اتوار، 11 جنوری، 2015

انور سن رائے سے دس سوالات

انور سن رائے ایک اہم ادیب اور صحافی ہیں، اس انٹرویو سے مجھ پر کھلا کہ وہ مصور بھی ہیں۔جنگ اور بی بی جیسے بڑے صحافتی اداروں سے وابستہ ہیں۔وہ اپنے ایک ناول'چیخ' کی وجہ سے بھی مشہور ہیں، لیکن چونکہ میں نے اب تک یہ ناول نہیں پڑھا ہے، اس لیے اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا۔وہ بہترین نثری نظمیں بھی لکھتے ہیں۔انہوں نے وقت نکال کر میرے بلاگ کے لیے ان دس سوالوں کے جواب دیے، اس کے لیے میں ان کا بے حد شکرگزار ہوں۔اس مکالمے میں انہوں نے تخلیق، اردو ادب، صحافت کے باریک معاملات اور بہت سے اہم معاملات پر روشنی ڈالی ہے۔امید ہے کہ یہ سوال و جواب آپ کو ضرور پسند آئیں گے۔

تصنیف حیدر:آپ بنیادی طور پر شاعر ہیں، فکشن نگار یا پھر تبصرہ نگار؟

انور سن رائے:تبصرہ نگاری روزگار کا حصہ ہے۔ یہ سلسلہ بی بی سی لندن سے شروع ہوا، ایک طرح سے کتاب کے فروغ کی کوشش ہے۔ یہ تبصرے، تبصرے کم اور کتابوں کے مختصر تعارف زیادہ ہوتے ہیں۔ شاعری، فکشن، ترجمےجنھیں میں ترجمے کہنے سے گریزاں ہوں اور مصوری شاید اس لیے کرتا ہوں کہ مجھے زندگی کرنے اور اپنے آپ دیکھنے کا کوئی اور ڈھب نہیں آتا، سو مجبوری سی ہے۔ باقی آپ طے کر لیں، آپ نہیں کریں گے تو وقت کرے گا اور کسی سے بھی نہ بھی ہوا تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ ویسے اصل بات تو آپ نے پوچھی ہی نہیں کہ انسان ہوں یا آدمی؟

تصنیف حیدر:انور تو ایک مشہور نام ہے، البتہ سن رائے کے بارے میں ہم ضرور جاننا چاہیں گے۔

انور سن رائے:تو ضرور جانیں سِن رائے کے بارے میں، روکا کس نے ہے؟ ویسے انور تو کئی مشہور ہیں، انور سجاد اور کمانڈر انور وغیرہ کو میں بھی جانتا ہوں۔ آپ کس انور کی بات کر رہے ہیں؟ جہاں تک میرا تعلق ہے میرا ذریعہ روزگار صحافت ہے جسے اب تک میں ذریعۂ عزت نہیں جانتا۔ نام نہاد ’تعلیم‘ سے پہلے لڑکپن سے ہی مزدوریاں کرتا آیا ہوں۔ ایک بار فیض صاحب کے اعزاز میں ایک انتہائی محدود سی دعوت میں ایک بڑی ادیبہ سے ملاقات ہوئی وہ میری والدہ کی فرسٹ کزن تھیں۔ میں نے انھیں اس تعلق کے بارے میں بتایا تو انھوں نے کہا: خبردار کسی کو اس بارے میں نہ بتانا۔ میرے دادا اپنے گھر والوں سے ناراض ہوئے اور لاہور سے ریاست بہاولپور میں آ بسے تھے۔ انھوں نے اپنے بچوں تک کو اپنے والد اور بھائی بہنوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ میرے والد نے یہ مہم سر کرنے کی کوشش کی تو دادا نے گھر سے نکالنے اور عاق کرنے کی دھمکی دے دی۔ ننھیال امرتسر کا تھا، بٹوارے کے بعد مغربی پنجاب آ بسا۔ اب تک کی حاصل معلومات کے مطابق سورج بنسی راجپوتوں کی نسل سےبتایا جاتا ہوں اور والد کے بیان کے مطابق سورج بنسی راجپوتوں کی کسی شاخ کا ہوں۔ سِن رائے اسی سے نکلا ہے۔ پتا نہیں آپ کیا پوچھنا چاہتے تھے اور میں کیا بتا رہا ہوں۔

تصنیف حیدر:آپ نے کبھی اپنی تخلیقی انفرادیت پر بہت اصرار نہیں کیا؟ یہ خاموشی مزاج کا حصہ ہے یا پھر کسی خوف کا؟

انور سن رائے:انفرادیت کو تو کسی اصرار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنے انگوٹھے کا نشان دوسروں سے ملا کر دیکھ لیں۔ ساری مشکل’تخلیقی ‘میں ہے۔ الفاظ ہوں یا رنگ، سیکھتے سیکھتے اتنا بوجھ لد جاتا ہے کہ اپنی بات اپنے انداز سے کرنا تو کجا سوچنا اور محسوس کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ ذرا اپنے زمانے کے ادب اور مصوری کو دیکھیں اور بتائیں کتنے ہیں جو اپنے انگوٹھے کے نشان جیسے ہیں؟ ہم الفاظ اور رنگوں کے متعین معنی اور استعمال سے کیوں باہر نہیں نکل پاتے؟ کچھ بڑے مصوروں نے کوششیں کی ہیں۔ ایک نے بچوں کی طرح نقش کھینچنے کی کوشش کی، ایک نے نکتے کے لکیر بننے اور اپنی مرضی سے چلنے کے درمیان سے ہٹنے کی کوشش کی اور ایک نے رنگوں کو برش سے آزاد کر کے خود کو تلاش کیا۔ زبان میں یہ کام دو ایک نے کرنے کی کوشش کی تو انھیں پاگل قرار دے دیا گیا۔ تو متعین کا استرداد تو دور کی بات ہے معمولی سا انحراف بھی معاشرے کے ٹانکے ڈھیلے کیے بغیر ممکن نہیں اور معاشرے اس جرم کی کڑی سزا دیتے ہیں۔ تکنیکوں کے تجربات اس انحراف کی پشم ہیں۔ ہمارے بڑے وہ ہیں جن کے ہاتھ میں پشم کا ایک آدھ بال آ جاتا ہے تو آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں اور ہم بھی انھیں سر پر بٹھا لیتے ہیں، ننگی کیا نہائے اور کیا نچوڑے۔ میرا مطالعہ تو صفر ہے لیکن آپ کو اگر کبھی معلوم ہو جائے تو مجھے بھی ضرور بتائیے گا کہ اردو کا کون سا ادیب ہے جس نے انسان کے بارے میں ہمیں وہ بات بتائی ہے جو اُس سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھی۔ تو اس صورت میں میں کس کھیت کی مولی ہوں جو انفرادیت پر اصرار کروں۔ تخلیقی انفرادیت کو پورے تناظر میں دیکھیں تو ساری اوقات کھُل جائے گی۔ اس لیے اسے خوف ہی کہہ لیں۔

تصنیف حیدر:آپ کی نظمیں کچھ مزاحمتی قسم کی ہیں، یہ ادیب ہونے کا نتیجہ ہے یا پاکستان میں رہنے کا؟

انور سن رائے:یار تصنیف! آپ ادب کی بات کر رہے ہیں اور صحافت تک کے تقاضے بھی پورے نہیں کر رہے۔ صحافت میں بھی کم سے کم کسی سے کچھ پوچھنے سے پہلے اُس کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔ شاعری ہی نہیں تمام ادب بنیادی طور پر مزاحمت ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ میں بہت اہل تو نہیں لیکن آپ کسی غیر مزاحمتی مثال کی بات کریں میں اُس میں مزاحمت کی کارگذاری پیش کر دوں گا۔ مزاحمت انسانی ذہن کا جوہر ہے لیکن معاشرے اور سماج میں اجتماعیت ایک نوع کی آمریت پیدا کرتی ہےاور فرد اُس کا حصہ ہونے کے باوجود اُس سے ڈرتا رہتا ہے ، مفاہمت کرتا رہتا ہے اور اپنے مفاہتی رویوں کی مزاحمت بھی کرتا رہتا ہے۔ پاکستان تو شروع سے ہی کثیرالجہتی مسائل کا گھر ہے۔ مشکلیں اس کے درو دیوار پر اُگتی ہیں اور یہ پاکستان ہمارے حصے میں آنے والی اِس دنیا کا حصہ ہے جس میں سانس لینا بھی مزاحمت کا حصہ ہے، تو بولنا اور بات کرنا کیسے نہیں ہوگا؟ جہاں تک میری نظموں کی بات ہے تو جہاں تک میں انھیں سمجھا ہوں وہ تمام کی تمام اُس انور سِن رائے کے بارے میں ہیں جس کی مزاحمت مجھے ہر لمحے درپیش ہوتی ہے۔ بھائی، انسان پہلے دن سے پرومیتھیس کا ہمزاد ہے۔

تصنیف حیدر:آپ کو غزلوں کے کون سے تین شاعر بے حد پسند ہیں اور کیوں؟

انور سن رائے:مجھے غزل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جواب ہی ضروری ہے تو غالب، اقبال اور میر، غالب اور اقبال خاص طور سے۔ کیوں کہ شعر میں سب سے اہم اسلوب ہوتا ہے یعنی الفاظ پر اپنی مہر لگانا اور ایسے کہ کوئی دوسرا برتے تو دانت کھٹے ہو جائیں۔ میر صاحب نے صرف ایک ’سا‘، ’سی‘ کو اپنا کیا ہے، کسی حد تک۔ آپ کسی مصرے میں استعمال کر کے دیکھیں۔ یہی وصف اقبال اور غالب کی لغت اور آہنگ کا ہے۔ لیکن میں نے ان تینوں کو بھی پڑھنے کا ذاتی لپکا کبھی محسوس نہیں کیا۔ آپ اسے کجی بھی کہنا چاہیں تو کہہ لیں۔ داد کا چسکا تو مجھے بھی ہے لیکن ایسا نہیں کہ ہر ایرے غیرے کے معیار کا ہونے پر اُتر آؤں۔ غزل نے شاعری میں عوام پسندی اور انحطاط کو راہ دی ہے۔

تصنیف حیدر:اردوصحافت پر بہت برا زمانہ آیا ہوا ہے۔ کیا آپ اس خیال سے اتفاق رکھتے ہیں؟کیوں؟

انور سن رائے:بھیا! صحافت خبر دینے کا کام ہے اور خبر کا خمیر ہی برائی سے اٹھتا ہے۔ ذرا بتائیے تو صحافت پر اچھا زمانہ کب تھا اور کہاں تھا؟ آپ اپنے سوالوں سے پہلے اُن غور بھی کیا کریں۔ سنیں! اردو میں صحافت ابھی شروع نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہے اور جن لوگوں کے لیے آپ سوال پوچھنے کا تردد کر رہے ہیں انھیں تو کیا، ابھی خود صحافیوں کی بڑی تعداد تک کو نہ تو اس کی فکر ہے نہ وہ اس چکر میں پڑنا چاہتے ہیں۔ ذرا صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے مقاصد کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پھر ریاستوں کے مقاصد کے تناظر میں صحافت اور صحافیوں کے کردار پر غور کریں ۔

تصنیف حیدر:آپ نے کبھی غزل لکھی ہے؟آپ غزل کیوں نہیں لکھتے؟

انور سن رائے:شروع میں غزل کی کوشش کی تھی۔ دوسروں کے تھوکےہوئے نوالوں کو چبا چبا کر منھ کا مزا اتنا خراب کیا کہ مزے کی سدہ بدھ ہی جاتی رہی۔ پھر سمجھ میں آیا کہ یہ چتیاپا میرے بس کا نہیں۔ بعد میں قمر جمیل سے ملاقات ہوئی تو سمجھ میں آیا کہ جب نثری شاعری میں بھی اپنی بات آسان نہیں تو غزل اور پابند شاعری میں کیسے ہو سکتی ہے۔ بھائی! عام گفتگو تک میں بات سمجھانے کے لیے بیسیوں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یوں تو یہ زبان اور بیان کا معاملہ ہے جو گہرے اور پیچیدہ فلسفیانہ مباحث سے علاقے رکھتا ہے لیکن اگر آپ اس معاملے کا آسان مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایسے میاں بیوی سے ملیں جو ساٹھ ستر سال سے ساتھ رہ رہے ہوں اور اُن سے پوچھیں کیا وہ ایک دوسرے کو سمجھ پائے ہیں اور کیا انھیں اب تک ایک دوسرے سے اپنی ہر بات کی وضاحت نہیں کرنا پڑتی۔ امید ہے آپ کو کسی حد تک یہ معاملہ سمجھ میں آ جائے گا کہ فارم کی پابندی کیا گُل کھلاتی ہے۔ مفہوم و معنی کی ترسیل میں زبان کے کردار کے بارے میں وٹگنسٹائین سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ ویسے غزل تلفظ کو محفوظ کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے لیکن تلفظ خود علاقائیت کے پابند ہوتے ہیں اور غزل ایک ایسی مرکزیت چاہتی ہے جو علاقائی لہجوں کے خاتمے پر اصرار کرتی ہے، صرف یہی نہیں اور بھی مسائل ہیں۔ مختصراً یوں سمجھ لیں کہ میں غزل لکھنے کا اہل نہیں۔ اتنے لوگ کود پھاند کر رہے ہیں تو ایک میرے نہ کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔ انھوں نےکیا اکھیڑ لیا ہے جو میں کچھ اکھاڑ لوں گا۔ ظفر اقبال اور ان کے پیروکار ہیں، تو اور کیا چاہیے۔

تصنیف حیدر:کیا نثری نظم شاعری کی سب سے بہتر صنف سخن ہے؟کیوں؟

انور سن رائے:کچھ باتیں تو میں پہلے کر چکا ہوں، اب صرف یہ ہے کہ یہ سخن کی نسبتاً بہتر صنف ہے۔ اس لیے کہ اس میں وہ اضافی پابندیاں نہیں جو بعد میں پیدا ہوئیں۔ دیکھیں اوّلین مقصد اظہار تھا اور ہوتا ہے۔ ادب، مصوری اور پرفارمنگ آرٹس سب میں۔ گرامر اور اصول و ضوابط بعد میں ایجاد کیے گئے اور کیے جاتے ہیں، تقلید میں معیار کی کم سے کم سطح حاصل کرنے کے لیے اور اُس میں بھی مثالیں ما قبلِ گرامر سے لی جاتی ہیں ۔ شاید اسی لیے لوک یا فوک ادب و فن کو فضیلت ہے کیوں کہ وہ اصولوں اور گرامر سے نہیں پیدا ہوتا اصول و گرامر اُس سے پیدا ہوتے ہیں۔

تصنیف حیدر:کہانی کا سب سے بہتر کرافٹ کون سا ہوسکتا ہے، کیا اسے سمجھایا جاسکتا ہے؟

انور سن رائے:بھائی! کرافٹ کے چند معنے : ہنر، کرتب، فریب، مکر وغیرہ: مکر ملبوس، راستی عریاں۔ جھوٹ چاہے بھیس، سچ کہے میں ننگا بھلا۔ کہانی اپنے اپنے سچ کو ترسیل کے قابل بنانے یعنی مکر میں ملبوس کرنے کا نام ہے۔ جیسا ملبوس ہوتا ہے سچ میں اتنی ہی جہتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مجھے افضال احمد سید کی اس بات سے اتفاق ہے کہ حکایت بڑی فارم ہے۔ میں نے یہ بات انھیں سے سنی، ہو سکتا ہے کسی اور نے بھی یہی سوچا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکایت چند سطروں پر مشتمل کہانی بھی ہو سکتی ہے۔ طویل ناول بھی ہو سکتی ہے۔ ڈرامہ / ناٹک بھی ہو سکتی ہے اور فلم بھی۔ کہانی اور کرافٹ کا اتصال اُسی طرح ہوتا جیسے نطفے اور بیضے کا ہوتا ہے۔ یہ مثال سمجھانے کے لیے دے رہا ہوں۔ گائناکالوجی اس میں بھی تبدیلیاں لا رہی ہے ہو سکتا کل یہ مثال کارآمد نہ ہو۔ لیکن اگر آپ نے پہلے کرافٹ اور پھر کہانی کی مثال دیکھنی ہو تو محمد حسن عسکری کی کہانیاں پڑھ لیں۔ پھر یہ بھی تو دیکھیں ’داستانِ امیر حمزہ‘، ’الف لیلیٰ‘ اور ’بوستانِ خیال‘ میں کہانیاں پہلے ہیں یا کرافٹ؟ ان میں جو کہانیاں ہیں وہ تو سنائی جاتی تھیں اور سنانے سنانے میں کتنی بدلتی جاتی ہوں گی اس کا تو کسی کے پاس حساب ہی نہیں ہے، کہانی لکھنے کا سلسلہ تو بعد کی بات ہے اور لکھنے کے بعد ایڈیٹنگ اور بعد کی۔ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کرافٹ کی اصطلاح سے پہلے کرافٹ کا وجود نہیں تھا؟ اگر آپ کی یا کسی اور کی یہ رائے ہے تو میں صرف اُس کے حق میں دعائے خیر ہی کر سکتا ہوں۔

تصنیف حیدر:انور سن رائے کو اپنی عام زندگی میں کس طرح کے کپڑے، کھانے اور رہن سہن پسند ہے؟

انور سن رائے:ویسے تو یہ معاملہ بھی تفصیل طلب ہے۔ لباس بھی کھانے اور رہن سہن کی طرح سیاست، نفسیات اور فلسفے کا موضوع ہے۔ مجھے نہیں پتا آپ کی اور آپ کے قارئین کی سہار کتنی ہے۔ یہ سب سماجی ثقافتی ماحول اور ضروریات سے پیدا ہوتے ہیں۔ وقت اور وسائل کے پابند ہوتےہیں، میں بھی ان پابندیوں میں رہتا ہوں۔ کبھی خواب تک نہیں دیکھا کہ گھر میں یا گھر سے باہر ننگا پھر رہا ہوں۔ ہاں، ایسی جگہوں پر جانے سے بھی گریز کرتا ہوں جہاں خاص لباس کی پابندی ہو۔ بیماریوں کے سبب اب دن میں دو وقت کچھ نہ کچھ کھانا ضروری ہے وہ بھی سادہ ہونا چاہیے۔ دالیں اور سبزیاں پسند ہیں۔ رہن سہن کی باقی بیماریاں اور منافقت پسندی اتنی ہی ہے جتنی طبقاتی تبدیلی کے مرحلے میں ہونے والوں میں ہوتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *