منگل، 7 جولائی، 2015

علی اکبر ناطق کی غزلیں

علی اکبر ناطق کی یہ غزلیں میرے خیال میں سب سے پہلے اتنی تعداد میں ادبی دنیا پر شائع ہورہی ہیں، اس سے پہلے انہوں نے کہیں باقاعدہ غزلیں میری معلومات کے مطابق شائع نہیں کروائی ہیں۔ بہرحال، معاملہ جو بھی ہو، بہت سے پڑھنے والوں کے لیے ناطق کی تخلیقی صلاحیت کا یہ بالکل الگ رنگ روپ ہے۔ جلد ان کا شعری مجموعہ بھی آنے والا ہے، میری رائے میں ناطق ایک نظم نگار اور افسانہ نگار ہونے کے ساتھ کمال کے غزل گو بھی ہیں۔ کیونکہ ان کے یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے جن لفظیات اور بحور کو شعر کہنے کے لیے اپنایا ہے، وہ عام رویے سے کافی مختلف ہیں۔باقی فیصلہ میں آپ کے ادبی ذوق کے حوالے کرتا ہوں۔ادبی دنیا پر بہت جلد اب بہت سے اہم ادبی سلسلے شروع ہونے والے ہیں، مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ادبی دنیا نے اب ادبی حلقوں میں ایک معیاری ادبی رسالے کی سی اہمیت اختیار کرلی ہے۔جنہیں آپ یقین ہے کہ پسند فرمائیں گے، فی الحال ان غزلوں کا مطالعہ کیجیے۔


غزل
حریمِ دل، کہ سر بسر جو روشنی سے بھر گیا
کسے خبر ،مَیں کن دِیّوں کی راہ سے گزر گیا

غُبارِ شہر میں اسے نہ ڈھونڈ جو خزاں کی شب
ہوا کی راہ سے ملا، ہوا کی راہ پر گیا

ترے نواح میں رہا مگر میانِ دین و دل
گجر بجا تو جی اُٹھا، سُنی اذاں تو مر گیا

سفید پتھروں کے گھر، گھروں میں تیرگی کے غم
ہزار غم کا ایک یہ کہ تُو بھی بے خبر گیا

نگر ہیں آفتاب کے ، برہنہ گُنبدوں کے سر
سروں پہ نور کے کلس، میں نور میں اُتر گیا


غزل
کنول ہوں آب میں خوش، گُل صبا میں شاد رہیں
ترے حزیں تری آب و ہوا میں شاد رہیں

پلٹ کے دیس کے باغوں میں ہم نہ جائیں گے
شفق مزاج ہیں، صحرا سرا میں شاد رہیں

چراغ بانٹنے والوں پہ حیرتیں نہ کرو
یہ آفتاب ہیں ، شب کی دعا میں شاد رہیں

گُلوں کی کھیتیاں کاٹی ترے شہیدوں نے
گلاب گوندھنے والے عزا میں شاد رہیں


غزل
ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تُو رہا
مجھے خبر نہ ہو سکی پہ ساتھ ساتھ میں بھی تھا

چمکتے نور کے دنوں میں تیرے آستاں سے دور
وہ میں کہ آفتاب کی سفید شاخ پر کِھلا

حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر
یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا

وہ کس مکاں کی دھوپ تھی، گلی گلی میں بھر گئی
وہ کون سبزہ رخ تھا جو کہ موم سا پگھل گیا

کبھی تو چل کے دیکھو سائے پیپلوں کے دیس کے
جہاں لڑکپنا ہمارے ہاتھ سے جُدا ہوا

غزل
گھنٹیاں بجنے سے پہلے شام ہونے کے قریب
چھوڑ جاتا میں ترا گاؤں مگر میرے نصیب

دھوپ پھیلی تو کہا دیوار نے جھک کر مجھے
مل گلے میرے مسافر، میرے سائے کے حبیب

لوٹ آئے ہیں شفق سے لوگ بے نیلِ مرام
رنگ پلکوں سے اٹھا لائے مگر تیرے نجیب

میں وہ پردیسی نہیں جس کا نہ ہو پُرساں کوئی
سبز باغوں کے پرندے میرے وطنوں کے نقیب

غزل
دن کا سمے ہے، چوک کنویں کا اور بانکوں کے جال
ایسے میں ناری تُو نے چلی پھر تیتری والی چال

جامنوں والے دیس کے لڑکے، ٹیڑھے اُن کے طَور
پنکھ ٹٹولیں طوطیوں کے وہ، پھر کر ہر ہر ڈال

وہ شخص اَمر ہے، جو پیوے گا دو چاندوں کے نُور
اُس کی آنکھیں سدا گلابی جو دیکھے اک لال

شام کی ٹھنڈی رُت نے بھرے ہیں آبِ حیات سے نین
مونگروں والے باغ نے اوڑھی گہری کاسنی شال

غزل
امن قریوں کی شفق فام سنہری چڑیاں
میرے کھیتوں میں اُڑیں شام سنہری چڑیاں

ناریاں دل کے مضافات میں اُتریں آ کر
ہُو بہُو جیسے سرِ بام سنہری چڑیاں

میرے اسلوب میں کہتی ہیں فسانے گُل کے
چُہلیں کرتی ہیں مرے نام سنہری چڑیاں

کچی عمروں کے شریروں کو سلامی میری
جن کے اطراف بُنیں دام سنہری چڑیاں

گُل کھلاتی ہے اسی شخص کی سانسوں کی مہک
جس کے گاؤں میں بہت عام سنہری چڑیاں

غزل
کَسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی
چھوڑ دی بستی ناقوں نے خاموش ہوا نقّارہ بھی

چاند سی آنکھیں کھیل رہی تھیں سُرخ پہاڑ کی اوٹوں سے
پورب اُور سے تاک رہا تھا اُٹھ کر ابر کا پارہ بھی

قافلے گردِ سفر میں ڈوبے، گھنٹیوں کی آواز گُھٹی
آخری اونٹ کی پشت پہ ڈالا رات نے سیاہ غرارہ بھی

شہر کے چوک میں ویرانی ہے آگ بُجھی، اندھیر ہوا
راکھ سُروں میں ڈال کے بیٹھے، آج ترے آوارہ بھی

کوئی نہ رستا ناپ سکا ہے، ریت پہ چلنے والوں کا
اگلے قدم پر مٹ جائے گا پہلا نقش ہمارا بھی

غزل
دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخمِ جگر میں تانبا ہے
اتنا بھاری سینہ لے کر شخص آوارہ پھرتا ہے

کانچ کے ریزے تیز ہوا میں باولے اڑتے پھرتے ہوں
ننگے بدن کی چاندنی سے پھر تارا تارا گرتا ہے

آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے
کیسے کھلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے

کالے دیوتا مٹھی بھر بھر سُونے گھروں میں پھینکتے ہیں
کُہر زدہ بستی کے چوک میں راکھ کا اونچا ٹیلا ہے

سرد شبوں کا پوچھنے والو اِن راتوں کے تارے دُور
دھندلے چاند کی نبضیں گونگی آگ کا چہرہ نیلا ہے

پیپلوں والی گلیاں اُجڑی ڈھیر ہیں پیلے پتّوں کے
سامنے والی سرخ حویلی میں بھوتوں کا ڈیرا ہے

غزل
زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا
دھند میں الجھا رہا نیند میں چلنے والا

دھوپ کے شہر مری جاں سے لپٹ کر روئے
سرد شاموں کی طرف میں تھا نکلنے والا

کر گیا آپ کی دیوار کے سائے پہ یقیں
میں درختوں کے ہرے دیس کا رہنے والا

اُس کے تالاب کی بطخیں بھی کنول بھی روئے
ریت کے ملک میں ہجرت تھا جو کرنے والا

غزل
رو چلے چشم سے گریہ کی ریاضت کر کے
آنکھیں بے نور ہیں یوسف کی زیارت کر کے

دل کا احوال تو یہ ہے کہ یہ چپ چاپ فقیر
لگ کے دیوار سے بیٹھا تجھے رخصت کر کے

اتنا آ ساں نہیں پانی سے شبیہیں دھونا
خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے

سر فرازی اُسے بخشی ہے جہاں نے مطلق
دار تک پہنچا اگر کوئی بھی ہمت کر کے

غزل
بادِ صحرا کو رہِ شہرپہ ڈالا کِس نے
تارِ وحشت کو گریباں سے نکالا کس نے

مختصر بات تھی، پھیلی کیوں صبا کی مانند
درد مندوں کا فسانہ تھا، اُچھالا کس نے

بستیوں والے تو خود اوڑھ کے پتّے، سوئے
دِل آوارہ تجھے رات سنبھالا کس نے

آگ پھولوں کی طلب میں تھی، ہواؤں پہ رُکی
نذر جاں کس کی ہوئی، راہ سے ٹالا کس نے

کانچ کی راہ پہ اِک رسمِ سفر تھی مجھ سے
بعد میرے بُنا ہر گام پہ جالا کس نے

غزل
چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں
کھو گیا اِک شخص مجھ سے، دیکھے بھالے شہر میں

مندروں کے صحن میں صدیوں پُرانی گھنٹیاں
دیویوں کے حُسن کے کُہنہ حوالے شہر میں

سرد راتوں کی ہَوا میں اُڑتے پتّوں کے مثیل
کون تیرے شب نوَردوں کو سنبھالے شہر میں

کانچ کی شاخوں پہ لٹکے تیری وحشت کے ثمر
تیری وحشت کے ثمر بھی ہم نے پالے شہر میں

دل کے ریشوں سے ردائے نُور بُنتے مٹ گئے
شب کی فصلوں میں نہیں آساں اُجالے شہر میں

غزل
ازل کے قصہ گو نے دل کی جو اُتاری داستاں
کہیں کہیں سے اُس نے تو بہت سنواری داستاں

ہوا سُنے ،جو سیر بیں پُرانے موسموں کی ہے
سنا سنا کے تھک گئی مری تمھاری داستاں

کسی کا سایا رہ گیا گلی کے عین موڑ پر
اُسی حبیب سائے سے بنی ہماری داستاں

مری جبیں پہ سانحات نے لکھی ہیں عرضیاں
یہ عرضیاں ہیں حسرتوں کی ایک بھاری داستاں

دلِ خراب و خستہ پر نظر نہ تُونے کی بحال
کہ اس مکاں کی تیرے گوش سو گزاری داستاں

غزل
قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا
بھید کھلتا کیوں نہیں اے دل ترے آرام کا

فاختائیں بولتی ہیں باجروں کے دیس میں
تو بھی سُن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا

ٹھنڈے پانی کے گگن میں ساتویں کا چاند ہے
یا گرا ہے برف میں کنگرا تمھارے بام کا

کُوکتا پھرتا ہے کوئی دھوپ کی گلیوں میں شخص
سُن لیا ہے اس نے شاید حال میری شام کا

غزل
غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا، پتی پتی رو گیا
پھول والوں کی گلی میں گل تماشا ہو گیا

ہم نے دیکھیں دھوپ کی سڑکوں پہ جس کی وحشتیں
رات کے سینے سے لگ کر آخرش وہ سو گیا

آسماں کے روزنوں سے لوٹ ٓتا تھا کبھی
وہ کبوتر اک حویلی کے چھجوں میں کھو گیا

اک گلی کے نور نے تاریک کتنے گھر کیے
وہ نہ لوٹا شخص بینا ،آنکھیں لے کر جو گیا
 

2 تبصرے:

Mafaat Raza کہا...

خوب کہا .. واہ

Ali Adil Awan کہا...

bahut umda or nayaab ghazly bilkul Ali Akbar Natiq ki shaksiyat ki tarah

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *