جمعہ، 9 جنوری، 2015

شامل شمس سے دس سوالات

شامل شمس ایک معروف صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ شاعربھی ہیں، اس طرح صحافت اور ادب دونوں سے براہ راست ان کا تعلق ہے۔بے حد مصروف اور صاف گو شخص ہیں، میری گزارش پر وہ اس انٹرویو کے لیے تیار ہوئے اس کے لیے میں ان کا اور پیرزادہ سلمان کا شکرگزار ہوں۔شامل شمس کا بنیادی تعلق کراچی سے ہے۔فی الحال جرمنی کے شہر بون میں ڈوئچے ویلے(وائس آف جرمنی)کے انگریزی شعبے سے منسلک ہیں۔پاکستان میں 'دی نیوز'اخبارسے وابستہ رہے اور اسلام آباد میں تحقیقی ادارے 'ایس ڈی پی آئی'کے لیے سن دوہزار چار سے دوہزار سات تک کام کیا۔پہلے کراچی یونی ورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، پھر لندن اسکول آف اکنامکس سے دوبارہ میڈیا اینڈکمیونیکشن میں ماسٹرز کیا۔گزشتہ سولہ برسوں سے اخبارات میں مضامین لکھ رہے ہیں۔جن میں پاکستان کے 'دی نیوز 'اور'ڈان'سرفہرست ہیں۔بین الاقوامی صحافتی اداروں میں وائس آف جرمنی کے علاوہ ڈپلومیٹ بھی شامل ہے۔سیاست، ادب اور سماجیات سے متعلق آٹھ سو سے زیادہ مضامین شائع ہوچکے ہیں۔صحافت ہمارے دور میں بے حد کمرشیلائز ہوچکی ہے، اور اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں،مگر ان نقصانات کے پس پردہ سروائول اور ترقی کی مجبوریاں اور اسباب، انگریزی صحافت کا حال، اردو شاعری میں نثری نظم کا بکھیڑا، غزل گو شاعروں کی کمزوری اور جون ایلیا کے تعلق سے ان کی باتیں یہ سب بے حد اہمیت کی حامل ہیں۔امید ہے کہ یہ انٹرویو آپ سب کو پسند آئے گا۔

تصنیف حیدر:
اردو صحافت خاص طور پر ہندو پاک میں خاصی جانبدار معلوم ہوتی ہے۔کیا مسلم ممالک کی اقوام کے مسائل کے علاوہ دنیا کے دیگر مسئلے اتنی زیادہ اہمیت نہیں رکھتے یا مسلمان دنیا کے دوسرے معاملات سے جڑنے میں مذہبی رجحان کی شدت کے سبب دلچسپی نہیں رکھتے؟

شامل شمس:
سرد جنگ کے زمانے میں صحافت کا جو مقصد تھا، یا جو سمجھا جاتا تھا، وہ اب نہیں رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ ’واچ ڈاگ‘ کا کام کرتے ہیں یا انہیں کرنا چاہیے، یہ فلسفہ بیسویں صدی کے اختتام تک انتہائی کم زور ہو چکا تھا۔ صحافی کا کام معاشرے کی اصلاح ہے، یہ مارکسی تصور رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کو حکومت، عدلیہ، فوج اور ریاست کے دیگر اداروں پر نظر رکھنا چاہیے، یہ تصور بھی آج کے دور میں معدوم ہو چکا ہے۔ فرینکفرٹ اسکول کے اسکالرز نے اس حوالے سے بہت کام کیا ہے۔ آج بھی ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔سرمایہ داری اب جس دور میں داخل ہو چکی ہے وہاں اب ’کارپوریٹ میڈیا‘ اور ’عوامی میڈیا‘ میں فرق کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اب آپ بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، فاکس نیوز یا جیو ٹی وی سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ نفع کے امکان کو بالائے طاق رکھ کر رپورٹنگ کریں گے۔ اب صحافت اور کارپوریشنز کا تعلق انتہائی گہرا ہو چکا ہے۔ انہیں علیحدہ کرنا مشکل ہے۔ہمارے ہاں، اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی، وہی کچھ پیش کیا جاتا ہے جس کی معاشی افادیت ہو یا جس کا عالمی سیاست سے کوئی تعلق ہو۔ ہم دنیا کے دوسرے خطوں اور وہاں کے مسائل سے جڑنے کی ضرورت اسی وقت محسوس کریں گے جب ایسا کرنے سے نفع کا امکان پیدا ہوگا۔ اسی لیے پیرس میں ’شارلی ایبدو‘ پر حملہ، سڈنی میں کیفے پر یلغار ایسے موضوعات میں ہی دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی دل چسپی ہوتی ہے۔ میری رائے میں اس کا مسلمان ممالک میں مذہبی رجحانات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصنیف حیدر:
ہندوپاک دونوں ملکوں میں میڈیا کا رویہ خاصہ غیر ذمہ دارانہ رہا ہے، میڈیا ہر ایشو کو خواہ وہ سیاسی ہو، سماجی ہو، مذہبی ہو یا کچھ اور، ہوا بھی دیتا ہے اور اس سے ٹی آرپی پیدا کرکے اسے نچوڑ کر ایک جانب پھینک دیتا ہے، یہ عمل بہت سے لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پراثرانداز بھی ہوتا ہے، کیا یہ بات سچ ہے یا بے بنیاد الزام؟

شامل شمس:
آپ کے اس سوال کا جواب بھی پہلے سوال کے جواب میں مل جائے گا۔ یہ کارپوریٹ میڈیا ہے، اور یہ ٹی آر پی کے لیے ہی کام کرتا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ٹی وی چینلز یا اخبارات سے آپ کسی حد تک ’ذمے داری‘ کی توقع کر سکتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی معاونت سے چلنے والے چینلز کو اس بات سے کیا سروکار کہ معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟ جیو ٹی وی پر ’عالم آن لائن‘ جیسے پروگرام میں عامر لیاقت حسین احمدیوں کے بارے میں اشتعال انگیر باتیں کرتا ہے، اور اس پروگرام کے اشتہارات کوکا کولا، پیپسی یا ناروے کی موبائل کمپنیوں کی طرف سے آتے ہیں۔

تصنیف حیدر:
صحافت میں کسی خبر سے رپورٹر، خبر نویس یا ایڈیٹر کی جذباتی وابستگی اسے نقصان پہنچاتی ہے یا فائدہ؟کیوں؟

شامل شمس:
صحافت ایک طرح کی نہیں ہوتی۔ رپورٹر کا کام خبر کو جوں کا توں پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ وہ اطلاع دے، رائے نہ دے۔ پاکستان میں چوں کہ صحافت کا کوئی معیار ہی نہیں رہا، لہٰذا ہر کوئی رائے دینا شروع کر دیتا ہے۔ صحافیوں کا کام یہ نہیں ہے۔ ہاں، جو کالم نگار ہیں، تجزیہ کار ہیں، وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ وہاں انٰ کی جذباتی، نظریاتی وابستگی دکھائی دیتی ہے، اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ ٹی وی اینکزر کا کام اپنی رائے دینا نہیں ہے، صرف سوال کرنا ہے۔ اگر کوئی اینکر اپنی رائے دے رہا ہے تو آپ سمجھ لیجیے کہ وہ صحافت کی الف ب سے واقف نہیں ہے۔ اور سوال بھی پڑھے لکھے ہونے چاہییں، تقریر نہیں ہونی چاہیے۔ لیری کِنگ انتہائی مختصر سوال کرتے تھے، مگر انتہائی بھرپور۔

تصنیف حیدر:
'بریکنگ نیوز'اور 'برننگ ایشو'جیسی اصطلاحات کیا پوری دنیا کو ایک تخریبی ذہنیت کی طرف نہیں دھکیل رہیں؟

شامل شمس:
جی ہاں، ایسا ہی ہے۔ اور اس کے پیچھے سیاسی اور معاشی مقاصد کار فرما ہیں۔ عالم گیریت ایک خاص طرح کے انسان کو تخلیق کر رہی ہے جو نہ سوچ سکتا ہے، جو نہ پڑھتا لکھتا ہے، اور ایک دوڑ میں شریک ہے۔ وہ برگر کھاتا ہے، ٹی وی دیکھتا ہے، سیاست پر رائے زنی کرتا ہے اور سو جاتا ہے۔ وہ سماج کی تبدیلی میں کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔

تصنیف حیدر:
انگریزی صحافت کا کردار برصغیر میں پچھلی دو تین دہائیوں میں کیسا رہا ہے، کیا اس سے روشن خیالی پیدا ہوئی ہے یا مزید تاریکی کے سائے منڈرانے لگے ہیں؟

شامل شمس:
بر صغیر میں انگریزی صحافت نئے رجحانات لے کر آئی تھی۔ نئے زاویے کھلے تھے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں اور دہائیوں میں اس صورت حال کے سبب متعدد ترقی پسند تحریکوں نے جنم لیا۔ انگریزی صحافت سے وابستہ افراد ظاہر ہے کہ پڑھے لکھے تھے اور وہ دنیا پر نگاہ رکھتے تھے۔ وہ رسل کو پڑھ سکتے تھے اور فرانسیسی فلسفیوں اور جرمن شاعروں کے کام سے بھی واقف تھے۔یہ صورت حال انیس سو اسی کی دہائی تک کسی نہ کسی شکل میں دکھائی دیتی رہی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ صحافت میں تربیت یافتہ افراد داخل ہوتے تھے۔ نظریاتی لوگ بھی تھے۔ مگر اب یہ معاملہ نہیں رہا۔ آج کا وہ نوجوان جو انگریزی پڑھ لکھ سکتا ہے اور صحافت میں قدم رکھتا ہے وہ رجعت پسند ہے۔ اس سے آپ یہ توقع نہ کریں کہ وہ فیض بن جائے گا۔ اس کی اتنی علمی اپچ ہی نہیں ہے۔

تصنیف حیدر:
آپ کو شاعری سے شغف ہے، مگر آپ نے شاعری کو پیچھے دھکیل کر صحافت کو ترجیح دی، کیا مادیت کے دور میں پیشہ ورانہ مصروفیات تخلیقی حس سے زیادہ اہمیٹ رکھتی ہیں؟

شامل شمس:
شاعری سے اب بھی شغف ہے۔ اب پڑھتا زیادہ ہوں، لکھتا کم ہوں۔ جب میں جامعہ کراچی میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کر رہا تھا تب سمجھتا تھا کہ میں جو بھی لکھ رہا ہوں وہ کمال ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس میں جب میں پڑھ رہا تھا تو بہت سے مصنفین، فلسفیوں اور اسکالرز سے ملاقات رہتی تھی۔ جان پایا کہ لکھنے کے لیے مطالعے کا وسیع ہونا کتنا ضروری ہے۔ لکھنا چھوڑا نہیں ہے، شعر کہتا ہوں کبھی کبھی۔ زیادہ کہہ سکتا ہوں مگر دانستہ اجتناب کرتا ہوں۔ وہ افتخار عارف صاحب کہتے ہیں نا کہ:

جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں، نظمیں، گیت
ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں

بات مادیت کے دور کی نہیں ہے۔ ہاں، بے حد مصروف رہتا ہوں، رہنا پسند کرتا ہوں۔ ڈوئچے ویلے (وائس آف جرمنی) کی انگریزی سروس کا کام محنت طلب بھی ہے اور دل چسپ بھی۔ جب وقت ملتا ہے تو اپنے انگریزی ناول پر کام کرتا ہوں جس کا ایک اہم موضوع شاعری بھی ہے۔ اسے لکھنے کے لیے تحقیق کرنا پڑتی ہے۔ یہ بھی محنت کا کام ہے۔ایک بات مجھے گزشتہ کئی برسوں سے بے حد ناپسند ہے۔ اردو شاعر محنت نہیں کرتے۔ غزل کے شاعر خاص طور پر۔ جو جی میں آتا ہے لکھ دیتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس میں کچھ اجھے اشعار بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر علم کی گہرائی دکھائی نہیں دیتی نہ نیا ڈکشن نظر آتا ہے۔ آپ کی چند غزلیں پڑھیں پیرزادہ سلمان کے کہنے پر۔ نیا لہجہ سنائی دیا۔ بہت لطف آیا۔ کم ہی دکھتا ہے اب یہ۔ جس کو دیکھا نثری نظم لکھ دیتا ہے۔ میں بھی سوچ رہا ہوں کہ ایک بے تکی نثری نظم کہوں۔

تصنیف حیدر:
آپ کا ایک مختصر شعری انتخاب جو خود آپ کریں، کیا ہوگا؟

شامل شمس:
دوسروں کو کرنے دیجیے انتخاب۔ ایسا کچھ ہے نہیں جسے منتخب کیا جا سکے۔ تین اشعار ہوئے تھے حال ہی میں وہ پیش کر دیتا ہوں۔

آنکھ کھولی تو گھر نہیں تھا کہیں
میں یہیں تھا، مگر نہیں تھا کہیں

جسم تولا تو دل نہیں تھا وہاں
روح ناپی تو سر نہیں تھا کہیں

ایک آہٹ ہوئی ہے دستک کی
مڑ کے دیکھا تو در نہیں تھا کہیں

(تیسرے شعر میں ’ہے‘ اور ’تھا‘ کو شعوری طور پر استعمال کیا گیا ہے)۔ آپ سے نہیں کہہ رہا، یہ بات اوروں کو سمجھانے کے لیے کہی ہے۔

تصنیف حیدر:
جون ایلیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم سے جتنا فائدہ اٹھا سکتے تھے، انہوں نے نہیں اٹھایااور تخلیقیت کو عوامی دلچسپی کا سامان بنانے سے انہیں خود بہت نقصان پہنچا، آپ اس سے کتنا اتفاق رکھتے ہیں، اور کتنا اختلاف؟

شامل شمس:
غالب نے بھی اپنے ڈکشن کو عمر کے آخر میں آسان کیا تھا۔ آسان کہنا مشکل کام ہے۔ آسان زبان میں گہری فلسفیانہ بات کرنا جوئے شیر لانا ہے۔ جون کے ہاں مشکل پسندی بھی ہے۔ جون ایک عالم تھے۔ انہیں فارسی، عربی اور عبرانی آتی تھی۔ عہد نامہ قدیم اور جدید کے موضوعات اور ان کے فلسفوں پر ان کو عبور تھا۔ وہ جدید فلسفیوں کے کام سے بھی واقف تھے۔ پاکستان میں ان سے زیادہ عبور اردو پر کسی کو نہ تھا۔ بڑے بڑے علماء کو میں نے ان کی جوتیاں سیدھی کرتے دیکھا ہے۔ ان کی مشکل پسندی ان کی نظموں میں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر وہ نظمیں جو فلسفیانہ یہ تاریخی موضوعات پر ہیں۔ غزل تو ہے ہی عوامی صنف۔ اس کا کام کی عوام تک پہنچنا ہے۔ مگر جون نے نہ صرف یہ کہ اردو شاعری کا ڈکشن تبدیل کر کے رکھ دیا بلکہ اس کے موضوعات بھی تبدیل کر دیے۔ یہ دیکھیے:

کربِ غمِ شعور کا درماں نہیں شراب
یہ زہر بے اثر ہے اسے پی چکا ہوں میں

نہ سمجھ پائیں گے وہ اہلِ فراق
جو اذیت وصال کی ہوگی

ہر اک حالت کے بیری ہیں یہ لمحے
کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

مصرعوں کی بُنت دیکھیے، اس میں گندھے ہوئے علم پر غور کیجیے۔ جون کے بارے میں اس طرح کی باتیں وہ حلقے کرتے ہیں جو جون کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت سے خائف ہیں۔ جتنی تیزی سے جون کا کلام عام ہو رہا ہےکسی دوسرے اردو شاعر کا نہیں۔ عوام میں بھی اور خواص میں بھی۔ آج ہر دوسرا نوجوان جون کے رنگ میں شعر کہہ رہا ہے۔ یہ ہوتی ہے ایک عظیم ادیب کی نشانی۔ اسلام آباد میں این جی اوز کے لیے کام کرنے والے، غالب کا مشکل کلام بار بار سنانے والے ادیبوں کو کون جانتا ہے؟ ناصر کاظمی کو لوگ آج بھی پڑھتے ہیں اور کل بھی پڑھیں گے۔ جون کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرنے سے جون کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ لوگ ’بے شعور‘ ہی رہیں گے۔

تصنیف حیدر:
اسلامی سخت گیر مذہبی فکر آج تشدد کی انتہا پر ہے، بہت سے اہم صحافیوں کو دنیا میں اس فکر کی بنیاد پر جانی نقصان پہنچایا جارہا ہے یا ڈرایا جارہا ہے، کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟ایک بہتر مستقبل اور خوش باش حال کے لیے صحافت کی آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟

شامل شمس:
آزادی اظہار انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہر انسان کا۔ اس پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی اظہار کو خطرہ صرف اسلامیوں سے نہیں ہے، اسے خطرہ سرمایے کی طاقت اور جبر سے بھی ہے۔ کوئی شخص، کوئی ادارہ، کوئی خیال، کوئی نظریہ تنقید سے ماورا نہیں ہے۔ سب پر تنقید کی جائے گی، کی جانا چاہیے۔ آزادی صحافت کے لیے جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ابھی ہم اس منزل سے بہت دور ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *