زیب غوری کی غزلیں

زیب غوری 1928میں پیدا ہوئے اور 1985میں ان کا انتقال ہوا، ستاون سال کی عمر میں انہیں کافی دیر بعد یہ احساس ہوا کہ غزل میں وہ ایک ایسی نئی طرز بھی ایجاد کرسکتے ہیں، جو ان کے ہم عصر یا پیش رو غزل کہنے والوں نے نہیں کی، چنانچہ انہوں نے شاعری کی اور اس کم عرصے میں بھی بہت کامیاب رہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زیب غوری کااسلوب جدیدیت کا ایک منفرد اور نمایاں اسلوب ہے، یہ شاعری ہمیں ہر بار تازہ کرجاتی ہے اور گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اور خوبصورت اور بپھری ہوئی معلوم ہوتی ہے،مجھے ادبی دنیا پر یہ غزلیں شےئر کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے،امید ہے کہ آپ کو یہ کاوش پسند آئے گی، یہ غزلیں یونی کوڈ میں ہیں، کاپی ایبل ہیں، یہ سارا سرمایہ آپ کا ہے۔شکریہ!

اجڑی ہوئی بستی کی صبح و شام ہی کیا
خاک اڑانے والوں کا انجام ہی کیا
پاس سے ہوکر یوں ہی گزرجاتی ہے صبا
دیوانے کے نام کوئی پیغام ہی کیا
جو بھی تمہارے جی میں آئے کہہ ڈالو
ہم مستانے لوگ ہمارا نام ہی کیا
دور مے و ساغر بھی اپنے شباب پہ ہے
گردش میں ہے چرغ نیلی فام ہی کیا
زیب کے مرجانے کی تو یہ عمر نہ تھی
ڈوب گیا سورج بالائے بام ہی کیا
۰۰۰
اس کے قرب کے سارے ہی آثار لگے
ہوا میں لہراتے گیسوئے یار لگے
دل بھی کیا نیرنگ سراب آرزو ہے
رونق دیکھو تو کوئی بازار لگے
میں گھبرا کر تجھ کوپکاروں تو یہ فلک
آنگن بیچ بہت اونچی دیوار لگے
اک بے معنی محویت سی ہے شب و روز
سوچو تو جو کچھ ہے سب بے کار لگے
میری انا افتادگی میں بھی کیا ہے زیب
کوئی ہاتھ بڑھائے تو تلوار لگے
۰۰۰
اور گلوں کا کام نہیں ہوتا کوئی
خوشبو کا انعام نہیں ہوتا کوئی
تھک گیا ایک کہانی سنتے سنتے میں
کیا اس کا انجام نہیں ہوتا کوئی
صحراؤں میں خاک اڑاتا پھرتا ہوں
اس کے علاوہ کام نہیں ہوتا کوئی
دیکھو تو کیا خوش رہتے ہیں دل والے
پوچھو تو آرام نہیں ہوتا کوئی
چٹانیں بس سخت ہوا کرتی ہیں زیب
چٹانوں کا نام نہیں ہوتا کوئی
۰۰۰
اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی
بیٹھی ہے دریا کے کنارے میری طرح اکیلی سی
جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھ
اوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی
کس کو خبر میں کس رستے کی دھول بنوں یا پھول بنوں
کیا جانے کیا رنگ دکھائے اس کی آنکھ پہیلی سی
تیز ہوا کی دھار سے کٹ کر کیا جانے کب گرجائے
لہراتی ہے شاخ تمنا کچی بیلی چنبیلی سی
کم روشن اک خواب آئینہ اک پیلا مرجھایا پھول
پس منظر کے سناٹے میں ایک ندی پتھریلی سی
۰۰۰
ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی
دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی
جیسے اپنے ہاتھ اٹھا کر گھٹاکو چھولوں گا
لگتا ہے یہ زلف مگر نزدیک نہیں ہوتی
تیرا بدن تلوار سہی کس کو ہے جان عزیز
اب ایسی بھی دھار اس کی باریک نہیں ہوتی
شعر تو مجھ سے تیری آنکھیں کہلا لیتی ہیں
چپ رہتا ہوں میں جب تک تحریک نہیں ہوتی
دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکن
سچ پوچھو تو زیب طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی
۰۰۰
بجھ کر بھی شعلہ دام ہوا میں اسیر ہے
قائم ابھی فضا میں دھوئیں کی لکیر ہے
گزرا ہوں اس کے در سے تو کچھ مانگ لوں مگر
کشکول بے طلب ہے صدا بے فقیر ہے
جو چاہے اچھے داموں میں اس کو خرید لے
وہ آدمی برا نہیں پر بے ضمیر ہے
دل پر لگی ہے سب کے وہی مہر برف کی
ظاہر میں گرم جوشئ دست سفیر ہے
ڈھونڈے سے آدمی نہیں ملتا یہاں پہ زیب
یوں اس دیار بحر میں گوہر کثیر ہے
۰۰۰
بجھتے سورج نے لیا پھر یہ سنبھالا کیسا
اڑتی چڑیوں کے پروں پر ہے اجالا کیسا
تم نے بھی دیکھا کہ مجھ کو ہی ہوا تھا محسوس
گرد اس کے رخ روشن کے تھا ہالا کیسا
چھٹ گیا جب مری نظروں سے ستاروں کا غبار
شوق رفتار نے پھر پاؤں نکالا کیسا
کس نے صحرا میں میرے واسطے رکھی ہے یہ چھاؤں
دھوپ روکے ہے مرا چاہنے والا کیسا
زیب موجوں میں لکیروں کی وہ غم تھا کب سے
گردش رنگ نے پیکر کو اچھالا کیسا
۰۰۰
بس ایک پردۂ اغماض تھا کفن اس کا
لہو لہان پڑا تھا برہنہ تن اس کا
نہ یہ زمین ہوئی اس کے خون سے گل نار
نہ آسماں سے اتارا گیا کفن اس کا
رم نجات بس اک جنبش ہوا میں تھا
کہ نقص آب کو ٹھہرا دیا بدن اس کا
لہکتے شعلوں میں گو راکھ ہوچکے اوراق
ہوا چلی تو دمکنے لگا سخن اس کا
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیب کہاں
چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا
۰۰۰
بھڑکتی آگ ہے شعلوں میں ہاتھ ڈالے کون
بچا ہی کیا ہے مری خاک کو نکالے کون
تو دوست ہے تو زباں سے کوئی قرار نہ کر
نہ جانے تجھ کو کسی وقت آزمالے کون
لہو میں تیرتا پھرتا ہے میرا خستہ بدن
میں ڈوب جاؤں تو زخموں کو دیکھے بھالے کون
گہر لگے تھے خنک انگلیوں کے زخم مجھے
اب اس اتھاہ سمندر کو پھر کھنگالے کون
۰۰۰
بہار کون سی تجھ میں جمال یار نہ تھی
مشاہدہ تھا ترا سیر لالہ زار نہ تھی
مہکتی زلفوں سے خوشے گلوں کے چھوٹ گرے
کچھ اور جیسے کہ گنجائش بہار نہ تھی
ہم اپنے دل ہی کو روتے تھے لیکن اس کے لیے
جہاں میں کون سی شے تھی جو بے قرار نہ تھی
تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا
پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی
جھکا ہے قدموں میں تیرے وہ سر کہ جس کے لیے
کوئی جگہ بھی مناسب سوائے دار نہ تھی
نہ جانے زیب دل زار کیوں تڑپ اٹھا
ہوائے صبح تھی خوشبوئے زلف یار نہ تھی
۰۰۰
بیکراں دشت بے صدا میرے
آ کھلے بازوؤں میں آ میرے
صاف شفاف سبز فرش ترا
گرد آلودہ دست و پا میرے
سرکش و سر بلند بام ترا
سر نگوں شہپر ہوا میرے
بے ستوں خیمۂ ثبات ترا
محو صحرا نقوش پا میرے
شب ہجراں کہ لازوال تری
غم کہ آمادۂ فنا میرے
دشت و دریا سبھی خموش ہوئے
زمزہ سنج و ہم نوا میرے
میں پیمبر ترا نہیں لیکن
مجھ سے بھی بات کر خدا میرے
ایک اک تارا جانتا ہے مجھے
ہیں سبھی زیب آشنا میرے
۰۰۰
بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے
میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے
دھوکے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا
کہ یہ سرخی تری شمشمیر کا جوہر ہی تو ہے
راہ نکلی تو کوئی توڑ کے چٹانوں کو
سامنے تیرہ و تاریک سمندر ہی تو ہے
ساتھ ہوں میں بھی کہ دل کی یہی مرضی ہے مگر
دشت بھی بے در و دیوار کا اک گھر ہی تو ہے
تھک کے خوابوں کی گزرگاہ سے اٹھ آیا میں زیب
کون دیکھے وہی دیکھا ہوا منظر ہی تو ہے
۰۰۰
پہلے مجھ کو بھی خیال یار کا دھوکا ہوا
دل مگر کچھ اور ہی عالم میں تھا کھویا ہوا
دل کی صورت گھٹ رہی ہے ڈوبتے سورج کی لو
اٹھ رہا ہے کچھ دھواں سا دور بل کھاتا ہوا
میں نے بے تابانہ بڑھ کر دشت میں آواز دی
جب غبار اٹھا کسی دیوانے کا دھوکا ہوا
نیند اچٹ جائے گی ان متوالی آنکھوں کی نہ سن
میری ہستی کا فسانہ ہے بہت الجھا ہوا
دل سے ٹکرا جاتی ہے رہ رہ کے کوئی موج زیب
شب کا سناٹا کوئی بہتا ہوا دریا ہوا
۰۰۰
تازہ ہے اس کی مہک رات کی رانی کی طرح
کسی بچھڑے ہوئے لمحے کی نشانی کی طرح
جتنا دیکھو اسے تھکتی نہیں آنکھیں ورنہ
ختم ہوجاتا ہے ہر حسن کہانی کی طرح
ریگ صحرا کا عجب رنگ ہواؤں نے کیا
نقش سا کھنچ گیا دریا کی روانی کی طرح
یوں گزرتا ہے وہ کترا کے نواح دل سے
جیسے یہ خاک کا خطہ بھی ہو پانی کی طرح
مجھ سے کیا کچھ نہ صبا کہہ کے گئی ہے اے زیب
چند ہی لفظوں میں پیغام زبانی کی طرح
۰۰۰
تو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں
زندگی تیرا کرم ہے تری بیداد نہیں
وہ صنم خانۂ دل ہو کہ گزرگاہ خیال
میں نے تجھ کو کہیں دیکھا ہے مگر یاد نہیں
دیکھ ہے اے خاک پریشانئ خاطر میری
تو نے سمجھا تھا کہ تجھ سا کوئی برباد نہیں
ڈھونڈتی پھرتی ہیں جانے مری نظریں کس کو
ایسی بستی میں جہاں کوئی بھی آباد نہیں
کب ہمیں اپنی اداسی کی خبر تھی اے زیب
مسکرائے ہیں تو دیکھا ہے کہ دل شاد نہیں
۰۰۰
جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے
جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے
شام کو دیر سے پہنچوں تو لگتا ہے خفا مجھ سے
مجھ سے بہت برہم ہو ایسی گھاتیں کرتا ہے
میرے سوا شاید اس کا بھی کوئی دوست نہیں
میری اپنی جانے کیا کیا باتیں کرتا ہے
دل غم سے بوجھل ہو تو دیکھو پھر چھیڑیں اس کی
چھینٹے منہ پہ مار کے کیا برساتیں کرتا ہے
اور بھی گہری ہوجاتی ہے اس کی سرگوشی
مجھ سے کسی کی آنکھوں کی جب باتیں کرتا ہے
مجھ کو موتیوں سے کیا لینا زیب سمندر بھی
جانے کیا مرے اشکوں کی سوغاتیں کرتا ہے
۰۰۰
خاک آئنہ دکھاتی ہے کہ پہچان میں آ
عکس نایاب مرے دیدۂ حیران میں آ
ہے شرارہ ہوس آمادۂ پرواز بہت
یم ظلمات بلاتا ہے کہ طوفان میں آ
جگمگاتا ہوا خنجر مرے سینے میں اتار
روشنی لے کے کبھی خانۂ ویران میں آ
اس طرح چھپ کے کوئی ڈھونڈ نکالے تجھ کو
آسمانوں سے اتر کر حد امکان میں آ
بیٹھ جا اپنے کٹے سر کو لیے ہاتھوں میں
تھک گیا میں بھی یہاں گنج شہیدان میں آ
رمنہ خالی رم آہوئے معانی سے ہوا
چھپ کے بیٹھا ہی تھا میں زیب نیستان میں آ
۰۰۰
خنجر چمکا رات کا سینہ چاک ہوا
جنگل جنگل سناٹا سفاک ہوا
زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا
میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
میری ہی پرچھائیں در و دیوار پہ ہے
صبح ہوئی نیرنگ تماشا خاک ہوا
کیسا دل کا چراغ کہاں کا دل کا چراغ
تیز ہواؤں میں شعلہ خاشاک ہوا
پھول کی پتی پتی خاک پہ بکھری ہے
رنگ اڑا اڑتے اڑتے افلاک ہوا
ہر دم دل کی شاخ لرزتی رہتی تھی
زرد ہوا لہرائی قصہ پاک ہوا
اب اس کی تلوار مری گردن ہوگی
کب کا خالی زیب مرا فتراک ہوا
۰۰۰
دن تری یاد میں ڈھل جاتا ہے آنسو کی طرح
رات تڑپاتی ہے اک نشتر پہلو کی طرح
جانے کس سوچ میں ڈوبا ہوا تنہا تنہا
دل کا عالم ہے کسی سرو لب جو کی طرح
ہائے وحشت کوئی منزل ہو ٹھہرتا ہی نہیں
وقت ہے دام سے چھوٹے ہوئے آہو کی طرح
رہ گئی گھٹ کے مرے دل میں تمنا تیری
ایک پرواز شکستہ پر و بازو کی طرح
مجلس شیخ میں کل ذکر تھا جس کا اے دوست
ہوگی جنت بھی کوئی شے ترے پہلو کی طرح
زیب اب زد میں جو آجائے وہ دل ہو کہ نگاہ
اس کی رفتار ہے چلتے ہوئے جادو کی طرح
۰۰۰
دن ہے بے کیف بے گناہوں سا
نا کشادہ شراب گاہوں سا
کچھ فقیرانہ بے نیازی بھی
کچھ مزاج اپنا بادشاہوں سا
دل در میکدہ سا وا سب پر
گھر بھی رکھتے ہیں خانقاہوں سا
سب پہ کھلتے نہیں مگر مرے شعر
حال ہے کچھ تری نگاہوں سا
آگیا ہے بیان میں کیونکر
پیچ و خم سارا تیری راہوں سا
کچھ نفس میں شراب کی سی مہک
کچھ ہوا میں نشہ گناہوں سا
اجلی اجلی پہاڑیوں پر زیب
رنگ اترا ہے جلوہ گاہوں سا
۰۰۰
رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی
کھلے ہوئے صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی
اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا
دل کے دریا میں اک ہلچل پیہم سی
لمبی رات گزرجائے تعبیروں میں
اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی
اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے
آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا
ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
شاید اب بھی کوئی شرر باقی ہو زیب
دل کی راکھ سے آنچ آتی ہے کم کم سی
۰۰۰
راستے میں کہیں کھونا ہی تو ہے
پاؤں کیوں روکوں کہ دریا ہی تو ہے
کون قاتل ہے یہاں بسمل کون
قتل ہولے کہ تماشا ہی تو ہے
وہ چمکتی ہوئی موجیں ہیں کہاں
اس طرف بھی وہی صحرا ہی تو ہے
مرگ و ہستی میں بہت فرق ہے کیا
دفن کردو اسے زندہ ہی تو ہے
نارسائی کا اٹھا رنج نہ زیب
حاصل زیست کا دھوکا ہی تو ہے
۰۰۰
رنگ غزل میں دل کا لہو بھی شامل ہو
خنجر جیسا بھی ہو لیکن قاتل ہو
اس تصویر کا آب و رنگ نہیں بدلا
جانے کب یہ دل کا نقش بھی باطل ہو
شور فغاں پر اتنی بے چینی کیسی
تم سے کیا تم کون کسی کے قاتل ہو
دیکھ کبھی آکر یہ لامحدود فضا
تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو
میں کہ ہوں ایک تھکا ہارا اور ماندہ شخص
میری انا کہتی ہے میرے مقابل ہو
زیب سوال اب یہ ہے تجھے پہچانے کون
کس کی نظر اس گہرائی کی حامل ہو
۰۰۰
زخم پرانے پھول سبھی باسی ہوجائیں گے
درد کے سب قصے یاد ماضی ہوجائیں گے
سانسیں لیتی تصویروں کو چپ لگ جائے گی
سارے نقش کرشموں سے عاری ہوجائیں گے
آنکھوں سے مستی نہ لبوں سے امرت ٹپکے گا
شیشہ و جام شرابوں سے خالی ہوجائیں گے
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی
کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہوجائیں گے
کوچۂ جاں پر گہرے بادل چھائے رہیں گے زیب
اس کی کھڑکی کے پردے بھاری ہوجائیں گے
۰۰۰
ستم گروں کا طریق جفا نہیں جاتا
کہ قتل کرنا ہو جس کو کہا نہیں جاتا
یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے
وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا
تمہیں تو شہر کے آداب تک نہیں آتے
زیادہ کچھ یہاں پوچھا گچھا نہیں جاتا
بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز
ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا
بھرم سراب تمنا کا کیا کھلا مجھ پر
اب ایک گام بھی مجھ سے چلا نہیں جاتا
عجیب لوگ ہیں دل میں خدا سے منکر ہیں
مگر زبان سے ذکر خدا نہیں جاتا
اڑا کے خاک بہت میں نے دیکھ لی اے زیب
وہاں تلک تو کوئی راستہ نہیں جاتا
۰۰۰
سورج نے اک نظر مرے زخموں پہ ڈال کے
دیکھا ہے مجھ کو کھڑکی سے پھر سر نکال کے
رکھتے ہی پاؤں گھومتی چکراتی راہ نے
پھینکا ہے مجھ کو دور خلا میں اچھال کے
کیا خواہشیں زمین کے نیچے دبی رہیں
غاروں سے کچھ مجسمے نکلے وصال کے
چھن چھن کے آرہی ہو گپھاؤں میں روشنی
تن پر وہی لباس ہوں پیڑوں کی چھال کے
رنگوں کی رو ہے زیب کہ گردش میں ہے مدام
بے شکل و جسم ابھرے ہیں پیکر خیال کے
۰۰۰
شعلۂ موج طلب خون جگر سے نکلا
نارسائی میں بھی کیا کام ہنر سے نکلا
نشۂ مرگ سی اک لہر لہو میں چمکی
جب قبا اتری تو خنجر بھی کمر سے نکلا
سنگ بے حس اٹھی موج سیہ تاب کوئی
سرسراتا ہوا اک سانپ کھنڈر سے نکلا
میں نے دیکھا تھا سہارے کے لیے چاروں طرف
کہ مرے پاس ہی اک ہاتھ بھنور سے نکلا
دل کے آشوب کا نیرنگ تھا کیا اشک میں زیب
ایک بے تاب سمندر بھی گہر سے نکلا
۰۰۰
شہر میں ہم سے کچھ آشفتہ دلاں اور بھی ہیں
ساحل بحر پہ قدموں کے نشاں اور بھی ہیں
ریت کے تودے چمک اٹھتے ہیں جب ظلمت میں
ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ یہاں اور بھی ہیں
کیسے منظر تھے کہ شیشوں کی طرح ٹوٹ گئے
مگر آنکھوں میں کئی خواب گراں اور بھی ہیں
بستیاں دل کی بھی سنسان پڑی ہیں کب سے
یہ کھنڈر ہی نہیں سایوں کے مکاں اور بھی ہیں
شب کے سناٹے میں چٹانوں کو دیکھو اے زیب
تم سے بیگانۂ فریاد و فغاں اور بھی ہیں
۰۰۰
صحن چمن میں جانا میرا اور فضا میں بکھر جانا
شاخ گل کے ساتھ لچکنا صبا کے ساتھ گزر جانا
سحر بھری دو آنکھیں میرا پیچھا کرتی رہتی ہیں
ناگن کا وہ مڑ کر دیکھنا پھر وادی میں اتر جانا
زخم ہی تیرا مقدر ہیں دل تجھ کو کون سنبھالے گا
اے میرے بچپن کے ساتھی میرے ساتھ ہی مر جانا
سورج کی ان آخری مدھم کرنوں کو گن سکتے ہیں
دن کا وہ موتی سا چمکنا پھر پانی میں اتر جانا
یہیں کہیں صحرا میں ٹھہرجا دم لینے کی بات نہیں
خاک سوا رکھا ہی کیا ہے یہاں اور کدھر جانا
اس سے اب دشت امکاں کے سفر حضر کا پوچھنا کیا
جس نے راہ گزر کے گھنے پیڑوں کو بھی درد سر جانا
ایک نہاں خانے کے طاق پر آئینہ رکھا تھا زیب
ایک جھلک سی اپنی دیکھنا اور وہ میرا ڈر جانا
۰۰۰
عالم سے فزوں تیرا عالم نظر آتا ہے
ہر حسن مقابل میں کچھ کم نظر آتا ہے
چمکا ہے مقدر کیا اس تیرہ نصیبی کا
سورج بھی شب غم کا پرچم نظر آتا ہے
ہے تیری تمنا کا بس ایک بھرم قائم
اب ورنہ مرے دل میں کیا دم نظر آتا ہے
تنہا نہیں رہ پاتا صحرا میں بھی دیوانہ
جب خاک اڑاتا ہے عالم نظر آتا ہے
اے زیب مجھے تیری تخئیل کی موجوں میں
ہشیاری و مستی کا سنگم نظر آتا ہے
۰۰۰
عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا
گرم سفر ہے قاز قافلہ سیل رواں ہے تیروں کا
کٹے ہوئے کھیتوں کی منڈیروں پر ابرک کی زنگاری
تھکی ہوئی مٹی کے سہارے ڈھیر لگا ہے ہیروں کا
تیز قلم کرنوں نے بنائے ہیں کیا کیا حیرت پیکر
جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی پر نقش اترا تصویروں کا
کیا کچھ دل کی خاکستر پر لکھ کے گئی ہے موج ہوا
پڑھنے والا کوئی نہیں ہے ان مٹتی تحریروں کا
ریگ نفس کا ذائقہ منہ میں گرد مہ و سال آنکھوں میں
میں ہوں زیب اور چار طرف اک صحرا ہے تعبیروں کا
۰۰۰
غار کے منہ سے یہ چٹان ہٹانے کے لیے
کوئی نیکی بھی نہیں یاد دلانے کے لیے
اک نگاہ غلط انداز کا امکاں نکلا
کچھ زمیں اور ملی پاؤں بڑھانے کے لیے
اس کی راہوں میں پڑا میں بھی ہوں کب سے لیکن
بھول جاتا ہوں اسے یاد دلانے کے لیے
صبح درویشوں نے پھر راہ لی اپنی اپنی
میں بھی بیٹھا تھا وہاں قصہ سنانے کے لیے
وہ مرے ساتھ تو کچھ دور چلا تھا لیکن
کھو گیا خود بھی مجھے راہ پہ لانے کے لیے
ایک شب ہی تو بسر کرنا ہے اس دشت میں زیب
کچھ بھی مل جائے یہاں سر کو چھپانے کے لیے
۰۰۰
گرم لہو کا سونا بھی ہے سرسوں کی اجیالی میں
دھوپ کی جوت جگانے والے سورج گھول پیالی میں
ایک سراپا محرومی کا نقشہ تونے کھینچ دیا
تلخی کا زہراب چمک بھی ہے کچھ چشم سوالی میں
رشتہ بھی ہے نشو و نما کا فرق بھی روشن لمحوں کا
سبز سراپا شاخ بدن اور جنگل کی ہریالی میں
لرزش بھی ہے سطح فلک پر گردش کرتے ستاروں کی
وقت کا اک ٹھہراؤ بھی ہے اس اورنگ خیالی میں
شعلہ در شعلہ سرخی کی موجوں کو تہہ دار بنا
وہ جو اک گہرائی سی ہے رنگ شفق کی لالی میں
آہستہ آہستہ اک اک بوند فلک سے ٹپکی ہے
کھینچ اک سناٹے کی فضا بھی شبنم کی اجیالی میں
زیب نہ بن نقال آئینہ جیتی جاگتی آنکھیں کھول
اپنا ذہن اتار کے رکھ دے رنگوں کی اس تھالی میں
۰۰۰
گو مری ہر سانس اک پیغام سرمستی رہی
میری ہستی مثل بوئے گل پریشاں ہی رہی
حشر تعمیر نشیمن کا نظر میں ہے مگر
اتنے دن میری طبیعت تو ذرا بہلی رہی
کتنی صبحیں یاس کی ظلمت میں آخر بجھ گئیں
شمع دل جلتی رہی جلتی رہی جلتی رہی
کس کے روکے رک سکا سیل روان زندگی
پھول کھلتے ہی رہے بجلی چمکتی ہی رہی
زیب کتنی دیر کا ہنگامہ سیلاب تھا
رونق دریا مری ٹوٹی ہوئی کشتی رہی
۰۰۰
گہری رات ہے اور طوفان کا شور بہت
گھر کے در و دیوار بھی ہیں کمزور بہت
تیرے سامنے آتے ہوئے گھبراتا ہوں
لب پہ ترا اقرار ہے دل میں چور بہت
نقص کوئی باقی رہ جائے مشکل ہے
آج لہو کی روانی میں ہے زور بہت
دل کے کسی کونے میں پڑے ہوں گے اب بھی
ایک کھلا آکاش پتنگیں ڈور بہت
مجھ سے بچھڑ کر ہوگا سمندر بھی بے چین
رات ڈھلے تو کرتا ہوگا شور بہت
آکے کبھی ویرانئ دل کا تماشا کر
اس جنگل میں ناچ رہے ہیں مور بہت
اپنے بسیرے پنچھی لوٹ نہ پایا زیب
شام گھٹا بھی اٹھی تھی گھنگھور بہت
۰۰۰
لگاؤں ہاتھ تجھے یہ خیال خام ہے کیا
ترا بدن کوئی شمشمیر بے نیام ہے کیا
مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا
نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا
اسیر خاک مجھے کرکے تو نہال سہی
نگاہ ڈال کے تو دیکھ زیر دام ہے کیا
یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں
ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا
۰۰۰
لہر لہر کیا جگمگ جگمگ ہوتی ہے
جھیل بھی کوئی رنگ بدلتا موتی ہے
کاوا کاٹ کے اوپر اٹھتی ہیں قازیں
گن گن گن گن پروں کی گنجن ہوتی ہے
چڑھتا ہوا پرواز کا نشہ ہے اور میں
تیز ہوا رہ رہ کر ڈنک چبھوتی ہے
گہرے سناٹے میں شور ہواؤں کا
تاریکی سورج کی لاش پہ روتی ہے
دیکھو اس بے حس ناگن کو چھونا مت
کیا معلوم یہ جاگتی ہے یا سوتی ہے
میری خستہ مزاجی دیکھتے سب ہیں مگر
کتنے غموں کا بوجھ اٹھائے ہوتی ہے
کس کا جسم چمکتا ہے پانی میں زیب
کس کا خزانہ رات ندی میں ڈبوتی ہے
۰۰۰
مجھ ایسے واماندۂ جاں کو بستر وستر کیا
پل دو پل کو موند لوں آنکھیں ورنہ گھر ور کیا
چھوڑو کیا رونا لے بیٹھے رنج و راحت کا
قید ہی جب ٹھہری ہستی تو بہتر وہتر کیا
میں بھی سر ٹکراتا پھرا ہوں دیواروں سے بہت
ڈھونڈ رہے ہو اس گنبد میں کوئی در ور کیا
آخر کو تھک ہار کے مجھ کو زمین پہ آنا ہے
زور و شور بازو کیسا شہپر وہپر کیا
میرے قلم ہی سے جب میرا رزق اترتا ہے
جانا ہے اک کار زیاں کو دفتر وفتر کیا
صورت ایک تراشوں گا تو سو رہ جائیں گی
کیوں پتھر کو سبک کروں میں پیکر ویکر کیا
بالیدہ بار آور ہونا مٹی ہوجانا
سرسبزی زرخیزی کیسی بنجر ونجر کیا
آب و سراب و خواب و حقیقت ایک سے لگتے ہیں
دیدہ وری کیا آئینے کا جوہر ووہر کیا
مجھ کو بہائے لے جاتی ہے خود ہی موج مری
میرا رستہ روک سکیں گے پتھر وتھر کیا
رنگ شفق سبزے کا نشہ کچھ نہیں آنکھوں میں
دور خلا میں دیکھ رہا ہوں منظر ونظر کیا
میرا اور ساحل کا رشتہ کب کا ٹوٹ چکا
زیب کہاں کا خیمۂ کشتی لنگر ونگر کیا
۰۰۰
مراد شکوہ نہیں لطف گفتگو کے سوا
بچا ہے پیرہن جاں میں کیا رفو کے سوا
ہوا چلی تھی ہر اک سمت اس کو پانے کی
نہ کچھ بھی ہاتھ لگا گرد جستجو کے سوا
کسی کی یاد مجھے بار بار کیوں آئی
اس ایک پھول میں کیا شے تھی رنگ و بو کے سوا
ابھرتا رہتا ہے اس خاک دل پہ نقش کوئی
اب اس نواح میں کچھ نہیں نمو کے سوا
ادھوری چھوڑ کے تصویر مرگیا وہ زیب
کوئی بھی رنگ میسر نہ تھا لہو کے سوا
۰۰۰
مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے
ان داتا کیسا ہے آگ نہ پانی دے
اس دھرتی پر ہریالی کی جوت جگا
کالے میگھا پانی دے گردانی دے
بند افلاک کی دیواروں میں روزن کر
کوئی تو منظر مجھ کو امکانی دے
میرے دل پر کھول کتابوں کے اسرار
میری آنکھ کو اپنی صاف نشانی دے
ارض و سما کے پس منظر سے سامنے آ
دل کو یقیں دے آنکھوں کو حیرانی دے
میرے ہونے میرے نہ ہونے میں کیا ہے
موت کو مفہوم اس ہستی کو معانی دے
برکت دے دن پھیرنے والی دعاؤں کو
رات کو کوئی خوش تعبیر کہانی دے
ٹوٹتی رہتی ہے کچے دھاگے سی نیند
آنکھوں کو ٹھنڈک خوابوں کو گرانی دے
مجھ کو جہاں کے ساتوں سکھ دینے والے
دینا ہے تو کوئی دولت لافانی دے
تجھ سے جدا ہو کر تو میں مرجاؤں گا
مجھ کو اپنا سر اے دوست نشانی دے
اک اک پتھر راہ کا زیب ہٹاتا چل
پیچھے آنے والوں کو آسانی دے
۰۰۰
موجۂ غم میں روانی بھی تو ہو
کچھ جگر کا خون پانی بھی تو ہو
رنج صورت کے بدل جانے کا کیا
کوئی شے دنیا کی فانی بھی تو ہو
غم میں رفتہ رفتہ مستی آئے گی
کچھ دنوں یہ مے پرانی بھی تو ہو
کیجیے گا سن کے کیا روداد غم
کیا کہوں کوئی کہانی بھی تو ہو
کیا تقابل میری جولانی سے زیب
کوئی دریا میں روانی بھی تو ہو
۰۰۰
موضوع سخن ہمت عالی ہی رہے گی
جو طرز نکالوں گا مثالی ہی رہے گی
اب مجھ سے یہ دنیا مرا سر مانگ رہی ہے
کمبخت مرے آگے سوالی ہی رہے گی
وہ نشۂ غم ہو کہ خمار مے پندار
دل والوں کے چہرے پہ بحالی ہی رہے گی
اب تک تو کسی غیر کا احساں نہیں مجھ پر
قاتل بھی کوئی چاہنے والی ہی رہے گی
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے
لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
اس دل پہ ٹھہرنے کا نہیں زیب کوئی نقش
یہ آنکھ کسی رنگ سے خالی ہی رہے گی
۰۰۰
میں تشنہ تھا مجھے سرچشمۂ سراب دیا
تھکے بدن کو مرے پتھروں میں داب دیا
جو دسترس میں نہ تھا میری وہ ملا مجھ کو
بساط خاک سے باہر جہان خواب دیا
عجب کرشمہ دکھایا بہ یک قلم اس نے
ہوا چلائی سمندر کو نقش آب دیا
میں راکھ ہو گیا دیوار سنگ تکتے ہوئے
سنا سوال نہ اس نے کوئی جواب دیا
تہی خزانہ نفس تھا بچا کے کیا رکھتا
نہ اس نے پوچھا نہ میں نے کبھی حساب دیا
پھر ایک نقش کا نیرنگ زیب بکھرے گا
مرے غبار کو پھر اس نے پیچ و تاب دیا
۰۰۰
میں عکس آرزو تھا ہوا لے گئی مجھے
زندان آب و گل سے چھڑا لے گئی مجھے
کیا بچ رہا تھا جس کا تماشا وہ دیکھتا
دامن میں اپنے خاک چھپا لے گئی مجھے
کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار
پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے
جز تیرگی نہ ہاتھ لگا اس کا کچھ سراغ
کن منزلوں سے گرد نوا لے گئی مجھے
کس کو گمان تھا کہ کہاں جارہا ہوں میں
اک شام آئی اور بلا لے گئی مجھے
پرواز کی ہوس نے اسیر فلک رکھا
رخصت ہوئی تو دام میں ڈالے گئی مجھے
ساکت کھڑا تھا وقت مگر تیشہ زن ہوا
پتھر کی تہہ سے زیب نکالے گئی مجھے
۰۰۰
نقش تصویر نہ وہ سنگ کا پیکر کوئی
اس کو جب دیکھو بدل جاتا ہے منظر کوئی
کشش حرف تبسم ہے لبوں میں روپوش
گوشۂ چشم سے ہنستا ہے ستم گر کوئی
جرعۂ آخر مے ہے کہ گراں خوابئ شب
چاند سا ڈوب رہا ہے مرے اندر کوئی
چڑھتے دریا سا وہ پیکر وہ گھٹا سے گیسو
راستہ دیکھ رہا ہے مرا منظر کوئی
صدف بحر سے نکلی ہے ابھی لیلئ شب
اپنی مٹھی میں چھپائے ہوئے گوہر کوئی
کھو گیا پھر کہیں افلاک کی پہنائی میں
دیر تک چمکا کیا ٹوٹا ہوا پر کوئی
صف اعدا ہے مرے سامنے اور پشت پہ ہیں
نہ فرشتے نہ ابابیلوں کا لشکر کوئی
ٹوٹ کر گرتی ہے اوپر مرے چٹان کہ ہے
بیعت سنگ مرے دست ہنر پر کوئی
رات بھر طاقت پرواز اگاتی ہے انہیں
کاٹ دیتا ہے سحر دم مرے شہہ پر کوئی
میرے قاتل نے بڑھادی مرے سچ کی توقیر
اس صلہ کے لیے موزوں تھا پیمبر کوئی
آج اس قرےۂ ویراں میں یہ آہٹ کیسی
دل کے اندر ہے کوئی اور نہ باہر کوئی
کسی جھاڑی سے کرن چھوٹی ہے سورج کی کہ زیب
چمک اٹھا ہے کسی ہاتھ میں خنجر کوئی
۰۰۰
وہ اور محبت سے مجھے دیکھ رہا ہو
کیا دل کا بھروسا مجھے دھوکا ہی ہوا ہو
ہوگا کوئی اس دل سا بھی دیوانہ کہ جس نے
خود آگ لگائی ہو بجھانے بھی چلا ہو
اک نیند کا جھونکا شب غم آ تو گیا تھا
اب وہ ترے دامن کی ہوا ہو کہ صبا ہو
دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا
شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ہو
زیب آج ہے بے کیف سا کیوں چاند نہ جانے
جیسے کوئی ٹوٹا ہوا پیمانہ پڑا ہو
۰۰۰
ٹھہرا وہی نایاب کہ دامن میں نہیں تھا
جو پھول چنا میں نے وہ گلشن میں نہیں تھا
تھی موج لپکتی ہوئی میرے ہی لہو کی
چہرہ کوئی دیوار کے روزن میں نہیں تھا
خاکستر جاں کو مری مہکائے تھا لیکن
جوہی کا وہ پودا مرے آنگن میں نہیں تھا
آخر میں ہدف اپنا بناتا بھی تو کس کو
میرا کوئی دشمن صف دشمن میں نہیں تھا
چھیڑا تو بہت سبز ہواؤں نے مگر زیب
شعلہ ہی کوئی خاک کے خرمن میں نہیں تھا
۰۰۰
ڈھلا نہ سنگ کے پیکر میں یار کس کا تھا
وہ ایک عکس چٹانوں کے پار کس کا تھا
زمیں پڑی رہی بے ساز و برگ کس کی تھی
کہیں برس گیا ابر بہار کس کا تھا
ہوائیں لے اڑیں نقش کمال کا نیرنگ
نہ جانے خاک پہ وہ شاہکار کس کا تھا
کہیں پتہ نہ لگا پھر وجود کا میرے
اٹھا کے لے گئی دنیا شکار کس کا تھا
نفس چراغ سیہ پانیوں میں تھا خاموش
خبر نہیں کہ اسے انتظار کس کا تھا
جو آرزو تھی بنی ایک بوجھ آخر زیب
ہمیں اٹھائے پھرے دل پہ بار کس کا تھا
۰۰۰
کب تلک یہ شعلۂ بے رنگ منظر دیکھیے
کیوں نہ حرف سبز ہی لکھ کر زمیں پر دیکھیے
پھر کہیں صحرائے جاں میں کھائیے تازہ فریب
پھر سراب چشمہ و عکس صنوبر دیکھیے
لیٹ رہیے بند کرکے آنکھیں جلتی دھوپ میں
اور پھر سبز و سیہ سورج کا منظر دیکھیے
پھر برہنہ شاخوں کے سائے میں دم لیجے کہیں
رینگتے سانپوں کو اپنے تن کے اوپر دیکھیے
داد دیجے شوکت تعمیر عرش و فرش کی
اور پھر بنیاد ہست و بود ڈھا کر دیکھیے
چاندنی راتوں میں اک آسیب بن کر گھومیے
گھر کی دیواروں پر اپنا سایہ بے سر دیکھیے
ہے جگر کس کا جو اس تیغ ہنر کی داد دے
اپنے ہاتھوں زخم کھا کر اپنا جوہر دیکھیے
بے دلی کی تہہ میں غوطہ مار کر بیٹھے ہیں ہم
زیب پھر پانی پہ کب ابھرے گا پتھر دیکھیے
۰۰۰
کوئی بھی در نہ ملا نارسی کے مرقد میں
میں گھٹ کے مر گیا اپنی صدا کے گنبد میں
غبار فکر چھٹا جب تو دیکھتا کیا ہوں
ابھی کھڑا ہوں میں حرف و نوا کی سرحد میں
مرے حریفوں پہ بے وجہ خوف غالب ہے
ہے کون میرے سوا میرے وار کی زد میں
کوئی خبر ہی نہ تھی مرگ جستجو کی مجھے
زمیں پھلانگ گیا اپنے شوق بے حد میں
عجب تھا میں بھی کہ خود اپنی ہی ثنا کی زیب
پھر ایک ہجو کہی اس قصیدے کی رد میں
۰۰۰
کھلی تھی آنکھ سمندر کی موج خواب تھا وہ
کہیں پتہ نہ تھا اس کا کہ نقش آب تھا وہ
الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا
لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ
غبار رنگ طلب چھٹ گیا تو کیا دیکھا
سلگتی ریت کے صحرا میں اک سراب تھا وہ
سب اس کی لاش کو گھیرے ہوئے کھڑے تھے خموش
تمام تشنہ سوالات کا جواب تھا وہ
وہ میرے سامنے خنجر بکف کھڑا تھا زیب
میں دیکھتا رہا اس کو کہ بے نقاب تھا وہ
۰۰۰
ہوچکے گم سارے خد و خال منظر اور میں
پھر ہوئے ایک آسماں ساحل سمندر اور میں
ایک حرف راز دل پر آئینہ ہوتا ہوا
اک کہر چھائی ہوئی منظر بہ منظر اور میں
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا
دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
کس قدر اک دوسرے سے لگتے ہیں مانوس زیب
ناریل کے پیڑ، یہ ساحل کے پتھر اور میں
۰۰۰
ہوا میں اڑتا کوئی خنجر جاتا ہے
سر اونچا کرتا ہوں تو سر جاتا ہے
دھوپ اتنی ہے بند ہوئی جاتی ہے آنکھ
اور پلک جھپکوں تو منظر جاتا ہے
اندر اندر کھوکھلے ہوجاتے ہیں گھر
جب دیواروں میں پانی بھر جاتا ہے
چھا جاتا ہے دشت و در پر شام ڈھلے
پھر دل میں سب سناٹا بھر جاتا ہے
زیب یہاں پانی کی کوئی تھاہ نہیں
کتنی گہرائی میں پتھر جاتا ہے
۰۰۰
ہے بہت طاق وہ بیداد میں ڈر ہے یہ بھی
جاں سلامت نہ بچا لاؤں خطر ہے یہ بھی
دل کی لو پھر اسی ٹھہراؤ پہ آجائے گی
اک ذرا دیر ہواؤں کا اثر ہے یہ بھی
جوئے پایاب محبت میں جواہر مت ڈھونڈ
کسی پتھر کو سمجھ لے کہ گہر ہے یہ بھی
جستجو گوہر معنی کی زیاں وقت کا ہے
کیا پرکھتا ہے انہیں صرف نظر ہے یہ بھی
منزلیں ختم ہوئیں ترک و تعلق کی تمام
اب کسی سمت نکل جا کہ سفر ہے یہ بھی
اب سلامت کہاں رہ پائے گا یہ نقش وفا
کچھ لہو دل کا بچا لے کہ ہنر ہے یہ بھی
دشت و در میں وہی سرخی وہی پیڑوں پہ چمک
زرد پھولوں کو نہ دیکھو تو سحر ہے یہ بھی
آگے چل کے تو کڑے کوس ہیں تنہائی کے
اور کچھ دور تلک لطف سفر ہے یہ بھی
کیا ہے میں جس کے تجسس میں پریشان بھی ہوں
زیب کچھ ہاتھ نہ آئے گا خبر ہے یہ بھی
۰۰۰
ہے صدف گوہر سے خالی روشنی کیونکر ملے
آج شاید راستے میں کوئی پیغمبر ملے
کیسی رت آئی کہ سارا باغ دشمن ہوگیا
شاخ گل میں بھی ہمیں تلوار کے جوہر ملے
دور تک جن راستوں پر منتظر بیٹھے تھے لوگ
لوٹ کر باد صبا آئی تو کچھ پتھر ملے
روشنی کی کھوج میں پلٹیں زمیں کی جب تہیں
کچھ لہو کے داغ کچھ ٹوٹے ہوئے خنجر ملے
آخر اب ایسا بھی کیا دنیا سے بددل ہونا زیب
پہلے مٹی میں تو میرے یار یہ جوہر ملے
۰۰۰
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین