اجمل کمال کی تحریر


اردو کے ادبی ماحول میں یہ شکایت بہت دنوں سے عام ہے کہ نقاد اپنا کام نہیں کر رہے ہیں، یا ٹھیک طرح سے نہیں کر رہے ہیں۔ اس شکایت کی گونج سید صاحب کے ان مضامین میں بھی بارہا سنائی دیتی ہے جنھیں ’’تنقید کی آزادی‘‘ نامی کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ خود بھی اردو کے نقادوں کی موجودہ کارکردگی سے کچھ زیادہ مطمئن معلوم نہیں ہوتے لیکن ان کی بےاطمینانی غالباً لکھنے والوں (اور پڑھنے والوں) کی عام شکایت سے مختلف ہے، کیونکہ وہ نقاد کے منصب اور اس کی ذمےداریوں کا ایک بلند( شاید ضرورت سے کچھ زیادہ بلند) تصور رکھتے ہیں۔ ان کے اس تصور کی جھلکیاں کتاب کے پہلے مضمون ’’نئے نقاد کے نام‘‘ اور انٹر ویو ’’تنقیدی سوال نامہ‘‘ میں (جو دراصل کئی مصاحبوں کا عطرِ مجموعہ ہے) نسبتاً تفصیل سے دیکھی جا سکتی ہیں اور کئی دوسرے مضامین میں مختصر اشاروں کی شکل میں۔
جہاں تک لکھنے والوں کی شکایت کا تعلق ہے اس کی تعبیر سید صاحب کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ کچھ زیادہ قابلِ اعتنا محسوس نہیں ہوتی۔ (پڑھنے والوں کو اگر کوئی شکایت ہے تو اس کا کہیں ذکر نہیں آتا؛ یوں بھی جب معاملہ ادب اور نقدِادب کا ہوتو پڑھنے والے سید صاحب کے ذہنی افق پر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔) ان کا کہنا ہے:
’’خصوصا نو وار دانِ ادب ایک ایسی تنقید کا تقاضا کرتے ہیں جو ان کی ادبی کوششوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کا ایک جامع قسم کا جائزہ لے سکے، دوسرے لفظوں میں ہر ایک سے اس کی خواہش کے مطابق انصاف کر سکے۔‘‘ (صفحہ11)’’ہمارے اربابِ اختیار کی طرح کئی ایک ادیبوں شاعروں کا بھی یہ وطیرہ ہو گیا ہے کہ ہر اس شخص سے جو اُن کے کام پر رائےزنی کی ذراسی اہلیت رکھتا ہے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہر وقت اور ہر لحظہ انہیں کی تعریف وتوصیف قلم بند کرتا رہے۔ جبھی وہ تعمیری تنقید کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ گویا لے دے کے ہمارے زمانے میں نقاد کا یہ کام رہ گیا ہے کہ ادیبوں کی پبلسٹی کرتا پھرے۔ جس طرح ہر بڑی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایک عدد پبلک ریلیشنز آفیسر لگا ہوتا ہے اسی طرح ہر ادیب وشاعر کے ساتھ ایک ایک نقاد بھی چپکا ہوا ہونا چاہیے جو محل بے محل ان کا بگل بجاتا پھرے۔‘‘ (صفحہ 134) ’’گویا ہرپھر کے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے علامتی اور تجریدی افسانے لکھنے والے نہایت سکہ بند قسم کی تنقید چاہتے ہیں، مکتبی اور مدرّسانہ، جو ان کو شامل نصاب ادیبوں کا اعتبار دلا سکے۔‘‘ (صفحہ 13) ’’تاہم کوئی بھی فردِواحد ہر نئی کتاب اورہر نئے لکھنے والے کا کفیل نہیں ہوسکتا۔‘‘ (صفحہ288)
اگر لکھنے والوں کا تقاضا واقعی کفالت ہی کا ہے، جیساکہ سید صاحب سمجھے ہیں، تو یہ ایسی بات نہیں کہ اس پر زیادہ توجہ صرف کی جائے۔ یہ بات البتہ خاصی دلچسپ ہے کہ اس تقاضے کے بنیادی مفروضے پر سید صاحب کو بظاہر کوئی اعتراض نہیں، یعنی وہ اس خیال کی معقولیت پر کہیں سوال نہیں اٹھاتے کہ سکہ بند، مکتبی، مدرّسانہ (یا کسی اور نمونے کی) تنقید کسی لکھنے والے کو کسی قسم کا اعتبار دلانے یا اس کی کفیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
میں لکھنے والوں میں سے نہیں ہوں اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ نقادوں سے ان کی شکایت کی یہی وجہ ہے؛ مگر پڑھنے والے کی حیثیت سے مجھے یہ وجہ کچھ زیادہ معقول محسوس نہیں ہوتی۔ رونمائیوں میں پڑھے جانے والے مدحیہ مضامین اور تازہ کتابوں میں لکھوائے جانے والے سفارشی دیباچوں اور فلیپوں پر نظر کی جائے تو اس نوع کی تنقید کی قلت سے نہیں بلکہ کثرت سے شکایت کا پیدا ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ اور اس شکایت کا ہدف اگر دیباچے لکھوانے کے شوقین ادیب اور شاعر ہیں تو دوسری طرف دیباچے لکھنے کے ان سے زیادہ شوقین نقاد بھی ہیں۔ ہمارے شہر کے ایک سکہ بند نقاد سید سلیم احمد (جن کی سیادت میں سید صاحب کو کلام ہے) کے بارے میں مشفق خواجہ نے لکھا ہے کہ کراچی کا کوئی تیسرے درجے کا شاعر ان کے فلیپ یا دیباچے سے محروم نہیں رہا۔ (تیسرے درجے کے شاعروں سے اس شیفتگی کی تہہ میں موصوف کی یہ خواہش بھی کارفرما ہو سکتی ہے کہ شاعر کے طور پر خود انھیں،مثلاً، چوتھے یا پانچویں درجے میں شمار نہ کیا جائے۔) کراچی میں ہونے والی رونمائی کی تقریبوں کے لیے توصیف نامے لکھنے اور پڑھنے والے کہا جاتا ہے کہ دریوں اور کرسیوں کے ساتھ (مفت یا واجبی نرخ پر) مل جاتے ہیں۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ سلیم احمد مرحوم اس سر گرمی کو بطورِ تعلّی ’’علم کی زکوٰۃ نکالنا‘‘ کہا کرتے تھے۔ اس سے قطع نظر کہ زکوٰۃ ’’نکالنا‘‘ صرف صاحبِ نصاب پر لازم آتا ہے، ان سخی سرکار نقادوں کی سخاوت بہت سے لکھنے والوں کی کفالت تو کرہی لیتی ہے، پھر شکایت کا کیا محل؟ اس سخاوت کو آپ چاہیں تو نقاد کی قضاوت پر محمول کر لیجیے، مجھے تو یہ ادب کے حق میں قساوت ہی محسوس ہوتی ہے۔
’’اس نئی پود کے شاعر حضرت فلاں تھے اور داستاں طراز مسٹر فلاں کہ ہر دو کے کمالاتِ فن سے آج بھی ایوان ادب گونج...‘‘ الخ۔ باادب با ملاحظہ قسم کے ان پُرشور اعلانات سے گڑبڑا کر میں سوچتا ہوں کہ کہیں سید صاحب کو لکھنے والوں کی شکایت کے سمجھنے میں مغالطہ نہ ہوا ہو۔ مگر ممکن ہے یہ لکھنے والوں کے حق میں میری خوش گمانی ہو۔
رہے پڑھنے والے تو انھوں نے میر، غالب، اقبال، پریم چند، عظیم بیگ چغتائی، رفیق حسین، فیض، منٹو، بیدی، عصمت، غلام عباس، راشد، غرض کسی قابلِ قدر ادیب کی تحریروں کے سلسلے میں نقاد کے عدم ووجود کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی (کون یہ کہنے کی جسارت کرسکتا ہے کہ ان میں سے کسی کا مقام کسی نقاد کی کفالت کا شرمندۂ احسان ہے؟) اور نہ دوسری طرف زکوٰۃ کے سلسلے میں لکھے گئے مدحیہ دیباچے وغیرہ تیسرے درجے کے شاعروں کی حیثیت میں کوئی بہتری پیدا کرسکے۔ ان گستاخ پڑھنے والوں کے نزدیک جن کی خاصی تعداد، سید صاحب کے خیال کے برعکس، ہر دور میں موجود رہی ہے، ادب کے میدان میں بھی نقاد کی ذمےداری، منصب اور مقام (یعنی ان کا کام) وہی ہے جو مثلا مصوری، تھیٹر اور فلم کے میدانوں میں ان فنون کے نقادوں کا، گو یہ کہیں نہیں دیکھا گیا کہ کسی مصور نے اپنی نمائش میں کسی نقاد کا ریویو بھی فریم کر کے لٹکا رکھا ہو یا فلم کے شروع میں کسی نقاد کا سرٹیفکیٹ دکھایا جائے (سنسر بورڈ کے سرٹیفکیٹ کی بات الگ ہے؛ اس کی قضاوت سے گزرنا قانونی مجبوری ہے۔)
اگر سید صاحب نے تنقید کے سلسلے میں ایک بلند معیار اپنے پیش نظر رکھا ہے تو اس بات پر حرف زنی کی نہ گنجائش ہے اور نہ ضرورت۔ دیکھنے کی بات صرف یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی تنقیدی کاوشیں اس مخصوص معیار پر (یا پڑھنے والوں کے قائم کیے ہوے کسی عمومی معیار پر) کس حد تک پوری اترتی ہیں۔ کتاب کے پہلے مضمون سے تاثر ملتا ہے کہ انھوں نے کسی سینت بو کو اپنی ناقدانہ کاوشوں کا ماڈل ٹھہرایا ہے۔ (’’کسی‘‘ کے لفظ کو ادبی تنقید کے میدان میں سینت بو کی اہمیت کا استرداد نہ سمجھیے؛ یہ محض اپنی لاعلمی کا اعتراف ہے۔) اس فرانسیسی نقاد کے دیگر اوصاف کے بیان کے علاوہ سید صاحب نے یہ بھی بتایا ہے کہ ’’وکتر یوگو، شاتوبریاں، بالزاک، فلوبیر، بودلیر، موپاساں اور زولا سب نے اس کی تنقید کا ستم سہا ہے۔‘‘ (صفحہ14) اپنی لاعلمی پر مناسب حد تک شرمندہ ہونے کے باوجود مجھے تھوڑا سا اطمینان بھی ہے کہ مذکورہ فنکاروں کی تحریروں سے حظ اندوز ہونے والوں کے مقابلے میں سینت بو کے ناقدانہ محاکموں سے مستفیض ہونے والوں کی تعداد بہرحال کم ہی ہو گی۔ اسے پڑھنے والوں کی ستم ظریفی کہیے کہ انھوں نے ان ادیبوں کا مقام متعین کرتے ہوے سینت بو کی ناقدانہ ستم گری کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
خیر، اس وقت چونکہ سید صاحب کا تصورِ تنقید زیرِ بحث ہے، اس لیے ستم ظریف پڑھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑیے اور یہ دیکھیے کہ سید صاحب نے جو نمونہ اپنے سامنے رکھا ہے اس کی خصوصیات کیا ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’خود سینت بوکی زندگی میں بالزاک اور فلو بیر کے ساتھ اس کی بحثیں چلیں جن میں کئی ایک نکات ایسے نکلتے ہیں جن سے واضح طور پر ان تخلیقی فنکاروں سے اس کا بغض وعناد ثابت ہوتا ہے۔‘‘ (صفحہ 41) اس بات کے ’’واضح طور پر ثابت ہونے‘‘ کے بعد یہ توقع حق بجانب معلوم ہوتی ہے کہ سید صاحب نے اس سلسلے میں احتیاط برتی ہو گی۔ یہ توقع، جیسا کہ آپ آگے چل کر دیکھیں گے، پوری نہیں ہوتی۔
سینت بو کے نقاد کی آزادی کے تصور سے سید صاحب کو بہت رغبت معلوم ہوتی ہے۔ اس تصور میں ’’عصری شخصیات کے زورِ قیادت سے آزادی، شہرت کے دباؤ سے آزادی، خیالات کے تشدد سے آزادی اور سب سے زیادہ خود نقاد کی اپنی رائے پر استحکام سے آزادی شامل تھی۔‘‘ (صفحہ15) سید صاحب کو احساس ہے کہ ’’ہمارے زمانے میں شاید سینت بو کی لامحدود آزادی کو تنقیدی موقع پر ستی قرار دیا جائے،‘‘ لیکن آخر کار وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ’’انسانی سطح پر شاید اس روش کو ناپسندیدہ قرار دیا جائے لیکن تنقیدی جدلیات اسی قسم کے دہرے پن کی متقاضی ہے۔‘‘(صفحہ15)
سینت بو کے دستورالعمل کو سید صاحب نے نہ صرف اپنے بلکہ اپنے مدمقابل نقادوں کے لیے بھی مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ اس دستور کی چند ابتدائی شقیں یہ ہیں:
’’اپنے مطالعے کے میدان کو مستقل بدلتے رہو، اپنی ذہانت کو ہر سمت میں پھلنے پھولنے دو اور اس کی ہمدردیاں محض ایک پارٹی، ایک ہی مکتب خیال اور ایک ہی نکتے تک محدود نہ ہونے دو، اپنی آزادی اور وقار کو برقرار رکھو، ہمیشہ انصاف پسندی سے کام لو اور صاف بینی سے، اپنی کمزوریوں کے سلسلے میں بھی۔ اور اگر تم پورا سچ نہ بول سکو تو غلط بیانی سے بھی کام نہ لو ۔‘‘ (صفحہ16)
اپنے اس بلند معیار کی وضاحت سید صاحب نے سینت بو سے مستعار لفظوں کے علاوہ خود اپنے لفظوں میں بھی جا بجا کی ہے۔ ایک جگہ کہتے ہیں:
’’تنقید کی عرفان آمیز حکمت کا کمال یہ ہے کہ تخلیقی متن کی مدد سے جو کچھ محسوس ہو نہایت درجہ صداقت اور شخصی دیانت کے ساتھ بیان ہو۔ پھر اس کا تجزیہ اور قضاوت ایک غیرشخصی نہج یا میتھڈ (Method) کی رو سے کیا جائے تاکہ اس کام میں ذاتی جذبات اور تعصبات، شخصی وفاداریوں اور تعلقات کا عمل دخل کم سے کم ہونے پائے۔ یہ نہج کوئی بھی ہو سکتی ہے، قدیم علم بلاغت، ارسطو کی شعریات، عینی جمالیات، مارکسی فلسفہ، تاریخ، عمرانیات، نفسیات، وجودیت، تشکیلیت، ردِ تشکیل یا تشکیلِ نو۔ اس بحث سے کچھ حاصل نہیں کہ کون سی نہج کتنی نئی یا پرانی ہے...‘‘(صفحہ335)
اور ظاہر ہے، اس بحث سے بھی کچھ حاصل نہیں کہ نقاد کو اس مصیبت میں ڈالا کس نے اور کس لیے۔ قضاوت کا یہ بارِ گراں کچھ کچھ ’’سفید آدمی کے بوجھ‘‘ سے مماثل محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب سید صاحب پڑھنے والوں کی بابت اپنے مربیانہ خیالات ظاہر کرتے ہیں:
’’قارئین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے زمانے کا ادب پڑھ کر لطف اندوز یا بے لطف ہوتے ہیں لیکن اپنے رد عمل کو تحریری صورت میں ظاہر نہیں کرتے۔ اپنے زمانے کے ادب کی حدبندی اس لیے ہے کہ عام طور پر قارئین یہیں تک محدود رہتے ہیں... ان تک اپنے زمانے کے ادب کا کتنا بڑا اور کتنا اہم حصہ پہنچ پاتا ہے اس پر کوئی فیلڈ ورک نہیں ہوا...‘‘
ادب کے پڑھنے والوں کی بابت اس دلچسپ نتیجے تک پہنچنے کے لیے کسی فیلڈورک کی حاجت بھی نہیں، بس جرأتِ رندانہ کافی ہے، جس کی سید صاحب میں کمی نہیں۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ نقاد کو قاضیِ شہر (یا، قرۃ العین حیدر کے لفظوں میں، ’’دانش مندوں کے کمانڈراِنچیف‘‘) کی ذمےداری کس نے سونپی۔ اگر یہ عہدہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹری سے مختلف ہے جس پر طالع آزما لوگ خود کو بزورِ شمشیر فائز کر لیتے ہیں، تو آخر اس کا کچھ نہ کچھ جواز تو ہونا ہی چاہیے، اور اس کے کچھ مطالبات بھی ضرور ہوں گے خواہ وہ سید صاحب کے مذکورہ بالا رجز سے ذرا کم بلندآہنگ کیوں نہ ہوں۔ دیکھا گیا ہے کہ نقاد کی مختلف النوع آزادیوں میں اگر منطق، استدال اور عقلِ سلیم سے آزادی بھی شامل ہو جائے تو پڑھنے والے اسے ہنس کر اُڑا دیتے ہیں۔
میرا تاثر یہ ہے کہ سید صاحب نے اپنے لیے جو کڑا معیار مقرر کر لیا ہے ان کی تحریریں اس پر پوری نہیں اترتیں۔ آگے چل کر میں اپنے اسی تاثر کی وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا۔

سید صاحب کے مضامین کی جو خصوصیت سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ ان کی نثر کا مخصوص لہجہ ہے۔ جن لوگوں کو میری طرح ان کی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا ہے وہ اس بات کی تصدیق کرسکیں گے کہ یہ لہجہ سید صاحب کی گفتگو کے لہجے سے قریبی مماثلت رکھتا ہے۔ عمیق مطالعے اور گہرے غوروخوض کے عادی اور ادبی بحث کے بعض مخصوص موضوعات سے شدید شغف رکھنے والے بردبار شخص کی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ گفتگو اور تحریر کے اس لہجے میں جا بجا لوڈڈ فقرے، معنی خیز اسائیڈز، یک طرفہ مزاح کے نمونے اور وضعِ احتیاط کی سخت پاسداری کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ ان فقروں، اسائیڈز اور احتیاط (یا ذہنی تحفظات) کے اشاروں کا پورا مفہوم پانے کے لیے سننے یا پڑھنے والے کا ادبی بحث مباحثے کی ان اصولی اور فروعی تفصیلوں سے واقف ہونا ضروری ہے جن پر اردو تنقید کا پچھلی نصف صدی کا بیشتر سرمایہ مشتمل ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ میرے لیے، اور غالبا میری نسل سے تعلق رکھنے والے بعض اور لوگوں کے لیے، یہ کام قدرے دشوار ہے کیونکہ اس بحث کے بعض اجزا وقت سے اتنے پیچھے رہ گئے ہیں کہ زمانۂ حال میں ان کی اہمیت اور معنویت کے بارے میں سوال اٹھانا ممکن ہے۔
اس طرح کا ایک سوال ترقی پسند نقادوں کے بارے میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تنقیدنگاری 1936 میں شروع ہونے والی اس تحریک کا سب سے قابلِ فخر نتیجہ نہیں تھی۔ اس تحریک کے زیر اثر لکھنے والوں نے، جن میں ہر سطح کے ادیب اور شاعر شامل تھے، اپنے اردگرد کی زندگی اوراس کے مسائل سے دلچسپی لینی شروع کی اور اپنے زمانے کے اہم موضوعات کو اپنی اپنی تخلیقی استطاعت کے مطابق برتا، اور اپنی اپنی توفیق کے مطابق کامیابی حاصل کی۔ جن لوگوں کی شناسائی میری طرح ادب سے دلچسپی لینے کے آغاز ہی میں محمد حسن عسکری اور سلیم احمد وغیرہ کی چٹ پٹی تحریروں سے ہو گئی تھی انھیں وقت ضائع کیے بغیر معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان کے نزدیک ترقی پسند نقاد دراصل گھامڑوں کا ایک ٹولہ ہیں جو ادب براے زندگی جیسے فقروں کی گردان کرتے رہنے کے باوجود نہ ادب کا شعور رکھتے ہیں اور نہ زندگی کا۔ پڑھنے والوں کو نقادوں کی زندگی اور عاقبت سے یوں بھی کوئی خاص غرض نہیں ہوتی؛ ان کی دلچسپی کا محور تو تخلیقی ادب ہوتا ہے جو نقاد نہیں بلکہ ادیب اور شاعر لکھتے ہیں۔
میرے خیال میں قصہ وہیں ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن یہ دیکھ کر حیرت سی ہونے لگی ہے کہ اتنے طویل عرصے سے جس کے دوران ادبی نقادوں کی کئی نسلیں بوڑھی اور کئی جوان ہو چکی ہیں، بہت سے غیرترقی پسند نقادوں کا بیشتر وقت، اور تقریباً تمام تر زور، اُنھی بدنصیبوں کے گھامڑ ہونے کے میعادی بلیٹن جاری کرنے کے مشغلے کی نذر ہو رہا ہے۔ سید صاحب کا بھی یہ مرغوب موضوع ہے۔ اپنے پسندیدہ موضوعات منتخب کرنا اور اپنے وقت اور صلاحیت کا کم یا زیادہ حصہ ان کے لیے وقف کرنا ظاہر ہے کہ نقاد کی آزادی میں شامل ہے، اور اس پر اعتراض کرنے کا کسی کو کیا حق ہے۔ البتہ جو بات عجیب معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سید صاحب کے متعدد ذہنی تحفظات اور ردعمل کے طورطریقے ترقی پسند نقادوں سے متواتر الجھتے رہنے کے باعث مخصوص انداز میں متعین، یا بلکہ متحجر، ہو کر رہ گئے ہیں۔
غیر ترقی پسندنقادوں کو گھامڑوں کے مذکورہ قبیلے سے جو شکایات ہیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ وہ رشد وہدایت کے لیے کھیت واڑی کی طرف دیکھتے تھے (یعنی بمبئی کے اس علاقے کی طرف جہاں کمیونسٹ پارٹی کا ہیڈکوارٹر واقع تھا) اور اُدھر کا اشارہ پاتے ہی بعض مخصوص موضوعات، مثلاً بھوک، مفلسی، غلامی، فرقہ وارانہ فسادات، کا ذکر آ جانے کو کسی ادبی تحریر کی خوبی قرار دینے لگتے تھے۔ اور کم صلاحیت رکھنے والے بعض ادیب اور شاعر محض اس نسخے کو کامیابی کی کلید سمجھ کر اپنی تحریروں میں ان موضوعات کی گردان کرنے لگتے تھے، جنھیں ’’علم کی زکوٰۃ نکالنے والے‘‘ مضامین میں بانس پر چڑھایا جاتا تھا۔ ظاہر ہے، اس میں آپ کا یا میرا کچھ نقصان نہیں ہوا؛ جو ادیب اور شاعر نقادوں کو رہنما بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں ان سے یوں بھی کیا توقعات رکھی جا سکتی ہیں۔ مگر اس غیرادبی عمل کی ضمنی پیداوار ایک اور قسم کے نقادوں کا قبیلہ بھی تھا۔ ان حضرات (اور خواتین) کی نگاہیں بھی کھیت واڑی کی جانب لگی رہتی تھیں اور یہ اُدھر کا اشارہ پاتے ہی اول الذکر قبیلے کے پسندیدہ موضوعات کو زندگی بھر کے لیے اپنے ناپسندیدہ موضوعات میں شامل کر لیتے تھے۔ اس قبیلے کے نقادوں کے ہاں ایسے جملے اکثر ملتے ہیں کہ ’’فسادات تو ادب کا موضوع بن ہی نہیں سکتے‘‘، ’’بنگال کے قحط پر افسانہ لکھنا ایسا ہی ہے جیسے قحط کے دنوں میں ذخیرہ اندوزی کر کے منافع کمانا‘‘ وغیرہ۔
مثال کے طور پر ترقی پسندوں کا ایک پسندیدہ لفظ ’’ارتقا‘‘ ہے جسے سید صاحب نے تقریباً اپنی چڑ بنا لیا ہے۔ جہاں کہیں ارتقا کا لفظ آ جائے (بجز اس کے کہ وہ ممتاز شیریں کی تحریر میں استعمال ہوا ہو) سید صاحب اسے ’’ڈاروِن کی روح کو ثواب پہنچانے‘‘ کا مترادف قرار دیتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ اسے مولانا روم کے مزار پر منت ماننے کے مساوی بھی سمجھا جا سکتا ہے، سنا گیا ہے کہ ڈارون شاید معاشرتی علوم کی کسی شاخ سے (جس کا کوئی بھلا سا نام بھی ہے) وابستہ تھا اور تحقیق وتلاش کے کسی عمل سے گزر کر اپنے مخصوص علم کی حد تک چند نتائج پر پہنچا تھا۔ البتہ ہم اچھے مسلمانوں کی طرح افواہوں پر توجہ نہیں دیتے۔ ہمارے ہاں نظریۂ ارتقا کی تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ مسمی ڈارون ’’اوباش والواط‘‘ کے ساتھ چنڈوخانے میں اوندھے منھ پڑا تھا کہ اسے اشرف المخلوقات کی شان میں ایک مزے دار پھبتی سوجھی اور اس نے منھ اٹھا کر زور سے ’’بوزنہ!‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ ادھر لسان العصر خان بہادر سید اکبر حسین صاحب اکبر الٰہ آبادی، جج عدالتِ خفیفہ، سرکارِ (استعمارِ؟) انگلیشیہ، اپنی کوٹھی پر واپس جاتے ہوے چنڈوخانے کے سامنے سے لاٹھی ٹیکتے گزر رہے تھے ۔ وہ یہ سمجھے کہ خاص ان کے داداجانی جنت مکانی پر طنز کیا جا رہا ہے۔ بس، وہ دن اور آج کا دن، آگے آگے ڈارون بوزنہ ہے اور پیچھے پیچھے لاٹھی گھماتے لسان العصر، اور ان کے پیچھے اشراف کے شرارتی لونڈوں کا تالی پیٹتا ہجوم۔
یہ نہیں کہ سید صاحب کو ارتقا کے تصور کا سہارا لینے کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ مثال کے طور پر اقبال کے بعض ناقدین جب ان کے ابتدائی کلام کو بعد کے کلام پر کسی اعتبار سے فوقیت دیتے ہیں تو اپنے اقبال کے دفاع میں ایسے کسی تصور کو کام میں لانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ البتہ ایسے موقعوں پر سید صاحب وضعِ احتیاط پر قائم رہتے ہوے ’’پختگی‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح جب، مثلاً، سائنسی اور معاشرتی علوم کی تازہ دریافتوں سے ترقی پسند نقادوں کی بےخبری کا ذکر مقصود ہو تو اسے ان علوم کا ارتقا نہیں بلکہ ’’پیش رفت‘‘ کہتے ہیں۔
اول الذکر قبیلے کا ایک پسندیدہ لفظ ’’جدلیات‘‘ بھی ہے۔ اس کے سلسلے میں سید صاحب نے بڑا دلچسپ طریقہ اختیار کیا۔ اس بات کو خاطر میں نہ لاتے ہوے کہ اس اصطلاح کو گھامڑوں کے سوا کچھ اور لو گ بھی ایک مخصوص معنی میں استعمال کر چکے ہیں، سید صاحب نے اسے اپنے ذاتی استعمال میں لا کر اسے پچھلے معنی سے تہی کر دیا اور لطف یہ کہ کوئی نئی تعریف متعین کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ نتیجہ یہ کہ یہ بدقسمت لفظ اب سید صاحب اور صفدر میر(عرف زینو) کے درمیان گلی کے نکڑ پر ہونے والے توتکار کے مقابلے (یعنی جنگ و جدلیات) کے مفہوم میں بھی بلاتکلف برتا جاتا ہے۔ وتعزمن تشا و تذل من تشا۔
ترقی پسند نقادوں کا ایک مخصوص سیاسی اور معاشرتی نقطۂ نظر تک محدود ہو کر رہ جانا بھی سید صاحب کے نزدیک نہایت مذموم ہے۔ اگرچہ ان کا ایک ممدوح بودلیر بھی کچھ اسی قسم کی تلقین کرتا نظر آتا ہے لیکن سید صاحب کا فیصلہ ہے کہ ’’درحقیقت، بودلیر نے جس کشادہ گرفتاری کو مقصودِ نظر بنایا ہے وہ ہماری پارٹی بازی اور گروہ بندی اور ایک ہی آقا کی غلامی سے مختلف قسم کی چیز ہے۔‘‘ کیونکر؟ وہ اس کی تفصیل میں نہیں جاتے۔ ترقی پسند نقادوں کی اس مذموم ’’وابستگی‘‘ کے مقابلے میں خود سید صاحب نے اپنے ذاتی استعمال کے لیے اسی قسم کی ایک اور گرفتاری کا بندوبست کر رکھا ہے۔ کہتے ہیں:
’’ایمان کی بھی سینکڑوں صورتیں ہیں اور کسی نہ کسی طرح کا ایمان ادیب کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کارخانے کے لیے خون پسینہ۔‘‘ (صفحہ300)
’’عوام‘‘ کا لفظ بھی کسی ترقی پسند نقاد کا ہاتھ چھو جانے کے باعث سید صاحب کے لیے اسی طرح ناقابلِ استعمال ہو چکا ہے جیسے نظیر اکبر آبادی کی ایک ممدوحہ نے موصوف کا ہاتھ لگ جانے پر اپنے ازاربند کو ناپاک قرار دے دیا تھا۔ اس سلسلے میں سید صاحب کا ایک اعتراض یہ ہے کہ ترقی پسند ’’اوباش والواط‘‘ کی (جنھیں وہ ’’عوام‘‘ کہتے ہیں) مناسب توقیر نہیں کرتے۔ اس کی مثال کے طور پر فیض کی نظم ’’کتے‘‘ پیش کی جاتی ہے جو سید صاحب کو اصرار ہے کہ ’’عوام‘‘ کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ سید صاحب ٹھیک ہی کہتے ہوں گے، گو بعض لوگ اسے اقبال کی ایک نظم کی پیروڈی سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس طنز کا ہدف بھی انھی کو سمجھتے ہیں جنھیں اقبال نے اپنی مدح کا سزاوار جانا۔
’’عوام‘‘ کا متبادل سید صاحب کے پاس ’’قوم‘‘ کا لفظ ہے، اور اگر چہ ذکر یہاں بھی انھی ’’اوباش والواط‘‘ کا ہے، اس لفظ اور ’’قومی امنگوں اور آرزوؤں ‘‘ کی شان میں وہ، طنز ومزاح سے اپنی شیفتگی کے باوجود، کوئی ہنسی کھیل برداشت نہیں کرتے۔ ان کے اس پاکیزہ تصور کی وضاحت، یا ان مفروضہ امنگوں اور آرزوؤں کی صراحت، کے سلسلے میں کسی شخص کا (سید صاحب کے لفظوں میں) اس طرح کے سوالات کرنا بالکل بےسود ہو گا:
ان حضرت کو کیسے معلوم ہوا کہ ’’قوم‘‘ کیا چاہتی ہے؟ کیا کوئی ریفرنڈم ایسا بھی ہوا ہے جس کی خبر کسی اخبار میں نہیں چھپی؟ یا ’’قوم‘‘ نے ان کو اپنا نمائندہ بنا کر ادیبوں کی فوج میں بھیج دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ تم جو کچھ کہو گے ہم تمھارے ساتھ ہیں؟
خیر، افتادگانِ خاک کو ’’عوام‘‘ کہا جائے یا ’’قوم‘‘، یہ بات ظاہر ہے کہ ’’روٹی کی بھوک‘‘ ان کی امنگوں سے ابد تک کے لیے خارج ہو چکی ہے۔ وجہ وہی ہے کہ ترقی پسند نقادوں نے، انصاف کی انسانی آرزو کا دستانہ پہن کر ہی سہی، اسے ایک بار ہاتھ لگا دیا تھا۔ ان کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ قحطِ بنگال کی تصویرکشی کی داد دیتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچے کو بھون کر کھا گئی، اور نظیر اکبر آبادی کی شہادت اپنے مذموم موقف کی حمایت میں لاتے ہیں۔ جبکہ سید صاحب نے صاف صاف بتلایا ہے کہ نظیر نے اپنی نظم کا اختتام رزقِ حلال کے بارے میں اسی مقولے پر کیا ہے جو حکومتِ پاکستان کے جاری کردہ کرنسی نوٹوں پر چھپا ہو تا ہے۔ جب تک قحطِ بنگال کے ناگوار موضوع پر لکھے گئے افسانے کے آخر میں ایسی ایک ’’پس تحریر‘‘ شامل نہ کی جائے کہ ’’واضح رہے کہ اگر یہ خاتون بھوک مٹانے کے لیے اپنے لخت جگر کو بھوننے پر مجبور نہ ہوتی تو اس وقت مصلّے پر بیٹھی تسبیح پھیر رہی ہوتی،‘‘ تب تک نظیر اکبر آبادی کی بھوک اور ترقی پسندوں کی بھوک کو مماثل کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے؟
گھامڑوں کے مذکورہ قبیلے سے سید صاحب کی عمربھر کی ’’جدلیات‘‘ سے گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ اب بھی کہیں گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ مگر سید صاحب ہی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب قرۃ العین حیدر کا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ شائع ہوا تب (یعنی سن ساٹھ کے لگ بھگ) اس تحریک کو شروع ہوے ’’کوئی پچیس سال‘‘ اور ختم ہوے ’’دس بارہ سال‘‘ ہو چکے تھے۔ (صفحہ 115) ’’تنقید کی آزادی‘‘ پرسنِ اشاعت درج نہیں ہے، لیکن محتاط اندازے کے مطابق جب یہ مجموعہ چھپا اس وقت تو سن ساٹھ کو بھی گزرے ہوے چونتیس برس ہو چکے تھے۔ اس موضوع سے سید صاحب کے غیرمختتم شغف پر مجھے تو انھی کا فقرہ یاد آتا ہے کہ ’’دشمن سے لڑنے کے بجائے ہوا سے لڑنے کا منظر،‘‘ البتہ میرے ایک کرم فرما کو ایک لطیفہ یاد آیا جو مجھے برمحل تو نہیں لگتا لیکن آپ کی نذر ہے۔
یہ اُن دنوں کے کراچی کا ذکر ہے جب سید صاحب کے مخدوم آں جہانی جنرل ضیا کی عنایت سے یہ شہر ہیروئن اور دیگر تفریحات کی زد میں نہیں آیا تھا، میکلوڈ روڈ کے پاس بھولو برادران کا اکھاڑا ابھی سلامت تھا اور غیرملکی سیاح بھی شہر میں آتے جاتے تھے۔ ایسا ہی ایک سیاح صبح سویرے ڈاکٹر ضیا الدین احمد روڈ کے سرے پر واقع ایک پنج ستارہ ہوٹل سے نکل کر سیر کرتا ہوا اکھاڑے کی طرف جا نکلا۔ اس نے کسی برادر پہلوان کو ڈنڈ پیلتے ہوے دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ جب ثقافتی صدمے سے ذرا بحال ہوا تو ہمت کر کے پہلوان کے قریب پہنچا اور اس کے کندھے کو تھپتھپا کر بولا:
Hey mister, I think she is gone!

دنیا میں جہاں کہیں ادبی تنقید کو ایک علمی مشغلے کے طور پر اختیار کیا گیا ہے، وہاں یہ دستور ہے کہ نقاد اپنی بنیادی اصطلاحات اور تصورات کی مناسب حد تک واضح تعریف متعین کرتا ہے اور اپنے تنقیدی طریق کار کی بھی صراحت کر دیتا ہے تاکہ پڑھنے والے اس کی تحریر کو اس کے درست پس منظر میں سمجھ سکیں۔ جب متفرق تنقیدی مضامین کا مجموعہ مرتب کیا جارہا ہو تو یہ صراحتیں اور بھی زیادہ ضروری ہوتی ہیں۔ عموماً اس طرح کے مجموعوں میں پیش لفظ سے یہی کام لیا جاتا ہے اور جب مجموعے میں شامل مضامین ایک طویل عرصے کے دوران لکھے گئے ہوں تو ان کے انتخاب اور کتاب میں ان کی ترتیب کے بارے میں بھی معلومات کتاب کے شروع میں فراہم کر دی جاتی ہیں۔ البتہ زیربحث کتاب میں پیش لفظ کے طور پر شامل کی گئی تحریر ’’شکریے اور صراحتیں‘‘ سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ’’پچھلے چالیس ایک برس کے دوران لکھے گئے مضامین کا یہ منتخب مجموعہ تنقید کے علم وفن اور اس کے اجتماعی تناظر سے بحث کرتا ہے۔‘‘ اس ایک جملے کو کافی سمجھتے ہوے سید صاحب نے اس کے بعد ان متعدد اشخاص کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے ان مضامین کو فراہم کرنے میں مدد دی جنھیں ’’راقم سنبھال کر نہیں رکھ سکا تھا۔‘‘ اگر ان مضامین سے پڑھنے والے کا کچھ بھلا ہوتا تو وہ بھی ان خواتین و حضرات کا ممنون ہوتا؛ موجودہ صورت میں تو مجھے لگتا ہے کہ انھیں ’’راقم‘‘ ہی کے شکریے پر قناعت کرنی ہو گی۔
اجتماعی تناظر سے کیا مراد ہے، اس کی تفصیل پیش لفظ میں یا کسی اور مقام پر تلاش کرنا بےسود ہو گا۔ اجتماعی تناظر کو تو جانے دیجیے، یہ تک کہیں معلوم نہیں ہوتا کہ سید صاحب ’’تنقید‘‘ سے کیا مراد لیتے ہیں۔ کہیں تو وہ اسے ادبی تنقید کے مانوس معنوں میں، یعنی تخلیقی ادب کے کسی نمونے یا مجموعے پر اظہارِ خیال کے مفہوم میں، استعمال کرتے ہیں، اور کہیں اس کو سماجی تنقید کے وسیع مفہوم سے خلط ملط کر دیتے ہیں۔ کتاب کے عنوان ’’تنقید کی آزادی‘‘ کے علاوہ نقاد کی ’’ذمہ داری‘‘ ، ’’منصب‘‘ وغیرہ کے بارے میں سید صاحب کے کئی خیالات ایسے ہیں جن کا اطلاق ہر اس شخص پر کیا جا سکتا ہے جو اپنی تحریر یا عمل کے ذریعے معاشرے کی کسی اچھی بری بات پر تبصرہ کرتا ہو، اور میرا خیال ہے کہ ایسے کسی شخص کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ نقدِ ادب کے پیشے سے وابستہ ہو۔ وہ منٹو، فیض اور عصمت کی طرح ادیب بھی ہو سکتا ہے، جسٹس رستم کیانی کی طرح ایک ذمے دار عہدے پر فائز شہری بھی، نثار عثمانی اور اردشیر کاوس جی کی طرح صحافی بھی، عبدالستار ایدھی اور اختر حمید خاں کی طرح سماجی کارکن بھی، پروفیسر کرار حسین کی طرح مدرّس بھی، اور بہت سے سیاست دانوں کی طرح سیاست داں بھی۔ یوں تو ادبی نقاد کے لیے بھی یہ راہ بند نہیں، لیکن اس کی مثالیں اردو تنقید میں کم وبیش نایاب ہیں۔ سید صاحب پر تواس قسم کا الزام ان کا کوئی دشمن ہی لگائے تو لگائے۔
اس مجموعے میں شامل مضامین سے یہ اندازہ تو جابجا ہو تا رہتا ہے کہ سید صاحب کن لوگوں، خیالوں، نظریوں اور رجحانوں کے خلاف ہیں، مگر یہ ٹھیک طرح معلوم نہیں ہونے پاتا کہ وہ ان کے بدلے میں، یا ان سے قطعِ نظر، کیا تجویز کرتے ہیں۔ یہی شکایت سید صاحب سے انٹرویو کرنے والے ایک شخص نے اپنے الفاظ میں یوں کی کہ ’’آپ کی تنقیدی آراء اورمحاکمے کسی واضح تھیوری کی بنیاد پر مبنی نظر نہیں آتے۔ کیا تنقیدی عمل کے لیے ضروری نہیں کہ یہ کسی تنقیدی فکر کی اساس پر تشکیل پذیر ہو؟ اور وہ فکری اساس بھی الگ طریقے سے کہیں مفصل طور پر بیان کی گئی ہو؟‘‘ (صفحہ285) سید صاحب کا جواب تھا کہ ’’ضروری تو نہیں،‘‘ اور اس جواب کی تفصیل انھیں ایسی سمت میں لے گئی جس کا سوال سے کوئی براہِ راست تعلق نظر نہیں آتا۔ انٹرویو کرنے والے کی بات کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ سید صاحب کی تحریروں میں کسی فکری وحدت کا سراغ نہیں ملتا، ان کے بنیادی تصورات اور اصطلاحات تشنۂ تعریف رہتی ہیں اور یہ تحریریں مل کر ادب اور معاشرے سے اس کے تعلق کے بارے میں کسی واضح نقطۂ نظر کی تشکیل نہیں کرتیں جس کے استدلال کو زیر بحث لایا جا سکے۔ اس نقطۂ نظر کی غیرموجودگی میں ’’اجتماعی تناظر‘‘ ایک ایسی اصطلاح رہتی ہے جس کے معنی واضح نہیں ہو پاتے۔
اس مجموعے میں اردو کے جن نقادوں کی تحریروں پر سید صاحب کے ’’محاکمے‘‘ شامل ہیں وہ محمد حسن عسکری، فیض، اختر حسین رائے پوری، سلیم احمد، شیفتہ، ممتاز شیریں اور سراج منیر ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے ترجموں پر سید صاحب کا دیباچہ، کئی انٹرویو، اور اردو میں تاریخِ ادب، تحقیق اور تنقید کی مجموعی صورت حال کے جائزے کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ فیض اور اختر حسین رائے پوری کے بارے میں الگ الگ مضامین کے علاوہ ایک مضمون ترقی پسندوں کے تاریخی شعور (یعنی اس کے فقدان) کے موضوع پر ہے۔ ایک مضمون ’’تنقید کی آزادی‘‘، جس سے اس مجموعے نے اپنا عنوان پایا ہے، سید صاحب نے خاص اسی کتاب کے لیے تحریر کیا ہے۔ اس مضمون کا ذرا تفصیلی ذکر آگے چل کر ہو گا۔
سیدصاحب نے جن نقادوں کو موضوعِ بحث بنایا ہے ان میں عسکری جیسے معروف نقاد بھی شامل ہیں، ریاض احمد اور سراج منیر جیسے غیرمعروف (اور غیراہم) نقاد بھی، اور فیض بھی جن کی بنیادی حیثیت تنقیدنگار کی نہیں، شاعر کی ہے۔ ان میں سے کسی بھی نقاد کے بارے میں سید صاحب کی رائے بیشتر اس پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ کھیت واڑی سے تعلق رکھنے والے دو قبیلوں میں سے کس سے زیادہ قریب ہے۔ عسکری، ممتاز شیریں، سلیم احمد وغیرہ کے بارے میں لکھتے ہوے وہ ان سے بعض ضمنی معاملات میں چھیڑچھاڑ ضرور روا رکھتے ہیں (مثلا عسکری کی ’’بیگماتی‘‘ زبان، سلیم احمد کا ’’صرف نچلے دھڑ پر مشتمل آدھا آدمی‘‘، ممتاز شیریں کے شوہر کی ملازمت کی نزاکتیں وغیرہ) لیکن حتمی نتیجہ وہی رہتا ہے جو ہم سب جانتے ہیں کہ ’’طبعِ مبارک کو مرغوب ہے۔‘‘ دوسری طرف ترقی پسند نقادوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوے وہ، چھوٹی موٹی خوبیوں کے رعایتی نمبر دینے کے باوجود، نقطۂ نظر کے بنیادی اختلاف کی بنا پر ان کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں۔ اس عمل میں کئی ایسی باتیں بھی سامنے آتی ہیں جن کا تضاد واضح ہے، اور اس تضاد کی کوئی وضاحت سید صاحب کی تحریر میں نہیں ملتی۔ اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔
دوسری جنگِ عظیم کے دنوں میں بعض ہندوستانی ادیبوں نے برطانوی فوج کی ملازمت اختیار کر لی تھی جن میں ترقی پسند ادیب بھی شامل تھے۔ ترقی پسندوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ ہٹلر کے فاشزم کی مزاحمت کرتے ہوے ان قوتوں کا ساتھ دے رہے تھے جو اس کے خلاف جنگ آزما تھیں۔ سید صاحب اس بات سے متفق نہیں؛ وہ اس میں بھوک کو کارفرما دیکھتے ہیں۔
’’پیٹ کی بھوک، شہرت کی بھوک، طاقت کی بھوک، جنس کی بھوک، یہ دور بھوکے ادب کا دور ہے۔ ایک طرف قحط بنگال اس دور کی علامت ہے اور دوسری طرف سرکارِ برطانیہ کی نشری اطلاعاتی ملازمتیں جو بھوک مٹانے کو جنگ کے زمانے میں ان پر کھلی تھیں۔‘‘(صفحہ111)
بلاشبہ وہ بھوک اور بھرتی کا دور تھا۔ میرے ہم عمر لوگوں نے وہ دور تو نہیں دیکھا، البتہ ابوالاثر حفیظ جالندھری کے اُس ترانے کا ذکر ضرور پڑھا ہے جو انھوں نے بھرتی کی مہم تیز کرنے کے لیے لکھا تھا۔ منظر کچھ یوں بنتا ہے کہ حضرت ابوالاثر ادیبوں شاعروں کی ایک ٹولی کو گھیرگھار کر بھرتی کے دفتر کی طرف لے جا رہے ہیں، اور ن م راشد، فیض، مولانا چراغ حسن حسرت، ضمیر جعفری وغیرہ کو وہاں جمع کرا کے پوری ہتھیلیوں سے تالیاں پیٹتے باہر نکل رہے ہیں کہ ’’میں تو چھوروں کو بھرتی کرا آئی رے۔‘‘ اس مشہور ترانے اور (ملکہ پکھراج فیم) ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کے علاوہ ابوالاثر کے شاہکاروں میں نئی قائم شدہ اسلامی ریاست کا قومی ترانہ بھی شامل ہے۔ اس ریاست میں بھوک اور بھرتی کے کلچر کو مزید فروغ حاصل ہونے والا تھا، یہاں تک کہ کئی ایک نے (جن میں سید صاحب بھی شامل ہیں) تدریس کے محترم پیشے کو خیرباد کہہ کر فوج میں شمولیت اختیار کی۔
سوال یہ ہے کہ فوج کی یا سرکارِ انگلیشیہ کی ملازمت کا ادبی تخلیق یا تنقید سے کیا تعلق ہے؟ اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ مذکورہ ادیب، شاعر یا نقاد سید صاحب کو مرغوب ہے یا نامرغوب۔ عسکری کی ادبی زندگی کے آغاز کے زمانے کے بارے میں لکھتے ہوے کہتے ہیں:’’یہ وہ زمانہ تھا کہ یورپ میں جنگ کا آغاز ہونے والا تھا مگر نہ تو ہندوستان کے آزادی خواہ عناصر انگریز کے شانہ بہ شانہ لڑنے کو تیار تھے، نہ اشترا کی حضرات کو ابھی برطانوی حکومت کی آنکھ کا تارا بننے کا موقع ملا تھا۔‘‘ (صفحہ28) یوں تو ڈپٹی نذیر احمد اور اکبر الٰہ آبادی سے لے کر ن م راشد اور فیض تک بہت سے ادیب انگریزوں کی نوکری کر چکے ہیں لیکن ان میں سے کتنے ’’آزادی خواہ عناصر‘‘ ہیں اور کتنے ’’برطانوی حکومت کی آنکھ کے تارے‘‘، اس سلسلے میں سید صاحب ہماری کوئی رہنمائی نہیں کرتے۔ یہ بات معلوم کرنا دشوار ہے کہ ایک ہی آقا کی فوج میں بھرتی ہونے پر فیض کے بارے میں ایک نتیجہ اور راشد کے بارے میں دوسرا نتیجہ نکالنا کیونکر ممکن ہے، جب کہ ان دونوں کی ملازمتوں میں فرق تھا تو صرف اتنا کہ راشد پر ایک اضافی ذمےداری ایران میں مقیم قابض فوج کے گوروں کی شاموں کو رنگین بنانے کی بھی تھی جبکہ فیض کی ذمےداریاں ذرا کم دل آویز تھیں۔
فیض سے سید صاحب کو خاص تعلقِ خاطر ہے۔ اس تعلق کے احترام میں وہ یہاں تک چلے گئے ہیں کہ، اردو کے تمام لغات نویسوں کے کیے کرائے پر پانی پھیرتے ہوے، انھوں نے ’’غیظ وغضب‘‘ کو ہر جگہ ’’غیض وغضب‘‘ ہی لکھنا پسند کیا ہے۔ (یہ کمپیوٹر آپریٹر یا پروف ریڈر کا کمالِ فن بھی ہو سکتا ہے؛ آخر فیض سے محبت پر سید صاحب کا اجارہ تو ہے نہیں۔) شاعر کے طور پر فیض کی کامیابی کو وہ ’’فیض کا طلسم‘‘ قرار دیتے ہیں اور ٹانگوں میں موسل دبا کر کودنے یا جنگلوں میں اداس اداس ڈنڈے بجاتے پھرنے والے اپنے ممدوحین کی مشقت پر حسرت اور ناامیدی کی نظر ڈال کر کہتے ہیں کہ اس طرح تو فیض کا طلسم ٹوٹنے سے رہا۔ واقعی، اس میں کیا شک ہے؛ دوسری طرف جو شاعر شاعری کا ملکہ رکھتے تھے، مثلاً راشد، انھوں نے اس توڑپھوڑ میں وقت ضائع کرنے کے بجاے شاعری پر توجہ کی اور اپنے اسلوب میں کامیابی حاصل کی۔
سید صاحب نے لارنس کے یہ دو فقرے نقل ضرور کیے ہیں کہ ’’فن کار کا کبھی اعتبار نہ کیجئے، کہانی کا اعتبار کیجئے‘‘ اور ’’ایک نقاد کا حقیقی منصب یہ ہے کہ وہ کہانی کو اس فنکار سے جس نے اسے تخلیق کیا ہے، بچانے کی کوشش کرے۔‘‘ لیکن چونکہ ان دونوں فقروں میں ذکر ’’کہانی‘‘ کا ہے ، غالباً اس لیے سید صاحب کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ یہ باتیں شاعری پر بھی منطبق ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کی شاعری کے سلسلے میں انھوں نے فیض کی ’’سرکارِ برطانیہ کی فوجی ملازمت‘‘، آرٹس کاؤنسل کی سربراہی، صحافت سے وابستگی، غرض ہر اس چیز کو بروے کار لانے کی کوشش کی ہے جس کی ضرورت ہماشما کو فیض کی شاعری کی تحسین کے لیے عموماً نہیں پڑتی۔ فیض پر استعمال کرنے کے لیے انھوں نے ایک نہایت عمدہ اصول بھی وضع کیا ہے۔ کہتے ہیں: ’’تنقید میں بھی فیض اسی طرح جماعتی حدبندیوں سے بالا رہ سکے ہیں یا نہیں، یہ دیکھنے کی بات ہے۔ اگر نہیں رہ سکے تو ان کی شاعری پر بھی نظرِ ثانی کی ضرورت ہو گی تاکہ اگر ہم اس سلسلے میں کسی فریبِ نظر کے شکار ہو گئے ہوں تو معلوم ہو سکے۔‘‘ (صفحہ50) یہ بالکل منطقی بات ہے، بشرطے کہ منطق سے وہ شے مراد نہ ہو جو رائےعامہ مراد لیتی ہے۔ کچھ الٹی منطق کے لوگ ضرور یہ کہیں گے کہ فیض کی شاعری پڑھ کر ان کی تنقید پر نظرِثانی کی ضرورت محسوس ہونی چاہیے تاکہ اگر ہم اس سلسلے میں کسی فریبِ نظر کے شکار ہو گئے ہوں تو اس کی تلافی ہو سکے۔ لیکن سید صاحب اس نظرثانی کے بعد اسی مرغوب نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ’’اگر آپ ان کی شاعری کو پسند کرتے ہیں تو ان کی تنقید کو پسند کرنا آپ کے لیے بہت دشوار ہے اور اگر آپ نے ان کی تنقید ایک بار پڑھ لی تو ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے کو پسند کرنا بھی دشوار ہو جائے گا۔‘‘ (صفحہ 62) چونکہ اس جملے میں ’’آپ‘‘ سے مراد سید صاحب کی ذاتِ گرامی ہے، اس لیے کسی کو کیا اعتراض ہو گا، البتہ انھوں نے اس سلسلے میں ہماری معلومات میں اضافہ کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ فیض کی تنقید (’’ایک بار‘‘) پڑھ لینے کے بعد انھیں فیض کی شاعری کے جس ’’بڑے حصے‘‘ کو پسند کرنے میں دشواری ہوئی اس میں ان کی کون کون سی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں، اور اس دشواری کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ اگر سید صاحب ایک اصول کو دو بار استعمال کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے ہوں تو ان سے یہ سوال بھی کر لینے میں کیا حرج ہے کہ مثلاً یگانہ کی نادرِروز گار تنقید پڑھ لینے کے بعد انھیں یگانہ کی شاعری کے کسی چھوٹے یا بڑے حصے کو پسند کرنے میں کوئی دشواری پیش آئی یا نہیں، اور اگر نہیں آئی تو بھلا کیوں؟
فیض کی تنقید پر سید صاحب کے مضمون سے پڑھنے والے کو صرف اتنا پتا چلتا ہے (جسے معلومات میں اضافہ نہیں کہا جاسکتا) کہ ترقی پسند تنقید کے اصول (یا خصائص) سید صاحب کی طبعِ مبارک کو پسند نہیں۔ انھوں نے فیض کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’کیا ادب کا مقصد پراپیگنڈا ہے؟ جی ہاں، قطعی!... فرق صرف یہ ہے کہ ایک پراپیگنڈا صحیح اور مفید ہے اور دوسرا گمراہ کن یا غیر مفید۔‘‘ اور اس پر تبصرہ کرتے ہوے کہتے ہیں: ’’یہ گفتگو کسی ادیب یا شاعر کی ہو سکتی ہے؟ ادیب اور شاعر اتنی قطعیت سے باتیں کرنے لگ جائیں تو ان میں اور ادب وشعر کے خون کے پیاسوں میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔‘‘(صفحہ49)
اتنی قطعیت سے صادر کیا ہوا فیصلہ سننے کے بعد یہ بحث لاحاصل معلوم ہوتی ہے کہ فیض ادیب یا شاعر تھے یا نہیں؛ البتہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادب وشعر کے خون کا پیاسا ہونے کے لیے ادیب یا شاعر ہونا ضروری نہیں، نقاد بھی یہ کام بعنوانِ شائستہ کر سکتے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر، عسکری نے اردو ادب کو 1947 کے آس پاس مسلم لیگ کے درِدولت پر اور اپنے جسمانی اور ذہنی بڑھاپے کے عالم میں مولوی اشرف علی تھانوی (مصنف ’’بہشتی زیور‘‘) کے مزار کی چوکھٹ پر ذبح کر دیا تھا۔ آخرالذ کر موقعے پر کشتہ کیے جانے والوں میں فرانسیسی ادب بھی شامل تھا جو ظاہر ہے کہ عسکری کے گھر ہی کا مال تھا۔ (ادب براے روزِقیامت کے اس نظریے کی تفصیل کے لیے دیکھیے البیر کامیو کے ناول کے اردو ترجمے ’’اجنبی‘‘ کا دیباچہ۔) سید صاحب نے عسکری کے بارے میں بھی دو مضمون اپنے مجموعے میں شامل کیے ہیں، لیکن ادب وشعر کے خون کی اس پیاس کے سلسلے میں کسی ’’پس تحریر‘‘ کے اضافے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ اور عسکری کھیت واڑی کے ایک ہی جانب واقع ہوے ہیں۔ عسکری کے بارے میں ان کا فیصلہ ہے کہ ’’بہرحال ان کی تلاش اردو نقادوں کے اطمینان سے جو منزل پر پہنچے بغیر اپنی تحریروں میں عافیت کی نیند سوتے ہیں، بدرجہاغنیمت ہے،‘‘ (صفحہ 38) خواہ ادب وشعر اس چکر میں مالِ غنیمت ہی کیوں نہ بن جائیں۔
اختر حسین رائے پوری پر بھی سید صاحب کی طبع آزمائی اس انداز سے مختلف نہیں جو وہ گھامڑوں کے اول الذکر قبیلے کے دیگر افراد سے روا رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں انھوں نے ’’ترقی پسند تنقید کی تاریخ میں اختر حسین رائے پوری کی پیش روی کے مسلمہ ہونے ‘‘ پر خاصا وقت اور زور صرف کیا ہے۔ پڑھنے والوں کے لیے خواہ اس جھگڑے کی کوئی اہمیت ہو یا نہ ہو، یہ اُس پارٹی بازی کے آداب کا حصہ ہے جس سے سید صاحب نے بودلیر کو مختلف قرار دیا تھا، کیونکہ ترقی پسند نقادوں میں، جب تک ان کی تحریک بقیدِحیات تھی (یعنی، بقول سید صاحب کے، سن ساٹھ سے دس بارہ سال پہلے تک)، اس ’’پیش روی‘‘ کے مسئلے پر جوتم پیزار ہوا کرتی تھی، اور مخالف پارٹی کی جماعتی مصلحتوں کا تقاضا ہے کہ سید صاحب اس اہم مسئلے سے کماحقہ‘ اور زندگی بھر دلچسپی لیں۔ ویسے اس پیش روی سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا، کیونکہ اختر حسین رائے پوری کے مقالے ’’ادب اور زندگی‘‘ سے ایک اقتباس دے کر جس میں سید صاحب کے بقول سنسکرت ادب اور کبیر اور ٹیگور اور پریم چند سے بے اطمینانی بلکہ بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے، (جبکہ درحقیقت اس اقتباس میں صرف سنسکرت افسانوں میں امیروں کی عیش پرستی کی خصوصیت کا ذکر آیا ہے) سید صاحب فیصلہ دیتے ہیں کہ ’’لگتا ہے جیسے کوئی وکٹوریائی معلمِ اخلاق شیکسپیئر اور اس کے معاصرین کو نابالغوں کے نصابِ تعلیم سے خارج کرنے کا جواز فراہم کررہا ہو۔ ’’(صفحہ 67) یہ پھبتی ممتاز شیریں کے اس اقتباس کے نیچے بھی چپکائی جا سکتی تھی جو صفحہ 236 سے 238 تک نقل کیا گیا ہے اور جس میں یہ قیمتی اطلاع فراہم کی گئی ہے کہ ہمارا نیا ادب (بشمول منٹو، عصمت، وغیرہ) جنسی بےراہ روی اور عریانی سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن سید صاحب کسی ہم قبیلہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے، اور کسی ایسے شخص کے ساتھ بھی جسے انھوں نے کسی غلط فہمی میں ہم قبیلہ سمجھ لیا ہو۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’آرام طلب معاشرے کو جب دنیادار بننے کی ضرورت پڑتی ہے تو ایسی اقدار کو بھی کم سے کم کچھ دیر کے لیے پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے جو اعلیٰ اقدار ہونے کے باوجود زمانۂ عیش کی یاد دلائیں۔ پس پشت ڈالنا کیا معنی، اپنے آپ کو نئے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اور اپنی رعونت کو برقرار رکھنے کے لیے ان اقدار کی تضحیک بلکہ تحقیر اپنی زبان اور اپنے قلم سے کرنی پڑتی ہے۔ کتابوں کی آگ تاپنے میں جس بےدردی کا سراغ ملتا ہے وہ ہم خود اپنے ہی ساتھ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی خوداذیتی ہے جو اپنے آپ کو نیند سے بیدار کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔‘‘(صفحہ 142)
اس قسم کی مزید مثالیں دے کر میں اپنا اور آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ فکری تضاد کے یہ گہر ہاے آبدار ’’تنقید کی آزادی‘‘ کے تقریباً ہر صفحے پر بکھرے پڑے ہیں۔ (ممکن ہے بعض لوگوں کو اس جملے میں ’’تضاد‘‘ کے لفظ پر اعتراض ہو اور بعض دوسرے لوگوں کو ’’فکری‘‘ کے لفظ پر؛ میرا مشورہ ہے کہ دونوں قسم کے حضرات آپس ہی میں جدلیات کر کے معاملے کا فیصلہ کر لیں۔)

سید صاحب صرف اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے بھی بہت کڑا معیار رکھتے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ انھوں نے دوسرے لوگوں کی کن باتوں پر گرفت کی ہے؛ اس طرح ہمیں یہ بھی اندازہ ہو سکے گا کہ خود سید صاحب سے کس قسم کی توقعات رکھنا مناسب ہو گا۔ خود ان کے الفاظ میں ’’دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اردو تنقید کی نشوونما میں اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کس حد تک کام لے سکے اور آج ہم ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں، چاہے بطورِ عبرت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
قاضی عبدالودود: ’’انھوں نے غالب کو جاہلِ محض ثابت کرنے اور اس وجہ سے اسے رد کرنے پر اپنی پوری علمی طاقت صرف کر دی ہے... ان کے اس طرح کے مضامین سے غالب کی شہرت کو تو کوئی فرق نہیں پڑا البتہ ان کا اپنا اور چند ایک نوجوان محققین کا مزاج اس سے ضرور بگڑ گیا ہے... خود ان میں تنقیدی نظر کی اس حد تک کمی ہے کہ کام کرنے سے پہلے یہ غور نہیں کرتے کہ وہ ان کی توجہ کا مستحق بھی ہے یا نہیں۔‘‘ (صفحہ 185)
حافظ محمود شیرانی: ’’شیرانی کی تنقیدِ شعرالعجم، آب حیات پر ان کے مقالات اور دیوانِ ذوق مرتبۂ محمد حسین آزاد پر ان کے تبصرے کو انہدامی تحقیق کا شاہکار سمجھنا چاہیے۔ یہ الگ بات کہ شعرالعجم اور آب حیات اس کے باوجود منہدم نہیں ہو سکیں۔‘‘ (صفحہ 184)
قاضی صاحب اور حافظ صاحب دونوں: ’’ان کو یہ طعنہ دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بےاندازہ وقت اور اچھے خاصے ذرائع رکھتے ہوئے بھی اپنی صلاحیتوں کو اہلِ اعتبار کی اعتبارشکنی پر صرف کر دیا۔‘‘ (صفحہ 186)
شیفتہ (صاحبقراں ہزل گو کے شعر: ’’مجھ کو شہوت ہوئی تیمم سے / تھی مقرر کسی چھنال کی خاک‘‘ پر شیفتہ کے توصیفی تبصرے کے سلسلے میں): ’’یہاں شیفتہ بےباک اور ہوسناک نوجوانوں کا لحاظ رکھتے ہیں، اور جرأت اور نظیر کو محض اس لیے مطعون قرار دیتے ہیں کہ ان کے اشعار اوباش والواط اور بازاریوں کے وردِزباں ہیں۔ شیفتہ کے سے صاف ذہن سے یہ امید نہیں ہو سکتی تھی کہ ان کی تنقیدی آراء میں یہ تضاد ہو۔‘‘(صفحہ198)
حکیم قطب الدین باطن دہلوی: ’’باطن نے اس کا توڑ یہ تلاش کیا کہ جس جس آدمی کی نسبت شیفتہ نے تعریف انگیز لہجہ اختیار کیا ہو، اس کی خواہ مخواہ ہجو کی جائے اور جس کی ہجو کی ہو اس کی تعریف سے ورق سیاہ کیے جائیں۔‘‘(صفحہ 199)
محمد حسن عسکری: ’’اصل میں عسکری صاحب کے نیم فلسفیانہ مقالات کا ادبی تنقید سے تعلق اتفاقی ہے اور ادب پر ان کا اطلاق ہو بھی تو زیر بحث ادیب کے لکھے ہوئے متن میں اترنا ہو گا۔‘‘ (صفحہ 241)
قرۃ العین حیدر: ’’ایران وہند کے صوفیا اور غیرکمیونسٹ سوشلسٹ لوگوں کا ذکر کرتی ہیں مگر وہ یوں لگتا ہے جیسے ہوا سے لڑتی ہیں اور ہوا ہی میں جیٹ اسپیڈ پر اڑی جاتی ہیں۔ ان کے قدم اس زمین، اس ملک، اس دھرتی پردھرے ہوئے نظر ہی نہیں آتے۔‘‘ (صفحہ 298)
’’ہمارے ادیب‘‘ (من حیث المجموع، ’’ادب میں جمود‘‘ کے مسئلے پر بات کرتے ہوے): ’’بھاری پتھر اٹھائے نہیں اٹھتا، چومتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، طواف کرتے کرتے ایک بات شمال کی کرتے ہیں تو دوسری جنوب کی۔ کبھی ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور ڈبکی لگا کے باہر آتے ہیں تو سپوتنک بن جاتے ہیں۔ اپنے آس پاس جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے اور اگر پوپلے منہ سے کچھ نکلتا بھی ہے تو یہ کہ صاحب زمانہ بڑا نازک ہے۔‘‘(صفحہ 298)
ترقی پسند نقاد: ’’اصطلاحاتِ تنقید ان کے یہاں اقدار کی جگہ استعمال ہوتی ہیں جنھیں وہ جب چاہیں اور جس کے بارے میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘(صفحہ 313)
’’ہمارے نقاد‘‘ (من حیث القوم، غالباً بہ استثناے ذاتِ گرامی): ’’جن نئے علوم کا استعمال بہ سلسلہ ادب وفن آج تک کمتر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہیں جدید علمِ تاریخ (تہذیباتِ عالم کا تاریخی مطالعہ) اور سماجیات... اگر ہمارے نقادوں نے اس ’عہدِ جمہور‘ میں بھی اس سے کام نہیں لیا تو اور کس نئے علم سے وہ اپنی تنقید کی مشعل روشن کریں گے؟ پچھلے دس پندرہ سال کے رسائل ایک نظر دیکھ جائیے، تمام تنقیدی زاویے، جائزے وغیرہ دیکھ لیجئے، ایسا عنوان کمتر ملے گا جو کسی سماجی اہمیت کے مسئلے سے متعلق ہو۔‘‘ (صفحہ 311)
غالباً بنی نوع انسان: ’’شکایت کرنے والے خود بھی تو کچھ کریں۔‘‘(صفحہ288)
یوں تو سید صاحب کی اوروں سے شکایات اور مطالبات بےشمار ہیں (اوروں کے سید صاحب سے جو مطالبات ہو سکتے ہیں ان کا تو ذکر ہی جانے دیجیے، کیونکہ وہ موصوف کے دائرۂ سماعت سے باہر کی بات ہے)، لیکن مندرجہ بالا طعنوں میں سے ہر ایک ایسا ہے جو، تفصیلات کے فرق کے ساتھ، سید صاحب کو بھی دیا جا سکتا ہے۔
ایک انٹرویو لینے والے کی جانب سے ’’تکمیل پرستی‘‘ (perfectionism) کی تہمت کا سامنا کرتے ہوے سید صاحب کہتے ہیں: ’’تکمیل پرستی کا شکار ہوتا تو رسائل و اخبارات میں ہزاروں صفحات کیسے لکھے جاتے۔‘‘(صفحہ288) ہزاروں صفحات سے بوجھوں مرنے والے کسی شخص میں اتنی سکت تو کیا ہو گی کہ وہ سید صاحب پر کام نہ کرنے کا الزام لگا سکے؛ اس بات میں البتہ کلام ہو سکتا ہے (اور مجھے ہے) کہ یہ سب کرنے کے کام تھے۔ قاضی عبدالودود اور حافظ محمود شیرانی سے سید صاحب کو شکایت ہے کہ انھوں نے بے اندازہ وقت اور اچھے خاصے ذرائع رکھتے ہوے بھی اپنی صلاحیتوں کو اہلِ اعتبار کی اعتبار شکنی پر صرف کر دیا۔ سید صاحب کو دستیاب وقت، ذرائع اور صلاحیتوں کا مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں، لیکن ترقی پسند نقادوں کے قبیلے کو ’’اہلِ اعتبار‘‘ تو وہ شاید پھبتی کے طور پر بھی نہ کہہ سکیں۔ ان کے لکھے ہوے ہزاروں صفحات میں سے کتنے ’’نامعتبروں‘‘ کی اعتبارشکنی کی خاطر سیاہ ہوے ہیں، ان کا اندازہ سید صاحب کے آئندہ شائع ہونے والے مجموعوں سے ہوتا رہے گا۔ فی الحال تو میرے پاس ’’تنقید کی آزادی‘‘ ہے جس کی ضخامت 339 صفحات ہے، اور جس کی مدد سے ان کاموں کی مختصر سی فہرست بنائی جا سکتی ہے جو سید صاحب کے نزدیک کرنے کے کام تھے، اور جو میرے علم کی حد تک انھوں نے نہیں کیے:
(1)’’ ہمارے نقادوں نے منٹو کے دور پر وہ تنقیدی نظر نہیں ڈالی جس کے بغیر تنقید اپنے معاصر ادب کو آگے نہیں لے جا سکتی۔‘‘ (صفحہ360) ’’یہ کام عسکری صاحب نے منٹو کے سلسلے میں کبھی نہیں کیا تو یہ بھی لازم نہیں کہ کوئی اور نہ کرسکے۔‘‘ (صفحہ241) ’’اگر یہ خیالات اپنی جگہ مستحکم بھی ہوتے اور ان کا استنباط خود منٹو کی تحریر میں پوری طرح جذب ہونے کے بعد کیا جاتا تو نقدِادب کی صورت چاہے اس قدر عالمانہ و فلسفیانہ نظر نہ آتی مگر منٹو کا مطالعہ ایک طرف ترقی پسندوں کی تنگ نظری اور دوسری طرف عسکری صاحب کے ردعمل سے آزاد ہو کر بیک وقت گہرائی اور وسعت کا حامل ضرور ہو جاتا۔‘‘(صفحہ241)
(2)’’ اردو ادب اور زبان کے بارے میں تحقیق کے کئی شعبے ایسے ہیں جن میں مزید کام کی بےحد گنجائشیں ہیں اور جن کے بغیر نہ اردو ادب اور زبان کے مختلف ادوار کا صحیح نقشہ سامنے آ سکتا ہے، نہ ہمارا ماضی ہمارے لیے کسی فیضان یا تخلیقی انگیخت کا باعث بن سکتا ہے۔
’’سب سے پہلے ماضی کے ادباء وشعراء کے کارناموں کی ترتیب وتدوین ہے۔ اب تک اردو کے کئی ایک اچھے شعرا، مثلاً جرأت، مصحفی، قائم، آبرو، سوز، حاتم، میر حسن وغیرہ کے دیوان پوری طرح مرتب نہیں ہو سکے۔ بڑے شاعروں میں سے میر، سودا اور انیس کا کلام جدید علمی بنیادوں پر ابھی تک مرتب نہیں ہوا۔ ان کے مروج دیوان اور کلیات سے بےاطمینانی پائی جاتی ہے مگر کوئی محقق اس اہم کام کو ہاتھ نہیں لگاتا۔
’’ہمارے زبردست شعراء وادباء کے خطوط بھی محققین کی توجہ کے منتظر ہیں۔ اب تک محض غالب کے خطوط پر اچھا کام ہوا ہے، یا غالب کے بعد آنے والے چند ایک لوگوں پر، مثلاً سرسید، حالی، شبلی، داغ، امیر مینائی اور اقبال۔ اب تک کا مطبوعہ ادبی ذخیرہ ادبی تنقید کے مقاصد کے لیے سخت ناکافی ہے۔
’’ہمارے قدیم ادباء وشعراء کی مستند سوانحعمریاں بہت کم لکھی گئی ہیں۔۔۔‘‘ (صفحہ177) ’’آج تک کوئی اچھی بیاگرافیکل ڈکشنری اردو ادیبوں اور شاعروں کے حال میں ایسی نہیں لکھی گئی جو سب ادب دوستوں کے کام آ سکے اور جو دتاسی کے بعد کے دریافت شدہ مواد کو بھی سمیٹ سکے... کئی ایک محققین کرام کی فاش غلطیوں کی بنیاد فارسی سے ان کی ناواقفیت ہے مگر اس کے باوجود ہمارے شعراء کے زبردست تذکروں کا اردو ترجمہ نہیں ہوا... اردو ادب اور زبان کے بارے میں کچھ کام انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی موجود ہے اور اس کام کا غالب حصہ بھی اب تک اردو میں منتقل نہیں ہوا... اردو ادب کا تاریخی پس منظر ایک ایسا موضوع ہے جو کسی ادب دوست مورخ کا منتظر ہے... اردو طباعت اور صحافت کی تاریخ بھی ہمارے کئی ایک تحقیقی مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ اور ان کے ابتدائی ادوار کو اب تک کسی نے موضوع بنا کر مستقل کام نہیں کیا۔ کئی ایک الجھنیں اور غلط فہمیاں اس کام کے بغیر رفع نہیں ہو سکتیں... اردو زبان کے صرف ونحو اور لغت پر بھی تاریخی اور تحقیقی کام اب تک ملتوی ہوتا رہا ہے...‘‘ (صفحہ 178)
(تحقیق اور تنقید) ’’دونوں ایک دوسرے کے لیے متقابل ڈسپلن کا حکم رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ اگر ان کے درمیان کوئی ناقابلِ عبور دیوار حائل نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ علوم وفنون کی درمیانی سرحدیں ذرا نرم ہوتی ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آدمی واں نہ جا سکے یاں کا۔‘‘ (صفحہ188) ’’ایک ایسے دور کی بھی ضرورت ہے جس میں ایک مشترک تہذیبی ہدف کو سامنے رکھ کر دونوں میں تعاون اور ہمکاری کی گنجائش پیدا ہو سکے اور ایک ہی ادبی شخصیت میں دونوں کااجتماع بھی ناممکن نہ رہے۔‘‘(صفحہ 189)
(3)’’ اس بحث میں ایک بات کا جواب ہم سے نہیں ہوا۔ وہ یہ کہ اردو میں اب تک مقدمۂ شعروشاعری سے بہتر کتاب کیوں نہیں لکھی گئی۔ اصل میں بہتر کا لفظ مناسب بھی نہیں، ہم پایہ کہنا درست ہو گا... آج ہم اپنے گردوپیش کی زندگی کو بدلتے ہوئے محسوس کرتے ہیں مگر اس کو گرفت میں لانے کے لیے پنجہ مضبوط چاہیے۔ حالی نے تو اُس وقت بدلتی ہوئی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی جب اس نے بس بدلنا شروع ہی کیا تھا۔ ہم اگر اپنے اپنے پیشوں اور محدود دلچسپیوں میں مقید رہیں گے تو اس تبدیلی کو کیا سمجھ سکیں گے جو ہماری زبان، قوم اور ادب میں پیدا ہو رہی ہے؟‘‘ (صفحہ152)
(4)’’ذرا سوچئے کہ فیض پر ابھی تک کوئی کتاب نہیں لکھی گئی، میرا جی کسی طویل تنقیدی مطالعے کا موضوع اب تک نہیں بنے، منٹو پر ایک آدھ کتاب چھپی ہے مگر وہ تنقیدی نہیں... کرشن، عصمت، بیدی، ندیم، کپور،عسکری بلکہ فراق تک کسی تفصیلی جائزے یا تنقیدی مطالعے کے مستحق نہیں سمجھے گئے۔ ممکن ہے آپ کو ان میں سے کئی ایک ادیب اور شاعر پسند نہ ہوں، خود مجھے بھی نہیں، مگر ان کی ادبی نہ سہی تاریخی اہمیت ضرور ہے۔ اور چونکہ ہمارے نقاد حضرات اسی ایک چیز کے پیچھے دوڑتے ہیں اس لیے اب تک ان پر کئی کتابیں لکھی جانی چاہئیں تھیں۔ ‘‘ (صفحہ100)
اگر یہ بات درست ہے کہ نیک کام کی نیت کا بھی ثواب ملتا ہے تو سید صاحب کو بخشش سے محروم رہنے کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن قصۂ زمین جب تک برسرِزمین ہے، محض عزائم سے کام چلتا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اتنے بلند عزائم کو سینے میں بیدار رکھتے ہوے بھی سید صاحب جب (کسی) ریاض احمد اور سراج منیر کو اپنی تنقیدی کاوشوں کا ہدف بنا رہے ہوں، فیض، اختر حسین رائے پوری اور زینو کی اعتبارشکنی میں سنجیدگی سے مصروف ہوں، عسکری اور ممتاز شیریں کے ناقابلِ دفاع posturesکے دفاع میں ہمہ تن مشغول ہوں، اپنے انٹرویوز اور جائزوں میں ادبی اور تنقیدی پیداوار کو اپنے ’’جاروبی ‘‘(sweeping)محاکموں کی زد میں لا رہے ہوں، اور، اس سب پر مستزاد، ان تمام تحریروں کو کتاب کی صورت میں دوبارہ منتخب کرنے پر بھی مصر ہوں، تو پڑھنے والے کے ذہن میں شک کا پیدا ہونا خارج ازامکان نہیں، اور یہ شک سید صاحب کی صلاحیتوں پر نہیں، ان کے عزائم کی سنجیدگی پر پیدا ہوتا ہے۔
انٹرویو لینے والے کا سوال اب بھی اپنی جگہ شرمندۂ جواب ہوے بغیر موجود ہے کہ ان کی تنقیدی کاوشوں کی فکری اساس کیا ہے۔ ان کی تمام نہیں تو بیشتر تنقیدی آرا، خواہ وہ غالب، حالی، نظیر، اقبال وغیرہ کے بارے میں ہوں یا فیض، منٹو، عصمت وغیرہ کے بارے میں، کھیت واڑی کے اُس پار والے (نامعتبر) قبیلے کی آرا کا ردعمل معلوم ہوتی ہیں، اور یہ ردعمل کہیں ایسا مربوط اور مکمل متبادل نقطۂ نظر بن کر سامنے نہیں آتا جو پڑھنے والے کو ان ادیبوں کے اور اپنے اردگرد کی زندگی کے درمیان کسی بامعنی ربط کا شعور دے سکے۔ ان میں سے کوئی بھی موضوع ہو، وہ اپنے مخالفوں پر خفگی کا اظہار کر کے بات ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، اور ایسے کئی مقامات ہیں جہاں بات صرف نیک ارادوں کی نہیں رہ جاتی بلکہ سید صاحب پر اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت لازم آتی ہے۔
مثلاً ایک جگہ کہتے ہیں کہ ’’غالب کے خطوط میں ان (اختر حسین پوری) کو پورے ملک کی قسمت سے کوئی سروکار دکھائی نہیں دیا... اور اگر کچھ ہے بھی تو... رجعت پسندانہ، جو زندگی اور شاعری کے لیے باعثِ ننگ ہے۔‘‘ (صفحہ 68) اور اس کے بعد یہ نتیجہ نکالنے کا کام پڑھنے والے پر چھوڑ دیتے ہیں کہ غالب کے خطوط میں ملک کی قسمت سے کوئی سروکار تھا یا نہیں اور اگر تھا تو اس کی نوعیت کیا تھی، گویا سید صاحب کے لیے اصل اہمیت اس موضوع کی نہیں بلکہ اپنے مخالف کے انہدام کی تھی۔ غالب ہی پر موقوف نہیں، سید صاحب کے خیال میں میر، نظیر اکبرآبادی، حالی، اقبال، سب کے بارے میں بس اتنا بتا دینا کافی ہے کہ ترقی پسندوں کو کیا پتا کہ یہ لوگ اصل میں کیا تھے۔
ایک اور جگہ کہتے ہیں: ’’باری علیگ مرحوم ترقی پسند تحریک کے ہراول دستے سے تعلق رکھتے تھے اور تاریخ سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ مگر تاریخ میں انھوں نے کیا لکھا؟ ایک تو تاریخ عالم پر نہایت ہی سرسری سی نظر جس میں تاریخ کے اس تصور کی تبلیغ زیادہ ہے جسے ترقی پسند ادیب جدلی مادیت کا نام دیتے ہیں۔‘‘ (صفحہ115) مجھ میں تو اس انتظار کی تاب نہیں، آپ چاہیں تو اُس دن کے منتظر رہ سکتے ہیں جب سید صاحب تاریخ عالم پر ایک نظر، نہایت سرسری سہی، ڈالیں گے اور قارئین کو مطلع کریں گے کہ اس نظر میں انھوں نے کیا کیا دیکھا۔
باری علیگ ہی کے ذکر میں سید صاحب نے ان پر ایک سنگین الزام بھی عائد کیا ہے کہ ان کی کتاب ’’کمپنی کی حکومت‘‘: ’’ان بدیسی حاکموں کے اصلی اور فرضی مظالم کی داستان ہے جو بعد میں ترقی پسندوں کے مربی اور مہربان بنتے ہیں۔‘‘(صفحہ 115) یہ بدیسی حاکم ن م راشد اور دیگرترقی پسندوں کے مربی وغیرہ بنے تھے یا نہیں، یہ اصل بحث نہیں؛ اہم بات یہ ہے کہ یہاں تاریخ میں تحریف کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، اور اگر الزام لگانے والے کو اس کی سنگینی اور تاریخی حقائق کی صحت کی رتی بھر پروا ہو تو اسے اپنے لذت آمیز مشغلے ذرا دیر کو چھوڑ کر یہ بھی بتانا چاہیے کہ باری علیگ کی کتاب میں بدیسی حاکموں کے جن مظالم کا ذکر آیا ہے ان میں کون سے اصلی ہیں اور کون سے فرضی، یہ رائے کن شہادتوں کی بنیاد پر قائم کی گئی، اور اس تحریف سے کیا نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔ سید صاحب نے یہاں تاریخ کی بحث کو بھی اپنے نقدِ ادب کی قبیل کی کوئی چیز سمجھا اور اپنے الزام کے ثبوت کو ادھار چھوڑ کر، اپنی قضاوت کی جاروب سے تاریخ کو بھی ایک طرف کر کے آگے چل دیے۔
ترقی پسندوں کے علاوہ قرۃ العین حیدر بھی سید صاحب کے عتاب کا اکثر نشانہ بنتی ہیں۔ ان کے بارے میں سید صاحب کے ’’اقوالِ زریں‘‘ کتاب میں جابجا موجود ہیں۔ اقوالِ زریں سے مراد وہ چلتے ہوے فقرے ہیں جن کی نسبت سید صاحب کو گمان ہے کہ یہ آفاقی صداقتیں ہیں جن کے لیے کسی دلیل یا تجزیے کی، یا زیرِبحث ادیب کے متن سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
’’قرۃ العین حیدر پر لکھتے ہوئے منٹو کا یاد آنا بالکل ایسے ہے جیسے نیاز فتح پوری کو پڑھتے ہوئے دوستوئیفسکی کا یاد آ جانا۔‘‘ (صفحہ325) ’’جب مس قرۃ العین حیدر ایک عدد تاریخی ناول لکھنے کا بیڑا اٹھاتی ہیں تو اگلا پچھلا حساب بےباق کرنے کی کوشش میں ان کو متفرق تاریخی معلومات کا ایک پہاڑ کھڑا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر افسوس کہ محض معلومات تاریخی شعور کا کوئی بدل نہیں ہو سکتیں۔‘‘ (صفحہ115) ’’شاید اسی نروان کی تلاش میں قرۃ العین حیدر کو ہندوستان جانا پڑا۔‘‘ (صفحہ27) ’’مثلا یہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہی جو ہے، میرے لیے خاصا Revolting سا ہے۔ ایک De-Bunking قسم کا جو پراپیگنڈا ہوا کرتا ہے، یہ پاکستان کو De-Bunk کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔‘‘(صفحہ269)
آپ کو یاد ہو گا کہ سید صاحب نے ترقی پسندوں کو اس بنا پر مطعون کیا تھا کہ اصطلاحاتِ تنقید ان کے یہاں اقدار کی جگہ استعمال ہوتی ہیں جنھیں وہ جب چاہیں اور جس کے بارے میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ ’’پاکستان کو ڈی بَنک کرنا‘‘ تو کوئی معروف تنقیدی اصطلاح بھی نہیں، اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی فن پارے کی کامیابی کے لیے اس پر یہ لازم آتا ہے کہ سید صاحب کے ایجادِ بندہ قسم کے تصورِ پاکستان پر پورا اترے؟
اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو سید صاحب زبانی گفتگو میں تین بار مجھے سنا چکے ہیں، مگر اسے تحریر میں شاید کبھی نہ لا سکیں، کیونکہ خود کہہ چکے ہیں کہ ’’کئی ایک نقاد جو بھی رائے لکھ دیتے ہیں، اگلے ہی لمحے اس کی تردید کر دیتے ہیں، اگرچہ بیشتر زبانی۔ اسی لیے ہمارے زمانے میں تنقید لکھنے کے بجائے تنقید بولنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ زبانی بات کی تردید آسان ہے۔‘‘ (صفحہ14)
دروغ برگردنِ راوی، قصہ کچھ یوں ہے کہ سید صاحب کے آقاے ولی نعمت کی قائم کردہ اکادمی ادبیات پاکستان کی کسی خاتون ملازم نے ایک بار سید صاحب کو ایک خط لکھا جس میں اکادمی کے نیک ارادوں کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ ادبیاتِ عالم کے شاہکاروں کے اردو ترجمے شائع کرنا چاہتی ہے اور سید صاحب سے درخواست کی گئی تھی کہ ان شاہکاروں کی ایک فہرست بنا دیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ان میں کوئی بات اسلام اور نظریۂ پاکستان کے منافی نہ ہو۔ سید صاحب کے زبانی بیان کے مطابق انھوں نے جواب دیا کہ ان کی نظر سے ادبیاتِ عالم کے شاہکاروں میں کوئی چیز ایسی نہیں گزری جو مذکورہ شرائط پر پوری اترتی ہو۔
بہرحال، سید صاحب خود کہہ ہی چکے ہیں کہ ’’خودتردیدی نقاد کے لیے ایک لازمی پیشہ ورانہ خطرہ ہے‘‘، گو ’’لازمی‘‘ کے لفظ کا یہ مطلب تو شاید نہیں ہونا چاہیے کہ راستے میں آنے والے ہر گڑھے میں گرنا آدمی پر لازم آتا ہے۔

یہاں تک پہنچ کر اس تحریر کے پڑھنے والے ذہن میں ممکن ہے یہ سوال پیدا ہو کہ اگر سید صاحب کی کتاب سے میری توقعات پوری نہیں ہوئیں تو اس بات کا اس قدر بکھان کرنا کیا ضروری ہے۔ فکری کنفیوژن، اپنی اصطلاحات کی تعریف متعین کرنے سے بےنیازی، پارٹی بازی، غیرمنصفانہ جانبداری، مخالفت براے مخالفت سے شغف، تنقیدی دوغلاپن (جارج آرول کی زبان میں doublespeak، سید صاحب کے الفاظ میں ’’دہراپن‘‘)، کیا یہ اور دوسری خوبیاں اردو کے ’’تنقیدی سرمائے‘‘ میں مجھے صرف سید صاحب ہی کے ہاں دکھائی دیتی ہیں؟ اگر میرے نزدیک یہ سب سید صاحب کی منفرد خصوصیات نہیں ہیں تو پھر اس تحریر کا محرک کیا ہے؟
اس تحریر کا محرک کتاب کا آخری مضمون ہے، ’’تنقید کی آزادی‘‘ جسے سید صاحب نے خاص اس مجموعے میں شامل کرنے کے لیے 1994 میں لکھا۔ اس مضمون کے پہلے اور چوتھے حصے میں ظاہر کیے گئے خیالات نقدِادب کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ استعمار، فوجی آمریت، جمہوری مزاحمت، قوموں کی تقدیر، غرض ہمارے زمانے کی عالمی سیاست، تک کو زیربحث لے آتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر ریاستِ پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے بات کرتے ہوے سید صاحب، ’’بہ ہمہ علامگی‘‘ مجھ سے رتی بھر زیادہ آزادی کا دعویٰ نہیں کر سکتے اور نہ میں ان سے رتی بھر کم آزادی پر قانع ہونے کا کوئی ارادہ رکھتا ہوں۔
مضمون کی ابتدا برما کی قابل احترام جمہوری رہنما آؤنگ ساں سوچی کی کتاب Freedom from Fearکے ایک اقتباس سے ہوتی ہے۔ سوچی کے انتخاب کی ایک ظاہری وجہ تو یہی ہے کہ انھیں 1991 میں امن کا نوبیل انعام پیش کیا گیا، اور ہمارے ملک میں بہت سے لوگوں نے پہلی بار ان کا نام سنا۔ خیالات یا اعمال میں کسی طرح کی مناسبت میں اس انتخاب کی وجہ تلاش کرنا کارِعبث ہے کیونکہ اس اعتبار سے دنیا کے کوئی دو افراد مشکل ہی سے اتنے مختلف ہو سکتے ہیں جتنے سید صاحب اور سوچی ہیں۔
سوچی کا احترام اس بنا پر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے برما کی سفاک فوجی آمریت کے خلاف ’’انسانی دلاوری کی آواز‘‘ اٹھائی اور اس جدوجہد میں، جو ہنوز جاری ہے، قیدوبند، قاتلانہ حملوں، عزیزوں سے دوری، ہر صعوبت کو استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ سید صاحب پر، ﷲ کے فضل سے، ایسا کوئی الزام بھول کر بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک تو وہ سیاست کے مردِ میداں نہیں، نقدِادب کے کھلاڑی ہیں۔ اور، اگرچہ ادبی موضوعات پر تنقیدی مضامین لکھنے والوں کے لیے قوم وملک کی تقدیر سے دلچسپی لینا حرام نہیں کیا گیا، ان کی تحریریں پڑھ کر کوئی شخص اندازہ نہیں لگا سکتا کہ جس ملک میں بیٹھ کر یہ نقدپارے تخلیق کیے گئے ہیں وہاں کے شہری کس عذاب ناک تقدیر کا شکار تھے، ان کے مسائل کیا تھے، ’’استعمار‘‘ یا ’’خوداستعماری‘‘ کی زد ان پر پڑتی تھی یا نہیں، ان میں اپنی تقدیر کے خلاف مزاحمت کی کوئی لہر پیدا ہوئی یا نہیں، نہیں ہوئی تو کیوں، اور ہوئی تو ادب میں اس کا کوئی عکس جھلکا یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کے سوالات سید صاحب کے نصابِ تنقید سے قیامت تک کے لیے خارج ہیں، اس لیے تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے برما کی آمریت مخالف رہنما کو اپنی کتاب مزین کرنے کے لیے آخر کیوں چنا۔
برما پاکستان سے پانچ ماہ بعد برطانیہ کے نو آبادیاتی تسلط سے آزاد ہوا، اور اس کے چودہ برس بعد، 2 مارچ 1962 کو، جنرل نے وِن کی کمان میں برمی فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا جو اَب تک قائم ہے۔ پاکستان اس سے چار سال پہلے ہی اس بدقسمتی کا شکار ہو چکا تھا جب جنرل ایوب نے فوجی آمریت مسلط کی۔ اگرچہ اس واقعے سے پہلے بھی پاکستان کی سیاسی فضا آمریت اور استحصال کے عناصر سے خالی نہ تھی، لیکن اس کے بعد کی تاریخ فوجی، نیم فوجی اور غیرفوجی آمریتوں کا ایک سلسلہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا، تاکہ ملک میں قائم ازکاررفتہ، بےانصاف اور ہلاکت خیز معاشی نظام کو جوں کا توں برقرار رکھا جا سکے۔ اس نظام کو قائم رکھنے کی قیمت اس ملک کے شہریوں کے خون سے ادا کی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سید صاحب کی تحریروں میں آپ اس صورتِ حال کا سراغ بھی نہ پائیں گے۔ مقتدر نظریے پر پختہ ایمان رکھنے کے باعث انھیں ہمیشہ ہر طرف خیر ہی خیر دکھائی دیتی رہی ہے، اور ’’انسانی دلاوری کی آواز‘‘ کو، اگر ایسی کوئی شے ان کی ذاتِ گرامی میں موجود ہے، انھوں نے کبھی باہر کی ہوا نہیں لگنے دی۔ نہ صرف یہ کہ انھیں ملک کی مختلف النوع آمریتوں میں کبھی کوئی قابلِ گرفت بات نظر نہیں آئی، بلکہ وہ، جنرل نے وِن کے پاکستانی ہمزاد، جنرل ضیا کے ذاتی خادموں میں شامل اور ان کی تقریرنویسی کے کام پر مامور رہ چکے ہیں۔ موصوف کے روٹی کمانے کے سابقہ وسیلے کی نشان دہی پر معذرت چاہتا ہوں، لیکن اس میں میرا اتنا قصور نہیں؛ ریٹائرمنٹ کے بعد انسانی دلاوری کا شوق کرنے کا ارادہ تھا تو سید صاحب کو کسی باعزت پیشے کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔
سید صاحب کا یہ شوق چونکہ نیا نیا ہے، اس لیے پرانی وضعِ احتیاط کی پاس داری ان سے چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی آمریت، جمہوری تحریک، استبدادی نظام، انسانی حقوق، استعمار، ’’خوداستعماریت‘‘ ، ’’ضدِاستعمار خطابت‘‘ اور اس قسم کی دیگر اصطلاحوں سے بھرے تین صفحات میں اگر نہیں آتا تو سید صاحب کے بدقسمت ملک کا ذکر نہیں آتا جو ملازمت کی مجبوری سے یوں برسوں دن رات ان کے وِردِزباں رہا ہے۔ اگر یہ ذکر ناگزیر ہو جائے تو سید صاحب جھٹ ’’برصغیر‘‘ کا گھونگھٹ نکال لیتے ہیں، مثلاً اس اقتباس میں:
’’تحریک آزادی میں بالعموم کوئی سیدھی لکیر کی نشوونما نہیں ہو پاتی ہے اور جب قومی آزادی کا حصول بین الاقوامی اور معاشی عوامل کے زیر اثر نا گزیر ہو جاتا ہے تو اس کے لیے کام کرنے والی سیاسی تنظیم کسی بھی آزاد جمہوریت کو چلانے کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہو پاتی۔ اسی وجہ سے برصغیر میں فوجی ونیم فوجی فسطائی تنظیموں نے ، جلد یا بدیر، متعدد ملکوں میں تسلط حاصل کر لیا بلکہ برما میں تو...‘‘ (صفحہ328)
سید صاحب اپنی بےجا شرم وحیا ترک کرنے پر آمادہ ہوں تو انھیں یاد دلایا جا سکتا ہے کہ یہاں برما، ایران اور توران کا ذکر اتنا برمحل نہیں۔ بر صغیر کے جن ’’متعدد‘‘ ملکوں کی انھوں نے ایک گٹھڑی سی باندھ کر رکھ دی ہے ان میں ایک غیراہم ملک پاکستان نام کا بھی ہے جس کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرنے والے آمروں نے اپنے تسلط کا ہمیشہ وہی جواز پیش کیا ہے جو سید صاحب کے اس اقتباس میں جھلکتا ہے، یعنی یہ کہ پاکستانی عوام کو آزادی اُس وقت مل گئی جب وہ آزادی کے لائق نہ تھے، اور کسی ’’آزاد جمہوریت‘‘ کو چلانے کے ہنر سے اب تک ناواقف ہیں، لہٰذا ان کے لیے بےپردہ یا باپردہ مارشل لاہی مناسب ہے۔ اس نقطۂ نظر کی معقولیت پر سید صاحب سے بحث کرنا تضیعِ اوقات ہے، بس اتنا پوچھنا کافی ہونا چاہیے: ابھی کل تک تو آپ پاکستان کے قیام کو ’’اسلامیانِ ہند‘‘ کی صدیوں کی جدوجہد کا ماحصل کہتے تھے، اب یہ محض ’’بین الاقوامی اور معاشی عوامل کا ناگزیر نتیجہ‘‘ کیونکر ہو گیا؟
بہر حال،سید صاحب کو اختیار ہے کہ وہ فوجی آمروں کے ’’خیالات‘‘ سے متفق رہیں یا اختلاف کریں، میرا اعتراض تو صرف اس بات پر ہے کہ وہ سوچی کو اپنا ہم خیال ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا لاکھ اندھیر ہو چکی ہو، اب ایسا بھی نہیں کہ ابنِ زیاد اور ابنِ علی کو ہم خیال بنا کر پیش کیا جائے اور کوئی ٹوک نہ دے۔
لیکن اس بےفائدہ مشق سے سید صاحب آخر کیا نکتہ برآمد کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نکتہ مضمون کے دوسرے جز میں اسی شان سے برآمد ہوتا ہے جیسے پہاڑ کھودنے کی مشقت کے بعد ضرب المثل کا چوہا۔ پتا چلتا ہے کہ جس طرح ’’متعدد ملکوں‘‘ میں فوجی آمریتیں قائم ہیں بعینہٖ اسی طرح اردو ادب میں بعض جغادری ادیبوں کی اجارہ داری قائم ہے جو اپنی ’’شہرت‘‘ کی حفاظت کے لیے گرگے پالتے ہیں، اور ’’ادبی حریفوں سے نبٹنے کے سلسلے میں کئی ایک متشددانہ کاروائیاں حالیہ دور میں واقع بھی ہو چکی ہیں‘‘ ، ’’گویا ترغیب وتحریص کے علاوہ تخویف وتعذیب بھی اب نقدِادب کے پیشہ ورانہ خطرات میں شامل ہو چکی ہے۔‘‘ اور چونکہ سید صاحب ان میں سے بعض جغادریوں کے خلاف مضامین لکھ کر چھپوا چکے ہیں، اور انھیں خدشہ ہے کہ کہیں ٹی ہاؤس میں آتے یا وہاں سے باہر نکلتے وقت فٹ پاتھ پر ان کے کسی گرگے کے ہاتھوں پٹ نہ جائیں، اس لیے کیا مضائقہ ہے کہ ان کے نکڑناٹک کو بھی وہی مقام دے دیا جائے جو مثلاً برما کی فوجی آمریت کے خلاف آؤنگ ساں سوچی کی جدوجہد کو حاصل ہے۔
کیا سید صاحب کی اس معصومانہ آرزو کا کوئی جواب ہے؟

ایسی بات نہیں کہ سوچی کی مثال سے ادب کے سلسلے میں کوئی سبق حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ادب کو کھلے دل اور کھلے دماغ سے پڑھنے والے، خواہ ان کا پیشہ تنقیدنگاری ہی کیوں نہ ہو، اس مثال سے بہت کچھ اخذ کر سکتے ہیں۔ سوچی کو ادیب ہونے کا دعویٰ نہیں لیکن ان کی متفرق تحریریں اور تقریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر آدمی میں بےریا فکر اور حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ موجود ہو تو کسی بظاہر پیچیدہ صورتِ حال کا بیان اور تجزیہ کیسی سچائی اور سادگی سے کیا جا سکتا ہے۔ مشہور مقولے Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely پر سوچی کا تبصرہ دیکھیے:
"It is not power that corrupts but fear. Fear of losing power corrupts those who wield it and fear of the scourge of power corrupts those who are subject to it."
فکر اور عمل کی ہم آہنگی بھی ایک ایسی قیمتی چیز ہے جو سوچی کے مطالعے سے سیکھی جا سکتی ہے، اور اگر اﷲ توفیق دے تو اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انسانی دلاوری کی آواز، جسے سوچی کی فکر اور عمل میں پہچانا جا سکتا ہے، ہمیں اپنے معاشرے کا جائزہ لینے اور اگر ایسی کوئی آواز ہمارے اردگرد موجود ہے یا رہی ہے تو اس کی قدر کرنے پر بھی مائل کر سکتی ہے۔ مثلاً سعادت حسن منٹو کی تحریروں اور جسٹس رستم کیانی کی تقریروں میں اس آواز کو پہچاننا ہم پر اب تک قرض ہے۔ یہ آواز، خواہ کتنی ہی کمزور ہو اور ایڈورڈ سعید اور نوم چومسکی کے پائے کو نہ پہنچی ہو، ہمارے تخلیقی ادب اور صحافت میں موجود ضرور رہی ہے اور، سید صاحب کے خیال کے برعکس، ادیبوں، شاعروں اور اخبارنویسوں کو سرکاری پابندیوں، سنسر، کتابوں کی ضبطی کے علاوہ جسمانی قیدوبند اور اذیتوں سے بھی گزرنا پڑا ہے۔ ممکن ہے منٹو پر چلائے جانے والے مقدمات سید صاحب کے ذہن سے اتر چکے ہوں، لیکن انھیں یہ تو یاد ہو گا کہ ان کے آں جہانی مخدوم کے زمانۂ آمریت میں چار صحافیوں کو آزادیِ اظہار کا مطالبہ کرنے پر کوڑوں کی سزا دی گئی تھی۔
البتہ سید صاحب سے سوچی کی تحریروں سے کچھ سیکھنے کا مطالبہ بےجا ہو گا، کیونکہ انھیں جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ چکے ہیں۔ وہ انسانی دلاوری کی اس آواز کے مخالفوں میں سے رہے ہیں، دفتری اوقات میں بھی اور فراغت کے گھنٹوں میں بھی۔ اپنے سے مختلف ادبی یا سیاسی رائے رکھنے والوں کو غدار، ملک دشمن اور بیرونی ملکوں کی سازش کا آلۂ کار ٹھہرانے میں ان کی مستعدی سے اندازہ ہو تا ہے کہ انھوں نے جو کچھ سیکھا ہے اسی درس گاہ میں سیکھا ہے جہاں سوچی کے اذیت دہندگان کو تربیت دی گئی ہو گی۔ قرۃ العین حیدر پر پاکستان کو ’’ڈی بنک‘‘ کرنے کی کوشش کا الزام تو آپ ملاحظہ کر چکے ہیں، یہ اقتباس بھی دیکھیے:
’’ادب میں جو صورت حال 47ء کے فورا بعد سامنے آئی، اس میں اگر تنقید نہ لکھی جاتی تو ہندوپاکستان کے اخباروں رسالوں میں سرکاری فرمان ہی چھپا کرتے، اِدھر کے یا اُدھر کے، بلکہ زیادہ تر تو اُدھر کے ہی۔ اس لیے کہ اردو ادب میں زیادہ تر اُدھر والوں ہی کی اجارہ داری قائم تھی۔‘‘(صفحہ 279)
اس میں ’’ہندوپاکستان‘‘ دراصل وہی ’’برصغیر‘‘ والا کانا پردہ ہے۔ مصلحت اس میں یہ ہے کہ اگر پاکستان کا ذکر کیا گیا تو کچھ نام اور دیگر تفصیلات بھی دینی ہوں گی، یہ بھی بتانا ہو گا کہ ’’اِدھر‘‘ کے کن اخباروں رسالوں پر کن ’’اُدھر‘‘ والوں کی اجارہ داری تھی، یہ راز بھی کھولنا ہو گا کہ اس صورتِ حال کا قلع قمع کرنے کے لیے سرکاری نقادوں کی لکھی ہوئی تنقید کے علاوہ کن جابرانہ قوانین سے کام لیا گیا، کن کن لوگوں کو جیل کی ہوا کھلانے کی ضرورت پیش آئی، وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ جاروب کشی کا سارا لطف غارت ہو جائے گا۔
سوچی پر بےبنیاد الزام تراشی کرنے والوں کو ان کے ’’لندن کنکشن ‘‘ (یعنی انگریز شوہر) کے ذکر سے غلط فہمی پیدا کرنا بھی بہت مرغوب ہے۔ یہ ذوق سید صاحب کے ہاں بھی خوب موجود ہے۔ اپنی حریف ترقی پسند تحریک کے سلسلے میں وہ یہ نکتہ یاد دلانا کبھی نہیں بھولتے (زیرِبحث کتاب میں بھی یہ موقع کوئی آٹھ بار آیا ہے) کہ اس کا مینی فیسٹولندن میں تیار ہوا تھا، گویا یہی ایک بات ان بدبختوں کو ابد تک کے لیے دوزخ کا ایندھن بنا دینے کو کافی ہو۔ وہ اس تجزیے کی زحمت میں نہیں پڑتے کہ اس تحریک کے زیراثر ہندوستان کے ادیبوں میں اپنے ملک کے مسائل سے دلچسپی لینے کا رجحان پیدا ہوا یا نہیں، اور اردو ادب کے اس رفت گزشت دور کی خوبیوں اور خامیوں سے کچھ سیکھنے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔ وہ مذکورہ مینی فیسٹو کے لندن میں تیار ہونے کا اشارہ دے دے کر محض یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ ضرور کوئی بین الاقوامی سازش تھی، یہ راز نہیں کھولتے کہ یہ سازش کسی کے خلاف بھی تھی یا محض سید صاحب کا ریشمی رومال اُچک لینے کی غرض سے یہ بین الاقوامی میلہ لگایا گیا تھا۔ ہر چیز میں سازش دیکھنے کا ذوق سید صاحب میں اس پائے کا ہے کہ آج بھی اگر کوئی مقتدر نظریے سے ذرا سا اختلاف کرے، یعنی مثلاً اپنی کسی تحریر میں اتنا ہی کہہ دے کہ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں دشمنی کے بجاے دوستی ہونی چاہیے تاکہ تینوں ملکوں کے عوام ترقی کر سکیں، تو انھیں اس بات سے اکھنڈبھارت کی سازش کی بو آنے لگتی ہے اور وہ ہر قسم کے حربوں سے اس تحریر کو ملیامیٹ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
اس تمام ردوکد سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو بس اتنا کہ سید صاحب تنقید کو زجرو توبیخ، سنسر یا کتاب سوزی کی قبیل کا کوئی کام سمجھتے ہیں، اور اس کام میں مسلسل مصروف ہیں۔ سید کے کام کرنے کے بارے میں اکبر الٰہ آبادی کے علاوہ کسی اور شاعر نے بھی ایک شعر کہہ رکھا ہے جس پر اس تبصرے کا اختتام ہو جانا چاہیے:
دل عبث بدنام ہے، ناصح عبث بدنام ہے
دل کا اپنا کام ہے، گردے کا اپنا کام ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین