ہفتہ، 10 جنوری، 2015

یاسمین حمید سے دس سوالات

یاسمین حمید اردو کے ادبی حلقے کا ایک معتبر نام ہیں۔وہ اچھی شاعربھی ہیں اور مترجم بھی۔’شاعرہ‘ کے بجائے ’شاعر‘ کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ تخلیقی قوت کوتقسیم کرنے والی اس ہائے ہوز کا استعمال وہ بھی ٹھیک نہیں سمجھتی ہیں۔ان کا شعری کلیات ’دوسری زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے ۔انہوں نے اردو شاعری خصوصاً نظموں کا ایک انتخاب اور اس کا انگریزی ترجمہ کیا ہے جو آکسفورڈ پریس سے شائع ہوا ہے۔اس مکالمے میں انہوں نے بہت سی اہم باتوں پر روشنی ڈالی ہے۔کئی اہم نکتوں کی جانب دھیان دلوایا ہے۔امید ہے کہ یہ انٹرویو آپ کو ضرور پسند آئے گا۔

تصنیف حیدر:جن لوگوں کو شاعری کرنی آتی ہے ان کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔ ا س میں ایسا کوئی کمال نہیں۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتی ہیں؟

یاسمین حمید:یہ سوال اسی طرح ہے جیسے شیر سدھانے والے سے کہا جائے کہ آپ تو شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال لیتے ہیں، آپ کے لیے یہ کام بہت آسان ہو گا۔ اس میں آپ کا کمال ہی کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ کوئی شخص ، جس ہنرکو جس حد تک بھی جانتا ہے، اس پر جس قدر بھی دسترس رکھتا ہے، وہ وہاں تک ،کچھ مراحل طے کرنے کے بعد ہی پہنچتا ہے۔ اور یہ سفر ایسا بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ بنیادی صلاحیت یا رجحان (aptitude) کے بغیر، شاعری، مصوری، موسیقی اور اسی طرح کے دوسرے فنون میں تربیت حاصل کرنااور کامیابی کی منازل طے کرنا ممکن نہیں، لیکن یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بنیادی صلاحیت کسی ایک حد تک ہی ساتھ دیتی ہے۔ تربیت کامرحلہ بہت اہم ہے۔ لکھنے والا پیغمبر تو ہوتا نہیں۔ اسے اپنے لیے خام مال تو خود ہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لفظیات، تخیل، کرافٹ یا شعر کہنے کا ہنر ، اچھے برے کی پہچان ، یہ سب بنے بنائے تو کہیں سے آتے نہیں۔ عمر بھر کا مطالعہ بھی اکثر اوقات کم پڑ جاتا ہے۔ البتہ میں یہ ضرور کہا کرتی ہوں کہ ذہن اور اس کا مخصوص طریقے سے مشاہدہ کرنے اور سوچنے کا عمل وہ چیز ہے جسے ہم قدرت کی دین کہہ سکتے ہیں۔ ندرت اسی فکری انفرادیت سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس پر بھی ماحول اور تربیت کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ہمارے پس ماندہ علاقوں میں نہ جانے کتنے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور فنکار دو وقت کی روٹی کے لیے مزدوری کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہوں گے، کیونکہ زندگی انھیں اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے، اور تربیت کے مواقع فراہم نہیں کرتی۔ میں نے یہ سب باتیں خاصی تفصیل سے اپنے نئے شعری مجموعے ’ بے ثمر پیڑوں کی خواہش‘ کے تعارفی مضمون میں بیان کی ہیں۔

تصنیف حیدر:کیا شاعری میں عظیم ہو جانا سب کچھ ہے؟ ادبی حوالے سے کسی شاعرہ کا ویسا نام کیوں نہیں جیسا کہ اقبال اور ظفراقبال کا ہے۔

یاسمین حمید:سوال کے پہلے حصے کا تو سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ عظمت کی منزل خواہ مرد ہو یا عورت، گنتی کے چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ جہاں تک سوال کا دوسرا حصہ ہے تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ایک ہی سانس میں اقبال اور ظفراقبال کا نام لینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ غزل کے کرافٹ پر ظفر اقبال صاحب کی گرفت یقیناًقابلِ توصیف ہے لیکن مبالغہ ‘ بہرحال مبالغہ ہے۔ اب آئیے اصل بحث کی طرف ۔بات قرۃ العین حیدر سے شروع کرتے ہیں۔ ان کی بڑائی کا تو آپ یقیناًاعتراف کرتے ہوں گے۔ اب اسی بات سے ہم ایک دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر بیسویں صدی میں قرۃالعین حیدر جیسی بڑی تخلیق کار پیدا ہوسکتی ہے تو اس علاقے میں جسے ہم برصغیر کہتے ہیں ،اس سے پہلے کے ڈھائی ہزار سال میں ایسا کیوں نہ ہوا؟ اور برصغیر ہی میں نہیں‘ یہ سوال تو تانیثی نقادوں (feminist critics) نے پوری دُنیا میں اُٹھا یا ہے بلکہ اس کا جواب بھی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ یہ عالمی ادبی تاریخ کا ایسا phenomenon ہے جس کے اثرات بیسویں صدی تک آئے ہیں بلکہ ابھی تک موجود ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ماضی میں خواتین کی تحریروں کو کبھی محفوظ نہیں کیا گیا۔۱۹۶۰ء کی دہائی تک، بلکہ اس کے بعد تک بھی مغرب میں یہ حال تھا کہ انگریزی ادب کے majors کے نصاب میں کم ترین درجے کے مرد شعرا اور ڈراما نگار تو پڑھائے جاتے تھے لیکن کسی عورت کی ایک بھی تحریر شامل نہ تھی۔ تانیثی تنقید کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خواتین کی گم شدہ تحریروں کو دریافت کیا جائے اور انہیں ان کا جائز مقام دلوایا جائے۔ سو پچھلے پچاس برس کی تحقیق کے دوران بے شمار خواتین کی تحریریں دریافت ہوئیں جنھیں انگریزی کی ادبی تاریخ سے حذف کر دیا گیا تھا۔ ان کے مقام کا از سر نو تعین بھی کیا گیا ہے۔ یہ تصور بھی سامنے آیا ہے کہ اس نوعیت کے سوالوں کے جواب ہمیشہ جذباتی اور داخلی سطح پر دیے گئے ہیں جبکہ ان کا فکری سطح پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دراصل اُن حالات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جو کسی کو عظمت کے درجے تک پہنچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ زمانہ ء قدیم وماضی میں بیٹے عام طور پر باپ کا پیشہ ہی اختیار کرتے تھے۔ ان کی تربیت یا باپ خود کرتا تھا یا اس کی نگرانی میں کوئی استاد۔ یہ ایک مفروضہ (myth) ہے کہ صرف خداداد صلاحیت کی بنیاد پر مرد ادبی کارنامے سر انجام دیتے تھے اور عورت کے پاس کیونکہ یہ صلاحیت تھی ہی نہیں اس لیے وہ ایسا نہ کرسکی اور نہ کر سکتی ہے۔ خداداد صلاحیت عظمت کے درجے تک پہنچنے کے لیے بہت سے مراحل طے کرتی ہے جن کو طے کرنے کی آزادی اور سہولت عورت کو میسر نہیں تھی بلکہ آج تک بھی اُس طرح میسر نہیں ہے جس طرح مرد کو میسر ہے۔ عورت کے لیے معاشرے میں موجود تصورات اور اس کے لیے قائم کی گئی حدود کے سبب اس کی کوئی بھی صلاحیت یا خواہش جو گرہستی کے دائرے سے باہر ہو‘ ثانوی حیثیت رکھتی تھی اور معاشرہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔اب جنوبی ایشیا کی طرف آئیں تو برصغیر میں بولی جانے والی جتنی اہم زبانیں ہیں، ان سب میں یہی صورت حا ل رہی ہے۔ آپ ہی کے ملک میں اس ضمن میں سوزی تھا رو (Susie Tharu) اور کے للیتا (K. Lalita) کی مرتبہ کتاب ہے، جس میں ہندوستان کی ۱۳ زبانو ں کی ۱۴۱ خواتین کی گم شدہ تحریروں کو دریافت کر کے ا ن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان خواتین کے حالاتِ زندگی کو دیکھیں تو کم وبیش وہی صورت ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے۔ ایک طویل عرصے تک ،کون جانتا تھا کہ بنگالی شاعر چنڈی داس کی محبوبہ رامی کتنی عمدہ شاعر تھی۔ ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہوں گے کہ رابندر ناتھ ٹیگور کی بہن ناول نگار تھی۔ رشیدۃ النساء بیگم نے ۱۸۸۲ء میں ناول لکھا جو بارہ سال تک چھپ نہیں سکا کیونکہ کتاب پر مصنفہ کا نام لکھنے کا مسئلہ بڑا سنگین تھا۔ زاہدہ خاتون شیروانیہ جیسی زبان و بیان پر دسترس رکھنے والی، صاحبِ علم شاعر کو اگر پھلنے پھولنے اور social taboos سے آزاد ہوکر لکھنے کی اجازت ہوتی تو کیا ایک سو سال تک اس کا نام گم نامی کے اندھیروں میں پڑا رہتا۔ ہم عورت اور مرد لکھنے والوں کے خانے بڑی سہولت سے الگ الگ بنا لیتے ہیں حالانکہ خواتین ادیبوں کی فکری روایت مرد ادیبوں کی فکری روایت سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ کسی بھی خاتون ادیب کی حسیت اپنے عہد کے مرد ادیبوں ہی سے مطابقت رکھتی ہے نہ کہ ان خواتین سے جو اس سے پہلے تھیں یا اس کے بعد آئیں گی۔ شاید لاشعوری طور پر بھی ہم ایسا کرتے ہیں کیونکہ عرصۂ دراز تک عورت کواس روایت سے باہر رکھا گیا ہے۔ مرد کا تخلیقی ذہن اور اس کا تخلیقی تشخص ڈھائی ہزار سال یا شاید اس سے بھی پہلے سے ارتقائی مراحل طے کر رہا ہے یعنی evolve ہو رہا ہے، جبکہ عورت کو تو پوری طرح سے ابھی ایک سو سال بھی نہیں ملے ہیں۔

تصنیف حیدر:آپ نسائیت والی ٹیپکل شاعری سے بہت حد تک اپنی شاعری میں بچی رہی ہیں۔ کیا اس کا ایک سبب زندگی میں میسر آنے والی کوئی ایسی ذہنی آسودگی ہے جو عورتوں کے حصے میں عام طو رپر نہیں آتی؟

یاسمین حمید:پہلے تو میں یہ جاننا چاہوں گی کہ یہ نسائی شاعری ہوتی کیا ہے۔ تو کیا کوئی غیر نسائی شاعری بھی ہوتی ہے؟ پھر تو مردانہ اور غیر مردانہ شاعری بھی ضرور ہوتی ہوگی۔ آپ خود ہی دیکھ لیجیے، ابھی تک آپ نے جتنے سوال کیے ہیں ان میں عورت کو ایک subculture کی حیثیت دے دی ہے۔ خیر، سوال کی طرف آئیں تو آپ نے یہ بھی کہاہے کہ میں نسائی شاعری سے بچی رہی ہوں۔ گویا نسائی شاعری ( جو بھی اس کے معنی ہیں) کوئی کم تر قسم کی شاعری ہے جس سے میں حادثاتی طور پر بچ گئی۔ دیکھیے ، ایسا نہیں ہوتا۔ شاعری نسائی یا غیر نسائی نہیں ہوتی صرف شاعری ہوتی ہے، انفرادی تجربے کا اظہار ، سفاک، بے لاگ، سچائی سے آراستہ‘ بناوٹ سے پاک۔ میں وہی لکھوں گی جو میں ہوں اورمیں وہ ہوں جو میرا ذہن ہے‘ جو میرا فکری اور جذباتی تشخص ہے، جو میرا مادی اور عقلی اور روحانی وجود ہے، میری زندگی ہے، میرا تجربہ ہے، میرا ماحول ہے، میری دُنیا ہے۔ آپ کے سوا ل سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ غیر نسائی شاعری وہ خواتین کرتی ہیں جو ذہنی طور پر آسودہ ہوں۔ اب یہ بھی جان لیجیے کہ تخلیقی ذہن دنیاوی آسائشوں سے آسودہ نہیں ہوتا۔ آسودگی اس کا مقدر ہی نہیں۔ تخلیقی ذہن تو ایک نا قابلِ حل معما ہے۔ ناآسودگی اس کی سب سے بڑی توانائی ہے۔

تصنیف حیدر:ترجمہ نگاری زیادہ مشکل کام ہے یا شاعری؟ کیوں؟

یاسمین حمید:مشکل یا آسان کی بجائے اگر یہ کہیں کہ یہ دونوں مختلف قسم کے کام ہیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ ترجمہ کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے (کم سے کم اپنی حد تک میںیہ کہہ سکتی ہوں)۔ ارادہ کریں‘ کتابیں کھولیں اور یکسو ہو کر کام میں لگ جائیں۔ ہاں مگر ترجمہ جان جوکھوں کا کام بھی ہے۔ مناسب الفاظ کا انتخاب ، متن کی معنوی تہوں کو کھولنا اور از سرِ نو ایک دوسری زبان میں مرتب کرنا، اصل کی روح سے قریب تررہنا اور غیر زبان کے ساتھ اس کے مفہوم اور تاثر کو ہم آہنگ کرنا‘ یہ سب ایک challenge کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات بہت سی سطریں، بہت سے مصرعے سہولت سے دوسری زبان میں منتقل ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات کوئی ایک مصرع، کوئی ایک ترکیب یا کوئی ایک خیال جان کو آجاتا ہے اور کئی کئی بار نئے نئے طریقوں سے لکھنا پڑتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ کبھی پوری طرح اطمینان بھی نہیں ہوتا کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ دنیا کا بہترین ترجمہ بھی اصل کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کر سکتا۔ اگر اصل سے بہتر ہوگیا تب بھی مسائل پیدا ہوں گے۔ بہر حال ترجمے کی اہمیت سے بھی انکار نہیں ہوسکتا۔اپنی حد تک مجھے شاعری کا ترجمہ کرنا زیادہ پسند ہے۔ مجھے شاعری کے ترجمے میں لطف زیادہ آتا ہے جبکہ نثر کے ترجمے سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ شاعری کے ترجمے میں ایک شے کو توڑ کر از سرِ نو تخلیق کرنے کا التباس پیدا ہوتا ہے اور یہی بات لطف دیتی ہے۔یہ بات میں نے صرف اپنے لیے کہی ہے، ضروری نہیں کہ اور لوگ بھی ا س سے اتفاق کریں۔رہا شعر کہنے کا عمل تو اس کی ایک جہت ماورائی بھی ہے۔ اس کا دائرہ مختلف ہے۔ شاعر جب تخلیقی phase میں داخل ہوتا ہے تو تخیل کی گرہیں آپ ہی آپ کھلتی چلی جاتی ہیں‘ ذہن رواں ہو جاتا ہے۔ غیر تخلیقی لمحوں میں البتہ شاعر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تربیت سے غافل نہ رہے اور تربیت کا سب سے بہتر ذریعہ میرے نزدیک مطالعہ ہے۔ مشاہد ہ اور تجربہ تو زندگی خود بخود فراہم کر دیتی ہے۔

تصنیف حیدر:یاسمین حمید کیا یہ چاہیں گی کہ ادب میں انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے یا پھر وہ واقعی بغیر کسی امید کے کتابیں شائع کروا رہی ہیں؟

یاسمین حمید:صرف یاد رکھے جانے کی خواہش میں تو کبھی بھی کسی نے نہیں لکھاہوگا۔ لکھنے والا ‘ کتابوں کے ساتھ زندگی گذارنے والا‘ اپنے کام کے ساتھ عشق میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ پڑھنا لکھنا بھی نشے کی طرح ہے۔ اور یاد رکھے جانا تو بہت بڑا privilege ہے۔ یہ تو بڑے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتا۔ کیسے کیسے نام ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں، تاریخ کی بھول بھلیوں میں کھو جاتے ہیں تو پھر ’ہم کہاں کے دانا ہیں کس ہنر میں یکتا ہیں‘ ؟

تصنیف حیدر:آپ کا کون سا شعری مجموعہ آپ کو خود بہت زیادہ پسند ہے ؟ کیوں؟

یاسمین حمید:مجھے اپنا کوئی بھی شعری مجموعہ نا پسند نہیں ہے‘ نہ ہی کوئی اتنا پسند ہے کہ اس سے بہتر کی خواہش نہ کی جائے۔ میری ایک عادت ‘ اچھی یا بُری یہ ہے کہ میری نظر عیب پر فوراً جاتی ہے۔ اپنے ہر کام میں perfection کے حصول نے مجھے ہمیشہ مضطرب رکھا ہے ۔ سو میں کہہ سکتی ہوں کہ میں بہت دیر تک اپنے کسی بھی کام سے بہت خوش نہیں رہتی۔ جی چاہتا ہے کہ ابھی اور بہت کچھ لکھوں اور پہلے سے مختلف لکھوں لیکن تخلیقی سفر کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

تصنیف حیدر:آپ کے نزدیک بہترین ادبی معاشرہ کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ کیا اس کے کچھ اصول بنائے جا سکتے ہیں؟

یاسمین حمید:ادبی معاشرے کو اجتماعی معاشرے سے الگ تو نہیں کیا جاسکتا ۔ بہترین ادبی معاشرہ اسی اجتماعی معاشرے میں ممکن ہے جس میں انسانی اقدار کی بہترین مثالیں موجود ہوں‘ وہی معیار ٹھہریں اور صحیح غلط کی‘ اچھے برے کی تمیز قائم کی جائے۔ اب تو یوں ہے کہ اقدار کا معاملہ بھی اضافی ہے۔ جو باتیں کچھ عرصہ پہلے تک ناپسندیدہ سمجھی جاتی تھیں وہ اب قابلِ قبول ہیں اور کچھ احمق‘ misfit بدلتے ہوئے اقداری منظرنامے میں ششدر و حیران کھڑے ہیں اور گوشہ نشینی میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ میرے اپنے خیال میں جس معاشرے میں علم کی حیثیت اشیاء کے مقابلے میں کم تر ٹھہرے وہ اپنی روح میں خالی ہوتا چلا جاتا ہے۔ استحقاق کے معنی بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اچھے ذہن اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اشیا کے حصول کی دوڑ میں صرف کرنے لگتے ہیں اور نااہل اس منصب پر قابض ہو جاتے ہیں جس کے وہ متحمل نہیں ۔ بد نظمی پیدا ہوتی ہے‘ انتشاربڑھتا ہے۔ سیاسی اور معاشی سطح پر کمزور معاشروں میں صورت حال اور بھی زیادہ گمبھیر ہو جاتی ہے۔ اب بہترین ادبی معاشرہ بنانے کا کوئی فارمولا تو ہے نہیں۔ یقیناً مثالی یا آئیڈیل معاشروں کے اصول تو ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ غیر محسوس طریقے سے قائم ہوتے ہیں۔ انھیں کسی منشور کی شکل میں لکھ دینے یا کانفرنسوں اور سیمنیاروں میں ان پر گفتگو کرنے سے کسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

تصنیف حیدر:اُردو کی وہ کون سی اہم کتابیں ہیں جنھیں آپ انگریزی میں ترجمہ کروانا چاہیں گی‘ جوآپ کے نزدیک بہترین عالمی ادب کے انتخاب میں شامل بھی ہو سکیں۔

یاسمین حمید:ہمارے ہاں آج تک جتنا بھی تر جمے کا کام ہوا ہے وہ کسی معقول منصوبے کے تحت‘ کسی منظم طریقے سے نہیں ہوا۔ بعض لوگوں نے انفرادی حیثیت میں اچھے ترجمے کیے ہیں، اُردوسے انگریزی میں اور انگریزی سے اُردو میں بھی۔ لیکن ادبی متون کے ترجمے کے لیے کوئی ایسا مرکز قائم نہیں ہوا جہاں عہد بہ عہد اہم کتابوں کی نشاندہی کی گئی ہو اور تربیت یافتہ ترجمہ نگاروں سے معیاری ترجمہ کروایا گیا ہو۔ اس ضمن میں سنجیدہ اقدام کی اشدضرورت ہے۔آپ کا سوال ان کتابوں سے متعلق ہے جن کا انگریزی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔ تو ایسی کتابیں بے شمار ہیں۔ آٹھ دس یا پندرہ بیس نہیں جن کے نام گنوائے جاسکیں۔ تین سو برس یا اس سے کچھ زیادہ کا احاطہ کیا جائے اور سرسری طور پر بھی فہرست تیار کی جائے تو ان گنت کتابیں ہیں جنھیں دوسری زبانوں میں منتقل کیا جانا چاہیے۔جس طرح لوگ روسی، ہسپانوی،، عربی، جاپانی اور دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب ترجموں کے ذریعے پڑھتے ہیں، اسی طرح ہمار ادب بھی دنیا بھر میں پہنچنا چاہیے اور پڑھا جانا چاہیے۔ کلی طور پر اُردو ادب کا سرمایہ ایسا ہے اور اتنا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی جامع اور مضبوط شناخت قائم ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ترجمے کے بغیر ممکن نہیں‘ لیکن شرط موثر منصوبہ بندی، مناسب وسائل اور بہترین معیار ہے۔

تصنیف حیدر:ہندوستان میں لکھنے والی کن عورتوں سے آپ واقف ہیں؟

یاسمین حمید:ہندوستان کی جن خواتین کو میں نے پڑھا ہے ان میں کچھ تو بہت ہی مشہور و معروف ہیں جنھیں سب ہی پڑھتے ہیں: امرتا پریتم، قرۃالعین حیدر، عصمت چغتائی، جیلانی بانو، اور پھر ارون دھتی رائے کی کوئی بھی کتاب آئے تو پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے۔ بعض ہندوستانی نثراد خواتین جو امریکہ میں ہیں ان میں انیتا ڈیسائی اور جھمپا لہری کو پڑھا ہے۔ گیتاپٹیل کی میرا ؔ جی پر کتاب مجھے بہت پسند ہے۔ پھر مہر افشاں ہیں جن سے رابطہ بھی رہتا ہے۔ ان کے علاوہ شاعروں میں مجھے شفیق فاطمہ شعریٰ کے کلیات کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ کتاب کراچی سے تقریباً پندرہ سولہ برس پہلے شائع ہوئی تھی اور اس کا طویل تعارف حمید نسیم نے لکھا تھا:
دکھ رہا ہے دل بہت، کوئی ہے جو بانٹ لے
ایسے روزوشب کا بار، ایسی زندگی کا درد
فرصتِ ازل ملی ، مہلتِ ابد ملی
اور ہر نفس کے ساتھ تاک میں لحد ملی
زاہدہ زیدی اور ساجدہ زیدی کی نظمیں بھی یہاں شائع ہوتی رہی ہیں۔ داراب بانو وفا سے تئیس برس پہلے دوبئی کے ایک مشاعرے میں ملاقات ہوئی تھی۔اس کے علاوہ جن خواتین کے تحقیقی کام سے میں نے استفادہ کیا ہے ان کا ذکر میں اس سے پہلے کر چکی ہوں۔ پھر کچھ ہندوستانی خواتین ہیں جن کی شاعری کا میں نے اُردو میں ترجمہ کر رکھا ہے لیکن وہ ابھی شائع نہیں ہوا۔ ان میں کملا داس، نونیتا دیب سین ، نو کانتا پروا، پدماسچدیو، وملا رتنا کمار، سگاتھا کماری اور چند اور بھی ہیں۔

تصنیف حیدر:اُردو ادب میں نئی نسل میں کوئی ڈھنگ کی ایسی ادیبہ نظر نہیں آتی جس کی تخلیقیت یا ادبی فہم کا حوالہ دیا جاسکے کیا آپ کے نزدیک ایسا کوئی نام ہے؟

یاسمین حمید: ادب میں کوئی چھوٹی موٹی جگہ بنانے کے لیے بھی ایک عمر کی ریاضیت درکار ہے۔ یہ کام نہ تو کسی منصوبے کے تحت کیا جاسکتا ہے‘ نہ ہی کسی جادو کی چھڑی کے ذریعے ۔ سچی لگن‘ صلاحیت اور محنت ہی ہے جس سے کچھ حاصل ہو تو ہو اور اس کے بارے میں بھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ دیکھیے‘ بہت سے لکھنے والوں میں جہاں بہت سی خامیاں ہوتی ہوں گی وہاں کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ انھیں وقت دینا چاہیے اور موقع دینا چاہیے۔ کسی کی کاوش کو یکسر رد کر دینا مناسب نہیں۔ اول اول بعض اوقات یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ کون لکھنے والا کتنی سانس کھنیچ سکے گااور کبھی کبھی اندازے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔ پھر ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بہت بڑے تخلیق کار آئے دن پیدا نہیں ہو تے ۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔آپ نے پھر خواتین کے بارے میں ہی سوال کیا ہے تو ایسا ہے کہ کچھ خواتین کچھ عرصے سے یکسوئی سے لکھ رہی ہیں۔ انھیں لکھنے دیجیے اور انتظار کیجیے۔ جلدی کیا ہے۔ شاعری میں حمیدہ شاہین کا نام پچھلے چند برسوں میں نمایاں ہوا ہے۔ تنقید میں نجیبہ عارف کی تحریر کی میں بہت قائل ہوں۔ ثروت زہرا اچھی نظم لکھ رہی ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی چند خواتین ہیں جو مستقل مزاجی سے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ تو دیکھیے۔ بہت سی باتوں کا فیصلہ تو وقت کرتا ہے۔ویسے تو مردوں کے خانے میں بھی اس وقت بڑا قحط ہے۔ نئی نسل میں ہمارے بڑوں کی جگہ لینے والا کیا کوئی ہے؟ کہیں کہیں اچھا شعرکہنے والے یا اچھی نثر لکھنے والے تو ہوں گے لیکن مکمل اور بھرپور تخلیقی شخصیت یا اس کے آثار بھی کہیں نظر آتے ہیں؟ ایسی شخصیت کی نشوو نما کے لیے وقت، محنت اور اخلاص درکار ہے۔ مصنوعی شہرت کی دوڑ اور مشاعرہ بازی اس کے لیے کافی نہیں۔ پھر بھی ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔جیسا کہ پہلے میں نے کہا، بعض دفعہ اندازے غلط بھی ہو جاتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *