ہفتہ، 13 دسمبر، 2014

قاسم یعقوب سے دس سوالات



قاسم یعقوب اردو کے ایک نہایت اہم ادبی جریدے 'نقاط' کے مدیر ہیں، باصلاحیت نقاد ہیں اور بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔ان کی شناخت کے یہ حوالے دراصل الٹے ہیں، میرے خیال میں وہ سب سے بہتر شاعر ہیں۔قاسم یعقوب سے مکالمے کا خیال بہت پہلے سے ذہن میں تھا۔ان کی محبت ہے کہ انہوں نے اتنی کم مہلت میں میرے سوالات کے جوابات دیے ہیں۔اس مکالمے کے ذریعے ہند و پاک کے ادبی منظرنامے پر موجود ادبی ہستیوں سے کچھ ریپڈ سوالات کرنا میرا اول مقصد تھا۔اس طرح کے انٹرویوز میں جواب دینے والا بہت سوچتا سمجھتا نہیں ہے، اور اس کے جواب کی دھار، تیزاور سچی ہوتی ہے۔ قاسم یعقوب کی کتابیں ریختہ ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ جو لوگ انہیں وہاں پڑھنا چاہتے ہیں بہ آسانی پڑھ سکتے ہیں۔ ان سے کیے گئے یہ سوالات دلچسپ بھی ہیں اور بہت سے اہم ادبی معاملات پر روشنی ڈالتے ہیں ۔امید ہے کہ یہ مکالمہ بھی آپ کو ضرور پسند آئے گا۔


تصنیف حیدر:آپ کی غزلیں بے حد منفر د ہیں، ان میں ایک ایسی چمک ہے۔جو جدید ترین غزل کی نمائندگی کرسکتی ہے۔پھر بھی آپ بطور غزل گو زیادہ اچھی شناخت نہیں قائم کرسکے۔آپ کے خیال سے اس کا کیا سبب ہے؟

قاسم یعقوب:’’شناخت قائم کرنا ‘‘ایک غیر واضح ’’ٹرم‘‘ ہے۔ میرے خیال میں شناخت بنانے سے آپ کی مُراد’’توجہ حاصل کرنا ہے۔اب جہاں تک توجہ کا سوال ہے تو میں نے تو کبھی کسی بھی کام کی طرف توجہ ’’دلوانے‘‘ کی کوشش نہیں کی۔ میں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز غزل سے کیا۔ میرا شہر لائل پور ہے اور لائل پور میں کئی دہائیوں سے غزل ایک طاقت ور صنف کے طور پر جانی جاتی ہے۔میں غزل والوں میں گھرے رہنے کی وجہ سے ایک عرصے تک غزل میں ریاضت کرتا رہا ۔ گذشتہ ایک دہائی سے میں تنقیدی فکر سے وابستہ ہوں اور میری ساری توجہ اسی کی طرف ہے۔میں نے شاعری کو توجہ ہی نہیں دی تو اور کوئی کیا توجہ دیتا۔ مگر جہاں تک شاعری کا معاملہ ہے یہ توجہ چاہتی ہے۔ لکھتے ہوئے بھی اور لکھنے کے بعد کچھ اور زیادہ____شاعری کو پڑھنا، پڑھانا ایک پورا سوشل کلچر ہے۔ آپ لوگوں کو باور کرواتے ہیں کہ میں شاعر ہوں اور مجھے میری شاعری کے ساتھ قبول کیا جائے۔ویسے تو افسانہ نگاری اور ناول کے ساتھ بھی اب یہی ہونے لگا ہے مگر شاعری کا معاملہ تو الگ سا ہے۔ سو میں نے تنقید میں وہ وہ کچھ دیکھا ہے کہ مجھے اپنے آپ کو ’’منوانے‘‘ کا مسئلہ نہیں رہا۔جہاں تک معاملہ ہے جدید تر غزل کا تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں مجھ سے زیادہ اچھی غزل لکھنے والے موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے مجھے سخت شرمندگی بھی ہوتی ہے اور کچھ زیادہ توجہ نہ کرنے کا غم بھی۔ میرا کبھی کبھار جی تو کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے شاعری کروں مگر ’’تنقیدی روزی روٹی ‘‘ نے مجھے کسی کام کا نہیں رہنے دیا۔ تنقید میں بھی میں کچھ بنانے نہیں اسے سمجھنے آیا ہوں ۔ اس ریاضت سے باہر آیا تو پتا چلے گا کہ کیا بنا لایا ہوں

تصنیف حیدر:رسالہ کبھی کبھی مدیر کی تخلیقی اور تنقیدی اہمیت کو کھا جاتا ہے۔کیا آپ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے؟

قاسم یعقوب:آپ نے ٹھیک کہا ادبی صحافت ادیب کی تخلیقی صلاحیت کھا جاتی ہے اگر آپ اس میں اضافہ کر لیں کہ ادیب کی تنقیدی و تفہیمی بصیرت کا بھی ستیاناس کر دیتی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔مگر اس میں فرق کرنا لازمی ہے۔ ایک طرز کی ادبی صحافت وہ ہوتی ہے جس میں ادیب ادب کو بطور سوشل سرگرمی لے رہا ہوتا ہے اور دوسری طرز میں ادیب اسے اپنی ذات کی توضیح یا اظہاریہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔میں نے ادبی صحافت کو دوسری طرز کا مسئلہ بنایا ہے۔ یعنی رسالہ میری سماجیات کا حصہ نہیں بنا بلکہ میرے ادبی نظریات کا عملی جامہ بن گیا۔ میں نے نقاط پر بہت محنت کی۔ میرے ساتھ زاہد امروز اور احمد اعجاز بھی شریکِ سفر رہے۔ ہم نے رسالے کو بہت مختلف بنانے کے ’’چکر‘‘ میں پڑنے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ کس طرح کے ادبی مسئلے(Issues)اجاگر ہونے ضروری ہیں۔سو ہم نے اس حوالے سے بڑے بڑے فیصلے کئے۔ مثلاً
۱۔ نثری نظم اور آزاد نظم کے جھگڑے کو ختم کر دیا اور نظم(ہر طرح کی نظم) کوصرف ’’نظم‘‘ کا ٹیگ دیا
۲۔ظفر اقبال کو کبھی نہ چھاپنے کا اعزاز بھی ’’نقاط‘‘ کو حاصل ہے۔’’نقاط‘‘ کے بارہ شماروں کے تقریباً۶۰۰۰ صفحات میں آپ کو کہیں بھی ظفر اقبال نظر نہیں آئیں گے۔ حالاں کہ ’’نقاط‘‘ اتنا منظر پر رہا کہ ظفر اقبال ایک، دو غزلیں تو بھیج سکتے تھے۔ اصل میں ہمارا موقف رہا ہے کہ ظفر اقبال شاعری کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں جو کسی طرح بھی قابلِ پذیرائی نہیں ۔
۳۔ہم نے ادبی تھیوری کو مخصوص جگہ دی اور کاوش کی کہ ادبی لسانی تھیوری کو عام کیا جائے اور پرچے کا مجموعی مزاج نئی لسانی فکریات کے قریب رکھا جائے۔’’عالمی ترجمہ‘‘ نمبر اس کی ایک مثال ہے۔
۴۔ ’’نقاط‘‘ نے نظم کی ترویج کے لیے بھی خصوصی کوشش جاری رکھی ہے ۔ ’’نظم نمبر‘‘ اس کی مثال ہے۔
آپ نے کہا کہ تخلیقی صلاحیت کو رسالہ کھا جاتا ہے مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہُوا مجھے اس رسالے نے بہت کچھ سکھایا۔

تصنیف حیدر:آپ اکثر متن سے وہ باتیں دریافت کرتے ہیں، جن کا بظاہر متن کی معنوی جہت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔کیا یہ مناسب تنقیدی رویہ ہے؟

قاسم یعقوب:زیادہ بہتر ہوتا کہ آپ کوئی مثال دے دیتے تا کہ میں زیادہ بہتر وضاحت کرسکتا۔میں نے بہت سا تنقیدی مواد ادبی لسانی تھیوری سے بھی اٹھایا ہے۔ایسا ہو سکتا ہے کہ میرے تنقیدی ڈسکورس کی کہیں وضاحت نہ ہو سکی ہو۔مگر میری کوشش ہوتی ہے اپنی جتنی بھی سمجھ ہے اُس کے مطابق اچھا لکھ سکوں۔

تصنیف حیدر:نقاط ایک بڑا ادبی رسالہ ہے،مگر اس میں ہندوستان کے نئے لکھنے والوں کی شمولیت بالکل نہیں ہوتی۔اس کا کیا جواز ہے؟

قاسم یعقوب:ہم نے بہت کوشش کی ہے کہ اُردو لکھنے والے جہاں بھی موجود ہیں اُن کو ’’نقاط‘‘ کا حصہ بنایا جائے۔ ہندوستان سے تبادلے کا رابطہ کم رہا۔ کچھ نئے لڑکوں نے جن میں معید رشیدی اور تصنیف حیدر شامل ہیں نے پاکستان کے ادیبوں سے اچھے رابطے بنا ئے ہیں جن کی بدولت دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ انھی کی بدولت اب ادبی پرچوں میں بھارتی ادیب بھی نظر آنے لگے ہیں۔

تصنیف حیدر:نثری نظم میں لوگ اکثر الم غلم شاعری کرتے ہیں، اچھی نثری نظموں کی کیاپہچان ہوسکتی ہے؟

قاسم یعقوب:نثری نظم کسی طرح بھی آزاد نظم سے کم تر درجے کی شاعری نہیں۔ بلکہ کسی جگہ تو یہ آزاد نظم سے زیادہ مشکل پسندی کا تقاضا کرتی ہے۔ اصل میں نثری نظم ’’قوتِ خیال‘‘Thought Powerکا کھیل ہے۔ اگر آزاد نظم میں قوتِ خیال کم بھی ہو تو کام چل جاتا ہے مگر نثری نظم کا جواز ہی اُس کے تخلیقی پراسس میں قوتِ خیال کا ہونا ہے۔ ایک عرصے سے نثری نظم لکھی ہی نہیں جا رہی۔ بہت کم شاعر ایسے آئے ہیں جنھوں نے نثری نظم کے اعلیٰ نمونے پیش کئے ہیں۔ مگرنثری نظم ابھی تک کسی بڑے تخلیقی تجربے سے محروم ہے۔ سعید احمد کہا کرتے ہیں کہ کیا نثری نظم نے راشد مجید امجد اور میرا جی جیسے شاعر پیدا کئے ہیں۔ حالاں کہ آزاد نظم کے تجربے کے فوری بعد ہی یہ بڑے نام سامنے آ گئے۔ نثری نظم لکھتے تو چار دہائیاں ہو گئی ہیں۔سعید احمد کی بات کبھی کبھی مجھے ٹھیک لگتی ہے۔ نثری نظم کے ’’الم غلم‘‘ مواد نے اس صنف پر ابھی تک سوالیہ نشان بنا رکھا ہے۔ افضال احمد سید سے لے کر زاہد امروز تک اچھی نظموں کی جھلک مل جاتی ہے مگر کسی مکمل تخلیقی تجربے کے بڑے پن کا احساس نہیں ہو پاتا۔زاہد امروز نے بھی طویل نظم کے لیے آزاد نظم کو چنا۔ بلکہ اُس کی دوسری کتاب میں آزاد نظم کا پلڑا بھاری ہے۔مجھے تو نثری نظم کی تکنیک سے زیادہ اُس کے لکھنے والوں پر اعتراض ہے جنھوں نے بڑا تخلیقی تجربہ پیش نہیں کیا۔ اس میں صنف کا کوئی قصور نہیں۔ صنف کے اندر تو جان ہے۔

تصنیف حیدر:پاکستان ایک شدید قسم کے سیاسی بحران سے نبرد آزما ہے۔یہ ادب کے حق میں فال نیک ہے یا بد؟

قاسم یعقوب:پاکستان اس وقت صرف سیاسی بحران کا ہی نہیں بلکہ معاشی، سماجی اورمذہبی افراتفری کا بھی شکار ہے۔غیر متوازن اورغیر سنجیدہ سیاسی سوچ نے پورے معاشرے کو عجیب اُلجھن میں ڈال رکھا ہے۔ ویسے یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیاسی سطح پر پہلے کرپشن اور لوٹ مار کا واویلا ہوتا تھا ، آج کل سیاسی نابالغ پن کی وجہ سے انتہا پسند رویے سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت میں بھی اور پاکستان میں بھی_____ دونوں ممالک نے ناپختہ کار سیاست کا آغاز کر رکھا ہے جو معاشرے میں سوائے نفرت کے کسی اچھائی کا موجب نہیں۔ ادیب براہِ راست اس سے متاثر ہورہا ہے۔ ادیب کے ہاتھ میں ’’گلوب‘‘ ہوتا ہے وہ پوری بصیرت سے ان حالات کو دیکھ رہا ہے۔ تخلیقی ادب کچھ وقت لیتا ہے اسی لیے ایک دہائی گزرنے کے بعد اب واقعات نظریات کی شکل اختیار کر رہے ہیں جو فن پاروں میں بھی نظر آنے لگے ہیں، حمید شاہد، علی اکبر ناطق، عاصم بٹ،نجیبہ عارف، سعید احمد، علی فرشی، انوار فطرت ، رفیق سندیلوی،انجم سلیمی، کے ہاں جگہ جگہ اس فکر کا اظہاریہ ملتا ہے۔ چند ناولوں میں تو کھل کر اسی صورتِ حال کو موضوع بنایا گیا ہے۔

تصنیف حیدر:آپ کے ہم عصروں میں سب سے ذہین ادیب کون ہے؟کیوں؟

قاسم یعقوب:ادیب غالباً وہ ہوتا ہے جو ادب سے وابستہ ہو، آپ نے اچھا کیا صنف کا تعین نہیں کیا کیوں کہ میں تنقید کا ہی حوالہ دینا چاہوں گا باقی اور کسی بھی صنف میں مجھے کوئی ادیب ایسا نظر نہیں آتا جو میرے نزدیک ’’ذہین‘‘ ہو۔ تنقید میں ڈاکٹر ناصر عباس نیر ہی وہ واحد شخصیت ہیں جنھوں نے مجھے متاثر کیا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ تنقید کا حرفِ آخر ہیں یا سینئرز میں اُن سے زیادہ اہم کام کوئی اور نہیں کر رہا۔ میں تو اپنے تئیں بتا رہا ہوں کہ میرے ہم عصروں میں جن سے مجھے براہِ راست تعلق حاصل ہے وہ ناصر نیر صاحب ہیں جنھیں میں تنقیدی حوالے سے سب سے نمایاں سمجھ رہا ہوں۔

تصنیف حیدر:اردو میں ترقی پسندی، جدیدیت یا مابعد جدیدیت ، ان سب کا بھوت بہت تیزی سے چڑھتا اترتا رہا ہے۔آپ کی سمجھ میں یہ چکر کیا ہے؟

قاسم یعقوب:آپ کے سوال ہی سے پتا چل رہا ہے کہ آپ خود اسی چکر میں مبتلا ہیں۔بھائی! کوئی بھوت نہیں چڑھتا اور نہ پھر اترتا ہے۔ یہ سب ادب کے ڈسپلن ہیں اور ادب کی متنوع تنقیدی جہات کو ڈفائن کرتے رہتے ہیں۔ ادب کا طالب علم ہر طرح سے متن کو پڑھنے سمجھنے اور تعبیر کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ میری حال ہی میں شائع ہونے والی مرتب کتاب ’’ادبی تھیوری:ایک مطالعہ‘‘ میں ادب اور تھیوری کے ڈسکورس کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے اب ادب کا طالب علم ہر ممکن طریقے سے ادب کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کیا کرے گا۔ قاری کا خود ساختیاتی یا تاثراتی غلبہ مانند پڑنے لگا ہے۔ ترقی پسندی نے ادب کو آئیڈیالوجیکل فریم میں لا کے دیکھا جب کہ جدیدیت نے متن اساس تنقید کا بول ڈالا۔ مابعد جدیدیت نے متن کی کثیر جہتی صفت سے آگاہ کیا۔ سو ادب کے بہت سے ڈسپلنز ہوتے ہیں۔ ہمیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ کوئی ڈسپلن مرتا نہیں بلکہ ادب کے نئے امکان کا روشن زاویہ کہلاتا ہے۔ سائنس میں طرح طرح کی ایجادات اور نظریات آتے ہیں،وہاں کا طالب علم کبھی اعتراض نہیں کرتا۔مگر ادب کا طالب علم فوراً چیخ پڑتا ہے کہ یہ تو مغربی فکر ہے ہمارا اس سے کیا تعلق!!!

تصنیف حیدر:آپ نے اسامہ بن لادن کو اپنے ایک مضمون میں بطور ادیب ایک باغی قرار دیا تھا، جس کی بغاوت سے آپ کچھ مطمئین بھی نظر آرہے تھے۔کیا آپ ایک رجعت پسند ادیب ہیں یا میں آپ کے بارے میں ایک متعصب رائے قائم کررہا ہوں۔

قاسم یعقوب:میرے خیال میں آپ نے مضمون کو بہت سرسری پڑھا ہے۔ یہ مضمون میری کتاب ’’تنقید کی شعریات‘‘ میں موجود ہے۔ میں نے کہیں اسامہ بن لادن کو ’’بطور ادیب‘‘ نہیں دیکھا اور نہ اُسے ’’باغی ‘‘قرار دیا ہے اور نہ ہی میں اُس کی بغاوت سے مطمئن نظر آیا ہوں۔ سو مجھے کسی طرح بھی متعصب اور غیر متعصب کی بحث کا مرکزِ موضوع نہیں ہونا چاہیے۔اصل میں اس مضمون کا موضوعِ خیال وہ چند نظمیں ہیں جو اسامہ کے کردار کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ میں نے ایک تجزیہ پیش کیا ہے کہ کس طرح شعرا کبھی اسامہ بن لادن کو مردِ حق قرار دیتے رہے ہیں اور کبھی اس خطے کے شعرا نے اسامہ کو ملعون بنا دیا۔ یہ مطالعہ بھی دلچسپ ہے کہ کس طرح ایک ہی کریکٹراُردو شعرا کو دو متخالف رویوں کا نمائندہ بنا رہا ہے۔

تصنیف حیدر:\'ہندوستان \'میں پاکستان سے اچھا تخلیقی ادب کبھی پیدا نہیں ہوا۔کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟

قاسم یعقوب:یہ ہرگز درست نہیں ۔ ہندوستان کے پورے تخلیقی سرمایے میں بہت اچھے اچھے تخلیق کار موجود رہے ہیں۔ اور اب بھی ہیں۔ فکشن میں تو ابھی بھی نیر مسعودموجود ہیں۔شمس الرحمن فاروقی ہیں۔یہ الگ بات کہ کچھ زیادہ تعدادپاکستان میں چلی آ رہی ہے مگر ہم غالب اور میر کو کہاں رکھیں گے۔ مجھے ایسا نہیں لگتا کہ کوئی ایسی تفریق پیدا ہو گئی ہے کہ تخلیقی ادب صرف پاکستان کا حصہ رہ گیا ہے۔

)یہ انٹرویو بلاگ کے حوالہ دیے،یا قاسم یعقوب سے اجازت لیے بغیر کہیں شائع نہ کیا جائے۔ایسا کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا حق بلاگ پوسٹ کی جانب سے محفوظ ہے(

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *