شارق کیفی سے دس سوالات

شارق کیفی اردو ادب کے اہم شاعر ہیں۔ان کی غزل، ان کی نظم دونوں کو روٹین شاعری سے کوئی علاقہ نہیں۔ان کالہجہ، ان کی فکر، ان کا بیانیہ، ان کی تکنیک یہ تمام باتیں ان کے ہر معاصر شاعر سے الگ ہیں۔اب تک ان کے تین شعری مجموعے’عام سا ردعمل‘، ’یہاں تک روشنی آتی کہاں تھی‘ اور ’نئے تماشے کا ٹکٹ‘ شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے اول دو غزلوں کے ہیں اور تیسرا مجموعہ نظم کا ہے۔ان کی نظم کا کمال یہ ہے کہ وہ مختصر پیرائے میں سماج کو دیکھتے وقت اپنی چوتھی آنکھ کا استعمال کرتی ہے۔اب اس چوتھی آنکھ کی تفصیل جاننی ہو تو ان کا کلام پڑھیے۔اس پر غور کیجیے۔میں انہیں بے حد پسند کرتا ہوں، ان کی نظموں کی طرح ان کی غزلیں بھی زبردست ہیں۔سوال و جواب کے اس سلسلے میں کئی دفعہ لوگوں کو میں نے اعتراض کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ فلاں ادیب سے یہ سوال پوچھنا چاہیے تھا فلاں سے وہ۔تشنگی رہ گئی، بھائی ہمارے ادیب کوئی آسمانی فرشتے نہیں ، جو ان سے سوالات کرنے یا جوابات حاصل کرنے کے لیے ایک پہاڑ جیسے مرحلے سے گزرنا پڑے۔اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے ابھی تک کسی ادیب کو ویسا نہیں پایا، جیسا تصور میرے ذہن میں ان کے نک چڑھے،مغرور یا اپنے علمی و ادبی رتبے کا احساس قائم رکھنے کے حوالے سے ٹھنسا ہوا تھا۔اول تو میرا پیٹرن یہ ہے کہ میں دس سوال پوچھتا ہوں، دوسری بات یہ کہ سوال وہ جو مجھے اہم لگیں، نہ کہ میں کسی کا پرتی ندھی یا سفیر بن کر یہ سوال پوچھوں۔میں اس پر رک نہیں گیا۔اگر کبھی مجھے لگا کہ مجھے کسی ادیب سے دس کے بجائے بیس سوال کرنے چاہیے تو میں پھر اس کے پاس بے شرموں کی طرح پہنچ جاؤں گا، کیونکہ سوال میرا ہے، غرض میری ہے۔اب کچھ ذمہ داری جواب دینے والی کی، اور کچھ اس سلسلے سے تحریک پاکر اپنے معاشرے میں رہ رہے ادیبوں کے خیالات جاننے کی ، آپ کی بھی تو بنتی ہے۔خیر، یہ انٹرویو پڑھیے، بہت اہم بھی ہے اور مزیدار بھی۔

تصنیف حیدر: آپ شاعری میں جو حقیقتیں بیان کرتے ہیں وہ سفاک ہوتی ہیں یا آپ ان کو سفاک بناکر پیش کرتے ہیں؟

شارق کیفی: تصنیف صاحب! حقیقتیں تو سفاک ہی ہوتی ہیں ، انہیں سفاک بنا کر پیش کرنے کا میں اہل نہیں ہوں، زندہ رہنا بجائے خود اپنے آپ میں ایک سفاکی ہے۔میں زندہ رہنے اور زندہ لوگوں کی نفسیاتی مجبوریوں کو بیان کرتا ہوں میں ان پر کوئی اخلاقی خول نہیں چڑھانا چاہتا۔آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جو شاعر دنیا اور انسان کی عظمت کے نغمے الاپتے رہتے ہیں مجھے ان سے کوئی بحث بھی نہیں کرنا ہے مگر میں اپنی شاعری میں اپنا تجربہ یا میری نظر سے یہ دنیا کیا ہے یہی بیان کرسکتا ہوں۔میں حقیقتوں کو روحانی عینک لگا کر دیکھنے کا قائل نہیں ۔یہ دنیا تضادات اور مضحکہ خیز پہلوؤں سے بھری ہوئی ہے۔سچے شاعر کا کام ان عناصر کو اجاگر کرنا ہوتا ہے، زبردستی ایک اخلاقی کل کی تشکیل کا التباس پیدا کرنا نہیں۔

تصنیف حیدر: زبیر رضوی اور محمد علوی کے علاوہ ہندوستان میں آپ نظم کا ایک اہم نام ہیں، پھر بھی نقاد آپ کو نظر انداز کرتے ہیں، اس کی کوئی خاص وجہ جو آپ کو سمجھ آتی ہو؟

شارق کیفی: میرا خیال ہے کہ مجھے نقادوں نے نظر انداز نہیں کیا ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی نے میری نظموں پر طویل مضمون قلم بند کیا ہے جو ان کی کتاب ’معرفت شعر نو‘ میں شامل ہے۔ان کے علاوہ قاضی افضال حسین ، شہریار ، محمد حسن، آصف فرخی اور شافع قدوائی وغیرہ نے بھی میری شاعری کو بھی سراہا ہے۔میں آپ کو بھی اردو کی نئی نسل کا اہم ناقد سمجھتا ہوں آپ نے خود مجھے اردو کا اہم نظم نگار تصور کیا۔اگر آپ نظرانداز کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ پر لکھا کم گیا ہے تو یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں۔میرا خیال ہے کہ ناقدین مجھے پسند کرتے ہیں اب انہوں نے لکھا کتنا ہے یا کم لکھا ہے تو ان امور کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔آدمی اپنی سہولت اور موقع کے اعتبار سے لکھتا ہے۔میں خود بہت سے ادیبوں کو پسند کرتا ہوں لیکن ان پر فوراً مضمون لکھنے نہیں بیٹھ جاتا۔پھر یہ بھی ہے کہ نقادوں کو اپنا اصل کام کرنے کی فرصت ہی کہاں مل پاتی ہے۔زیادہ تر تو ان سے سیمناروں اور رسالوں کے لیے فرمائشی مضامین لکھائے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کی اپنی ترجیحات اور مجبوریاں ہیں۔میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ شاید آپ کا مطلب پیشہ ور نقادوں سے ہے ورنہ میں ہر تربیت یافتہ قاری کو نقاد سمجھتا ہوں ، بہرحال مجھے نقاد سے کوئی شکایت نہیں بلکہ اس معاملے میں میں خود کو خوش نصیب تصور کرتا ہوں۔

تصنیف حیدر: کیا روایتی غزل سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔آپ کے نزدیک غزل میں جدیدیت کی کیا صورتیں ہوسکتی ہیں؟

شارق کیفی:میں روایتی غزل کے معنی نہیں سمجھ سکا۔اگر آپ کی مراد غزل کے فارم سے ہے تو ظاہر ہے کہ غزل ہمیشہ روایتی رہے گی میں غزل کی ہیت کے سلسلے میں کیے جانے والے کسی تجربے کا قائل نہیں۔اگر آپ کا مطلب غزل کے روایتی فرسودہ مضامین سے چھٹکارا پانے سے ہے تو میرا کہنا ہے کہ غزل کا ہر سنجیدہ شاعر ان مضامین سے اجتناب برتتا ہے۔آج غزل میں ہر جدید حسی اور ہم عصر تجربے کو شامل کیا جارہا ہے۔آپ آج کی غزل کو داغ ، حسرت اور امیر مینائی کی غزل تو کہہ نہیں سکتے۔اس لیے میری نظر میں غزل سے چھٹکارا پانے کی کوئی وجہ یا مقصد سمجھ میں نہیں آتے۔جہاں تک غزل میں جدیدیت کی صورتوں کی بات ہے تو یاد رکھیے کہ ہر زندہ صنف اپنے اندر ارتقا کے لامتناہی پہلوؤں کو سمیٹے رکھتی ہے۔غزل میں انسان کی بنیادی تنہائی اور بے چارگی کو تو بہت عمدگی اور سلیقے سے بیان کیا جاچکا ہے۔سیاسی اور سماجی نیز معاشی پہلوؤں کو بھی شامل کیا جارہا ہے مگر ابھی وجود کے تمام تر امکانات اور زندگی کے تمام مضحکہ خیز پہلوؤں کو برتنا باقی ہے۔

تصنیف حیدر: آپ نقاد کو ادب میں ضروری خیال کرتے ہیں یا غیر ضروری؟

شارق کیفی: تصنیف صاحب میں نقاد کے وجود کو ادب میں بے حد ضروری خیال کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ وہ نقاد ہو محض یونیورسٹی کا کوئی پروفیسر یا پیشہ ور نقاد نہ ہو۔نقاد کا کام ادب کی تشریح اور تفہیم کا فریضہ ادا کرنا ہے جس کے بغیر تخلیق کی موت واضح ہوجاتی ہے۔جب معاشرہ بالکل سادہ تھا اور انسانی صورت حال کی اتنی پیچیدگیاں نہیں تھیں تب تک تو نقاد کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ تب معاشرے اور تخلیق کے درمیان کوئی خلیج نہیں تھی۔داستانوں میں دیو، پری ، جنات اور تمام فوق الفطری واقعات بیان کیے جاتے تھے اور ان کو سناتے وقت کسی نقاد کی موجودگی ضروری نہیں تھی مگر یہی بات آپ مارکیز کے ناولوں کے بارے میں نہیں کہہ سکتے حالانکہ اس کے یہاں بھی جادوئی حقیقت نگاری کے باوصف فوق الفطری واقعات وافرتعداد میں موجود ہیں آپ اس بات کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ زبانی بیانیہ یا لوک کتھاؤں کے دور میں ناقد کی کوئی ضرورت نہیں تھی مگر جیسے جیسے زندگی پیچیدہ ہوتی چلی گئی انسان کی ذات بھی پر اسرار ہوتی چلی گئی یا اس پر پرتیں بھی چڑھتی چلی گئیں اور یہ بالکل فطری بھی تھا کیونکہ ہر ارتقا کا سفر سادہ سے پیچیدہ کی طرف ہوتا ہے لہٰذا ادبی تخلیق اب اتنی سادہ ، اکہری ، یک رخی اور بالکل سامنے کی چیز نہیں رہی ظاہر ہے کہ اب محض قاری نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ قاری کی ضرورت ناگزیر ہوگئی جو فن پارے میں چھپے ہوئے معنی یا معنی کی پرتوں کو اجاگر کرسکے۔تشریح و تفہیم کا فریضہ انجام دے سکے اور فن پارے کے ادبی معیار کا تعین کرسکے۔مگر یہ باتیں میں ایک اصل ناقد کے تعلق سے بیان کررہا ہوں ورنہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر کس و ناکس نقاد بنا پھررہا ہے اور تیسری سطح کے لکھنے والوں پر مضامین چھپوا کر خوش ہوتا رہتا ہے ایسے لوگوں سے ادب میں سوائے انارکی پھیلنے کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

تصنیف حیدر:شاعری میں موت کی پراسراریت بڑے ادیبوں کا موضوع رہا ہے آپ دنیا کے کون سے ادیبوں سے اس معاملے میں متاثر ہیں اور کیوں؟

شارق کیفی:شاعری ہی نہیں دنیا کے ہر بڑے ادب کا موضوع موت یا اس کا وجودی تجربہ رہا ہے۔موت کے وجودی تجربے کے لیے طبعی موت مرنا ضروری نہیں ہے بلکہ دریدا کا وہ قول ملاحظہ فرمائیے جو خالد جاوید نے اپنے ناول موت کی کتاب میں رقم کیا ہے ’’میں دوسروں کی موت سے مردہ ہوں‘‘۔کوئی بڑی تخلیق بغیر محبت اور موت کے تجربے کے وجود میں نہیں آتی بلکہ بقول رلکے آخر میں محبت اور موت ایک دوسرے میں مدغم ہو کر پوری طرح ہم معنی ہوجاتے ہیں جہاں تک آپ کے سوال کی بات ہے تو مجھے ٹرانسٹومر، فرنانڈو پیشوا، اڈونس اور یہاں تک کہ ناظم حکمت بہت پسند ہیں۔ناظم حکمت کو عام طور پر انقلابی شاعر سمجھا جاتا ہے لیکن جہاں جہاں وہ موت کو لے کر رومانی ہوا ہے بس کمال کر گیا ہے حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ میں نے عالمی شاعری کا اتنا مطالعہ نہیں کیا ہے جتنا عالمی فکشن کا اور وہاں میں ٹالسٹائی، دوستوفسکی، کامیو، سارتر اور مارکیز سے بہت متاثر رہا ہوں۔جہاں تک اردو کا سوال ہے تو یہاں موت محض ایک طبعی واردات، روز مرہ کی چیز کے سوا کچھ نہیں۔ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ واقعہ تو پہلی بار خالد جاوید کے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے یہاں رونما ہوا ہے۔موت کے رمز اور اس کے پراسرار وجودی تجربے کو خالد جاوید نے جس طرح کھنگالا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔یہ میں اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ خالد میرا بچپن کا دوست ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہاں خالد جاوید کا ذکر گراں گزرے لیکن حقیقت حقیقت ہی رہے گی تو میں تو موت کے موضوع پر لکھنے والوں میں خالد جاوید کو بھی برابر کا درجہ دیتا ہوں۔اب رہا سوال کہ یہ سب مجھے کیوں پسند ہیں تو اس کے بارے میں سوچنے کا نہ تو مجھے خیال آیا اور نہ کبھی ضرورت محسوس ہوئی۔اچھی چیز پڑھنے کے بعد دل سے واہ نکلتی ہے اور بس۔میرا دورکسی تخلیق کے ساتھ بس اتنا ہی رہتا ہے۔

تصنیف حیدر:پاکستان کے مقابلے ہندوستان میں نظم کا رجحان صفر کے برابر ہے۔آپ کے نزدیک اس کی وجہ کیا ہے؟

شارق کیفی: میرے خیال میں پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورت حال اس وقت کچھ ایسی ہے جس کے رد عمل کے طورپر وہاں نظموں میں اظہار کی زیادہ گنجائش ہے۔غزل کی شاعری کیونکہ حسیاتی ہوتی ہے اور ہیت کی پابند اس لیے وہاں کسی مربوط خیال ، منظم فکر، احتجاج یا ردعمل کو بھرپور انداز میں بیان کرنا مشکل ہے۔ہندوستان میں آزادی فکر پر اتنی پابندیاں نہیں ہیں اور پھر ادب کے علاوہ دوسرے پلیٹ فارم بھی ہیں جہاں آپ اپنا احتجاج درج کراسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نظمیں وافر تعداد میں لکھی جارہی ہیں مگر میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ پاکستان کے مقابلے ہندوستان میں نظم نگاری کا رجحان صفر کے برابر ہے۔کم تو ہے مگر صفر بھی نہیں۔خورشید اکرم نے بہت عمدہ نظمیں لکھی ہیں اور نعمان شوق کی نظم نگاری بھی اعلیٰ درجے کی ہے۔ادھر شہرام سرمدی کی پہلی کتاب بھی نظر سے گزری وہ بھی خوب ہے اور لوگوں کے بھی نام لیے جاسکتے ہیں۔ان ہندوستانی نظم نگاروں کی اپنی انفرادیت ہے جبکہ پاکستانی نظموں میں مجھے یکسانیت محسوس ہوتی ہے۔

تصنیف حیدر:کیا آپ پاکستان میں ہونے والی نظم نگاری سے واقف ہیں؟اگر ہاں تو اس سے کس قدر مطمئین ہیں؟

شارق کیفی: میں پاکستان میں ہونے والی شاعری سے بس اتنا ہی واقف ہوں جتنی کہ یہ ہندوستان کے ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہے یا فیس بک پر میری نظر سے گزری ہے۔میں پاکستان میں ہونے والی نظمیہ شاعری کا محاکمہ نہیں کرسکتا مگر آپ کے سوال کے جواب میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جو چیزیں میری نظر سے گزرتی ہیں وہ سب کی سب ایسی نہیں جن کا ذکر کیا جاسکے۔اوسط درجے کی ہوتی ہیں اور ان میں یکسانیت بہت ہوتی ہے۔صاف لگتا ہے کہ سیاسی اور سماجی بیانات کو شعوری طورپر لفظوں کا جامہ پہنا کر نظم کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔یہ فطری طور پر کہی ہوئی نظمیں نہیں ہیں۔ان نظموں کی جلد میک اپ سے ڈھکی ہوئی ہے۔نظم اتنے تصنع یا میک اپ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔غزل کی بات دوسری ہے۔میں اتنا کہوں گا کہ پاکستان کے پرانے لوگ تو بہرحال جیسا لکھ رہے تھے ویسا ہی لکھ رہے ہیں ۔افضال سید،علی محمد فرشی، ابرار احمد وغیرہ ہمیشہ اچھی نظمیں کہتے رہے ہیں۔نئے لوگوں میں شاہین عباس سے میں بہت متاثر ہوں حالانکہ عام طور پر یہاں ہندوستان میں انہیں غزل کے شاعر کے طور پر زیادہ جانا جاتا ہے۔سید کاشف رضابھی عمدہ نظم نگار ہیں، بالکل نئی نسل میں سدرہ سحر عمران اور ہمایوں احمد منصور کے یہاں بھی اسپارک ہے۔

تصنیف حیدر:شاعری مصوری اور موسیقی کی بہ نسبت کتنی کاریگر ہے؟کیا اس سے کوئی تعمیری یا انقلابی کام لینے کی خواہش رکھنا ٹھیک ہے؟

شارق کیفی:شاعری مصوری اور موسیقی کے تئیں ہمارے حواس خمسہ الگ الگ قسم کے رد عمل پیش کرتے ہیں۔موسیقی ہمارے آلۂ سماعت کے ذریعے ہماری روح میں ارتعاشات پیدا کرتی ہے اور بقول خالد جاویدہر موسیقی آہستہ آہستہ سناٹے کی طرف بڑھتی ہے اور آخر کار ایک گہرے اندھیرے میں ، ایک مکمل خاموشی میں بدل جاتی ہے۔یہ ایک قسم کا تجریدی اور روحانی تجربہ ہے۔مصوری کا تعلق ہماری بصارت سے ہے، پکاسو کی کوئی پینٹنگ ہمارے اندر تخیل سے مالا مال ایک نئی دنیا کی تشکیل کرسکتی ہے مگر موسیقی اور مصوری ان دونوں کی حدود ہیں۔آپ موسیقی یا مصوری کو یاد کرکے حظ نہیں اٹھاسکتے۔ان کے لیے حواس خمسہ سے فوری قربت ضروری ہے۔شاعری ان دونوں کے مقابلے اسی لیے زیادہ کاریگر ہے کہ لفظ کا اثر ہمارے آلۂ حواس پر ایک ساتھ پڑتا ہے ہم غالب کے کہے ہوئے کسی شعر کو سنتے بھی ہیں، بند آنکھ سے دیکھتے بھی ہیں، رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس بھی کرتے ہیں ۔اس منزل کے بعد ہمارا دماغ لفظوں کو ایک سیاق عطا کرتا ہے اور حواس خمسہ پر شاعری کے پڑنے والے ارتعاشات کو ایک معنی بھی فراہم کرتا ہے۔یعنی شاعری میں احساسات کے ساتھ intellectکا بھی اتنا ہی دخل ہے۔آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری کا تعلق ہمارے وجود کے کسی ایک جز سے نہ ہو کر کل سے ہے۔ظاہر ہے شاعری، مصوری اور موسیقی کی بہ نسبت زیادہ کارگر ہے اور یہ ہمارے حافظے میں عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے مگر شاعری سے کوئی انقلابی یا تعمیری کام لینے کی خواہش بجا نہیں ہے۔جو شاعری کسی سیاسی، اخلاقی یا سماجی مقصد کے لیے پروپگینڈے کی طرح استعمال کی جاتی ہے وہ زیادہ تر اعلیٰ شاعری کے زمرے میں نہیں آتی۔شاعری تو شاعری ہے، کسی بھی قسم کی آرٹ کو انقلاب وغیرہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔اگر کیا بھی جاتا ہے تو صرف ہنگامی حالات میں۔اس کے بعد ایسی شاعری کو یاد نہیں کیا جاتا۔آرٹ کا تعلق انسان کے وجودی مسائل سے ہے۔آرٹ کوئی سماجی، سیاسی آلہ نہیں ہے۔

تصنیف حیدر: آپ کے نزدیک رجعت پسندی کیا ہے؟

شارق کیفی:ایک دور آتا ہے جب سب رجعت پسند ہوجاتے ہیں اور ماضی کی طرف مراجعت کرنے لگتے ہیں۔یہ ہمیشہ سے ہوتا ہے۔نئے خیال کا پرانے خیال سے ٹکراؤ ہوتا ہے۔اقدار کی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، یہ سلسلہ رکتا ہے اور ایک نیا نظام فکر اور نظام اقدار وجود میں آتا ہے۔جب ترقی پسندوں نے کلاسیکی ادب کے خلاف آواز اٹھائی تو وہ ماڈرن کہلائے ۔بعد میں جدیدیت کے زمانے میں ترقی پسند ہی رجعت پسند قرار دے دیے گئے۔یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، پرانی نسل ہمیشہ نئی نسل کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے اور نئی نسل انھیں رحعت پسند قرار دے دیتی ہے یہ مسئلہ صرف ادب میں نہیں ہے بلکہ سیاسی ، سماجی ،اخلاقی منظر نامے کے ساتھ بھی ہمیشہ سے موجود ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب ہر نسل اور کھیپ کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے اور وہ اپنے زمانے کی ایک اقدار یا نظام فکر سے جذباتی لگاو محسوس کرنے لگتی ہے ۔خود میرے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے ایک طرح سے دیکھیں تو میرے سرہانے بھی اب اپنے ہیروز کی شاعری کی کتابیں اور ۱۹ ویں صدی کے اوا خر کا عالمی فکشن بڑھتا جا رہا ہے ۔مجھے بھی کبھی نہ کبھی رجعت پسند قرار دے دیا جائے گا۔

تصنیف حیدر:نئی نسل میں آپ کتنے لکھنے والوں کو جانتے ہیں ؟کیا آپ کو اس سے کوئی بہتر توقع ہے؟

شارق کیفی : نئی نسل کے لوگوں کی تحریریں میری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔جہاں تک ہندو پاک کی نئی نسل سے کسی توقع کا سوال ہے تو میں ان سے مایوس نہیں ہوں ،مگر مسئلہ یہ ہے کہ ادب میں صرف جذبے یا احساس سے کام نہیں چلتا۔ایک خاص قسم کی بصیرت اور ذہانت بھی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں اردو کی جو صورت حال ہے اس سے آپ واقف ہیں ، اردو کے زیادہ تر طالب علم ذہنی اعتبار سے یک رخے پن کے شکار ہیں۔ نئی نسل کے ذہین طالب علم سائنس یا منجمنٹ وغیرہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان میں ادب اور آرٹ کی اچھی سوجھ بوجھ ہو سکتی ہے مگر اردو سے نابلد ہونے کی وجہ سے وہ اگر کوئی تخلیقی کام کرتے بھی ہیں تو انگریزی یا ہندی میں۔ ہندوستان میں تو ایسے لوگوں کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ تو ایسا نہیں ہے کہ نئی نسل میں تخلیقی ذہانت نہیں ہے مگر یہ ذہانت کالج میں اردو پڑھنے والی نسل میں بہت کم ہے ۔ آپ ہی مجھے بتائیں کہ آپ کی نسل میں آپ کی عمر کے آپ جیسے ذہین اور با شعور نوجوان کتنے ہیں؟پاکستان کی صورت حال تھوڑی مختلف ہو سکتی ہے مگر وہاں کی بھی ذہین نئی نسل سائنس ، کامرس وغیرہ میں ہی کھنچی جا رہی ہے ۔ وہ اردو بولتی ضرور ہے لکھ پڑھ بھی سکتی ہے مگر اردو ادب بلکہ ادب اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ پھر بھی میں مایوس نہیں ہوں نئی نسل سے مجھے توقعات ہیں اگر وہ عجلت پسندی اور شارٹ کٹ سے گریز کرے اور سچے تخلیقی تجربے کے لئے اپنی ذات کو ہموار کر سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین