جنگ کی حقیقت


دلائی لاما بودھ مذہب کے روحانی پیشوا ہیں۔ دنیا بھر میں مشہور ہیں اور کسی خاص تعارف کے محتاج بھی نہیں۔ دلائی لاما کی ویب سائٹ پر موجود انفارمیشن کے مطابق وہ چودھویں دلائی لاما ہیں، جن کی زندگی کے تین بنیادی مقاصد ہیں۔ اول انسان کے بنیادی حقوق کی حفاظت پر زور دینا، مختلف مذاہب کے درمیان امن و آشتی کو پروان چڑھانا اور تبتیوں کی بودھ تہذیب کی ممکنہ طور پر حفاظت کرنا۔ دلائی لاما کے پرامن خیالات اس وقت پوری دنیا کے لیے مشعل راہ بنے ہوئے ہیں، وہ مذہبی طور پر اس بات کو مانتے ہیں کہ روح جاوداں ہے اور وہ بس جسم کے ناقابل رہائش ہونے کے بعد اسے چھوڑ کر دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، جس طرح انسان مکانات بدلا کرتے ہیں۔ مندرجہ ذیل مضمون ان کا ایک مشہور مضمون ہے جو کہ انگریزی اور ہندی کے ساتھ دوسری زبانوں کے ساتھ ان کی ویب سائٹ پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس مضمون میں دلائی لاما نے 'جنگ' کو ایک مجرمانہ ذہنیت سے تعبیر کیا ہے، اور ملکوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے اور ایک بہتر مستقبل کے قیام کی جانب توجہ دلائی ہے۔ یہ مضمون میں نے جدید ترین کے لیے ہی ترجمہ کیا تھا۔ امید ہے کہ آپ سبھی کو پسند آئے گا۔


ظاہر ہے، جنگ اور بڑے پیمانے پر فوج کا وجود دنیا میں تشدد کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔خواہ ان کا مقصد حملہ کرنا ہو یا دفاع کرنا۔یہ تمام طاقتی ادارے محض انسان کا خون بہانے کا ہی کام کرتے ہیں۔ہمیں جنگ کی حقیقت کے بارے میں سوچتے ہوئے بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ فوج کی لڑائیوں کو ولولہ خیز اور مسحور کن سمجھتے ہیں، اسے ایک آدمی کے لیے ایسے موقع سے تعبیر کرتے ہیں جس میں وہ اپنی ہمت اور جوانمردی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔جب سے فوجوں کو قانونی طور پر صف آرا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، ہم نے جنگ کو بھی قبول کرلیا ہے۔عام طور پر، کوئی بھی ایسا نہیں سمجھتا کہ جنگ بہرحال ایک جرم یا مجرمانہ رویہ ہے۔دراصل ہم کو برین واشڈ کردیا گیا ہے۔جنگ نہ تو مسحور کن ہوسکتی ہے اور نہ ہی متاثر کن۔یہ صرف تباہ کن ہوسکتی ہے۔اس کی فطرت میں المیہ اور تباہ کاری ہے۔
جنگ انسانی سماج میں کسی آگ سے کم نہیں ہے، جس کا ایندھن انسان ہیں۔میں اس استدلال کو بالکل درست تصور کرتا ہوں۔جدید جنگ و جدال اپنے اندر ایسی بہت سی آگ کی قسمیں چھپائے ہوئے ہے، لیکن ہم جنگ کو بدستور ایک ہیجان انگیز شے کے طور پر دیکھتے آئے ہیں، چنانچہ ہم نئی تکینکوں سے لیس اسلحوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس کی بالکل پروا نہیں کرتے کہ اگر یہ واقعی استعمال ہوئے تو بہت سے زندہ انسانوں کو جلا کر راکھ کردیں گے۔جنگ ان تمام راستوں کو تباہ کرتی ہے، جن پر سے اس کا گزر ہوتا ہے۔اگر ایک علاقہ میں کوئی فوج کمزور پڑتی ہے تو کمانڈنگ آفیسر وہاں مزید نئی فوجیں بھیج دیتا ہے۔یہ تو زندہ لوگوں کو آگ میں جھونکنے کے برابر ہے، لیکن ہم کو چونکہ ایک ہی طریقے سے سوچنے کے لیے برین واشڈ کردیا گیا ہے، ہم کبھی فوجیوں کی ذاتی پریشانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔اگر ایک فوجی مرتا ہے، یا معذور ہوتا ہے، تو اس کے دسیوں لواحقین بھی دکھ کے گھیرے میں گھر جاتے ہیں۔ہمیں اس المیے کے نتائج سے خوفزدہ ہونا چاہیے، مگر ہم تو اس معاملے میں کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔
اگر صاف صاف کہوں تو، جب میں چھوٹا تھا، میں خود ملٹری سے بہت متاثر ہوا کرتا تھا۔ان کا یونیفارم کتنا چست اور خوبصورت لگتا تھا۔لیکن یہیں سے تو چھلاوے کی شروعات ہوتی ہے۔بچے اپنے بچپن میں جو کھیل کھیلا کرتے ہیں، ایک دن وہ انہی کے لیے بڑے ہو کر پریشانی کا باعث بن جایا کرتے ہیں۔انسانی قتل و غارت گری پر اکسانے والے کھیلوں یا لباس کے علاوہ ایسے بہت سے دوسرے کھیل اور لباس بھی ہیں، جو ان بچوں کوسکھائے یا پہنائے جاسکتے ہیں۔میں پھر سے یہی کہوں گا کہ اگر ہم خود جنگ سے بہت زیادہ متاثر نہ ہوتے تو آسانی سے دیکھ سکتے کہ اس طرح کے کھیل اور لباس کا عادی بننے کی اجازت دینا ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے کتنا تباہ کن ہے۔کچھ سابق سپاہیوں نے مجھے بتایا کہ پہلی بار کسی انسان پر گولی چلانا خود ان کے لیے بھی ایک بڑی بے اطمینانی کا باعث تھا مگر رفتہ رفتہ جب وہ لوگوں کو مارنے کے عادی ہوگئے تو یہ خون خرابہ بہت نارمل سا ہوگیا۔وقت کے ساتھ ساتھ انسان کسی بھی چیز کا عادی ہوسکتا ہے۔
بات صرف اتنی نہیں کہ فوجی قیام صرف جنگ کے دنوں میں ہی انسانیت کے لیے خطرناک ہے۔اسی خاص جنگی منصوبہ بندی کی وجہ سے، فوجی دنیا میں انسانوں کے حقوق کا قتل کرنے والے سب سے بڑے اور واحد ذریعے میں تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ اس مقصد کے لیے خود ان کا بھی بڑے پیمانے پرلگاتار استحصال کیا جاتا ہے۔آرمی کی اہمیت، ڈسپلن اور دشمن کو جڑ سے اکھاڑپھیکنے کی ضرورت پر آفیسر انچارج کی بھرپور تقریر کے بعد،فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کے حقوق ان سے ہمیشہ کے لیے چھین لیے جاتے ہیں ،پہلے ان کے حقوق کو ضبط کیا جاتاہے اور بعد میں بالکل ختم کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی جانیں قربان کرسکیں۔مزید برآں، جب ایک آرمی کو زبردست قوت حاصل ہوجاتی ہے، تو وہ خود اپنے ملک کے لیے بھی ایک قسم کا خطرہ بن جاتی ہے، جو کبھی بھی لوگوں کی خوشیوں کو آن کی آن میں کچل سکتی ہے۔
ہر سماج میں تباہی پھیلانے والے لوگ موجود ہوا کرتے ہیں، جو حکومت پر قابض ہوکر اپنی خواہشوں اور خوشیوں کے حصول کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔لیکن ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایسے کتنے بدترین قاتل حکمراں سماج میں موجود ہیں، جو اپنی ہی قوم کو تباہی کی آگ میں جھونک سکتے ہوں اور بین الاقوامی مسائل پیدا کرسکتے ہوں۔ظاہر ہے اگر سماج میں کسی فوجی تنظیم کی کوئی جگہ ہی نہیں ہوگی تو وہ کس بل بوتے پر لوگوں کو مارنے یا تکلیف پہنچانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔جب تک ایسی طاقت ور فوجیں موجود ہیں، آمرانہ حکومتوں کا خطرہ بھی بنا رہے گا۔اگر ہم واقعی آمرانہ تسلط کو حکومت کا ایک خراب رخ سمجھتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے اہم اسباب میں طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بھی شمار ہوتا ہے۔
پھر بھی میں یہ بات صاف کردینا چاہتا ہوں کہ جنگ کے خلاف ہونے کے باوجود میں ہر معاملے میں صلح کی وکالت نہیں کروں گا۔کبھی کبھی نامناسب قسم کے متشددانہ رویے کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانا نہایت ضروری ہوجاتا ہے۔اس کی مثال میں دوسری جنگ عظیم سے دوں گا جو کہ اپنے طور پر بالکل ٹھیک تھی جس نے انسانیت کو نازی جرمنی کے ظلم سے چھٹکارا دلایا تھا، جو کہ ونسٹن چرچل کا بالکل صحیح فیصلہ تھا۔میرے حساب سے، کوریا کی جنگ بھی اسی طرح کا ایک لازمی قدم تھا جس نے جنوبی کوریا کو جمہوریت کی جانب بڑھنے میں بہت مدد دی۔لیکن یہ فیصلہ ہم صرف اپنی سمجھ سے کرسکتے ہیں کہ کوئی جنگ اخلاقی اصولوں کے تحت لڑی گئی ہے یا نہیں۔مثال کے طور پر، اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سرد جنگ کے دوران نیوکلیرہتھیاروں کے استعمال کی مناہی کی ایک خاص اہمیت تسلیم کی گئی تھی، اس کے باوجود ایسے معاملات میں اب بھی کوئی ٹھوس بات کہہ پانا ممکن نہیں ہے۔اس لیے جہاں تک ممکن ہو جنگ کو ٹالنا ہمارے حق میں بہتر ہے، اور ہمیں پہلے سے کبھی بھی یہ فرض نہیں کرلینا چاہیے کہ کسی خاص جنگ کا نتیجہ کارآمد ہی ہوگا۔
مثال کے طور پر ، سرد جنگ کے معاملے میں، نیوکلیر کے استعمال کو روکنے کی تحریک نے ہوسکتا ہے اس رویے کو مستحکم کرنے میں کچھ مدد کی ہو، مگر وہ خالص امن کو قائم نہیں کرپائی۔یورپ میں پچھلے چالیس سالوں میں کوئی جنگ نہیں لڑی گئی، یہ اصلی امن نہیں ہے بلکہ اس کی ایک جعلی صورت ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہتھیاروں کو امن قائم کرنے کے لیے بناتے رہنا اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ مخالفین کو ایک دوسرے پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔کچھ بگڑے واقعات کی ہلکی سی تعداد بھی ان کی طاقت کا توازن بگاڑ سکتی ہے۔صرف مکمل بھروسے کی صورت میں ہی ایک پائدار اور دائمی امن کا بھروسہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین