منگل، 20 جنوری، 2015

فہمیدہ ریاض سے دس سوالات

فہمیدہ ریاض کا نام ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں، ان کی خدمات، ان کی تحریروں، ان کی شاعری سے وہ تمام لوگ واقف ہیں، جو ادب پڑھتے لکھتے ہیں۔فہمیدہ ریاض تک یہ سوالات میرے لیے سدرہ سحر عمران نے پہنچائے اور ان کے جوابات بھی حاصل کیے، اس کے لیے میں سدرہ کا بے حد شکرگزار ہوں، حالانکہ جوابات سے مکمل تشفی نہیں ہوتی اور کہیں ایک آدھا سوال بھی کچھ اوٹ پٹانگ قسم کا ہے، لیکن اس مکالمے میں کچھ باتیں اہم بھی ہیں۔مجھےیہ احساس اکثر پریشان کرتا تھا کہ قابیل کی ہونے والی بیوی'لیودا'، شاید یہی اس کا نام ہے، اردو کے شاعروں کا موضوع کیوں نہیں بن سکی؟وہ بھی تو مظلوم تھی، اور اس کی پریشانی تو یہ تھی کہ اول وہ سعادت مند تھی، دوسرے اقلیما سے کم خوبصورت تھی، اور اس سے کوئی شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا، دیکھا جائے تو لیودا کا کردارعورتوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے، جو سماج کے ساتھ ساتھ قدرت کے جبر کا بھی شکار ہوتی ہیں۔فہمیدہ ریاض نے اس انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ یہ موضوع اردو شاعری کے لیے 'ایک نئے آئیڈیے' کی حیثیت رکھتا ہے۔امید ہے کہ مکالمہ آپ سب کو ضرور پسند آئے گا۔

تصنیف حیدر:آپ اس ہنگامی دور میں شعر و شاعری یا ادب کو کتنی اہمیت دیتی ہیں؟کیوں؟

فہمیدہ ریاض:نوعمری سے ادب پڑھنے اور لکھنے کی وجہ سے اب یہ ایک فطرت سی بن گئ ہے

تصنیف حیدر:آپ کی نظم اقلیما ایک اہم نظم ہے۔اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ شاعری کرتے وقت ہابیل کی ہونے والی بیوی کو تو یاد رکھا جاتا ہے، مگر قابیل کی ہونے والی بیوی،جو کہ واقعی مظلوم رہی ہوگی، جس سے کوئی شادی ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس پر توجہ نہیں دی جاتی؟

فہمیدہ ریاض:واقعی یہ تو ایک نیا آیئڈیا ہے لیکن کہانی میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔ کہانی یہ ہے کہ ایک لڑکی سے دو لڑکے شادی کرنا چاہتے تھے ۔۔لیکن چلو اب لکھوں گی ۔۔بہت ساری لڑکیوں کو اس پر نظم لکھنی چاہیئے ، اور ایک کمپیٹیشن کریں تو کیسا رہے ؟

تصنیف حیدر:قلوپطرہ جیسی عورتوں کو آپ جیسی اہم فنکار عورت کی آنکھ کیسے دیکھتی ہے؟

فہمیدہ ریاض:میں نے ایک فلم دیکھی تھی کلیوپیٹرہ ۔ اس میں ایلزبیتھ ٹیلر قلوپطرہ بنی تھی ۔ وہ مجھ کو قلوپطرہ جیسی نہیں لگی تھی ۔ قلوپطرہ مصریوں کی پرانی نسل کی تھی ۔ اس کی شکل و صورت کچھ ایسی ہونی چاہیئے جیسی تصویریں قدیم مصری برتنوں پر بنی ہوتی ہیں ۔ وہ ملکہ تھی ۔۔تو اس کے سر پر تاج وغیرہ ہوگا ۔

تصنیف حیدر:مجھے لگتا ہے کہ ابھی تک اردو ادب میں امام حسین کی بہن زینب کو جرات اظہار کے استعارے کے طور پر نہیں پیش کیا گیا،کیا آپ اسے اردو والوں کی ذہنی کم مائگی نہیں کہیں گی؟کیوں؟

فہمیدہ ریاض:لیکن میں نے تو بی بی زینب پر نظم لکھی ہے ۔ انڈیا میں اس محرم میں اخبار سہارا میں اور یہاں دنیا ذاد میں شائع ہوئی ہے ۔ اس کے آخری شعر تو یاد بھی ہیں
اس قدر مظلومیئت اور ایسا خطبہ پر جلال
مل نہیں سکتی ہمیں تارخ میں ایسی مثال
پیش کرتی ہے انہیں انسانیئت زریں خراج
آپ کے سر پر رکھا ہے عالم نسوان نے تاج
فرھت رضوی سے مانگیں تو پوری نظم مل جاے گی ۔۔اس نے منگوائ تھی

تصنیف حیدر:ہندوستان کی کون سی لکھنے والیاں آپ کی دوست ہیں اور بہتر لکھ رہی ہیں؟

فہمیدہ ریاض:ہندوستان میں لکھنے والیاں تو نہیں ۔۔کچھ لکھنے والے میرے دوست ہیں ۔۔وبھوتی ناراین راے ، اصغر وجاہت ، منگلیش ڈبرال وغیرہ ۔۔ صغرا مہدی سے بہت دوستی تھی ۔ جن لکھنے والیوںکو پسند کرتی ہوں وہ دور دراز شہروں میں رہتی ہیں،امرتا پریتم سے دوستی نہیں گہری محبت تھی۔۔وہ اب نہیں رہیں ۔ صغرا بھی چلی گیئں،عصمت چغتائ اور قرۃ العین حیدر سے ملی تھی ۔ انکی مرید تھی بلکہ ہوں ۔

تصنیف حیدر:نئے شعری و ادبی منظرنامے سے، یعنی نئی نسل سے آپ کس حد تک واقفیت رکھتی ہیں، خاص طور پر جو ادھر دس سالوں میں سامنے آئی ہے۔

فہمیدہ ریاض:رسالے پڑھتی رہتی ہوں اس لیئے واقفیئت تو ہوگی ۔۔کتابیں بھی پڑھتی رہتی ہوں ۔۔مجھے سوشل میڈیا پر بہت اچھے شاعر نظر آئے۔

تصنیف حیدر:آپ نےڈکشنری بورڈ میں ایک بڑا عہدہ سنبھالا تھا، کیاآپ نے اپنی شاعری میں بھی نئے اور نامانوس لفظوں کی کھپت کی تکنیک استعمال کی ہے؟

فہمیدہ ریاض:ایک سندھی کی شاعرہ ہے ، امر سندھو ، اس نے لکھا تھا کہ میں شاعری کرتے ہوئے وہ الفاظ لکھ جاتی ہوں جن کے بارے میں مجھے علم بھی نہیں ہوتا کہ میں ان کو جانتی ہوں ۔۔وہ کہیں میرے لا شعور میں ہوتے ہیں ۔۔کتنی چونکا دینے والی بات کہی تھی اس نے ۔ بعض ادبی دوست میرے ڈکشن پر بات کرتے ہیں ۔۔واقعی لاشعور میں زبان ہوتی ہے ۔ میں نے ایک نظم ایک لفظ کے گرد لکھی ۔۔لیکن نامانوس الفاظ جان بوجھ کر نہیں لکھے ۔۔اس قسم کی ، یا اس سے ملتی جلتی قسم کی تجرباتی شاعری افتخار جالب اور ناجی نے لکھی تھی ۔ وہ تو مجھ کو اچحی نہیں لگتی ۔۔میں شاعری کا بہت احترام کرتی ہوں ۔۔اس میں نامانوس لفظ نہیں لکھتی۔ڈکشنری بورڈ میں ملازمت کا حاصل کچھ کہانیاں ہیں اور ایک نظم جو یوں شروع ہوتی ہے ۔۔
بناتے ہیں ہم ایک فرہنگ نو
جس مین ہر لفظ کے سامنے درج ہیں
وہ معانی جو ہم کو نہیں ہیں پسند

تصنیف حیدر:غزل کے تعلق سے آپ کے کیا خیالات ہیں؟

فہمیدہ ریاض:غزلیں فارسی اور اردو کی بہت لاجواب ہوتی تھیں ۔۔وہ نہ صرف صنایع و بدایع سے مرصع تھیں بلکہ ان میں تصوف نے تہہ داری پیدا کردی تھی۔اس موضوع پر تو ایک مضمون لکھا جا سکتا ہے کہ غزل اور تصوف کا کیسا جدلی رشتہ ہے ۔۔لیکن میرا خیال ہے کہ وہ زمانے اب نہیں رہے ۔۔اصناف سخن کے زمانی دور ہو سکتے ہیں ۔۔بیشتر غزل اب تک بندی رہ گئ ہے جس کو مشاعروںکی واہ واہ نے زندہ رکھا ہوا ہے ۔ ۔اس کے باوجود بعض دفعہ اب بھی کسی کسی شعر میں اور بعض دفعہ پوری غزل میں دمک نظر آجاتی ہے ۔۔میرا خیال ہےکہ آرٹ کے بارے میں جو نظریہ بنایا جائے وہ فورا غلط ثابت ہوجاتا ہے ۔ میرا خیال بھی غلط ہو سکتا ہے ۔ غزل کی اتنی بہتات ہے اور اتنی لکھی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ بالکل نیا روپ لے لے اور مشاعروں کی واہ واہ سے بڑھ کر سنجیدہ ادب پر بھی چھا جاے ۔ کون کہہ سکتا ہے ؟

تصنیف حیدر:ادھر آپ کچھ سیاسی قسم کی نظمیں کہنے لگی ہیں،جن میں تخلیقیت بالکل نہیں ہوتی، کیا آپ انتشار زدہ دور میں شاعری سے کام لینے کے لیے اس میں سے شاعری کا وصف ہی نکال باہر کرنے کے حق میں ہیں؟

فہمیدہ ریاض:سیاسی نظمیں تو میں شروع سے لکھ رہی ہوں ۔'تم بالکل ہم جیسے نکلے 'یہ بھی تو ایک سیاسی نظم ہے ۔۔اس میں نہ تشبیہ نہ استعارہ نہ زبان شاعرانہ ہے ۔۔لیکن جو دل نے محسوس کیا جس زبان میں ویسا ہی لکھا ۔یہ ہو سکتا ہے کہ جو کچھ میں لکھتی ہوں ، مجموعی طور پر اس پیمانے میں نہیں سما سکتا ہو جو اردو میں ابھی تک چلے ہیں ۔۔نئے پیمانے بنانے پڑیں گے یہ لکھ کر بور ہو رہی ہوں کہ اس کو خود تعریفی نہ سمجھا جاے ۔۔لیکن میری تو سمجھ میں اور کچھ نہیں آتا۔ جسے آپ تخلیقی جوہر کہہ رہے ہیں وہ کیا ہے ؟

تصنیف حیدر:آپ سے اگر اپنے کسی شعری مجموعے کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ کسے زیادہ پسند کریں گی، جس میں آپ کی نمائندگی زیادہ بہتر طریقے سے ہوئی ہو اور کیوں؟

فہمیدہ ریاض:سب کتابیں زندگی کے مختلف ادوار کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ مجھ کو کونسا دور پسند ہے ؟ کوی بھی اتنا خاص نہیں ۔۔یہی خیال آتا ہے۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *