خالد جاوید سے دس سوالات

خالد جاویداس وقت ہندوستان کے گنے چنے فکشن نگاروں میں شاید سب سے اہم نام ہیں۔ان کے پڑوس میں رہتے ہوئے مجھے تقریباً چار پانچ سال سے زائد ہوگئے ہوں گے، مگر اس دوران میں شاید میری ملاقات ان سے پانچ چھ دفعہ ہی ہوئی ہے۔مگر ان کی تحریروں سے میری ملاقات ہمیشہ ہوتی رہی۔ابھی تک میں نے ان کا ناول نعمت خانہ نہیں پڑھا ہے، ان کی کہانیاں عام زندگی کی جزئیات کو دیکھتی ہیں، کھنگالتی ہیں، کسی معمولی سے آدمی کے اعصاب پر مادی اور سماجی قسم کے اصول کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں، اسے فلسفیانہ لہجے میں گوندھ کر انہوں نے ایک ایسی استعاراتی فضا بنائی ہے، جس کی بنا پر بہت سے دوسرے لکھنے والے تک ان کے اسلوب کو مشکل سمجھنے لگے ہیں۔موت کی کتاب، ان کا پہلا ناول تھا، جس نے ان کی شہرت کو مزید پرواز عطا کی۔یہ ناول اپنی طرز کا پہلا ایسا ناول ہے، جس نے اپنی نئی اسلوبیاتی قدریں پیدا کی ہیں۔ایسا جدلیاتی نظام جس میں عام آدمی کی نفسیات اور اس کے کرب او راشتعال کی لہریں سما سکیں پیدا کردینا کوئی عام بات نہیں ہے۔اس انٹرویو میں ان سے میں نے تقریباً ہر اس پہلو پر بات کرنی چاہی ہے، جس سے ان کی ذات، ان کی تحریر، ان کے اسلوب، ان کی فکر کی پرتیں کھل سکیں۔امید ہے کہ مکالمہ آپ سب کو پسند آئے گا،خاص طور پر ادب اور فلسفے کے تعلق سے کیا گیا سوال ، جس میں انہوں نے بہت اہم باتیں کی ہیں۔

تصنیف حیدر:لوگ آپ کے یہاں موت کی جمالیات کو بہت آسانی سے دیکھ لیتے ہیں مگر میرے نزدیک ’اشتہا‘ بھی آپ کا ایک اہم موضوع ہے۔آپ انسان کی بیمار اور کمزور نفسیات کا انگ انگ اچھی طرح دیکھتے اور دکھاتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟

خالد جاوید: میرا خیال ہے کہ موت کی اپنی کوئی جمالیات نہیں ہوتی، موت ہر قسم کی جمالیات کو اپنے اندر اسی طرح جذب کرلیتی ہے جس طرح بلیک ہول روشنی کو ۔تو میں نہیں سمجھتا کہ لوگ میری کہانیوں یا ناولوں میں موت کی جمالیات کو کسی طرح دیکھتے ہونگے۔ہاں! موت کا وجودیاتی احساس میرے یہاں ضرور پایا جاتا ہے اور یہ وجودیاتی احساس ایک تخلیقی تجربے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔مگر معلوم نہیں کہ لوگوں کے یہاں جمالیات کا کیا تصور ہے ، میری تو ساری تحریریں ہی جمالیات کے فرسودہ تصور کے خلاف ہیں۔آپ نے اشتہار کی بات کی ہے، میں کسی بھی شے یا جذبے کو موضوع بنا کر کبھی نہیں لکھتا۔میری دلچسپی زندہ انسان اور اس کے وجود سے ہے۔میں میلان کنڈیراکی اس بات کا قائل ہوں کہ جب تک آپ انسانی وجود کی کسی ایک پوشیدہ جہت کی دریافت نہیں کرتے آپ کا فکشن بیکار ہے۔تو معاملہ اشتہاکا ہو یا انسان کی بیمار یا کمزور نفسیات کا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے لکھنے سے انسانی وجود کے کسی تاریک گوشے پر روشنی پڑتی ہے یا نہیں، اور ہاں انسان کی بیمار اور کمزور نفسیات کیا ہوتی ہے؟ مجھے علم نہیں۔آپ نے اس کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے جیسے بیل یا گھوڑے کی کسی کمزور نسل کی طرف اشارہ کررہے ہوں۔میں انسان کو اسی کی وجودیاتی سطح پر سوچنے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں۔اپنے مضمون ’وجودیت اور جدید فرانسسیے ناول‘ میں رابرٹ جیسن لکھتا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہر ادبی فن پارہ لازمی طور پر وجودی ہوتا ہی ہے۔وجودی زاوےۂ نظر اور ادبی زاوےۂ نظر ایک دوسرے سے بہت مختلف نہیں ہے۔‘ مگر یاد رکھیے کہ میں تجریدی یا خالص علامتی بیانیے کا قائل نہیں ، جسے ہمارے یہاں وجودیت سے منسلک کرکے دیکھا جاتا رہا ہے۔میں حقیقت پسند بیانیے کا قائل ہوں، جس میں تخیل، جادوئی حقیقت نگاری اور فینٹسی سب کچھ سما سکتا ہے مگر تجرید نہیں۔اب میں آپ کے اس سوال کا جواب کیا دوں کہ یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے۔رائخ کی اس بات پر مجھے اب یقین آگیا ہے کہ ادیب اپنی تخلیقات اور عوامل تخلیقات کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں جتنا پرندے علم الطیر کے بارے میں۔

تصنیف حیدر:منٹو کے یہاں واقعات بہت تیزی سے رونما ہوتے ہیں، مجھے لگتا ہے اس میں طویل کہانیاں لکھنے کا دم خم نہیں تھا، اسی وجہ سے وہ زندگی میں بس ایک ناول لکھ سکا، جو کہ تخلیقی نوعیت کا کم سیاسی نوعیت کا زیادہ ہے۔آپ کے نزدیک منٹو کو کیا واقعی اس کمزوری نے نقصان پہنچایا یا نہیں؟

خالد جاوید:منٹو بہت ہی سچا اور بڑا کہانی کا رہے۔ہر فکشن نگار کی اپنی ایک ذہنی ساخت ہوتی ہے۔اگر منٹو نے طویل کہانیاں نہیں لکھیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا دیکھنا یہ چاہیے کہ جو اس کی دس پندرہ شاہکار کہانیاں ہیں اگر وہ طویل ہوتیں تو ان کا کیا حشر ہوتا، جہاں تک ناول نہ لکھنے کی بات آپ نے کی تو بورخیس نے بھی ناول نہیں لکھا، اس کی ساری شہرت کہانیوں کے حوالے سے اور وہ بھی طویل نہیں ہیں اور یہی معاملہ کیتھرین مینفیلڈ کا ہے۔آپ نیر مسعود کی مثال بھی پیش کرسکتے ہیں ۔مجھے علم نہیں کہ یہ منٹو کی کمزوری کہی جاسکتی ہے یا نہیں، کمزوری اگر اس کے یہاں میری دانست میں کوئی ہے تو وہ بلند و پست کا مسئلہ ہے، منٹو کی جو کہانیاں اچھی ہیں وہ بہت اچھی ہیں۔اردو ادب کو ان کہانیوں پر فخر ہونا چاہیے مگر جو معمولی ہیں وہ پھر کچھ زیادہ ہی معمولی مجھے نظر آئیں، یہ معاملہ راجندر سنگھ بیدی کے یہاں نہیں۔جسے میں ذاتی طور پر منٹو سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔دوسرے یہ کہ منٹو کے یہاں سنسنی خیزی بھی پائی جاتی ہے، سنسنی خیزی بری چیز نہیں ہے مگر اسے بیانیہ میں نمایاں طور پر نظر نہیں آنا چاہیے۔سنسنی خیزی کو بیانیہ میں اس طرح تحلیل ہوجانا چاہیے جس طرح فکر و فلسفہ ادب میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔اس عجلت پسندی نے ممکن ہے کہ منٹو کو کوئی نقصان پہنچایا ہو، مگر ہم بہرحال اس نقصان کا کوئی تخمینہ نہیں لگا سکتے اور نا ہی ہمیں یہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔منٹو کو جتنی کم عمر نصیب ہوئی اس کو دیکھتے ہوئے تو میں اس کے کارناموں پر رشک ہی کرسکتا ہوں۔

تصنیف حیدر:نقاد کی آپ نے ہمیشہ حمایت کی ہے، اس کے باوجود اردو کے ناقدین سے آپ کو جو شکایتیں ہوں، وہ بھی ہم جاننا چاہیں گے۔

خالد جاوید: آپ نے ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون ’تنقید کا منصب ‘ پڑھا ہوگا۔اس مضمون میں ایک بڑے پتے کی بات کہی گئی ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کہ فن اپنے علاوہ بہت سے مقاصد کو پورا کرسکتا ہے مگر دراصل خود فن کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ان مقاصد سے باخبر بھی ہو۔ایلیٹ نے ایک طرح سے تخلیق یعنی ادبی فن پارے کے لیے بے خبری کو شرط قرار دیا ہے اور تنقید کے لیے باخبری کو۔اب اس بات کی روشنی میں آپ صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اردو کے زیادہ تر نقاد بھی اب بے خبر ہی ہیں، اور یہ بے خبری تخلیق کار کی بے خبری سے مختلف اور خطرناک نوعیت کی شے ہے۔اردو کا نقاد ادب کی مابعد الطبیعات سے بہت کم واقف ہے۔دراصل تنقیدی شعور بجائے خود ایک فلسفیانہ شے ہے ، تنقید کا کام ادب کی پراسراریت کا احاطہ کرکے اسے اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرنا ہے۔آپ اس بات کو اس طور بھی سمجھ سکتے ہیں کہ تخلیق کار کے لیے شعوری طور پر کسی فلسفیانہ یا مابعد الطبیعاتی نظریے پر مبنی یا منحصر ہوکر لکھنا تو نہ تو ضروری ہے اور نا ہی مستحسن مگر تنقید بغیر فلسفیانہ دانشوری اور سوجھ بوجھ کے کسی تخلیق کی نہ تو تفہیم و تشریح کرسکتی ہے اور نا ہی تخلیق کے حسن تک اس کی رسائی ممکن ہے۔اردو کے زیادہ تر ناقدین کی تنقید ان عناصر سے خالی ہے۔ایک شکایت یہ بھی ہے کہ اردو کے ناقدین ہمیشہ فرمائشی مضامین لکھتے ہیں ان کی اصل ترجیحات کا علم نہیں ہوپاتا ۔اعلیٰ ادب تخلیق کرنے والے پر بھی ان کا مضمون نظر آجاتا ہے اور دوئم بلکہ سوئم درجے کے لکھنے والے پر بھی، اس سے ناقد کے معیار کے بارے میں شکوک میں مبتلا ہونا فطری بات ہے۔ایک خامی اور مجھے محسوس ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے ناقدین نے اردو کے عام قاری کو تربیت یافتہ بنانے کا فریضہ نہیں انجام دیا۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری تنقید میں تو جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات، پس ساختیات، تمام طرح کے ڈسکورس شامل ہوچکے ہیں، مگر اردو کے عام بلکہ خاص قاری کا یہ حال ہے کہ وہ آج بھی قرۃ العین حیدر کو ایک مشکل فکشن نگار سمجھتا ہے۔ہر زندہ نسل کو اپنی تنقید خود ہی تشکیل کرنا پڑتی ہے۔ہر دور اپنے گزشتہ دور سے ذہنی، سماجی، تہذیبی اور فکری اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ہر دور کی تشکیل میں تخلیق، تنقید کے ساتھ ساتھ قاری کا رول بھی بہت اہم ہوتا ہے، میرا خیال ہے کہ قاری کو تو تربیت یافتہ بنانے کا کام ناقد کا ہونا چاہیے تھا۔بہرحال اس سب سے قطع نظر میں نقاد کا احترام کرتا ہوں ، آپ نے میرے ناول ’نعمت خانہ‘ کا پیش لفظ نہیں پڑھا۔وہ تو لکھا ہی نقادوں کی حمایت میں گیا ہے۔

تصنیف حیدر: موت کی کتاب کی تصنیف کیسے عمل میں آئی، اس کو لکھنے کا خیال اور عرصہ ، یہ اہم معاملات ہمارے ساتھ شےئر کیجیے۔

خالد جاوید:اس قسم کے سوالوں کے جواب میں کیادوں،مجھے خود جواب کا علم نہیں۔اور اب چونکہ یہ پرانی بات ہوچکی ہے اور میرے شعور کا حصہ بھی نہیں ہے تو اور مشکل ہوجاتی ہے۔ایک دھند سی ہے میرے ذہن میں، میں نے ایک سائنس میگزین میں ایسے بچوں کے متعلق پڑھا تھا جن کے سر پر رحم مادر میں ہی ٹھوکر لگ چکی تھی، بس اتنا ہی تھا۔اسی کے بعد جنوری گیارہ کی ایک سرد اور تاریک رات تھی، جب میں نے یونہی قلم اٹھالیا،پھر چالیس دن لگے تھے۔اس دوران چار گھنٹے روز لکھتا رہا،موت کی کتاب انہی ایک سو ساٹھ گھنٹوں کا نام ہے ۔ان چالیس دنوں میں نے شیطان کا ہذیانی قہقہہ بھی سنا اور دنیا کو خرابے میں تبدیل ہوتے ہوئے بھی محسوس کیا ، اپنے گوشت پوست اور ہڈیوں سمیت۔اس کے بعد کی داستان آپ جانتے ہی ہیں۔میں اور کوئی جواب دینے سے قاصر ہوں، ہاں آپ نے بات چھیڑی ہے تو اتنا ضرور کہوں گا کہ لوگ میری تحریروں میں موت کو محدب شیشہ لگا کر تلاش کرلیتے ہیں مگر انہیں میری تحریروں میں دنیا کی پرت پرت میں پوشیدہ مضحکہ خیزیوں اور حماقتوں کا پتہ نہیں چل پاتا۔لوگوں کو میرے کرداروں کے حوالے سے بلیک ہیومر بھی نظر نہیں آتابس مایوسی ، بیماری اور گھٹن ہی نظر آتی ہے۔میرا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حواس اور اعصاب مضبوط کرنے کے لیے معجون کھانا چاہیے کیونکہ اب بازاروں میں anti-depressantدوائیں آسانی سے نہیں مل پائیں گی، ان پر Narcotics actنافذ کردیا گیا ہے۔

تصنیف حیدر:ادب اور فلسفے کے تعلق سے آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے اور آپ کی کہانیوں میں اس امتزاج کی نمائندگی مکمل طور پر ہوپائی ہے یا نہیں؟

خالد جاوید:تصنیف صاحب! ادب محض تخیلی اڑان کا نام نہیں ہے یا یہ کہنا بھی زیادہ قابل قبول نہیں کہ ادب میں تخیل عقل سے اور عقل تخیل سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، یہ ہم آہنگی ایک الگ شے ہے اور یہ ادبی تحریر کی کوئی واحد یا لازمی شرط نہیں قرار دی اسکتی، اس سلسلے میں ، میں W.B.Teatoکا یہ قول نقل کرنا چاہوں گا کہ ’ہماری عقل ان تجربات سے منطقی نتائج اخذ کرنا چاہتی ہے جو ہمارے حواس خمسہ کی رہین منت ہیں، مگر تخیل ان تجربات تک رسائی کا خواہش مند ہے جو ہماری حسیات سے ماورا، اشیا کے باطن سے متعلق ہیں، ان تجربات مںے بھی ایک آپسی رشتہ ہوسکتا ہے، اس رشتے کو سمجھنے کے لیے تخیل اپنی منطق کو بروئے کارلاتا ہے۔تخیل کی یہ منطق اور اشیائے باطن کا یہ پراسرار پہلو ہر ادبی تحریر کو چاہے وہ شاعری ہو یا فکشن ، ایک مابعد الطبیعاتی جہت عطا کرتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں کوئی بھی فن پارہ فلسفے کے کناروں کو چھو چھو کر گزرتا ہے۔‘دریدا نے بھی قبول کیا ہے کہ ایک زمانے تک وہ فلسفہ اور ادب دونوں میں سے کسی ایک کو رد کرتے ہوئے ہچکچاتے رہے۔دریدا کی یہ ہچکچاہٹ اس نکتے میں پوشیدہ تھی کہ فلسفہ ایک علم کے بطور اس زمانے کے ادب، خاص طور سے کامیو اور سارتر کی تحریروں میں وافر مقدار میں اکھٹا ہورہا تھا، یہ امر دریدا پر بہت بعد میں واضح ہوا کہ ہر ادبی تحریر کی ماہیت اور اس کے جز میں یہی فلسفیانہ پہلو شامل ہوتے ہیں۔اسی کے بعد جب دریدا نے شیکسپئر کے ڈرامے رومیوجولیٹ کے متن کا دوبارہ مطالعہ کیا تو اسے ان کناروں کا علم ہوا جن کی حدود کو پار کرکے وہ ادبی متن فلسفے کو چھو چھو کر واپس آتا ہے۔دریدا کے مشہور زمانہ نظرےۂ رد تشکیل کا آغاز اسی مقام سے ہوتا ہے۔ادب کا دوسرا کام یہ بھی ہے کہ وہ کائنات کی تشریح میں دلچسپی نہیں رکھتا۔وہ تو کائنات کی پرتوں کو ایک سلسلے سے منسلک کرتے ہوئے ، اسے ایک مکمل زندہ شے میں دیکھنا چاہتا ہے یعنی وہ کائنات کو ورق ورق نہیں کرتا بلکہ کائنات کی جزوبندی کرتا ہے۔ادب کی یہ جزوبندی اس عقلی سطح پر نہیں ہوتی جو فلسفے سے مخصوص ہے۔سہل پسندی سے کام لیتے ہوئے، یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ادب یہ کام خالص احساس کی سطح پر کرتا ہے لیکن احساس اور عقل آپس میں اتنی متضاد اشیا نہیں ہیں، دونوں کی اپنی اپنی منطق ہوتی ہے۔احساس کی منطق کا تلعق باطنی دنیا سے ہوتا ہے مگر یہ کسی فلسفیانہ بصیرت سے خالی نہیں ہوتی۔احساس کو فلسفے سے باہر رکھنا سہ انگاری تھی اور فلسفے کے مابعد الطبیعاتی گوشے پر صرف عقلی سطح سے روشنی ڈالنے سے بھی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آنا۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ آسانی کے ساتھ ادب اور فلسفے کی درجہ بندی نہیں کرسکتے۔فلسفہ، انسان، کائنات اور خدا کے باہمی رشتے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔فلسفہ زیادہ تر، مجرد تصورات سے سروکار رکھتا ہے۔اب ادب پارے کی طرف توجہ کریں، کوئی بھی ادب پارہ بلکہ کوئی بھی تحریر چاہے وہ کاروباری نوعیت کی ہی کیوں نہ ہو، شعوری یا لاشعوری طورپر ان موضوعات سے یکسر عاری نہیں ہوسکتی۔یہ اور بات کہ اکثر سماج اور معاشرے کے مروجہ الفاظ و خیالات کثرت استعمال سے گھس گھس کر کلیشے کی شکل اختیار کرچکے ہوں اور ہم انہیں فلسفے کے بھاری بھرکم نام کے تحت دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش ختم کرچکے ہوں ورنہ آئین رینڈ نے اپنی کتاب Philosophy, who needs itمیں لکھا ہے ’کسی انسان کو کرہ ارض سے اٹھا کر ایک اڑن طشتری کے ذریعے کسی دوسرے کرہ ارض پر پہونچادیجیے۔جہاں وہ ایک لمبی نیند سے جاگے اور اپنے آس پاس کی یکسر نامانوس دنیا کا مطالعہ کرے تو اس کے ذہن میں اپنے آپ سے اور اپنے ماحول سے جو سوالات قائم ہوں گے وہ خالص طور پر فلسفیانہ ہونگے۔‘جو حضرات فلسفے کے نام سے بھڑکیتے ہیں اور ادبی تنقید کے لیے صرف ادبی معیار کو ہی ضروری اور مستحسن قرار دیتے ہیں۔وہ ایک طرح سے غلط فہمی کے شکار ہیں کیونکہ کسی بھی خالص ادبی معیار کا وجود ممکن نہیں ، ہر ادبی معیار کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفہ ضرور ہوتا ہے۔آپ نے میری کہانیوں کی بات کی تو اس سلسلے میں ،میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ظاہر ہے کہ ادب اور فلسفے کے تعلق سے میرا نقطۂ نظر لاشعوری طور پر میری کہانیوں پر اثر انداز ہوا ہوگا، مگر لکھتے وقت یہ سب میرے ذہن میں نہیں رہتا۔

تصنیف حیدر: امراؤ جان ادا، توبتہ النصوح، فسانۂ آزاد، فردوس بریں اور شہاب کی سرگزشت کے دور کے کون سے ناول آپ کو پسند ہیں اور کیوں؟

خالد جاوید:مجھے امراؤ جان ادا بہت پسند ہے اور میں یہاں ایک امر کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ اس ناول کو پہلے میں نے یونہی پڑھ کر نظر انداز کردیا تھا۔ذہنی طور پر آپ ہر وقت ایک ہی سطح پر ہوں، یہ ضروری نہیں۔مگر جب میں نے آصف فرخی کا امراؤجان ادا پر تحریر کردہ مضمون ‘پرندہ پنجرہ ڈھونڈتا ہے‘پڑھا تو میری آنکھیں کھل گئیں۔آصف فرخی کا یہ مضمون فکشن کی تنقید کا ایک سنگ میل ہے۔اس مضمون نے میری تربیت کی مجھے اس ادبی متن کو سمجھنے کے لیے بصیرت فراہم کی، اس مضمون نے مجھ پر روشن کیا کہ امراؤ جان ادا، اردو فکشن کا پہلا وجودی کردار ہے۔بہرحال امراؤ جان ادا کے بارے میں غلط خیال ہے کہ وہ ایک سوشل ناول ہے۔امراؤ جان ایک وجودیاتی ناول ہے۔جس دور کا آپ نے ذکر کیا ہے نہ صرف اس دور میں بلکہ ہر دور میں اس شاہکار ناول کی اہمیت برقرار رہے گی۔قطع نظر ، ایک وجودی کردار کے ناول کا بیانیہ بجائے خود اپنے آپ میں جدیدترین فکشن کے عناصر کا حامل نظر آتا ہے۔

تصنیف حیدر: ابوالفضل صدیقی کی ادبی خدمات کے تعلق سے آپ کے تنقیدی خیالات کیا ہیں؟

خالد جاوید:میں ابوالفضل صدیقی کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات پر تفصیل کے ساتھ اپنے مضمون ’ابوالفضل صدیقی اور بکسوں والی کوٹھری‘ میں کہہ چکا ہوں، میرے خیال میں دوسرا کوئی ابوالفضل صدیقی نہیں پیدا ہوا۔میرا مطلب ہے کہ وہ اتنے انوکھے اور بانکے لکھنے والے ہیں کہ ان کی تقلید بھی نہ ہوسکی وہ اردو کے واحد افسانہ نگار ہیں جہاں Behaviourismنے باقاعدہ ایک فن کی صورت اختیار کرلی ہے۔Behaviourismکو فن بنا کر ہی ان کے افسانے دلچسپی کی انتہائی حدود کو پہنچ گئے اور یہیں سے لوگوں کو ان کے اسلوب پر یہ گمان گزرا کہ وہ اردو کے داستانی ادب کی کڑی معلوم ہوتے ہیں۔جہاں تک لکھنے کے انداز کا سوال ہے وہ اپنے انداز کے موجد اور خاتم دونوں ہیں۔انداز کے معاملے میں ان کا موازنہ نہ تو پریم چند سے کیا جاسکتا ہے اور نہ سید رفیق حسین سے۔انہوں نے ایک طرف دیہی سماجی نظام زندگی کا ایپک لکھا ہے تو دوسری طرف جنگل اور جانور کا مہا بیانیہ بھی۔مگر میرا خیال یہ بھی ہے کہ ابوالفضل صدیقی کے پہلے sportsmanافسانہ نگار ہیں۔افسانہ لکھنا اور شکار کھیلنا ان کے لیے ایک جیسا ہی تھا، وہ افسانہ ایسے ہی لکھ لیا کرتے تھے، جیسے کسی جنگلی جانور کا شکار کرلیا ہو۔ان کا تخلیقی محرک بالکل پیچیدہ نہ تھا۔ان کے کسی افسانے سے یہ سراغ نہیں ملتا کہ وہ کسی گہرے ذاتی کرب یا تہہ دار تجربے سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے۔دراصل وہ فطری کہانی کار تھے، کہانی لکھنا ان کے لیے جوش و شوق اور جذبے کی تکمیل تھا نہ کہ کوئی گہری وجودی واردات یا انکشاف ذات کا وسیلہ۔ابوالفضل صدیقی نے جو فکشن لکھا ہے اسے پڑھ کر مجھے آرتھر ہیلی کا خیال آتا ہے جس کے ناول پڑھ کر ہم کسی ادارے یا نظام یا طرز زندگی اور تہذیب یا کلچر کی باریک سے باریک بنت کو جان سکتے ہیں۔ابوالفضل صدیقی اور فکشن ایک قسم کا دستاویزی فکشن ہے۔مثلاً انہوں نے پریم چند کی طرح صرف دیہاتی زندگی کی تصویر کشی ہی نہیں کی ہے بلکہ وہ ماہر دیہی سماجیات بھی نظر آتے ہیں۔یہ چیزیں کبھی ان کی خوبی نظر آتی ہیں تو کبھی ان کی کمزوری بھی۔

تصنیف حیدر: میلان کنڈیرا، مارکیز اور دوسرے اہم مغربی فکشن نگاروں نے آپ کو کس قدر متاثر کیا ہے؟ان سے آپ نے کیا سیکھا؟

خالد جاوید:میرا خیال ہے کہ آپ کو محض مغربی مصنفین کی قید نہیں لگانا چاہیے۔یہ ٹھیک ہے کہ میں نے اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے ادب کا بھی شوق سے مطالعہ کیا ہے مگر میں ادیب کو کسی زبان، ملک یا علاقے سے منسلک کرکے نہیں دیکھتا۔ادب آفاقی اور عالم گیر اقدار کا حامل ہوتا ہے۔آپ نے میلان کنڈیرا اور مارکیز کا ذکر کیا ہے میں ان کے علاوہ الیکزنڈر سولینٹین، دوستوفیسکی، ٹالسٹائی، کافکا، جیمس جوائس، سارتر، کامیو، پارلاگرکوئست، کورتازار، سیلا، برونوشلز، الٹرنڈ برگ، سموئیل بیکٹ اور کارلوس فیناٹوس سے بہت متاثر رہا ہوں۔ان مغربی مصنفین کے علاوہ فارسی فکشن نگارصادق ہدایت اور عربی ناول نویس، ہندی کے نرمل ورما اور مکتی بودھ مجھے بہت پسند ہیں۔ان ادیبوں کے ساتھ ساتھ اردو میں راجندر سنگھ بیدی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔مگر آپ کے سوال کے دوسرے جز کے جواب کے بطور میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان ادیبوں سے میں نے خود پر اعتبار کرنا سیکھا اور ان مصنفین کے مطالعے کے بعد ادب کے بارے میں میرے جو تحفظات تھے وہ اور بھی زیادہ مضبوط ہوگئے اور خاص طور سے یہ کہ فکشن کا اولین مقصد ضمیر کے صدر دروازے پر دستکیں دینا ہے نہ کہ کوئی جمالیاتی مسرت وغیرہ کا حصول، اگر کوئی ناول یا افسانہ آپ کو ڈسٹرب نہیں کرتا تو اس کی نوعیت تفریحی ادب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتی اور آخری بات یہ کہ ادب میں احتجاج تو ممکن ہے مگر ہر احتجاج کو بقول ایڈورڈ سعید سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہے ورنہ آخر میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ادب کو ہمارے ضمیر پر عائد کیے ہوئے ایک مقدمے کی صورت نظر آنا چاہیے۔

تصنیف حیدر: ابن صفی کو عام طور پر پاپولر رائٹر کہہ کر نظر انداز کیا جاتا رہا، مگر آپ نے ان کو اہمیت دی اور ان پر ایک مضمون بھی لکھا۔ابن صفی کو اتنا اہم جانتے ہوئے بھی آپ کا تخلیقی رجحان اور بیانیہ بالکل مختلف ہے۔یہ کیسے ممکن ہوا؟

خالد جاوید:ابن صفی کے ناول میرے والد میرے بچپن میں مجھے پڑھ پڑھ کر سناتے تھے ، بعد میں ابن صفی کے ناول پڑھ پڑھ کر ہی میں نے اردو سیکھی۔ابن صفی کے کرداروں نے مجھے بہت متاثر کیا ، بہرحال وہ ایک الگ داستان ہے ، ایک زمانہ وہ تھا جب ابن صفی میری کم عمری کے زمانے کا ہیرو تھا وہاں اسے پسند کرنے کے سلسلے میں میری جذباتیت کو بہت دخل رہا ہوگا مگر آج میں ابن صفی کو دوسری وجوہات سے پسند کرتا ہوں۔اس سلسلے میں آپ میرا مضمون ’ابن صفی:چند معروضات ‘ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔دیکھیے تصنیف صاحب! میں اتنا تنگ نظر نہیں ہوں کہ محض اپنے جیسے لکھنے والوں کو پسند کروںیا ادب عالیہ کے چکر میں ہی پڑا رہوں۔میں پاپولر لٹریچر کو بھی پڑھتا ہوں اور وہاں بھی میرا مقصد تفریح محض نہیں ہوتا، اس ادب میں بھی بصیرت کا دخل ہوتا ہے ۔ویسے تیسرے درجے کے لکھنے والے کہاں نہیں ہوتے۔تو جس طرح میں دنیا کے دوسرے کام کرتا ہوں، اس طرح ابن صفی کو پڑھتا ہوں مگر میرا تخلیقی وجودی تجربہ ایک قطعی ذاتی نوعیت کی شے ہے۔اسے یہاں گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔برسبیل تذکرہ میں آپ کو بتاؤں کہ گاندھی جی کی تحریریں بہت پسند ہیں، خاص طور سے ان کی کتاب ’ہند سوراج‘ جس کا ترجمہ میں نے اردو میں کیا ہے۔مگر ان چیزوں کا اثر میرے تخلیقی تجربے یا بیانیہ پر کس طرح پڑسکتا ہے۔کوئی بھی اوریجنل آدمی سکینڈ ہینڈ تخلیقی تجربے سے گریز کرنا چاہے گا، مگر چلتے چلتے یہ لطیفہ بھی سن لیجیے کہ بارہ سال کی عمر میں میں نے ابن صفی کی نقل میں ایک جاسوسی ناول ’کہرا‘ لکھا تھا۔جس کا ایک کردار میرا دوست شارق ، آج کا شارق کیفی بھی تھا۔اف۔۔۔آپ نے کیا زمانہ یاد دلادیا۔

تصنیف حیدر:تصوف، موسیقی، کھیل،پکوان، لباس ان سب معاملات میں آپ کو کیا کیا پسند ہے؟

خالد جاوید:اب مزیدار سوال کیا ہے آپ نے، بالکل شاید مزاحیہ سوال ہے۔موسیقی مجھے بہت پسند ہے، پنڈت شو پرساد شرما کا سنتور سنے بغیر مجھے نیند نہیں آتی اور صبح کو اگر محمد رفیع کے فلمی نغمے نہ سنتا رہوں تو یونیورسٹی جانے کی تیاری نہ مکمل ہوسکے۔موسیقی کے ذریعے میں دراصل ایک چپ، ایک خاموشی اور ایک سناٹے کو بہتر طور پر محسوس کرسکتا ہوں۔عدم کے سناٹے کو آپ اس طرح محسوس کرسکتے ہیں کہ کسی گیت یا ساز میں خود کو مکمل طور پر سپرد کردیں، گیت یا ساز کس طرح سناٹے کی طرف بڑھتا ہے ، یہ عرفان انہیں لمحات میں ممکن ہے۔اور تصنیف صاحب! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ سناٹا میرے بہت کام کی چیز ہے۔سناٹا ہی تو میرا گرو ہے۔تصوف کی طرف ابھی طبیعت مائل نہیں۔قابل رحم حد تک ریشنل واقع ہوا ہوں، کھیل کی طرف بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بلکہ اب تو آہستہ آہستہ کھیل کے خلاف ہی ہوتا جارہا ہوں۔ویسے بچپن میں ہاکی کھیلا کرتا تھا۔پکوان سے آپ کا کیا مطلب ہے میں سمجھا نہیں، بہرحال دلی کی نہاری کے سوا مجھے ہر قسم کا پکوان پسند ہے۔نہاری بھی اس لیے پسند نہیں کیونکہ دلی آکر یہ نہاری Intellectualہوگئی ہے۔دانش ور کھانے کھانے سے میرا ہاضمہ بگڑ جاتا ہے۔آپ نے میرا ناول نعمت خانہ نہیں پڑھا، اسے پڑھ لیں تو کسی سے بھی اس قسم کے سوالات دوبارہ نہیں کرپائیں گے۔جہاں تک لباس کا سوال ہے، تو بہت عام لباس پہنتا ہوں ، بس سفید رنگ کا نہ ہو۔جینز، پتلون، جیکٹ ، قمیص، کرتا پاجامہ، کوٹ سب کچھ۔بس مجھے وہ پتلون پسند نہیں ، جس کے پائنچے چلتے وقت زور زور سے ہلتے ہوں، کیونکہ ایسی پتلون کے ساتھ آپ اسمارٹ جوتے نہیں پہن سکتے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین