قتل و خون کی سرخیاں: منٹو


(پشاور کے عجیب و غریب خونی سانحے پر ایک دنیا کو غم ہے۔ لوگ پریشان ہیں،صرف اس لیے نہیں کہ کچھ لوگ بچوں سے بھرے اسکول میں بندوقوں اور بموں سے لیس ہوکر گھس آئے۔کیونکہ اس طرح کے حادثات عام ہیں، مگر 132معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کرتے وقت، انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے، عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ مگر کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی اس نفرت نے آج ہمیں بھی نفرت کے ایک ایسے ہی دوار پر کھڑا کردیا ہے۔ ہم بھی اپنے بچوں کو ان کی جھولتی ہوئی لاشیں دکھا کر مستقبل کے بہتر ہوجانے کی تسلیاں دینا چاہتے ہیں، مگر یہ نفرت ہمیں کس طرف لے جارہی ہے۔ایسے میں مجھے منٹو کے ایک مضمون کا دھیان آیا۔یہ مضمون منٹو نے'قتل و خون کی سرخیاں 'کے عنوان سے لکھا تھا۔اس مضمون میں لکھنے والا صرف انسانیت پر ڈھائے جانے والے تشدد کو لعن طعن نہیں کررہابلکہ اس کے حل کی جلد سے جلد ایک بہتر تجویز طلب کررہا ہے۔بادشاہوں  اور محمود غزنوی یا نادر شاہ جیسے حملہ آوروں کو اگر آپ نظر انداز کردیں تو ہندوستان کی تاریخ نے ایک لمبا عرصہ 'روحانیت'کی تعلیمات کی وجہ سے بہت چین اور سکون کے ساتھ بسر کیا ہے۔یہ روحانیت ،دین کی تبلیغ کی سرے سے قائل ہی نہ تھی، بلکہ حضرت نظام الدین اولیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی خانقاہ میں جانے والے لوگوں سے کبھی اسلام لانے کے لیے کہا تک نہیں گیا۔وہ کون لوگ تھے، جن کے دماغ خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے، جو سبز اور بھگوا رنگ کی اس مذہبی سیاست سے بہت دور تھے، جس کے نتیجے میں خون کی لال ندیاں آنکھوں میں تیرنے لگتی ہیں۔منٹو نے اگربتیوں، چادروں والی روحانیت سے بہت دور، ایسی ہی ہنستی کھیلتی اور زندہ رہنے اور رکھنے کے لیے آمادہ کرنے والی صحت مند روحانیت کے بیج بونے پر زور دیا تھا۔مگر افسوس کہ برصغیر ہند میں رنگ اور نسل کی جنگ ختم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔آج میں نے خبر دیکھی کہ ہندو مہاسبھا جگہ جگہ 'ناتھورام گوڈسے'کی مورتیاں لگوانا چاہتی ہے۔سڑکوں کے نام ایک قاتل کے نام پر رکھوانا چاہتی ہے،وہ بھی ایسا قاتل جس نے گاندھی کو مارا ہو،اس جرات اوردیدہ دلیری پر منٹو شاید اور رو دیا ہوگااور قبر کے گہرے اندھیرے میں اس نے مان لیا ہوگا کہ ہاں،اے خدا! توہی سب سے بڑا افسانہ نگار ہے،کیونکہ منٹو، نفرت پر مبنی ایسی کہانیوں کا تصور بھی نہیں کرسکتا، جو تیرے جہان میں حقیقت بن کر ننگ دھڑنگ پھررہی ہیں۔)

آج کل اخباروں میں سب سے نمایاں سرخیاں قتل و خون کی ہوتی ہیں جہاں تک سرخیوں کا تعلق ہے یہ اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں، لیکن آدمی سوچتا ہے کہ آخر انسان، انسان کے خون کا پیاسا کیوں ہو رہا ہے۔ یہ جذبہ اس کی جبلت کے تحت ہے، اس سے مجھے انکار نہیں لیکن خاص طور پر آج کل اس جذبے کی اتنی فراوانی کیوں ہے۔صبح اخبار اٹھاؤ تو جلی سرخیوں میں قتل و خون کی وارداتوں کی ہولناک تفصیلات ملتی ہیں، لیکن خفی معاملہ کیا ہے۔ انسان اتنا سفاک اور بہیم کیوں ہو گیا ہے؟کیا انسانیت سے ہمیں دست بردار ہو جانا چا ہیئے۔ کیا ہمارا اس شے سے جسے ضمیر کہا جاتا ہے اعتبار یا اعتقاد اٹھ جانا چاہیئے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سوالوں کا جواب ہے یا کیا ہونا چا ہیئے۔ہم نے سوچا تھا کہ تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا ہے، یہ انسانیت کے منہ پر جو کالک ملی گئی ہے، یہ ننگی عورتوں کے جلوس نکالے گئے ہیں، یہ جو لاکھوں انسانوں کو ہلاک کیا گیا ہے، یہ جو ہزاروں عورتوں کی عصمت دری کی گئی ہے اس کے بعد انسان کی بہمیت کی تشنگی کسی حد تک دور ہو جائے گی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مائل بہ ترقی ہے۔فرقہ وارانہ فسادات میں جو کچھ ہوا وہ تھوک طور پر ہوا، لیکن اب قتل و غارت کی خوردہ فروشی جا ر ی ہے۔ ہر روز ایک نہ ایک انسان دوسرے انسان کے ہاتھ قتل ہوتا ہے بیسیوں زخمی ہوتے ہیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ چندافراد اتنے سفاک کیوں ہیں، کیوں ان کے دل و دماغ پر قتل و غارت گری کا بھوت سوار رہتا ہے؟جو حادثہ گزر چکا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی شدت کم کی جا سکتی تھی، مگر افسوس ہے کہ اس کی کوشش طرفین میں سے کسی نے بھی بطریق احسن نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہم اپنے درمیان خوفناک مجرم دیکھ رہے ہیں۔ جن کے کارناموں کے تذکرے ہم آئے دن اخباروں میں پڑھتے ہیں۔وہ عورتیں اور لڑکیاں جنہیں ’’اغوا شدہ‘‘ کہا جاتا ہے ان کا مسئلہ الگ ہے ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان کے مقابلے میں بے جان عمارتیں ہیں۔ معلوم نہیں ان کی اینٹوں کا محافظ کون ہے۔اور ان سب کے اوپر وہ لوگ ہیں، وہ چند افراد جن کے ہاتھ پچھلے فسادات میں خنجر اور بندوق سے آشنا ہوئے تھے۔ ان کو قابو میں رکھنے کا کیا سامان کیا گیا ہے۔اصل میں یہ لوگ، یہ چند افراد ایک حادثے کی پیداوار ہیں۔ یہ قتل و خون کے عادی نہیں تھے، مگر حالات نے انہیں ایسابنا دیا۔ وہ اپنی ماؤں سے پیار کرتے تھے، دوستوں سے محبت کرتے تھے۔ ان کو اپنی بہو بیٹیوں کی عزت و ناموس کا پاس تھا۔ ان کو خدا کا خوف بھی تھا مگر یہ سب کچھ ایک حادثے نے اڑا دیا۔ ایسے حادثہ نے جو چشم فلک نے شاید ہی کچھ دیکھا ہو۔ جو کچھ ہو چکا ہے، اب اس پر تبصرہ کرنا فضول ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کے نتائج پر غور کریں، ان باریکیوں کا مطالعہ کریں جو پیدا ہو چکی ہیں اور یہ کام مقننین کا نہیں عدالتوں کا نہیں، نفسیات کے ماہروں کا ہے جو معاملے کی تہہ تک پہنچیں اور اس کا کوئی علاج تجویز کریں۔مجھے حیرت ہے کہ ہماری حکومت اس معاملے پر فوری توجہ کیوں نہیں دے رہی۔ ہر روز قتل کی کوئی نہ کوئی واردات ہوتی ہے اور اب تو کھلی لڑائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ ایک پارٹی دوسری پارٹی کے مقابلہ میں آتی ہے۔ پستول چلتے ہیں۔ چھرے بھونکے جاتے ہیں۔ سوڈے کی بوتلیں اور پتھر پھینکے جاتے ہیں۔ جو چیز بھی ہاتھ میں آئے بڑی فراخدلی سے دوسرے کو مجروح کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ معلوم نہیں اس وقت محتسب کہاں ہوتے ہیں۔پولیس کے احتساب کے متعلق میں کچھ کہنا نہیں چاہتا۔ حالانکہ وقتی طور پر اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن سب سے بڑا سوال نفسیاتی ہے۔ جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں اگر موجودہ قتل و خون کی لہروں کا نفسیاتی جائزہ نہ لیا گیا تو مجھے خوف ہے کہ حالات بہت ابتر ہو جائیں گے اور بربریت کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔ شروع ہو جائے گا کیا ۔۔۔۔۔۔ ؟ شروع ہو چکا ہے۔کون سا دن ہوتا ہے جب کوئی قتل نہیں ہوتا اور دن دیہاڑے نہیں ہوتا۔ پھر مصیبت یہ ہے کہ قتل کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کے خلاف لوگ گواہی دینے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی جان کا خوف ہوتا ہے۔ایسا اکثر ہوا ہے کہ قتل ہوا اور بیچ کھیت ہوا۔ پولیس نے مجرم کو گرفتار بھی کر لیا۔ عدالت میں بھی پیش کیا، مگر گواہان ندارد، جو گواہ عینی تھے وہ عدالت میں کنی کترا گئے اور نتیجہ یہ کہ قاتل صاف بری۔میں سزائے موت کا قائل نہیں، میں جیل کے حق میں بھی نہیں، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جیل انسان کی اصلاح نہیں کر سکتا، لیکن میں ایسے اصلاح خانوں کے حق میں ہوں جو غلط رو انسانوں کو صحیح راستہ بتا سکیں۔

ہم ایسے درویشوں، ایسے بزرگوں کی عام باتیں کرتے ہیں جن کے ایک لفظ پر بڑے بڑے بدکرداروں نے اپنے برے رستے چھوڑ دیئے۔ کوئی معمولی سا فقیر ملا اور شیطان سیرت، فرشتہ بن گئے۔روحانیت یقیناً کوئی چیز ہے، آج کے سائنس کے زمانے میں جس میں ایٹم بم تیار کیا جا سکتا ہے اور جراثیم پھیلائے جا سکتے ہیں۔ یہ چیز بعض اصحاب کے نزدیک مہمل ہو سکتی ہے لیکن وہ لوگ جو نماز اور روزے آرتی اور کیرتن سے روحانی طہارت حاصل کرتے ہیں ہم انہیں پاگل نہیں کہہ سکتے۔ یقیناً روحانیت مسلم چیز ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ بدکرداروں، قاتلوں اور سفاکوں کی نجات کا راستہ صرف روحانی تعلیم ہے، وملائی طریق پر نہیں، ترقی پسند اصولوں پر۔تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ سقف نیلوفری کے نیچے ان کیلئے اچھی سے اچھی جگہ موجود ہے اور یہ کہ جو کچھ ان سے ہوا ہے صرف حالات کے باعث ہوا ہے اور یہ کہ انہیں صرف اس وجہ سے کہ ان سے ایک خطا ہو چکی ہے، ایک جرم سرزد ہو چکا ہے، جرموں اور خطاؤں کا عادی نہیں ہونا چا ہیئے۔ ان کو یہ بھی سمجھانا چا ہیئے کہ خدا نے انسان ہی کو افضل ترین مقام بخشا ہے۔ اس کو نبیوں کا خاتم بنایا ہے، انسان کا جو مرتبہ ہے اگر ان کے ذہن نشین ہو جائے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی لغزشوں سے یقیناً آگاہ ہو جائیں گے اور اس روحانی غسل سے شفایاب ہوں گے۔ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق ۔۔۔۔۔۔ یہ درست ہے مگر جو ہنگامے ہمیں آج کل اپنے گھروں اور بازاروں میں برپا نظر آتے ہیں ان سے محفوظ و مامون رہنا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔لیکن یہ انسانیت کہاں ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔ اس کے رکھوالے کہاں ہیں؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین