جمعرات، 30 جولائی، 2015

غنڈہ گردی کو دیش بھکتی مت کہیے/رویش کمار

دنیا تبدیل ہوتی جارہی ہے، ایک طرف مغرب میں خلا میں زندگی تلاش کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، تو دوسری طرف مشرقی ممالک میں زندگی جیسی حسین اور خوبصورت نعمت کو عقل کے ذریعے مزید خوبصورت بنانے کے بجائے لوگ مذہبی جذبات کے ذریعے روز بروز بدصورت، کریہہ اور خطرناک بناتے جارہے ہیں۔آپ نے انٹرنیٹ پر ایسی ہزاروں پوسٹ دیکھی ہونگی، جن پر کبھی اللہ رسول کا حوالہ دے کر لاکھوں لائکس مانگی جاتی ہیں، وہ لاکھوں لائکس دراصل ملک میں موجود جنونی اور شدت پسند قسم کے مذہبی لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں، کسی چیز کو پسند کرنا اور اس پر تنقید نہ برداشت کرپانا، ایک قسم کے پاگل پن کی علامت ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے سوچنے کا کام ذہن کے بجائے کسی اور عضو سے لینا شروع کردیا ہے۔پچھلے دنوں میں نے مبارک حیدر صاحب کی ایک پوسٹ دیکھی تھی، جس میں انہوں نے لوگوں کے شدت پسندانہ کمنٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب کسی معاملے پر باقاعدہ کوئی تحریرفیس بک پر نہیں لکھیں گے۔اسی طرح کسی بھی شخص کی حساس معاملات پر ذرا سی مخالفانہ رائے دیکھ کر لوگ کمنٹس کے خانوں میں گالیاں لکھنا شروع کردیتے ہیں، ایسے موقعوں پر وطن یا مذہب کے لیے لکھے جانے والے خطرناک نعرے پتہ نہیں کیوں مجھے اسی طرح چیختے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، جس طرح کوئی شخص ایک بپھری ہوئی بھیڑ کے درمیان شور کی لہروں کو کانوں کو چیرتے ہوئے مھسوس کرتا ہے۔ہم لوگ پاگل ہی نہیں ہوتے جارہے بلکہ اب ہم نے اپنے ڈاکٹروں کو چپ کرانے یا منظر نامے سے بھاگ کھڑا ہونے پر بھی مجبور کردیا ہے۔میں ایسے کئی لبرل لوگوں کو جانتا ہوں، جو لوگوں کے اسی قسم کے رویے سے تنگ آکر ایک دن سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس سے ہمیشہ کے لیے ناتا توڑ لیتے ہیں۔
رویش کمار ہندوستان کے ایک مایہء ناز صحافی ہیں،وہ ایک عرصے سے ہندوستان کے ایک نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور زبردست تجزیہ نگار اور سیکولر سوچ رکھنے والے تجربہ کار نیوزاینکر اور پروڈیوسر ہیں۔وہ بنیادی طور پر موتیہاری سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی عرصے سے دہلی میں مقیم ہیں۔ کسی بھی قسم کے پر تشدد اظہار رائے کا اثر اب سماج پر کتنا پڑتا ہے، یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن ادیب یا صحافی پر کس طرح پڑنا چاہیے، اس کا اندازہ ان کی اس تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔اب ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ترقی کے تمام ہاتھی دروازوں سے نکلنے کے باوجودہمیں فکر کی چھوٹی سی وہی کٹیا پسند ہے، جو سیاستدانوں، مذہبی ٹھیکیداروں اور ظلم و جہالت کی ایک مکمل تاریخ نے ہمارے لیے بہت پہلے تیار کردی تھی۔
                                                                    ت۔ح



آج صبح واٹس ایپ، مسینجر اور ٹوئٹر پر کچھ لوگوں نے ایک پلیٹ بھیجا، جس پر میرا بھی نام لکھا ہے۔میرے علاوہ کئی اور لوگوں کے نام لکھے ہیں۔اس سلسلے میں لکھا گیا ہے کہ ہم لوگ ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے یعقوب میمن کی پھانسی کی معافی کے لیے صدر جمہوریہ کو لکھا ہے۔اول تو میں نے ایسی کوئی چٹھی نہیں لکھی ہے اور لکھی بھی ہوتی تو میں نہیں مانتا، یہ کوئی دیش دروہ(ملک سے غداری)ہے۔مگر وہ لوگ کون ہیں، جو کسی کے بارے میں ملک کا غدار ہونے کی افواہ پھیلادیتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے وہ کون سی عدالت، قانون اور دیش کا سمان کررہے ہوتے ہیں۔کیا افواہ پھیلانا بھی دیش بھکتی ہے۔
کسی کو ان دیش بھکتوں کا بھی پتہ لگانا چاہیے۔یہ دیش کے لیے کون سا کام کرتے ہیں۔ان کا طرز عمل کیا ہے۔عام طور پر یہ لوگ کسی پارٹی کے کرپشن پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔آن لائن دنیا میں ایک پارٹی کے لیے لڑتے رہتے ہیں، کئی پارٹیوں کے پاس اب ایسی آن لائن فوج ہوگئی ہے۔ان کی پروفائل ، اس خاص پارٹی کے نشانات سے سجی ہوتی ہے۔کسی میں نعرے ہوتے ہیں، کسی میں نیتا تو کسی میں مذہبی نمائندے۔کیا ہماری جمہوریت نے انہیں ٹھیکا دے رکھا ہے کہ وہ ملک کے غداروں کی پہچان کریں، ان کی ٹائم لائن پر حملہ کر کے انہیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کریں۔
عوامی زندگی میں طرح طرح کے سوال کرنے سے ہماری شہریت نکھرتی ہے۔کیوں ضروری ہو کہ سارے ایک ہی طرح سے سوچیں۔کیا کوئی الگ سوچ رکھے تو اس کے خلاف افواہ پھیلائی جائے اور متشدد لفظوں کا استعمال ہو۔اب آپ قارئین کو اس کے خلاف بولنا چاہیےاوراگر آپ کو یہ معمولی بات لگتی ہے تو مسئلہ آپ کے ساتھ بھی ہے اور اس کے شکار آپ بھی ہونگے۔ایک دن آپ کے خلاف بھی واٹس ایپ پر میسج گھومے گا اورزہر پھیلے گا، کیونکہ اس کھیل کے اصول وہی طے کرتے ہیں، جو کسی پارٹی کے حامی ہوتے ہیں، جن کے پاس وسائل اورفسطائی قوتیں ہوتی ہیں۔صحافی نکھل واگھلے نے ٹوئیٹ بھی کیا ہے ۔'اب اس دیش میں کوئی بات کہنی ہو تو لوگوں کی بھیڑ کے ساتھ ہی کہنی پڑے گی، ورنہ دوسری بھیڑ کچل دے گی۔۔۔۔' آپ عام پڑھنے والوں کو سوچنا چاہیے ۔آپ جب بھی کچھ کہیں گے، اکیلے ہی ہونگے۔
پوری دنیا میں آن لائن غنڈہ گردی ایک خطرناک رجحان کے طور پر ابھر رہی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں، جو اسکولوں میں Bully بن کر آپ کے معصوم بچوں کو جیون بھر کے لیے دہشت زدہ کردیتے ہیں، محلے کے چوک پر کھڑے ہوکر کسی لڑکی کے باہر نکلنے کے تمام امکانات کو ختم کرتے رہتے ہیں اور سماجی وقار کو برباد کرنے کا خوف دکھاکر بلیک میل کرتے ہیں،یہ رجحان قاتلوں کا ہے، ہوشیار رہیے۔
بیشک آپ کسی بھی پارٹی کو پسند کرتے ہوں، لیکن اس کے اندر بھی تو صحیح-غلط کو لے کر بحث ہوتی ہوگی۔چار نیتائوں کی الگ الگ لائنیں ہوتی ہیں، اس لیے آپ کو اس رجحان کی مخالفت کرنی چاہیے۔یاد رکھیے گا، ان کا گینگ بڑھے گا تو ایک دن آپ بھی پھنسیں گے۔اس لیے اگر آپ کی ٹائم لائن پر آپ کا کوئی بھی دوست ایسا کررہا ہے تو اسے جتا دیجیے۔اس سے ناتا توڑ لیجیے۔اپنی پارٹی کے نیتا کو لکھیے کہ یہ سمرتھک(معاون رکن)رہے گا تو ہم آپ کے سمرتکئ نہیں رہ پائیں گے۔سوال کرنا مخالفت نہیں ہے۔ہر پارٹی میں ایسے غنڈے بھر گئے ہیں۔اس کے سبب آن لائن دنیا اب عام لوگوں کی دنیا رہ ہی نہیں گئی ہے۔
آن لائن غنڈہ گردی صرف پھانسی، دھرم یا کسی نیتا کے تئیں عقیدت کے سلسلے میں نہیں ہوتی ہے۔فلم اداکارہ انشکا شرما نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ وہ غیر ذمہ دار باتیں کرنے والے یا کسی کے وقار کو نقصان پہنچانے والوں کو بلاک کردیں گی۔مونیکا لیونسکی کا 'ٹیڈ' پر دیا گیا بھاشن بھی ایک بار اٹھا کر پڑھ لیجیے۔مونیکا لیونسکی آن لائن غنڈہ گردی کے خلاف کام کرتے ہوئے ہی لندن کی ایک ایجنسی سے جڑ گئی ہیں۔ان کا مقصد ہے کہ اب وہ کسی اور کو اس غنڈہ گردی کا شکار نہیں ہونے دیں گی۔فیس بک پر سابق ایڈیٹر شنبھوناتھ شکلا کے پیج پر جاکر دیکھیے۔آئے دن وہ اس رجحان سے پریشان ہوتے ہیں اور اس سے لڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کچھ کھل کر لکھنا مشکل ہوگیا ہے۔اب آپ کو سمجھ آ ہی گیا ہوگا کہ برابری اور is equal toکچھ بھی نہیں، بلکہ چپ کرانے کی ترکیب ہے۔آپ بولیں گے تو ہم بھی آپ کے بارے میں بولیں گے۔کیا کسی بھی مہذب سماج کو یہ منظور ہونا چاہیے۔
ان عناصر کو نظر انداز کرنے کی صلاح بالکل ایسی ہے کہ آپ ان غنڈوں کو قبول کرلیجیے،دھیان مت دیجیے۔سوال ہے کہ دھیان کیوں نہ دیں۔وزیر اعظم کے نام پر بھکتی کا نعرہ لگانے والوں کی وجہ سے جو فساد پیدا ہوا، وہ کئی لوگوں نے جھیلا ہے۔وزیر اعظم کو لے کر جب یہ سب شروع ہوا تو وہ اس خطرے کو سمجھ گئے۔باقاعدہ عوامی چیتاونی دی لیکن، بعد میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جن لوگوں کو بلاکر یہ چیتاونی دی گئی، ان میں سے کئی لوگ خود ایسا کام کرتے ہیں۔اس لیے میں نے کہا کہ اپنے آس پاس کے ایسے دوستوں یا لوگوں پر نگاہ رکھیے، جو آن لائن غنڈہ گردی کرتے ہیں، یہ لوگ عوامی زندگی کے تانے بانے کو توڑ رہے ہیں۔
موجودہ معاملہ یعقوب میمن کی پھانسی کی مخالفت کا ہے۔جب تک سزا کے خلاف تمام قانونی راستے ہیں،ان کا استعمال ملک سے غداری کیسے ہوگیا۔سوال اٹھانے اور برابری کی مانگ کرنے والوں میں تو ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی بھی ہیں۔عدالت نے تو نہیں کہا کہ کوئی ایسا کرکے ملک سے غداری کررہا ہے۔اگر اس معاملے میں عدالت کا فیصلہ ہی آخری ہوتا تو پھر گورنر اور صدر کے پاس دوبارہ غورکرنے کے آپشن کیوں ہوتے۔کیا یہ لوگ قانون بنانے والوں کو بھی غدار قراردیں گے۔
یعقوب میمن کا معاملہ آتے ہی وہ لوگ، جو Wyapmسے لے کر تمام طرح کے کرپشن کے الزامات کے سبب آن لائن دنیا سے بھاگے ہوئے تھے، لوٹ آئے ہیں۔خود دھرم کی آڑ لیتے ہیں اور دوسروں کو دھرم کے نام پر ڈراتے ہیں، کیونکہ آخری اخلاقی قوت انہیں دھرم سے ہی ملتی ہے۔وہ اس اتحاد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جو دھرم کے نام پر اپنے آپ وجود میں آجاتا ہے یا جس کےوجود میں آنے کا امکان ہوتا ہے۔فلموں میں آپ نے دادا ٹائپ کے کئی کردار دیکھیں ہونگے، جو سو ناجائز کام کرے گا، لیکن پوجا پاٹھ بھی کرے گا۔اس سے وہ سماج میں اہمیت حاصل کرنے کی کمزور کوشش کرتا ہے۔اگر آن لائن غنڈہ گردی کرنے والوں کی چلی تو پورا دیش ، دیش دروہی(غدار)ہوجائے گا۔
یہ بھی ٹھیک ہے کہ کچھ لوگون نے یعقوب میمن کے معاملے کو مذہب سے جوڑ کر کافی نقصان پہنچایا ہے، غلط کام کیا ہے۔پھانسی کے آنکڑے بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ فیصلے کا تعلق دھرم سے نہیں ہے۔لیکن کیا اس بات کا وہ لوگ چارے کی طرح استعمال نہیں کررہے ہیں جو ہمیشہ اسی فراق میں رہتے ہیں کہ کوئی چارا ملے نہیں کہ اس کی چرچا شہر بھر میں پھیلا دو۔کیا آپ نے انہیں یہ کہتے (نہیں)سنا کہ وہ(لبرل لوگ) دھرم سے جوڑنے کی مخالفت تو کرتےہی ہیں، مگر پھانسی کی سزا کی(بھی) مخالفت کرتے ہیں۔یعقوب کا معاملہ مسلمان ہونے کا معاملہ نہیں ہے۔دوبارہ غور کرنا ایک قانونی حق ہے۔نئے حقائق سامنے آتے ہیں توانہیں نئے سرے سے دیکھنے کا موقع اور حق عدالت کے پاس ہوتا ہے۔
نوے ممالک میں پھانسی کی سزا کا تصور ہی نہیں ہے۔کیا وہاں یہ طے کرتے ہوئے دہشت گردی اور دوسرے الزامات کا معاملہ نہیں آیا ہوگا۔بربریت کی بنا پر پھانسی کی سزا کی کروڑوں لوگ مخالفت کرتے ہیں۔دہشت گردی ایک بڑا چیلنج ہے۔ہم نے کئی دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکایا ہے، لیکن کیا اس سے دہشت گردی ختم ہوگئی۔سزا کا کون سا مقصد پورا ہوا۔کیا انصاف کا یہی آخری مقصد ہے۔جسے لے کر حب الوطنی جوش مارنے لگتی ہے۔ان کے حملوں سے جو خاندان برباد ہوئے، ان کے لیے یہ آن لائن دیش بھکت کیا کرتے ہیں، کوئی پارٹی والا جاتا ہے ان کا حال پوچھنے؟
پھانسی سے دہشت گردی ختم ہوتی تو آج دنیا سے دہشت گردی مٹ گئی ہوتی۔دہشت گردی کیوں اور کیسے پنپتی ہے، اسے لے کر بھولے مت بنیے۔ان سخت سیاسی سچائیوں کا سامنا کیجیے۔اگر اس کا سبب دھرم ہوتا اور پھانسی سے یہ مسئلہ حل ہوجاتا تو گروداس پور پر ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ہی نہ ہوا ہوتا۔دھرم تو آگ میں استعمال ہونے والے گھی کی طرح ہے، تاکہ ایک خاص قسم کی جھوٹے اتحاد کے رجحان کو بھڑکایا جاسکے۔جو لوگ اس بحث میں کودے ہیں، ان کی سوچ اور سمجھ مذہبی پہچان سے آگے نہیں جاتی ہے۔وہ کبھی پاکستان کو دہشت گرد بتادیتے ہیں اور کبھی اس سے ہاتھ ملا کر ڈپلومیٹک تاریخ رقم کردیتے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ تھری ان ون ریڈیو جیسا ہے۔جی میں آئی تو کیسٹ بجایا، جی میں آئی تو ریڈیو، جی میں آئی تو ہم دیش بھکت، جی میں آئی تو آپ دیش دروہی۔

1 تبصرہ:

Ahmed Alvi کہا...

بھارت میں ایک سوچ کو فروغ دیا جا رہا ھے۔ جو بھی مسلمان بھاجپا کی حمایت نہیں کرتا وہ دیش دروھی ھے غدار ھے اسے اس ملک سے چلے جانا چاہئے ۔ آف دی ریکارڈ بھاجپا کے بڑے بڑے لیڈر یہ بات کہتے بھی ہیں۔ اس ٹولے کی نظر میں بیس کروڑ مسلمانوں صرف دو مسلمان دیش بھگت ہیں باقی سارے دیش دروھی ہیں۔ شاہ نواز حسین اور مختار عباس نقوی ان کی حیثیت یہ ھے کہ بیس کروڑ مسلمان ان پر لعنت بھیجنا بھی اپنی توھین سمجھتے ہیں۔ کانگریس پارٹی ایک بہت شاطر پارٹی ھے اس کے ملک کی ترقی یا ملک کی یکجہتی کوئی معنی نہیں رکھتی اسے تو ہر حال میں اقتدار میں رہنا ھے۔ اسی کے لئے وہ بابری مسجد کو مسمار کراتی ھے۔ اگر اسے یقین ہو جاۓ بابری مسجد بننے سے اقتدار مل جاۓ گا تو وہ بابری مسجد بنانے کی بات کرنے لگے گی۔ اور اس کے لیڈر رام کا عارضی مندر کو وہاں سے ہٹانے کی بات کرنے لگیں گے۔ اپنے فرقے یا اپنے دھرم کو سپورٹ کرنا غلط نہیں ھے دوسرے کے دھرم کو برا کہنا اور دوسروں پر اپنے موقف کو زبردستی تھوپنا اور یہ سوچنا ہم صحیح ہیں اور دوسرے لوگ خرابی یہ ھے۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *