بدھ، 24 دسمبر، 2014

مبشر علی زیدی سے دس سوالات


مبشر علی زیدی ایک زبردست صلاحیت کے مالک ہیں۔وہ سوالفاظ میں ایسی زبردست کہانیاں لکھتے ہیں کہ پڑھنے سے حیرانی ہوتی ہے کہ اردو کے بیشتر مختصر افسانوں، طویل اور طویل ترین کہانیوں میں بھی ایسی طلسمی حیرت شامل نہیں ہوپاتی۔اس وقت مبشر علی زیدی صاحب پاکستان میں سب سے بڑے نیوز چینل جیو کے پرائم ٹائم شفٹ کے نیوز بلیٹنز کے انچارج ہیں، لیکن ان میں کمال درجہ کی بے اعتنائی اور فنکارانہ بے پروائی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ان کی کہانیوں کے مجموعے ’نمک پارے‘ اور ’شکر پارے‘ کے عنوان سے شائع ہوچکے ہیں، تین چار صفحات پر مشتمل کہانیوں کا ایک مجموعہ ’الم غلم ‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔معاصر اردو ادب کے اہم رسالوں میں ان کی کہانیوں کو شامل کیا جاتا رہا ہے۔اتنی مختصر کہانیوں کے عوض میں کچھ عرصہ قبل ’لیڈیاڈیوس‘ کو بکر پرائز سے نوازا جاچکا ہے اور ان کی کہانیوں اور ادبی حوالے سے ہم اردو کے اہم جریدے ’دنیازاد‘ کے ذریعے واقف ہوچکے ہیں۔لیڈیا ڈیوس کی کہانیوں میں ’عورت کے نفسیاتی دباؤ‘ کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے۔مبشر علی زیدی سے کیے جانے والا یہ مکالمہ دلچسپ، حیران کرنے کی حد تک سچا اور نئے پن سے لبالب بھرا ہوا ہے۔فیس بک پر ان کی کہانیوں کو رومن رسم الخط میں’100لفظوں کی کہانی‘لکھ کر بہ آسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔اس انٹرویو کے آخر میں بھی انٹرنیٹ پر موجود ان کی کہانیوں کے لنک فراہم کیے گئے ہیں۔پڑھنے والے شوق سے پڑھ سکتے ہیں۔



تصنیف حیدر:سو لفظوں کی کہانی کا دھیان آپ کو کیسے اور کب آیا؟اس کی فنی نقطۂ نظر سے کیا تعریف ہوسکتی ہے؟



مبشر علی زیدی:میں ایک ٹی وی چینل کا نیوز پروڈیوسر ہوں۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی ہر بلیٹن، پروگرام، ڈرامے اور اشتہار کا دورانیہ طے ہوتا ہے۔ ہم اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ مجھے خیال آیا کہ جیسے ہم کسی سیاست دان کے ایک گھنٹے کے خطاب یا سات گھنٹے کے کرکٹ میچ کی رپورٹ ایک منٹ دورانیے میں نمٹادیتے ہیں، اسی طرح لفظوں کی حد مقرر کرکے کہانی لکھنی چاہیے۔ میں نے کچھ کہانیاں لکھ ڈالیں۔ اس کے بعد تحقیق کی تو پتا چلا کہ مغرب میں یہ کام پچیس تیس سال سے جاری ہے۔ برطانیہ میں سو لفظوں کی کہانیوں کا آغاز اسی کے عشرے میں ہوگیا تھا۔ انھیں ’’ڈریبل‘‘ کا نام دیا گیا۔ پچاس لفظی کہانیوں کی ابتدا انگریز ادیب برائن آلڈس نے کی اور انھیں ’’منی ساگا‘‘ کہا۔ انھیں دنوں امریکا میں ادیب اور صحافی اسٹیو موس نے پچپن لفظوں کی کہانیوں کے مقابلے شروع کرائے۔ میں نے مزید کہانیاں لکھنے سے پہلے امریکا اور برطانیہ سے ان کی سب کتابیں منگوائیں، انھیں پڑھا، ان کی تکنیک پر غور کیا اور پھر قلم اٹھایا۔میں نے صرف سو لفظوں کی کہانیاں لکھی ہیں۔ شروع میں انگریزی کہانیوں کے ترجمے کیے اور پھر اپنے ماحول کے مطابق کہانیاں لکھیں۔ مذہب، محبت، جرائم، سیکس، بہت سے موضوعات پر لکھا۔ اب دس مہینے سے روزنامہ جنگ میں روزانہ ایک کہانی چھپ رہی ہے۔ وہاں سیاسی اور سماجی مسائل کا کوئی رخ دکھانا پڑتا ہے۔ میں ابھی تجربات کررہا ہوں۔ کسی اور نے لفظوں کی تعداد طے کرکے کہانیاں نہیں لکھیں۔ جب کچھ اچھے ادیب لکھنے لگیں گے تو اس کام کو فن مان لیا جائے گا اور پھر فنی نقطہ نظر سے کچھ کہنا ممکن ہوگا۔



تصنیف حیدر:اردو میں اتنی مختصر کہانیاں کیا عام طورپر لطیفوں اور چٹکلوں کی طرح پڑھی جاتی ہیں، کیا اس کے لیے اردو والوں کا ذہنی معیار کافی نہیں یا پھر ابھی تک اس پایے کی مختصر کہانیاں لکھی نہیں گئیں۔



مبشر علی زیدی:اردو والوں کا شعور اور ذہنی سطح اتنی ہی بلند ہے جتنی انگریزی والوں کی، لیکن ابھی ہمارے ہاں ایسی کہانیاں لکھی نہیں گئیں۔ کچھ لطیفے موجود ہیں یا حکایتیں یا ملفوظات۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ لطیفے بھی مختصر کہانیاں ہوتے ہیں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ منٹو کی سیاہ حاشیے والی کہانیوں کو لطیفے نہیں کہا جاسکتا۔ کچھ لوگ ان کہانیوں کو افسانچے کہتے ہیں لیکن مجھے یہ لفظ پسند نہیں۔ پاکستان میں ڈائجسٹ اشہارات کی پیروڈی کو بھی افسانچے کا نام دے کر چھاپ دیتے ہیں۔ شاید جوگندر پال اور ان کی طرح مختصر کہانیوں لکھنے والوں نے افسانچے کا لفظ استعمال کیا۔ جوگندر پال نے بہت سی مختصر کہانیاں لکھی ہیں لیکن انھوں نے کس پائے کا کام کیا ہے، یہ بات نقاد ہی بتاسکتے ہیں۔دیکھیں، سو لفظوں کی کہانی قلم برداشتہ نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے بھی طویل افسانے کی طرح منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ اکثر یہ آخری سطر میں قاری کو حیران کرتی ہے۔ جب بڑے نام والے ادیب ایسی کہانیاں لکھنے کی کوشش کریں گے تو انھیں اس کی مشکلات کا اندازہ ہوگا۔ کچھ لوگ ایسا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اس صنف کو مسترد کردیں گے۔ میں نے یہ عجیب موقف سنا ہے کہ کہانی کے لیے لفظوں کی حد مقرر کرنا درست نہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ کچھ مصور چھوٹے کینوس پر تصویر بناتے ہیں، کچھ بڑے کینوس پر۔ چھوٹے کینوس پر بھی شاہکار بنائے جاتے ہیں۔

تصنیف حیدر:کیا آپ کی نظر میں کوئی ایسا بھرپور تنقیدی مضمون ہے جو کسی صاحب حیثیت شخص نے اتنی مختصر کہانیوں پر لکھا ہو، اس بے توجہی کی وجہ آپ کو کیا سمجھ میں آتی ہے؟

مبشر علی زیدی:میں تنقیدی مضامین نہیں پڑھتا اور صاحب حیثیت کی اصطلاح بھی نہیں سمجھ سکا۔ آپ کے ہاں دو ہزار آٹھ میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے، ’’افسانچے کی روایت، تنقیدی مطالعہ‘‘ اس کے مصنف ڈاکٹر عظیم راہی ہیں۔ میں نے یہ کتاب نہیں دیکھی لیکن اس پر تبصرہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ بھارت میں بہت سے لوگ ایسی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ اس کتاب میں ہندی کی لگھو کتھا اور مراٹھی کی شنک کتھا کی روایت کا بھی تذکرہ ہے۔ لیکن پاکستان میں نہ ایسی کہانیاں لکھنے والے ہیں اور نہ کسی نقاد نے اسے گھاس ڈالی ہے۔ 

تصنیف حیدر:کیا آپ طویل ترین افسانے اور ناول کو بھی پسند کرتے ہیں، اس وقت کے اچھے لکھنے والے کون کون ہیں آپ کی نظر میں؟

مبشر علی زیدی:میں نے صحافت کو پیشہ بنانے سے پہلے مختصر، طویل اور انتہائی طویل افسانے اور کچھ ناول ضرور پڑھے تھے لیکن اب ہر شام آٹھ گھنٹے میں پانچ سو نیوز اسٹوریز پڑھنے اور ڈیڑھ دو سو وڈیوز دیکھنے کے بعد میری آنکھیں خفا ہوجاتی ہیں۔ میری بدقسمتی کہ ہر صبح مجھے چار پانچ اخبارات بھی پڑھنا پڑتے ہیں۔مجھے ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے۔ پتا نہیں یہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کام کرنے کا نتیجہ ہے یا ٹی وی نیوز کی تیزرفتاری کا مقابلہ کرنے کا، کہ میرا دماغ بہت تیز چلنے لگا ہے۔ اسے تعریف نہ سمجھیے گا، یہ ایک برائی ہے۔ میں او ہنری کی کہانی شروع کرتا ہوں اور پہلے صفحے کے بعد ایک طرف پھینک دیتا ہوں۔ مجھے چار کہانیوں کے آئیڈیے مل جاتے ہیں۔ خبریں پڑھتے پڑھتے دو کہانیاں نکل آتی ہیں۔ حد یہ کہ میں نے ڈاکٹر کا نسخہ دیکھ کر بھی ایک کہانی لکھی ہے۔ یہ ایک اذیت ناک صورت حال ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں مطالعے کا لطف کھوچکا ہوں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بالکل نہیں پڑھتا۔ میں دنیازاد اور آج باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ ہر دوسرے دن میں اس امید پر کتابیں خریدتا چلا جارہا ہوں کہ ایک دن ان سب کو پڑھوں گا۔ میرے پاس میرے گننے کی صلاحیت سے زیادہ کتابیں جمع ہوگئی ہیں اور میں کئی نام بتاسکتا ہوں لیکن اس کا کیا فائدہ۔ وہ لوگ جو رسالوں اور کتابوں میں چھاپنے کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں، وہ سب اچھے ہیں۔


تصنیف حیدر:کہانی کے تاثر کے تعلق سے آپ کی رائے کیا ہے، اس کا فوری ہونا کیا اس کے غیر ادبی ہونے کی دلیل ہے؟

مبشر علی زیدی:میں ادیب یا شاعر نہیں ہوں، نرا صحافی ہوں۔ کیا چیز ادبی ہے اور کیا نہیں، میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بطور صحافی میں جو کچھ لکھتا ہوں، اگر فوری طور پر ابلاغ نہ ہو تو میں خود کو ناکام سمجھوں گا۔ میں نے کافکا کی کہانیاں بھی پڑھی ہیں اور غالب کے شعر بھی۔ ان دونوں کو مشکل پسند کہا جاتا ہے لیکن پھر بھی ان کا اثر فوری طور پر ہوتا ہے۔ اگر ہم نے شرط رکھ دی کہ فوری تاثر غیر ادبی ہونے کی دلیل ہے تو کیا کافکا اور غالب کے شاہکار بھی غیرادبی کہلائیں گے؟

تصنیف حیدر:الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اس طرح کی کہانیوں کو رواج دینے کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟

مبشر علی زیدی:سچ یہ ہے کہ ہر میڈیم کے لیے الگ طرح کی کہانی چاہیے۔ بہت سے افسانوں کو ڈرامائی شکل نہیں دی جاسکتی۔ بہت سی فلموں کو ناول کی صورت نہیں دی جاسکتی۔ جو پروڈیوسر خود کہانی لکھ کر فلم بناتے ہیں، وہ کمال کردیتے ہیں۔ پاکستان میں شارٹ فلمز کے مقابلے ہوتے ہیں اور کافی پسند کیے جاتے ہیں۔ میں خود الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہوں لیکن میرے پاس اپنی کہانیوں کو کیمرے سے لکھنے کی فرصت نہیں۔ 

تصنیف حیدر:منٹو کی مختصر ترین کہانیوں کے تعلق سے آپ کی بے لاگ رائے کیا ہے؟

مبشر علی زیدی:میرا خیال ہے کہ منٹو کو وہ افسانے لکھنے کے لیے فرصت نہیں ملی۔ اگر ان کے پاس وقت ہوتا تو وہ ان میں سے کچھ کہانیوں کو پھیلاکر اوسط طوالت کے افسانے بناسکتے تھے۔ ممکن ہے کہ تقسیم ہند کی ہنگامی صورتحال میں ان کے پاس اتنا ہی وقت ہو۔ لیکن یہ بات ہے کہ سیاہ حاشیے کی کہانیوں میں منٹوپن موجود ہے۔ جو طنز، غصہ اور معاشرے کو ننگا کرنے کا جذبہ منٹو کی پہچان ہے وہ ان کہانیوں میں نظر آتا ہے۔ منٹو کبھی اپنے قاری کو چھری مارکے نہیں کہتے، ’’مشٹیک ہوگیا۔‘‘

تصنیف حیدر:ایسی کہانیاں لکھنے والے اور کون سے افسانہ نگار ہیں، جن پر ہماری تنقید کو دھیان دینا چاہیے اور کیوں؟

مبشر علی زیدی:کراچی بک فیئر میں بھارتی پبلشرز بھی آتے ہیں لیکن کسی اسٹال پر مجھے کہیں مختصر کہانیوں کی کوئی کتاب نہیں ملی۔ پاکستان میں اگر کوئی اتنی مختصر کہانیاں لکھ رہا ہے تو میں نہیں جانتا۔ امریکا اور برطانیہ میں ایسی کہانیاں بہت عرصے سے مقبول ہیں لیکن ادبی حلقوں نے ان کی اہمیت کا اعتراف گزشتہ سال کیا جب لیڈیا ڈیوس کو مین بکر انٹرنیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ لیڈیا ڈیوس ایسی ہی کہانیاں لکھتی ہیں، بلکہ ان کی کئی کہانیاں یک سطری ہیں۔ مستقبل میں اگر اس صنف نے ہمارے ہاں رواج پایا تو نقادوں کو اپنے کہانی کاروں کے کام پر تبصرے سے پہلے لیڈیا ڈیوس جیسے ادیبوں کو پڑھنا پڑے گا۔

تصنیف حیدر:اردو صحافت پر کیسا دور آیا ہوا ہے؟کیا یہ زوال پذیر اور زوال آمادہ دور ہے؟

مبشر علی زیدی:پاکستان میں اردو صحافت کا رنگ کچھ اور ہے، بھارت میں کچھ اور۔ میں صرف پاکستان کے بارے میں بتاسکتا ہوں۔ ٹی وی چینلز کی آمد سے صحافت شوبزنس بن گئی ہے۔ ڈراموں والے چینلوں کی طرح نیوز والوں میں بھی ریٹنگ کا مقابلہ ہے۔ نیوز چینل ریٹنگ کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ بعض اوقات خبر کھوجاتی ہے اور ہم اسکرین پر ڈراما کرتے رہ جاتے ہیں۔ایک بات یہ بھی ہے کہ چینل زیادہ ہوگئے ہیں اور تربیت یافتہ صحافی کم ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو بھی بھرتی کرلیا جاتا ہے جنھیں زبان سے واقفیت نہیں، جنھوں نے زندگی میں کبھی کچھ لکھا پڑھا نہیں، جن کا ادب اور صحافت سے تعلق نہیں۔ ایک وقت تھا کہ اردو اخبارات میں نامور ادیب کام کرتے تھے، ان کی شہہ سرخیاں برسوں بعد بھی لوگوں کو یاد رہتی تھیں۔ اب لوگوں کی توجہ شہ سرخی پر کم، خاتون اینکر کے ہونٹوں کی سرخی پر زیادہ ہوتی ہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ تنخواہیں اچھی ہوگئی ہیں۔ کہہ لیجیے کہ اردو صحافت پر زوال ہے لیکن اردو کا صحافی خوش حال ہے۔

تصنیف حیدر:ہندوستان کے افسانہ نگاروں میں آپ کو کون سے افسانہ نگار بہت پسند ہیں؟کیوں؟

مبشر علی زیدی:میرے خیال میں آپ کو اس سوال کا سب سے اچھا جواب حمید شاہد دے چکے ہیں۔ آصف بھائی اور اجمل صاحب تو افسانہ نگاروں کے افسانے ہی نہیں، ان کے شجرے بھی بیان کرسکتے ہیں۔ میں ممتاز مفتی کے الفاظ میں ادھ پڑھ آدمی ہوں۔ میں نے نیر مسعود اور جیلانی بانو کے افسانے ضرور پڑھے ہیں لیکن اپنے چھوٹے منہ سے ان کی کیا تعریف کروں۔ اگر آپ کہیں تو نیا ورق، اثبات اور دوسرے پرچے دیکھ کر کئی ادیبوں کے نام لکھ دیتا ہوں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر میں نے کچھ افسانے پڑھے بھی ہیں تو لکھنے والوں کی درجہ بندی نہیں کرسکتا۔ میں ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کو پاکستان اور ہندوستان میں بھی نہیں بانٹ سکتا۔ کل کو آپکہیں گے کہ گلزار بھارتی شاعر ہے تو کیا میں مان لوں گا؟



(یہ انٹرویو بلاگ کا حوالہ دیے یا مبشر علی زیدی سے اجازت لیے بغیر کہیں شائع نہ کیا جائے، ایسا کرنے پر بلاگ پوسٹ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ ہے(

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *