بدھ، 13 مئی، 2015

اجمل کمال کی تحریر

مضامین سلیم احمد
مرتب: جمال پانی پتی
ناشر: اکادمی بازیافت، کراچی
اشاعت: ۲۰۰۹

اجمل کمال

اس مجموعے کو دیکھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید یہ سلیم احمد کی نثری تحریروں کی کلیات ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے۔ نہ صرف اس میں سلیم احمد کی وہ نثری تحریریں موجود نہیں جو الگ الگ کتابوں کی شکل میں شائع ہوئیں، مثلاً ’’غالب کون‘‘، ’’اقبال ایک شاعر‘‘ اور ’’محمد حسن عسکری انسان یا آدمی‘‘، بلکہ ان کے وہ مضامین (کالم) بھی اس مجموعے سے خارج رکھے گئے ہیں جو جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار ’’جسارت‘‘، کراچی، میں شائع ہوتے رہےاور جن کی الگ کلیات ’’اسلامی نظام: مسائل اور تجزیے‘‘ کے کسی قدر گمراہ کن عنوان سے ۱۹۸۴ء میں شائع ہوئی تھی۔
سلیم احمد اپنی تحریروں کو دو زُمروں میں تقسیم کرتے تھے: ایک دائیں ہاتھ سے (اپنے لیے یا اپنے تخلیقی یا تنقیدی اظہار کے لیے) لکھی جانے والی اور دوسری بائیں ہاتھ سے (’سیٹھ کے لیے‘ یعنی روزی کمانے کی غرض سے) وجود میں آنے والی۔ اس تقسیم سے بعض پڑھنے والوں کو ’چوری میرا پیشہ اور نماز میرا فرض‘ والی مشہور تہذیبی ثنویت کا خیال آئے گا، لیکن اس کو فی الوقت جانے دیجیے۔ میں اس وقت آپ کو زیرتبصرہ مجموعے کے مرتب کے اس دلچسپ اور معنی خیز فیصلے پر غور کرنے کی دعوت دینا چاہتا ہوں کہ انھوں نے سلیم احمد کے ’’جسارت‘‘ والے مضامین کو اس سے خارج رکھا۔ کیا ان کالموں کو سیٹھ کے لیے لکھی گئی تحریروں میں شمار کیا جائے؟ یا اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان تحریروں میں ادبی موضوعات زیربحث نہیں لائے گئے تھے اس لیے مرتب کے خیال میں اس مجموعے میں ان کو شامل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا؟
ممکن ہے اس فیصلے کے پیچھے یہی بات رہی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’مضامین سلیم احمد‘‘ میں ان کی جن تحریروں کو شامل رکھا گیا ہے وہ بھی ادبی تنقید کے مروجہ دائرے تک محدود نہیں رہتیں۔ بلکہ میری رائے میں تو ادبی تنقید (یعنی ادبی تخلیقات کی فنی یا سماجی معنویت پر اظہار خیال) ان کی اہم ترین خصوصیت ہی نہیں؛ سلیم احمد کی تمام (کم از کم غیرشاعرانہ) تحریروں کو غور سے پڑھنے کا جواز دراصل ان کے وہ خیالات ہیں جو پچھلے ڈیڑھ سو یا دوسو برس کے دوران ہمارے (یعنی برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے) سماج میں آنے والی تبدیلیوں کی بابت ایک واضح نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا مجموعہ ’’اسلامی نظام: مسائل اور تجزیے‘‘ بھی ٹھیک انھی خیالات پر بنیاد رکھتا ہے۔ پھر ان دونوں مجموعوں میں امتیاز کرنے کا کیا سبب ہو سکتا ہے؟ مرتب کو زندگی نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرنے کی مہلت نہ دی، اس لیے ہمارے پاس اپنا قیاس دوڑانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ’’جسارت‘‘ میں شائع ہونے والے سلیم احمد کے کالم میں ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں پڑھتا آیا ہوں، لیکن زیرتبصرہ کتاب کی پشت پر دی گئی فہرست سے مجھے ان کے مجموعے کی اشاعت کے بارے میں پتا چلا اور میں نے اسے فوٹوکاپی کی صورت میں حاصل کر کے مضامین سلیم احمد کے ساتھ ساتھ پڑھا۔
چونکہ جسارت والی تحریریں سلیم احمد کے تہذیبی اور سیاسی نقطۂ نظر کی اسی واضح انداز میں ترجمانی کرتی ہیں جیسے وہ مضامین جو زیرنظر مجموعے میں شامل ہیں، اس لیے میں اُن تحریروں کو ’سیٹھ کے لیے‘ لکھی جانے والی چیزوں میں شمار نہیں کرتا۔ میری رائے میں اگر ان دونوں زمروں کی تحریروں میں فرق کیا جا سکتا ہے تو صرف اس بنا پر کہ لکھنے والے کے خیال میں ان دونوں کے پڑھنے والے مختلف تھے۔ غالباً نام نہاد ’ادبی‘ تحریریں نام نہاد ’ادبی‘ قارئین پڑھتے ہیں جبکہ اخبار کے مضامین ان لوگوں کے کام کے ہیں جو ادب وغیرہ سے کوئی خاص واسطہ نہیں رکھتے، اور پھر ان میں بڑی تعداد مفروضہ طور پر جماعت اسلامی کی سیاست سے ہمدردی رکھنے والوں اور کارکنوں پر مشتمل ہے۔ لیکن کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ زیربحث آنے والے موضوعات سے (جو قطعی یکساں ہیں) پڑھنے والوں کے ان دونوں گروہوں کی دلچسپیاں اور ان تحریروں پر ان کے سیاسی اور تہذیبی ردعمل مختلف نوعیت کے ہیں؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ ان دونوں مجموعوں کو ساتھ ساتھ پڑھنے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ سلیم احمد کے سیاسی اور تہذیبی نقطۂ نظر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ان میں سے کسی ایک مجموعے تک محدود رہنا گمراہ کن ہو گا۔ اکثر صورتوں میں ’’جسارت‘‘ والی تحریریں انھی رایوں کی توسیع پر مشتمل ہیں جو ’ادبی‘ مضامین میں ظاہر کی گئیں۔
پچھلے تقریباً دو سو برس کی سماجی تاریخ کی بابت سلیم احمد کے نقطۂ نظر پر تبصرہ شروع کرنے کے لیے میں آپ کی توجہ درج ذیل اقتباس کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں:
کہتے ہیں نزلہ عضوضعیف پر گرتا ہے لیکن اردو شاعری کی پچھلی سو سالہ تاریخ میں عضورئیس پر گرا ہے۔ یعنی غزل پر۔ غدر کے ہنگامے میں انگریزوں سے مار کھانے کے بعد روشن خیال مسلمانوں کو اپنی جو چیز سب سے بری لگی وہ یہی بدنام صنف سخن تھی۔ روشن خیال مسلمانوں سے میری مراد ان بزرگوں سے ہے جنھیں آگے چل کر اس بات پر شرم آنے لگی کہ ان کے مذہب نے چار شادیوں کی اجازت کیوں دی ہے۔ ان میں محمد حسن عسکری صاحب کے مفلروالے مولانا حالی پیش پیش تھے۔ (ص۸۷، ’’غزل، مفلر اور ہندوستان‘‘)
سلیم احمد کی مراد ۱۸۵۷ء کے بعد کے اُس زمانے سے ہے جب نوآبادیاتی تسلط کے ساتھ، اور جزواً اس کے زور پر، ایک نئی اور اجنبی تہذیب کے نفوذ کے نتیجے میں ہندوستان کی آبادی کے مختلف گروہوں کی طرح مسلمانوں میں بھی طرح طرح کے ردعمل پیدا ہو رہے تھے۔ یہاں ’مسلمانوں‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوے اس بات کی نشان دہی ضروری ہے کہ اس دور کے آغاز پر اس سے مراد صرف مسلمان شرفا ہوتے تھے؛ درمیانہ اور نچلے سماجی درجوں (ذاتوں یا برادریوں) کو ہمارے تہذیبی قائدین (سرسید احمد خاں، اکبر الہ آبادی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضا بریلوی اور دوسرے سب) واضح طور پر اس زمرے سے خارج رکھتے تھے۔
سلیم احمد نے ’روشن خیال مسلمانوں‘ سے کوئی بھی گروہ مراد لیا ہو، حقیقت یہ ہے کہ نئی تہذیب کی اقدار کا سامنا کرنے پر صاحب رائے مسلمانوں کو شرم صرف اس بات پر نہیں آتی تھی کہ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان قابلِ شرم یا کم از کم قابلِ دفاع سمجھی جانے والی باتوں میں ایک نہایت اہم بات یہ بھی تھی کہ اسلام کے قرونِ اولیٰ میں (جزیرہ نماے عرب میں اور بعد میں تمام مفتوحہ علاقوں میں) غلامی کا ادارہ سماجی ترتیب و تنظیم کے ایک بنیادی عنصر کے طور پر شامل رہا تھا۔ برصغیر میں اس نے ہندوؤں میں مروّج منو کے قوانین کے تحت قائم ہونے والی تقسیم کو جوں کا توں اپنا لیا تھا (اور نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں پر مسلمان حکمران اور ان کے معاون مذہبی علما وہی قوانین عائد کرتے تھے جو غلام مردوں اور عورتوں پر عائد ہوتے ہیں)، اور ان مسلمانوں میں جنھیں سلیم احمد ’روشن خیال‘ کے زمرے سے باہر رکھیں گے، اس بات کی گہری تشویش پیدا ہو گئی تھی کہ کہیں غلامی پر اعتراض کا زور یہاں مروج سماجی ترتیب کو (جسے پیار اور عقیدت سے ’’اَمی جَمی‘‘ بھی کہا جاتا ہے) درہم برہم نہ کر دے۔ درہم برہم تو اس ترتیب کو سماجی تبدیلی کی تاریخی قوت سے ہونا ہی تھا، لیکن غیرروشن خیال مسلمان رہنماؤں اور مصنفوں نےاس کا فکری دفاع کرنے کی جو کوشش کی، زیرتبصرہ کتاب کے مشمولات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آج بھی جاری ہے اور سلیم احمد اس کے ایک اہم ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے مضمون ’کتاب، ٹی وی اور جمہوریت‘ سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
(۱) ہر تہذیب کی بنیاد حقیقت اور انسان کے ایک تصور پر ہوتی ہے اور یہی تصور اس کے تمام شعبوں اور پہلوؤں کو متعین کرتا ہے۔ اسی سے سماجی ادارے قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے نظام اخلاق پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے علوم و فنون کی حیثیت متعین ہوتی ہے۔ غرض کہ یہ تصور زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہوتا ہے اور چھوٹی بڑی بات کے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے جو شاید اختلافی سمجھی جائے لیکن میں صرف اپنے خیال کا اظہار کر رہا ہوں کہ تہذیب ہمیشہ اوپر سے نیچے پھیلتی ہے۔ سب سے اوپر تہذیب کا مثالی نمونہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ان عناصر کے مراتب ہوتے ہیں جو اس نمونے سے زیادہ قریب ہوں۔ جو سب سے دور ہوتا ہے وہ سب سے نیچے ہوتا ہے، مثلاً ہندو تہذیب کا تصورِ حقیقت روحانی ہے اس لیے اس تہذیب کا مثالی انسان روحانی انسان ہے۔ روحانی انسان برہمن ہے اس لیے اس کا مرتبہ سب سے اونچا ہے۔اس کے بعد کھتری کا نمبر آتا ہے جو روحانیت کے دوسرے درجے پر ہے۔ اس کا تعلق اقتدار اور حکومت سے ہے جو ہیئت اجتماعیہ میں عدل قائم رکھتا ہے اور ہر طبقے کے ’’دھرم‘‘ کی حفاظت کرتا ہے۔ پھر ویشیہ کا طبقہ ہے اور سب سے نیچے شودر کا۔ جس کی زندگی صرف معمولی درجے کی مادّی چیزوں سے وابستہ ہوتی ہے اور وہ اس سے اوپر اٹھنے کے ناقابل ہوتا ہے۔ اسی تصور کو آپ یونانیوں میں بھی پائیں گے۔ یونانیوں کے نزدیک حقیقت کا تصور عقلی ہے۔ اس لیے اس تہذیب کا مثالی انسان عقلی انسان ہے۔ یہ فلسفی بادشاہ کا مقام ہے۔ اس کے بعد حسب مراتب دوسرے طبقے آتے ہیں۔ چینیوں اور مسلمانوں میں بھی اس کے متوازی سلسلے موجود ہیں۔
(۳) پرانا تہذیبی انسان جس نے کتاب پیدا کی تھی، اس کے جملہ علوم و فنون مثالی انسان سے تعلق رکھتے تھے یا صحیح لفظوں میں یہ کہیے کہ اس نے انسان کی طرح علوم و فنون میں بھی ایک نظامِ مراتب قائم کیا تھا۔ کچھ علوم و فنون اعلیٰ انسان کے لیے تھے۔ کچھ کم تر درجے کے لوگوں کے لیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اعلیٰ علوم و فنون کی اجارہ داری قائم ہو گئی تھی۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر علم و فن اس انسان کے لیے تھا جو اس کا اہل ہو اور فطرتاً اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ البتہ صرف ہندوؤں کے یہاں یہ ضرور موروثی تھا۔ ... ہمارے یہاں 1857 سے پہلے جو معاشرہ قائم تھا اس کے نظامِ مراتب میں جب جمہوری گڑبڑ پیدا ہوئی یعنی ان تصورات کا اثر پڑنے لگا جو نئے تہذیبی انسان یعنی انگریز لائے تھے تو اس کا پہلا منشور حالی نے یوں لکھا:
کمالِ کفش دوزی علمِ افلاطوں سے بہتر ہے!
چناں چہ اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کتاب پرانے دور ہی کے انسان کے ساتھ رخصت ہو رہی ہے اور اس کی جگہ نئے تہذیبی انسان کے ذرائع اظہار لے رہے ہیں۔ یعنی ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم اس جمہوری انسان کے ذرائع اظہار ہیں جس کا مثالی نمونہ ’’عوام‘‘ ہیں۔...عوام دنیا میں ہمیشہ سے موجود ہیں اور ایک مخصوص فطرت رکھتے ہیں۔ انھیں اپنی خامیوں اور کم زوریوں کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنی اخلاقی اور روحانی پستی کو جانتے ہیں۔ ان میں انکسار اور عقیدت کا مادہ ہوتا ہے۔ اور ان خامیوں کے باوجود وہ کسی عیسیٰ، کسی زرتشت، کسی بدھ، کسی کنفیوشس کی برتری تسلیم کرتے ہیں۔ ان سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، ان کے نمونوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں اور ان کی اطاعت کا دم بھرتے ہیں۔ یہ ان کی فطری محبت اور اسی میں ان کی وہ بےمثال خوبی ہے جس پر دنیا کے بڑے سے بڑے آدمی کا دل گداز ہو گیا ہے۔ اتنا کہ اکثر ان کی بدترین گمراہیوں، بدعنوانیوں اور سرکشیوں کو معاف کر دیا گیا ہے، بلکہ ان سے محبت کی گئی ہے۔
ان اقتباسات سے جو نقطۂ نظر مرتب ہوتا ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کرنا تو خیر الگ بات ہے، لیکن ان میں موجود ایک فقرے کی داد دیے بغیر چارہ نہیں: ’’البتہ صرف ہندوؤں کے یہاں یہ [نظامِ مراتب] ضرور موروثی تھا،‘‘ گویا مسلمانوں میں سید یا مرزا یا افغان ہونا وراثت کی نہیں، زورِبازوکی بات ہوتی تھی۔ سبحان اللہ!
سلیم احمد بہرحال اس سماجی ترتیب کو (اور اس کی ان تفصیلات کو جو خود ان کو عزیز ہیں، مثلاً ۱۹۳۰ء اور ۱۹۴۰ء کی دہائیوں کی یوپی کی ثقافت) دفاع کے قابل خیال کرتے ہیں اور پچھلی دو صدیوں سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر ان کی جو رائیں اس مجموعے میں (اور اس سے باہر) ملتی ہیں، وہ اسی مدافعت کے مختلف حربے اور پینترے ہیں۔ ان میں سے ایک قابل فہم حربہ تو مذہب کا ہے، لیکن جہاں کہیں اس سے کام چلتا دکھائی نہ دے وہاں وہ ’مابعدالطبیعیات‘ کو اپنی کمک پر لے آتے ہیں۔ مثلاً ہماری تہذیبی بحثوں کا ایک موضوع پہناووں سے تعلق رکھتا ہے۔ کوٹ پتلون اور شیروانی پاجامے کی اس بحث میں، ظاہر ہے، یہ تو کہنا دشوار ہے کہ موخرالذکر اول الذکر سے زیادہ ’اسلامی‘ ہے؛ چنانچہ سلیم احمد کے ہاں شیروانی اور اس کے متعلقات کا دفاع مابعدالطبیعیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ حالی پر، جن کا مفلر سلیم احمد کی برہمی اور استہزا کا خاص ہدف رہا ہے، انھیں اور بہت سے اعتراضوں کے ساتھ ساتھ یہ اعتراض بھی ہے کہ انھوں نے ’’صرف چھری کانٹے سے کھانے کو اسلامی ثابت نہیں کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ لباس کا یا بالوں کی وضع قطع کا یا دوسرے تمدنی اوضاع کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ سلیم احمد کا اعتراض اس لحاظ سے درست ہے کہ اب اگر چیزوں کو یوں بےشرمی سے صاف صاف دیکھا اور بیان کیا جانے لگے تو بھلا شیروانی کی مابعدالطبیعیاتی قدر کو کیونکر محفوظ رکھا جا سکے گا؟ یہ غصہ، بلاشبہ، بعد میں آنے والوں کو بھی بقدرِ جثہ سہنا پڑتا ہے:
حالی خود شیروانی پوش تھے مگر سرسید کے کوٹ کے حق میں انھوں نے ایسی ایسی دلیلیں دیں کہ آج ۱۹۷۵ء میں شیروانی یا تو میرے جسم پر نظر آتی ہے یا قائداعظم کی تصویر میں۔ اکبر نے کہا تھا:
دب گئی میری مسلمانی تری پتلون سے
لیکن حالی کہتا تھا کہ مسلمانی میں دم ہو تو پتلون میں بھی اپنا رستہ نکال لیتی ہے۔ بہت بعد میں میراجی نے دریافت کیا کہ پتلون کی جیب میں استر نہ ہو تو معاملہ بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔ (’’سرسید، ریل گاڑی اور کوکاکولا‘‘)
میں نے سلیم احمد کی تحریریں پڑھتے اور ان پر ردعمل کرتے ہوے جو نقطۂ نظر اختیار کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ برصغیر (اور اس جیسے دوسرے خطّوں میں) قوم سازی کے تاریخی عمل میں باہم متخالف دو تحریکیں مذکورہ دور (یعنی پچھلی ڈیڑھ دو صدیوں کے دوران) میں جاری رہی ہیں: (۱) عوام کے تصور کا ٹھوس شکل اختیار کرنا اور جمہوریت کی اقدار پر اصرار کا بڑھنا، اور (۲) مذہب، رواج اور روایت (یا سلیم احمد کی اصطلاح میں ’مابعدالطبیعیات‘) کی بنیاد پر قائم ہونے اور تاریخ کی قوتوں کے اثر سے رفتہ رفتہ کمزور پڑنے اور شکستہ ہونے والے سماجی نابرابری کے نظام کی مدافعت۔
یہ کہنا غیرضروری ہے کہ سلیم احمد دوسری تحریک کی ایک شاخ سے تعلق رکھنے والے کارکن ہیں اور ان کی تحریروں کی معنویت اور ان کے تناظر سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس بات کو پیش نظر رکھنا میرے نزدیک ضروری ہے۔
(ایک طویل تر تبصراتی مضمون کا ابتدائی حصہ)


کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *