بلا عنوان کے: سعادت حسن منٹو


پنڈت جی۔ اسلام علیکم
یہ میرا پہلا خط ہے،جو میں آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ آپ ماشاء اللہ امریکنوں میں بڑے حسین متصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے خدوخال کچھ ایسے برے نہیں ہیں۔ اگر میں امریکہ جاؤں تو شاید مجھے بھی حسن کا رتبہ عطا ہو جائے۔ لیکن آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور میں پاکستا ن کا عظیم افسانہ نگار۔ ان میں بہت بڑا تفاوت ہے بہر حال ہم دونوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ آپ کشمیری ہیں اور میں بھی۔ آپ نہروہیں میں منٹو۔ کشمیری ہونے کا دوسرا مطلب خوبصورتی ہے اور خوبصورتی کا مطلب،جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا۔
مدت سے میری تمنا تھی کہ آپ سے ملوں(شاید بشرط زندگی ملاقات ہو بھی جائے)میرے بزرگ تو آپکے بزرگوں سے اکثر ملتے جلتے رہتے ہیں۔ لیکن یہاں کوئی ایسی صورت نہ نکلی کہ آپ سے ملاقات ہو سکے۔
یہ کتنی بڑی ٹریجیڈی ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا تک نہیں۔ آواز ریڈیو پر البتہ ضرورسنی ہے۔ وہ بھی ایک دفعہ۔
جیساکہ میں کہہ چکا ہوں ،مدت سے میری تمنا تھی کہ آپ سے ملوں،اس لیے کہ آپ سے میر اکشمیر کا رشتہ ہے ،لیکن اب سوچتا ہوں،اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کشمیری کسی نہ کسی راستے سے کسی نہ کسی چورا ہے پر دوسرے کشمیری سے مل ہی جاتا ہے۔
آپ کسی نہر کے قریب آبا د ہوئے اور نہرو ہو گئے اور میں ابھی تک سوچتا ہوں کہ منٹو کیسے ہوگیا۔ آپ نے تو خیر لاکھوں مرتبہ کشمیر دیکھا ہوگا۔ مگر مجھے صرف بانہال تک جانا نصیب ہوا ہے۔ میرے کشمیری دوست جو کشمیری زبان جانتے ہیں مجھے بتاتے ہیں کہ منٹو کا مطلب’’منٹ‘‘ ہے،یعنی ڈیڑھ سیر کا بٹہ۔ آپ یقیناًکشمیری زُبان جانتے ہوں گے۔ اس خط کا جواب لکھنے کی اگرآپ زحمت فرمائیں تو مجھے ضرور لکھیئے کہ’’منٹو‘‘کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟۔
اگرمیں صرف ڈیڑھ سیر ہوں تو میرا آپ کا مقابلہ نہیں۔ آپ پوری نہر ہیں اور میں صرف ڈیڑھ سیر آپ سے میں کیا ٹکر لے سکتا ہوں؟ لیکن ہم دونوں ایسی بندوقیں ہیں جو کشمیریوں کے متعلق مشہور کہاوت کے مطابق:
’’
دُھوپ میں ٹھس کرتی ہیں‘‘
معاف کیجیے گا،آپ اس کا برانہ مانیے گا میں نے بھی یہ فرضی کہاوت سنی تو کشمیری ہونے کی وجہ سے میراتن بدن جل گیا چونکہ یہ دلچسپ ہے اس لیے میں نے اِس کاذکر تفریحی کردیا۔ حالانکہ میں اور آپ دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کشمیری کسی میدان میں آج تک نہیں ہارے۔
سیاست میں آپ کا نام میں بڑے فخر سے لے سکتا ہوں کیونکہ آپ بات کہہ کر فوراً تردید کرنا خوب جانتے ہیں پہلوانی میں ہم کشمیریوں کو آج تک کس نے ہرایا ہے۔ شاعری میں ہم سے کون بازی لے سکا ہے۔ لیکن مجھے یہ سُن کر حیرت ہوئی ہے کہ میں ڈیڑھ سیر کا بٹہ ہوں۔ اگر میں تیس چالیس ہزارمن کاپتھر ہوتا تو خود کو اس دریا میں لڑھکا دیتا کہ آپ کچھ دیر کے لیے اس کو نکالنے کے لیے اپنے انجینئیروں سے مشورہ کرتے رہتے۔
پنڈت جی،اس میں کوئی شک نہیں کہ آ پ بہت بڑے آدمی ہیں۔ آپ ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں،اسی ملک پر جس سے ہمارا بھی تعلق رہا ہے۔ آپ کی حکمرانی ہے،آپ سب کچھ ہیں،لیکن گستاخی معاف کہ آپ نے اس خاکسار (جوکشمیری ہے)کی کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔
دیکھیئے،میں آپ سے ایک دلچسپ بات کا ذکر کرتا ہوں،میرے والد صاحب (مرحوم)جو ظاہر ہے کشمیری تھے۔ جب کسی ہاتو کو دیکھتے تو اُسے گھرلے آتے،ڈیوڑھی میں بٹھا کر اسے نمکین چائے پلاتے۔ ساتھ قلچہ بھی ہوتا۔ اس کے بعد وہ بڑے فخر سے اس ’’ہاتو‘‘سے کہتے:’’میں بھی کاشرہوں‘‘۔
پنڈت جی آپ کا شرہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کی قسم اگر آپ میری جان لینا چاہیں تو ہر وقت حاضر ہے۔ میں جانتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ آپ صرف اس لیے کشمیر کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں کہ آپ کو کشمیر سے کشمیری ہو نے کے باعث بڑی مقناطیسی قسم کی محبت ہے یہ ہر کشمیری کو خواہ اُس نے کبھی کشمیر دیکھا بھی نہ ہو،ہونا چاہیے۔ جیسا کہ میں اس خط میں پہلے لکھ چکا ہوں، میں صرف بانہال تک گیا ہوں۔ کد، بٹوت، کشٹوار، یہ سب علاقے میں نے دیکھے ہیں،لیکن حسن کے ساتھ میں نے افلاس چپکا دیکھا،اگر آپ نے اس افلاس کو دُور کردیا ہے تو آپ کشمیر اپنے پاس رکھیے،مگر مجھے یقین ہے کہ آپ کشمیری ہونے کے باوجود اُسے دُور نہیں کر سکتے کہ اس کے لیے آپ کو اتنی فرصت ہی نہیں۔
آپ ایسا کیوں نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں آپکا پنڈت بھائی ہوں،مجھے بلا لیجیئے۔ میں پہلے آپ کے گھر شلجم کی شب دیگ کھاؤں گا،اس کے بعد کشمیر کا سارا کام سنبھال لوں گا۔ یہ بخشی وغیرہ اب بخش دینے کے قابل ہیں۔ اوّل درجے کے چارسو بیس ہیں۔ انھیں آپ نے خواہ مخواہ اپنی ضروریات کے مطابق اعلی رتبہ بخش دیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کیوں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ سیاست دان ہیں،جو کہ میں نہیں ہوں،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی بات سمجھ نہ سکوں۔
بٹوارہ ہوا۔ ریڈ کلف نے جو جھک مارنا تھا مارا۔ آپ نے جو ناگڑھ پرنا جائز طور پر قبضہ کرلیا۔ جو کوئی کشمیری،کسی مرہٹے کے زیرِاثر ہی کرسکتا ہے،میرا مطلب پٹیل سے ہے(خدااُسے مغفرت کرے)۔
حیدر آباد پر بھی آپ نے جارحانہ حملہ کیا۔ وہاں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا اور آخر میں اس پر قبضہ جمالیا۔ کیا یہ سراسر زیادتی نہیں آپ کی؟
آپ انگریزی زبان کے ادیب ہیں۔ ۔ ۔ میں یہاں اُردو میں افسانہ نگاری کرتا ہوں،اس زبان میں جس کو آپ کے ہندوستان میں مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پنڈت جی،میں آپ کوبیان پڑھتا رہتا ہوں ان سے میں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ آپ کو اردو عزیز ہے لیکن میں نے آپکی ایک تقریر ریڈیو پر جب ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوئے تھے سُنی،آپکی انگریزی کے توسب قائل ہیں،لیکن جب آپ نے نام نہاد اُردو میں بولنا شروع کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپکی انگریزی تقریر کا ترجمہ کسی کٹر مہا سبھائی نے کیا ہے،جسے پڑھتے وقت آپکی زبان کا ذائقہ درست نہیں تھا۔ آپ ہر فقرے پر ابکائیاں لے رہے تھے۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نے ایسی تحریر پڑھنا قبول کیسے کی۔ ۔ ۔ ۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ریڈ کلف نے ہندوستان کی ڈبل روٹی کے دو توس بنا کے رکھ دئیے تھے لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک وہ سینکے نہیں گئے۔ اُدھر آپ سینک رہے ہیں اور اِدھر ہم۔ لیکن آپ کی ہماری انگیٹھیوں میں آگ باہر سے آرہی ہے۔
پنڈت جی،آجکل بگوّ گوشوں کا موسم ہے۔ گوشے تو خیر میں نے بیشمار دیکھے ہیں لیکن بگوّ گوشے کھانے کو جی بہت چاہتا ہے۔ یہ آپ نے کیا ظلم کیا کہ بخشی کو ساراحق بخش دیا ہے کہ وہ بخشیش میں بھی مجھے تھوڑے سے بگوّ گوشے نہیں بھیجتا۔
بخشی جائے جہنم میں اور بگو گوشے۔ ۔ نہیں وہ جہاں میں سلامت رہیں مجھے آپ سے دراصل یہ کہنا تھا کہ آپ میری کتابیں کیوں نہیں پڑھتے۔ آپ نے اگر پڑھی ہیں تو مجھے افسوس ہے کہ آپ نے داد نہیں دی۔ اگر نہیں پڑھیں تو اور بھی زیادہ افسوس کا مقام ہے،اسلیے کہ آپ ادیب ہیں۔
آپ سے مجھے ایک اور بھی گلہ ہے۔ آپ ہمارے دریاؤں کا پانی بندکر رہے ہیں۔ اور آپکی دیکھا دیکھی آپکی راج دھانی کے پبلیشر میری اجازت کے بغیر میری کتابیں دھڑا دھڑ چھاپ رہے ہیں،یہ بھی کوئی شرافت ہے۔ ۔ ۔ میں تو یہ سمجھاتھا کہ آپکی وزارت میں ایسی کوئی بیہودہ حرکت ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر آپ کو فوراً معلوم ہو سکتا ہے کہ دلی،لکھنؤ اور جالندھرمیں کتنے ناشروں نے میری کتابیں نا جائز طور پر چھاپی ہیں۔
فحش نگاری کے الزام میں مجھ پر کئی مقدمے چل چکے ہیں۔ مگر یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ دلی میں،آپکی ناک کے عین نیچے وہاں کا ایک پبلیشر میرے افسانوں کا مجموعہ’’منٹو کے فحش افسانے‘‘ کے نام سے شائع کرتا ہے۔
میں نے کتاب’’گنجے فرشتے‘‘لکھی۔ اس کو آپ کے بھارت کے ایک پبلیشر نے’’پردے کے پیچھے‘‘ کے عنوان سے شائع کردیا۔ ۔ ۔ ۔ اب بتائیے میں کیا کروں؟
میں نے یہ نئی کتاب لکھی ہے،اسکا دیبا چہ یہی خط ہے جو میں نے آپکے نام لکھا ہے،اگر یہ کتاب بھی آپکے یہاں نا جائز طور پر چھپ گئی تو خدا کی قسم میں کسی نہ کسی دن دلی پہنچ کر آپ کو گریبان سے پکڑلوں گا،پھر چھوڑوں گا نہیں آپ کو۔ ۔ ۔ ۔ آپ کے ساتھ ایسا چمٹوں گا کہ آپ ساری عمر یاد رکھیں گے،ہر روز صبح کو آپ سے کہوں گا کہ نمکیں چائے پلائیں۔ ساتھ ایک تافتانہ بھی ہو۔ شلجموں کی شب دیگ تو خیر ہر ہفتے کے بعد ضرور ہوگی۔
یہ کتاب چھپ جائے تو میں اسکا ایک نسخہ آپ کو بھیجوں گا۔ امید ہے آپ اس کی رسید سے مجھے ضرور مطلع کریں گے اور میری تحریر کے متعلق اپنی رائے سے بھی ضرور آگاہ کریں گے۔
آپ کو میرے اس خط سے جلے ہوئے گوشت کی بُو آئے گی۔ آپ کو معلوم ہے ہمارے وطن کشمیر میں ایک شاعر غنی رہتا تھا۔ جو غنی کشمیری کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پاس ایران سے ایک شاعر آیا،اس کے گھر کے دروازے کھلے تھے،اس لیے کہ وہ گھر میں نہیں تھا،وہ لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ میرے گھرمیں ہے کیا جو میں دروازے بند رکھوں،البتہ جب میں گھر میں ہوتا ہوں تو دروازے بند کر دیتا ہوں،اس لیے کہ میں ہی تو اس کی واحد دولت ہوں۔
ایرانی شاعر اس کے ویران گھر میں اپنی بیاض چھوڑ گیا۔ اس میں ایک شعر نا مکمل تھا،مصرعہ ثانی ہو گیا، مگر مصر عہ اُدلیٰ اس شاعر سے نہیں کہا گیا تھا۔ مصرع ثانی یہ تھا:
:
کہ ازلباس تو بوئے کبا ب می آید
جب وہ ایرانی شاعر کچھ دیر کے بعد واپس آیاتو اس نے اپنی بیاض دیکھی،مصرعہ اُولیٰ موجود تھا۔
کدام سوختہ جاں دست زدبدامانت
پنڈت جی،میں بھی ایک سوختہ جان ہوں۔ میں نے آپ کے دامن پر اپنا ہاتھ دیا ہے،اس لیے کہ میں یہ کتاب آپ کے نام سے معنون کر رہا ہوں۔
سعادت منٹو
۲۷اگست۱۹۵۴ء

1

آئے دن سعید کو زُ کام ہوتا تھا۔ ایک دن جب اُس زُکام نے تازہ حملہ کیا تو اس نے سوچا،مجھے عشق کیوں نہیں ہوتا؟سعید کے جتنے دوست تھے سب کے سب عشق کر چکے تھے۔ ان میں سے کچھ ابھی تک اس میں گرفتار تھے لیکن جس قدروہ محبت کو اپنے پاس دیکھنا چاہتا، اُسی قدراُس کو اپنے سے دُور پاتا۔ عجیب بات ہے مگر اس کو ابھی تک کسی سے عشق نہیں ہواتھا جب کبھی وہ سوچتا کہ واقعی اس کا دل عشق و محبت سے خالی ہے تو اسے شرمندگی سی محسوس ہوتی اور وقار کو ٹھیس سی پہنچتی۔
بیس برس کا عرصہ جس میں کئی برس اس کے بچپن کی بے شعوری کی دُھند میں لپٹے ہوئے تھے،کبھی کبھی اس کے سامنے لاش کی مانند اکڑ جاتا تھا اور سوچتا کہ اس کا وجوداب تک بالکل بیکار رہا ہے۔ محبت کے بغیر آدمی کیونکر مکمل ہوسکتاہے؟۔
سعید کو اس بات کا حساس تھا۔ کہ اس کا دل خوبصورت ہے اور اس قابل ہے کہ محبت اس میں رہے،لیکن وہ مرمریں محل کس کام کا جس میں رہنے والا کوئی بھی نہ ہو۔ چونکہ اسکادل محبت کرنے کا اہل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اس خیال سے بہت دُکھ ہوتا کہ اس کی دھڑکنیں بالکل فضول ضائع ہو رہی ہیں۔
اس نے لوگوں سے سُنا تھا،زندگی میں ایک بار محبت ضرور آتی ہے۔ خود اسے بھی اس بات کا ہلکا سا یقین تھا کہ موت کی طرح محبت ایک بار آئے گی۔ مگر کب؟ کاش اس کی کتاب حیات اس کی اپنی جیب میں ہوتی،جسے کھول کہ وہ اس کا جواب فوراً پالیتا،مگر یہ کتاب تو واقعات خود لکھتے ہیں،جب محبت آئے گی تو خود بخود اس کتاب حیات میں نئے درقوں کا اضافہ ہوجائیگا۔ وہ ان نئے ورقوں کے اضافے کے لیے کتنا بیتا ب تھا۔
وہ چپ چاپ اُٹھ کر ریڈیوپرگیت سُن سکتا تھا۔ جب چاہے کھاناکھاسکتا تھا۔ اپنی مرضی کے مطابق ہر وقت وسکی بھی پی سکتا تھا جس کی اس کے مذہب میں ممانعت تھی۔ وہ اگر چاہتا تو اُسترے سے اپنے گال بھی زخمی کر لیتا مگر حسب منشاء کسی سے محبت نہیں کرسکتا تھا۔
ایک بار اُس نے بازار میں ایک نوجوان لڑکی دیکھی۔ اس کی چھاتیاں دیکھ کر اُسے ایسا معلوم ہوا کہ دوبڑے بڑے شلجم ڈھیلے کرتے میں چھپے ہوئے ہیں۔ شلجم اُسے بہت پسند تھے۔ سردیوں کے موسم میں کوٹھے پر جب اُس کی ماں لال لال شلجم کاٹ کر سکھانے کے لیے ہار پر ویاکرتی تھی تو وہ کئی کچے شلجم کھاجایا کرتا تھا۔ اُس لڑکی کو دیکھ کر اس کی زبان پر وہی ذائقہ پیدا ہوا ،جو شلجم کا گودا چباتے وقت پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے دل میں اس سے عشق کر نے کا خیال پیدا نہ ہوا۔ وہ اس کی چال کو غور سے دیکھتا رہا ،جس میں ٹیڑھاپن تھا، ویسا ہی ٹیڑھاپن جیسا کہ برسات کے موسم میں چار پائی کے پایوں میں کان کے باعث پیدا ہوجایا کرتا ہے۔ وہ اس کے عشق میں خود کو گرفتار نہ کرسکا۔
عشق کرنے کے اراد ے سے وہ اکثر اوقات اپنی گلی کی نکڑّ پر دریوں کی دُکان پر جابیٹھتا تھا۔ یہ دکان سعید کے ایک دوست کی تھی،جو ہائی سکول کی ایک لڑکی سے محبت کررہاتھا۔ اس لڑکی سے اُس کی محبت لدھیانے کی ایک دری کے ذریعے سے پیدا ہوئی تھی۔ دری کے دام اس لڑکی کے بیان کے بموجب اُس کے دوپٹے کے پلوّ سے کھل کر کہیں گرپڑے تھے۔ لطیف چونکہ اس کے گھر کے پاس رہتا تھا اس لیے اس نے اپنے چچا کی جھڑکیوں اور گالیوں سے بچنے کے لیے اس سے دری اُدھار مانگی اور دونوں میں محبت ہوگئی۔ شام کو بازار میں آمد ورفت زیادہ ہو جاتی اور دربار صاحب جانے کے لیے چونکہ راستہ وہی تھا ا س لیے عورتیں بھی کافی تعداد میں اس کی نظروں کے سامنے سے گذرتی تھیں ،مگر جانے کیوں اُسے ایسا محسوس ہوتا کہ جتنے لوگ بازار میں چلتے پھرتے ہیں،سب کے سب شفاف ہیں۔ اُس کی نگاہیں کسی عورت کسی مرد پر نہیں رکتی تھیں۔ لوگوں کی بھیڑ باڑ کو اس کی آنکھیں ایک ایسی متحرک جھلی سمجھتی تھیں، جس میں سے وہ آسانی کے ساتھ جدھر چاہیں دیکھ سکتی ہیں۔
اس کی آنکھیں کدھر دیکھتی تھیں۔ یہ نہ آنکھوں کو معلوم تھا اور نہ سعید کو اس کی نگاہیں دُور بہت دُور سامنے چونے اور گارے کے بنے ہوئے پختہ مکانوں کو چھیدتی ہوئی نکل جاتیں، نہ جانے کہاں اور خود ہی کہیں گھوم گھام کر اُس کے دل کے اندر آجاتیں بالکل ان بچوں کے مانند جو اپنی ماں کی چھاتی پر اوندھے منہ لیٹے،ناک،کان اور بالوں سے کھیل کھال کر انپے ہی ہاتھوں کو تعجب آمیز دلچسپی سے دیکھتے دیکھتے نیند کے نرم نرم گالوں میں دھنس جاتے ہیں۔
لطیف کی دکان پر گاہک بہت کم آتے تھے اس لیے وہ اس کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے مختلف قسم کی باتیں کیا کرتا تھا،لیکن وہ سامنے لٹکی ہوئی دری کی طرف دیکھتا رہتا۔ جس میں رنگ برنگ کے بیشمار دھاگوں کے الجھاؤ نے ایک ڈیزائن پیدا کر دیا تھا۔ لطیف کے ہونٹ ہلتے رہتے اور وہ یہ سوچتا رہتا کہ اس کے دماغ کا نقشہ دری کے ڈیزائن سے کسقدر ملتا جلتا ہے بعض اوقات تو وہ یہ خیال کر تاکہ اس کے اپنے خیالات ہی باہر نکل کر اس دری پر رینگ رہے ہیں۔
اس دری میں اور سعید کی دماغی حالت میں بلا کی مشابہت تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ رنگ برنگ کے دھاگے کے الجھاؤ نے اس کے سامنے دری کی صورت اختیار کرلی تھی،اور اسکے رنگ برنگے خیالات و محسوسات کا اُلجھاؤ ایسی صورت اختیار نہیں کرتا تھا،جس کو وہ دری کی مانند اپنے سامنے بچھا کریا لٹکا کر دیکھ سکتا۔
لطیف بے حد خام تھا،گفتگو کرنے کا سلیقہ تک اُسے نہیں آتا تھا۔ کسی شے میں خوبصورتی تلاش کرنے کے لیے اگر اس سے کہا جاتا تو وہ فرطِ حیرت سے بالکل بیو قوف دکھائی دیتا،اس کے اندر وہ بات ہی پیدا نہیں ہوئی تھی جو ایک آرٹسٹ میں پیدا ہوتی ہے لیکن اس کے باجود ایک لڑکی اُس سے محبت کرتی تھی اس کو خط لکھتی تھی،جس کو البتہ لطیف یوں پڑھتا تھا جیسے کسی تیسرے درجے کے اخبار میں جنگ کی خبریں پڑھ رہا ہے۔ ان خطوط میں وہ کپکپاہٹ اُسے نظر نہیں آتی تھی جو ہر لفظ میں گندھی ہوئی ہے۔ وہ لفظوں کی نفسیاتی اہمیت سے بالکل بے خبر تھا۔ اس سے اگر یہ کہا جاتا،دیکھو لطیف یہ پڑھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لکھتی ہے،میری پھوپھی نے کل مجھ سے کہا کہ کیا ہوا ہے تیری بھو ک کو؟ تونے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا ہے جب میں نے سُنا تو معلوم ہوا کہ سچ مچ میں آجکل بہت کم کھاتی ہوں۔ دیکھو میرے لیے کل شہاب الدین کی دوکان سے کھیر لیتے آنا۔ جتنی لاؤ گے سب چٹ کر جاؤں گی۔ اگلی پچھلی کسر نکال دوں گی۔ کچھ معلوم ہوا تمھیں اسی سطر میں کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم شہاب الدین کی دوکان سے کھیر کابہت بڑا ڈونا لے کر جاؤ گے تو لوگوں کی نظروں سے بچ بچا کر ڈیوڑھی میں جب تم اُسے یہ تحفہ دو گے تو اس خیال سے خوش نہ ہوناکہ وہ ساری کھیر کھاجائے گی،وہ کبھی نہیں کھاسکے گی،پیٹ بھر کروہ کچھ کھاہی نہیں سکتی۔ جب دماغ میں خیالات کا ہجوم جمع ہو جائے تو پیٹ خود بخود بھر جایا کرتا ہے لیکن یہ فلسفہ اس کی سمجھ میں کیسے آتا۔ وہ سمجھنے سمجھانے سے بالکل کوراتھا،جہاں تک شہاب الدین کی دوکان سے چار آنے کی کھیر اور ایک آنے کی خوشبودار ربڑی خریدنے کا تعلق تھا،لطیف بالکل ٹھیک تھا،لیکن کھیر کی فرمائش کیوں کی گئی تھی اور اس کے ذریعے سے اشتہار پیدا کرنے کا خیال کن حالات کے تحت اس کی محبو بہ کے دماغ میں پیدا ہوا۔ اس سے لطیف کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ اس قابل ہی نہیں تھا کہ ان باریکیوں کو سمجھ سکے۔ وہ موٹی عقل کا آدمی تھا جو لوہے کے زنگ آلودگزسے نہایت بھونڈے طریقے سے دریاں ماپتا تھا،اور شاید اسی طرح کے گزسے اپنے احساسات کی پیمائش بھی کرتا تھا۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک لڑکی اُس کی محبت میں گرفتار تھی جو ہر جہت سے اُس کے مقابلہ میں ارفع واعلیٰ تھی۔ لطیف اور اس میں اتناہی فرق تھا جتنا لدھیانے کی دری اور کشمیر کے گد گدے قالین ہیں۔
سعید کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ محبت کیسے پیدا ہوتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ خو دجس وقت چاہے رنج والم طاری کر سکتا تھا۔ محبت جس کے لیے وہ اس قدربے تاب تھا۔
اس کا ایک اور دوست جو اسقدر کا ہل تھا کہ مونگ پھلی اور چنے صرف اسی صورت میں کھا سکتا تھا،اگران کے چھلکے اُترے ہوئے ہوں اپنی گلی کی ایک حسین لڑکی سے محبت کر رہاتھا،لیکن اگر اس سے پوچھا جاتا،یہ حسن تمہاری محبوبہ میں کہاں سے شروع ہو تا ہے تو یقیناًوہ خالی الذہن ہو جاتا،جس کا مطلب وہ بالکل نہیں سمجھتا تھا۔ کالج میں تعلیم پانے کے باوجود اُس کے ذہن کی نشونما بڑے ادنیٰ طریقے پر ہوئی تھی۔ لیکن اس کی محبت کی داستان اتنی لمبی تھی کہ اقلیدس سے بڑی کتاب تیار ہوجاتی۔ آخران لوگوں کو،ان جاہلوں کو عشق و محبت کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟۔ کئی باریہ سوال سعیدکے دماغ میں پیدا ہوا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ محبت کرنے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے،خواہ وہ بے شعور ہو یا باشعور۔
دوسروں کو محبت کرتے دیکھ کر دراصل اس کے دل میں حسد کی چنگاری بھڑک اٹھتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بہت بڑا کمینہ پن ہے مگر وہ مجبور تھا محبت کرنے کی خواہش اس پر اس قدر غالب رہتی کہ بعض اوقات دل ہی دل میں محبت کرنے والوں کو گالیاں بھی دیا کرتا۔ لیکن گالیاں دینے کے بعد اپنے آپ کو بھی کو ستا کہ ناحق اُس نے دوسروں کو بُرا بھلا کہا۔ اگر دنیا کے سارے آدمی ایک دم محبت کرنے لگیں تو اس میں میرے باوا کا کیا جاتا ہے۔ مجھے صرف اپنی ذات سے تعلق رکھنا چاہیے اگر میں کسی کی محبت میں گرفتار نہیں ہوتا تو اسمیں دوسروں کا کیا قصور ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں کسی لحاظ سے اس قابل ہی نہیں ہوں۔ کیا پتہ ہے کہ بیوقوف اور بے عقل ہونا ہی محبت کرنے کے لیے ضروری ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سوچتے سوچتے ایک دن وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ محبت ایکدم پیدا نہیں ہوتی۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ محبت ایک دم پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ظاہر ہے کہ اس کے دل میں اب سے بہت عرصہ پہلے محبت پیدا ہوگئی ہوتی۔ کئی لڑکیاں اُس کی نگاہوں سے اب تک گذرچکی تھیں۔ اگر محبت ایکدم پیدا ہوسکتی تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خود کو بڑی آسانی کے ساتھ وابستہ کرسکتا تھا۔ کسی لڑکی کو صرف ایک دوبار دیکھ لینے سے محبت کیسے پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
تھوڑے روز ہوئے ایک دوست نے جب اس سے کہا:کمپنی باغ میں آج میں نے ایک لڑکی دیکھی۔ ایک ہی نظر میں اس نے مجھے گھا ئل کر دیا تو اس کی طبیعت مکدر ہوگئی۔ ایسے فقرے اسے بہت پست معلوم ہوتے تھے۔ ایک ہی نظر میں اُس نے مجھے گھائل کر دیا۔ ’’لاحَولَ وَلا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جذبات کا کس قدر عامیانہ اظہار ہے۔‘‘
جب وہ اس قسم کے پست اور تیسرے درجے کے فقرے کسی کی زبان سے سنتا تو اُسے ایسا معلوم ہو تا کہ اس کے کانوں میں پگھلتاہوا سیسہ ڈال دیا گیا ہے۔ مگر پست ذہنیت اور لنگڑے مذاق کے لوگ اس سے زیادہ خوش تھے۔ یہ لوگ جو عشق و محبت کی لطافتوں سے باکل کورے تھے۔ اس کے مقابلے میں بہت زیادہ سکون اور آرام کی زندگی بسرکر رہے تھے۔
محبت اور زندگی کو ایم اسلم کی نگاہوں سے دیکھنے والے خوش تھے مگر سعید جوکہ محبت اور زندگی کو اپنی صاف اور شفاف آنکھوں سے دیکھتا تھا،مغموم تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے حد مغموم۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایم اسلم سے اُسے بے حد نفرت تھی،اتنا چھچھورا رُومان نویس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی نظروں سے کبھی نہ گذراتھا۔ اُس کے افسانے پڑھ کر اُس کا خیال ہمیشہ ٹبی اور کٹٹرہ کنیاں کی کھڑکیوں کی طرف دوڑ جاتا۔ جن میں سے رات کو کسبیوں کے غازہ لگے گال نظر آتے ہیں مگر تعجب ہے کہ اکثر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اُسی کے افسانے معاشقہ پیدا کرتے تھے۔
جو عشق ایم اسلم کے افسانے پیدا کرتے ہیں،کس قسم کا عشق ہوگا! جب وہ اس پر تھوڑی دیر غور کر تا تو اُسے تصور میں یہ عشق ایک ایسے سفلے آدمی کی شکل میں دکھائی دیتا جس نے نمائش کی خاطر اپنے سب اچھے اچھے کپڑے پہن رکھے ہوں،ایک کے اوپر ایک!
ایم اسلم کے افسانوں کے بارے میں اُس کی رائے کیسی بھی ہو لیکن یہ حقیقت تھی کہ نوجوان لڑکیاں انہیں چھپ چھپ کرپڑھتی تھیں اور جب ان کے جذبات برانگیختہ ہوتے تھے،تو وہ اُسی آدمی سے محبت کرنا شروع کر دیتی تھیں جو ان کو سب سے پہلے نظر آجائے۔ اسی طرح بہزادؔ جس کی غزلیں ہندوستان کی ہر جان اور بائی رات کو کو ٹھوں پر گاتی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بہت مقبول تھا۔ کیوں؟ یہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ بہزادؔ کی وہ عامیانہ غزل جس کا مطلع:
ع: دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے
ہے۔ قریب قریب ہر شخص گاتا تھا۔ اس کے اپنے گھر میں اس کی چپٹی ناک والی نو کرانی جو اپنی جوانی کی منزلیں طوعاً و کرہاً طے کر چکی تھی،برتن مانجتے وقت ہمیشہ دھیمے سُروں میں گنگنایا کرتی تھی:
ع: دیوانہ بنانا ہے دیوانہ بنادے
اس غزل نے اسے دیوانہ بنا دیا تھا،جہاں جاؤ’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘‘ الاپا جارہا ہے۔ آخر کیا مطلب ہے کو ٹھے پر چڑھو تو کانا اسمٰعیلی ایک آنکھ سے اپنے اُڑتے ہوئے کبوتروں کی طرف دیکھ کر اونچے سُروں میں گارہا ہے’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘‘ دریوں کی دوکان پر بیٹھو تو بغل کی دُوکان میں لالہ کشوری مل بزاز اپنے بڑے بڑے چو تڑوں کی گدیوں پر آرام سے بیٹھ کر نہایت بھونڈے طریقے سے گانا شروع کر دیتا ہے:
’’
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے‘‘ دریوں کی دُوکان سے اُٹھو اور بیٹھک میں جاکر ریڈیو کھولو تو اختری بائی فیض آباد گارہی ہے:
ع: دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
کیا بیہودگی ہے وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا لیکن ایک روز جبکہ وہ بالکل خالی الذہن تھا اور پان بنانے کے لیے چھالیا کاٹ رہا تھا تو اُس نے خود غیرارادی طور پر گانا شروع کر دیا: ’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے‘‘
وہ اپنے آپ میں بے حد خفیف ہوا۔ اُسے خود پر بہت غصہ بھی آیا لیکن پھر ایکاایکی زور سے ہنسنے کے بعد اُس نے جان بوجھ کر اونچے سُروں میں گانا شروع کردیا’’دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘‘ یوں گاتے ہوئے اُس نے تصور میں بہزاد کی شاعری ایک قہقہے کے نیچے دبادی اور جی ہی جی میں خو ش ہوگیا۔
ایک دوبار اُس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ بھئی ایم اسلم کی افسانہ نویسی اور بہزادؔ کی شاعری کا گرویدہ ہو جائے اور یوں کسی کے عشق کرنے میں کامیابی حاصل کرے۔ لیکن قصد کرنے پر بھی وہ ایم اسلم کا افسانہ پورا نہ پڑھ سکا اور نہ بہزاد کی غزل ہی میں کوئی خوبصورتی دیکھ سکا۔ ایک دن اس نے اپنے دل میں عہد کرلیا۔ ’’جو ہوسوہو‘‘ میں ایم اسلم اور بہزادؔ کے بغیر ہی اپنی خواہش پوری کر وں گا۔ جو خیالات میرے ذہن میں ہیں ان سب کے سمیت میں کسی لڑکی سے محبت کروں گا۔ ۔ ۔ ۔ ’’یہی ہے ناکہ ناکام رہوں گا تو بھی ناکامی ان دو ڈُگڈگی بجانے والوں سے اچھی ہے‘‘ اُس دن سے اس کے اندر عشق کرنے کی خواہش اور بھی تیز ہوگئی اور اُس نے ہر روز صبح کوناشتہ کیے بغیر ریل کے پھاٹک پر جانا شروع کردیا،جہاں سے کئی لڑکیاں سکول کی طرف جاتی تھیں۔
پھاٹک کے دونوں طرف لوہے کا ایک بہت بڑا توا جس پر لال روغن پینٹ کیا گیا تھا ،جڑاتھا۔ دُور سے جب وہ ان دولال لال تووں کو ایک دوسرے کے پیچھے دیکھتا تو اُسے معلوم ہو جاتا کہ فرنیٹر میل آ رہی ہے۔ پھاٹک کے پاس پہنچتے ہی فرنیٹر میل مسافروں سے لدی ہوئی آتی اور دند ناتی ہوئی اسٹیشن کی جانب غائب ہو جاتی۔
پھاٹک کھلتا اور وہ لڑکیوں کے انتظار میں ایک طرف کھڑا ہو جاتا۔ اُدھر سے پچیس چھبیس لڑکیاں وقت پر ادھر سے گذرتیں اور لوہے کی پٹریوں کو طے کر کے کمپنی باغ کے ساتھ والی سڑک کی طرف ہو جاتیں۔ جدھر اُن کا سکول تھا۔ ان چھبیس لڑکیوں میں سے دس کو جوکہ ہند وتھیں وہ اس لیے غور سے نہ دیکھ سکا کہ باقی سولہ مسلمان لڑکیوں کی شکل وہ صورت برقعوں میں چھُپی رہتی تھیں۔
دس روز وہ متواتر پھاٹک پر جاتا رہا۔ شروع شروع میں دوتین دن ان پر دہ پوش اور بے پردہ لڑکیوں کی طرف متوجہ رہا،مگر دسویں روز جب صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،جس میں کمپنی باغ کے تمام پھولوں کی خوشبوبسی ہوئی تھی۔ اُس نے یک لخت اپنے آپ کو لڑکیوں کے بجائے ان پست قددرختوں کی طرف متوجہ پایا جن میں بے شمار چڑیاں چہچہاتی تھیں۔ صبح کی خمار آلودہ خاموشی میں چڑیوں کا چہچہا نا کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اُس نے غور کیا تو اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک ہفتہ سے لڑکیوں کی بجائے ان چڑیوں،درختوں اور فرنٹیر میل کی موت جیسی یقینی آمد سے دلچسپی لیتا رہا ہے۔
عشق شروع کرنے کے لیے اُس نے اور بھی بہت سے حیلے کیے مگر وہ نا کام رہا۔ آخر کار اس نے سوچا کیوں نہ اپنی گلی ہی میں کوشش کی جائے۔ چنانچہ ایک روز اس نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر گلی کی ان تمام لڑکیوں کی فہرست بنائی جن سے عشق کیا جاسکتا تھا۔ جب فہرست تیار ہوگئی تو نو(۹)لڑکیاں اُس کے پیش نظر تھیں۔
نمبر ایک حمیدہ،نمبردو صغرا،نمبر تین نعیمہ،نمبر چار پشپا،نمبر پانچ بملا،نمبرچھ راجکماری، نمبر سات فاطمہ عرف پھاتو،نمبر آٹھ زبیدہ عرف بیدی۔
نمبر۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا نام اُسے معلوم نہ تھا۔ یہ لڑکی پشمینے کے سوداگروں کے ہاں نو کر تھی۔
اب اُس نے نمبر وار غور کرنا شروع کیا۔
حمیدہ خوبصورت تھی،بڑی بھولی بھالی لڑکی۔ عمر بمشکل پندرہ برس کی ہوگی۔ سدا متبسم رہتی تھی ،بڑی نازک، اُسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سفید شکر کی پتلی ہے۔ بھر بھری،اگر ذرا اس کو ہاتھ لگایا تو اس کے جسم کا کوئی حصہ گرجائے گا۔ ننھے سے سینے پر چھاتیوں کا ابھار ایسے تھا جیسے کسی مدھم راگ میں دُوسر غیرارادی طورپر اُونچے ہو گئے ہیں۔
اگر اُس سے وہ کبھی یہ کہتا،حمیدہ میں تم سے محبت کرنا چاہتا ہوں تو یقیناًاُس کے دل کی حرکت بند ہو جاتی۔ وہ اسے سیڑھیوں ہی میں ایسی باتیں کہہ سکتا تھا۔ تصور میں وہ حمیدہ سے ایسی جگہ ملا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اُوپر سے تیزی کے ساتھ نیچے اُتر رہی تھی۔ اس نے اُسے روکا اور اس کی طرف غور سے دیکھا،اس کا ننھا سادل سینہ میں پھڑ پھڑایا جیسے تیز ہو اکے جھونکے سے دیے کی لو،وہ کچھ نہ سمجھ سکا۔
حمیدہ سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ اس قابل ہی نہیں تھی کہ اس سے محبت کی جاتی۔ وہ صرف شادی کے قابل تھی۔ کوئی بھی خاوند اس کے لیے مناسب تھا۔ کیونکہ اس کے جسم کا ہرذرّہ بیوی تھا۔ اُس کا شمار ان لڑکیوں میں ہو سکتا تھا جن کی ساری زندگی شادی کے بعد گھر کے اندر سمٹ کررہ جاتی ہے۔ جو بچے پیدا کرتی ہیں اور چند ہی برسوں میں اپنا سارا رنگ روپ کھو دیتی ہیں۔ اور رنگ رُوپ کھو کر بھی جن کو اپنے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔
ایسی لڑکیوں سے محبت کا نام سُن کر جویہ سمجھیں ایک بہت بڑا گناہ ان سے سرزد ہو گیا ہے،وہ محبت نہیں کر سکتا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ اگر وہ کسی روز غالبؔ کا ایک شعر اُسے سُنا دیتا تو کئی دنوں تک نماز کے ساتھ بخشش کی دُعائیں مانگ کر بھی وہ سمجھتی کہ اُس کی غلطی معاف نہیں ہوئی اور اس پر جواُدھم مچتا اس کے تصورہی سے سعید کا نپ کا نپ اُٹھتا،جبکہ اس نے اپنی ماں سے فورا ہی ساری بات کہہ سنائی ہوتی۔ ظاہر ہے کہ سب اُسے مجرم قرار دیتے اور ساری عمر کے لیے اُس کے کردار پر ایک بدنما داغ لگ جاتا۔ کوئی اس بات کی طرف دھیان نہ دیتا کہ وہ صدقِ دل سے محبت کرنے کا متمنی ہے۔
نمبر دو صغیرہ اور نمبر۳ نعیمہ کے بارے میں سوچنا ہی بے کار تھا۔ اس لیے کہ وہ ایک کٹرمولوی کی لڑکیاں تھیں۔ اُن کا تصور کرتے ہی سعید کی آنکھوں کے سامنے اُس مسجد کی چٹائیاں آگئیں جن پر مولوی قدرت اللہ صاحب لوگوں کو نماز پڑھانے اور اذان دینے میں مصروف رہتے تھے۔ یہ لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں،مگر عجیب بات ہے کہ چہرے محراب نما تھے۔ جب سعید اپنے گھر میں بیٹھا ان کی آواز سنتا تو اُسے ایسا لگتا کہ عادت کے طور پر کوئی دھیمے دھیمے سُروں میں دُعا مانگ رہا ہے۔ ایسی دعا جس کا مطلب وہ خود بھی نہیں سمجھتا۔ ان کو صرف خدا سے محبت کرنا سکھایا گیاتھا۔ اسی لیے سعیدان سے محبت کرنا نہیں چاہتا تھا۔
وہ انسان تھا اور انسان کو اپنا دل دینا چاہتا تھا۔ صغر اور نعیمہ کی اس دنیامیں اس طور پر تربیت ہو رہی تھی کہ وہ دوسرے جہان میں نیکو کار مردوں کے کام آسکیں۔
جب سعید نے ان کے متعلق سو چاتو اپنے آپ سے کہا:۔
’’
بھئی نہیں،ان سے میں عشق نہیں کرسکتا۔ جو انجام کار دوسرے آدمیوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔ مجھے اس دنیا میں گناہ بھی کرنے ہیں،اس لیے میں یہ جوا کھیلنا نہیں چاہتا۔ مجھ سے یہ نہ دیکھا جائے گا کہ اس دنیا میں جس سے میں محبت کرتا ہوں،چند گناہوں کے بدلے وہ کسی پر ہیز گار کے سپرد کردی جائیں‘‘۔
چنانچہ اُس نے فہرست میں سے صغرا اور نعیمہ کا نام کاٹ دیا۔
نمبر چار پُشپا،نمبر پانچ بملا،نمبر چھ راجکماری۔ یہ تین لڑکیاں جن کا آپس میں خدا معلوم کیا رشتہ تھا،سامنے والے مکان میں رہتی تھیں۔ پشپا کے متعلق سوچ بچا ر کرنا فضول تھا،اس لیے کہ اس کا بیاہ ہونے والا تھا،ایک بزاز سے جس کا نام اتنا ہی بد صورت تھا جتنا پشپا کا خوبصورت۔ وہ اکثر اُسے چھیڑ اکرتا تھا اور کھڑکی میں سے اُس کو اپنی کالی اچکن دکھا کر کہا کرتا تھا۔ پشپا بتاؤ تو میری اچکن کارنگ کیسا ہے۔ پشپا کے گالوں پر ایک سیکنڈ کے لیے گلاب کی پتیاں سی تھر تھرا جاتیں اور وہ بہادری سے جواب دیا کرتی ’’کالا‘‘
اس کے ہونے والے خاوند کا نام کالو مل تھا۔ لاحول ولا۔ کس قدر غیر شاعرانہ نام۔ جانے اس کا نام رکھتے ہوئے اس کے والدین نے کیا مصلحت دیکھی تھی۔
وہ جب پشپا اور کالومل کے متعلق سوچتا تو اپنے دل سے کہا کرتا،’’اگر اور کسی وجہ سے شادی رُک نہیں سکتی تو صرف اسی وجہ سے روک دینی چاہیئے کہ اس کے ہونے والے پتی کا نام نہایت ہی لغو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کالومل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کالو اور پھر اس پر’’مل‘‘ لعنت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر اس کا مطلب کیا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
لیکن پھر سوچتا،اگر پشپا کی شادی کالومل بڑاز سے نہ ہوئی تو کسی گھسیٹا رام حلوائی یا کسی کروڑی مل صراف سے ہو جائے گی۔ بہر حال وہ اس سے عشق نہیں کرسکتاتھا اور اگر کرتا تو اُسے ہندو مسلم فساد کا ڈرتھا۔ مسلمان اور ہندو لڑکی سے محبت کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوّل تو محبت ویسے ہی بہت بڑا جرم ہے اور پھر مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی محبت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیم پر کریلا چڑھانے والی بات ہے۔
شہر میں کئی ہندومسلم فساد ہو چکے تھے،لیکن جس گلی میں سعید رہتا تھا،نا معلوم وجوہات کی بنا پر ان کے اثرات سے اب تک محفوظ رہی تھی۔ اگروہ پشپا،بملا یا راجکماری سے محبت کرنے کا ارادہ کرلیتا تو ظاہر ہے کہ دنیا کی تمام گائیں اور تمام سُور اُس گلی میں اکٹھے ہو جاتے۔ ہندو مسلم فسادوں سے سعیدکو سخت نفرت تھی،اس لیے نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کا سرپھوڑتے ہیں اور لہو کے چھینٹے اُڑتے ہیں،نہیں۔ اس لیے کہ ان فسادوں میں سرنہایت بھدے طریقے پر پھوڑے جاتے ہیں۔ اور لہوجیسی خوبصورت شے کو نہایت ہی بھونڈے طریقے پر بکھیرا جاتا ہے۔
راجکماری جو ان دونوں سے چھوٹی تھی، اُسے پسند تھی۔ اس کے ہونٹ جو سانس کی کمی کے باعث خفیف طور پر کھلے رہتے تھے، اُسے بے حدپسند تھے۔ ان کو دیکھ کر اُسے ہمیشہ خیال آتا تھا کہ شاید ایک بوسہ ان کے ساتھ چھو کر آگے نکل گیاہے۔ ایک مرتبہ اس نے راجکماری کو،جو ابھی اپنی عمر کی چودہویں منزل طے کر رہی تھی،اپنے مکان کی تیسری منزل پر غسل خانے میں نہاتے دیکھا تھا۔
اپنے مکان کے جھرنوں سے جب سعید نے اُس کی طرف دیکھا تو اُسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا کوئی نہایت ہی اچھوتا خیال دماغ میں سے اُتر کر سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ سُورج کی موٹی موٹی کرنیں جن میں بیشمار فضائی ذرے مقیش کا چھڑکاؤ ساکر رہے تھے،اس کے ننگے بدن پر پھیل رہی تھیں۔ ان کرنوں نے اس کے گورے بدن پر سونے کا پتراساچڑھا دیا تھا۔ بالٹی میں سے جب اُس نے ڈونگا نکالا اور کھڑی ہوکر اپنے بدن پر پانی ڈالا تو وہ سونے کی پتلی دکھائی دی۔ پانی کے موٹے موٹے قطرے اس کے بدن پر سے گررہے تھے اور جیسے سونا پگھل کرگررہا تھا۔
راجکماری، پشپا اور بملا کے مقابلے میں بہت ہوشیار تھی۔ اس کی پتلی پتلی انگلیاں جو ہر وقت یوں متحرک رہتی تھیں جیسے خیالی جرابیں بُن رہی ہیں۔ اسے بہت پسند تھیں۔ ان انگلیوں میں رعنائی تھی اور اس رعنائی کا ثبوت کروشیئے اور سُوئی کے ان کاموں سے ملتا تھا جو وہ کئی بار دیکھ چکا تھا۔
ایک بار را جکماری کے ہاتھ کا بنا ہوا میز پوش دیکھ کر اُسے خیال آیا کہ اُس نے اپنے دل کی بہت سی دھڑکنیں بھی ،غیرارادی طور پر اس کے ننھے ننھے خانوں میں گوند دی ہیں۔ ایک بار جبکہ وہ اس کے بالکل پاس کھڑی تھی اس کے دل میں محبت کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ مگر جب اُس نے راجکماری کی طرف دیکھا تو وہ اُسے ایک مندر کی صورت میں دکھائی دی۔ جس کے پہلو میں وہ خود مسجد کی شکل میں کھڑا تھا۔۔۔۔ مسجد اور مندر میں کیونکر دوستی ہو سکتی ہے۔
گلی کی تمام لڑکیوں کے مقابلے میں یہ ہندو لڑکی ذہنی لحاظ سے بلند تھی۔ اس کی پیشانی ،جس پر ہروقت ایک مدھم سی سلوٹ گہرائی اختیار کرنے کا ارادہ کیے رکھتی تھی، اُسے بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ اس کا ماتھا دیکھ کر وہ دل ہی دل میں کہا کرتا : جب دیباچہ اتنا خوبصورت ہے تو معلوم نہیں کتاب کتنی دلچسپ ہوگی۔ مگر۔۔۔ آہ۔۔۔ یہ مگر!۔۔۔ اس کی زندگی میں یہ مگر سچ مچ کا مگربن کر رہ گیاتھا، جو اُسے غوطہ لگانے سے ہمیشہ باز رکھتا تھا۔
نمبر سات فاطمہ عرف پھاتو،خالی نہیں تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ عشق سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک امجد سے جو ورکشاپ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور دوسرا اسکے چچیرے بھائی سے جو دوبچوں کا باپ تھا۔ فاطمہ عرف پھاتو ان دونوں بھائیوں سے عشق کر رہی تھی۔ گویا ایک پتنگ سے دو پیچ لڑارہی تھی ایک پتنگ میں جب دو اور پتنگ اُلجھ جائیں تو کافی دلچسپی پیدا ہوتی ہے لیکن اگر اس تگڈے میں ایک اور پیچ کا اضافہ ہو جائے تو ظاہر ہے کہ الجھاؤ ایک بھول بھلیاں کی صورت اخیتار کرلے گا۔ اس قسم کا اُلجھاؤ سعید کو پسند نہیں تھا۔ اس کے علاوہ پھاتو جس قسم کے عشق میں گرفتار تھی،نہایت ہی ادنیٰ قسم کا تھا۔ جب سعید اس قسم کے عشق کا تصور کرتا تو پرانی عشقیہ داستانوں کی بوڑھی کٹنی پیلے کاغذوں کے بدبودار انبار میں سے اس کی آنکھوں کے سامنے لاٹھی ٹیکتی ہوئی آجاتی اور اس کے طرف یوں دیکھتی جیسے کہنا چاہتی ہے کہ میں آسمان کے تارے توڑ کر لاسکتی ہوں۔ بتا تیری نظر کس لونڈیا پر ہے۔ ۔ ۔ ۔ یوں چٹکیوں میں مَیں تجھ سے ملادوں گی۔
اس بُڑھیا کے تصور کے ساتھ وہ پائیں باغ کے متعلق سوچتا، یا ظاہر اپیر کامزار اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔ جہاں وہ بڑھیا اس کی مجبوبہ کو کسی بہانے سے لاسکتی تھی۔ ۔ ۔ اس خیال کے آتے ہی اسکی محبت کا سارا جذبہ سمٹ جاتا اور ایک ایسی قبر کی صورت اختیارکرلیتا ،جس پر سبزرنگ کا غلاف چڑھا ہوا ہو اور بے شمار ہار اس پر بکھرے ہوں۔۔۔۔۔
کبھی کبھی اسے یہ بھی خیال آتا،اگر کٹنی نا کام رہی تو کچھ دنوں کے بعد اس محلے سے میرا جنازہ نکلے گا اور دوسرے محلے سے میری محبوبہ کا یہ دونوں جنازے راستے میں ٹکرائیں گے اور دوتابو توں کا ایک تابوت بن جائے گا یاپھر عشقیہ داستانوں کے انجام کی طرح جب مجھے اور میری محبوبہ کو دفن کیا جائے گا تو ایک معجزہ رونما ہوگا اور دونوں قبریں آپس میں مل جائیں گی۔ وہ یہ بھی سوچتا کہ اگر وہ مرگیا اور اس کی محبوبہ کسی وجہ سے جان نہ دے سکی تو ہر جمعرات کو اس کی قبر پر نازک نازک ہاتھ پھول چڑھا یا کریں گے اور دیا بھی جلایا کریں گے بال کھول کر وہ اپنا سرقبر کے ساتھ پھوڑا کرے گی اور چغتائی ایک اور تصویر بنا دے گا ،جس کے نیچے یہ لکھا ہوگا:
ع : ہائے اس زُودپشیماں کا پشیماں ہونا
یا کوئی شاعر ایک اور غزل لکھدے گا۔ ایک زمانے تک تماش بین جسے کوٹھوں پر طبلے کی تھاپ کے ساتھ سنتے رہیں گے۔ اس غزل کے شعرا س قسم کے ہوں گے:
میری لحدپہ کوئی پردہ پوش آتا ہے
چراغ گورِ غریباں صبا بجھا دینا
ایسے شعر جب کبھی وہ کسی غزل میں دیکھتا تو اس نتیجے پر پہنچتا کہ عشق تو گورکن ہے جو ہر وقت کاندھے پر کدال رکھے عاشقوں کے لیے قبریں کھودنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس عشق سے وہ عشق کا مقابلہ کرتا،جس کا تصور اس کے ذہن میں تھا،ان میں زمین و آسمان کا فرق پاتا تو یہ سوچتا کہ یاتو اس کا دماغ خراب ہے یا وہ نظام ہی خراب ہے جس میں وہ سانس لے رہا ہے۔
سعید اگر کوئی دیوان کھولتا تو اُسے ایسا محسوس ہوتا کہ وہ کسی قصائی کی دُوکان میں داخل ہوگیا ہے۔ ہر شعر اُسے بے کھال کا بکرا دکھائی دیتا جس کا گوشت چربی سمیت بوپیدا کر رہا ہو،ہر بات زُبان پر ایک خاص ذائقہ پیدا کرتی ہے۔ جب وہ اس قسم کے شعر پڑھتا تو اُس کی زبان پر وہی ذائقہ پیدا ہو جاتا جو قربانی کا گوشت کھاتے وقت وہ محسوس کر تاتھا۔
وہ سوچتا جس صوبے میں آبادی کا چوتھا حصہ شاعر ہے اور ایسے ہی شعر کہتا ہے وہاں محبت ہمیشہ گوشت کے لوتھڑوں کے نیچے دبی رہے گی یہ مایوسی کسی نہ کسی وجہ سے ایک دوروز کے بعد غائب ہو جاتی اور وہ پھر نئی تازگی کے ساتھ اپنی محبت کے مسئلے پر غور وفکر کرنا شروع کر دیتا۔
نمبر ۸ زبیدہ عرف بیدی بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی لڑکی تھی۔ دُور سے دیکھنے پر گندھے ہوئے میدے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتی تھی۔ گلی کے ایک لڑکے نے اُس کو ایک بار آنکھ ماردی۔ بیچارے نے یوں اپنی محبت کی بسم اللہ کی تھی۔ لیکن اس کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ لڑکی نے اپنی ماں کو ساری رام کہانی سنائی،ماں نے اپنے بڑے لڑکے سے پوشیدہ طور پر بات چیت کی اور اُس کو غیرت دلائی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک آنکھ مارنے کے دوسرے روز شام کو جب عبدالغنی صاحب طبابت عرف حکمت سیکھ کر گھر واپس آئے تو ان کی دونوں آنکھیں سُوجی ہوئی تھیں،کہتے ہیں کہ زبیدہ عرف بیدی چق میں سے یہ تماشادیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ سعید کو چونکہ اپنی انکھیں بہت پسند تھیں، اس لیے وہ زبیدہ کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ عبدالغنی نے آنکھ کے پلکارے سے محبت کا آغاز کرنا چاہاتھا۔ سعید کو یہ طریقہ بازاری معلوم ہوتا تھا۔ وہ اگر اس کو اپنی محبت کا پیغام دینا چاہتا تو اپنی زبان استعمال کرتا جو دوسرے روز ہی کاٹ لی جاتی۔ عمل جراحی کرنے سے پہلے زبیدہ کا بھائی کبھی نہ پوچھتا کہ بات کیا ہے بس وہ غیرت کے نام پر چُھری چلادیتا۔ اس کو اس کا خیال کبھی نہ آتا کہ وہ چھ لڑکیوں کی عصمت برباد کر چکا ہے،جن کی داستاتیں وہ بڑے مزے سے اپنے دوستوں کو سنایا کرتا ہے۔
نمبر۹ جس کا نام اُسے معلوم نہیں تھا،پشمینے کے سوداگروں کے ہاں نو کر تھی،ایک بہت بڑا گھر تھا جس میں چاروں بھائی رہتے تھے۔ یہ لڑکی جو کشمیر کی پیداوار تھی ان چاروں بھائیوں کے لیے سردیوں میں شال کا کام دیتی تھی۔ گرمیوں میں وہ سب کے سب کشمیر چلے جاتے تھے اور وہ اپنی کسی دُور کی رشتہ دار عورت کے پاس چلی جاتی تھی۔ یہ لڑکی جو عورت بن چکی تھی،دن میں ایک دومرتبہ اس کی نظروں کے سامنے سے ضرور گذرتی تھی اور اس کو دیکھ کر وہ ہمیشہ یہی خیال کیا کرتا تھا کہ اس نے ایک عورت نہیں بلکہ تین چار عورتیں اکٹھی دیکھی ہیں۔ اس لڑکی کے متعلق جس کے بیاہ کے بارے میں اب چاروں بھائی فکر کر رہے تھے۔ اس نے کئی بار غور کیا،وہ اس کی ہمت کا بہت قائل تھا کہ وہ گھر کا سارا کام کاج اکیلی سنبھالتی تھی۔ اور ان چاروں سودا گربھائیوں کی فرداً فرداً خدمت بھی کرتی تھی۔
وہ بظاہر خوش تھی، ان چارسوداگر بھائیوں کو جن کے ساتھ اس کا جسم متعلق تھا وہ ایک ہی نظر سے دیکھتی تھی۔ اس کی زندگی جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایک عجیب وغریب کھیل تھا۔ جس میں چار آدمی حصہ لے رہے تھے ان میں سے ہر ایک کو یہ سمجھنا پڑتا تھا کہ باقی تین بیوقوف ہیں اور جب اس لڑکی کے ساتھ ان میں سے کوئی مل جاتا تو وہ دونوں مل کر یہ سمجھتے ہونگے کہ گھر میں جتنے آدمی رہتے ہیں سب کے سب اندھے ہیں،لیکن کیا وہ خود اندھی نہیں تھی۔ اس سوال کا جواب سعید کو نہیں ملتا تھا۔ اگر وہ اندھی ہوتی تو بیک وقت چار آدمیوں سے تعلقات پیدا نہ کرتی بہت ممکن ہے وہ ان چاروں کو ایک ہی سمجھتی ہو۔ کیونکہ مرد اور عورت کا جسمانی تعلق عام طور پر ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
وہ اپنی زندگی کے دن بڑے مزے سے گذارتی تھی۔ چاروں سوداگر بھائی اُسے چھپ چھپ کر کچھ نہ کچھ ضرور دیتے ہوں گے،کیونکہ جب مرد کسی عورت کے ساتھ کچھ عرصہ لُطف انگیز تخلیئے میں گذارتا ہے تو اس کے دل میں اُس کی قیمت ادا کرنے کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے،چونکہ یہ خواہش عام طور پر تخلیہ حاصل کرنے سے پہلے پیدا ہوتی ہے،اس لیے زیادہ بارآور ثابت ہوتی ہے۔
سعید اس کو اکثر بازار میں شہاب الدین کی دوکان پر کھیر کھاتے یا بھائی کیسر سنگھ میوہ فروش کی دوکان کے پاس پھل کھاتے دیکھتا تھا۔ اُسے ان چیزوں کی ضرورت تھی اور پھر جس آزادی سے وہ پھل اور کھیر کھاتی تھی اس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ ان کا ایک ایک ذرہ ہضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک بار جب سعید شہاب الدین کی دوکان پر فالودہ پی رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اتنی ثقیل شے کیسے ہضم کرسکے گا،وہ آئی اور چار آنے کی کھیر میں ایک آنے کی ربڑی ڈلو اکر دومنٹوں میں ساری پیلٹ چٹ کر گئی یہ دیکھ کر سعید کو رشک ہوا۔ جب وہ چلی گئی تو شہاب الدین کے ہونٹوں پر ایک میلی سی مسکراہٹ پیدا ہوئی اور اُس نے کسی کو بھی ،جو سُن لے، مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’
سالی مزے کر رہی ہے‘‘
یہ سُن کر اُس نے لڑکی کی طرف دیکھا جو کولہے مٹکاتی پھلوں کی دوکان کے پاس پہنچ چکی تھی اور شاید بھائی کیسر سنگھ کی داڑھی کا مذاق اُڑا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ہر وقت خوش رہتی تھی۔ اور اُس کو خوش دیکھ کر سعید کو بہت دُکھ ہوتا تھا۔ خدا معلوم کیوں اُس کے دل میں یہ عجیب و غریب خواہش پیدا ہوتی تھی کہ وہ خوش نہ رہے۔
سن تیس کے آغاز تک وہ اس لڑکی کے متعلق یہی فیصلہ کرتا رہا کہ اُس سے محبت نہیں کی جاسکتی۔

2

سن اکتیس کے شروع ہونے میں صرف رات کے چند برفائے ہوئے گھنٹے باقی تھے۔ سعید لحاف میں سردی کی شدت کے باعث کا نپارہا تھا۔ وہ پتلون اور کوٹ سمیت لیٹا تھا،لیکن اس کے باوجودسردی کی لہر اس کی ہڈیوں تک پہنچ رہی تھی۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی سبزروشنی میں جو سردی میں اضافہ ساکر رہی تھی، اُس نے زورسے ٹہلنا شروع کر دیا تاکہ دورانِ خون تیز ہو جائے۔
تھوڑی دیر یوں چلنے پھر نے کے بعد جب اُس کے اندر گرمی پیدا ہوئی تو وہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور سگریٹ سُلگا کر اپنا دماغ ٹٹولنے لگا۔ اُس کا دماغ بالکل چونکہ خالی تھا اس لیے اس کی قوتِ سامعہ بہت تیز تھی، کمرے کی ساری کھڑکیاں بند تھیں مگر وہ باہر گلی میں ہوا کی مدھم گنگنا ہٹ بڑی آسانی سے سُن رہا تھا۔
اس گنگناہٹ میں اُسے انسانی آوازیں سُنائی دیں۔ ایک دبی دبی چیخ دسمبر کی آخری رات کی خاموشی میں چابک کے اوّل کی طرح اُبھری پھر کسی کی اِلتجائیہ آواز لرزی وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس نے کھڑکی کی درز میں سے باہر کی طرف دیکھا۔
وہی۔ ۔ ۔ ۔ وہی لڑکی ،یعنی سوداگروں کی نوکرانی بجلی کی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی، صرف ایک سفید بنیان میں،بجلی کی سفید روشنی میںیوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے بدن پر برف کی ایک پتلی سی تہ جم گئی ہے۔ اس کی بنیان کے نیچے اس کی بدنما چھاتیاں ناریلوں کی طرف لٹکی ہوئی تھیں۔ وہ اس انداز میں کھڑی تھی،گویا ابھی ابھی کشتی سے فارغ ہوئی ہے،اس حالت میں دیکھ کر سعید کے مسناعانہ جذبات کو دھکا سا لگا۔
اتنے میں کسی مرد کی بھنچی ہوئی آواز آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کے لیے اندرچلی آؤ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی دیکھ لے گا تو آفت ہی آجائے گی۔ وحشی بلی کی طرح غرا کر لڑکی نے جواب دیا،نہیں آؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس ایک بار جو کہہ دیا کہ نہیں آؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب سے چھوٹے سوداگر کی آواز آئی:
’’
خدا کے لیے اونچے نہ بولو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی سن لے گا راجو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
تو اس کا نام راجو تھا۔
راجو نے اپنی لنڈوری چٹیا کو جھٹکادے کر کہا۔ ۔ ،’’سُن لے خدا کرے کوئی سُن لے۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر تم یونہی مجھے اندر آنے کے لیے کہتے رہے تو میں خود محلے بھر کو جگا کر سب کچھ کہہ دُوں گی۔ ۔ ۔ ۔ سمجھے؟‘‘
راجو سعید کو نظر آرہی تھی مگر جس سے وہ مخاطب تھی اُس کی نظروں سے اوجھل تھا۔
اُس نے بڑے سوراخ میں سے راجو کی طرف دیکھا تو اس کے بدن پر جھرجھری سی طاری ہوگئی۔ اگر وہ ساری کی ساری ننگی ہوتی تو شاید اس کے صنا عانہ جذبات کو اتنی ٹھیس نہ پہنچتی لیکن اس کے جسم کے وہ حصے ننگے تھے جو دوسرے مستور حصوں کو عریانی کی دعوت دے رہے تھے۔ راجو برقی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی۔ سعید کو ایسا محسوس ہوا کہ عورت کے متعلق اس کے تمام جذبات اپنے کپڑے اُتار رہے ہیں۔
راجو کی غیر متناسب با ہیں جو کاندھوں تک ننگی تھیں،نفرت انگیز طور پر لٹک رہی تھیں۔ مردانہ بنیان کے کھلے اور گول گلے میں سے اس کی نیم پخت ڈبل روٹی جیسی موٹی اور نرم چھاتیاں کچھ اس انداز سے باہر جھانک رہی تھیں گویا سبزی ترکاری کی ٹُوٹی ہوئی ٹوکری میں سے گوشت کے ٹکڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ زیادہ استعمال سے گھسی ہوئی پتلی بنیان کا نچلا گھیرا خود بخود اوپر کوسمٹ گیاتھا اور ناف کا گڈھا اس کے خمیرے آٹے جیسے پھولے ہوئے پیٹ پر یوں دکھائی دیتاتھا جیسے کسی نے اُنگلی کھبودی ہے۔
یہ نظارہ دیکھ کر سعید کے دماغ کا ذائقہ خراب ہوگیا۔ اُس نے چاہا کہ کھڑکی سے ہٹ کر اپنے بستر کی طرف چلا جائے اور سب کچھ بھول بھال کے سوجائے۔ لیکن جانے کیوں سُوراخ پر آنکھ جمائے کھڑا رہا۔ راجو کو اس حالت میں دیکھ کر اُس کے دل میں کافی نفرت پیدا ہوگئی تھی۔ شاید اسی نفرت کے باعث وہ اس سے دلچسپی لے رہاتھا۔
سوداگر کے سب سے چھوشے لڑکے نے جس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ ہوگی،ایک بارپھر التجائیہ لہجہ میں کہا۔ ۔ ۔ ۔ ’’راجو خدا کے لیے اندر چلی آؤ‘‘میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ پھر کبھی نہیں ستاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ لواب مان جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو خدا کے لیے اب مان جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تمہاری بغل میں وکیلوں کا مکان ہے ان میں سے کسی نے دیکھ لیا تو بڑی بدنامی ہوگی‘‘۔
راجو خاموش رہی لیکن تھوڑی دیر کے بعد بولی، مجھے میرے کپڑے لادو بس اب میں تمہارے یہاں نہیں رہوں گی۔ میں تنگ آگئی ہوں،میں کل سے وکیلوں کے ہاں نوکری کرلوں گی۔ ۔ ۔ سمجھے!اب اگر تم نے مجھ سے کچھ کہا تو خدا کی قسم شور مچا نا شروع کر دوں گی۔ میرے کپڑے چپ چاپ لاکردے دو۔
سوداگر کے لڑکے کی آواز آئی۔ ۔ ۔ ۔ لیکن تم رات کہاں کاٹو گی؟۔
راجو نے کہا جہنم میں۔ تمہیں اس سے کیا،جاؤ تم اپنی بیوی کی بغل گرم کرو میں کہیں نہ کہیں سوجاؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنسو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سچ مچ رورہی تھی۔
سُوراخ پر سے آنکھ ہٹا کر سعید پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ راجو کی آنکھوں میں آنسودیکھ کر اُسے عجیب قسم کا صدمہ ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صدمے کے ساتھ وہ نفرت بھی لپٹی ہوئی تھی جوراجو کو اس حالت میں دیکھ کر سعید کے دل میں پیدا ہوئی تھی۔ مگر غایت درجہ نرم دل ہونے کے باعث وہ پگھل ساگیا۔ راجو کی آنکھوں میں جو شیشے کے مرتبان میں چمکدار مچھلیوں کی طرح سدا متحرک رہتی تھیں،آنسو دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اُٹھ کر اُسے دلاسہ دے۔
راجو کی جوانی کے چار قیمتی برس سوداگر بھائیوں نے معمولی چٹائی کی طرف استعمال کیے تھے۔ ان برسوں پر چاروں بھائیوں کے نقشِ قدم کچھ اس طرح خلط ملط ہو گئے تھے کہ ان میں سے اب کسی کو اس بات کا خوف ہی نہیں رہا تھا کہ کوئی ان کے پیروں کے نشان پہچان لے گا اور’’راجو‘‘کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہ اپنے قدموں کے نشان دیکھتی تھی،نہ دوسروں کے،اسے بس چلتے جانے کی دھن تھی،کسی بھی طرف،مگر اب شاید اُس نے مُڑکر دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔ مُڑکر اُس نے کیا دیکھا تھا،جو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے؟۔۔۔۔ یہ سعید کو معلوم نہیں تھا۔
جو چیز معلوم نہ ہو اُس کو معلوم کرنے کی خواہش شاید ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ کرسی پربیٹھا سعید دیر تک اپنی معلومات کو اُلٹ پلٹ کر کے سوچتا رہا اور جب اُٹھ کر اُس نے کچھ اور دیکھنے کے لیے سُوراخ پر آنکھ جمائی تو راجو وہاں نہیں تھی۔ دیر تک وہ اس سوراخ پر آنکھ جمائے رہا،لیکن اُسے لالٹین کی برفیلی روشنی، گلی کے ناہموار فرش اور گندی موری کے سوا جس میں پالک کے بے شمار ڈنٹھل پڑے تھے اور کچھ نظر نہ آیا۔
باہر سن تیس کی آخری رات دم توڑ رہی تھی اور اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔
راجو کہاں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا اندرچلی گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا مان گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ مگر سوال ہے کہ وہ کس بات پر جھگڑی تھی؟۔
راجو کے کاپنتے ہوئے نتھنے ابھی تک سعید کو نظر آرہے تھے ضرور اس کے اور سوداگر کے چھوٹے لڑکے کے درمیان جس کا نام محمود تھا،کسی بہت بڑ ی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ جبھی تو وہ دسمبر کی خون منجمد کردینے والی رات میں صرف ایک بنیان اور شلوار کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔ اور اندر جانے کا نام تک نہیں لیتی تھی۔
جب سعید سوچتا کہ ان کے درمیان جھگڑے کی بناء۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ اس بناء پر غورہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کس قدر گھناؤ نامنظر اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا، لیکن وہ خیال کرتا کہ یہ بات جھگڑے کا باعث نہیں ہوگی کیونکہ وہ دونوں تو اس کے عادی تھے۔ ایک زمانہ سے راجوان سوداگر بھائیوں کو بڑے سلیقے سے ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھلارہی تھی۔ لیکن اب ایکار ایکی کیا ہو گیا تھا۔ راجہ کے یہ الفاط اس کے کانوں میں ضدی مکھی کی طرح بھنبھنا رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ جہنم میں۔ ۔ ۔ ۔ تمھیں اس سے کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاؤ تم اپنی بیوی کی بغل گرم کرو۔ ۔ ۔ ۔ میں کہیں نہ کہیں سوجاؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان الفاظ میں درد تھا۔
اس کو دُکھی دیکھ کر سعید کے ایک نامعلوم جذبے کو تسکین ضرورپہنچی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے دل میں رحم بھی پیدا ہوا تھا۔ کسی عورت سے اُس نے آج تک ہمدردی ظاہر نہیں کی تھی۔ وہ اس سے ہمدردی کا اظہار کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ وہ اس کو سہہ لیتی،اگروہ گلی کی کسی اور لڑکی سے ہمدردی کا اظہار کرتا تو ظاہر ہے،بہت بڑی آفت برپا ہوجاتی۔ کیونکہ اس کی ہمدردی کا مطلب کچھ اور ہی لیا جاتا۔ ۔ ۔ راجو کے سوا گلی کی تمام لڑکیاں ایسی زندگی بسر کر رہی تھیں جس میں ایسے لمحات بہت ہی کم آتے ہیں جب ان سے خاص قسم کی ہمدردی کی جاسکتی ہے اور اگر ایسے لمحات آتے ہیں تو فوراً ہی ان کے سینوں میں ہمیشہ کیلیے دفن ہو جاتے ہیں۔ اُمیدوں اور تمناؤں کی قبریں آکر بنتی ہیں تو فاتحہ پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی۔ یا اسکا موقعہ ہی نصیب نہیں ہوتا۔ اگر محبت کی کوئی چتا تیار ہوتی ہے تو آس پاس کے لوگ اس پر راکھ ڈال دیتے ہیں،کہ شعلے نہ بھڑکیں۔
سعید سوچتا کہ یہ کتنی تکلیف دہ مصنوعی زندگی ہے۔ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی زندگی کے گڑھے دوسروں کو دکھائے وہ لوگ جن کے قدم مضبوط نہیں ان کو اپنی لڑکھڑاہٹیں چھپانا پڑتی ہیں کیونکہ ان کا رواج ہے ہر شخص کو ایک زندگی اپنے لیے اور ایک دوسروں کے لیے بسر کرنا ہوتی ہے۔ آنسو بھی دوقسم کے ہوتے ہیں اور قہقہے بھی دوقسم کے،ایک وہ آنسو جوزبردستی آنکھوں سے نکالنے پڑتے ہیں اور ایک وہ جو خود بخود نکلتے ہیں۔ ایک قہقہہ وہ ہے جو تنہائی ہی میں بلند کیا جاسکتا ہے،دوسرا وہ ہے جو خاص آداب اور خاص اصولوں کے تحت حلق سے بُلند کرنا پڑتا ہے۔
شاعر جس کی ساری عمر کوٹھوں پر اور شراب کے ٹھیکوں میں گذری ہو موت کے بعد حضرت مولانا اور رحمتہ اللہ علیہ بنادیا جاتا ہے۔ اگر اس کی لائف لکھی جاتی تو اس کو فرشتہ ثابت کرنا سوانح نگار اپنا فرض سمجھتا ہے۔ آغا حشرؔ کی ساری زندگی کسبیوں میں گذری ،مگر موت کے فوراً بعد ہی اس کے سارے کر یکٹر کو دھوبی کے ہاں بھیج دیا گیا، جب وہاں سے واپس آیا اور لوگوں نے دیکھا تو اس میں کوئی داغ، کوئی شکن نہیں تھی۔
گدھے، گھوڑے، خچر، اُونٹ غرضیکہ ہر جاندار اور بے جان شے پر اخلاق مردتسمہ پا کی طرح سوارہے۔ ادب پر شاعری پر تاریخ پر ہرانسان کی گردن پر اخلاق بٹھا دیا گیا ہے۔ مہاتما گاندھی سے لے کر ماسٹر نثار گوئیے تک سب کے سب اخلاق زدہ ہیں۔ سعید حق بجانب تھا کہ راجو کی سد امتبسم آنکھوں میں آنسو نظر آئیں اور وہ ان آنسوؤں کو اخلاق سے بے پرواہ ہو کر اپنی اُنگلیوں سے چھوئے،وہ اپنے آنسوؤں کا ذائقہ اچھی طرح جانتا تھا، مگر وہ دوسروں کی آنکھوں کے آنسو بھی چکھنا چاہتا تھا،خاص کر کسی عورت کے آنسو! چونکہ عورت شجرِ ممنوعہ ہے اس لیے اس کی یہ خواہش اور بھی تیز ہوگئی۔
سعید کو یقین تھا کہ اگر وہ راجو کے قریب ہونا چاہے گا تو وہ جنگلی گھوڑی کی طرف بد کے گی نہیں۔ راجو غلاف چڑھی عورت نہیں تھی، وہ جیسی تھی دُور سے نظر آجاتی تھی۔ اُس کو دیکھنے کے لیے خوردبین یاکسی اور آلے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ بالکل شفاف تھی،اس کی بھدی اور موٹی ہنسی جوا کثراس کے مٹمیلے ہونٹوں پر بچوں کے ٹوٹے ہوئے گھرہوندے کی مانند نظر آتی تھی،اصلی ہنسی تھی۔ بڑی صحت مند اور اب کہ اس کی سدا متحرک آنکھوں نے آنسو اُگلے تھے تو ان میں کوئی مصنوعی پن نہیں تھا۔ راجو کو سعید ایک مدت سے جانتا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے چہرے کے خطوط تبدیل ہوئے تھے اور وہ غیر محسوس طریقے پر لڑکی سے عورت بننے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ اس کے اندر ایک کے بجائے تین چار عورتیں تھیں یہی وجہ ہے کہ چار سو داگر بھائیوں کو وہ ہجوم نہیں سمجھتی تھی۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہجوم سعید کو پسند نہیں تھا۔ اس لیے کہ ایک عورت کے ساتھ وہ صرف ایک مرد منسلک دیکھنے کا قائل تھا،مگر یہاں یعنی راجو کے معاملے میں اُسے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے درمیان رُک جانا پڑتا تھا،کیونکہ مختلف قسم کے خیالات اس کے دماغ میں جمع ہو جاتے،اور بعض اوقات اُسے غیرارادی طور پر راجو کو داد دینا پڑتی۔ یہ داد کس بات کی تھی،اس کے متعلق وہ یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس لیے کہ خیالات کی بھیڑ بھاڑ میں وہ اس جذبے کو پہچاننے سے ہمیشہ قاصر رہاتھا جو اس داد کا محرک ہوا کرتا تھا۔
گلی کے سب باشعور آدمی راجو کے متعلق جانتے تھے۔ ماسی مختوؔ گلی کی سب سے عمر رسیدہ عورت تھی۔ اس کا چہرہ ایسا تھا جیسے پیلے رنگ کے سوت کی اٹیاں بڑی بے پرواہی سے نوچ کر ایک دوسرے میں اُلجھا دی گئی ہیں۔ یہ بُڑھیا بھی جس کی آنکھوں کو بہت کم سجھائی دیتا تھا اور جس کے کان قریب قریب بہرے تھے،راجو سے چلم بھروا کر اُس کی غیبت میں اپنی بہو سے یا جو کوئی بھی اُس کے پاس بیٹھا ہو تو کہا کرتی تھی:’’اس لونڈ یا کو گھر میں زیادہ نہ آنے دیا کرو‘‘ ورنہ کسی روز اپنے خصموں سے ہاتھ دھو بیٹھوگی‘‘۔ یہ کہتے وقت شاید اس بُڑھیا کی تمام جھریوں میں اس کی گُم گشتہ جوانی کی یادرینگ جاتی تھی۔
راجو کی غیر حاضری میں سب اس کو بُرا کہتے تھے اور ان گناہوں کے لیے خدا سے معافی مانگتے تھے جو شاید آگے چل کر ان سے سرزد ہوجائیں۔ عورتیں جب راجو کا ذکر کرتیں تھیں تو اپنے آپ کو بہت بلند سیرت تصور کرتی تھیں۔
اور دل ہی دل میں یہ سوچ کر فخر محسوس کرتی تھیں کہ ان کے دم سے نسوانیت کا وقار قائم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
سب راجو کو بُرا سمجھتے تھے،لیکن عجیب بات ہے کہ اس کے سامنے آجتک کسی نے بھی نفرت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ بلکہ محبت پیار سے اس کے ساتھ پیش آتے تھے،شاید اس کا باعث وہی نام نہاد اخلاقی معیار ہو۔ مگر اس اچھے سلوک میں راجو کی خوش باش اور دوسروں کو ممنون کرنے والی طبیعت کو بھی کافی دخل تھا۔ سودا گروں کے گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر جب کبھی وہ کسی ہمسایہ کے ہاں جاتی تو وہاں بیکار گپ نہیں اُڑاتی تھی۔ کبھی کسی کے سر میں سے جوئیں نکال دیں۔ مٹھی چاپی کردی۔ بغیر کام کے دراصل وہ کہیں بیٹھ ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے موٹے اور بھدے ہاتھوں میں بلاکی پھرتی تھی اور اس کا دل جیسا کہ ظاہر ہے،ہروقت اس تلاش میں رہتا تھا کہ کسی کو خوش کرنے کا موجب ہو۔
راجو دوسروں کی خدمت میں کئی کئی گھنٹے صرف کرتی تھی مگر شاباش یاشکریہ کے الفاظ سننے کے لیے ایک منٹ بھی انتظار نہیں کرتی تھی،ماسی مختو کی چلم بھری،سلام کیا اور چلدی،مصنف صاحب کو بازار سے فالودہ لاکر دیا، اُن کے بچے کو تھوڑی دیر گود میں کھلایا اور چلی گئی، غلام محمد بیچہ بند کی بڑھیا دادی کی پنڈلیاں سہلائیں اور اس کی دُعائیں لیے بغیر چلدی۔
یہ گنٹھیاکی ماری بڑھیا،جو اپنی عمر کی ایسی منزل پر پہنچ گئی تھی،جہاں اس کا وجود ہونے یانہ ہونے کے برابر تھا،اور جسے غلام محمد حقے کا بیکار نیچہ سمجھتا تھا۔ راجو کے ہاتھوں ایک عجیب قسم کی راحت پاتی تھی۔ اس کی اپنی بیٹیاں اس کے پاؤں دابتی تھیں مگر ان کی مُٹھیوں میں وہ رس نہیں تھا جو راجو کے ہاتھو ں میں تھا۔ جب راجو اس کی پنڈلیاں سہلاتی تو وہ فرشتہ تصور کرتی مگر اس کے چلے جانے کے بعد فوراً ہی کہا کرتی ’’حرام زادی اس طرح پیردبادبا کر ان سوداگر بچوں کو پھانسہ ہوگا۔۔۔۔۔؟‘‘
خیالات کی روجانے سعید کو کہاں بہالے گئی۔۔۔۔۔ یکا یک وہ چونکا اور سُوراخ پر آنکھ جما کر اُس نے پھر باہر کی طرف دیکھا، بجلی کی روشنی گلی میں ٹھٹھررہی تھی۔ رات کی خاموش گنگناہٹ سُنائی دے رہی تھی،مگر راجو وہاں نہیں تھی!
اُس نے کھڑکی کا دروازہ کھولا اور باہر جھانک کر دیکھا۔ اس سرے سے اُس سرے تک رات کی سردخاموشی بہہ رہی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لالٹین کے نیچے کبھی کوئی کھڑا ہی نہیں تھا۔ پیلی روشنی میں عجیب قسم کی ویرانی گھلی ہوئی تھی۔ اس کا دل بھر آیا۔ اس کی زندگی اور افیون کھانے والے آدمیوں کے چہروں جیسی گلی میں کتنی مشابہت تھی۔
سعید نے کھڑکی کا دروازہ بند کردیا،سونے کی خاطر اُس نے لحاف اوڑھا تو ایک بار پھر سردی اس کی ہڈیوں تک پہنچنے لگی۔۔۔۔۔

3

نیاسال دھوپ تاپ رہاتھا۔ سعید ابھی تک بسترہی میں لیٹا تھا، صرف لیٹا نہیں تھا بلکہ گہری نیند سورہاتھا۔ اس لیے کہ رات بھر جاگتا رہا تھا۔ کہیں سات بجے کے قریب اُس کی آنکھ لگی تھی، یہی وجہ ہے کہ گیارہ بجنے پر بھی اُس نے جاگنے کا نام نہیں لیا تھا۔
سرہانے پڑی ہوئی ٹائم پیس نے بارہ مرتبہ ٹن ٹن کی مگر دھات کی اس آواز کی بجائے اس کے کانوں نے راجو کی آواز سُنی جیسے بڑی دُور سے آرہی ہے۔ وہ ایک دم جاگ پڑا۔ یوں ایکا ایکی بیدار ہونے پر ایسا محسوس ہوا جیسے وہ گھبرا کے اٹھا ہے اور اس کا ریشمی پا جامہ باوجود سنبھالنے کے نیچے پھسل گیا ہے اس کی ہلکی پھلکی نیند اسی بنڈے طریقے سے پھسل گئی تھی،اس بو کھلاہٹ میں اور بھی اضافہ ہو گیا،جب اُس نے راجو کو اپنے سامنے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ایک دم اُس کی نگاہیں کھڑکی کی طرف اُٹھیں،راجو کی طرف مُڑیں، وہاں سے دروازے کی جانب گھومیں اور پھر پھرا کر را جو پر جم گئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
راجو نے ٹائم پیس کی طرف دیکھا اور کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میاں جی ! بارہ بج گئے ہیں،بی بی جی آپ کو بلاتے ہیں،چائے تیار ہے!
یہ کہہ کر راجو نے ٹائم پیس اُٹھائی اور اس میں کوک بھرناشروع کردی۔ کوک بھرنے کے بعد اُس نے تپائی پر سے پانی کا گلاس اٹھایا اور چلی گئی۔۔۔
اس کا کیا مطلب ہے؟۔ ۔ ۔ کیا راجو سوداگروں کی نوکری چھوڑ کر یہاں آگئی ہے۔ سعید کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا بات ہے،اس کی ماں غائت درجہ رحمدل تھی،وہ جانتی تھی کہ راجو کا چال چلن اچھا نہیں مگر اس کے باوجود وہ اسے بُرا نہیں کہتی تھی۔ دل کا حال خدا بہتر جانتا ہے لیکن باطن سے جوکچھ عیاں تھا اس سے سعید نے یہی نتیجہ اخذکیا تھا،کہ اس کی ماں ایک خداترس عورت ہے خداترسی اس حدتک اس کے دل میں جاگزین تھی یااس حدتک اس نے خود پر طاری کر رکھی تھی کہ وہ کسی کو بُرا کہہ نہیں سکتی تھی۔ جب وہ سنتی کہ فلاں آدمی نے چوری کی ہے تو کہا کرتی، ’’بیچارے کو ضرورت نے مجبور کیا ہوگا۔‘‘
راجو کی بُرائیاں سُن کر اُس نے کئی بار کہاتھا،کسی نے آنکھ سے تواس کی بُرائیاں نہیں دیکھیں،کیا پتہ ہے کہ سب تہمتیں ہی ہوں۔۔۔ ۔اللہ سے ہروقت ڈرنا چاہیئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم خود بہت گناہ گارہیں۔
سعید کی ماں اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی گنا ہگار عورت سمجھتی تھی۔ ایک بار سعید نے مذاق مذاق میں اپنی ماں سے کہاتھا:بی بی جی !آپ ہر وقت کہتی رہتی ہیں،میں گنہگار ہوں،میں گنہگار ہوں! کہیں ایسانہ ہو فرشتے آپ کو سچ میچ گنہگار سمجھ کر دوز خ میں دھکیل دیں،ہاں یہ تو بتائیے ،کیا اس وقت بھی آپ یہی کہے جائیں گی،میں گناہگار ہوں،میں گنا ہگار ہوں!
اس کی ماں پانچ وقت باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھتی تھی، زکوٰۃ دیتی تھی غرضیکہ وہ تمام باتیں کرتی تھی جو گنہگاروں کو کرنی چاہئیں۔
سعید بہت دیر سوچ بچار کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا،چو نکہ میری ماں نمازپڑھنا اور روزے رکھنا پسند کرتی ہے اس لیے خواہ مخواہ اسے اپنے آپ کو گنہگار سمجھنا پڑتا ہے۔ اور چونکہ اب نماز روزے کی عادی ہوگئی ہے اس لیے ہر وقت گناہ کا خیال کرنا بھی اسکی عادت میں داخل ہوگیا ہے۔
سعید گناہ اور ثواب کے جھگڑے میں اپنے دماغ کو پھنسانے ہی والاتھا کہ اسے راجو کا خیال آیا جو ابھی ابھی اس کے کمرے سے باہر گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو باتیں ہو سکتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاتو وہ سوداگروں کی نوکری چھوڑ کر ہمارے یہاں چلی آئی ہے اور میری ماں نے ثوابوں میں ایک اور ثواب کا اضافہ کرنے کے لیے اسے اپنے پاس رکھ لیا ہے یا پھر سوداگروں ہی کے پاس ہے اور ویسے ہی اِدھر آنکلی ہے اور جیسا کہ اس کی عادت ہے شیشے کا گلاس اُٹھا کر لے گئی ہے۔ جوتپائی پر غیر ضروری سادکھائی دیتا تھا۔ مگر رات کا واقعہ؟۔۔۔۔۔ اس نے راجو کے چہرے پر سے اس واقعہ کے بجھے ہوئے نقش دیکھنے کی کوشش کی تھی،مگر وہ کوری سلیٹ کی طرف صاف تھا۔
ایک دم سعید کا دل بغیر کسی ناقابل بیان وجہ سے نفرت کے جذبات سے بھر گیا۔ اُسے راجو سے نفرت تھی۔ وہ اپنے حافظے کی تختی پر راجو کی تصویر کھینچتا تھا۔ ہمیشہ ان گھسمیلے رنگوں میں جو اُسے راجو کی زندگی میں نظر آتے تھے اسکی صنا عانہ طبیعت کو صدمہ پہنچتا تھا۔ جب راجو کے پُلو میں وہ چاروں مردوں کو بند ھا دیکھتا۔ گوشت اور چھچڑوں کی صورت میں ،اس سے بھی پہلے وہ کئی بار اسی فیصلے پر پہنچا تھا کہ اسے راجو سے نفرت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ چیز اُسے بہت ستاتی تھی کہ راجو کو اپنے آپ سے نفرت نہیں،وہ اپنے آپ سے بہت خوش تھی۔
ایک مرتبہ سعید سے ایسی حرکت سرزد ہوگئی تھی جو کمینگی کی حدتک بُری تھی۔
مگر جب اس کے ضمیر نے اس کو سرزنش کی تووہ کئی دنوں نہیں،کئی مہینوں تک اپنے آپ سے متنفررہا۔ اس کا خیال تھا کہ جس طرح لوگ بری حرکتوں پر دوسروں کو ملامت یانفرت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اسی طرح ایسے موقعوں پر وہ اپنے آپ سے بھی ایسا ہی سلوک کرتے ہیں،مگر راجو یا تو اپنے آپ سے بے خبر تھی یا اس کے اندر وہ حس ہی نہیں تھی جو ترازو کاکام دیتی ہے۔
اس لڑکی کے بارے میں سعید نے اسقدر سوچاتھا کہ اب مزید غور کرنے کے خیال ہی پر اسے بہت غصہ آتا تھا۔ وہ اسکے متعلق بالکل سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے کہ اس میں کوئی ایسی انوکھی بات ہی نہیں تھی جس پر غور کیا جاتا۔
وہ ایک نہایت ہی پست عورت تھی۔ سعید اُٹھ کھڑا ہوا اور اس انداز سے اُس نے راجو کو اپنے دماغ سے جھٹکا دیا،جیسے کسی گھوڑے نے اپنے جسم سے تمام مکھیاں ایک ہی جُھر جُھری کے ذریعے سے اُڑا دی ہیں۔ اُس نے اب خود کورت جگے کے اثرات کے باوجود تروتازہ محسوس کیا۔ ۔ ۔ ۔
سُورج کی کرنیں کھڑ کیوں کی درزوں میں سے پھنس پھنس کر کمرے کے اندرداخل ہو کر ایسی روشنی پیدا کر رہی تھیں جو شاعرانہ طور پر مصنوعی تھی۔۔۔۔
اُس نے کھڑکیاں نہ کھولیں اور تپائی کے پاس آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ ابھی وہ اپنے آپ کو کرسی میں آرام دہ طریق پر پھیلانے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ راجو نمودار ہوئی۔ کچھ کہے بغیر اُس نے ایک ایک کر کے سب کھڑکیاں کھولیں اور جھاڑ پونچھ شروع کر دی۔
سعید اس کی تمام حرکتیں غور سے دیکھتا رہا۔ راجو کے موٹے موٹے ہاتھوں کی جنبش میں کوئی نزاکت یا خوبصورتی نہیں تھی۔۔۔ شیشے کے پھولدان کو اُس نے اس طریقے،اسی انداز سے صاف کیا جس طرح لوہے کے قلمدان کو صاف کیا تھا۔ جھاڑن سے اُس نے تصویروں کی گرد پونچھی، آتشدان پر رکھی ہوئی تمام چیزیں صاف کیں مگر آواز پیدا کیے بغیر،وہ چلتی بھی تو اس کے قدموں کی چاپ سُنائی نہیں دیتی تھی۔ اور جب باتیں کرتی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر بول رُوئی کے نرم نرم گالوں میں لپٹا ہے کان کے پردوں سے اس کی آواز ٹکراتی نہیں تھی،صرف چھوسی جاتی تھی اس کی حرکت اس کی ہر آواز نے ربڑ سول جوتے پہن رکھے تھے۔ سعید اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔ نہیں! اُسے سُننے کی کوشش کرتا رہا۔
راجو نے گہرے سبزرنگ کا اُونی پل اور پہن رکھاتھا جو کہنیوں پر سے پھٹ رہا تھا۔
یہ پل اور غالباً سوداگر کے سب سے بڑے بیٹے نے اسے دیا تھا۔ اس کے نیچے گرم کپڑے کا کُرتہ تھا جس پر جگہ جگہ میل کے گول گول داغ تھے،کھادی کی شلوار زیادہ استعمال کے باعث شلوار کی صورت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ اُس نے اپنی ٹانگوں پر ایک گہرے رنگ کی چادر لپیٹ رکھی تھی۔ بہت زیادہ غورسے دیکھنے پر اُس کی شلوار کے پائینچے نظر آتے تھے جو اس قدر کھلے تھے کہ پیر بالکل غائب ہو گئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سعید اس کے پائینچوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ راجو مُڑی اور یہ کہہ کر اپنے کام میں مشغول ہوگئی:’’آپ کی چائے تیار ہے،بی بی آپ کی راہ دیکھ رہی ہیں۔‘‘
سعید کاجی نہیں چاہتا تھا کہ اس سے کلام کرے مگر جانے کیوں اس نے پوچھ لیا: چائے بنانے کے لیے ان سے کس نے کہا تھا؟
راجو نے پلٹ کر حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔ آپ نے۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ ہاں تیار کی جائے۔۔۔۔ سعید کرسی پر سے اُٹھ کھڑا ہوا،بغیر کسی جھجک کے اس نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صبح کی چائے ساڑھے بارہ بجے کون پیتا ہے،اب ناشتہ کروں گا تو دوپہر کا کھانا رات ہی کو کھاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور رات کا کھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راجو ہنس پڑی۔ ۔ ۔ رات کا کھانا صبح کو۔
سعید فوراً سنجیدہ ہوگیا۔ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ،جاؤ بی بی جی سے کہہ دو،میں چائے نہیں پیؤں گا،کھانا کھاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ کھانا تیار ہے کیا؟
راجو اپنے چہرے پر سے ہنسی کے پیداکر دہ اثرات کوشش کے باجود دُور نہ کر سکی۔ اُس کی سنجیدگی اُس رنگ کے مشابہ تھی جو ٹھنڈے پانی میں گھول کر اُونی کپڑے پر چڑھا یا جائے اور نہ چڑھے۔ اس نے آہستہ سے جواب دیا:
’’
جی ہاں تیار ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ابھی بی بی جی سے کہہ دیتی ہوں کہ آپ ناشتہ نہیں کریں گے،کھانا کھائیں گے،،یہ کہہ کر وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔
’’
دیکھو‘‘ (سعید نے اُسے روکا) بی بی جی سے یہ کہنا۔ ۔ ۔ ۔ کہ میں ناشتہ نہیں کروں گا،کھانا کھاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں رات بھر جاگتا رہا ہوں،سمجھ میں نہیں آتا میری نیند کو کیا ہوگیا تھا،گلی میں شور ہو تو مجھے نیند بالکل نہیں آتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رات باہر خدا معلوم کیا گڑبڑ ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں میں تو ناشتہ نہیں کروں گا البتہ چائے کی ایک پیالی پی لُوں گا اور اس کے بعد کھانا کھاؤں گا،یعنی کہ روز مرہ کے وقت پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بی بی جی کہاں ہیں؟۔ باورچی خانے میں ہیں یا اُوپر دُھوپ تاپ رہی ہیں،لیکن ٹھہرو میں خود معلوم کرلوں گا۔ ۔ ۔ لیکن تم تم ،یہاں کیا کررہی ہو،میرا مطلب یہ ہے کہ میرے کمرے کی چیزیں صاف کرنے کے لیے تم سے کس نے کہا تھا،یعنی تم یہاں کیسے آگئی ہو۔ ۔ ۔ ۔ تم تو سوداگروں کے یہاں تھیں۔
ایک ہی سانس میں سعید اتنی باتیں کہہ گیا اور چورنظروں سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔ سرخی کی ایک ہلکی سی جھلک اس کو نظر آئی تھی،جب اُس نے باہر گلی میں گڑبڑ کی طرف اشارہ کیاتھا، مگر اس کے بعد وہ اس کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ دیکھ سکا،البتہ ہنسی نے اس کے چہرے پر جو پھیلاؤ سا پیدا کردیاتھا،ابھی تک اُس کے باقیات نظر آ رہے تھے۔
راجو نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے سے باہر چلی گئی،جیسے اُس سے کچھ پوچھا ہی نہیں گیا۔ اس پر سعید کو بہت غصہ آیا۔ اس میں کوئی کشش نہیں کہ میں نے کچھ پوچھنے کے لیے اس سے باتیں نہیں کیں۔ لیکن،بلکہ یونہی غیرارادی طور پر کچھ کہتا چلاگیا ہوں،جس میں کوئی ربط نہیں تھا،مگر میری خواہش تھی،خواہش،کیا مجھے پورا یقین تھا کہ وہ گھبراجائے گی اور رات کا واقعہ اُس کے چہرے کے ہر مسام سے پھوٹ نکلے گا اگر یہ عورت ہے یا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا کیا ہے؟
سعید اس کے متعلق بالکل غور کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اسے سوچ بچا ر کرنا ہی پڑجاتا۔ یہ عورت اُس کی زندگی میں خواہ مخواہ داخل ہوتی چلی جا رہی تھی۔ یہ داخلہ سعید کو پسند نہیں تھا چنانچہ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اُسے اپنے مکان میں رہنے نہیں دے گا۔
جب وہ اپنی ماں سے باورچی خانے میں ملاتو راجو کے بارے میں ارادے کے باوجود کوئی بات نہ کرسکا۔ اس کی ماں نے جو سعید سے دیوانگی کی حد تک پیار کرتی تھی،چائے کی پیالی بنا کر کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیٹا رات تیرے دشمنوں کو نیند کیوں نہیں آئی۔ مجھے راجو نے ابھی کہا ہے کہ گلی میں کچھ گڑ بڑتھی،اس لیے تو سونہ سکا۔۔۔۔ میں نے تو کچھ بھی نہیں سُنا۔۔۔۔ میں کہتی ہوں اگر تو اِدھر میرے کمرے میں سوجایا کرے تو کیا ہرج ہے۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کئی کئی بار رات میں اُدھر تیری طرف آنا پڑتا ہے،میرے پاس سوئے گا تو یہ میری بے چینی تو دُور ہو جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لے بابا میں کچھ نہیں کہتی جہاں چاہے سو،اللہ تیرانگہبان رہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لے چائے پی!۔۔۔۔۔۔۔ میں تجھ سے کچھ نہیں کہتی۔۔۔۔۔
سعید دراصل راجو کے بارے میں کچھ کہنے والاتھا اور اس کی ماں نے سمجھا کہ وہ حسبِ معمول یہ کہے گا:
’’
بی بی جی! آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہوتی ہیں،میں اکیلاہی سونے کا عادی ہوں۔‘‘
چنانچہ وہ چپ ہو رہا اور اُدھر اُس کی ماں نے اُس کی ضد پر زیادہ بحث نہ کی۔ راجو چولہے کے پاس خاموش بیٹھی رہی۔۔۔۔۔‘‘

4

سعید کے گھر میں راجو کو نوکری کرتے ایک مہینہ گذر گیا مگر اس عرصے میں ارادے کے باوجود وہ اپنی ماں سے کچھ نہ کہہ سکا کہ اُسے نکال دیا جائے۔
اب فروری کا آغاز تھا۔ سردی آہستہ آہستہ گرمیوں میں حل ہو رہی تھی دن خوشگوار تھے،راتیں خوشگوار تر تھیں،پنجاب میں فروری کا مہینہ بہت سُہانا ہوتا ہے۔ صبح جب وہ سیر کو نکلتا تو ہلکی پھلکی خنک ہوا بہت دیر تک پیتا رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے ہرشے حسین نظر آتی۔۔۔۔۔۔۔،
انہی دنوں کا ذکر ہے ایک روز جب وہ کمپنی باغ کی سیر سے گھر واپس آیا تو اُسے اعضا شکنی محسوس ہوئی۔ بستر میں لیٹتے ہی اُسے بخار آگیا اور پھر زور کا زُکام ہوا۔ کہ اس کی ناک بے حس سی ہوگئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوسرے روز کھانسی شروع ہوئی،تیسرے روز سینے میں درد اور رفتہ رفتہ درجہ حرارت ایک سوپانچ تک پہنچ گیا۔ اُس کی ماں نے پہلے روزہی ڈاکٹر کو بُلوایا تھا مگر اُس کی دوا سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔
یہ عجیب ہے کہ جب سعید کو شدت سے بخار چڑھتا تو اُس کا ذہین غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتا۔ ایسی ایسی باتیں اُس کے دماغ میں آتیں جو ویسے کبھی سوچ ہی نہیں سکتا تھا۔ قوتِ فکر اس قدر تیز ہو جاتی اور طبیعت میں اتنی جولانی پیدا ہو جاتی کہ وہ گھبرا جاتا۔ بخار اُس کے دل و دماغ میں ایک نیازاویہ پیدا کردیتا جس کا تصور وہ معمولی حالت میں نہیں کرسکتا تھا۔ اُسے ایسا معلوم ہوتا کہ اُس کے تمام خیالات سان پرلگ کر نکیلے اور تیکھے ہوگئے ہیں۔
بخار کی حالت میں وہ دُنیا کے تمام مسائل پر غور کرتا،ایک نئی روشنی میں،ایک نئے انوکھے انداز میں وہ دنیا کی نکمی سے نکمی چیز پر غور کرتا۔ چیو نٹیوں کو اکٹھا کر کے وہ آسمان کے تاروں کے ساتھ چپکا دیتا۔ آسمان کے ستاروں کو توڑ کر زمین پر بکھیر دیتا۔
درجہ حرارت ایک سو پانچ ڈگری سے کچھ اُوپر ہوا تو سعید کا دماغ تاریخ کی ورق گردانی کرنے لگا۔ سینکڑوں اوراق آن کی آن میں اُلٹ گئے، تمام مشہور واقعات اوپر تلے اُس کے کھٹ کھٹ کرتے دماغ میں گذرگئے اور درجہ حرارت کچھ اُوپر چڑھا تو پانی پت کی لڑائیاں،تاج محل کی مرمریں عمارت میں گڈمڈہوگئیں اور قطب صاحب کی لاٹھ(مشہور تاریخی ہیرو) کے کٹے ہوئے بازو میں تبدیل ہوگئی۔ پھر آہستہ آہستہ چاروں طرف دُھندہی دُھند چھاگئی۔
ایک دم زور کادھماکہ ہوا اور اس دُھند میں سے محمود غزنوی برق رفتار گھوڑے پر سوار اپنے لشکر سمیت باہر نکلا۔۔۔۔ کئی اُونچے اُونچے پہاڑ کاٹے گئے،کئی وسیع وعریض میدان گھوڑوں کے سموں کے نیچے سے نکل گئے کئی پاٹ داردریا چشم زدن میں عبور ہو گئے۔۔۔۔ آخر کار محمود غزنوی کا گھوڑا سو منات کے جگمگ جگمگ کرتے مندر کے سنہرے پھاٹک کے سامنے رُکا۔ کھل جاسم سم۔۔۔۔۔ محمود غزنوی اندر داخل ہوا۔ ۔ ۔ ۔ کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک سونے کی مورتی کھڑی ہے۔ ۔ ۔ ۔ راجو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راجو کیسے ہو سکتی ہے۔ محمود غزنوی نے سوچا،راجو آج سے کئی سوسال پہلے کیا سونے کی مورتی تھی؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بکواس ہے۔ لیکن وہی آنکھیں تھیں،وہی موٹے موٹے مٹمیلے ہونٹ۔
محمود غزنوی نے گرز اُٹھا کر ایک بار پھر اُس طلائی مورتی کی طرف دیکھا جس کے اعضا راجو ہی کی طرح بھدے تھے۔ چھاتیاں بھی اُس کی ہی چھاتیوں کے مانند موٹی موٹی تھیں۔ محمود غزنوی نے سوچا نہیں نہیں یہ راجو کی مورتی نہیں،کالی ماتا کی ہے، کالی ماتا نہیں ہوگی تو کوئی اور دیوی ہو گی۔
محمود غزنوی للکارا۔۔۔ ’’مندر کے سارے پُجاری دوزا نو ہوگئے اور تمام زرو جواہر اُس کے آگے ڈھیر کر کے اِلتجا کی: مہاراجہ یہ سب مال و دولت لے لے لیکن اس سونے کی مورتی کی طرف نہ دیکھیں۔‘‘
محمود غزنوی نے پہلے زروجواہر کی طرف دیکھا،اُس کی آنکھیں تمتما اُٹھیں پھر اس نے سونے کی مورتی کی طرف دیکھا اور اُس کا دل دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ راجو۔ ۔۔۔۔ محمود غزنوی نے سوچا،یہ کم بخت راجو کہاں سے آگئی،اس کی سلطنت میں اس نام کی عورت کون تھی۔ ۔ ۔ ۔ کیا وہ اُسے جانتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا وہ اُس سے محبت کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کا خیال آتے ہی محمود غزنوی نے زور کا قہقہہ لگایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمود غزنوی اور محبت! محمود غزنوی کو اپنے غلام ایازؔ سے محبت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایازؔ ،راجو کیسے ہو سکتا ہے۔
محمود غزنوی نے ایک بار پھر سونے کی مورتی کی طرف دیکھا اور بُلند آواز میں پکارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’میں بُت شکن ہوں‘‘۔۔۔۔ ’’بت فروش نہیں‘‘ اور یہ کہہ کر اُس نے اپنا وزنی گرز اُٹھایا اور سونے کی مورتی پر پے درپے ضر بیں لگانا شروع کردیں۔ گرز جب پیٹ پر لگا تو وہ پھٹ گیا اور اُس میں سے شہاب الدین کی کھیراور فالودہ نکلنے لگا۔ محمود غزنوی نے جب یہ دیکھاتو گرز اُٹھا کر اپنے سر پر دے مارا۔
سعید کا سرپھٹ رہا۔ محمود غزنوی کے سر پر جو گرز پڑا تھا اُس کا دھماکہ اُس کے سرمیں گونج رہاتھا۔ جب اُس نے کروٹ بدلی تو چھاتی پر کوئی ٹھنڈی ٹھنڈی چیز رینگتی محسوس ہوئی۔ سومنات اور اُس کی سونے کی مورتی اُس کے دماغ سے نکل گئی۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ اُس نے اپنی گرم گرم آنکھیں کھولیں۔ راجو فرش پر بیٹھی پانی میں کپڑا بھگو بھگو کر اُس کے ماتھے پر لگا رہی تھی۔
جب راجو نے ماتھے پر سے کپڑا اُتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سعیدنے اُس کو پکڑ لیا اور اپنے سینے پر رکھ کر ہولے ہولے پیار سے اپنا ہاتھ اُس پر پھیرنا شروع کردیا۔ اُس کی سُرخ آنکھیں دو انگارے بن کر دیر تک راجو کی طرف دیکھتی رہیں، راجو اُس کی ٹکٹکی کی تاب نہ لاسکی اور ہاتھ چھڑا کر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔
اس پروہ بستر میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا’’راجو‘‘ راجو۔۔۔ اِدھر میری طرف دیکھ،محمود غزنوی۔ ۔ ۔ ۔ اس کا دماغ بہکنے ہی والا تھا کہ اُس نے قوتِ ارادی سے کام لیا اور محمود غزنوی کا خیال جھٹک کر کہنے لگا: ادھر میری طرف دیکھو،جانتی ہو،میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوں۔ بہت بُری طرح تمہاری محبت میں گرفتار ہوں۔ اُسی طرح میں تمہاری محبت میں پھنس گیا ہوں جس طرح کوئی دلدل میں پھنس جائے۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں تم کیا ہو۔۔۔۔ میں جانتا ہوں تم محبت کے قابل نہیں ہو،مگر میں یہ جانتے بوجھتے تم سے محبت کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ لعنت ہو مجھ پر۔ ۔ ۔ ۔ لیکن چھوڑوان باتوں کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر میری طرف دیکھو،خدا کے لیے مجھے تکلیف نہ دو،میں بخار میں اتنا نہیں پھنک رہا جتنا کہ تمہاری محبت میں پھنک رہا ہوں راجو۔ ۔ ۔ ۔ راجو۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ میں‘‘اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور اُس نے ڈاکٹر کمندلال بھاٹیہ سے کونین کے نقصانات پر بحث شروع کر دی۔
ڈاکٹر بھاٹیہ!میں آپ کو کیسے سمجھاؤں،یہ کونیں بہت زیادہ نقصان دہ چیز ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ عرصہ کے لیے ملیریا کے جراثیم مار دیتی ہے مگر نیچرل طور پر بیماری رفع نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ اس کی تاثیر بے حد خشک اور گرم ہے،میرے کان بند ہوگئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا دماغ بند ہوگیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دماغ اور کانوں میں سیاہی چوس کاغذ ٹھونس دیئے گئے ہیں۔ میں اب ہرگز کونیں کاٹیکا نہیں لگواؤں گا اور غزنوی بُت شکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سومنات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سومنات کی ایسی کی تیسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راجو۔ ۔ ۔ ۔ راجو تم سومنات نہیں جاؤ گی۔ ۔ ۔ ۔ میرے ماتھے پر ہاتھ رکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُف۔ ۔ ۔ یہ کیا بیہودگی ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ۔ میں میرے دماغ میں بے شمار خیالات آ رہے ہیں۔ بی بی جی !آپ چیران کیوں ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے راجو سے محبت ہے۔۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔۔ اُس راجو سے جوسوداگروں کے ہاں نوکر تھی۔۔۔۔ اور جواب آپ کے پاس ملازم ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ اس عورت نے مجھے کتنا ذلیل بنا دیا ہے۔ اس لیے کہ میں اس کے عشق میں گرفتار ہوں۔ یہ محبت نہیں خسرہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بخدا خسرے سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں،مجھے تمام ذلتیں برداشت کرنا ہوں گی،ساری گلی کا کوڑا اپنے سر پر اُٹھانا ہو گا۔ گندی موری میں ہاتھ ڈالنے ہوں گے۔ یہ سب کچھ ہو کے رہے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ ہو کے رہے گا۔ آہستہ آہستہ سعید کی آواز کمزور ہوتی گئی اور اُس پر غنودگی طاری ہو گئی۔ اُس کی آنکھیں نیم واہ تھیں، مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پلکوں پر بوجھ سا آپڑا ہے۔ راجو پلنگ کے پاس بیٹھی اس کی بے جوڑ ہذیانی گفتگو سنتی رہی مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایسے بیماروں کی کئی مرتبہ تیمارداری کر چکی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
بخار کی حالت میں جب اُس نے اپنی محبت کا اعتراف کیا تو راجو نے کیا محسوس کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے کہ اُس کا گوشت بھرا چہرہ جذبات سے بالکل عاری تھا۔ بہت ممکن ہے اُس کے دل کے گوشے میں سرسراہٹ پیدا ہوئی ہو۔ مگر چربی کی تہوں سے نکل کر یہ سرسراہٹ باہر نہ آسکی۔
اُس نے رومال نچوڑ کرتازہ پانی میں بھگویا اور اُس کے ماتھے پر رکھنے کے لیے اُٹھی۔ اب کی بار اُسے اس لیے اُٹھنا پڑا کہ سعید نے کروٹ بدل لی تھی، جب اُس نے آہستہ سے سعید کا سرادھر موڑکر اس کے ماتھے پر گیلا رومال جمایا تو اُس کی نیم وا آنکھیں یوں کھلیں جیسے لال لال زخموں کے منہ ٹانکے ادھڑ جانے پر کھل جاتے ہیں۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے راجو کے جھکے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا جس پر گال تھوڑے سے نیچے لٹک آئے تھے اور ایکدم اُسے اپنے دونوں بازوؤں میں جکڑ کر سعید نے اس زور سے اپنی چھاتی کے ساتھ بھنچا کہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی کڑکڑ بول اُٹھی۔ اُٹھ کر اُس نے راجو کو اپنی رانوں پر لٹادیا اور اُس کے موٹے اور گدگدے لبوں پر اس زور سے اپنے تپتے ہوئے ہونٹ پیوست کردئیے جیسے وہ گرم گرم لوہے سے ان کو داغنا چاہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
سعید کی گرفت اس قدر زبردست تھی کہ راجو کو شش کے باوجود خود کو آزاد نہ کرا سکی۔ اس کے ہونٹ دیر تک اس کے لبوں پر استری کرتے رہے پھر ہانپتے ہوئے دفعتاً اُس نے راجو کو ایک جھٹکے سے الگ کردیا اور اُٹھ کریوں بیٹھ گیا جیسے اس نے کوئی نہایت ہی ڈراونا خواب دیکھا ہے راجو ایک طرف سمٹ گئی،وہ سہم گئی تھی۔ اس کے لبوں پر ابھی تک اس کے پٹپری جمے ہونٹ رڑک رہے تھے۔
راجو نے اُس کی طرف کنکھیوں سے دیکھا تو وہ اس پر برس پڑا،تم یہاں کیا کررہی ہو،جاؤ جاؤ،یہ کہتے کہتے سعید نے اپنے سرکو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا،جیسے وہ گرپڑے گا،اس کے بعد وہ لیٹ گیا اور ہولے ہولے بڑبڑانے لگا۔ راجو مجھے معاف کردو،مجھے معاف کردو،مجھے کچھ معلوم نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اور کیا کر رہاہوں، بس صرف ایک بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے تم سے دیوانگی کی حدتک محبت ہے۔ ۔ ۔ ۔ اوہ میرے اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں مجھے تم سے محبت ہے،اس لیے نہیں کہ تم مجھ سے محبت کرنے کے قابل ہو، اس لیے نہیں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو،۔ ۔ ۔ پھر کس لیے۔ ۔ ۔ ۔ کاش کہ میں اس بات کا جواب دے سکتا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے کہ تم نفرت کے قابل ہو،تم عورت نہیں ہو،ایک سالم مکان ہو،ایک بہت بڑی بلڈنگ ہو،مجھے لیکن تمہارے سب کمروں سے محبت ہے،اس لیے کہ وہ غلیط ہیں۔ ٹُوٹے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ مجھے تم سے محبت ہے کیا یہ عجیب بات نہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ یہ کہہ کر سعید نے ہنسنا شروع کر دیا۔
راجو خاموش رہی،اس پر ابھی تک سعید کی گرفت اور اُس کے خوفناک بوسے کا اثر تھا۔ وہ اُٹھ کر کمرے سے باہر جانے کا ارادہ ہی کر رہی تھی کہ اُس نے پھر ہذیانی کیفیت میں بڑبڑا نا شروع کر دیا۔ راجو نے اُس کی طرف دھڑکتے ہوئے دل سے دیکھا۔ اُس کی آنکھیں نیم واتھیں اور وہ کسی غیر مرئی آدمی سے باتیں کررہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ تم ظالم ہو۔ ۔ ۔ ۔ انسان نہیں حیوان ہو،مان لیا کہ وہ بھی تمہاری طرف حیوان ہے، مگر پھربھی عورت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عورت اگر پاش پاش بھی ہو جائے ،جب بھی عورت رہتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن تم یہ باتیں کبھی نہیں سمجھو گے۔ بھینس میں اور عورت میں تم کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ لیکن خدا کے لیے جاؤ اور اُسے اندر لے آؤ باہر سردی میں کپڑوں کے بغیر اس کا سارا خون جم گیا ہوگا۔ میں پوچھتا ہوں آخر اس کے ساتھ تمہاری لڑائی کس بات پر ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لالٹین کے نیچے وہ صرف تمہارا بنیان پہنے کھڑی ہے اور تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لعنت ہوتم پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو،راجو عورت ہے۔ ۔ ۔ ۔ پشمینے کا تھان نہیں جسے تم چرخ چڑھاتے رہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
پہلی مرتبہ راجو کو معلوم ہوا کہ اُس رات والے واقعہ سے بی بی کالڑکا واقف ہے۔ چنانچہ وہ دہشت زدہ ہوگئی۔ لوگ اس کے اور چار سوداگر بھائیوں کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے تھے،مگر وہ جانتی تھی کہ کسی نے بھی اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا۔ اُس لیے وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوتی تھی لیکن اب یہاں اس کے سامنے بسترپر وہ آدمی لیٹا تھا جو کہ بہت کچھ دیکھ اور سن چکاتھا۔ اس آدمی کے متعلق آج تک اُس نے غورنہیں کیاتھا۔ وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ میاں غلام رسول مرحوم کا یہ لڑکا کسی سے بھی زیادہ باتیں نہیں کرتا اور سارادن اپنی بیٹھک میں موٹی موٹی کتابیں پڑھتے رہنا اس کا شغل ہے اور بس،گلی کے دوسرے لڑکوں کے بارے میں ہر روز نئی نئی باتیں سنتی تھی لیکن اُس کے متعلق اس نے تقریبا یہی سُنا تھا کہ بڑا بدمزاج ہے۔ اور میاں غلام رسول مرحوم سے بھی زیادہ اسے اپنے خاندانی ہونے پر گھمنڈ ہے،اس کے سوا وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ مگر آج اُسے معلوم ہوا کہ وہ اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے اور ،اور اس سے محبت بھی کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
اس کی محبت کا نکشاف راجو کے لیے تکلیف دہ نہیں تھا۔ اُس کو دراصل یہ بات بڑی تکلیف پہنچا رہی تھی۔ اُس نے سب کچھ دیکھ لیا،یہ بڑی شرم کی بات تھی،چنانچہ اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ بی بی جی کا لڑکا وہ تمام واقعہ بھول جائے۔ اُس نے تھوڑی دیر اپنے دماغ پر زور دیاا ور آخر کار ایک طریقہ سوچ کر اُس نے کہنا شروع کیا: خداقسم۔ ۔ ۔ ۔ اللہ قسم۔ ۔ ۔ پیر دستگیر کی قسم یہ سب جھوٹ ہے، میں مسجد میں قرآن اُٹھانے کے لیے تیار ہوں کہ جو کچھ آپ سمجھتے ہیں،بالکل غلط ہے،میں نے اپنی مرضی سے سوداگروں کی نوکری چھوڑدی ہے۔ وہاں کام بہت زیادہ تھا اور اس روز رات کو بھی اس بات کا جھگڑا تھا،میں دن رات کیسے کام کرسکتی ہوں۔ چار نوکروں کا کام ،مجھ اکیلی جان سے کیسے ہو سکتا ہے،میاں جی۔
سعید بخار میں بے ہوش پڑاتھا۔ راجو جب اپنے خیال کے مطابق تمام ضروری باتیں کہہ چکی تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا،لیکن اُس نے سوچا کہ ایک ہی سانس میں اُس نے جتنی جھوٹی قسمیں کھائی ہیں،شاید ناکافی ہیں چنانچہ اُس نے پھر کہا:’’میاں جی پاک پروردگار کی قسم۔۔۔۔۔۔ مرتے وقت مجھے کلمہ نصیب نہ ہو اگر میں جھوٹ بولوں۔۔۔۔۔ یہ سب بہتان ہے،میں کوئی ایسی ویسی تھوڑی ہوں،مجھ سے زیادہ کام نہیں ہوسکتا تھا،اس لیے میں نے ان کو چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب اتنی سی بات کا بتنگڑ بن جائے تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔‘‘
یہ کہنے کے بعد اس نے گویا اپنافرض ادا کردیا اور قریب تھا کہ کمرے سے باہر چلی جائے کہ سعید نے آنکھیں کھولیں اور پانی مانگا۔ راجو نے بڑی پھرتی سے پانی کا گلاس اُس کے ہاتھ میں دے دیا اور واپس ہی کھڑی رہی تاکہ گلاس واپس لے کر اسے تپائی پر رکھ دے۔
ایک ہی گھونٹ میں گلاس کا سارا پانی پینے کے بعد اس کی پیاس کو تھوڑی بہت تسکین ہوئی،خالی گلاس راجو کے ہاتھ میں دے کر اُس نے نگاہیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا،کچھ کہنا چاہا مگر خاموش ہوگیا اور تکیئے پر سررکھ کر لیٹ گیا!
اب وہ ہوش میں تھا۔ اُس نے بڑی سنجیدگی اور متانت سے راجو کو مخاطب کیا:’’راجو‘‘
راجو نے دبے ہوئے لہجے میں جواب دیا:’’جی‘‘
’’
دیکھو،بی بی جی کو یہاں بھیج دو‘‘
یہ سُن کر راجو نے خیال کیا کہ وہ بی بی جی کو رات کی ساری داستان سُنانا چاہتا ہے،چنانچہ اس نے پھر قسمیں کھانا شروع کیں:’’میاں جی! قرآن مجید کی قسم۔ ۔ ۔ ۔ اللہ پاک کی قسم،اور کوئی بات نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ میرا ان سے صرف اسی بات پر جھگڑا ہوا تھا کہ میں زرخرید لونڈی نہیں کہ دن رات کام کرتی رہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے میری زبان سے اس کے سوا اور کیا سُنا تھا؟
سعید نے بستر پر بڑی مشکل سے کروٹ بدلی۔ ٹھنڈے پانی نے اس کے تمام جسم میں ایک کپکپاہٹ سی دوڑادی تھی۔ راجو کی طرف حیرت سے دیکھ کر اُس نے پوچھا:’’کیا کہہ رہی ہوتم‘‘ پھر فوراً ہی جب اُسے خیال آیا کہ ہذیانی کیفیت میں اُس سے بے شمار باتیں کر چکا ہے اور اپنی محبت بھی اس پر ظاہر کر چکا ہے۔ تو اُسے اپنے آپ پر بہت غصہ آیا۔ ملیریا کے باعث اُس کے منہ کا ذائقہ بہت خراب ہوگیا تھا۔ اب اس غلطی کے احساس نے اُس کے منہ میں اور زیادہ کسیلاپن پیدا کردیا اور اُس کو اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔
’’
مجھے راجو سے باتیں نہیں کرنا چاہئیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راجو پر اپنی محبت کا اظہار تو قطعی طور پر کرنا نہیں چاہیے تھا، اس لیے کہ وہ اس کی اہل ہی نہیں۔ میں نے راجو کو اپنے دل کا راز نہیں بتایا بلکہ اپنے تمام وجود کو ایک گندی موری میں پھینک دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیم بے ہوشی کے عالم میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی،لیکن اگر میں کوشش کرتا تو جذبات کے دھارے کو روک سکتا تھا۔ مگر مجھ میں اتنی طاقت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر افسوس کہ اس بات کا خیال ہی نہ آیا۔ اور میں بکتا چلاگیا‘‘۔
جو کچھ وہ راجو سے کہہ چکاتھا۔ اُس کا لفظ لفظ تو سعید کو یا د نہیں تھا، لیکن وہ سوچ سکتا تھا کہ اُس نے کیا کہا ہو گا۔ وہ اس سے پہلے عالم خیال میں راجو سے کئی مرتبہ گفتگو کر چکا تھا۔ اور ہر بار ندمت محسوس کر چکاتھا مگر اب وہ سچ مچ اس سے ہمکلام ہواتھا۔ اور اس پر اپنی محبت بھی ظاہر کر چکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ اس کو وہ راز بتا چکا تھا جس سے وہ خود کو بھی غافل رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ یہ سعید کی زندگی کا عظیم ترین حادثہ تھا۔
راجو سامنے کھڑ ی تھی۔ ملیریا اپنے برفیلے ہاتھ پھر اس کے جسم پر پھیر رہا تھا۔ ایک نہایت ہی ناگوار کپکپاہٹ اُس کے رگ وریشہ کے اندر کنکھجورے کی مانند رینگ رہی تھی۔ اور اُس کے دل میں ایسی تلخی پیدا ہورہی تھی، جو اُس نے اِس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دم اُسے اتنا بخار چڑھے کہ بیہوش ہو جائے تاکہ جو کچھ ہو چکا ہے اُس کا احساس کچھ عرصے کے لیے اُس سے دُور رہے۔
بڑی مشکل سے اُس نے خود کو راجو سے یہ کہنے پر آمادہ کیا:
’’
جاؤ بی بی جی کو یہاں بھیج دو۔ ۔ ۔ ۔ میں یہاں مررہا ہوں،کچھ میرا تو خیال کریں۔ اس پر راجو نے ہولے سے کہا: آپ ہی کے لیے سونفل پڑھ رہی ہیں،میں جاکر دیکھتی ہوں ختم ہوئے ہیں کہ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ،،
جاؤ ۔۔۔۔۔ خدا کے لیے جاؤ۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر سعید نے لحاف اپنے منہ پر بھی اوڑھ لیا اور سردی کی شدت کے باعث جو ملیریا کے تازہ حملے کا نشان تھی،زور زور سے کانپنا شروع کردیا۔
راجو کمرے سے باہر چلی گئی۔

5

’’سردی چونکہ بہت شدت کی تھی‘‘
اس لیے بداحتیاطی کے باعث سعید کو نمونیہ ہو گیا اور اس کی حالت بہت نازک ہو گئی۔ اس کی ماں بیچاری کیا کرسکتی تھی۔ دن رات دعا ئیں مانگنے میں مصروف رہتی اور اپنے بیمار بیٹے کے پاس بیٹھی رہتی۔ راجو نے بھی تیمار داری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ مگر بجائے آرام کے اُس کی خدمت سے مریضِ روحانی اذیت محسوس کرتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
سعید کے دل میں کئی مرتبہ آئی کہ اپنی ماں سے صاف صاف لفظوں میں کہہ دے کہ راجو کی موجودگی پسند نہیں کرتا،مگر کوشش کے باجود ایسا نہ کر سکا،چنانچہ اس اذیت میں جوکہ وہ محسوس کر رہا تھا،اُس شکست کے باعث اور بھی اضافہ ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔
ڈاکٹر کمندلال بھاٹیہ نے یہ رائے دی تھی کہ اُسے ہسپتال میں داخل کر دیا جائے تو ٹھیک رہے گا۔ وہاں پر تیمارداری بھی اچھی طرح ہوسکے گی، اور دوا وغیرہ بھی وقت پر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ضرورت کے وقت اچھے سے اچھا ڈاکٹربھی مل سکے گا لیکن اس کی ماں رضا مند نہیں ہوتی تھی۔ ہسپتال سے اُسے سخت نفرت تھی۔ لیکن جب اُس کے چہیتے بیٹے نے خود ہسپتال داخل ہونے پر اصرار کیا تو وہ دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہو گئی۔ اُس نے اپنے بیٹے کی آج تک کوئی بات نہیں ٹالی تھی۔ چنانچہ نمونیہ ہونے کے دوسرے روز ہی ڈاکٹر کمندلال بھاٹیہ اُسے بڑی احتیاط سے سول ہسپتال میں لے گیا اور وہاں اسپیشل وارڈ میں داخل کرادیا۔ ۔ ۔ ۔ ،
ہسپتال میں سعید چند دنوں کے اندر اندر ہی ٹھیک ہوگیا۔ نمونیہ کا حملہ کافی زبردست تھا مگر وہ بچ گیا اور بخار وغیرہ بھی دُور ہو گیا۔ ہسپتال کے کمرے میں جس کی ہر چیز سفید تھی، اُس کو روحانی تسکین حاصل ہوئی۔ چونکہ راجو وہاں نہیں تھی، اس لیے اُس کے دل پر جو بوجھ سا آپڑا تھا،بہت حدتک ہلکا ہوگیا اور وہ مکمل صحت کی بڑی شدت سے خواہش کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ طے تھا کہ گھر میں نہیں رہے گا،جہاں راجو موجود تھی،وہ اس عورت کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ اس کو دیکھ کر اُس کے دل ودماغ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوجاتی تھی جس سے وہ پہلے بالکل نا آشنا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اُس کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہوگیا تھا،مگر وہ اس محبت کو بالکل دبا دینا چاہتا تھا۔
ظاہر ہے کہ یہ کا م بہت مشکل تھا مگر وہ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری پوری کوشش کر رہا تھا اور اُس نے خود کو اس دوران میں۔ ۔ آہستہ آہستہ اس بات کا یقین بھی دلایا تھا کہ راجو کو بھول کر وہ ایک ایسے معر کے کاکام کرے گا جو آج تک کوئی نہیں کرسکا۔
ہسپتال میں داخل ہونے کے آٹھویں روز کمزوری اور نقاہت کے باوجود سعید بہت تروتازگی محسوس کر رہاتھا۔ صبح سویرے جب سفید پوش نرس نے اُس کا ٹمپریچر لیا تو اس نے مسکرا کر کہا: ’’نرس، میں تمہارا بہت ممنون ہوں۔ تم نے میری بہت خدمت کی ہے۔ کاش میں اس کا صلہ تم سے محبت کر کے دے سکتا‘‘۔ اینگلو انڈین نرس کے لبوں پر ایک باریک مسکراہٹ پھیل گئی۔ آنکھوں کی پتلیاں نچا کر اُس نے کہا: ’’تو کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔ کرو‘‘
اُس نے بغل سے تھر مامیٹر نکال کر نرس کو دیا اور جواباًکہا:’’میں اپنے دل کے کواڑ ہمیشہ کیلیے بند کر چکا ہوں۔ تم نے اُس وقت دستک دی ہے جبکہ صاحب خانہ ہمیشہ کے لیے اپنی کو ٹھڑی میں سوگیا ہے۔ مجھے اس کا افسوس ہے۔ تم اس قابل ہو کر تم سے آئیڈو فارم کے تیز بُوسمیت محبت کی جائے،مگر اٹ از ٹولیٹ مائی ڈیر!‘‘
نرس ہنس پڑی اور یوں معلوم ہوا کہ ہار کا دھاگہ ٹُوٹنے سے موتی ادھراُدھر بکھر گئے ہیں۔ اس کے دانت بہت سفیدا ور چمکیلے تھے۔۔۔۔۔
سعید نرسوں کی کمزوری سے واقف تھا چنانچہ اُس نے بڑے پُر لُطف انداز میں کہا: ’’نرس تم ابھی پوری طرح جوان کہاں ہوئی ہو۔ ۔ ۔ ۔ شباب آنے دو،ایک چھوڑپوری درجن محبتیں تمہارے اردگرد چکر لگانا شروع کر دیں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس وقت مجھے ضروریاد کرلینا،جس نے ہسپتال کے اس کمرے میں ایک بار تمہاری پنڈلیوں کی تعریف کی تھی۔ اور کہا تھا۔ اگر چار ہوتیں تو میں اپنے پلنگ میں پایوں کی بجائے لگوالیتا۔
نرس نے تختی پر ٹمپریچر نوٹ کیا اور ’’یو نوٹی بوائے‘‘ کہہ کر اپنی پنڈلیوں کی طرف داد بھری نگاہوں سے دیکھتی ہوئی باہر چلی گئی۔
سعید بہت خوش تھا یایوں سمجھیے کہ وہ اپنے آپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہاتھا۔ دراصل وہ راجو کو کسی نہ کسی حیلے سے بھول جانا چاہتا تھا۔ کئی بار اُس کو اِس گفتگو کا خیال آتا، جو اُس نے بخار کی حالت میں اُس سے کی تھی۔ مگر فوراً ہی دوسرے خیالوں کے نیچے اُسے دبا دیتا۔
ہسپتال میں اب اُسے مزید چار روز رہنا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نمونیہ اور ملیریا نے اس کی بہت سی طاقت لُوٹ لی تھی۔ مگر اسے اپنی کمزوری کا باکل خیال نہیں تھا۔ بلکہ اُلٹا خوش تھا۔ اب اُسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بہت ساغیر ضروری بوجھ اس پر سے اُٹھ گیا ہے۔ خیالات میں اب وہ پہلا سا کھچاؤ نہیں تھا اور نہ پراگندگی ہی تھی۔ بخاراور نمونیہ نے فلٹر کا کام دیا تھا وہ محسوس کر تاتھا کہ اب اس میں وہ بھاری پن نہیں رہا جو اُسے پہلے تنگ کر تا رہا ہے۔ بخار نے اُس کے نو کیلے جذبات کو گھسادیا تھا،اس لیے اب اُسے چبھن محسوس نہیں ہوتی تھی!
دماغ بالکل ہلکا تھا۔ باقی اعضا بھی ہلکے پھلکے ہوگئے تھے۔ جس طرح دھوبی میلے کپڑے کو پھٹک پھٹک اُجلاکرتا ہے۔ اسی طرح بخار نے اچھی طرح جھنجوڑ کر نچوڑ کر اس کا سارا میل نکال دیا تھا۔
جب نرس اپنی پنڈلیوں کی طرف دیکھتی ہوئی باہر نکلی تو سعید دل ہی دل میں مسکرایا۔ پھر اُس نے سوچا نرس کی پنڈلیاں واقعی خوبصورت ہیں۔ دوسرے مریضوں کے لیے ایسے چاردن گذارنابہت مشکل تھا۔ مگر سعید نے بڑے مزے سے یہ دن کاٹے۔ شام کو اُس کے دوست آجاتے تھے اُن سے وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہتا۔ صبح کو اُس کی ماں آتی جو اپنی مامتا سے اُس کا دل خوش کر جاتی، دوپہر کو سورہتا اور بیچ میں جب اُس کے پاس کوئی نہ ہوتا تو رسالے پڑھتا رہتا جن کا انباراب کھڑکی کی سل پر جمع ہوگیا تھا۔
جب اُس کے رخصت ہونے کا وقت آیا تو ڈاکٹر،نرس،خدمتگار اور ہسپتال کے ایک دو اور ملازمین اُس کے کمرے میں جمع تھے۔ دو بھنگی انعام لینے کے لیے کھڑے تھے۔ باہر پھاٹک پرتانگہ کھڑا تھا۔ جس میں اُس کا ملازم غلام نبی بیٹھا انتظار کر رہاتھا۔ جیسے وہ لندن جا رہا ہے یالندن سے واپس آ رہا ہے اور اس کے دوست احباب اس کو خیر باد کہنے یا اس کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہیں۔
نرس اُس سے بار بار کہہ رہی تھی:’’آپ نے اپنی سب چیزیں یاد سے اٹیچی میں رکھ لی ہیں نا؟‘‘ اور وہ بار بار اس کا جواب دے رہا تھا۔
’’
جی ہاں!رکھ لی ہیں‘‘۔
نرس پھر کہتی تھی:’’وہ آپکی گھڑی کہاں ہے۔ ۔ ۔ دیکھیے گدے کے نیچے ہی نہ پڑی رہے؟‘‘
اس پر اُسے کہنا پڑتا:’’میں نے گھڑی اُٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لی ہے‘‘ اور آپ کا فونٹن پن؟‘‘
’’
وہ بھی میری جیب میں ہے‘‘
اور آپ کی عینک؟
’’
وہ بھی میری ناک پر ہے،آپ اطمینان کر سکتی ہیں‘‘۔
اس پر نرس مسکرادیتی۔
نرس نے سعید کی بہت خدمت کی تھی جیسے ننھے منے بچے کا کوئی خیال رکھتا ہے،اسی طرح وہ سعید کا خیال رکھتی تھی، اور اب کہ وہ ہسپتال سے جا رہا تھا۔ وہ اس کویوں رخصت کر رہی تھی،جیسے ماں بچے کو سکول بھیجتی ہے اور اس کے دروازے سے باہر نکلنے تک کبھی اس کی ٹوپی ٹھیک کرتی رہتی ہے یاکبھی اُس کی قمیص کے بٹنوں کو بند کرتی رہتی ہے۔ نرس کی اس قسم کی خدمت نے اُس پر بہت اثر کیا تھا،یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ پُر لُطف طریقے پر گفتگو کرتا تھا۔
جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوگیا تو سعید نرس سے مخاطب ہوا۔
’’
نرس! دیکھنا میری ٹائی کی ناٹ کیسی ہے؟‘‘
نرس نے ٹائی کی گرہ کی طرف دیکھا،مگر فوراً ہی سمجھ گئی کہ اُس سے مذاق ہو رہا ہے۔ چنانچہ مسکرادی۔ ۔ ۔ ۔ بالکل ٹھیک ہی ہے،مگر آپ اپنا آئینہ یہیں بھولے جا رہے ہیں۔
یہ کہہ کر وہ کمرے کی آخری کھڑی کی طرف بڑھی جس کے پاس ہی لوہے کا نعمت خانہ رکھا تھا۔ اُسے کھول کر اُس نے آئینہ نکالا اور سعید کے اٹیچی کیس میں رکھ کر کہا:’’کیوں جناب ایک چیز تو آپ بھول ہی گئے تھے نا۔۔۔۔۔‘‘
اس پر سعید نے کہا: ’’اب مجھے کیا معلوم کہ آئینے بھی پھلوں اور دُودھ کی طرح نعمت خانے میں رکھے جاتے ہیں۔ میں نے اُسے وہاں نہیں رکھا۔۔۔ آپ نے کبھی اس کی مدد سے اپنے ہونٹوں پر سُرخی لگائی ہو گی اور وہ بھی اس وقت جبکہ میں سورہا ہوں گا۔
اِس قسم کی پُرلُطف باتوں کے بعد اس نے ڈاکٹر سے ہاتھ ملایا۔ چند کاغذات پر دستخط کیے۔ نرس وغیرہ کا شکریہ ادا کیا اور خیراتی بکس میں کچھ روپے ڈال کر اُس کمرے سے باہر نکل آیا جہاں اُس نے پورے پندرہ روز بیماری کی حالت میں گزارے تھے۔
جب باہر سڑک کی جانب نکلاتو اُس نے ایسے ہی مڑکر اپنے پیچھے دیکھا جدھر اُس کے کمرے کی کھڑکیاں کھلتی تھیں۔ تین کھڑکیاں بند تھیں مگر ایک کھلی تھی ،جس میں سے نرس جھانک رہی تھی۔ جب ان دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو نرس نے اپنا ننھا سا رومال لہرایا اور کھڑکی بند کر دی۔۔۔۔۔ اس کے دوست عباس نے جب یہ تماشہ دیکھا تو آنکھ مار کر رشید سے کہا:
’’
بھئی مجھے کچھ دال میں کالا نظر آتا ہے‘‘۔

6

پندرہ دنوں کی غیر حاضری کے بعد جب سعید گھر میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اسے راجو نظر آئی جو دوڑی دوڑی بڑے دروازے سے باہر نکل رہی تھی۔ اُسے دیکھ کر رُک گئی اور تتلا تتلا کر کہنے لگی:’’میاں جی!۔ ۔ ۔ آپ ٹھیک ہوگئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھیک ہوگئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ۔ میں پانچ روپے کے پیسے لینے جارہی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ،، یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور سعید نے اطمینان کا سانس لیا۔ آگے بڑھا تو اُس کی ماں نے اس جھٹ چھاتی سے لگالیا اور چٹ چٹ بلائیں لینا شروع کردیں۔
سعید کو اپنی ماں کے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے پیار سے بہت اُلجھن ہوتی تھی مگر اب کہ اُس کی طبیعت میں ایک قسم کی نرمی پیدا ہوگئی تھی اُسے ماں کی محبت کا جوش اچھا معلوم ہوا اور اُس نے فرحت محسوس کی۔
جب گھر میں داخل ہوا تو اُس کے ساتھ مہمانوں کا ساسلوک کیا گیا۔ نئے ٹی سیٹ میں چائے دی گئی۔ اندر کمرے میں نیا فرش بچھا یا گیا تھا۔ کرسیوں پر نئی گدیاں دھری تھیں،پلنگ پر وہ چادر بچھی ہوئی تھی جس پر اُس کی ماں نے بڑی محنت سے تار کشی کا کام کیا تھا۔ ہر شے قرینے سے رکھی گئی تھی اور کمرے میں ایسی فضا پیدا ہوگئی تھی جو مسجد میں جمعہ کی نماز پر دیکھنے میں آیا کرتی ہے۔۔۔۔۔ جب بہت سے آدمی نہا دھو کے اُجلے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔
چائے پی کر وہ دیر تک اپنی ماں کے پاس بیٹھا رہا۔ گلی کی سب عورتیں ایک ایک کر کے آئیں اور سعید کی صحت یابی پر اُس کی ماں کو مبارک باد دے کر چلی گئیں۔ جب فقیروں کو پانچ روپے کے پیسے بانٹنے کا وقت آیا اور گلی میں شور مچگیا تو سعید اُٹھ کر اپنی بیٹھک میں چلا آیا۔
غلا م نبی نے کمرہ خوب صاف کر رکھا تھا سب کی سب کھڑکیاں کھلی تھیں اس کی والدہ کو معلوم تھا کہ وہ اپنے ہی کمرے میں جا کر بیٹھے گا۔ سگریٹ کانیا ٹن تپائی پر رکھاتھا۔ اور پاس ہی نئی ماچس پڑی تھی۔
جب کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے اپنی تمام چیزوں کا جائزہ لیا ہرشے اپنی اپنی جگہ پڑی تھی۔ اس کبوتر تک جوبارہ بجے تک اس کے باپ کی بڑی تصویر کے بھاری فریم پر اونگھتا رہتا تھا۔
تھوڑی دیر تک وہ صاف کی ہوئی دری پر ننگے پیر ٹہلتا رہا۔ اتنے میں اس کے دوست آنا شروع ہوگئے۔ دوپہر کا کھانا وہیں کھایا گیا جو کہ پرہیزی تھا،مگر ہسپتال کی خوراک سے بدرجہا بہتر! کھانے کے بعد سگریٹ کا دور چلا اور دیر تک گپ بازی ہوتی رہی، اسی دوران میں عباس نے کہا’’اماں‘‘ ہسپتال کی وہ لونڈیا بری نہیں تھی۔ ۔ ۔ رشید نے مسکراکرکہا،آپ کا ڈبل نمونیہ بغیر دو ا کے یو نہی تو اچھا نہیں ہوگیا۔ بعض نرسیں امرت دھارا ہوتی ہیں۔
عباس کو رشید کی بات بہت پسند آئی۔ واللہ کیا جملہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ نرس اور امرت دھارا۔ ۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ سعید آدھی بوتل تو ختم کر دی ہو گی تم نے ۔۔۔؟ بھئی، ایسی دوائیں بے دردی سے استعمال نہیں کی جاتیں۔۔۔۔ سعید کو یہ واہیات گفتگو اچھی معلوم ہوئی،چنانچہ اس نے بھی اس میں حصّہ لینا شروع کردیا کیا خیال ہے۔ تمہارا ہسپتال میں اس جیسی تیکھی نرس شاید ہی کوئی اور ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھئی ہسپتال والوں کی نبض شناسی کی داد دینا پڑتی ہے کہ انھوں نے مس فریا کو میری خدمت پرمامور کیا۔ یوں تو اس شہر میں کسی عورت کی ننگی ٹانگ نظر ہی نہیں آتی اور اب تو سردی زوروں پر ہے،سب ٹانگیں موٹے موٹے غلافوں میں رہتی ہیں اس لیے اُس کی ننگی پنڈلیوں نے بڑی فرحت بخشی۔۔۔۔۔ لیکن تم نے اُس کی پنڈلیاں نہیں دیکھیں!
عباس بولا!’’کیا مشہور مقامات میں شامل کرنے کے لائق ہیں؟‘‘
اس پر سعید دفعتہً سنجیدہ ہوگیا،بھئی مذاق برطرف، مگر اُس نے میری بہت خدمت کی ہے،بچہ سمجھ کر میری تیمارداری کرتی تھی،معمولی سے معمولی چیز کا خیال رکھتی تھی، بعض اوقات میرا منہ بھی دھلاتی تھی۔ ناک میں پونچھتی تھی،جیسے میں بالکل اپا ہج ہوں۔ میں اس کا بہت احسان مند ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس کو ایک ساڑھی تحفہ کے طور پر بھیج دُوں۔ ایک بار اُس نے کہا تھا کہ اُسے ساڑھی پہننے کا بہت شوق ہے،کیوں عباس تمہارا کیا خیال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
’’
نیکی اور پوچھ پوچھ، مگر شرط یہ ہے کہ ساڑھی میں لے کر جاؤ گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طے ہے،اور یہ بھی طے ہے کہ ساڑھی سفید ہوگی کیونکہ یہ رنگ مجھے پسند ہے۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
چنانچہ دوسرے روز گوکل کی مارکیٹ سے عباس اور سعید نے ایک سفید رنگ کی ساڑھی منتخب کی جس کے کنارے کنارے ایک سفید تلے کا بورڈ دوڑ رہا تھا۔ قیمت ادا کر دی گئی اور ایک چٹ پر اپنا اور نرس کا نام لکھ کر اسے ساڑھی کے ساتھ چپکا دیا گیا۔ عباس نے بکس بند کیا اور اُسے لے کر ہسپتال روانہ ہو گیا۔ جانے سے پہلے سعید نے عباس سے کہا:’’مگر دیکھو،ہسپتال میں جاکر تحائف دینا ٹھیک نہیں‘‘۔ عباس نے کمرے سے باہر نکل کر جواب دیا۔ میں نرسوں کے گھر جا رہاہوں ہسپتال میں تو بیمار جاتے ہیں۔
عباس چلاگیا اور شام کو واپس آیا،جب سعید چائے وائے پی کر اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر ادھر مردانے کی طرف آرہاتھا۔ دروازے پر جب دستک ہوئی۔ اور’’خواجہ صاحب‘‘ کی آواز بلند ہوئی تو اُس نے سمجھ لیا کہ عباس ہے اور کوئی دلچسپ خبر لایا ہے،جب دونوں اطمینان سے کمرے میں بیٹھ گئے تو باتیں شروع ہوئیں۔ عباس نے گفتگو کا آغاز کیا:
’’
بھئی مجھے ایسا شک ہوتا ہے کہ اسے تم سے بہت بُری طرح محبت ہے اور وہ دن بھر تمہارے فراق میں آہیں بھرتی رہتی ہے۔ رات کو سو نہیں سکتی،وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
’’
ارے بھئی نہیں،تم مذاق مت سمجھو۔ اُس نے خود تو کچھ نہیں کہا مگر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ وہ تمہاری محبت میں گرفتار ہے، جانے تم نے اس پر کیا جادو کر دیا ہے؟‘‘
’’
میں پوری بات تو سُن لُوں۔ ۔ ۔ ؟‘‘
میں وہا ں گیا۔ اُس کا ٹھکانا معلوم کیا، وہ ڈیوٹی پر نہیں تھی،اس لیے اس نے مجھے اپنے چھوٹے سے کمرے میں بُلا لیا اور میرے آنے کی وجہ پوچھی، میں نے ساڑھی کا بکس اُس کو دے دیا۔ اُسے کھول کر جب اُس نے ساڑھی دیکھی تو اُس کی آنکھوں میں نمی پیدا ہوگئی،کہنے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ناحق تکلیف کی،مگر مجھے یہ ساڑھی پسند ہے،اُن کا ذوق بہت اچھا ہے۔ گوسفید کپڑے پہن پہن کر میں سفید رنگ سے اُکتا سی گئی ہوں، مگر اس میں ایک خاص بات ہے۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔۔ یہ بوڈرکتنا پیارا ہے،اگر بڑا ہوتا تو ساری خوبصورتی ضائع ہو جاتی، میری طرف سے اُن کا بہت بہت شکریہ ادا کیجیے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ آپ کیوں نہیں آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اُنھیں خود آنا چاہیے تھا، یہ کہتے کہتے وہ رک سی گئی اور بات کا رُخ بدل دیا۔
آپ نے بھی کافی زحمت اُٹھا ئی ہے۔ ۔ ۔ مجھے آپ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیئے تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
یہ سُن کر سعید نے عباس سے پوچھا ،مگر اس گفتگو سے کیا ثابت ہوتا ہے،کچھ بھی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
ارے بھئی میرے بتانے سے کیا ثابت ہوگا،میں مس فریا نہیں ہوں،تم ہوتے تو وہی نتیجہ اخذکرتے جو میں نے کیا ہے،اور پھر اُس نے یہ بھی تو کہا۔ ان سے کہئے گا کہ کہ وقت بے وقت جب ادھر کمپنی باغ کی طرف آنکلیں تو مجھے ضرور ملیں۔ میرے کمرے کا نمبر آپ اُن کو بتادیجیے گا،اس لیے انھیں تکلیف نہ ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ٹھہرئیے۔ ۔ ۔ ۔ ؟
تمہیں معلوم ہے اس کے بعد اُس نے کیا کہا؟
’’
تم سے کہا ہوگا تشریف لے جائیے‘‘
اُس نے چھوٹے سے پیڈیر تمہیں ایک خط لکھا،لیکن تھوڑی دیر سوچ کر اُسے پھاڑدیا۔ پھر ایک نیا لکھا، اُسے بھی پھاڑ دیا اور میری طرف بیوقوفوں کی مانند دیکھ کر گھبرائے ہوئے لہجے میں کہنے لگی،سمجھ میں نہیں آتا۔ ۔ ۔ شکریہ کن الفاظ میں ادا کروں۔ ۔ ۔ ۔ یہ کہہ کر اُس نے پھر کوشش کی جو بار آور ثابت ہوئی،بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ایک خط لکھا، اُسے لفافے میں بند کر کے مجھے دیا اور کہا: یہ اُن کو دے دیجیے گا،میں یہ خط لے کر باہر نکلا اور۔ ۔ ۔ ۔ سعید نے پوچھا کہا ں ہے؟
عباس نے بڑی بے پرواہی سے جواب دیا میرے پاس۔۔۔۔۔ ہاں تو میں نے باہر آکر لفافے کو دیکھا،اس پر لکھا تھا، پرائیویٹ، چنانچہ میں نے کھول لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
’’
تم نے کھو ل لیا۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
کھول لیا! اور پڑھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ آپ سے ملنے کے لیے بہت بیقرار ہے،خط کا مضمون یہ ہے! میں تم سے ملنا چاہتی ہوں میری طبیعت آج کل بہت اُداس ہے، ساڑھی کا بہت بہت شکریہ،میں اسے پرسوں کھیل میں پہن کر جاؤں گی جو چھاؤنی میں ہو رہا ہے۔
یہ کہہ کر اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور نکال کر سعید کو دے دیا،تم خود بھی پڑھ لو۔ شاید بین السطور میں تمہیں کوئی اور عبارت نظر آجائے،،
سعید نے لفافہ کھول کر پڑھا،وہی مضمون تھا جو عباس نے سُنایا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ مس فریانے انگریزی میں چار سطریں لکھی تھیں،جن کا ترجمہ عباس نے کردیا۔ ۔ ۔ ۔ ،
یہ خط پڑھ کر سعید سوچ میں پڑگیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھ سے کس لیے ملنا چاہتی ہے اور اُداس کیوں ہے۔ کیا اُداسی مجھ سے ملاقات کرنے پر دُور ہو جائے گی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس کی طبیعت میں اُداسی کرنے والا میں ہوں۔ کیا یہ سچ عباس کے کہنے کے مطابق وہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔
اس آخری خیال پر اُسے بے اختیار ہنسی آگئی۔ عباس تم نرے کھرے بیوقوف ہو، اُسے مجھ سے محبت نہیں ہوئی بلکہ کسی اور سے ہوئی ہے اور مجھے اس کا سارا حال سُنانا چاہتی ہے۔ میں نے اس سے ایک بار مذاق مذاق میں کہا تھا: جو نہی تم کسی سے محبت کرنے لگو،مجھے ضرور بتانا۔ ممکن ہے کیوپڈ نے اُس کے سینے پر اپنا پہلا تیر چلادیا ہو،خیر چھوڑو اس قصے کو،یہ بتاؤ کہ تم نے کسی اینگلوانڈین لڑکی سے محبت کی ہے؟
عباس نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ میں نے ٹھیٹ یورپین لڑکی سے لے کر بھنگن تک سب سے محبت کی ہے مگر یہ محبت فریق ثانی تک کبھی نہیں پہنچ سکی۔ ۔ ۔ ۔ سچ پوچھو تو میں تمہاری اس فریاہی سے محبت کرنے لگاہوں مگر اس قسمت کا کیا کروں،جیسا کہ تم کہتے ہو،وہ کسی اور کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں، اپنا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا،آخر ایک روز شادی ہو جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چلو چھٹی ہوئی۔
عباس افسردہ ہو گیا۔ اس پر سعید نے پوچھا،عباس تم واقعی کسی سے محبت کرنا چاہتے ہو؟
عباس تڑپ کر بولا:یہ واقعی محبت کی بھی خوب رہی ،ارے بھئی ایک زمانہ ہو گیا ہے کوکشش کرتے کرتے اور اب تو محبت کی خواہش بہت شدت اختیار کر گئی ہے۔ کوئی بھی ہو،مگر عورت ہو عورت،خدا کی قسم مزا آجائے؟
یہ کہہ کر عباس نے مزا لینے کی خاطر زور زور سے اپنے ہاتھ ملنا شروع کر دیے۔ لیکن میں ایسی محبت کا قائل نہیں جو دق یا سِل کے روگ کی طرف ہمیشہ کے لیے چمٹ جائے۔ میں زیادہ سے زیادہ ایک یادوبرس تک عورت سے عشق کر سکتا ہوں۔ ادربس،اس سے زیادہ عشق کرنا میرے نزدیک جہالت ہے غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے کہ مصری کی مکھی بہ بنو، شہد کی مکھی بنو، تو بھئی میں تو شہد کی مکھی ہوں۔۔۔۔۔ اپنا تو یہی اصول ہے،چاہے عشق ہو نہ ہو مگر یہ اصول نہیں بدلے گا۔ شادی الگ رہے اور عشق جداہوں۔ ۔ ۔ واللہ اگر ایسا ہو جائے تو کیا کہنے ہیں، لیکن مجھے ایسے لگتا ہے کہ بس اب کسی سے عشق کرنے میں کامیاب ہونے ہی والا ہوں۔ ایک قلعہ سرہوگیا تو بس سارا جرمنی میر اہے،مجھے یہ سیگفرلائن توڑنی ہے، جس روز ٹُوٹ گئی بیٹرا پار سمجھو۔ ۔ ۔ ۔ ،
عباس کی تقریر سن کر سعید نے اپنے اور اُس کے عشق کا مواز نہ کیا۔ زمین و آسمان کا فرق تھا۔ لیکن ایک بات ضرورتھی کہ عباس نے دوسرے آدمیوں کی طرح اپنے جسمانی عشق پر پردہ نہیں ڈالا تھا، اُس نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ ایک یا دو برس سے زیادہ کسی عورت سے عشق کرنا حماقت سمجھتا ہے۔۔۔۔۔
عشق کتنی دیر قائم رہتاہے،یہ سعید کو معلو م نہیں تھا،میعادی بخار کیطرح کیا اس کی مدت محدود ہے،یہ بھی اس کے علم میں نہیں تھا۔ محرقہ بخار اس کو ایک بار چڑھا تھا جو اُس کی ماں کے کہنے کے مطابق سوا مہینے تک رہا تھا۔ لیکن یہ عشق جو ابھی ابھی اس کے دل میں پیدا ہوا تھا۔ کب تک اسے تکلیف دیتا رہے گا۔ یہ سوال اس کے دماغ میں پیدا ہوا ہی تھا کہ راجو اور اس کے اردگرد کی تمام چیزیں نگاہوں کے سامنے گھومنے لگیں اور وہ اس آدمی کی طرح جو اچانک کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے،سخت گھبراگیا۔ چنانچہ اس نے فوراً ہی اپنے آپ کو ان خیالات سے آزاد کرانے کی خاطر عباس سے کہا:۔
’’
عباس آج کوئی پکچر دیکھنا چاہیے۔‘‘
عباس جس کے دماغ میں عشق بسا ہوا تھا،کہنے لگا،خالی تصویریں پیاس نہیں بجھا سکتیں دوست۔۔۔ مجھے عورت چاہیے عورت۔۔۔ گرم گرم گوشت والی عورت جس کے گالوں پر میں اپنی محبت کے سردتوس سینک سکوں۔ تمہیں ایک موقعہ مل رہا ہے، بخدا اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ جاؤ وہ نرس تمہاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
واللہ تمہاری ہے۔ اُس کی آنکھوں نے مجھے بتادیا تھا، کہ وہ ایک غلطی کر کے رونا چاہتی ہے۔ جاؤ اُس کو اپنی زندگی کی پہلی غلطی میں مدد دو۔۔۔۔ بیوقوف نہ بنو۔ اگر غلطیاں نہ ہوتیں تو عورتیں بھی نہ ہوتیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تمہارا فلسفہ کیا ہے۔ بھئی ایک جوان لڑکی تمہارے ذریعہ سے اپنی زندگی کا فسانہ رنگین بنانا چاہتی ہے۔ تم اگر اپنا رنگوں کا بکس بند کرلو تو یہ تمہاری حماقت ہے۔۔۔۔ کاش تمہاری جگہ پر میں ہوتا۔ پھر،پھر دیکھتے کیسے کیسے شوخ رنگ اُس کی زندگی میں بھرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
عباس کی تقریر سعیدان کانوں سے سننے کی کوشش کر رہاتھا جن میں راجو کی محبت بھنبھنا رہی تھی۔ ہسپتال میں وہ اس کو قریب قریب بھول چکا تھا مگر اب پہلے ہی دن گھر میں آکر وہ پھر اُس کے اندر داخل ہوگئی تھی۔ عباس باتیں کر رہا تھا اور اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ اُٹھے اور اندر جا کر راجو کو ایک بار دیکھ کر پھرآئے۔ اُس کی طرف محبت بھری نظروں سے نہ دیکھے۔ نفرت آلود نگاہوں ہی سے دیکھے، مگر دیکھے ضرور، مگر اُس کے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ جو اِرادہ وہ کرچکا ہے، اتنی جلدی فنا ہو جائے۔
چنانچہ بڑی قوت سے کام لے کر اُس کے خیال کو ایک بار پھر اُس نے اپنے دل کے اندر کچل دیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ ’’عباس کوئی اور باتیں کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سچ پوچھو تو میں محبت کا صحیح مطلب ہی ابھی تک نہ سمجھ سکا۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ محبت وہ چیز نہیں ہے جس کا ذکر تم کرتے ہو۔ تم ایک عورت سے صرف ایک دو برس تک محبت کرنے کے قابل ہو مگر میں تو عمر بھر کا پٹہ لکھوانا چاہتا ہوں۔
اگرمجھے کسی سے عشق ہو جائے تو میں اس پر اپنی ملکیت چاہتا ہوں۔ وہ عورت ساری کی ساری میری ہونی چاہیے۔ اُس کا ایک ایک ذرّہ میری محبت کے ماتحت ہو نا چاہیے۔ عاشق اور ڈکٹیٹر میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیئے۔ دونوں طاقت چاہتے ہیں۔ دونوں حکمرانی کی آخری حد کے خواہش مند ہیں۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔ تم محبت محبت پکارتے ہو۔ میں خود محبت محبت کہتا ہوں،لیکن اس بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں۔۔۔۔ کسی اندھیرے غار میں یا باغ کی کسی گھنی جھاڑی کے پیچھے اگر تمہاری کسی شہوت کی بھوکی عورت سے ملاقات ہو جائے تو کیا تم کہو گے،میں نے عشق لڑایا ہے ،میری زندگی میں ایک رومان داخل ہو گیا ہے۔ غلط ہے،بالکل غلط ہے۔ یہ محبت نہیں۔ محبت کچھ اورہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ محبت ایک نہایت ہی پاک جذبے کا نام ہے۔ اور جیسا ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ اس میں شہوت بالکل ملوث نہیں ہونی چاہیے۔ میں اس کو بھی نہیں مانتا،مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے معلوم ہے، محبت کیا ہے۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔ مگر میں واضع طور پر اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کرسکتا،میں سمجھتا ہوں،محبت ہرشخص کے اندر ایک خاص انفرادیت لے کر پیداہوتی ہے۔ جہاں تک فعل کا تعلق ہے ایک ہی رہتا ہے،عمل بھی ایک ہی ہے۔ نتیجہ بھی عام طور پر ایک ہی جیسا نکلتا ہے،لیکن جس طرح روٹی کھانے کا فعل بظاہر یکساں ہے اور بہت سے آدمی جلدی جلدی نو الے اُٹھاتے ہیں اور بغیر چبائے ان کو نگل جاتے ہیں، اور بعض دیر تک چبا چبا کر لقمے کو اپنے معدے میں داخل کرتے ہیں،لیکن یہ مثال بھی واضح طور پر کچھ بیان نہیں کرسکتی۔ بھئی میرا دماغ خراب ہو جائے گا خدا کے لیے یہ محبت کی باتیں ختم کرو۔ ہماری محبت بہت سے پتھروں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ جب کھدائی ہو گی اور اس کو نکالا جائے گا تو ہم دونوں اس کے متعلق اچھی طرح بات چیت کرسکیں گے۔
سعید کی اس ناہموار تقریر میں اتنے دھچکے تھے کہ عباس کے دماغ میں ایسی کیفیت پیداہوگئی جو تھرڈکلاس تانگے میں بیٹھ کر شکستہ سڑک پر چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ جانے تم نے کیا بکو اس کی ہے مگر میں صرف اتنا سمجھتا ہوں کہ عورت سے عشق کرنا اور زمین کا خریدنا تمہارے لیے ایک ہی بات ہے۔ سوتم محبت کرنے کے بجائے ایک دوبیگہ زمین خرید لو اور اس پر ساری عمر قابض رہو۔۔۔۔ لا حَو ل وَلا۔ آخر تمہیں ہو کیاگیا ہے۔ تمہارے اندر شاعری کا کیا ہوا۔۔۔۔۔ بیمار رہنے کے بعد تم اتنے کور ذوق کیوں ہوگئے ہو۔ بھئی اتنی معمولی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی کہ عشق جو زیادہ دیر تک قائم رہے،عشق نہیں،لعنت ہے۔۔۔۔۔۔ ہم انسان ہیں، فرشتے نہیں کہ ایک ہی حور پر قانع ہو کر رہ جائیں۔ اگر ایک ہی عورت سے میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے چپکا دیا تو زندگی اجیران ہو جائے گی۔۔۔۔۔ میں خودکشی کرلوں گا۔۔۔۔۔۔، زندگی میں صرف ایک عورت۔۔۔۔۔۔ صرف ایک۔۔۔۔ اور یہ دنیا کیوں اس قدر بھری ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔؟ کیوں اس میں اتنے تماشے جمع ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف گندم پیدا کر کے ہی اللہ میاں نے اپنا ہاتھ کیوں نہ روک لیا۔
میری سنو اور اس زندگی کو جو کہ تمہیں دی گئی ہے اچھی طرح استعمال کرو کہ تم اس عورت کو جو تمہارے راستے میں ڈال دی گئی ہے، کچھ دنوں کے لیے کیونکر خوش کر سکتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی خوشی مقد م ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
فلسفے میں خود کو نہ اُلجھاؤ،عورت کوئی نا قابل فہم مخلوق نہیں ہے۔ یوں تو تم اپنے پالتو کتے کو بھی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے،لیکن اس کو سمجھنے کی ضرورت ہی کیا ہے،جب تک وہ تمہارے پچکارنے پر اپنی کٹی ہوئی دُم ہلاتا رہتا ہے اور تمہارے کہنے پر گیند دبو چ لیتا ہے ،میں پوچھتا ہوں عورت کے متعلق زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہی کیا ہے، وہ اگر اتھا سمندر ہے تو ہوا کرے اور اونچا تارا ہے تو اس سے کیا جب تک وہ عورت ہے اور ان خوبیوں کی مالک ہے جو عورت میں ہونی چاہئیں، صرف ایک ہی بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسے کیونکر حاصل کیا جاسکتا ہے؟
یہ تقریر سننے کے بعد سعید نے عباس سے دفعتہً پوچھا:
’’
لیکن عورتیں ہیں کہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
عباس نے ڈبے سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور جواب دیا۔ یہاں،وہاں،ادھر،اُدھر،ہر جگہ عورتیں موجود ہیں۔ کیا اس گھر میں کوئی عورت موجود نہیں ہے؟ وہ تمہاری نوکرانی راجو کیا بری ہے،جس نے اُس دن تمہاری بیٹھک کا دروازہ میرے لیے کھولا تھا۔ تم میری طرف یوں آنکھیں پھاڑ کر کیا دیکھ رہے ہو،بھئی ہمیں عورت چاہیے اور راجو سو فی صد عورت ہے۔ وہ تمہاری نوکرسہی لیکن اس سے اُس کی نسوانیت میں تو کچھ فرق نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔ مانتا ہوں کہ ہمارے یہاں اکثر عورتیں صندوقوں میں بند ہیں، لیکن اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ جو صندوقوں میں بند ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ جو صندوقوں سے باہر ہیں،ان کی طرف ہم توجہ دینا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔ دستر خوان پر جو کچھ حاضر ہو کھانا ہی پڑے گا۔ یہ کہہ کر عباس نے زور سے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور اپنے دوست سعید کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر وہ نظریں ملانا نہیں چاہتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُسے اس بات کا ڈرہے کہ عباس اُس کی آنکھوں میں راجو کی محبت کا سارا قصہ پڑھ لے گا۔ چنانچہ وہ ایک طرف ہٹ گیا۔ انگیٹھی کی سل پر اپنی تصویر کے فریم کو ذرا ادھر ہٹا کر اُس نے عباس سے کہا:۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں،تمہاری گفتگو بہت گھناؤنی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم بات کرتے ہو اور مجھے منہ سے خون کی بوآتی ہے۔ تم لہو پینے والے انسان ہو۔ ’’اور تم‘‘ عباس نے پھر سگریٹ کی راکھ جھاڑی،تم ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں لہو پینے والاانسان ہی سہی،لیکن تم جیسے دودھ پینے والے جانوروں سے بدر جہا اچھا ہوں۔ تم نیکی اور بدی کے بیچ میں لٹکے ہو۔ ۔ ۔ ۔ شکر ہے کہ میں ایسی چمگادڑ نہیں،میں ایک طوفانی سمندر ہوں۔ تم خشکی پر کھڑے ہو۔ ۔ ۔ میں شاعر ہوں۔ تم ایک خشک نثر نویس ،تم ایک ایسے گاہک ہو جو عورت کو حاصل کرنے کے لیے ساری عمر سرمایہ جمع کرتے رہو گے،مگر اسے ناکافی سمجھو گے۔
میں ایسا خریدار ہوں جو زندگی میں کئی عورتوں سے سودے کرے گا۔ تم ایسا عشق کرنا چاہتے ہو کہ تمہاری نا کام موت پر کوئی ادنیٰ درجے کا مصنف ایک کتاب لکھے جسے نرائن دت سہگل لال پیلے کا غذوں پر چھاپے اور ڈبی بازار میں ایک ایک آنے میں تمہاری محبت کا افسانہ بکے۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنی کتاب حیات کے تمام اوراق دیمک بن کر چاٹ جانا چاہتا ہوں۔ تاکہ اس کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔۔۔۔۔۔ تم محبت میں زندگی چاہتے ہو۔۔۔۔۔ میں زندگی میں محبت چاہتا ہوں۔ میں سب کچھ ہوں۔۔۔۔ لیکن تم کچھ بھی نہیں ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا سوچو تو آخرتم ہو کیا۔
تھوڑی دیر کے لیے سعید کو محسوس ہوا کہ عباس واقعی سب کچھ ہے اور وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس نے سوچا کہ آخر میں کیا ہوں۔ یہاں اس گھر میں ایک لڑکی موجود ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں،لیکن،لیکن یہ محبت کیا ہے۔ کیس ذلت آفریں چیز ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میری ہو جائے لیکن پھر ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہوں کہ اس کے خیال تک کو نوچ کر پھینک دُوں۔۔۔۔۔۔۔ میں کس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں۔۔۔۔۔ کیا محبت اسی مصیبت کا نام ہے؟
وہ بزدل ہو گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عباس اپنے خیال میں مگن تھا،اس لیے وہ اپنے دوست کی دلی کیفیت نہ تاڑ سکا۔ دراصل وہ دوسروں کی ذات پر غور کرنے کا عادی بھی نہ تھا۔ اسے صرف اپنی ذات سے دلچسپی تھی۔ وہ ہر وقت اپنے ہی اندر سمایا رہتا تھا۔ اسے اتنی فرصت ہی تھیں ملتی تھی کہ دوسروں کی بابت غور کرے۔ لیکن اس کے باوجود اچھا دوست تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ دوستی اور اس کے معنی پر غورہی نہیں کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا،اماں چھوڑو،تم کن وہموں میں گرفتار ہو گئے ہو۔ دوستی،دوستی سب بکو اس ہے،دیہات یاپتھر کے زمانے میں دوست ہوا کر تے ہوں گے۔ آج کل کوئی کسی کا دوست نہیں ہوسکتا۔ لوگ اگر دوستی ہی کی رسی بٹنا شروع کر دیں تو سارے کا سارا کا روبار بند ہو جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم مجھے دوست کہتے ہو،کہو،میں تمہیں دوست کہتا ہوں،ٹھیک ہے،سنتے جاؤ،مگر اس سے زیادہ غور نہ کرنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جتنا زیادہ غور کرو گے،اتنے ہی زیادہ گڑھے پیدا ہوتے جائیں گے۔ آج دُنیا میں جتنی سیاہ کاریاں ہو رہی ہیں سب اسی غوروفکر کا نتیجہ ہیں۔
قتل ہوتے ہیں زیادہ سوچ بچار کے باعث ،چوریاں ہوتی ہیں زیادہ سوچنے کی وجہ سے ،ڈاکے پڑتے ہیں زیادہ فکر وتردد کرنے سے۔۔۔۔ دماغ اور بارود کی میگزین میں کوئی فرق نہیں۔ اور سوچ بچار چقماق پتھر سے جھڑی چنگاریاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ گاودی، بیوقوف اُلو ہو جاؤ، مگر خدا کے لیے عقلمند اور منکرنہ بنو؟۔
عباس بہت مزیدار باتیں کرتا تھا۔ معمولی سی بات کو بھی ایک خاص رنگ میں دلچسپ طریقے پر پیش کرنے کا عادی تھا۔ دنیا کے بارے میں اُس کے بنائے ہوئے چند اصول تھے۔ جس پر وہ ایک عرصے سے نہایت پابندی کے ساتھ چل رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ فکر وتردو سے پرہیز کرتا تھا،لیکن ان باتوں پر اسے تھوڑے عرصے کے لیے غور کرنا ہی پڑتا تھا۔ جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہوتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت بھی وہ کسی بات پر غور کررہاتھا۔ کیونکہ اس کے چہرے پر اطمینان کی وہ لہر نہیں تھی جو عام طور پر نظر آیا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ نیا سگریٹ سلگا کروہ بڑے زور سے کش لے رہاتھا اور اس کا دوست سعید آتش دان کے پاس ایک زبردست ذہنی اور رُوحانی کشمکش میں مبتلا تھا۔
دفعتاً عباس چونک پڑا:
’’
اَجی ہٹاؤ،خواہ مخواہ اس اُلجھن میں اپنے آپ کو کیوں پھنسا یا جائے جو ہوگا دیکھا جائے گا،،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے دوست سے مخاطب ہو کر پھر اس نے کہا: اجی حضرت! آپ کن وہموں میں گرفتار ہو گئے ہیں، کرسی پر تشریف رکھیے۔۔۔۔ آپ ابھی ابھی بیماری سے اُٹھے ہیں،ایسا نہ ہو پھر ہسپتال جانا پڑے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن دوست اس دفعہ اپنی جگہ مجھے دینا،واللہ وہ لونڈیا مجھے بھاگئی ہے۔
یہ کہہ کر وہ خود آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔
سعید آتش دان کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ زیادہ بات چیت اور سوچ بچار نے اُسے کمزور کردیا تھا۔ چنانچہ تھکی ہوئی آواز میں اُس نے عباس سے کہا:
’’
عباس! میں بہت کمزور ہو گیا ہوں،میرا خیال ہے کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر چلاجاؤں،تبدیلی آب و ہوا ہو جائے گی،،
عباس نے پوچھا کہاں جاؤ گے؟
سعید نے جواب دیا:۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’کہاں جاؤں گا،یہی تو سوچ رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ سردیوں میں کہاں جانا چاہیے۔ ۔ ۔ کوئی ایسی جگہ بتاؤ،جہاں موسم معتدل ہو؟
بمبئی چلاجاؤں۔ ۔ ۔ ۔ کلکتہ بھی بُرا نہیں لیکن۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ کرسمس تو گزر چکا، کرسمس کو چھوڑو۔۔۔۔۔ تو بمبئی چلا جاؤں۔۔۔۔ دراصل میں کچھ دنوں کے لیے امر تسر کو بھول جانا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ یہاں مجھے وحشت سی ہو رہی ہے۔
عباس نے حیرت بھرے لہجے میں پوچھا:
’’
امر تسر سے آپ کو وحشت ہو رہی ہے؟ یاوحشت۔ ۔ ۔ ۔ امرتسر نے آپ کو کہاں کاٹ کھایا تھا۔‘‘
اس پر سعید کے دل میں آئی کہ عباس سے اپنا سارا راز کہہ دے ،مگر خاموش رہا،وہ چاہتا تھا کہ کسی کو اپنا راز دار بنائے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس کے راز سے واقف ہو۔ اگر یوں ہوتا کہ راز فاش کرنے پر بھی اُس کاراز فاش نہ ہوتا تو وہ یقیناًاپنا دل عباس کے سامنے کھول دیتا۔ مگر اُسے معلوم تھا کہ ایک بار اُس نے راجو سے محبت کی داستان سنا دی تو وہ چڑیا پھر سے اُڑ جائے گی جس کو وہ پنجرے ہی میں مار ڈالنا چاہتا ہے۔ چونکہ عباس کو اپنا رازِ دل سنانے کے لیے وہ آگے جھکا تھا۔ اس لیے اُسے ڈبے سے سگریٹ نکال کر سُلگانا پڑا۔ عباس تاڑگیا کہ اُس کا دوست کچھ کہنا چاہتا ہے۔ مگر کہہ نہیں سکتا۔ چنانچہ اُس نے اُس کے اندر جرأت پیدا کرنے کو کہا:بات کو زیادہ دیر تک پیٹ میں نہ رکھا کرو!سعید ہاضمہ خراب ہو جائے گا،کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا کوئی خاص بات ہے۔ ۔ ۔ ۔ خاص بات تو کوئی بھی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ہم اور تم خواہ مخواہ باتوں میں خاص پن پیدا کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو کیا کہنا چاہتے تھے تم۔۔۔۔؟
سگریٹ کا ایک کش لے کر سعید نے عباس سے کہا:
’’
کچھ بھی نہیں،کوئی خاص بات نہیں ہے۔ میں خود نہیں سمجھ سکا،میں امرتسر کیوں چھوڑنا چاہتا ہوں۔ دراصل کچھ عرصے سے مجھے رُوحانی کوفت محسوس ہو رہی ہے،میں شوروغل میں رہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’
شور وغل میں رہنا چاہتے ہیں آپ،تو یہ کیا مشکل ہے،میں اسی کمرے میں آپ کے لیے شور وغل پیدا کر سکتا ہوں۔ فرمائیے شور وغل کی آپ کو ضرورت ہے! رشید،وحید ،ناصر،پران،سب آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں گے۔ اتنا شور برپا ہوا کرے گا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔۔۔
فرمائیے کیا حکم ہے؟
عباس ہنسنے لگا تو سعید بے چین ہوگیا۔ عباس کو معلوم نہیں تھا کہ سعید کے اندر ایسا طوفان برپا ہے اور وہ کن کن عذابوں میں سے گزر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ ہنستے ہوئے عباس نے ایک بار پھر پوچھا:
’’
فرمائیے کیا حکم ہے؟‘‘
اس پر سعید اور بے چین ہوگیا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ اس ہفتے کہیں باہر چلا جاؤں گا۔ میں بہت اُداس ہو گیا ہوں میں یہاں رہنا نہیں چاہتا۔ بس ایک دومہینے باہر رہ کر جب میری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی تو واپس آجاؤں گا۔ مجھے یہاں کونسے ضروری کام کرنے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم بھی میرے ساتھ چلو۔ ۔ ۔ ۔ عباس مسکرایا:
’’
لیکن مجھے تو بہت سے ضروری کام کرنے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ایک ہو تو بتاؤں،سینکڑوں ہیں،مثال کے طور پر مجھے ایک دو لڑکیوں سے عشق لڑانا ہے اور اینگلوانڈین لڑکیوں سے بات چیت کرنے کے سارے آداب سیکھنے ہیں۔ کچھ تھوڑے سے بازاری قسم کے مذاق بھی ازبر یاد کرنے ہیں اور دس بیس سستے نادل پڑھنے ہیں؟ اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ لیکن میں تمہیں اپنے پروگرام کیوں بتاؤں۔۔۔۔ تم جاؤ، میں یہاں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کروں گا۔۔۔۔ خط لکھتے رہنا۔۔۔۔ لیکن جاؤ گے کہاں۔۔۔۔۔۔؟
سعید نے سوچا کہ واقعی وہ جائے گا کہاں ایسی کونسی جگہ تھی،جہاں وہ آرام سے رہ سکتا تھا۔ ہوٹلوں میں رہنا اُسے پسند نہیں تھا اور رشتہ داروں کے یہاں قیام کرنا اُسے ویسے ہی ناپسند تھا۔ کیونکہ اُس کی آزادی میں خلل آتا تھایہ سب باتیں اُس کے ذہن میں تھیں،مگر امر تسر چھوڑ دینے کی خواہش لحظہ بہ لحظہ شدت اختیار کر رہی تھی۔ وہ خود جانا چاہتا تھا لیکن عجیب بات ہے کہ راجو کو نکال دینے کا خیال تک اُس کے دماغ میں پیدا نہ ہوا۔
اُس روز وہ کوئی ارادہ نہ کرسکا،لیکن یہ طے تھا کہ وہ کہیں چلا جائے گا۔

7

امرتسر سے لاہور میں تیس بتیس میل حائل ہیں،ایک گھنٹے میں سست سے سست رفتار ٹرین بھی آپ کو امرتسر سے لاہور پہنچا دیتی ہے۔ لیکن جب سعید امرتسر چھوڑ کر لاہور چلا آیاتو اُسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ ہزاروں میل اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے اور اب اُسے راجو کا ڈرنہیں رہا۔
ماں نے اُس کو روکنے کی بہت کوشش کی مگروہ اپنے اراد ے سے باز نہ آیا اور ہسپتال سے گھرواپس آنے کے چوتھے روز ہی اپنا مختصر اسباب لے کر چل دیا۔ لاہور میں اُس کے تین چار رشتہ دار تھے، اُن سے ملا مگر اُن کے یہاں قیام نہ کیا۔ وہ رشتہ دار بھی اس کی چنداں پروا نہ کرتے تھے۔
سعید اُن کے اِس سلوک سے بہت خوش تھا۔ مہمانوں کی طرح چند گھنٹوں کے لیے ہر ایک کے پاس ٹھہرا اور رسمی گفتگو کرنے کے بعد اپنے ہوٹل میں چلاآیا:
اس ہوٹل سے اُس کا جی ایک ہفتے کے بعد ہی اُکتا گیا۔ ویسے کرایہ بھی زیادہ تھا۔
اور وہ ان آدمیوں میں گِھرا ہوا نہیں رہنا چاہتا تھا جو ہندوستان میں پیدا ہو کر یورپین بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ اس نے مال روڈ پر اپنے لیے ایک چھوٹا ساکمرہ دیکھ لیا اور کرایہ ورایہ طے کر کے اس میں اُٹھ جانے کا فیصلہ کرلیا۔
ہوٹل کا بل وغیرہ ادا کر کے وہ تانگے میں اسباب رکھوا رہا تھا کہ اس نے ایک اور تانگے سے مس فریانرس کو اُترتے دیکھا۔ پہلے اُس نے خیال کیا کہ فریا نہیں کوئی اور ہوگی۔ کیونکہ اینگلوانڈین لڑکیوں کی شکل وصورت عام طور پر ایک جیسی ہوتی ہے۔ مگر جب فریا اُس کو دیکھ کر بے تابانہ آگے بڑھی تو اُس کو یقین آگیا کہ سچ مچ فریاہی ہے۔ اُس کے دماغ میں سینکڑوں سوالات تلے اوپر پیدا ہوئے۔ لاہورمیں یہ کیا کرنے آئی ہے اور کب آئی ہے؟ کیا اکیلی ہے،اس ہوٹل میں اس کا کون ہے؟ کیا اسی ہوٹل میں ٹھہری ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔؟
سعید ہوٹل کے نوکر کی ہتھیلی میں کچھ روپے دبا کر فریا کی طرف بڑھا اور اُس سے بڑے تپاک کے ساتھ ملا۔
’’
مس فریا کسے معلوم تھا کہ یہاں لاہور میں تم سے ملاقات ہوگی،تم کب سے یہاں آئی ہو؟‘‘
اُس نے اور بہت سے سوال فریا سے کیے مگر اُس نے ایک کا جواب نہ دیا،وہ بڑی مضطرب تھی۔ اس قدر مضطرب کہ اُس کے چہرے پر ایک نا قابلِ بیان سکون پیدا ہوگیاتھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک دم کسی صدمے سے دوچار ہوئی ہے۔ اس کارنگ بہت زرد تھا اور اُس کے ہونٹوں پر سُرخی کے لیپ کے باوجود پپڑیاں نظر آرہی تھیں۔
ادھراُدھر دیکھ کر فریا نے اُس سے کہا: مجھے آپ سے بہت باتیں کرنی ہیں۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اُس نے تانگے کی طرف دیکھا جس میں اسباب لداہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ مگر آپ ابھی ابھی آئے ہیں،یاکہیں جارہے ہیں؟
مجھے یہاں آئے پورے ساتھ روز ہوگئے ہیں،اب میں یہ ہوٹل چھوڑ رہا ہوں۔
اس پرفریا کا رنگ اور زرد ہوگیا۔ تو بس اب آپ گھر جارہے ہیں؟
نہیں نہیں !گھر تو میں دو ڈھائی مہینے کے بعد جاؤں گا۔ یہ ہوٹل کاسلسلہ مجھے پسند نہیں تھا،اس لیے میں نے اپنے لیے ایک علیحدہ کمرے کا بندوبست کرلیا ہے۔
’’
تو چلو مجھے وہیں ساتھ لے چلو‘‘یہ کہہ کر وہ کچھ جھینپ سی گئی۔ آپ کو اگر تکلیف نہ ہوتو۔ یعنی بات یہ ہے کہ مجھے آپ سے بہت کچھ کہنا ہے اور یہاں ہوٹل کے سامنے چند منٹوں میں آپ سے کچھ نہیں کہہ سکتی،۔
سعید نے فریا کی طرف دیکھا تو اُس کی موٹی موٹی آنکھوں میں اُسے آنسو نظر آئے۔۔۔۔ نہیں نہیں، تکلیف کی کیا بات ہے۔۔۔۔۔؟
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تمہیں وہاں تکلیف ہو گی،اس لیے کہ وہاں سامان وامان کچھ بھی نہیں۔ خالی کمرہ ہے،ابھی تک میں فرنیچر نہیں لاسکا۔۔۔۔۔
خیر دیکھا جائے گا،چلو آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،،
کریا ورایا چکا کر اور ہوٹل کے چھو کروں کو انعام دے دلاکردہ دونوں مال روڈ کی طرف روانہ ہوئے راستے میں کوئی بات نہ ہوئی۔ کیونکہ دونوں خیالات میں محورہے۔ حتی کہ وہ بلڈنگ آگئی،جہاں دوسری منزل پر اُس نے اپنے لیے کمرہ کرایہ پر لیا تھا۔
اسباب وغیرہ رکھو اکر جب سعید نے فریا کی طرف دیکھا تو وہ لوہے کی چار پائی پر بیٹھی اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ دروازہ بھیڑ کر وہ اُس کے پاس آیا اور ہمدردی بھرے لہجے میں اُس سے پوچھا: ’’مس فریا کیا بات ہے تمہاری آنکھیں تو کبھی رونے والی نہیں تھیں۔۔۔۔۔؟‘‘
یہ سُن کر فریا نے زور زور سے رونا شروع کر دیا، جس پر سعید بہت ہی پریشان ہوا۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس لڑکی کو کس طرح تسکین دے۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ایک نوجوان لڑکی اُس کے پاس بیٹھی تھی اور رورہی تھی۔ اس کا دل بہت نرم تھا۔ چنانچہ فریا کے رونے سے اُس کو بہت دُکھ ہوا۔ گھبرا کر اُس نے کہا:
’’
مس فریا! تم مجھے بتاؤ تو سہی شاید میں تمہاری مدد کر سکوں۔۔۔۔؟‘‘
فریا چارپائی سے اُٹھ کر کھڑی ہوگئی اور کھڑکی کھول کر اُس نے باہر بازار کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ ۔ ۔ ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اسی لیے تو آپ کے ساتھ آئی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ سے میری اتفاقیہ طور پر ملاقات نہ ہوتی تو جانے اب تک میں سچ مچ زہر کھاکے مرجاتی۔ ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ ۔ ۔
آپ کو یادہوگا،ساڑھی ملنے پر میں نے آپ کو شکریہ کا خط لکھا تھا۔ اور آپ سے درخواست کی تھی کہ آپ مجھے ضرور ملیں،اچھا ہوا آپ نہ آئے،ورنہ وہ میری پہلی خوشی دیکھ کر آپ کو بہت حیرت ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ میری زندگی میں یہ انقلاب کیا آیا ہے گویا بھونچال آیا ہے جس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ خوبصورت مرد دھوکے باز ہو سکتے ہیں۔ مجھے اُس سے محبت پیدا ہوگئی۔ اُس نے بھی مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کیا،وہ اتنی اچھی باتیں کرتا تھا کہ ان کو سُن کر میرے دل میں ناچنے اور نا چتے چلے جانے کی خواہش پیدا ہوتی تھی،مگر۔ ۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ ۔ یہ سب خواب تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا میں بہت امیر آدمی ہوں، چنانچہ اُس نے مجھے ایک بہت عمدہ ڈریس پیش کیا۔ ایک انگوٹھی بھی بنوادی۔ وہ مجھ سے جلدازجلد شادی کرنا چاہتا تھا۔ میرے ماں باپ تو تھے نہیں کہ میں اجازت طلب کرتی،چنانچہ راضی ہوگئی۔ شادی کرنے کے لیے وہ مجھے لاہور لے آیا اور ہم دونوں اسی ہوٹل میں ٹھہرے ،جہاں آپ بھی کچھ روز رہے ہیں،سات آٹھ دن تک اس نے مجھے ہر طرح سے خوش رکھا لیکن ایک روز صبح اُٹھ کر میں نے دیکھا کہ اس کا اسباب وغیرہ سب غائب ہے اور اس کا بھی کوئی پتہ نہیں۔ میں نے اُسے تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اُس کا کوئی ٹھکانہ بھی تو مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کتنی غلطی کی۔ آپ یقین مانیے میں نے اُس کا پورا نام تک نہ پوچھا۔ خدا جانے وہ کون تھا کہاں کارہنے والا تھا اور کیا کرتا تھا۔ میری عقل پر پتھر پڑگئے اور میں نرسنگ ہوم چھوڑ کر اُس کے ساتھ چلی آئی۔ ۔ ۔ ۔ شادی کرنے۔ ۔ ۔ ۔ میں کتنی خوش تھی اور شادی کرنے کے بعد گھر بنانے اور اُسے سجانے کے لیے میں نے دل ہی دل میں کتنے منصوبے باندھ رکھے تھے۔۔۔۔ اب میں کیا کروں ہسپتال کیسے واپس جاسکتی ہوں نرسیں کیا کہیں گی اور سسٹرمیرا کتنا مذاق اُڑائے گی۔۔۔۔۔ میں نے مرنا چاہا مگر۔۔۔۔۔ مگر میں مرنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔ مجھے زندہ رہنے کا شوق ہے۔ وہ مجھ سے شادی نہ کرتا۔ میرے ساتھ ایسے ہی رہتا۔۔۔۔۔ خدا کی قسم میں خوش تھی،مگر وہ کتنا ظالم نکلا۔۔۔۔۔۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میں نے اُس پر کوئی احسان۔۔۔۔ میں تو اُس کا احسان مانتی تھی کہ اس نے مجھے ایک نئی دنیا کا راستہ بتایا اور مجھے خوش کر نے کی کوشش کی۔۔۔ مگر وہ تو مجھے دھوکا دے گیا۔ اس نے ظلم کیا۔ یہ ظلم نہیں تواور کیا ہے۔ ہوٹل والے مجھے شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بیرے میری طرف یوں دیکھتے ہیں گویا میں چڑیا گھر کا کوئی پرندہ ہوں۔۔۔ میں ابھی تک وہاں صرف اسی لیے ٹھہری ہوں کہ ہوٹل والے یہ سمجھیں کہ کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سب باتوں کا پتہ ہے۔ کیونکہ ایک روز بڈھے بیرے نے مجھ سے کہا:
’’
میم صاحب!وہ آپ کے صاحب اب نہیں آئیں گے،آپ چلی جائیں‘‘میں نے شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کو گالیاں دیں۔ کیا کروں میں چڑ چڑی ہوگئی تھی۔ لیکن اب میرے دل میں سکون پیدا ہوگیا ہے۔ آپ کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ جو کچھ ہوچکا ہے اس کا خیال میرے دل ودماغ سے دُور ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ مجھے دوست کی ضرورت ہے،لیکن۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ میری دوسری بیوقوفی ہوگی اگر میں آپ کو دوست سمجھوں،کیا پتہ ہے کہ آپ مجھے دوست نہ بنانا چاہیں۔ ہسپتال میں آپ چنددن رہے،آپ نے ہمیشہ مجھ سے اچھا سلوک کیا،اس لیے میں سمجھی،شاید آپ میرے دوست بن سکیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا تو میں اب جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟
یہ سُن کر جانے سعید کو کیوں ہنسی آگئی’’ کہاں جاؤ گی۔۔۔۔ بیٹھ جاؤ‘‘ اُس نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے چار پائی پر بٹھادیا۔ جب وہ بیٹھ گئی تو دفعتا سعید کے سارے جسم میں اس احساس سے ایک سنسی سی دوڑ گئی کہ اس نے ایک نوجوان لڑکی کویوں بے باکانہ بازو سے پکڑ کر بٹھایا ہے اور اس سے یوں بات کی ہے جیسے وہ اس کا ایک زمانے سے دوست ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس احساس نے دہ جذبہ بالکل سلادیا جو تھوڑی دیر پہلے فریا کے متعلق اس کے دل میں پیدا ہواتھا۔ وہ تمام باتیں جو ایک ایک کر کے اس کے دماغ میں بیجوں میں سے نکلنے والے ننھے پودوں کی طرح ابھری تھیں دب گئیں اور وہ بے چین ساہوگیا۔ اس کی اس بے چینی کو دیکھ کر فریا پھر اُٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ ’’میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں، یہ مجھے آج معلوم ہوا ہے ، آج سے کچھ روز پہلے میں سمجھتی تھی، سب دُنیا میری ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ دنیا پھر کبھی میری ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سوال کا جواب میں تو نہیں دے سکتی۔‘‘
وہ آہوں میں باتیں کررہی تھی۔ ۔ ۔ ’’میں ہسپتال کبھی واپس نہیں جاؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ کبھی نہیں جاؤں گی۔ لاہورمیں چنددن میں نے بڑی خوشی سے گذارے ہیں میرے غم کے دن بھی یہیں گذریں گے۔۔۔۔‘‘
میں یہاں کسی دُوکان میں ملازم ہو جاؤں گی اور۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور باقی دن یونہی بیت جائیں گے۔۔۔۔۔؟
یہ کہہ کر فریاپھر دروازے کی طرف بڑھی مگر سعید نے اُسے روک لیا مس فریا!جو کچھ تم نے کہا ہے اس کا مجھ پر بہت اثر ہوا ہے جس شخص نے بھی تم کو دھوکا دیا ہے نہایت ذلیل آدمی ہے۔ تم کو دھوکا دینا بہت بڑی بات نہیں ہے اسی لیے تم اس قابل نہیں ہو کہ تم سے فریب کیا جائے مجھے تم سے کامل ہمدردی ہے کاش !جو کچھ ہو چکا ہے میں اس کی اصلاح کر سکتا۔ پھر یک لخت سعید نے ایک نئے لہجے اور نئے انداز میں کہنا شروع کیا :فریا معاف کرنا ،تم ایک بالکل غلط آدمی کے پاس آئی ہو تم سمجھتی ہو میں عورتوں سے واقف ہوں اور ان کو سمجھ سکتا ہوں۔ بخدا تم پہلی عورت ہو جس سے میں نے کھل کر بات کرنے کی کوشش کی ہے ہسپتال میں تم سے جتنی باتیں ہوتی تھیں بالکل مصنوعی تھیں۔ اس لیے کہ میں صرف ایک ایسی عورت سمجھ کر تم سے باتیں کرتا تھا جس سے میں جواب کے بغیر باتیں کر سکتا ہوں۔ تم ہماری سوسائٹی سے واقف نہیں ہو۔ ہم لوگ اپنی ماں بہن کے سوا اور کسی عورت کو نہیں جانتے۔ ہمارے یہاں عورتوں مردوں کے درمیان ایک موٹی دیوار حائل ہے۔۔۔۔ ابھی ابھی تمہارا بازو پکڑکر میں نے تمہیں اس چارپائی پر بٹھایا تھا ،جانتی ہو میرے جسم میں ایک سنسی سی دوڑگئی تھی۔ تم اس بند کمرے میں میرے پاس کھڑی ہو۔ جانتی ہو میرے دماغ میں کیسے کیسے خیالات چکر لگا رہے ہیں .....مجھے بھوک محسوس ہو رہی ہے میرے پیٹ میں ہلچل مچ رہی ہے ...میری رُوح ساکن ہو گئی ہے اور سارا جسم متحرک ہوگیا ہے۔ تم نے اپنے اس عاشق کی باتیں کی ہیں اور میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی رہی ہے کے اُٹھ کر تمہیں اپنے سینے سے لگا لوں اور اتنا بھینچوں ،اتنا بھینچوں کہ خود مجھے غش آجائے،لیکن مجھے اپنے جذبات پر قابو پانے کا گُر حاصل ہو چکا ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی کئی خواہشیں اب تک کچل چکا ہوں،تم حیران کیوں ہوتی ہو۔ میں سچ کہتا ہوں۔ عورت کے معاملے میں میری کوئی خواہش اب تک پوری نہیں ہوئی۔ تم پہلی عورت ہو جس کو میں نے اس قدر قریب سے دیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ میں....تمہارے اور زیادہ قریب جانا چاہتا ہوں لیکن .....لیکن میں شریف آدمی ہوں۔ میں تم سے محبت نہیں کرتا ہوں لیکن....لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں یا چونکہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔ اس لیے میں تم سے دلچسپی نہ لوں گا....یہ بات نہیں ہے ....محبت محبت ....میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ محبت کیا ہے جو محبت کیے جانے کے بالکل قابل نہیں...مجھے اس سے نفرت ہے بخدا اس کے نام سے ہی نفرت ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ اسی نفرت نے اسی حقارت نے میرے دل میں اس کی محبت کے بیج بو دیئے ہیں
فریا نے پوچھا: ’’کون ہے یہ لڑکی ۔۔۔؟
کون ہے !تم اسے جان کر کیا کرو گی .......ایک معمولی لڑکی ہے ،جو بہت عرصے سے عورت بن چکی ہے اُس کا دل ودماغ لطافتوں سے خالی ہے،وہ گوشت پوست کی ایک پتلی ہے اور بس اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں‘‘ ۔۔۔ میرے گھر میں نوکر ہے ۔۔۔ پہلے کسی اور کی نوکر تھی میں اسی لیے امر تسر چھوڑ کر چلا آیا ہوں کہ اس کو دیکھ کر میرے دل میں ایک ناقابل بیان طوفان برپا ہو جاتا ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ اُسے اپنے طریقے پر محبت کروں مگر وہ ....وہ.....مس فریا خدا کے لیے مجھ سے نہ پوچھو! کہ وہ محبت کو کیا سمجھتی میں جانتا ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ محبت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کا خام تصور اُس عورت کے ذہن میں ہے ،مگر میں یہ بھی تو چاہتا ہوں کہ کبھی کبھی وہ کسی اچھی بات پر،کسی چست فقرے پر کسی شاعر کے نازک خیال پر، کسی تصویر کی جاذب نظر لکیر پر تڑپ اُٹھے .......مگر اُس کی آنکھیں ان تمام چیزوں پر بند ہیں میں دماغ سے سوچتا ہوں وہ پیٹ سے سوچتی ہے ،لیکن تماشہ تو یہ ہے کہ میں اُس سے محبت کرتا ہوں اور اس محبت نے میرے دل کے کواڑ دوسری محبتوں کے لیے بالکل بند کر دیے ہیں....میں.....میں ہمدردی کے قابل ہوں ....یہ کہہ کر سعید چارپائی پر افسردگی کی حالت میں بیٹھ گیا اور مس فریا نے اس کی پیٹھ پر یوں ہاتھ پھیرکر اُسے دلاسہ دینا شروع کیا جیسے وہ بچہ ہے اس کو فریا کی اس ہمدردی سے روحانی تسکین حاصل ہوئی اس کی ماں اکثر اس کی پیٹھ پر اسی طرح ہاتھ پھیرتی تھی۔ مگر فریا کے ہاتھ میں اُس نے اور ہی لذت پائی اور اُسے محسوس ہوا کہ وہ واقعی ہمدردی کے قابل ہے۔ اور دنیا کی سب عورتوں کو چاہیے کہ اس کی پیٹھ پر اسی طرح پیارومحبت سے ہاتھ پھیریں اور اُسے دلاسہ دیں۔ پھریکا یک اُسے کچھ خیال آیا اور اُس نے فریا کا دوسرا ہاتھ جو خالی تھا، اُٹھا کر اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور شکریے کے طور پر اسے دبانا شروع کر دیا فریا نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رہنے دیااور کہا عجیب بات ہے تم ایک عورت سے محبت کرتے ہو اور پھر ساتھ ہی محبت کرنا نہیں چاہتے ...وہاں سے بھاگ آئے ہو اور کسی دوسری عورت سے بھی محبت کرنا نہیں چاہتے اس پر سعید نے فریا کا ہاتھ چھوڑ دیا یہاں تو چاہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کسی عورت سے محبت کرنے کے لیے میں جتنے دن تڑپتا رہا ہوں اس کا تمہیں کچھ اندازہ نہیں۔ اور پھر محبت کا جو نظریہ میرے دل ودماغ میں محفوظ ہے وہ بھی تمہیں معلوم نہیں۔ جس مصیبت میں آجکل میں گرفتار ہوں اس کاپیدا کرنے والا خود میں ہوں۔ اُس عورت کی محبت میں مجھے کسی باہر کی طاقت نے گرفتار نہیں کیا،میں خود اس جال میں پھنسا ہوں،اور اب خود ہی اس سے نقل بھاگا ہوں لیکن.....لیکن میں بالکل بے جوڑباتیں کررہا ہوں.... دراصل ....میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جب میرا دل ایک عورت کی محبت سے بھراہے تو میں کسی دوسری عورت سے کیسے محبت کر سکتا ہوں وہ جذبات جو اُس عورت کے لیے میرے دل میں پیدا ہوتے ہیں تمہارے لیے یا کسی اور کے لیے تو پیدا نہیں ہو سکتے ..... میں جب اُس کا تصوردماغ میں لاتا ہوں تو خود کو اپنی سہولت کی خاطر مظلوم سمجھتا ہوں، لیکن تم سے بات چیت کرتے ہوئے یا تمہارا تصور دماغ میں لاکر میں اپنے آپ کو مظلوم نہیں سمجھتا، لیکن تم شاید میرا مطلب نہیں سمجھ سکی ہو۔ یہ کہہ کر وہ اضطراب کی حالت میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ فریا نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا، دنیا میں عجیب و غریب آدمی بستے ہیں....میں.....میں بہت ہی کوشش کرتی ہوں کہ اس کو جس نے مجھے ابھی دھوکا دیا ظالم یقین کروں۔ اور ان لوگوں کو بھی جو اس سے پہلے مجھے فریب دے چکے ہیں،وحشی درندے سمجھوں،مگر جانے میں کیوں ایسا نہیں کر سکتی۔ میں اُلٹا یہ سوچتی ہوں کہ شاید میں نے ہی ان پر ظلم کیا ہے۔ کیا پتہ ہے، مجھ سے ہی کوئی ایسی حرکت سرزدہوگئی ہو جس سے ان کو دُکھ پہنچا ہو....کبھی کبھی غٖصے میں آکر ان کو بُرا بھلا کہتی ہوں لیکن بعد میں افسوس ہوتا ہے.....آپ نرس کی زندگی کو اچھی طرح نہیں جانتے ہسپتال میں جو کوئی بھی آتا ہے روگی ہوتا ہے ہر مریض کو ہماری ہمدردی اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے.....لوگ مجھ سے عشق و محبت کی باتیں کرتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ انہیں کوئی مرض ہے جس کاعلاج میرے پاس ہے چنانچہ...میں...میں بڑی بیوقوف ہوں اور .....آپ.....،،،،
میں ..... سعید سے مسکرا کر کہا :
’’
میں سب سے بڑا بیوقوف ہوں ..‘‘
فریا مسکرائی اور اچانک طور پر اُس نے سعید کے ہونٹ چوم لیے....تھوڑی دیر کے لیے اس پریدہ بو سے نے سعید کے ہوش گم کر دیے۔۔ وہ سخت گھبراگیا.....مس فریا .....یہ کیا .....پھر سنبھل کر اُس نے کہا ..... اوہ .... اوہ ....... کچھ نہیں ...... میں دراصل ایسی چیزوں کا عادی نہیں ہوں۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا ...میں...میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘ یہ سُن کر فریا بہت ہنسی، شکریہ !.... شکریہ ..... تم بالکل بچے ہو .....ادھر آؤ ....اور خود آگے بڑھ کر اُس نے اُس کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ جما دیئے۔ اس عمل نے سعید کو اور پریشان کر دیا ،،مس فریا....مس فریا .....فریا نے ہٹ کر اُس کی طرف دیکھا اور کہا :تم بیمار ہو ....تمہیں ایک نرس کی ضرورت ہے۔۔۔۔‘‘ اپنی گھبراہٹ دور کر کے سعید مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے فریا سے کہا ’’مجھے فقط ایک نرس ہی کی نہیں اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ یہ سب چیزیں ملتی نہیں ہیں میں میں تم سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بہت سی خواہشیں میرے سینے میں اپاہج ہو چکی ہیں۔ میرے بہت سے احساسات لنگڑے ہو چکے ہیں۔۔۔ اب تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ میں خود بھی نہیں سمجھ سکتا کہ میں کیا ہوں کہ ایک چیز کے لیے خواہش کرتا ہوں ،پر ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہوں کہ اس خواہش کا اظہار نہ کروں۔ اس میں کچھ تو سوسائٹی کے وضع کردہ اصولوں کا قصور ہے اور کچھ میرا اپنا....میں ایک بہت بڑا آدمی ہوتا۔ یعنی میرے اندر ہر مخالف قوت کا مقابلہ کرنے کی ہمت ہوتی تو بالکل جدا بات تھی مگر افسوس ہے کہ میں ایک معمولی انسان ہوں۔ جس کا ذہن اونچے مقاموں کی سیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ کتنی بڑی ٹریجیڈی ہے‘‘ فریا نے اُس کی بات سُنی اور تھوڑی دیر کے بعد کہا ’’لیکن میں نے تو کبھی اپنے آپ کو معمولی عورت نہیں سمجھا،شاید یہی خیال تمام مصیبتوں کی جڑ ہے۔ میں نے ہمیشہ یہی سوچا ہے کہ میں غیر معمولی عورت ہوں۔ یعنی مجھ میں محبت کرنے کا مادہ دوسری عورتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور میں بہت مخلص ہوں مگر یہ عجیب بات ہے کہ میں کسی مرد کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد عورت میں کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ میرا خیال ہے ایسی باتوں کے متعلق سوچنا ہی نہیں چاہیے ....مرد عورت میں کیا چاہتا ہے، عورت مرد میں کیا چاہتی ہے اور پھر یہ دونوں مل کر کیا چاہتے ہیں ....ہاں !یہ بتاؤ، اب تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ فریا زور سے ہنسی یہ چاہنے کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا .....سعید بھی ہنس پڑا۔ فریا بولی
’’
میں بہت افسردہ تھی ،لیکن ان باتوں نے میری ساری افسردگی دُور کردی ہے۔ یوں تو میں بہت دیر تک مغموم رہ بھی نہیں سکتی ،لیکن پھر بھی جوباتیں آپ کے اور میرے درمیان ہوئی ہیں ،اتنی اچھی اور خوشگوار ہیں کہ وہ تھکن جو میں تین چار روز سے محسوس کر رہی تھی غائب ہو گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اب میں مستقبل کے متعلق صاف دماغ سے غور کروں گی ۔‘‘
’’
کیا ارادہ ہے؟‘‘ کوئی خاص ارادہ تو نہیں ،لیکن اب میں امرد تسر واپس نہیں جانا چاہتی ،کیونکہ مجھے وہاں پھر اس بات کا خطرہ رہے گا کہ کوئی آدمی کمپنی باغ میں گھومتا آنکلے گا اور میری کمزوریوں کا فائدہ اُٹھا کر چلتا بنے گا۔ میں اب یہاں لاہور ہی میں رہنا چاہتی ہوں .....آپ کب تک یہاں قیام کریں گے....؟
سعید نے جواب دیا : میں کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن خیال ہے دوڈھائی مہینے تک یہاں اور رہوں گا ....میں خود امرتسر نہیں جانا چاہتا ،،فریا نے کہا’’تومیں بھی دوڈھائی مہینے تک یہاں رہوں گی اُس کے بعد کوئٹہ چلی جاؤں گی، جہاں میری ایک بہن رہتی ہے، وہاں سے پھر کدھر جاؤں گی اس کے بارے میں سوچنا فضول ہے میرے پاس دو سو روپے تھے جن میں سے ڈیڑھ سو باقی رہ گئے ہیں۔ ہوٹل کا کرایہ ورایہ چکا کر میرے پاس سو بچیں گے ان سے کیا دو مہینے کا گزارہ نہ ہو سے گا ؟‘‘
’’
ہو جائے گا بشرطیکہ تم فضول خرچی نہ کرو میرے پاس صرف دو سو روپے ہیں اور مجھے اُن سے زیادہ سے زیادہ وقت بسر کرنا ہے جب امرتسر سے چلا تھا تو والدہ نے مجھے ڈھائی سو روپے دیے تھے اور میرا خیال ہے یہ ڈھائی ہزار روپیہ باقی بچا ہو گا، جو ہماری کل پونجی ہے ۔‘‘
سعید نے بالکل ٹھیک کہا،اس لیے کہ اس کی والدہ کے پاس اب مشکل سے ڈیڑھ ہزار روپیہ باقی بچا تھا۔ باپ کے پاس دس ہزار روپے تھے جن میں سے کچھ اُس نے اپنے والدہ کی زندگی میں فضول خرچیوں کے باعث ضائع کر دیے اور کچھ اُن کی موت کے بعد اِدھر اُدھر بربادکر دیے۔ سعید نے یہ روپیہ جسمانی عیاشیوں پر صرف نہیں کیا تھا۔ اس کو لڑکپن میں عجیب وغریب شوق تھے۔ ماں سے حیلے بہانے کے ذریعے سے یا صندوق میں سے روپیہ نکال کر اُس نے چوری چوری یعنی باہر ہی باہر کئی سائیکلیں خریدیں اور لطف یہ ہے کہ اُس کو سائیکل چلانے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا۔ ان سائیکلوں کو اُس کے دوست استعمال کرتے تھے اور وہ خوش ہوجاتا۔ اُس طرح اس نے گھر میں سے روپیہ چرا کر ایک چھوٹی سینما کی مشین خریدی،غالبا تین سوروپے کی اور یہ مشین وہ کبھی چلانہ سکا، اُس لیے کہ اس کے دوست کے گھر میں بجلی نہیں تھی۔ جہاں اُس نے اس کو چھپا کر رکھا تھا۔ دوبار گھر سے بھاگ کر بمبئی گیا اور ساتھ میں اپنے دوستوں کو لے گیا۔ وہاں بھی اس نے کوئی عیاشی نہ کی،مگر سارا روپیہ فضول برباد ہوگیا۔
سعید کا باپ اس پر اکثر سخت ناراض رہتا تھا۔ وہ ایک تیز طبیعت کا سخت گیر باپ تھا۔ اُس کو اپنے بیٹے کی ان حرکتوں پر سخت غصہ آتا تھا اور چنانچہ وہ اس کو کڑی سے کڑی سزا بھی دیتا، لیکن وہ اپنی زندگی میں اس کو سدھارنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ سعید کی ماں اس کے باپ کے باکل برعکس بے حدنرم طبیعت عورت تھی۔ اسے اپنے بچے سے اتنا پیار تھا کہ اگر کسی سے اس کا ذکر کیا جائے تو افسانہ معلوم ہو۔ اس لڑکے کی خاطر اس نے بہت دُکھ جیلے، بے شمارتکالیف برداشت کیں، مگر اس کی ہر خواہش کو پورا کیا۔ وہ لوگوں سے کہتی تھی:
’’
مانتی ہوں، میرا لڑکا بہت فضول خرچ ہے،اس کو آگے پیچھے کا کوئی خیال نہیں،بڑا ہٹ دھرم ہے،لیکن دل اس کا برا نہیں۔۔۔۔۔۔ تم دیکھ لینا ایک روز سب دلدر دُور کردے گا۔‘‘ اب بھی اس کا یہی خیال تھا کہ ایک روز اس کا بیٹا جو پُرخلوص دل کا مالک ہے یک بیک نیا آدمی بن جائے گا اور سب لوگ حیرت سے اس کا منہ دیکھیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
ماں کے دل میں اپنے بیٹے کے متعلق مختلف خواہشوں اور امیدوں کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ سعید کی ماں پر لے درجے کی خوش اعتقاد اور خدا پر اعتماد رکھنے والی عورت تھی، اس لیے وہ کبھی نا امید نہیں ہوتی تھی۔ اُس کوخدا کے گھر سے اُمید تھی کہ اس کا اکلوتا بچہ بہت جلد سدھرجائے گا۔ اور اس کی تمام پریشانیاں دُور ہو جائیں گی۔ وہ ہر وقت خدا سے اس کی بہتری کی دُعا مانگتی رہتی تھی۔ کیونکہ اس کا ایمان تھا کہ ہر انسان اپنی مرضی سے بُرائیاں نہیں چھوڑ سکتا،اور صرف خدا کے فضل و کرم سے ہی اچھائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ چنانچہ اُس نے اپنے لڑکے سے کبھی بازپرس نہ کی تھی۔
ادھر اُس کا لڑکا سعید خدا کے فضل وکرم سے بالکل غافل تھا۔ یہ غفلت ارادی نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ اپنے افعال میں اسے صرف اپنا ہی ہاتھ نظر آتا تھا وہ ایک تیز دھارے میں بہتا چلا جا رہاتھا۔ ایک زمانے سے اس کے خیالات مختلف شکلوں میں ظاہر ہو ہو کر اِدھر اُدھر بکھر رہے تھے۔
اس کی زندگی ایک ایسا افسانہ تھا جو کاغذ پر نہ لکھا گیا ہو۔ جس طرح افسانے کا پلاٹ بناتے وقت مصنف کے مختلف خیالات کا ایک الجھاؤ ساپیدا ہو جاتا ہے اور مربوط واقعات و حادثات کا ایک ڈھیر سالگ جاتا ہے اسی طرح اُس کی زندگی ایسے بے شمار خام خیالات کا اجتماع تھی جو تلے اوپر افراتفری کے عالم میں پڑے تھے۔ ۔ ۔ ۔ !
وہ ایک لمبی نہ ختم ہونے والی پیچ دار سڑک پر جا رہاتھا۔ بڑی تیزی کے ساتھ، جو کچھ اُس کے پیچھے رہ گیا تھا،اس پر اس نے کبھی غور نہیں کیا تھا۔ جو اُس کے آگے آنے والا تھا،اس سے بھی وہ بالکل بے خبر تھا۔ وہ ماضی اور مستقبل کی سرحدوں کے بیچ میں حال کے ساتھ کھیل رہاتھا۔ ایسا کھیل جس کا مطلب سمجھنے کے لیے اگر اُس نے کوشش بھی کی تو ناکام رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
باپ کی سرزنش اور ماں کی مسلسل دُعا اس پر اثرانداز نہ ہوسکی اور وہ اپنی زندگی کو سمجھنے اور سمجھنے کی کوشش میں مصروف ایک ایسے راستے پر چلتا رہا،جو بیک وقت دشوار گذار اور سہل تھا۔
اُس کا باپ اُس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ہنگامی اور کج رفتار زندگی پر افسوس کر تا مرگیا۔ باپ کی موت نے اُس پر کافی اثر کیا۔ وہ کئی گھنٹے اپنے باپ کی لاش پر رویا، لیکن اُسی ماتم کے دوران میں اُس کا ذہن آنسوؤں کے آگے دیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ آگے بہت آگے عورتوں کی چینحوں اور رونے دھونے کی بھیانک آوازوں کے اندر نہ جانے کہاں اس کی اندرونی سماعت ایسی آواز تلاش کر رہی تھی جس کوسن کر اسے روحانی سکون حاصل ہو جائے۔ اس کی آنکھیں روئیں،اس کا ساراوجود رویا۔ اس کو باپ کی موت کا واقعی بہت افسوس تھا۔ مگر روتے روتے ایک دم اُسے خیال آیاتھا۔ ۔ ۔ ۔ میں رورہا ہوں،یہ لوگ جو آس پاس جمع ہیں، کیا دل میں یہ تو نہیں خیال کرتے کہ یہ سب ڈھونگ ہے۔ ۔ ۔ اس خیال نے سعید کو یک بیک ایسی نئی دنیا میں پھینک دیا تھا۔ اُس کے آنسو بالکل خشک ہو گئے اور وہ دیر تک اپنے باپ کے بے جان اور پرسکون چہرے کی طرف دیکھتا رہا تھا،جس پر اُس کی بدعنوانیاں نفرت اور غصے کے ملے جلے جذبات پیدا کر رہی تھیں۔۔۔۔۔!
باپ کو قبر کے سپرد کر کے جب وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ گھر واپس آیا تھا اور رات کو اکیلے میں اُسے یہ محسوس کر کے بہت تعجب ہوا تھا کہ وہ بہت ہلکا ہو گیا ہے،جیسے اس کے وجود پر سے منوں وزن اُٹھا دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب سمجھنے کی اُس نے کوشش کی مگر ناکام رہا۔
باپ کی موت کے بعد اُس نے ایک روز بیٹھ کر بہت ارادے اپنے سینے میں جمع کیے اور تہیہ کرلیا کہ وہ اب اپنا نیاراستہ اختیار کرے گا۔ مگر یہ نیا راستہ اختیار کرنے پر بھی وہ اسی پرانے راستے پر گامزن رہا۔ یہ راستہ چند موڑوں کے بعد ہی اُسے اُسی پرانے راستے پر لے گیا جس پر وہ ایک عرصے سے چل رہاتھا۔ جب اُسے اس بات کا احساس ہوا تو اُس نے سوچا کہ زندگی خود راستے بناتی ہے۔ راستے زندگی نہیں بناتے۔ چنانچہ اس خیال پر زیادہ غور وفکر کیے بغیر وہ چلتا رہا اور چلتے چلتے اس کی راجو سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس سے اپنا دامن بچا کر وہ بھاگا تو لاہور میں مس فریا سے اتفاقیہ طور پر ملاقات ہو گئی اور اُسے ایسا محسوس ہو نے لگا کہ اس اینگلو انڈین لڑکی کے لیے اُسے اپنا سفر کچھ دنوں کے لیے ملتوی کرنا پڑے گا۔
مسن فریا سے محبت کرنے کا خیال فضول تھا ،کیونکہ اس کو اس زاوئیے سے دیکھنے کا خیال ہی اُس کے دماغ میں پیدا نہیں ہوتا تھا۔ فریا خوبصورت تھی۔ اُس میں وہ تمام باتیں تھیں جو مردوں کی خاص خواہشات پوری کرسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ وہ ایک ایسے سلیقے کی مالک تھی۔ جو سعید کی صنا عانہ طبیعت کے بالکل موافق تھا۔ اب کہ حالات نے اُن دونوں کو ایک دوسرے کے بالکل پاس کھڑا کر دیا تھا۔ سعید کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ وہ فریا کو چھو کر دیکھے۔ اس کو سمجھنے اور اس کی زندگی کا حدوداربعہ معلوم کرنے کا خیال اس کے دماغ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔
دیکھو مس فریا! اس نے ارادہ کر کے اپنا مافی الضمیر گول مول طریقے سے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا،دیکھو! لیکن وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ ۔ ۔ ۔ اس پر فریا نے اُس سے کہا:تم کچھ کہتے کہتے کیوں رُک جاتے ہو، کہو، جو کچھ تمہیں کہنا ہے، کہو۔۔۔۔۔ ’’میں نہیں کہہ سکتا۔ ۔ ۔ ۔ الفاظ میری زبان پر آتے ہیں اور پھر اندر لُڑھک جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ میری یہ کمزوری کبھی دور نہ ہوگی۔ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا‘‘۔
’’
یہ اور بھی بُرا ہے،تم کچھ کہنا چاہتے ہو،اور پھر کچھ کہنا بھی نہیں چاہتے۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ کیا مصیبت ہے۔‘‘
’’
میں تم سے بارہا کہہ چکا ہوں،میں نے ایسی فضا میں پرورش پائی ہے جہاں آزادئ گفتار اور آزادئ خیال بہت بڑی بدتمیزی متصور کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ جہاں سچی بات کہنے والا بے ادب سمجھا جاتا ہے،جہاں اپنی خواہشات کا دبانا بہت بڑاثواب خیال کیا جاتا ہے۔۔۔۔‘‘
اس میں میرا کیا قصور ہے، میں۔۔۔۔ میں۔۔۔ تم سے اور کیا کہوں،تم خوبصورت ہو،تمہاری باتیں مجھے اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ میں بھی بُرا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ لیکن پھر۔ ۔ ۔ لیکن پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ تمہارا بوسہ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تمہارا بوسہ ابھی تک میرے ہونٹوں پر چل رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
فریا نے اِس کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہا،ایک اور بوسہ تمہارے ہونٹوں پر چلاؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو ہو جائیں گے تو اچھا رہے گا۔
یہ سُن کر سعید نے تھوڑی دیر سو چا اور کہا:’’مس فریا میں تم سے ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’
بڑے شوق سے،ایک کے بدلے دو پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تین پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ اور چاہو تو پوچھتے جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
’’
میں پوچھتا ہوں،کیا تم سے محبت کرنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کیا تم سے محبت کیے بغیر دوستی نہیں ہوسکتی۔‘‘
’’
یہ سوال تمہارا بڑا عجیب و غریب ہے،محبت کے بغیر دوستی کیسے ہوسکتی ہے اور دوستی کے بغیر محبت بھی تو نہیں کی جاسکتی۔ تم الجھنوں میں خواہ مخواہ پھنس رہے ہو۔۔۔۔‘‘
’’
۔۔۔۔یہ کہتے کہتے اس کے گال سُرخ ہو گئے‘‘ میں نے تو کبھی ایسی باتوں پر غور نہیں کیا،اور ایسی باتوں پر غور ہی کون کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوچ بچار کے لیے اور تھوڑی چیزیں ہیں۔‘‘
فریا میں ایک نئی دنیا کی سرحدوں پر کھڑا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ اس کے اندرداخل ہونے سے پہلے میں بہت کچھ سوچنا چاہتا ہوں ،مگر عجیب مصیبت ہے کہ سوچ ہی نہیں سکتا۔ ۔ ۔ مگر مجھے سوچنا ضرور ہے۔ اس کے بغیر گذارا نہ ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
فریا کے گال اور سُرخ ہو گئے‘‘تم بالکل بچے ہو۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بغیر ہی اچھی طرح گذارہ ہو سکے گا۔ ۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ ۔ تم۔ ۔ ۔ آخر تم چاہتے کیا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
فریا کے اس سوال نے سعید کو پریشان کردیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’
میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ۔ میں کیا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے پاس رہو۔‘‘
یہ کہہ کر سعید کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا سینہ ایک دم خالی ہو گیا ہے جیسے موٹر کے ٹائیر سے ہوا خارج ہو گئی ہے،چنانچہ گھبرا ہٹ کے عالم میں اُٹھا اور تیزی سے کمرے سے باہر چلاگیا۔ فریا بیٹھی رہی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ فوراً ہی لوٹ آئے گا،مگر جب دس پندرہ منٹ گذر گئے تو اُس نے اُٹھ کر باہر بالکونی میں دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ نیچے بازار میں نظر دوڑائی تو وہاں بھی سعید نظر نہ آیا۔ فریا کو تعجب ہوا کہ اُسے اکیلا چھوڑ کر آخر وہ کہاں بھاگ گیا ہے،واپس کمرے میں آکروہ اس کا انتظار کرنے لگی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جرأت سے کام لے کر شام کو جب سعید واپس لوٹا تو وہ کمرے میں داخل ہونے لگا تو دروازہ بند تھا۔ اُس نے ہولے سے دستک دی،تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا ،وہ اندر داخل ہو اتو فریا نے فوراً ہی کواڑ بھیڑ دئیے اور کہا ’’تمہیں شرم نہیں آتی،اتنی دیر کے بعد گھر واپس آئے ہو۔ ۔ ۔ ۔ لیکن چھوڑو اِن باتوں کو۔ ۔ ۔ ۔ بتاؤ کہ اب کیا کھائیں گے اور کہاں کھائیں گے مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے‘‘۔
وہ جواب میں فریا سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اُس کی نگاہیں لوہے کی چارپائی پر پڑیں،بستر بچھا ہوا تھا ،تکیئے پڑے تھے،تکیوں کے پاس ہی اس کا وہ ناول رکھا تھا جو اُس نے ابھی تک صرف آدھا ہی پڑھا تھا۔ اس کے چاروں شوبڑے سلیقے سے ایک قطار میں چار پائی کے نیچے رکھے تھے۔ چمڑے کے ٹرنگ گھسیٹ کر کونے میں رکھ دیئے گئے تھے۔ اور سامنے کھڑکی کی سل پر اُس کا ٹائم پیس پڑا تھا۔ ادھر دائیں ہاتھ کو جو غسلخانہ تھا اُس کا دروازہ کھلا تھا۔ اور اُس نے دیکھا کہ اسٹینڈ پر تولیہ لٹک رہا ہے۔ اُس کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ ایک زمانے سے اس کمرے میں آباد ہے اور فریا کو وہ ازل سے جانتا پہچانتا ہے۔ اُس کو اِس احساس نے بڑی راحت بخشی۔
خوش ہو کر سعید نے کہا:
’’
فریا! بھئی ایک بات کی کمی رہ گئی ہے اُدھر جنگلے پر تمہارے دُھلے ہوئے بنیان لٹکنے چاہئیں اور ساتھ والا کمرہ خالی پڑا ہے،اس میں تمہارا سنگھار میز ہو نا چاہیے اور اُس پر پوڈر اور کریموں کے ڈبے بکھرنے چاہئیں۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ اگر ایک پنگوڑا بھی آجائے تو کیا حرج ہے۔ واللہ پورا خاندان جمع ہو جائے اور میں۔ ۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ضرورت سے زیادہ تونہیں کہہ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
فریا نے بڑھ کر اُس کے گلے میں باہیں حمائل کردیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’تم بے کار باتوں کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دیا کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساتھ والا کمرہ کل ہی لے لینا چاہیے۔ سنگھار میز بھی رہے،لیکن یہ پنگوڑے کی بات غلط ہے۔ مجھے اتنی جلدی مکمل عورت بننے کی خواہش نہیں اور میراخیال ہے کہ تم باپ بننے کے اہل بھی نہیں ہو۔ ۔ ۔ ۔ لیکن کھانا کھانے کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے،میں کہتی ہوں،وہیں ہوٹل میں آخری ڈنر اُڑایا جائے اور کرایہ ورایہ چکا کر میں اپنا اسباب یہاں لے آؤں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘
یہ سُن کر سعید گھبرایا۔ ۔ ۔ فریا کی باہیں علیحدہ کر کے اُس نے کہا:
’’
مگر۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس کمرے میں دو آدمیوں کی جگہ کہاں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
ہٹاؤ جی!فریا نے اپنا ہینڈ بیگ کھول کر گالوں پر پوڈر لگاتے ہوئے کہا:
’’
دیکھا جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کمرے میں تو ایک درجن مریض سما سکتے ہیں اور ہم تو صرف دوہیں ،دراصل تم بالکل وہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ گھر بار کیسے چلایا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلواب باہر چلیں۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

8

’’
سعید بے حد خوش تھا‘‘
فریا کے ساتھ رہتے ہوئے اُسے پورے دس روز ہو گئے تھے ساتھ والا چھوٹا کمرہ انھوں نے کرایہ پر لے لیا تھا۔ سنگھار میزبھی آگیا تھا،اور ادھر دوسرے کمرے میں ایک چھوٹی تپائی اور تین کرسیاں بھی لاکر رکھ دی گئی تھیں۔ زندگی بڑے مزے میں گذر رہی تھی۔
فریا خوش تھی کہ اُسے اتنا اچھا رفیق مل گیا، جس کا دل دھو کے بازی سے بالکل پاک ہے اور سعید خوش تھا کہ اُسے عورت مل گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اُسے ایک ایسی عورت مل گئی ہے۔ ۔ ۔ جس کو وہ چھو کر دیکھ سکتا ہے۔ اور جس سے بے تکلف باتیں کر سکتاہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو سلیقے کی مالک ہے اور اُسے خوش رکھنے کے بہت سے طریقے جانتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
فریا خوش ذوق تھی،نفاست پسند تھی اور سب سے بڑی خوبی اس میں یہ تھی کہ اُس کی جسمانی محبت میں بھی ایک خلوص تھا۔ ایسا خلوص جو سردیوں میں دھکتے ہوئے کوئلوں کے اندر دکھائی دیا کرتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دس دن ان کو اکٹھے رہتے گذر گئے تھے،مگر وہ محسوس کرتے تھے کہ ہمیشہ ہی سے اکٹھے تھے۔ فریا اپنی موجودہ زندگی پر غور وفکر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن سعید کے دماغ میں یہ خیال کبھی کبھی بھنبھناتی ہوئی مکھی کی طرح داخل ہو جاتا تھا۔ کہ اگر اُس کے کسی رشتہ دار یادوست نے یہ سب کچھ دیکھ لیا تو کیا ہوگا۔ چنانچہ اس خیال سے اُسے بہت اُلجھن ہوتی تھی۔ اور ایک عجیب و غریب خواہش اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی تھی کہ ساری دنیا تھم جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ خود ساکن ہو جائے اور سب لوگ بے جان پتھروں کے مانند ہو جائیں۔
وہ سوچتا،’’یہ آخرکیاہے،میں جس طرح چاہوں اپنی زندگی بسر کروں،لوگوں کو اس سے کیا سروکار۔۔۔۔۔ میں اکثر شراب پیتا ہوں تو دوسروں کے باواکا اس میں کیا جاتا ہے۔ میں اگر عورت کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں تو اس میں دوسروں کی اجازت لینے کا مطلب ہی کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیامیں اپنے افعال کا خود ذمہ دار نہیں۔ ۔ ۔ ‘‘
لیکن پھر وہ سوچتا کہ ایسی باتوں پر غور وفکر کرنا بالکل فضول ہے۔ اس لیے کہ وہ معاشرتی نظام کی ان خرابیوں کو دُور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ وہ ایک معمولی انسان ہے جس کی آواز شورشِ کا ئنات میں کبھی نہیں اُبھر سکتی۔
وہ خوش تھا، بہت خوش،مگر اس خوشی کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ایک مدہم لکیر کی طرح دوڑ رہا تھا کہ وہ کسی روز پکڑا جائے گا اور اُسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے ذلت اُٹھانا پڑے گی۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اُسے زبردستی ذلیل ہو نا پڑے گا،یعنی اپنی مرضی کے بالکل خلاف۔ ۔ ۔ ۔ وہ بالکل مجبورہوگا۔ وہ تمام باتیں جو سعید کے دل میں تھیں اور وہ تمام باغیانہ خیالات جو اس کے دماغ میں تھے وہیں کے وہیں دھرے رہ جائیں گے۔ اور اُس کا سرجھک جائے گا، اُس کو شرمندہ ہونا پڑے گا،بغیر احساس ندامت کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،
ایک روز اتفاقاً ایسا ہوا کہ سعید اور فریا دونوں شام کو چارلی چپلن کا فلم ماڈرن ٹائمز دیکھنے گئے۔ جب کھیل دیکھ کر سینما ہال سے باہر نکلے تو ایک آدمی نے اُن کی طرف بڑے غور سے دیکھا۔ فریا نے اُس سے کہا:
’’
یہ آدمی تمہیں بڑے غور سے دیکھ رہا ہے،تمہارا دوست تو نہیں؟‘‘ سعید نے اُس گھور نے والے آدمی کی طرف دیکھا اور زمین اُس کے پیروں کے نیچے سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔ یہ اُس کا دور دراز کا ایک رشتہ دار تھا جو لاہور ہی میں رہتا تھا۔ اور کسی کالج میں تعلیم حاصل کررہاتھا اُس نے سرکے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور فریا کو ساتھ لیے بغیر جلدی سے اس بھیڑ میں داخل ہوگیا جو صدر دروازہ پر جمع تھی۔
باہر نکل کر جو پہلا ٹانگہ نظر آیا، سعید اُس میں بیٹھ گیا۔ اتنے میں فریا آگئی،جلدی سے اُس کو ٹانگے میں بٹھا کر اُس نے گھر کا رُخ کیا۔ راستے میں اُن کی کوئی بات نہ ہوئی۔ لیکن جو نہی وہ کمرے میں داخل ہوئے فریا نے پوچھا:
’’
یہ ایک دم تمھیں کیا ہوگیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وہ آدمی کون تھا، جس سے ڈر کر تم مجھے چھوڑ کر باہر بھاگ گئے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
ٹوپی اُتار کر سعید نے چار پائی پر پھنک دی اور کہا:
’’
میں اس کا نام تو نہیں جانتا،لیکن وہ میرا رشتہ دار ہے۔ ۔ ۔ اب بات نکلتی نکلتی کہاں کی کہاں پھیل جائے گی۔۔۔‘‘
فریا زورسے ہنسی: ’’بس۔۔۔؟۔۔ بس اتنی بات کو جناب نے افسانہ بنا دیا۔۔۔ اجی ہٹاؤ۔۔۔۔۔ کون سی بات کہاں تک پھیلے گی۔۔۔۔ تم بڑے وہی ہو۔۔۔ چلو آؤ ادھرمیں تمہارے گلے پر مالش کر دُوں۔۔۔۔ اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دو گے تو مجھے یاد نہ رہے گا۔۔۔۔ تمہارا گلا کل سے خراب ہے۔۔۔۔۔ بس اب میں کچھ نہ سُنوں گی۔۔۔۔ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔ ٹھہرو کوٹ میں اُتار دیتی ہوں۔‘‘
کوٹ اور ٹائی اُتار کر فریا نے سعید کے گلے پر ایک روغن کی مالش کرنا شروع کر دی اور وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنے رشتہ دار کی مڈبھیڑ کو بھو ل گیا۔
مالش کرتے کرتے فریا نے اُس سے کہا:
’’
ارے۔ ۔ ۔ ۔ ڈنر کھانا تو ہم بھول ہی گئے،تم افراتفری میں یہاں دوڑ آئے اور سارا پروگرام درہم برہم ہوگیا۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ سینما دیکھ کر کھا نا ’’اسٹفل‘‘ میں کھائیں گے۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں اتوار کی عیاشی پوری ہو جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ اب کیا خیال ہے؟۔ ۔ ۔ میرا خیال کیا پوچھتی ہو،چلو،مگر مجھے تو بھوک نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر میرا گلابھی خراب ہے۔‘‘
تو ایسا کرو،بھاگ کر نیچے سے ایک ڈبل روٹی لے آؤ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑا ساپنیر اور مکھن یہاں پڑا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جام بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ دو توس تم کھا لینا، باقی میں کھالوں گی۔۔۔۔ یہ عیاشی بھی بُری نہیں۔۔۔۔ اسٹفل میں کھانا اگلے اتوار سہی۔
سعید ڈبل روٹی لے آیا مس فریا نے یوں چٹکیوں میں تپائی پر کپڑا بچھا کر ڈنر چن دیا۔ اور دونوں کھانے میں مشغول ہو گئے۔
ایک توس مکھن لگا کر فریانے اُس کو دیا اور کہا، یونہی اگر دن بیتتے چلے جائیں تو کتنا اچھا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں زندگی سے اور کچھ نہیں مانگتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صرف ایسے دن مانگتی ہوں ،جو اس تو س کی طرح مکھن لگے ہوں:
سعید نے جو اپنی ہونے والی بدنامی کے متعلق سوچ رہا تھا۔ فریا کے چکنے گالوں کی طرف دیکھا اور اُس کے دل کے ایک کونے میں یہ خواہش سرسرائی کہ وہ اُٹھ کر اُنھیں چوم لے۔ سعید ابھی کوئی فیصلہ نہ کرپایاتھاکہ فریا مسکراتی ہوئی اُٹھی اور اپنے موٹے جذبات بھرے ہونٹ سعید کے ہونٹوں سے پیوست کر دیے۔
ایک لمحے کے لیے سعید کو ایسا محسوس ہوا کہ فریا کے ہونٹوں کے وزنی لمس نے جھنجوڑ کر اُس کی روح کو آزاد کر دیا ہے، چنانچہ اُس نے زور سے فریا کے سخت سینے کو اپنی کمزور چھاتی کے ساتھ بھینچ لیا، اور دوسرے لمحے وہ دونوں آہنی پلنگ پر ایک دوسرے میں مدغم تھے۔
سعید دیوانہ وار فریا کے سانولے گالوں،موٹے ہونٹوں اور حیرت میں پھڑ پھڑاتی ہوئی کالی آنکھوں کو چو منے لگا۔ فریا کو سعید کی یہ مردانہ حرارت پسند آئی اور اُس نے اپنے آپ کو اس کی آغوش کے سپرد کر دیا۔
دفعتاً سعید کو فریا کی اس سپردگی کا احساس ہوا اور جس طر ح تھر ما میٹر کو برف دکھانے سے پارہ نیچے گرتا ہے اسی طرح سعید کی ساری حرارت اس کے ڈرپوک دل میں سمٹ آئی اور وہ ماتھے کا سردپسینہ پونچھتا ہوا فریاکی آغوش سے علیحدہ ہوگیا۔
فریا کے متوقع جذبات کو بڑے زور سے دھکا لگا۔ اُس نے بھینچی ہوئی آواز میں صرف اتنا کہا: کیا بات ہے سعید۔ ۔ ۔ ۔ ؟
’’
کچھ نہیں‘‘
یہ کہہ کر سعید کی گردن جھک گئی،اس کا لہجہ ضعیف ہوگیا:
’’
میں تمہارے قابل نہیں ہوں‘‘
یہ سُن کر فریا کے ہونٹ مادرانہ شفقت سے کھلے’’ڈارلنگ‘‘کہہ کر وہ اُٹھی اور اپنے دونوں بازو سعید کی گردن میں حمائل کر دیے۔
’’
بے وقوف مت بنو‘‘
سعید نے اُسی ضعیف لہجے میں جواب دیا:
’’
میں خود نہیں بنتا،بیوقوف یا چغد جو کچھ بھی ہوں،میرے ماحول کی صنعت گری ہے،یہ کہہ کر اُس نے فریا کی باہیں آہستہ آہستہ ہٹالیں۔ اس کے لہجے میں اب غم بھی شامل تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ میں اور تم میں بہت فرق ہے۔ تم آزاد ماحول کی پیداوار ہو۔ تم انگریز نہیں ہو۔ تمہارارنگ حاکم قوم کے رنگ سے نہیں ملتا۔
لیکن اس کے باوجود تم غیر محسوس طور پر یہ محسوس کرتی ہو کہ تمہارا درجہ ہم ہندوستانیوں سے بہت اُونچا ہے۔ لیکن چھوڑ واس کو، تم علانیہ مجھے ڈارلنگ کہہ سکتی ہو۔ لیکن تخلئیے میں بھی تمہیں ڈارلنگ کہتے ہوئے میری زبان رُک جائے گی۔ تم جاتنی ہو کہ تمہارا مصرف کیا ہے، لیکن مجھے میرا مصرف کچھ اور ہی بتایاگیا ہے۔ تمہارے اعصاب آزاد ہیں،لیکن میرے غلط ماحول کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ تم مکمل ہو لیکن مجھے میرے تمدن نے اُدھورا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔ ایسی جگہ پر اُدھورا چھوڑا ہے کہ میری تکمیل میرے احساس ناتکمیلی سے بھی نہیں ہوسکتی‘‘
فریا،جس کے کانوں میں ابھی تک سعید کی مردانہ حرارت کی سرگوشیاں بھنبھنارہی تھیں۔ سعید کی اس خام فلسفیانہ گفتگو کا کچھ مطلب نہ سمجھی۔ ۔ ۔ ۔ ’’جانے تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
سعید پلنگ پر بیٹھ گیا،جیب سے سگریٹ نکال کر اس نے فریا کی طرف دیکھا۔ جس کی آغوشِ محبت میں سے وہ ابھی ابھی نکلا تھا۔ اُس احساس سے کہ اپنی اور فریا کی تندرست خواہش کو اُس نے بڑے ہی بھونڈے طریقے پر اُدھورا چھوڑ دیا تھا۔ سعید کو سخت روحانی کو فت ہوئی،چنانچہ اُس نے فریا سے کہا:
’’
تم میری اُلجھی ہوئی باتیں نہیں سمجھو گی، اس لیے کہ تمہاری زندگی کے تار بالکل سیدھے ہیں۔ لیکن یہاں میرے دماغ میں الجھاؤ کے سوا اور کچھ ہے ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ میں نے ایک بار پہلے کہا تھا کہ میں تمہارے قابل نہیں۔
ایک بار پھر کہتا ہوں۔ ۔ ۔ فریا!میں تمہارے قابل نہیں۔‘‘
فریا نے چڑ کر پوچھا:’’کیوں۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘
بتاتا ہوں۔۔۔۔ لیکن تم مجھ سے پہلے یہ پوچھو۔ ۔ ۔ ۔ ’’سعید کیا تم اپنی بیوی بنا کر مجھے اپنے گھر لے جاسکتے ہو؟‘‘
فریانے بڑی بے ساختگی سے کہا:
’’
لیکن لیکن میں نے تم سے کب کہا ہے کہ مجھ سے شادی کرو‘‘
سعید نے سگریٹ سلگایا اور ذرا سوچ کر کہا:
’’
تم نے مجھ سے ایسا نہیں کہا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں نے بارہا اپنے دل میں یہی سوال کیا ہے۔ اور مجھے ہمیشہ ہی حوصلہ شکن جواب ملاہے کہ سعید تم میں اتنی جرأت نہیں ہے۔ جب میرے سوال کا یہ بزدلانہ جواب ہے تو بتاؤ میں کیوں کر تمہاری نوازشوں کے قابل ہوں؟‘‘
فریا کے تشنہ جذبات بول اُٹھے:
’’
کیا ہم شادی کے بغیر ایک دوسرے سے محبت جاری نہیں رکھ سکتے؟‘‘
یہ سُن کر سعید کے دل میں سمٹی ہوئی حرارت تھوڑی سی پھیلی،لیکن وہ فریا کے پہلو سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ ’’نہیں‘‘
’’
کیوں۔۔۔؟‘‘
اس لیے کہ میں یہاں چوروں کی طرح رہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج ہی کی مثال۔ سینما کے باہر ایک رشتہ دار کو دیکھ کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس کا نام بھی مجھے یاد نہیں۔ ۔ ۔ ۔ میرے اوسان کیسے خطا ہو گئے تھے ،اور میں نے تمہیں اپنی توجہ سے یوں محروم کر دیاتھا،جیسے تم میرے لیے بالکل اجنبی ہو۔ ایسے ذلیل آدمی کے ساتھ رہ کر تمہیں زندگی کا کیا لُطف آسکتا ہے جو ابھی ابھی عورت کی آغوشِ محبت جیسی لطیف نعمت کو ٹھکرا کر ایک طرف ہٹ گیا تھا۔
فریا مسکراتی ہوئی پلنگ پر سے اُٹھی اور ایک بار پھر اپنی باہیں سعید کے گلے میں ڈال دیں۔
’’
تم بڑے اچھے ہو سعید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک فقط میں ہی محبت کرنا نہیں جانتی۔‘‘
فریا کی بے پناہ سادگی نے سعید کی گھائل رُوح پر ایک اور چرکا دیا۔۔۔۔۔ اُس نے آہستہ سے فریا کے پریشان بال سنوارے اور کہا:
’’
نہیں۔۔۔ یہ میرا جرم ہے اور میں اس کی سزاایک مدت سے بھگت رہا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ تم سے علیحدہ ہو اتو یہ سزا بامشقت ہو جائے گی‘‘۔
فریا چیخ اُٹھی:
’’
تم مجھے چھوڑ دو گے۔۔۔۔؟‘‘
سعید جواب میں صرف اتنا کہہ سکا:
’’
مجھے اپنے آپ سے یہی اُمید ہے‘‘
فریا بلک بلک کر رونے لگی۔ سعید چند لمحات خاموش کھڑا رہا،لیکن اس مختصر عرصے میں اُس کے دل کی سمٹی ہوئی حرارت اُس کے سارے جسم میں پھیل گئی تھی۔ اُس نے سُرخ آنکھوں سے فریا کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اپنے جلتے ہوئے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر داغ دیئے۔
ایک بار پھر آہنی پلنگ پر وہ ایک دوسرے میں مدغم تھے۔

(ختم شد)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین