جمعہ، 12 دسمبر، 2014

رحمٰن عباس سے دس سوالات


رحمٰن عباس اب تک تین ناول لکھ چکے ہیں۔نخلستان کی تلاش میں، ایک ممنوعہ محبت کی کہانی اور خدا کے سائے میں آنکھ مچولی۔ان کا پہلا ناول ہی ایک اچھے خاصے تنازعے کا سبب بن گیا تھا۔ان دنوں میں ممبئی میں مقیم تھا، مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ادیب کی برائی پیٹھ پیچھے کرکے آخر کیا حاصل کرلیتے ہیں، جو سوالات آپ کے ذہن میں ہوں، کسی خاص موقع پر انہیں براہ راست ادیب سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا کرتے۔کیونکہ ادب اور آرٹ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی شاید اپنے اوپر کی جانے والی تنقید اور اٹھائے جانے والے سوالات سے کبھی نظر نہیں چرایا کرتے۔سوالات کے ذریعےکسی کی ذات اور اس کے لکھے گئے ادب کے بارے میں موجودہ افواہوں کا ازالہ بھی آسانی سے ہوسکتا ہے۔رحمٰن عباس عام زندگی میں بہت سلجھے ہوئے،دوست پرور اور یار باش آدمی ہیں، صاف گو ئی ان کا وتیرہ ہے۔امید ہے کہ ان سے کیا گیا یہ مکالمہ آپ کو پسند آئے گا۔

تصنیف حیدر:آپ کے ناولوں کا زیادہ تر حصہ جنس، جنسی آزادی وغیرہ پر محیط ہے۔یہ آپ پر ایک الزام ہے، یا اس میں کچھ حقیقت بھی ہے؟

رحمٰن عباس: مجھے اس سوال کو پڑھ کر ہنسی آئی۔کیونکہ نہ میرے ناولوں کا موضوع جنس ہے اور نہ میں جنسی آزادی کا وکیل ہوں۔۔۔میرےناول مرد اور عورت کے تعلق کو پیش کرتے ہیں۔۔۔کیونکہ تینوں ناول بنیادی طور پر محبت کی کہانیاں پیش کرتے ہیں۔۔۔۔اگر تم نے عشق کیا ہے تو تمہیں اندازہ ہوگا محبوب سے ملاقات کے لیے دل کیوں بے تاب رہتا ہے۔۔۔اور اس کیوں کا اظہار یکسوئی میں کس طرح ہوتا ہے۔۔۔اردو میں محبت کے موضوع اور محبت کی کیفیات پر ناول نہیں ملتے چنانچہ بہت ممکن ہے پہلی بار محبت کے جذبے کی شدت کو میرے ناولوں میں پڑھ کر کسی نے محبت کو جنس کی آزادی سمجھ لیا ہو۔۔۔:)

تصنیف حیدر خدا کے سائے میں آنکھ مچولی، خالد جاوید کے اسلوب کا تتبع ہے یا ردعمل؟

رحمٰن عباس: ناول میں فارم ہوتا ہے اور ادیب کا اسلوب ہوتاہے۔۔۔۔ناول کا اسلوب نہیں ہوتا۔۔۔۔یہ فکشن کی باریکیاں ہیں اور تم کو ان سے ایسا علاقہ نہیں۔۔۔ خیر!مجھے خالد جاوید ٹائپ لکھنے والے پسند نہیں اوریہ بات میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔۔۔۔مجھے گارسیا ماکیز، اورخان پاموک، کنڈیرا اور بین وکری پسند ہیں۔۔۔جو فارم کے تجربے کے ساتھ اپنا ایک اسلوب رکھتے ہیں۔ میرا ناول خدا کے سائے میں آنکھ مچولی میں نے ۲۰۰۵ سے ۲۰۱۰ کے درمیان ہی مکمل کر لیا تھا اور ممبئی میں کئی دوستوں کو پڑھ کر سنایا بھی تھا۔ چنانچہ تم فاروقی اینڈ کمپنی کی افواہوں پر دھیان دینا چھوڑ دو۔۔۔دوسری طرف ادب ایک جمہوریت ہے چنانچہ فاروقی کی محدود فکشن کی تعریف کو پسند کرنے والوں کی آزادی ہےکہ فاورقی کی عینک سےاپنے مناظر کا احاطہ کریں۔۔۔ہمیں کیا لینا دینا۔۔۔:)

تصنیف حیدر:شمس الرحمٰن فاروقی کی فکشن تنقید بہت مربوط ہے، جبکہ وارث علوی نظری مباحث کو جملوں میں اڑاتے ہیں، حالانکہ اس میں کافی کام کی باتیں بھی نکل آتی ہیں، مگر آپ کے نزدیک ان میں بہتر فکشن کا نقاد کون ہے اور کیوں؟

رحمٰن عباس: فاروقی کی فکشن تنقید تمہیں مربوط لگتی ہے۔۔مجھے حماقت کی مدلل وکالت لگتی ہے۔۔۔۔جبکہ وارث علوی کے انتشار میں، مجھے زندگی اور فکشن کا انتشار اور اس کا حسن دکھائی دیتا ہے۔۔۔میں وارث علوی اور فاروقی دونوں کو بہت پسندکرتاہوں لیکن فکشن کی تنقید میں مجھے فاروقی گنوار لگتے ہیں۔۔۔وارث علوی نے فاروقی کی کم فہمی اور زودفہمی دونوں کوبڑی خوبصورتی سے طشت از بام کیا ہے۔۔۔۔ہمارے لیےکچھ کرنے کے لیے بچا بھی نہیں ہے۔۔۔وارث علوی کی کتاب فکشن کی تنقید کا المیہ اور جدید افسانہ اور اس کے مسائل کافی ہیں جن سے پڑھنے والا خود اس نتیجے پر پہنچے گا کہ فاروقی کی فکشن کی کم فہمی اور فکشن کو شعری اسالیب اور شاعری کی جمالیات پرپرکھنے کی ضد نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔۔فاروقی فکشن کے اس قدر ناقص نقاد ہیں کہ ان کا تقابل بھی وارث علوی کے ساتھ غلط ہے۔۔۔فاروقی کی تنقید میں فاروقی اپنے گناہوں کے سبب یاد کئے جاتے ہیں اور ان کا سب سے بڑا گناہ افسانے کی عصمت دری کی ایک بزدلانہ کوشش تھی۔۔۔

تصنیف حیدر: 'ایک ممنوعہ محبت کی کہانی'آپ کا سب سے بہتر ناول ہے۔کیا آپ بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں۔کیوں؟

رحمٰن عباس: میں اپنے ناولوں پر تنقید کرنے والوں کا استقبال کرتا ہوں اور ناول میں پڑھنے والوں کے لیے لکھتا ہوں۔ ادب کا قاری فاروقی اینڈ کمپنی کا پروڈکٹ نہیں ہے چنانچہ وہ آزاد ہے۔۔۔۔۔۔قاری کی اپنی شخصیت، اپنی ذات اور اپنا معاشرہ ہوتا ہے۔۔۔چنانچہ کسی کو ایک ممنوعہ محبت کی کہانی پسند آتی ہے تو کسی کو خدا کے سائے میں آنکھ مچولی۔۔۔۔۔میں اس میں مداخلت نہیں کرتا۔۔۔۔اور نہ کوئی پوزیشن لیتا ہوں۔۔۔میرا کام لکھنا ہے۔۔۔کتابوں کی پسند ناپسند کا معیار بھی بدلتا رہتا ہے ۔۔کسی زمانے میں لوگوں کو عینی آپا اچھی لگتی تھیں اب شاید عینی اس قدر اپیل نہیں کرتیں۔۔اگر تم جاروج اوریل اور ایلس واکر کوپسند کرنے والوں میں سے ہو تو تم کوعینی بور لگیں گی۔۔۔ ۔میں نے کئی بار یہ بات کہی ہےادب کا کوئی ایک  طے شدہ اور آخری معیار نہیں۔۔۔

تصنیف حیدر:آپ کے پہلے ہی ناول سے آپ کو جو شہرت ملی دراصل وہ اس ناول کے ذریعے پیدا ہونے والے ایک قضیہ کی بدولت تھی، نہ کہ ناول کی وجہ سے، کیا یہ بات کچھ حد تک درست ہے؟

رحمٰن عباس: بالکل درست ہے۔۔۔ناول پر بات تب ہوگی جب کشمیر، بابری مسجد کی مسماری، بمبئی کے فسادات اور ان فسادات کا اس وقت کی نسل کی نفسیات اور ذہنی ساخت پرہونے والے اثرات کااحاط کیا جائے گا۔۔۔اس کتاب پر پاکستانی صحافی اور ماہر کشمیریات عارف بہار کا مضمون کسی دن دیکھ لو۔۔۔دوسری طرف شموئل احمد نے اس ناول کو شعور کی رو کا اردو میں کامیاب تجربہ بھی کہا ہے۔۔۔بہت ممکن ہے اس ناول پرکسی دن تفصیل سے بات ہو۔۔۔اور نہ ہو تب بھی کوئی بات نہیں۔۔۔ہر کتاب کا اپنا مقدر ہوتا ہے۔۔۔۔اسے ادیب یا کرائے کے نقاد بچا نہیں سکتے۔۔۔

تصنیف حیدر:آپ شمس الرحمٰن فاروقی کی مخالفت میں گوپی چند نارنگ سے زیادہ نزدیک ہوئے ہیں۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ آپ اس کا سیاسی طور پر فائدہ حاصل کررہے ہیں۔آپ کا اس نظریے پر ردعمل کیا ہوگا؟

رحمٰن عباس: تہمارے ذہن پر فاروقی سوار ہے۔۔۔اپنی شناخت فاروقی کے وکیل کے طور پر مت قائم کرو۔۔کسی بھی نئے لکھنے والے پر لازم ہے کہ وہ قدآور لوگوں کا آلہ بننے سےخود کو بچائے۔۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ تم نے فاروقی کی وکالت کرنے کا بیڑہ اپنے سر لیا ہے۔۔۔:) میرے بھائی۔۔۔۔۔میں فاروقی کا مخالف نہیں ہوں۔۔یہ فاروقی اینڈ کمپنی کا میرے بارے میں غیر ضروری اور منفی پروپیگنڈہ ہے۔۔۔۔۔میں تو فاروقی کےچاہنے والوں میں خود کو شمار کرتا ہوں۔۔۔ہاںالبتہ میں فاروقی کی فکشن کی تعرف کو ماننے سے انکار کرتا ہوں۔۔۔۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ فاروقی کے چند ادبی ایجنٹ ہیں جن کو اس مشن پر لگایا گیا ہے۔۔۔ یا وہ خود کو یوں پیش کرتے ہیں کہ وہ فاروقی کے مشن کا حصہ ہیں۔۔۔ان کا کام ان لوگوں کو بدنام کرنا ہوتا ہے جو فاروقی کے نظریات کو تسلیم نہ کریں۔۔۔اور بدنام کرنے کے لیے ان ایجنٹ حضرات نے یہ آسانی نکال لی ہے کہ افواہ اڑا دی جائے کہ فلاں شخص فاروقی کو اس لیے رد کرتا ہے کیونکہ نارنگ سے اس کی قربت ہے۔۔۔یہ ایک گھٹیا حرکت ہے۔۔۔دوسری طرف میرے لیے نارنگ اور فاروقی میں کوئی فرق نہیں ۔دونوں ہمارے بزرگ ہیں اور دونوں بے پناہ ذہانت کے مالک ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ فاروقی نے جس طرح کی حماقتیں فکشن کی تنقید میں کی ہیں نارنگ نے ایسا گناہ فکشن کی نظری تنقید میں نہیں کیا ہے۔۔۔میرا اختلاف فاروقی سے ان کی شخصیت یا ان کی شخصی کمزوریوں کے سبب نہیں ہے بلکہ فکشن کی نظری تنقید میں ان کی حماقتوں کی وجہ سے ہے۔۔اگر یہ کام نارنگ کرتے تو میں ان کی بھی مخالفت کرتا۔۔۔۔تمہیں یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ نارنگ نے نہ صرف بوگس فارم کے تجربوں اور جھوٹے غیر فنی چیستان سے ادب کو بچانے کی کوشش کی بلکہ پریم چند، بیدی، منٹو، انتظار حسین اور بلونت سنگھ پریاد گار مضامین بھی لکھے ہیں۔۔۔۔اردو فکشن کی روایت کا وہ احترام کرتے ہیں فاروقی کی طرح چند مغربی ادیبوں کو غلط سیاق میں پیش کر کے وہ افسانے کو برہنہ کرنے کے مجرم نہیں ہیں۔۔۔۔۔

تصنیف حیدر:شمس الرحمٰن فاروقی کی کہانیوں اور ناول کے بارے میں ایمانداری سے آپ کی رائے کیا ہے؟

رحمٰن عباس: جس ایمانداری سے تم فاروقی کی وکالت پر تلے ہوئے ہو اتنی ایمانداری مجھ میں کہاں ہے۔۔۔میری کتاب تمہارے پاس ہے۔۔۔میں نے فاروقی کے ناول پر تفصیل سے لکھا ہے۔۔۔کہانیاں مجھے ان کی پسند ہیں۔۔لیکن اب سوچتا ہوں فاروقی کے پاس ماضی میں بھٹکنے کے علاوہ زندگی کا کوئی پہلو نہیں۔۔۔خیر۔۔خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کر کے کچھ لکھ رہے ہیں۔ ادب میں ہر طرح کی چیزیں شائع ہوتے رہنا چاہیے۔۔۔اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ صرف اسی طرح کی چیز یں اچھا ادب ہیں۔۔۔ایسا کرنا شتر مرغ کا عمل ہوگا۔۔۔ہندستان اور دنیا کا معاصر فکشن ہمارے سامنے ہے اور اس فکشن کے پس منظر میں جس طرح کا ناول فاروقی نے لکھا ہے وہ پلپ فکشن یا تاریخی بیانیہ کہلاتا ہے۔۔۔

تصنیف حیدر:اسلوب کی بنیاد پر آپ نے کوئی بہت اچھے تجربات نہیں کیے ہیں۔آخر ہم کہانی میں منٹو کے اسلوب سے کب تک سہارا لیتے رہیں گے؟

رحمٰن عباس: میں نے یہ کب کہا کہ میں ناول اسلوب کا تجربہ کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔۔۔میں کہانی لکھتاہوں، جیسے گارسیا مارکیز، ورخان پاموک، میلان کنڈیرا، بین وکری، سلمان رشدی،وی ایس نیپال، امیتھو گھوش، اور وکرم سیٹھ لکھتے ہیں۔۔اسلوب وسلوب کی ضرورت تو تب پڑتی ہے جب آپ کہانی کہنے کی دولت سے محروم ہوں۔۔۔خوشی تو اس بات کی ہے کہ فاروقی نے بھی کہانی لکھی اور روایتی فارم میں لکھی۔۔۔منٹو کے اسلوب سے کوئی سہارا نہیں لیتا ۔۔۔۔یہ یوں ہی سی بات ہے۔۔۔۔

تصنیف حیدر:کیا آپ کو لگتا ہے کہ اردوادب میں علاقائیت کا زبردست تعصب ہے۔ کیوں؟

رحمٰن عباس:  ممکن ہے، لیکن میں نے اس پر غور نہیں کیا ہے۔۔۔

تصنیف حیدر:خالد جاوید، صدیق عالم،ذکیہ مشہدی اور طارق چھتاری۔ان میں سب سے بہتر افسانہ نگار آپ کو کون لگتا ہے اور کیوں؟

رحمٰن عباس: تمھارے ذہن میں فاروقی کی شب خون کے دفتر میں تیار کی ہوئی لسٹ ٹنگی ہوئی ہے۔۔۔:) خیر اس فہرست سےسید محمد اشرف کیسے غائب ہوگئے؟ لگتا ہے اب فاروقی نے انھیں جدیدیت کی حویلی سے عاق کر دیا جیسے ظفر اقبال کو۔۔۔۔:) ڈئیر کم از کم بیس نام ایسے ہوں گے جوفی الحال اردو میں جن حضرات کے نام تم نے لیے ہیں ان کی طرح کہانیاں لکھ رہے ہیں۔۔۔۔لیکن وہ لوگ فاروقی کی فریم اپنے گلے میں لٹکائے ادب کے چوراہے پر کھڑے نہیں ہیں، کیا صرف اسی لیے وہ تہمارے ذہن میں ابھرے نہیں۔۔۔۔۔:) ابھی اس ملک میں رتن سنگھ، اقبال مجید، سلام بن رزاق، سید محمد اشرف،انور قمر،مشرف عالم ذوقی، شوکت حیات، ترنم ریاض، شائستہ فاخری اور کئ اچھے لکھنے والے  ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔۔۔چنانچہ فاروقی کو خوش کرنے کے لیے صرف ان کے پڑھائے ہوئے سبق کا اعادہ مت کرو۔۔۔یہ ادب کے حق میں ٹھیک نہیں۔۔۔۔
بحر کیف۔۔۔شکریہ ۔۔۔تم نے مجھے تھوڑا موقع دیا تہماری ٖغلط فہمیوں کوسمجھنے کا اور انھیں مزید بڑھانے کا۔۔۔۔:)

(یہ انٹرویو بلاگ کے حوالہ دیے،یا رحمٰن عباس سے اجازت لیے بغیر کہیں شائع نہ کیا جائے۔ایسا کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا حق بلاگ پوسٹ کی جانب سے محفوظ ہے۔)

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *