انجم سلیمی سے دس سوالات

انجم سلیمی اُردو نظم و غزل کے ایک توانا لہجے کے طور پر عرصے سے جانے جاتے ہیں۔ اُردو غزل میں ذات کی کشفی حقیقت کا ادراک کوئی نیا نہیں مگر انجم سلیمی نے ’’ میں‘‘ کے کشف میں اُردو غزل کو ایک نئے ذائقے سے آشنا کروایا ہے۔ انجم سلیمی کے ہاں ’’میں‘‘ کا کرب سارتر والا نہیں بلکہ یہ تجربہ محی الدین ابنِ عربی ؒ کی ’’وجودی‘‘ غوطہ زنی سے کسی قدر مشابہ ہے۔ کہیں کہیں وہ بالکل اپنی الگ راہ بھی نکال لیتے ہیں۔ ’’میں‘‘ کی کشفی واردات ہمیں حیران بھی کرتی ہے ۔نم ناک و پریشان بھی اور اطمینان کے نشے سے سرشار بھی۔انجم سلیمی کا یہ مجموعہ اُن کی غزلوں کا انتخاب ہے جس میں اُن کا خاص روحانی تجربہ ہی مرکزِ موضوع ہے۔ انجم سلیمی نے کم و بیش اتنی ہی تعداد میں مزید غزلیں بھی کہہ رکھی ہیں جن کی اشاعت کسی دوسرے موقع تک موقوف ہے۔ اُن کی تین کتابیں سکھے اَتھرو (پنجابی شاعری)، سنتاپ( پنجابی شاعری) اور ایک قدیم خیال کی نگرانی میں (اُردو نظمیں) پہلے بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے علاوہ اُن کے مضامین اور ڈراموں کے مجموعے بھی زیرِ ترتیب ہیں۔ میں اس تعارف سے لے کر انجم سلیمی کے جوابات تک کے لیے قاسم یعقوب کا شکرگزار ہوں، جنہوں نے خاص طور پر ادبی دنیا بلاگ کے لیے نہ صرف انجم سلیمی سے جوابات لکھوائے بلکہ انہیں کمپوز کرواکر مجھے میل کیا۔

تصنیف حیدر:اوشو آپ کی تخلیقی کار گزاریوں میں فکری طور پر کتنا دخیل ہے؟

انجم سلیمی :اوشو سے میں بہت متاثر رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری شاعری میں اوشو کی فکر کا حصہ ہے۔ اصل میں اوشو بہت کھل کے بات کرتا ہے۔۔ اوشو باطن کی آزادی کا درس دیتا ہے۔ اوشو آپ کو اپنی رائے میں آزاد کر دیتا ہے۔ اوشو نے چینی کہاوت کی طرح مجھ پر اثر کیا ہے۔ حقیقتِ اسم اور حقیقتِ بے اسم میں اوشو نے موخر الذکر حقیقتوں کو نام دیا ہے۔ ہم بہت سی چیزوں کوپہچان نہیں پا رہے ہوتے۔ ایک شاعر انھیں نام دے دیتا ہے۔ اوشو سے میں نے بے نام اشیا کو نام دینا سیکھا ہے۔
اپنی تصدیق مجھے تیری گواہی سے ہوئی
تو کہاں سے مرے ہونے کی خبر لایا ہے
میخائل نعیمی نے بھی مجھے بے حد متاثر کیا۔ ’’کتابِ میرداد‘‘ نے بھی مجھے ایک زمانے تک اپنے سحر میں رکھا۔ میخائل کہتا ہے کہ دنیا کو ایک صوفی کی آنکھ سے دیکھو۔ بے غرض ہو کے، کسی کے لیے____ گوتم بدھ بھی مجھے اپنی روح کا حصہ لگتا ہے۔ گوتم کو میں نے پڑھا بھی ہے اور اُس کی صحبت بھی اختیار کی ہے۔ اسی لیے میں ہرمن ہیسے کا ناول ’’سدھارت‘‘ کو ایک صحیفہ سمجھ کر پڑھتا رہا۔گوتم کو پسند کرنے کی ایک جبلی وجہ میری نانی کا بدھ مت عقیدے کا ہونا بھی ہے۔ میرا نانا برما کے محاذ پر ایک سپاہی کے طور پر مصروف عمل رہا جہاں اس نے میری نانی سے شادی کی۔ میری ماں کہتی تھی کہ تمھاری طبیعت اور شباہت بدھ مت کے پیروکاروں سے ملتی ہے۔ میری والدہ کی پیدائش بھی برما کی ہے۔ میرے دادا جالندھر کے تھے ہجرت کر کے لائل پور آ گئے اور ہم یہیں کے ہو کے رہ گئے۔ اسی لیے میں بھارت کو بھی اپنا دیس سمجھتا ہوں۔ بلکہ ہم سب کا دیس________

تصنیف حیدر:آپ بہت اچھے اچھے شعر کہنے کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں بہت سطحی قسم کے شعر بھی لکھ جاتے ہیں، کیا اس پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں؟

انجم سلیمی:شعر ایک احساس کا نام ہے جو کسی بھی سطح کا ہو سکتا ہے، کبھی نہایت اگہرا اور کبھی عمیق ترین___لہٰذا سطحی اور اچھے کی بحث بے کار ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کسی خوبصورت عورت سے پوچھا جائے کہ تم نے بدصورت بچے کو کیوں جنم دیا۔ شعر کیسا بھی ہو شاعر کو اسے اپنا کہنا چاہیے اور اپنا نام دینا چاہیے۔ سو میں نے اگر اچھا کہا ہے تو کہیں سطحی بھی کہا ہو گا۔ میں اپنے کلام کو ہر حوالے سے اپنا کہتا ہوں اور اپنا نام دیتا ہوں۔
میرا شعر ہے:
اپنے بچوں کو نام دو اپنا
شعر کہہ کر مکر رہے ہو کیوں

تصنیف حیدر:ہندوستان میں آپ کی نسل کے شاعروں میں آپ کو کون سے شاعر پسند ہیں؟

انجم سلیمی :بھارتی شاعروں کو میں نے پوری طرح نہیں پڑھا۔ آپ نے میری نسل کی قید لگا دی ورنہ میں گلزار صاحب کا نام لیتا اور عرفان صدیقی اور شہریار کا حوالہ بھی دیتا۔ اپنی نسل کے تو نعمان شوق ہیں جو میں نے تقریباً پورے پڑھے ہیں اور مجھے پسند بھی ہیں۔ پنجابی میں گرتیج سنگھ اور کہار واہلہ بھی پسند ہیں۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمیں بھارتی شاعروں اور بھارتیوں کو ہماری شاعری کا پتہ نہیں۔ ورنہ تین ، چار دہائیاں پہلے ایسی صورتِ حال نہیں تھی۔ سب ایک دوسرے کو جانتے تھے اور فکر واسلوب کی خوشہ چینی بھی کرتے تھے

تصنیف حیدر:غزل کے جدید تصور سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟

انجم سلیمی:غزل (شاعری)کا کوئی جدید تصور نہیں ہوتا۔ آپ کے قریب ہونی چاہیے۔ آپ کے اندر سے نکلی اور اندر جاتی محسوس ہونی چاہیے۔ گھسے پٹے مضامین سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں نئی غزل اور پرانی غزل میں ایک بڑا فرق اضافتوں سے نجات حاصل کرنا بھی ہے۔ ایک فرق اور بھی آیا ہے کہ آج کی غزل صرف ذات کا حصہ نہیں بلکہ سماج اور تہذیب کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ناصر کاظمی اس حوالے سے مجھے پسند ہیں کہ انھوں نے پہلی بار اضافتوں سے پاک غزل کہی۔ آج کے عہد میں نذیر قیصر نے کمال خوبصورت قرینہ دیا ہے اُردو غزل کو_____

تصنیف حیدر:پاکستان میں \'نثری نظم\'کا فیشن کس حد تک واقعی ادبی ہے؟آپ کو کیا لگتا ہے؟

انجم سلیمی:نثری نظم بہت زیادہ سنجیدگی ، بے پنہ مطالعہ اور طویل وقت مانگتی ہے۔ نثری نظم کہنے سے پہلے بہت سا تخلیقی مواد موجود ہونا چاہیے۔ شاعر کے اندر، شاعر کے باطن میں____ آزاد نظم کا معاملہ ایسا نہیں۔ نثری نظم پورا وجود، پورے جذبے اور پورے احساسات مانگتی ہے۔ جب کہ آزاد نظم نکھار مانگتی ہے۔ نثری نظم لکھ کے آپ خالی ہو جاتے ہیں۔ جب کہ آزاد نظم لکھ کے آپ اور لکھنے کی طلب میں آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں نثری نظم واقعی ایک فیشن ہی ہے۔ البتہ غزل کے شاعروں نے کچھ سوچ کے، کچھ اور کہنے کے لیے اسے منتخب کیا۔ نثری نظم میں براہِ راست آنے والوں نے اسے سہولت کے ایک ذریعہ سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھا۔ کچھ شاعروں نے توحد کر دی۔ نثری نظم کا مزاج اتنا سرسری نہیں تھا جتنا انھوں نے سمجھ لیا۔ اخباری لائنوں اور نثری نظم کی لائنوں میں فرق ہی نہیں رہا۔ نثری نظم میں صرف لفظوں اور لائنوں کا انتخاب ہی نہیں بلکہ جذبوں اور خوابوں کی طہارت بھی ضروری ہے۔ مجھے سب سے زیادہ سارا شگفتہ نے متاثر کیا۔ اس کے علاوہ عذرا عباس اور تنویر انجم بھٹی بھی مجھے پسند ہیں اور میں بہت شوق سے انھیں پڑھتا ہوں۔ احمد ہمیش اور افضال احمد سید کے کام کا معترف ہوں۔

تصنیف حیدر:رومانویت کا روگ آخر غزل کی جان کب چھوڑے گا؟

انجم سلیمی:غزل اب صرف رومانیت کا نام نہیں بلکہ سماج اور ذات کے انکشافات سے نئے تجربے سے گزر رہی ہے۔شاعری دو آنکھوں سے نہیں تیسری آنکھ سے دیکھنے کا عمل ہے۔ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ غزل کو پہلے غزل ہونا چاہیے، رومانوی اور کلاسیکی ہونا بعد کا مسئلہ ہے اور کوئی برا بھی نہیں____

تصنیف حیدر:مشاعرے میں شاعری پڑھنے سے شاعر کی تخلیقی صلاحیت بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا؟

انجم سلیمی :جی بالکل ہوتی ہے۔ لوگ واہ واہ پہ لگ جاتے ہیں۔ سامعین شاعر کی تخلیقی جذباتی سطح پر نہیں ہوتے اور یوں وہ شاعر سے ایک فاصلے پر ہی رہتے ہیں۔ شاعر داد کے چکر میں سامعین کی سطح پر چلے جاتے ہیں۔ حالاں کہ شاعر کو چاہیے کہ وہ سامعین کو اپنی سطح پر لائے جو مشاعروں میں فوری ردعمل کا مرحلہ نہیں۔ شاعری کو پڑھنا اور جذبوں میں اُترنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اسی قسم کا کام میڈیا بھی کر رہا ہے۔ وہ لوگوں کو ایک تہذیبی سطح پر لانے کی بجائے اُن کی تسکین کا سامان فراہم کرنے لگا ہے جو سرسری جذباتیت اور سنسنی خیزی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر میں پھر بھی مشاعروں کو ایک تہذیب سمجھتا ہوں۔ ہم نے لائل پور میں بہت کامیاب مشاعرے بھی کروائے مگر کوشش یہی کی ہے کہ سامعین کو شعر کی تپش کا احساس دلایا جائے نہ کہ گھٹیا اور بازاری کلچر کو فروغ دیا جائے

تصنیف حیدر:شعر میں گہرے خیالات، عمیق فلسفے کیا بہت ضروری ہیں؟کیوں؟

انجم سلیمی :عمیق فلسفے نکالنا نقادوں کا کام ہے شاعر صرف سچا جذبہ پیش کرتا ہے۔ وہ جذبہ فلسفہ ، یا گہرے خیالات کے قریب چلا گیا ہے یہ کام انتخاب شاعر کا نہیں۔ اس کا فیصلہ نقاد کرے یا قاری کرے۔

تصنیف حیدر:ظفر اقبال کی شعرفہمی اور شعر گوئی دونوں کے تعلق سے آپ کی بے لاگ رائے کیا ہے؟

انجم سلیمی:ظفر اقبال کی شعر گوئی سے میں اوروں کی طرح نالاں ہی ہوں۔ البتہ اُن کی شعر فہمی کا میں ایک زمانے سے معترف ہوں۔ وہ نہ صرف غزل کے ماضی سے آگاہ ہیں بلکہ نئی نسل کے مزاج سے بھی واقف ہیں۔مگر اُن کا تجربہ اتنا خوش آئند نہیں ہُوا۔ ’’سہ روزہ ہزیان‘‘ ہمارا احتجاج تھا جو ہم نے ۱۹۹۶ میں چھاپی۔میرے خیال میں ظفر اقبال اپنے تجربے کو خود بھی رد کر چکے ہیں۔

تصنیف حیدر:غزل اظہار کے تمام وسیلوں میں سب سے بہتر ذریعہ ہے یا سب سے کمزور؟کیوں؟

انجم سلیمی :جس طرح ناک میں کجھلی کے وقت کجھلی کئے بغیر آپ رہ نہیں سکتے۔ اسی طرح شاعری بھی ہو ہی جاتی ہے۔ غزل کا انتخاب کرنا ہے یا کسی اور وسیلے کا،یہ شاعر کو خود پتا ہونا چاہیے یا اسے پتا ہوتا ہے۔ شاعر کو پتا ہونا چاہیے کہ اچھی شاعری کیا ہے اور بری کیا۔ یا ان میں سے کم از کم ایک کا پتا ضرور ہونا چاہیے ۔آس لدھیانوی کا شعر ہے:
نقاد بن کے جب بھی پرکھتا ہوں شعر کو
کٹتا ہے میرا شعر مرے اپنے ہاتھ سے

تبصرے

dr nighat Nasim نے کہا…
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین