مبارک حیدر سے دس سوالات

مبارک حیدر صاحب کا نام سب سے پہلے اجمل کمال صاحب سے سنا تھا۔بعد ازاں وہ جب میری درخواست پر ریختہ کے دفتر تشریف لائےتوزمرد مغل نے وہاں بھی ان کا ایک انٹرویو لیا جو کہ یوٹیوب پر اب بھی موجود ہے۔انٹرویو کے بعد بھی ان سے کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ان کی کتاب 'تہذیبی نرگسیت'مسلمانوں کی ذہنی پختگی کو ایک الگ زاویے سے دیکھتی ہے۔ان کے خیالات معتدل ہیں اور وہ سسٹم کے درمیان رہ کر اسے درست بنانے کے قائل ہیں۔میں ان کا شکرگزار ہوں کہ اپنی دیگر مصروفیات کے باوجود انہوں نے میرے لیے وقت نکالا اور ان سوالوں کے جوابات دیے۔ہونے کو تو یہ جوابات بے حد مختصر ہیں، مگر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی مسائل کے مشاہدے کا ایک گہرا تجربہ پوشیدہ ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مسلمان غیر ملکی بادشاہوں اور لٹیروں کو تو اپنے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے کہیں نہ کہیں ایک بہتر مسلمان ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر مبارک حیدر جیسے افراد کو اپناآئیڈیل نہیں بناتے، جن کی فکریات اس معاشرے کے بہت سے مسائل کا سیدھا سچا حل فراہم کراتی ہیں۔

تصنیف حیدر:برنارڈ شا کا ایک مقولہ جتنا مشہور ہے کیا اتنا ہی حقیقی بھی ہے کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے اور مسلمان بدترین قوم''؟

مبارک حیدر:برنارڈ شا ایک کٹر ملحد تھا - یہ قرین قیاس نہیں کہ اس نے اسلام یا کسی بھی مذہب کی مدح میں کچھ کہا ہو - اگر اس کی یہ راۓ ہوتی تو وہ اسلام قبول کر لیتا -

تصنیف حیدر:'اسلامی جمہوریہ'جن ملکوں کے ساتھ یہ سابقہ یا لاحقہ لگا ہوا ہے۔وہ تضاد اور کنفیوزن کا شکار ہیں، کیونکہ اسلام میں جموریت کا تصور نہیں۔کیا یہ بات صحیح ہے؟

مبارک حیدر:کسی بھی مذہبی یا نظریاتی ڈاکٹرائن میں جمہوریت نہیں ہوتی - عیسائیت میں بھی نہیں تھی - ہاں ، کوئی معاشرہ اکر نیے اصول حیات کو پورے دل سے قبول کر لے تو کنفیوزن سے نکل سکتا ہے - لیکن مسلم معاشرے ایک طرف تو ساتویں آٹھویں صدی کے مسلم سیاسی نظام کو مکمل مانتے ہیں ، دوسری طرف جمہوریت کی طرف کھنچتے بھی ہیں ، اسلئے کنفیوزن کا شکار ہیں -

تصنیف حیدر:کیا روحانی تعلیم کے ذریعے دنیا کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لایا جاسکتا ہے؟

مبارک حیدر:روحانی آسودگی انسان کی ایک اہم امنگ ہے - لیکن روحانی تعلیم کیا ہے اور کیسی ہونی چاہئے اس کا فیصلہ آسان نہیں -
میری راۓ میں روحانیت تخلیقی تخیل کے عمل میں ہے ، سامنے کی صداقتوں سے آگے دیکھنے کے عمل میں ہے - یعنی غیر حیوانی دانش میں ہے - یہی دانش فرد کو اجتماعی بقا اور بھلائی کے معنی سجھاتی ہے -اگر روحانی تعلیم سے مراد اس عمل کی تعلیم ہے تو شاید یہ بہتر مستقبل کی طرف لے جاۓ -

تصنیف حیدر:آپ سخت اسلامی فکر پر تنقید کرنے کے باوجود خود ایک مسلمان ہیں۔آپ کا اسلام کٹر سوچ رکھنے والے مسلمانوں سے کیسے اور کتنا مختلف ہے؟

مبارک حیدر:میں مانتا ہوں کہ اسلام نہ تو مکمل ضابطہ حیات ہونے کا دعوی کرتا ہے نہ اس بات کا کہ اس کی ہر تفصیل سارے زمانوں کے لئے نافذ ہے - لہٰذا لازم ہے کہ اسلامی فقہ اور تعلیمات کے وہ حصّے جو پچھلی صدیوں کے لئے نافذ ہوئے تھے ، چھوڑ دیے جائیں جیسے غلام اور لونڈی خریدنے رکھنے کا حق مسلم ممالک نے منسوخ کر دیا ہے ، ایسے ہی عورتوں کے حقوق اور کئی دوسرے انسانی حقوق میں تبدیلی کو قبول کرنا ضروری ہے - اسی طرح خلافت اور نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی چھوڑ دینا چاہئے - کیونکہ نہ اس کا کوئی فکری جواز ہے نہ امکان - الٹا یہ مسلم عوام کو دنیا سے متصادم کر کے تنہائی اور بالاخر بربادی کی طرف لئے جا رہا ہے

تصنیف حیدر:ہندوستان اور پاکستان کے رشتے بہتر ہونے سے کیاموجودہ اور آئندہ نسلوں کے ارتقا کے دروازے مزید کھل سکتے ہیں؟

مبارک حیدر:اس میں کوئی دوسری راۓ نہیں- دونوں ملک اگر اپنے بھیانک فوجی اخراجات بچا کر اپنے عوام کی بہبود پرخرچ کریں تو دس بیس برس میں عوام کی زندگی انسانی معیاروں کے مطابق ہو سکتی ہے -

تصنیف حیدر:کیا اسلامی تاریخ کو اسلامی نظریات سمجھنے سے بھی بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں؟کیسے؟

مبارک حیدر:بالکل ایسا ہوا ہے - اسلامی تاریخ شخصی اور گروہی مار دھاڑ سے عبارت ہے - جس نے دین کی تعلیمات کو استعمال کیا -

تصنیف حیدر:کیامادیت کے اس کامیاب ترین دورمیں ماورائیت یا مابعدالطبیعات کا چکر ایک بے کار محض شے ہے؟

مبارک حیدر:نہیں یہ بیکارمحض نہیں- یہ انسانی تخیل کا ایک اچھا پہلو بن سکتا ہے اگر اسے سائنسی تعلیم کے ساتھ جوڑ کر رکھا جاۓ یا پھر اسے فرد کے ذاتی خیال تک محدود رکھا جاۓ -

تصنیف حیدر:وہ کون سی بنیادی بات ہے جو مسلمانوں کی سمجھ میں آجائے تو مذہبی بنیاد پرستی سے جنم لینے والے مسائل کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟

مبارک حیدر:اگر ہم یہ سمجھ لیں اور مان لیں کہ ہمارا احساس محرومی اور ہمارا تفاخر یعنی ہماری خود پسندی بے بنیاد ہے ، یعنی ہمارے مسائل ، ہماری الجھنیں ہماری اپنی کج فکری کا نتیجہ ہیں تو ہم دنیا کےساتھ چل سکیں گےاور جمہوری تہذیب کا ساتھ دے سکیں گے -

تصنیف حیدر:کیا ہمیں محمود غزنوی، اورنگ زیب اور صدام حسین جیسے بادشاہوں کے ظلم و بربریت کو ان کے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے justifyکرنا چاہیے؟کیوں؟

مبارک حیدر:ہرگز نہیں- انہیں تو اپنانا بھی جائز نہیں کجا یہ کہ انہیں جواز فراہم کئے جائیں -

تصنیف حیدر:پاکستان کے قیام پر اصرارمسلمانوں کی تاریخی غلطی ہے یا نہیں؟کیوں؟

مبارک حیدر:اب اس سوال کو ایک تلخ یاد کی طرح بحث سے ہٹا دینا ہی بہتر ہے - اب ہمیں اپنے عوام کی خاطر پھر متحد ہونے کی خوشگوار بنیادیں تلاش کرنی چاہئیں -


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین