بدھ، 10 جون، 2015

پندرہ غزلیں: تصںیف حیدر


چاکلیٹی رنگ کی لڑکی سے مجھ کو پیار تھا
پیار کیا تھا، صرف ٹھنڈی رات کا اصرار تھا
تجربہ شیطاں کا میرے پاس تھا، لیکن مجھے
آگ ہو کر مٹیوں میں لوٹنا دشوار تھا
جھوٹ کی بنیاد پر میں نے سکھایا سچ اسے
یعنی میرا سچ ہی سارا جھوٹ تھا، بیکار تھا
۰۰۰

طلسم ہوشربا کے ورق چباتا ہوا
مجھے وہ سرسری کردار یاد آتا ہوا
پلٹ کے دیکھ رہا تھا خدا کو میں لیکن
وہ ایک اور تماشے کو تھا بناتا ہوا
نقاب نوچ کے اس نے زمین پر پھینکا
بدن بھی چیخ کے بھاگا نظر چراتا ہوا
ررک ررک کے مرا ساتھ دے رہا تھا وہ جسم
وصال کرتے ہوئے بھی مجھے سلاتا ہوا
۰۰۰

دو ہی چیزیں زندگی بھر مجھ کو راس آئی نہیں
مسئلہ گیہوں میں تھا یا مسئلہ تھا سیب میں
انگلیاں اک کاغذی آواز سے ٹکرائی تھیں
ڈائری کا آخری صفحہ پڑا تھا جیب میں
جسم سے باہر نکل کر دیکھتا کیا ہوں کہ میں
ایک مدت سے پڑا تھا وقت کے آسیب میں
۰۰۰

مٹی تھا خود کو مٹی میں سان کے نکلا
جسم کا قیدی سب کا کہنا مان کے نکلا
میں نے اس پر اپنی آنکھیں گاڑیں لیکن
وہ کمبخت بھی اپنا سینہ تان کے نکلا
اس نے مجھ سے نا ملنے کی ٹھانی اس دن
جس دن میں اس سے ملنے کی ٹھان کے نکلا
۰۰۰

خالی دن میں گھوم کے چکھا ہے کتنی دوپہروں کو
تب جا کر قبضہ میں لیا ہے میں نے شام کی لہروں کو
بولنے والا بول رہا تھا عشق کرو، آباد رہو
لیکن نفرت چوم رہی تھی اندھوں، گونگوں، بہروں کو
گاؤں کے سب میلے ٹھیلے چاٹ گئی تھی ویرانی
پھر بھی ہجرت کم نہ ہوئی تھی شور مچاتے شہروں کو
خون آلود کیا تھا کتنے ہی خود کش بمباروں نے
پاؤں کے نیچے بہنے والی ٹھنڈی میٹھی نہروں کو
۰۰۰

وہ جستہ جستہ جسم کو کھائے تو دیکھنا
قصہ کوئی بدن کا دکھائے تو دیکھنا
میرا زوال آگیا میرے عروج سے
تم کو کوئی نظر نہ لگائے تو دیکھنا
مڑنے کو میں نے منع کیا تو نہیں تمہیں
لیکن وہ خود اواز لگائے تو دیکھنا
دل میں خدا کا خوف بٹھا دو پھر اس کے بعد
اک دن خدا کو خوف نہ آئے تو دیکھنا
۰۰۰

اس سمت کھینچتے ہیں مرے پاؤں کس طرح
ایڑی گھما کے بھوت میں بن جاؤں کس طرح
دنیا مرے قدم سے لپٹ کر چلی گئی
میں سوچتا ہی رہ گیا ٹھکراؤں کس طرح
تو کوئی دروپدی تو نہیں میری زندگی
اور میں بھی کورؤں سی ہوس لاؤں کس طرح
اللہ خون دیکھ کے بے حد اداس ہے
میں اس شہید شوق کو سمجھاؤں کس طرح
۰۰۰

ایک جہنم دجالی ہے اک جنت شدادی ہے
اس میں جلنے کی اس میں خوش رہنے کی آزادی ہے
خود سے عشق نبھاکر دیکھا ہوگا کتنے لوگوں نے
کتنے لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ یہ بربادی ہے
اس کی آنکھوں میں تھی شام اور میرے ہاتھوں میں تھی رات
اس نے شام بجھادی ہے اور میں نے رات اڑادی ہے
۰۰۰

تماشا گاہ میں اس سے ملا تھا میں کل ہی
بنادیا مگر اس نے مجھے بھی پاگل ہی
ہوس کی شکل تھی یہ بھی کہ کرفیو میں اسے
نظر جو آئی تو اک لیڈی کانسٹیبل ہی
شعائیں جا نہیں سکتی ہیں جھاڑیوں کے ادھر
تو پھر جلا نہ دیا جائے کیوں یہ جنگل ہی
یہ بارشیں نہیں سایے ہیں سارے پگھلے ہوئے
اگرچہ کہتے ہیں سب لوگ ان کو بادل ہی
میں عشق اپنا جتاتا ہوں اور چٹکی میں
پکڑ کے بیٹھا ہوں اب تک دھوئیں کی ڈنٹھل ہی
یہ روٹی داڑھ کا درد اور بھی بڑھادے گی
مجھے تو چاہیے کھانے میں دال چاول ہی
۰۰۰

منبر نہیں ہے یہ کوئی پتھر نہیں ہے
اور میں نے جھکایا ہے جسے سر نہیں ہے
میں کھنیچتا رہتا ہوں ہوا کو اندر
اور سوچتا رہتا ہوں کہ اندر نہیں ہے
ہونے کو تو سب کچھ ہے مگر کوئی فریب
آزادئ اظہار سے بڑھ کر نہیں ہے
اس پر بھی نہیں کاشت کیا میں نے سفر
یہ پاؤں کا میدان تو بنجر نہیں ہے
۰۰۰

میں اس لباس میں منہ کو چھپا کے روتا ہوں
میں دائرے میں بسا لمس کھا کے روتا ہوں
وہ اپنا جسم بچھاتی ہے اک دری کی طرح
اور اس کے سامنے میں بلبلا کے روتا ہوں
یہی نوالہ مرے حلق میں اٹکتا ہے
یہی عذاب میں ہر دن چبا کے روتا ہوں
لکھا ہوا ہے المیہ مری صداؤں پر
سو روز میں اسے گاتا ہوں، گا کے روتا ہوں
سمجھ میں کچھ نہیں آتا بقول امیر امام
میں مسکراتا نہیں، مسکرا کے روتا ہوں
۰۰۰

شہر میں یونہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہنا
دیکھ کے جسم کو جسم میں سوئیاں مارتے رہنا
اک چھوٹے بچے کا رفع حاجت کرنا
گود میں چڑھ کر غوئیاں غوئیاں مارتے رہنا
کوئی نہیں پکڑے گا رات گئے نکڑ پر
کتوں کی آواز پہ ٹھوئیاں مارتے رہنا
فجر کا وقت آئے تو چل دینا مسجد کو
رات بھر اپنی بیگم موئیاں مارتے رہنا
میں تو کس کے دبوچ ہی لوں گا شبا تم کو
جتنا بھی ہوپائے کلوئیاں مارتے رہنا
۰۰۰

تعفن اٹھ رہا ہے میری اپنی خامشی سے
مگر پھر بھی مجھے ڈر لگ رہا ہے لفظ ہی سے
وہ دیکھو چاند میں بیٹھی ہوئی ہے ایک بڑھیا
اور اس کے ہاتھ میں ڈورے ہیں شاید کتھئی سے
مرا رشتہ ہوا تھا آخری بیٹی سے ان کی
اور اس کمبخت کو تھا عشق اپنے بھائی جی سے
ستارے میرے ہاتھوں پر اترتے جارہے تھے
مگر میرے قدم تھکتے نہ تھے آوارگی سے
۰۰۰

سناٹے کی بین بجا کر رات گئے اک سایہ نکلا
اور سائے کی جیب سے کوئی خنجر تیز نکیلا نکلا
پیٹھ دکھا کر بھاگ رہی تھی اک آواز اندھیرے منہ اور
اس کے پیٹ سے بھاگتے بھاگتے اچھا خاصہ سکہ نکلا
پیتل کی دیوار کے اوپر سونے کا چھڑکاؤ ہوا تو
خون کی چھینٹیں ماتھے تک آ پہنچیں اور پسینہ نکلا
پترے کی دیوار کے پیچھے کوئی نہیں تھا منٹوں پہلے
اور اچانک اس میں سے اک عورت نکلی، بچہ نکلا
تم نے تاریکی کو دیکھا ہوگا شاید چار بجے تک
اس کے بعد موذن کی آواز ہوئی اور دستہ نکلا
چیخ کے اوپر ایک ہتھیلی ڈھک دی دستانے والوں نے
کوٹ کی نچلی جیب سے کوئی زنگ آلود طمنچہ نکلا
عین اسی دوراہے پر سب حادثے ہونے والے تھے اور
عین اسی دوراہے پر میری قسمت کہ میں آ نکلا
۰۰۰

جڑوں پہ چاندنی چھڑکاؤ کرنے والا ہے کون
کھلے ہوئے مرے زخموں کو بھرنے والا ہے کون
میں ایک آخری ندی ہوں، وہ بھی تیزابی
سو میری لہروں کے اندر اترنے والا ہے کون
بدن ہتھیلی پہ رکھ ناچتی ہیں سب میرائیں
بدن بغیر مگر رقص کرنے والا ہے کون
۰۰۰

1 تبصرہ:

sajjad saleem کہا...

بہت خوبصورت. .. اسلوب اور مضامین کی تازگی نے لطف دیا ...

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *