جمعرات، 15 جنوری، 2015

ظفر سید سے دس سوالات

ظفر سیدایک متحرک اور فعال ادیب ہیں اور بی بی سی ورلڈ سروس سے وابستہ اہم صحافی بھی۔وہ شاعری بھی کرتے ہیں اور انہوں نے ایک ناول'آدھی رات کا سورج'کے عنوان سے بھی لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ فیس بک کیا، انٹرنیٹ پر بھی ظفر سید سے پہلے کسی شخص نے نئی نظم یا اردو شاعری کے حوالے سے اتنے کارآمد مباحث قائم نہیں کروائے ہونگے، جیسے کہ انہوں نے اپنے ایک ادبی گروپ'حاشیہ 'میں کروائے۔حاشیہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی بحث میں نہ صرف محمد حمید شاہد، ناصر عباس نیراور علی محمد فرشی جیسے اہم ناقدین نے حصہ لیا، بلکہ ساقی فاروقی کی تحریر بھی اس بحث میں الیاس ملک صاحب کے توسط سے شامل ہوسکی۔حاشیہ کو پہلے ایک بلاگ کی صورت میں انٹرنیٹ پر پیش کیاگیا تھا، مگر بعد میں اسے کسی وجہ سے اپڈیٹ نہیں کیاگیا، خیر سنا ہے کہ اب اس کے مباحث جلد کتابی صورت میں پڑھنے والوں تک پہنچ جائیں گے۔ظفر سید کی زبان نہایت شستہ شائستہ ہے، وہ اپنے خیالات میں بے حد شفاف اور گفتگو میں بھی صاف بات کہنا پسند کرتے ہیں۔ان کا یہ انٹرویو ان کی ذہانت، علمیت اور مطالعے کو ہم سب پر روشن کرتا ہے۔

تصنیف حیدر:بطور تخلیق کار یا تنقید نگار آپ نے خود کو کبھی منوانے کی کوشش نہیں کی، جبکہ آپ میں یہ دونوں صلاحیتیں خوب ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ آپ کی چھپنے کی یہ خواہش آپ کی گمشدگی کا ایک بہانہ نہ بن جائے۔ آپ کیا کہیں گے؟

ظفر سید:میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسا بڑا ادبی کارنامہ سرانجام نہیں دیا جسے جتانے اور منوانے کی ضرورت پڑے۔ اگر ایسا ہوا، تو پھر دیکھیں گے۔ رہا سوال گمشدگی کا، تو اتنی چکاچوند فطری طور پر پسند نہیں ہے۔ اگر آپ کو کرکٹ سے دلچسپی ہے تو اس ضمن میں پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کا ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔ انھوں نے کبھی زندگی میں پانچ سات سے زیادہ سکور نہیں کیا تھا، ایک بار کسی طرح سے 47 بنا لیے لیکن پھر فوراً ہی ایک بیکار سا شاٹ کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ٹھیک ٹھاک کھیل رہے تھے تو یہ کیا کیا؟ بولے، ڈر رہا تھا کہ اگر نصف سینچری بن گئی تو میں کس طرح بیٹ ہلا کر تماشائیوں کی داد کا جواب دوں گا، کیوں کہ یہ مجھے آتا ہی نہیں تھا۔ تو بس اپنا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ اگر مشہور ہو گئے تو بڑی مشکل ہو گی!

تصنیف حیدر:نئی نظم کے معمارجیسی اہم سیریز انٹرنیٹ پر آپ نے شروع کی۔ یہ فیس بک پر تنقید کا میری نظر میں پہلا اور آخری سنجیدہ پلیٹ فارم تھا ۔مگر کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ محفل زیادہ افرادکو جمع کرنے کی خواہش سے درہم برہم ہو گئی، جس میں نظم کی تفہیم کوحاشیے سے باہر لانے کی کوشش کی گئی تھی؟اسے بند کیوں کیا گیا؟

ظفر سید:ہماری خواہش حاشیہ پر کبھی بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جمع کرنے کی نہیں رہی۔ میرے پاس اب بھی 74 درخواستیں پڑی ہوئی ہیں جو منظور نہیں ہو سکیں۔ اب جہاں تک اس کے بند ہونے کا سوال ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ فورم اپنا دائرہ مکمل کر چکا تھا یا مکمل کرنے کے قریب تھا۔ فیس بک پر ہزاروں کی تعداد میں ادیب، شاعر اور نقاد موجود ہیں، لیکن ان میں سے کتنے ہیں جو کسی ایک موضوع پر جم کر دو ہفتے تک بات کر سکیں؟ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ زیادہ جگہوں پر ’سبحان اللہ،‘ ’واہ کیا بات ہے،‘ ’چھا گئے ہو،‘ وغیرہ سے بات آگے نہیں بڑھتی اور ایسی ہر پوسٹ پر ہماری توجہ کا دورانیہ مبلغ تین سیکنڈ سے زیادہ نہیں رہتا۔ ایسے میں لوگوں کو اس طرف راغب کرنا کہ وہ ایک ایک مہینے تک نہ صرف بیسیوں صفحوں پر محیط گفتگو پڑھیں بلکہ اس میں خود بھی سنجیدگی سے ایسے حصہ لیں کہ اس میں اپنے بیانات پر دوسروں کی جانب سے تردید و تنقید کا بھی دھڑکا لگا رہے، یہ آسان بات نہیں ہے۔ اس کے لیے لوگوں کو بار بار قائل و مائل کرنا پڑتا تھا۔ خود آپ نے بڑھ چڑھ کر حاشیہ کے مباحث آگے بڑھانے میں حصہ لیا لیکن اگر آپ اپنا ان باکس چیک کریں تو میرے کم از کم ایک درجن پیغامات تو مل ہی جائیں گے کہ بھائی محفل سست پڑ رہی ہے، کچھ لکھو۔ پھر آپ نے دیکھا کہ شرکا کا جذبہ ٹھنڈا پڑتا گیا، اور میں انھیں کوئی الزام بھی نہیں دینا چاہتا، ہر ہفتے بعد کوئی نئی بات کہاں سے لائے، کوئی نیا نکتہ کہاں سے پیدا کرے۔ وہی انشااللہ خان انشا والا معاملہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود حاشیہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہے، مردہ نہیں بلکہ خوابیدہ۔ آپ اور دوسرے شرکا چاہیں تو اسے دوبارہ بیدار کیا جا سکتا ہے۔

تصنیف حیدر:ناول کا فن آپ نظروں میں کیا ہے۔ کیا' آدھی رات کا سورج' تنقیدی چٹانوں سے ٹکرائے بغیر ہی پاش پاش ہوگیا یا میری یہ بات میری لاعلمی ہے؟

ظفر سید:آدھی رات کا سورج اصل میں ایک تجرباتی ناول ہے، جس میں دو تین اصناف کو آپس میں ملانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویسے بھی اسے ناول کی بجائے ’سفرناول‘ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ ممکن ہے اس کے ریڈار پر نہ آنے کی بڑی وجہ یہی رہی ہو کہ لوگوں کو اسے کسی خانے میں رکھنے میں دشواری پیش آئی ہو۔ لیکن پھر بھی اسے جس قدر پذیرائی ملی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے کتاب دشمن معاشرے میں وہ بھی غنیمت ہے۔

تصنیف حیدر:مذہب کی شدت پسندانہ تعبیر نے پاکستان کی اردو نظم کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ وجودیت کا مسئلہ اب ایک انبوہ کی بقا کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کی بگڑتی ہوئی شناخت کا معاملہ بھی بن گیا ہے، ایسے میں دوسرے موضوعات کیا بالعموم سنجیدہ نظم سے غائب ہو گئے ہیں؟

ظفر سید:موجودہ حالات و واقعات سے جہاں معاشرے کے دوسرے طبقات متاثر ہوئے ہیں وہاں شاعر و ادیب بھی اپنے آپ کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکے۔ ہمارے ہاں یہ بات کلیشے کا درجہ اختیار کر گئی ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ خیر اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا کہ کون سا دور واقعی نازک تھا اور کون سا نہیں، لیکن بظاہر موجودہ دور واقعی غیرمعمولی لگتا ہے، اور اس کے اثرات سرایت کر کے ہر طبقے تک پہنچ گئے ہیں۔ادیبوں کو عام طور پر تلقین کی جاتی ہے کہ وہ حالاتِ حاضرہ پر لکھنے سے گریز کریں کہ جوں ہی کیلنڈر کا صفحہ بدلا، ان کی تخلیقات بھی دیوار پر ٹنگی کی ٹنگی رہ جائیں گی۔ لیکن دوسری طرف واقعہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، یہ ادیب پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس طرح پیش کرتا ہے۔ مارسل پروست محض ایک بسکٹ کا ٹکڑا چکھنے کو دوام عطا کر دیتا ہے، ٹالسٹائی اخبار میں چھپنے والی ایک عورت کی خودکشی کی عام سی روزمرہ کے معمول جیسی خبر کو آناکرینینا بنا دیتا ہے۔ ٹرائے پر یونان کا حملہ بھی ایک واقعہ ہی تھا، اس جیسے نہ جانے کتنے حملے دنیا میں ہوئے ہوں گے لیکن ہومر نے اسے امر کر دیا۔ تو پھر شدت پسندی یا دہشت گردی کے موضوع پر لکھنے میں کیا حرج ہے۔ اس لیے میرے خیال سے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کس موضوع پر لکھ رہا ہے اور آیا وہ موضوع لمحاتی ہے یا کائناتی۔ اس کا فیصلہ وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔باقی رہے دوسرے معاملات تو وہ یکسر غائب تو نہیں ہوئے، البتہ کم ضرور ہوئے ہیں، جو عین فطری ہے۔

تصنیف حیدر:ادریس بابر کی غزل اور علی اکبر ناطق کی نظم پر آپ کی سیدھی سچی رائے کیا ہے؟

ظفر سید:یہ دونوں صاحبان میرے عزیز دوست ہیں اور دوستوں کے بارے میں سیدھی اور سچی رائے دینا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن مجھے یہ آسانی ہے کہ یہ دونوں صاحبان اپنی اپنی جگہ پر نہ صرف منفرد بلکہ ہمہ جہت فنکار ہیں۔ مثال کہ طور پر آپ کے سوال ہی کو لے لیں تو اس پر کہا جا سکتا ہے کہ تو ادریس بابر صرف غزل کے شاعر ہیں اور نہ ہی ناطق صرف نظم کے۔ ادریس نظم بھی کہتے ہیں اور خاص طور پر آپ نے حالیہ مہینوں میں ان کے ’عشرے‘ اور ہفتے ضرور دیکھے ہوں گے۔ یہ ان دو اصناف کے نام ہیں جو انھوں نے ’ایجاد‘ کی ہیں۔ ’حالاتِ حاضرہ‘ پر لکھے گئے ان کے عشرے موجودہ صورتِ احوال کے بارے میں ان کی تشویش اور درمندی سے اسی قدر مملو ہیں جتنے تخلیقی وفور اور فنکارانہ سرشاری سے۔ دوسری طرف علی اکبر ناطق صرف نظم پر اکتفا نہیں کرتے، غزل بھی کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں، اور ان کی غزلوں کا مجموعہ چند ماہ میں سامنے آ رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ جدیدیت، مقامیت اور کلاسیکیت کے عجیب و غریب امتزاج سے غزل میں اپنا ایک مخصوص لب و لہجہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو غزل جیسی مقبول اور آزمودہ صنف میں بےحد مشکل کام ہے۔

تصنیف حیدر:ایک ایسی دنیا میں جہاں امن و امان ہو، لوگ ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت، تاریخ اور شناختی حوالوں کی قدر کرتے ہوں، وہاں صحافت کا مستقبل آپ کے نزدیک کیا ہو گا؟

ظفر سید:ایک ماہ قبل روس کے ایک اخبار نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دن صرف اچھی خبریں شائع کرے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن اخبار اپنی دو تہائی اشاعت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے بعد اسے عقل آ گئی اور وہ مار دھاڑ، حادثات، اور قتل و غارت والی خبروں پر واپس آ گیا۔ تو بات ٹھیک ہے کہ ایسی مثالی جنت میں واقعی اخبار کی اہمیت بہت کم ہو جائے گی، جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہوں، بالکل ایسے ہی جیسے اگر بیماریوں کا قلع قمع ہو جائے تو ڈاکٹروں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ لیکن ہماری اور آپ کی زندگیوں میں تو ایسا ہونے والا نہیں۔

تصنیف حیدر:اچھی تخلیقات انتشار کے بل بوتے پر وجود میں آتی ہیں۔اسے آپ کلیہ سمجھتے ہیں یامفروضہ؟ کیوں؟

ظفر سید:میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ تخلیق کے لیے انتشار اور توڑ پھوڑ بہت ضروری ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ہر اعلیٰ ناول ایک سانچے کو توڑتا اور ایک نئے سانچے کو جنم دیتا ہے۔ پھیلاؤ کا لازمی جزو بکھراؤ ہے، اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ اصل میں کسی بڑے تخلیقی تجربے کو مکمل طور پر گرفت میں لینا شاید ممکن نہیں ہے، اگر مکمل گرفت میں آ گیا تو وجود میں آنے والا فن پارہ مکمل طور پر ٹھکا ٹھکایا اور نک سک سے درست ہو گا، جس کا یہی مطلب ہے کہ یا تو تجربہ چھوٹا تھا یا فنکار۔ تو جس تخلیق میں کچھ الجھے ہوئے دھاگے نہ ہوں، کہیں کوئی کونہ کھدرا ادھورا نہ رہ گیا ہو، اس کے اعلیٰ فن پارہ ہونے میں شک کیا جا سکتا ہے۔

تصنیف حیدر:ہندوستان کے کون سے معاصر ادیب آپ کو بہت پسند ہیں؟ کیوں؟

ظفر سید:میں شمس الرحمٰن فاروقی کا بہت بڑا مداح ہوں۔ اگرچہ میرا ان سے پہلا تعارف شعرِ شور انگیز کے ذریعے ہوا، لیکن پھر ان کے افسانوں اور آخر میں ناول نے پوری طرح اسیر کر کے رکھ دیا۔ یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ فاروقی صاحب اردو کا تہذیبی ذہن ہیں۔ ان جیسی ہمہ جہت شخصیت ڈھونڈنا مشکل ہو گی۔ نقاد، مدیر، محقق، لغت نگار، شاعر، مترجم، افسانہ نگار۔ اور انھوں نے یہ سارے ہنر اپنے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں سمو دیے ہیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ساری زندگی یہ ناول لکھنے کے لیے اپنی ذہنی تربیت کر رہے تھے۔ یہ ناول ان کے سوا کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ ان کے علاوہ سید محمد اشرف کی تحریریں مجھے بہت پسند ہیں، خاص طور پر ان کا ناولٹ ’نمبردار کا نیلا‘ خاصے کی چیز ہے۔ اگرچہ اس پر کسی حد تک ابوالفضل صدیقی کا اثر ہے، لیکن سید محمد اشرف نے اس تحریر کو عام زندگی سے بلند کر کے تمثیلی اور علامتی معانی عطا کر دیے ہیں جن کی وجہ اس سے کئی سطحوں پر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

تصنیف حیدر:ادب کے علاوہ زندگی کی ایسی کون سی باتیں ہیں، جو آپ کو زندگی کرنے، اس کا رس کشید کرنے پر اکساتی ہیں؟

ظفر سید:ادب کے علاوہ میرا پسندیدہ موضوع سائنس ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ایک فرد کا وجود، نوعِ انسان کا وجود، زندگی کا وجود، ہمارا یہ منفرد سیارہ، بلکہ ہماری تمام کائنات کا وجود جھرجھری پیدا کر دیے کی حد تک اس حد تک خلافِ قیاس اور improbable ہے کہ اس کے سامنے صحائف میں درج معجزے بچوں کا کھیل لگتے ہیں۔ یہ چیز ہمیں ہر لمحے کی قدر کرنے اور اسے ہر ممکن حد تک کشید کرنے کا سبق سکھاتی ہے۔اس کے علاوہ ایک عرصے سے خطاطی کا شوق بھی لاحق ہے اور کئی نمائشیں منعقد ہو چکی ہیں۔ درجنوں کتابوں اور رسالوں کے کے سرورق بھی بنا چکا ہوں۔

تصنیف حیدر:انانیت کو آپ ادب میں کس حد تک درست تسلیم کرتے ہیں؟

ظفر سید:میرا پسندیدہ ترین اور ماڈل ادیب انتون چیخوف ہے، جس کی انسان دوستی دیومالائی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ لیکن وہی چیخوف جو ہیضے کی وبا میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر خود کو جھونک دیتا ہے، وہی جب میکسم گورکی کو فکشن لکھنے کے بارے میں مشورہ دیتا ہے تو اس کا لہجہ خاصا تحکمانہ ہو جاتا ہے۔’میں سب سے پہلے تمھارے اندر تحمل کی کمی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ تم تھیئٹر میں بیٹھے ہوئے تماشائی کی مانند ہو جو اپنے جوش و خروش کا اس قدر بےدریغانہ اظہار کرتا ہے کہ نہ تو خود کچھ سنتا ہے نہ کسی اور کو سننے دیتا ہے۔ تحمل کی یہ کمی خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب تم فطرت کا ذکر کرتے ہوئے جگہ جگہ مکالموں سے دخل در معقولات کر دیتے ہو۔‘ظاہر ہے کہ کوئی ایسا شخص یہ بات نہیں کر سکتا – اور وہ بھی میکسم گورکی کو – جب تک اسے اپنی بات کی صحت اور صداقت پر بھرپور اعتماد نہ ہو۔ اس حد تک انانیت مجھے پسند ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر جب ادیب اپنی عظمت کے نشے میں دھت ہو کر دوسروں پر دھاک جمانے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر منھ کے بل گرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *