اتوار، 5 جولائی، 2015

ادریس بابر کی تازہ غزلیں

ادریس بابر ایک انقلابی گھڑی کا نام ہے، خاص طور پر غزل میں۔پتہ نہیں ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ غزل میں محض بے ساختگی، نفاست اور اس کی لکھنوی شرافت یا دہلوی مسکینیت ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔یہ اپنی پسند ہوسکتی ہے، روایت پرستی یا روایت پروری ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مضامین، زبان اور اسلوب کی سطح پر غزل کو ہمیشہ ایک مظلوم عاشق اور ایک سفاک عورت کے درمیان کی عاجزانہ اور عیارانہ گفتگو سے ہی تعبیر کیا جائے، بلکہ اب تو وہ خود کلامی کے بھی دور سے باہر آگئی ہے، کیونکہ خود کلامی تو سوشل ویب سائٹس کے جنم سے پہلے کی بات تھی، اب تو گونگو ں کو بھی سامعین میسر ہیں،سو ایسےمیں مسائل اور ہیں، تو غزل کا انداز کیونکر تبدیل نہ ہو۔ ادریس بابر ایک انتہائی اہم غزل گو ہیں، جن کی یہ چندتازہ غزلیں ادبی دنیا کے ذریعے آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہورہی ہے، اس زبان کی عادت جن لوگوں کو ذرا کم ہے، انہیں کسی معصوم بچے کو سوال کرتے ہوئے ضرور دیکھنا چاہیے۔انہی الفاظ کے ساتھ میں ان غزلوں کو آپ کے سپرد کرکےچلتا ہوں۔شب بخیر!صبح بخیر!

مطلع غزل کے غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے
 زندگی چاکلیٹ کیک ہے تهوڑا تهوڑا سب کا حصہ ہے
 اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر
اسکی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے
لوک کہانیوں میں مابعد جدید کی پیش آمد جیسے
فکشن کی ری سیل ویلیو میں مذہب کا حصہ ہے
کے پی کے افغانستان ہے اور بلوچستان ایران
سنده ہے چین میں اور پیارا پنجاب عرب کا حصہ ہے
سوہنی یا سوہنے سے پہلے حق ہے گهڑے پر پانی کا
کب سے گهڑی میں جب اور تب سے زیادہ اب کا حصہ ہے
مانا ہجر کی رات ہے یہ پر کتنی خوشی کی بات ہے یہ
غم کی رم رم جهم کی ہمدم بزمے طرب کا حصہ ہے
کیب چلانے والے دا جی .. ٹیب چلانے والا ساجی
وہ جو ادب کا حصہ تهے تو یہ بهی ادب کاحصہ ہے
طے ہوا نظم ہی مستقبل ہے .. پان سو بل ہے، بهئی پیارو
آنکه نہ مارو غزل ہمارے حسب نسب کا حصہ ہے
اک دن جب بوڑهے پینٹر کے پاس شراب کے پیسے نہیں تهے
چهت پر یہ گهنگهور گهٹا تب سے اس پب کا حصہ ہے
سیکس جو پہلے ساختیاتی روز و شب کا حصہ تهی
اب ما بعد ساختیاتی روز و شب کا حصہ ہے
قافیہ بحر ردیف وغیرہ جیسے حریف ظریف وغیرہ
ان کو ٹهنڈا سوڈا پلاو .. بهائی یہ کب کا قصہ ہے
 …

یار اتنے دن ہو گئے ہیں سورج پر کچه نئیں لکها
اس نے بلاک کیا نمبر میں نے گهر کچه نئیں لکها
سینہ چیر گئی گولی ماتهے پر کچه نئیں لکها
چیک جی بهر کے چومتی ہے خط .. پتر کچه نئیں لکها
وہ جو زندگی بهر لکهتے رہے.... .... زندگی بهر کچه نئیں لکها
مرتے مرتے خدا کا شکر ہے اس نے امر کچه نئیں لکها
اگر مگر .. کچه نئیں لکها سوچا .. پر کچه نئیں لکها
بهائی سب مارے جائیں گے کسی نے گر کچه نئیں لکها

دل میں بجلی گئی ہوئی ہے
جل کر شعر سناو یارا
چوکیدار کو گولی مارو
باغ میں آو جاو یارا
لنچ میں تازہ بگهاری ڈانٹ تهی
ڈنر بهنا ہوا تاو یارا
روٹی، کٹ چائے، دو سگرٹ
بکتی ہے کس بهاو یارا
شام کا شیشہ الٹا سکتا
سو دنیا کے داو یارا
چاندنی ایک چهٹانک بهی کافی
سورج آدها پاو یارا

روءو چاہے گاءو یارا
مطلع ٹهیک بناو یارا
ورنہ کها جاوں گا تم کو
کوئی کام لگاو یارا
بس ایسے ہی فون کیا تها
جاگتے ہو؟ سو جاو، یارا!
اس نے مڑ کر دیکه لیا تو
پهر کیا ہو گا، بتاو، یارا
بهوبهل میں سڑتے آلو سے
یم یم ہجر کا گهاو یارا
تم میں لاکهوں خوبیاں ہوں گی
پر لگتے ہو مائو، یارا
عقل بڑی ہو بهینس سے تو بهی
عقل سے موٹی گائو  یارا!

یہ سوچ! دوست دشمنان-دین کی تو خیر ہے
اسد کہاں ملے گا، مہ جبین کی تو خیر ہے
یہ دل اک آده ثانیے کو بهی رکا تو بس، گیا
مشین چل پڑے گی پهر، مشین کی تو خیر ہے
عبایا سبز لپ سٹک سے میچ ہونا چاہئیے
سیاہ سکارف..نیچے نیلی جین کی تو خیر ہے
تماری ڈگری رہ گئی تو گهر کی نینهہ ڈهے گئی
تمارا کیا بنے گا؟ اس حسین کی تو خیر ہے
 ہم اپنا کچه بنا تو لیں ہم اپنا گهر بچا تو لیں
عراق شام اور فلسطین کی تو خیر ہے
پرانا عربی قاعدہ ہوا نہ جس کا فائدہ
پر اب زبان سیکه لیں گے چین کی، تو خیر ہے
خدا کو مفت مشورہ دیا کل اک کسان نے
تو آسماں کی فکر کر زمین کی تو خیر ہے
 یہ سوچ کے رکو نہیں ڈرو نہیں مرو نہیں
کہ ہم بهی مارے جائیں گے سبین کی تو خیر ہے
طلائی مہریں کشتیوں پہ منتقل کرو چلو
جہاز پر کهڑے ملازمین کی تو خیر ہے
وہ اس کو چومتی ہو فلم گهومتی ہو بیڈ کے گرد
ہزار فٹ کے تین چار سین کی تو خیر ہے
ہیلو! یہ کال کاٹنے سے پہلے اک دفعہ پلیز
... ہیلو! فریحہ فاطمہ متین کی تو خیر ہے؟
...

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے
مرے عزیز کو ہر اک بہانہ آتا ہے
ذرا سا مل کے دکھاو کہ ایسے ملتے ہیں
بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے
ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں
اک آدمی لئے شمع-فسانہ آتا ہے
ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست
ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ہے
یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں
فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے
یہ بات چلتی ہے سینہ بہ سیینہ چلتی ہے
وہ ساتھ آتا ہے ۔۔ شانہ بہ شانہ آتا ہے
گلاب سینیما سے پہلے چاند باغ کے بعد
اتر پڑوں گا جہاں کارخانہ آتا ہے
یہ کہہ کے اس نے سمسٹر بریک کر ڈالا
سنا تھا آپ کو لکھنا لکھانا آتا ہے
زمانے ہو گئے دریا تو کہہ گیا تھا مجھے
بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے
چھلک نہ جائے مرا رنج میری آنکھوں سے
تمے تو اپنی خوشی کو چھپانا آنا ہے
وہ روز بھر کے خلائی جہاز اڑاتے پھریں
ہمیں بھی رج کے تمسخر اڑانا آتا ہے
پچاس مبل ہے خشکی سے بحریہ ٹاون
بس ایک گھنٹے میں اچھا زمانہ آتا ہے
بریک ڈانس سکھایا ہے ناو نے دل کو
ہوا کا گیت سمندر کو گانا آتا ہے
مجھے ڈیفینس کی لنگوا فرانکا نئیں آتی
تمے تو صدر کا قومی ترانہ آتا ہے؟
مجھے تو خیر زمیں کی زباں نہیں آتی
تمہیں مریخ کا قومی ترانہ آتا ہے؟
...

اس سے پھولوں والے بهی عاجز آ گئے ہیں
تیری خاطر جو گلدستہ ڈھونڈ رہا ہے
دل کو دھکے کھاتے نکالے جاتے دیکھ کے
ساحل اپنا پکا دریا ڈھونڈ رہا ہے
تسمہ کھلا جیسے آزاد تلازمہ ہو-واہ!
ایک پہن کے دوسرا جوتا ڈھونڈ رہا ہے
اس کے فلیٹ سے باہر کوئی دور کا دوست
پاس کے بس اسٹاپ کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے
بس کر دے اب کب سے مطلع ڈھونڈ رہا ہے
کیا کوئی تیسرا چوتھا مصرع ڈھونڈ رہا ہے
ایم اے کیے بنت-موچی کو چوتها سال ہے
تب سے وہ جاب، اور کرمو رشتہ ڈهونڈ رہا ہے
ہر مصنوعی پنکها جهوٹا میک اپ کر کے  
ذات کی شہر پناہ میں رخنہ ڈهونڈ رہا ہے
لیمپ جلاتے اور بجها کے پهر سے جلاتے
یہ وہ مجهے گم کرتا ہے یا ڈهونڈ رہا ہے
پارٹی ٹهپ- مہمان-خصوصی:شاعر-اعظم
پتلی گلی میں پان کا کهوکها ڈهونڈ رہا ہے
یارو بیٹهے نہریں کهودو باتیں چودو
میں اسے ڈهونڈ لوں مجهے جو تنہا ڈهونڈ رہا ہے
اک لڑکی اپنے لیے لڑکی ڈهونڈ رہی ہے
اک لڑکا اپنے لیے لڑکا ڈهونڈ رہا ہے
موبائل پر app لگاو کام چلاو
کون پرانے شہر کا نقشہ ڈهونڈ رہا ہے!
روزے رکهواو کهلواو جنت پاو
بندہ تو دو وقت کا کهانا ڈهونڈ رہا ہے
میری اکلوتی ٹی شرٹ پہ قبضہ جمائے
اچها روم میٹ اپنا کچها ڈهونڈ رہا ہے
کهل کهلا کے، لوڈ شیڈنگ سے فیض اٹها کے  
یوسف جانی تجهے یہ اندها ڈهونڈ رہا ہے
 گدلے پانی سے دهلتے ٹیشن پر، کس کو
گرما گرم سی چائے کا پیالہ ڈهونڈ رہا ہے
سینے پر دو قبروں کے تعویذ بندهے ہیں
بچ کر، دهوپ! مجهے اک سایا ڈهونڈ رہا ہے
یو ای ٹی میں چهٹیاں ہونے والی ہیں، دوست!
کونسا ہوسٹل کس کا کمرہ ڈهونڈ رہا ہے؟
 

5 تبصرے:

غافر شہزاد کہا...

ایسی ملغوبہ شاعری سے دو دو ہاتھ کرتے ہمارے ظفر اقبال کو نصف صدی ہونے کو آئی، جو کچھ اس اسلوب سے نکلنا تھا وہ نکال چکے، رواں تبصرہ نما خیالات کو اوزان میں ڈھال کر معلوم نہیں یہ صاحب کیا ثابت کرنا چاہ رھے ہیں، "آبِ رواں" کی اشاعت کے بعد ظفر اقبال کی بھی ایسی ہی ذہنی حالت تھی جیسی ان صاحب کی ھے۔" یونہی" نومبر 2011 میں ان صاحب کے کچھ دوستوں (جن کو اب یہ گالیاں دیتے نہیں تھکتے) نے باہمی تعاون کے تحت شائع کی تھی جس کا اردو غزل کے باب میں کہیں ذکر نہیں ملتا البتہ تواتر کے ساتھ کچھ لوگ ان صاحب کو اکیسویں صدی کا ظفر اقبال بنانے کے در پے ہیں۔ افسوس ظفر اقبال کے مرنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور اس کی زندگی میں ہی اس کے اسلوب پر ہاتھ صاف کرنے لگے

شہزاد نیر کہا...

تو کیا یہ غزلیں ہیں؟

فلک شیر کہا...

یہ غزل ہی ہے ــــــــــــ ادریس آزاد کی فرسٹریشن اپنے ہی وطن میں مہاجر کی فرسٹریشن ہے ـــــــ ایک حساس آدم یکی الجھن ہے، جسے مغرب اپنا لگتا ہے نہ مشرق ــــــــــــــ روایت اس کے دامن سے لپٹتی ہے اور جدت اس کا قال ہے حال نہیں ـــــــــــــ منہ چرانے، دل جلانے اور درے پرے بولنے سے کیا ہو گا ـــــــــــــــ جو تلخی ، ڈپریشن، زوال آج کے عامی کا ھال ہے ـــــــ لایعنیت کا دورِ ثانی ــــــــــ اس پہ ایک شاعر کا سچا اظہار ــــــــــ جس تن لاگے اس تن جانے
سنیے جناب ـــــــــــ سنیے ـــــــــــــ
کہیے آزاد صاااب ــــــــــــ شوق سے کہیے

Naveed Sadiq کہا...

درست

Naveed Sadiq کہا...

یہ وہ شاعری ہے جو چلتے پھرتے کے مصرعے ہوتے ہیں۔ کم و بیش ہر شاعر نے ایسی چیزیں کہی ہوتی ہیں، لیکن ان کو منظر پر لانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ کوششیں ظفر اقبال سے پہلت سلیم احمد نے کیں، ایسی کوششیں سلیم سے پہلے شاد عارفی نے کہیں کہیں اور یگانہ نے بھی کیں۔ محمد علوی کے ہاں بھی ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *