منگل، 8 ستمبر، 2015

ابھیشیک شکلا سے دس سوالات

ابھیشیک شکلا کی غزلوں سے میرا تعارف آج سے قریب پانچ ، چھ سال پہلے ہوا ہوگا، ان کی شاعری پڑھتے ہوئے نئے پن کی ایک لہر نے مجھے اپنے اثر میں لے لیا، میں بہت خوش او ر حیران تھا، خوش اس بات پر کہ ابھیشیک شکلا کی غزلیں بہت متاثر کن تھیں، اور حیران اس بات پر کہ وہ بھی نئی نسل سے ہی تعلق رکھتے تھے، بہرحال، بعد میں ان سے ملاقاتیں بھی رہیں، فون پر گفتگو بھی ہوتی رہی اور یہ رشتہ دوستی کی خوبصورت سرحد میں داخل ہوگیا، ابھیشیک سے نظریاتی طور پر میرے کچھ اختلافات ہیں، جیسے کہ اپنے دوسرے دوستوں سے ہیں، اور ان کے مجھ سے ہیں، مگر ان کی شاعری نئی نسل کا ایک ایسا حصہ ہےجواردو والوں کے لیے باعث فخر و انبساط ہے اور رہے گا،بہرحال میں نے ادبی دنیا کے لیے جب ان سے سوالات پوچھنے چاہے تو انہوں نے انکار نہیں کیا اور میرے سوالات کے جواب بڑی سنجیدگی اور متانت کے ساتھ دیے، رسم الخط والے معاملے میں ، میں بہت حد تک ابھیشیک کا ہمنوا ہوں اور آڈیو لٹریچر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے زمانے میں لفظ کو کسی رسم الخط کا لباس پہنانے کو بہت حد تک ایک مذہبی قسم کا اصول تصور کرتا ہوں، مگر ظاہر ہے کہ اس پر میرے دوستوں اور دشمنوں کو تھوڑا بہت اعتراض ہوگا اور ہونا بھی چاہیے کہ نقطہء نظر سب کا یکساں ہو بھی نہیں سکتا، آپ ان سوال و جواب کا لطف اٹھائیے اور ابھیشیک سے اس انٹرویو کے حوالے سے مزید سوالات پوچھنا چاہیں تو وہ بھی میری طرح فیس بک پر موجود ہیں۔شکریہ!

تصنیف حیدر:آپ نے اردو میں شاعری کب سے شروع کی؟ اور اس مختلف طرز کی شاعری کی جانب آپ کیسے راغب ہوئے؟

ابھیشیک شکلا: اردو میں شعر کہنا اور یہ جانتے ہوئے کہ جو میں کہہ رہا ہوں یہ شعر ہیں، غزل کا حصہ ہیں اور غزل اردو شاعری کی تمام اصناف سخن میں سب سے مقبول صنف سخن ہے، ساتھ ہی یہ کہ اگر میں یہ بحر، یہ ردیف۔قافیے ٹھیک ٹھاک نبھا لے گیا تو مجھے میری پہلی مکمل غزل مل جائے گی،2008نومبر کی بات ہے۔2008کے آخر سے 2011کے آخر تک میں نے صرف سات غزلیں کہیں ان میں سے پانچ غزلیں کسی کے دیے ہوئے مصرعوں پر تھیں، باقی دو میں نے خود کہی تھیں۔2012میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ لکھنئو میں رہتے ہوئے،لکھنئو والوں کے بیچ اٹھتے بیٹھتے میں نے جو شعر کہے ہیں، ان میں میری مشق دکھتی ہے، مطالعہ دکھتا ہے اگر کچھ نہیں دکھتا تو وہ میں ہوں۔۔۔پھر اس بات پر بھی غصہ آیا کہ میرے حصے میں جو لکھنئو آیا تھا، وہاں کی ادبی نشستوں-محفلوں میں عرفان صدیقی کا نام لیوا بھی کوئی نہیں تھا، یگانہ اور آتش پر بات کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا، کچھ لوگ تھے بھی جو جدید شعری رجحانات سے واقف تھے مگر ان میں بھی بیشتر کرشن بہاری نور صاحب اور والی آسی صاحب کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہے تھے۔ ظاہر ہے، میں ان سب سے کٹ کر رہ گیا۔ میری شعری صحیح معنوں میں شروع ہی جب ہوئی جب میں لکھنئو چھوڑ کے جالندھر پہنچا، ہندوستانی نئی نسل کے غزل گو شعرا میں کچھ ایک سے میری ملاقات ہوئی جن میں سالم سلیم اور امیر امام یہ دو نام خاص ہیں۔رہی بات مخصوص طرز کی تو اس کے لیے میں نے کوئی کوشش دانستہ طور پر نہیں کی، ہاں کچھ ایک باتوں کا خیال ضرور رکھا۔۔ان میں نئے کہنے والوں سے لگاتار انٹریکشن، انہیں پڑھنا اور اپنے کلاسیکل سرمائے کو دوہراتے رہنا شامل ہے۔

تصنیف حیدر:ظفر اقبال کی شاعری کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ جدیدیت کے سب سے اہم شاعر ہیں یا نہیں؟کیوں؟

ابھیشیک شکلا:ظفر صاحب بڑے شاعر ہیں۔ اس بات سے انکار کرنا بے کار ہے کہ ایک فورم کے طور غزل کو انہوں نے کمال کی وسعت عطا کی ہے، ان کی شاعری اس بات کی بہترین مثال ہے کہ بات کیسے کی جائے۔۔۔رہی بات اس کی کہ وہ جدیدیت کے سب سے اہم شاعر ہیں کہ نہیں۔۔۔تو میرا جواب سیدھا سادا سا ہے۔۔نہیں۔۔۔اس کی دو وجہیں ہیں، پہلی یہ کہ میں کسی کے بھی سب سے اہم ہونے میں یقین نہیں رکھتا، دوسری یہ کہ ساقی فاروقی، احمد مشتاق، بانی، عرفان صدیقی اور ایسے ہی کم از کم دو اور شاعروں کے رہتے ظفر صاحب کو سب سے اہم کہنا ٹھیک نہیں میرے نزدیک۔

تصنیف حیدر:شاعری میں رومانویت سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا عشق و عاشقی یا قدرتی حسن یا جذبات کی ترجمانی کے علاوہ بھی شاعری میں کہیں کچھ ہوسکتا ہے؟کیسے؟

ابھیشیک شکلا: رومانیت حسن کو ہر رنگ میں جینے کی تمنا اور تڑپ کا اظہار ہے۔۔۔فرق پڑتا ہے تو صرف اس سے کہ در حقیقت یہ حسن ہے کیا ہمارے نزدیک۔۔۔اس حسن کو جا بجا دیکھ سکنے کی، مھسوس کرسکنے کی قابلیت شاعری، سنیما، ناٹک یا کسی بھی آرٹ فورم پر کسی فرد کی چھاپ لگاتی ہے۔ہاں یہ بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے کہ اس کے علاوہ بھی بہت سے فیکٹرز ہیں جو کسی تخلیق کو متاثر کرتے ہیں۔ رہی بات اس کی کہ عشق و عاشقی یا قدرتی حسن کے اظہار کے علاوہ بھی شاعری میں کچھ ممکن ہے کہ نہیں تو میں کہنا چاہوں گا کہ تقریبا ہر وہ واقعہ جو روز بروز ہمارے ساتھ ہوتا ہے، شاعری میں آسکتا ہے۔۔۔اب ان میں سے کیا رکھ لینا ہے کیا چھوڑ دینا ہے یہ شاعر کے اپنے شعور اور تجربے کو شعر میں ڈھال سکنے کی قوت پر منحصر ہے۔۔۔کئی بار روزمرہ کی کوئی بات بہترین شعر بن جاتی ہے اور کئی بار اس کے برعکس کوئی بہترین تجربہ بھی شعر میں ڈھل کر کسی لائق نہیں رہتا۔آپ شاعری میں تازہ کاری چاہتے ہیں تو مضمون کی سطح پر یہ ایک بات ہوئی ، دوسری سطح پر یہ بھی بے حد ضروری ہے کہ آپ اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے کن الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔۔۔اگر اس کا بڑا حصہ وہی ہے جو عام طور سے ایک خاص عہد میں اس کے شعرا کثرت سے استعمال کرتے آرہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ شعر اچھا یا بہت اچھا ہوتے ہوئے بھی نیا نہیں لگتا۔اس کے بعد سب کچھ قاری پر ہے کہ وہ صرف اچھے شعر پڑھنا چاہتا ہے یا اپنے اسلوب اور الفاظ کے انتخاب کے حوالے سے کچھ بالکل نیا، الگ سا یا پھر دونوں کا عمدہ امتزاج۔میں ذاتی طور پر دانیال طریر مرحوم کے لب و لہجے اور اسلوب کو بہت پسند کرتا ہوں۔۔۔ان کی شاعری اچھی شاعری اور تازہ کاری کا عمدہ نمونہ ہے۔میں جو کہہ رہا ہوں اس کی مزید وضاحت کے لیے میں ادریس بابر ہی کے دو شعر عرض کرنا چاہتا ہوں۔
ٹوٹ جاتا ہے جو پیمانہ عطا کرتے ہو
دلبری کرتے تھے کیا ساقی گری سے پہلے

وہ بہت دور ۔۔۔اور میرے پاس
ایک ہی سمت کا کرایہ ہے
دونوں شعر اچھے ہیں میرے نزدیک، مگر پہلے میں کنٹنٹ، اسلوب یا لفظوں کے انتخاب کے حوالے سے نیا کچھ بھی نہیں، وہیں دوسرا شعر بالکل تازہ مضمون، اسلوب اور کرایہ جیسے لفظ کے نادر استعمال سے بہت شاندار بن پڑا ہے۔

تصنیف حیدر:آپ استادی، شاگردی کے حق میں ہیں، یا پھر یہ ایک بے کار محض شے ہے؟کیوں؟

ابھیشیک شکلا: دیکھیے، نہ تو میں اس کا قائل ہوں اور نہ اسے بے کار محض شے سمجھتا ہوں ۔دراصل یہ پرسن ٹو پرسن ڈیپنڈ کرتا ہے۔کچھ لوگ کمال احمد صدیقی صاحب یا اعجاز ماتوی صاحب کے ساتھ زندگی گزار کے بھی بحر میں شعر نہ کہہ پاتے ہونگے،وہیں کچھ لوگ صرف ان کی تصنیفات پڑھ کے خود کفیل ہوجاتے ہونگے۔ باقی ، دیکھے میں نے دونوں ہی طرح کے لوگ ہیں اور دونوں ہی شعوری-لاشعوری طور پر اپنے اندر کی موسیقی کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔۔۔وہ اگر یوں ہی مل جائے تو کیا کہنے، شعر کہنا دراصل شعر شعر کہنا سیکھنے سے بہت آگے کا مرحلہ ہے، استادی اور شاگردی شعر کہنا سیکھنے تک کا ہی معاملہ ہے، ناگزیر تو خیر یہاں تک بھی نہیں۔

تصنیف حیدر:مشاعرہ ایک اہم چیز ہے یا غیر اہم؟آج جو شاعری مشاعروں میں ہورہی ہے، کیا مشاعرے میں بلائے جانے سے شاعری متاثر نہیں ہوتی؟کیوں؟

ابھیشیک شکلا:مشاعرہ اہم شے ہے میرے نزدیک۔۔اس سے کوئی انکار نہیں کہ آج کل ہونے والے پچانوے فی صدی مشاعرے خراب بلکہ بہت خراب ہوتے ہیں مگر یہ خرابی مشاعرے کے ایونٹ بن جانے سے پیدا ہوئی ہے۔شعرا کا انتخاب اور مشاعرہ کرانے والے کی نیت پر بہت کچھ منحصر ہے۔درحقیقت خراب تو تقریبا سارے نیوز چینلز بھی ہیں، یہی حالت اخبار کی بھی ہے، یونیورسٹیز اور دوسرے اہم اداروں کی بھی مگر انسٹی ٹیوشنل لیول پر انہیں سرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ صاحب! یہ تو نہایت غیر معیاری ہیں،انہیں بند ہوجانا چہیے۔۔۔مشاعروں کو بھی سدھارنے کی ممکنہ کوشش کرنی چاہیے، یہ کوشش بھی ہمیں کو کرنی ہے، کئی بار مشاعروں میں نہ جاکر تو کچھ ایک بار جاکر بھی۔۔۔ہمیں سلیکٹو تو ہونا ہی پڑے گا، شاعری کو مرکز میں لانا ہوگا، کچھ دشمنیاں، کچھ برائیاں مول لینی پڑیں گی مگر امید کی جاسکتی ہے کہ مشاعرے بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔آپ کے سوال کا دوسرا حصہ کہ مشاعروں میں بلائے جانے سے شاعری متاثر ہوتی ہے یا نہیں، اس کاجواب میرے خیال میں سیدھا ہاں یا نہیں میں دینا ممکن نہیں، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا تمام عمر شعبہ اردو اور اس کے ارد گرد گزاردینے والوں کی شاعری دنوں دن بہتر ہوتی جاتی ہے؟؟اگر نہٰں تو اس زوال کے لیے صرف مشاعروں کو ذمہ دار ٹھہرانا کہاں تک صحیح ہے۔۔۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ شعرا جو مشاعروں سے گھرچلاتے ہیں، جن کے لیے یہ بھی کسی دوسرے پیشے جیسا ہی ہے، ان کی شاعری ضرور متاثر ہوگی۔حالانکہ شاعری کے متاثر ہونے کی اور بھی وجہیں ممکن ہیں،بہت کچھ شعرا کے اپنے اوپر ہے کہ وہ مشاعرے سے جڑے گلیمر کا کتنا اثرقبول کرتے ہیں۔

تصنیف حیدر:ایسا لگتا ہے کہ آپ نے غزل کے ایک مخصوص لہجے کو وضع کرکے اسی میں رہائش اختیار کرلی ہے، کیا اسلوب کی تبدیلی پر آپ نے کبھی غور نہیں کیا؟

ابھیشیک شکلا:پہلی بات یہ کہ مجھے خوشی ہے اگر آپ یا دیگر حضرات کو یہ لگتا ہے کہ میرا ایک مخصوص لہجہ ہے، خیر اس کے متعلق میں پہلے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں کہ یہ میری کسی سوچی سمجھی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔دوسری اور زیادہ ضروری بات لہجے کی تبدیلی پر غور کرنے کی ہے تو میرا دھیان صرف اور صرف شاعری کی طرف ہے اور اس میں کئی باتیں شامل ہیں، لہجے کی تبدیلی تو خیرایک چیز ہوئی۔میں معاصر شعرا کے اسلوب، ان کے ڈکشن اور مضمون غور سے دیکھتا ہوں، اس پروسز میں کئی بار بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے تو کئی بار مایوسی بھی ہوتی ہے۔الفاظ کے بہتر استعمال، نئی تراکیب اور خاص طور سے شعر میں کسی حد تک لائوڈ ہونے سے بچنے کی کوشش رہتی ہے۔ مزید کوشش رہے گی کہ کسی بھی Orbitیا بنے بنائے اسٹرکچر کو وقت وقت پر توڑتا رہ سکوں تاکہ کسی قسم کا ٹھہرائو نہ آنے پائے۔

تصنیف حیدر:آپ کی نظر میں شعر کی صحیح تعریف کیا ہے؟

ابھیشیک شکلا:شعر دو مصرعوں میں ایک اظہار ہے۔۔۔یہ اظہار جتنا شدید ہوگا، شعر اتنا ہی اچھا ہوگا، باقی میرے لیے شعر اپنے جمالیاتی ذوق اور وحشت کو خراج دینا بھی ہے۔۔۔انگریزی اور اردو کے تمام اہل نقد و فن شعر کی بارہا صحیح تعریفیں کرچکے ہیں، ان کا احترام کرتے ہوئے بھی، میرے نزدیک جو ہے سو ہے۔

تصنیف حیدر:ہندوستان ان دنوں نفرت کی سیاست کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں آرٹ یا شاعری کوئی مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟کیوں؟

ابھیشیک شکلا: ہندوستان بے حد کومپلیکس اسٹیٹ ہے، سو یہاں کی سیاست بھی۔۔۔سیاست محبت کا فائدہ نہیں اٹھاسکتی۔۔۔اسے نفرت کرنے والے لوگ پسند ہیں، مذہب کے نام پر، زبان کے نام پر، پہناوے کے نام پر، خواہ وجہ کچھ بھی ہو، نفرت ہونی چاہیے۔۔۔ابھی پچھلے دنوں کنڑ زبان کے ساہتیہ اکادیمی ایوارڈ یافتہ ادیب پروفیسر ایم۔ایم۔کلبرگی کا انتہاپسندوں نے قتل کردیا، ویسے ہی جیسے کراچی میں سبین محمود کا کیا تھا، نریندر دبھولکر،گووند پانسارے، پاش،صفدرہاشمی اور نہ جانے کتنے۔۔۔یہ قتل ہوئی آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب بغیر کسی انجام کی پروا کیے ہوئے نفرت کی سیاست، فرقہ پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سر بلند کیے کھڑا ہے۔۔۔مجھے اروندھتی روئے اور اعجاز احمد پسند ہیں، نوم چومسکی اور ہاورڈ زن بھی۔ان کی تحریریں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ شاعری یا کوئی بھی آرٹ تب تک اپنے ہونے کا حق ادا نہیں کرتی جب تک وہ اپنے عہد اور اس کی تمام ہلچلوں کو اس کا حصہ بن کر نہیں دیکھتی۔شاعری اور دوسری آرٹ فورمز بھی، اس نفرت کی سیاست کے خلاف ہمیشہ سے بر سر پیکار رہے ہیں،یہ وقت واقعی پہلے سے مشکل ہے مگر اس میں بھی شاعری اور دوسرے آرٹ فورمز لگاتار خوبصورتی سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں، انسانی زندگی کی بہتری اور اس کے مستقبل کو لے کر اپنے اپنے طریقے سے اپنی فکر کا اظہار کررہے ہیں۔

تصنیف حیدر:ہندوستان میں اردو غزل کا مستقبل آپ کے نزدیک کیسا ہے؟ 

ابھیشیک شکلا:ہندوستان میں اردو غزل کے مستقبل کو لے کر نہ میں بہت مایوس ہوں نہ بہت خوش۔یقینا چار۔چھ ہیں ہمارے پاس جن میں سوئپنل تیواری، وپل کمار، زبیر علی تابش اور شبھم شرماسر فہرست ہیں مگر اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ہمیں کئی معرکے ایک ساتھ سر کرنے ہیں، زبان سیکھنا۔سکھانا، مشاعروں کا روائول اور معاری ادب کی لوگوں تک آسان پہنچ۔۔۔یہ بے حد ضروری کام ہیں اور یہ سارے کام آرگنائزڈ طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔نئے لوگوں تک اگر بانی، عرفان صدیقی، زیب غوری، ظفر اقبال، احمد مشتاق، ساقی فاروقی، محمد علوی اور فرحت احساس وقت پر نہیں پہنچے تو مشاعرہ منور رانا اور منظر بھوپالی کے ساتھ ان تک آپہنچیے گا۔حد تو یہ ہے کہ جوہر کانپوری بھی ساتھ ہونگے۔ہمیں ادبی دنیا جیسے اور کئی پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے،کئی اور تصنیف حیدروں کی جو ضروری نہیں اسی مکتب خیال سے ہوں جس سے تصنیف ہے، نظریاتی اختلافات ممکن ہیں مگر مقصد صرف اور صرف اردو ادب کی خدمت ہو۔اگر ہم ایسا کرپائے، جس کی مجھے پوری امید ہے، تو ہندوستان میں اردو غزل کا مستقبل یقینا روشن ہوگا۔

تصنیف حیدر:کیا دیوناگری میں لکھنے پڑھنے والوں کو اردو کا شاعر یا ادیب کہنا یا ماننا چاہیے؟کیوں؟

ابھیشیک شکلا:بھائی تصنیف !میرے نزدیک یہ سوال اتنا ہی بے ڈھنگا اور خراب ہے جتنا یہ کہ اگر کوئی دھوتی کرتا نہیں پہنتا یا نہیں پہن سکتا تو اسے ہندو مانا جائے یا نہیں، یا ایسے ہی کرتا پائجامہ نہیں پہن پاتا تو اسے مسلم مانا جائے یا نہیں۔۔۔خیر ایک مطلع دیکھیے۔۔۔
طوفان نوح میں وہ بلندی تھی آب کی
پانی کو ناپتی تھی کرن آفتاب کی
یہ کس زبان کا شعر ہے؟؟یہ کا زبان کا ہوسکتا ہے۔۔۔سوائے ایک اردو کے؟؟یہ شعر ننھو صاحب شفیق کا ہے۔۔۔جو دیوناگری کیا کسی رسم الخط سے واقف نہیں تھے، کیا اسے ہم اردو کا شعر ماننے سے انکار کرسکتے ہیں کہ صاحب اس شعر کا خالق تو یہ شعر اردو میں لکھ ہی نہیں سکتا؟؟ایسے بیسیوں شعرا کے سینکڑوں بھرپور شعر مل جائیں گے۔۔۔زبان اور اس کے ادب کا انحصار رسم الخط پر کتنا ہے، اسے سمجھنے کے لیے صرف دو مثالیں دوں گا۔۔۔پہلی یہ کہ ملک محمد جائسی نے بے حد مقبول پدماوت فارسی رسم الخط میں لکھی، یہی نہیں ان کے معاصر تمام دوسرے شعرا کی تصنیفات بھی فارسی رسم الخط میں ملتی ہیں مگر ہیں وہ اودھی زبان کا سرمایہ، فارسی کا نہیں،دوسری یہ کہ کبھی کاشمیری، سندھی اور ڈوگری بھی فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں تو کیا ان زبانوں کا ادب اور ان کے ادیب فارسی کے مان لیے جائیں گے؟؟ذاتی طور پر میں اس بات کا زبردست قائل ہوں کہ کسی بھی ادیب کو وہ زبان لکھنا۔پڑھنا آنی چاہیے جس میں وہ تخلیق کررہا ہے مگر ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں آزادی کے بعد ہی سے اردو اور مسلمان شک کی نظر سے دیکھے گئے، ان لوگوں کا بھی اردو سیکھنا خاصہ مشکل رہا ہے جو اردو سے بے پناہ محبت کرتے آئے ہیں ۔ہندوئوں میں کائستھوں (اب خیر وہاں بھی اردو جاننے والے کم ہیں)کو چھوڑ دیجیے تو اردو بچپن سے بڑے ہونے تک کتنے بچوں کو اپنے گھر یا اطراف میں ملتی ہے؟ ہم مدرسہ نہیں جاتے، گھر میں کوئی اردو جانتا نہیں، جبکہ یہ سیکنڈاسٹیٹ لینگویج ہے۔۔۔صرف اور صرف اردو سے محبت ہمین اردو سیکھنے کی طرف مائل کرتی ہے۔۔ہم جیسوں نے بارہا سنا ہے کہ مسلمانوں کی زبان سیکھ رہے ہو اور بارہا سنانے والوں کو سختی سے جواب دے کر آگے بڑھے ہیں۔۔۔(سمجھانا دراصل کئی بار بڑا مشکل ہوتا ہے)۔دیوناگری میں لکھنے پڑھنے والے کسی بھی ادب یا شاعر کو اردو کا شاعر قبول کرے یا نہ کرے ، کوئی فرق نہیں پڑتارہے گا وہ اردو ہی کا۔اردو یا کسی بھی زبان کی شاعری کسی بھی رسم الخط میں لکھی جائے، رسم الخط سے جڑی زبان کے ادب کی نہیں ہوجائے گی، وہ اسی زبان کے ادب میں اضافہ ہے جس کے الفاظ اس کا پیکر ہیں۔۔۔رسم الخط سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔رسم الخط اتنی بڑی چیز ہوتی تو سارا اردو ادب فارسی رسم الخط میں ہے، اسے فارسی کا ادب کیوں نہ مان لیا جائے، نہیں نا۔۔۔خیر، اردو سیکھنے کے بھی میرے نزدیک کچھ مخصوص اسٹیپس ہیں، ان کے لیے جو دیوناگری میں لکھتے پڑھتے ہوئے اردو کی خدمت کررہے ہیں۔لکھنا ضرور سیکھیں مگر شروعات میں اگر ٹھیک سے پڑھنا بھی آجائے تو ایک پورا دبستان کھل سکتا ہے،لوگ پڑھ سکتے ہیں احمد مشتاق، ساقی فاروقی یا عرفان صدیقی کو، سیکھ سکتے ہیں ان سے، یہ اور ایسے کئی شعرا دیونگاری میں نہیں چھپےاب تک۔آخر میں صرف دو باتیں کہ دیوانگری یا کسی بھی رسم الخط میں یا بغیر اس قید کے بھی اگر کوئی فن پارہ کسی زبان کے الفاظ اس کے محاورے اور اس زبان کی دوسری ضروری چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے، اس زبان ہی کی نثر یا شاعری کی مختلف اصناف میں سے کسی بھی صنف کا ہو تو وہ فن پارہ اور وہ ادیب بھی اسی زبان کے ہیں، ہمارے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔دوسری بات یہ کہ ہمیں ان نئے لکھنے والوں کی، بھلے ہی وہ دیوناگری ہی کے ذریعے اردو کی خدمت کررہے ہوں، ہر ممکن مدد کرنی چاہیے کہ یہ مچھلی کے بچے نہیں ہیں، انہوں نے ڈوب جانے کا پورا پورا جوکھم اٹھاتے ہوئے دریا میں چھلانگ لگائی ہے اور اردو لکھنا پڑھنا سیکھ رہے ہیں۔شکریہ!


4 تبصرے:

Nadeem Zaheer Khan کہا...

ماشاءاللہ... روشن خیال شخصیت

Naseer Abbas کہا...

بہت اچھی گفتگو،بہت اچھا پیغام،بہت زبردست

Parvez Akhtar کہا...

بہت متوازن گفتگو ہے. .....ان کی کچھ غزلیں بھی پڑھوا دیجے

گمنام کہا...

کمال کا انسان ہے یہ بھی۔ خدا سلامت رکھے۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *