صلاح الدین درویش سے دس سوالات


صلاح الدین درویش ایک باخبر ناقد کے طور پر ہمارے ادب میں شناخت حاصل کرچکے ہیں۔ جن لوگوں کی فکریات کو ادب پر بالواسطہ اثرانداز ہونا چاہیے اور جن کے یہاںسے زندگی کرنے کی مختلف تعبیریں متن در متن پھوٹتی ہے،ان میں ایک نام صلاح الدین درویش کا ہے۔ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ان کی تحریریں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔اقبال کی فکریات پر لکھا گیا ان کا مضمون شاید اقبالیات کے باب میں   iconoclastکی حیثیت  رکھتا ہے۔ان سے کیے گئے اس مکالمے میں اردو میں مابعد جدیدیت ، ثقافت اور تیسری دنیا کے فلسفوں پر گفتگو ہوئی ہے۔ امید ہےکہ یہ گفتگو آپ کو ضرور پسند آئے گی.

تصنیف حیدر:لوگ کہتے ہیں کہ جنسی موضوع پرلکھا ہوا کوئی نثریا نظم پارہ پڑھتے وقت جنسی طور پر محظوظ ہونا غلط ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟کیوں؟


صلاح الدین درویش:لکھی ہوئی تحریر ،عبارت یا ادب محض الفاظ کا گورکھ دھندہ نہیں ہوتا بلکہ ہر تخیل ،موضوع،مقصد یا نظریہ اپنے ساتھ جذبے کی وابستگی بھی لے کر آتا ہے۔ایک تحریر شعور کو مہمیز کردیتی ہے، دوسری ایمان تازہ کرتی ہے، تیسری آپ کو حیران اور ششد بنادیتی ہے، کوئی  آپ میں جذباتی ابال پیدا کردیتی ہے،کوئی ہنسنے اور قہقہہ لگانے پر مجبور کردیتی ہے ،کوئی رنجیدہ بنادیتی ہے تو کوئی قاری میں غصہ اور اشتعال پیدا کردیتی ہے۔غرض کسی بھی تحریر کو انسانی جذبات و احساسات سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔اسی طرح وہ ادب پارہ جو جنس کو موضوع بناتا ہے اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ قاری کی جنس سے متعلق جذباتی حالت سے الگ رہے گا ایک غیر منطقی فرمائش ہے۔اس سلسلہ میں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کسی جنسی موضوع پر محض جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے قلم اٹھایا گیا ہو،تاہم ایسی تحریر کے بھی بہت سے معروضات ایسے ہوسکتے ہیں کہ جن کی طرف جانا ادیب کا منشا نہ ہو لیکن قاری تحریر کے مخصوص حصوں کو اپنی جذباتی تشفی کے لیے کار آمد اور مناسب بھی سمجھتا ہو۔کسی قاری کا ایک جنسی تحریر سے لطف اندوزنہ ہونا غیر اخلاقی ہی نہیں شخصیت کا عیب بھی ہے۔ہمارے ادب،خاص طور پر مثنوی اور افسانے میں جنس سے متعلق کافی قدر مواد مل جاتا ہے لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں مواد کے ان مخصوص حصوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گویا قوم و ملت کی راہنمائی اور تربیت کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جنس کو موضوع بنانا ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے لیے کوئی علاقۂ غیر ہے کہ جس میں گھستے ہی انسان شرافت، نیکی اور خیر برکت کے احساسات سے محروم ہوجاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جنس کو محض نسل کشی کا ایک غیر شاعرانہ یاغیر ادبی عمل نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اپنی تحریر میں زندگی کی ایک ٹھوس لیکن خوب صورت اور لطیف حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے۔اگرچہ اردو شعروادب میں ایسا خال خال ہی ہواہے، تاہم انٹرنیٹ کی دستیابی عالمی سطح پر موجود جنس سے متعلق مواد کو ہر تخلیق کار اور قاری کی دسترس میں لاچکی ہے کہ جس سے جانتے بوجھتے بے خبری ایک ادبی جرم ہے۔

تصنیف حیدر:ہمارے یہاں 'جاہل ادیبوں 'کی بہتات کیاہماری مروت کا نتیجہ ہے؟کیا ادیب کو بے مروت ہونا چاہیے؟


صلاح الدین درویش:میرا خیال ہے کوئی بھی ادیب اور شاعر جاہل ہرگز نہیں ہوتا۔کچھ نہ کچھ کہنے کی خواہش ہی اسے ادب و شعر کی دنیا میں لے کر آتی ہے۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ ادیب جو کہنا چاہتا ہے اس سے قاری متفق ہونا چاہتا ہے یا اسے رد کرنا چاہتا ہے۔کسی عظیم آرٹ کی تخلیق یا اس کے ظہور کے انتظار میں دوسرے تیسرے یا چوتھے درجے کی تخلیقات کو ناقد کے ڈسٹ بن میں نہیں پھینکا جاسکتا۔ان کی اپنی حیثیت اور اہمیت ہے۔جہالت ایک گروہ کے لیے علمی سند کا درجہ ہے تو کوئی دوسرا گروہ اس جہالت کو جہالت ہی سمجھتا ہے۔ہمیں جاہلوں یا جاہل ادیبوں سے اتنا سروکار نہیں ہے جتنا فن یا آرٹ سے ہے۔اگر کوئی بڑا یا عظیم خیال ہمیں جمالیاتی سطح پر آرٹ کا مداح بنانے میں ناکام رہتا ہے تو محض خیال کو ہم جہالت نہ بھی کہیں،کم از کم آرٹ کے زمرے میں نہیں لاسکتے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے بالخصوص شاعری، مثلاً اردو غزل کے میدان میں جو کام دستیاب ہے اس کا بنیادی المیہ اس میں آرٹ کا نہ ہونا ہے۔آرٹ دنیا کو بدل دینے کا خواب لے کر نہیں آتا کہ وہ جاہل اور گمراہ لوگوں کو صراط مستقیم پر لے آئے بلکہ وہ زندگی کے موجودہ رویوں ،مناظر، نظریات اور افکارو خیالات کے متوازی اپنا ایک نیا جہان پیدا کرنے کی کوشش پیدا کرتا ہے کہ جس کے اکثر گوشے ان دیکھے اور ان چھوئے ہوتے ہیں۔وہ اپنے اس نئے جہان معنی میں قاری کی شرکت چاہتا ہے، بھلے قاری کسی عظیم علمی گتھی کو سلجھانے میں ناکام اور بے مراد ہی کیوں نہ رہ جائے۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہمارے شاعر ناقدین نے مشاعرے کی ہاؤ ہو کو ’تنقید‘ سمجھ لیا ہے۔برے سے برے شعر پر وہ یوں داد دیتے ہیں کہ جیسے میرو غالب نے بھی کوئی پنسار خانہ کھولا ہوا تھا۔جہالت کی بجائے آرٹ اور جمالیات سے محروم شاعری کو فروغ دینے میں ان بھانڈ ناقدین نے اردو تنقید کا جنازہ نکال دیا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے ناقدین کے پاس شعر کے بطن میں سمانے والے موضوع ،خیال یا نظریے کے متوازی اپنا جہان فہم و دانش خالی ہوتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ کسی ناقد کی مروت کسی برے فن پارے کی صحت پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوتی۔ایک اچھا شعر یا افسانہ خود تخلیقی اعتبار سے اس قدر جاندار ہوتا ہے کہ ناقد کو اس کی پذیرائی اور معقول تفہیم میں اکثر ناکوں چنے چبانے پڑتے ہیں۔ادب کو مروت سے کیا تعلق؟ یہ اپنی تحسین سے بے نیاز ہوتا ہے تاہم اسے کسی جارح ناقد کی گرفت میں رہنا چاہیے،یہ جارح ناقد خود تخلیق کار ہو یا کوئی دوسرا۔

تصنیف حیدر:کیاثقافت سے عاری کسی دنیا میں ادب کی تخلیق ممکن ہے؟


صلاح الدین درویش:ثقافت ایک عظیم ناسٹیلجیا کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، ایک یادداشت ہے کہ اس کمال کے ساتھ ہے کہ جسے کھائے ،پیے، ہڑپ کیے زمانہ گزر گیا۔ماضی کا ایک قصہ ہے کہ جس کی چند باقیات بزرگوں کی نشانی کے طور پر چار آنسو بہانے کے کام آتی ہیں۔ثقافت کا زندہ تاریخ Living Historyمیں سانس لینے والے انسانی تمدن Man-made world کے مسائل اور معاملات کی مختلف صورتوں سے واجبی سا ہی تعلق ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ثقافتی شناخت ایک ایسا سوال بنی رہتی ہے کہ جس کا جواب زندہ تاریخ اور زندہ انسانی تمدن کی بجائے ماضی میں مدفون ہوتا ہے، اس کے احیا کی کوئی تدبیر معاصر تمدنی مسائل میں سجھائی نہیں دیتی، نتیجے کے طور پر مذہبی ، گروہی،نسلی ،لسانی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت بحران کا شکار ہوکر عوام میں ایک جھوٹا اور پرفریب احساس افتخار پیدا کردیتی ہے، یہ تفاخر دیگر شناختوں کے حامل گروہوں سے ایک واضح اور دو ٹوک تعصب پیدا کردیتا ہے، یہ تعصب نفرت اور حقارت کو جنم دیتا ہے اور حقارت متشدد نظریے کوپیدا کرتی ہے اور متشدد نظریہ ثقافتی شناخت کے نام پر دیگر انسانوں کے قتل کو آسان، معقول اور عین مناسب بنادیتا ہے۔ادب و شعر کی دنیا میں اگر کسی مخصوص ثقافتی شناخت کا اظہار ہوگا تو لازمی طور پر میرا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ظلم و ناانصافی اور تشدد کو ایک ٹھوس دلیل کے طور پر روا سمجھا جائے گا۔گیان چند جین کی کتاب’ایک بھاشا، دو لکھاوٹ‘میری اس بات کی تفہیم میں کافی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ہماری روزمرہ زندگی کے معاملات میں سیاسی، سماجی اور خاص طور پر معاشی سطح پر اس ہاتھ دے، اس ہاتھ لے کا دستور بہت زیادہ موثر ہوتا ہے۔یہاں ثقافتی شناختوں کی یادگاروں کا لین دین نہیں ہوتا۔بلکہ حقیقی زندگی کے مسائل اور معاملات کا وہ حل درپیش ہوتا ہے کہ جن کا براہ راست تعلق رنگ، نسل،زبان، مذہب یا شناخت کی ثقافتی صورتوں کی بجائے صحت،تعلیم یا روزگار ،خوراک، رہائش اور ماحول سے ہوتا ہے۔ان تمام حوالوں کی کوئی مخصوص شناخت نہیں ہوتی۔یہ زندہ انسانوں کی وہ فوری اور دیرپا ضروریات ہیں کہ جن کی فراہمی ثقافتی شناخت کی بجائے ریاست، اداروں یا ملکی قوانین کے ذمے ہوتی ہے۔مکان، صحت ، روزگار ،ہسپتال ، اسکول ،کالج، ڈیم، سڑک، پل ، جہاز اور ایکسرے مشین کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا،شناخت سے یکسر عاری ہوتے ہیں لیکن اپنی خدمات کے حوالے سے قومی یا ثقافتی شناخت سے ہمیشہ بازی لے جاتے ہیں۔میں اس تمدنی معاملے کو زندہ زندگی سے تعبیر کرتا ہوں اور اس زندہ زندگی کا تعلق شناخت کے کسی قدیم وجدید ٹھپے سے نہیں ہے۔شناخت سے عاری زندگی کے اس جہان پر لکھنا دراصل انسان اور انسانیت پر قلم اٹھانا ہے۔اردو ادب کی یہ خوش بختی ہے کہ ماسوائے چند کے ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے ثقافتی شناخت کے متشدد یا غیر متشدد اصرار سے پیدا شدہ برائیوں پر زور قلم صرف کیا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا بیشتر ادب زندہ زندگی سے معمور اور ثقافت سے عاری ہے۔یہ ادب بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا بین الثقافتی ہم آہنگی پر زور دینے کی بجائے شناخت کی جارح تعلیمات اور حقارت آمیز رسوم و رواج کا پردہ چاک کرتا ہے۔وارث شاہ کی ہیر رانجھاہو،جعفر زٹلی کی ہجویات ہوں، غالب کا کلام ہو یا منٹو کے افسانے سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

تصنیف حیدر:اقبال کی فکر سے الگ ، ان کے اسلوب کے بارے میں آپ کے خیالات کیا ہیں؟کیا وہ اردو شاعری کا سب سے بہتر اسلوب ہے؟


صلاح الدین درویش:شاعر ناقد اور دانش ور اختر عثمان سے ایک روز اقبال کے شعری اسلوب پر بات ہوئی تو انہوں نے اس حوالے سے ایک جان دار زاویہ پیش کیا۔ان کا کہنا یہ ہے کہ میر کا اسلوب ہماری تہذیب میں رچا بسا ہے لہٰذا اسلوب کی اس خوبی کے باعث میر آج بھی ہمارے لیے یوں ہے کہ جیسے کوئی غزل آج ہی کہی گئی ہے، جبکہ اقبال کا اسلوب ہماری تہذیبی روایت سے اکھڑا ہوا ہے۔یہ اسلوب اظہار کے لیے ایک ایسی زبان کو دریافت کرتا ہے کہ جس میں ہماری مٹی کی بو باس نہیں ہے۔فارسی اور عربی کی اصطلاحات ، الفاظ اور تراکیب کو اردو کے جس قالب میں ڈھالا گیا ہے وہ اس کے موجد اور خاتم ہیں۔اس حوالے سے میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اقبال کا اسلوب لائق تقلید بھی نہیں تھا۔اقبال کا اسلوب عوام سے گفتگو کا معاملہ نہیں ہے بلکہ خواص کے لیے بھی، خواص سے مراد اگر اہل علم اور باخبر لوگ ہیں تو بھی اقبال کی فکرنے جس زبان اور اسلوب کو مرتب کیا ہے اس کی بنیاد عالمی معاشرے میں انسان دوست نظریات کے فروغ کی بجائے ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عالمی تسلط کی حمایت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اگر یہ بہتر اسلوب ہوتا تو ہم غالب، میر، مومن، راشد اور مجید امجد کے اسلوب کو کم از کم قیام پاکستان کے بعد شعر وادب میں ضرور ترک کرچکے ہوتے۔فکری اور اسلوبیاتی اعتبار سے اس میں اتنی جان نہیں تھی کہ اسے راہنما یا آئیڈیل بنایا جاتا۔میر کے اسلوب کی روایت آج بھی زندہ ہے، اقبال کا اسلوب اقبال کے ساتھ دفن ہوچکا ہے۔

تصنیف حیدر:مابعد جدیدیت اردو میں ایک ناکام اور قبل از وقت کہی جاسکنے والی تحریک ہے؟کیا آپ اس فقرے سے اتفاق رکھتے ہیں؟کیوں؟


صلاح الدین درویش:مابعد جدید تنقیدی اشکلوں کا چلن ہمارے ہاں کچھ مروج ضرور ہوا ہے لیکن وہ مابعد جدید تمدن جس کا سامنا مغربی افکار و خیالات کے جہان کو درپیش ہے ہمارے ہاں ایسے معاملات کی صورت گری نہ ہونے کے برابر ہے۔مابعد جدید مباحث تو یورپ میں گزشتہ چالیس سال سے بڑے تواتر کے ساتھ جاری ہیں اور اس کا سبب وہاں کے مابعد جدید تمدنی حالات ہیں۔جبکہ تیسری دنیا کے معاشروں میں تمدن جدید صارفی کلچر کے طور پر تو ضرور ابھرا ہے لیکن جس طرح مغرب میں تخلیقی سطح پر سائنس اور سماجی علوم کی روز افزوں ترقی کے باعث تمدن کی تشکیل کی وجہ سے حالات پیدا ہوئے ہیں تیسری دنیا کے فکری سطح پر بند اور جمود کا شکار معاشروں میں ایسی صورت حال کا جنم لینا بعید از قیاس ہے۔ہم ابھی تک مہابیانیوں کے اسیر ہی نہیں اس کے بے درد وکیل بھی ہیں۔ہمارے لیے کیسے ممکن ہے کہ ان مہابیانیوں کو تنقیدی سطح پر چیلنج کرنے کی سکت رکھ سکیں۔انسانی تمدن کے مادی مظاہر اپنے ساتھ اقدار و روایات کی نئی صورتیں مغرب میں ضرور لے کر آئیں ہیں تاہم ہمارے ہاں صارفی تمدن انسان کے نہاں خانوں میں اپنی مادیت کے سبب کسی گناہ کا گویا ایک ارتکاب ہے۔ان حالات میں ادب کی ایسی تخلیق کہ جس میں مابعد جدید رویوں اور مسائل کا اظہار ہو، ہرگز ممکن نہیں ہے۔

تصنیف حیدر:اردومیں کتنے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے واقعی'تیسری دنیا'کے فلسفوں پر غور کرنے کی زحمت کی ہوگی؟


صلاح الدین درویش:تیسری دنیا کے وہ قدیم فلسفے ، نظریے یا افکار جن کی بنیاد مشرقیت یا روحانیت کو قرار دیا جاتا ہے ہماری تہذیبی زندگی میں گپ شپ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ہمارے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے ممکنہ حل کی صورتوں نے ان نظریات کو مادی زندگی کی حقیقتوں سے نکال باہر کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اب زندگی آمیز نظریات و افکار کو مغرب سے مستعار لینا پڑتا ہے۔حیرت انگیز طور پر مغربی افکار سے خوشہ چینی کے باوجود اپنی مذہبی یا ثقافتی شناخت کے پیش نظر جدید مغربی افکار میں روحانیت یا مشرقیت کا ایسا تڑکا لگا دیا جاتا ہے گویا فلسفہ نہ ہوا آدھا تیترآدھا بٹیر ہوا۔ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے کہ جن کی تخلیقات میں کچھ فکری عناصر بھی پائے جاتے ہیں، اپنے معروضی حالات و واقعات سے از خود نتائج اخذ کرنے کی بجائے مغربی افکار کو مال مفت سمجھ کر مسائل کے حل کی ’تجاویز’ پیش کرنے کی عجلت میں بے کار سی کوشش کی ہے۔میں ایسے ادیبوں اور شاعروں کا نام یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا۔


تصنیف حیدر:کیا شاعری بھی کبھی انقلاب لا سکتی ہے؟

صلاح الدین درویش:میرے خیال میں قومی اور ملی تشخص پر قائم انقلاب کی آرزو رکھنے والا ادب سب سے برا ادب ہوتا ہے۔اس میں جھوٹ، منافقت، زمینی حقائق سے گریز اور خطیب کے جوش خطابت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔بس ایسی شاعری یا ایسے ادب سے انقلاب کی توقع رکھنا ایک بھیانک تاریخی مغالطہ ہے۔معاشروں میں تبدیلی عظیم انقلابی نظریات سے نہیں آتی بلکہ تمدنی حالات و واقعات، معاملات اور تاریخی سچائیوں سے تبدیلی کے ظہور کا آغاز ہوتا ہے۔انقلابی لفاظی عوام کو گمراہ کرتی ہے اور زمینی حقائق سے ان کا رابطہ منقطع کردیتی ہے۔جلسے جلوسوں اور ماردھاڑ کا جب انقلابی جوش تھمتا ہے تو لوگ دوبارہ اپنے آپ کو انہی تاریک گلیوں میں پاتے ہیں کہ جن سے نکلنے کی نشاندہی انقلابی لفاظی نے کی تھی۔میرے خیال میں اقبال ، ساحر لدھیانوی، جوش اور جالب سے کہیں زیادہ انقلابی ہمارے وہ شاعر اور ادیب ہیں کہ جو زندگی کی حقیقتوں کی لفظی نمائش کی بجائے ان حقیقتوں کو ننگی لیکن تخلیقی سطح پر بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔

تصنیف حیدر:ہمیں اصطلاحوں کو سمجھے بغیر انہیں ترجمے کے طور پراپنالینے کی عادت سی ہوگئ ہے۔کیا سبب ہے کہ اردو والے اپنی روایت سے پیدا ہوسکنے والی اصطلاحوں پر غور نہیں کرتے؟


صلاح الدین درویش:ہمارے ہاں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور روسی زبان سے براہ راست اردو میں ترجمے بھی کیے گئے ہیں۔ان ترجموں میں بدیسی زبانوں سے جن اصطلاحات ، الفاظ اور تراکیب کو اردو میں منتقل کیا گیا ہے میرے نزدیک ایسے ترجموں سے کسی بڑے فکری بحران نے جنم نہیں لیا۔ترجمہ خوب ٹھوک بجا کر کیا گیا ہو یا لفظ بلفظ کیا گیا ہو ہر دو صورتوں میں بدیسی علمی سرمایہ اردو میں ضرور منتقل ہوا ہے۔میں اسے ذاتی طور پر بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔اگر یہ بھی نہ ہو تو پھر کیا ہو؟اس سوال سے میرا دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ممکن ہے کہ جو قاری ترجمے کے ذریعے اپنی علمی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہیں کہیں اصل متن سے بدک جائے لیکن یہ ایسی بڑی فکری قباحت نہیں ہے۔اردو میں لکھی کسی ایک کتاب کے دو قاری بھی ایسی صورت حال کا شکار ہوسکتے ہیں۔ترجمے جیسے بھی ہیں اردو پر احسان عظیم کی حیثیت رکھتے ہیں۔جہاں تک اپنی روایت سے اصطلاحات دریافت کرنے کا معاملہ ہے تو کسی اردو شاعر اور ادیب کو اس سلسلے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔اگر وہ ایسا نہیں چاہتا تو یہ اس کی اپنی صوابدید پر ہے۔بدیسی زبانوں کی اردو اصطلاحات بحث مباحثے کے عمل کے باعث معنوی اعتبار سے درست سمت کا تعین کرنے میں بتدریج کامیاب ہورہی ہیں۔


تصنیف حیدر:اردو کے ناقدین سے آپ کو کیا شکایت ہے اور کیوں؟

صلاح الدین درویش:ناقد کا بنیادی کام کسی متن کا یوں مطالعہ ہے جو متن کے طے شدہ اور حتمی حصوں کو توڑ پھوڑ دے، یااس متن کو ایک ایسی نئی ترتیب دے کہ جو متن کا مقصود اور منشا نہ ہو۔یہ نئی ترتیب اس لیے قائم کی جاتی ہے تاکہ متن کے وہ گوشے کہ جن سے ادیب نے بڑی عیاری کے ساتھ صرف نظر کیا ہے، وہ سامنے آجائیں، افکارو خیالات پر الفاظ کی ملمع کاری کو اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور ادیب کی مکاری کا بھانڈا پھوڑ دیا جاتا ہے، ایسا کرنے سے متن پارے کی عظمت پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن تنقید ایسا نہ کرے تو اپنے مقام و مرتبے سے بہت نیچے گرجاتی ہے۔لفظی اور معنوی شکوہ کسی بھی ادب پارے کی جان ہے لیکن تنقید کو ادب کی شان و شوکت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ قاری کی طرح لطف و مزہ لینے اور مرعوب ہونے کی بجائے اپنی فہم و دانش اور دانت کا سکہ جاری کرتی ہے۔ناقد متن کو قوال کی گرہ نہیں سمجھتا کہ پڑھتا جائے اور سر دھنتا جائے۔وہ کیونکہ خبر رکھتا ہے اس لیے وقت ضائع کیے بغیر سطر در سطر خبر لیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ متن کے منشا و مقصود پر ناقد کی جرح غالب آجاتی ہے۔اگر کوئی ناقد کسی تخلیقی متن سے مرعوب ہوجاتا ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ ناقد بھی قاری کی سطح سے نہیں اٹھ سکا۔ایسی تنقید علوم و فنون کے ہمہ جہت مطالعے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اردو تنقید سے شکایت یہ ہے کہ وہ ابھی تک فن پارے کی عظمت سے مرعوب ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ تا حال فن پارے کے مقابلے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں ہوسکی ، تنقید فن پارے سے ٹشو پیپر کا کام لے تو بات بنے۔


تصنیف حیدر:مستقبل کا پاکستان کس کی فکر سے زیادہ قریب ہے؟صلاح الدین ایوبی یا صلاح الدین درویش؟


صلاح الدین درویش:جمہوری، سیکولر یا لبرل یا روشن خیال اور انسان دوست فکر ایک تاریخی سچائی اور مجبوری ہے کہ جسے اپنائے بغیر چارہ نہیں، لہٰذا پاکستان کا مستقبل بھی اس فکر سے بندھا ہوا ہے۔بنیاد پرست گروہ ایک دوسرے کے خاتمہ بالخیر میں پورے جوش ایمانی کے ساتھ جٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔خوش خبری کی جلد امید ہے۔



)یہ انٹرویو بلاگ کے حوالہ دیے،یا صلاح الدین درویش سے اجازت لیے بغیر کہیں شائع نہ کیا جائے۔ایسا کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا حق بلاگ پوسٹ کی جانب سے محفوظ ہے( 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین