اجمل کمال کی تحریر


ساقی فاروقی کی خودنوشت ’’آپ بیتی/پاپ بیتی‘‘ کراچی کے رسالے ’’مکالمہ‘‘ اور بمبئی کے رسالے ’’نیاورق‘‘ میں قسط وارچھپنے کے بعد پچھلے دنوں کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ (اس کتاب کے آخری صفحے پر اطلاع دی گئی ہے کہ یہ پہلی جلد ہے اور پڑھنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوسری جلد کا بےچینی سے انتظار شروع کر دیں۔) اس سے پہلے تقریباً اسی عنوان سے اشفاق نقوی کی خودنوشت ’’پاپ بیتی‘‘ (ذیلی عنوان: ’’ایک اور طرح کی آپ بیتی‘‘) لاہور سے شائع ہو چکی ہے۔ چونکہ دونوں کتابوں کے مصنفوں نے یہ عنوان مشتاق احمد یوسفی کے ایک مشہور فقرے سے اٹھایا ہے، اس لیے پڑھنے والوں کے لیے اس بات کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی کہ یوسفی لنگرسے ان دونوں عاجزوں میں سے کس نے پہلے لقمہ گیری کی اور کون چبائے ہوے نوالے کا سزاوار ٹھہرا۔ البتہ یہ بات سوچنے کی ہے کہ یوسفی کی تراشی ہوئی اس اصطلاح پر (جو اپنے سیاق و سباق سے الگ کیے جانے پر کسی قدر ماند پڑجاتی ہے) اس پُرجوش چھیناجھپٹی کی وجہ کیا ہے۔ ایک وجہ یہ ممکن ہے کہ جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی برات‘‘ کے بعد سے اردو کے ’خودنوشت بازوں‘ میں خود پر انواع واقسام کی تہمتیں لگانے اور اپنے آپ کو ’پاپ کی گٹھڑی‘ بنا کر پیش کرنے کا چسکا زوروں پر ہے۔

                راجندرسنگھ بیدی نے اپنے مضمون ’’آئینے کے سامنے‘‘ کے سرنامے کے طور پر یہ جملے لکھے تھے: ’’فادر روزاریو نے گناہ گار جاہن سے کہا: تم یہاں اعتراف کرنے آئے تھے، مگرتم نے تو ڈینگیں مارنی شروع کر دیں۔‘‘ خودنوشتوں اور یادداشتوں میں ڈینگیں مارنا، یعنی اپنی جنسی کامرانیوں کے اصلی یا تخئیلی قصے لکھنا، ظاہر ہے بلاجواز نہیں ہوتا۔ ایک تو زیادہ سے زیادہ ہستیوں سے ہم بستری کی تفصیلات (بشرطےکہ تحریر کی خوبی بھی شاملِ حال ہو) روایتی طور پر پڑھنے والوں کی بڑی تعداد کو متوجہ اور راغب کرنے کا امکان رکھتی ہیں۔ دوسرا جواز یہ ہے کہ ان حکایاتِ لذیذ کی بدولت خودنوشت ہم چشموں میں (خصوصاً ہم عمر ہم چشموں میں) رشک کے جذبات ابھار کر مصنف کے نفسِ امّارہ کی تسکین کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاہم، ان دونوں باتوں کا اطلاق ساقی کی کتاب پر قطعی نہیں ہوتا۔

                کتاب کی پشت پر ساقی کی اہلیہ گن ہلڈ (یعنی ان کے عزیز دوستوں کی گنڈی بھابی) کی اتاری ہوئی ایک تصویر شائع کی گئی ہے جس میں وہ خود کپڑے اتارے، جگ وائن کی ایک ’گدّر‘ گول مٹول بوتل کو ایک ہاتھ سے دبوچے بیٹھے، چشمے کی اوٹ سے کیمرے کو تاکتے دکھائے گئے ہیں۔ دوسرا ہاتھ میز پر دھرا ہے۔ ان میں سے کسی ہاتھ کو جنبش ہے یا نہیں، اس کا پتا ساکت تصویر سے نہیں لگتا (غالباً نہیں ہے، ورنہ ساغربھرا ہوا کیوں دکھائی دیتا) لیکن چشمہ لگی آنکھوں میں یقیناً کچھ نہ کچھ دم معلوم ہوتا ہے۔ عریانی اور شراب سے لبریز یہ تصویر کتاب کے مشمولات کے بارے میں کچھ اس قسم کی توقعات ضرور بیدار کرتی ہے جیسی ان کا حاصلِ کلام شعر (یار زِنا بھی اچھی چیز، نشہ بھی اچھی چیز/ دونوں اچھی چیزیں باری باری کیا کرو)، لیکن ان کی خودنوشت ان توقعات کو اسی حد تک پورا کرتی ہے جس حد تک مذکورہ بالا شعر غزل کے تقاضوں کو۔ کتاب پڑھنے پر ان کی تحریر کی اگر کوئی منفرد خصوصیت نمایاں طور پر سامنے آتی ہے تو وہ ان کا بڑبولاپن ہے جس کا اظہار وہ اپنے اس قبیل کے بیانات میں کرتے ہیں: ’’یہ تو سچ ہے کہ میں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے اور اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں شاید کچھ زیادہ ہی بھرپور، مگر...‘‘ وغیرہ  (13) اور یہ کہ ’’اردو کے مرحومین اور’موجودین‘ ادیبوں میں شاید میں واحد آدمی ہوں جس نے مذہب اور جنس کے مسائل پر، بلاخوف و خطر، نہایت تفصیل سے اور خاطرجمعی سے، اپنے سوچ بچار کی روشنی میں، اپنی آرا کا تحریراً اظہار کیا ہے۔‘‘ (50) لیکن ساقی کے ان مجرّد دعووں کو (مجرّد دونوں معنوں میں) نظرانداز کیے ہی بنتا ہے، کیونکہ کتاب کے متن سے اس قسم کی کسی شے کی تائید نہیں ہوتی۔

                مذہب کے شعبے میں ساقی کی ایک عظیم واردات پر تبصرہ ذرا آگے چل کر ہو گا، مگر جہاں تک ان کی بیان کردہ جنسی کارگزاری کا تعلق ہے وہ، اٹھارہ معاشقوں والے شاعرِانقلاب کا کیا ذکر، ساقی کے بہت سے ہم عصروں کے مقابلے میں بھی انّیس ہی نظر آتی ہے۔ ان نیم پیشہ ور خواتین کو چھوڑ کر جن میں سے ایک کو حیدرآباد (سندھ) کے ایک خستہ حال ہوٹل میں بقولِ خود ’’آٹوگراف دیتے ہوے‘‘ وہ پکڑے گئے تھے (136)، ان کی یادداشتوں میں ان کی صرف ایک ’’معشوقہ‘‘ کا تفصیلی ذکر ملتا ہے جو اُن کے ایک ’’نہایت عزیز دوست کی بیوی بھی تھیں (بلکہ اب تک ہیں )‘‘ (118) اور جن کے ساتھ انھیں کوئی چھ آٹھ مہینے تک گنڈےدار ہم بستری کرنے کا موقع ملا۔ لیکن ایک تو بقول خود ساقی کے، ’’اس میں حاشاوکلّا میرا کوئی قصور نہیں۔ میں تو ایک معمولی اناڑی کنوارا تھا اور عضوِ شرم کو صرف قارورے اور خودوصلی کے لیے استعمال کرتا تھا۔ مگر اس ’عفیفہ‘ نے پہلی بار دوسرے مصارف بھی بتائے...‘‘ (120)۔ دوسرے یہ کہ زلفِ بھاوج کے تنہا ساقی ہی اسیر نہ تھے، ان کے کئی دیگر عزیز دوست بھی ان کے زلف شریک بھائی تھے، گویا یہ ایک قسم کی برادرانہ یا جماعتی سرگرمی تھی (یا صالحین کا ورزشی و تربیتی کیمپ کہہ لیجیے) اور اوپر کے اقتباس کی روشنی میں اسے پورا کا پورا ساقیِ بےقصور کے کھاتے میں ڈالنا انصاف سے بعید ہو گا۔ اسی اقتباس میں ’’خودوصلی‘‘ کی دلچسپ ترکیب برتی گئی ہے، جو مشت زنی کے عملِ صالح کے لیے ساقی نے خود وضع کی ہے؛ یہ صرف ان کی زبانی اختراع نہیں، خودنوشت میں اس کے ذکر کی تکرار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کم و بیش ان کے ضابطۂ حیات کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اس ’’سیردستی‘‘ کے علاوہ اگر ان کی نظم و نثر میں کسی مشغلے کا ذکر تکرار سے ملتا ہے تو وہ ’’سیرچشمی‘‘ یعنی اپنی نظر کے دائرے میں آنے والی عفیفاؤں سے (بلا اجازت بلکہ اکثر ان کے علم میں لائے بغیر) نظربازی کا مشغلہ ہے (اور تو یاں کچھ نہ تھا، ایک مگر دیکھنا)۔ خلاصہ یہ کہ ساقی کی بزعمِ خود پاپ بیتی سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعری کے شعبے کی طرح اس میدان میں بھی ان کی کارکردگی معاصراوسط سے گری ہوئی ہی رہی (تہذیب اور ذوقِ جمال سے گرے ہوے ہونے کی بات کو فی الحال جانے دیجیے)۔ اس کے پیش نظر اگر وہ اپنے جنسی عضو کو ’’عضوِ شرم‘‘ کا نام دیتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں۔

                لیکن جیسا کہ چیک ناول نگار میلان کنڈیرا نے 1984 کے لگ بھگ ایک انٹرویو کے دوران اپنے ناولوں میں تفصیل سے بیان کردہ جنسی عمل کے مناظر کی بابت ایک سوال کے جواب میں کہا تھا، ’’ان دنوں جب جنسیت پر کوئی پابندی باقی نہیں رہی، محض بیان، محض جنسی اعتراف، اپنی کشش کھو بیٹھا ہے، اور طبیعت اکتا جاتی ہے ...میرے خیال میں جسمانی محبت کے منظر سے ایک بہت تیز روشنی پھوٹتی ہے جو بالکل اچانک طور پر کرداروں کا سارا ذاتی جوہر منکشف اور ان کی وجودی صورت حال کا لب لباب پیش کر دیتی ہے۔ ‘‘ (ترجمہ: محمد عمر میمن؛’’آج: دوسری کتاب‘‘، کراچی، 1987) تاہم بیانیے سے یہ تخلیقی کام لینے کے لیے زندگی کا جو تجربہ اور تخیل اور زبان پر جو قدرت درکار ہے اس کی امید ساقی فاروقی جیسے ’نابالغۂ روزگار‘ سے وابستہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ان کے ایک معزز ہم عصر اور فیڈرل بی ایریا کے ملک الشعرا استاد محبوب نرالے عالم کے کلام میں میرتقی میر کی سی دقیقہ رسی پانے کی توقع کی جائے۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ساقی کے مزاج کو کلیشے سے غیرمعمولی طبعی مناسبت ہے، تصورِدنیا (worldview) اور زبان کے استعمال دونوں کے لحاظ سے۔ جہاں تک زبان کا سوال ہے، ان کی زیرتبصرہ خودنوشت میں واہ رے میں، واہ رے وہ، اجمال کی تفصیل، جل تو جلال تو،ا ﷲ دے اور بندہ لے، غلط آسن، سہاگن، بےچاری فاختہ، گدّرگدّر، ہلکورے لینا، ڈہک ڈہک کے رونا جیسے سوکھے جھاڑجھنکاڑ کی اتنی افراط ہے کہ پڑھتے ہوے طبیعت بےطرح الجھنے لگتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے نثر لکھنے کی ابتدائی تربیت سعید امرت یا اسی سطح کے کسی اور عظیم فنکار کے قدموں میں بیٹھ کر حاصل کی ہے۔ نتیجہ یہ کہ جب کبھی کسی کردار کا نقشہ یا کسی صورت حال کا منظر کھینچنے کی مہم درپیش ہوتی ہے تو ساقی اس سلسلے میں بالکل بےدست وپا دکھائی دیتے ہیں۔ اہم اور غیراہم تفصیلات میں تمیز نہ کرنا، وقت بےوقت یاد آ جانے والے کسی بھی اچھے برے (زیادہ تر برے) مصرعے یا شعرکو، موقع محل کا لحاظ رکھے بغیر، بےدھڑک کسی بھی جملے کے بیچوں بیچ ٹھونک دینا وغیرہ ان کی نثر کی عام خوبیاں ہیں۔ رہا ان کا تخیل تو وہ اس قدر کند بلکہ کھٹّل ہے کہ پرانے دھرانے، پٹے اور پچکے ہوے سانچوں سے باہر جھانکنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔ البتہ ان کے اسلوب کی سب سے نمایاں بات ان کی بدزبانی ہے جسے وہ بیان کی رنگینی سمجھ کر اتراتے ہیں اور جو بعض موقعوں پر چرکینی سے لگّا کھانے لگتی ہے۔ (واضح رہے کہ یہاں اشارہ محض تشبیہ و استعارہ کے متعفن ہونے کی طرف ہے، زبان کے تخلیقی استعمال کی مہارت کی جانب نہیں، جس میں چرکین مرحوم کا رتبہ ظاہر ہے ساقی جیسوں سے کہیں بلند ہے۔)

                یہ بدزبانی ایک ایسی خصوصیت ہے جسے وہ (علاوہ اور چیزوں کے) کراچی کے اس ریڈیائی و ادبی گروہ کے متعدد ارکان کے ساتھ مشترک رکھتے ہیں جس کے سرگروہ سلیم احمد تھے، البتہ کچھ عرصہ پہلے تک اس میدان میں سلیم احمد کے برادرِخورد شمیم احمد کو پورے گروہ میں اوّلیت کا شرف حاصل تھا۔ ساقی کی تصنیفِ غیرلطیف کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ کریہہ اللسانی کے اس مقابلے میں انھوں نے نہ صرف اپنے بزعمِ خود رقیب (دراصل بھاوج شریک بھائی) کو گزوں پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ کہیں کہیں تو، مشفق خواجہ کے الفاظ میں، موصوف کی بدزبانی ان کی اپنی بدباطنی تک پر غالب آ گئی ہے۔ اس گروہ میں، جسے کراچی کے ادبی حلقوں میں ’’ریوڑِسلیمی‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اس بنیادی اصول کو جزوِایمان کا درجہ حاصل تھا (اور اس کے باقی ماندہ ارکان میں اب تک حاصل ہے) کہ اگر کسی بھلے آدمی کے بارے میں کوئی بھونڈا اور بےہودہ فقرہ اونچی آواز میں کہہ دیا جائے تو محفل پر سناٹا چھا جاتا ہے اور فقرہ بازی کا شکار ہونے والا خفیف ہو کر رہ جاتا ہے۔ ساقی کے ہاں اس کی بےشمار مثالوں میں سے ایک دیکھیے: ’’خدا اسے]مشفق خواجہ کو[اور شمس الرحمٰن]فاروقی[ کو سلامت رکھے۔ صبح سویرے اٹھتے ہی، کلّی اور استنجا کر کے ان کی درازیِ عمر کی دعا مانگتا ہوں۔ وہ اس لیے کہ مجھ سے پہلے یہ کم بخت مر مرا گئے تو مجھے شاعروں کے نام، ان کی تاریخِ پیدائش وغیرہ کون بتائے گا۔ ان کو اسی طرح کی چوتیاپنتی کے کاموں کے لیے زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آہ کہ ان بدمعاشوں کو معلوم نہیں کہ وہ کس کی دعاؤں کے سبب اب تک زندہ ہیں۔‘‘ (118) مشفق خواجہ، جیساکہ آپ جانتے ہی ہوں گے، اس عبارت کے شائع ہونے کے کچھ عرصے بعد رحلت کر گئے۔

                بیان کا یہ اسلوب ایجاد تو محسود حریفوں اور دشمنوں کے لیے کیا گیا تھا اور انھی پر منصوبہ بند طریقے سے استعمال بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس ریوڑ کے ارکان ایک دوسرے کی بھی میانیوں میں سوراخ کرنا، غالباً ریاضت کے طور پر، بلاتکلف جاری رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ان ’’نہایت عزیز دوستوں‘‘ کے پیچیدہ اور دلچسپ باہمی تعلقات کو ساقی کی اصطلاح میں ’’بھائی چارگی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسے اس سے ملتے جلتے ایک اور لفظ ’’بھائی چارے‘‘ کا مترادف سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے گا، وہ اور چیز ہے۔ بھائی چارگی کے معنی ہیں، بھائیوں کے ہاتھوں طاری ہونے والی بےچارگی۔ واقعہ یہ ہے کہ حسنِ صورت کے لحاظ سے تو اس گروہ کے ارکان تقریباً سب کے سب مذکورہ بالا برادرانِ خورد و کلاں ہی کی طرح بخشے ہوے ہیں، لیکن حسنِ ظن سے خود کو ایک دوسرے کا ’برادرانِ یوسف‘ سمجھتے اور حتی الوسع ویسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ مگرانصاف کی بات یہ ہے کہ جہاں تک صورت شکل کا سوال ہے، ساقی کو باقی سے انّیس نہیں، بیس ہی کہنا ہو گا۔ اس کی تصدیق ان کی اس تصویر سے بخوبی کی جا سکتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس تصویر سے اور بھی کئی اندازوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بیرون ملک مقیم برصغیر کے باشندوں ( اردو کے شاعرادیب مراد ہیں) کے بارے میں یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ان میں سے جو شخص جس سنہ میں ولایت میں وارد ہوا اسی سنہ میں حنوط شدہ (mummified) یا بلکہ متحجر (fossilised) حالت میں آج تک دیکھا جا سکتا ہے۔ ساقی کے معاملے میں یہ بات بالکل درست ہے۔ اب وائن کے اس جگ ہی کو ملاحظہ کیجیے جس سے موصوف اس قدر اتراہٹ کے ساتھ بغلگیر دکھائے گئے ہیں، دنیا کی کسی اور زبان میں آپ نے کبھی نہ دیکھا ہو گا کہ کسی مصنف نے اپنی کتاب کے لیے تصویر اترواتے وقت بوتل گلاس وغیرہ کو یوں اوچھے کے تیتروں کی طرح باہر باندھ رکھا ہو۔ (ساقی کے ایک عزیز دوست اسد محمد خاں نے اس قسم کی حرکت کے لیے exterior decoration  کی پُرمعنی اصطلاح تراش رکھی ہے۔)

                لیکن اگر فوسل کے طور پر دیکھا جائے تو ساقی کی تصویر میں کوئی عجیب بات نظر نہیں آتی۔ ساقی 1963 میں (قصائی اور سبزی فروش کے جعلی ورک پرمٹ پر) مہاجرت اختیار کرنے کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں۔ اس قیام کی تفصیل خود انھی سے سنیے: ’’اپنے مکان کا نمبر آج بھی یاد ہے:  100 Dastagir Colony, Karachi۔ یہ نمبر مجھے اس لیے یاد ہے کہ میں ۳۳ سال سے  100 Sunny Gdns. Road, London میں اپنے آخری ایام پورے کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے سارے چھوٹے چھوٹے بم یہیں سے چھوڑے۔‘‘(37) صرف مکان کا نمبر ہی جوں کا توں نہیں، موصوف کی ذہنی، اخلاقی اور جذباتی نشوونما بھی وقت کے اسی مقام پر ٹھٹھری ہوئی کھڑی ہے جب وہ اپنی مالی حالت سُدھارنے کی غرض سے ولایت سِدھارے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی رخصتی سے قبل کے اُن دنوں میں (یعنی شراب پر پابندی کا قانون لاگو ہونے سے چودہ پندرہ برس پہلے بھی) ان کے محلّے کے چھٹ بھیّوں اور لفنگوں میں شیخی بگھارنے اور ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر اور بڑھاچڑھا کر شراب نوشی کا ذکر کرنے کا رواج تھا۔ انگلستان میں امتناع کا قانون اب تک نہیں آیا، اگر کبھی آیا بھی تو اس وقت تک ساقی اپنی آخری عمر پوری کر چکے ہوں گے، لیکن اس کھلے معاشرے میں برسوں رہے چلے آنے کے باوجود گھٹی ہوئی طبیعت کی ’دستگیری‘ کا وہی عالم ہے کہ جو تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی متعدد رشحاتِ قلم میں (مثلاً زہرہ نگاہ کی کتاب ’’شام کا پہلا تارا‘‘ پر اپنے تبصرے کے بیچوں بیچ) خود کو اسی قدیم زمان و مکاں میں تصور کر کے، بےاختیار اور بار بار پکار اٹھتے ہیں کہ ’’وِسکی چڑھ رہی ہے !‘‘

                اس بدمذاقی (اور چنددرچند دیگر قباحتوں) سے اگر آپ کسی طرح قطع نظر کر سکیں تو ساقی کی کتاب سے وہی کام لیا جا سکتا ہے جو علوم کے میدان میں فوسلز یعنی متحجر مخلوقات و نباتات و جمادات سے لیا جاتا ہے۔ میں نے ان کی خودنوشت کو اسی زاویے سے پڑھا اور آئندہ صفحات میں اسی مطالعے کے چند نتائج آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

ساقی، اپنے بیان کے مطابق، 1935 میں اس دنیا میں وارد ہوے، 1948 میں مشرقی پاکستان پہنچے، 1952 میں کراچی میں نزول فرمایا اور 1963 میں مذکورہ بالا راستے سے لندن روانہ ہو گئے۔ اس بدنصیب مملکتِ خداداد میں ان کے قیام کا عرصہ وہ ہے جس کے دوران یہ ملک، خصوصاً کراچی شہر، گہری معاشرتی تبدیلیوں کا مرکز رہا۔ تبدیلیوں کے اس پیچیدہ عمل کی پوری کہانی تو فکشن ہی میں سما سکتی ہے، لیکن جہاں تک تنک مایہ اردو فکشن کا تعلق ہے، آج تک ایسا کامیابی سے ہو نہیں پایا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا ناولا ’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ (جو ان کی تحریروں میں غالباً بلندترین درجہ نہیں رکھتا) اس کی اکادکا مثالوں میں سے ایک ہے۔ شوکت صدیقی کے ناولوں وغیرہ میں وہ گہرائی اور بصیرت نہیں ملتی جو اس بڑے معاشرتی انقلاب کا احاطہ کرنے کے لیے درکار ہے۔ مختلف ادیبوں کی چند ایک عمدہ کہانیوں اور مضامین میں اس کی جھلکیاں البتہ دکھائی دیتی ہیں، یا پھر مشتاق احمد یوسفی کی بلندپایہ کتابیں، خصوصاً ’’زرگزشت‘‘ اور ’’آب گم‘‘ ہیں، لیکن انھیں کسی ادبی صنف کے خانے میں قید کرنا دشوار ہے، اور یوں بھی یوسفی کی تحریر کا بنیادی تخلیقی مقصود حقیقت نگاری سے مختلف ہے۔

                ساقی افسانے وغیرہ نہیں لکھتے۔ لڑکپن میں اس شعبے میں خامہ فرسائی کی تھی، لیکن امتدادِ زمانہ نے وہ افسانے ان پر تو کیا، ہم سب پر ترس کھا کر تلف کر دیے۔ بقول خود، ’’اردو دنیا جسے میری شاعری کا عذاب سہنا تھا میرے نثری عتاب سے صاف بچ گئی۔‘‘ (64) تاہم، جیساکہ آپ کے سامنے ہے، یہ نثری عذاب اب ان کی ’پاپ نویسی‘ کی صورت میں نازل ہو چکا ہے۔ لیکن فکشن کی غیرموجودگی میں کسی بھی سطح کی ان آپ بیتیوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جن میں اس مخصوص دور میں گزارے ہوے دنوں کا براہ راست بیان ملتا ہو۔ ساقی کی خودنوشت بھی اسی اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے۔ جہاں تک گہرائی اور بصیرت وغیرہ کا تعلق ہے، اس کا بہتان تو ساقی پر وہی شخص لگا سکتا ہے جسے ان الفاظ کی آبروریزی مقصود ہو (مثلاً وہ خود)۔ اپنی خودنوشت میں ساقی نے خود پر دو بڑے بہتان لگائے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق ’’جدیدیت‘‘ سے ہے اور دوسرے کا ’’احساسِ جمال‘‘ سے۔ اگلے صفحات میں میں یہ واضح کروں گا کہ موصوف کس طرح ان دونوں الزامات سے مکمل طور پر بری کیے جانے کے سزاوار ہیں۔ لیکن اس قسم کی سطحی تحریروں میں بھی یہ وصف تو ہوتا ہی ہے کہ لکھنے والا اپنی زندگی کی یادداشتیں قلم بند کرتے ہوے ناگزیر طور پر اپنے خاندان والوں، یاروں دوستوں وغیرہ کا بھی تذکرہ کرتا جاتا ہے، جس کے محتاط تجزیے سے اس دور میں پائے جانے والے معاشرتی رجحانات کو، جزوی طور پر ہی سہی، سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔



                لیکن کوئی خودنوشت نگار (ساقی کے لفظوں میں ’’خودنوشت باز‘‘) جس زاویے سے واقعات اور افراد کو دیکھتا اور بیان کرتا ہے اور اس کی تحریر میں جو تعصبات کارفرما ہوتے ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے اس کے ورلڈویو یا تصورِدنیا سے واقف ہونا ضروری ہے اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ مصنف کی عام شہرت کس قسم کی ہے۔ جہاں تک ساقی کا تعلق ہے، غزل کا عمومی اور خصوصی ذوق رکھنے والے قارئین انھیں ان درجنوں شاعروں میں سے ایک کے طور پر جانتے ہیں جن کی مردہ اور نیم مردہ غزلیں اردو کے متعدد ادبی رسالوں میں ان جیسی اور ان سے بہتر غزلوں کے انبار میں برسوں سے دفن ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ان کی چار چھ نظموں میں یقیناً غزلوں کے مقابلے میں کسی قدر جان دکھائی دیتی ہے، مگر اس کا سبب (جس کی طرف یوسفی بھی توجہ دلا چکے ہیں) یہ ہے کہ ان میں بعض بےزبان جانداروں (بلّے، مینڈک، سؤر وغیرہ) کا ذکر آتا ہے۔ لیکن ذرا ہلاجلا کر دیکھنے پر یہ بیشترساقی کی اصطلاح میں ’’انٹاغفیل‘‘(13) ہی نکلتے ہیں۔ مجموعی طور پر ساقی کی منظومات (غزلیں، نظمیں، نثری نظمیں) شاعری کا بال بیکا نہیں کر سکیں۔ ایسی بات نہیں کہ ساقی کو پڑھنے والوں کی بےلاگ نگاہ میں اپنے مقام کی آگہی نہ ہو؛ بھلا ظالم لوگ اس آگہی سے کہیں محفوظ رہنے دیتے ہیں! دنیاوالوں کے اسی سلوک سے مجبور ہو کر ساقی اپنے سرپرست سلیم احمد کے سامنے (ڈہک ڈہک کے) روتے اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا کرتے تھے کہ ’’سلیم بھائی یہ دنیا بڑی کمینی ہے۔‘‘ (113) لیکن مجبوری کی اس آگہی کے باوجود ان کی سرتوڑکوشش رہتی ہے کہ کہیں غنڈہ گردی اور دہشت انگیزی کی مدد سے، اور کہیں چاپلوسی اور زمانہ سازی کے ذریعے اپنے مقام میں کسی قسم کی بلندی کا التباس پیدا کر سکیں۔ اوپر دیے گئے اس اقتباس میں ساقی نے ان ’’چھوٹے چھوٹے بموں‘‘ کا ذکر کیا ہے جو وہ وقتاًفوقتاً صادر فرماتے رہے ہیں۔ ان کو خودکش دھماکے کہیے تو بجا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا طریقۂ واردات یہ ہوتا ہے کہ بڑے اور محترم ادیبوں اور شاعروں کی چھوٹی بڑی بھیڑ جمع کر کے اک شانِ بےنیازی کے ساتھ خود کو ان سے ٹکرا دیا جائے، یا عظیم تخلیق کاروں کے بارے میں لنگوٹیے یاروں کی سی بےتکلفی اور بدتمیزی کا انداز اختیار کیا جائے، کہ شاید بعض کم حوصلہ قاری مرعوب ہو کر ساقی کے بارے میں کسی خوش گمانی کا شکار ہو جائیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو کم از کم اس دھماکے سے یہ عظما ہی ہلاک ہو جائیں۔ وہ تو خیر ہوئی کہ اپنے ساتھ متواتر شغلِ سیردستی کرتے رہنے کے باعث ان کی شخصیت کے ساتھ بندھے ہوے ’’چھوٹے چھوٹے بم‘‘ اس قدر آلودہ ونمدار ہو چکے ہیں کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں تہلکہ کبھی نہ ہوا، دھواں اور تعفن البتہ پھیلتا رہا۔ ساقی کے چند دلچسپ چھوٹے چھوٹے بم دھماکے ملاحظہ کیجیے:

اِدھر کے لوگوں میں میرتقی میر،حسرت موہانی اور یاس یگانہ چنگیزی ایسوں اور اُدھر کے لوگوں میں بیت ہوفن، ایزرا پونڈ، اور ڈی ایچ لارنس جیسوں سے اپنے مزاج کو ہم آہنگ پاتا ہوں۔ (173) میں نے مصرع لکھنے کی کاری گری انیس، اقبال اور یگانہ (اردو) اور ایلیٹ، آڈن، تھامس (انگریزی) سے سیکھی (افسوس کہ یہی دو زبانیں آتی ہیں) اور hopefully اس فن کو آگے بڑھایا ہے۔ (46) نرودا کے ہم عصر پارّا کے مشورے پر (you have to improve on the blank page) عمل کرتا چلا گیا۔ یعنی آٹھ دس افسانے خود ہی معطل کیے۔ بقیوں میں کاٹ چھانٹ اور کتربیونت کی قینچی چلائی۔ ترمیم و اضافے کے بعد (میرے حساب سے) افسانے اتنے نکھر آئے کہ ان کی پہلی کاپی پھاڑکے پھینک دی۔ اور وہ بھی اس خیال سے کہ آنے والے مورخین، ہیمنگوے اور ایلیٹ کی طرح، کہیں میرے پہلے ڈرافٹ کی کاپیاں تلاش کر کے، میری سادہ تحریروں  (humble writings) کا سراغ نہ لگا لیں۔ (63) میری خوش قسمتی ہے کہ جدید اردو شاعری کے دو بڑوں ]راشد اور فیض[ سے خاصے گہرے تعلقات رہے۔ ... ہماری محبتیں سرعت سے اس لیے بھی بڑھیں کہ اردو کی قدیم و جدید شاعری ایک طرح سے قدرِمشترک تھی۔ وہ دونوں مجھ سے زیادہ جانتے تھے مگر بیس انیس والا ہی فرق تھا، پینسٹھ پینتیس والا نہیں۔ پھر لندن میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت ہم نے اس لیے بھی گزارا کہ یہاں تخلیقی تنہائی تھی۔ ہماری کوشش ہوتی کہ ہم ہفتے میں تین بار ضرور ملیں یعنی راشد صاحب اور میں یا فیض صاحب اور میں۔ فیض صاحب سے آخری دنوں میں اکیلی والی ملاقاتیں ختم ہو گئیں۔ ہم زیادہ تر دوسرے ادیبوں کے گھروں میں یا محفلوں میں ہی ملتے کہ کئی دوسرے بھی آن بسے تھے۔ (138) انیس اور اقبال، پھر یگانہ اور راشد کے مصرعوں کا صوتیاتی نظام مجھے بہت پسند تھا کہ میرے ]بھوتیاتی[ مزاج سے لگّا کھاتا تھا۔ میر کی لہکتی ہوئی اور غالب کی دہکتی ہوئی آواز نے پریشان کر رکھا تھا۔ I mean the better Meer and the better Ghalib. اس لیے کہ ان کے ہاں بھی سخنِ فضول کی کمی نہیں۔ (40) اپنے نوجوان ہم عصروں یعنی اپنے بعد آنے والوں سے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ میں شاعری میں اقلیت کا نمائندہ ہوں۔ غالب کی طرح، راشد کی طرح، میراجی کی طرح، اخترالایمان کی طرح، ممکن ہے میرا بھوت مرنے کے پچاس سال بعد قبر سے نکلے، ممکن ہے نہ نکلے، ...ممکن ہے اس وقت تک تم سب بھی [بھی!] مجھے بھول چکے ہو...مگر اتنا ضرور یاد رکھنا کہ میں ...‘‘ blah blah blah  (29)

جی نہیں، ساقی فاروقی کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دینا قطعی غیرضروری ہو گا۔ یہ بات وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا مقام سلیم احمد، شیدا گوالیاری، بخش لائلپوری، استاد اخترانصاری اکبرآبادی، جمیل الدین عالی، نگار صہبائی، راغب مرادآبادی وغیرہ وغیرہ ہی کے درمیان کہیں واقع ہے جن میں سے ہر ایک کا بھوت، ان کی ’’ڈیم فول شاعری‘‘ (27) کے تصدق میں، عضوِ شرمندگی کی مانند متعلقہ قبر میں منھ چھپائے ابدالآباد تک پڑا رہے گا اور کسی انسانی آبادی کا رخ کرنے کی ہرگز جسارت نہ کرے گا۔ اس وقت غالباً وہ وسکی کے مدوّر لبالب پیپے میں کچھ دیر پڑے ڈبکیاں کھانے کے بعد نکلے ہیں اور باہر ’’ہلکورے لیتی‘‘ ٹھنڈی ہوا میں مست، دُم کی نوک پر ایستادہ ہو کر نعرہ کناں ہیں کہ ’’لاؤ کہاں ہے بلّی، اس کی تو...‘‘ (یہ ایستادگی غالباً کسی قاری ’’ظاہر‘‘ قاسمی یا مولوی عذیرہاشمی کے فراہم کردہ کشتوں کی برکت سے ممکن ہوئی اور بحمداﷲ اب تک جاری ہے۔) پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، وِسکی ہی تو ہے، چڑھ گئی ہے تو جلد یا بدیراتر بھی جائے گی۔

                خیر، تعفن برطرف،اس کا احساس ساقی کو خود بھی ہے کہ ان کی شان میں محولہ بالا قسم کی باتیں کوئی اور کرتا تو ان کے معنی مختلف ہوتے۔ لیکن بھلا کوئی اور ایسی حماقت کرنے ہی کیوں لگا۔ مشفق خواجہ نے ہمیشہ انھیں یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ ساقی کی تعریف میں کچھ کہنے سے پڑھنے والوں کی نظر میں ساقی کی حیثیت تو کیا بہتر ہو گی خود کہنے والے کی حیثیت مشکوک ہو جائے گی، اور یہ بھی کہ ساقی کی ضرورت سے زیادہ سرپرستی کرنے کے باعث لوگ پہلے ہی انھیں ’’خواجہ سگ پرست‘‘ کہنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود، جب کبھی ساقی کو وسکی چڑھی ہوئی نہیں ہوتی یا وہ دُم پر کھڑے ہوے نہیں ہوتے، تو اِس کی اُس کی چاپلوسی کرنے سے باز نہیں آتے کہ کسی سے کوئی تعریفی یا نیم تعریفی فقرہ ہاتھ آ جائے جسے پکّی سیاہی میں چھپوا کر اسے مفت میں رسوا اور خود کو مفتخر کر سکیں۔ اپنے پہلے مجموعۂ کلام ’’پیاس کا صحرا‘‘ میں انھوں نے ذاتی خطوط سے اور اِدھراُدھر سے لوگوں کے فقرے چن کر ’’غیبت کا شامیانہ‘‘ کے عنوان سے اکٹھے کر دیے تھے۔ اس کے بعد سے لوگ اور محتاط ہو گئے اور خطوں میں بھی ایسی کوئی بات لکھنے سے احتراز کرنے لگے جسے ساقی کی کند ذہنی کی دھندلی روشنی میں تعریف پر مبنی سمجھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اگلے مجموعے ’’رادار‘‘ میں جب انھوں نے مذکورہ شامیانہ پھر سے ایستادہ کرنے کی کوشش کی تو محراب گل افغان نامی ایک تبصرہ نگار نے (غالباً قلمی نام تھا) اسے ’’غیبت کا کنٹوپ‘‘ قرار دیا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ افسوس یہ ساقی کے سر پر پھر بھی فٹ نہیں آئے گا۔ دنیا نے سچ مچ ساقی کے ساتھ برا سلوک کیا ہے؛ مگر خیر، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہیں۔ پھر سعید امرت کے قدموں کی برکت سے ان کی رمزآشنائی اس بلا کی ہے کہ اپنے بارے میں ہجوِملیح پر مبنی فقرے بھی تعریفی سمجھ کر نقل کرتے ہیں اور مگن رہتے ہیں۔ بھائی چارگی یہ کہ ان میں سے بیشتر تیر جس کمیں گاہ سے آتے ہیں وہاں ان کے اپنے ہی بھائی بند براجمان ہوتے ہیں۔ مثلاً:

سلیم احمد: ’’ساقی، شاید اس وقت میں موجود نہ ہوں گا جب تمھارا شمار اردو کے عہدجدید کے سب سے بڑے شاعروں میں ہو گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ تم ضرور مجھے یاد کرو گے۔ تمھارا سلیم بھائی...‘‘ (114) تم اپنی اس قسم کی شاعری [’ہجوِ مہمانانِ عزیز‘، ’سید سلیم احمد‘ وغیرہ] کو اہمیت نہیں دے رہے ہو لیکن مجھے تو اس میں تمھاری سنجیدہ شاعری سے زیادہ جان نظر آتی ہے۔ ‘‘(113)

جمیل الدین عالی: اس محفل میں اس رات میں نے یہ دونوں نظمیں سنائیں۔ مصرعوں کی کاٹ اور بُنت ایسی تھی کہ عالی جی نے کہا، ’’تم اپنا تخلص عرفی کر لو۔ ‘‘ میں نے کہا، ’’میں عرفی کو مزید مشہور نہیں کرنا چاہتا۔ ‘‘ اور بات آئی گئی ہو گئی۔ (130)

راشد اور فیض نے، ساقی کی تمام خوشامددرآمد اور حاضرباشی کے باوجود، کبھی ایسی کوئی بات نہ کہی جسے ساقی اپنے حق میں (گویا ان کے خلاف) استعمال کر سکیں۔ شراب وہ دونوں بھی پیتے تھے، لیکن اسے سنبھالنا بھی جانتے تھے۔ رند اور ساقی میں کچھ نہ کچھ فرق تو ہونا ہی چاہیے۔ جہاں تک مشتاق احمد یوسفی کا تعلق ہے، تو وہ غالباً شراب سے شغل ہی نہیں کرتے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں:

میں چلنے لگا تو وسکی بہت چڑھ چکی تھی اس لیے جب زہرا نگاہ نے کہا کہ میں فراز کو چھوڑتا جاؤں تو میں نے نشے کا حوالہ دیے بغیر بہانہ کیا، ’’بہن، میں انھیں اپنی گاڑی میں نہیں بٹھا سکتا کہ جوں ہی کوئی خراب شاعر بیٹھتا ہے گاڑی کا ایک پہیہ ہلنے لگتا ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر چلا گیا۔ دوسرے دن ملنے پہنچا تو فیض صاحب نے کہا، ’’تمھارے بیٹھنے سے تمھاری گاڑی کے دو پہیے تو مستقل ہلتے ہوں گے۔ ‘‘ (173)

میرے پیارے دوست مشتاق احمد یوسفی نے میرے بارے میں کہیں لکھا ہے کہ ’’پڑھت اس قیامت کی کہ ایک ایک لفظ کو زندہ کر کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔ ‘‘ اس میں اتنا اضافہ اور کرنا چاہوں گا کہ لکھت بھی ویسی ہی ہے۔ (41)

یہ اضافہ کرنا بلاشبہ ساقی کا، بلکہ ان ہی کا، حق ہے، لیکن اگر اس سے قبل وہ مشفق خواجہ یا شمس الرحمٰن فاروقی کو فون کر لیتے تو وہ انھیں یہ مشورہ ضرور دیتے کہ اپنے اضافے میں ’’ویسی‘‘ کی جگہ ’’ایسی ویسی‘‘ کر لیں۔



                جدید دور میں بسنے والے کسی شخص کو سمجھنے کی ایک اہم کلید یہ ہے کہ عورتوں کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر سے واقفیت پیدا کی جائے۔ ساقی کے سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کرنے پر پتا چلتا ہے کہ خواہ جسمانی طور پر وہ اکیسویں صدی میں مقیم ہوں، لیکن ان کے ذہن اور احساس کی سطح پر وہی پرچھائیاں نقش کالحجر ہیں جن کا تعلق دقیانوس علیہ الرحمہ کے عہدِ زرّیں سے ہے۔ ان کے نزدیک وجودِ زن کے چند گنے چنے مصارف یہ ہیں کہ ان کی ’قدیم خانی‘ تصویرِ کائنات اور رکیک گفتگو میں رنگ بھرا کرے اور ان کی انواع و اقسام کی (بیشتر اسفل درجے کی) احتیاجات کو پورا کیا کرے۔

اس وسیع خاندان (extended family) ...میں صرف ہم مرد شاعروادیب ہی شامل نہیں تھے بلکہ ہماری مائیں، بہنیں، بھابیاں، بیویاں بھی برابر کی ساجھے دار تھیں۔ اُس زمانے میں بھی ان میں سے اکثر ہم سے پردہ نہ کرتیں یا آدھا پردہ کرتیں یا زیادہ سے زیادہ دکھاوے کا پردہ کرتیں۔ ہم جس تس کے ہاں ڈیرہ ڈال دیتے بغیر وارننگ کے ... اور یہ سگھڑ نامحرم ایک دو گھنٹے کے نوٹس پر ہمارے ناؤنوش کا انتظام کر دیتیں ... ہماری دقیانوسی تہذیب میں شکریہ ادا کرنے کی رسم نہیں بلکہ اسے اس لیے معیوب سمجھا جاتا ہے کہ ‘شکریہ‘ سے اجنبیت کی بو آتی ہے (یہاں مغرب میں تو جنسی اختلاط کے بعد بھی مرد عورت ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں)۔ آج میں یہ سطریں لکھ کر ان تمام خواتین کا، مرحوم و موجود، شکریہ ادا کر رہا ہوں جنھوں نے ہمارے پیاسے ہونٹوں اور بھوکے پیٹوں کی نگہ داری کی۔ ان کی محبتیں نہ ہوتیں تو ہماری آنتیں اینٹھ جاتیں اور ذہن ماؤف ہو جاتے۔ (104-5)

کانے پردے اور مفت کے ’’ناؤنوش‘‘ پر پلے ہوے تنک حوصلہ جسم کے دیگر شرمناک اعضا کے مفادات کی دیکھ بھال، جیساکہ آپ مختصراً دیکھ چکے ہیں اور تفصیلاً آگے ملاحظہ کریں گے، بھاوج کے ذمے ہوتی تھی۔ بہنوں کے مصارف کچھ یوں تھے:

میں باہروالی چارپائی پر دراز تھا اور منّو (محفوظ کی گیارہ بارہ سالہ بہن) میری پیٹھ اور کمر پر کود رہی تھی، ان کا درد کم کرنے کے لیے، اس لیے کہ اسے اٹھنّی درکار تھی۔ (یہی کام میں اپنی چھوٹی بہنوں سنجیدہ اور شاہدہ سے بھی کرواتا اور اٹھنی ہی دیتا مگر ان کا بوجھ بڑھنے لگا تھا اور وہ میرا کچومر نکال دیتیں۔ میری پیٹھ، کمر اور کولھوں پر کودنے والی آصف جمال کی گیارہ سالہ دل آویز اور بانکی بہن عطیہ بھی تھی جو انیس بیس سے پہلے ہی مر گئی مگر میری یادوں میں زندہ ہے۔ )(100)

ساقی یہ بتانا بھول گئے کہ کودنے وغیرہ کی یہ خدمات ان کے عزیز دوستوں کو بھی (تبادلے یا وٹے سٹے کی بنیاد پر) دستیاب تھیں یا نہیں۔ خیر، ان گوناگوں خدمات کو چھوڑ کر رشتہ دار خواتین کا ایک اور استعمال ساقی کی سمجھ میں آتا ہے، جو یوں تو ہماری تہذیب کی سینہ بہ سینہ (اور بعض اوقات برسرِمحفل) زبانی روایت کا درخشاں جز ہے لیکن ساقی اس کی درخشانی کو جہاں تہاں تحریر میں لانے سے بھی نہیں چوکتے، یعنی یہ کہ ان ’’سہاگنوں ‘‘ کے ذریعے دوستوں اور دشمنوں کی ’’ماں بہن‘‘ کی جائے۔ اس فنِ لطیف میں ساقی کے کارناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہنی ناداری کے سبب گالیوں کے ضمن میں بھی بےچارے کو کلیشے پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ البتہ جہاں تک ساقی کائنات کے اعلیٰ تر مدارج کے بارے میں سوچنے کی اہلیت رکھتے ہیں، وہاں اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ’’شاید خدا اپنی کم تر مخلوق ’عورت‘ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اسے پیغمبری کا شرف بخشے۔‘‘ (51-2) پیغمبروں کو تو جانے دیجیے، کسی شاعریا ادیب عورت کا سامنا ہونے پر بھی ساقی پہلے تو بھابیانہ امکانات کی ٹوہ میں رہتے ہیں، لیکن اس طرف سے مایوس ہونے پر جھٹ اسے اونچی آواز میں بہن (یا خالہ یا بِٹیا) کہنے لگتے ہیں تاکہ کسی کو کوئی ایساویسا شک نہ گزرے۔

                تاہم،اپنے وسیع خاندان سے آگے قدم رکھتے ہی ساقی کھل کھیلنا شروع کرتے ہیں (یعنی جس حد تک کھل کھیلنا ان کے بس میں ہے)۔ اس سلسلے کا آغاز ان کی کم سنی ہی میں ہو گیا تھا، یعنی ایک اوسط درجے کے زمیندار گھرانے میں جنم لینے والے اس کپوت کے پاؤں (بلکہ ہاتھ) پالنے ہی میں نظر آنے لگے تھے:

گاؤں کے کئی نوجوان...جن کے تازہ بہ تازہ گونے ہوئے تھے یا جن کی بہنیں جوان تھیں، ان کی خواہش ہوتی کہ ان کی بیاہتائیں اور نوجوان بہنیں ان کی غیرموجودگی میں ’بندوقوں والی ڈیوڑھی‘ میں سوئیں۔ ...ان نوجوانوں کی تمنا کا سبب یہ تھا کہ بدمعاشوں اور زانیوں سے ان کی ملکیتیں محفوظ رہیں۔ ...میں پانچ سال سے سات سال کی عمر تک اپنی متجسس انگلیوں کو لذت کی ٹریننگ دیتا رہا۔ ...جب دادی، اماں، چچی اور پھوپی نیند کے خرابے میں اتر جاتیں تب میں بستر کے نشیب سے ابھر کے رات کی معزز مہمانوں کی چارپائیوں کی طرف چلا جاتا۔ جانگیا اور انگیا سے ان سخی بدنوں کی صاحب سلامت نہیں تھی اس لیے صرف چولیوں اور ساریوں اور ان کے نیچے چھپے ہوئے خزانوں سے ملاقات ہوتی۔ سیردستی ہو جاتی اور اگر آنگن میں چاندنی چھٹکی ہوتی تو سیرچشمی بھی۔ ...ان تین چار برسوں نے، سنِ بلوغ سے پہلے ہی، شہوانی جذبات کی پرورش کی ہو گی اور میری جنسی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لیا ہو گا۔ (18)

ان ننھی ننھی سیردست انگلیوں سے جو جنسی شخصیت تعمیر ہوئی وہ ساقی کی کتاب میں صاف جھلکتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ بات 1940 کی دہائی کی ہے، جب زیرجاموں کا رواج غالباً برصغیر کے دیہات میں رعیت ہی نہیں، زمیندار طبقے کی عورتوں تک بھی نہیں پہنچا تھا۔ علاوہ ازیں، چاندنی شاید ہر رات تو اس بھلے زمانے میں بھی نہیں چھٹکتی تھی، اور زنان خانے میں ایک اسپِ تازی کی لات کے تازیانے سے ساقی کی بینائی پہلے ہی، یا انھی دنوں، متاثر ہو چکی تھی(17)، ایسے میں وہ یہ پتا کیونکر لگاتے تھے کہ رات کی معزز مہمانوں کی چارپائیاں کہاں سے شروع ہوتی ہیں، یہ راز کھولنا ساقی نے مناسب نہیں سمجھا۔ خیر اس سے کچھ ایسا فرق بھی نہیں پڑتا، اس قسم کی نابالغ سیردستیوں سے نیند کے خرابے میں اترے ہوے سخی بدنوں کا کیا بگڑ سکتا تھا، ان کی تو آنکھ تک نہ کھلتی تھی۔

                1948 کے بعد چار برس تک ساقی، اپنے ایک حقیقی اور تین عدد رشتے کے بھائیوں کی معیت میں، ڈھاکہ کے ایک اردو میڈیم اسکول کے ہوسٹل میں اپنی ہفت پہلو شخصیت کی تعمیر کرتے رہے۔ بھائی چارگی کی ابتدائی تربیت بھی وہیں ہوئی۔ ان کی شخصیت کا شہوانی پہلو ایک سنڈاس کی طرف کھلتا تھا جس میں ان کے بھائیوں کی شخصیتیں بھی ساجھے دار تھیں:

مکان سے باہر بھی ایک سنڈاس تھا جو اس مکان کے ہندو مالکان نے اپنے نوکروں کے لیے بنایا ہو گا۔ سینئر طلبہ باری باری دن کا کم از کم ایک گھنٹا وہیں ضائع کرتے۔ اس لیے کہ چہاردیواری سے اُدھر ایک بنگالی خاندان کا گھر تھا۔ جس میں سولہ سترہ سال کی دو لڑکیاں بھی رہتی تھیں۔ وہ ادھ رَسے پستانوں اور گدّر سرین کی مالک تھیں۔ ان کے گھر کے بیچ ایک کنواں تھا جہاں وہ روزانہ یا ہر دوسرے روز غسل کی مرتکب ہوتیں۔ ہم سب روزنِ شکستہ سے ان کے ’’کم بخت دل آویز خطوط‘‘...کا مطالعہ کرتے اور ’’خودوصلی‘‘ کرتے۔ ...اس وقت مجھے چھاتیوں سے زیادہ کولھوں سے رغبت تھی۔ انہی کی یاد میں پینتیس سال بعد میں نے اپنا مزے دار ’مضمون نما‘ ’’ایک پشت کی مدافعت میں ‘‘ لکھا تھا... (27)

اس کے بعد انھوں نے اپنا یہ ’مضمون نما‘ یا ’مضمونچہ‘ پورا کا پورا نقل کیا ہے۔ یہ دراصل ’شخصیت نما‘ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پینتیس سال کے عرصے میں تعمیر کی کارروائی کہاں تک پہنچی۔ اس مضمونچے کا راقم الحروف ’’وائن کی بوتل کھولتے ہوئے ‘‘ ایک عورت کی ’’پشت کی مدافعت‘‘ (یعنی اس کے ساتھ عقب سے سیرچشمی) اور گدّر سرینوں کے تصور کے بل پر نثری خودوصلی کرنے میں مشغول ہے۔ وہ عورت، ظاہر ہے اس تمام کارروائی سے بےخبر، سنک میں صبح کے جھوٹے برتن دھو رہی ہے۔ ذراسی دیر میں یہ ’مزے دار‘ مدافعتی کارروائی تکمیل کو پہنچے گی اور اس کے بعد برتن دھونے کے عمل کا بھی تمت بالخیر ہو جائے گا۔ برتن دھونے والی اپنی خدمات کی اجرت (اٹھنی یا جتنی بھی) وصول کر کے باہر (یا اندر) چلی جائے گی، اور راقم الحروف اپنی خودوصلی کی کتابت کر کے اس وصلی کی فوٹواسٹیٹ کاپیاں اپنے معزز دوستوں کو ڈاک سے روانہ کرنے نکل کھڑا ہو گا۔ ان میں سے ایک مکتوب الیہ کی داد بھی، جسے پا کر ساقی کی ’’انا پھول کر کپا ہو گئی تھی‘‘ (27) جزوِ پاپ بیتی ہے :

ساقی، صبح کی ڈاک سے تمھارا مضمونچہ ملا۔ ہم دونوں (یعنی ادریس بھابی اور یوسفی صاحب) دو تین بار پڑھ چکے ہیں۔ عجب قیامت کی نثر لکھی ہے۔ قیامت تک خوش رہو مگر یاد رکھو کہ اس قسم کی داد وہی دے سکتا ہے جس نے نثر اور کولھے دونوں برتے ہوں۔

اس اقتباس میں بریکٹوں میں لکھے ہوے الفاظ ساقی کا اضافہ ہیں جن کا جواز اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اس قسم کی داد کو ضرورت سے کم پا کر دُگنا کرنا چاہتے ہیں۔ خیر داد دینے والوں سے یہاں بحث نہیں، البتہ جہاں تک مضمونچے کے مصنف کا تعلق ہے معلوم ہوتا ہے اس نے نثر کو بھی کم و بیش اتنے ہی فاصلے سے برتا جتنی دور سے کولھوں کو۔



ساقی کی جنسی شخصیت کی تعمیر کے ایک اگلے مرحلے کی خبر یوں ملتی ہے:

آگے آگے بھابی اور گنڈی، پیچھے پیچھے عالی جی اور میں خراماں خراماں ریستوران کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک نہایت خوب صورت چہرے نے ہمارے قدم پکڑ لیے۔ ہم نے اسے روک کر اس کی نیلی آنکھوں، سنہرے بالوں اور آدھی رانوں تک کٹی ہوئی منی اسکرٹ کی ہواداری پر رطب اللسانی کی۔ اسے لجاتا شرماتا چھوڑ کر ہم آگے روانہ ہوئے۔ (133)

لیکن چونکہ ساقی اپنی سیرچشمی وغیرہ کے اہداف کو عموماً اپنی موجودگی سے بےخبر ہی رکھنا پسند کرتے ہیں، گمانِ غالب ہے کہ مذکورہ عفیفہ کو روکنے اور رطب اللسانی کرنے کی توفیق عالی کی شخصیت کو ہوئی ہو گی جن کا ذکر ایک اور جگہ یوں آتا ہے:

نواب جانی [عالی خاں] کا فون آیا تو معلوم ہوا کہ وہاں ان کی ملاقات سویڈن کی ایک مطلقہ خاتون انگرڈ سے ہوئی۔ میں نے فون بیوی کے حوالے کیا۔ گنڈی نے کھانے پر بلا یا۔ دوسرے دن وہ انگرڈ کے ساتھ آئے۔ نہایت قبول صورت خاتون تھیں۔ گنڈی کو پسند آئیں مگر میں اپنے حد سے بڑھے ہوے احساسِ جمال کے باعث اُس عزیزہ کے چہرے پر چنے ہوئے ایک عظیم مسّے کو قبول نہ کر سکا کہ صرف تل کا دیوانہ ہوں، شاید مسّے کی رفاقت میری سرشت میں نہیں، مگر عالی جی جب جب لندن آتے ہیں تو مسّے کو فون کرتے ہیں یا سویڈن کا چکر لگا آتے ہیں۔ خیال اغلب ہے کہ ان کا مثانہ کم زور ہے۔ (133)

مثانے کے ذکر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساقی کے لیے ان امور کو قارورے وغیرہ سے الگ کر کے دیکھ پانا اب تک دشوار ہے۔ اس میدان میں ان کے تبحّرِعلمی کی ایک دلچسپ جھلک وہاں ملتی ہے جہاں وہ راشد کی وفات کے بعد لکھے ہوے مضمون میں ان کی نجی زندگی کے ایک گوشے کا انکشاف کرتے ہیں:

[راشد] heterosexual تھے اور ہیلن نے انتہائے شوق میں ان پر محبت کے سارے دروازے وا کر دیے تھے۔ (151)

’’سارے دروازے وا کر دیے تھے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً oral اور anal سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے، لیکن heterosexual؟ مشفق خواجہ، افسوس، وفات پا گئے، مگر شمس الرحمٰن فاروقی تو خدا کے فضل اور ساقی کی دعاؤں سے اب تک زندہ ہیں۔ کتاب کی ضخامت بڑھانے کے لیے اس پرانے مضمون کو شامل کرنے سے پہلے ساقی نے ان کو فون کر کے ضرور پوچھ لیا ہو گا کہ اس لفظ کا یہی صرف ہے۔

                ساقی کی اب تک کی جنسی زندگی کا عروج تو وہ واقعات تھے جن کا ذکر بھاوج نامہ میں آتا ہے، لیکن ولایت کا رخ کرنے سے پہلے جب وہ پاسپورٹ بنوانے حیدرآباد گئے تو ان کی زندگی میں یہ حسین موڑبھی آیا:

میں نہادھو کر نچلی منزل میں ’’نئی قدریں‘‘ کے دفتر میں چلا جاتا اور ’استاد اخترانصاری‘ کے ساتھ ان کے دفتر میں ہی ناشتا کرتا۔ مجھے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ابھی تیسرا دن ہو گا کہ ایک نہایت خوب صورت سولہ سترہ سالہ میٹرک کی طالبہ ’استاد‘ کا آٹوگراف لینے کے لیے آئی۔ وہ برقع پہنے ہوئے تھی۔ اس کا الٹا ہوا نقاب، پرکترے بال اور کرنجی آنکھیں دل میں آج بھی گڑی ہوئی ہیں۔ ...دوسرے دن وہ لڑکی اپنی دو سہیلیوں کے ہمراہ میرا آٹوگراف لینے کے لیے آئی۔ پھر تو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہر روز ہی ان میں سے کوئی نہ کوئی لڑکی ’آٹوگراف‘ لینے کے لیے پہنچ جاتی۔ ... ایک دن میں اپنے کمرے میں ’آٹوگراف‘ دے رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ بےچاری لڑکی نے سراسیمگی کے عالم میں جلدی جلدی اپنی شلوار پہنی۔ میں نے جیسے تیسے پتلون چڑھائی۔ اس ساری کارروائی میں دو تین منٹ سے زیادہ نہیں لگے ہوں گے۔ دروازہ کھلا تو اخترانصاری اکبرآبادی اور حمایت علی شاعر مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ اس تازہ گرفتار فاختہ نے نہایت سعادت مندی سے کہا، ’’حمایت چچا سلام‘‘ ... حمایت نے بھی نہایت شفقت سے سلام کا جواب دیا، ’’خوش رہو بیٹی‘‘۔ ایک دو منٹ کے بعد یہ غنچۂ نوشگفتہ اپنے رنگ اوڑھ کے اور اپنی خوش بو چھوڑ کے چلا گیا۔ حمایت نے بتایا کہ یہ ان کے ہمسایوں کی لڑکی تھی اور انھیں کے محلّے میں رہتی ہے [کذا]۔ استاد نے قہقہہ لگاتے ہوئے فرمایا کہ ہم دونوں کنجی والے سوراخ سے سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔ غرض کہ ان دونوں سخن وروں کے باعث میں نے حیدرآباد میں ’آٹوگراف‘ دینے بند کیے اور دو چار دن بعد ہی کراچی لوٹ آیا۔ (136)

جہاں تک استاد اختر انصاری اکبرآبادی کا تعلق ہے، انھوں نے ارزاں نرخ پر آٹوگراف دینے کا یہ سلسلہ کچھ عرصہ اور جاری رکھا، پھر غیرضروری پا کر موقوف کر دیا اور برسوں بعد اسی ہوٹل میں اپنی آخری عمر پوری کر کے رخصت ہوے۔ خدا ان کی مغفرت کرے اور جب ساقی سنی گارڈنز روڈ کے سو نمبر میں اپنی آخری عمر پوری کر چکیں تو ان کی بھی۔



                اعتراف کے بہانے ڈینگیں مارنے والا گناہ گار جاہن جو کچھ بھی ہو، اردو کا شاعر غالباً نہیں تھا، اس لیے کیا عجب کہ اس کا کام اتنا دشوار نہ رہا ہو۔ جہاں تک موخرالذکر کا تعلق ہے، اس دلچسپ مخلوق پر یوسفی ہی کا ایک اور فقرہ نسبتاً زیادہ خوبی سے روشنی ڈالتا ہے : ’’تم جسم شاعر کا مگر جذبات گھوڑے کے رکھتے ہو۔ ‘‘ (گویا، بقول ساقی، یہ بلا بھی یوسفی کے عاشقوں ہی کے سر آئی۔) ساقی سمیت اس زمرے کے زیادہ تر افراد کے جنسی عزائم ان کی توفیق اور حیثیت سے فزوں تر ہی دکھائی دیں گے۔ ویسے اس باب میں کچھ دخل یقیناً شومیِ قسمت کا رہا ہو گا، اور کچھ ہمت کی کمی کا بھی (کہ توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ...) لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سماجی حالات بھی، نوجوان شاعروں اور ان کے ہم عمر دوسروں کے لیے، کچھ ایسے سنگلاخ تھے جن کے نتیجے میں (بقولِ راشد، میر ہو، مرزا ہو، میراجی ہو) سب کے حصے میں بیشتر نارسا ہاتھ کی نمناکی ہی آتی رہی۔

                 میر و مصحفی و مرزا کو تو پھربھی جماجمایا معاشرہ ملا تھا جہاں کم عمری میں نکاح کر دیے جاتے تھے اور غیرنکاحی اور رومانی سرگرمیوں کے لیے (اگر استطاعت ہو تو) داشتائیں اور رکھیلیں رکھنے کی اجازت اور سماجی گنجائش تھی۔ شاعری کی ریاستی سرپرستی کے سوتے جوں جوں سوکھتے چلے گئے، اردو شاعر عموماً مالی طور پر قلاش اور روزگار کے سلسلے میں پریشان دیکھے جانے لگے اور (جاگیردار گھرانوں کے ان فرزندوں کو چھوڑ کر جنھیں شاعری کی بھی لت تھی اور جن کی درازدستی کی زد میں بیویوں اور رکھیلوں کے علاوہ بندوقوں والی ڈیوڑھی میں حفاظت کی غرض سے سلائی جانے والی رعیت کی بہوبیٹیاں بھی آتی تھیں) ان میں سے بیشتر کا جنسی میدانِ عمل عم زادوں اور کوٹھے کی طوائفوں تک محدود ہو گیا۔ جدید تعلیم کا دوردورہ شروع ہوا تو نوخیز جنسی امنگیں رکھنے والے شاعروں کو اسکول کالج آتی جاتی نوعمر لڑکیاں (لڑکیاں بھی کہاں، لڑکیوں کی جھلکیاں) دکھائی دینے لگیں۔ تانگے اور لاری میں لائی لے جائی جاتی یہ لڑکیاں عموماً شلوار قمیص، برقعے اور نقاب میں ملفوف ہوتی تھیں، چنانچہ کتابیں تھامے ہاتھوں اور شلوار کے پائینچے سے پمپی کی کناری تک پیروں کے ذرا سے حصے کا دیدار ہی ندیدہ شاعرانہ نگا ہوں کے حصے میں آتا تھا (سواے اس کے کہ کبھی کبھار ہوا کے جھونکے کی مہربانی سے نقاب سرک جاتی)۔ چند مربع انچ نسوانی جلد کے اسی گریزپا نظارے پر انھیں خودوصلی کا بھی بندوبست کرنا ہوتا تھا اور اسی تنگ رقبے پر اپنی شخصیت اور شاعری کی عمارت بھی اٹھانی ہوتی تھی۔ اردو شاعروں کی ضرب المثل نارسائی زیادہ تر اسی دور سے یادگار ہے جب نوعمر لڑکوں لڑکیوں کے اکٹھے پڑھنے کا رواج نہیں ہوا تھا، اور روزگار کی جگہوں پر نوجوان مردوں اور عورتوں کے یکجا ہونے کی منزل ابھی خاصی دور تھی۔

                ساقی فاروقی کو جس زمانے میں بالغ ہونے کا موقع ملا (یہ بات جانے دیجیے کہ انھوں نے اس موقعے کے ساتھ کیا کیا) وہ پچھلے ادوار کی بہ نسبت خاصا تبدیل ہو چکا تھا۔ کراچی یونیورسٹی، جس نے انھیں داخلہ دینے کی غلط بخشی کی، لڑکوں اور لڑکیوں کو ساتھ بٹھا کر پڑھانے لگی تھی، لیکن ساقی نامعلوم وجوہ سے وہاں سے سال بھر ہی میں رخصت ہو گئے۔ ان کی یادداشتوں میں یہ ذکر تو ملتا ہے کہ انھوں نے اپنے ابا کو مذبح خانوں کے انچارج کی سرکاری نوکری کے سلسلے میں ملنے والی وین میں اپنے ساتھ پڑھنے والے لڑکوں لڑکیوں کو مختلف علاقوں سے چن چن کر یونیورسٹی پہنچانے کی خدمت کچھ عرصے تک انجام دی، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انھوں نے کسی اپنی ہم عمر، ہم جماعت یا ہم جامعہ لڑکی کے ساتھ مجامعت تو درکنار، سیرچشمی وغیرہ سے آگے کی کوئی کم یادگار منزل ہی طے کی ہو۔ اسی طرح معاشرتی تبدیلی کے عمل کے نتیجے میں دفتروں اور کارگاہوں میں نوجوان مردوں اور عورتوں کو ساتھ کام کرنے اور ایک دوسرے سے متعارف ہونے کے موقعے دستیاب ہونے لگے تھے، لیکن تعلیم اور اہلیت کے بغیر اور سفارش کے زور پر ساقی کو جن سرکاری دفتروں میں چھوٹی موٹی ملازمت ملی وہاں شاید خواتین کا گزر نہ تھا، اور یوں بھی ساقی کی مفروضہ ’’ادبی سرگرمیوں‘‘ کا آغاز ہو چکا تھا، اس لیے وہ یا تو دفتر میں موجود ہی نہ ہوتے یا اپنے ان شاہکار افسانوں کو سرکاری کاغذوں پر نقل کرنے میں منہمک رہتے جنھیں دفتر کے سپرنٹنڈنٹ نے ضبط کر کے اردو ادب کو ایک اور عذاب سے بچا لیا۔ (63-5) ساقی خود بھی ان مواقع سے صاف بچ گئے جو معاشرے میں اٹھنے والی جدیدیت کی لہروں نے نوجوان مردوں اور عورتوں کو مہیا کیے تھے، کیونکہ جاگیردارانہ قدامت زدگی کی جس مٹی سے ان کا خمیر تیار ہوا تھا اسے ان لہروں کی زد میں گھل کر بہہ جانے کا خطرہ درپیش تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ساقی کی تمام سرگزشت میں جدید دور کی کسی ایک بھی ایسی عورت کی جھلک دکھائی نہیں دیتی جس سے ان کا کوئی بالغ مکالمہ قائم ہو پایا ہو۔ وہ تو کہیے کہ اس وقت تک وہ اطہر نفیس کی عنایت سے سلیم احمد کی محفل کے حاضرباشوں میں سے ہو چکے تھے جن کو حاصل گوناگوں فوائد (perks) میں بھاوج تک رسائی (یا بقول ساقی، ان خاتون کے ہاتھوں مٹی پلید کرانا) بھی شامل تھی، ورنہ جس طرح خودوصلی کرتے ہوے کراچی کے ساحل پر اترے تھے اسی طرح جوں کے توں انگلستان روانہ ہو جاتے۔



                ساقی نے اپنی نام نہاد پاپ بیتی کوئی ستر برس کی عمر میں قلمبند کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمرِدراز میں ساقی کی جنسی فتوحات کا نقطۂ عروج ان کا اپنے ایک عزیزترین دوست کی بیوی کے ساتھ ہم جفت ہونے کے دلچسپ مشغلے میں اپنے بھائیوں (یعنی سلیمی ریوڑکے دیگر کرداروں) کے ساتھ ہم زلف ہونا تھا۔ ان شریکِ کار بھائیوں میں سے دو کا ذکر ساقی نے کیا ہے، شمیم احمد اور اطہر نفیس۔ لیکن انچولی شریف میں واقع خانقاہِ سلیمیہ کے آس پاس کی گلیوں میں ریوڑ کے مختلف عمروں کے متعدد دیگر ارکان بھی بھابی کی اس ساجھےداری میں شامل ہونے یا رہ چکے ہونے کا دعویٰ کرتے اور سسکاریاں لیتے پائے گئے ہیں (کہ ایسی بھرجائی بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی)۔ مشکل یہ ہے کہ ساقی نے اپنے عزیزترین دوست (یعنی اپنے ہم ریوڑ بھائی) اور ان کی بیوی (یعنی اپنی بھاوج) دونوں کے نام چھپا لینا مصلحت اور مشرقیت کے عین مطابق جانا (ان مشرقی اقدار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سلیم احمد کی طویل نظم ’’مشرق‘‘)، اس لیے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ ان سب دعوےداروں اور ساجھےداروں کی مراد ایک ہی ہستی سے ہے یا اس راکھ کے ڈھیر میں ایک آدھ چنگاری اور بھی تھی۔ ساقی اور ان کے بعض عزیز دوستوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تو اتنا ہی کہنا ممکن ہے کہ ان ناداروں کی یہی دولتِ مشترکہ تھی جس کی بارگاہ میں سرفراز ہونے کی آرزو میں پورا ریوڑ سلیم احمد کی زیرہدایت ٹانگوں میں موسل دبا کر صبح شام کودا کرتا تھا۔ ریوڑ کے جو ارکان اس بہتی (اور بیشتر ہونہاروں کی عمر کے لحاظ سے کسی قدر بوڑھی) گنگا میں بھی گیلے ہونے کی توفیق نہ رکھتے تھے، وہ اس اجتماعی سرگرمی کو دیکھ دیکھ کر، آلودہ ہاتھوں سے تالیاں پیٹ پیٹ کر یا ایک دوسرے کی پسلیوں میں لذت آمیز ٹہوکے مارمار کر ہی خود کو شامل باجا تصور کر لیا کرتے تھے۔

                ساقی نے اپنے عزیزترین دوست کو ’’زید آفریدی‘‘ اور بھاوج کو ’’مسز آفریدی‘‘ کا نام دیا ہے جس کی وجہ غالباً آفریدی قبیلے کے کسی فرد سے کوئی حساب چکانا رہا ہو گا۔ چونکہ فاروقی، صدیقی، خان وغیرہ کی طرح آفریدی بھی ایک حقیقی سرنیم ہے اور پڑھنے والوں کو بھلا کیا غرض کہ ساقی کے سفلہ حساب کتاب میں ساجھےدار بنیں، اس لیے میں نے ساقی کی بھاوج کا فرضی نام بدل کر ’’مسز ناآفریدی‘‘ کر دیا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ریوڑ کے جو ارکان موصوفہ سے ہم بستر رہے انھیں ’’ناآفریدی قبیلے‘‘ کا لقب دیا جا سکتا ہے۔ خیر، اب ان خاتون کے اوصاف کی طرف توجہ کیجیے جنھوں نے شمیم احمد، ساقی، اطہر نفیس اور متعدد دیگر ناآفریدگان کی بقول ساقی ’’نتھ اترائی‘‘ کی۔ ساقی سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اس کردار کا جسمانی سراپا یا جذباتی و نفسیاتی شخصیت کا خاکہ کھینچ کر دکھائیں، گویا ساقی کی لسانی و ادبی معذوری کا مذاق اڑانا ہوا۔ ان کے پاس اپنی بھاوج کے بارے میں کہنے کو بس یہ کچھ ہے:

ہوا یوں کہ شمیم احمد، میں اور اطہر نفیس، یکے بعد دیگرے، ایک ہی زلف کے اسیر ہوئے۔ ...یہ زلف عطیہ بیگم فیضی کی طرح، علم و فراست والے موباف تو نہیں لگاتی تھی مگر ذہانت، جنسی تشنگی اور لگاوٹ والے بیلے اور چنبیلی کے ہار ضرور پہنتی تھی۔ ہم تینوں انھی ہاروں کی خوشبو سے ہارے۔ (118)

رہا وصل کا بیان تو اس باب میں بھی ساقی کی نارسائی باقی نقشے کے مطابق ہی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’میں اس سایہ دار سہاگن کے بسترِ استراحت اور غلط آسن میں علم الابدان کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھا...‘‘ سعید امرت کی یہ ہدایت غالباً ساقی نے شروع ہی میں پلّے باندھ لی تھی کہ مشرقی لوگ ہر طرح کی جنسی سرگرمی کو ’’غلط آسن‘‘کے نام سے یاد کرتے ہیں، چنانچہ جب شمیم احمد بِہار کالونی کے ایک نیم تاریک گھر میں محمد حسن عسکری کو مالشیے کے ساتھ مشغول دیکھتے ہیں تو اس کا ذکر بھی ساقی کے ہاں ’’غلط آسن‘‘ ہی کے بلیغ استعارے میں آتا ہے۔ خیر، مذکورہ بالا فقرہ ساقی کی سرنوشت کے جس قصے کا نقطۂ آغاز ہے اس سے ملتاجلتا ایک قصہ ابن انشا کی طویل مثنوی ’’قصہ ایک کنوارے کا‘‘ کے درج ذیل مصرعوں میں کہیں زیادہ برجستگی اور دلکشی سے بیان ہوا ہے:



لیکن وہ جو بھابی تھی

سو تالوں کی چابی تھی

اِن کو وہ ٹہلاتی تھی

اپنے دوست بلاتی تھی

آج بھی گھر میں بیٹھا تھا

ایک کہیں کا مشٹنڈا

دونوں رازونیاز میں گم

تم میں میں اور مجھ میں تم

یہ جو اچانک آ پہنچے

سر پہ جو اُن کے جا پہنچے

عشق اُس کا کافور ہوا

کودا، پھاندا، دور ہوا

لیکن ساقی اس صورت حال کو یوں بیان کرتے ہیں:

ناگہاں باہر والے دروازے کے کھلنے کی آواز سنائی دی۔ ...میں نے نہایت پھرتی سے قمیص اور پتلون پہنی اور جوتوں میں پیر ڈالے۔ مجھے پچھلے دروازے سے باہر نکال کے اس زودفہم نے کنڈی لگا دی۔ ابھی دس بیس ڈگ بھی نہیں بھرے تھے کہ ہرچیز دھندلی د ھندلی دکھائی دی۔ ملٹن کی طرح [جی ہاں، یہی لکّھا ہے] میری دنیا بھی تاریک ہوتی نظر آئی۔ یاد آیا کہ اپنا چشمہ تو تکیے کے نیچے چھوڑ آیا ہوں۔ ...پورے بلاک کا چکر کاٹتا، جل تو جلال تو کا ورد کرتا اس گھر کے سامنے والے دروازے تک پہنچا۔ ... ایک دو منٹ کے توقف کے بعد دستک دی۔ دروازہ کھلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شوہرِ نامدار ہی نہیں بلکہ شمیم احمد بھی براجمان ہیں۔ دونوں ساتھ ہی آئے تھے۔ علیک سلیک کے بعد لونگ روم سے سیدھا بیڈروم میں چلا گیا۔ تکیے کے نیچے سے عینک اٹھائی۔ واپس لونگ روم میں پہنچا۔ اعلان کیا کہ چشمہ بھول گیا تھا ...اور باہر والے دروازے کی طرف روانہ ہوا۔ مسئلے کی نزاکت کو دیکھ کر اس خاتون نے اپنے شوہر زید آفریدی کو مخاطب کر کے واویلا کیا، ’’تم نہیں ہوتے ہو تو ساقی مجھے تنگ کرنے کے لیے آ جاتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ تمھاری غیرموجودگی میں ہرگز نہ آیا کریں۔ ‘‘ میں گھر سے تو نکل آیا مگر اس عزیزہ کی آواز تعاقب کرتی رہی۔ جی ہی جی میں تریاچرتر بلکہ تریاچال کی داد دیتا رہا (تریاچرتر نہ جانے کوئے، کھسم مار کے ستّی ہوئے ...ایک پوربی کہاوت)۔ (119)

اوپر کے پیراگراف سے تذلیلِ باہمی کے اس دلچسپ تعلق کا کچھ اندازہ ہوتا ہے جو ساقی اور ان کی بھاوج کے درمیان قائم تھا، اور جس کے سلسلے میں آگے چل کر انھیں ناآفریدیوں کے سرخیل (اور شاعرِ ’’مشرق‘‘) سلیم احمد کو بھی وصل کا منظر (یا جو کچھ بھی) دیکھنے کے لیے مدعو کرنا تھا اور پھر بھاوج سے ان کا سامنا کرا کے دونوں کو شرمسار کرنا تھا۔

                لیکن شاید شرمساری کا ذکر یہاں بےموقع ہے، کیونکہ مذکورہ قبیلے میں اس قسم کے کسی رواج کا سراغ نہیں ملتا۔ وہاں تو بھاوج کا ذکر اس محفل میں (جس کے دیگر اوصاف کا تفصیلی احوال ذرا آگے آئے گا) گرمی پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وصل کی لذت انگیز صورت حال کا بیان جوں توں نمٹا کر ساقی پھرتی سے یا جلدی جلدی پتلون جوتے وغیرہ پہننے کی اطلاع دیتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنی دلچسپی کے اصل معاملے پر آتے ہیں، یعنی یہ کہ پتلون چڑھانے کے بعد انھوں نے کس کس کے پاس جا کر غلط آسن وغیرہ کے امور پر سر جوڑ کر کیا کیا لذت آمیزباتیں کیں۔ مذکورہ بالا واردات کے بعد ساقی نے قبیلے یا ریوڑ کے جن ارکان کے ساتھ مل کر ذکر کا ثواب سمیٹا ان میں اطہر نفیس، محمود ہاشمی تو تھے ہی، اگلے دن جمال پانی پتی کو بھی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ محمود ہاشمی کا تبصرہ تھا: ’’ابے دبڑو گھسڑو، یوں ہی تربیت ہوتی ہے۔‘‘ اطہر نفیس، اور اطلاعات کے مطابق قبیلے کے بعض دیگر دبڑوگھسڑو ارکان بھی، آگے چل کر اسی تربیت گاہِ صالحین سے فارغ ہوے۔ برادرِ خورد شمیم احمد، جیساکہ ساقی وغیرہ پر بعد کو کھلا، پہلے ہی سے اس نیم شکستہ دیوار پر لام الف لکھ رہے تھے۔ (120) آگے کاحال کچھ یوں ہے:

یہ احساسِ جرم کہ میں نے ایک نہایت نفیس اور دردگسار دوست کا آبگینے بلکہ خوابگینے جیسا دل توڑا اور اس کا اعتبار کھویا [اور کیا اور کیا اور کیا]، شب خون مارتا رہا۔ دھیان کی سطح پر ایک اور جل کنبھی تیر رہی تھی۔ یہ خیال کہ مسز آفریدی نے، اپنے بچاؤ کی کوشش میں جھوٹ بول کر ایسا کھیل کھیلا ہے کہ احباب تو احباب، خود اپنی نظر میں بھی بحالی مشکل سے ہو گی۔ پندار کی شکست نے حواس باختہ کر رکھا تھا۔ ...غرض کہ رہ و رسم آشنائی پر میری مجروح اناغالب آئی... (120) طے پایا کہ میں شمیم سے مل کر پہلے یہ معلوم کروں کہ میرے چلے جانے کے بعد اس گھر میں ہوا کیا۔ زید آفریدی کس عذاب سے گزرا۔ قیامت آئی کہ نہیں؟ ظاہر ہے اس وقت تک ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ عرصہ دو سال سے، مجھ سے کہیں پہلے شمیم بھی اسی آستانے کی ارادت کے سزاوار تھے جس کا میں۔ [ساقی کے خیال میں سزاوار کے یہی معنی ہیں۔] مجھے کیا پتا تھا کہ دو تین سال بعد اطہر نفیس بھی (معصوم ابن مظلوم) اسی زرخیز زمین پر سجدہ گزار ہوں گے۔ غرض کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔ شاید یوں کہنا چاہیے کہ مسز آفریدی نے ہماری مٹی پلید کر دی تھی۔ (120-1) میں نے بس پکڑی اور جہانگیر روڈ پہنچا۔ ...سلیم خاں نے کتاب رکھی، ہاتھ ملایا اور چارپائی کے بیچوں بیچ آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ کہنے لگے، ’’شمیم نے دو تین گھنٹے پہلے دوپہر والا سارا واقعہ بتا دیا ہے۔ ‘‘...شمیم ساری رات مجھ پر لعن طعن کرتا رہا اور گفتگو کی تان اس پر ٹوٹی کہ میں ہرگزہرگز مسٹر اور مسز آفریدی کے گھر میں قدم نہ رکھوں ورنہ دوستوں میں اور خاندانوں میں بڑی تھئی تھئی ہو گی۔ ...یہ تو ہم سب کو دو تین ہفتوں کے بعد پتا چلا کہ اس کے جارحانہ رویے کے پیچھے رقابت (jealousy) اور مسترد ہونے کا (rejection) دکھ تھا۔ پچھلی بار کراچی گیا تو مشفق خواجہ نے بتایا کہ ایک روز شمیم ان کے پاس آئے تھے اور انھوں نے دل کے داغ اور زخم انھیں بھی دکھائے تھے اور بتایا تھا کہ ہم دونوں (شمیم اور میں) ایک زمانے میں رقیب بھی رہ چکے ہیں۔ (121-2)

اوپر کے اقتباس کا کلیدی فقرہ ہے ’’تھئی تھئی ہونا‘‘۔ ساقی جیسوں کے لیے تو لغات وغیرہ سے سر پھوڑنا کہاں ممکن ہے، یہ لفظ انھیں مشفق خواجہ یا شمس الرحمٰن فاروقی نے، جنھیں ساقی نے اسی نوعیت کے کاموں کے لیے زندہ رکھ چھوڑا تھا، سُجھایا ہو گا، اور اس سے پہلے فرہنگ آصفیہ کی جلد اول کھول کر اطمینان بھی کر لیا ہو گا۔ وہاں درج ہے :

تھئی تھئی: ہ۔ اسم مونث۔ اصول موسیقی کی آواز۔ تال۔ سم۔ تالی۔ (۲) ناچنے گانے کی آواز۔ تھاپ کی آواز۔

تھئی تھئی ہونا: ہ۔ فعل لازم۔ ناچ رنگ ہونا۔

اس سے ملتاجلتا ایک فقرہ اور بھی ہے، تُھڑی تُھڑی ہونا۔ وہ بھی ہندی الاصل اور فعل لازم ہے، اور فرہنگ آصفیہ کی اسی جلد میں اس کے معنی یوں درج ہیں : ’’رسوائی ہونا۔ نفریں ہونا۔ اڈُّو اڈُّو ہونا۔ دھتکار اور پھٹکار ہونا۔ لعنت ملامت ہونا۔ ‘‘ مگر ساقی نے بلاشبہ وہی فقرہ لکھا ہے جو برمحل تھا، اور جس کی داد اُن کے مشیروں کے حصے میں آنی چاہیے۔ خیر، خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اِدھر ساقی کا اپنے عزیزترین دوست کے گھر میں داخلہ بند ہوا، اُدھر بھاوج نے ہر دوسرے تیسرے روز ’’وصالیے‘‘ یعنی ہم بستری کی غرض سے خود ساقی کے گھر آنا شروع کر دیا۔ (یہ آمد اس وقت ہوا کرتی جب ساقی کے ’’بھائی بہن اسکول چلے جاتے اور ابا اپنے دفتر اور اماں بدرالنسا خالہ یا منی خالہ یا سلمیٰ خالہ کے ہاں۔‘‘ (122) ان بظاہر غیراہم تفصیلات کے بیان سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ ساقی خود ان سب گھروالوں کو مذکورہ مقامات تک پہنچانے جاتے تھے؛ ساقی صرف یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ یہ سب لوگ گھر سے یہی کہہ کر نکلتے تھے؛ دراصل کہاں جاتے تھے یہ ساقی کا دردِسر نہیں تو ہمارا آپ کا کیوں ہو۔)

                اب ظاہر ہے کہ کنویں کا پیاسے کے یا گنگا کا پاپی کے پاس چل کر آنا ایسا خارقِ عادت واقعہ تھا کہ قبیلے میں اسے ساقی کی اوقات سے بڑھ کر سمجھا جاتا تھا۔ شہربھر میں پھیلے ہوے ناآفریدگان، جو بھاوج کے ذکرِ لذیذ میں ذوق و شوق سے شریک تھے، شمیم احمد کی اس چشم دید گواہی پر ہی یقین کرتے تھے کہ بھاوج کے بیان کے مطابق ساقی اپنے عزیزترین دوست کی غیرموجودگی میں ان کے گھر میں گھس کر ان کی اہلیہ کی مرضی کے خلاف ان کو تنگ کیا کرتے تھے۔ شمیم کی وجہ سے شہر میں ساقی کی ’’رپوٹیشن خراب ہوتی جا رہی تھی‘‘ (122) اور چونکہ موصوف ’’اپنی انا کے احیا اور ناانصافی کے تدارک کے لیے اپنی بےرحم محبوبہ کو بھی بخشنے کے قابل نہیں‘‘ تھے (123)، اس لیے انھوں نے دس بارہ دن بعد ’’سلیم احمد کی کنج میں پناہ لی۔‘‘ اب سلیم خاں کی تھئی تھئی سنیے:

’’ساقی خاں! میرا خیال ہے، شمیم اپنی rejection سے بوکھلایا ہوا ہے۔ وہ مسز آفریدی کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتا، صرف تمھارے بارے میں غلط سلط افواہیں پھیلانے پر قادر ہے۔ ...میں، تمھارا سلیم بھائی، تمھارا بہی خواہ ہوں، مگر تمھارے دل میں کہیں نہ کہیں یہ بھی ہے کہ میں تم پر شک کر رہا ہوں کہ شمیم کا بھائی ہوں۔ اس شک کی بیخ کنی کے لیے ضروری ہے کہ ایک معتبر گواہ پیدا کیا جائے۔‘‘ ... جب میں نے اصرار کیا کہ سلیم احمد خود گواہ بنیں تو وہ مان گئے۔ ... طے پایا کہ اگلے بدھ کو سلیم خاں میرے پاس آئیں گے، یہ دیکھنے کے لیے کہ واقعی وہ خاتون میرے گھر آتی ہیں کہ نہیں۔ ... شمس الرحمٰن فاروقی کا کزن یونس فاروقی (یعنی افسانہ نگار نجم فضلی) ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔ ہمارے گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ اس کے باہروالے کمرے میں ایک نہایت کشادہ کھڑکی تھی جس سے گلی میں آنے جانے والوں کا مطالعہ ہو جاتا۔ اگر کوئی عورت ہوتی تو ہماری آنکھیں معانقہ بھی کر لیتیں۔ ...غرض کہ نجم فضلی کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس دن اس نے بستر کا رخ اس طرح بدلا کہ کھڑکی کے شیشوں سے اور چہاردیواری کے جھروکوں سے، گلی سے گزرنے والا، ہر آنے جانے والا نظر میں رہے۔ ...اس سے پہلے سلیم احمد میرے گھر دوتین بار ہی آئے ہوں گے ...مجھے ڈر لگا ہوا تھا کہ کہیں رستہ ہی نہ بھول جائیں۔ مگر واہ رے وہ، ٹھیک ساڑھے نو بجے موٹر رکشا میں پہنچ گئے۔ بتایا کہ گھر سے یہ کہہ کے نکلا ہوں کہ ریڈیو جا رہا ہوں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ (123)

خیر، سلیم احمد گھر سے جو بھی کہہ کے نکلے ہوں اس سے غرض نہیں، اصل بات یہ ہے کہ انھوں نے نجم فضلی کی کھڑکیوں اور جھروکوں سے ’’بےچاری فاختہ‘‘ کی آمد کو ملاحظہ کر کے اپنے برادرِ خورد کی طرح چشم دید گواہ کا رتبۂ بلند حاصل کر لیا۔ چلیے، بہت خوب ہوا۔ بات یہاں ختم ہو جانی چاہیے تھی اور سلیم احمد کو موٹر رکشا لے کر واپس گھر یا ریڈیواسٹیشن لوٹ جانا چاہیے تھا، لیکن ساقی کے نزدیک ’’بےرحم محبوبہ‘‘ کو ذلیل کر کے اس کے ہاتھوں اپنی تذلیل کا انتقام لینا ’’وصالیے‘‘ سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا (وصالیے میں ساقی کے لیے یوں بھی وہ لطف کہاں جو خودوصلی میں، یا بقول نظیر، جو مردِ مجرّد کے مُٹھولوں میں مزہ ہے)۔ چنانچہ اسکرپٹ کے مطابق:

 ابھی میں مسز آفریدی کو گلنار کر ہی رہا تھا کہ... پہلے پھاٹک کھلنے کی آواز آئی پھر دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے کہا، ’’سلیم بھائی! دروازہ کھلا ہوا ہے، آ جائیے۔‘‘ وہ اندر آ گئے اور میرے بستر پر بیٹھ گئے۔ اس عرصے میں مسز آفریدی کا رنگ گلابی سے زرد ہو چکا تھا، جیسے کسی نے چہرے پر ہلدی مل دی ہو۔ سلیم خاں انھیں اور وہ سلیم بھائی کو جانتی تھیں۔ آخر کو ہم ایک ہی کنبے کے لوگ تھے نا! پان سات منٹ تک مکمل نہیں، مکمل جیسی خاموشی طاری رہی، ممکن ہے موسم پر کوئی تبادلۂ خیال ہوا ہو۔ ...ان بےدرد ساعتوں میں مسزآفریدی کی شکایتی اور میری ندامتی نگاہیں کئی بار ملیں۔ سلیم بھائی سے رخصتی لے کر وہ میری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئیں۔ (123)

 ساقی کو یہ زحمت دینا غیرضروری ہے کہ وہ اپنے کسی زندہ مشیر سے فون پر یا سعید امرت یا مشفق خواجہ کی روح سے براہ راست پوچھ کر بتائیں کہ پان سات منٹ میں کتنی (بےدرد یا دردناک) ساعتیں ہوتی ہیں، کیونکہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ جہاں تک سلیم احمد کا تعلق ہے، ان کے نزدیک اصل اہمیت اس امر کی تھی کہ ناآفریدی قبیلے کے تمام ارکان اپنے عزیزترین دوست کی اہلیہ کی ’’ذہانت، جنسی تشنگی اور لگاوٹ‘‘ سے اپنی اپنی مٹی پلید کرانے کے معاملے میں باہم لڑائی جھگڑے سے گریز کریں، کیونکہ ساقی کی زندگی سے ’’ہمیشہ ہمیشہ کے لیے‘‘ چلے جانے کے بعد بھی ان کی اور ان کے دیگر عزیز دوستوں کی مشترکہ بھاوج کے ہارپھول مرجھانے والے تو تھے نہیں؛ انھیں تو متعدد ناآفریدگان کی زندگیوں میں اپنی آرجار جاری رکھتے ہوے ریوڑ کو یکجا رکھنے کا فرض ادا کرنا تھا۔ اگر قبیلے کے ارکان اسی طرح اس معاملے پر ایک دوسرے کی بقولِ ساقی ’’ماں بہن‘‘ کرنا اور گواہی کے لیے سلیم احمد کو طلب کرنا جاری رکھتے، تو ان کے لیے بڑی مشکل ہو جاتی۔ روز گھر سے یہ کہہ کر نکلنے میں کہ ’’ریڈیو جا رہا ہوں‘‘، گھر والوں کی طرف سے کسی اعتراض کا خدشہ نہ بھی ہو تو ریڈیو کی نوکری اور جہانگیر روڈ پر (بعد کو انچولی میں) شام سے شروع ہونے والی ورزش اور تربیت کی محفل کو بھلا کون سنبھالتا۔ مگر خیر، معلوم ہوتا ہے بعد میں ایسا کوئی جھگڑا نہ اٹھا جسے نمٹانے کے لیے سلیم احمد کو رکشا کر کے جانا پڑے۔ ساقی اور شمیم احمد کا جھگڑا بھی کچھ عرصے بعد ختم ہو گیا۔ کہتے ہیں: ’’شمیم سے میرے تعلقات دس بارہ سال بعد بحال ہوئے جب میں لندن سے پلٹا۔ ...دیر تک شمیم اور میں بلک بلک کے بلکہ ڈہک ڈہک کے روئے۔ ‘‘(125) جہاں تک بقیۃ السیف صالحین کا تعلق ہے، انھیں بلکنے یا ڈہکنے کی کوئی ضرورت نہ پڑی۔ جن جن کو جب جب توفیق ہوئی وہ اپنے عزیزترین دوست کی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی ہم بستری کرتے رہے (جو تیراہ بخت کم توفیق تھے، وہ محفل میں، عزیزترین دوست کی موجودگی میں، اشاروں کنایوں میں، بھاوج کا گرماگرم ذکر کر کے ہی خوش ہوا کیے) اور معاوضے کے طور پر عزیزترین دوست کی ’’ادبی صلاحیتوں ‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ بھاوج کے شوہر کو بھی بظاہر اس لین دین پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ عوض معاوضہ گلہ ندارد۔

                ساقی کے عزیزترین دوست، جنسی تشنگی اور دوسرے ہارپھول سے لیس ان کی اہلیہ، اور ناآفریدگان کے اس پورے قابلِ رحم قبیلے کی اجتماعی حکایت ایک ایسا عبرت انگیز انسانی ڈراما ہے جس میں ایک تغیرپذیر معاشرے کی نئی پرانی، مٹتی بنتی اقدار کو پہچانا جانا ممکن تھا۔ لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ اسے کوئی ایسا لکھنے والا بیان کرتا جو عجزِ بیان میں ساقی کی طرح یدِطولیٰ نہ رکھتا ہو اور ان کرداروں سے کسی قدر انصاف کرنے کے قابل ہو۔ دستیاب تفصیلات سے جو قصہ سامنے آتا ہے اس سے ملتے جلتے ایک قصے کی جھلک ساقی کے ایک دوست اسد محمد خاں کی کہانی ’’ترلوچن‘‘ میں ملتی ہے جہاں اس کہانی کا مرکزی کردار عین الحق اپنے اردگرد کے حل طلب مسائل کی فہرست تیار کر رہا ہے جنھیں حل کرنے کا کام قدرت نے اس کے سپرد کیا ہے:

اس نے برتن قناتوں والے ’’نگّے‘‘ کو درج کیا جو گھروالی کی فحش بدعنوانیوں کے باعث ڈھے گیا تھا اور پورپور سے ہلاک ہو رہا تھا۔ تو عین الحق نے یہ لکھا کہ اس بی بی کے نظام میں مناسب تبدیلیاں کر کے اسے ’’نگّے‘‘ کی اطاعت میں بحال کرنا ہے۔ (’’ترلوچن‘‘، مشمولہ ’’جو کہانیاں لکھیں ‘‘، صفحہ 75)

اس اقتباس میں ذیلی کردار ’’نگّے‘‘ کے نام کو واوین میں مصنف نے نہیں، میں نے لکّھا ہے، یہ واضح کرنے کے لیے کہ ’’زید آفریدی‘‘ کی طرح یہ بھی فرضی نام ہے اور اس کی کسی حقیقی شخصیت یا اس کے نام سے مماثلت محض اتفاقی ہو گی۔ تاہم، چونکہ مذکورہ کہانی میں آگے چل کر ’’کوئی کتے کا مُوت‘‘ عین الحق کی وہ پیٹی چرا کر لے گیا جس میں کاموں کی یہ فہرست رکھی تھی، چنانچہ اور کاموں کی طرح ’’اس بی بی کے نظام میں مناسب تبدیلیاں‘‘ کرنے (گویا اسے ہارپھول سے عاری کرنے) کا کام بھی ہونے سے رہ گیا۔ چلیے، یہ بھی اچھا ہی ہوا، ورنہ سلیم احمد کے برادرانِ خورد اور صالحینِ حلقہ بگوش بشمول شمیم احمد، اطہر نفیس، ساقی اور باقی کتنے ہی اَور بھاوج کے ہاتھوں تربیت پانے سے محروم رہتے اور محض سلیم احمد کے غیرمختتم وعظ اور اپنے نارسا ہاتھ کی نمناکی پر گزربسر کر تے ہوے داعیِ اجل کو لبیک کہتے۔



                یہ تو ہوئی ساقی کی جنسی زندگی۔ (یہی کچھ ہے ساقی...) اب آئیے ان کی معاشی زندگی پر نظر ڈالیں جو نسبتاً زیادہ دلچسپ اور پُرانکشاف ہے۔ اس کی ابتدا ڈھاکہ کے اسی مذکورہ بالا ہوسٹل میں ساقی اور ان کے بھائیوں کے ٹولے کی بدمعاشی اور بدعنوانی سے ہوتی ہے:

اس ہوسٹل میں سب سے بڑا گروہ ہم پانچ رشتےداروں کا تھا۔ ...ہم اپنی طاقت کے نشے میں دندناتے پھرتے تھے۔ وہاں کے سب سے بڑے عہدوں، طعام مانیٹر اور نماز مانیٹر پر ہمارا مکمل اختیار تھا۔ ...طعام مانیٹر کا شمار امرا میں ہوتا تھا، اس لیے کہ اس کے پاس مہینے بھر کے اخراجات کے پیسے ہوتے۔ وہ باورچی سے جوڑتوڑ کر کے اپنے اور اپنے قریبی دوستوں یا رشتےداروں کے لیے گلاب جامنوں، رس گلوں اور رس ملائیوں کی گنجائش نکال لیتا۔ اس کے لیے اسے باورچی کی چھوٹی موٹی چوریوں سے نظرپوشی کرنی پڑتی۔ ...فجر کی اذان نماز مانیٹر کے فرائض میں شامل تھی۔ امامت کے بعد سلام پھیرتے ہوئے ان بدنصیبوں یا خوش نصیبوں کی ذہنی فہرست بناتا جو بیگاری کی اٹھک بیٹھک کرنے کے بجائے اپنے اپنے گرم گرم بستروں میں اینڈ اینڈ کے سو رہے ہوتے۔ اپنے اختیار کے مطابق ان کے ناشتے (بالائی، انڈے، پراٹھے) ضبط کرتا۔ بحق سرکار قرق شدہ املاک ڈکار لیے بغیر ہضم کرتا اور بستہ اٹھائے، سینہ پھلائے اسکول کے لیے روانہ ہو جاتا۔ ...میٹرک میں آتے ہی پہلے میں نماز مانیٹر بنا، پھر طعام مانیٹر اور میری صحت بہتر ہو گئی۔ (24)

میں ان تفصیلات کو پُرانکشاف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان میں ہمارے ملک کی سیاست کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے جہاں کے جاگیردار اور دیگر حکمرانوں نے، اپنے آلۂ کار ’’طعام مانیٹروں‘‘، ’’باورچیوں‘‘ اور ’’نماز مانیٹروں‘‘ کے پُرجوش تعاون سے، سب گلاب جامنیں، پراٹھے وغیرہ خوردبرد کر کے اپنے برادرانِ خورد اور دیگر اقربا میں تقسیم کیے اور رعیت کو یعنی ملک کے عام شہریوں اور دیہاتیوں کو ان کے حق سے محروم رکّھا۔ یہی نہیں، بلکہ ان مجبوروں کا ہر طرح سے استحصال بھی کیا جاتا رہا۔ ساقی کو شروع سے احساس ہے کہ اس عمل میں وہ کس طرف ہیں:

میں ایک متوسط کھاتے پیتے زمیں دار گھرانے کے بجائے اپنے گاؤں کے کسانوں یا مزدوروں کے گھرانے میں بھی پیدا ہو سکتا تھا۔ وسائل کی کلّی کمی کے باعث، علم و ادب تو ایک طرف شاید مجھے لکھنا پڑھنا بھی نہ آتا۔ لکھنے پڑھنے سے سوچنے اور سمجھنے کے جو دروازے کھلتے ہیں وہ مجھ پر ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے۔ تہذیب و اخلاق کے نام سے بھی ناواقف ہوتا، زمین پر اکڑوں بیٹھتا۔ آرام کرسی نشین، خان بہادر صاحب، جتوئی صاحب، بگٹی صاحب، یوسف زئی صاحب اور دولتانہ صاحب کو مالکِ حقیقی سمجھتا۔ وہ اگر میری کنواری بیٹیوں اور بہنوں کی [اپنی ’بندوقوں والی ڈیوڑھی‘ میں] آبروریزی کر دیتے تو اسے اعزاز تو نہیں سمجھتا مگر اس لیے قبول کر لیتا کہ ہونٹوں پر زپ لگی اور خیالوں پر موتیابند کا پہرا ہوتا۔ اپنی تمام زندگی خوف، جہالت اور بےبسی میں گزار دیتا۔ (20)

مالکانِ حقیقی کی جو فہرست اس اقتباس میں پیش کی گئی ہے ان میں خان بہادر سے مراد ساقی کے دادا ’’(خان بہادر) قاضی محمد خیرات نبی صدیقی‘‘ (16) کی ذاتِ شریف ہے۔ ان مرحوم کے خاندانی نام صدیقی کو ترک اور اپنے نانا کے خاندانی نام فاروقی کو اختیار کرنے کے بعد ساقی کو مکمل اطمینان ہو گیا کہ سوچنے سمجھنے کے دروازے ان پر چوپٹ کھل گئے ہیں اور تہذیب واخلاق کے نام سے بھی کام چلاؤ واقفیت ہو گئی ہے۔ چلیے، یہ اچھا ہوا۔ اس واقفیت اور ذہانت کی مدد سے انھوں نے مانیٹری اور اسی قماش کی دیگر سرگرمیوں سے اپنا پیٹ پالنا فٹافٹ سیکھ لیا۔ لیکن اپنی معاشی شخصیت کی تعمیر اس پھرتی سے کر لینے میں جو معاملہ فہمی اور موقع شناسی پائی جاتی ہے وہ محض ان کے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے بیش قیمت خاندانی ورثے کا بھی حصہ ہے۔ ان کے خاندان کے تقریباً سبھی افراد میں یہ کارآمد اوصاف بدرجۂ اتم پائے جاتے تھے۔ البتہ ان کے ابا میں ایک اضافی وصف قماربازی کا بھی تھا۔

[ابا] ایک سخت قسم کے جواری بھی تھے۔ ٹینس کے علاوہ فلیش اور رَمی ان کے محبوب مشغلے تھے۔ پھر یہ کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کھیلتے تھے۔ نوکری اور زمیں داری متوسط طبقے کے کنبے کی کفیل تو ہو سکتی ہیں، قماربازی کی نہیں۔ ...رفتہ رفتہ ابا نے اپنا حصہ ’’راجا، رانی اور غلام‘‘ بلکہ ’’چوّے، پنجے اور چھکے‘‘ کے حوالے کر دیا۔ یہ لت کراچی میں چھوٹی جب قلاش ہو گئے۔ (23)

لیکن کراچی تو ابھی دور ہے، فی الحال 1948 کا احوال سنیے:

دیناجپور (مشرقی پاکستان /بنگلہ دیش) سے خالو قیصر محمد مرتضیٰ کا خط آیا۔ ابا نے پڑھ کر سنایا۔ لب لباب یہ تھا: خاندان کے تمام کماؤ مرد اپنے اپنے پیشے اور اپنی اپنی نوکریاں چھوڑ کر جلد سے جلد مشرقی پاکستان پہنچیں، دھان کی ملیں [گویا رس ملائیاں، بالائیاں] (جنھیں ہندو مالکان چھوڑ کر کلکتے چلے گئے تھے) انھیں الاٹ کر دی گئی ہیں۔ یہ مئی یا جون ۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے۔ ابا، بڑے ماموں اور بڑے چچا اپنے اپنے پیشوں کو عاق کرتے ہوئے ۱۴ اگست کو مشرقی پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ الگ الگ۔ اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ۔ اور ایک سال تک آزاد ہندوستان میں سانس لینے کے بعد۔ (22) چاٹگام میں [پھوپا مسعود انصاری] کی المونیم فیکٹری تھی۔ (26)

بہت خوب! پھر کیا ہوا؟

تجارت کا کوئی تجربہ تو تھا نہیں، چاول کی ہندو پن چکی ایک سال ڈیڑھ سال کے بعد ہی اپنے دانت پیستے پیستے بند ہو گئی۔ بقیہ خاندان کو ہندوستان سے بلوایا۔ چاٹگام پہنچے۔ بحری جہاز لیا اور مغربی پاکستان میں قسمت آزمائی کے لیے چل نکلے، جہاں مستقبل خنجرآزما براجمان تھا۔ چشمِ حاسد سے بھی مختصر فلیٹ! لبیک لبیک، نمک میں دھنسی اور غلاظت میں بسی بِہار کالونی!! لبیک لبیک، مہاجروں کے مدینے، کراچی!!! لبیک لبیک...(23)

گویا مشرقی بنگال کے رس گلّوں پر سیردستی پوری ہوئی، اب مغربی پاکستان قسمت آزمائی کے خنجروں کی زد پر ہے۔ لیکن کراچی کی بندرگاہ پر اترنے سے پہلے ضمنی طور پر یہ بھی دیکھ لینا مناسب ہو گا کہ وہاں کے رہنے والوں (ہندوؤں، بنگالیوں) سے ان سبزقدم آدرش وادیوں کا کیسا ربط ضبط رہا۔ بنگالی خاندان کی کنواری بیٹیوں سے سیرچشمی کا احوال تو آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں۔ یہ بھی دیکھیے:

رام چرن...اپنی دھوتی میں گانٹھ دیتے ہوئے پانی میں کودے اور مجھے بچا لائے۔ ...جب کلکتے سے فسادات کی خبر آئی کہ ہندوؤں نے سیکڑوں مسلمانوں کو ذبح کر دیا ہے تو کئی دبلے پتلے بھوکے پیاسے بنگالی مسلمانوں نے انتقاماً انھیں گھیرگھار کے شہید کر دیا۔ ہم سب فٹ پاتھ سے یہ خونیں ڈراما دیکھتے رہے ... (25)

اور اس تماش بینی سے فارغ ہو کر اپنے پراٹھوں، بالائیوں (اسد محمد خاں کے لفظوں میں اپنے ’’خرموں ‘‘) کی طرف لوٹ گئے۔ اور وہاں سے بحری جہاز لے کر کراچی۔ لبیک! لبیک!

تینوں بھائیوں (ابا، اعجاز چچا، اشفاق چچا) نے الگ الگ پانچ پانچ لاکھ کا کلیم داخل کر دیا تھا۔ ان تھک جدوجہد اور رِشوتانے کے بعد کلیم تو منظور ہو گیا مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ خزانۂ عامرہ خالی تھا۔ یہی وہ کم بخت کلیم ہے جسے ابا نے، انتظار سے تھک تھکا کر، نارتھ ناظم آباد میں اپنا مکان بنواتے وقت... ۷۵ ہزار روپیوں میں بیچ دیا تھا۔ (35)

خزانۂ عامرہ کے خالی ہونے کا سبب ان مقامی اور مہاجر خان بہادروں کے اخلاف کی سیردستیاں تھیں جو اس خانۂ تمام آفتاب کے قدم رنجہ فرمانے سے پہلے یہاں پہنچ چکے تھے، یعنی اس وقت جب یہ ہونہار لوگ مشرقی بنگال میں اسی نیکوکاری میں مشغول تھے۔ ساقی کے خاندان نے جو یہ حالات دیکھے تو جھٹ طرزِفقیرانہ اختیار کر لیا۔ فقیری کے اس عارضی وقفے نے ساقی کی معاشی شخصیت کی چند اور منزلوں کی تعمیرمیں حصہ لیا:

میں نے اپنے خاندان کے فقیرانہ ٹھاٹھ دیکھے تو ہندوستان کی خوش حالی اور بنگلہ دیش کی آزادی کے زمانے، سائے کی طرح سے، آنکھوں میں یوں پھرے کہ دل ڈوب گیا۔ ایک نفسیاتی الجھاوے کے سیاہ پروں میں سمٹ کر بیٹھ گیا۔ عجب طرح کے احساسِ کم تری نے لاشعور میں مستقل جگہ بنا لی۔ عدم تحفظ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوستی ہو گئی۔ آج بھی گاڑھی چھنتی ہے۔ (35) چوں کہ سرشت سے جاگیرداری کے منحوس اور نجس جراثیم لپٹے ہوئے تھے اس لیے طبیعت میں عاجزی نہیں آئی، بلکہ غصہ پرورش پاتا رہا۔ ہاں، جوں جوں وقت گزرتا رہا، غصے کے ہدف بدلتے رہے۔ (36-7) عجب زمانہ تھا۔ میں ہمہ آتش [!] رہا کرتا۔ (165) میں اس زمانے میں کوئی کام وام نہیں کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ شاعری full time job ہے۔ رگوں میں جوانی کا خون ہلکورے لیتا تھا اور فصدِ شعر کھلی رہتی تھی۔ (145) ایک طرف تو میری درمیانہ طبقے کی مفلوک الحال ذہنیت ٹیوشن کے اکلِ حلال کے نام سے زخمی ہوتی، دوسری طرف جمیل جالبی اور جمیل الدین عالی سے فون پر یہ کہنے میں ہتک نہیں محسوس ہوتی تھی کہ ’’سو روپے چاہییں، آ رہا ہوں۔ ‘‘ (146)

بھلا ان جمیل و حسین برادرانِ یوسف کی اپنی گرہ سے کیا جاتا تھا! جمیل الدین عالی جس طرح مسّہ بردار عزیزہ انگرڈ سے جفتی کرنے (یا بقول ساقی اپنے ’’مثانے کی کم زوری‘‘ کا ازالہ کرنے) کے لیے یوروپ جانے کی گنجائش نکالتے رہے، ویسے ہی خزانۂ عامرہ کے خرچ پر چھوٹی موٹی رس ملائیوں سے ساقی اور ان جیسے دیگر مفت خور قریبی دوستوں اور رشتے داروں کی پرورش بھی کرتے رہے:

[عالی] دلّی کے نوابی ٹھاٹ دیکھنے کے بعد شروعِ ہجر یعنی مہاجرت کی ابتدا میں اپنے نئے ملک میں دو تین برسوں تک کوئی نہایت معمولی ملازمت کرتے رہے ...پھر انکم ٹیکس افسر بنے، کسی بینک کے پریذیڈنٹ بنے یا بنتے بنتے رہ گئے، پاکستان رائٹرز گلڈ کے جنرل سیکریٹری بنے وغیرہ وغیرہ۔ غرض کہ بننے پر آئے تو بنتے ہی چلے گئے۔ یہاں تک کہ انجمن ترقی اردو پاکستان کے جنرل سیکریٹری بننے کے بعد سارے پاکستان کے [!] سینیٹر بھی بن گئے۔ ﷲ دے اور بندہ لے۔ ... انھوں نے بہتوں کی مدد کی اور اپنی حیثیت کے مطابق پل بنائے، چاہ بنائے، تالاب بنائے، دشمن بنائے، مگر فیض کے یہ اسباب بناتے یا بنواتے ہوئے انھیں نام بھی مطلوب رہا۔ (131)

عالی کی طرح جمیل جالبی بھی ’’ہڈماسٹری‘‘ چھوڑ کر انکم ٹیکس افسر بن چکے تھے اور عبدالعزیز خالد بھی۔ عبدالعزیز خالد غالباً ساقی کو اپنے قریبی دوستوں رشتےداروں میں شمار نہیں کرتے تھے، اس لیے انتقاماً ان کا نام ساقی کے اس ہجویہ شعر میں ٹانکا گیا: ’’دونوں حرامزادے اک دوسرے کے والد/ سید رفیق خاور، عبدالعزیز خالد‘‘ (174) اس انجام سے ڈر کر جمیل جالبی کو اپنی سرکاری حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوے نہ صرف ساقی کی کالج کی فیس کا بندوبست کرنا پڑتا بلکہ اپنے پاس آنے والے غرض مندوں سے ساقی کی نقد امداد بھی کروانی پڑتی تاکہ وہ ہر دوسرے تیسرے روز ’’وسکی چڑھ رہی ہے!‘‘ کی ہانک لگا کر محلے کے لفنگوں میں اپنے درجات بلند کر سکیں۔ جہاں تک دیگر ’’ماکولات، مشروبات اور منشیات‘‘ کا تعلق ہے، ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ساقی نے ’’دھمکی، دھونس اور دھاندلی‘‘ سے کام لے کر اپنے ایک نہایت عزیز دوست (مسٹر ایکس) کو، جو کسی کارآمد سرکاری نوکری پر قابض ہو چکے تھے، روزانہ سو روپے تک رشوت لینے پر رضامند کر لیا تھا۔ (98-9) ساقی نہایت مسرت سے اطلاع دیتے ہیں کہ دو تین سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا جس سے ساقی اور باقی کا پیٹ پلتا رہا۔ تاہم، اس سے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ اس عرصے میں موصوف کے والد بزرگوار اپنے فرائض سے غافل تھے۔

ابا ایک ڈیڑھ سال بعد کراچی پہنچے Animal Welfare Officer بن کے۔ اچھی نوکری تھی۔ صوبائی حکومت کی طرف سے انھیں ایک چھوٹی سی van بھی مل گئی تھی اور ڈرائیور بھی۔ تمام مذبحے (Slaughter House) انھی کے دائرۂ اختیار میں تھے۔ تنخواہ (اس زمانے کے حساب سے ) کافی سے زیادہ تھی۔ انھوں نے پیسوں والی رشوت تو نہیں لی ہو گی [یا لی ہو گی تو قماربازی میں اُڑا دی ہو گی، وﷲ اعلم!] ورنہ نادار، تہی مایہ اور محتاج ہو کے نہ مرتے مگر مرکزی حکومت، صوبائی حکومتوں، بینکوں، ادبی اداروں اور ثقافتی مرکزوں کے تمام اہلکاروں کی طرح وہ سرکاری مراعات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے (اور اس سلسلے میں ایک بار معتوب بھی ہوئے)۔ ہمارے اور ہمارے رشتے داروں کے گھروں میں ہی نہیں بلکہ میرے کہنے پر میرے دوستوں کے (سلیم احمد سمیت) گھروں پر بھی گوشت کی (دنبے، بکرے، گائے) مفت ڈلیوری، دو تین سال تک ہوتی رہی۔ میں ایک ڈیڑھ سال تک وین اور ڈرائیور کے ہم راہ اپنے دوستوں کو (لڑکے، لڑکیاں) مختلف علاقوں سے چنتا ہوا یونی ورسٹی کے نئے کیمپس تک لے جاتا رہا۔ وغیرہ وغیرہ۔ شاید یہ ایک مروجہ دستور تھا، اس لیے جرم کا احساس نہ ابا کو تھا، نہ مجھے، نہ میرے دوستوں کو۔ (37-8)

ساقی کے مندرجہ بالا اعترافات پڑھ کر اردو کی ایک اور خودنوشت ’’خبرگیر‘‘ یاد آتی ہے۔ اتفاق سے اس کے مصنف قیصر تمکین بھی انگلستان میں مقیم ہیں۔ ساقی نے اپنی آپ بیتی لکھنے کی تیاریوں کے سلسلے میں جن کئی خودنوشتوں کی ورق گردانی کا ذکر کیا ہے (15) ان میں قیصر تمکین کی کتاب کا نام شامل نہیں ہے، مگر’’خبرگیر‘‘ میں بھی اپنی اور دوسروں کی معاشی سرگرمیوں کا راز اسی انداز میں فاش کیا گیا ہے۔ تاہم ان دونوں خودنوشت نگاروں میں ایک نہایت اہم فرق یہ ہے کہ جہاں قیصر تمکین نے، نثر اور فکر دونوں کے لحاظ سے ساقی پر برتری رکھنے کی بدولت، ان بدعنوانیوں کی معاشرتی معنویت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے، وہاں ساقی کے ہاں ان واقعات سے محض شیخی بگھارنے کا کام لیا گیا ہے۔ یوں تو ساقی نے بھی اس قسم کے واقعات تحریر کرنے کے بعد جابجا کلیشے زدہ اخلاقی آوازیں نکالنا ضروری سمجھا ہے لیکن ریاکاری کا یہ مکھوٹا اس قدر شفاف ہے کہ لکھنے والے کی سفلہ مسکراہٹ صاف جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ جاگیرداروں، خان بہادروں کے خلاف ان کی آتش بیانی تو آپ اوپر ملاحظہ کر چکے ہیں، اس قسم کے اُپدیش بھی آپ کو جابجا سننے کو ملیں گے:

...ضمیر کی چبھن محسوس کر رہا ہوں۔ خدا؟ اور ادب معاف کریں۔ (مغفرت! کہ صوفی ژاں ژینے کا چیلا ہوں۔ شکریہ سارتر صاحب!) (99) ...بچپن کی غلط کاریوں کا (خوردبرد) اخلاقی یا جمہوری احتساب نہ ہو تو معاشرہ فاسق اور فاجر ہو جاتا ہے۔ مشرق و مغرب کے ماضی و حال کی گواہی کافی ہے۔ کچھ ہوتا ہے جب خلق خدا کچھ کہتی ہے (ناصر کاظمی)۔ (24-5) جہاں تک میرا تعلق تھا میں ہوسٹل میں عیش کر رہا تھا۔ اور اس طرح کہ عالم دوبارہ نیست (اسی لیے بابری مسجد تباہ ہوئی)۔ (23) وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ساقی اور ان کے متعلقین افراد کے طور پر کچھ ایسی غیرمعمولی اہمیت نہیں رکھتے۔ نہ صرف یہ کہ ساقی کے لیے ندامت کا بوجھ اٹھانا قطعی غیرضروری ہے بلکہ ہمیں اس صاف گوئی کے لیے ان کا شکرگذار ہونا چاہیے، کیونکہ ان اعترافات سے کچھ اہم اجتماعی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ان سے ایک تو اس سلیمی ریوڑ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جس کا ساقی حصہ رہے ہیں اور ہیں، اور اس سے زیادہ اہم اور وسیع تر یہ کہ ان سے وہ اقداری رجحانات سامنے آتے ہیں جو اس تشکیلی دور میں نمایاں ہوے اور جنھوں نے آگے چل کر ہمارے سماج کے بنیادی خطوط متعین کیے۔

                1947کی تقسیم کے بعد ہونے والی عظیم تبادلۂ آبادی کے مسلمان حصے کے لیے پاکستان (اور خصوصاً اردو زبان) میں ’’ہجرت‘‘ کا لفظ مستعمل ہے۔ ہجرت کے مذہبی استعارے کا استعمال اس مقصد سے شروع کیا گیا تھا کہ اس نقل مکانی اور اس کے نتیجے میں نئے ملک پاکستان کے دونوں (مشرقی و مغربی) حصوں میں وارد ہونے والوں کو ایک طرح کی تقدیس اور اس ملک میں پہلے سے آباد باشندوں پر ایک قسم کی فوقیت حاصل ہو جائے۔ یہ ایک سیاسی عمل تھا جس میں سیاست کاروں کے ساتھ ساتھ ادیبوں، دانشوروں وغیرہ نے بھی اپنی ترجیحات کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ’’ہجرت‘‘ کی مذہبی اصطلاح کے تاریخی سیاق و سباق کو پیش نظر رکھا جائے تو 1947 کی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی پر اس کا اطلاق محض دھاندلی کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ نئے ملک میں آنے والوں کو بخشی جانے والی تقدیس اور فوقیت کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ خونریز فسادات اور جبری نقل مکانی کا شکار ہونے والے لوگ ایک ایسے تکلیف دہ تجربے سے گزرے ہیں جو اس خطے کے دیگر باشندوں کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ بنیادی مفروضہ بالکل درست تھا، لیکن اس اذیت ناک تجربے میں وہ ہندو اور سکھ شہری بھی شریک تھے جو مشرقی اور مغربی پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں میں اسی قسم کے حالات سے دوچار ہوے۔ ’’ہجرت‘‘ کی مذہبی اصطلاح مخصوص سیاسی مفادات رکھنے والوں کو اسی بنا پر مرغوب ہے کہ اس کے استعمال کرنے سے تاریخ کی اس عظیم نقل مکانی کا شکار ہونے والے غیرمسلم لوگ خودبخود اس زمرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ (اور یہ کوئی تنہا لفظ نہیں ہے، اس قسم کے لفظوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کے مذہبی پہلو کے استحصال میں کسی قسم کا تکلف نہیں برتا جاتا۔ ساقی کی خودنوشت کے صفحہ 23 پر اس کی گونج آپ سن ہی چکے ہیں: ’’لبیک لبیک، مہاجروں کے مدینے، کراچی!!! لبیک لبیک...‘‘) ستم رسیدہ مسلم اور غیرمسلم لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنی جگہ سے اکھڑ کر واقعتا آگ اور خون کا دریا عبور کر کے نئی جگہ آباد ہونا پڑا۔ تاہم ہجرت وغیرہ کے الفاظ کو اپنی دنیاداری کی سیاست کی بنیاد بنانے والے لوگوں کا ایک بڑا گروہ ایسا تھا جسے اس قسم کے حالات سے قطعاً واسطہ نہیں پڑا تھا اور جو فسادات یا جبری نقل مکانی وغیرہ سے متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے باوجود اس گروہ نے مذکورہ بالا ستم رسیدہ افراد اور خاندانوں کو پیش آنے والے حالات کو ’’قربانیاں‘‘ قرار دے کر ان کا معاوضہ وصول کرنے کی گراں بار ذمے داری، کمال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوے، اپنے کندھوں پر لے لی۔ یہ لوگ مراعات یافتہ طبقوں سے تعلق رکھنے کے باعث نئی ریاست کے حکمرانوں اور نوکرشاہی کے کارندوں سے جاگیردارانہ یا فیوڈل اقدار پر مبنی کارآمد گٹھ جوڑ رکھتے تھے۔ ساقی کا گھرانہ اسی گروہ کا نمائندہ ہے، بلکہ اس لحاظ سے قدرے نمایاں حیثیت رکھتا ہے کہ اس کو جو نقصان برداشت نہیں کرنا پڑا تھا، اس کا معاوضہ وصول کرنے کی ذمےداری اسے دو بار اٹھانے کی سعادت نصیب ہوئی، ایک بار مشرقی پاکستان میں اور دوسری بار کراچی میں۔ اس گروہ میں اعلیٰ ترین مقام پر تو وہ لوگ فائز تھے جنھیں اس نویافتہ ریاست میں آ کر یہاں کا اقتدار اور انتظام سنبھالنا تھا۔ ان میں جاگیردار سیاست دانوں کے علاوہ سول اور فوجی بیوروکریسی کے وہ مختلف سطحوں کے کارندے شامل تھے جنھوں نے، اپنی جاگیردارانہ اور نوآبادیاتی تربیت اور ذہنیت کے بینڈباجے سمیت، پاکستان کے لیے ’’آپٹ‘‘ (opt) کیا تھا۔ نئی ریاست کے پالیسی ساز حکمرانوں اور ان کے کارندوں نے فیصلہ کیا کہ یہاں سے جانے والے غیرمسلموں کی چھوڑی ہوئی دیہی اور شہری جائیداد اور دیگر اثاثے ان کے اور ان کے اقربا کے استعمال میں آنے چاہییں۔ اس اعلیٰ مقصد کے لیے کلیم یا دعوے کا طریقہ رائج کیا گیا جسے سفارش اور ’’رشوتانے‘‘ کی معزز اقدار کا سہارا حاصل تھا۔ اعلیٰ ملازمتیں تو تھیں ہی ان آپٹیوں کے پاس، نچلے درجوں کی ملازمتیں بھی رشتوں ناتوں اور وفاداری کی بنیاد پر ان کے اقربا میں بانٹی گئیں۔ ان اقدار اور اس طریق کار کے نتیجے میں کراچی (اور اس قسم کے دیگر مقامات) میں جو کلچر رائج ہوا وہ انگریزحاکموں کے قائم کیے ہوے جاگیردارانہ نظام کے عین مطابق تھا جوپاکستان کے اس حصے میں رائج تھا اور جسے پورے ملک پر مسلط رکھنے پر نئے حکمرانوں کے درمیان مکمل اتفاق پایا جاتا تھا۔ اقربا پروری کے اس سامنتی نظام سے فائدہ اٹھانے والے افراد کے لیے ذات، خاندان اور پچھلی جاے سکونت کا پس منظر نہایت بنیادی اہمیت رکھتا تھا تاکہ پراٹھے اور بالائیاں غیرکفو غریب غربا تک نہ پہنچنے پائیں، اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ ان تفصیلات پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پر جدید شہری تہذیب کا نمائندہ ہونے کی تہمت عائد کرنے والوں کو بھی نہ صرف اس صورت حال میں کوئی قابل اعتراض بات دکھائی نہیں دیتی بلکہ وہ اس قدر برخودغلط ہیں کہ ایک طرف تو بڑھ چڑھ کر اپنے اور اپنے ممدوحین کے صدیقی، فاروقی، مرزا، پٹھان، راجپوت، سید وغیرہ ہونے کے فخریہ دعوے کرتے ہوے پائے جاتے ہیں اور دوسری طرف دوسروں کے جتوئی، بگٹی، یوسف زئی، دولتانہ وغیرہ ہونے پر بالکل اسی نوعیت کا فخر کرنے کے عمل کی تحقیر کرنے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ (نوابزادہ کے خطاب پر عموماً کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا، کیونکہ یہ پاکستان کے اولین جاگیردارحکمران لیاقت علی خاں کے نام کا جز رہا ہے۔) پاکستان میں واقع غیرمسلموں کی ’’متروکہ‘‘ املاک اور نئی ریاست کے فراہم کردہ معاشی مواقع کی اس لوٹ کھسوٹ سے بےایمانی کا جو کلچر رائج ہوا اس کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اکادکا ہی تھیں (سعادت حسن منٹو کواس کی ایک روشن مثال کہا جا سکتا ہے)، کیونکہ باقی سب تو اپنے اپنے گھروں پرحرام گوشت کی مفت ڈلیوری سے مست اور مطمئن تھے۔

                تاہم اس ڈلیوری کو جاری رکھنے، یعنی اس غیرمنصفانہ نظام کو مسلط رکھنے اور اس کا ظلم سہنے والوں کی مزاحمت کو دبانے کے لیے متواتر کوشش ضروری تھی، اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقوں نے پوری تندہی سے یہ کوشش انجام دی۔ اس غرض کے لیے نظریۂ پاکستان نامی ایک عجیب الخلقت شے وجود میں لائی گئی، جس کے تین بڑے اجزا اسلام، ہندوستان دشمنی اور اردو زبان تھے اور اسے پاکستانی عوام کے طبقاتی، علاقائی، ثقافتی اور لسانی حقوق کو کچلنے کے لیے متواتر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کوشش میں بنیادی کردار تو سرکاری نوکرشاہی یا بیوروکریسی کی مختلف سطحوں پر مامور کیے جانے والے افراد نے انجام دیا، لیکن ان کا ہاتھ بٹانے والے بہت سے اور لوگ بھی تھے جو صحافت، ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں اپنا اپنا حصہ ادا کرتے اور اپنا اپنا اجر وصول کرتے رہے۔ اس پیچیدہ سیاسی اور ثقافتی عمل میں مشغول فاعل کرداروں (افراد اور گروہوں) کی باہمی چپقلش اور رقابت کی بےشمار مثالیں ملتی ہیں، لیکن جہاں تک مقتدر نظریے کے اجزا سے چمٹے رہنے کا تعلق ہے، اس میں ان سے کہیں چوک نہیں ہوتی۔

                اس کی ایک نمایاں مثال ریڈیو پاکستان کے ادارے کی ہے جسے، ٹیلی وژن کے آنے سے پہلے، سرکاری پالیسی کے نفاذ اور پرچار کے سلسلے میں بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ریڈیو کی یہ جاگیر سید ذوالفقار علی بخاری کو کلیم میں ملی تھی جنھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ نئی ریاست کے حکمران ان سے کس قسم کی ثقافتی پالیسی وضع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ زیادہ تفصیل کا یہاں موقع نہیں، صرف ایک مثال کافی ہو گی۔ 1954میں مشرقی بنگالیوں کے مسلسل احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے قومی اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی کہ اردو اور بنگالی دونوں کو ملک کی قو می زبانوں کی حیثیت حاصل ہو گی۔ (اس قرارداد کو بزعم خود باباے اردو مولوی عبدالحق نے اردو کا قتل قرار دیا اور طلبا کو ساتھ لے کر کراچی میں اس کے خلاف زبردستی ہڑتال کرائی جس کے سلسلے میں کی جانے والی کارروائیوں میں سائیکل رکشاؤں کے ٹائروں کی ہوا نکالنا بھی شامل تھا۔) اسمبلی کی یہ قرارداد اس سودے بازی کا حصہ تھی جس کا اصل مقصد مشرقی بنگال کے سیاست دانوں کو وہاں کی 50 فیصد سے زائد آبادی (یعنی پاکستانیوں کی اکثریت) کو مغربی پاکستان کی 50 فیصد سے کم آبادی کے برابر ماننے پر آمادہ کرنا تھا تاکہ اِدھر مغربی پاکستان کے صوبوں کو ون یونٹ میں ضم کر کے ان کے مطالبات سے جان چھڑائی جا سکے۔ 1956 کے آئین میں ان تمام نکات کو شامل کیا گیا۔ دو قومی زبانوں کو آئین میں جگہ دینے کا منطقی نتیجہ تھا کہ اگر بنگالیوں سے اردو سیکھنے کی توقع کی جاتی تھی تو غیربنگالیوں کو بھی بنگالی سکھائی جائے یا کم از کم اس کا ناٹک کیا جائے۔ خانہ پری کے لیے یہ عمل ریڈیو پر کس طرح شروع کیا گیا، اس کا بیان مرزا ظفرالحسن کی زبانی سنیے:

1956 کے آئینِ پاکستان میں بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دیا گیا تو بخاری صاحب کو غم ہوا مگر سرکاری افسر تھے غم پی گئے۔ غالباً وزارت نشریات کی ہدایت پر ریڈیو سے اردو بنگلہ بول چال کا پروگرام شروع کرنا پڑا۔ بخاری صاحب نے یہ ذمہ داری مجھے سونپی۔ ... پروگرام میرے سپرد کرتے ہوئے بخاری صاحب نے فرمایا: مرزا یہ نہ سمجھنا کہ تم کوئی آسان کام کرنے جا رہے ہو۔ یاد رکھو اس میں اردو کا پلہ بھاری رہے ورنہ تمھیں قتل کر دوں گا۔ اگر کھلم کھلا یا بھونڈے پن سے اردو کو جاری کر دیا تو پھر بنگالی تمھیں قتل کر دیں گے، آج نہیں تو کل۔ ‘‘ (’’یادِیارِمہرباں ‘‘)

بخاری انگریز کی تربیت یافتہ بیوروکریسی کے ان چالاک کارندوں میں سے تھے جو اصل حکمرانوں کی اصل منشا کا اشارہ خوب پہچانتے تھے۔ ان کے کارنامے یوں تو بےشمار ہیں لیکن محترمہ فاطمہ جناح کی براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں خلل ڈالنا ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں موصوف کو مختلف قسم کے شوق لاحق تھے جن میں سے ایک دربارداری کا شوق بھی تھا اور ریڈیو پر اہم عہدے یا پروگرام حاصل کرنے کے لالچ میں شہربھر کے چاپلوس لوگ پرانے کلفٹن میں واقع ان کی کوٹھی پر ہر شام منعقد ہونے والے دربار میں حاضر رہا کرتے تھے۔ ان کی دیکھادیکھی ریڈیو کی بیوروکریسی کے وسطی اور نچلے درجے کے اہلکاروں میں بھی اس شوق نے بہت فروغ پایا، جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان میں سے ہر ایک کو مرکزِ توجہ بننے کی ہوس تھی اور بخاری کے دربار میں ان کے ماتحتوں کو کبھی مرکزی حیثیت نصیب نہیں ہو سکتی تھی۔ ریڈیو پروگراموں کے گوشت کی ڈلیوری کا کسی قدر اختیار رکھنے کے سبب ان اہلکاروں کے عقیدت مندوں کی بھی کمی نہ تھی۔ اس قسم کی ایک محفل سلیم احمد نے اپنی سکونت گاہ پر (جو پہلے جہانگیر روڈ پر واقع تھی اور بعد میں انچولی منتقل ہو گئی) ہر شام منعقد کرنا شروع کی جس کے حاضرباش انھیں ایک چھوٹاموٹا بخاری بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ بخاری کے مماثل کرنے کے لیے آگے چل کر سلیم احمد کے سید ہونے کا بھی بڑے زورشور سے چرچاکرنے لگے۔ (سلیم احمد کے ایک نہایت عزیز دوست مظفر علی سید کا کہنا تھا کہ سلیم احمد دراصل سید تھے نہیں، اور یہ غلط فہمی ان کے ایک مصرعے نے پیدا کی تھی کہ ’’ہو کے سید بنے چمار سلیم‘‘۔ مظفرعلی کا خیال تھا کہ میر کے مصرعے ’’اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی‘‘ کے مضمون کو پست اور پامال کرنے کے لیے شاعر کا سید ہونا ضروری نہیں۔ دروغ بر گردنِ راوی، ان کی تجویز تھی کہ اگر سلیم احمد کے مصرعے میں تھوڑی سی ترمیم کر دی جائے تو نہ صرف مذکورہ غلط فہمی دور ہو جائے گی بلکہ مصرع حسب حال بھی ہو جائے گا، یعنی یہ کہ ’’بن کے سید ہوے چمار سلیم‘‘۔)

                اصل حقیقت دونوں فریقوں، یعنی سلیم احمد اور ان کے ریوڑکے ارکان، کو اچھی طرح معلوم تھی، یعنی یہ کہ حکمرانی کے حفظِ مراتب کے اعتبار سے سلیم احمد اور بخاری کا کوئی جوڑنہیں۔ تاہم دھڑے بندی کی اخلاقیات کا پورا لحاظ رکھتے ہوے محفلِ سلیمی کے برخوردار ان کی خوبیوں کو بڑھانے چڑھانے اور خامیوں کا ذکر دبا جانے پر پوری طرح عمل پیرا رہتے تھے (اور اب بھی رہتے ہیں)۔ مثلاً ساقی فاروقی ہی کو لیجیے، ماہرالقادری کا ذکر کرتے ہوے وہ یہ یاد دلانا ہرگز نہیں بھولتے کہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا (یا ہو گیا تھا)۔ لیکن سلیم احمد کے ذکر میں اس تفصیل کا بھولے سے بھی ذکر نہیں آتا کہ وہ نہ صرف جماعت اسلامی میں شامل رہے اور جماعت کے اخبار ’’جسارت‘‘ میں لکھتے رہے بلکہ، بہ روایت ڈاکٹر آفتاب احمد، 1970 کے انتخابات میں جماعت کا صفایا ہونے کا انھوں نے اتنے زور زور سے ماتم کیا کہ ان کے گرو عسکری تک کو کہنا پڑا کہ سلیم احمد نے ’’امریکنوں سے پیسے کھا لیے ہوں گے‘‘۔ بعد میں جب فوجی آمر جنرل ضیا نے جماعت اسلامی کے ایک مقامی رہنما محمود اعظم فاروقی کو وزیر اطلاعات و نشریات (گویا نماز مانیٹر) مقرر کیا تو گوشت کی ڈلیوری وین سلیم احمد کے گھر بھی پہنچی اور انھیں فاروقی کا نائب قاصد (یا ایسا ہی کچھ) مقرر کیے جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ رہیں موصوف کی خوبیاں، تو ریوڑ کے ارکان سلیم احمد کو ایسی بھیانک سنجیدگی سے ’’ڈرامے کا آدمی‘‘ کہتے ہیں گویا اردو کے شیکسپیئرِ ثانی یہی ہوں۔ (شیکسپیئرِ اول، آپ کو یاد ہو گا، آغا حشر مرحوم تھے۔) حالانکہ اگر ان کے کسی ریڈیائی یا ٹیلی ویژنی اسکرپٹ نے دوسرے درجے کی ادبی تحریر کا بھی مقام حاصل کیا ہو تو اس کا کسی کو علم نہیں۔ سلیم احمد کی ڈرامائی زندگی کا نقطۂ عروج یہ تھا کہ انھیں اردو کے عظیم ترین تاریخی ناول نگار نسیم حجازی (بقول محمد خالد اختر Novelist Pompous) کے ایک کفرشکن ناول کی ڈرامائی تشکیل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ (اسد محمد خاں کے مطابق، جنھوں نے اس ڈرامائی تشکیل میں سلیم احمد کے نائب کے طور پر کام کیا تھا، اس کی فرمائش خود جنرل ضیا کے ایوان اقتدار سے آئی تھی، اور اولی الامر منکم کی اطاعت تو آپ جانتے ہی ہیں مومنین و صالحین پر فرض ہے۔)

                مذکورہ بالا محفل کا فوری جواز خواہ درگاہِ بخاری سے آیا ہو یا کہیں اور سے، یہ اردو ادب میں دھڑے بندی کی پاکیزہ روایت سے براہِ راست منسلک تھی۔ اس قسم کی ایک محفل کا احوال، جو بائیس خواجہ کی چوکھٹ دلّی میں برپا ہوتی تھی اور جس کے مرکزِ تجلّیات شاہد احمد دہلوی تھے ، ابوالفضل صدیقی یوں بیان کرتے ہیں:

یہ نشستیں ’’مثبت منفی‘‘ ماحول کی حامل ہوا کرتیں اور اس میں عجیب عجیب سنجیدہ اور غیرسنجیدہ اتارچڑھاؤ آتے، بات سنجیدگی کے اعتبار سے کسی کسی وقت اعلیٰ سطح تک جا پہنچا کرتی اور وہاں سے قلابازی کھا کر جو اُلٹتی تو غیرسنجیدگی کے گڑھے میں گر کر ہرزہ گوئی، پھکّڑپن، دشنام تک پستیوں میں لڑھکتی چلی جاتی۔ ان کی یہ نشست بھادوں کی اماوس کا کوندا ہوتی؛ اچھی ادبی باتوں، فنی چٹکلوں، پھلجھڑیوں کے درمیان، ادبی تنقیص تک پہنچ کر رائی کا پہاڑ اور پہاڑ کی رائی بن جاتی۔ سیاسی حریف بھانپ کے سانپ بنا کر پھنکاریں مارتے سنائے جاتے۔ اچھے اچھے ٹھوس ادب پارے صابن کے بلبلے بنا بنا کر اڑائے جاتے۔ معاصر حریفوں میں سے کسی کو پُتلا بنا کر ادبی و صحافتی سیاست کی قتل گاہ میں اتارا جاتا اور سستی تضحیک، توہین کے کھٹّل ہتھیاروں سے اس پُتلے کے چیتھڑے بوٹیاں اڑا اڑا کر محظوظ ہوا جاتا۔ ’’نک نیم‘‘ تراشی ان کی عادت تھی؛ ویسے یہ علی گڑھ والوں کا بھی روایتی خاصہ ہے مگر علی گڑھ والوں کے یہاں ستھری ذہانت اور اعلیٰ پرکھ کا مظہر ہوا کرتی تھی اور فیض دوست اور مخالف سب کے لیے عام تھا، لیکن ان کے یہاں بجز نہایت سستی بالعموم قافیائی مماثلت یا کسی ادیب کی کسی تخلیق و تحریر کی بےمعنی سی سطحی مناسبت گڑھنے کے علاوہ بمشکل ہی کبھی کسی اسمارٹ بات کو دخل ہوتا تھا اور یہ مخالفین تک محدود تھی۔ یہ تمام سنجیدہ و غیرسنجیدہ ملی جلی محفل، جس میں کتابوں کی تجارت، رسائل، مدیران اور لکھنے والوں کی سیاست اور تھوڑی بہت علمی بحثوں کے ساتھ دیرینہ رنجشیں، علاقائی عصبیتوں کے جواب الجواب شامل ہوتے، وقفہ وقفہ سے سستے پن سے بڑھ کر چھچھورے پن اور اس سے بھی اوپر ہرزہ گوئی، پھکڑپن تک جا پہنچتی، اور کسی خاص پر منحصر نہیں، اس ضمن میں چھوٹی بڑی کوئی بھی ہستی بات کی زد اور رو میں آ جائے اور مانو مٹی پلید ہوئی۔ ...کوئی غیرمتعلق آدمی، جس کسی کا بھی ذکر آ جائے، اس کے متعلق پہلے پچاس فی صدی نمبر سوئے ظن کے کٹ کر بات آگے بڑھتی اور تشکیک کے زیرِ سایہ چلتی، اور اس کو خوش باشی سمجھتے، بذلہ سنجی اور خوش گپی کہتے، پیٹ بھر بھر قہقہے لگاتے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس طرح یہ لوگ تمام دن کی دفتری تکان اور جِھک جِھک کا ازالہ کیا کرتے۔ ایک دو دکان کی گھونچ میں کو بیٹھ کر ہاتھوں سے ایک ایک دو دو بازی ادبی تاش کی بھی کھیلتے جاتے۔ آنکھیں پتوں پر اور کان محفل میں۔ منہ سے باتوں میں شریک بھی رہتے۔ (ابوالفضل صدیقی؛ ’’عہدساز لوگ‘‘، صفحہ 90-91)

تاہم سلیم احمد کی دکان کی گھونچ میں ادبی یا اور قسم کے تاش کھیلنے کی ضرورت نہ تھی اس لیے کہ بھاوج کا ذکر کسی اور اِن ڈور گیم کی کمی محسوس نہ ہونے دیتا تھا۔ اس محفل میں سلیم احمد کی تقریر مسلسل جاری رہتی تھی جس میں سرکاری نظریۂ پاکستان کے تینوں اجزاے اعظم کے گُن گان اور ابوالفضل صدیقی کے بیان کردہ روایتی مشاغل کے علاوہ، انواع واقسام کی دھڑے بندیوں کا لحاظ رکھتے ہوے، ملیح آباد کی سیالکوٹ پر، الٰہ آباد کی جالندھر پر، میرٹھ کی ہوشیارپور پر، انچولی کی بِہارکالونی پر، کراچی کی لاہور پر، مغربی پاکستان کی مشرقی پاکستان پر اور بحیثیتِ مجموعی مشرق کی مغرب پر برتری کا زورشور سے ذکر رہتا تھا۔ مخالفین کی بیخ کنی کے سلسلے میں دبڑو گھسڑو قسم کے شاگردوں کی تربیت بھی ہمہ وقت جاری رہتی تھی۔ محمد حسن عسکری کو یوں تو اس دھڑے کے نظریاتی گرُو کا درجہ حاصل تھا، لیکن چونکہ بگڑے دل عسکری سلیم احمد کے مذہبی و سیاسی موقف کی اسی طرح تحقیر کر دیا کرتے تھے جیسے ان کی بزعمِ خود غزلوں کی (یہ واقعہ غالباً کسی نے لکّھا بھی ہے کہ جب سلیم احمد نے اپنی غزلیں لے جا کر انھیں دکھائیں تو وہ بالکل خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر بعد سلیم احمد اٹھے تو عسکری نے سوالیہ انداز سے انھیں دیکھا۔ سلیم احمد نے کہا، ’’ذرا پیشاب کرنے جا رہا ہوں،‘‘ جس پر عسکری بولے، ’’یہ اپنی غزلیں ساتھ لیتے جاؤ۔ ‘‘) چنانچہ ان سے عداوت کا بھی دبادبا مظاہرہ جاری رہتا تھا۔ ایسے موقعوں پر برادرِخورد شمیم احمد کو زحمتِ کلام دی جاتی اور وہ بِہار کالونی کے کوارٹر کے اس منظر کی باریک جزئیات بیان کر کے محفل لوٹ لیا کرتے تھے جب انھوں نے عسکری کو مالشیے کے ساتھ بقولِ ساقی ’’غلط آسن میں‘‘ مصروف دیکھا تھا۔ اس محفل کے تربیت یافتہ ہونہاروں احمد جاوید، قیصر عالم وغیرہ نے بعد میں اپنے استاد سلیم احمد کی روح کو ثواب پہنچانے کے لیے اپنے دادا استاد عسکری کے ساتھ جو عبرت انگیز سلوک کیا، وہ تو’’شب خون‘‘ اور ’’دنیازاد‘‘ کے صفحات پر آپ کی نظروں سے گزر ہی چکا ہو گا۔ جو لوگ سرکاری نظریے سے منحرف یا اس کے منکر سمجھے جاتے تھے، مثلاً فیض، ان پر حملے کرنے کے لیے منتخب شاگردوں کو خصوصی تربیت دی جاتی تھی۔ اس تربیت کی مثالوں کے لیے فیض سے آصف فرخی اور طاہر مسعود کے کیے ہوے انٹرویو ملاحظہ کیجیے جو بالترتیب انٹرویوز کے مجموعوں ’’حرفِ من وتو‘‘ اور ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ میں شامل ہیں۔ شہر کا ایک اہم اکھاڑا حلقۂ ارباب ذوق تھا جس کے اجلاسوں میں مخالفوں، خصوصاً غیراہلِ زبان مخالفوں، پر برسرِمحفل ناشائستہ اور بدزبان حملے کرنے کے لیے خاص گُرگے تیار کیے جاتے تھے، کیونکہ سرگروہ کا براہِ راست ان ہستیوں کے مقابلے کے لیے اترنا مصلحت کے خلاف ہوتا تھا۔ ان گرگوں میں ساقی فاروقی کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ حلقے کے اجلاسوں میں حفیظ جالندھری، منیر نیازی وغیرہ کے ساتھ ان کی بدتمیزیاں یادگار ہیں۔

                مذکورہ محفل کے شیرازے کو باہم جوڑے رکھنے کے لیے بھاوج کی لگاوٹ تو تھی ہی، تحسینِ باہمی کا گوند بھی خوب کام آتا تھا۔ رائی کا پہاڑ، پر کا کوّا اور مَیل کا بَیل بنانے کی معزّز صنعتوں نے اس محفل کی بدولت بہت ترقی پائی۔ بھاوج کے شوہر بےکس ناآفریدی کا تو حق ہی تھا کہ بیوی کی بقولِ اسد محمد خاں ’’فحش بدعنوانیوں‘‘ کے عوض اس کے ادبی کارناموں کی توصیف کی جائے، ساقی کو بھی مصطفیٰ زیدی تک سے برتر ٹھہرا دینے میں، کم از کم زبانی گفتگو میں، کوئی تکلف نہ برتا جاتا۔ ریوڑ میں شامل ہونے والے نوخیز شاعروں اور شاعرات کو بلاکھٹکے، احمد فواد کے الفاظ میں، ہومر، سیفو، عرفی، یگانہ، قرۃ العین طاہرہ، ملٹن وغیرہ کے ازاربند سے لٹکا دیا جاتا۔ (سنا ہے ان میں سے کچھ غریب وہیں بندھے اب تک جھولا جھول رہے ہیں۔) جواباً سلیم احمد کے عقیدت مندوں کو ان کا بول بالا کرنے کے لیے زور لگا کر زمین اور آسمان کے قلابے ملانے ہوتے تھے۔ چونکہ ریوڑ کے یہ عسکری زدہ، بھاوج یافتہ اور باقی ماندہ ارکان عقلِ سلیم اور سلیم احمد میں سے موخرالذکر کا حتمی انتخاب شروع ہی میں کر چکے ہوتے تھے، اس لیے اس امر میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ سلیم احمد (بلکہ سیّد سلیم احمد) کو ارسطوے زماں وغیرہ قرار دیے جاتے اکثر دیکھ سکتے ہیں۔ ان ستائشی آوازوں کے علاوہ سلیم احمد کو خود اپنی آواز نہایت پسند تھی۔ بیشتر وقت اپنے پلنگ پر قلوپطرہ کے انداز میں نیم دراز میرٹھ، اسلام، مشرق وغیرہ کے مرغوب موضوعات پر رواں رہتے۔ جب کبھی نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہوتے تب بھی اس معمول میں خلل نہ آتا، فرق صرف اتنا پڑتا کہ پلنگ پر اپنا پسندیدہ آسن چھوڑ کر ایستادہ ہو جاتے، تقریر اسی طرح جاری رہتی، گویا ’’کھٹیا پہ اذان دے رہا ہوں ‘‘۔ اس کا نقشہ ساقی نے یوں کھینچا ہے:

سلیم خاں کا پہلا نروس برک ڈائن [کذا] میری موجودگی میں ہوا تھا۔ اور جہانگیر روڈ والے کوارٹر میں۔ وہ باہر والے کمرے میں اپنی چوکی/چارپائی پر کھڑے ہو کر اسلام اور مشرق پر نہایت بلند آواز سے تقریر کرتے۔ منہ سے جھاگ اور آنکھوں سے وحشیانہ شعلے برستے، گھر کے اندر آپا اور زاہدہ سینہ کوبی کرتیں۔ انھیں ہر چار پانچ گھنٹے کے بعد انجکشن لگانے پڑتے۔ شمیم اور جمال اور اطہر اور عذیر اور قدیم خاں (ان کے دوست) اور میں انھیں پکڑجکڑ کے رام کرتے، وہ ہاتھ پاؤں چلاتے رہتے۔ (114)

مذکورہ بالا تقریریں بعد میں مختلف کتابوں کی شکل میں شائع بھی ہوئیں۔ اس ریوڑ میں زبانی تحسین باہمی کے علاوہ دیباچہ نگاری کا بھی بہت چلن تھا۔ دیباچہ و فلیپ نویس نقادوں کی اردو دنیا میں کہیں بھی کمی نہیں پائی جاتی کیونکہ دھڑے بندی کے غالب ماحول میں یہ سرگرمی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بقول مشفق خواجہ، کراچی کا کوئی تیسرے درجے کا صاحب دیوان شاعر مشکل ہی سے ایسا بچا ہو گا جس کے دیوان پر سلیم احمد نے دیباچہ یا فلیپ نہ لکھا ہو۔ (ان میں سے ایک شاعرِاعظم کے مجموعۂ کلام ’’چاند کی بستی‘‘ پر اپنے دیباچے میں سلیم احمد کا کہنا تھا کہ انھیں موصوف کی شاعری میں میرٹھ کی خوشبو نے مارا۔ کتاب کے ایک تبصرہ نگار ابن انشا نے اس پر یوں تبصرہ کیا: ’’اور کچھ ہو نہ ہو، ہم میرٹھ کی خوشبو کے ضرور قائل ہو گئے جس نے سلیم احمد کو کیا مارا گویا نفسِ امّارہ کو مارا۔ ‘‘)

                تیسرے درجے کے شاعروں کی برسوں پر محیط اس خدمت کو دیکھتے ہوے یہ بات تعجب خیز نہیں کہ جب سلیم احمد کا اپنا مجموعۂ کلام اشاعت کے لیے مرتب کیا جا رہا تھا تو اسی زمرے کے ایک شاعر ساقی فاروقی کو دیباچہ نگاری کا اعزاز بخشا گیا۔ ساقی کو بھی اپنے سرپرست کی طرح دیباچے تحریر کرنے کا بہت شوق رہا ہے، اگرچہ ان کے مشہور دیباچے وہ ہیں جو اول تو شرمندۂ تحریر ہی نہ ہوے، یا اگر لکھے گئے تو کسی نہ کسی علّت سے متعلقہ کتاب میں شامل نہ کیے گئے۔ ساقی کے بیان کے مطابق سلیم احمد کے علاوہ جن معروف لوگوں نے ان سے دیباچہ لکھنے کی فرمائش کی ان میں ن م راشد اور رضیہ سجاد ظہیر شامل ہیں۔ سلیم خاں کے علاوہ یہ دونوں بھی ظاہر ہے اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن جاتے جاتے ساقی کو جو احساسِ عظمت بخش گئے اس کا ذکر وہ اپنی خودنوشت میں کرنے سے بالکل نہیں چوکے:

مجھے انجانی خوشی تو ہوئی مگر میں نے یہ بھی سوچا کہ سلیم احمد میری تنقیدی ذہانت پر کچھ زیادہ ہی بھروسا کرنے لگے ہیں۔ (اس سے پہلے میں نے دو شاعروں کے ہی پہلے شعری مجموعوں کے مسوّدے دیکھے تھے، ایک محبوب خزاں کا، ایک سرشار صدیقی کا... (110)ایک بار [ن م راشد کا] فون آیا، ’’ساقی! چوتھا مجموعہ تیار ہے۔ میری خواہش ہے کہ دیباچہ تم لکھو۔‘‘ میں بوکھلاہٹ میں ڈھیر ہو گیا۔ پھر ذرا سنبھلا تو ہکلاہکلا کر عرض کیا کہ... [blah blah blah] آپ میری سست رفتار ذہانت پر کچھ زیادہ ہی بھروسا کرنے لگے ہیں۔ آپ پر مضمون لکھنے کے لیے [blah blah blah] وہ بہت خوش ہوئے ہوں گے کہ انھوں نے میری جان بخشی کر دی۔ (160)  [ساقی نے رضیہ سجاد ظہیر کو] تاکید کر دی کہ اپنے بکھرے ہوئے افسانوں کا مجموعہ مرتب کر کے مجھے بھیج دیں تاکہ پاکستان میں کہیں چھپوا دوں۔ انھوں نے شرط لگائی کہ دیباچہ میں لکھوں۔ ایک زمانے میں کئی افسانے میں نے لکھے تھے اور سیکڑوں کہانیاں پڑھیں تھیں۔ فکشن کی تنقید پر بھی اچھی نظر تھی مگر برسوں سے شاعری کو اوڑھنابچھونا بنا رکھا تھا، اس لیے اس دیباچے کے لیے مواد جمع کر رہا تھا کہ کوئی نئی بات نکال سکوں کہ فیض صاحب لندن آئے۔ رضیہ کی کتاب اور ان کے دیباچے کا ذکر ان سے اس لیے کیا کہ کسی بھلے پبلشر سے چھپوا دیں۔ کہنے لگے، ’’بھئی، رضیہ کی کتاب کا دیباچہ تو ہم بھی لکھ سکتے ہیں نا۔‘‘ میں نے کہا، ’’مگر انھوں نے تاکید کی ہے کہ میں لکھوں۔‘‘ بولے، ’’تو تم بھی لکھ دو، ہم بھی لکھ دیں گے۔‘‘ میری کہاں مجال کہ ان کے دیباچے کے ساتھ اپنا دیباچہ بھی چھپواتا۔ مسودہ انھیں دے آیا۔ غضب یہ ہوا کہ وہ کہیں رکھ کر بھول گئے۔ میں نے رضیہ آپا کو سارا ماجرا لکھ کر بھیج دیا۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے انتقال سے پہلے دلّی میں ان سے ملنے گیا تو بہت بیمار تھیں ...صرف اتنا کہا، ’’اگر فیض سے دیباچہ لکھوانا ہوتا تو میں مسودہ انھیں بھجواتی۔‘‘ (169)

سلیم احمد کی کتاب پر ساقی کا دیباچہ بہرحال لکھ لیا گیا اور شاید شائع بھی ہو جاتا اگر اس میں ساقی سلیم احمد کو منیر نیازی سے اوپر اٹھانے کی کوشش میں خود کو اناڑی پن سے باز رکھ پاتے۔ مگر ہوا یہ کہ انھوں نے سلیم احمد کی شخصیت کے ہفت پہلو خربوزے کو منیر نیازی کی اکہری چُھری پر، اور موخرالذکر کو اول الذکر پر، بار بار اور اتنی بیدردی سے گرایا کہ ہفت پہلو کو ہفتاد و دو پہلو کر کے چھوڑا۔ اتنی گڑبڑ مچی کہ گروہی مصلحت کی بنیاد پر دیباچے کو کتاب سے باہر ہی رکھنا مناسب سمجھا گیا۔

                تحسین باہمی اور دیباچہ نگاری کے علاوہ سلیمی ریوڑ کی ایک اور پسندیدہ سرگرمی دوسروں کی (اور ایک دوسرے کی بھی) ’’ماں بہن‘‘ کرنا تھا۔ ’غیبت کے شامیانے‘ میں آویزاں ساقی کے نام لکھے گئے خطوں وغیرہ کے اقتباسات میں آپ نے یہ مشہور گلہ ضرور دیکھا ہو گا کہ ’’سؤر سالے حرامی، تم نے اپنے خط میں مجھے گالیاں کیوں نہیں لکھیں۔‘‘ ساقی کی ٹوپی میں اس قسم کے کئی پر ہیں جن میں ایک، جو اردو کے ادبی حلقوں میں مشہور ہے، بنگلور سے شائع ہونے والے رسالے ’’سوغات‘‘ کے مدیر محمود ایاز کے نام ان کا خط ہے جو ماں کی گالی سے شروع ہوتا ہے۔ جیساکہ اوپر عرض کر چکا ہوں، دوسرے شعبوں کی طرح اس میدان میں بھی ساقی سے کسی قسم کی خلّاقی کی توقع رکھنا عبث ہو گا۔ اس کے علاوہ ذہنی اور جذباتی طور پر وہ اسی قدامت زدہ گروہ کا حصہ ہیں جس کی مذمت کرتے نہیں تھکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اور موقعے پر وہ مذہب کے میدان میں بھی اسی جوش و خروش سے گھس پڑے جیسے محمود ایاز پر ٹوٹ پڑے تھے۔ کہتے ہیں:

 ...واہ رے میں، جب ’شیطانی آیات‘ چھپی...تو مجھ پر زودرنجی کا غلبہ ہوا۔ ...میں اپنی تمام آزادخیالی بھول بھال کر بلکہ انھیں روند راند کر انھی ملّاؤں کی صف میں شامل ہو گیا اور انھی کے خیموں کی طنابوں میں تن گیا جنھیں ساری عمر حقارت سے دیکھتا رہا تھا... ‘‘(42) اگر کوئی میرے دادا یا نانا کو گالی دے گا تو میں react کروں گا اور ضرورت سے زیادہ کہ صدیقی/فاروقی ہوں، صرف مدافعت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ حملہ کرنے میں پہل کرنے کا قائل ہوں۔ (52)

چنانچہ پہل کے طور پر انھوں نے یہ کیا کہ حضرت مریم کی شان میں انگریزی میں ایک نظم لکھ ڈالی جس میں انھیں وہی گالی دی گئی تھی جو ہمیشہ سے ان کے مخالفین دیتے چلے آئے ہیں اور جو مدتیں ہوئیں کلیشے کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ عیسائیوں اور دیگر مغربیوں نے تو اس کا کوئی نوٹس لینا ضروری نہ سمجھا؛ شاید ساقی کی انگریزی ان کی سمجھ سے بالا رہی ہو گی، یا یہ وجہ ہو گی کہ وہ اس قسم کی باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھ چکے ہیں۔ تاہم محمد عمر میمن نے اپنے خط میں اور مشتاق احمد یوسفی نے زبانی (ٹیلیفونی) گفتگو میں ساقی کی خوب پیٹھ ٹھونکی اور کہا کہ ’’مغرب‘‘ کی جانب سے ہونے والے حملے کا یہی مناسب جواب ہے کہ حضرت مریم پر، اور ان کے توسط سے حضرت عیسیٰ پر، دشنام طرازی کی جائے۔ خود ساقی کا ’’اندر کا نقاد‘‘ اسے ان کی ’’بری نظموں کے خانے میں رکھتا ہے‘‘ (52)، ظاہر ہے بےچارہ کوئی دوسرا خانہ کہاں سے لائے، چنانچہ ساقی برمکان قسم کی نشستوں میں اپنی دیگر نظموں کے ساتھ اس نظم کی بھی اپنے مخصوص مفتخر اور دادطلب انداز میں پڑھت فرماتے رہے ہیں۔ ایسی ایک نشست، جس کا میں عینی شاہد ہوں، 1990 کے عشرے کے اوائلی برسوں میں لاہور میں کشور ناہید کے گھر منعقد ہوئی تھی جس میں میزبان اور مہمان کے علاوہ مظفرعلی سید، انتظار حسین، جاوید شاہیں، زاہد ڈار اور دیگر لوگ موجود تھے۔

                اس سلسلے میں انھوں نے لندن کے کسی اخبار میں چھپے ہوے اپنے ایک انٹرویو سے پیدا ہونے والے تنازعے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جس میں برطانیہ میں مقیم بعض مولویوں نے، جو اپنے شعبے میں اتنی اور ایسی ہی شہرت کے حامل ہوں گے جیسے ادب کے میدان میں ساقی کی ہے، ساقی کی بابت کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ عبید صدیقی اور اپنی اہلیہ کے سرزنش کرنے پر، کہ مزید چوں چاں کرنے کے نتیجے میں بعض مسلمانوں کی طرف سے تشدد کی نوبت آ سکتی ہے، ساقی کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور وہ دُم سے اتر کر آٹھ دس برس کے لیے بل میں جا چھپے۔ اب، اس پرانے اور غیراہم معاملے کے رفت گزشت ہو جانے کے بعد، ساقی کو اپنی خودنوشت کے کئی صفحات اپنے مجاہدانہ جوش و خروش کی نذر کر دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوا۔ اس ذکر میں ساقی نے بار بار دہائی دی ہے اور کفر کا فتویٰ جاری کرنے والوں کا (آٹھ دس برس بعد) دامن پکڑ پکڑ کر گلہ کیا ہے کہ انھیں یہ تو دیکھنا چاہیے تھا کہ ساقی ابھی ’’تشکیک کے زینے پر‘‘ کھڑے (یا شاید پڑے) ہیں۔ ویسے مولویوں کا یہ گروہ، جس کے چودہ ارکان کی مکمل فہرست (مع القابات) خودنوشت کے صفحہ 58 اور 59 پر فخریہ پیش کی گئی ہے، سلیمی ریوڑ سے باہر کا واحد گروہ ہے جس نے ساقی کو ’’ایک شاعر‘‘ تسلیم کیا۔ تاہم چونکہ ساقی کو معلوم ہے کہ ان کے شاملِ فہرست مداحین ’’نیاورق‘‘ یا ’’مکالمہ‘‘ نہیں پڑھتے ہوں گے، مولویوں کا ذکر آنے پر (مسلمان اور ہندو دونوں قسم کے) ساقی کے لیے اپنی کریہہ اللسانی پرقابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے:

ان کی وضع قطع اور جھاڑو جیسی داڑھی کے ناتراشیدہ بال، موئے زیرناف کی طرح ایک دوسرے میں گتھے اور الجھے ہوئے، ان کی بھیگی ہوئی، مرے ہوئے پسینے کی بدبو سے ہمہ وقت بغل گیر بغلیاں، عوامی شاہراہوں پر استنجے، ہاتھوں کی غلط اور فحش جنبشوں کے سبب شلواروں کے سامنے کے گھیروں میں موادی زرد دھبے وغیرہ وغیرہ ایسی مکروہ شبیہیں (images) ہیں جن سے میرے حد سے بڑھے ہوئے احساس جمال کو سخت ٹھیس لگتی ہے بلکہ ان کم بختوں کے نام سے الرجی ہوتی ہے۔ ... (42) اگر دوزخ میں میری تمھاری ملاقات ہوئی بھی تو ’’شان کریمی‘‘ میری ہی جبیں کے ’’قطرۂ انفعال‘‘ موتی سمجھ کے چنے گی اور تمھاری بغل اور عضوِ معطل کے اردگرد مرتے ہوئے بدبودار پسینے کی وجہ سے تمھیں، مکری گارے میں فریبی سیمنٹ لگا کر منافقتی دیوار میں چنے گی۔ (58) آٹھ دس سال پہلے [قاضی سعید] سے کراچی میں ملاقات ہوئی تو اس کی ہیئت کذائی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ گمچھا، ٹوپی، گھٹنّا، زمین پر ناک رگڑتا ہوا کُرتا، ناف سے زِنا کرتی ہوئی ناتراشیدہ داڑھی، روزہ داروں جیسی اسلامی ڈکار اور یہی نہیں پسینے سے بھی لوبانی خوشبو آتی تھی۔ (91) عیسائیوں اور یہودیوں سے میری ملاقات تو ۱۹۶۳ء کے بعد ہوئی مگر تلک لگائے ہوئے، دھوتی پہنے ہوئے، جنیو ڈالے ہوئے، رانوں، پنڈلیوں اور بانہوں پر سرسوں کا تیل ملے ہوئے، کھڑاؤں پہنے ہوئے، مونگ پھلی اور چنے کھاتے ہوئے، مولی ہضم کرنے کی کوشش میں بدبودار ڈکار لیتے ہوئے، اپنی بیٹیوں، بیٹوں، بہنوں، بہنوئیوں کے سامنے اپنے ہری اوم ہری اوم چوتڑوں سے نفرت خارج کرتے ہوئے، ہر سال سیکڑوں مسلمانوں، اور اب عیسائیوں کو بھی مولی گاجر کی طرح کاٹتے ہوئے ہندو بنیادپرست کٹھ ملّا، اتنے ہی ذلیل، مکروہ اور عیار ہیں جتنے دوسرے مذہبی تنگ دل، تنگ نظر دلدّر جو بھائی چارگی اور انسانیت کے نام پر حیض کا دھبا ہیں۔ (43)

جیساکہ اوپر کے جمال پرستانہ اقتباسات سے واضح ہو گیا ہو گا، ساقی کی توجہ محض اس مذموم گروہ کے ظاہر پر رہتی ہے، اور اس میں بھی ان خصوصیات پر جن کا اندازہ اس کے ارکان کے انتہائی قریب رہنے والوں ہی کو ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ذہنی سطح، تخیل کی وسعت اور مخالفانہ ردعمل کی نوعیت کا تعلق ہے، ان میں اور ساقی میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے گواہ ساقی خود ہیں:

منہ پر ڈھاٹا باندھ کے برطانیہ کے کئی مسلمان سؤروں اور کتوں نے کئی بار مجھے فون کیا کہ وہ میری بیوی اور میری بیٹی کو ریپ کرنے کے لیے چل پڑے ہیں۔ میرا وہی سوچا سمجھا جواب، ’’اپنا پتا بتا دیجیے۔ اپنی بیوی اور بیٹی کو خود آپ کے پاس بھیج دوں گا۔‘‘(51)

اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ ٹیلیفون لائن کے دونوں سروں پر موجود حیوانات اس بات پر اتفاقِ رائے رکھتے تھے کہ مخالفین سے بدلہ چکانے کے لیے ان کی عورتوں پر وار کرنا بالکل جائز ہے۔ اس اعتبار سے باہمی جھگڑوں میں ایک دوسرے کی ’’ماں بہن‘‘ کرنا، جیساکہ ساقی کے ناآفریدی قبیلے کا خاصّہ رہا ہے، اور جنگوں اور خانہ جنگیوں میں ریپ کو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنا، جیساکہ 1971 کے مشرقی پاکستان اور 1990 کے عشرے کے بوسنیا میں کیا گیا، دراصل ایک ہی قدیم خانی روایت کا تسلسل ہے۔ اگر ساقی کے وجود میں جدیدیت اور معقولیت کی کوئی رمق ہوتی تو وہ مذکورہ بالا ٹیلیفون کال کا یہ جواب دیتے کہ اس معاملے سے ان کی بیوی اور بیٹی کا کوئی تعلق نہیں؛ وہ بتائے ہوے پتے پر خود کو پیش کرنے کو تیار ہیں تاکہ اپنے قول یا فعل کے نتائج کا خود سامنا کر سکیں۔ لیکن چونکہ ’’مشرقی‘‘ اقدار کا نقش ساقی کی شخصیت پر اسی محکم انداز میں مرتسم ہے جیسے پتھر پر لکیریں پڑی ہوتی ہیں، اس لیے ان کے منھ سے سواے سوچے سمجھے جواب کے کیا برآمد ہو سکتا تھا۔



                ساقی کے ایک ستم ظریف حریف سے یہ فقرہ منسوب کیا گیا ہے کہ ’’چہ ساقی و چہ ساقی کا شوربہ‘‘۔ اس دلچسپ فقرے کی روشنی میں ساقی کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے ایک ’’بھرپور‘‘ زندگی گزاری ہے، نئے معنی اختیار کر لیتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر برتن چھوٹے سائز کا ہو تو ذراسی بات میں نہ صرف ’’بھرپور‘‘ بلکہ ’’لبالب‘‘ بھی ہو جاتا ہے۔ ساقی کے شوربے کی پہلی پیالی کا تو یہی حال ہے؛ دوسری پیالی کا انتظار رہے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین