جمعہ، 26 دسمبر، 2014

چرکین کی ساری غزلیں: حصہ-1




1
عشق ہے چرکیںؔ کو کس خوش چشم سے اغلام کا 
ہے منی میں اس کی عالم روغن بادام کا 

میل ہے اس کے بدن کا غیرت مشک ختن

عنبر سارا سے گو بہتر ہے اس گل فام کا 

خود بخود بانکوں کے ڈر سے دپدپاتی ہے جو گانڑ

کس نے غمزے کو دیا ہے حکم قتل عام کا 

غیر کونی سے چھپا ہرگز نہ اس کا عشق خام

ہضم ہونا غیر ممکن تھا غذائے خام کا 

موت دے دہشت کے مارے ہگ دے جلاد فلک

دیکھے عالم یار کی گر تیغ خوں آشام کا 

شیخ جی کو پھر طبیبوں نے بتایا ہے عمل 

ہوگیا پھر آج کل ان کو خلل سرسام کا 

سامنے اس کے نہ کیجیے گفتگو ہر ایک سے 

گو اچھالے گا بہت چرکیںؔ ہے اپنے نام کا 
***

2

معطر ہوگیا اک گو زمیں سارا مکاں اپنا 
ترا سفرہ یہ اے گل پیرہن ہے عطر داں اپنا 

طلب پر ایک بوسے کی چھپا کر گانڑ بھاگو گے 

یقیں تو کیا نہ نہ تھا اس بات پر ہرگز گماں اپنا 

سنے گر رستم دستاں تو ہگ دے مارے خطرے کے 

غرض اظہار کے قابل نہیں درد نہاں اپنا 

شب فرقت کے صدمے سے پھٹی جاتی ہے بلبل کی 

بس اب اڑپاد منہ کالا کر اے باد خزاں اپنا 

اٹھا سکتا نہیں اب نازک انداموں کے کنڑ غمزے 

یہاں تک پادا پونی ہے یہ جسم ناتواں اپنا 

چلیں گے دیکھنے جس روز گو گا پیر کا میلا 

بنے گا مہتروں کا ٹوکرا تخت رواں اپنا 

اگر نفخ شکم سے دد کچھ محسوس ہوتا ہے 

ہمارا گوز بن جاتا ہے فوراً نوحہ خواں اپنا 

سخن گوئی کو کرکے ترک ادن پدن اب کیجئے 

نہیں دنیا میں اے چرکینؔ کوی قدرداں اپنا
***

3
موت دے دیکھے اگر خنجر مژگاں تیرا
سامنا کر نہ سکے رستم دستاں تیرا

تیرے دیوانے کے گھس جانے سے یہ خطرہ ہے 

موتنے بھی کبھی جاتا نہیں درباں تیرا

کوئے جاناں کے جو باشندے ہیں ان کے آگے 

باغباں گھورے سے بدتر ہے گلستاں تیرا

سن کے نالوں کو مرے چوں نہ کرے گلشن میں 

گوز یہ بند ہو اے مرغ خوش الحال تیرا

دیکھ اس گوہر نایاب کے پیشاب کی بوند

جوہری نام نہ لے او در غلطاں تیرا

قمریاں موتنے جائیں نہ کبھی سرو کے پاس

گر چلن دیکھیں وہ اے سرو خراماں تیرا

کیا کہیں تجھ سے کہ کیا کیا ہوئی چرکیںؔ کو ہوس

پائخانے میں بدن دیکھ کے عریاں تیرا
***
4
مہرباں چرکیںؔ جو وہ مہتر پسر ہوجائے گا
اپنا بھی بیت الخلا میں اس کے گھر ہوجائے گا

نکہت گل پر گماں ہووے گا بوئے گوز کا 

یار بن گلشن میں گر اپنا گزر ہوجائے گا

آگے اس کے گانڑ چرخ پیر رگڑے گا مدام

دیکھ لینا گر جواں مہتر پسر ہوجائے گا 

موتنے میں آیا گر دندان جاناں کا خیال

جو گرے گا موت کا قطرہ گہر ہوجائے گا

گانڑ تک کی بھی نہ حیرت سے رہے گی کچھ خبر

سامنے گر شیخ کے مہتر پسر ہوجائے گا 

جلوہ فرما ہوگا گھورے پہ جو وہ خورشید رو

چھوت گو کا غیرت قرص قمر ہوجائے گا

واسطے ہگنے کے آوے گا جو وہ خورشید رو

عکس سے بیت الخلا برج قمر ہوجائے گا 

وصل کا طالب میں پھر چرکیںؔ نہ ہوں گا یار سے 

گھورا گھاری میں مرا مطلب اگر ہوجائے گا
***
5
مجھ سے جو چرکیںؔ وہ خفا ہوگیا 
رعب سے پیشاب خطا ہوگیا 

تونے نہ اس حال میں پوچھی خبر

دستوں سے یہ حال مرا ہوگیا 

ہگ دیا دہشت سے شب ہجر کی 

دم مرا جینے سے خفا ہوگیا 

کانچ جو اس گل نے دکھائی مجھے 

شیشۂ دل چور مرا ہوگیا 

توڑتے ہو گوز سے اپنا وضو

شیخ جی صاحب تمہیں کیا ہوگیا 

شیخ جی اب اسکو بدل ڈالئے 

آپ کا عمامہ سڑا ہوگیا 

ملتا ہوں کپڑوں میں اے رشک گل 

عطر مجھے موت ترا ہوگیا 

حیض کے لتوں سے ترے اے صنم

گل کا گریباں قبا ہوگیا 

طائر رنگ رخ اغیار بھی 

گوز کے ہمراہ ہوا ہوگیا 


شوخی میں اے شوخ ترا خون حیض

رشک وہ رنگ حنا ہوگیا 

سبزۂ خط آیا جو چرکینؔ کو یاد

زخم دل اور ہرا ہوگیا 
***
6
غیر کا دھک سے ہوا دل کوں سے جاری خوں ہوا 
کوچۂ گیسو میں مجھ کو دیکھ موئی جوں ہوا 

غیر جس دم پادتا ہے سن کے ہنستا ہے وہ طفل

اس کے آگے اس کا سفر دمڑی کی چوں چوں ہوا 

چرک دینا سے نہ ہو کچھ پاک طینت کو خطر

گو کے پڑنے سے بھلا ناپاک کب جیحوں ہوا

چھوکرے تھے میرے آگے کے یہ دونوں دشت میں 

گانڑ کھولے پھرتے تھے وامق ہوا مجنوں ہوا

ایسے افیونی کی کھجلائے ہوئی جو گانڑ لال

مغ بچے بولے کہ شیخ تیرہ رو میموں ہوا

غیر نے پادا جو کو کا اس کبوتر باز نے 

گوزکا نالہ کبوتر کا سا بس غٹ غوں ہوا 

آئی ہ رنگیں بیانی پر اگر چرکینؔ کی طبع

تازہ مضموں ہے گل آدم گل مضموں ہوا 
***
7
بے_یار سیر کو جو میں گلزار تک گیا 
دامن پہ گل کے حیض کے لتے کا شک گیا 

کیا گانڑ پھاڑ منزل صحرائے نجد تھی 

دو چار کوس بھی نہ چلا قیس تھک گیا 

ہگتا تھا غیر کوئے صنم میں گیا جو میں 

بن گانڑ دھوئے خوف سے میرے کھسک گیا 

فضلے کی جا نکلتی ہے اب پیپ گانڑ سے 

دل غیر کا یہ ہاتھ سے جاناں کے پک گیا 

ہگتے میں اس کی گانڑ سے نکلا جو کیچوا

نامرد غیر سانپ سمجھ کر جھجھک گیا 

پی میں نے جا کے ہمرہ جاناں جو کل شراب

ہگ مارا پائجامے میں ایسا بہک گیا 

نشو و نمائے باغ ہے چرکیںؔ کے فیض سے 

دی کھاد جس درخت کی جڑ میں پھپک گیا
***
8
گو جدا اچھلے گا خوش ہوئیں گے اغیار جدا 
سر چرکیںؔ نہ کراو قاتل خوں خوار جدا

ہے پرستارئی بیمار محبت مشکل 

گانڑ پھٹ جاتی ہے ہوجاتے ہیں غم خوار جدا

ناک گھسنے کے عوض گانڑ گھسی ہے یاں تک 

پٹ جدا خوں سے ہے ترسنگ در یار جدا 

شیخ نے خوف سے رندوں کے یہ ہگ ہگ مارا

جبہ آلودہ جدا گو سے ہے دستار جدا

دسترس پاؤں تلک بھی نہیں سفرا کیسا 

پہلوئے یار سے ہوتے نہیں اغیار جدا 

گو نہ کھا دعویٰ بیجا ہے یہ او کبک دری

تیر رفتار الگ یار کی رفتار جدا

جب چرکینؔ نہانے کو گیا دریا پر 

گو اچھلتا ہے پڑا وار جدا پار جدا
***
9
شب کو پوشیدہ جو آنکھوں سے وہ مہ پارا ہوا 
پھٹکیاں گو کی مرے آگے ہر اک تارا ہوا

کھانے سے افیون کے پہنچی یہ نوبت شیخ جی 

اس قدر پیٹ آپ کا پھولا کہ نقارا ہوا 

تھے مقید اے جنوں بیت الخلائے یار میں 

گوز کے مانند نکلے اپنا چھٹکارا ہوا 

جا نہ اہل آبرو کو دے کبھی کندہ مزاج

حوض پاخانے میں کب تعمیر فوارا ہوا 

گانڑ پھٹتی ہے ہمارے ساتھ چلتے چرخ کی 

خلق دنیا میں نہ ہم سا کوئی آوارا ہوا 

کتنی ہی رگڑی توے پر گانڑ افلاطون نے 

عشق کے بیمار کا ہرگز نہ کچھ چارا ہوا 

گھورنے گھورنے پہ اک مہتر پسر کو جائے گا

گر کبھی چرکین کو منظور نظارا ہوا
***
10
رند ہر اک مارے خطر کے مودب ہوگیا 
محتسب کے آتے ہی میخانہ مکتب ہوگیا 

لب بلب چرکینؔ سے مہتر پسر جب ہوگیا

ہوگئی حاجت روا مقصود دل سب ہوگیا 

پڑ گیا مہتر پسر کے چاند سے منہ کا جو عکس 

چاہ مبرز بے_تکلف چاہ نخشب ہوگیا 

رفع حاجت کے لئے آیا جو پاخانے میں یار

گھورا گھاری ہی میں حاصل اپنا مطلب ہوگیا 

باغ باغ عاشق ہوئے ،لینڈی خوشی سے تر ہوئی 

خرمن گل پر تمہارے دسترس جب ہوگیا 

خدمت بیت الخلا غیر نجس سے چھٹ گئی 

چھن گئی جاگیر اس کی ضبط منصب ہوگیا 

بیٹھنا بیت الخلا میں غیر کو کب تھا نصیب

دستگیری سے تمہاری وہ مقرب ہوگیا 

چوں نہ کی گو اس کے آگے ہم نے رعب حسن سے 

اپنا خاموشی ہی میں سب عرض مطلب ہوگیا 

چھوڑ دی مکھڑے پہ جس دم زلف شب گوں یار نے 

وصل کا بھی روز چرکیںؔ ہجر کی شب ہوگیا 
*** 
11
وصف گیسو پر دل چرکینؔ پھر مائل ہوا 
پھر یہ گو عنبر بنا سب کا پسند دل ہوا 

گوہا چھی چھی پر مزاج یار پھر مائل ہوا 

غیر سگ سیرت کی پھر صحبت میں وہ داخل ہوا 

گو اٹھانے پر دل اغیار پھر مائل ہوا 

یار کے بیت الخلا میں آ کے پھر داخل ہوا 

پھر وہی موجیں شراب عشق کی ہیں گانڑ پھاڑ

پھر وہی بھسمنت جل جل کر کباب دل ہوا 

غیر پھر دوڑا ہوا آتا تھا ہگتا پادتا 

پھر غبار کوئے جاناں موت گو سے گل ہوا 

قیس کا نالہ اسے گوز شتر پھر ہوگیا 

باد پر پھر اب مزاج صاحب محمل ہوا 

پر ہوا گندا گرا دل غیر سگ سیرت کا پھر

چاہ نخشب وہ ذقن تھا پھر چہ بابل ہوا 

محتسب کی گانڑ پھر پھاریں نہ کیوں کر مغ بچے 

میکشی پر آج پھر وہ بوالہوس مائل ہوا 

میکشوں سے شیخ کونی پھر لگا کرنے سکیڑ

خواب میں شیطاں پھر اس کی گانڑ میں منزل ہوا 


شستہ و رفتہ ہے مصرع پھر پڑھو چرکیںؔ اسے 

پھر یہ گو عنبر بنا سب کا پسند دل ہوا
***
12
مقعد کی طرح منہ بھی مرے سامنے ڈھانکا 
یہ آپ نے گنڑ غمزہ نکالا ہے کہاں کا 

دنیا کی نجاست سے بری گوشہ نشیں ہے 

رغبت نہ کرے گو پہ کبھی زاغ کماں کا 

ہیں گو کے جہاں ڈھیر وہاں خرمن گل تھے 

کیا سبز قدم باغ میں آیا تھا خزاں کا 

اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت 

چکھا نہ متنجن کی نواب کے خواں کا 

گو لرکا مگر پھول ہے اس کا رخ رنگیں 

پایا نہ پتہ ہم نے کبھی اس کے نشاں کا 

سدوں کو کبابوں سے اگر دیجئے تشبیہ

پاخانے پہ عالم ہو کبابی کی دکاں کا 

چرکیںؔ مرے کوچے میں کہیں رہنے نہ پاوے 

مہتر پہ یہی حکم ہے اس آفت جاں کا 
***
13
مہر وفا کے بدلے ستم یار نے کیا 
چرکیںؔ اثر یہ آہ شرر بار نے کیا 

پڑتے ہی سر پہ گانڑ کے نیچے اتر گئی 

کیا کاٹ اے صنم تری تلوار نے کیا 

پھر ہم سے آج کل وہ لگا کرنے گنڑ اچھال

پھر ربط غیر کونی سے دلدار نے کیا 

پھر گفتگوئے پوچھ لگی آنے بیچ میں 

پھر گوز بند یار کی گفتار نے کیا 

چلتے ہی گانڑ پھٹ گئی اٹھنا محال ہے 

ایسا نحیف عشق کے آزار نے کیا 

گو میں نہائے خوب سے جھاڑے گئے کمال

بوسہ طلب جو یار سے اغیار نے کیا 

گوز اک تونے جو اے غنچہ دہن چھوڑ دیا 

بوسہ طلب جو یار سے اغیار نے کیا 

گودا بھی ہڈیوں کا جلا کر کیا ہے خاک

چرکیںؔ سے یہ سلوک تپ حار نے کیا 
***
14
تونے آنا جو وہاں غنچہ دہن چھوڑ دیا 
گل پہ پیشاب کیا ہم نے چمن چھوڑ دیا 

عطر بو سے معطر ہوا بلبل کا دماغ

گوز اک تونے جو اے غنچہ دہن چھوڑ دیا 

کانچ اس شوخ کی جس روز سے دیکھی ہم نے 

نام لینا ترا اے لعل یمن چھوڑ دیا 

صدمۂ عشق کا بوجھ اس سے اٹھایا نہ گیا 

یہ پھٹی گانڑ کہ بس روح نے تن چھوڑ دیا 

روز و شب ہگنے سے تم اس کے خفا رہتے تھے 

مہترو خوش رہو چرکیںؔ نے وطن چھوڑ دیا 
***
15
تھا گرفتاری میں جو خطرہ مجھے بے_داد کا 
کردیا بیت الخلا ہگ ہگ کے گھر صیاد کا

یار کے قد کا جو آتا ہے مجھے ہگنے میں دھیا

لینڈی استادہ پہ ہوتا ہے گماں شمشاد کا 

مجھ سے رہتا تھا خفا مہتر پسر ملوا دیا 

کیا کروں میں شکر گوگا پیر کی امداد کا 

روبرو اعلی کے اسفل سرکشی کرتا نہیں 

سامنا پھسکی سے ہوسکتا نہیں ہے پاد کا 

شدت درد جدائی سے میں گوہوں جاں بلب

دھیان ہے اس حال میں بھی اس ستم ایجاد کا 

گانڑ پٹ کر حوض ہوگی رستم و سہراب کی 

خنجر براں ارگ دیکھا مرے جلاد کا 

ایک دن بھی دل نہ اس بت کا پسیجا قہر ہے 

تھا مگر گوز شتر نالہ دل ناشاد کا 

بھر دیئے ہیں کھیت ہضمی سے ہگ کر شیخ نے 

کوئی خواہش مند اب دہقاں نہیں ہے کھاد کا 

پاد نے میں شیخ کیا مجھ سے کرے گا سامنا 

مجھ میں اس میں فرق ہے شاگرد اور استاد کا 


یہ دعا ہے روز و شب چرکیںؔ کی گوگا پیر سے 

میں بھی اب مہتر بنوں جاکر الہ آباد کا 
***
16
خطرہ ہر ایک ترک کو شمشیر سے ہوا 
نو ذر کا گوز بند ترے تیرے سے ہوا 

رویا جو اس کے دست حنائی کی یاد میں 

ہر اشک سرخ خون بواسیر سے ہوا 

پیچس کبھی شکم میں کبھی سدے پڑے گئے 

جس دن سے عشق زلف گرہ گیر سے ہوا 

قطرہ گرا زمین پہ جو رشک گل بنا 

پاخانہ باغ خون بواسیر سے ہوا 

گوگل جلا کے سیکڑوں سفلی عمل پڑھے 

اس تک نہ دست رس کسی تدبیر سے ہوا 

لبدی کو روز بھنگ کی رکھتے ہیں گانڑپر 

یہ حال شیخ جی کا بواسیر سے ہوا 

تاعمر دسترس نہ ہوا اس پہ ایک دن 

چرکیںؔ کو عشق اس بت بے_پیر سے ہوا 
***
17
کاش گھورے سے ہوئے قسمت کا تیری زر پیدا 
تو بھی چرکینؔ چلن نیاریوں کا کر پیدا 

رفع حاجت کو گئے شہر سے جنگل کو جو ہم 

اپنا گو کھانے کو واں بھی ہوئے سور پیدا 

گردن شیخ پہ رندوں نے رکھا بار گناہ

کھاد اٹھوانے کو اچھا یہ کیا خر پیدا 

گاؤ دی غیر ہے تھپوائیے اپلے اس سے 

گاؤ خانے میں جو ہر روز ہو گوبر پیدا 

گو نہ کھا پوچ نہ رندوں کو سمجھ جھوٹ نہ بول 

صوفیا ہوش میں آ عقل و خرد کر پیدا 

کوچۂ یار می پھولا ہے جو کو کرمتا 

بلبلو ہوگا پھر ایسا نہ گل تر پیدا 

اس کے رتھ خانے کے دیوار پہ کہگل کیجیے 

لید گر ثور فلک کی ہو زمیں پر پیدا 

کیچوے دست میں ااتے نہیں پیچس سے مجھے 

عشق گیسو کے سبب ہوتے ہیں اژدر پیدا 

وصف گیسوئے معنبر میں غضب چرکیںؔ نے 

گو کے مضموں کئے عنبر سے بھی بہتر پیدا 
***
18
آ کے جو وہ غنچہ دہن ہوگیا 
مزبلہ چرکیںؔ کا چمن ہوگیا 

دانت گرے بوڑھے ہوئے شیخ جی 

گانڑ کی مانند دہن ہوگیا 

لال کیا حیض نے سدوں کا رنگ 

یار کا پاخانہ یمن ہوگیا 

یار نے اک دن نہ سنی غیر کی 

گوز شتر اس کا سخن ہوگیا 

گھورے پہ لاشہ ترے مقتول کا 

رزق سگ و زاغ و زغن ہوگیا 

شیخ کی مقعد میں نہیں لینڈیاں

بند یہ ناسور کہن ہو گیا 

ہجر میں او گل ترے چرکینؔ کا 

سوکھ کے کانٹا سا بدن ہوگیا 
***
19
اگر اے شیخ جی چھوڑو گے پینا ساغر مل کا 
پھٹے گی گانڑ ہوگا زور ہر مل اور خرمل کا 

چمن میں پھینکا اس گل نے جو استنجے کے ڈھیلے کو

گلیلا بن کے توڑا سنگ دانہ اس نے بلبل کا 

قلم اپنا نہ کیوں کر مشک موتے وصف لکھنے میں 

ختن ہے چین گیسو مشک نافہ حلقہ کا کل کا 

ٹپکتا رنگ گل ہر عضو سے ہے بل بے_رنگینی 

گلاب قسم اول کیوں نہ ہو پیشاب اس گل کا 

سر محفل بٹھاؤ میخ پر ہے غیر ہرجائی 

علاج اس سے نہیں بہتر اس کی گانڑ کی چل کا 

لگا ہے گو تری ایڑی میں بولا بدگمانی سے 

کہا جب میں نے کیا ہی حسن ہے شان و تحمل کا 

مثل مشہور ہے پڑتا ہے گو گانڑ میں چرکیںؔ 

لب شیریں کا بوسہ لو نہیں موقع تامل کا 
***
20
سرو ہی کھینچ کے قاتل جدھر کو جا نکلا 
ہگا ہگا دیا سب کو پدا پدا نکلا 

نظر پڑے جسے وہ ہاتھ اس کو دست چھٹے 

کبھی جو باغ سے مل کر وہ گل حنا نکلا 

حقیقتاً ہے عجب گانڑ پھاڑ منزل عشق

ادھر سے جو کوئی نکلا وہ پادتا نکلا 

یہاں تلک تو رہا ضبط راز عشق مجھے 

نہ انجمن میں کبھی گوز بھی مرا نکلا 

پڑا ہے صورت مردار جس جگہ چرکیںؔ 

کبھی نہ لید اٹھانے بھی کوئی آ نکلا
***
21
اس گل عذار کا جو گزر ناگہاں ہوا 
فیض قدم سے گھورا ہر اک گلستاں ہوا 

مرغ چمن کا نالہ اڑا دوں گا پاد سا 

گو کھانے کو عبث وہ مرا ہم زباں ہوا 

میرے نا کان پھوڑئے ب گو نہ کھائیے 

بولا وہ ناز سے جو میں گرم فغاں ہوا 

پیشاب آ کے جو پس دیوار کر چلے 

بیت الخلا تمہارا ہمارا مکاں ہوا 

گو کھانے پھر نہ آئیں گے اغیار سگ سرشت

بیت الخلا کا بند اگر نابداں ہوا 

پوری تو گانڑ دھونی نہیں آتی شیخ کو 

پھر پاد کر وضو جو کیا رائگاں ہوا 

گو میں نہائے غیر نہانے کو جب وہ شوخ 

چرکیںؔ کے ساتھ جانب دریا رواں ہوا 
***
22
اگر بیت الخلائے یار چرکیںؔ کا مکاں ہوگا 
وہیں تسکین دل ہوگی وہیں آرام جاں ہوگا 

سمند گوز نکلے گا تو جاں خفت سے جائے گی 

یہ گھوڑا تو سن روح رواں کے ہم عناں ہوگا 

مریض سلسل البول اک جہاں ہے تیری دہشت سے 

یقیں ہے دل کو قارورے کا شیشہ آسماں ہوگا 

بہت اغیار دم بھرتے ہیں ہردم جاں نثاری کا 

چھپا کر گانڑ بھاگیں گے جو وقت امتحاں ہوگا 

کہا اہل زمیں نے دیکھ طفل اشک کو میرے

پھٹے گی پیر گردوں کی جو یہ لڑکا جواں ہوگا 

اگر تعریف بھی کیجیے تو ہوجاتے ہو کھسیانے 

چرک پدنانہ تم سا بھی کوئی اے مہرباں ہوگا 

ہگے دیتے ہیں مرغان چمن صیاد کے ڈر سے 

یقیں ہے گو سے لت پت اے صبا ہر آشیاں ہوگا 

وبا نے مار ڈالا کیسے کیسے ہگنے والوں کو 

مقرر اس برس کچھ کھاد کا سودا گراں ہوگا 

شب فرقت یہ گو اچھلے گا چرکیںؔ کے تڑپنے سے 

ستارے پھٹکیاں مہ چھوت گھورا آسماں ہوگا 
***
23
کون یاں وارفتہ ہے خوباں کے مشکیں خال کا 
دل ہمارا شیفتہ ہے زاغ کے پیخال کا 

گو م اک ایسا لگیا ہے پرانی چال کا 

دل شگفتہ ہو گیا ہے اس سے مجھ بے_حال کا 

یار کی دعوت کریں کیا گانڑ میں گو بھی نہیں 

یہ مثل سچ کہتے ہیں کیا حوصلہ کنگال کا 

بیٹ ہاتھ آتی نہیں خواجہ سرائے کہنہ کی 

وقر ہے دنیا میں کتنا اس پرانے مال کا 

فتنۂ محشر وہیں ہگ دیوے مارے خوف کے 

گر سنے وہ شور پائے یار کی خلخال کا 

کانچ اس کی دیکھ کر چرکیںؔ نہ ہو کیوں باغ باغ

خوش نما ہوتا ہے ایسا پھول کب کچنال کا 
***
24
غیر واں جا کے گوز مار آیا 
بزم جاناں سے شرمسار آیا 

صورت بوئے گوز یار آیا 

باؤ کے گھوڑ پر سوار آیا 

گرگ و شیر و پلنگ کو و ترک 

لینڈی کتے کی موت مار آیا 

جب بڑھا اپنے موت کا دریا 

وار آیا نظر نہ پار آیا 

اک نہ اک عارضہ رہا ہم کو

تھم گئے دست تو بخار آیا 

ہگ دیا ڈر کے سوچ کر انجام 

زیر پا جب کوئی مزار آیا 

نہ ہوا صاف گانڑ تک رگڑی 

یار کے دل میں جب غبار آیا 

کھاد پڑنے لگی چمن میں پھر

بلبلو موسم بہار آیا 

شیخ صاحب تھے فرط نفخ سے تنگ

گوز نکلا تو پھر قرار آیا 

طفل مہتر کو دل دیا چرکیںؔ 

کیسے گہیل پہ تجھ کو پیار آیا 
***
25
لگا کر غیر کے اتنا بھی چرکا 
بھرا سب ہگ کے پاجامہ ادھر کا 

ہگوڑا کون گزرا ہے ادھر سے 

پٹا ہے گو سے رستہ بحر و بر کا 

ترے اٹھتے ہی او رشک گلستاں 

ہوا گھورے سے بدتر حال گھر کا 

نمک بھوسی کو تم خصیوں میں باندھو

خلل ہے شیخ جی گر درد سر کا 

جو آنکھوں نے نہ دیکھا تھا سو دیکھا 

اٹھا پردہ جو پاخانے کے در کا 

کسی دن غیر کی پھٹ جائیگی گانڑ

یہی ہگنا ہے گر دو دو پہر کا 

پڑا ہوگا کسی گھورے پہ چرکیںؔ 

پتا کیا پوچھتے ہو اس کے گھر کا 
***
26
چرکیںؔ رہا نہ پاس تجھے نام و نننگ کا 
پائل ہوں اپنے نشۂ مے کی ترنگ کا 

چلتی ہے گانڑ پھرنے کی طاقت نہیں رہی 

لت پت ہے گو سے سارا بچھونا پلنگ کا 

سدوں پہ سدے نکلے ہی آتے ہیں متصل

ہے کون شیخ یا کہ ہے مہرا سرنگ کا 

قبض الوصول لے کے بھی دیتا نہیں ہے گو

ممسک مزاج ایسا ہے اس شوم و شنگ کا 

یاں تک ہیں چرخ سفلہ سے زوباہ بازیاں

لینڈی سے گوز بند ہے شیر و پلنگ کا 

گو میں جلے ہیں ہڈیاں نادر سے شخص کی 

انجام ہے یہ ظالم پرریوں رنگ کا 

سر سیکھنا نہ تو کبھی گندھار کے سوا

چرکیںؔ اگر ہو شوق تجھے راگ و رنگ کا 
***
27
بھلا کیوں کر نہ آئے دست اے چرکیںؔ مجھے خوں کا 
تصور جب بندھے ہگنے میں اس کے روئے گلگوں کا 

دکھائے گا اگر وہ بحر خوبی چشم کی گردش

یقیں ہے حوض ہو جائے گا سفرا پیر گردوں کا 

دلائی کیچوؤں نے یاد اس زلف معنبر کی 

کھڑی لینڈی کو دیکھا دھیان آیا قد موزوں کا 

یہ گو کھانا ہے جو دولت کما کر جمع کرتے ہیں 

سنا تم نے نہیں کیا غافلو افسانہ قاروں کا 

مبس بار ریاضت سے وہ پر پر پادے دیتے ہیں 

گماں ہے شیخ جی کی گانڑ پر لڑکوں کی چوں چوں کا 

ہزاروں پیچ اٹھیں پیٹ میں دہشت سے ہگ مارے 

سنے گر سانپ افسانہ بتوں کی زلف شب گوں کا 

نہ کرنا عشق اس کے خال مشکیں سے کبھی چرکیںؔ 

نہایت گانڑ پھاڑے گا تری یہ نشہ افیون کا
***
28
پاخانہ وہیں ہوگیا گلزار تمہارا 
کھڈی میں گرا ٹوٹ کے جب ہار تمہارا 

وہ کون ہے جس سے نہیں قارورہ ملا ہے 

بندے ہی پہ موقوف نہیں پیار تمہارا 

منہ گانڑ ہے جو بات ہے وہ گوز شتر ہے 

انکار سے بدتر ہے یہ اقرار تمہارا 

ہگتا ہے بچھونوں پہ نہیں گانڑ کا بھی ہوش

اس حال کو اب پہنچا ہے بیمار تمہارا 

ہگ مارا ہے پہچان کے مرقد کو ہماری 

گزرا ہے جو اس سمت سے رہوار تمہارا 

ناپاک ہیں اغیار تم ان کو نہ کرو قتل 

ہوئے گا نجس خنجر خوں خوار تمہارا 

پیدا ہوں ہر اک دانے کی جا سیکڑوں خرمن 

گو مول لے چرکیں جو زمیندار تمہارا
***
29
دیکھیں جو کاٹ خنجر ابروئے یار کا 
چر جائے سفرا رستم و اسفند یار کا 

مقعد کنول کا پھول ہے اس بحر حسن کی 

جھانٹوں میں اس کے صاف ہے عالم سوار کا 

بیت الخلائے یار میں کیا غیر جاسکے 

دہشت سے گوز بند ہے اس نابکار کا 

پیشاب سے منڈائیں نہ کیوں داڑھی شیخ جی 

رندوں کو دھوکا ہوتا ہے موئے زہار کا 

ہوجائے حوض ماہئ بے_ااب کی بھی گانڑ

عالم بیاں کروں جو دل بے_قرار کا 

پھولے پھلے ہر اک شجر خشک باغباں

تھالوں میں گو پڑے جو مرے گل عذار کا 

ناوک کا تیر گوز ہے اور گانڑ ہے تفنگ

ہو کیوں نہ شوق یار کو چرکیںؔ شکار کا 
***
30
نہ غیر کونی سے اے یار ربط کر پیدا 
نہیں زمانے میں اس سا کوئی لچر پیدا 

جو ایک دست بھی آوے تو جان جاتی ہے 

ہوا نے آج کل ایسا کیا اثر پیدا 

چمن میں جاتا ہوں تجھ بن تو بوئے گل سے مرا 

دماغ سڑتا ہے ہوتا ہے درد سر پیدا 

قلق کے مارے گھسی گانڑ رات بھر میں نے 

ہوئی نہ اس پہ شب ہجر کی سحر پیدا 

جو حال دل کہوں کہتا ہے گو نہ کھا چرکیںؔ 

زیادہ بکنے سے ہوتا ہے درد سر پیدا 
***
31
اب کے چرکیںؔ جو زر کماؤں گا 
پائخانے میں سب لگاؤں گا 

موتنے پر کبھی جو آؤں گا 

سیر دریا اسے دکھاؤں گا 

تیرے گھر سے جو اب کے جاؤں گا 

موتنے بھی کبھی نہ آؤں گا 

پائخانے میں گر لگے گی آگ

موت موت اس کو میں بجھاؤں گا 

ہوں وہ منصف کہ گو گا پیر کا میں 

شہد پر فاتحہ دلاؤں گا 

صدمۂ عشق سے ہے غیر کا قول 

پھر کبھی ایسا گو نہ کھاؤں گا 

فخر ہوگا مرا میں عاشق ہوں

گو بھی گر آپ کا اٹھاؤں گا

غیر کونی جو چڑھ گیا ہتھے 

دیکھنا کیسا انگلیاؤں گا 

طرفہ یہ چہل ہے رقیبوں کو

گانڑ گھسواؤں گا پداؤں گا

سامنے اپنی راحت جاں کے 

خوب گنڑ چتڑیاں لڑاؤں گا 

سر فرہاد کی قسم چرکیںؔ 

لب شیریں پہ زہر کھاؤں گا 
***
32
غیر تب بولائیگا جب وہ خفا ہوجائے گا 
دست پاجامے میں دہشت سے خطا ہوجائے گا 

نوجوانو ضعف پیری پر مرے ہنستے ہوکیا

آگے آئے گا یہ دریا کاہگا ہوجائے گا 

بند انگیا کے نہ بندھوا غیر سے ہے ڈوریا

پاک دامن ہے نجس جوڑا ترا ہوجائے گا 

گانڑ میں گھس جائے گی ساری مشیخت شیخ جی 

جب یہ عمامہ پرانا اور سڑا ہوجائے گا

شافہ لے لے قبض کے مارے جو بولا یا ہے غیر

دست جوآئے گا وہ دست شفا ہوجائے گا 

اے سگ لیلیٰ وہ مجنوں اور سودائی ہوں میں 

جو مجھے کاٹے گا کتا باؤلا ہوجائے گا 

جانہ دے بیت الخلا میں غیر سگ سیرت کو جان 

خوب گو اچھلے گا رسوا جا بجا ہوجائے گا 

باؤ پر اب خاکروب کوئے جاناں جو ہے غیر

پاد سا اڑ جائے گا جب وہ خفا ہوجائے گا 

ناز سے بولا دم رخصت نہ آنا پھر کبھی 

ورنہ اے چرکیںؔ یہ گھر بیت الخلا ہوجائے گا
***
33
قبض سے اب یہ حال ہے صاحب 
پادنا بھی محال ہے صاحب 

روتے انسان کو ہنساتا ہے 

پاد میں وہ کمال ہے صاحب 

پاس سے دور اچک کے جا بیٹھے 

یہ کوئی گنڑ اچھال ہے صاحب 

گانڑ کی طرح منہ چھپاتے ہو 

شرم تم کو کمال ہے صاحب 

غیر نے پادا پادا خوب کیا 

تم کو کیوں انفعال ہے صاحب 

ہے بواسیر غیر کو شاید

زرد منہ گانڑ لال ہے صاحب 

شیخ صاحب سر مبارک پر 

یہ سڑی سی جو شال ہے صاحب

رند کہتے ہیں پھبتیاں اس پر 

لینڈی کتے کی کھال ہے صاحب 

ضعف سے جھانٹ اکھڑ نہیں سکتی 

زیست بھی اب وبال ہے صاحب 

چوں کرے سامنے ہمارے غیر

کب یہ اس کی مجال ہے صاحب

پیو چرکیںؔ شراب کھاؤ کباب

اک حرام اک حلال ہے صاحب
***
34
یار بن کس کو خوش آتی ہے نوائے عندلیب
چپ رہے گلشن میں اتنا گو نہ کھائے عندلیب

بس کہ یک رنگی ہے حسن و عشق میں اے دوستو

گوز سے اس گل کے آتی ہے صدائے عندلیب

درد کا شربت اسے دیوے اگر تو باغباں

گو کے نالے باغ میں ہگ ہگ بہائے عندلیب

اتحاد عاشق و معشوق سے کیا ہے عجب

طفل غنچہ کو جو پاؤں پر ہگائے عندلیب

ڈھیر ہگ ہگ کر کیا ہے اس نے چرکیںؔ ہر طرف

اب تو ہے کنج چمن بیت الخلائے عندلیب
***
35
نہ آئی ہجر میں کروایا انتظار بہت
اجل نے بھی کئے گنڑ غمزے مثل یار بہت 

نہ موڑا کھانے سے منہ کو تو پھر چلے گی گانڑ

وبا ہے شہر میں ہیضے کی ہے پکار بہت 

مثل ہے کافی ہے چیونٹی کو موت کاریلا 

ضعیف ہوں مجھے ہے جسم آشکار بہت

خود آپ گانڑ مراتے ہو صید گہہ سے تم 

شکار آپ کیا چاہیں تو (ہیں) شکار بہت

قبائے گل کی وہ بو جانتے ہیں گو کی بو

جنہیں پسند ہے بوئے لباس یار بہت 

جہاں تھے خرمن گل واں پڑے ہیں گو کے ڈھیر

کیا ہے باد خزاں نے چمن کو خوار بہت

نہ اپنی لاش کے اٹھنے کی فکر کر چرکیںؔ 

حلال خور بہت شہر میں چمار بہت 
***
36
بے_قراری ہے تیری اے دل ناشاد عبث
بے_اثر گوز کے مانند ہے فریاد عبث

تو سہی مزبلہ گھر اس کا ہو ہگتے ہگتے 

قید کرتا ہے قفس میں ہمیں صیاد عبث

چوں نہ کی شیخ نے محفل میں کبھی رندوں کی 

کانا پھوسی میں ہے یہ تہمت الحاد عبث

پادا پونی ہوں کفایت ہے مجھے موت کی دھار

قتل کرنے کو بلاتے ہیں وہ جلاد عبث

کھڈیاں بن گئیں کسریٰ کے جلو خانے میں 

غافلو قصر و عمارت میں ہیں ایجاد عبث

پیٹ میں فضلۂ ناپاک بھرا رہتا ہے 

کیا طہارت میں یہ شک کرتے ہیں زہاد عبث

کچھ بھی دایا کو نہ شیریں نے سزا دی چرکیںؔ 

بہہ گیا نہر میں خون سر فرہاد عبث
***
37
شعلۂ رخسار جاناں ہے چراغ خانہ آج 
شمع ہوگی گانڑ میں آیا اگر پروانہ آج

محتسب آیا تو ہوگی شمع مینا گانڑ میں 

مغ بچوں کا دور ہے گردش میں ہے پیمانہ آج 

کل جو تیرے قید گیسو سے چھٹا تھا اے پری 

کو بہ کو گو تھا پتا پھرتا ہے وہ دیوانہ آج

مانو کہنے کو ہمارے آپ کی چر جائے گی

ہے چیاں سی گانڑ ہاتھی کا نہ لو بیعانہ آج 

غیر کو بیت الخلائے یار کی خدمت ملی 

دیتے ہیں مہتر گل آدم اسے نذرانہ آج 

نعمتیں دنیا کی سب کل تک میسر تھیں جنہیں 

لید میں کا بھی نہیں ملتا ہے ان کو دانہ آج 

خوب سوجھی ہگ ہی دیتے گو اچھلتا فرش پر 

بھاگتے گر شیخ محفل سے نہ بے_تابانہ آج 

وصل کا وعدہ کیا بیت الخلا میں یار نے 

پنجۂ مژگاں سے جھاڑاچاہئے پاخانہ آج 

خواہش آرائش گیسو ہے چرکیںؔ یار کو 

چاہئے پنجے کی ہڈی کا بنادیں شانہ آج 
***
38
بے_ڈول ہے کچھ آپ کے بیمار کی طرح 
گھورے پہ اس کا حال ہے مردار کی طرح 

مقعد کاشیخ جی کی یہ دستوں سے حال ہے 

ہر دم کھلی ہے روزن دیوار کی طرح 

بھاگے ہیں دم دبا کے یہ خطرہ ہے آپ کا 

گو درز و سام گوم سے رہوار کی طرح 

دل لے گئے وہ گانڑ میں سرڈال کے مدام 

بیٹھا رہوں میں گھر میں عزادار کی طرح 

مقعد کی شکل منہ بھی چھپانا ضرور ہے 

بے_پردہ ہو نہ مردم بازار کی طرح 

بیمار غم کی گانڑ کے ڈھب پر چلیں جو آپ 

کبک دری اڑائے گی رفتار کی طرح 

گوز شتر سے کم نہیں تقریر آپ کی 

اب ہے کچھ اور ڈول پہ اقرار کی طرح 

منہ پر ہمارے چھوڑ دیں آ آ کے پھسکیاں

طرفہ نکالی آپ نے یہ پیار کی طرح 

چرکیںؔ دل اس کے نذر کروں اس ادا کے ساتھ

ہگ دے جو میرے یار طرحدار کی طرح 
***
39
دانت مہتر کے ہیں پانوں سے ہوئے سارے سرخ
یا شفق میں نظر آتے ہیں ہمیں تارے سرخ

کون سے کونئی حیضی کو اجی قتل کیا

پاؤں تک سر سے نظر آتے ہو تم پیارے سرخ

جیسی کرتا ہے کوئی ویسی ہی پیش آتی ہے 

کھائے جو آگ ہگے گا وہی انگارے سرخ

شیخ جی گانڑ سے سدوں کا نکلنا ہے محال

کونتھتے کو نتھتے ہوجائیں گے رخسارے سرخ

ذبح فرما کے جو دریامیں اسے پھینک دیا 

خون چرکیںؔ سے نظر آنے لگے دھارے سرخ

پادنے کی بھی خبر لے گئی وہ چوری سے

بن گئی حق میں مرے آپ کی ہرکاری سرخ

شیخ کی گانڑ سے نکلا جو بواسیر کا خون 

سینکتے سینکتے سب بن گئی پچکاری سرخ
***
40
مارے خطرے کے ہوا وہ بت بے_پیر سفید
دست بد ہضمی سے بیٹھا جو میں دل گیر سفید

گانڑ سے غیر کی یہ خون بواسیر بہا

شدت ضعف سے ہے جسم کی تعمیر سفید

وصف لکھنا ہے تری کانچ کا اوسیم اندام

کیوں نہ ہو رنگ محترر دم تحریر سفید

چھوت سے تیرے جو اے مہر اسے دی تشبیہ

ہوگئی اور بھی مہتاب کی تنویر سفید

یاد میں افعی گیسو کی بنی اے چرکیںؔ 

چشم ہر ایک مثال قدح شیر سفید
***
41
اپنے نوخط کو جو چرکینؔ نے لکھا کاغذ
عطر نایاب ہے گو گل سے بسایا کاغذ

اب تلون نے سکھائے ہیں انہیں گنڑ غمزے 

کبھی نیلا ہمیں بھیجا کبھی اودا کاغذ

اس نے لکھی ہے لفافے پہ جو ادن پدن 

یہ کنایا ہے کسی کو نہ سنانا کاغذ

سلسل البول کی مانند رہے ڈاک رواں

اتنے خط لکھوں زمانے سے ہو عنقا کاغذ

گوہا چھی چھی کے جو مضمون تھے تحریر اس میں 

یار نے موت کے دریا میں بہایا کاغذ

نین متنے ہو مرے رمز کو پہچانو گے 

لکھ کے چونے سے ہے اس واسطے بھیجا کاغذ

قاصدو غم سے یہاں گانڑ کا بھی ہوش نہیں 

کس کا لکھنا کسے خط کہتے ہیں کیسا کاغذ
***
42
جو شیفتہ رہے رخسار و قد دل بر پر 
کبھی نہ موتے وہ جاکر گل و صنوبر پر 

یہ سیتلا سے ہے غیر نجس کے منہ کا حال 

وہ جانتے ہیں کہ اولے پڑے ہیں گوبر پر 

پھنسی ہے قبض سے مقعد میں شیخ کی لینڈی 

ہزار طرح کے صدمے ہیں جان مضطر پر 

نہ حرف چوں و چرا ان سے درمیاں آئیں 

جو رگڑیں گانڑ بھی اغیار آپ کے در پر 

نہ روئیو کبھی چرکینؔ جا کے گلے میں 

گمان ہوگا بدر رو کا دیدۂ تر پر 
***
43
لینڈیاں گو کی میں سمجھا مار پیچاں دیکھ کر 
شبہ گھورے کا کیا میں نے بیاباں دیکھ کر 

ہوگیا انزال اے جاں مجھ کو گریاں دیکھ کر 

جل گئیں جھانٹیں تری زلف پریشاں دیکھ کر 

گڈیوں کے کپڑوں کا مجھ کو کفن دو ہمدمو

مرگیا ہوں سرخ میں پوشاک جاناں دیکھ کر 

اس کو پیچش کا خل بتلاتے ہیں سارے طبیب

جو ہوا بیمار وہ گیسوئے پیچاں دیکھ کر 

جمع رکھو ہوش میں دشمن نہیں ہوں گانڑ کا 

مجھ کو شہوت ہے جو پاخانے میں عریاں دیکھ کر 

اے گل ترجانتا ہوں اس کھڑی لینڈی سے کم 

باغ میں استادہ وہ سرد خراماں دیکھ کر 
***
44
چر نہیں جانے کی قاتل تری تلوار کی گانڑ
کھینچ کر اس کو اگر پھاڑ دے اغیار کی گاڑ

صحت اک دن نہ مریض غم فرقت کو ہوئی 

باندھتے باندھتے نسخے پھٹی عطار کی گانڑ

سر بازار ترے حسن کی قیمت سن کر 

دپد پانے لگی ہر ایک خریدار کی گانڑ

سن کے نالوں کو مرے کہتا ہے گل چیں چپ رہ 

بس بہت پھاڑ چکا بلبل گلزار کی گانڑ

ہوں وہ سفلہ کبھی چوموں کبھی چاٹوں اس کو

گو بھری بھی جو میسر ہو طرحدار کی گانڑ

طاقت اٹھنے کی نہیں ضعف سے پھرنا کیسا 

آج کل چلتی ہے ایسی ترے بیمار کی گانڑ

مرے آلت پہ وہ دوڑاتا ہے ہاتھ اے چرکیںؔ 

چل چلاتی ہے مگر آج کل اس یار کی گانڑ
***
45
بلند ہو جو کبھی گوز یار کی آواز 
نہ نکلے سامنے اس کے ستار کی آواز 

جو گوش زد ہے کسی گل عذار کی آواز 

صدائے گوز شتر ہے ہزار کی آواز

چمن میں پاد کے اس رشک گل نے ہگ مارا 

صبا نے بھی نہ سنی اس بہار کی آواز 

عجب ہے کیا جو پھٹے گانڑ شیخ صاحب کی 

سنیں جو نشہ میں مجھ بادہ خوار کی آواز

یقیں ہے خوف سے اس کی بھی دپدپائے گانڑ

سنے جو قیس دل بے_قرار کی آواز
***
46
جو دیکھے چرکیں کی یہ چشم خوں فشاں نرگس
تو سمجھے نالے سے کم نہر بوستاں نرگس

بعینہ اس کو خیابان گل نظر آئے 

نگاہ غور سے جو دیکھے کھڈیاں نرگس

نظیر باغ ہے پاخانہ اس گل تر کا 

جو آب جو ہے بدر رو تو ناہداں نرگس

چمن میں دھویا جو اس گل نے چیپٹر آنکھوں کا 

ہوئی یہ دیکھ کے بیمار و ناتواں نرگس

نہیں ہے قطرۂ شبنم گوہا نجنی نکلی 

پھٹی ہے گانڑ ہے اس غم سے خوں فشاں نرگس

ہے لال پیک ہر اک طفل غنچہ آنکھوں میں 

سمجھتی ہے گل تر گو کی پھٹکیاں نرگس

بہار باغ گیا دیکھنے جو میں چرکیںؔ 

ہوئی ہے دیکھ کے کس درجہ بدگماں نرگس
***
47
انہیں سکتا ہے گو چرکیںؔ ہمارے در کے پاس 
موت کا دریا بھرا رہتا ہے اپنے گھر کے پاس 

ہٹ کے سڑئے ہگ نہ دینا مجھ سے کہتا ہے کہیں 

بیٹھ جاتا ہوں اگر میں اس پری پیکر کے پاس

کھینچ لو گے میان سے جب غیر کے آگے اسے 

سر تو کیا ہے گانڑ تک رکھ دے گا وہ خنجر کے پاس

پائخانے کی مجھے ہوتی جس دم احتیاج

کون جائے دور ہگ دیتا ہوں میں بستر کے پاس 

جو کہ اس میں ہے کہاں ایسی ہے اس میں آب و تاب

موت کے قطرے کو رکھ دیکھو مرے گوہر کے پاس 

مجھ کو گنڑ غمزے تمہارے ایسے خوش آتے نہیں 

پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھے ہو میرے سر کے پاس 

گلشن ہستی میں میں بھی کس قدر مشہور ہوں

کھاد لینے باغباں آتے ہیں مجھ مہتر کے پاس 

دل میں جب آئے گا چرکیںؔ پڑ رہیں گے جا کے ہم 

کچھ نہیں ہے دور گھورا ہے ہمارے گھر کے پاس 
***
48
عبث کھاد اے باغباں کی تلاش
گئی فصل گل رائگاں کی تلاش

وہ ہیں ہم نجس لینڈی کتوں کو بھی 

ہمارے ہی ہے استخواں کی تلاش

لیا شیخ صاحب نے بول الملک 

کریں خاک پیر مغاں کی تلاش

یقیں ہے کسی دن ہگائے گی ہینگ

ہمیں یار نا مہرباں کی تلاش

جو ہو ان کے سفرے کی خوشبو نصیب

نہ پھر کیجئے عطرداں کی تلاش

کسی کے بھی روکے سے رکتا ہے گوز

عبث مجھ کو ہے پاسباں کی تلاش

نہ کھڈی نہ پاخانے میں وہ ملے 

پھرے جا کے خالی جہاں کی تلاش

بھری گو سے فرقت میں چلتی ہے گانڑ

کہاں کی تجسس کہاں کی تلاش

محلے میں چرکیںؔ کے موجود ہیں

اگر آپ کو ہے مکاں کی تلاش
***
49
گوز شتر بنا مری فریاد کا خواص
بدلا کبھی نہ اس ستم ایجاد کا خواص

پاخانہ اس کے دور میں مقتل سے کم نہیں 

سیکھا ہے صاف حیض نے جلاد کا خواص

چورن کے بدلے شیخ اسے کھا کے دیکھ لے 

معلوم ابھی نہیں ہے تجھے کھاد کے خواص

بیت الخلا میں بیٹھ کے خوش ہے وہ شرمگیں 

روتے کو بھی ہنسائے یہ ہے پاد کا خواص

ایسا نہ ہو کہ گانڑ کی سدھ بدھ نہ پھر رہے 

دیکھیں گے آپ نالہ و فریاد کا خواص

بندر کی گانڑ کیوں نہ کھجانے سے منہ بنے 

مشہور ہے جہان میں یہ داد کا خواص

سدوں میں خرمیوں کی ہے لذت بھری ہوئی 

مقعد میں اس صنم کے ہے قناد کا خواص

اے ترک خانہ جنگ تری دھار موت کی 

رکھتی ہے صاف خنجر فولاد کا خواص

پاخانہ شیخ جی کا بواسیر سے ہے سرخ 

رنگت میں اس کے حون کی ہے گاد کا خواص


گلیوں میں مثل قیس نہ گو تھاپتا پھرے 

چرکیں بنے جو یار پری ماد کا خواص
***
50
پیٹ بھرتا نہیں ہے آج بہت پیاری حرص
گانڑ کی راہ نکل جائے گی کل ساری حرص

گانڑ کے گو کو بھی کہتے ہیں نہ لے جانے دو

واہ کیا گھر میں امیروں کے ہے اب جاری حرص

دعوت موت ہے جوع البقروں کا ہگنا

نقد جاں ان سے دلائے گی گنہگاری حرص

کس طرح لاد کے ممسک اسے پہچائیں گے 

پادا پونی سا بدن اور بہت بھاری حرص

گرم کھانوں سے جو نکلے گا بواسیر کا خون 

پائخانے میں دکھائے گی یہ گل کاری حرص

کھاد کو بیچ کے تابوت کے ہوں گے ساماں

بعد مرنے کی کرے گئی یہ پرستاری حرص

جاکے محلوں سے امیروں کے پڑے گھورے پر

معرکہ جیت کے چرکینؔ گئے ہاری حرص
***

2 تبصرے:

syed javed ali کہا...

"چرکیں" کی شاعری بھی اردو ادب کا حصہ ہے ۔ لیکن اس کو سنانا تو کیا پڑھنا بھی ادب کے خلاف محسوس ہوتا ہے ۔

syed javed ali کہا...

"چرکیں" کی شاعری بھی اردو ادب کا حصہ ہے ۔ لیکن اس کو سنانا تو کیا پڑھنا بھی ادب کے خلاف محسوس ہوتا ہے ۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *