پیر، 12 جنوری، 2015

ونیت راجہ کی نظمیں


دہلی کی شعری نشست میں جو کہ مستو گورو شریواستو کے یہاں رکھی گئی تھی، مجھے ایک لڑکے کی نظموں نے چونکایا، چونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو چونکانے کو غیر ادبی تصور کرتے ہیں، چنانچہ بعد میں اس سے دوستی کی اور اس کی اور نظمیں بھی سنیں۔میرے اس نئے دوست کا نام 'ونیت راجا'ہے۔ونیت کی نظمیں میں نے ایک دفعہ اس سے بہت ضد کرکے اپنے میل پر منگوائی تھیں، وہ بے حد کم گو ہے۔اردو کا شاعر ہے اور اس کی نظموں کی تکنیک یہ ہے کہ مختصر نظمیں لکھتا ہے، تقریبا چار، پانچ، سات سطروں کی، اور ان میں زندگی میں ہونے والے عام معاملات اور ننھے تجربے پیش کرتا ہے، جو کہ بے حد توجہ طلب ہیں۔پتہ نہیں یہ نظمیں آپ سب کو پسند آئیں گی یا نہیں، مگر مجھے یہ نظمیں بہت پسند ہیں،ونیت فی الحال گڑگائوں کی ایک انشارنس سوفٹ ویئر بنانے والی کمپنی ایس ایس پی میں ملازم ہے۔اس نے کمپیوٹر انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا ہے۔یہ اس کی دس گیارہ نظمیں ہیں۔وہ آج تک کسی ادبی پرچے میں شائع نہیں ہوا، اور نہ ہی اسے ایسی کوئی خواہش ہے۔بے حد شانت سبھائو کابے حد خاموش اور خوش مزاج یہ شخص بطور شاعر بھی کمال ہے۔

یاد رہے

تم جنہیں پیار کرتے ہو
تم انہیں بھول بھی سکتے ہو
تنہائی
اک وہم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توازن

باند
کے اس طرف
دریا
اس طرف
دریا کی خواہش
۔۔۔۔۔۔

اذیت

دن
رات
دن
رات
یہ تسلسل کس لیے
تو تمہیں بھی کیا نہیں ہے اپنی فطرت سے نجات
۔۔۔۔۔

حساب

میرا شعور
میرا جہنم ہے
تم
اس کے بدلے
مجھے کیا دے سکوگے
۔۔۔۔۔

اس پار جانے کی خواہش

پہلے دائیں دیکھو
پھر بائیں دیکھو
اور جب
اپنے آس پاس کے
حالات سے
مطمئین ہوجائو
تو آگے چل پڑو
۔۔۔۔۔۔۔

کھلا ہائی وے

ایک کے پیچھے ایک بھاگتی گاڑیاں
بدلتے گیئر
بدلتی لین
بدلتی رفتار
مگر بتائو یہ صورت کتنی بدلی ہے؟
کھلا ہائی وے
ایک کے پیچھے ایک بھاگتی گاڑیاں
۔۔۔۔۔

ریموٹ

دسیوں چینل بدل چکا ہوں
بیسیوں بار، وہی بوریت
سو شکلوں میں آگے پیچھے گھوم چکی ہے
ایک بھی منظر
روک نہیں پایا ہے پل بھر
جانے کتنے ہی دن رات
کتنے موسم کتنے رشتے
بتا چکا ہوں، بیت چکا ہوں
ایک بھی منظر روک نہیں پایا میں پل بھر
۔۔۔۔۔۔۔۔

ترقی

شہر بڑھ رہا ہے
ندی مٹ چکی ہے
کوئیں کھپ گئے ہیں
پانی وقت پر آتا ہے
کبھی نہیں بھی آتا
لوگ خون پی کر جی رہے ہیں
۔۔۔۔۔

بلاعنوان

یہ در یار کی آسودہ للک
میں جسے دل سے لگا بیٹھا ہوں
مرے سینے سے سر پٹختی ہے
مجھے آزاد کرو
مجھے آزاد کرو
۔۔۔۔۔۔

اجنبی دوست

دوستی سہل ہے سانسوں کی طرح
اور کبھی اتنی ہی مشکل بھی
کب سے یوں پاس کھڑے ہیں ہم تم
دم گھٹا جاتا ہے، کچھ بات کرو
۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں است

نہ جانے کون سی غرض ہے جس سے بھاگ رہا ہوں
نہ جانے کون سی شے ہے جو ہاتھ آتی نہیں
بھاگتے بھاگتے
ایسا ہو کبھی
زمیں پیروں سے لپٹ کر
ترس کھاکے کہے
یہیں تھم جا
یہی منزل ہے
یہیں آنا تھا
۔۔۔۔۔۔

جھگڑا

لال سورج ڈبو کے دریا میں
سارا پانی گلال کرڈالا
شفق کو چھوڑ دیا انبر پر
برے ماضی کی طرح لاوارث
شام
کل
کچھ اس بے رخی سے
ہوئی رخصت
کہ جیسے بیچ بحث سے اٹھ کر
سگریٹ بجھا کے چل دیا کوئی
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *