پیر، 19 جنوری، 2015

غزل مشکل ہے

وقت دھیرے دھیرے بدل رہا ہے۔اور بدلتے وقت کے ساتھ صرف زبانیں ہی دھندلی نہیں ہوجاتیں، ان میں لکھی گئی اصناف ہر زمانے میں زندہ رہنے یا نہ رہنے کا جواز ڈھونڈ لیتی ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ شاعری کوئی جامد شے نہیں۔اس کے بندھے ٹکے اصول نہیں، وہ بس وقت کے اعتبار سے اپنی ہیتیں بدل کر سامنے آتی ہے۔چونکہ پرانی اقدار، تہذیب وغیرہ سے بندھے رہنا ہماری فطرت ہے، خود میری بھی۔اس لیے یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ہم عبادت کی حدتک ان چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں۔آپ عام زندگی میں دیکھ لیجیے، ہمارے یہاں کتنی ایسی باتیں آپ کو مل جائیں گی، جس میں بزرگ اپنی کوئی بات منوانے کے لیے صرف ایک دلیل دیتے ہیں،'بڑے بوڑھوں نے کہا ہے'، یہ بڑے بوڑھے دراصل ہماری تہذیب، ہمارے اقدار، ہمارے بنائے گئے ثقافتی اصولوں اور مذہبی خیالات کا استعارہ ہیں، بڑے بوڑھے ختم نہیں ہوتے، بڑے بوڑھے مرتے نہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہیں ہم نے کبھی مارنے کی کوشش نہیں کی۔پھر یہ بڑے بوڑھے رفتہ رفتہ ہمیں زندگی میں خود سے منافقت کا عادی بنادیتے ہیں، ہم جن چیزوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہیں، ان سے بچنا، ان سے دامن چھڑانا ہمارے لیے مشکل ہی نہیں، بعض معاملات میں نا ممکن ہوجاتا ہے۔اس کی مثال میں کہیں اور سے نہیں لائوں گا، خود اپنے آپ سے دوں گا کہ مذہبی باتوں اور احکام کی کھلی اڑانے کے باوجود نہاتا میں آج بھی اسی طرح سے ہوں، جس طرح بچپن میں مجھے غسل سکھایا گیا تھا۔غزل بھی اسی قسم کی ایک منافقت کی عادت کے علاوہ اب اور کچھ نہیں ہے، اگر کوئی ایسی طاقت ہوتی ، جو مجھ کو مجھ سے ایک دن کے لیے الگ کرسکتی، تو میں اپنی شاعری کا وہ بیشتر حصہ پھاڑ دیتا، جو غزل پر محیط ہے۔میں نے غزل کہنا شاید دس بارہ سال کی عمر سے شروع کردیا تھا، اور ابھی کچھ روز پہلے اس عادت نے اپنے انیس ، بیس سال مکمل کرلیے ہیں۔مگر اپنے ذاتی تجربے کے اعتبار سے صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ غزل کسی بھی بڑی اور اہم بات کے لیے بالکل موزوں صنف نہیں ہے۔اس میں وہ بات آپ پورے طور پر کہہ ہی نہیں سکتے، جو آپ نظم میں کہہ سکتے ہیں، افسانے میں، ناول میں، حتٰی کہ دو چار سطروں پر محیط ایک مختصر کہانی آپ کے اظہار کا بہتر وسیلہ ہوسکتی ہے۔غزل کل بھی ایک جھوٹی صنف سخن تھی، اور آج بھی ہے۔میں یہ اس لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ میں غزل کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں، یہ بلا جو میرے سینے سے گزشتہ کئی سالوں سے ایسے چمٹی ہے کہ میری شناخت کا ایک اہم حوالہ بن گئی ہے، اس کی میں مخالفت نہیں کرسکتا، مگر میر سے لے کر غالب تک، اور ظفر اقبال سے لے کر ادریس بابر تک، کسی کے یہاں بھی مجھے غزل میں کوئی بڑا خیال دیکھنے کو نہیں ملا۔ہاں ، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ غزل انوکھی بات کہہ دیتی ہے، کچھ نیا کہہ دیتی ہے۔مگر یہ نیا، یہ انوکھا کبھی بڑی شاعری نہیں بن سکتا، مقبول ہوسکتا ہے، یاد ہوسکتا ہے، اہم ہوسکتا ہے۔شاید ایسا اس لیے ہے کیونکہ غزل زندگی کی کسی بھی تجربے، کسی بھی احساس کو جزئیات کے ساتھ آپ کے سامنے پیش نہیں کرسکتی۔وہ بس ایک منظر پیدا کرسکتی ہے، جسے آپ دور سے دیکھ رہے ہوں، جس کے بارے میں آپ یہ فیصلہ نہ کرسکیں کہ ابھی اس منظر میں اور کتنی باتیں تھیں، جو گہری تھیں، جن پر غور کیا جاناچاہیے تھا، اور جنہیں دیکھ پانا ممکن تھا، ایسا نہیں کہ بعض بڑے شاعروں کو یہ خیال آتا نہ ہو، وہ ایسا کرنا بھی چاہتے ہونگے، مگر غزل میں قافیے اور ردیف کی ایسی پخ لگی ہوئی ہے کہ اس کام کو کرپانا پوری طرح ممکن نہیں۔غزل میراجی، راشد، مجید امجد اور افضال احمد سید اور عذرا عباس جیسے شاعر نہیں پیدا کرسکتی۔شاید یہی وجہ ہے کہ مشاعرے ہمارے یہاں ذہنی مفلوجیت طاری کرنے اور ادبی طور پر لوگوں کو غیر معیاری ذہنیت عطا کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔اچھا ایک مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری اصناف میں یہ خرابیاں نہیں رہیں، اس لیے اگر وہ اچھی نہیں کہی جاسکیں تو عوامی بھی نہ بن سکیں اور ایسی رسوائی سے بچ گئیں، جو غزل کے دامن سے جڑی ہے، قصیدے ، مثنوی اور مرثیہ ہمیشہ ان لوگوں نے کہے، جو شاعری کے ساتھ ساتھ علم میں بھی طرہ امتیاز رکھتے تھے، رباعی چھوٹی صنف ہے، مگر اس کی بحر نے کبھی کسی بے ہودہ موزوں گو کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیا،پابند نظم ایک بہت سفاک صنف ہے،اس نے اقبال کے علاوہ شاید ہی کسی دوسرے شاعر کو ٹھیک سے تسلیم کیا اور کروایا ہو، اسی طرح آزاد اور نثری نظم میں زیادہ دیر تک کوئی شاعر قاری یا سامع کو بے وقوف نہیں بنا سکتا، کیونکہ وہ اپنے قاری یا سامع کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہیں۔لیکن غزل ہر اعتبار سے ان معاملات میں کمزور ہے۔اس کی سنجیدگی اسے بڑا نہیں بنا سکتی، مگر اس کے ساتھ ذرا سے کھلواڑ سے اس صنف کی عصمت دری کے بہتر طریقے ہر ایرے غیرے کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

مضمون نگار:تصنیف حیدر


1 تبصرہ:

MR.fakhir Mehmood کہا...

مجمون نگار سے اتقاق ممکن نہین ہے

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *