اجمل کمال سے دس سوالات



مجھے خوشی ہے کہ اجمل کمال صاحب نے تمام سوالوں کے جوابات دیے ہیں۔حالانکہ ان کی دو چار باتوں سے مجھے اختلاف ہے، مگر ادب میں مکمل اتفاق نامی تو کوئی شے ہوتی ہی نہیں ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب کے یہ جوابات میری بہت سی غلط فہمیوں کو دور کررہے ہیں، ادب کے بارے میں بھی اور ان کے بارے میں بھی۔سوال پوچھنے میں بے شرمی کا مظاہرہ شاید تھوڑی بہت اچھی عادت ہے کہ اول اپنی جہالت دور ہوتی ہے، دوسرے جواب دینے والے کے خیالات سے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ حسن عسکری نے اپنی کہانیوں کے مجموعے کے اختتامیہ میں کچھ ایسی بات لکھی تھی'ہمارے یہاں جو نوجوان ادب لکھنے بیٹھتا ہے،وہ پچھلے تمام ادبی سرمائے کو یکسر قلم زد کرکے اپنا قلم اٹھاتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ ادب تو وہی کچھ ہے جو وہ تخلیق کررہا ہے'۔مجھے ایسے نوجوان کی پگڑی نہیں پہننی،چنانچہ میں اپنے بڑوں کو سوالوں سے زچ کرنا زیادہ مناسب خیال کرتا ہوں۔اب کوئی اسے میری شرارت سمجھے، کم علمی یا بد نیتی،مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اجمل کمال کے یہ جوابات بہت سی روایتی اصطلاحوں اور گھسی پٹی باتوں اور خیالات پر کھونکھیاتے نظر آرہے ہیں،لیکن یہ کھری کھوٹی ذہن میں کھرے کھوٹے کا فرق بھی واضح کررہی ہے۔بس ضرورت غور کرنے کی ہے۔

 تصنیف حیدر:آپ رسالہ 'آج' میں غزلیں کیوں نہیں شائع کرتے؟ کیا اچھی غزلیں لکھنی لوگوں نے چھوڑ دی ہیں؟کیا آپ اس صنف سے اکتا گئے ہیں؟

اجمل کمال:’’آج‘‘ 1981میں جب پہلی بار نکلا تھا تو اس میں غزلیں شامل تھیں۔ جب 1989میں اسے ایک سہ ماہی کے طور پر جاری کیا گیا تو غزلیں شائع کرنا بند کر دیا گیا۔ یہ ایک سوچاسمجھا ادارتی فیصلہ تھا، لیکن اس کے اسباب وہ نہیں جو آپ نے مثال کے طور پر بیان کیے ہیں۔ ہر ادارتی فیصلے کے بارے میں کم از کم دو رائیں تو ہو ہی سکتی ہیں ۔۔ کہ یہ درست ہے یا غلط ۔۔ کچھ لوگ اس سے آگے جا کر اس فیصلے کے محرکات بھی تلاش کرنے لگتے ہیں، جو پڑھنے والوں کے طور پر ان کا حق ہے۔ لیکن انتظامی سہولت کے پیش نظر کسی رسالے میں فیصلہ کرنے کا اختیار بہرحال مدیر ہی کو حاصل ہوتا ہے، اور میرے خیال میں ایسا ہی ہونا بھی چاہیے۔ اپنے کسی ادارتی فیصلے کا جواز پیش کرنا مدیر کی ذمےداری میں شامل تو نہیں لیکن اب آپ نے پوچھ لیا ہے تو بتائے دیتا ہوں۔ اس کی بنیاد کسی صنف سے اکتاہٹ یا کد پر نہیں ہے ۔۔ کوئی ادبی صنف، یا زبان، کسی شخص کا نام نہیں ہوتا جس سے آپ کو الفت یا نفرت ہو۔ اردو کی شاعری کا خاصا قابلِ لحاظ حصہ غزلوں پر مشتمل ہے اور اردو شاعری کی روایت ہم تک، اور اصنافِ شاعری کے ساتھ ساتھ، غزل کے ذریعے پہنچی ہے۔ جس بات سے مجھے اختلاف ہے وہ یہ تصور ہے کہ غزل کو آج بھی ہمارے ادبی کلچر میں کسی قسم کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یوں تو اردو شاعری کا پہلا مرتب مجموعہ جعفر زٹلّی کا ’’زٹل نامہ‘‘ تھا جس میں ایک بھی غزل شامل نہیں تھی، اور اس بات کو رشید حسن خاں نے بڑی صراحت سے بیان کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس دور کے سماجی حالات کی بدولت غزل کو مرکزی اہمیت دے دی گئی، لیکن مثلاً اقبال کے آتے آتے یہ حالات بدلنا شروع ہو گئے تھے۔ اقبال کی شاعری کی اہمیت کو دیکھتے ہوے اس مرکزیت پر اب تک اصرار کرتے چلے جانا میرے نزدیک مضحکہ خیز ہے۔ اقبال جن لوگوں سے متاثر ہوے ان میں حالی تو تھے ہی (موضوعات کے اعتبار سے بھی اقبال کی ’’قومی‘‘ شاعری بڑی حد تک مسدس مدوجزر اسلام ہی کی توسیع ہے)، لیکن نظیر اکبرآبادی کو چھوڑ بھی دیں، کیونکہ نقادوں کے متواتر اصرار کے نتیجے میں عموماً انھیں اردو شاعری کی روایت سے باہر سمجھا جاتا ہے) تو خود میر کی کلیات میں نظم کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اقبال کے تخلیقی انتخاب کو ضرور تقویت دی ہو گی۔ تبدیلی کا یہ عمل ہمارے زمانے تک آتے ہوے اتنا موثر ہو گیا ہے کہ بعض لوگوں کی رائے میں (جن میں میں بھی شامل ہوں) غزل اپنے فارمیٹ کی محدودیتوں کے باعث جدید شاعروں کے اظہار کے لیے ناکافی، بلکہ نامناسب محسوس ہونے لگی ہے۔ اچھی غزلیں (یا  مثلاً اچھی رباعیاں) اب بھی یقیناً لکھی جا رہی ہوں گی، لیکن ہمارے دور کی زندگی کا حساس احوال پیش کرنے والی شاعری اور اصناف، خصوصاً نثری نظم کی صنف میں سامنے آ رہی ہے۔ آپ چاہیں تو اس بات سے ضرور اختلاف کر سکتے ہیں (اور بیشتر اردو رسالوں کے مدیر ظاہر ہے اس سے متفق معلوم نہیں ہوتے؛ ان کے رسالوں میں غزلیں تواتر سے شائع ہوتی ہیں)۔ بطور مدیر مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اپنے رسالے کے صفحات اس قسم کی شاعری کے لیے وقف کروں جسے دوسرے کم و بیش ہر رسالے میں جگہ ملتی ہی ہے۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ سوال کچھ عجیب سا ہے کہ کسی رسالے میں فلاں یا فلاں چیز کیوں شامل نہیں؛ جو چیزیں شامل ہیں ان کے جواز پر سوال اٹھانا تنقیدی مطالعے کا ایک معقول جز ضرور بن سکتا ہے۔

تصنیف حیدر: 'دنیازاد'اور 'آج' ۔ہمارے پاس عالمی ادب کے پیمانے پر پورے اترنے والے یہی دو رسالے ہیں۔ کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے؟

اجمل کمال:عالمی ادب کا پیمانہ نام کی کسی چیز کے وجود سے میں بےخبر ہوں۔ چونکہ یہ اصطلاح آپ نے استعمال کی ہے اس لیے اس کی وضاحت بھی آپ کو کرنی چاہیے۔ میرا سوال یہ بھی ہو گا کہ کیا آپ کے نزدیک ’’دلگداز‘‘، ’’تہذیب الاخلاق‘‘، ’’اودھ پنچ‘‘، ’’نگار‘‘، ’’مخزن‘‘، ’’ساقی‘‘، ’’ہمایوں‘‘، ’’ادبی دنیا‘‘، ’’نقوش‘‘، ’’شب خون‘‘، ’’سوغات‘‘، ’’فنون‘‘، ’’نیا دور‘‘، ’’سویرا‘‘ وغیرہ اس پیمانے پر پورے نہیں اترتے؟ اگر ایسا ہے تو یہ پیمانہ ہمارے کس کام کا جو ادبی رسالوں کی ہماری توانا روایت کے پیمانے ہی کو الٹا کر خالی کر دے؟ جبکہ میرا خیال ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سو برس سے زیادہ عرصے کی ہماری ادبی، فکری، مذہبی اور صحافتی تاریخ لفظ بہ لفظ، صفحہ بہ صفحہ انھی اور ان جیسے دوسرے رسالوں کے ذریعے مرتب ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں رائج بہت سی بوالعجبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ادب، فکری بحث، صحافت، غرض ہر ثقافتی اظہار کو کسی مسابقتی کھیل کے ٹورنامنٹ کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کے آخر میں وکٹری اسٹینڈ پر فقط ایک کی جگہ ہوتی ہے جو باقی سب کو پچھاڑ آیا ہو۔ میں چونکہ متذکرہ بالا رسالوں میں سے بعض کا مطالعہ کر چکا ہوں اس لیے خود کو اس قسم کی بوالعجبی کے سپرد کرنے کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتا۔میرے نزدیک نہ صرف ادبی رسالوں کی اشاعت بلکہ ہر ثقافتی سرگرمی کسی سماج، زبان اور اس زبان کو استعمال کرنے والے گروہ کے مخصوص سیاق و سباق میں پیش آتی ہے اور تاریخی، سماجی اور سیاسی صورت حال سے متعین ہوتی ہے۔ کسی مختلف سماج میں پیش آنے والی سرگرمی میں اس کا ہوبہو عکس تلاش نہیں کیا جا سکتا، البتہ مختلف معاشروں اور زبانوں کی اس جیسی سرگرمی سے موازنہ کر کے اس کے مخصوص خدوخال کو پہچانا ضرور جا سکتا ہے۔ کوئی ٹورنامنٹ جیتنے کی ہوڑ میں نہیں، بلکہ ایک وسیع تر عالمی اور تاریخی تناظر کو سمجھنے کی خاطر۔ اس طرح دیکھا جائے (اور میں اسی طرح دیکھتا ہوں) تو نہ صرف ’’آج‘‘ اور ’’دنیازاد‘‘ بلکہ ماضی اور حال کے تمام ادبی (اور دیگر) رسالے ایک وسیع تر ثقافتی سرگرمی میں اپنا اپنا وہ کردار ادا کرتے رہے ہیں جو ان کے مدیروں کا طے کیا ہوا ہے۔ اس تمام سرگرمی کا حاصل پڑھنے والوں کے ذہنوں میں رفتہ رفتہ ایک تصورِ دنیا (ورلڈویو) کا متشکل ہونا ہے۔ اس سرگرمی میں اصل فاعل کردار تو لکھنے والوں کا ہے (یا مترجموں کو بھی شامل کر لیجیے)؛ رسالے تو صرف ان کی تحریروں کو مدیر کی ترجیحات کے مطابق ایک مخصوص ترتیب میں پڑھنے والوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہی ان کا کام ہے۔

تصنیف حیدر: آپ کی ایک تحریر سے لگتا ہے کہ آپ کو شمس الرحمن فاروقی کی انانیت پسندی اور تنقید میں فیصلہ سنانے کی عادتو ں پر اعتراض ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ کیوں؟

اجمل کمال:میرا خیال ہے کہ ہمیں کسی فرد اور اس کے کام (یا تنقیدی رائے) کے درمیان امتیاز احتیاط سے قائم رکھنا چاہیے، کیونکہ اگر یہ احتیاط نہ کی جائے تو کسی ادبی موضوع پر ہونے والی بحث کا رخ غیرضروری طور پر کسی ناگوار سمت میں مڑ سکتا ہے (اور اکثر مڑ جایا کرتا ہے)۔ ذاتی روابط میں میں نے فاروقی صاحب کو بہت شفیق، مہربان اور بےتکلف (اگرچہ قدرے زودرنج) پایا اور ان کی خوشگوار صحبت میں اکثر خوشی محسوس کی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ حفظِ مراتب کے باوجود وہ دوسروں کو روبرو اپنی رایوں سے اختلاف کرنے کی گنجائش دیتے ہیں۔ لیکن جہاں تک ان کی (یا کسی اور فرد کی) تحریروں میں سامنے آنے والی کسی تنقیدی رائے یا رویے کا سوال ہے، اس سے دلائل کی بنیاد پر دوٹوک اختلاف کرنے میں ان کے شخصی احترام کو نہ تو حائل ہونا چاہیے اور نہ اس اختلاف سے متاثر ہونا چاہیے۔ شخصی احترام انھی کا نہیں، ہر فرد کا حق ہے، البتہ رائے کوئی فرد نہیں (سواے اس کے کہ یہ کسی شخص کے نام کا حصہ ہو) اور اس کا احترام بھی لازم نہیں۔تنقید میں فیصلہ سنانے کا منصب اختیار کرنا صرف فاروقی صاحب کا نہیں بلکہ ہماری بیشتر ادبی تنقید کا عمومی رویہ ہے، اور مجھے ایک پڑھنے والے کے طور پر شروع سے اس سے اختلاف رہا ہے۔ کسی بھی زبان کے ادب میں تنقیدنگار کی حیثیت مرکزی نہیں ہو سکتی۔ مرکزی حیثیت صرف لکھنے والوں کی ہوتی ہے، باقی سب، نقاد، مترجم، مدیر وغیرہ، صرف پڑھنے والے ہیں اور اپنی رائے میں ایک دوسرے کو دلائل کے ذریعے اور انکسار کے ساتھ شریک کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایک اور بات یہ ہے کہ جب ہم مصوری یا سنیما کی تنقید لکھنے والے کو مصور یا فلم میکر نہیں کہتے، تو پھر ادب کی تنقید لکھنے والے کو ادیب کس بنیاد پر کہہ سکتے ہیں؟

تصنیف حیدر: آپ کی امیج ایک مذہب بیزار ادیب کی بھی ہے۔ کیا مذہبی لوگ اچھا ادب پیدا نہیں کر سکتے؟

اجمل کمال:آپ نے اپنے اس مختصر سوال کے دو جملوں میں اتنے سارے مغالطے یکجا کر دیے ہیں کہ آپ کی ہنرمندی پر واللہ رشک آتا ہے۔ (علمِ بیان میں غالباً اسی کو بلاغت کہا جاتا ہے۔) اس کم عمری میں یہ مشاقی حاصل کر لینے پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا تھا لیکن پھر خیال آیا کہ آپ کے بعض مغالطوں کے مضمرات خاصے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں، کہیں آپ سچ مچ اسے اپنی حوصلہ افزائی نہ سمجھ بیٹھیں۔ غیرادیبوں کو ادیب سمجھ لینے کی سادہ لوحی تو خیر عام ہے، لیکن بھیا، مجھ پر مذہب بیزاری کا فتویٰ آپ نے کس بنیاد پر لگا دیا، اور کاہے کو؟ جہاں تک میری نجی زندگی کا تعلق ہے، اس کے معمولات میں غالباً مذہبی رواجوں کا عمل دخل آپ کی زندگی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہو گا۔ پھر میرے نزدیک مذہب انسانی تہذیب کا ایک طویل اور اہم تجربہ ہے، اور ابھی بہت عرصے تک رہنے والا ہے۔ میرے یا آپ کے ’’بیزار‘‘ ہونے سے اس کی اہمیت کم ہونے سے رہی۔ بہرحال میرا ایمان ہے کہ اپنے اعتقادات کے سلسلے میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو جواب دہ نہیں اور نہ اس سلسلے میں اس پر کسی اور انسان یا گروہ یا ریاست کا فیصلہ یا فتویٰ تھوپا جانا چاہیے۔ ہاں، مذہبی نارواداری کے میں قطعی طور پر خلاف ہوں، جیسے سیاسی، سماجی اور ادبی عدم برداشت کے خلاف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں پاکستان کی دیواروں پر فلاں کافر، فلاں واجب القتل کے فحش، انتہائی غیرروحانی نعرے پڑھ کر دکھ اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں مذہب کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیے جانے کے یکسر خلاف ہوں، کہ اس سے بعض انسان بعض دوسرے انسانوں پر زبردستی فوقیت حاصل کر لیتے ہیں جبکہ ہم سب کو ایک دوسرے کے برابر پیدا کیا گیا ہے اور سب دنیا اور زندگی پر مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ سیاست میں مذہبی منافرت کا استعمال اسی طرح فاشزم کو جنم دیتا ہے جیسے کسی اور بنیاد پر پیدا کی گئی منافرت کا استعمال۔ مذہبی سیاست کے انتشارانگیز نتائج کی ایک مثال تو آپ اپنے ملک بھارت میں دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی صورت مختلف مسلمان فرقوں کے مابین ہلاکت خیز نفرت کی ہے۔ دونوں ہی اپنے اپنے معاشرے اور پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہیں۔ادب کے میدان میں البتہ ایسے فتوے پڑھ کر مجھے ہنسی آ جاتی ہے کہ مثلاً فلاں قسم کے لوگ ادیب نہیں ہو سکتے یا فلاں موضوعات پر ادب تخلیق نہیں کیا جا سکتا یا فلاں میونسپلٹی کی حدود سے باہر پیدا ہونے والے لوگوں کی زبان مستند نہیں ہو سکتی۔ میرے نزدیک یہ سب لغو باتیں ہیں اور ادب کی درست تحسین سے دور لے جاتی ہیں۔ اب آپ اپنے سوال کے دوسرے حصے میں کارفرما خیال کی معقولیت پر ذرا غور فرمائیے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی آپ سے پوچھے کہ کیا گنجے یا کنوارے یا سفیدفام یا جلاہے اچھا (یا برا) ادب پیدا نہیں کر سکتے؟

تصنیف حیدر: عالمی ادب کا مطالعہ کرتے وقت کیا آپ کو اردو کی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے، اگر ہاں تو کس پیمانے پراور نہیں تو کیونکر؟

اجمل کمال:کیا اردو ادب عالمی ادب کے ریوڑ سے الگ کوئی جانور ہے؟ یا صرف گوروں کے تخلیق کردہ ادب کو عالمی ادب سمجھا جائے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر باقی دنیا کے لوگوں کو کیا گھس بیٹھیے قرار دیا جائے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ ہر معاشرے اور زبان کے لوگ اپنے اردگرد کی انسانی صورت حال اور اس پر اپنے تخلیقی ردعمل کے اظہار سے ادب تخلیق کرتے ہیں اور اس عمل میں اپنی اپنی ادبی روایتیں پیدا کرتے اور ان کو ترقی دیتے ہیں۔ یہی کام اردو کے ادیب بھی کرتے ہیں اور اسی معاشرے میں بسنے والے دوسری زبانوں کے ادیب بھی۔ پڑھنے والوں کو اپنی زبان کے ادب کے کسی پہلو سے تشنگی محسوس ہو تو ترجموں کے ذریعے دوسری زبانوں کے ادب تک رسائی پا سکتے ہیں اور اپنی زبان کے ادیبوں تک اپنی خواہش پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرف توجہ دینا یا نہ دینا بہرحال لکھنے والوں کا کام ہے، اور ان کے مجموعی کام پر ہی اردو ادب کی ترقی منحصر ہے۔کم مایگی اور پُرمایگی کے الفاظ موازنوں کے لیے استعمال ضرور کیے جاتے ہیں، لیکن چونکہ یہ بین الاقوامی تجارت سے مختلف معاملہ ہے اس لیے ایسے کسی موازنے کے لیے کسی عالمی کرنسی جیسے معروضی پیمانے کا وجود نہیں جسے سب طوعاً یا کرہاً تسلیم کرتے ہوں۔ اس لیے جس کسی زبان کے ادب میں جو کچھ ہیرے جواہرات اور کنکر پتھر ہیں ان کی قدر اسی زبان کے پڑھنے والے متعین کرتے ہیں۔ ترجمے کے ذریعے ان میں سے بعض سے واقف ہو کر دوسری زبانوں کے پڑھنے والے انھیں اپنے تناظر میں جو بھی اہمیت دینا چاہیں وہ ان کا معاملہ ہے۔ ہمیں، کم از کم مجھے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔البتہ دوسری زبانوں اور معاشروں کے ادب کو پڑھنے سے اپنی زبان کے ادب کو پرکھنے میں مدد ضرور ملتی ہے۔ اگر میں اپنے تجربے سے صرف ایک مثال دینا چاہوں تو میلان کنڈیرا اور بعض دوسرے تجربہ پسند ناول نگاروں کے ناولوں اور ناول کے فن کے بارے میں ان کے خیالات سے واقف ہو کر میں ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کی پہلے سے بہتر تحسین کرنے کے قابل ہوا۔ ورنہ اردو کے تن آسان اور نظریہ باز نقادوں نے تو انھیں نصوح کا ہم معنی قرار دے رکھا تھا۔ اگر دنیا کے دوسرے ناول نگار ناول کی ہیئت اور نفسِ مضمون کو اپنی مرضی سے تشکیل دے سکتے ہیں تو یہ اختیار اردو ناول نگاروں کو کیوں حاصل نہیں ہو سکتا؟ اسی طرح دوسری زبانوں کا ادب پڑھنے سے بعض ایسے اردو لکھنے والوں کی قدر پڑھنے والے کی نگاہ میں گھٹ بھی سکتی ہے جنھیں نقادوں نے بلاوجہ مبالغہ آمیز اہمیت دے رکھی ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہے، اور اس میں مجھے کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا۔

تصنیف حیدر: کیا آج کبھی بند بھی ہوسکتا ہے؟ یا یہ آپ کی زندگی تک جاری رہے گا یا اس کے بعد بھی؟

اجمل کمال:جی بالکل، بند بھی ہو سکتا ہے، اور کوئی اور صورت بھی لے سکتا ہے۔ یہ رسالہ میں نے اپنے شوق سے شروع کیا تھا (جیسے اور رسالے جاری کیے جاتے ہیں)۔ اگر شوق یا حوصلے کی کمی درپیش ہوئی تو اپنی مرضی سے بند بھی کر سکتا ہوں۔ نہ کسی کی اجازت سے شروع کیا تھا اور نہ بند کرنے میں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہو گی۔ رہا میری وفاتِ حسرت آیات کے بعد اس کے جاری رہنے کا معاملہ، تو اس کے بارے میں فکرمند ہونا مجھے غیرضروری معلوم ہوتا ہے۔ غالب امکان تو یہی ہے کہ بند ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس قسم کے کسی رسالے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی تو کوئی نہ کوئی پُرشوق مدیر ایسا، یا اس سے بہتر، رسالہ جاری کر لے گا۔ اور اس سانحۂ جانکاہ کے پیش آنے کے انتظار کی بھی کیا ضرورت ہے؛ کئی مدیر، جن میں سے بعض عمر کے اسی حصے میں ہیں جس عمر میں میں نے ’’آج‘‘ شروع کیا تھا، اپنی اپنی طرز کے رسالے جاری کر چکے ہیں۔ ایسے کئی رسالے میں اشتیاق سے پڑھتا بھی ہوں اور ان سے نئے خیالات بھی اخذ کرتا ہوں۔

تصنیف حیدر: حلقہ ارباب ذوق ویسا نہیں رہا، جیسا کبھی ہوا کرتا تھا، کیا یہ بات سچ ہے؟ اگر ہاں تو آپ تواتر سے اس کے اجلاس میں کیوں شرکت کرتے ہیں؟

اجمل کمال:یہ سوال غالباً کسی اور شخص کے سوالنامے سے اِدھر نکل آیا ہے۔ چونکہ مذکورہ ادبی انجمن کے اجلاسوں میں میں نے کبھی تواتر سے شرکت نہیں کی اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ نوعمری کے زمانے میں حیدرآباد سندھ کی ایسی ہی ایک انجمن، مجلسِ مصنفین، کے ہفتہ وار اجلاسوں میں بطور سامع خاصی باقاعدگی سے شریک ہوتا رہا، اور اس تجربے کو زندگی بھر جاری رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ دراصل ادب پڑھنا اور لکھنا میرے نزدیک تنہائی میں کرنے کا کام ہے؛ اور ہمارے سماج کے زبانی دور سے تحریر کے دور میں داخل ہونے کے بعد اس قسم کی محفلیں ان لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہیں جو فی البدیہہ تنقید اور تقریر کے ہنر کی مشق کرنا چاہتے ہوں، یا ان لوگوں کے لیے جو آخر میں ہونے والے منی مشاعرے (شعری نشست) کے انتظار میں یہ سب کچھ صبر سے برداشت کرتے ہوں۔آپ نے جیسے معصومانہ سوالات مجھ سے کیے ہیں ویسا ہی ایک سوال میں بھی آپ سے کر لوں؟ صاحب، آپ نے حلقۂ اربابِ ذوق ہی کی بات کیوں کی، انجمن ترقی پسند مصنفین کے تنقیدی اجلاسوں کے سابقہ اور حالیہ معیار سے آپ مطمئن ہیں؟ (ویسے مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ انجمن اور اس کے اجلاس اب تک موجود ہیں یا نہیں۔)

تصنیف حیدر: کیا اردو ایک متعصب زبان ہے یا اسے آج بھی ایک غیرجانبدار اور سیکولر زبان کا درجہ حاصل ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں؟

اجمل کمال:دیکھیے تصنیف صاحب، اردو، اردو ادب، غزل وغیرہ اشخاص کے نام نہیں ہیں، اس لیے ان میں سے کسی سے کوئی انسانی صفت منسوب کرنا لاحاصل کام ہے۔ اپنے سوال میں اردو کی جگہ جاپانی، مراٹھی، عربی یا کسی اور زبان کا نام لکھ کر دیکھیے کہ آپ کے سوال کا کیا بنتا ہے۔ اردو زبان استعمال کرنے والے گروہوں اور افراد میں سے بہت سے لوگ ’’متصعب‘‘ ہیں، بہت سے ’’سکیولر‘‘، اور بہت سے دونوں کشتیوں میں سوار بھی۔ زبانوں کے نام پر سیاست کی جاتی رہی ہے، اور ان میں اردو بھی نمایاں طور پر شامل ہے، لیکن یہ سیاست زبان نہیں کرتی، اس کا جھنڈا اٹھانے والے لوگ اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں۔ زبان غیرجانبدار یقیناً ہو سکتی ہے، جو کوئی سوچنے سمجھنے والا انسان نہیں ہو سکتا۔ یہ میری رائے ہے۔بشیشر پرشاد منور لکھنوی نے ’’رامائن‘‘ کو اردو میں ترجمہ کیا؛ ان کے والد دوارکا داس شعلہ بھی (غالباً یہی نام تھا) ’’رامائن‘‘ ہی کا ایک اور ترجمہ کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ ’’تورات‘‘ اور ’’انجیل‘‘ کا اردو میں ترجمہ ہوا، جیسے ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ہوا۔ کیا اردو ادب، اردو نثر اور اردو ترجمے کی تاریخ میں ان ترجموں کا سرسری سے زیادہ کوئی ذکر ملتا ہے؟ اردو نے تو ان ترجموں کی مزاحمت نہیں کی۔ اب آپ اردو کو متعصب کہیں گے یا تاریخ لکھنے والے اردونوازوں کو جو اردو ادب کے ذخیرے (canon)  میں جو چاہتے ہیں شامل کر لیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں باہر رکھتے ہیں؟ اس کے علاوہ، ’’قرآن‘‘ کے اردو ترجمے صرف شاہ ولی اللہ کے دو فرزندوں نے نہیں کیے، متعدد بریلوی، شیعہ، احمدی اور ’’نیچری‘‘ علما نے بھی کیے ہیں، لیکن تاریخ میں مطالعہ کیا جاتا ہے صرف ان دو ترجموں کا، جیسے باقی ترجمے بنگلہ زبان میں کیے گئے ہوں یا جیسے اردو دیوبندی زبان ہو۔ اس صورت حال کے لیے اردو کو بطور زبان کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

تصنیف حیدر: آپ نے دنیا کی مختلف زبانوں کی کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے۔ ان میں سب سے بہتر کہانیاں آپ کو خود کون سی زبان کی لگتی ہیں؟ کیوں؟

اجمل کمال:کہانیاں ہی کیوں، ناول، نظمیں، مضامین اور نان فکشن، ان میں سے جو چیزیں دل کو لگیں وہی ترجمہ کیں۔ اس میں بہتر یا بدتر کا کیا سوال! پڑھنے والے کو اگر دلچسپی ہو تو اسے یہ سب چیزیں پڑھنی چاہییں اور اپنی پسند ناپسند کا خود فیصلہ کرنا چاہیے۔ کسی اور کے لیے یہ فیصلہ کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟

تصنیف حیدر: آپ کی رائے میں اس وقت اردو میں سب سے بہتر لکھنے والا شخص کون ہے؟ کیوں؟

اجمل کمال:چلیے یہ سوال تو آسان ہے، کیونکہ اس کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں۔ میں کسی شریف آدمی یا خاتون کو (لفظ شریف سے شرفا ہرگز مراد نہیں)، وکٹری اسٹینڈ پر دھوپ یا سردی میں کھڑا کرنے کی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا۔ میرے نزدیک اردو ادب کا مجموعی منظر ان تمام اچھے لکھنے والوں کی تخلیقات سے مل کر بنتا ہے جو آج تک لکھ چکے ہیں یا اب لکھ رہے ہیں۔ مجھے یہ منظر زیادہ خوبصورت بنتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہی میری رائے ہے، اب آپ اس کا جو چاہیں کیجیے۔

(یہ انٹرویو بلاگ کے حوالہ دیے،یا اجمل کمال سے اجازت لیے بغیر کہیں شائع نہ کیا جائے۔ایسا کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا حق بلاگ پوسٹ کی جانب سے محفوظ ہے۔)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین