برسو رام دھڑاکے سے: معین الدین جینابڑے



پچھلے دنوں ہندوستان میں میرے مختصر سے قیام کے دوران اچانک ٹھنڈی رام سے ملاقات ہوئی۔برسوں بعد غیر متوقع جب وہ مجھے ملا تو میں اس سے لپٹ گیا۔اس نے بھی مجھے بھینچ لیا، بڑی دیر تک ہم ایک دوسرے سے گتھے رہے، ویسے اگر آپ اس وقت ہم دونوں کو دیکھتے تو یہی کہتے کہ یہ بھرت ملاپ چند لمحوں کا تھا اور آپ کی بات کچھ غلط بھی نہ ہوتی کیونکہ گھڑی کی سوئیوں کے حساب سے ہم چند سکینڈ ہی آپس میں لپٹے رہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم دونوں اس وقت ایک دوسرے سے ملنے کی خوشی میں کچھ ایسے پاگل ہوگئے تھے کہ وقت کو ناپنے والے اس آلے کی ٹک ٹک ہمارے لیے بے معنی ہوگئی تھی۔جب ہم الگ ہوئے توذرا فاصلے سے ہم نے ایک دوسرے کو نظر بھر کر دیکھا ۔اب اس عمر میں دیکھنے جیسا کیا رہ گیا ہے ، پھر بھی میرے بالوں کی سفیدی اس کے بالوں سے جھانک رہی تھی اور اس کی آنکھوں کی نمی میری آنکھوں میں تیر رہی تھی۔میں نے پہلی بار جانا کہ وقت واقعی بڑا سفاک ہوتا ہے اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ہم ایک دوسرے کی سننے اور اپنی سنانے کے لیے اندر ہی اندر چھٹپٹاتے رہے۔لیکن پہل دونوں میں کوئی نہیں کرپارہا تھا۔دراصل ہوا یہ تھا کہ ہمارا رواں رواں بول رہا تھا اور لفظ گونگے ہوگئے تھے۔۔۔۔اور جب لفظ گونگے ہوجاتے ہیں تو ہر چیز کو زبان مل جاتی ہے: مسکراہٹ کو بھی۔۔۔۔میری مسکراہٹ کے جواب میں ٹھنڈی نے گردن ہلائی اور کہا:
’ہم لوگ تو سچ مچ ہی بوڑھے گئے ، رام کا نام لے کے ‘ مجھے شرارت سوجھی۔یہ بھلا کیسے ہوجائے کہ ٹھنڈی مل جائے اور میں اس کے چٹکی نہ لوں چاہے وہ پچاس برس بعد ہی کیوں نہ ملا ہو۔میں نے کہا ۔
’اپنے ساتھ مجھے کیوں بڈھا کہہ رہے ہوبڑھؤ؟ اور تو کوئی آج بوڑھا تھوڑے ہی ہوا ہے! تو تو پیدائشی بوڑھا ہے۔‘
’تو میں پیدائشی بوڑھا ہوں رام کا نام لے کے، اور تو؟‘
’اور میں سدا کا جوان ہوں رام کا نام لے کے۔‘
میرے اس طرح رام کا نام لینے سے وہ بڑا محظوظ ہوا ۔قہقہے مار کر ہنسنے لگا اور مجھ سے لپٹ گیا۔میں نے بھی اسے بھینچ لیا۔اب ہم دونوں مل کر ہنس رہے تھے اور راستہ چلتی بھیڑ میں سے کچھ راہگیر ہماری طرف دیکھ کر مسکرارہے تھے۔۔۔۔رام کا نام لے کے!
’رام کا نام لے کے‘بچپن ہی سے ٹھنڈی کا تکیہ کلام رہا ہے۔کبھی جملہ اس فقرے سے شروع ہوتا تو کبھی اس پر ختم اور بعض اوقات جملے کے بیچ ہی میں کہیں جب وہ اٹکنے لگتا تو رام کا نام لے کے اسے پورا کردیتا۔اس کی یہ عادت پورے گاؤں کے لیے مستقل تفریح کا باعث تھی۔ہم اسے رام کا نام لے لے کر چڑاتے تھے اور چھیڑ کا مزہ اس وقت دوبالا ہوجاتا جب وہ ہمیں رام ہی کا نام لے کر صلواتیں سناتا۔اس پر ہم اسے بڑے سخت لہجے میں ٹوکتے کہ ابے رام جی کا نام لے کر گالیاں بکتا ہے اور اس کا جواب اس سے نہ بن پڑتا۔وہ جھلا جاتا اور خفت مٹانے کے لیے اور اونچی آواز میں اپنے تکیہ کلام کے سہارے ہمیں بے نقط سنانے لگتا۔
بعض اوقات چھیڑ چھاڑ میں ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی اور کبھی کبھار بات اس سے بھی آگے بڑھ جاتی جیسے اس شام ہوا تھا جب ٹھنڈی نے رام کا نام لے کے ایک نوکدار پتھر اٹھایا تھا اور نشانہ باندھ کر مجھے لہو لہان کردیا تھا۔وہ برسات کے دن تھے شام کا وقت تھا، خوب گھنے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن برس نہیں رہے تھے اور ہم سب کورس میں رام جی کی دہائی دے رہے تھے۔
برسو رام دھڑاکے سے
بڑھیا مرگئے فاقے سے
مجھے یہ سوال ہر بار پریشان کرتا تھا کہ ہم دہائی تو بڑھیا کے مرنے کی دیتے ہیں لیکن کہا یہی جاتا ہے کہ رام جی کی دہائی دے رہے ہیں۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ پتہ نہیں کہ کیوں مجھے ایسا لگا کہ اس سوال کا جواب ٹھنڈی کے پاس ہوگا۔اپنے ساتھیوں سے ذرا الگ ہوکر میں نے ٹھنڈی کو اپنے پاس بلایا تھا اور واقعی بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس کے سامنے اپنا سوال رکھا تھا۔یہ تو میرے وہم و وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس سوال سے ٹھنڈی چڑ جائے گا۔میرا سوال سنتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔اس وقت میں ٹھنڈی کو چھیڑنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا ،لیکن اب ٹھنڈی گرمی کھا چکا تھا۔
’دہائی چاہے جس کی دیتے ہوں، تم رام کا نام نہ لیا کرو‘
’کیوں نہ لیں‘
ٹھنڈی کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں تھی، ہو بھی نہیں سکتی تھی۔لیکن چپ رہنے میں بڑی سبکی ہوتی اس لیے اس نے جو منہ میں آیا سو کہہ دیا۔
’تو مسلمنٹا جو ہے‘
’مسلمان ہیں تو کیا رام جی کا نام نہ لیں!‘
’ہاں نہ لیں۔’
’اور تو جو محرم کی دسویں کے روز نشان کے ساتھ سب سے آگے آگے چلتا ہے؟’
’ووتو ہم اپنے باپو کے ساتھ چلتے ہیں۔‘
’چلتے تو ہو‘
’ہم کوئی آج سے تھوڑے ہی چل رہے ہیں‘
’ہم بھی کوئی آج سے تھوڑے ہی رام کا نام لے رہے ہیں‘
’جو بھی ہو تم رام کا نام نہ لیا کرو‘
’کیوں‘
’کہہ جو دیا‘
’یہ کیوں نہیں کہتا کہ تجھے مرچیں لگتی ہیں ، رام کا نام لے کے‘
میرا ارادہ جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں، اس وقت ٹھنڈی سے لڑنے جھگڑنے کا ہرگز نہیں تھا لیکن میں خود کو روک نہیں سکااور میں نے بھی وہی کہہ دیاجو منہ میں آیا۔اگر یہ آخری جملہ میرے منہ سے نہ نکلتا تو وہ نوکدار پتھر وہیں سامنے زمین پر پڑا رہتا اور میری دائیں آنکھ کے اوپر بھوں کے بالوں سے جھانکتا ہوا زخم کا جو نشان آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں، وہ نہ ہوتا۔۔۔ٹھنڈی کی نظریں اسی نشان پر جمی ہوئی تھیں۔اس نے مجرم کی سی کانپتی آواز میں کہا ۔’میں سمجھا تھا ، ان برسوں میں رام کا نام لے کے یہ دھندلا گیا ہوگا‘میں نے ٹھنڈی کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔وہاں اب بھی نمی تیررہی تھی اور نمی کے پیچھے بہت دور تک اداسیاں بچھی ہوئی تھیں۔میں نے نشان پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔
’ٹھنڈی تیرا دیا ہوا یہ نشان اب میری پہچان بن گیا ہے، میرے پاسپورٹ اور تمام سرکاری کاغذات میں اس کی وہی اہمیت اور حیثیت ہے جو میرے نام اور ولدیت کی ہے۔اس کے بغیر نہ میں ، میں ہوں نہ میری تصویر میری۔سرکاری کاغذات سے قطع نظر اب تو خود میں بھی اس کے بغیر اپنے ہونے کا تصوربھی نہیں کرسکتا۔شاید میرے ہونے میں کہیں کچھ کمی رہ گئی تھی جسے اس نشان نے پورا کردیا ہے۔‘
ٹھنڈی نے بجھی بجھی سی آواز میں بہت دھیرے سے کہا:
’اپنے نشان کو تو سنبھال کے رکھے ہو بھیا پر کبھی ہمارے نشان کی بھی فکر کی ہوتی، رام کا نام لے کے‘
میں ٹھنڈی سے کیا کہتا۔اسے کیسے سمجھاتا کہ جب زمینداروں اور جاگیرداروں کی اولاد کو گاؤں کی زمین بے دخل کردیتی ہے تو ان پر کیا گزرتی ہے، انہیں کیا کیا سہنا پڑتا ہے اور وہ ان باتوں اور ایسے طعنوں کو سہنے کے لیے کہاں سے جگر لاتے ہیں۔
ٹھنڈی مجھے اپنے ساتھ گھر لے گیا۔بڑا شاندار فلیٹ تھا اس کا۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس کی بیوی پرلوک سدھار چکی ہے۔لڑکے نے شادی کرلی ہے۔بہو سگھڑ اور خوش اخلاق ہے لیکن ساس سے اس کی نبھ نہ کسی۔ٹھنڈی نے بیوی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔یہاں تک کہہ دیا کہ یہ غریب صرف مسلمان کے گھر پیدا ہونے کی گنہگار ہے ورنہ تو اسے رام کا نام لے کے نہ کلمے یاد ہیں نہ قرآن کی آیتیں۔
اس کی بیوی گنوار تھی لیکن اس نے دنیا دیکھی تھی۔وہ بس ایک ہی بات کہتی رہی کہ اس لڑکی کے پہننے اوڑھنے اور اٹھنے بیٹھنے سے ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ کس مذہب اور کیسے گھر کی ہے۔ٹھنڈی نے لاکھ اس سے کہا کہ آج کل کا ڈھنگ ہی یہ ہے۔ان باتوں کو اب برا نہیں سمجھا جاتا لیکن اس کی بیوی ٹس سے مس نہ ہوئی، دوسرے چاہے ان باتوں
کو برا نہ سمجھتے ہوں۔اس کے نزدیک یہی باتیں ادھرمی ہونے کے لکشن تھے۔۔۔ورنہ اتنی بات تو وہ بھی سمجھتی تھی کہ مسلمان ہونا کوئی پاپ نہیں۔من مار کر لڑکے کی پسند کو وہ بھی پسند کرلیتی پر مشکل یہ تھی کہ لڑکی ڈھنگ کی مسلمان بھی نہیں تھی اور بڑھاپے میں ادھرمیوں کی سنگت کے خیال ہی سے اس کی روح کانپنے لگتی۔
ٹھنڈی نے چائے کے لیے بہو کو آواز دی اور مجھ سے کہا:
’مسلمان تو خیر بڑی چیز ہوتا ہے۔رام کا نام لے کے ہم نے مسلمان دیکھے ہیں۔اب تو ڈھنگ کا آدمی ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
ٹھنڈی کی بہو نے آکر مجھے ہلو کہا اور ذرا توقف کے بعد انکل کا اضافہ بھی کردیا۔پھر اس نے خبردی کہ ڈرائیور ہوٹل گیا ہے۔ذرا سی دیر میں میرا سامان لے کر آجائے گا۔اس نے مجھ سے میرے خوردونوش کے معمولات دریافت کیے ۔یہ بھی پوچھا کہ گڈ فار بڈ ذیابطیس یا دل کے مرض جیسے کسی عارضے کی وجہ سے پرہیزی کھانا تو نہیں کھاتا۔میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔اس کے لب و لہجے اور ناک نقشے نے مجھے میری بیٹی کی یاد دلادی تھی۔اب یہ کہنا تو مشکل ہے کہ میری بیٹی اور ٹھنڈی کی بہو میں واقعی بڑی مشابہت تھی یا میرے اندر کے کسی جذبے نے اپنے طور پر دونوں کو ایک روپ میں ڈھال دیاتھا۔لیکن یہ سچ ہے کہ ڈھونڈنے سے مجھے دونوں کے چہرے مہرے اور رنگ ڈھنگ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آرہا تھا: سوائے اس کے کہ میری بیٹی نے جس بوائے فرینڈ سے شادی کی وہ اتفاق سے مسلمان ہے۔
میں نے ٹھنڈی کی بہو سے کہا کہ وہ میرے لیے کوئی خاص زحمت نہ اٹھائے بس اس بات کا خیال رکھے کہ میں ذیابطیس کا مریض ہوں۔اس پر اس نے اطمینان کا سانس لیا اور یہ کہتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی کہ ہمارے یہاں ویسے بھی شکر استعمال نہیں کی جاتی۔میں نے سوالیہ نظروں سے ٹھنڈی کی طرف دیکھا ۔اس نے اپنے ڈائبٹک ہونے یا نہ ہونے کے تعلق سے کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھا اور مجھے یہ مناسب نہیں معلوم ہوا کہ میں اسے اس تعلق سے کچھ کہنے پر مجبور کروں۔دراصل اپنی بیوی کو یاد کرکے ٹھنڈی بہت جذباتی ہوگیا تھا۔
’آج جیسے تو اتفاق سے مجھے مل گیا ویسے ہی چار چھ مہینے پہلے مل جاتا تو کتنا اچھا ہوتا۔‘
’کیوں؟‘
’میں تجھے ارون کی ماں سے ملواتا۔وہ بے چاری کسی ڈھنگ کے مسلمان سے ملنے کی حسرت اپنے ساتھ لے گئی۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اس کی یہ حسرت پوری ہوجاتی تو رام کا نام لے کے وہ کچھ برس اور جی لیتی۔‘
میں نے خوش طبعی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
’مجھ سے مل کر کسی کی حسرت کیا پوری ہوتی۔میں تو بے ڈھب آدمی ہوں۔تو یہ بتا تجھے بڑے شہر میں ایک مسلمان نہیں ملا؟‘
’مل جاتا تو بات ہی کیا تھی‘
’اور جو یہ تیرے پڑوس کے محلے میں مسجد ہے۔۔۔۔۔۔؟‘
’مسجد تو ہے، میں وہاں گیا بھی تھا۔مسجد کے دروازے پر ہی ’بحکم اراکین مسجد ھٰذا ‘رام کا نام لے کے ایک ’اہم اعلان‘ ٹنگا ہوا دیکھا۔
’نمازی حضرات کو معلوم ہو اس کے مسجد کے اراکین، مام، موذن اہلسنت، جماعت ہیں اور حنفی مسلک پر ہی نماز ادا کی جاتی ہے جو عین قرآن اور احادیث کے مطابق ہے۔لہٰذا ان حضرات سے ادب کے ساتھ عرض ہے جو لوگ آمین بلند آواز سے کہتے ہیں اور تکبیر سے پہلے یا شروع ہوتے ہی کھڑے ہوجاتے ہیں، وہ مسلک حنفی کی خلاف ورزی کر کے فتنہ پیدا نہ کریں ورنہ اس کی ذمہ داری انہی کے سر ہوگی۔‘
ٹھنڈی نے مجھے بتایا کہ یہ اعلان پڑھنے کے بعد اندر جانے یا باہر ہی کسی سے بات کرنے کی ہمت وہ نہیں جٹا پایا۔جہاں مسلک کے فرق سے فتنے اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں وہاں مذہب کا فرق جو نہ کرے وہ کم ہے! اور پھر ٹھنڈی ڈرا ہوا بھی تھا۔دسمبر اور اس کے بعد جنوری کے فساد کی ہولناکیاں اس کے حواس پر چھائی ہوئی تھیں۔۔۔۔پولس کی مدد بلکہ اس کی سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا اور فساد کے بعد ٹھنڈی جیسے بے قصور اور معصوم ہندو مسلمانوں کے محلوں سے گزرنے سے کتراتے تھے۔بہ حالت مجبوری اگر ان کا وہاں سے گزر ہوتا تو ندامت کے بوجھ سے ان کی گردنیں جھکی ہوئی ہوتی تھیں اور دل میں یہ دھڑکا بھی لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی شہدا گلی میں کھینچ کر کام ہی تمام نہ کردے۔
ٹھنڈی وہاں سے الٹے پیروں لوٹ آیا۔اس علاقے میں ذرا فاصلے پر ایک مسجد اور ہے۔ناکے سے بائیں مڑکر بیس قدم چلیں تو مارکیٹ کے سامنے کی گلی میں پڑتی ہے۔عصر اور مغرب کے بیچ کا وقت تھا۔عصر کے نمازی جا چکے تھے۔ مغرب کے نمازی ابھی آئے نہیں تھے۔ٹھنڈی نے باہر ہی سے بغور جائزہ لیا۔اراکین مسجد کے حق میں دل سے دعا نکلی کہ انہوں نے دروازے پر کوئی بورڈ نہیں ٹانگ رکھا تھا۔ٹھنڈی نے سر پر رومال باندھا اور رام کا نام لے کر مسجد میں قدم رکھا۔
اندر دائیں جانب کونے میں ایک باریش شخص چند نوجوانوں کو دین کے ارکان یاد کروارہا تھا۔لڑکوں سے فارغ ہوکر وہ ٹھنڈی کی طرف متوجہ ہوا ۔ٹھنڈی کے سلام کا جواب دے کر اس نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ٹھنڈی نے اپنا تعارف پیش کیا۔نام سن کر باریش شخص اس کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے پیش آیا۔وہیں مسجد کے دائیں کونے میں پنکھے کے نیچے بیٹھ کر دونوں باتیں کرنے لگے۔انہوں نے بابری مسجد کی شہادت پر ایک دوسرے کو پرسہ دیا۔سماج میں پھیل رہی لامذہبیت پر تنقید کی۔جب یہ سب ہوچکا تو ٹھنڈی نے بڑی امید کے ساتھ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
ٹھنڈی نے اس سے کہا کہ بھائی ہم نہ مسلمان ہیں نہ حسینی، نہ برہمن، لیکن ہم لوگ حضرت امام حسین ے پشتینی عقیدت مند ہیں۔آج عاشورے کا دن ہے۔میرے گھر میں میٹھا پکا ہے۔میں کسی دیندار مسلمان کی تلاش میں ہوں کہ اس سے فاتحہ پڑھواؤں۔اگر آپ میری مدد کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
اس شخص نے ٹھنڈی کی مدد نہیں کی۔فاتحہ کا نام سن کر اس کی گرمجوشی کی جگہ سرد مہری نے لے لی۔ٹھنڈی تاڑ گیا کہ یہ مسجد ان مسلمانوں کی ہے جن کی وجہ سے اب گاؤں میں تعزیے نہیں رکھے جاتے اور نہ محرم کا جلوس نکلتا ہے۔نشان کی مسجد اب صرف نام ہی کی نشان کی مسجد رہ گئی ہے۔مسجد کے جس کمرے میں ضریح اور علم رکھے جاتے تھے پچھلے دس برسوں سے اس کے دروازے پر ایک بڑا سا تالا جھول رہا ہے۔ٹھنڈی کے اس انکشاف نے میرا کلیجہ چھلنی کردیا کہ چا چا بلائیتی رام پر دل کا دورہ اور اس دروازے پر تالا دونوں ایک ساتھ پڑے تھے۔
ٹھنڈی کے والد بلائیتی رام ولد سالگرام کی گاؤں میں نون مرچ کی دکان تھی۔دکانداری کے ساتھ تھوڑی بہت ساہوکاری بھی کرلیا کرتے تھے۔کاروباری حس بہت تیز تھی اور خوش مزاج بھی بہت تھے۔بدیسی مال کے بائیکاٹ کے دنوں میں وہ اپنے نام کی وجہ سے اچھا خاصہ مذاق بن کر رہ گئے تھے۔یاردوست تو یاردوست گاؤں کے بچوں تک نے انہیں نہ بخشا تھا۔پہلے کوئی انہیں چاچا جی بلاتا تو کوئی چاچا بلائیتی رام۔لیکن اب وہ ہر ایک کے لیے بلائیتی چاچا ہوگئے تھے۔جب کوئی لونڈا انہیں بلائیتی چاچا بلاتا تو وہ چمک کر جواب دیتے بول دیسی بھتیجے!
اس خیال سے کہ کہیں اس ہنسی مذاق کا اثر ان کی دکانداری پر نہ پڑے چاچا بلائیتی رام نے اپنی دکان پر جس پر پہلے کبھی کسی نے کوئی سائن بورڈ نہیں دیکھا تھا، ایک تختہ ٹانگ دیا۔اس تختے پر جلی حرفوں میں لکھا تھا۔’خالص اور صرف دیسی مال کی دکان۔مالک فرزند سالگرام مرحوم‘
اب تو فرزند سالگرام مرحوم خود مرحوم ہوچکے ہیں۔ہوا یہ کہ سریو کے کنارے مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی املاک لوٹنے یا جلانے کا ایک سلسلہ سا چل پڑا۔بعض جگہوں پر ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ایسی کچھ کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور کچھ کامیابی سے ہمکنار نہ ہونے پائیں۔۔۔۔نشان کی مسجد کے مینار ایک ایسی ہی ناکام کوشش کے گواہ ہیں۔
ہجوم نے چاچا بلائیتی رام سے بہت کہا کہ وہ ایک بے گناہ ہندو کی ہتیا کا پاپ اپنے سر لینا نہیں چاہتا لہٰذا وہ اس کے راستے سے ہٹ جائیں لیکن چاچا بلائیتی رام بس یہی کہتے رہے کہ میرے جیتے جی آپ لوگ نشان کی مسجد تک نہیں پہنچ سکتے۔اس تکرار میں خاصہ وقت نکل گیا۔آخر کار مجبور ہوکر ان لوگوں نے چاچا بلائیتی رام کو روندتے ہوئے اپنی راہ بنائی۔
اس دوران مسلمانوں کو اتنا وقت ضرور مل گیا کہ وہ مسجد کے دفاع کے لیے صف آرا ہوسکیں۔ان کے مقابلے پر اتر آنے کی دیر تھی کہ ہجوم تتر بتر ہوگیا۔اب ہجوم کی جگہ پولس نے لے لی۔تربیت یافتہ پولس جوانوں نے لاٹھی اور بلم بردار مسلمانوں پر وہ اندھا دھند گولیاں برسائیں کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔نمازیوں کا حوض خون سے بھر گیا اور شام کی شفق مسجد کے در و دیوار سے لپٹ کر رونے لگی!
بچے کھچے مسلمانوں کو پولس نے بلوہ کرنے اور بلائیتی رام ولد سالگرام کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا اور فائل قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھا دی۔وہ تو کہیے کہ چاچا بلائیتی رام نے دس برس قبل ہی جب ان پر دل کا دورہ پڑا تھا بمبئی سے ٹھنڈی کو بلواکر وصیت کردی تھی ورنہ ان کی زندگی کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہوگیا ہوتا۔ٹھنڈی کو ان کا ایک ایک لفظ آج بھی یاد ہے۔انہوں نے کہا تھا:
’بیٹا! ہم امام حسین کے غم کے امین ہیں۔یہ ہمارے پرکھوں کی وراثت ہے۔حضرت امام حسین کی عظمت پر مٹھی بھر لوگوں کا اجارہ نہیں ہوسکتا۔اس غم کو سہارنے کے لیے پہاڑ جتنا بڑا کلیجہ چاہیے۔ہر کسی کے بس کی یہ بات ہے بھی نہیں۔ایسے لوگوں کی حرکت کا کیا برا ماننا جو اس غم کی عظمت کو نہ سمجھ سکے۔میں آخری سانس تک اپنے دھرم کا پالن کروں گا۔میرے بعد مجھے یقین ہے تم اپنا پتر دھرم نبھاؤگے لیکن ایک بات کی تاکید ضرور کرنا چاہوں گا۔فاتحہ کے لیے کسی دین دار مسلمان کو ہی بلانا۔‘ ذرا سا وقفہ دے کر انہوں نے کہا تھا،’پریشان کیوں ہوتا ہے ، ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے۔
اس سال بمبئی میں عاشورہ جون کی آخری تاریخ یا جولائی کی پہلی کو پڑا تھا اور اس سے پہلے آٹھ دسمبر کے روزٹھنڈی گاؤں کے شمشان سے پھول چوم کر لوٹا تھا۔وہ یہ سوچ کر حیران رہ گیا کہ ان چھ مہینوں کے عرصے میں اتنا وقت گزر گیا تھا کہ دین دار مسلمان کی تلاش میں اسے خدا یاد آگیا!
ٹھنڈی کی بیوی بڑی مذہبی عورت تھی۔اس نے زندگی میں کبھی ٹھاکر جی کو بھوگ لگائے بغیر ایک دانہ منہ میں نہیں رکھا تھا۔اسے اپنی سیوا اور شردھا پر بڑا وشواس تھا۔وہ نیاز کا برتن لیے تمام رات بیٹھی یہی مناتی رہی کہ ایشور چاہے اس کے پران لے لیں پر ایسا کچھ کریں کہ ہم اپنے اجداد کی روحوں کے سامنے شرمسار اور گنہگار ہونے سے بچ جائیں۔رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی۔برتن رکھا رہ گیا اور پڑوس کے محلے سے موذن نے اذان دی!
چاچا بلایتی رام نے کہا تھا’ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے ‘ تو پھر ٹھنڈی کو مسلمان کیوں نہیں ملا؟اب ٹھنڈی کس سے کہے کہ خدا کسی بھی جگہ مل سکتا ہے کیونکہ وہ ہر جگہ ہے لیکن دیندار مسلمان کا ہر جگہ پایا جانا شرط نہیں، وہ تو وہیں ملے گا جہاں ہوگا۔پتہ نہیں اتنی بڑی دنیا میں وہ کہاں ہے؟
ٹھنڈی کے نزدیک بمبئی کچھ ایسا برا شہر نہیں ہے مگر وہاں کے مسلمان کو آسمان پر ڈھونڈنے سے چاند نہیں ملتا اور قمری مہینے کی تاریخیں رام کا نام لے کر بڑھتی جاتی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ ایسے شہر سے کوئی کیا امید رکھے جو گزشتہ کئی برسوں سے ایک شرعی گواہ فراہم نہ کرسکا۔کیا شہر میں ایک بھی ایسا شرع کا پابند مسلمان نہیں رہا، جس کی بینائی سلامت ہو اور اگر ہے تو کیا وجہ ہے کہ بمبئی کے مسلمانوں کے نزدیک اس کی شہادت قابل قبول نہیں!
یہ نہیں کہ ٹھنڈی کے دوستوں میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔بہت ہیں۔سب کے سب بڑی خوبیوں کے مالک ہیں اور تقریباً ہر ایک کے بارے میں وہ یقین کامل کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے کبھی زندگی میں عیدین کی نماز ناغہ نہیں کی لیکن مسلمان اور دیندار مسلمان میں بڑا فرق ہوتا ہے وہی فرق جو زمین اور آسمان میں ہے۔۔۔یا پھر ۔۔۔وہ فرق جو بصارت اور بصیرت میں ہے!
قصہ مختصر یہ کہ اس عاشورے کے دن بمبئی میں وہ سب کچھ ہوا جو ہر سال ہوتا آیا ہے لیکن ٹھنڈی کے یہاں فاتحہ نہ ہوسکی۔ٹھنڈی کی بیوی اس صدمے کو جھیل نہیں پائی اور دو چار مہینوں میں وہ غریب پر لوک سدھار گئی۔ٹھنڈی بھی بجھ سا گیا۔اس دن کے بعد ٹھنڈی کے گھر میں میٹھا نہیں پکا۔میں نے ٹھنڈی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہاں کے شکر میں اب مٹھاس باقی نہیں رہی۔ٹھنڈی نے کہا تھا :
’اب ہماری زندگی میں نہ رس ہے نہ جس،بس جیے جا رہے ہیں۔جی بھی کیا رہے ہیں بیٹھے تھوک نگل رہے ہیں۔جب شکر ہی سے مٹھاس نکل جائے تو زندگی میں کیا رہ جاتا ہے۔تو میرا ایک کام کر ،وہاں مملکت خداداد میں اگر شکر جیسی شکر ملتی ہے تو میرے لیے بھیج دینا۔مرنے کے بعد مجھے اپنی پرکھوں کی روحوں کا سامنا کرنا ہے!‘
ٹھنڈی اپنی پرکھوں کی روحوں کا جب سامنا کرے گا تب کرے گامیں اس زندگی میں دوبارہ ٹھنڈی کا سامنا کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں پاتا۔میں پاکستان کا شہری اور کراچی کا باشندہ ضرور ہوں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ذیابطیس کا پرانا مریض ہوں مجھے شکر کا ذائقہ تک یاد نہیں رہا اور دوسرے جس چیز کو شکر قرار دیتے ہیں اسے شکر قبول کرنے میں مجھے تامل ہے یہ شہر جو روزانہ ٹنوں کے حساب سے شکر کھا جاتا ہے اگر واقعی شکر کھاتارہا ہے تو یوں دن رات زہر نہ اگلتا۔
کچھ دن ہوئے ناشتے کی میز پر سب جمع تھے۔مسجد میں نمازیوں کو گولیوں سے بھون ڈالنے کے واقعے پر بحث ہورہی تھی۔میری بیوی ، بیٹے ، بہو حتیٰ کہ پوتے اور پوتی کے پاس بھی اس واقعے پر کہنے کے لیے بہت کچھ تھا ۔رات میں نے دو ایک پیگ زیادہ ہی پی لیے تھے، کسل مندی سی چھائی ہوئی تھی اس لیے بڑی دیر تک خاموش بیٹھا سب کی سنتا رہا ،یہاں تک کہ خود مجھے اپنا سکوت اکھرنے لگا۔ابھی میں بحث میں حصہ لینے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ پتہ نہیں کیسے میرے منہ سے نکل گیا۔’آپ لوگ نمازیوں کی شہادت کو رو رہے ہیں اب تو بمبئی میں جو ہو سو کم ہے۔‘گھروالوں نے مجھے تقریباً پچکارتے ہوئے سمجھایا کہ یہ واقعہ کراچی کا ہے بمبئی کا نہیں اور پھر میں نے اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا’کیا فرق پڑتا ہے ، بمبئی میں نہ ہوا کراچی میں ہوگیا۔یہاں کے بھی تو کئی واقعے یہاں نہ ہو کر وہاں ہو چکے ہیں۔‘
میری اس قسم کی بہکی بہکی باتوں کے گھر والے عادی ہوچکے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح بمبئی والے بمبئی کے اور کراچی والے کراچی کے عادی ہوگئے ہیں!
۰۰۰

تبصرے

Razi Shahab نے کہا…
معین الدین جینا بڑے کی افسانوی تخلیقات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ ایک مختصر سا کہانیوں کا مجموعہ ہے جس میں دس بیانیے اپنے وجود کی تپش سے افسانوی دنیا میں جینابڑے کی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں اور سچائی تو یہ ہے کہ معین الدین جینابڑے کو یاد رکھنے کے لیے ان کے مجموعہ ’تعبیر ‘ کی بس یہی دس کہانیاں ہی کافی ہیں۔ حالانکہ یہ اس سے بھی بڑی حقیقت ہے کہ جب نقاد کاسۂ گدائی لیے مفاد پرستی کے جذبے اور گروہ بندیوں کے مکڑ جال بنتے ہوئے تنقیدی تحریریں پیش کرنے لگے تو جینا بڑے سے بے نیاز فنکاروں کے در پر کنکر پتھر بھی نہیں آتے ۔ کمیت کا سوال نہ ہو تو کیفیت کے اعتبار سے جینابڑے کا بیانیہ غیر معمولی اور دل کھول کر اعتراف کیے جانے کے قابل ہے۔
جینا بڑے کا بیانہ فکر و فن دونوں سے معاملہ رکھتا ہے۔ ان کے افسانے اپنے اندر افکارو خیالات کی رنگین اور پراسرار دنیا آباد رکھتے ہیں۔ ان کا بیانیہ فکر وفلسفہ اور حکمت کی پرمعنی جہان کا نظارہ پیش کرتا ہے۔موت و حیات ، دنیا و آخرت، سچ اور جھوٹ ، خواب اور حقیقت، جنون اور کوشش نیز آگہی کے دروں تک رسائی حاصل کرنے والا ان کا بیانیہ ان کے تخیل و تخئیل کی بلند سطحوں کی دلیل ہے۔
کہانی’ برسو رام دھڑاکے سے‘ ہندوستان میں 1992 کے سانحے کے بعد پیدا ہونے والی کشمکش کا واضح ، سادہ اور پرکشش بیانیہ ہے۔ حالانکہ یہ بیانیہ صرف بابری مسجد کی شہادت پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں ہندوستانی معاشرے کے کئی اور پہلوؤں پر سخت چوٹ کی گئی۔ جینابڑے کا افسانہ تعبیر ہو یا پھر ان کا بیانیہ ’برسورام دھڑاکے سے‘ ، احتجاج کی وہ لے ان کہانیوں میں ہے جسے نہ تو ہم اس بغاوت کے معنی میں رکھ سکتے ہیں جس میں تلواریں میانوں سے نکل کر برہنہ لہرانے لگتی ہیں اور نہ ہی احتجاج کے اس تصور سے جوڑ سکتے ہیں جس میں حکومت کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں اور اپنے کام کاج بند کرکے دھرنوں کی شوبھا بڑھائی جانے لگتی ہے۔ جینا بڑے کے بیانیہ میں ایک خاموش احتجاج ہے ، جو فنکار اپنے طور پر کر رہا ہے۔
اسلامی نظریہ کہتا ہے کہ اگر کچھ غلط ہو رہا ہے تو اگر تمہیں طاقت ہے تو اسے ہاتھ سے روک دو اور اگر اتنا بل نہیں ہے تو اسے زبان سے کہہ دو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو کم ازکم دل میں برا جانو۔ اور یہ تو معلوم ہے کہ ہم جس نام نہاد جمہوریت کے سایے میں جیتے ہیں وہاں اگر کوئی ہمارا گلا بھی ریت دے تو ہم خاموش احتجاج کے علاوہ اور کچھ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
’برسو رام دھڑاکے سے‘میں ہندوستان ہی نہیں برصغیر کے اس بدنما اور سیاہ سانحے اور اس کے نتائج کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس نے دلوں کے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کی ہیں کہ اب لاکھ سیڑھیاں لگا کر دونوں فریق ایک دوسرے کے آنگن کی خوشیوں میں شامل نہیں ہوسکتے۔ اس افسانے کی زیریں سطروں میں اس آپسی اور باہمی الفت و محبت کا ذکر کیا گیا ہے جو کبھی ہندوستان کی شناخت ہو اکرتی تھی۔مگر اب ایسا کچھ باقی نہیں بچا تھا ۔ مملکت خداداد میں بھی شکر اب زہر میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں ممبئی ہو یا کراچی ،یا پھر تعبیر کا مقام وقوعہ دھرم پور، سب کے ہاتھوں میں زہر کے علاوہ کچھ نہیں آیا ہے۔ افسانہ نگار نے ممبئی کے پس منظر میں بنی گئی کہانی میں کراچی کا تذکرہ کرکے وقوعہ کو وسیع پس منظر عطا کرنے کی سعی کی ہے ۔
Razi Shahab نے کہا…

’برسو رام دھڑاکے سے ‘ میں مجہول الاسم راوی جو افسانے کاایک مرکزی کردار ہے ، ممبئی آتا ہے اور اس کی ملاقات افسانے کے دوسرے مرکزی کردار اپنے دوست ٹھنڈی سے ہوجاتی ہے۔ ماضی کے سارے پل چھن چھن کر دونوں کے ذہنی نہاں خانوں میں دستک دینے لگتے ہیں ۔ حال احوال کے ساتھ ساتھ بیانیہ آگے بڑھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ’مجھ سے بچھڑ کر خوش رہتے ہو ، میری طرح تم بھی جھوٹے ہو ‘والا معاملہ ہے۔ مشترکہ ثقافت کی شکستہ یادیں ، ایک دوسرے کے ہاتھوں ایک دوجے پر لگے زخموں کے آثار اب تک اپنا منحوس سایہ دونوں طرف بنائے ہوئے ہیں۔ تقسیم کے سانحے سے لے کر پورا پس منظر سامنے آجاتا ہے ، وہ سارے درد، وہ ساری لاشیں وہ سارے منظر جو انسانیت کے خون ناحق سے لبریز ہیں ، اس بیانیہ میں جگہ جگہ اپنی غیر معمولی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ سیاسی چالبازیوں کے گرداب میں پھنسی ارض اللہ کا نقشہ بدل چکا ہے۔ پہلے والی بات اب رہی نہیں۔مذہب ، دھرم، وفاداری، پیار ، الفت، گنگا جمنی تہذیب، دیوتا ، خدا، اللہ ،رام ،سب کچھ دامن دامن بٹ چکے ہیں۔ سب کا اپنا الگ الگ مذہب ہے ۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ ڈھونڈنے سے خدا تو مل جاتا ہے مگر بیچارے ٹھنڈی کو فاتحہ پڑھنے کے لیے ایک پکا سچا مسلمان نہیں ملتا ہے۔ اور اس کی معصوم بیوی بیچاری ایک پکے مسلمان سے ملنے کی خواہش میں سورگ سدھار دیتی ہے۔اب وہ وقت آپہنچا ہے کہ نہ تو عاشورہ کے موقع پر تعزیہ کے آگے آگے چلنے والا بلائیتی رام چاچا مل سکتا ہے اور نہ ہی ایک ایسا اللہ والا جو باہم گفتگو کے دوران’رام کا نام لے کے‘سب کو حیرت میں ڈال دے۔ یہ سب کچھ اب پرانی باتیں ہو چکی ہیں۔ان باتوں کاذکر ’تعبیر ‘ اور ’برسورام دھڑاکے سے ‘دونوں میں ہے۔
شاید ہمارے ناقدین کو دو دو چار والے آسان اور عام فہم اسلوب میں تحریر کیے گئے بیانیے زیادہ راس آتے ہیں۔ حالانکہ جینا بڑے کے افسانے اکثر جدید افسانوں کی طرح جھوٹ موٹ کی علامتی بھول بھلیوں یا استعاروں کے ایسے مکڑ جالوں سے آزاد ہیں جن کی تفہیم سے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا لکھا آپ سمجھو یا پھر خدا سمجھے! جینابڑے کا بیانیہ اس طرح کی کیفیات سے مبرا ہے۔ مگر رنج اس وقت ہوتا ہے جب عہد رواں کے فنکاروں کی سرسری فہرست تیار کرتے ہوئے معین الدین جینا بڑے اور ان کے افسانوی مجموعے تعبیر کا ذکر تو ضروری طور پر کیا جاتا ہے تاہم ان کے افسانوں پر بات کرنے سے ناقدین اکثر نظریں بچا کر گزر جاتے نظر آتے ہیں۔ کیا کثرت تحریر کے ذریعہ ہی خود کو آج کے اس صارفیت زدہ ، مفاد پرست ،تعریف پسنداور گروہوں کی نذر ادبی معاشرے میں پیش کیا جاسکتا ہے ؟ اور ایک سوال یہ بھی کہ کیا ناقد ذاتی وابستگیوں والوں کو ہی قابل مطالعہ اور لائق تحریر سمجھے گا۔ معاف کیجیئے، اگر ایسا ہے تو پھر جینا بڑے جیسے فقیر منش اور ادبی سیاستوں سے بے نیازفنکار وں کے نام تو ادبی تاریخ کا حوالہ بننے سے بھی رہ جائیں گے۔ اور یہ خسارہ جینا بڑے کانہیں اردو ادب دوستوں کا ہے۔(جینا بڑے کے افسانوں کے تعلق سے میری فہم کی چند جھلکیاں)

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین