے کلکتہ کی رسل اسٹریٹ کی ایک نیلام کی دکان میں ملا ہے۔ اس شراب کے پیالے میں برانڈی کے ساتھ زہر ملا دینے کی وجہ سے انیسویں صدی کے ایک لحیم شحیم انگریز کی کلکتہ میں موت ہوگئی تھی۔‘‘
میں کچھ دیر سے الماری کی چیزوں کو چھوڑ کر سنکی بابو کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ بہت غور کرنے پر بھی ان میں بہروپیے کی کوئی نشانی نظر نہ آئی۔ اورنہ ہی پاگل پن کی کوئی علامت ؟ لگتا تو نہیں ہے۔ پاگلوں کی آنکھوں میں ایک قسم کی اداسی نظر آتی ہے۔ شاعر، جذباتی لوگوں اور درویشوں یا عارفوں میں بھی یہ اداسی کبھی کبھی نظر آتی ہے۔
اس کے بعد میں وہاں نہیں رکا۔ وداع کہہ کر جب وہاں سے روانہ ہوا تو انھوں نے کہا، ’’پھر آئیے گا۔ آپ جیسے لوگوں کے لیے میرادروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ آپ کہاں ٹھہرے ہوے ہیں؟‘‘
’’ایلس وِلا ہوٹل میں۔‘‘
’’اوہ! تب تو دس منٹ کا راستہ ہے۔ آپ کے ساتھ وقت اچھا گزرا۔ کوئی کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے جسے میں قطعی برداشت نہیں کرپاتا۔ مگر آپ سمجھدار اورنیک دل انسان ہیں۔‘‘
تیسرے پہر ڈاکٹر بھومک نے چائے پر بلایا تھا۔ میرے علاوہ دولوگ اور مدعو تھے۔ چائے کے ساتھ چنا چور اور کیک کھاتے کھاتے میں نے سنکی بابو کا ذکر چھیڑ دیا۔ بھومک بابو نے دریافت کیا، ’’وہاں کتنی دیر تک تھے؟‘‘
’’تقریباً ایک گھنٹے تک۔‘‘
’’باپ رے!‘‘ ڈاکٹر بھومک کو بے حد حیرانی ہوئی۔’ ’ایک گھنٹے تک اس جھوٹے کی بکواس سنتے رہے؟‘‘
میں مسکرایا۔ ’’اتنی بارش ہورہی ہے کہ آزادی سے گھومنا پھرنا مشکل ہے۔ ہوٹل کے کمرے میں بند رہنے کے بجاے ان کی سننا کہیں اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’کس کے بارے میں باتیں چل رہی ہیں؟‘‘
یہ سوال تقریباً چالیس سال کے ایک آدمی نے پوچھا۔ ڈاکٹر بھومک نے تعارف کے طور پر ان کانام مسٹر خاستگیر بتایا تھا۔ سنکی بابو کے سنکی پن کی باتیں سن کر مسٹر خاستگیر نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوے کہا، ’’ایسے لوگوں کو یہاں ڈیرا ڈالنے کا موقع دے کر یہاں کی آب وہوا خراب کیوں کر رہے ہیں، ڈاکٹر بھومک؟‘‘
ڈاکٹر بھومک نے مسکراکر کہا، ’’اتنے بڑے شہر کی آب وہوا خراب کردیں، ایسی صلاحیت کیا ان میں ہے؟ شاید نہیں۔‘‘
مسٹر نسکر نامی ایک تیسرے شخص نے ہندوستان کے دروغ گویوں کے برے اثرات پر ایک چھوٹی موٹی تقریر کرڈالی۔ آخر کار لاچار ہوکر مجھے کہنا پڑا کہ سنکی بابو چونکہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں، لہٰذا ان کے جھوٹ کا اثر دوسروں پر پڑنے کی امید کم ہی ہے۔
بھومک صاحب دارجیلنگ میں لگ بھگ تیس سال سے رہ رہے ہیں۔ خاستگیر بھی پرانے باشندے ہیں۔ لہٰذا میں ان دونوں سے ایک سوال کیے بغیر نہ رہ سکا۔
’’جل پہاڑ روڈ میں کوئی انگریز گھڑسوار دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے مر گیا ہو، ایسا کوئی واقعہ آپ لوگوں کو معلوم ہے؟‘‘
’’تم میجر بریڈلے کے بارے میں کہہ رہے ہو؟ یہ تو تقریباً آٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ اسٹروک ہوا تھا۔شاید جل پہاڑ روڈ پر ہی۔ اسپتال لایا گیاتھا، مگر اس کے پہلے ہی ان کی موت ہوچکی تھی، مگر تم یہ باتیں کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
میں نے سنکی بابو کے بٹن کی بات بتائی۔
مسٹر خاستگیر آگ بگولا ہوگئے۔ ’’وہ اس قسم کی باتیں کر کے کسی غیبی طاقت کا دعویٰ کر رہا ہے؟ ارے ، یہ تو نمبری شیطان معلوم ہوتا ہے ۔ اتنے عرصے سے دارجیلنگ میں رہ رہا ہے۔ گھوڑے سے گر کر انگریز مرچکا ہے، یہ بات یوں بھی اس کے کانوں میں پہنچ سکتی ہے۔ اس میں غیبی طاقت کی بات کہاں سے آگئی؟‘‘
میں نے بھی اس بات پر غور کیاتھا۔ دارجیلنگ میں رہ کر وہاں کے ایک واقعے کو جاننا سنکی بابو کے لیے ناممکن نہیں ہے۔ اس لیے میں نے بات چیت کاسلسلہ آگے نہیں بڑھایا۔ چائے کا دور جب اس قسم کی باتوں کے بیچ ختم ہوگیا تو میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ میرے ساتھ ہی مسٹر نسکر بھی اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی ایلس وِلا کی طرف رہتے ہیں، لہٰذا میرے ساتھ ہی چہل قدمی کرتے ہوے لوٹیں گے۔ ہم ڈاکٹر بھومک سے وداع لے کر باہر نکل آئے۔ شام ہونے والی ہے۔ دارجیلنگ آنے کے بعد پہلی بار میں نے دیکھا کہ بادل چھٹنے لگا ہے اور ڈوبتے ہوے سورج کی کرنیں اسٹیج کی اسپاٹ لائٹ کی مانند شہر اور شہر کے آس پاس کے پہاڑوں پر چمک رہی ہیں۔
مسٹر نسکر دیکھنے میں کافی طاقتور لگ رہے تھے ، مگر اب دیکھ رہا ہوں کہ چڑھائی کے راستے میں کافی پریشان معلوم ہورہے ہیں۔ ہانپتے ہانپتے انھوں نے مجھ سے پوچھا، ’’وہ صاحب کہاں رہتے ہیں؟‘‘
میں نے کہا،’’ملیں گے؟‘‘
’نہیں، یوں ہی پوچھ لیا۔‘‘
سنکی بابو کے مکان کا پتا بتاتے ہوے میں نے کہا، ’’وہ چہل قدمی کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ ہوسکتا ہے راستے میں ہی ملاقات ہوجائے۔‘‘
کتنی حیرت انگیز بات ہے! وہی ہوا۔ بات کہنے کے بعد دو منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ایک موڑ پر آتے ہی ہم نے دیکھا، سامنے بیس ہاتھ کی دوری پر سنکی بابو ہیں۔ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور بائیں ہاتھ میں ایک مڑا ہوا اخبار لیے ہماری طرف ہی آرہے تھے۔ مجھے اپنے سامنے دیکھ کر ان کے چہرے پر جو تاثر آیا اسے اگر ہنسی نہ کہا جائے تو ناگواری بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ بتایا، ’’گھر میں بجلی فیل ہوگئی ہے بھائی، لہٰذا موم بتی خرید کر آرہا ہوں۔‘‘ اخلاقاً میں نے مسٹر نسکر سے ان کا تعارف کرایا،’’آپ ہیں مسٹر نسکر، اور آپ مسٹر مکرجی۔‘‘
نسکر رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔ نمسکار کرنے کے بجاے اپنا داہنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ زبان سے کسی قسم کاجملہ ادا کیے بغیر سنکی بابونے ان سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد وہ اسی طرح کھڑے رہے جیسے پہلے تھے۔ میرے ساتھ ساتھ مسٹر نسکر بھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگے۔ تقریباً آدھا منٹ تک خاموش رہنے کے بعد حالات جب نسکر کی برداشت کے باہر ہوگئے تو انھوں نے کہا،’’اچھا، میں پھر آگے بڑھتا ہوں۔ آپ کے بارے میں سناتھا، اتفاقاً ملاقات ہوگئی۔‘‘
’’اچھا، چلوں مسٹر مکرجی!‘‘ لاچار ہوکر مجھے بھی یہی کہنا پڑا۔ اس وقت سنکی بابو بالکل پاگل جیسے لگ رہے تھے۔ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر وہ کیا سوچ رہے ہیں، پتا نہیں ۔ ہم لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کی بات کی جیسے انھیں پروا ہی نہیں تھی۔ ہوسکتا ہے نسکر صاحب انھیں پسند نہ آئے ہوں، مگر مجھ سے تو آج صبح بہت خلوص سے بات چیت کرچکے ہیں۔ انھیں پیچھے چھوڑ کر ہم آگے نکل گئے۔ اس کے بعد میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا، وہ تب بھی اسی طرح کھڑے تھے۔ نسکر صاحب نے اپنی رائے ظاہر کی، ’’آپ سے سننے کے بعد یہ حضرت جتنے پاگل لگے تھے، اب دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس سے کہیں زیادہ پاگل ہیں۔‘‘
رات کے نو بجے ہیں۔ اب میں کھانا کھا کر، منھ میں پان کا ایک بیڑا دبائے ، جاسوسی ناول تھامے، بستر پر جانے کی سوچ رہا تھا کہ تبھی بیرے نے آکر خبر سنائی کہ ایک آدمی مجھے تلاش کر رہا ہے۔ باہر آکر دیکھا تو ایک دم حیران ہوگیا۔ اتنی رات میں سنکی بابو میرے پاس کیوں آئے؟ آج شام ہی ان میں اکتاہٹ کا جو جذبہ دیکھا تھا وہ احساس ابھی تک میرے ذہن سے پوری طرح سے دور نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے کہا، ’’یہاں بیٹھنے کی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تنہائی ہو؟‘‘
باہر کھڑے رہنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا، مگر پھر سے بارش کی بوندیں ٹپکنے لگی ہیں۔ میں انھیں اپنے کمرے کے اندر لے آیا۔
کرسی پربیٹھ کر ہانپتے ہوے بولے، ’’ذرا میری نبض تو دیکھو... میں تمھیں تم کہہ کر مخاطب کر رہاہوں، برامت ماننا۔‘‘
ان کے بدن پر ہاتھ رکھتے ہی میں چونک اٹھا۔ کافی تیز بخار ہے۔ میں نے گھبراکر کہا، ’’ایناسِن دوں؟ میرے پاس ہے۔‘‘
سنکی بابو نے ہنستے ہوے کہا، ’’کسی بھی سِن سے فائدہ نہ ہوگا۔ آج رات بھر بخار رہے گا۔ کل ریمیشن ہوجائے گا۔ مگر اصل بات بخار نہیں ہے۔ میں تمھارے پاس علاج کرانے نہیں آیا ہوں۔ مجھے اُس انگوٹھی کی ضرورت ہے۔‘‘
انگوٹھی؟ کس انگوٹھی کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟
مجھے حیران دیکھ کر وہ تھوڑی بے صبری کے ساتھ بولے، ’’وہی لسکر یانسکر... ایسا ہی کچھ نام تم نے بتایا تھا۔ ان کے ہاتھ کی انگوٹھی پر تمھاری نظر نہیں پڑی؟ سستی انگوٹھی ہے۔ نگ یا پتھر جڑا ہوا نہیں ہے، مگر مجھے وہ انگوٹھی ہر حال میں چاہیے۔‘‘
اب مجھے یاد آیا کہ مسٹرنسکر کے داہنے ہاتھ کی انگلی میں میں نے چاندی کی ایک سگنیٹ رِنگ دیکھی تھی۔
سنکی بابو کہنے لگے، ’’ہاتھ ملاتے وقت انگوٹھی میری ہتھیلی سے چھو گئی۔ ایسا محسوس ہوا، میرے جسم کے اندر جیسے کوئی دھماکا سا ہوگیا ہو۔ اس کے بعد میرے ساتھ جیساہوتا ہے، وہی ہوا۔ سڑک کے بیچ کھڑے ہوکر میں نے واقعے کو دیکھنا شروع ہی کیا تھا کہ سامنے سے ایک جیپ آئی اور اس نے سب کچھ برباد کرڈالا۔‘‘
’’اس کامطلب تو یہ ہوا کہ واقعے کو آپ دیکھ نہیں سکے؟‘‘
’’جتنا کچھ دیکھ چکا ہوں وہ کافی ہے۔ قتل کا معاملہ ہے ۔ حملہ آور کا چہرہ میں دیکھ نہیں سکا۔ انگوٹھی سمیت ہاتھ ایک آدمی کے گلے کی طرف بڑھتاجارہا ہے۔ شکار غیر بنگالی ہے۔ اس کے سر پر ایک راجستھانی ٹوپی ہے، آنکھوں پر سونے کاچشمہ۔ آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں۔ چیخنے کے لیے منھ کھولنا چاہتا ہے۔ نچلے جبڑے کا ایک دانت سونے سے منڈھا ہے... بس اتنا ہی۔ وہ انگوٹھی مجھے ہر حال میں چاہیے۔‘‘
میں کچھ دیر سنکی بابو کی طرف دیکھتا رہااور اس کے بعد کہا،’ ’دیکھیے، مسٹر مکرجی، اگر آپ کو انگوٹھی کی ضرورت ہے تو اسے خود ہی مسٹر نسکر سے مانگ لیجیے۔ میں انھیں سرسری طور سے جانتا ہوں، اور جہاں تک بات میری سمجھ میں آئی ہے، وہ آپ کی اس خوبی یا صلاحیت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔‘‘
’’پھر میرے مانگنے سے فائدہ ہی کیا ہے؟ بہتر تو یہی ہے کہ ...‘‘
’’ویری سوری، مسٹر مکرجی...‘‘ ان کی بات کاٹ کر صاف صاف کہے بغیر میں نہیں رہ سکا۔ ’’میں مانگوں تو بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انگوٹھی وغیرہ کے معاملے میں کبھی کبھی آدمی میں اتنا لگاؤ ہوتا ہے، یہ بات آپ سے چھپی نہیں ہے۔ وہ اس چیز کو اگر استعمال میں نہ لائے ہوتے تو...‘‘
اس کے بعد وہ وہاں بیٹھے نہیں۔ ایک لمبی سانس لے کر کرسی چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور بونداباندی میں ہی اندھیرے میں نکل پڑے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، ان کی فرمائش عجیب طرح کی ہے۔ راستے سے چیزیں چن لینا الگ طرح کی بات ہے، لیکن لوگوں سے ان کے ذاتی استعمال کی چیزیں مانگ کر اپنے ذخیرے میں اضافہ کرنے کی کوسش کرنا بے انصافی ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی ان کی مدد نہ کرتا۔ میں بھی کیسے کروں؟ اور نسکر ویسے بھی بے حد خشک آدمی ہیں۔ مانگنے پر ان سے انگوٹھی مل جائے گی، یہ امید کرنا ہی غلط ہے۔
دوسری صبح بادل چھٹ گئے تھے اور آسمان صاف ہوگیا تھا۔ یہ دیکھ کر میں برچ ہل کی طرف گھومنے نکل گیا۔ بالکل روکھا سوکھا دن ہے۔ ہال میں لوگوں کا جمگھٹ لگا ہے۔ بھیڑ کے بیچ سے ہوتا ہوا، گھوڑوں ا ور خچروں سے خود کو بچاتا ہوا، آہستہ آہستہ میں آبزرویٹری ہل کے مغربی اور ویران راستے پر پہنچ گیا۔ کل رات سے ہی سنکی بابو کا اداس چہرہ میرے سامنے آجاتا تھا اور دل میں یہ تمنا جاگ رہی تھی کہ اگر نسکر سے میری ملاقات ہوجائے تو ایک بار اس انگوٹھی کے بارے میں کچھ کہوں۔ ہوسکتا ہے انگوٹھی سے ان کو کوئی خاص لگاؤ نہ ہو اور میرے طلب کرنے پر وہ اسے دے دیں۔ سنکی بابو کو انگوٹھی دے دینے سے ان کے چہرے کا رنگ کیسا ہوجائے گا، یہ بات میں اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ بچپن میں میں ڈاک ٹکٹوں کو جمع کیا کرتا تھا، لہٰذا میں جانتا ہوں کہ ہابی کا نشہ کس قسم کا ہوتا ہے۔ اور سنکی بابو ایک ایسے شخص ہیں جو کسی طرح کے جھنجھٹ یا جھمیلے میں نہیں رہتے۔ اپنا انوکھا شوق ہے، اپنے آپ میں کھوئے رہتے ہیں۔ زور زبردستی کسی کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے کہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کی چیز کے لیے ان میں لالچ جگا ہو، اور وہ کوئی قیمتی چیز بھی نہیں ہے۔ سچ کہوں، کل رات کے بعد سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں روحانی شکتی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کے شوق کا سارا دارومدار ان کے سنکی پن کے تصورات پر منحصر ہے۔ لیکن اگر اس شوق سے وہ تنہا شخص خوش رہتا ہے تو دوسرے کو نقصان ہی کیا ہے؟ لیکن برچ ہل کے راستے پر دو گھنٹے تک چہل قدم کرنے پر بھی نسکر سے ملاقات نہیں ہوئی۔ جب میں ہل پہنچا تب تقریباً ساڑھے دس بج چکے تھے۔ بھیڑ تب بھی تھی، لیکن جاتے وقت جتنی بھیڑ تھی، اس سے تھوڑی کم۔ یہاں وہاں دس بیس آدمیوں کی کئی ٹولیاں کھڑی ہیں اور ان ٹولیوں میں کسی موضوع پر زوردار بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایک اجنبی ادھیڑ بنگالی کو اپنے قریب دیکھ کر میں نے پوچھا،’’ کیا بات ہے جناب؟ کچھ ہوا ہے کیا؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’کلکتہ کا کوئی بھاگا ہوا مجرم یہاں آکر چھپ گیا ہے۔ اس کا پیچھا کرتی ہوئی پولیس یہاں آئی ہے، اور تلاشی چل رہی ہے۔‘‘
’’اس آدمی کا نام آپ کو معلوم ہے؟‘‘
’’اصل نام معلوم نہیں ہے۔ یہاں اس نے اپنا نام نسکر بتایا ہے۔‘‘
میرا دل دھڑکنے لگا۔ ایک ہی آدمی ایسا ہے جو اصلی بات بتا سکتا ہے، اور وہ ہیں ڈاکٹر بھومک۔
مجھے ان کے گھر تک جانا نہیں پڑا۔ لیڈین لا روڈ پر، رکشے کے ڈیرے کے پاس خاستگیر اور ڈاکٹر بھومک سے ملاقات ہوگئی۔
بولے، ’’کل تیسرے پہر یہ آدمی میرے گھر آکر چائے پی گیا۔ تین روز قبل میرے پاس پیٹ درد کا علاج کروا گیا تھا۔ تنہا آدمی ہے، نیا نیا یہاں آیا ہے، یہی سوچ کر گھر پر کھانا کھانے بلایا تھا، اور آج یہ بات سن رہا ہوں۔‘‘
’’پکڑا گیا یا نہیں؟‘‘ میں نے بے چین ہوکر پوچھا۔
’’ابھی تک پکڑا نہیں گیا ہے۔ صبح سے ہی غائب ہے۔ پولیس اس کو تلاش کر رہی ہے۔ لیکن ہے تو اسی شہر میں، بھاگ کر جائے گا کہاں؟ لیکن کتنی بری بات ہے...!‘‘
ڈاکٹر بھومک اور خاستگیر چلے گئے۔ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میری نبض تیز چل رہی ہے۔ یہ سوچ کر نہیں کہ نسکر مجرم ہے، بلکہ اس لیے کہ سنکی بابو انگوٹھی کے لیے کتنے بے چین تھے ! قاتل کے ہاتھ کی انگوٹھی ہے ، یہ بات سنکی بابو نے بتائی تھی۔ تو کیا وہ روشن ضمیر ہیں؟
راستے میں کھڑا کھڑا جب میں یہ سوچ رہا تھا تو دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک بار سنکی بابو سے مل آؤں۔ انھیں کیا یہ خبر ملی ہے؟ ایک بار اس کی تحقیقات کرنا ضروری ہے۔
لیکن سترہ نمبرمکان کے دروازے پر تین تین بار دستک دینے پر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ میں تیز قدموں سے ہوٹل چلا آیا۔ آدھے گھنٹے کے اندر موسلا دھار بارش ہوگئی ۔ جھلملاتی ہوئی صبح اب جیسے کسی دور کے خواب میں تبدیل ہوگئی ۔ پولیس کی تلاش چل رہی ہے۔ کہاں چھپ گئے مسٹر نسکر؟ کس کا قتل کیا تھا انھوں نے؟ کس طرح قتل کیا؟
ساڑھے تین بجے ہم لوگوں کے ہوٹل کے منیجر مسٹر سوندھی نے خبر دی کہ نسکر جس مکان میں تھے، اس کے پیچھے کے پہاڑ کے تقریباً تیس ہاتھ نیچے کے کھڈ میں نسکر کی لاش ملی ہے۔ اس کا ماتھا چورچور ہوگیا ہے۔ خود کشی، دماغی گڑبڑ، بھاگتے وقت پاؤں پھسل جانا، وغیرہ وغیرہـ لوگ اس طرح کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ کاروبار کے معاملہ میں پارٹنر سے دشمنی ہوگئی تھی، اسی وجہ سے اس کو قتل کردیا اور لاش کو چھپا کر آکر دارجیلنگ میں چھپ گیا۔ پولیس نے لاش کو برآمد کیا، وغیرہ وغیرہ۔
اب تو سنکی بابو سے ایک بار ملاقات کرنا ہی ہوگی۔ اب ان کو نظر انداز کر کے یا ہنس کر ان کی بات ہوا میں نہیں اڑائی جاسکتی۔ سوئٹزرلینڈ اور والٹےئر کے واقعات من گھڑت ہوسکتے ہیں، دارجیلنگ کی بات انھیں پہلے سے معلوم ہوسکتی ہے ، مگر نسکر قاتل ہے ،انھیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟
پانچ بجے جب بارش کچھ تھمی تو میں ان کے گھر پر گیا۔ دستک دیتے ہی دروازہ کھل گیا۔ سنکی بابو نے ہنس کر کہا، ’’آؤ بھیا، اندر چلے آؤ۔ میں تمھارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔‘‘
میں اندر گیا۔ شام اتر چکی ہے۔ سنکی بابو کی میز پر ایک موم بتی جل رہی ہے۔
’ ’آج بھی بجلی نہیں ہے،‘‘ انھوں نے مسکراتے ہوے کہا۔
میں بینت کی کرسی پر بیٹھتے ہوے بولا، ’’آپ کو خبر ملی ہے؟‘‘
’’تمھارے اس نسکر کی خبر؟ مجھے کیا خبر ملے گی؟ میں پہلے ہی جان گیا تھا۔ اور ہا ں،میں اس کا احسان مند ہوں۔‘‘
’’احسان مند؟‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچا۔
’’میرے ذخیرے کی سب سے قیمتی چیز وہ مجھے دے گیا ہے۔‘‘
’ ’دے گیا ہے؟‘‘ میرا گلا خشک ہونے لگا۔
’’دیکھ لو نا ، میز پر ہے۔‘‘
میں نے جیسے ہی میز کی جانب نظریں دوڑائیں، موم بتی کے پاس ہی کھلی کاپی کے سفید ورق پر وہی انگوٹھی رکھی ہوئی نظر آئی۔
’’واردات کا حساب میں نے لکھ لیا ہے۔ تماشا نمبر ایک سات تین،‘‘سنکی بابو نے کہا۔
مجھے ایک سوال پریشان کر رہا ہے۔’ ’دے گیا ہےـ ا س کا مطلب؟ کب دے گیا؟‘‘
’’دینا کیا آسانی سے چاہتا تھا؟‘‘ سنکی بابو نے ایک لمبی سانس لی۔ ’’زور زبردستی سے لینا پڑی۔‘‘
میں حیران بیٹھا ہوں۔کمرے میں صرف گھڑی کی آواز ٹک ٹک کر رہی ہے۔
’’تم نے آکر اچھا ہی کیا،‘‘ سنکی بابو نے کہا۔ ’’تمھیں ایک چیز دے رہا ہوں، اسے اپنے پاس ہی رکھ لینا۔‘‘
سنکی بابو کرسی سے اٹھ کر کمرے کی دوسری طرف اندھیرے کونے کی جانب چلے گئے۔ وہاں سے کھٹ کھٹ کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی ان کی آواز سنائی دی۔
’’اسے بھی مجھے اپنے ذخیرے میں رکھ لینا چاہیے تھا، مگر اس کا اثر میں برداشت نہیں کرپارہا ہوں۔ بار بار بخار آجاتا ہے اور ایک بہت ناخوشگوار منظر میری آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے۔‘‘
باتیں کرتے کرتے وہ تاریکی سے روشنی میں آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ اپنے داہنے ہاتھ کو میری طرف بڑھائے ہوے ہیں۔ اس ہاتھ میں ان کی وہی جانی پہچانی لاٹھی تھمی ہوئی ہے۔

براؤن صاحب کی کوٹھی

جب سے براؤن صاحب کی ڈائری ملی تھی ، بنگلور جانے کاموقع تلاش کر رہا تھا، اور وہ موقع اچانک میرے سامنے آگیا۔ بالی گنج اسکول کے سالانہ ری یونین کے موقعے پر پرانے ہم جماعت انیک چندر بھومک سے میری ملاقات ہوگئی۔ انیک نے بتایا کہ وہ بنگلور میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں نوکری کرتا ہے۔’’ ایک بار میرے یہاں گھومنے پھرنے آؤ نا۔ دَ بیسٹ پیلس اِن انڈیا۔ میرے گھر میں ایک علیحدہ کمرہ بھی ہے۔ آؤگے نا؟‘‘
اسکول میں انیک میرا گہرا دوست تھا۔ اس کے بعد جیسا ہوتا ہے وہی ہوا۔ ہم الگ الگ کالج میں داخل ہوے۔ اس کے علاوہ وہ سائنس کا طالب علم تھا اور میںآرٹ کا ۔ دونوں نے مختلف راستوں پر چلنا شروع کیا۔ پھر وہ ولایت چلا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دونوں کی دوستی میں تھوڑی بہت رکاوٹ آگئی۔ آج تقریباً بارہ سال کے بعد اس سے ملاقات ہوئی۔
میں نے کہا، ’’آسکتا ہوں۔ کون سا موسم سب سے اچھا رہتا ہے؟‘‘
’’کبھی بھی۔ بنگلور میں گرمی نہیں پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبوں کو یہ جگہ اتنی پسند تھی۔ جب مرضی ہو چلے آنا۔ اور ہاں، سات دن پہلے خبر بھیج دو تو بہتر ہوگا۔‘‘
خیر، اب ہوسکتا ہے براؤن صاحب کی کوٹھی دیکھنے کا سنہرا موقع مل جائے۔ لیکن اس کے پہلے یہ ضروری ہے کہ براؤن صاحب کی ڈائری کے بارے میں بتادوں۔
مجھے آپ ایک طرح سے پرانی کتابوں کا کیڑا کہہ سکتے ہیں۔ بینک میں نوکری کر کے جتنا کماتا ہوں اس کا تقریباً آدھا پرانی کتابوں کی خریداری میں چلا جاتا ہےـ سیاحتوں کی کہانیاں، شکار کی کہانیاں، تاریخ، سوانح عمری اور ڈائری وغیرہ۔ بہت ساری کتابیں پانچ سال کے درمیان میرے پاس جمع ہوگئی ہیں۔ کیڑوں کے چاٹے ہوے صفحات ، پرانے اور کمزور صفحات، ایک جگہ رکھے رہنے کی وجہ سے بے رنگ صفحات، ان سب سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور یہ سب میری عزیز ترین چیزیں ہیں۔اور پرانی کتابوں کی خوشبو! پہلی برسات کے بعد بھیگی مٹی سے جو سوندھی خوشبو آتی ہے اس کی اور پرانی کتابوں کے صفحات کی خوشبو، ان دونو ں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگر، زعفران، گلاب، خس، حنا، یہاں تک کہ فرانس کے عمدہ سے عمدہ پرفیوم کو ان دونوں کے سامنے ہار ماننا پڑے گی۔
پرانی کتابیں خریدنے کامجھے نشہ ہے اور پرانی کتابیں خریدنے کے سلسلے میں ہی براؤن صاحب کی ڈائری ملی تھی۔ اتنا بتا دوں کہ یہ چھپی ہوئی ڈائری نہیں ہے۔ حالانکہ چھپی ہوئی ڈائری بھی میرے پاس ہے۔وہ ڈائری سرپت کے قلم سے لکھی ہوئی اصلی ڈائری ہے۔ سرخ چمڑے سے مڑھی ہوئی، ساڑھے تین سو اوراق کی رول دار کاپی، ساڑھے چھ انچ ضرب ساڑھے چار انچ جلد کے چاروں طرف سونے کے پانی کی نقاشی کیا ہوا بارڈر ہے اور بیچ میں سنہرے چھپے حروف میں صاحب کا نام لکھا ہوا ہے ـجان مڈلٹن براؤن۔ جلدالٹنے کے بعد پہلے ورق پر صاحب کے دستخط ہیں اور نیچے ان کا پتاـایور گرین لاج، فریزر ٹاؤن، بنگلور۔ اور اس کے نیچے لکھا ہے: جنوری1858۔ یعنی اس ڈائری کی عمر ایک سو تیرہ سال ہے۔ براؤن صاحب کانام کئی اور کتابوں پر تھا اور انھیں کتابوں کے ساتھ یہ سرخ چمڑے سے منڈھی کاپی تھی۔ شہرت یافتہ کتابوں کے مقابلے میں اس کتاب کی قیمت بہت کم تھی۔ مقبول نے بیس روپے کامطالبہ کیا، میں نے دس روپے قیمت لگائی، آخر کار بارہ روپے میں سودا طے ہوگیا ۔ براؤن صاحب کوئی نامی آدمی ہوتے تو اس کتاب کا دام ایک ہزار روپے تک ہوسکتا تھا۔
ڈائری سے اس زمانے کے ہندوستان کے صاحبوں کی روز مرہ کی زندگی کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں بھی علم حاصل ہوسکتاتھا، ایسی امید مجھے نہیں تھی۔
سچ کہہ رہا ہوں، شروع کے سو ورق پڑھ جانے پر بھی اس سے زیادہ کچھ نہ ملا ۔ براؤن صاحب اسکول ماسٹر تھے۔ بنگلور کے کسی اسکول میں پڑھانے کا کام کرتے تھے۔ صاحب نے اپنی باتیں زیادہ لکھی ہیں؛ بیچ بیچ میں بنگلور شہر کا بھی ذکر ہے۔ ایک جگہ بڑے لاٹ صاحب کی بیوی لیڈی کیننگ کے بنگلور آنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا ہے۔ بنگلور کے پھول پھل، پیڑ پودوں اور باغیچوں کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ ایک جگہ انگلینڈ کے اپنے آبائی گھر اور بچھڑے ہوے قریبی رشتے داروں کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ بیوی الز بتھ کا بھی ذکر ہے جس کا کئی سال پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ اس میں سب سے دلچسپ بات جو ہے وہ یہ کہ سائمن کون تھاـ اس کا لڑکا یابھائی یا بھانجا۔ یہ بات ڈائری سے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ مگر ہاں، سائمن کے لیے صاحب کے دل میں جو گہرا لگاؤ تھا اسے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ ڈائری میں سائمن کی عقل، سائمن کی ہمت، سائمن کے غصے، غرور، شرارت اور من موجی پن وغیرہ کا ذکرکیا گیا ہے۔ سائمن فلاں کرسی پر بیٹھنا پسند کرتا ہے ، آج سائمن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آج دن بھر سائمن پر نظر نہ پڑنے کی وجہ سے دل اداس ہےـاس طرح کی چھوٹی موٹی باتیں بھی ہیں۔ ا س کے علاوہ سائمن کی دردناک موت کی خبر بھی ہے۔ 22ستمبر کو شام ساڑھے سات بجے بجلی گرنے سے سائمن کی موت واقع ہوئی تھی۔ دوسرے دن صبح کے وقت براؤن صاحب کے باغیچے کے جھلسے ہوے یوکلپٹس کے درخت کے پاس سائمن کی لاش ملی تھی۔
ا س کے بعد ایک مہینے تک ڈائری میں ایسی کوئی قابلِ ذکر بات نہیں ہے۔ جو ہے اس میں دکھ اور مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ براؤن صاحب نے اپنے وطن لوٹ جانے کی بات سوچی ہے، مگر ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ سائمن کی روح سے دور چلے جائیں۔ صاحب کی صحت بھی ذراخراب ہوگئی ہے۔ آج بھی اسکول نہیں گیاـ اس بات کاذکر پانچ پانچ جگہ پر ہے۔ لکاس نام کے ایک ڈاکٹر کابھی ذکر کیا گیا ہے جس نے براؤن صاحب کی صحت کی جانچ کی تھی اور دوا لکھ کر دی تھی۔
اس کے بعد اچانک دونومبر کی ڈائری میں ایک حیرت انگیز واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اسی واقعے نے میری نظر میں ڈائری کی قیمت ہزاروں گنا بڑھا دی ہے۔ براؤن صاحب روزانہ کے واقعات نیلی روشنائی سے لکھتے تھے مگر اس واقعے کو انھوں نے سرخ روشنائی سے لکھا ہے۔ اس میں انھوں نے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ میں اس کا ترجمہ پیش کرر ہا ہوں:
’’ میں تیسرے پہر اپنا دل بہلانے کے لیے لال باغ کے پیڑ پودوں کے پاس گیا تھا۔ شام ساڑھے سات بجے گھر لوٹ کر جیسے ہی ڈرائنگ روم کے اندر داخل ہوا، دیکھا، سائمن آتشدان کے پاس اپنی پیاری ہائی بیکڈ کرسی پر بیٹھا ہے۔ سائمن!ـ واقعی سائمن ہی تھا۔ میں اسے دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوگیا۔ اور وہ صرف بیٹھا ہی نہیں ہے، بلکہ اپنی محبت بھری نگاہوں سے مجھے ایک ٹک دیکھ رہا ہے۔ اس کمرے میں روشنی نہیں ہے۔ میرے کام چور خانساماں ٹامس نے یہاں بتی نہیں جلائی ہے۔ اس لیے سائمن کو غور سے دیکھنے کے لیے میں نے جیب سے دیاسلائی باہر نکالی۔ تیلی کو ڈبیا سے رگڑتے ہی روشنی ہوگئی، مگر مجھے بہت ہی افسوس ہوا کیونکہ اس دوران سائمن غائب ہوگیا۔ اتنا ضرور ہے کہ مجھے یہ امید نہیں ہے کہ پھر کبھی سائمن کو دیکھ سکوں گا۔ اس طرح بھوت کی حالت میں بھی اگر وہ کبھی کبھی دکھائی دے جائے تو میرے دل سے تمام دکھ دور ہوجائیں۔ واقعی آج بہت خوشی کا دن ہے۔ مر کر سائمن مجھے بھول نہیں سکا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی پیاری کرسی کو بھی نہیں بھولا ۔دہائی ہے سائمن! بیچ بیچ میں تم نظر آجانا ۔ اس کے علاوہ میں تم سے اور کچھ نہیں چاہتا ہوں ۔ اتنا ہی میسر ہوجائے تو میں اپنی باقی زندگی چین و سکون سے گزار لوں گا۔‘‘
اس کے بعدڈائری پڑھی نہیں جاتی۔ جو کچھ بھی ہے، اس میں دکھ کی کوئی چھاپ نہیں، کیونکہ سائمن سے براؤن صاحب سے ہر روز ملاقات ہوجاتی ہے، سائمن کے بھوت نے صاحب کو مایوس نہیں کیاتھا۔
ڈائری کے آخری ورق پر لکھا ہے : ’’جو مجھے پیار کرتا ہے، اس کی موت کے بعدبھی اس کا پیار برقرار ہے۔ یہ جان کر مجھے بے حد سکون ملتا ہے۔‘‘
بس، اتنا ہی ۔ لیکن اب سوال اٹھتا ہے:براؤن صاحب کی کوٹھی، بنگلور کے فریزر ٹاؤن کا ایورگرین لاج، اب ہے یا نہیں، اور وہاں اب بھی شام کے وقت سائمن کے بھوت کی آمد ہوتی ہے یا نہیں؟ میں اگر اس کوٹھی میں جاکر ایک شام گزاردوں تو کیا سائمن کے بھوت کو دیکھ سکوں گا؟
بنگلور آنے پر پہلے دن انیک کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔ اس کی ایمبیسڈر گاڑی پر گھوم کر پورے بنگلور شہر کی سیر کی۔ یہاں تک کہ فریزر ٹاؤن کو بھی نہیں چھوڑا۔ بنگلور واقعی بہت خوبصورت جگہ ہے، اس لیے اس شہر کی تعریف کرنے میں مجھے جھجھک نہیں ہوئی۔ بنگلور صرف خوبصورت ہی نہیں ہے، کلکتہ سے یہاں آنے پر محسوس ہوا جیسے بنگلور ہر قسم کی ہلچل سے دور شانت شہر ہےـبالکل میرے غیر حقیقی خوابوں کے دیس جیسا۔
اگلے روز اتوار تھا۔ صبح انیک کے باغیچے میں رنگین چھتری کے نیچے بیٹھ کر چائے پیتے ہوے میں نے براؤن صاحب کا ذکر کیا۔ سن کر اس نے چائے کی پیالی بینت کی کرسی پر رکھ دی اور کہا، ’’دیکھو رنجن، جس کوٹھی کا تم نے ذکر کیا وہ شاید اب بھی ہو۔ ایک سو سال یوں کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہے۔ اور ہاں، وہاں جاکر اگر بھوت دیکھنے کا ارادہ ہے تو میں اس کام میں بالکل ساتھ نہیں دے سکتا ۔ برا مت ماننا بھائی، میں ہمیشہ سے ذرا حساس رہا ہوں۔ یوں ہی مزے میں ہوں۔آج کل شہر میں کوئی فساد نہیں ہے۔ بھوت کے پیچھے دوڑنے کامطلب ہے جان بوجھ کر فساد کو دعوت دینا۔ میں اس کام میں شریک نہیں ہوسکتا۔‘‘
انیک کی باتیں سن کر محسوس ہوا، بارہ سال کے دوران میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اسکول میں بھی وہ ڈرپوک کے نام سے مشہور تھا۔ یاد آیا، ایک بار ہمارے ہم جماعت جینت اور کچھ شرارتی لڑکوں نے مل کرایک شام بالی گنج کے سرکلر روڈ کے رائیڈنگ اسکول کے پاس خود کو سر سے پیر تک سفید کپڑے سے ڈھک کر اسے ڈرا دیا تھا۔ انیک اس واقعے کے بعد دو دن اسکول نہیں آیاتھا اور انیک کے والد نے ہیڈماسٹر ویریشور بابو کے پاس آکر اس واقعے کی شکایت کی تھی۔
میں اس بارے میں کچھ کہوں، اس کے پہلے ہی اچانک انیک نے کہا ، ’’اگر تمھیں جانا ہی ہے تو ساتھی کی کمی نہیں ہوگی۔ آئیے مسٹر بنرجی!‘‘
میں نے پیچھے کی طرف مڑکر دیکھا۔ تقریباً پیتالیس سال کے ایک ادھیڑ عمر شخص انیک کے باغیچے کے پھاٹک سے داخل ہوکر ہنستے ہوے ہماری طرف آرہے ہیں۔ ہٹا کٹا بدن، تقریباً چھ فٹ اونچا قد، لباس سلیٹی رنگ کی ہینڈ لوم کی پتلون اور اس پر گہرے نیلے رنگ کی ٹیریلین کی بش شرٹ، گلے میں کالا سفید بواور ریشمی مفلر۔
انیک نے تعارف کرایا،’’ آپ ہیں میرے دوست رنجن سین گپت اور آپ مسٹر ہرشی کیش بنرجی۔‘‘
معلوم ہوا کہ وہ بنگلور کی ایر کرافٹ فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ بہت دن سے بنگال کے باہر ہیں اس لیے ان کے لہجے میں غیر بنگالی پن کی چھاپ ہے۔ ساتھ ہی انگریزی الفاظ کااستعمال کثرت سے کرتے ہیں۔
انیک نے بیرے کو پکارا اورایک پیالی چائے لانے کا حکم دیا، اور پھر سیدھے براؤن صاحب کی کوٹھی کا ذکر چھیڑ دیا۔ سن کر انھوں نے ایسا قہقہہ لگایاکہ ایک گلہری جو کچھ دیر پہلے ہماری میز کے اردگرد چکر لگارہی تھی، اپنی دم اٹھا کر دیودارو کے پیڑ کے تنے کو پار کر اونچی ڈال پر چل گئی۔
’’گوسٹس؟ گوسٹس؟ یوسیریسلی بی لیو اِن گوسٹس ؟ اس زمانے میں بھی؟ اس دور میں بھی؟‘‘
بنرجی کی ہنسی کا سلسلہ تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا تھا۔ دیکھا ان کے دانت سفید اور مضبوط ہیں۔
انیک نے کہا، ’’چاہے جو بھی ہو مسٹر بنرجی، گوسٹ اور نوگوسٹ، ویسا اگر کوئی مکان ہے اور رنجن جبکہ ایک عجیب وہم پالے ہوے ہے تو اس کے ساتھ کسی شام آپ وہاں تھوڑی دیر تک رہ سکتے ہیں یا نہیں، یہ بتائیے۔ وہ کلکتہ سے آیا ہے اور میرا مہمان ہے۔ اسے میں وہاں اکیلے نہیں جانے دوں گا۔ اور سچ کہوں، میں بہت محتاط رہنے والا آدمی ہوں، اگر میں اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤں تو اسے آسانی کے بجاے پریشانی ہوگی۔‘‘
مسٹر بنرجی نے اپنی قمیص کی جیب سے ایک ترچھے پائپ کو باہرنکالااور اس میں تمباکو ٹھونستے ہوے کہا ، ’’مجھے کوئی دقت نہیں ہے۔ مگر ہاں، میں ایک ہی شرط پرجاسکتا ہوں۔ وہ یہ کہ میں اپنے ساتھ ایک کے بجاے دو آدمی لے کرجاؤں گا۔‘‘
اپنی بات ختم کر کے بنرجی نے پھر ایک قہقہہ لگایا اور اس قہقہے کی وجہ سے آس پاس کے پیڑوں سے چار پانچ قسم کے پرندوں کی کرخت آواز اور پنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دی۔
انیک کا چہرہ حالانکہ ذرا اتر گیا مگر وہ انکارنہیں کرسکا۔
’’کوٹھی کا نام کیا بتایا؟‘‘ بنرجی نے پوچھا، ’’ایور گرین لاج؟‘‘
’’ڈائری تو یہی بتاتی ہے۔‘‘
’’ہوں...‘‘ انھوں نے پائپ کا کش لیا۔ ’’فریزر ٹاؤن میں صاحبوں کی کچھ کوٹھیاں ہیں، کاٹیج ٹائپ کی۔ اینی وے... اگر جاناہی ہے تو دیر کرنے سے کیافائدہ؟ واٹ اباؤٹ آج تیسرے پہر؟ یہی کوئی چار بجے؟‘‘
انجینئر ہونے سے کیاـ انداز بالکل ملٹری مین اور صاحب کے جیسا ہے۔گھڑی دیکھ کر ٹھیک چاربجے ہرشی کیش بنرجی اپنی مورس مائنر کارلے کر آدھمکے۔ جب گاڑی میں بیٹھ گئے تو انھوں نے کہا، ’’ساتھ میں کیا کیا لیا؟‘‘
انیک نے فہرست بتائی۔ پانچ سیل کا ایک ٹارچ، چھ موم بتیاں، فرسٹ ایڈ باکس، ایک بڑے فلاسک میں گرم کافی،ایک ڈبا ہیم سینڈوچ، ایک پیکٹ تاش، زمین پر بچھانے کے لیے ایک چادر، مچھروں کو بھگانے کے لیے ایک ٹیوب اوڈوماس۔‘‘
’’اور ہتھیار؟‘‘ بنرجی نے پوچھا۔
’’بھوت کو کس ہتھیار سے قابو میں کیا جاتا ہے؟‘‘
’’کیوں رنجن، تمھارے سائمن کابھوت کیسا ہے؟ خیر...‘‘ مسٹر بنرجی نے گاڑی کے دروازے کو بندکر تے ہوے کہا، ’’میرے پاس ایک چھوٹاسا آگ اگلنے والاہتھیار ہے، اس لیے سالڈ لیکوِڈ کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
گاڑی روانہ ہونے پربنرجی نے کہا، ’’ایورگرین لاج کی بات بے پر کی نہیں ہے۔‘‘
میں نے حیران ہوکر کہا، ’’آپ نے اس درمیان پتا بھی لگا لیا؟‘‘
بنرجی نے ایک ایک کر دو سائیکل سواروں کے بیچ سے گاڑی نکالتے ہوے کہا، ’’آئی ایم اے ویری میتھوڈیکل مین، مسٹر سین گپت۔ جہاں جانا ہے، وہ جگہ ہے یا نہیں، اس کے بارے میں پہلے سے ہی پتا لگالینا کیا ٹھیک نہیں ہے؟ اُس طرف شری نواس دیش مکھ رہتے ہیں۔ ہم ایک ساتھ ہی گولف کھیلتے ہیں۔ ان سے میری کافی پرانی جان پہچان ہے۔ صبح یہاں سے انھیں کے گھر گیا تھا۔ انھوں نے بتایا، ایور گرین نام کا ایک منزلہ کاٹیج تقریباً پچاس سال سے خالی پڑا ہے۔ مکان کے باہر ایک باغیچہ ہے، جہاں لوگ دس سال پہلے تک پکنک کرنے جایا کرتے تھے، مگر اب نہیں جاتے ۔ مکان بالکل سنسان علاقے میں ہے۔ پہلے بھی اس مکان میں کوئی ایک لمبے عرصے تک نہیں رہا ہے اور ہاں، کسی نے ہانٹڈ ہاؤس کہہ کر اسے بدنام نہیں کیا ہے۔ مکان کافرنیچر بہت پہلے ہی نیلام ہوچکا ہے۔ ان میں سے کچھ کرنل مارسر کے مکان میں ہے۔ وہ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں اور فریزر ٹاؤن میں ہی رہتے ہیں۔ سب کچھ سننے کے بعد لگتا ہے، مسٹر سین گپت، ہمیں پکنک کر کے ہی لوٹ آنا پڑے گا۔ انیک نے تاش لاکراچھا ہی کیا ہے۔‘‘
بنگلور کی صاف ستھری چوڑی سڑک سے گاڑی گزرتے ہوے محسوس ہورہا ہے ، یہ شہر بھوت پریت سے اتنا خالی ہے کہ یہاں کسی بھوت بنگلے کے وجود کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔
لیکن اس کے بعد ہی مجھے براؤن صاحب کی ڈائری کی بات یاد آجاتی تھی۔ پاگل ہوے بغیر کوئی آدمی اس طرح کی حیرت انگیز باتیں ڈائری میں کیوں لکھے گا؟ سائمن کے بھوت کو براؤن صاحب نے خود ہی دیکھا ہےـ ایک بار نہیں، کئی بار۔ وہ بھوت کیا ہمیں ایک بار بھی دکھائی نہ دے گا؟
میں ولایت نہیں گیا ہوں مگر ولایت کی کاٹیجوں کی بے شمار تصویریں کتابوں میں دیکھی ہیں۔ ایورگرین لاج کے سامنے آنے پر آکر محسوس ہوا، میں واقعی انگلینڈ کے دیہی علاقے کے ایک پرانے ویران مکان کے سامنے آگیا ہوں۔
کاٹیج کے سامنے باغیچہ ہے ۔ یہاں اب پھولوں کی کیاریوں کی جگہ گھاس اور جھاڑ جھنکاڑ ہیں۔ لکڑی لے کر باغیچے کے اندر جانا پڑتا ہے۔ اس گیٹ کے سرے پر گھر کانام لکھا ہے۔ اور ہاں، شاید کسی پکنک کرنے والے کی جماعت نے ہی مذاق میں ’’ایورگرین‘‘ لفظ سے پہلے ایک’این‘ جوڑکر اسے ’’نیور گرین‘‘ بنادیا ہے۔
ہم گیٹ سے داخل ہوکر مکان کی طرف بڑھنے لگے ۔ چاروں طرف ان گنت پیڑ پودے ہیں۔ تین چار یوکلپٹس کے پیڑ ہیں، باقی جتنے بھی پیڑ ہیں ان کا مجھے نہیں معلوم ۔ بنگلور کی آب و ہوا میں یہ خاصیت ہے کہ وہاں کسی بھی علاقے کا درخت زندہ رہ جاتا ہے۔
کاٹیج کے سامنے ٹائل سے چھاؤنی کیا ہوا پورٹیکو ہے۔ اس کے ٹیڑھے میڑھے کھمبوں سے ہوتی ہوئی بیل اوپر کی طرف چلی گئی ہے۔ چھاؤنی کی بہت سی ٹائلیں غائب ہیں، جس کی وجہ سے درار سے آسمان دکھائی دیتا ہے۔ سامنے کے دروازے کا ایک پٹ ٹوٹ کر ترچھا پڑاہوا ہے۔ مکان کے سامنے کے دروازے کھڑکیوں کے کانچ ٹوٹ گئے ہیں۔ دیوار پر لونی لگنے کی وجہ سے ایسی حالت ہوگئی ہے کہ مکان کااصل رنگ کیا تھا،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ہم دروازے سے مکان کے اندر داخل ہوے۔
اندر جاتے ہی ایک گلیارا ملا۔ پیچھے کی طرف ٹوٹی دیوار سے ایک کمرہ نظر آرہا ہے۔ ہمارے داہنے اور بائیں طرف بھی کمرے ہیں۔ داہنی طرف کا کمرہ بڑا معلوم ہوتا ہے۔ اندازہ لگایا، یہی بیٹھک رہی ہوگی۔فرش پر ولایتی انداز کے تختے لگے ہیں، مگرایک بھی تختہ صحیح سالم نہیں ہے۔ ہوشیاری سے قدم رکھنا پڑتا ہے اور ہر قدم پر کھٹ کھٹ کی آواز ہوتی ہے۔
ہم کمرے کے اندر داخل ہوے۔
خاصا بڑا کمرہ ہے۔ فرنیچر نہ ہونے کی وجہ سے اور بھی سونالگتا ہے۔ مغرب اور شمال کی طرف کھڑکیوں کی قطار ہے۔ ایک طرف کی کھڑکی سے گیٹ سمیت باغیچہ دکھتا ہے، دوسری طرف کی کھڑکی سے درختوں کی قطار ۔ کیا انھیں پیڑوں میں سے کسی پر بجلی گری تھی؟ سائمن اسی کے نیچے کھڑا ہوگا اور وہیں پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی۔ سوچتے ہی رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
اب میں نے جنوب کی طرف بغیر کھڑکی والی دیوار کی طرف دیکھا۔ بائیں کونے میں آتشدان ہے۔ اس آتشدان کے پاس ہی سائمن کی پیاری کرسی رہی ہوگی۔ کمرے کی چھت کی طرف دیکھنے پر مکڑی کے جالوں کو جھولے ہوے پایا۔ کسی زمانے میں ایورگرین لاج خوبصورت رہا ہوگا، اب اس کی حالت خستہ ہوگئی ہے۔
مسٹر بنرجی شروع میں ’’لا... لا... لا...‘‘ کرتے ہوے ولایتی لہجے میں گنگنا رہے تھے۔ اب انھوں نے پائپ سلگایا اور کہا ، ’’آپ لوگ کون سا کھیل کھیلنا جانتے ہیں؟ بر ج یا پوکر یا رمی؟‘‘
انیک اپنے سامان کو فرش پر رکھنے جارہا تھا، تبھی ایک آواز سنائی دی۔
کسی دوسرے کمرے میں کوئی آدمی جوتاپہن کر چہل قدمی کر رہا ہے۔
انیک کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اترا ہوا پایا۔ پیروں کی آواز تھم گئی۔ مسٹر بنرجی اچانک اپنے منھ سے پائپ ہٹاکر زور سے چلا اٹھے،’ ’اِز اینی باڈی دےئر؟‘‘ اور ہم تینوں گلیارے کی طرف بڑھ گئے۔ انیک اپنے ہاتھ سے میرے کوٹ کی آستین تھامے ہوے تھا۔
جوتے کی آواز پھر سے شروع ہوئی۔ ہم جیسے ہی باہری گلیارے میں پہنچے، دوسری طرف کے کمرے سے ایک آدمی نکل آیااور ہم پر نظر پڑتے ہی چونک کر کھڑا ہوگیا۔ وہ بھی ایک ہندوستانی ہی تھا۔ چہرہ داڑھی اور مونچھوں سے بھرا ہونے کے باوجود بھی وہ شریف اور تعلیم یافتہ معلوم ہورہا تھا۔ اس نے کہا، ’’ہیلو!‘‘
وہ کون ہے، یہ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ تبھی اجنبی نے خود ہی ہمارے تجسس کو رفع کردیا۔
’’میرا نام وینکٹیش ہے۔ آئی ایم اے پینٹر۔ آپ لوگ اس مکان کے مالک ہیں یاخریدار؟‘‘
بنرجی نے ہنستے ہوے کہا،’’دونوں میں سے ایک بھی نہیں۔ ہم چکر لگاتے لگاتے یوں ہی یہاں پہنچ گئے ہیں۔‘‘
’’آئی سی! میرا خیال تھا، اگر یہ مکان مجھے مل جاتا تو اپنے کام کے لیے ایک اسٹوڈیو بنالیتا۔ ٹوٹا پھوٹا ہونے پر بھی مجھے اعتراض نہیں ہے۔ مالک کون ہے، اس بارے میں آپ لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے؟‘‘
’’جی نہیں، سوری۔ آپ کرنل مارسر کے یہاں جاکر معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ سامنے کے راستے سے بائیں طرف چلے جائیے ۔ پانچ منٹ کا راستہ ہے۔‘‘
’’شکریہ‘‘ کہہ کر مسٹر وینکٹیش وہاں سے چلے گئے۔
گیٹ کھولنے اور بند کرنے کے بعد مسٹر بنرجی نے ایک قہقہہ لگاتے ہوے کہا، ’’مسٹر سین گپت، یہ آدمی آپ کے سائمن یا اس قسم کا کوئی بھوت وغیرہ نہیں ہے۔‘‘
میں نے ہنس کر کہا،’’ ابھی صرف سوا پانچ ہی بجے ہیں، ابھی سے آپ بھوت کی امید کیسے کرسکتے ہیں؟ اور یہ بھلے آدمی اگر بھوت تھے تو انیسویں صدی کے نہیں ہوں گے، کیونکہ ویسا ہونے پر ان کا لباس اور ہی طرح کا ہوتا۔‘‘
اس بیچ ہم بیٹھک میں لوٹ آئے ہیں۔ انیک نے فرش پر بچھی ہوئی چادر پربیٹھتے ہوے کہا، ’’بے وجہ کوئی وہم پالنے کامطلب ہے نروس ہونا۔ اس سے تو بہتر یہی ہے کہ ہم تاش کھیلیں۔‘‘
’’پہلے تو کچھ موم بتیاں جلالو،‘‘ بنرجی نے کہا، ’’یہاں شام اچانک اتر آتی ہے۔‘‘
دو موم بتیاں جلاکر ہم نے انھیں لکڑی کے فرش پر کھڑا کردیا۔ اس کے بعد فلاسک کے ڈھکن میں کافی نکال کرباری باری سے پی۔ ایک بات میرے دل میں بہت دیر سے تھی، اسے بغیر کہے نہیں رہ سکا۔ بھوت کانشہ میرے سرپر کتنا سوار ہوگیا ہے، یہ آپ پر میری اس بات سے ظاہر ہوجائے گا۔ بنرجی کی طرف مخاطب ہوکر میں نے کہا، ’’آپ نے بتایاتھا کہ کرنل مارسر نے یہاں کا کچھ فرنیچر خریدا تھا۔ وہ جب اتنے قریب ہیں تو کیا ان سے ایک بات دریافت کی جاسکتی ہے؟‘‘
’’کیا؟‘‘ بنرجی نے پوچھا۔
’’ایک خاص قسم کی ہائی بیکڈ چےئر کے بارے میں؟‘‘
انیک نے تھوڑا اکتا کر کہا، ’’اچانک ہائی بیکڈ چےئر کے بارے میں پوچھ کر کیا ہوگا؟‘‘
’’نہیں، یعنی براؤن صاحب نے لکھا ہے وہ سائمن کی بڑی ہی پیاری کرسی تھی۔ بھوت ہونے کے بعد بھی وہ اسی کرسی پر بیٹھتا تھا اور وہ آتشدان کے پاس رکھی رہتی تھی۔ ہوسکتا ہے اسے یہاں لاکر رکھنے سے ...‘‘
انیک نے میری کاٹتے ہوے کہا، ’’ تم بنرجی صاحب کی اس مارِس کار پر ہائی بیکڈ چےئر لے آؤگے یا ہم تینوں ہی اسے کندھوں پر ڈھوکر لے آئیں؟ تمھارادماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟‘‘
بنرجی نے ہاتھ اٹھاکر ہم دونوں کو چپ کرایا اور کہا، ’’کرنل مارسر نے جو کچھ خریدا ہے اس میں اس قسم کی کرسی نہیں ہے، یہ بات مجھے معلوم ہے۔ میں اکثر ان کے گھر جایا کرتا ہوں۔ اگر وہ کرسی وہاں ہوتی تو میری نگاہ ضرور پڑتی۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ، انھوں نے دو بک کیس، دوآئل پینٹنگ، کچھ گلدستے اور شیلف سجانے کی کچھ شوقیہ چیزیں، جنھیں آرٹ آبجیکٹ کہتے ہیں، خریدی تھیں۔‘‘
میرا جوش ٹھنڈا پڑگیا۔ تاش نکال کر پھینٹنا شروع کیا۔ بنرجی نے کہا، ’’رمی ہی چلے، اور یہ کھیل تبھی جمتا ہے جب پیسہ لگاکر کھیلا جائے۔ آپ لوگوں کو اس بات پر کوئی اعتراض ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’بالکل نہیں۔ بس اتنی بات ضرور ہے کہ میں ٹھہرا بینک کا معمولی ملازم۔ بہت زیادہ پیسہ لگانے کی میری حیثیت نہیں ہے۔‘‘
باہر دن کی روشنی پھیکی ہوگئی ہے۔ ہم کھیل میں مشغول ہوگئے۔ تاش کے کھیل میں تقدیر کبھی میرا ساتھ نہیں دیتی ہے۔ آج بھی وہی حالت رہی۔ میں جانتا ہوں، انیک دل ہی دل میں گھبرایا ہوا ہے، اس لیے اگر جیت اس کی ہو تو مجھے بہت سکون ملے گا، مگر اس کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ صرف مسٹر بنرجی کی تقدیر ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ وہ ولایتی لہجے میں گنگناتے جارہے ہیں اور داؤں پر داؤں جیتے جارہے ہیں۔ کھیلتے کھیلتے سناٹے کے بیچ ایک بلّے کی آواز سنائی دی، جس کی وجہ سے میرے جوش پر اور زیادہ پانی پھر گیا۔ بھوت بنگلے میں بلّے کا رہنابھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بات جب میں نے بنرجی سے کہی تووہ ہنس کر بولے، ’’بٹ اٹ واز اے بلیک کیٹ۔ اسی گلیارے سے ہوکر گیا ہے۔ بلیک کیٹ تو بھوت کے ساتھ جاتا ہی ہے، ہے نا یہ بات؟‘‘
کھیل کا سلسلہ چلتا رہا۔ بیچ میں ایک انجان پرندے کی کرخت آواز کے سوا کسی طرح کی آواز، منظر یا واقعے نے ہماری تنہائی میں خلل نہیں ڈالا۔
گھڑی ساڑھے چھ بجارہی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ باہر بالکل روشنی نہیں ہے۔ اچھے پتے مل جانے کی وجہ سے میں لگاتار دو مرتبہ جیت چکا ہوں۔ اس بیچ رمی کا ایک اور دور چل چکا ہے۔ تبھی کانوں میں ایک عجیب سی آواز آئی۔
کوئی باہر سے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
ہم تینوں کے ہاتھ تاش سمیت نیچے گرپڑے۔
کھٹ کھٹ... کھٹ کھٹ...
انیک کا چہرہ اس بار اور زیادہ اتر گیا۔ میرا سینہ بھی اندر ہی اندر دھڑک رہا ہے۔ مگر بنرجی میں گھبراہٹ کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ اچانک سناٹے کو چیر کر وہ اپنی پرزور آواز میں چیخ اٹھے،’ ’ ہو از اٹ؟‘‘
دروازے پر دوبارہ کھٹکھٹاہٹ شروع ہوگئی۔
بنرجی پتالگانے کے لیے جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، ’’اکیلے مت جائیے۔‘‘
ہم تینوں ایک ساتھ کمرے کے باہرآئے۔ گلیارے میں آنے کے بعد بائیں طرف ہم نے ایک آدمی کو کھڑا پایا۔ وہ سوٹ پہنے ہے اور اس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ اندھیرے میں اسے پہچاننا مشکل ہے۔ انیک نے میری آستین پکڑ لی، اس بار اور زیادہ زور سے۔ اس کی حالت دیکھ کر خودبخود میرا حوصلہ بلند ہوگیا۔
اس بیچ بنرجی کئی قدم آگے بڑھ چکے تھے وہ چلا اٹھے، ’’اوہ، ہیلو ڈاکٹر لارکسن! آپ یہاں؟‘‘
اب میں نے بھی اس ادھیڑ شخص کو غور سے دیکھا۔ سونے کے چشمے کے پیچھے اس کی نیلی آنکھوں میں ایک دھند سی آگئی اور اس نے کہا،’’ تمھاری مارِس گاڑی باہر دکھائی دی۔ اس کے بعد دیکھا، کھڑکی سے موم بتی کی روشنی آرہی ہے ۔اس لیے سوچا، ایک بار دیکھ لوں کہ تم پر کس پاگل پن کابھوت سوار ہوا ہے۔‘‘
بنرجی نے ہنس کر جواب دیا،’’میرے ان دو جوان دوستوں کو ایک عجیب ایڈونچر کا شوق چرایا ہے۔ کہا، ایور گرین لاج میں بیٹھ کر تاش کھیلیں گے۔‘‘
’’ویری گڈ، ویری گڈ۔ جوانی ہی اس قسم کے پاگل پن کا وقت ہوا کرتا ہے۔ ہم بوڑھے صرف اپنے اپنے گھر کے کوچ پر بیٹھ کر پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔ ویل ویل، ہیو اے گڈ ٹائم۔‘‘
لارکسن صاحب نے ہاتھ اٹھاکر ’’گڈ بائی‘‘ کہا اور لاٹھی ٹیکتے ہوے چلے گئے، اور ہمیں بھی بھوت کی امید چھوڑنا پڑی۔ اب اور کیا کریں!
ہم پھر تاش کھیلنے میں مشغول ہوگئے۔ شروع میں تقریباً ساڑھے چار روپے ہار گیاتھا۔ پچھلے آدھے گھنٹے کے درمیان اس میں سے کچھ واپس آگیا ہے۔ سائمن کا بھوت نہ بھی نظر آئے مگر تاش میں جیت کر اگر گھر لوٹ سکوں تو آج کے اس سنسنی خیز ماحول اور ایڈونچر میں کوئی معنویت پیدا ہوسکتی ہے۔
بیچ بیچ میں آنکھیں گھڑی کی طرف چلی جاتی تھی۔اصلی واقعہ کب ہوا تھا، اس کا وقت مجھے معلوم نہیں۔ براؤن صاحب کی ڈائری سے اتناپتاچلاتھا کہ شام کے کسی وقت بجلی گرنے سے سائمن کی موت ہوئی تھی۔
میں تاش بانٹ رہا ہوں، مسٹر بنرجی اپنا پائپ سلگارہے ہیں، انیک سینڈوچ کھانے کی غرض سے پیکٹ میں ہاتھ ڈالنے جارہا ہے کہ اسی وقت اچانک اس کی نگاہ ایک دم بدل جاتی ہے اور اس کے جسم کے اعضا جیسے اکڑ سے جاتے ہیں۔
اس کی نگاہ دروازے کے باہر گلیارے کی طرف ٹکی ہوئی ہے۔ ہم دونوں کی نگاہ بھی اسی طرف چلی جاتی ہے۔ جو کچھ دیکھتا ہوں اس کی وجہ سے چند پل کے لیے میراگلابھی سوکھ جاتا ہے اور سانسوں کا چلنا بند ہوجاتا ہے۔
باہر گلیارے کے اندھیرے سے دو چمکتی ہوئی آنکھیں بلا پلک جھپکائے ہماری طرف گھور رہی ہیں۔
مسٹر بنرجی کا داہنا ہاتھ آہستہ آہستہ کوٹ کے ویسٹ پاکٹ کی طرف چلا جاتا ہے اور عین اسی وقت آئینے کی طرح وہ معاملہ میرے سامنے صاف ہوجاتا ہے اور میرے دل سے سارا خوف دورہوجاتا ہے۔ میں نے کہا ،’’آپ کے پستول کی ضرورت نہیں ہے، صاحب! یہ وہی کالا بلّا ہے۔‘‘
میری بات سے انیک کی ہمت بھی بڑھ گئی۔ بنرجی نے پاکٹ سے ہاتھ باہرنکال کر کہا، ’’ہاؤ رِڈیکلس!‘‘
اب وہ چمکتی آنکھیں ہمارے کمرے کی طرف آنے لگیں۔ چوکھٹ پار کرتے ہی موم بتی کی روشنی میں میری بات سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہی کالا بلّا تھا۔
چوکھٹ پار کر کے بلا بائیں طرف مڑا ۔ ہماری نگاہ اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھی، اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔ اس بار ہم تینوں کے حلق سے ایک ساتھ ایک ہی لفظ نکلاـ اچانک حیران ہونے پر جو لفظ حلق سے نکلتا ہے، بالکل ویسا ہی لفظ۔ اس لفظ کے ادا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب ہم تاش کھیلنے میں مشغول تھے، اس بیچ نہ جانے کہاں سے گاڑھے سرخ رنگ کے مخمل سے لپٹی ہوئی ہائی بیکڈ کرسی آتشدان کے پاس آگئی تھی۔
اماوس جیسی کالی رات کے اندھیرے میں بلّا چپ چاپ کرسی کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد وہاں ایک پل رکا رہا، پھر اس نے ایک چھلانگ لگائی اور کرسی پر گول مول ہوکر لیٹ گیا۔ ٹھیک اس وقت ایک عجیب آواز سن کر میرا جسم جیسے پتھر کا یا سُن سا ہوگیا ۔ کسی نادیدہ بوڑھے کی ہنسی ہوئی آواز اور اس کے درمیانی وقفوں میں بار بار یہ صدا آرہی تھی :
’’سائمن... سائمن... سائمن...سائمن!‘‘ اور اس کے ساتھ ہی بچکانہ پن سے بھری خوشیوں اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ ۔
ایک چیخ سنائی دی اور انیک بے ہوش ہوگیا۔ اور مسٹر بنرجی؟ وہ انیک کو گود میں لے کر گلیارے سے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔
میں بھی اب بیٹھا نہ رہ سکا۔ تاش ، موم بتی، چادر، فلاسک، سب کچھ پڑا رہ گیا۔
خوش قسمتی سے بنگلور کی سڑکوں پر لوگوں کی آمدو رفت کم رہتی ہے، ورنہ ہماری گاڑی کی تیز رفتار کی زد میں آکر اس وقت کتنے آدمی زخمی ہوتے، کہنا مشکل ہے۔
انیک کو گاڑی میں ہوش آچکا تھا، مگر اس کے منھ سے ایک لفظ بھی باہر نہیں نکل رہا تھا۔ پہلی بار مسٹر بنرجی کے حلق سے آواز نکلی۔ انیک کے ہاتھ سے برانڈی کا گلاس چھین کر ایک ہی گھونٹ میں آدھا گلاس پی گئے اور گھرگھراتی آواز میں بولے، ’’سو سائمن واز اے کیٹ۔‘‘
میں بھی اس حالت میں نہیں تھا کہ کچھ بولتا،مگر میرے دل نے ہامی بھری۔
واقعی سائمن براؤن صاحب کا عقلمند، من موجی، سعادت مند، پرتمکنت اور لاڈلا تھا۔ جس سائمن کی موت آج سے ایک سو تیرہ برس پہلے بجلی گرنے سے ہوئی تھی، یہ وہی پالتو بلّا تھا۔


سدانند کی چھوٹی سی دنیا

آج میرا دل خوش ہے ، اس لیے سوچتا ہوں تم لوگوں کو راز کی بات بتادوں۔ جانتا ہوں تم لوگ میری بات پر یقین کروگے۔ تم لوگ اُن کی طرح نہیں ہو۔ اُن لوگوں کا خیال ہے، میری ساری باتیں جھوٹی اور بناوٹی ہیں۔ یہی وجہ ہے، میں ان لوگوں سے اب بات چیت ہی نہیں کرتا۔
ابھی دوپہر ہے، اس لیے یہ لوگ میرے کمرے میں نہیں ہیں۔ تیسرے پہر آئیں گے۔ ابھی یہاں میں اورمیرا دوست لال بہادر ہےـ لال بہادر سنگھ۔ اُف، کل اس نے مجھے کتنی فکر میں ڈال دیاتھا۔ میرا یہ خیال تھا ہی نہیں کہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا۔ وہ بہت ہی عقلمند ہے، اس لیے اس نے بھاگ کر اپنی جان بچالی۔ کوئی دوسرا ہوتا تو اب تک مرکر بھوت بن چکا ہوتا۔
لو، دوست کا نام تو بتادیا مگر اپنانام تو بتایاہی نہیں۔ میرا نام ہے سدانند چکرورتی۔ سننے سے داڑھی والے بوڑھے جیسا نہیں لگتا ہوں کیا؟ دراصل میری عمر تیرہ سال ہے۔ نام اگر بوڑھے جیسا ہے تو میں کیاکروں؟ میں نے خود تو اپنانام رکھا نہیں، رکھا ہے میری دادی امّاں نے۔
اتنا ضرور ہے کہ اگر انھیں معلوم ہوتا کہ نام کی وجہ سے مجھے پریشانی میں پڑنا ہوگا تو وہ میرانام کچھ اور ہی رکھتیں۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ لوگ میرے پیچھے پڑجائیں گے اور کہیں گے، ’’تیرا ہی نام سدانند ہے نا؟‘ ‘
کاش ان میں تھوڑی بھی عقل ہوتی! سیار کی طرح صرف کھوں کھوں کر ہنسنے سے کیا خوشی حاصل ہوتی ہے؟ سبھی طرح کی خوشی میں کیا ہنسا جاتا ہے، یا ہنسنا مناسب ہوتاہے؟
فرض کرو کہ تم بغیر کچھ سوچے سمجھے زمین میں ایک لکڑی گاڑ دیتے ہو، ایک پتنگا اڑتا ہوا آتا ہے اور اس لکڑی کے اوپر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ تو بہت مزیدار بات ہے۔ مگر اس کو دیکھ کر اگر تم ہو ہوکرکے ہنسنے لگتے ہو تو لوگ تمھیں پاگل ہی کہیں گے۔ اسی طرح کے ایک میرے سنکی سے دادا جی تھے۔ میں نے انھیں دیکھا نہیں ہے، مگر بابوجی سے سنا ہے کہ وہ بے وجہ ہنساکرتے تھے ۔ آخر میں جب ان کاپاگل پن بہت بڑھ گیا تو بابوجی، چھوٹے چاچا اور اویناش چاچانے مل کر انھیں زنجیروں سے باندھ دیا۔ اس وقت بھی اتنا ہنستے تھے، اتنا کہ کیا کہوں!
جانتے ہو اصل بات کیا ہے؟ مجھے جن چیزوں میں دلچسپی ہے، زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں وہ چیزیں آتی ہی نہیں۔ اپنے بستر پر لیٹے لیٹے ہی میں بہت سی مزیدار چیزیں دیکھتا رہتا ہوں۔ بیچ بیچ میں کھڑکی کے راستے سے کمرے کے اندر سیمل کا بیج اڑ کر چلا آتا ہے۔ اس میں لمبا لمبا رُواں رہتا ہے اور وہ اِدھر اُدھر اڑتا رہتا ہے۔ وہ بڑی ہی مزیدار چیز ہے۔ ہوسکتا ہے وہ ایک بار تمھارے چہرے کے پاس اڑتا ہوا آئے۔ تم جیسے ہی ایک بار پھونک ماروگے وہ جھٹ سے اڑ کر شہتیر کی طرف چلا جائے گا اور کھڑکی پر اگر ایک کوّا آکر بیٹھے تو ادھر دیکھنے پر تمھیں محسوس ہوگا کہ یہ تو سرکس کا مسخرہ ہے۔ کوّا جیسے ہی آکر بیٹھتاہے، میں ہِلنا ڈُلنا بند کردیتا ہوں اور ترچھی نگاہوں سے اس کا تماشا دیکھتا رہتا ہوں۔
اتناضرور ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ مجھے سب سے زیادہ مزہ کس بات میں ملتا ہے تو میں کہوں گا کہ چیونٹی میں۔ صرف مزہ کہنا غلط ہوگا۔ وجہ... نہ!وجہ ابھی نہیں بتاؤں گا۔ پہلے ہی سے اگر حیرت انگیز باتیں بتادوں تو مزہ کرکرا ہوجائے گا۔ اس سے تو بہتر یہی ہے کہ شروع سے ہی بتاؤں۔
آج سے تقریباً ایک سال پہلے میں بخار کی چپیٹ میں آگیاتھا۔ یہ کوئی نئی چیز ہو، ایسی بات نہیں۔ مجھے اکثر بخار آجایا کرتا تھاـسردی اور بخار ۔ ماں کہتی تھیں، صبح شام میدان میں بھیگنے اور بھیگی گھاس اور زمین پر بیٹھنے کی وجہ سے یہ سب ہوتا ہے۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی بخار کی شروعات کے دنو ں میں اچھاہی لگ رہا تھاـ ٹھنڈا ٹھنڈا، بدن میں اینٹھن اور سستی کا احساس، اس کے ساتھ اسکول نہ جانے کاآرام تو ہے ہی۔ بستر پر لیٹا ہوا کھڑکی کے باہر ایک پیڑ پر گلہری کو کھیلتے ہوے دیکھ رہا تھا۔ تبھی ماں نے آکر ایک کسیلی دوا پینے کو دی۔ میں نے اچھے لڑکے کی طرح دوا پی کر گلاس سے پانی کے کئی گھونٹ حلق سے نیچے اتارے اور باقی پانی کو کلّی کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ ماں خوش ہوکر کمرے سے باہر چلی گئی۔
اس کے بعد چادر کو اچھی طرح کھینچ کر بدن پر ڈالا ۔ پھر گاؤ تکیے کو بغل میں دبا کر لیٹنے ہی جارہا تھا کہ ایک چیز پر میری نظر گئی۔
دیکھا،کلّی کاتھوڑا ساپانی کھڑکی پر پڑا ہوا ہے اور اس پانی میں ایک چھوٹی کالی چیونٹی غوطے لگا رہی ہے۔ یہ بات مجھے اتنی عجیب و غریب لگی کہ اچھی طرح دیکھنے کے خیال سے میں اپنی آنکھوں کو چیونٹی کے بالکل قریب لے گیا۔
دیکھتے دیکھتے اچانک مجھے لگا، وہ چیونٹی چیونٹی نہیں کوئی آدمی ہے، اور نہ صرف آدمی بلکہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جھنٹو کے بہنوئی صاحب مچھلی پکڑنے گئے ہیں اور پھسل کر کیچڑ میں گر پڑے ہیں، اچھی طرح سے تیرنا نہ جاننے کی وجہ سے ڈبکیاں لگارہے ہیں اور ہاتھ پاؤں پٹک رہے ہیں۔ یاد ہے جھنٹو کے بہنوئی صاحب کو جھنٹو کے بڑے بھیا اور نوکر نرہری نے بچایاتھا؟
جیسے ہی مجھے یہ بات یاد آئی، میرے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ چیونٹی کو بچالوں۔
بخار کی حالت میں ہی جھٹ سے بستر سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور بغل کے کمرے میں داخل ہوا۔ وہاں پتا جی کے رائٹنگ پیڈ سے ذرا سا بلوٹنگ پیپر پھاڑ کر ایک ہی دوڑ میں اپنے کمرے میں واپس چلا آیا اور چھلانگ لگا کر بلوٹنگ پیپر کے ٹکڑے کو پانی پر رکھ دیا۔ رکھنے کے ساتھ ہی بلوٹنگ پیپر نے پانی کو جذب کرلیا۔
جان بچنے کی وجہ سے چیونٹی ایک پل کو ہکابکا رہ گئی، ایک دو بار اِدھر اُدھر مڑتی ہوئی سیدھی نالی میں چلی گئی۔
اس دن پھر کوئی چیونٹی نہیں آئی۔
دوسرے روز میرا بخار بڑھ گیا۔ دوپہر میں ماں اپنا کام ختم کر کے کمرے میں آئیں اور بولیں، ’’کھڑکی کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے کیوں تاک رہے ہو؟اتنا بخار ہے، چاہے نیند آئے چاہے نہ آئے، آنکھیں بند کر کے چپ چاپ لیٹے رہو۔‘‘
ماں کو خوش کرنے کی غرض سے میں نے آنکھیں بند کرلیں، مگر ان کے جاتے ہی آنکھ کھول کر نالی کی طرف تاکنے لگا۔
تیسرے پہر جب سورج پیڑوں کے پیچھے چلا گیا، ایک چیونٹی کو نالی کے منھ سے جھانکتے ہوے دیکھا۔
اچانک وہ باہر نکل آئی اور کھڑکی پر چہل قدمی کرنے لگی۔
سبھی چیونٹیاں حالانکہ ایک جیسی ہوتی ہیں، پھر بھی نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ کل والی ہی وہ چیونٹی ہے جو مصیبت میں پھنس گئی تھی۔ میں نے چونکہ دوست کی طرح برتاؤ کیاتھا، اس لیے آج ہمت جٹا کر میرے پاس آئی ہے۔
میں نے پہلے سے ہی منصوبہ بنالیاتھا۔
بھنڈار خانے سے ایک چمچہ چینی لے آیا تھا اور اسے کاغذ میں موڑکر اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا تھا۔ اس میں سے ایک بڑا دانہ نکال کر میں نے کھڑکی پر رکھ دیا۔
چیونٹی اچانک چونک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ چینی کے دانے کے پاس آکر اسے چاروں طرف سے چھوکر دیکھا۔ اس کے بعد نہ جانے کیا سوچا اور مڑ کر نالی کے اندر چلی گئی۔
میں نے سوچا، واہ جی واہ، کھانے کے لیے اتنی عمدہ چیز دی اور محترمہ چھوڑ کر لاپتا ہوگئیں!پھر آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب آئے۔ میری نبض اور زبان دیکھی، چھاتی اور پیٹھ کی اسٹیتھوسکوپ سے جانچ کی ۔ سب کچھ دیکھنے سننے کے بعد کہا کہ مجھے کسیلی دوا اور پینا ہے۔ دو دن کے بعد بخار اتر جائے گا۔
سن کر میرا دل اداس ہوگیا۔ بخار اترنے کا مطلب ہے اسکول جانا، اور اسکول جانے کا مطلب ہے دوپہر کی بربادی۔ دوپہر کو ہی چیونٹی میری کھڑکی سے ہوکر آتی ہے۔ خیر، ڈاکٹر کے کمرے سے جاتے ہی میں نے پھر سے کھڑکی کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور میرا دل پھر سے خوشیوں سے بھر اٹھا۔ اس بار ایک نہیں بے شمار چیونٹیاں قطار باندھ کر نالی سے ہوکر اندر آرہی ہیں۔ سامنے کی چیونٹی میری وہی جانی پہچانی چیونٹی ہے ۔ اسی نے باقی چیونٹیوں کے پاس خبر پہنچائی ہوگی اور اب سب کو اپنے ساتھ لے کر آئی ہے۔
تھوڑی دیر تک غور سے دیکھنے کے بعد چیونٹی کی عقلمندی کانمونہ دکھائی دیا۔ سبھی چیونٹیوں نے مل کر چینی کے دانے کو ڈھکیلنا شروع کیا اور کھینچتی ہوئی نالی کی طرف لے گئیں۔ یہ بات اتنی مزیدار تھی کہ بغیر دیکھے سمجھ میں نہیں آسکتی۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا، میں اگر چیونٹی ہوتا تو ضرور ہی سنتا کہ وہ کہہ رہی ہیں: ’’مارو جوان، ہیّا! اور بھی تھوڑا ، ہیّا! چلے انجن، ہیّا!‘‘
بخار اترنے کے بعد شروع میں کئی دنوں تک اسکول میں بہت برا لگتا رہا۔ کلاس میں بیٹھا بیٹھا صرف اپنی کھڑکی کی بات سوچتا رہتا تھا۔ پتا نہیں کتنی طرح کی چیونٹیاں وہاں آجارہی ہوں گی ۔ اتنا ضرور ہے کہ آتے وقت ہر روز میں کھڑکی پر چینی کے دو تین دانے رکھ آتا تھا۔ تیسرے پہر جب میں لوٹ کر جاتا تو ان دانوں کو وہاں سے ندارد پاتا تھا۔
کلاس میں زیادہ تر میں بیچ کی بنچ پر بیٹھتا تھا۔ میری بغل میں شیتل بیٹھتا تھا۔ ایک دن مجھے جانے میں دیر ہوگئی اور وہاں پہنچنے پر شیتل کی بغل میں فنی کو بیٹھا ہوا دیکھا۔ کیا کرتا، پیچھے دیوار کی طرف ایک سیٹ خالی تھی، اسی پر جاکر بیٹھ گیا۔
ٹفن سے پہلے تاریخ کی کلاس تھی۔ ہارا دھن بابو اپنی مہین آواز میں ہینی بال کی بہادری کی کہانی سنارہے تھے۔ ہینی بال نے کارتھیج سے فوج لے کر آلپس پہاڑ کوپار کیا تھا اور اس کے بعد اٹلی پر چڑھائی کی تھی۔ سنتے سنتے مجھے لگا کہ ہینی بال کی فوج اسی کمرے میں ہے اور میرے قریب سے ہوکر چلی جارہی ہے۔
اِدھر اُدھر تاکتے ہی پیچھے کی دیوار پر میری آنکھیں ٹک گئیں۔ دیکھا، چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار دیوار سے نیچے اتر رہی ہے۔ ٹھیک فوج کی طرح کالی کالی چھوٹی چھوٹی ان گنت چیونٹیوں کی قطاریں مسلسل ایک ہی انداز سے چلی جارہی ہیں اور رکنے کانام ہی نہیں لے رہی ہیں۔
ٹفن کی گھنٹی بجتے ہی میں باہر نکل آیا۔ کلاس کے پیچھے کی طرف جاکر اس درار کو ڈھونڈ نکالا۔ دیکھا، چیونٹیاں دیوار کی درار سے نکل کر گھاس کے بیچ سے سیدھے امرو د کے درخت کی طرف جارہی ہیں۔
چیونٹیوں کی قطار کاپیچھا کرتے ہوے جب پیڑ کے تنے کے پاس پہنچا تو جس چیز پر نگاہ پڑی اسے قلعے کے علاوہ کیا کہا جائے!
دیکھا، قلعے کی طرح ہی اونچا ایک مٹی کا ٹیلا ہے، اس کے نیچے کی طرف ایک پھاٹک ہے اور اسی پھاٹک سے قطارباندھ کر چیونٹیوں کی فوج اندر داخل ہورہی ہے۔
میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ قلعے کی اندرونی حصے کو ذرا دیکھ لوں۔ جیب میں جو پنسل تھی، اس کی نوک سے میں نے ٹیلے کے اوپر کی مٹی کو آہستہ آہستہ ہٹانا شرع کیا۔
شروع میں کچھ نہ ملا،مگر اس کے بعد جس چیز پر میری نگاہ پڑی اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ۔ قلعے کے اندر چھوٹے چھوٹے بہت سے خانے بنے ہیں اور ایک خانے سے دوسرے خانے میں جانے کے لیے ان گنت سرنگیں بچھی ہیں۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے! ان چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیروں سے اس طرح کے مکان ان لوگوں نے کیسے بنائے؟ ان میں اتنی عقل کہاں سے آئی؟ کیا ان لوگوں کے بھی اسکول اور ماسٹر ہیں؟ یہ لوگ بھی کیا پڑھتے لکھتے ہیں، حساب کرتے ہیں، تصویر بناتے ہیں اور کاریگری سیکھتے ہیں؟ پھر کیا سواے چہرے کے آدمی اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے؟ شیر، بھالو، ہاتھی ، گھوڑاوغیرہ اپنے اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے کہاں بناپاتے ہیں؟ یہاں تک کہ پالتو کتے بھی نہیں۔
چڑیا ضرور گھونسلا بناتی ہیں مگر ان کے گھونسلے میں بہت سی چڑیاں رہ سکتی ہیں؟ چڑیاں کیا ان لوگوں کی طرح قلعہ بناسکتی ہیں جن میں ہزاروں چڑیاں ایک ساتھ رہ سکیں؟
قلعے کا کچھ حصہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے چیونٹیوں میں کھلبلی مچ گئی تھی۔
مجھے بہت افسوس ہوا۔ دل ہی دل میں سوچا،ان لوگوں کو میں نے نقصان پہنچایا ہے تو اب بھلائی بھی کرنا چاہیے ۔ اگر ایسا نہیں کروں گا تو چیونٹیاں مجھے اپنا دشمن سمجھ لیں گی، اور میں ان کا دشمن نہیں بننا چاہتا۔ اصل میں ان کا دوست ہوں، اس لیے دوسرے دن میں نے اس سندیش کا آدھاحصہ، جو ماں نے مجھے کھانے کو دیا تھا، سکھوئے کے ایک پتے میں موڑ کر جیب میں رکھ لیا۔ اسکول پہنچنے پر گھنٹہ بجنے کے پہلے ہی سندیش کے اس ٹکڑے کو چیونٹیوں کے بل کے پاس رکھ دیا۔ بیچاروں کو کھانے کی تلاش میں بہت دور جانا پڑتا ہے۔ آج گھر سے باہر نکلتے ہی انھیں اپنے سامنے کھانے کا پہاڑ دکھائی دے گا۔ یہ کیا کوئی کم احسان ہے؟
اس کے کچھ دن بعد ہی گرمی کی چھٹیاں ہوئیں اور چیونٹیوں سے میری دوستی اور بھی گہری ہوگئی۔ چیونٹیوں کو دیکھ دیکھ کر ان کے بارے میں جو ساری حیرت انگیز باتیں معلوم ہوئیں بیچ بیچ میں میں بڑے بزرگوں کو وہی باتیں بتاتا تھا، مگر وہ میری بات پر توجہ ہی نہیں دیتے تھے ۔ سب سے زیادہ غصہ مجھے اس وقت آتا جب وہ میری باتیں ہنس کر اڑا دیتے۔ اس لیے ایک دن طے کیا کہ اب کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا، جو کرنے کا ہوگا خود ہی کروں گا۔ جو کچھ بھی معلومات ہوگی اسے اپنے تک ہی محدود رکھوں گا۔
ایک دن ایک واقعہ پیش آیا۔
دوپہر کاوقت تھا۔ میں جھنٹو کے مکان کی دیوار پر بنی ماٹے کی ایک بانبی کے پاس بیٹھا تھا اور ماٹوں کا کھیل دیکھ رہا تھا ۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ ماٹے کی بانبی کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھا نہیں جاسکتا ، کیونکہ ماٹا کاٹ لیتا ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ اس کے پہلے ماٹا مجھے کاٹ چکا ہے، مگر کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ اب وہ مجھے نہیں کاٹتا۔ میں بے فکری کے ساتھ بیٹھا ہوا ماٹوں کو دیکھ رہا تھا کہ تبھی چھکو وہاں آدھمکا۔ چھکو کے بارے میں اس کے پہلے میں نے کچھ بھی نہیں بتایا ہے ۔ اس کا اصل نام شری کمار ہے۔ وہ ہمارے ہی درجے میں پڑھتا ہے، مگر ہم لوگوں سے کافی بڑا ہے، کیونکہ داڑھی مونچھیں اُگ آئی ہیں۔ چھکو صرف شاگردی کرتا رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی اسے پیار نہیں کرتاـ میں بھی نہیں۔ لیکن ایسا ہونے پر بھی میں اس سے کبھی الجھتا نہیں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے۔
مجھے دیکھ کر چھکو نے کہا، ’’ارے بیوقوف، یہاں بیٹھ کر کس کاانتظار کر رہا ہے؟‘‘
میں نے چھکو کی باتوں پر توجہ نہیں دی مگر دیکھا،وہ میری طرف آرہا ہے۔
میں ماٹوں کی طرف دیکھنے لگا۔ چھکو نے میرے پاس آکر پوچھا، ’’کیا ہورہا ہے؟ حال چال اچھا نہیں لگ رہا ہے۔‘‘
میں نے اب چھپانے کی کوشش نہیں کی اور اصل بات بتادی۔
سن کر چھکو دانت پیسنے لگااور بولا، ’’ماٹے دیکھ رہے ہو۔ ا س کا مطلب؟ اس میں دیکھنے کی کیا چیز ہے؟ چیونٹی کیا تمھارے گھر میں نہیں ہے کہ یہاں دیکھنے پہنچ گئے؟‘‘
مجھے بہت غصہ آیا۔ میں کچھ بھی کروں، اس سے تمھارا کیا بگڑتا ہے؟ ہر بات میں دخل اندازی کرتا ہے اور اپنی قابلیت دکھاتا ہے!
میں نے کہا، ’’دیکھنامجھے اچھالگتا ہے، اس لیے دیکھتا ہوں۔ چیونٹی کا راز تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔ تمھیں جو اچھا لگے جاکر وہی کرو ، یہاں پریشان کرنے کیوں آگئے؟‘‘
میری بات سن کر چھکو جنگلی بلّے کی طرح کھسیا گیا اور بولا، ’’اوہ! دیکھنا اچھالگتا ہے! چیونٹی دیکھنا اچھا لگتا ہے؟ پھر تو دیکھو!‘‘ یہ کہہ کر چھکو نے لاٹھی کی چوٹ سے ماٹے کی بانبی کو توڑ کر برباد کر دیا، اور اس چوٹ سے کم سے کم پانچ سو چیونٹیوں کی جان چلی گئی۔ لاٹھی مار کر چھکو ہنستا ہوا چلا جارہا تھا۔ تبھی میرے سر پر بھوت سوار ہوگیا۔
میں نے چھلانگ لگائی اور چھکو کے بالوں کو کس کر پکڑ لیا اور پھر اس کے سر کو جھنٹو کی دیوار سے چار پانچ بار زور سے ٹکرا دیا۔
اس کے بعد جب میں نے چھکو کو چھوڑا تو وہ روتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔
میں جب گھر پہنچا تو چھکو اس سے پہلے ہی میری شکایت پہنچا گیاتھا ، مگر حیرت کی بات ہے کہ تب ماں نے نہ تو مجھے مارا اور نہ ہی ڈانٹا پھٹکارا۔ دراصل اسے یقین ہی نہیں ہوا، کیونکہ اس کے پہلے میں نے کسی سے مار پیٹ نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ ماں کو یہ معلوم تھا کہ میں چھکو سے ڈرتاہوں۔
مگر بعد میں جب ماں نے مجھ سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تو میں نے سچ بات کہہ دی۔
’’چھکو کا سر پھوڑ دیا ہے؟‘‘
میں نے کہا، ’’ہاں! چھکوہی کیوں ، جو بھی آدمی چیونٹی کی بانبی توڑے گا، اس کا سر پھوڑ دوں گا۔‘‘
اس بات پر ماں کو بہت غصہ آیا۔ اس نے مجھے بہت پیٹا اور کمرے کے اندربند کردیا۔ وہ ہفتے کا دن تھا ۔ پتا جی جلدی ہی کچہری سے لوٹ آئے تھے۔ جب ماں سے انھیں ساری باتیں معلوم ہوئیں تو انھوں نے میرے کمرے کے دروازے پر باہر سے تالا لگادیا۔ مار کھانے کی وجہ سے حالانکہ میری پیٹھ میں درد ہورہا تھا، مگر اس کا میرے دل میں کوئی افسوس نہیں تھا۔ اگر افسوس تھا تو چیونٹیوں کی موت کا ہی۔ ایک بار صاحب گنج میں ، جہاں پریمل رہتا ہے، دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکراگئی تھیں اور تقریباً تین سو آدمی ہلاک ہوگئے تھے۔ آج چھکو کے لاٹھی کے وار سے اتنی بہت سی چیونٹیاں مرگئیں۔
کتنی بے انصافی ہے! کتنی بے انصافی!
بستر پر لیٹے لیٹے جب یہی سوچ رہاتھاتو میراسرچکرانے لگا اور میں بدن میں سردی محسوس کرنے لگا۔ چادر تان کر میں نے کروٹ بدلی۔
اس کے بعد کب میری آنکھوں میں نیند آتر آئی، اس کا پتا نہیں چلا۔
ایک بہت ہی مہین اور شیریں آواز، بہت کچھ موسیقی کی طرح، باقاعدہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔
میں نے غور سے سننے کی کوشش کی مگر پتا نہیں چلا کہ وہ آواز کدھر سے آرہی ہے۔ شاید کہیں دور موسیقی کا پروگرام چل رہا ہے، لیکن اس طرح کا گیت اس سے پہلے سننے کو نہیں ملا ہے۔
لیجیے، میں گیت سننے میں مگن ہوں، اور یہ ہستی کب نالی سے آکر حاضر ہوگئی ہے اس کا علم ہی نہیں ہوسکا۔
اب میں نے ٹھیک سے پہچانا۔ یہ میری وہی پرانی اور جانی پہچانی چیونٹی ہے، جسے میں نے پانی سے بچایا تھا۔ میری طرف تاکتی ہوئی، دونوں پیروں کو ماتھے سے جوڑ کر مجھے نمسکار کر رہی ہے۔ اس کا نام کیا رکھا جائے؟ کالی؟ کیشٹو؟ کالا چاند؟ سوچنا ہوگا ۔ دوست ہو مگر کوئی نام نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے۔
میں نے اپنی ہتھیلی کھڑکی پر رکھ دی۔ اپنے اگلے پیروں کو سر سے نیچے کی طرف ہٹاکر چیونٹی آہستہ آہستہ میری طرف آنے لگی۔ اس کے بعد میری چھنگلیا سے ہوتی ہوئی میرے ہاتھ پر آئی اور میری ہتھیلی کی بل کھاتی ہوئی ندی جیسی لکیروں پر چہل قدمی کرنے لگی۔ اسی وقت دروازے پر کھٹ کی آواز ہوئی اور میں چونک اٹھا۔ چیونٹی بھی بڑبڑاتی ہوئی ہاتھ سے نیچے اتر آئی اور نالی کے اندر چلی گئی۔
اس کے بعد ماں تالا کھول کر اندر آئی اورمجھے ایک کٹورا دودھ پینے کے لیے دیا۔ پھر میری آنکھوں کو دیکھنے اور بدن کو چھونے پر اس کو پتا چلا کہ مجھے بخار آگیاہے۔
دوسرے روز صبح ڈاکٹر صاحب آئے ۔ ماں نے کہا، ’’سدانند رات بھر چھٹ پٹ چھٹ پٹ کرتا رہا ہے اور کالی کالی بڑبڑاتا رہا ہے۔‘‘ ماں نے شاید سوچا کہ میں دیوی دیوتا کانام لے رہا تھاـ اصل بات ماں کو معلوم ہی نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے جب میری پیٹھ پر اسٹیتھوسکوپ لگایا تو اس وقت بھی مجھے کل کی طرح شیریں موسیقی سنائی دی۔ آج آواز کل سے کچھ تیز تھی اور سُر بھی کچھ دوسری طرح کا محسوس ہوا۔ کھڑکی کی طرف سے موسیقی کی آواز آرہی ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے مجھے چپ چاپ لیٹے رہنے کو کہا تھا، اس لیے میں مڑکر نہیں دیکھ سکا۔ ڈاکٹر میرے بدن کی جانچ کر کے کھڑے ہوگئے اور میں نے ترچھی نگاہوں سے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باپ رے، آج تو ایک نیا ہی دوست آیا ہے۔ چیونٹا، اور وہ مجھے نمسکار کر رہا ہے! پھر کیا تمام چیونٹیاں ہی میری دوست ہیں؟
گانا بھی کیا یہ چیونٹا گارہا ہے؟
مگر ماں تو گانے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہےـتو کیا وہ سن نہیں پارہی ہے؟
پوچھنے کے خیال سے میں ماں کی طرف مڑا ہی تھا کہ دیکھا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کھڑکی کی طرف تاک رہی ہے۔ اس کے بعد اچانک میز سے میری حساب کی کاپی اٹھاکر میری طرف جھکی اور کاپی پٹک کر اسے مار ڈالا۔
اس کے ساتھ ہی گانے کا سلسلہ تھم گیا۔ ماں نے کہا، ’’باپ رے، چیونٹے کا حوصلہ کتنابڑھ گیا ہے ! کہیں تکیے پر چڑھ کر کان کے اندر جاکر کاٹ لے تو حالت خراب ہوجائے!‘‘
ڈاکٹر صاحب جب انجکشن دے کر چلے گئے تو میں نے مرے ہوے چیونٹے کی طرف دیکھا۔ اتنا پیارا گیت گاتے گاتے بیچارہ چل بسا۔ یہ حال تو ٹھیک میرے اِندر ناتھ داداجی کی طرح ہوا۔ وہ بھی بہت میٹھے گیت گاتے تھے۔ یہ ضرور تھا کہ ان کا گیت ہماری سمجھ میں ٹھیک سے نہیںآتاتھا، لیکن بزرگوں کا کہنا تھا کہ وہ اعلیٰ درجے کا شاستریہ سنگیت تھا۔
وہ بھی اسی طرح ایک دن تان پورالے کر گیت گا رہے تھے کہ اچانک ان کی موت ہوگئی۔ جب انھیں شمشان کی طرف لے جایا گیا تھا تو ان کے پیچھے پیچھے شہر کا ایک کیرتن منڈل بھی تھا جو ہری نام کا سنکیرتن گاتا ہوا جارہا تھا۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور یہ بات مجھے اب بھی یاد ہے، حالانکہ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا۔
آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ انجکشن لے کر جب میں نیند میں کھوگیا تو خواب میں دیکھا، چیونٹیوں کا ایک بہت بڑا جلوس مرے ہوے چیونٹے کو اندر ناتھ دادا جی کی طرح ہی شمشان کی طرف لے کر جارہا ہے ۔ دس یابارہ چیونٹوں نے اسے کندھے پر اٹھا لیا ہے اور باقی چیونٹیاں کیرتن جیسا گیت گاتی ہوئی پیچھے پیچھے چلی جارہی ہیں۔
تیسرے پہر جیسے ہی ماں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ویسے ہی میری نیند کھل گئی۔ میں نے غور سے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ وہاں مرا ہوا چیونٹا نہیں تھا۔ اس بار میرا بخار آسانی سے اترنے کانام نہیں لے رہا تھا۔ اترے تو کیسے ، قصور تو میرے گھر والوں کا ہی ہے۔ گھر کے سبھی لوگوں نے چیونٹیوں کو مارنا شروع کردیا تھا۔ اگر دن بھر چیونٹیوں کی اس طرح کی چیخیں سننا پڑیں تو بخار بڑھے گا ہی۔
مجھے ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے گھر کے لوگ جب بھنڈار خانے یا آنگن میں چیونٹیوں کو مارتے ہیں تو دوسری چیونٹیوں کا دَل میری کھڑکی کے پاس آکر بے حد رونے لگتا ہے۔ سمجھ گیا، یہ چیونٹیاں چاہتی ہیں کہ میں ان کی طرف سے کوئی کام کروں۔ یا تو چیونٹیوں کا مارا جانا رکوا دوں یا جو لوگ ان کومارتے ہیں، انھیں ڈانٹ پھٹکار سناؤں۔ مگر بخار رہنے کی وجہ سے میرے بدن میں طاقت نہیں تھی، اور طاقت ہوتی تو بھی چھوٹا ہونے کی وجہ سے بڑے بوڑھوں اور بزرگوں کو کیسے ڈانٹ پھٹکار سناتا؟
مگر آخر میں کچھ نہ کچھ انتظام کرنا ہی پڑا۔ دن کون ساتھا، یاد نہیں۔ اتنا ہی یاد ہے کہ اس روز صبح جلدہی میری آنکھ کھل گئی تھی۔ نیند کھلتے ہی سنا، پھٹِک کی ماں خوب چلا چلا کر کہہ رہی ہے کہ رات کے وقت ایک چیونٹے نے اس کے کان کے اندر جاکر کاٹ لیا ہے۔ یہ بات سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی، مگر اس کے بعد ہی جھاڑو پیٹنے کی آواز سمجھ گیا کہ چیونٹیوں کو مارنے کی مہم شروع ہوگئی ہے۔
اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ اچانک کانوں میں ہلکی سی آواز سنائی دی۔ ’’بچاؤ بچاؤ! ہم لوگوں کی حفاظت کرو!‘‘ میں نے کھڑکی کی طرف بغور دیکھا۔ چیونٹیوں کی قطار کھڑکی کے اوپر آکر گھبراہٹ کے باعث بے چینی سے ٹہل رہی ہے۔
چیونٹیوں کے منھ سے یہ بات سن کر میں خاموش نہیں رہ سکا۔ بیماری کی بات بھول کر میں بستر سے کود کر برآمدے میں چلا آیا۔ شروع میں میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا کروں۔ اس کے بعد سامنے ایک گھڑا دیکھ کر اسے اٹھاکر پٹک دیا۔
اس کے بعد جو بھی ٹوٹنے لائق چیزیں تھیں، انھیں توڑنا شروع کردیا۔
میں نے بہت ہی کارگر طریقہ ڈھونڈ نکالا تھا، کیونکہ اس کے بعد میرا غصہ دیکھ کر چیونٹیوں کو مارنے کاکام رک گیا ، مگر اس وقت ماں، بابوجی، چھوٹی بُوا جی، سابی جی، جتنے بھی لوگ تھے گھبراکر باہر نکل آئے اور مجھے کس کر پکڑ لیا۔ اس کے بعد مجھے گود میں اٹھاکر پلنگ پر پٹک دیا اور دروازے کو تالے سے بند کردیا۔ میں دل ہی دل میں بے حد ہنسااورمیری کھڑکی پر چیونٹیوں نے خوشی کے مارے ناچنا شروع کردیا اورمجھے شاباشی دینے لگیں۔
اس کے بعد میں زیادہ دنوں تک گھر میں نہیں رہا، کیونکہ ایک دن ڈاکٹر صاحب نے میری جانچ کرنے کے بعد کہا کہ گھر پر رہنے سے علاج میں پریشانی ہوگی ا ور اس لیے مجھے اسپتال جانا ہوگا۔
اس وقت میں جہاں ہوں، وہ اسپتال کا ایک کمرہ ہے ۔ میں یہاں چار دنوں سے ہوں۔
پہلے دن یہ کمرہ مجھے بہت برا لگاتھا کیونکہ یہ اتنا صاف ستھرا ہے کہ لگتا ہے چیونٹی یہاں ہوہی نہیں سکتی۔ چونکہ کمرہ نیا ہے اس لیے کوئی سوراخ یا درار نہیں ہے۔ کوئی الماری بھی نہیں ہے کہ جس کے نیچے یا پیچھے کوئی چیونٹی رہ سکے۔ نالی البتہ ہے ، مگر وہ بھی بے حد صاف ستھری ہے۔ ہاں، ایک کھڑکی ہے اور کھڑکی کے باہر ہی آم کے ایک پیڑ کااوپری حصہ ہے۔ اس کی ایک شاخ کھڑکی کے بالکل قریب ہے۔
سمجھ گیا، اگر چیونٹی ہوگی تو اسی شاخ پر ہوگی۔
مگر پہلے دن میں کھڑکی کے پاس جاہی نہ سکا۔ کیسے جاؤں؟ دن بھر ڈاکٹر، نرس اور گھر کے لوگ میرے کمرے میں اندر آتے جاتے رہتے ہیں۔
دوسرے دن بھی یہی حالت رہی۔ میرادل بے حد اداس ہوگیا۔میں نے دوا کی ایک شیشی توڑ ڈالی۔ نئے ڈاکٹر صاحب بے حدجھنجھلااٹھے۔ نئے ڈاکٹر صاحب بھلے آدمی نہیں ہیں، یہ بات سمجھ گیاتھا۔ تیسرے روز ایک اور واقعہ پیش آیا۔
اس وقت میرے کمرے میں ایک نرس کے سوا اور کوئی نہیں تھا اور وہ بھی کونے کی ایک کرسی پر بیٹھی کتاب پڑھنے میں محو تھی۔ میں خاموش لیٹا ہوا تھا اور یہ طے نہیں کرپارہاتھا کہ کیا کروں۔ اسی وقت دھپ سے آواز ہوئی اور میری آنکھیں اس طرف گھوم گئیں۔ دیکھا اس کے ہاتھ سے کتاب گود میں گر گئی ہے اور وہ نیند میں گم ہوگئی ہے۔
یہ دیکھ کر میں آہستہ سے بستر سے اٹھا اور دبے پاؤں کھڑکی کے پاس پہنچ گیا۔ اس کے بعد کھڑکی کے نچلے پلّے پر پاؤں رکھ کر ، اوراپنے جسم کو جہاں تک ہوسکا باہرنکال کر میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ میرے ہاتھ کی پہنچ میں آم کی ایک شاخ آگئی جسے پکڑ کرمیں نے کھینچنا شروع کیا۔ ٹھیک اسی وقت میرا داہنا پاؤں اچانک پلے سے کھسک گیا اور کھٹ سے آواز ہوئی۔ اس آواز سے نرس کی نیند ٹوٹ گئی۔
اب جاؤں تو کہاں جاؤں!
نرس کے منھ سے ایک تیز آواز نکلی اور وہ دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی۔ اس کے بعد مجھے پکڑ کر کھینچتی ہوئی لے آئی اور بستر پر پٹک دیا۔
ڈاکٹر صاحب نے مجھے ایک انجکشن دیا۔ ان لوگوں کی گفتگو سے پتا چلا کہ میں کھڑکی سے نیچے کودنے جارہا تھا۔ کتنے بے وقوف ہیں یہ لوگ! اتنی اونچائی سے اگر آدمی کودے تو اس کی ہڈی پسلی تو ٹوٹے گی ہی، ساتھ ہی ساتھ جان جانے کی بھی نوبت آجائے گی۔
ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد مجھے نیند آنے لگی، اور اپنے مکان کی کھڑکی کی بات بھی یاد آنے لگی۔ میرا دل بہت ہی اداس ہوگیا۔ معلوم نہیں، کب گھر لوٹوں گا۔
سوچتے سوچتے میں سوگیاتھا کہ تبھی ایک ہلکی سی آواز سنائی دی۔ ’’سپاہی حاضر ہے حضور، سپاہی حاضر ہے۔‘‘
میں نے آنکھ کھول کر دیکھا۔ میرے پلنگ کی بغل والی میز کی سفید چادر پر دوا کی شیشی کے بالکل پاس ہی بے حد وقار کے ساتھ دولال ماٹے کھڑے ہیں۔یہ دونوں ضرور یہیں درخت سے میرے ہاتھ پر سے ہوتے ہوے یہاں آئے ہیں۔ مجھے اس کا پتا بھی نہیں چلا۔
میں نے کہا، ’’سپاہی؟‘‘
جواب ملا، ’’ہاں، حضور!‘‘
’’تم لوگوں کا نام کیا ہے؟‘ ‘میں نے پوچھا۔
ایک نے کہا،لال بہادر سنگھ، اور دوسر نے اپنانام لال چند بتایا۔
مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے ان دونوں کو ہوشیار کردیا کہ باہر کا کوئی آدمی آئے تو وہ کہیں چھپ جائیں، ورنہ ان کی جان چلی جائے گی۔ لال چند اور لال بہادر نے مجھے لمبی سلامی دی اور کہا، ’’ٹھیک ہے حضور!‘‘
اس کے بعد دونوں نے مل کر ایک بہت ہی مدھر گیت گانا شروع کردیا۔
میں اس گیت کو سنتے سنتے سوگیا۔
اب جلدی جلدی کل کا واقعہ سنا دوں، کیونکہ گھڑی پانچ بار ٹن ٹن آواز کرچکی ہے۔ ڈاکٹر کے آنے کا وقت ہوچکا ہے۔
کل تیسرے پہر میں لیٹا لیٹالال بہادر اور لال چند کی کشتی دیکھ رہا تھا۔ میں بستر پر تھا اور وہ لوگ میز پر۔ دوپہر میں مجھے سونا چاہیے تھا، مگر کل انجکشن لینے اور دوا کھانے کے باوجود نیند نہیں آئی تھی۔ یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ جان بوجھ کر میں نے نیند کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیاتھا۔ دوپہرمیں اگر سوجاتا تو چیونٹیوں کے ساتھ کب کھیلتا؟
کشتی زور شور سے چل رہی تھی۔ جیت کس کی ہوگی، سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔ تبھی کھٹ کھٹ کرتی جوتے کی آواز ہوئیـلو، ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں۔
میں نے اپنے دوستوں کو اشارہ کیا اور لال بہادر جھٹ سے میز کے نیچے چلا گیا۔
مگر بیچارا لال چند لڑتے لڑتے چت ہوکر گرپڑا تھا اور ہاتھ پاؤں خلا میں پٹک رہاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جلدی سے بھاگ نہیں سکا اور اسی وقت ایک بہت بڑا حادثہ ہوگیا۔
ڈاکٹر بابو نے وہاں آکر لال چند کو میز پر دیکھا تو پتا نہیں انگریزی میں جھنجھلاکر کیا کہا اورایک ہی جھٹکے میں اسے فرش پر پٹک دیا۔
لال چند بے حد زخمی ہوگیا، یہ بات اس کی چیخ سے ہی ظاہر ہوگئی۔
مگر میں کر ہی کیا سکتا ہوں؟ اس بیچ میری نبض کی جانچ کرنے کے خیال سے ڈاکٹر صاحب نے میرا ہاتھ تھام لیاتھا۔ ایک بار میں نے ہاتھ ہٹاکر اٹھنے کی کوشش بھی کی مگر دوسری طرف سے نرس نے آکر مجھے کس کر پکڑ لیا۔
نبض کی جانچ کرنے کے بعدڈاکٹر صاحب ہر روز کی طرح منھ لٹکائے، اپنی مونچھوں کے اردگرد کے حصے کو کھجلاتے ہوے دروازے کی طرف جاہی رہے تھے کہ نہ جانے کیوں اچانک اچھل پڑے اور ان کے منھ سے تین چار قسم کے بنگلہ انگریزی کے الفاظ ادا ہوے: ’’آہ! اوہ! آؤچ!‘‘
اس کے بعد تو طوفان آگیا۔ اسٹیتھوسکوپ نکل کر نیچے گرپڑا، چشمہ گرکر ٹوٹ گیا، کوٹ کھولتے وقت بٹن ٹوٹ گیا، ٹائی کھولنے میں گلے میں گانٹھ لگ گئی، آخر میں قمیص کھولنے پر ناف کا سوراخ تک نظر آنے لگا، پھر بھی ڈاکٹر کا اچھلنا اور چلانا بند نہیں ہوا۔ میں تو حیران رہ گیا۔
نرس نے پوچھا، ’’کیا ہوا سر؟‘‘
ڈاکٹر صاحب نے اچھلتے اچھلتے کہا، ’’اینٹ، ریڈ اینٹ...آستین سے چڑھ کر...اوہ! اوہ!‘‘
واہ واہ! بات کیا میری سمجھ میں نہیں آئی؟
اب مزہ چکھو!آستین سے ہوکر لال بہادر سنگھ گیاتھاـ دوست کا بدلہ لینے کے لیے۔
اس وقت اگر کوئی مجھے دیکھتاتو یہ نہیں کہہ سکتاتھاکہ سدانند ہنسنا نہیں جانتا۔
٭٭

ترجمہ: خالد جاوید
بشکریہ اجمل کمال و عامر انصاری

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *