منگل، 16 دسمبر، 2014

ناصر عباس نیر سے دس سوالات


ناصر عباس نیر ہمارے عہد کے ایک اہم نقاد ہیں، میں نے مابعد جدیدیت کی تعلق سے ان کی تالیف کی ہوئی کتاب کا مطالعہ سب سے پہلے کیا تھا۔پھر ان کا مضمون ’متن، سیاق اور تناظر‘ بھی پڑھنے میں آیا۔میں ان سے بہت سے معاملات میں اختلاف کی باوجود بے حد متاثر ہوں،ان کی سوچ بالکل صاف ستھری ہے۔میں نے ان سے بہت سے متنازعہ معاملات پر سوالات پوچھے تھے، جس کا جواب انہوں نے بہت صاف طور پر دیا ہے۔سوال کرنے والے کا طریقہ اور جواب دینے والے کی منطق ،دونوں کے طرز فکر کو بھی اجاگر کرتی ہے۔چنانچہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ آپ میری نیت پر شک نہ کیجیے، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جواب دینے والے کا محاسبہ بھی ضرور کیجیے۔ناصر عباس نیر صاحب سے اردو تنقید، اردو ادب کی نصابی کمزوریوں اور دوسرے اہم معاملات پر بات ہوئی ہے۔امید ہے کہ یہ مکالمہ بھی ضرورپسند کیا جائے گا۔ 

تصنیف حیدر:آپ نئی نسل کے نمائندہ نقاد ہیں، آپ کے علاوہ پاکستان میں صلاح الدین درویش اور دوسرے ایک دو لوگوں کا ہی نام لیا جاسکتا ہے ۔نئی نسل میں تنقید ی رجحان کی ایسی سخت قلت کیوں ہے ؟

ناصر عباس نیر:اگر آپ سوال کا پہلا حصہ حذف کرنے کی اجازت دیتے تو میں اس سوال کا جواب نسبتاً آسانی سے تلاش کر سکتا کہ اردو ادیبوں کی نئی نسل میں تنقیدی رجحان کی کمی کا کیا سبب ہوسکتا ہے۔ آپ نے مجھے نئی نسل کا نمائندہ نقاد قرار دے کر مجھے مشکل ہی میں نہیں الجھن میں بھی ڈال دیاہے۔مجھے نہیں معلوم آپ کے ذہن میں ’نمائندہ نقاد‘ہونے کا ٹھیک ٹھیک مفہوم کیا ہے؟ کیا آپ نمائندہ سے مراد’ترجمان ‘ لے رہے ہیں یا’ نمایاں‘،یا اسے انگریزی Representativeکے معنی میں؟لفظ ’نمائندہ‘ کے ان معانی میں ’دوسروں‘ کا تصور بھی موجودہے۔ کوئی شخص ’دوسروں‘ کی ترجمانی یانمائندگی کرتا ہے،یا دوسروں سے نمایاں ہوتا ہے۔’دوسروں‘ کی ترجمانی یا نمائندگی کے اچھے خاصے سیاسی مضمرات ہوتے ہیں۔’دوسرے‘ خاموش ہوتے ہیں یا انھیں خاموش رکھا جاتا ہے ،اور ان کی خاموشی ہی جواز پیدا کرتی ہے کہ ان کی نمائندگی کی جائے۔اس طرح ’نمائندہ‘ کو خود بہ خود ’دوسروں ‘ پر فوقیت، طاقت ، اختیار مل جاتا ہے۔اس کا نمایاں ہونا بھی خود اپنے آپ میں طاقت رکھتا ہے۔ تو میرے بھائی میں نئی نسل کا نمائندہ نقاد نہیں ہوں۔اس لیے کہ نئی نسل خاموش نہیں ہے؛نہ شاعروں کی نئی نسل،نہ فکشن نگاروں کی نئی نسل اور نہ تنقید لکھنے والوں کی نئی نسل۔میں اپنی بساط اور ترجیحات کے مطابق پڑھتا ہوں ،اور برا بھلا لکھتا ہوں۔ہاں،میں ’دوسروں‘ کی خاموشی کے بجائے ادبی متون کی خاموشی کو زبان دینے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔وہ بھی اس لیے کہ ادبی متن کی ’خاموشیوں‘ ہی میں معانی کا حشر برپا رہتا ہے۔آپ کا سوال یہ ہے کہ نئی نسل میں تنقیدی رجحان کی ایسی سخت کمی(مجھے قلت کالفظ بھاری بھرکم لگا ہے)کیوں ہے؟ میرا خیال ہے نئی نسل (خود نئی نسل بھی ایک Problematicاصطلاح ہے، اس میں آپ کس عمر کے لوگوں کو شامل کریں گے؟ میں نے جن لوگوں کے ساتھ ،یا ذرا آگے پیچھے لکھنا شروع کیا ،وہ سب پنتالیس تا پچپن بر س کی عمر کے ہیں)میں تنقیدی رجحان کی کمی نہیں ہے، باقاعدہ ، مسلسل، جم کر تنقید لکھنے کی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے۔اس کے اسباب کی تلاش میں کئی مفروضات پیش کیے جاسکتے ہیں،جن میں شاید کوئی حقیقی سبب تک پہنچنے میں ہماری راہنمائی کرسکے۔ مثلاً ایک مفروضہ یہ ہوسکتا ہے کہ ترقی پسندی اور جدیدیت اپنا اپنا کردار ادا چکی ہیں،ان کے بعد جو ایک فکری خلا پیدا ہواہے، اسے پر کرنے کے لیے مابعد جدیدیت آئی،مگراردو کے نقادوں میں اس کے سلسلے میں طرح طرح کی بدگمانیاں راہ پا گئی ہیں۔ ’نئی نسل‘ کے اکثر تنقید لکھنے والوں کے پاس اگر کچھ نیا کہنے کو ہے تو صرف یہی بدگمانیاں ہیں۔ورنہ وہی کلاسیکی مارکسی تنقید، عمرانی تہذیبی تنقید ،یا پھرہیئتی اورنفسیاتی تنقید(جنھیں ترقی پسندی اور جدیدیت نے اختیار یا وضع کیا تھا) کے وہ فارمولے ،جن پر ساٹھ کے بعد کی تھیوری نے سوالیہ نشان لگائے،اور ان کی نارسائیوں کو اجاگر کیا۔مابعد جدیدیت کی مخالفت میں بذاتہٖ کچھ عیب نہیں،مگر اس کی متبادل تنقیدی فکر بھی اسی درجے کی ہونی چاہیے؛ایک نظریے یا فکر پر محض اعتراض اس کا متبادل نہیں ہوتا۔اردو تنقید نے عالمی تنقید کا متبادل تخلیق نہیں کیا۔دوسرا مفروضہ یہ ہوسکتا ہے کہ ’نئی نسل‘ کے تنقید لکھنے والے محنت سے جی چراتے ہیں۔ تنقید لکھنے کے لیے ادب اور دوسرے علوم کے براہ راست اور گہرے مطالعے کے لیے جو محنت درکار ہے،اسے اپنا مزاج نہیں بناسکے۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنقیدی فکر سے ایک قسم کی بیگانگی پیدا ہو گئی ہے۔ تنقیدی فکر بنیادی سوالات قائم کرتی ہے؛ مسلمات کو چیلنج کرتی ہے؛ادبی وسماجی عرصے(Sphere) میں موجود اسطوروں، ڈسکورسوں ، آئیڈیالوجیوں ،کینن وغیرہ پر سوال اٹھاتی ہے ۔ اس وقت لکھنے والوں کو ریاستی خوف سے زیادہ سماجی خوف لاحق ہے۔ ریاستی جبر کا مقابلہ آسان ہے،مگر سماجی جبر (جس کی درجنوں صورتیں ہیں،جیسے بے دخلی، کفر کے فتوے،تشدد وغیرہ)کا مقابلہ آسان نہیں۔ پہلے ریاست کے جبر کے مقابلے کے لیے سماج ،ادیب کی حمایت کرتا تھا، مگر اب صورتِ حال مختلف ہوگئی ہے۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہے کہ تنقید لکھنے والا ، بنیادی سوالات اٹھانے کے نتائج سے ڈر گیا ہو،اور ادھر ادھر کی ’بے ضرر‘باتیں لکھ کر اپنے مضامین کا پیٹ بھررہا ہو۔ ظاہر ہے وہ تنقید نہیں لکھ رہا ،تنقید کا الیوژن پیدا کررہا ہے۔ آخری مفروضہ یہ ہوسکتا ہے کہ اب تنقید میں اوسط درجے کا ذہن( یعنی mediocre)موجود ہے۔اوسط درجے کا ذہن سادہ باتوں کی نقالی کرسکتا ہے، گہری، تہ دار باتوں کی تخلیق اور تحسین کی اہلیت تک نہیں رکھتا۔ بہر کیف یہ سب مفروضات ہیں۔ 



تصنیف حیدر:ساختیاتی تنقید کے جہاں ہزاروں فوائد ہونگے ، ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ ہر متن کے بے بنیاد اور بے سر پیر کے معنی دریافت کرنے لگے ہیں؟کیا آپ کو کبھی کسی متن کا ساختیاتی جائزہ پڑھتے وقت ایسا محسوس نہیں ہوتا۔


ناصر عباس نیر:بھائی پہلی بات یہ کہ ساختیاتی تنقید یا کسی بھی دوسرے تنقیدی مکتب کے سلسلے میں فائدے، نقصان کا ذکرنا گویا انھیں ایک کموڈیٹی سمجھنا ہے۔پہلے ہی گلوبلائزیشن ہر علم و فن کو کموڈیٹی بنانے پر تلی ہے ۔ ہم ادیبوں کوتو اس سے گریزکرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگرکچھ لوگ ہر متن کے بے بنیاد معنی دریافت کرتے ہیں تو اس کا ذمہ داروہ لوگ ہیں،خود ساختیات نہیں۔اگر آپ کسی خاص ساختیاتی مطالعے کی طرف اشارہ کرتے تو ہم اس سوال پر بہتر گفتگو کرسکتے۔ اس ضمن میں عمومی باتیں ہوا میں تیر چلانے کے مترادف ہوں گی۔ مجھے کسی ساختیاتی جائزے کے مطالعے سے یہ محسوس نہیں ہوا کہ نقاد نے بے بنیاد معنی دریافت کیے ہوں۔ یوں بھی ساختیاتی تنقید معنی کی دریافت کے بجائے معانی کے سرچشمے تک رسائی کا ایک طریقِ کار ہے۔معنی قائم کیسے ہوتے ہیں، کون سی ادبی اور ثقافتی رسمیات ادب پارے میں معنی کی تشکیل پر اثرا نداز ہوتی ہیں؛ان سوالات کو ساختیاتی تنقید پیش نظر رکھتی ہے۔ 


تصنیف حیدر:ناصر عباس نیر ، اب زیادہ اچھے مضامین نہیں لکھ رہے کیونکہ ان کو ادبی میلوں اور سیمیناروں سے فرصت نہیں۔اس طرح کے کمنٹ پر آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟


ناصر عباس نیر:اس طرح کے کمنٹ پر میں خاموشی اختیار کرنے کا عادی ہوں۔ سچ بات یہ ہے کہ میں اپنی تحریر کا دفاع کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوسکا۔میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ تحریر کو اپنا دفاع خود کرنا چاہیے ۔اگر کوئی تحریر اپنا دفاع نہیں کر سکتی تو خود مصنف یا کوئی دوسرا شخص لاکھ چیخے چلائے تحریر پر عائد ہونے والے اعتراضات دور نہیں ہوسکتے۔کوئی شخص یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ تحریر اپنا دفاع کیسے کر تی یا کیسے کر سکتی ہے؟تحریراپنا دفاع ،اپنے ہونے کا جواز پیش کرنے کی صورت میں کرتی ہے ۔اگر کوئی تحریر مختلف خیالات کے حامل لوگوں کو متوجہ کر سکتی ہے ،اور ان کے ذہن میں کسی قسم کی تحریک پیدا کر سکتی ہے ،انھیں اتفاق و اختلاف پر مائل کرسکتی ہے ،تو وہ تحریر اپنے ہونے کا جواز فراہم کررہی ہوتی ہے ۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری کسی تحریر سے متعلق اچھی، زیادہ اچھی ،بری، زیادہ بری، اوسط یا کوئی اور قسم کی رائے قائم کرتا ہے تو یہ قاری اور متن کا باہمی معاملہ ہے۔ہر قاری متن کو کسی خاص سیاق میں پڑھتا ہے، کچھ خاص توقعات کے ساتھ پڑھتا ہے، بعض اوقات تعصبات کے ساتھ پڑھتا ہے۔ کسی بھی متن سے متعلق کوئی بھی رائے ،صرف متن کی داخلی دنیا کو آشکار نہیں کرتی ،خود قاری کی ترجیحات ، توقعات، تناظرات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔۔۔۔’زیادہ اچھے مضامین نہ لکھنے ‘ کی رائے سے مجھے اختلاف ہے ،نہ یہ کمنٹ مجھے برا لگاہے،مگر ’زیادہ اچھے مضامین ‘ نہ لکھنے کی وجہ سے اختلاف ضرور ہے۔ پہلی بات یہ کہ میں اوسطاً تین چار سیمیناروں میں ایک سال میں شریک ہوتا ہوں،دوسری بات یہ کہ سیمیناروں ،ادبی میلوں میں شرکت کا اچھا ،برا لکھنے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ اچھا برا لکھنے کا تعلق محنت، مطالعے، صلاحیت، احساسِ ذمہ داری وغیرہ سے ہے۔ 

تصنیف حیدر:ہندوستان کی نئی نسل کیسی تنقید لکھ رہی ہے ،کیا آپ اس سے مطمئین ہیں؟

ناصر عباس نیر:میرا اطمینان کیا اہمیت رکھتا ہے بھائی!میں نے ہندوستان کے بالکل نئے اردو نقادوں میں سرورالہدیٰ، مولا بخش ،معید رشیدی ،اور آپ کی تحریریں دیکھی ہیں۔اچھی ہیں۔ تاہم آئندہ چند برسوں میں واضح ہوگا کہ آپ سب کی شناخت کس تنقیدی طریقِ کار،یا نظریے،یا زاویہء نظر کے تحت قائم ہوتی ہے۔ 

تصنیف حیدر:کالجز اور یونیورسٹی میں اردو ادب کا نصاب پاکستان میں بے حد خراب ہے ۔کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے ؟کیوں؟


ناصر عباس نیر:اگرچہ آپ نے وضاحت نہیں کی کہ اردو ادب کا نصاب کس مفہوم میں بے حد خراب ہے ۔تاہم میرے بھائی اردو ادب کا نصاب صرف پاکستان ہی میں نہیں، ہندوستان میں بھی خاصا اصلاح طلب ہے۔ اردو نصابات میں کئی خرابیاں ہیں۔آپ جانتے ہیں کالج و یونیورسٹی سطح پر نصاب بنیادی طور پر انتخاب ہوتا ہے۔ نصاب ساز کو ماضی و حال کے وسیع و متنوع ادبی سرمائے میں سے متون منتخب کرنے ہوتے ہیں۔ انتخاب کے عمل پر کئی باتیں اثرا نداز ہوتی ہیں۔اردو ادب کے نصابات پرسب سے بڑا اثر ریاستی اور قومی آئیڈیالوجیوں کاہے ،جن کے نتیجے میں ادب کی اصل روح مسخ ہوگئی ہے۔ ادب اپنی روح میں ،ایڈورڈ سعید کی اصطلاح میں ’دنیویت‘ (Wordliness)کا حامل ہوتا ہے،مگر ریاستی وقومی آئیڈیالوجی ادب کو ایک ایسی تقدیس میں ملفوف کر دیتی ہے ،جس سے بالآخر جبر پیدا ہوتا ہے۔ادب کے مطالعے سے آزاد ی فکر، رواداری ، کشادہ نظری،انسانی مسائل پر آزادانہ غورفکر کی عادت پیدا ہونی چاہیے،مگر اردو ادب کا رائج نصاب نفرت، تعصب، نیز محدود نظری پر تفاخر کرنا سکھاتا ہے۔اردو کے نصاب اور قومی آئیڈیالوجی کا تعلق نو آبادیاتی عہد میں قائم ہوا تھا۔ مجھے اپنی پوسٹ ڈاکٹرل فیلوشپ کے دوران نو آبادیاتی عہد کے اردو نصابات پر تحقیق کا موقع ملا تو کئی ہوش ربا انکشافات ہوئے۔ اردو ادب کو ادب کے طور پرنہیں، نو آبادیاتی آئیڈیالوجی کی ترسیل کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر پڑھایا گیا۔ سنتالیس میں آزاد ی کے بعد بھی ادب اور آئیڈیالوجی کا تعلق قائم رہا، صرف آئیڈیالوجی بدل گئی۔ جب تک ادب و آئیڈیالوجی کا Nexusنہیں ٹوٹتا کسی بہتری کی توقع عبث ہے۔


تصنیف حیدر:اردو کا سب سے خراب تنقید نگار آپ کی نظر میں کون ہے اور کیوں؟


ناصر عباس نیر:کسی کو’سب سے خراب تنقید نگار ‘قراردینا ایک قسم کا فتویٰ ہے ، اور میں اس کا بالکل اہل نہیں ہوں۔


تصنیف حیدر:ظفر اقبال کی کلیات کی چوتھی جلد میں آپ کا مضمون اس بات کا گواہ ہے کہ ظفر اقبال بھی نقاد کو بطور برینڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔کیا شناخت کے معاملے میں تنقید نگار کی یہ محتاجی اچھا رویہ ہے ؟


ناصر عباس نیر:آپ نے ظفر اقبال کی کلیات ،جلد چہارم میں شامل میرے مضمون سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ کم از کم میری سمجھ سے بالاترہے۔ ظفر اقبال کا مجھ سمیت دوسرے نقادوں کو بطور برینڈ استعمال کرنے سے آپ کا مقصود کیا ہے؟ یہ میں نہیں سمجھ سکا، تاہم یہ بات ضرور محسوس ہوئی ہے کہ یہاں ایک بار پھر آپ نے مارکیٹ اکانومی کی منطق سے کام لیا ہے۔(پہلے آپ نے ساختیاتی تنقید کو کموڈیٹی سمجھا)۔نقاد کوئی ایڈرورٹائزنگ ایجنسی نہیں کہ تخلیق کارکا امیج بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور ادب کی مارکیٹ میں اس کی شہرت اور دام بڑھانے کاکام کرے۔یہ ضرور ہے کہ معتبر نقاد کی رائے ،کسی تخلیق کار کی اہمیت کا احساس پیدا کرتی ہے،لیکن اس احساس کواگر خود تخلیق کار کے متن سے مضبوط دلیل مہیا نہ ہوتو خود نقاد کا اعتبار بھی مجروح ہوتاہے۔میرے بھائی ظفر اقبال نے اپنی شناخت آج سے کم و بیش نصف صدی پہلے قائم کرلی تھی۔اب ان کے بارے میں جو کچھ لکھا جاتا ہے، وہ ان کی شاعری کا تعارف نہیں، تعبیر و تجزیہ ہے،اور تعبیر وتجزیے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا ،جب تک ظفر اقبال کی غزل کی خاموشیاں بولتی محسو س ہوتی رہیں گی۔مجھے آپ کی یہ بات خاصی عجیب لگی ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار کسی نقاد کا مضمون اپنی کتاب میں شامل کرتا ہے تو یہ نقاد کی محتاجی ہے۔نہ تو نقاد دیالو ہے ،نہ تخلیق کار محتاج ۔تخلیق پڑھے جانے کا مطالبہ کرتی ہے ،اور تنقید اس مطالبے کو پورا کرتی ہے۔مگر شاید آپ کے ذہن میں تخلیق و تنقید میں تضاد و تخالف کی اسطور(متھ )اٹکی ہوئی ہے۔تنقید ،تخلیق کو پڑھتی ،اس کی گرہوں کو کھولتی ،اس کے درون میں جھانکتی، اس کی خاموشیوں کو سنتی ،اس کے جمال کی شعاؤں کو گرفت میں لیتی،اس کے سماجی، نفسیاتی، ثقافتی انسلاکات و مضمرات تک رسائی حاصل کرتی ہے،اورکبھی کبھی اسے دوسری تخلیقات کے مقابل رکھتی ہے۔ آپ نے غالباً بعض تخلیق کاروں اور نقادوں کے شخصی رویوں سے عمومی نتائج اخذ کیے ہیں۔ ہوسکتا ہے ، آپ کے پیش نظر ظفر اقبال کا نقادوں کے ضمن میں متضاد رویہ ہو۔ ظفر صاحب اپنی نثری تحریروں میں نقادوں کو سخت برا بھلا کہتے ہیں ،اور پھر اپنے بارے میں لکھنے کی فرمائش بھی نقادوں سے کرتے ہیں۔نیز جب اپنی ستائش کرنی ہو تو کسی نقاد کی اپنے حق میں تحریری یا زبانی پیش کی گئی رائے کا حوالہ دیتے ہیں۔ ظفر صاحب کا نقادوں سے متعلق یہ دوجذبی رویہ(Ambivalence)نفسیاتی مطالعے کا موضوع ہو سکتا ہے،مگر اس سے ہم نقاد وتخلیق کار سے متعلق عمومی نتائج اخذ نہیں کرسکتے۔ 



تصنیف حیدر:جس شخص میں کسی قسم کا تخلیقی امکان نہ ہو، وہ اچھا ناقد ہوہی نہیں سکتا۔کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے ؟کیوں؟


ناصر عباس نیر:آپ کا یہ سوال ،اس پرانے تصور کی بازگشت لیے ہوئے ہے کہ بگڑا شاعر نقادہوتا ہے،یا تنقید وہ شخص لکھتا ہے ،جو شعر و فکشن کی تخلیق کی صلاحیت سے عاری ہو۔اس طرح کے تصورات ناکافی غوروفکر کا نتیجہ ہوتے ہیں،اور اکثر گمراہ کن ہوتے ہیں۔مثلاً یہی دیکھیے کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ’ جس شخص میں تخلیقی امکان نہ ہو، وہ اچھا ناقد نہیں ہوسکتا(یعنی آپ کی دلیل کی رو سے ناقد ہوسکتاہے) ‘،تو آپ اصل میں تنقید کے وجودیاتی سرچشمے سے متعلق رائے دے رہے ہیں۔ یہ کہ تنقید اور تخلیق دونوں کے وجود کی اصل و سرچشمہ تخلیقی صلاحیت ہے۔بھئی اگر دونوں ایک ہی اصل سے نمو دکرتی ہیں تو دونوں میں فرق کیا ہے،اور فرق کیسے پید اہوتا ہے؟ایک تنقیدی مضمون اور افسانے ،یا ایک غزل اور تنقیدی تحریر میں فرق کو اندھا بھی پہچان سکتا ہے ۔اگر آپ کے پیش نظر وہ لوگ ہیں،جو شاعر و نقاد ہیں ،(جیسے چند معروف لوگوں میں ٹی ایس ایلیٹ،ایذر ا پونڈ،حالی ، وزیر آغا، شمس الرحمٰن فاروقی) تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب وہ شعر و افسانہ ،اور تنقید لکھتے ہیں تو ایک جیسے ذہنی عمل اور یکساں ذہنی صلاحیت کو بروے کار لاتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ کسی شاعرانہ مضمون کے سوجھنے اور کسی متن کے معنی کی دریافت میں مماثلت ہو،مگر حقیقتاً تنقید کے لیے تجزیاتی صلاحیت اور شاعری کے لیے ترکیبی وامتزجی صلاحیت درکار ہے۔ضروری نہیں کہ ایک شخص میں یہ دونوں صلاحیتیں بہ یک وقت موجود ہوں ،اور اگر موجود ہوں تو ایک ہی درجے کی ہوں۔ایک اعلیٰ درجے کا نقاد ایک معمولی شاعر ہوسکتا ہے ،اور ایک اعلیٰ درجے کا شاعرایک معمولی نقاد ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک اوّل درجے کا شاعرسرے سے تنقیدی فہم سے عاری ہو،اور صف اوّل کا نقاد شعر موزوں کرنے یا کہانی لکھنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو۔شاعر تنقیدی فہم کے بغیر بھی شعر تخلیق کرسکتا ہے ،اور نقاد شعر و افسانہ لکھنے سے قاصر رہنے کے باوجود ان کی تفہیم و تعبیرمیں بلند درجے کی اہلیت کا مظاہرہ کرسکتاہے۔ آپ کی نظر سے سقراط کیApology (جسے افلاطون نے مرتب کیا)کا وہ حصہ گزرا ہوگا ،جس میں سقراط نے لکھا ہے کہ انھیں شاعروں کے غضب کا سامنا کرنا پڑا،کیوں کہ ان سے سقراط نے انھی کی نظموں کے معانی دریافت کیے،اور وہ نہ بتاسکے،مگر غیر شاعر ان نظموں کی کہیں بہتر تشریح کر سکے۔خود غالب نے اپنے دیوان کے انتخاب میں اپنے کئی ان اشعار کو قلم زد کردیا ،جن کی وجہ سے غالب کی عظمت قائم ہوتی ہے۔مثلاً : ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب؍ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پا۔اس سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ تنقید اور تخلیق کے لیے جداجدا ذہنی صلاحیتیں درکار ہیں۔تاہم واضح رہے کہ یہ صلاحیتیں جدا ضرور ہیں،باہم متصادم نہیں ہیں۔ ان کے مابین ربط وتعاون کی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ تنقید ی، تجزیاتی صلاحیت،تخلیق کی ترکیبی صلاحیت سے استفادہ کرسکتی ہے ،اور تخلیقی ترکیبی صلاحیت،تنقید و تجزیہ سے روشنی حاصل کرسکتی ہے۔ 



تصنیف حیدر:فیض احمد فیض بیسویں صدی کے سب سے بہتر شاعرہیں یا نہیں؟کیوں؟

ناصر عباس نیر:آپ ایک بار پھر فتویٰ طلب کررہے ہیں۔ بیسویں صدی میںآپ اقبال کانام ہی خارج کررہے ہیں۔ان کے خیالات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے،مگر ان کی شاعرانہ عظمت سے نہیں۔ ان کے بعد میراجی، راشد، مجید امجد، اختر الایمان ، فیض اہم شعرا ہیں مگر ان سب کی اہمیت کے زاویے الگ الگ ہیں۔آپ ایک لمحے کے لیے یہ بھی غور فرمایے کہ جب آپ کسی ایک شاعر کو سب سے بہتر قرار دیتے ہیں ،اور اس کے نتیجے میں دیگر شعرا کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش بھی کررہے ہوتے ہیں۔ گویا آپ ایک آواز کو اتنا بلند آہنگ بنانے کی سعی کرتے ہیں کہ دیگر ، مختلف آوازیں دم توڑ دیں۔ اس سے کیا استبداد(tyranny)پیدا نہیں ہوتا؟

تصنیف حیدر:شمس الرحمٰن فاروقی زیادہ اچھے نقاد ہیں یا گوپی چند نارنگ؟کیوں؟

ناصر عباس نیر:پھر وہی فتویٰ!!میرے بھائی فتوے جھگڑے چکاتے نہیں، بڑھاتے ہیں۔کیا ادب کا میدان اولیمپکس کے کھیل کا سٹیڈیم ہے کہ جہاں سنہری تمغے جیتنے کا مقابلہ ہورہا ہے؟فرض کیا کچھ لوگ یہ مقابلہ کررہے ہیں یا ان کے عقیدت مند اس مقابلے کے منصف بنے ہوئے ہیں تو پھر یہ سوال انھی سے پوچھا جانا چاہیے۔ میں اس کے لیے موزوں نہیں ہوں۔میں ان دونوں کا قاری ہوں۔اگرچہ قاری ہونے کا مطلب ان کے خیالات سے یکساں طور پر اتفاق کرنا نہیں ہے۔ان کے علاوہ بھی کچھ نقاد ہیں ،جو نہایت اہم ہیں۔کم از کم وزیرآغا، شمیم حنفی ، وارث علوی کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے۔ نارنگ صاحب اور فاروقی صاحب دونوں ہی ’زیادہ اچھے نقاد‘ ہیں،اور اس لیے اچھے ہیں کہ دونوں کے نظریات،طریق کار، ترجیحات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ادب کے لیے اس سے زیادہ اچھی بات کوئی اور نہیں ہوتی کہ مختلف نقطہ ہاے نظر، خیالات، آراکو نہ صرف ظاہر ہونے کا موقع ملتا ہو ،بلکہ انھیں توجہ بھی ملتی ہو،اور ان پر مکالمہ بھی ہوتا ہو۔کاش آپ شخصیات سے متعلق سوال پوچھنے کے بجائے ،ان کے نظریات و آرا سے متعلق سوال اٹھاتے! 


کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *