بدھ، 16 ستمبر، 2015

دھڑن تختہ(ناول)/اشعر نجمی

یہ اشعر نجمی کا ایک غیر مطبوعہ ناول ہے، میرے خیال میں اب تک اس کا کوئی بھی باب کہیں شائع نہیں ہوا ہے۔اشعر نجمی کے نام اور کام سے تقریبا سبھی لوگ واقف ہیں، لیکن اس بات کی خبر شاید ہی کچھ لوگوں کو ہو کہ انہوں نے ایک ناول بھی لکھ رکھا ہے۔یہ ناول انہوں نے مجھے میل کے ذریعے پڑھنے کے لیے چھبیس فروری دو ہزار چودہ کو بھیجا تھا۔میں نے ناول پڑھا تھا اور اس پر ہماری فون پر گفتگو بھی ہوئی تھی۔ناول دلچسپ ہے، کشیپ صاحب کا کردارزبردست ہے، ابواب کے نام بھی اچھی طرح تراشے گئے ہیں۔میں ابھی اس ناول پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔آپ پڑھیے، اپنی بات کہیے، یہ ناول 'ادبی دنیا' کے ذریعے پہلی بار سامنے آرہا ہے۔ناول کا انتساب بھی معنی خیز ہے۔آج کل اشعر نجمی فیس بک پر زیادہ فعال نہیں ہیں، انہوں نے اثبات جیسا اچھا رسالہ نکالا ہے، ان کی ادب فہمی پر کسی قسم کا سوال قائم نہیں کیا جاسکتا، اتفاق و اختلاف کی گنجائشیں اپنی جگہ۔امکان ہے کہ اس ناول پر بات ہوگی اور اردو کے اچھے قارئین، اسے پسند یا ناپسند کریں گے تو اس کا جواز بھی فراہم کریں گے۔شکریہ!




منٹو کے افسانہ 'بابو گوپی ناتھ' کے ایک کردار
'سینڈو' کے نام


اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے گندے ہیں انڈے
اکبر الہٰ آبادی


If you’r reading this….
Congratulations, you’re alive
If that’s not something to smile about,
Then I don’t know what is.
Chad Sugg, Monsters Under Your Head -




سونے کا گڑوا پیتل کی پیندی

Dare to love yourself
as if you were a rainbow
with gold at both ends.

- Aberjhani,
The River of Winged Dreams

’’ آج آپ سے نجات مل گئی ہے تو چلیے بتادیتا ہوں۔ کہاں سے شروع کروں؟ آپ کی آبائی نتھو لال کی مونچھوں سے یا پھر آپ کے اس خاندانی یونیفارم سے؟سفاری سوٹ...بلیک بوٹ...سچی سر، بڑے cute لگتے ہیں آپ...چِرکُٹ۔‘‘
کشیپ صاحب بظاہر پرسکون نظر آ رہے تھے لیکن اندر کا حال تو وہی جانتے تھے۔ادھر کم بخت سریش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، نہ کوما، نہ فل اسٹاپ۔
اوہ!معاف کیجیے گا، میں نے درمیان سے شروع کردیا۔ مجھے اخلاقاً پہلے آپ سے کشیپ صاحب کا تعارف کرانا چاہیے تھا۔ چلیے اب کرا ئے دیتا ہوں۔آپ سے ملیے، ’’مسٹر اے ۔ کشیپ، بی۔ای، ایم ۔ٹیک (گولڈ میڈلسٹ)‘‘۔ انھیں اپنا ادھورا تعارف پسند نہیں ہے۔آپ ریلوے میں انجینئر ہیں۔ خیر ، انجینئر اور ڈاکٹر تو ہمارے یہاں ککر متّے کی طرح پائے جاتے ہیں لیکن کشیپ صاحب وضع و قطع سے لے کر کردار و اطوار تک اللہ میاں کی ایک ایسی بے مثل تخلیق ہیں جو دوبارہ اس سے کبھی سرزد نہیں ہوئی ۔ عمر یہی کوئی ۳۵ کے آس پاس ہی ہوگی لیکن زبردستی کی سنجیدگی اور خود ان کی وضع کردہ ظاہری بناوٹ لوگوں کو ان کے نام کے آگے ’صاحب‘ جوڑنے پر مجبور کردیتی تھی؛ صرف ان کے سامنے نہیں بلکہ ان کی غیر حاضری میں بھی، جیسا کہ ہم بھی یہاں مجبور نظر آ رہے ہیں ۔ سفاری سوٹ کے بغیر کشیپ صاحب کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سال کے بارہ مہینے وہ سفاری سوٹ میں نظر آتے ہیں۔ اس استقلال کی ایک معمولی سی جھلک ان کے تیل سے چپڑے ہوئے سر کے بالوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو درمیان سے دو برابر حصوں میں کچھ اس طرح منقسم ہوتے ہیں کہ مجال ہے کسی حصے کو اپنی حق تلفی کا احساس ہوجائے۔ انجینئر ہیں تو ظاہر ہے کہ پڑھے لکھے بھی ہوں گے۔انگریزی فر فر بولتے ہیں اور اس کمال معصومیت سے بولتے ہیں کہ سننے والے کو خواہ مخواہ یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ہم نے غیر زبانوں کے الفاظ کو معرب، مفرس اور مہند کے ساتھ ساتھ’معنگرز‘ بھی کرلیا ہے۔ ان کے خالص دیسی لہجے میں اس بدیسی زبان کی ماں بہن ہوتا دیکھ کر مخاطب کاسینہ فخر سے پھول جاتا ہے کہ بالآخر ہم نے انگریزوں کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کو بھی دھول چٹا دیا۔
کشیپ صاحب اپنی شرطوں پر زندگی جینے کے عادی ہیں۔ کسی سے مرعوب ہونا تو دور کی بات، کسی سے متاثر ہونا بھی انھوں نے نہیں سیکھا ۔بلا کی خود اعتمادی ہے ان میں ، لیکن اس دن وہ خود اپنی ہی نظر وں میں گر گئے۔ اگرچہ انھی کے اعزاز میں یہ پارٹی دی گئی تھی لیکن ایسا لگتا تھا جیسے سب کچھ منصوبہ بند ہو۔ ان کے ماتحتوں نے پورے پانچ برسوں کا ان سے بدلہ لے لیا ۔کل تک جنھیں ان سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کی ہمت نہیں تھی، آج وہی ان پر ہنس رہے تھے، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ مذاق کی بھی ایک حد ہوتی ہے، یہ تو ان کی کردار کشی تھی۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ ان کی الوداعی تقریب نہ ہو بلکہ تبرے بازی کی کوئی مجلس ہو ۔ حالاں کہ بعد میں وہ بڈھا منیجر بھاسکر مائیک پر آ کر صفائی بھی پیش کرگیا ، ’’مسٹر کشیپ! ہم چاہتے تھے کہ اس الوداعی تقریب کو بوجھل بنانے کی بجائے اسے خوشگوار بنایا جائے۔ لہٰذا ، یہ کارٹون فلم ہمارے شعبے کے animators نے آج کی اس شام کو ہلکا پھلکا بنانے کے لیے تیار کیا تھا۔اس کا مقصد آپ کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا بلکہ ہم سب آپ کو مسکراتے ہوئے وداع کرنا چاہتے تھے۔‘‘
سالوں نے خود تو مسکرانے کے لیے اچھا بہانہ ڈھونڈلیا لیکن بیچارے کشیپ صاحب کو اپنے چہرے پر نمائشی مسکراہٹ سجانے کے لیے کتنے جتن کرنے پڑے تھے، ان کے سوا بھلا اور کون جان سکتا تھا۔یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ تفریح کے نام پر کشیپ صاحب کو اچھا خاصا کارٹون بنا کے رکھ دیا۔ ایک بڑے سے اسکرین پر پہلے تو مرغی کا انڈا نظر آیا، پھر عقب سے ایک آواز آئی، ’’ مہان لوگ پیدائشی مہان ہوتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد ایک اسپتال کا ’’چلڈرن وارڈ‘‘ دکھایا گیا جس میں بہت سارے شیر خوار بچے چسنی چوس رہے تھے۔ لیکن ان ہی کے درمیان ایک بستر پر پڑے ہوئے نوزائیدہ کشیپ صاحب ایک ضخیم کتاب "Designing Railway Bridges" کے مطالعہ میں غرق نظر آئے۔ پھر اسی منظر میں ایک نرس نمودار ہوتی ہے اور ہمارے نوزائیدہ کشیپ صاحب کے منھ میں دودھ کی بوتل لگا دیتی ہے۔ انھوں نے نرس کو غصے سے دیکھا۔
’’ آپ کی ہمت کیسے ہوئی ، ایسی ولگر (Vulgar) چیز ہمارے منھ میں ڈالنے کی؟‘‘
نرس بیچاری بوکھلا جاتی ہے، ’’ ولگر چیز؟‘‘
’’اس بوتل پر جو Nipple ہے، اس کی shape دیکھیے۔ چھی۔‘‘
بیچارے کشیپ صاحب تو جیسے اندر ہی اندر سنگسار ہوگئے تھے لیکن کیا کرتے، ناظرین کے فلک شگاف قہقہوں میں انھیں بھی ساتھ دینا پڑا۔
اسکرین پر اب کشیپ صاحب دس سال کے نظر آ رہے تھے۔ ان کی ایک ہم عمر لڑکی نے اپنا اسکرٹ اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اے کشیپ! گھر پر کوئی نہیں ہے۔ چل ڈاکٹر ڈاکٹر کھیلتے ہیں۔‘‘
دس سال کے کشیپ صاحب نے اس لڑکی کی طرف بیزاری سے دیکھا، ’’ سوری۔ ہمیں میڈیکل فیلڈ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انجینئر انجینئر کھیلوگی؟‘‘
ایک بار پھر زبر دست قہقہہ پڑا، کشیپ صاحب کچھ اور سکڑ گئے۔ لیکن آئندہ منظر سے وہ بھی محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ پائے۔ اس منظر میں کشیپ صاحب کو جوان دکھایا گیا تھا ، جو ایک سنیما گھر میں ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ دیکھ رہے تھے۔ شاہ رخ خان کھسکتی ہوئی ٹرین پر سوار ہے اور کاجول ٹرین پکڑنے کے لیے پلیٹ فارم پر دوڑ رہی ہے۔ بالآخر شاہ رخ ، کاجول کا ہاتھ پکڑ کر ٹرین کے اوپر کھینچ لیتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے ہیں۔ سنیما گھر میں بیٹھے تمام ناظرین اس خوب صورت منظر پر تالیاں بجاتے نظر آ رہے ہیں لیکن نوجوان کشیپ صاحب فکرمند نظر آ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں، ’’ ٹرین کا Pick-up بہت slow تھا...میٹر گیج (Meter-gauge) کا سالا یہی پرابلم ہے۔ I must discuss this in the next seminar of Railway engineers."
یہ مذاق کشیپ صاحب کو اتنا برا نہیں لگا ، اس لیے بغیر کسی جبر کے انھوں نے دوسروں کے ساتھ قہقہہ لگایا لیکن آئندہ منظر کو دیکھ کر تو ان پر گھڑوں پانی پڑگیا۔ اس منظر میں کشیپ صاحب کو شادی شدہ دکھایا گیا تھا۔ ایک سیلز مین نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا جس پر Mr. & Mrs. A. Kashyap" کا نیم پلیٹ لگا ہوا نظر آ رہا تھا۔ کشیپ صاحب باہر نکلے اور سوالیہ نگاہوں سے سیلزمین کی طرف دیکھا۔
’’سر، ہماری کمپنی نے ایک نیا کنڈوم لانچ کیا ہے، اسی کے لیے...‘‘
کشیپ صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا؛ ’’ کنڈوم؟...تمھاری ہمت کیسے ہوئی ہم جیسے شریف آدمیوں کو کنڈوم جیسی چیز بیچنے کی؟ سیلف کنٹرول (self-control) سمجھتے ہو؟ وہ ہوتا ہے شریف لوگوں کا contraceptive ...سمجھے؟ نہیں سمجھے؟ سمجھو گے بھی نہیں۔ بُڑبک۔‘‘ ایک دھماکے کے ساتھ انھوں نے سیلز مین کے منھ پر دروازہ بند کردیا۔
کارٹون فلم ختم ہونے کے بعد بھی لوگ کشیپ صاحب کو دیکھ دیکھ کر ہنستے رہے۔ وہ بڈھا بھاسکر بھی مائیک پر صفائی دیتے وقت ہنس رہا تھا۔ سالا معذرت کر رہا تھا یا جلے پر نمک چھڑک رہا تھا۔
’’ دراصل ہم سب دکھی ہیں کہ آپ جیسا محنتی ، ایمان دار اور باکردار افسر ہمیں چھوڑ کر ممبئی جا رہا ہے۔ اس صدمے کو ہلکا کرنے کے لیے کچھ ڈرنکس وغیرہ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ چلو بھائیو، شروع ہوجاؤ۔ مسٹر کشیپ کو صبح ٹرین بھی پکڑنی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب اپنی لکھی ہوئی تقریر ہاتھ ہی میں پکڑے رہ گئے جو انھوں نے کافی محنت سے تیار کی تھی، پھر انھوں نے چپکے سے اسے اپنی سفاری کی جیب میں ڈال لیا۔ لیکن ان کے گلے میں اب بھی پھولوں کا ہار پڑا ہوا تھا، جسے انھوں نے اس لیے نہیں اتارا تھا تاکہ لوگوں کو احساس رہے کہ یہ تقریب ان کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے ۔ اس کے باوجود ان کے سارے ماتحت کھانے پینے میں مصروف تھے ، کسی کو ان میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بیچارے تنہا ہاتھ میں جُوس کا گلاس پکڑے ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ان کی نظر ایک جوان لڑکے پر پڑی جو اپنا گلاس دوبارہ بھر رہا تھا۔ کشیپ صاحب نے پہلے تو دانت پیسا، پھر اسے آواز دی۔
’’سریش بابو! ادھر آئیے۔ کیا حال چال ہے؟‘‘
’’بس سر، آشیرواد ہے آپ کا۔‘‘
’’وہ کارٹون فلم تم نے ہی بنائی تھی نا؟‘‘
’’ارے سر، وہ تو بس...‘‘؛ سریش ابھی پوری طرح انکساری بھی نہ دکھا پایا تھا کہ کشیپ صاحب نے حملہ بول دیا۔
’’ہم سمجھ گئے تھے کہ کوئی جوکر ہی اتنا بڑھیا جوک(joke) مار سکتا ہے‘‘، کشیپ صاحب نے ہنستے ہوئے وار کیا،’’تھوڑا over کر دیا لیکن اچھی تھی...یہ اپنا funny-talent ریلوے کی میسیج والی فلموں میں بھی دکھاتے تو ad-hoc سے پرمانینٹ ہو جاتے۔‘‘
سریش انھیں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ کشیپ صاحب کی بات ختم ہوئی تو اس نے ایک ہی سانس میں اپنا پورا گلاس خالی کردیا۔ اب اس کے چہرے پر حقارت آمیز مسکراہٹ تھی۔
’’ اصل میں کشیپ صاحب، ریلوے کے میسیج آپ جتنے funny نہیں ہوتے۔ انھیں funny بنانا بہت مشکل ہے۔ آپ تو بنے بنائے، ریڈی میڈ sample ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب نے اسے گھورا، ’’کیا مطلب؟‘‘
سریش کی مسکراہٹ میں کچھ اور زہر گھل گیا، اس نے کشیپ صاحب کے گلے میں پڑے ہار کی طرف اشارہ کیا، ’’ آج آپ سے نجات مل گئی ہے تو چلیے بتادیتا ہوں۔ کہاں سے شروع کروں؟ آپ کی آبائی نتھو لال کی مونچھوں سے یا پھر آپ کے اس خاندانی یونیفارم سے؟ سفاری سوٹ...بلیک بوٹ...سچی سر، بڑے cute لگتے ہیں آپ...چِرکُٹ۔‘‘
کشیپ صاحب بظاہر پرسکون نظر آ رہے تھے لیکن اندر کا حال تو وہی جانتے تھے۔ادھر کم بخت سریش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا؛ نہ کوما، نہ فل اسٹاپ۔
’’ارے آپ جیسا بنگلہ اگر ریلوے نے ہمیں الاٹ کیا ہوتا یا آپ جیسی تنخواہ ہمیں مل رہی ہوتی تو رام قسم، ریلوے کے ہر ڈویژن میں اپنا ایک پرائیوٹ حرم ہوتا۔‘‘
کشیپ صاحب کا منھ کھلا ہوا تھا، پتہ نہیں سانس لے بھی رہے تھے یا نہیں۔ شاید ایک جونیئر کی بدتمیزی پر انھیں سکتہ مار گیا تھا۔
’’آپ کی زندگی ایک سڑا ہوا مذاق ہے سر۔ سالا گھر پہ کھائیں گھر کا کھانااور باہر نکلے بھی تو ٹفن ٹانگ کے نکلے۔‘‘
اب کشیپ صاحب کا صبر جواب دینے لگا تھا، ’’ہمیں باہر کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہوگا بھی نہیں۔ اور کبھی باہر کھانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔ کیوں کہ آپ جیسوں کو باہر کچھ ملنے والا بھی نہیں ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے محسوس کیا کہ ان کی گفتگو کچھ اور لوگ بھی سن رہے تھے۔ ان کے کچھ پرانے ساتھی اپنے اپنے ہاتھوں میں ڈرنک لیے ادھر ہی کان لگائے ہوئے تھے۔ جلتی پر تیلی نے کام کیا اور وہ بھڑک اٹھے۔
’’ تم سالے جلتے ہو ہم سے، ہماریachievements سے۔ انڈین ریلوے جب بھی کسی پرابلم میں پھنسی ہے تو اس نے ہمیں یاد کیا ہے۔ کشیپ صاحب، ممبئی میٹرو میں ٹیکنیکل snag آگیا ہے، بس آپ ہی سنبھال سکتے ہیں، آجائیے۔ جہاں بھی گئے ہیں، respectfully گئے ہیں۔ اور تم کیا بول رہے تھے؟ ریلوے کے ہر ڈویژن میں تمھارا کیا ہوتا؟ سالے پتہ بھی ہے کہ ٹوٹل کتنے ڈویژن ہیں ریلوے کے؟‘‘
سریش شاید کسی اور ہی مٹی کا بنا ہوا تھا، کشیپ صاحب کی جھڑکی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ اس نے تو ان کا جوتا ان ہی کے سر پہ دے مارا، ’’ یہی ہے آپ کی پرابلم۔ کُل کتنے ڈویژن ہیں، یہ تو آپ کو پتہ ہے لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان ڈویژن میں کتنی تتلیاں ہیں؟‘‘
سریش نے ان عورتوں کی طرف اشارہ کیا جو ایک طرف خوش گپیوں میں مصروف تھیں، ’’وہ دیکھیے، وہ ہے تتلیوں کا جھنڈ۔ کل تک یہ سب تتلیاں آپ کی ماتحتی میں تھیں۔ پورے پانچ سال آپ کے نیچے کام کرتی رہیں۔ ان میں سے دو لڑکیوں کی رانوں میں کالا تل ہے، آپ کو پتہ ہے کون ہیں وہ؟
کشیپ صاحب اس غیر متوقع سوال کے لیے تیار نہیں تھے، ہڑبڑا کر رہ گئے ۔ سریش بولتا رہا، ’’ اور سنیے! ان میں سے تین، چھتیس کی سائز والی ہیں لیکن Bra چونتیس کی پہنتی ہیں۔ ان میں ایک تو ایسی wildہے کہ چلتی ریل میں دھکم پیل کے لیے اگر اسے جیل بھی ہوجائے تو چلی جائے۔ یہاں سب انھیں جانتے ہیں، سوائے آپ کے۔ ‘‘
’’شرم کرو سریش ، اپنی colleagues کے لیے ایسی گری ہوئی باتیں کررہے ہو؟‘‘
’’گرنا پڑتا ہے سر۔ گریں گے نہیں تو نصیب کیسے اٹھے گا۔ بھگوان نے آدمی کو گرنے کے لیے ہی بنایا ہے۔ اگر اڑنے کے لیے بنایا ہوتا تو اسے پَر دیے ہوتے۔ جو لوگ مہانتا کے پہاڑ پر چڑھے ہوئے ہوتے ہیں نا سر، ان پر لوگ جیتے جی پھولوں کے ہار ڈال دیتے ہیں، ان کے مرنے کا انتظار نہیں کرتے۔‘‘
کشیپ صاحب کو اچانک محسوس ہوا کہ ان کے گلے میں پڑا ہوا ہار وزنی ہوتا جا رہا ہے اور ان کی گردن اس بوجھ سے جھکتی چلی جا رہی ہے۔
’’وہ کارٹون فلم ہی آپ کی سچائی ہے کشیپ صاحب۔ لوگوں کی نظروں میں آپ کی ساری مہانتا کی وہی امیج ہے ... ’انڈا‘۔ وہ تو میں نے دیکھا کہ آپ اپنی ہی الوداعی پارٹی میں کسی لاوارث فون کال کی طرح گھوم رہے ہیں تو ترس آگیا۔ سوچا کہ چلو بات کرلوں ورنہ آپ جیسے لوگوں کی بیویاں بھی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ بائی بائی گریٹ مین۔ ‘‘
سریش واپس اپنی جگہ پر چلا گیا، لیکن کشیپ صاحب وہیں کھڑے رہے، بے عزتی کے بوجھ تلے اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے اپنے گلے سے ہار نکال کر وہیں ایک ٹیبل پر رکھ دیا۔ ان کے کانوں میں سریش کے الفاظ اب تک سیٹیاں بجا رہے تھے، ’’ لوگوں کی نظروں میں آپ کی ساری مہانتا کی وہی امیج ہے ... ’انڈا‘۔‘‘ انھیں پتہ بھی نہ چلا کہ وہ اپنے خیالوں میں گم عورتوں کے جتھے کی طرف نکل آئے ہیں۔ انھیں ان کی سابق سکریٹری نے ٹوکا، ’’سر، ممبئی پہنچتے ہی وہاں کا پتہ مجھے ضرور sms کر دیجیے گا۔‘‘
کشیپ صاحب نے چونک کر اس کی طرف یوں دیکھا، جیسے ان پانچ برسوں میں اسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ایک دوسری عورت مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی، ’’اور سر، ممبئی میں ریل کے ساتھ ساتھ دھکم پیل کا مزہ بھی اٹھا لیجیے گا، پورے انڈیا میں فیمس(famous) ہے۔‘‘
ایک بار پھر کشیپ صاحب چونکے۔ ’’دھکم پیل‘‘ بہت مانوس لفظ تھا۔ ذرا دیر پہلے سریش نے کسی عورت کا اس لفظ سے رشتہ جوڑا تھا۔ انھوں نے پلٹ کر سریش پر نظر ڈالی، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دور کھڑا انھیں دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ دل ہی دل میں وہ سریش کے لیے کوئی بھدی سی گالی تلاش کرنے لگے لیکن تیسری عورت نے انھیں اس کا موقع ہی نہیں دیا ۔
’’ بھابھی بھی آپ کے ساتھ جا رہی ہیں؟‘‘
’’ نہیں۔ وہ بعد میں آئیں گی۔ پنکو کے اسکول کی ٹی۔سی۔ وغیرہ لینا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب مزید سوالات سے بچنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ وہ یہاں سے کھسک جانا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ پارٹی ان ہی کے اعزاز میں رکھی گئی تھی ، اور اس طرح یہاں سے نکل جانا انھیں اچھا نہیں لگا۔ یوں بھی وہ اصول پسند آدمی تھے، بلکہ آج اسی سبب انھیں اتنا ذلیل و خوار ہونا پڑاتھا۔

ذلت اور رسوائی کی ٹیس ان کے اندر اس وقت بھی اٹھ رہی تھی جب وہ اپنے بیڈروم میں مسز کشیپ کے ساتھ الوداعی شب کا عرق نچوڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ آج وہ اپنی پوری قوت کا استعمال کررہے تھے جیسے لاشعوری طور پر سریش سے بدلہ لے رہے ہوں لیکن مسز کشیپ پر اس کا کوئی اثر ہی نظر نہیں آ رہا تھا، وہ اپنی دنیا میں مست تھیں۔
’’ پنکو کے ٹرانسفر سرٹیفکٹ میں اگر وہ لوگ ماں اور باپ دونوں کو بلائیں گے تو؟پرنسپل تھوڑی پاگل ہے، پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہے؟ ویسے میں نے پنکو کی کلاس ٹیچر کو بتادیا تھا کہ آپ پہلے جا رہے ہیں...لیکن پھر بھی ۔ کیوں جی؟
’’ہوں۔‘‘
’’ہوں کیا؟ آپ تو چلے جائیں گے مگر مجھے یہاں رہ کر کتنا کام نپٹانا ہے، پتہ ہے آپ کو؟ پوری پیکنگ بھی اب تک نہیں ہوئی ہے، سامان بھی بھجوانا ہے...وہ چندن آپ کے سامنے یس سر ، یس سر کرتا رہتا ہے لیکن بعد میں میرا فون بھی نہیں اٹھاتا...اس کو ایک بار اچھی طرح سے سنا کے جائیے گا...سن رہے ہیں نا آپ؟‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’ٹکٹ بھی آر۔اے۔سی۔ ہے ۔ کنفرم نہیں ہوا تو؟ بچوں اور سامان کے ساتھ کتنی مصیبت میں پڑ جاؤں گی۔ رینو کی شادی کا یاد ہے نا؟ اتنی سی جگہ میں پنکو کو گود میں لیے بیٹھے بیٹھے گئی تھی۔ خیر، وہ چار گھنٹے کا سفر تھا... لیکن بمبئی تک ویسے ہی جانا پڑا تو میری لاش ہی پہنچے گی۔‘‘
کشیپ صاحب کو دھونکنی لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے ایک جھر جھری لی اور کوئلے کی انجن کی طرح زور سے ’’بھاپ‘‘ چھوڑ کرایک طرف لڑھک گئے۔ مسز کشیپ نے ان کی طرف دیکھے بغیر پوچھا، ’’ہوگیا؟‘‘
پسینے میں لت پت کشیپ صاحب نے سر کی جنبش سے تائید کی ۔ مسز کشیپ نے اپنی نائٹی نیچے کھسکا دی۔کشیپ صاحب پھٹ پڑے۔
’’تم دس منٹ چپ نہیں رہ سکتیں؟ آدمی جا رہا ہے، پھر پتہ نہیں کب موقع ملے۔ سالا اتنی مشکل سے موڈ بناؤ اور تم...‘‘
’’ہم کیا؟ ہم نے منع کیا؟ ہم پورا cooperate تو کررہے تھے۔ ‘‘
کشیپ صاحب بس اپنی بیوی کو گھورتے رہ گئے۔ ان کے کانوں میں سریش کے الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح گرنے لگے...قطرہ قطرہ...ٹپ ٹپ ٹپ...’’آپ جیسے لوگوں کو ان کی بیویاں بھی سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔‘‘انھوں نے جلدی سے کمبل اپنے سر پر کھینچ لیا لیکن اس گھپ اندھیرے میں مسز کشیپ کا جملہ ان پر بجلی بن کر گرا۔
’’ چپ رہو تو کہیں گے کہ لاش جیسی پڑی رہتی ہو...بولو تو کہیں گے کہ بولتی کیوں ہو؟ نجانے کون سی پہیلی ہے جو پندرہ برسوں سے سلجھ ہی نہیں رہی ہے۔‘‘
پہیلی تو خیر ان سے بھی کبھی سلجھ نہیں پائی یا شاید انھیں سلجھانے کا موقع نہیں مل پایا۔ آج تک وہ خود بھی سمجھ نہیں پائے کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے، کیوں جینا چاہتے ہیں وہ؟ جینے کے نام پر جینا تو کوئی بات نہ ہوئی۔ سریش کی بات تلخ ضرور تھی لیکن اب کشیپ صاحب کو محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی بیشتر باتیں سچی تھیں۔ صحیح تو کہہ رہا تھا کہ سالا ان کی زندگی ایک انڈا ہی تو ہے، دوسروں نے فرائی کیا اور کھایا۔سب نے اپنے اپنے انداز میں انھیں استعمال کیا، کسی نے ہاف فرائی کیا تو کسی نے املیٹ بنایا اور کوئی ابال کر انھیں چٹ کرگیا۔
’’نان اسٹاپ مستی کا unlimited permit یہاں ملتا ہے۔ یہ ممبئی ہے بھیا، ممبئی۔ یہاں لوگ اپنا کھچڑا پاپ دھونے آتے ہیں۔ زندگی میں کوئی حسرت، کوئی تمنا باقی رہ گئی ہو تو یہاں دھو لو۔ یہاں رہ کے بھی اگر کوئی لپو جھنّا کا لپو جھنّا رہے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔‘‘
کشیپ صاحب ٹرین کی اوپر کی برتھ پر لیٹے تھے، انھوں نے اپنے چہرے سے کمبل تھوڑا ساکھسکایا اور نیچے نظر ڈالی جہاں کچھ نوجوان لڑکے بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
’’چوتیا، مجھ پہ افسری کا دھاک جما رہا تھا۔ میں نے کہا کہ تو نے افسر بن کے کیا اکھاڑ لیا۔‘‘
دوسرے لڑکے نے لہک کے ٹکڑا لگایا، ’’ میں بتاؤں ، کیا اکھاڑا اس نے؟ افسری کے چکر میں اس کی شادی ہو گئی۔ایک لونڈیا نے اس کو جنت کی سیر کرادی، ورنہ ان جیسوں کو زندگی میں ایک چانس ملنا بھی مشکل ہے۔‘‘
ایک لڑکے نے ہنستے ہوئے تائید کی، ’’ صحیح بولا یار۔ دس سال سے اس کے موبائل پر ایک ہی فوٹو لگی ہے؛ اس کی بیوی کی...صبح شام اسی کا درشن کرتا رہتا ہے ...سالا بتاؤ اس سے بھی بڑا کوئی CSO4 ہوگا دنیا میں؟
’’ CSO4 ؟؟ یہ کیا ہے بے؟‘‘
’’چوتیم سلفیٹ۔‘‘
تینوں لڑکوں کی ہنسی کمپارٹمنٹ میں بکھر گئی۔ کشیپ صاحب نے کمبل کے اندر چپکے سے اپنے موبائل پر نظر ڈالی جس کے وال پیپر (wall paper) پر مسز کشیپ کی تصویر مسکرارہی تھی، جو انھیں اس وقت زہر خند محسوس ہوئی۔نیچے کی برتھ پر لڑکے کسی انجان افسر کا تیا پانچہ کرنے میں مصروف تھے، لیکن کشیپ صاحب کو لگ رہا تھا جیسے ان کا ہدف وہ خود ہوں۔
’’مجھ سے بولا، بھیا میں نے اپنا ایک کروڑ کا انشورنس کرالیا ہے۔ میں نے کہا ، کراتو لیا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ تیری فیملی کو نہیں پہنچے گا۔ کیوں کہ انشورنس والے بولیں گے کہ جو آدمی جیا ہی نہیں، ہم اس کی موت کا claim کیوں دیں؟‘‘
اس بار لڑکوں کی ہنسی تھوڑی اونچی ہوگئی تھی۔ ایک لڑکے نے کمپارٹمنٹ میں سوتے ہوئے لوگوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ دھیرے بات کریں۔ اب وہ سرگوشیوں میں باتیں کررہے تھے جنھیں سننے کے لیے کشیپ صاحب اپنے برتھ کے کنارے تک کھسک آئے تھے ، ان کے جسم کا نصف اوپری حصہ تقریباً نیچے جھولنے لگا لیکن وہ سونے کا ناٹک کیے ہوئے تھے۔ لڑکوں کی گفتگو اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی تھی جسے سننے کے لیے کشیپ صاحب مجسم سماعت بن چکے تھے۔
’’میں نے اس سے کہا، یار ممبئی کے لیڈس بار (Ladies Bar) کے بارے میں بہت سنا ہے، درشن کرادے۔ تو الٹا اس نے مجھ سے پوچھ لیا، لیڈس بار کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’لیکن ممبئی کے لیڈس بار کب کا بند ہوگئے؟ سرکار نے بند کرادیا۔‘‘
’’کچھ بند نہیں ہوا بے۔ پہلے کھلے عام چلتے تھے، اب چھپ چھپ کے چلتے ہیں۔ میں نے دو دن میں ڈھونڈ نکالا۔‘‘
کشیپ صاحب لڑکوں کی گفتگو سننے میں اتنا محو تھے کہ انھیں احساس بھی نہیں ہوا کہ نیچے کی طرف جھولتا ان کا ایک ہاتھ بیچ کے برتھ میں لیٹی ہوئی ایک عورت کے کولھوں سے کسی پنڈولم کی طرح بار بار ٹکرا رہا تھا۔
’’اندھیری ایسٹ میں پیراڈائز ہوٹل دیکھا ہے؟‘‘ اس لڑکے نے اپنی معلومات کا خزانہ لٹانا شروع کردیا؛ ’’ اس کے بالکل سامنے والی گلی میں چورسیا کی پان دکان ہے۔ اس کے پاس جاؤ اور ایک دو سو والا پان لگانے بولو۔ وہ دو سوکا پان انٹری فیس ہے ممبئی کے سب سے جھکاس لیڈس بار کا۔‘‘
’’کیا بات ہے گرو۔ کیا زبردست انفارمیشن ہے یار۔‘‘ باقی لڑکے کافی متاثر نظر آ رہے تھے، کشیپ صاحب بھی ان معلومات کے قیمتی سکوں کو اپنی یادداشت کے بٹوے میں محفوظ کر رہے تھے۔
اسی دوران بیچ کے برتھ پر لیٹی عورت نے اپنے پرس سے ایک چٹ پیڈ (Chit Pad) نکالا اور اس پر کچھ لکھا۔ پھر اس نے پیڈ سے ایک چٹ الگ کی اور کشیپ صاحب کے جھولتے ہاتھ پر چپکا دیا۔ نہ تو کشیپ صاحب کو احساس ہوا اور نہ ہی لڑکوں کا دھیان اس پر گیا، ان کی گفتگو جاری رہی۔
’’دوست، ممبئی کہتی ہے ’کر‘...کھل کے کر۔ تیندولکر، گاوسکر، وینگ سرکر...اس شہر کو صرف ’کرُو‘ لوگ ہی سمجھ میں آتے ہیں۔ یہاں صرف دو ٹائپ کے لوگ ہی ہیں باس؛ ایک تو ممبائیکر (Mumbaikar)اور دوسرے جوکر۔‘‘
بیچ کے برتھ سے عورت نیچے اترنے لگی تو لڑکے خاموش ہوگئے۔ کشیپ صاحب نے بھی اپنی جسم کو ہاتھ سمیت اوپر کھینچ لیا ۔ ان کی نظر اب بھی اس چِٹ پر نہیں گئی تھی جو اس عورت نے ان کے ہاتھ پر چپکائے تھے۔ وہ آنکھیں بند کر کے اپنے ہی خیالوں میں گم رہے۔ ان کے کانوں میں لڑکوں کی آوازیں بازگشت کررہی تھیں۔ پتہ نہیں کب وہ سوگئے اور کب تک سوتے رہے۔ اس وقت جاگے جب ائیرکنڈیشنڈ اپارٹمنٹ کے ایٹینڈنٹ (Attendent) نے انھیں جھنجھوڑا۔
’’ صاب! ممبئی آگیا۔ اٹھو۔‘‘
کشیپ صاحب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔ انھوں نے اپنا سامان اٹھانا شروع کیا اور اسی وقت ان کی نظر اپنے ہاتھ پر لگے چِٹ پر پڑی جس میں لکھا تھا، ’’دو منٹ بعد میں باتھ روم میں جاؤں گی۔ اگر موڈ ہے تو پانچ منٹ بعد آجانا، لیفٹ والے باتھ روم میں۔‘‘ کشیپ صاحب حیرانی سے اس چِٹ کو دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے کچھ یاد کرنے کی کوشش کی تو یاد آیا کہ ان کے بیچ والی برتھ میں ایک عورت تھی۔ انھوں نے پورے کمپارٹمنٹ میں نظر ڈالی جو تقریباً خالی ہوچکی تھی۔ انھیں ایک غیر متوقع احساس نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ بدقسمتی سے انھوں نے ایک سنہرا موقع گنوا دیا۔ وہ تیزی سے ٹرین سے باہر نکلے اور اس عورت کی تلاش میں ادھر اُدھر نظریں دوڑانے لگے۔
ممبئی کا چھتر پتی شیواجی ریلوے اسٹیشن اس وقت آدمیوں کا جنگل بنا ہوا تھا۔ ’’دھکم پیل‘‘؛ کسی نے ان کے کانوں میں سرگوشی کی۔ انھوں نے اس عورت کاخیال اپنے ذہن سے جھٹک دیا اور خود کو پلیٹ فارم پر انسانوں کے بہتے ہوئے سیلاب کے سپرد کردیا۔ لیکن دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے چاروں طرف سے دھکے لگ رہے تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں اتنے دھکے نہیں کھائے تھے ، حتیٰ کہ نوکری حاصل کرنے کے لیے بھی نہیں۔ انھوں نے ممبائیکر کے دھکوں سے بچنے کے لیے خودکو ریسٹ روم کی دیوار سے چپکا دیا۔ ایک بوڑھا گھاٹی(دیہاتی) بھی پہلے سے اسی حکمت عملی کے تحت وہاں چپکا ہوا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ بوڑھے کی آنکھوں میں کشیپ صاحب کے لیے ہمدردی تھی۔ انھیں اپنے آپ سے نفرت محسوس ہونے لگی۔ ’’ممبائیکر اور جوکر‘‘ کا قافلہ ان کے پاس سے گذرتا رہا۔
اچانک کشیپ صاحب کے دماغ میں ’’انقلاب ‘‘ یا ’’بغاوت‘‘ قسم کی کوئی چیز ابلنے لگی۔ ان کے چہرے کے تاثرات بدلنے شروع ہوگئے۔ انھوں نے اس ریسٹ روم کی دیوار سے چپکے چپکے ہی اس کے دروازے کی طرف کھسکنا شروع کردیا۔
تھوڑی سی جد وجہد کے بعد وہ ریسٹ روم کے اندر ایک شیشے پر خود کو نہار رہے تھے ۔ اچانک سریش کی آواز ان کے کانوں میں گونجنے لگی، ’’کہاں سے شروع کروں؟ آپ کی اس نتھو رام کی آبائی مونچھوں سے یا آپ کے اس خاندانی یونیفارم سے؟ بڑی cute لگتے ہیں آپ ۔ چِرکُٹ۔‘‘ ان کے کانوں اور دماغ میں بہت دیر تک دھماکے ہوتے رہے، پھر سب کچھ شانت ہوگیا۔ انھوں نے اپنے بیگ سے شیونگ کا ڈبہ باہر نکالا اور تھوڑی دیر میں وہ بالکل بدل چکے تھے۔
انھیں ایسا محسوس ہو رہاتھا کہ ان کا یہ دوسرا جنم ہو۔ ان کے چہرے پر غضب کی خود اعتمادی عود آئی تھی۔ پلیٹ فارم پر آدمیوں کا سیلاب اب بھی رواں دواں تھا۔ وہ بوڑھا گھاٹی اب بھی دیوار سے ویسے ہی چپکا ہوا بھیڑ گذر جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ کشیپ صاحب نے اپنا سامان اٹھایا اور بڑے ہی پرسکون انداز میں خود کو اس سیلاب کے حوالے کردیا۔ اب وہ خود بھی اپنے ارد گرد چلنے والوں کو ادھر اُدھر دھکیل کر آگے بڑھ رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھاجیسے وہ ان چیزوں کے عادی ہوں۔ جلد ہی وہ اسٹیشن کے باہر پہنچ گئے۔ ایک ٹیکسی ان کے سامنے رکی۔ کشیپ صاحب نے رعونت کے ساتھ ڈرائیور کو حکم دیا؛ ’’سامان اٹھا۔‘‘
ٹیکسی اسٹارٹ کرتے ہوئے ڈرائیور نے ان سے پوچھا، ’’ ممبئی دیکھنے آئے ہیں صاب؟‘‘
’’ممبئی تو کئی بار دیکھی ہے ہم نے۔ لیکن ممبئی نے ہمیں کبھی نہیں دیکھا۔ اس بار دیکھے گی۔ تیندولکر، گاوسکر ، کشیپ کر۔‘‘


اللہ ملائی جوڑی ، ایک اندھا ایک کوڑھی

"Care to join me, Goodfellow?"
Oh, ice-boy. A moonlight stroll with you? Do you even have to ask?"

- Julie Kagawa, The Lost Prince

آدمی چاہے جتنا بھی اصول پسند کیوں نہ ہو، اسے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر شخص کی گرہیں مختلف ہوتی ہیں اور انھیں کھولنے کے منتر بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ کشیپ صاحب جب انجینئر انکلیو کی سوسائٹی آفس پہنچے تو وہ فیصلہ نہیں کرپائے کہ کیا وہ واقعی اس وقت اپنی مطلوبہ جگہ پر کھڑے ہیں یا کسی مندر میں؟ اندر سے پوجا ارچنا کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔ چار وناچار کشیپ صاحب نے ادھ کھلے دروازے کی گھنٹی پر انگلی رکھ ہی دی۔ پھر تھوڑی ہمت اور کی ، انھوں نے اس ادھ کھلے دروازے کو مزید کھول دیا۔ اندر کا نظارہ گھر اور مندر کا امتزاج پیش کررہا تھا، آفس تو قطعی نہیں لگ رہا تھا۔ ایک بڑے سے شیولنگ کے سامنے ایک تقریباً پچاس سالہ شخص ہاتھ جوڑے ’’اوم جے جگدیش‘‘ کا جاپ کررہا تھا۔ کشیپ صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ یہ سوسائٹی کے منیجر بھٹ صاحب ہی ہیں۔ بھٹ صاحب شاید کچھ دیر پہلے ہی اشنان سے فارغ ہوئے تھے۔ ان کی کمر پر ایک بھیگا ہوا تولیہ لپٹا ہوا تھا،اس کے علاوہ جسم پر کچھ نہ تھا۔ کشیپ صاحب نے کھنکھارا اور انھیں آوازدی’’بھٹ صاحب!‘‘
بھٹ صاحب نے ایک نگاہ غلط ان پر ڈالی اور دوبارہ پوجا میں لگ گئے۔
’’جو دھیاوے پھل پاوے، دکھ وناشے من کا...سکھ سمپتی گھر آوے ، کشٹ مٹے تن کا... کہیے؟‘‘
منتروں کے ساتھ بھٹ صاحب نے ’’کہیے‘‘ اس طرح کہا تھا جیسے وہ بھی منتر کا حصہ ہو ۔ کشیپ صاحب کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید نوٹس ہی نہیں کرپاتا ۔
’’جی، میں اپنے بنگلے کی چابی لینے آیا تھا۔‘‘
بھٹ صاحب پوجا کی تھالی ہاتھوں میں لیے کشیپ صاحب کے پاس آئے ، ان کی زبان سے اب تک منتر جاری تھے۔ کشیپ صاحب نے موقع کی مناسبت دیکھتے ہوئے عقیدت کا اظہار کیا۔
’’مات۔پتا تم میرے، شرن گہون میں کس کی... تم بن اور نہ دوجا، آس کروں میں جس کی...پیپر...پیپر۔‘‘
مستعد کھڑے کشیپ صاحب نے الاٹمنٹ پیپر فوراً بڑھا دیے۔ بھٹ صاحب نے کاغذات کا باریکی سے معائنہ کیا۔
’’یہ اے۔کشیپ کون ہے؟‘‘
’’جی، میں ہی ہوں۔‘‘
’’لیکن ہم سے تو کہا گیا تھا کہ ریلوے کا کوئی انجینئر آئے گا؟‘‘
کشیپ صاحب تلملا کر رہ گئے لیکن مصلحتاً صبر سے کا م لیا، ’’جی، وہ میں ہی ہوں۔‘‘
بھٹ صاحب نے انھیں سر سے پاؤں تک تفتیشی نگاہوں سے دیکھا، ’’بیوی کہا ں ہے؟‘‘
اس سے پہلے کہ کشیپ صاحب جواب دیتے، بھٹ صاحب منتر جاپ کرتے ہوئے باہر نکل آئے اور ادھر اُدھر نظر دوڑائیں ، لیکن جب مسز کشیپ آئی ہی نہیں تھیں تو وہ نظر کیسے آتیں۔ کشیپ صاحب نے صفائی پیش کی، ’’وہ Next Week آئیں گی۔‘‘
بھٹ صاحب منتر بھول بھال کر پھٹ پڑے، جیسے یہ جواب ان کے لیے حسب توقع رہا ہو، ’’نیکسٹ ویک آئیں گی، نیکسٹ منتھ آئیں گی، نیکسٹ ائیر آئیں گی...یہی کہہ کر کئی بار چھٹے سانڈ آ جاتے ہیں یہاں...چھٹے سانڈ سمجھتے ہو نا؟...Bloody Bachelors ۔‘‘
اسی دوران ایک جوان اور ماڈرن لڑکی وہاں سے گذری جس نے جینس کو کمر کے اتنا نیچے پہن رکھا تھا کہ اس کی سرخ پینٹی (panty) باہر چھلک اٹھی تھی۔ وہ موبائل پر کسی سے بات کررہی تھی۔ کشیپ صاحب کو لگا کہ اس نے انھیں مسکرا کر دیکھا تھا لیکن بھٹ صاحب کا چہرہ لڑکی کی پینٹی سے زیادہ سرخ بلکہ سیاہ ہوگیا۔
’’جہاں ایسی پھلجھڑیاں گھومیں گی ، وہاں سالے چھٹے سانڈ ہی آئیں گے۔ انھیں دیکھ کر دل کرتا ہے کہ ان کی آدھی کھسکی ہوئی پتلونیں پوری نیچے کھینچ کے، ان کی....‘‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنا خطرناک جملہ مکمل کرتے، کشیپ صاحب نے انھیں ٹوکا، ’’بھٹ صاحب! ہماری مسز آ رہی ہیں‘‘، پھر انھوں نے طنز آمیز انداز میں کہا، ’’آپ چاہیں تو ہم لکھ کے دے سکتے ہیں...میں تو سوچ رہا تھا کہ ان کے آتے ہی آپ جیسے کسی دھارمک مہا پرش سے گھر میں ستیہ نارائن بھگوان کی کتھا کرادوں۔‘‘
’’آپ ہمارے مزاج کے آدمی لگتے ہیں۔ وہ سامنے والے بنگلے پر پہنچیے ، میں چابیاں لے کر آتا ہوں۔‘‘
کشیپ صاحب جانتے تھے کہ ایسے سنکی لوگوں کو کیسے رام کیا جاتا ہے، لیکن بھٹ صاحب کی شخصیت کی گرہ اتنی ڈھیلی بھی نہیں تھی جو پہلی ملاقات ہی میں کھل جاتی۔ انھوں نے کشیپ صاحب کے بنگلے کا تالا کھولتے ہوئے ایک اور سوال دے مارا۔
’’آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کس ٹائپ کے انجینئرہیں؟‘‘
کشیپ صاحب اس بیہودہ سوال سے چکراگئے، ’’کس ٹائپ کا انجینئر ہوں؟ کتنے ٹائپ کے انجینئر کو آپ جانتے ہیں؟‘‘
’’جناب! انجینئر انکلیو نے ہمیں اپنا منیجر بنایا ہے تو ہماری قابلیت کو دیکھ کر ہی بنایا ہوگا نا؟‘‘
’’اوکے۔ تب تو آپ CWR سمجھتے ہی ہوں گے...Continuous Welded Rail?...تو اس کو انسٹال کرنے سے پہلے Tensil Stress ، Compressive Stress جیسے factors کو ماپ کر کے ٹریکس ریل Neutral Temperature پر laid ہوں، یہ سپرویژن جس ٹائپ کے انجینئر کرتے ہیں، میں اسی ٹائپ کا ہوں۔‘‘
کچھ دیر تک بھٹ صاحب ساکت و صامت منھ کھولے ان کا چہرہ دیکھتے رہے ، پھر انھوں نے ایک جھرجھری لی۔
’’اوکے۔ اوکے۔ ویسے آپ لوگوں کے چہرے سے آپ کی گہرائیوں کا پتہ لگانا مشکل کام ہے، جیسے وہ لڑکا جو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں پانچ کروڑ جیت کے چلا گیا؟ ‘‘ انھوں نے غضب کی پھرتی سے موضوع بدلا، ’’ایک اور مست آدمی رہتے ہیں اس انکلیو میں، جوہر بھائی...آپ ہی کے ملک والے ہیں...چلیے ملوا دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں۔ مجھے اپنے ملک والوں میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے...مطلب پھر کبھی۔‘‘
’’ارے چلیے بھی، آپ سے ایک بنگلے چھوڑ کر ہی تو رہتے ہیں۔‘‘
’’یہ بغل والا بنگلہ کس کا ہے؟‘‘
بھٹ صاحب کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گذر گئے، لیکن ان میں دہشت کا رنگ کافی نمایاں تھا، ’’شش...شش...پلیز یہ مت پوچھیے۔ بعد میں...بعد میں بتاؤں گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’ارے بات سمجھیے جناب۔‘‘
کشیپ صاحب نے دروازے پر لگی نیم پلیٹ کو پڑھنے کی کوشش کی، ’’کون ہیں یہ مسز رابنسن؟‘‘
بھٹ صاحب نے وہاں پڑا ایک کاغذ اٹھایا اور اس پر کچھ لکھ کر کشیپ صاحب کو پکڑا دیا۔
کشیپ صاحب نے با آواز بلند پڑھا، ’’مینٹل کیس ہے؟‘‘
بھٹ صاحب نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ایک بڑے منھ والا کتا بھونکتا ہوا مسز رابنسن کے بنگلے سے باہر نکلا اور بھٹ صاحب کی طرف لپکا۔ بھٹ صاحب چیختے چلاتے بھاگے، ’’بولا نہیں تھا...بس لکھا تھا...لکھنا بھی پاپ ہے کیا؟‘‘
کتے نے بھٹ صاحب کا تعاقب ان کے گھر تک کیا۔ کشیپ صاحب جو حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، جب کتے کو اپنی طرف پلٹتے دیکھا تو ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا اور جلدی سے اپنے بنگلے کے اندر کھسک لیے۔
بنگلے کی سجاوٹ دیکھ کر کشیپ صاحب کی بانچھیں کھل گئیں۔ انھیں یہ بنگلہ اس شہر گناہ (Sin City) کا ایک بیش قیمت تحفہ محسوس ہوا۔ خوب صورت مسہری کو دیکھ کر انھیں کئی خواب ستانے لگے جنھیں وہ اس شہر میں پورا کرنا چاہتے تھے۔ صوفہ پر بیٹھے تو اس کے ملائم گدے نے انھیں کسی اور دنیا میں اچھال دیا۔ چاروں طرف انھیں کمر سے نیچے کھسکی ہوئی پتلونیں نظر آنے لگیں اور اپنا بنگلہ ’حرم‘ محسوس ہونے لگا۔
پتہ نہیں کب تک کشیپ صاحب اپنے تصورات کی دنیا میں گم رہتے، لیکن موبائل کی گھنٹی انھیں حقیقی دنیا میں کھینچ لائی۔ انھوں نے موبائل کے ڈسپلے پر نظر ڈالی، ان کی بیوی کا فون تھا۔ انھوں نے برا سا منھ بنایا اور فون ریسیو کیا۔
’’کیا ہے؟‘‘
’’بمبئی پہنچ گئے؟‘‘
’’بمبئی کی ٹرین پکڑی تھی تو بمبئی نہیں پہنچیں گے تو کیا کنیا کماری پہنچیں گے؟‘‘
’’کوئی فلم اسٹار نظر آیا؟ وہاں تو کہتے ہیں کہ ایسے ہی نظر آ جاتے ہیں، راستے میں؟‘‘
’’ہاں! شاہ رخ خان آیا تھا ہم کو اسٹیشن پر لینے کے لیے۔‘‘ کشیپ صاحب جھنجھلا گئے۔
’’بچوں کے بغیر اچھا نہیں لگ رہا ہوگا نا؟‘‘
اسی وقت کشیپ صاحب کے دماغ میں ایک آئیڈیا بجلی بن کر کوندا۔انھوں نے اپنا لہجہ قدرے نرم کرلیا؛ ’’ہاں اچھا تو نہیں لگ رہا ہے۔ پورے راستے آپ لوگوں کی یاد آتی رہی۔ سوچتا رہا کہ آپ لوگوں کا ٹکٹ بھی کنفرم نہیں ہے، کیسے آئیے گا؟ ...سنیے، ایک کام کیجیے؛ چندن سے بول کے ٹکٹ کینسل کرادیجیے۔ میں یہاں سے دیکھتا ہوں ، جس تاریخ کا بھی کنفرم ٹکٹ ملتا ہے، کرادیتا ہوں۔ تب تک آپ لوگ وہیں رہیے، آرام سے۔ میں چتر ویدی کو بول دوں گا کہ وہ گھر ہم ابھی خالی نہیں کر رہے ہیں۔‘‘
’’ارے ٹکٹ کا ٹینشن مت لیجیے ۔ چندن نے آپ کے جاتے ہی سیدھا DRM سے کنفرم کرالیا ہے۔‘‘مسز کشیپ نے بری خبر سنائی۔
کشیپ صاحب نے دل ہی دل میں چندن کو گالی سے نوازا، پھر مزید فکرمند ہونے کا ناٹک کیا، ’’اچھا ہاں، بچوں کی ٹی۔سی۔ کا معاملہ بھی تو ہے۔ جلد بازی میں کوئی گڑبڑ ہوگئی تو یہاں ان کے ایڈمیشن میں پرابلم ہوگی۔ میں دیکھتا ہوں، جیسے ہی چھٹی ملتی ہے، وہاں آکر...‘‘
’’ہو گئی...ٹی۔سی۔بھی مل گئی۔‘‘
’’مل گئی؟ لیکن وہ شفٹنگ کا اتنا سارا سامان بھی تو ہے نا؟ کیسے کیجیے گا یہ سب اکیلے آپ؟‘‘
’’سب ٹرک میں لوڈ کرارہی ہوں۔ یہ لوگ بول رہے ہیں کہ بھابھی جی اگلے ہفتے آپ کے ساتھ ہی ٹرک بھی وہاں پہنچ جائے گا۔‘‘
’’اگلے ہفتے؟ میں کیا بول رہا تھا کہ اپنے سارے رشتے دار تو اُدھر ہی ہیں۔ ایک بار ممبئی آگئے تو ان سے کہاں مل پائیں گے۔ ابھی ٹائم ہے تو سب سے ملتی آؤ۔‘‘ کشیپ صاحب نے آخری بار کوشش کی۔
’’یہ لو، الٹا سارے رشتے دار ممبئی آنے کی تیاری میں ہیں۔ تائی جی بولیں کہ سمن جس دن تم نے بتایا کہ تم بمبئی جا رہی ہو، اسی رات سپنے میں سدھی ونایک نظر آئے۔ اب دیکھو بپّا اپنے بھگتوں کو کیسے بلاتے ہیں۔ سدھی ونایک کتنی دور ہے اپنے گھر سے؟‘‘
’’پتہ نہیں۔ اب چلو فون رکھو۔ ایس ٹی ڈی کا بل آ رہا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے غصے میں تقریباً موبائل پٹک ہی دیا۔ ان کی کوئی حکمت عملی کام نہیں آئی۔ وہ جھنجھلا کر باتھ روم گئے، لیکن وہاں پانی نہ دیکھ کر ان کی کھسیاہٹ میں اضافہ ہوگیا۔ انھوں نے ایک بالٹی اٹھائی اور بھٹ صاحب پر اپنا غصہ اتارنے کے لیے چل پڑے۔ لیکن دور سے ہی انھیں بھٹ صاحب ایک نوجوان لڑکے سے پٹتے نظر آئے۔ وہ لڑکی بھی وہیں کھڑی تھی جس کی سرخ پینٹی پر بھٹ صاحب نے فقرہ کسا تھا۔ کشیپ صاحب سمجھ گئے تھے کہ معاملہ کیا ہے، انھوں نے فوراً راستہ بدل دیا۔ وہ مسز رابنسن کے بنگلے پر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر سے کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ کشیپ صاحب جلدی سے تیسرے بنگلے کی طرف بڑھ گئے اور ساتھ ہی ساتھ بڑ بڑاتے بھی جا رہے تھے، ’’کرُو لوگ دنیا داری پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ جتنے زیادہ رشتے جوڑوگے، اتنے ہی بندھوگے۔ ممبئی میں ہمیں ملک والی کوئی غلطی نہیں دہرانی تھی ، اس لیے یہ ملک والے صاحب کو ہم avoid کرنا چاہتے تھے لیکن پانی کے پرابلم نے ا ن کے گھر کی گھنٹی بجانے پر مجبور کردیا۔ ‘‘
اس بنگلے کے نیم پلیٹ پر ’’کے۔ جوہر‘‘ لکھا ہوا تھا۔ دروازہ کھلا اور کشیپ صاحب کا ہم عمر لگنے والا ایک موٹی مونچھوں اور کھچڑی بالوں کے ساتھ ایک شخص نمودار ہوا۔ وہ سفید پاجامہ اور بنیان پہنے ہوئے تھے۔ اس کے بغل کے بالوں کے گچھے باہر لٹک رہے تھے۔ کشیپ صاحب کو کراہیت کا احساس ہوا لیکن مجبوری نے اسے بھی گوارا کرلیا۔
’’نمس...‘‘ کشیپ صاحب نمستے کرتے کرتے رک گئے، پھر پورے’’ کشیپ۔کر ‘‘ والے انداز میں مخاطب ہوئے، ’’ہائے! کشیپ...مائی سیلف اے۔کشیپ۔‘‘
جوہر کا منھ گٹکے سے بھرا ہوا تھا، نہیں کھل پایا تو اس نے سر کی جنبش سے ہی کام لے لیا۔
’’ہم یہاں پچیس نمبر میں ابھی ابھی آئے ہیں۔ There is some problem in water supply, so I thought to check..."
جوہر ایک قدم آگے بڑھا اور لان میں ایک زوردار پچکاری ماری۔ کشیپ صاحب نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔ جوہر اب کھل کر مسکراسکتا تھا۔
’’پتہ تھا، آپ ہی ہوں گے۔ ابھی بھٹ صاحب کا فون آیا تھا، بولے کہ بھئی انکلیو میں آپ کے ملک والے آئے ہیں۔ میں نے کہا ، بھٹ صاحب! ملک مطلب دیش ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے انکلیو میں سب ہمارے ملک والے ہی ہیں۔ آئیے۔ آئیے۔‘‘
’’جی پھر کبھی...ہم بس...‘‘
’’ارے آئیے بھی...تو بھٹ صاحب بولے کہ آپ کے گاؤں والے ہوں گے۔ میں نے کہا ، بھٹ صاحب میں الہٰ آباد کا ہوں اور الہٰ آباد گاؤں نہیں ہے...یہاں ممبئی میں لوگ گاؤں کا مطلب نہیں سمجھتے...دلّی کو بھی گاؤں بولتے ہیں...بیٹھیے نا، میں ذرا کلی کر کے آتا ہوں۔‘‘
کشیپ صاحب نے کمرے میں نظر یں دوڑائیں۔ ساری چیزیں بے ترتیب حالت میں تھیں۔ کمرہ کیا تھا، کباڑ خانہ تھا۔ عریاں اور نیم عریاں تصویروں والے کئی رسالے پڑے ہوئے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل پر ایک لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا جس پر جوہر کا فیس بک پروفائل کھلا ہوا تھا۔ جوہر تیزی سے باہر لوٹا، ’’سوری کشیپ صاحب، گاؤں میں تھا تو کھینی کا شوق پال لیا ...اسے چھوڑنے کے لیے انجینئرنگ کالج میں سگریٹ پکڑ لی...پھر سگریٹ چھوڑنے کے لیے پان کا سہارا لیا،اور پان چھوڑنے کے لیے گٹکا... سالا چھوٹا کچھ نہیں، چار چار شوق جان کو لگ گئے...آپ کیا لیں گے؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ ہم تو بس پانی کے بارے میں پوچھنے آئے تھے...بنگلے میں پانی نہیں آ رہا ہے...‘‘کشیپ صاحب کو جوہر سے زیادہ پانی میں دلچسپی تھی۔
’’آپ کے ہاتھ میں بالٹی دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا۔دراصل آپ کا بنگلہ بند پڑا تھا، اس لیے سپلائی knob بند کردیا ہوگا۔ باہر لان میں آپ کو ایک لال رنگ کا knob نظر آئے گا۔ اسے کھول دیجیے گا، پانی آ جائے گا۔‘‘
کشیپ صاحب کا کام ہوچکا تھا، اس لیے اٹھ کھڑے ہوئے، ’’اوہ۔ تھینک یو۔ چلتے ہیں۔‘‘ لیکن جوہر نے ان کا ہاتھ اپنائیت سے پکڑ لیا۔
’’ارے یہیں فریش ہو جائیے، کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی سپلائی چالو کریں گے تو پتہ نہیں ٹنکی کب بھرے گی اور کب نلکوں سے پانی اترے گا۔‘‘
کشیپ صاحب نے کمزور لہجے میں معذرت کی، ’’نہیں ۔ آپ لوگوں کو خواہ مخواہ تکلیف ہوگی۔‘‘
جوہر نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا، ’’آپ لوگ؟ میں یہاں اکیلا ہوں بھئی۔‘‘
’’بیچلر (Bachelor)ہیں؟‘‘
’’ارے یہ سالے بیچلروں کا کہاں مکان دیتے ہیں۔ وائف پونہ میں ٹیچر ہے، بیٹا بھی وہیں پڑھ رہا ہے...ان کا پانچ دنوں کا ہفتہ ہوتاہے...جمعہ کی شام کو یہاں چلے آتے ہیں اور سموار کی صبح رخصت...اس درمیان صرف میں اور میری تنہائی۔‘‘ جوہر نے ہنستے ہوئے کہا، ’’آئیے ، باتھ روم دکھا دیتا ہوں...آئیے بھی...No fromalities please ۔‘‘
کشیپ صاحب کیا کرتے، ایک تو غسل کرنے کی شدید خواہش اور دوسرے جوہر کا پر خلوص اصرار، باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔ اگرچہ انھوں نے اس طرح تو غسل نہیں کیا جس طرح وہ اپنے باتھ روم میں پرسکون انداز میں کرتے ہیں، کیوں کہ مثل مشہور ہے، ’’اپنا گھر ہگ بھر، پرایا گھر تھوک کا ڈر۔‘‘خیر، اتنا بھی کیا کم تھا کہ سفر کی تکان اتار لی۔ باتھ روم سے باہر نکلے تو کشیپ صاحب نے کمرے میں نمایاں تبدیلی محسوس کی۔ ٹیلی ویژن پر اب Ftv کی جگہ ڈسکوری چینل نظر آرہا تھا اور عریاں تصویروں والے رسالوں کی بجائے وہاں ’’سائنس ٹو ڈے‘‘ اور "Shipping Mannuals" دکھائی دے رہے تھے، حتیٰ کہ لیپ ٹاپ بھی بند پڑا تھا۔ کشیپ صاحب کے ہونٹوں پر ایک شرارت بھری مسکراہٹ دوڑ گئی۔
’’وائف پونہ میں اور آپ یہاں...مطلب یہ کہ آپ کی عیش ہے، کیوں؟‘‘
جوہر نے ان کی طرف چائے کی پیالی بڑھاتے ہوئے تائید کی، ’’جی ہاں، مطلب زندگی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ہم مرین انجینئرس (Marine Engineers) کے کھیل کا اصل میدان تو Dockyard ہوتا ہے۔ آج کل کمپنی نے کچھ زخمی Catamarans بھیجے ہوئے ہیں، تو انھی سے کھیل رہے ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے انھیں غور سے دیکھا، ’’ کھیلنے کے لیے آپ کے ڈاک یارڈ پر صرف Catamarans ہیں یا کچھ Cats وغیرہ بھی ہیں؟ ‘‘
’’Cats ?...ہاں، بلیاں تو رہتی ہی ہیں ڈاکس پر ...مچھلیوں کے چکر میں۔‘‘
کشیپ صاحب نے عریاں تصویروں والی ایک میگزین کو مسہری کے گدے کے نیچے سے باہر کھینچ لیا، ’’ارے ان cats کی کون کم بخت بات کررہا ہے۔‘‘پھر انھوں نے ٹی وی کا ریموٹ اٹھا کر چینل بدل دیا۔ ایک بار پھر اسکرین پر Ftv اپنے جلوے بکھیرنے لگا۔ جوہر کچھ کچھ شرمندہ نظر آ رہا تھا۔
’’ارے یہ تو بس یوں ہی، کبھی کبھی...آج کل وہ پہلے جیسا ماحول نہیں رہا کشیپ صاحب۔ چھوٹے شہروں میں افسر cats کا شکار کر لیتے ہوں گے لیکن یہاں ممبئی میں وہ خود ان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بڑا محتاط رہنا پڑتا ہے، خاص کر آفس میں...کب کون بریکنگ نیوز بن جائے، کسی کو نہیں پتہ۔ بنگلہ، کار، اچھی تنخواہ، عزت؛ پل بھر میں سب خاک ہو سکتا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب کی چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ جوہر کی بات سے متفق ہیں، "You are right, optimum risk of derailment of a train is always in the vicinity of workstations...وہی maximum trap-points ، وہی catch points اور sand drags رہتے ہیں۔ سارے secondary tracks وہیں مین لائن سے جوائن ہوتے ہیں نا۔‘‘
’’جی ہاں، اسی لیے میں کبھی کبھی یہ چینل اور اس طرح کے میگزین دیکھ کر دل کی بھڑاس نکال لیتا ہوں...Just for scientific analysis of the emerging social trends...it keeps your train on track, you see."
کشیپ صاحب نے پہلو بدلا، گفتگو کچھ زیادہ ہی تکنیکی ہوتی جا رہی تھی۔
’’اچھا ایک بات بتائیے، یہاں جو لیڈس بار کا جو سیکسی سوشل ٹرینڈ ہے، اس کے scientific analysis کے لیے کہاں جاتے ہیں؟‘‘
"Ladies Bars are out of social radar, Kashyap sahab"
’’شاید اسی لیے وہ دونوں طرح سےsave ہو گئے ہیں۔ یعنی socially بھی اور scientifically بھی۔آپ جیسے قابل انجینئر کے مائیکرواسکوپک ویژن سے آج تک بچے ہوں، میں نہیں مانتا۔‘‘کشیپ صاحب نے جوہر کو چھیڑا۔
جوہر نے ان کی طرف حیرت سے دیکھا، ’’آپ کا مطلب یہ ہے کہ ممبئی میں آج بھی ڈانس بار چل رہے ہیں؟‘‘
’’اب اتنے معصوم بھی مت بنیے۔ پلیز، اب مجھ سے یہ مت کہیے گا کہ آپ کو اس پیراڈائز ہوٹل کے گرما گرم اڈے کے بارے میں بھی پتہ نہیں ہے جس کی انٹری اس کے باہر بیٹھا چورسیا پان والا دلاتا ہے، دو سو روپے کے پان کے بدلے میں؟‘‘
’’سچ مچ؟ ہاں، شاید مجھے پتہ ہے اس پیراڈائز ہوٹل اور اس پان والے کے بارے میں۔‘‘
’’تو پھر ہوجائے آج شام؟ آفس کے بعد؟‘‘
جوہر فکرمند نظر آرہا تھا ، تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے کندھے اچکائے۔
’’نہیں۔ Safe ہے تو کیا ہوا، شوشل اسٹیٹس (social status) بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ میں ایک reputed institution سے تعلیم یافتہ انجینئر ہوں، کسی ایرے غیرے ادارے کا ڈپلوما ہولڈر نہیں ہوں۔ پان کھاتا ہوں لیکن ایک پان والے کے level تک نہیں گر سکتا۔ آپ جائیے ، taste is a variable not a constant ۔ معاف کیجیے گا، لیکن میرے ذوق تھوڑے اونچے درجے کے ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب اس براہ راست وار سے سٹپٹا سے گئے، انھوں نے یہاں سے کھسک لینا ہی مناسب سمجھا۔
’’ہم چلتے ہیں۔ آپ کو بھی آفس کے لیے نکلنا ہوگا۔ ویسے for your kind information، ہم بھی کسی ایسی ویسی یونیورسٹی کے ڈپلوما ہولڈر نہیں ہیں۔‘‘
’’ارے کشیپ صاحب، آپ تو برا مان گئے ...میں تو بس ایک عام بات کر رہا تھا اور...‘‘
’’ہم بھی بس آپ کے variables چیک کررہے تھے۔‘‘
جوہر نے چونک کر ان کی طرف دیکھا، ’’مطلب آپ شام کو وہاں نہیں جا رہے ہیں؟‘‘
’’بھائی صاحب! آپ کے شہر کا میٹرو پروجیکٹ رکا پڑا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ ہمیں ان چیزوں کے لیے فرصت ملے گی؟ ویسے آپ سے مل کر سچ مچ خوشی ہوئی۔ ‘‘
کشیپ صاحب دروازے کی طرف بڑھے ۔ وہاں پاس ہی میں ایک ٹفن پڑا ہوا دیکھ کر مسکرائے، ’’آپ کھانا گھر سے ہی لے جاتے ہیں آفس؟‘‘
’’جی ہاں،ہمیشہ۔ باہر کے کھانے پر آپ بھروسہ نہیں کرسکتے۔‘‘
کشیپ صاحب نے جوہر کے سراپا پر ایک نظر ڈالی اور مسکرائے، ’’آپ کی یہ مونچھیں کمال کی ہیں۔ لگتا ہے وراثت میں ملی ہیں؟‘‘
’’جی ہاں، ہمارے خاندان میں مونچھوں کی روایت ہے۔ لیکن صرف مردوں میں۔ ‘‘ جوہر بولتاہوا ہنس پڑا۔ لیکن کشیپ صاحب نے اس کی ہنسی کا ساتھ نہیں دیا، صرف مسکرانے پر اکتفا کیا، ’’ان مونچھوں میں آپ بڑے cute لگتے ہیں۔‘‘
’’تھینک یو۔‘‘
کشیپ صاحب باہر نکلے تو ان کے چہرے پر شدید ناگواری کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، وہ بڑبڑائے، ’’چِرکُٹ‘‘۔اپنے بنگلے کے لان پر پہنچے تو ان کے بڑبڑانے کی آواز تھوڑی بلند بھی ہو گئی۔
’’اس گدھے جوہر کو دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ ہم لوگوں کو کیوں ’انڈا‘ نظر آتے ہیں۔ بالکل صحیح وقت پر مونچھیں صاف کردیں آپ نے کشیپ صاحب۔ اب جلدی جلدی تھوڑا اسکور (score) بھی بنائیے، کب تک سالا ایک رن پر ناٹ آؤٹ رہیں گے۔‘‘
انھوں نے بنگلے کے لان میں پانی سپلائی کی ٹونٹی کھولی تو پانی اتنی تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف دوڑ پڑا کہ اس کی سنسناہٹ آواز پوری فضا میں بکھر گئی۔



ناچے بامن دیکھے دھوبی

We two boys together clinging,
One the other never leaving,
Up and down the roads going,
North and south excursions making,
Power enjoying, elbows stretching, fingers clutching,
Arm’d and fearless, eating, drinking, sleeping, loving.
Now law less than ourselves owning, sailing, soldiering, thieving, threatening,
Misers, menials, priests alarming, air breathing, water drinking, on the turf or the sea-beach dancing,
Cities wrenching, ease scorning, statutes mocking, feebleness chasing,
Fulfilling our foray.
Walt Whitman -

عیاشی کا صحیح مطلب ممبئی والوں ہی کو معلوم ہے۔ رنڈی بازی کس شہر میں نہیں ہوتی، بڑے شہروں سے لے کر قصبوں تک یہ دکانیں چوری چھپے رات کے اندھیرے میں جگنوؤں کی طرح چمکتی مل جاتی ہیں۔ ظاہر ہے میٹرو شہروں میں یہ زیادہ منظم صورتوں میں ملتی ہیں۔ یوں تو اب بھی کہیں کہیں روایتی مجرے سننے دیکھنے کو مل جاتے ہیں لیکن ممبئی کے جیالوں نے اسے جس طرح ڈانس بار کی شکل میں ترقی دی، اس کی نظیر ملک بھر میں ملنی مشکل ہے۔ ان ڈانس باروں کی شہرت اور ان کے عاشقوں کا ہجوم دیکھ کر ایک زمانے میں اس حقیقت کی تصدیق ہوجاتی تھی کہ لوگوں کو جسموں کے پیچ و خم اور گہرائی و گیرائی میں اترنے چڑھنے سے کے مقابلے عشوہ طرازیاں زیادہ پسند ہیں ، جس کے لیے وہ ہر رات ہزاروں نہیں، لاکھوں لٹا سکتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اتنے لٹے کہ فٹ پاتھ پر آگئے اور فٹ پاتھ پر بیٹھی رنڈیاں ڈانس بار میں پہنچ کر کئی عالیشان فلیٹوں کی مالک بن گئیں۔ شاید یہ مرد کی فطرت میں ہے کہ وہ abuse ہونا پسند کرتا ہے، اور یہ فطرت دور قدیم سے آج تک قائم ہے، بس نوعیت میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔
کشیپ صاحب بھی مرد تھے اور انھیں بھی abuse اور seduce ہونے اور کرنے کا پوراحق حاصل تھا، یہ الگ بات ہے کہ انھیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب ممبئی کے ڈانس بار پر ریاستی حکومت نے تالا جڑ دیا۔ اگرچہ یہاں آج بھی فارس روڈ، فاک لینڈ اور بچو بھائی کی واڑی وغیرہ جیسی کئی بامراد بستیاں روشن ہیں لیکن یہاں ’اول طعام بعدہٗ کلام‘والا نسخہ ہی چلن میں ہے، یہ الگ بات ہے کہ طعام کے بعد بھی یہاں کلام کی نوبت نہیں آتی، دسترخوان بڑھا دیا جاتا ہے۔اس لنگر کو فروغ دینے کی غرض سے حکومت نے انھیں لائسنس دے رکھا ہے۔ اب چونکہ ڈانس بار ہماری اس شاندار روایت کا حصہ نہیں تھے ، تو انھیں کیوں کر برداشت کیا جا سکتا تھا۔ یوں بھی ہمارے معاشرے کے اخلاقی نظام کی عمارت منافقت کی نیو پر ہی ایستادہ ہے۔
کشیپ صاحب کے لیے یہ نیا تجربہ تھا۔ وہ ڈانس بار میں میک اپ میں لتھڑی ’’بار بالاؤں‘‘ کے حصار کافی پُر جوش نظر آ رہے تھے۔ ان کی پوری کوشش یہی تھی کہ وہ اس جگہ ’’نئے‘‘ نہ لگیں۔ نیا لگنا کئی جگہ باعث شرم بھی ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو دیکھ دیکھ کر ویسے ہی ڈانس کرنے کی کوشش کرر ہے تھے ، اور پھر یہاں کم بخت کس کو ڈانس کرنا آتا تھا۔ ذرا دیر بعد ہی ان کی سمجھ میں آگیا کہ سب ان ہی کی طرح ہیں۔ اس خیال نے انھیں ایسی تھپکی دی کہ وہ آرکسٹرا کے پاس لگے اس سرخ بلب کو بھی نہ دیکھ پائے جو خطرہ بن کر جھلملانے لگا تھا۔وہاں موجود سارے لوگ، سوائے کشیپ صاحب کے، بڑے سے کاؤنٹر کے پیچھے جا چھپے ۔ وہ احمقوں کی طرح وہیں کھڑے کھڑے صورت حال کا جائزہ لینے لگے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے، انھوں نے دیکھا کہ سفید لباس میں پولس کا ایک جتھا اندر داخل ہوا۔ پولس کے ساتھ ڈانس بار کا مالک شیٹی بھی تھا۔
’’دیکھ لو صاب۔ ادھر کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی آپ کو غلط خبر دیا ہوگا۔‘‘ شیٹی نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ پولس انسپکٹرکو مخاطب کیا۔
انسپکٹر نے اس کی سنی ان سنی کردی، اس کی نظر وہاں کھڑے کشیپ صاحب پر پڑی۔
’’کون ہے بے تو؟ یہاں کیا کررہا ہے؟‘‘
کشیپ صاحب کا دماغ ہی تو گھوم گیا تھا، آج تک ان سے اس طرح کوئی مخاطب نہیں ہوا تھا۔ ’’دیکھیے مسٹر، ابے تبے اور تو تڑاک سے تو ہم سے بات مت کیجیے۔ ہم بھی یہاں چورسیا سے دو سو روپے کا پان لے کر آئے ہیں، کوئی مفت میں نہیں آئے۔ سمجھے؟‘‘
شیٹی کی ساری خود اعتمادی دھری کی دھری رہ گئی، وہ بغلیں جھانکنے لگا۔ اس نے جلدی سے کشیپ صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا، ’’ابے تیری تو...‘‘ لیکن پھر موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس نے پینترا بدلا، ’’آپ کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے شاید...دادا، ادھر اب ڈانس وانس کہاں ہوتا ہے۔‘‘ شیٹی نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کشیپ صاحب کو آنکھ مارتے ہوئے چپ رہنے کے لیے کہا لیکن وہ اگر ان کے مزاج سے واقف ہوتا تو ایسی کوشش ہرگز نہ کرتا۔ کشیپ صاحب اور طیش میں آگئے۔
’’آنکھ مت مارئیے ہم کو۔ I am not that type of man ، سمجھے؟ اتنا زوردار ڈانس یہاں چل رہا تھا،پھر پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا کہ سب سالے کاؤنٹر کے پیچھے گھس گئے؟‘‘
شیٹی نے اپنا سر پیٹ لیا لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ انسپکٹر نے اپنے ماتحتوں کو اشارہ کیا اور اگلے ہی پل پولس کا پورا جتھا کاؤنٹر کے پیچھے جھانک رہا تھا۔ ایک کانسٹبل کے منھ سے حیرت زدہ آواز نکلی، ’’ ادھر تو پورا ’کھوپچا‘بنائے لا ہے صاب۔ نکل سالے باہر، کُتریا۔‘‘
سارے لوگ زرد چہرے اور سست قدموں سے باہر آگئے۔ سب کشیپ صاحب کو گھور رہے تھے۔ کانسٹبل اب بھی کسی شخص کو کاؤنٹر سے باہر نکالنے کی کوشش کررہا تھا، انسپکٹر نے اسے آواز لگائی، ’’کیا ہوا،اور کتنے ہیں؟‘‘
’’ایک ہی بچا ہے صاب۔ سالا نکل نہیں رہا ہے ‘‘ ، کانسٹبل نے اس بار کاؤنٹر کے پیچھے چھپے شخص کو گھڑکی لگائی، ’’ سالے نکلتا ہے یا ڈنڈا ڈالوں تیرے اندر؟‘‘
تھوڑی سی جد وجہد کے بعد کاؤنٹر کے پیچھے چھپا شخص باہر نکل آیا جسے دیکھ کر کشیپ صاحب تقریباً اچھل ہی پڑے۔ پھر انھوں نے طنز آمیز نظروں سے جوہر کو دیکھا۔
’’اچھا تو آپ بھی یہاں تشریف رکھتے ہیں؟ کیوں کیا ہوا، آپ کے variables کی value اچانک dip کیسے کرگئی؟ Equation میں کوئی strong constant emerge ہو گیا کیا؟
بے چارہ جوہر تقریباً رو ہی تو پڑا تھا۔ ’’ میری equation آپ کے چکر میں spoil ہوئی ہے مسٹر کشیپ۔ مرین والے جب میکانیکل والوں کی سطح پر آنے کی غلطی کرتے ہیں تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔‘‘
’’آپ مرین والے اتنے time competent ہیں تو sea-link خود ہی کیوں نہیں بنا لیا؟ آپ کی equation نے جن variables کو poil s کیا ہے، وہ external نہیں ہیں بلکہ آپ کے internal constants ہیں۔ constant no.1: denial, number two: self-inflation, number three: ego-biases, number four: false narrative of intention..."
انسپکٹر سمیت وہاں موجود تمام لوگوں کا منھ کھلا ہوا تھا ، شاید ان کے کان اپنا کام کرنا بھول گئے تھے۔ انسپکٹر زور سے چلایا، ’’چووووووپ...دماغ کا دہی کردیا سالوں نے...کیسے کیسے لوگ اب آنے لگے ہیں ایسے اڈوں پر‘‘۔اس نے کانسٹبل کو حکم دیا، ’’سب کا آئیڈینٹی ٹی کارڈ لے اور گاڑی میں بٹھا بہن چودوں کو۔‘‘
گالی سن کر جوہر کے رونے کی آواز مزید بلند ہوگئی تھی۔ لیکن پولس والے ایسی چیزوں کے عادی تھے، لوگوں کو ہوٹل کے باہر کھدیڑنے لگے، درمیان میں حسب توفیق گالیوں سے ان کی تواضع بھی کرتے رہے۔
کشیپ صاحب کے لیے بھی یہ صورت حال نئی اور نازک تھی لیکن کسی مسئلے کے آگے ہتھیار ڈالنا انھوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔وہ تو صرف یہ سوچ رہے تھے کہ پٹری سے اتری ریل کو کس طرح دوبارہ ٹریک پر ڈالا جائے، لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔ انسپکٹر جو دور کھڑا ان سب کی آئی۔ ڈی چیک کر رہا تھا، اس نے انھیں آواز دی، ’’یہ اے۔ کشیپ کون ہے؟‘‘
کشیپ صاحب نے فوراً اپنا ہاتھ اوپر اٹھادیا۔انسپکٹر نے انھیں پہلے تو غور سے دیکھا ، پھر یوں مسکرایا جیسے وہ سرکس کے کسی جانور کو دیکھ کر محظوظ ہو رہا ہو۔
’’ میں سمجھ گیا تھا کہ تو ہی ہوگا۔‘‘پھر اس نے ’’سرکس کے جانور‘‘ کو قریب سے دیکھنے کے لیے قدم بڑھایا، ’’میٹرو کا انجینئرہے؟‘‘
کشیپ صاحب نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’تو میٹرو کا آدمی ہے، اس لیے تیرے کو میں ابھی چھوڑ رہا ہے۔تیرے کو اندر کرے گا تو پتہ نہیں سالا یہ پروجیکٹ اور کتنا کھنچے گا۔ پورے ٹریفک کا پانچ سال سے ’ واٹ‘ لگا کے رکھیلا ہے تم لوگ۔ چل اب نکل، میٹرو پہ دھیان دے۔ ‘‘
’’سر ہمارا ایک فرینڈ بھی ہے وہاں...‘‘
’’پتہ ہے۔‘‘ انسپکٹر نے کانسٹبل کو آواز لگائی، ’’اے ساونت، وہ دوسرے ’پاؤلی کم‘ کو بھی ادھر لے کے آ۔‘‘
پولیس جیپ میں سبکتے ہوئے جوہر کی سسکیوں میں اچانک ایمرجنسی بریک لگ گیا۔ کانسٹبل کے وہاں پہنچنے سے قبل ہی وہ گاڑی سے کود پڑا۔ اب ان آنکھوں میں کشیپ صاحب کے لیے شکایت نہیں بلکہ عقیدت جھلملارہی تھی۔ کشیپ صاحب ان لوگوں میں نہیں تھے جو ’’نیکی کر اور دریا میں ڈال‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے جوہر پر احسان کیا تھا تو اسے اس کا احساس دلانا بھی ان کا فرض بن گیا تھا۔
’’ہماری وجہ سے پھنسے تھے تو ہماری وجہ ہی سے آپ چھوٹے بھی۔‘‘
جوہر چپ چاپ کار ڈرائیو کرتا رہا، خاموشی میں ہی عافیت تھی۔
’’لوگ ٹھیک کہتے ہیں، مرین والوں میں 'Gay-angle' آ ہی جاتا ہے‘‘ اس بار کشیپ صاحب کی ضرب براہ راست جوہر کی عزت نفس پر تھی، ’’ ایک پبلک پلیس میں آپ ایسے عورتوں کی طرح روئیے گا تو پوری انجینئر برادری کی ناک کٹے گی۔‘‘
جوہر کے لیے اب خاموش رہنا مشکل ہوگیا تھا، ’’ادھر پولیس وین میں cheap لوگوں کے ساتھ جب بیٹھے تھے تو بڑی ناک اونچی ہو رہی تھی؟‘‘
’’جوہر صاحب! انھیں cheap نہیں، ’کرُو ‘لوگ کہتے ہیں۔ممبئی کرُو لوگوں کی respect کرتی ہے۔ یہ بولتی ہے، کر...گاوسکر، تندولکر، کشیپ کر...ادھر دو ہی لوگ ہیں، ایک ممبیکر اور دوسرے جوکر۔ اپنا attitude بدلیے جوہر صاحب، ورنہ ابھی تو periodic ٹیبل پر جوہر اور جوکر ایک ہی گروپ کے elements لگتے ہیں۔‘‘
جوہر نے گاڑی میں ایک زور دار بریک لگایا۔ کشیپ صاحب نے اس جارحانہ انداز پر سرزنش کرنے کے لیے جوہر کی طرف دیکھاجو انھی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’آپ کا بنگلہ !‘‘
کشیپ صاحب نے ’ تھینک یو‘ کہہ کر کار کا دروازہ ابھی کھولا ہی تھا کہ جوہر کی آواز نے انھیں روک لیا، ’’ کم سے کم ہم ’سڑک۔ چھاپ۔ کر‘ اور ’شرمندہ۔کر‘ کے elements تو نہیں کہلائیں گے نا مسٹر کشیپ؟...آپ نے ہمارے گھر پر Ftv چلتا دیکھ لیا، کچھ میگزین دیکھ لی اور یہ نتیجہ نکال لیا کہ آپ کی Periodic table کے ہم کون سے element ہیں؟ معاف کیجیے گا لیکن ہم نے مرین انجینئرنگ میں اس سے بہتر scientific study کی ہے۔گڈ نائٹ۔‘‘
کشیپ صاحب مہر بلب گاڑی سے اتر گئے، وہ اتنے دل شکستہ لگ رہے تھے کہ انھوں نے جوہر کے ’’گڈ نائٹ‘‘ کا جواب تک نہیں دیا۔ جوہر کا آخری جملہ تیر بن کر ان کے دل پر ترازو ہوچکا تھا۔ انھوں نے فریج سے بئیر کی ایک ٹن نکالی اور اسے ایک ہی گھونٹ میں پورا خالی کردیا۔ بڑی دیر خالی ذہن بیٹھے رہے لیکن اچانک کچھ ہوا، کیوں کہ ان کی آنکھوں میں زندگی ایک بار پھر جگمگانے لگی تھی۔ وہ اپنا لیپ ٹاپ کھولتے ہوئے بڑبڑائے،’’آپ کو element کہنا Periodic table کی بے عزتی ہے جوہر صاحب۔ elements اوریجنل اور unique ہوتے ہیں لیکن آپ سسرے وہ کمپاؤنڈ ہیں جسے دنیا ’چوتیم سلفیٹ‘ کہتی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے آنکھیں موند کر کچھ یاد کرنے کی کوشش کی۔ دراصل وہ جوہر کے فیس بک کے ہوم پیج کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو انھوں نے اس دن اس کے لیپ ٹاپ پر کھلا دیکھا تھا۔ ذرا دیر بعد ہی انھیں یاد آگیا۔ جوہر کے فیس بک کا پروفائل نام "KJO" تھا ، جس پر ٹائٹینک (Titanic) کی تصویر لگی ہوئی تھی۔
جوہر کے لیے آج کا سانحہ ٹائٹینک ڈوبنے سے کچھ کم نہ تھا۔ شراب کے کئی چھوٹے بڑے پیگ بھی اسے بھلانے میں ناکام ثابت ہوئے۔ اس کا لیپ ٹاپ سامنے ہی کھلا پڑا تھا ،اس نے جھنجھلا کر شراب کا ایک بڑا پیگ بنایا اور بغیر پانی ملائے ہی گٹک گیا۔ اسی وقت اس کے فیس بک پروفائل پر ایک friend request نمودار ہوئی۔ جوہر نے بے اعتنائی سے اس پیغام پر نظر ڈالی، کوئی عورت "JLO" کے نام سے اس سے دوستی کی خواہش مند تھی۔ دوستی کی یہ پیشکش جوہر کے درد کا درماں ثابت ہوئی۔ نیکی اور پوچھ پوچھ، اس نے فوراً اس پیشکش پر صاد کردیا۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس کے فیس بک اکاؤنٹ میں کچھ ایسی تصویریں بھی موجود ہیں جو اس دوستی کے آگے رکاوٹ کھڑی کرسکتی تھیں اور اس کی شخصیت کو کسی بھی شریف عورت کے لیے مشتبہ بنا سکتی تھیں۔ جوہر نے جلدی جلدی ان تصویروں کو وہاں سے ہٹانا شروع کر دیا، ابھی صفائی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ کمپیوٹر اسکرین پر اس اجنبی عورت کا پہلا سلام بھی آپہنچا۔ جوہر نے ہڑ بڑا کر پورا گلاس ایک ہی گھونٹ میں ختم کر ڈالا ، پھر پہلو بدلا اور کمپیوٹر کے ’کی ۔بورڈ‘ پر اس کی انگلیاں پھسل پڑیں۔ جوہر نے جوں ہی سلام کا جواب دیا، تھوڑی دیر بعد ہی ادھر سے باقاعدہ گفتگو شروع ہوگئی۔
’’ابھی تک جاگ رہے ہیں؟‘‘
’’سونے ہی جا رہا تھا کہ آپ کا میسج آگیا۔‘‘
’’سوری، آپ کو ڈسٹرب کیا، بائی۔‘‘
جوہر اس اچانک افتاد سے بے چین ہوگیا، ’’ارررے...نہیں...کوئی بات نہیں...کیا آپ مجھے جانتی ہیں؟‘‘
’’نہیں۔ لیکن جاننا ضرور چاہتی ہوں۔ دراصل سمندر میں جہاز کے اوپر آپ کی پکچر دیکھی تو سوچا کہ شاید میرا اور آپ کا کوئی رشتہ نکل آئے؟‘‘
’’تو کیا آپ کا بھی سمندر اور جہاز سے کوئی رشتہ ہے؟‘‘
’’بڑا درد بھرا رشتہ ہے جناب۔ ایک ملاح کی بیوی ہوں۔ اور پھر شاید آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میرا تنہائی سے کتنا درد بھرا رشتہ ہوگا۔‘‘
’’میں سمجھ سکتا ہوں۔ I am a marine engineer ‘‘
’’آپ لوگ کیا سمجھیں گے ان کی پیاس کو، جن کے چاہنے والوں کو یہ سمندر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔‘‘
’’آپ بہت شاعرانہ باتیں کرتی ہیں۔ لیکن ایک بات بتائیے کہ آپ کی پروفائل بالکل فریش ہے، لگتا ہے ابھی ابھی بنائی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب جوہر کے اس سوال پر ہڑبڑا کررہ گئے، لیکن پھر انھوں نے خود کو سنبھالا اور کچھ سوچتے ہوئے ٹائپ کرنا شروع کردیا، ’’ جی ہاں، یہ نئی پروفائل دراصل میری زندگی کے نئے chapter کا آغاز ہے۔ اپنے شکی شوہر، جھکی رشتے دار اور خصی دوستوں سے دور ایک نئی دنیا...جہاں میں صرف ان سے ملوں گی جو میری پیاس کا مفہوم سمجھتے ہیں اور تم اس دنیا میں میرے پہلے دوست ہو۔‘‘
جوہر کے جسم میں ایک پھریری دوڑ گئی، اس نے ایک بار پھر اپنا پورا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کردیا۔ لیکن اس بار اُدھر سے جو پیغام آیا، وہ کھلی ہوئی عام دعوت ہی تو تھی جسے جوہر تو کیا ، دنیا کا کوئی مرد انکار کر ہی نہیں سکتا تھا۔
’’ دیکھو، اگر تمھیں sexual liberation ڈھوندتی ہوئی ایک تنہا عورت سے دوستی کرنے میں کوئی پرابلم ہے تو پلیز ابھی بتادو تاکہ میں اپنا ٹائم تم پر برباد نہ کروں۔‘‘
’’ sexual liberation...آپ کا مطلب جنسی آزادی؟‘‘
’’ہاں، مجھے اب ایسا دوست چاہیے جس کے ساتھ میں اپنے جسم کی سرگوشیاں شیئر کر سکوں۔‘‘
جوہر نے اس بار ایک بڑا پیگ مار لیا۔
’’جسم کی سرگوشیاں؟‘‘
’’ Yes, my fantasies ، میرے جسم کے تقاضے، میری پیاس، سب کچھ۔‘‘
جوہر کا پورا جسم آگ کی بھٹی بن کر دہکنے لگا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، لیکن کم بخت شعلے تھے کہ چاروں طرف اپنی سرخ زبانیں لپلپارہے تھے۔ جوہر کا صبر جواب دینے لگا، اس نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کردیے ، صرف انڈروئیر پر رحم کھا کر اسے چھوڑدیا۔
کمپیوٹر اسکرین پر اس اجنبی حسینہ (کشیپ صاحب) کے کئی پیغام نظر آ رہے تھے جن میں جوہر کی طویل غیر حاضری پر اسے بار بار آواز لگائی جارہی تھی۔ بالآخر جب جوہر نے ان پیغامات کا جواب دیا تو دوسری طرف کے ردعمل سے ایسا محسوس ہوا جیسے بے چینی کو قرار نصیب ہوگیا ہو۔
’’میں نے سوچا، تم مجھ میں interested نہیں ہو۔ اس لیے دوسرے دوستوں کو تلاش شروع کردی تھی۔‘‘
’’ن ن نہیں...اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم نے پہلی بار میں ہی jackpot مار دیا۔ تمھیں میری ضرورت ہے، صرف میری۔‘‘
’’اچانک کہاں چلے گئے تھے؟‘‘
’’کپڑے بدل رہا تھا۔‘‘
’’کیا پہنا؟‘‘
’’کچھ نہیں۔ بس ایک ذرا سا انڈر وئیر ہے، اور تم نے؟‘‘
اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے کشیپ صاحب اس سوال پر مسکرائے۔
’’وہی جو تم نے پہنا ہے۔‘‘
’’اوہ گاڈ...اوہ گاڈ...سچ مچ پورا ماحول گرم ہوگیا ہے ۔‘‘ جوہر نے اچھل کر ائیر کنڈیشن کا سوئچ دبایا۔ لیکن تب تک ادھر سے پیغام آچکا تھا۔
’’میں بس تمھاری تصویر دیکھ رہی ہوں اور تمھارا لمس اپنے جلتے جسم پر محسوس کر رہی ہوں۔ اوہ ۔ ‘‘
’’جسم پر؟ کون سے حصے پر ؟‘‘
کشیپ صاحب جیسے جیسے جواب دیتے رہے، جوہر بے قابو ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ اس نے اپنا بچا کھچا انڈر وئیر بھی اتار پھینکا اور وہیں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا ہوا ایک ہاتھ سے جلق لگانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے پیغام ٹائپ کرنے لگا۔
’’مجھے تم سے ملنا ہے جان۔‘‘
’’مجھے بھی۔‘‘
’’کل اندھیری برسٹا کیفے میں۔ شام چار بجے۔‘‘
’’ اوکے۔ yellow rose لے کر آؤں گی تاکہ تم اپنی اس کنیز کو پہچان سکو۔ بائی۔‘‘
جوہر کے جلق لگا نے کی رفتار بڑھ گئی، اس کا چہرہ بگڑنا شروع ہوگیا، پورا بدن اینٹھنے لگا ۔ اس کے منھ سے ایک زور کی سسکاری نکلی، اتنی زور کہ وہ کمرے کے باہر تک پہنچ گئی۔
کشیپ صاحب دوسروں کو شکل سے خواہ کتنے ہی چغد نظر آتے ہوں لیکن ایک خوبی تو ان میں ایسی تھی جو بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ مردم شناس تھے۔ اگرچہ انھوں نے پہلے ہی دن جوہر کو دیکھ کر اندازہ لگالیا تھا کہ اس شخص کے چاروں کھونٹ مضبوط نہیں ہیں، لیکن لیڈس بار کے واقعے نے ان کے اس اندازے کو پختہ یقین میں بدل دیا تھا کہ جوہر کا شمار ان شریف زادوں میں ہوتا ہے جو لنگوٹی میں پھاگ کھیلتے ہیں۔
چنانچہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی، جو جوہر کو برسٹا کیفے پر پہنچنے سے روک پاتی۔ اس کی بے قراری کا عالم یہ تھا کہ وہ وقت مقررہ سے کافی پہلے وہاں پہنچ گیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ اس سے بھی پانچ منٹ پہلے کشیپ صاحب وہاں پہنچ چکے تھے۔ انھوں نے جوہر کو آتا ہوا دیکھا تو مسکرائے بغیر رہ نہ پائے۔ بزنس سوٹ میں ملبوس جوہر ، کشیپ صاحب کی موجودگی سے بے خبر برسٹا کے اندر داخل ہورہا تھا۔ کشیپ صاحب بڑبڑائے، ’’دیکھو سالے چرکٹ کو۔ ایسا تیار ہو کر آ یا ہے جیسے کہیں کی AGM کواٹینڈ کرنے آیا ہو۔ کون لونڈیا ان کو گھانس ڈالے گی؟ تمھارے دل کے ارمان، سالے باتھ روم کی نالیوں میں ہی بہیں گے۔‘‘
کشیپ صاحب برسٹا کیفے کے بالکل سامنے لیکن ایک ایسی جگہ پر کھڑے تھے جہاں سے کیفے کے شیشے کے اندر بیٹھے جوہر کی ہر حرکت انھیں نظر آ رہی تھی۔ ایک کار وہاں رکی اور اس سے ایک خوبصورت عورت باہر نکلی۔ کشیپ صاحب نے دیکھا کہ وہ کیفے کی طرف بڑھ رہی ہے ، جب کہ اس کا شوہر کار کو پارکنگ لاٹ کی طرف لے جارہا ہے۔ کشیپ صاحب نے موقع غنیمت جانا اور جیسے ہی عورت اس کے پاس سے گذری، انھوں نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں تاخیر نہیں کی۔
"Good Afternoon M'am...Happy anti-eveteasing day to you."
اس عورت نے حیرت سے کشیپ صاحب کی طرف دیکھا جو اسے زرد گلاب پیش کررہے تھے۔ اس نے جھجکتے ہوئے گلاب لے تو لیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کشیپ صاحب سے کچھ پوچھتی، کشیپ صاحب جست لگاکر وہاں سے گذرتے ہوئے ایک دوسرے شخص کو دوسرا زرد گلاب پیش کردیا۔ اس عورت نے اپنے کندھے اچکائے اور زرد گلاب سمیت کیفے میں داخل ہوگئی۔ کشیپ صاحب نے کن انکھیوں سے اسے جاتا دیکھا اور اپنے منصوبے کی کامیابی پر دل ہی دل میں قہقہہ لگایا۔ ان کا کام ہوچکا تھا، بقیہ کام ان کا زرد گلاب کرنے والا تھا۔
ہوا بھی یہی، کیفے کے اندر بیٹھے جوہر کی نظر جب زرد گلاب پر پڑی تو اس کا دل جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا۔ گھبراہٹ میں منھ میں رکھا گٹکا اس نے نگل لیا، نتیجتاً کھانسی کا دورہ پڑگیا۔ وہاں بیٹھے لوگوں نے جوہر کو مڑ مڑ کر دیکھنا شروع کردیا، اس عورت نے بھی اس پر ایک نگاہ غلط ڈالی۔ جوہر نے اپنی جگہ سے ہی اسے ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہا۔ لیکن افسوس، اس بت طناز نے جوہر کو جواب تک نہیں دیا بلکہ ایک شان بے اعتنائی کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ جوہر نے خود کو چست درست کرنے کی کوشش کی اور پانی کا ایک گلاس حلق کے اندر انڈیلا، پھر براہ راست اس عورت کے پاس پہنچ کر اسے مخاطب کیا، ’’ ہائے، JLO ‘‘۔
عورت نے گھور کر اسے دیکھا، "JLO?"
"This is KJO from the last night."
"KJO from the last night?"
حیران عورت نے مڑ کر کیفے کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں اس کا شوہر کھڑا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ حسب توقع تھا۔ اس پیکر خوش جمال کے خاوند آتش خو نے اپنے ہاتھوں سے اس عاشق صادق کے چہرے پر ایسی نقش پردازی کی کہ تھوڑی دیر بعد وہ کیفے کے باہر چاروں خانے چت پڑا تھا لیکن وہاں داد خواہی کے لیے کوئی موجود نہ تھا۔
کشیپ صاحب دور کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے، ان کا منھ حیرت سے کھلا ہوا تھا۔ شاید انھیں اپنی کاوشوں کے اس غیر متوقع ثمرمراد کا اندازہ نہ تھا۔ ذرا دیر بعد انھیں احساس ہوا کہ اس زخم خوردہ عاشق کی عیادت ان پر واجب ہے، چنانچہ وہ جوہر کی طرف یوں بڑھے جیسے وہاں سے ان کا اتفاقاً گذر ہوا ہو۔ حتیٰ کہ وہ جوہر کو دیکھ کر کچھ اس طرح چونکے کہ ان کی اداکاری پر داد دینے کے لیے وہاں کوئی بالی ووڈ کا ہدایت کار موجود نہ تھا ، ورنہ اپنی فلم میں چھوٹے موٹے رول کے لیے انھیں موقع ضرور دیتا۔
’’ارے جوہر صاحب!کیا ہوا؟ وہ سانڈ آپ کو کیوں مار رہا تھا؟‘‘
’’آپ نے دیکھ لیا کیا؟‘‘
’’اور نہیں تو کیا...شام کے لیے بئیر لینے نکلا تھا ، دیکھا کہ کوئی چرکٹ پٹ رہا ہے...پاس آیا تو آپ نکلے۔‘‘
’’کچھ نہیں، چھوٹی سی misunderstanding ہو گئی تھی۔‘‘
’’چھوٹی سی؟ ایک شریف ، سوٹ اور ٹائی لگانے والے مرین انجینئر کو فٹ پاتھ پر کتوں کی طرح کوئی سڑک چھاپ سانڈ پیٹے ؛ اسے آپ چھوٹی سی misunderstanding کہتے ہیں؟‘‘
’’اب چھوڑیے بھی، کبھی کبھی ہو جاتا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے لوہا گرم دیکھ کر پینتر ا بدلا، ’’ارے جانے کیسے دوں، یہ کیفے ہے یا غیر قانونی ڈانس بار؟ آپ آئیے ہمارے ساتھ، سالوں کو ہم ابھی اپنا status بتاتے ہیں۔‘‘
بلی تھیلے سے باہر آنا شروع ہوگئی تھی۔
’’آپ سمجھتے کیوں نہیں کشیپ صاحب۔ غلطی ہماری تھی۔ سالی ایک لونڈیا کے چکر میں...‘‘
’’ہائیں۔ لونڈیا کے چکر میں ...اور آپ جیسا High-valued taste والا انسان؟‘‘
جوہر سمجھ گیا تھا کہ یہ اڑیل ٹٹو اس طرح نہیں مانے گا ، چنانچہ اس نے وہی کیا جو ہمارے کلچر کا ایک انفرادی اور شناختی جزو ہے یعنی رشوت کا پانسا پھینکا۔وہ کشیپ صاحب کی بانہہ پکڑ کر تقریباً کھینچتے ہوئے اس دیار ملامت سے دور لے جانے کی کوشش کرنے لگا۔
’’ارے یار۔ بئیر کا موڈ ہے نا آپ کا؟...چلیے آپ کو پلاتا ہوں۔ اب پلیز یار یہاں سے چلو۔‘‘
بئیر پینے کے دوران بار بار کشیپ صاحب جوہر کی پٹائی کا ذکر چھیڑ دیتے تھے اور جوہر ہر بار بات بدلنے کی کوشش کرتا۔ کشیپ صاحب کو اس چوہے بلی کے کھیل میں عجب ابلیسی لذت مل رہی تھی جو بئیر کے نشے سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جوہر ہر بار کوئی نہ کوئی صفائی پیش کرتا اور کشیپ صاحب اس کی صفائی پر اپنا ہاتھ صاف کردیتے۔
’’مجھے پتہ تھا کہ وہ fake ہے۔ دس منٹ پہلے اس نے فیس بک میں وہ پروفائل بنائی تھی، اور ایک ہی فرینڈ اس میں شامل کیا تھا؛ وہ تھا میں۔‘‘
کشیپ صاحب بئیر کی چسکی لی، ’’پتہ تھا ؟ پھر بھی...‘‘
’’مجھے left brain سے برابر سگنل مل رہا تھا، جو کہہ رہا تھا : جوہر! ہوشیار رہنا۔ لیکن سالا right brain کے propellers کنٹرول سے باہر ہوگئے۔‘‘
کشیپ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ہمدردی دکھائی، ’’ہو جاتا ہے کبھی کبھی...دیکھیے وہ کیٹ ونسلیٹ (Kate Winslet) سوار ہوئی اور پورا ٹائٹینک (Titanic) لے ڈوبی۔‘‘
’’کیٹ ونسلیٹ کا چکر نہیں تھا کشیپ صاحب۔ دراصل لیفٹ اور رائٹ brainکے بیچ کا fluid الکحل سے amalgamate کر گیا۔ میں نے دو پیگ چڑھا رکھی تھی اور تیسرا ہاتھ میں تھا۔ اس سے دونوں کے بیچ کی absolute viscosity بدل گئی۔ دونوں brains کے بیچ میں coefficent of friction اتنا بڑھ گیا کہ thinking faculties بالکل suspend ہو گئیں اور احساسات auto-mode پر چلے گئے۔ سمجھے آپ؟‘‘
’’جی بالکل۔ مجھے حیرت ہے کہ اتنی آسان سی بات اس کیفے والے سانڈ کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ ویسے آپ نے اس brilliant explanations سے اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل کرلی۔‘‘ کشیپ صاحب کا یہ کاری وار جوہر کی سمجھ میں نہیں آیا ، بلکہ اس نے تو ان کا شکریہ تک ادا کر ڈالا۔ کشیپ صاحب کو بھی تھوڑی مایوسی ہوئی ، کیوں کہ شکاری تو شکار کو تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ کشیپ صاحب نے پھر ایک چرکا لگایا، ’’ لیکن صبح تو الکحل de-amalgamate ہو گئی ہوگی، تب بھی آپ کی thinking faculties نے کام کرنا شروع نہیں کیا؟‘‘
’’ارے شراب اتری تو وہ چڑھ گیا تھا نا۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’سیکس۔ وہ chatting بہت hot تھی کشیپ صاحب۔‘‘
’’ اس کا مطلب آپ کے احساسات اس وقت تک auto-mode پر ہی رہے، جب تک اس سانڈ نے آپ کی ہڈی پسلی ایک نہیں کردی؟‘‘
کشیپ صاحب نے اس بار بالکل صحیح باؤلنگ کی تھی، جوہر کلین بولڈ ہوچکا تھا۔
’’میں اور بئیر لاتا ہوں۔‘‘
کشیپ صاحب بہت محتاط انداز میں جرعہ نوشی کررہے تھے لیکن جوہر کو ایک بار پھر شراب بہا کر لے گئی۔ کشیپ صاحب نے انھیں ٹوکا بھی لیکن اس نے ان پر اپنا احسان لاد دیا۔
’’وہ تو بس آج آپ کا موڈ تھا، اس لیے پی رہا ہوں ورنہ میں نے طے کرلیا تھا کہ اس کتّی چیز کو اب کبھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔ یہ سالی thinking faculties کو suspend کر دیتی ہے۔‘‘
’’اور احساسات auto-mode پر چلے جاتے ہیں۔‘‘کشیپ صاحب ٹکڑا لگایا۔
جوہر نے زور زور سے اپنا سر ہلاتے ہوئے تائید کی، ’’بالکل صحیح۔‘‘
’’توجب آپ کے احساسات auto-mode پر چلے جاتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں۔‘‘
’’فرائڈے (Friday) تک انتظار کرتے ہیں، اور کیا؟‘‘
کشیپ صاحب نے انھیں کریدا، ’’دیکھیے، پھر آپ ہم سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ آپ جیسے brilliant لوگ Monday کی پرابلم کے لیے Friday تک انتظار کریں، یہ ہم نہیں مان سکتے۔‘‘
جوہر کو لگا جیسے اس کی ذہانت کو کسی نے چیلنج کردیا ہو، وہ جوش میں آگیا، ’’ یہ ہے نا...انٹرنیٹ...سارے مرض کی دوا۔‘‘
کشیپ صاحب کو یہ دوا غیر دلچسپ محسوس ہوئی ، ’’ارے ان نقلی چیزوں سے اصلی مریض کہاں ٹھیک ہونے والا ہے۔‘‘
جوہر نے کشیپ صاحب کو تمسخرآمیز مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا جیسے وہ اس معاملے میں اس کے سامنے طفل مکتب ہوں۔
’’نقلی صرف شوشل نیٹ ورکنگ ہے دادا۔ ابھی آپ نے انٹرنیٹ کا جلوہ دیکھا ہی کہاں ہے، آئیے دکھاتا ہوں۔‘‘
اپنی ذہانت اور تجربے کا رعب گانٹھنے کے لیے جوہر نے لیپ ٹاپ پر فحش سائٹس کھولنا شروع کردیا۔ کشیپ صاحب تجسس اور انہماک سے دیکھ رہے تھے۔
’’ارے یہ کیا clips دکھا رہے ہیں، آدمی کا موڈ (mood) بننے سے پہلے سسرا ختم ہوجاتا ہے۔‘‘
’’کشیپ صاحب! یہ تو صرف trailor ہیں۔ رکیے ، ابھی آپ کو انٹر نیشنل سیکس کی سیر کراتا ہوں۔ ‘‘
جوہر نے ایک فحش سائٹ کھول کر اس کی داخلہ فیس پر نظر ڈالی۔
’’۱۰۰ ڈالر؟ یعنی پانچ ہزار روپے۔ ‘‘ وہ پل بھر کے لیے جھجکا لیکن ایک بار پھر اس کے احساسات auto-mode پر چلے گئے، ’’ کوئی بات نہیں۔ پانچ ہزار میں آپ کو ہم یہیں بیٹھے بیٹھے پانچ سمندروں کے پانی کا مزہ دلا تے ہیں۔ ‘‘
کشیپ صاحب سارے اصول و قواعد کو غور سے دیکھ رہے تھے، ’’اچھا تو سارا کھیل پیسوں کا ہے۔‘‘
جوہر نے ان کی بات کا جواب دیے بغیر اپنا کریڈٹ کارڈ نکالا اور ویب سائٹ کے فارم بھرنے لگا۔ کشیپ صاحب کو شاید جوہر پر رحم آگیا تھا یا پھر وہ حق حلال کی کمائی کو اس طرح لٹتے نہیں دیکھ سکتے تھے، انھوں نے جوہر کو ٹوکا۔
’’پانچ ہزار میں دور سے درشن؟....چھوڑیے جوہر صاحب۔‘‘
لیکن جوہر کا گھوڑا سرپٹ دوڑنے لگا تھا، اس کی لگام اب خود اس کے ہاتھوں میں نہیں تھی۔
’’دور سے درشن نہیں ، آپ کی گود میں بٹھا دیں گے...آپ تو بس یہ بتائیے کہ کہاں سے شروع کریں گے؟ روس، فرانس ، برازیل، افریقہ...اسکول گرل، آفس گرل، نرس، ڈاکٹر...موٹی، دبلی، لمبی، چھوٹی...کالی، گوری، بھوری...؟؟‘‘
کشیپ صاحب گنگ تھے، وہ مجسم بصارت بن چکے تھے۔ ان کے جسموں پر چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔ جوہر کے لیپ ٹاپ پر دنیا بھر کی خوب صورتی جیسے سمٹ آئی تھی۔
دو شریف زادوں کی خر مستیاں اپنے شباب پر تھیں۔ انھیں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے لیپ ٹاپ پر خوش فعلیاں کرتے ہوئے porn stars ان کے ساتھ ہی ہوں۔ ان کے منھ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔ خوشی کی بے ہنگم آوازیں رفتہ رفتہ اتنی بلند ہوتی چلی گئیں کہ وہ بنگلے کی سرحد کو پار کرکے انجینئر انکلیو کے منیجر بھٹ صاحب تک پہنچ گئیں۔ ان کے کان کھڑے ہو گئے، انھوں نے جوہر کے بنگلے کی طرف نظر ڈالی جہاں سے یہ آوازیں آ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر سوچتے رہے، پھر وہ دبے پاؤں جوہر کے بنگلے کی ٹوہ لینے کے لیے اس طرف بڑھ گئے۔
بھٹ صاحب کا تجسس اتنا بڑھ گیا کہ وہ بنگلے میں نقب لگانے سے بھی نہیں چوکے۔ انھوں نے کسی طرح ڈرائنگ روم کے روشن دان تک رسائی حاصل کرلی اور جو کچھ انھوں نے اندر دیکھا، اس سے ان کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ اندر کشیپ صاحب اور جوہر صرف انڈر وئیر پہنے ناچ رہے تھے ۔
دن چڑھے تک کشیپ صاحب اور جوہر اب تک کمرے میں انڈر وئیر پہنے ٹوٹے بکھرے پڑے رہے۔ رات بھرکے جشن کی تھکن نیند کی شکل میں اب تک ان کی پلکوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن برا ہو اس شخص کا جس نے موبائل جیسا خلل انداز مضراب ایجاد کیا، جس کی ضرب خفیف بھی مضروب کے لیے کبھی کبھی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ جوہر کی نیند بھی آج اس کا شکار ہوگئی لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ کچھ دیر تک ٹالنے کی کوشش کرتا رہا لیکن پھر تنگ آکر اس نے فون اٹھا ہی لیا۔
’’ہیلو۔ ہاں کون ؟...کس بارے میں؟....‘‘ جوہر گھڑی کی طرف ایک نظر ڈالتا ہے، ’’سنیے مس رادھیکا آف ایچ۔ڈی۔ایف ۔سی...اکاؤنٹ اپ ڈیٹ کرنے (update) کے لیے آپ کو یہی وقت ملا ہے؟ رات کے ساڑھے بارہ بجے؟ ...جی ؟؟؟‘‘
جوہر نے بستر سے چھلانگ لگائی اور کھڑکی کے پردے ہٹائے۔ دھوپ کی نکیلی کرنوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔ جوہر کے چہرے پر پل بھر کے لیے شرمندگی نے اپنی ایک جھلک دکھائی اور اس کی جگہ تشویش نے لے لی۔ واقعی اس وقت رات کے نہیں بلکہ دن کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔
’’سوری میڈم...کیا کہہ رہی تھیں آپ؟ ‘‘ دوسری طرف سے پتہ نہیں کیا کہا گیا کہ جوہر کے چہرے پر زلزلے کے آثار دکھائی دیے۔ ’’جی؟؟...ایک سکنڈ...please hold on ‘‘
وہ اس وقت بالکل بدحواس لگ رہا تھا، پاگلوں کی طرح اپنے لیپ ٹاپ کی طرف لپکا جہاں اب بھی بہت سارے porn sites کھلے ہوئے تھے۔ اس نے جلدی جلدی سب کو بند کیا اور پھر تیزی سے اپنے بینک اکاؤنٹ کا آن لائن جائزہ لینے لگا۔ اس کا پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔
’’یہ غلط ہے میڈم۔ اتنے سارے transaction کیسے نظر آ رہے ہیں...میں نے تو صرف ایک transaction کیا تھا...ایک سو ڈالر کا...یہ...یہ سب کیا ہے؟‘‘ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، اس نے پڑھنا شروع کیا، ’’wildpussies.com ...لیکن wild life
کی تو کوئی سائٹ ہم نے دیکھی ہی نہیں...آ پ ہنس رہی ہیں؟...‘‘ آپریٹر کی ہنسی نے جوہر کی بدحواسی جھنجھلاہٹ اور غصے میں بدل دیا، "Is this your professional attitude? You laugh at your customers?"
دوسری طرف سے لائن منقطع ہوگئی۔ جوہر نے فون دیوار پر دے مارا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ رفتہ رفتہ اس کی سسکیوں کی آواز آنے لگی جو بتدریج بڑھتی رہی۔ اس کا پورا جسم زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔ کشیپ صاحب کی نیند بھی اس شور شرابے سے ٹوٹ گئی، وہ آنکھیں بند کیے تھوڑی دیر کنمناتے رہے، لیکن بالآخر انھیں آنکھیں کھولنی ہی پڑیں۔
’’کیا بوال ہے بھائی...ارے کپڑے کہاں گئے ہمارے؟‘‘
جوہر جھنجھلا گیا ، اس نے اپنے آنسوؤں سے لت پت چہرے کو اٹھا کر کشیپ صاحب کی طرف دیکھا، ’’ کپڑے پوچھ رہے ہیں آپ؟یہ پوچھیے، میرے اکاؤنٹ سے پیسے کہاں گئے۔‘‘
کشیپ صاحب سمجھ نہیں پائے، وہ جوہر کو ٹکر ٹکر دیکھتے رہے۔
’’کل ہم نے ایک transaction کیا تھا نا؟ یہ دیکھیے، یہاں کتنی فالتو entries نظر آ رہی ہیں...‘‘ جوہر نے اپنے لیپ ٹاپ کا اسکرین کشیپ صاحب کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
کشیپ صاحب اب تک یہ تو سمجھ چکے تھے کہ معاملہ رات کی عیاشی سے تعلق رکھتا ہے لیکن وہ کتنی سیریس ہے، اس کا اندازہ انھیں اب بھی نہ تھا۔
’’ہم کیا بولیں اس بارے میں؟...انٹرنیٹ تو آپ کی specialized field ہے...‘‘
’’باباجی کا گھنٹا ہے ہماری specialized field۔ آپ کی خواہش تھی تو میں نے سوچا ، چلوسالا دیکھتے ہیں...لیکن ایک ہی رات میں پورے ڈیڑھ لاکھ کا چونا لگ گیا۔‘‘
کشیپ صاحب کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا، ’’ڈیڑھ لاکھ؟‘‘
جوہر نے منھ بسورا، ’’پرسوں وائف آئے گی ، پوچھے گی تو کیا جواب دوں گا؟‘‘
کشیپ صاحب حیرت و استعجاب کے دریا میں غوطے لگانے کے بعد باہر آ چکے تھے۔ اب ان کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا، کوئی تاثر نظر نہیں آر ہا تھا؛ نہ ملال، نہ ہمدردی۔ انھوں نے اپنے کپڑے اٹھائے، ’’آپ کو جب اس کھیل کا پورا گیان نہیں تھا تو risk نہیں لینا تھا۔‘‘
جوہر ایک بار پھر ہتھے سے اکھڑ گیا، ’’پتہ کیا نہیں تھا مجھے؟ left brain مجھے لگاتار سگنل دے رہا تھا، Johar! be careful ...انٹرنیٹ پر کریڈٹ کارڈ کی detail ڈالنا safe نہیں ہے۔ لیکن سالا right brain کے propellers ایک بار پھر آؤٹ آف کنٹرول ہوگئے۔ ٹیکنیکل پرابلم ہے میرے ساتھ، آپ کو کیسے سمجھاؤں؟‘‘
کشیپ صاحب نے شرٹ کا بٹن لگاتے ہوئے اپنا سر اطمینان سے ہلایا ، ’’میں سمجھ رہا ہوں... لیفٹ اور رائٹ برین کے planes کے بیچ کا fluid الکوحل سے amalgamate کر گیا...Coefficient of friction بڑھ گیا...thinking faculties نے کام کرنا بند کردیا اور feelings جو تھیں، وہ auto-mode پر چلی گئیں۔‘‘
جوہر انھیں پلکیں جھپکائے بغیردیکھ رہا تھا ۔ وہ شاید اس پر حیرت زدہ تھا کہ کشیپ صاحب نے کتنے اختصار میں اس کی ذہنی کیفیت کا تجزیہ کر ڈالا۔
کشیپ صاحب، جوہر کے ساتھ جب بنگلے سے باہر نکلے تب بھی جوہر سبک رہا تھا۔ کشیپ صاحب نے پہلی بار ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، ’’اب رونا بند کیجیے یار، اچھا نہیں لگتا۔‘‘
ہمدردی کے یہ ’’دو بوند‘‘ جوہر کو تر کر گئے، وہ بے اختیار ہو کر کشیپ صاحب سے لپٹ گیا اور بھائیں بھائیں رونے لگا۔ کشیپ صاحب اس کی اس بچکانہ حرکت سے ہڑبڑا کر رہ گئے، انھوں نے آس پاس کا جائزہ لیا کہ کہیں کوئی انھیں دیکھ نہ رہا ہو۔
لیکن کشیپ صاحب کی نظر منیجر بھٹ پر نہ پڑی جو اپنے آفس کے دروازے پر کھڑا یہ عجیب و غریب نظارہ دیکھ رہا تھا، ساتھ ساتھ بڑبڑاتا بھی جارہا تھا، ’’رات کو ننگا ناچ اور صبح یہ emotional scene...یہ کون سی فلم ہے پربھو؟‘‘
کشیپ صاحب نے روپیوں کا ایک بنڈل جوہر کے ہاتھ میں پکڑا دیا، ’’یہ پچیس ہزار ہیں، رکھیے۔ آفس جانے سے پہلے ہم اور پچاس آپ کے اکاؤنٹ میں ڈال دیں گے۔‘‘
جوہر نے تھوڑی راحت محسوس کی۔کشیپ صاحب مسکرائے، ’’ جب مستیاں share کی ہیں تو خرچ بھیshare کریں گے نا۔ sharing ہی اپنے two rail system کی کامیابی کا راز ہے جوہر صاحب...resouce sharing، load sharing ۔ اسی لیے Monorail ناکام ہے، too much load ایک سنگل سسٹم پر۔ چلتا ہوں۔ Have a nice day."
کشیپ صاحب چلے گئے لیکن منیجر بھٹ اپنی جگہ جما رہا۔ اس نے کشیپ صاحب کو پیسے ادا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کے منھ سے بے ساختہ سسکاری نکل گئی، ’’یہ کیا ہے؟ Dirty picture without Vidya Balan?"


پچھم جاؤ کہ دکھن ، وہی کرم کے لچھن

Each night I lie and dream about the one
Who kissed me and awakened my desire
I spent a single hour with him alone
And since that hour, my days are layed with fire.

- L.J. Smith, Secret Circle Booklet

کشیپ صاحب میٹرو ریلوے کی سائٹ پر کام کا بغور جائزہ ضرور لے رہے تھے لیکن کبھی کبھی وہاں سے گذرتی لڑکیوں کو نظر بچا کر دیکھنا بھی نہیں بھولتے۔ اب جو انھوں نے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں چمک بڑھنے کی بجائے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے۔ انھیں جوہر دو لمبے تڑنگے جوانوں کے ساتھ ادھر ہی آتا ہوا نظر آیا۔ جوہر کافی دہشت زدہ نظر آ رہا تھا۔ کشیپ صاحب بڑبڑائے، ’’صحیح کہتے ہیں لوگ...ہر بات لگے بھوتیا ، اگر ساتھ میں ہو چوتیا۔‘‘
جوہر ایک بار پھر رورہا تھا۔ کشیپ صاحب نے اس کی طرف ناگواری سے دیکھا لیکن لہجے کو نرم ہی رکھا۔
’’اب کیا پرابلم ہے جوہر صاحب؟‘‘
’’بہت سے ہیں کشیپ صاحب،‘‘ جوہر نے سبکتے ہوئے ان دو لمبے تڑنگے جوانوں کی طرف اشارہ کیا، ’’یہ لوگ سائبر کرائم بیورو سے ہیں...میرے ISP سے گھر کا پتہ نکالا، گھر آئے اور کمپیوٹر اسکین (scan) کرنے لگے۔‘‘
کشیپ صاحب کی پیشانی پر بل پڑگئے اور براہ راست ان لوگوں کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال دیں، ’’کیوں بھائی؟‘‘
لیکن ان لوگوں پر اس ’دھونس‘ کا کوئی اثر نہیں ہوا،شاید وہ ایسے ردعمل کے عادی تھے۔ ان میں سے ایک نے الٹا کشیپ صاحب سے سوال کر ڈالا، ’’یہ بولتا ہے، تو بھی اس کے ساتھ تھا...رات کو؟‘‘
’’ہاں، ہم تھے...لیکن اس تو ۔تڑاک کا کیا مطلب ہے؟ ٹھیک سے بات نہیں کرسکتے؟‘‘
دوسرا نوجوان اپنے خطرناک تیور کے ساتھ آگے بڑھا، ’’چل گاڑی میں بیٹھ۔ صاحب تیرے کو برابر سے سمجھائے گا۔‘‘
کشیپ صاحب کے پاس اب کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا، وہ اس نئی صورت حال کے سامنے سپر ڈال چکے تھے۔ جوہر اپنے چہرے کو ہاتھوں سے چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔
بدتمیز جوانوں نے ان دونوں کو سائبر کرائم بیورو میں ایک سینئر افسر کے حوالے کردیا اور چلے گئے۔ افسرمعقول آدمی لگ رہا تھا، ان کی طرح اجڈ نہیں تھا۔
’’child pornography کو لے کر cyber law بہت سخت ہوگیا ہے۔ تم لوگوں نے کل جو لنک visit کیا ہے، ان میں سے کچھ child-porn کے لنک ہیں۔سارے انٹرنیٹ سروس providers کو ہم نے ہدایت دے رکھی ہے کہ اگر ایسے کسی لنک پر کوئی visit کرے تو ہمیں خبر کیا جائے۔‘‘
اس قدرے نرم وضاحت نے جوہر کی ہمت بندھائی، ’’تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمیں cyber law کے بارے میں کچھ پتہ نہیں؟‘‘
افسر نے اسے گھورنا شروع کردیا، اب اس کی آواز سرد تھی، ’’اس کا مطلب آپ نے سب کچھ جاننے کے باوجود ایسے لنک پر visit کیا؟‘‘
کشیپ صاحب نے دل ہی دل میں جوہر کو ایک عدد گالی سے نوازا ، پھر معاملے کو سنبھالنے کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں، ’’نہیں سر، ان کو معلوم ہے لیکن شراب کے دو تین پیگ اندر اتارنے کے بعد ان کی عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔‘‘
جوہر اس اچانک حملے پر اچھل ہی تو پڑا تھا۔
"Mr. Kashyap, this is a humilating and over-simplistic version of severe technical condition I'm suffering from."
افسر نے مداخلت کرنے کی کوشش کی، ’’میں سمجھتا ہوں کہ نشے کی حالت میں آپ سے غلطی ہوگئی اور...‘‘
لیکن جوہر کی جوہری توانائی واپس آچکی تھی، اس نے بڑی بے دردی سے افسر کی بات کاٹی، ’’No, you don't understand ...میں مانتا ہوں کہ الکوحل کی وجہ سے میرے لیفٹ اور رائٹ برین کے بیچ کا coefficient friction بڑھ چکا تھالیکن اس unfortunate accident کے پیچھے یہی ایک factor نہیں تھا۔‘‘ آخری جملہ بولتے ہوئے اس نے کشیپ صاحب کی طرف دیکھا۔
’’تو اب آپ اس کے لیے ہمیں blame کریں گے؟‘‘ کشیپ صاحب نے تیوری چڑھائی۔
جوہر نے الزام لگانے کی بجائے ایک نیا پینترا بدلا، ’’معاف کیجیے گا، میں اتنا cheap اور shallow انسان نہیں ہوں۔ میں آپ کی hedonistic inclination ، ethnic اور racial groups کو blame کر رہا تھا۔‘‘
کشیپ صاحب نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا، ’’تو کیا یہ barriers صرف ہماری personal trait ہے؟‘‘
ان دونوں معزز شخصیتوں کے بیچ افسر سینڈوچ بنا ہوا تھا اور ہونق کی طرح یہ نہ سمجھ میں آنے والی مناظرے بازی دیکھ رہا تھا، حتیٰ کہ اس کی قوت برداشت جواب دے گئی اور وہ اپنی شستہ شخصیت کے خول سے باہر آگیا۔
’’چو و و و و و وپ پ پ پ‘‘، افسر دہاڑا، ’’Arrest-warrant نکلواؤں تم دونوں کا؟‘‘
دونوں یک لخت خاموش ہوگئے ۔ ایک بار پھر وہ سراپا مظلوم نظرآ رہے تھے۔
معمولی سی کاغذی کاروائی کرنے کے بعد دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ دونوں خاموش تھے اور ایک دوسرے سے نظریں بچا ئے سائبر کرائم بیورو کے کاریڈور سے گذر رہے تھے کہ دفعتاً ان کے عقب سے ایک آواز آئی، ’’اے، پاؤلی کم۔‘‘ دونوں ہی اپنی جگہ ٹھٹھک گئے، پلٹ کر مخاطب کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ لیکن جب انھیں آواز دینے والا خود ہی ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے اسے پہچان لیا۔ یہ وہی انسپکٹر تھا جس نے انھیں ڈانس بار میں پکڑا تھا۔
’’کیا رے...کتنا گرمی چڑھا ہے تم دونوں کے دماغ میں؟‘‘
دونوں کے سر شرم سے بے اختیار جھک گئے۔
کشیپ صاحب نے گردن جھکائے ہوئے ہی لب کشائی کی، ’’ابھی وارننگ مل گیا ہے صاحب، we will be careful ‘‘۔
انسپکٹر مسکرایا، ’’careful رہوگے، گھنٹا۔ تم لوگ سالے پھر کسی نہ کسی لفڑے میں پھنسوگے، میرے کو معلوم ہے۔ میرا بھائی بھی تم لوگ جیسا پاؤلی کم تھا...بولے تو fultoo genious...بچپن میں اس کو چاند پر جانے کا دھن سوار ہوگیا۔ سب اس کو منع کیا لیکن وہ بولا میں جائے گا...اور سالا، جب دیکھو چاند پر جانے کے لیے راکٹ بنانے میں لگ جاتا۔لوگوں کی گاڑیوں سے انجن نکال لیتا...ہمارا ٹن کا پترا نکال کر ایسا گول لفافہ بنا دیا اس کا...جینیس تھا سالا...راکٹ بنا کے ہی دم لیا۔‘‘
جوہر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، ’’راکٹ بنا لیا؟‘‘
’’اور کیا۔‘‘ انسپکٹر نے فخر سے کہا، ’’ لیکن راکٹ میں وہ لگتا ہے نا، پائلٹ۔ یہ تو سائنٹسٹ تھا، پائلٹ کہاں سے لائے؟ پھر اس نے ایک اور پاؤلی کم ڈھونڈ لیا اور اس کو راکٹ کے اندر بٹھا کر راکٹ اسٹارٹ کردیا۔‘‘
کشیپ صاحب کا تجسس اپنی انتہا پر تھا،’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا، وہ پائلٹ کنولا تھا ، راکٹ اس سے سنبھلا نہیں...ابھی میرا بھائی اندر ہے اس کے مرڈر کے چارج میں...جبھی چھوٹے گا تو دیکھنا ، پھر راکٹ بنائے گا۔‘‘
جوہر سے اب انسپکٹر کی شٰیخی برداشت نہیں ہوئی، ’’ برا مت ماننا سر، لیکن گاڑیوں کے انجن اور ٹن کے پترے سے کہیں راکٹ بنتا ہے؟‘‘
انسپکٹر نے خلاف توقع اس کی تائید میں زور سے اپنا سر ہلایا، ’’ہاں، یہی تم لوگوں کو میں سمجھانا مانگ رہا تھا کہ سالے ڈانس بار اور انٹرنیٹ پر تم لوگوں کی گرمی نہیں نکلنے والی‘‘، اس نے اپنی جیب سے ایک اخبار کا تراشہ نکالا اور انھیں تھماتے ہوئے بولا، ’’ یہ دیکھو۔‘‘
کشیپ صاحب اور جوہر دونوں دلچسپی سے اس تراشے پر نظر دوڑاتے رہے اور انسپکٹر ان کے معلومات کے خزانے میں اضافہ کرتا رہا، ’’ یہ friendship club اور escort service کا Ad ہے...ادھر نمبر بھی ہوگا، اس کو ڈائل کرو ، تمھارا کام ہو جائے گا۔ کسی کو بولنا نہیں کہ میں نے بولا ہے...تم لوگ سے personal equation نکل آیا تو سوچا مدد کردوں، ورنہ یہ سب...‘‘
کشیپ صاحب نے انسپکٹر کی بات پوری ہونے سے قبل ہی ’’تھینک یو‘‘ ادا کردیا لیکن انسپکٹر اس وقت سچ مچ ان کی مدد کے لیے پرجوش نظر آ رہا تھا، ’’ادھر فون پر اپنا اصلی نام نہیں بتانے کا...کچھ بھی فلمی نام بول دینا، خفیہ کھیل ہے یہ۔‘‘
کشیپ صاحب کے چہرے پر اس وقت زمانے بھر کا تجسس اور دلچسپی کے رنگ گڈمڈ ہو رہے تھے، ’’خفیہ کھیل؟ very interesting ...سر، reference کے لیے آپ کا نام فون پر بول دیں؟‘‘
انسپکٹر اچھل ہی تو پڑا تھا، ’’بھک ...بھول جاؤ میں نے جو بولا...تم لوگوں کے بس کی بات نہیں...چلو اب یہاں سے کٹ لو...پتہ نہیں اپنے کو بھی کیا شوق ہے لوگوں کے اڑتے راکٹ کو پکڑنے کا۔‘‘
دونوں وہاں سے ’کٹ‘ لیے، پتہ نہیں یہ سنکی انسپکٹر کہیں انھیں سچ مچ اپنے بھائی کے راکٹ کا پائلٹ بنا کر نہ بٹھا دے۔
دونوں اپنے اپنے خیالوں میں گم ساتھ ساتھ چل رہے تھے لیکن دونوں کے چہروں کے تاثرات بالکل مختلف نظر آرہے تھے۔ کشیپ صاحب کا چہرہ دمک رہا تھا جیسے انھوں نے کوئی نئی چیز دریافت کرلی ہو۔ جب کہ جوہر کچھ فکرمند نظر آرہا تھا۔ کشیپ صاحب اس کے محسوسات سے بے خبر بڑبڑانے لگے ؛حالاں کہ وہ جوہر ہی سے مخاطب تھے لیکن اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے۔ ان کی آواز خوشی سے لرز رہی تھی۔
’’ہم نے کیا بولا تھا آپ کو، یہ شہر ’کرُو ‘ لوگوں کی ریسپکٹ کرتی ہے۔ دیکھیے کیا زبردست لنک ہاتھ لگا ہے۔‘‘
جوہر نے بھی ان کی طرف نہیں دیکھا، بس چلتا رہا۔ پتہ نہیں اس کے اندر کیا چل رہا تھا۔ کچھ پل بعد وہ باہر نکل آیا؛ ’’لنک تو زبردست ہے لیکن اسے uplink کہاں کیجیے گا؟ میری وائف ویسے تو فرائڈے کو آتی ہے لیکن کبھی کبھی تھرس ڈے کو ہی آ دھمکتی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے اب اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا؛ ’’ارے ہمارا بنگلہ ہے نا؟ ٹینشن کیوں لیتے ہیں۔ فرنیچر تھوڑا کم ہے، صاف صفائی کی پرابلم ہے لیکن خفیہ کھیل کے لیے بالکل صحیح اسٹڈیم ہے۔‘‘
جوہر کی بانچھیں کھل گئیں؛ اس نے شکریے والے انداز میں کشیپ صاحب کی طرف دیکھا جسے انھوں نے آنکھ مارتے ہوئے قبول کرلیا۔جوہر پر دھونس جمانے کے لیے انھیں ایک اور موقع مل گیا تھا اور شاید وہ کامیاب بھی رہے۔
جوہر کی احساس کمتری اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس نے کشیپ صاحب کے بنگلے پر ایک سفید بورڈ پر ایک نقشہ چسپاں دیکھا۔ پہلے پہل تو جوہر کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ہے لیکن ذرا غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ایک flow-chart قسم کی کوئی چیز ہے۔ آخر وہ بھی مرین انجینئر تھا۔ لیکن اس کی سمجھ میں اب تک یہ نہیں آر ہا تھا کہ یہ کس چیز کا flow-chart ہے، جسے دکھانے کے لیے کشیپ صاحب نے اسے اپنے بنگلے پربلایا تھا۔ کشیپ صاحب کے ہونٹوں پر وہی تحقیر آمیز مسکراہٹ موجود تھی جسے دیکھ کر جوہر کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی تھی۔ لیکن اس نے مصلحتاً اس آگ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
کشیپ صاحب گویا اسی استفسار کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے فخریہ انداز میں اپنے کارنامے کو ڈرامائی انداز میں سمیٹنے کی کوشش کی۔
"Flow-chart of the possible communication with Tony."
جوہر کی سمجھ میں کچھ خاک نہ آیا۔
’’ٹونی؟ کون ٹونی؟‘‘
کشیپ صاحب نے فاتحانہ انداز میں سرہلایا؛ ’’ہاں، ٹونی! ہم نے پورے ریسرچ کے بعد ٹونی کو شارٹ لسٹ کیا ہے۔ یہ دیکھیے ، آج کے سارے لوکل نیوز پیپر ہم نے پلٹ ڈالے۔ بس ایک ہی ایسی Esort Service ہے جس کا اشتہار لگ بھگ سبھی نیوز پیپر میں ہے؛ اندازہ لگائیے کس کا؟‘‘
کشیپ صاحب نے جوہر سے یوں پوچھا جیسے ’’کون بنے گا کروڑ پتی ‘‘ میں امیتابھ بچن کوئی مشکل سوال سامنے والے سے پوچھ رہے ہوں۔ جوہر نے بھی بالکل اسی طرح ہچکچاتے ہوئے جواب دیا جیسے وہ سچ مچ امیتابھ بچن کے سامنے Hot Seat پر بیٹھا ہو۔
’’ٹونی کا۔‘‘
کشیپ صاحب نے پوری رعونت کے ساتھ اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
’’درست جواب۔ مطلب ٹونی کے پاس ایڈورٹائزنگ کا اچھا خاصا فنڈ ہے۔ اس کا مطلب ٹونی کا بزنس اچھا چل رہا ہے اور اس کا مطلب ٹونی کی سروس بہتر ہے...Better Service جوہر صاحب...کچھ سمجھے؟‘‘
اب جوہر اتنا بھی احمق نہیں تھا کہ اتنی معمولی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی؛ اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا اور اس کے چہرے سے اس کا جوش باہر چھلکنے لگا لیکن پوری طرح نہیں؛ شاید اب بھی کچھ کسر باقی تھی۔
’’لیکن یہ Flow-chart کس لیے؟‘‘
کشیپ صاحب اچانک ویسے ہی سنجیدہ نظر آنے لگے جیسے وہ ریلوے کی بورڈ میٹنگ میں نظر آتے ہیں۔
’’For perfect planning!...مجھے explain کرنے دیجیے...‘‘
وہ دیوار پر لگے ہوئے بورڈ کی طرف بڑھے اور Flow-chart کی مدد سے منصوبے کی نوک پلک پر اپنی گراں قدر رائے سے جوہر کو نوازنا شروع کردیا۔
’’...ہم ٹونی کو کال کریں گے...لیکن یاد رہے، اپنے نام سے نہیں...تو ہم کہیں گے؛ Hello Mr. Tony! This is Amrish Puri and Prem Chopra here! ...اب اُدھر سے تین جواب مل سکتے ہیں...‘‘
اس سے پہلے کہ کشیپ صاحب اپنے بے داغ منصوبے کی تفصیل آگے بڑھاتے، جوہر نے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔
’’ایک منٹ! یہ امریش پوری اور پریم چوپڑا کے پیچھے کیا thought ہے؟
کشیپ صاحب کو جوہر کا یوں بیچ میں ٹوکنا پسند نہیں آیا۔ یہ ان کی ایک پرانی عادت تھی کہ جب وہ بول رہے ہوں تو ان کی بات ختم ہونے سے پہلے اگر ان کا کوئی ماتحت انھیں درمیان میں ٹوک دیتا تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے تھے۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا؛ ان کے سامنے ان کا ماتحت نہیں بلکہ ’’خفیہ کھیل‘‘ کا پارٹنر تھا جسے ناراض کرنے کا وہ خطرہ نہیں مول سکتے تھے۔ انھوں نے اپنے غصے کو تھوک بنا کر حلق کے نیچے دھکیلا اور مسکرائے؛ وہی تحقیر آمیز مسکراہٹ جسے دیکھ کر جوہر کی سلگ جاتی تھی۔
’’اررے جوہر صاحب! اتنا بھی نہیں سمجھتے ۔ دونوں ’کرُو‘ ایکٹر ہیں نا۔ سامنے والا ان کے نام کے ساتھ ہمارا مقصد بھی سمجھ جائے گا۔ بولیے کیسی رہی؟‘‘
اس بار جوہر صاحب کو ان کی تحقیر آمیز مسکراہٹ کو لوٹانے کا موقع مل گیا تھا۔
’’دونوں ’کرُو‘ ایکٹر تھے...کب سے آپ نے فلم نہیں دیکھی؟‘‘
کشیپ صاحب اس اچانک وار سے سٹپٹا گئے۔ انھیں جوہر سے زیادہ خود پر غصہ آ رہا تھا۔ اتنی بڑی مسٹیک کیسے ہوگئی۔ جوہر ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں محظوظ ہو رہا تھالیکن وہ مقابل کو مزید کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا؛ اسے تو ابھی کشیپ صاحب کی پوری ’ریسرچ‘ اور ’منصوبے‘ کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنا باقی تھا۔
’’چھوڑیے! یہ گھسی پٹی methodical approach یہاں کام نہیں کرے گی۔ میرے حساب سے خفیہ کھیل ایک spontaneous process ہے، منصوبہ بندی کی یہاں کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
کشیپ صاحب نے اس کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھا؛ ’’کیسے؟‘‘
جوہر کے لیے یہ استفسار کافی معنی رکھتا تھا۔ اس اکلوتے استفسار نے اسے جیسے ’رنگ ماسٹر‘ بنا کر رکھ دیا ۔ اس نے کمان سنبھالتے ہوئے کشیپ صاحب کو دوسرے ہی وار میں دھول چٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
"This Khufia Khel is to release heat that means exothermic reaction ...اس کا مطلب یہ نکلا کہ change in Enthalpy negative...یعنی when the change in Enthalpy is negative then according to the second law of thermodynamics, the process is?"
جوہر نے ایک سانس میں اپنا علم بگھار دیا ۔ اسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا کچھ جانتا ہے۔ کبھی اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ہی نہیں ملا ورنہ کہاں سے کہاں ہوتا۔ آج موقع ملا تو پورا مسئلہ ہی پانی کردیا اور وہ بھی ایک جھٹکے میں۔
جھٹکے تو خیر کشیپ صاحب کو ایسے لگ رہے تھے کہ ان کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا۔ شاید وہ سوچ رہے تھے کہ اوپر سے چغد نظر آنے والا جوہر اتنا قابل کیسے ہوسکتا ہے۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ اس پر حاوی ہونے کی کوشش ضرور کرتے لیکن انھیں اچانک وہ کم بخت سریش یاد آگیا ۔ جوہر تو کم از کم غنیمت تھا اور سب سے بڑی بات وہ اس کا ہم رتبہ تھا۔ انھوں نے ایک لمبی سانس کا اخراج کیا؛ پتہ نہیں ناک سے یا اپنے کھلے منھ سے۔ لیکن ہاں ان کی یہ لمبی سانس ان کی سپردگی کا اعلان ضرور تھی۔ جوہر نے فوراً مورچہ سنبھال لیا اور نیوز پیپر دیکھ کر ٹونی کا نمبر ڈائل کردیا۔
’’ہیلو!‘‘
’’کون بول رہا ہے؟‘‘ دوسری طرف سے شاید ٹونی نے پوچھا۔
’’عمران ہاشمی اور وکی ڈونر۔‘‘ جوہر نے کشیپ صاحب کو آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا۔
’’دونوں ایک ساتھ؟‘‘ ٹونی کی آواز میں حیرت تھی یا تمسخر ؛ جوہر کو پتہ نہ چلا، اس نے صاد کیا۔ٹونی بھی اپنی باتوں سے گھاگ لگ رہا تھا، کھل کر بات نہیں کررہا تھا۔
’’رومانٹک کامیڈی بنا رہے ہیں کیا؟‘‘
’’ارادہ تو passionate love triangle بنانے کا ہے۔‘‘ جوہر کو اس طرح خود اعتمادی سے باتیں کرتا دیکھ کر کشیپ صاحب مرعوب لگ رہے تھے۔دوسری طرف ٹونی اب پیشہ ورانہ گفتگو پر اتر آیالیکن اب بھی وہ کوڈ میں باتیں کررہا تھا۔
’’بڑے بجٹ میں؟‘‘
’’نہیں، low budget میں۔‘‘ جوہر نے ڈی۔کوڈ کرتے ہوئے جواب دیا۔’’لیکن اگر ہائی کنسیپٹ ٹائپ میں کچھ...‘‘
ٹونی نے دوسری طرف سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا؛ ’’اپنا ایڈرس اور بجٹ مجھے ایس ایم ایس کیجیے، میں دیکھتا ہوں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
اس نے جوہر کے جواب کا انتظار کیے بغیر فون کاٹ دیا۔ جوہر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کشیپ صاحب کی طرف پلٹا۔
’’کیا سمجھے کشیپ صاحب؟‘‘
کشیپ صاحب بچارے جوہر کی اس اضافی قابلیت سے پوری طرح مرعوب ہو چکے تھے، جائے فرار بھی کوئی نہ تھی، سو ہتھیار ڈالنے میں ہی انھیں عافیت نظر آئی۔
’’فلمی نالج کو بہت under-estimate کیا ہم نے لائف میں۔ ٹوٹل نالج اب ہم کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا۔‘‘
جوہر اب انھیں مزید دق کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اسے یہ بھی ڈر تھا کہ زیادہ بے عزتی کشیپ صاحب نہ جھیلنے کے سبب اسٹڈیم سے ہی کہیں واک آؤٹ نہ کرجائیں۔ اگر ایسا ہوا تو وہ اکیلے اس کھیل کو کیسے جیت سکتا تھا، مدمقابل کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ لہٰذا جوہر نے کشیپ صاحب کے شکست خوردہ اعتماد پر زندگی کی ایک پھونک ماری۔
’’وہ پھر کبھی کر لیجیے گا، پہلے اسٹڈیم کو تو up-to-date کر لیں خفیہ کھیل کے لیے؟‘‘
کشیپ صاحب کو جیسے پنر جنم مل گیا ہو۔ ان کی خود اعتمادی ایک بار پھر عود آئی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ جوہر اتنا بھی برا نہیں ہے۔
دونوں نے مل کر ’اسٹڈیم ‘ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔دھلے ہوئے پردے لگادیے گئے، اور mood lighting روشن کردی۔ شمپئین کی ایک کنواری بوتل خوب صورتی اور سلیقے کے ساتھ موم بتی کے اسٹینڈ کے پاس رکھ دی گئی۔ ڈائننگ ٹیبل پر پھلوں کی ٹوکری سجا دی گئی ۔ حتیٰ کہ میوزک سسٹم میں ایک شہوت انگیز موسیقی بھی لگادی۔ کشیپ صاحب اپنے نوٹ پیڈ پر آنے والے لمحوں کے تعلق سے کچھ حکمت عملی درج کرنے میں مصروف تھے۔انھوں نے جوہر کو آواز لگائی جو کمرے میں air-freshner چھڑک کر پورے ماحول کو معطر کررہا تھا۔
’’یہ سب چھوڑیے جوہر صاحب۔ سین سمجھ لیجیے، بعد میں کوئی کنفیوژن نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’کوئی کنفیوژن نہیں ہوگا، مجھے سب پتہ ہے...لوکیشن آپ کی ہے، پیسہ آپ لگا رہے ہیں تو lead آپ ہی کریں گے۔ میں سپورٹنگ کاسٹ میں رہوں گا، یہی نا۔ ‘‘
کشیپ صاحب حیرت زدہ رہ گئے، سسرا بغیر دیکھے ہی سین سمجھ گیا۔ وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگے؛ کشیپ صاحب! آپ’ کشیپ۔کر ‘ہو گئے لیکن پھر بھی آپ کی اسٹوری اب تک predictable ہی ہے۔ کشیپ۔کر کے ’کر‘ کی گہرائی میں جائیے مسٹر کشیپ!
وہ اور بھی خود کو برا بھلا کہنے کے موڈ میں تھے کہ اچانک باہر سے کسی نے دروازے کی گھنٹی بجائی جو کشیپ صاحب اور جوہر کے لیے دھماکہ ثابت ہوئی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ سے ایک ساتھ اچھلے اور دونوں کی زبان سے ایک ہی ساتھ نکلا؛ ’’آ گئی!‘‘
تھوڑی دیر تک دونوں یوں ہی بت بنے کھڑے رہے ، شاید دونوں ہی سوچ رہے تھے کہ کون دروازہ کھولے۔ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔ کشیپ صاحب نے جھرجھری لی اور پھر خشک گلے کو اندر ہی اندر تر کیا؛ جوہر کی طرف دیکھا اور پرسرار انداز میں گویا ہوئے؛ ’’رکیے! دروازہ ہم کھولیں گے۔ تھوڑا میوزک بڑھائیے۔‘‘
جوہر نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کشیپ صاحب نے گل دان سے ایک گلاب نکالا ، پھر تقریباً کسی Rock Starکی طرح دروازے کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ ان کا یہ انداز جوہر کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ ہونق بنا ہوا کشیپ صاحب کو تکے جارہا تھا اور شاید سوچ رہا تھا کہ یہ آدمی تو ان کی امید سے زیادہ frustrated ہے۔
کشیپ صاحب دروازہ کھولنے سے پہلے اپنے لبوں پر ایک سیکسی مسکراہٹ سجانا نہیں بھولے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ والہانہ انداز میں استقبالیہ لفظ مکمل کرتے؛ ان کے ’’ویلکم ‘‘ کا ’سندھی وچیدھ‘ ہوگیا۔ زبان پر صرف ’ویل‘ آیا ہی تھا کہ انھیں ’کم‘ ہونے کا احساس ہوگیا ۔
ان کے سامنے دروازے پر انجینئر کالونی کے منیجر بھٹ صاحب کھڑے تھے، ان کے ساتھ ایک پنڈت جی اور ان کا شاگرد بھی کھڑا تھا۔ بھٹ صاحب نے کشیپ صاحب کو دیکھا ، پھر ان کے ہاتھوں میں گلاب دیکھا۔ تھوڑی دیر تک کچھ سمجھ نہ پائے پھر اپنے طور پر کچھ سمجھنے کی کوشش کی تو ان کی آواز میں حیرت کا عنصر نمایاں تھا۔
’’کیا بات ہے! کل یگ میں ہم گیانی مہاتماؤں کا ایسا سواگت! آپ نے تو بھاوُک کردیا جناب! آئیے پنڈت جی، بنگلے کا واستو سمجھ کر پوجا کا سیٹ اپ لگا لیجیے۔‘‘
کشیپ صاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ ان کے حواس معمول پر آتے، پنڈت جی اور ان کے شاگرد نے کمرے کا معائنہ شروع کردیا۔ کشیپ صاحب نے سوالیہ نگاہوں سے بھٹ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اس طرح مسکرائے جیسے کسی نادان بالک کی خراب یادداشت پر اسے سرزنش کررہے ہوں۔
’’ارے! اتنی جلدی بھول گئے، آپ ہی نے تو ہم سے ستیہ نارائن بھگوان کی کتھا کروانے کی لیے کہا تھا نا؟ تو معاملہ یہ ہے جناب کہ وہ کتھا تھوڑی ٹیکنیکل ہوتی ہے ، اس لیے اس کے اسپیشلسٹ پنڈت جی کو بڑی مشکل سے ڈھونڈ کے لایا ہوں۔‘‘
اس سے پہلے کہ کشیپ صاحب کچھ کہتے ، پنڈت جی نے اپنی تشویش ظاہر کردی۔
’’یہاں تو کیبرے ڈانس کا ماحول زیادہ لگ رہا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے گھبرا کر ادھراُدھر نظریں دوڑائیں لیکن انھیں جوہر نظر نہیں آیا۔نظر آتا بھی کیسے، وہ تو صوفے کے پیچھے جا چھپا تھا۔ بھٹ صاحب،کشیپ صاحب کی پریشانی بھانپ نہ پائے کیوں کہ ان کی نظریں اس وقت پنڈت پر ٹکی ہوئی تھیں۔
’’اچھا؟ مطلب کیبرے ڈانس کا بھی تجربہ ہے آپ کو؟ وشوامتر اور مینکا کی کتھا سنانے گئے ہوں گے وہاں؟ کیوں؟‘‘
پنڈت بغلیں جھانکنے لگا، اس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اپنے شاگرد کو حکم دینا شروع کردیا؛ ’’چل کھڑکیاں کھول۔ پوری بتی جلا دے اور کمپاس میں ’پُرو‘(مشرق) دشا دیکھ کر بھگوان کا آسن لگا۔‘‘
اب کشیپ صاحب کے لیے خاموش رہنا دشوار ہوگیا تھا۔ ’’ارے رکو بھائی! بھٹ صاحب، ہم نے ستیہ نارائن کی پوجا کرانے اس وقت کہا تھا جب ہماری وائف آئیں گی تب...‘‘
بھٹ صاحب لگتا ہے پوری تیاری سے آئے تھے اور شاید کشیپ صاحب کے اس احتجاج کا جواب ان کے پاس پہلے ہی سے موجود تھا؛ ’’یہ سب انھی کی بھلائی کے لیے کیا جا رہا ہے جناب۔ ان کے سہاگ کی سرکشا کے لیے بھگوان کا دخل دینا ضروری ہے۔ وہ بے چاری تو گاؤں میں ہیں، انھیں کیا پتہ کہ ممبئی میں گنّے کو گُڑ بنتے دیر نہیں لگتی۔‘‘
’’ گنّا؟ گُڑ؟ آپ کیا بات کر رہے ہیں، بھٹ صاحب ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے... بھئی ہماری ایک بڑی امپورٹنٹ میٹنگ ہے...‘‘
’’کہاں؟ صوفے کے پیچھے؟‘‘ بھٹ صاحب کی مسکراہٹ زہر آلود تھی، انھوں نے صوفے کے پیچھے چھپے جوہر کو آواز لگائی؛ ’’کیا ڈھونڈ رہے ہیں وہاں اتنی دیر سے جوہر صاحب؟‘‘
جوہر لجاتے ، شرماتے ہوئے صوفے کے پیچھے سے دھیرے دھیرے نمودار ہوتا ہے، ’’ارے بھٹ صاحب، آپ؟ مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے؟‘‘
’’یہی کہہ رہا تھا جناب کہ گنّے سے گُڑ جتنا آسانی سے بن جاتا ہے، گُڑ سے گنّا بنانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔‘‘
جوہر کو یہ علامتی گفتگو سمجھ میں نہ آئی ، لیکن وہ اپنی نا سمجھی کا اعتراف بھی کرنا نہیں چاہتا تھا؛ ’’بالکل ٹھیک بھٹ صاحب! دونوں کی کیمیکل کمپوزیشن ہی الگ ہے۔ Ganna is just 5 to 15% sucrose ...جب کہ گُڑ میں لگ بھگ 70% sucrose ہے۔‘‘
بھٹ صاحب انجینئر کالونی کے منیجر ہونے کے باوجود انجینئری کے اصطلاحات سے قطعی نابلد تھے، انھوں نے جوہر کے استعمال کردہ ایک لفظ "sucrose" پر اپنی بھنویں سکوڑیں؛ ’’Suck کیا؟‘‘
جوہر نے ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کی؛ ’’SUC-ROSE‘‘
بھٹ صاحب نے اس طرح زور زور سے اپنا سر ہلانا شروع کردیا جیسے انھیں مرگی کا دورہ پڑنے والا ہو۔ وہ باآواز بلند بڑ بڑاتے چلے جا رہے تھے؛ ’’روز نہیں...پلیز...ایک بار غلطی سے ہوگیا... مسٹر کشیپ نے اس کا ہرجانہ بھی بھر دیا...اب ختم کیجیے...او۔کے؟‘‘
اُدھر پنڈت اور اس کا شاگرد گنّے اور گُڑ سے بے نیاز اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ شاگرد نے ٹیبل صاف کرتے ہوئے شمپئین کی بوتل کھول دی، تھوڑی دیر تک اس عجیب و غریب چیز کو دیکھتا رہا۔ پنڈت کی نظر پڑی تو اس پر برس پڑا۔
’’یہ کیا کیا بے! تیرے کو پتہ ہے یہ کتنی مہنگی والی ہے؟‘‘
شاگرد بے چارہ پہلے ہی تشویش میں تھا، پنڈت کی سرزنش پر مزید بوکھلا گیا؛ ’’لیکن مہاراج! یہ ہے کیا؟‘‘
پنڈت اس اچانک سوال سے خود بھی بوکھلا گیا؛ ’’ہم کو کیا پتہ؟‘‘ پھر اس نے بھٹ صاحب کو آواز لگائی؛’’ بھٹ صاحب! کون سا جَل ہے یہ؟‘‘
بھٹ صاحب اس نادانی پر بھڑک اٹھے؛ ’’جھاگ دیکھ کر بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ فنائل ہے یہ؟ اس سے پورا کمرہ صاف کردو۔ اور ہاں سارے پھول اٹھا کر بھگوان کے چرنوں میں رکھ اور پھل چڑھا دے پرشاد میں۔‘‘
کشیپ صاحب پھٹی آنکھوں سے اپنے ’حرم‘ کی مرمت ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ جوہر ان کے پاس کھسک آیا اور ان کے کان کے پاس اپنا منھ لا کر بدبدایا؛ ’’ ولن نے آکر اپنا ٹوٹل اسکرین پلے بدل دیا کشیپ صاحب؟‘‘
کشیپ صاحب گھٹی گھٹی آواز میں منمنائے؛ ’’تو کیا کرسکتے ہیں؟‘‘
’’آپ ہیرو ہیں۔ سامنا کیجیے ولن کا...میں سپورٹنگ ایکٹر ہوں، ہیروئن کے لیے کچھ...‘‘ جوہر کی بات مکمل ہونے سے پہلے کشیپ صاحب پھٹ پڑے۔
’’بکواس بند کیجیے۔ جب سپورٹنگ کا موقع تھا تب تو آپ صوفے کے پیچھے جا چھپے۔‘‘
اور بھی بہت کچھ کہتے کشیپ صاحب لیکن اسی وقت بھٹ صاحب نے انھیں پوجا میں مدعو کرلیا ۔ کیلے کے پتوں سے بنا ہوا عارضی مندر تیار ہوچکا تھا۔ کشیپ صاحب نے پہلے تو دانت پیسے ، پھر جوہر کو اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹتے ہوئے انھوں نے مندر میں پرویش کیا۔
پنڈت اور اس کا شاگرد پورے جوش کے ساتھ کتھا پیش کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ بھٹ صاحب کی تنقیدی نگاہ صرف ان کے پرفارمنس پر نہیں تھی بلکہ کشیپ صاحب اور جوہر کی ہر حرکت پر بھی ٹکی ہوئی تھی۔
اچانک دروازے کی گھنٹی بجی اور کشیپ صاحب اچھل کر کھڑے ہوگئے۔پنڈت نے انھیں ٹوکا؛ ’’بیٹھے رہیے ججمان! بیچ کتھا سے اٹھنا ورجت ہے۔‘‘
کتھا جاری رہی۔ کشیپ صاحب دل پر پتھر رکھے بیٹھے رہے۔ جوہر کو اشارہ کیا، لیکن شاید یہ اشارے بازی بھٹ صاحب نے دیکھ لی تھی، انھوں نے بھی اشارے سے جوہر کو بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور خود اٹھ کھڑے ہوئے۔
بھٹ صاحب نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک پری چہرہ نسیم کو دیکھ کر بوکھلا گئے۔
’’ہائے! کترینا۔‘‘ پٹاخہ نے اپنی بھوری زلفوں کی لٹ کو سر کی جنبش سے ایک طرف پھینکتے ہوئے کہا۔
جوہر اور کشیپ صاحب کی نظریں ادھر ہی لگی ہوئی تھیں۔ جوہر بدبدایا؛ ’’Low budget میں کترینا! اس کو کہتے ہیں کاسٹنگ کوپ۔‘‘
کشیپ صاحب کے لیے اب وہاں بیٹھنا دو بھر ہو رہا تھا۔ انھوں نے پنڈت کی طرف دیکھا؛ ’’اور کتنی بچی ہے پنڈت جی؟‘‘
’’ابھی تو آرمبھ ہوئی ہے۔ پانچ کتھائیں باقی ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب کو لگا کہ اس پنڈت کو کیلے کے پتوں میں لپیٹ کر شنٹنگ انجن کے ساتھ باندھ دے ۔ جوہر کی حالت یہ تھی کہ وہ بار بار زور لگا کر اٹھتا تھا لیکن کشیپ صاحب اسے ہاتھ مار کر دوبارہ بٹھا دیتے تھے۔
بھٹ صاحب نے دروازے پر کھڑی دوشیزہ کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ کترینا نے الٹا انھی سے پوچھ لیا؛ ’’مسٹر ہاشمی؟‘‘
’’نو۔ مسٹر بھٹ!‘‘بھٹ صاحب نے سپاٹ لہجے میں اپنا تعارف کرایا۔
’’اوہ! same camp ۔ ‘‘ کترینا نے بغیر اجازت کے کمرے میں داخل ہوگئی۔ بھٹ صاحب کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ’’اچھا ہوا پوجا نہیں آئی، ورنہ فیملی پروڈکشن ہو جاتا۔‘‘ کترینا نے خود اپنی بات پر قہقہہ لگایا جس کا ساتھ کسی نے نہیں دیا۔ البتہ بھٹ صاحب نے اپنی عادت کے خلاف نہایت شائستہ انداز میں اسے متنبہ کرنے کی کوشش ضرور کی۔
’’یہاں already پوجا چل رہی ہے محترمہ۔‘‘
’’ہاں دیکھ رہی ہوں، لیکن کیوں؟ کیا تم لوگ سچ مچ فلم بنا رہے ہو؟ یہ سب کیا ہے؟ فلم کا مہورت؟
گفتگو اس موڑ پر آگئی تھی جہاں سب کچھ کھل جانے کا اندیشہ تھا۔چنانچہ چار و ناچار کشیپ صاحب کو جوہر پر اپنی گرفت ڈھیلی کرنی پڑی۔ انھوں نے اسے اشاروں میں سمجھایا کہ سپورٹنگ ایکٹر کی ضرورت آن پڑی ہے، اب وہ اپنے جوہر کا کھل کے مظاہرہ کرسکتا ہے۔
’’یہ تو بس...تھوڑی house-warming بھی ضروری ہے نا؟ ‘‘ جوہر نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنا رول بخوبی نبھائے گا، اس نے کترینا کے کانوں کے پاس اپنا منھ لے جا کر اپنی بات مکمل کی؛ ’’before bed warming?‘‘
کترینا ہنسی تو ایسا لگا جیسے ایک ساتھ کئی گھنگھرو بج اٹھے ہوں۔ اس نے جوہر کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے پوچھا؛ ’’اچھا تو آپ ہیں مسٹر ہاشمی؟‘‘
جوہر کے انکار یا اقرار کی نوبت ہی نہیں آئی، اس سے پہلے بھٹ صاحب نے ہی جوہر کا تعارف کرا ڈالا؛ ’’ نہیں محترمہ! آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔یہ مسٹر جوہر ہیں۔‘‘
ایک بار پھر گھنگھرو بج اٹھے؛ ’’جوہر؟ تو اس لیے اتنی دھرما۔دھرمی ہے؟ لیکن اتنے لوگ یہاں کیوں ہیں؟ Gang-Bang کا سین ہے کیا؟ اس کے لیے میں الگ سے چارج کروں گی...بعد میں پھر low budget کا رونا مت رونا۔‘‘
بھٹ صاحب ’’محترمہ‘‘ کی بات سمجھ نہ پائے۔ ایک تو وہ پہلے ہی ان کی زندگی انجینئری کے ادق اصطلاحات سے عاجز تھی اور اب یہ ’’گینگ بینگ‘‘ کیا ہے؟
کشیپ صاحب کم پریشان نہیں تھے۔ ان کا پورا دھیان ادھر ہی لگا ہوا تھا۔ وہ خوف اور جھنجھلاہٹ سے اپنا غصہ بار بار پنڈت پر اتار رہے تھے؛ ’’آپ بار بار رک کیوں جاتے ہیں پنڈت جی؟ پانچ کتھائیں کیا پانچ گھنٹوں میں پوری کیجیے گا؟‘‘
کشیپ صاحب کے غصے کا پنڈت پر اثر ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن ہاں اتنا ضرور ہوا کہ کترینا کی نظر ان پر پڑی۔ اس نے اشارے سے کشیپ صاحب کو ’’ہائے‘‘ کہا۔ کشیپ صاحب نے بے بسی سے جواب دیا۔
’’مسٹر ڈونر؟‘‘کترینا نے ان کاتعارف جاننا چاہا۔
کشیپ صاحب بھلا کیا جواب دیتے لیکن کوشش کرسکتے تھے اگر بھٹ صاحب نے انھیں مہلت دی ہوتی ۔
’’ڈونر؟ آپ ڈونیشن کے لیے آئی ہیں؟‘‘
کترینا نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ ان کی مسکراہٹ کو بھٹ صاحب نے تائید سمجھا۔
’’ڈونر تو پوجا میں بزی ہے۔ تب تک آپ کوشش کیجیے ان کپڑوں میں بیٹھنے کی؛لیکن بنا دھارمک بھاوناؤں کو ٹھیس پہنچائے۔‘‘
کترینا نے بھٹ صاحب کی بکواس پر بالکل دھیان نہیں دیا، وہ شاید انھیں سنکی سمجھ رہی تھی۔ "Where's the washroom here?"
جوہر تو جیسے ایسے ہی کسی موقعے کا منتظر تھا، وہ کترینا کے قریب لپک کر پہنچ گیا۔’’آئیے، میں لے چلتا ہوں۔‘‘ پھر اس نے کشیپ صاحب کی طرف ایک نگاہ غلط ڈالی؛ ’’آپ جاری رہیے۔‘‘
کشیپ صاحب کھا جانے والی نظروں سے جوہر کی طرف دیکھ رہے تھے جو کترینا کو اپنے ساتھ باہر لے جا رہا تھا۔
’’آپ باہر کہاں جا رہے ہیں؟ واش روم تو اُدھر ہے۔‘‘کشیپ صاحب سے رہا نہ گیا۔
’’آپ کے ہاں واٹر پرابلم ہے نا مسٹر ڈونر‘‘ جوہر نے بھٹ صاحب کی نظروں سے بچا کر کشیپ صاحب کو معنی خیز انداز میں آنکھ ماری’’تو میں انھیں اپنے یہاں....آپ جاری رہیے۔‘‘
کشیپ صاحب سمجھ گئے کہ ان سے Lead چھینی جا رہی ہے، انھوں نے بے بسی میں جوہر کو دہائی دی؛ ’’آپ اسٹوری بدل رہے ہیں۔‘‘
پنڈت کو لگا کہ کشیپ صاحب ان سے مخاطب ہیں، اس نے نظر اٹھا کر کشیپ صاحب کی طرف دیکھا؛ ’’نہیں ججمان! اسٹوری یہی ہے، میں پڑھ کر سنا رہا ہوں۔ آپ دیکھ لیجیے۔‘‘
بھٹ صاحب نے بھی کشیپ صاحب کے دل کی حالت سے انجان پنڈت کی تائید کی؛ ’’یہی ہے ستیہ نارائن بھگوان کی کتھا مسٹر کشیپ! آپ بے فکر رہیں۔‘‘
جوہر نے بھی ٹکڑا لگایا؛ ’’رائٹ! آپ بے فکر رہیں۔ آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
کشیپ صاحب اب ساری احتیاط کو بالائے طاق رکھنے کا ارادہ کرچکے تھے۔ بھاڑ میں جائے پوجا، یہ سالا جوہر سچویشن کا ناجائز فائدہ اٹھانے پر تلا ہوا تھا۔
’’ارے آخر میں کیا ٹھیک ہو جائے گا، جب beginning ہی رانگ ہے۔ آپ اپنے رول سے باہر جا رہے ہیں۔‘‘
جوہر نے جز بز ہو کر انھیں سمجھانے کی کوشش کی؛ ’’ارے یار، آپ سمجھ کیوں نہیں رہے؟‘‘
بھٹ صاحب جو اب تک ان دونوں کی بات سننے سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اچانک میدان میں کود پڑے؛ ’’میں لیکن سمجھ گیا مسٹر جوہر! آپ باہر جائیں گے تو گنّا اور گُڑ کا مسئلہ حل کیسے ہوگا؟ مسٹر کشیپ! دونوں پارٹیوں کا بھگوان کے دربار میں رہنا ضروری ہے۔‘‘
کترینا جو اس پورے ڈرامے کو اول تو سمجھ نہیں پا رہی تھی اور دوم یہ کہ اسے ان چیزوں میں کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی؛ اس کے چہرے پر اکتاہٹ کے آثار دبیز ہوتے جا رہے تھے؛ ’’Listen Boss! I really don't have time for all this bull shit....تم لوگ اگر سیریس نہیں ہو تو...‘‘
بھٹ صاحب نے کترینا کے منھ سے لقمہ اچک لیا؛ ’’ میں سیریس ہوں محترمہ! آپ میرے ساتھ چلیے، میں آپ کو relieve کرواتا ہوں اپنے گھر میں...سامنے ہی ہے، چلیے۔‘‘
کترینا نے ایک بار غور سے بھٹ صاحب کو دیکھا جیسے وہ اس کے لیے اب تک غیر متوقع رہے ہوں۔ پھر اس نے ٹھندی سانس لی اور آگے قدم بڑھاتے ہوئے ان سے دریافت کیا؛ ’’گولی ہے نا تیرے پاس؟‘‘
بھٹ صاحب ٹھٹھک گئے؛ ’’گولی؟‘‘
’’ہاں۔ میں ایک گھنٹہ انتظار نہیں کروں گی تیرا موڈ بننے کا۔‘‘
گو مگو کی کیفیت میں بھٹ صاحب ، کترینا کے ساتھ باہر نکل گئے اور اپنے پیچھے بے بس ، شکست خوردہ جوہر اور کشیپ صاحب کو چھوڑ گئے جوکسی متوقع دھماکے کے انتظار میں تھے۔
کشیپ صاحب آرتی کرتے ہوئے ہال کے کھلے دروازے سے باہر دیکھتے بھی جا رہے تھے جہاں سے بھٹ صاحب کی کھڑکی نظر آ رہی تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ بھٹ صاحب ، کترینا کو ایک ساڑی پیش کر رہے تھے۔ ان کے ہوش اس وقت اڑ گئے جب انھوں نے دیکھا کہ کترینا ، بھٹ صاحب کی موجودگی میں ہی اپنے بالائی حصے کا کپڑا اتار رہی تھی۔
آرتی کے اختتام میں تو ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی جب ان کی نظر بھٹ صاحب کی کھڑکی پر پڑی جہاں کترینا کا سر اوپر نیچے ہوتا نظر آرہا تھا۔ جوہر بے چارہ تو صوفے پر اپنا سر پٹکنے لگا۔ پنڈت نے اس کی اس جنونی حالت کو دیکھ کر جلدی جلدی منتر پڑھنا شروع کردیا اور بالآخر پوجا ختم ہوگئی۔
پوجا ختم ہوتے ہی کشیپ صاحب اور جوہر لان کی طرف بھاگے۔ جوہر تو چاہتا تھا کہ وہ اپنی دوڑ بھٹ صاحب کی کھڑکی تک پہنچ کر ہی ختم کرے لیکن درمیان میں ہی کشیپ صاحب نے اسے روک دیا۔جوہر نے جھنجھلا کر کشیپ صاحب کی طرف دیکھاتو انھوں نے کچھ اشارہ کیا۔
بھٹ صاحب اور کترینا کے درمیان کچھ بحث چل رہی تھی۔ کترینا نے تو اپنے باؤنسر تک کو بلانے کی دھمکی دے ڈالی کہ اب وہی بھٹ صاحب سے نپٹیں گے۔
کشیپ صاحب اور جوہر کی نظریں ملیں اور وہ دبے پاؤں اپنے ’اسٹیڈیم‘‘ لوٹ آئے جہاں پنڈت اور اس کا شاگرد ’دکشنا‘ کے لیے ان کے منتظر تھے۔ کشیپ نے جیسے تیسے ان کو چلتا کیا اور دروازہ بند کرلیا۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ بولنے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔کشیپ صاحب سوچ رہے تھے کہ کہیں کترینا اور اس کے غنڈے یہاں بھی نہ آ دھمکیں۔ کیا عزت رہ جائے گی سوسائٹی میں ان کی؟ بات صرف انکلیو تک محدود تھوڑی ہی رہے گی؛ یہ بھٹ کا بچہ تو ڈیپارٹمنٹ تک میں رپورٹ کر دے گا۔ برسوں کی بنائی ہوئی عزت پل بھر میں خاک میں مل جائے گی۔ اور ان کی بیوی اور بچے؟ کیا ان سے زندگی بھر وہ آنکھیں ملا پائیں گے؟ معلوم نہیں اورکتنے سوال تھے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ تھمتے بھی نہیں اگر دھماکے کی طرح ان کے دروازے کی گھنٹی نہ بجتی۔
’’آگئے! وہ لوگ یہاں بھی آگئے۔‘‘ جوہر کی رندھی ہوئی آواز نے ان کے شک کی تائید کی۔ گھنٹی بے صبری سے مسلسل بجایا جارہا تھا۔ کوئی چارہ نہ تھا، کشیپ صاحب نے ہمت کی اور دروازہ کھول دیا۔ بھٹ صاحب اندر آندھی طوفان کی طرح داخل ہوئے۔ کشیپ صاحب وہیں دروازے پر کھڑے رہے۔ شاید انھیں بھٹ صاحب کے پیچھے پیچھے کترینا اور اس کے غنڈوں کا انتظار تھا۔
’’بیس ہزار! جناب بیس ہزار وہ محترمہ اور ان کے غنڈے ہمیں مار مار کے لے گئے۔ اس طرح کے لوگوں کو آپ انکلیو میں انوائٹ کرتے ہیں؟‘‘
اگرچہ بھٹ صاحب کا لہجہ جارحانہ تھا اور کسی قدر توہین آمیز بھی؛ کوئی اورموقع ہوتا تو کشیپ صاحب ان کی اوقات بتانے میں تاخیر نہ کرتے لیکن اس وقت انھیں یہ جملے سرشار کر گئے۔ ان کے لیے یہ خوش خبری کافی تھی کہ ’’وہ لوگ چلے گئے۔‘‘ دوسری خوشی کی بات تھی کہ بھٹ صاحب لٹ گئے جنھوں نے ان کے خفیہ کھیل میں روڑے اٹکائے تھے۔ان کی پرانی خود اعتمادی پل بھر میں بحال ہوگئی۔
’’ہم نے کس کو انوائٹ کیا؟ جس کو کیا ، آپ نے کیا۔ پنڈت جی کو آپ لائے، اس لیڈی کو بھی آپ ہی اندر لائے اور پھر آپ ہی ساتھ لے گئے اپنے گھر۔‘‘
بھٹ صاحب کو اس حملے کی توقع بالکل نہ تھی، وہ پل بھر کے لیے سٹپٹا سے گئے؛ ’’ہم لے گئے تھے کیوں کہ...‘‘ بولتے بولتے وہ رکے اور جوہر کی طرف دیکھا؛ ’’آپ کیوں چپ بیٹھے ہیں مسٹر ہاشمی؟‘‘
جوہر نے اپنے شانے اچکائے اور بالکل لاتعلق بن گیا؛ ’’Don't involve me into all this!...مجھے نہ آپ سے مطلب ہے اور نہ آپ سے۔ ‘‘
بھٹ صاحب کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی؛ ’’ آپ کی گیسٹ نے سر عام ہماری عزت لوٹ لی، ہمارے پیسے چھین لیے اور آپ کو کوئی مطلب نہیں ہے؟‘‘
جوہر نے آگ میں تھوڑا اور گھی ڈال دیا؛ ’’جب عزت لٹوائی ہے تو پیسے نہیں دیجیے گا؟ آج کل کوئی مفت میں عزت لوٹتا ہے کیا؟‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘ بھٹ صاحب نے جوہر کو گھورا۔ لیکن اس بار کشیپ صاحب نے مورچہ سنبھال لیا۔
’’یہ upset اس لیے ہیں کہ آپ جیسے عزت دار انسان نے یہ سب کیسے ہونے دیا اپنے ساتھ؟وہ بھی اس وقت جب بازو کے گھر میں پوجا چل رہی تھی؟
بھٹ صاحب اب دفاعی پوزیشن پر آگئے تھے؛ ’’ارے جناب! پوجا کے لیے ہی ہم نے ان سے کہا کہ محترمہ یہ آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، ہماری وائف کی پرانی ساڑی پہن لیجیے... تو انھوں نے وہیں کھڑے کھڑے ہی میرے سامنے کپڑے اتار دیے...سمجھ رہے ہیں نا آپ؟ اس سے پہلے کہ ہم کچھ بولتے انھوں نے (ناف کے نیچے اشارہ کرتے ہوئے) پکڑ لیا...ہمیں ہوش تو اس وقت آیا جب انھوں نے پیسوں کے لیے جھگڑا شروع کردیا۔‘‘
کشیپ صاحب نے پرتجسس انداز میں پوچھا؛ ’’مطلب، آپ نے کردیا؟‘‘
’’کیا کردیا؟ کچھ نہیں کیا۔ پندرہ سال ہوگئے بھائی کچھ کیے ہوئے.. ‘‘ بھٹ صاحب اپنی روانی میں بولے چلے جا رہے تھے،حتیٰ کہ وہ مادرزاد برہنہ ہوگئے؛ ’’کچھ کرنے لائق ہوتا تو ہماری وائف اپنی انڈین سٹیز ن شپ کیوں چھوڑتی؟‘‘
’’انڈین سٹیزن شپ چھوڑی دی؟‘‘ کشیپ صاحب نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔
’’جی ہاں۔ چھوڑ کے چلی گئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ سالی کوئی Lesbia نام کی کوئی فالتو سی جگہ کی شہری ہوگئی ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب سمجھ نہیں پائے کہ اس نام کی کون سی جگہ ہے لیکن جوہر کا قہقہہ ابل پڑا جس نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ بھٹ صاحب گویا پھٹ ہی تو پڑے تھے۔
’’ہنسیے مت جناب۔ میں خالص انڈین ہوں۔ میں مرجاؤں گا لیکن انڈین ویلیو ز کے ساتھ کسی کو کھلواڑ کرنے نہیں دوں گا۔ آج ہم چوک گئے لیکن اب اگر کوئی ڈونیشن والی مجھے اس انکلیو میں نظر آئی تو اس کا اور اس کے ڈونر دونوں کا منھ کالا کروا کے یہاں سے باہر نہ پھینکا تو آپ مجھے بھی انڈیا سے Lesbia بھیج دیجیے گا۔‘‘
بھٹ صاحب طوفان کی طرح آئے تھے اور آندھی کی طرح نکل گئے۔ کمرے میں اب خاموشی تھی۔ شاید کشیپ صاحب اور جوہر ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے مناسب اوزار تلاش کررہے تھے جو اتفاق سے جوہر کو پہلے مل گیا۔
’’آپ کی خود غرضی کی وجہ سے یہ disaster ہوا ہے۔ اچھا خاصا میں اسے اپنے گھر لے جا رہا تھا مگر آپ سے برداشت نہیں ہوا...‘‘
’’ہم تو آپ کو بچا رہے تھے، آپ ہی نے بولا تھا کہ آپ کی وائف کبھی کبھی جلدی بھی آ جاتی ہے؛ بولا تھا نا؟‘‘ کشیپ صاحب نے جلدی سے اپنی صفائی پیش کی۔
’’وائف جلدی آ جاتی ہے مگر آئی تو نہیں نا؟‘‘ جوہر نے ان کی دلیل رد کردی۔
کشیپ صاحب بھی کہاں ہار ماننے والے تھے، زچ کر کہا؛ ’’اور اگر آ جاتی تو؟ لڑکی دیکھتے ہی آپ خفیہ کھیل کے سارے اصول، سارے پروٹوکول بھول گئے؟ آپ کی وجہ سے بھٹ صاحب اس گیم میں involve ہوگئے۔ اتنا زبردست لنک ہاتھ لگا تھا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ بھٹ صاحب کے رہتے آپ دوبارہ اسے اس انکلیو میں استعمال کر پائیں گے؟‘‘
جوہر نے انھیں ٹکا سا جواب دیا؛ ’’مجھے بھی آپ جیسے سیلفش انسان کے ساتھ کوئی joint uplinkingکرنی بھی نہیں ہے۔‘‘
کشیپ صاحب کی برداشت اب جواب دے گئی۔ اس آدمی کی اتنی اوقات کہ وہ انھیں ’’سیلفش‘‘ کہہ ڈالے۔ ’’آپ ہمیں سیلفش کہہ رہے ہیں؟ سائبر پولس نے آپ کے گھر پر چھاپہ مارا تو آپ نے جھٹ سے ہمارا نام بک دیا۔‘‘
جوہر اس ضرب کاری سے بوکھلا گیا؛ ’’آپ کو پھنسانے کے لیے نہیں کیا تھا، آپ کو اپنی innocence کا گواہ بنانے کے لیے کہا تھا۔‘‘
’’ہم نے بھی آپ کو بچانے کے لیے کیا...‘‘ کشیپ صاحب کے ہاتھوں سرا لگ چکا تھا، اب صرف اسے لپیٹنا باقی تھا؛ ’’ہماری پلاننگ کے مطابق، اسٹیڈیم کے parameters کے باہر خفیہ کھیل safe نہیں تھا۔ لیکن آپ پر تو سیکس چڑھا تھا، وہ 'JLO' والے کیس کی طرح۔‘‘
جوہر کے پاس کچھ کہنے کو بچا تو نہیں تھا لیکن وہ اپنی کمینگی کا اعتراف بھی تو نہیں کرسکتا تھا۔ ’’ارے جائیے، آپ کو ڈر تھا کہ سپورٹنگ ایکٹر protocol پھاند کر کہیں ہیرو نہ بن جائے۔‘‘ بولتے بولتے اچانک جوہر درمیان ہی میں رک گیا ، کچھ سوچنے لگا پھر اس نے کشیپ صاحب کو گھورنا شروع کردیا؛ ’’آپ کو کیسے پتہ کہ اس کا نام "JLO"تھا۔‘‘
کشیپ صاحب اس اچانک گرفت پر ہڑبڑا کر رہ گئے۔ کچھ بھی تو نہ کہہ پائے بے چارے۔ لیکن ان کی مجرمانہ خاموشی سے جوہر نے سب کچھ سمجھ لیا ۔ وہ تار سے تار ملا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کئی رنگ آتے رہے جاتے رہے؛ آخری رنگ بہت بھیانک تھا۔کشیپ صاحب نے جھرجھری لی اوراندر ہی اندر وہ آنے والے واقعات سے نپٹنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگے ۔
’’مسٹر کشیپ آپ کا گھٹیا پن is dividing by zero ‘‘ جوہر کی آواز اتنی اونچی تھی کہ وہ پورے انکلیو میں اٹکھیلیاں کرنے لگی’’ Infinite... no one can define it. ‘‘
اتنا بڑا اپمان؟ اس سالے سریش کے بچے نے سیدھا سادا وار کیا تھا لیکن یہ دو کوڑی کا انسان جوہر تو علامتی اور استعاراتی مار، مار رہا تھاجو حقیقت کاری سے زیادہ گہرا چوٹ پہنچاتی ہے۔ ان کی آنکھوں کے آگے تھوڑی دیر کے لیے اندھیرا چھا گیا ؛ روشنی آئی تو جوہر وہاں نظر نہیں آیا۔ کشیپ صاحب باہر کی طرف لپکے۔ جوہر غصے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنے بنگلے کی طرف جا رہا تھا۔ کشیپ صاحب نے اس سے زیادہ بلند آواز میں اسے پکارا؛’’اور آپ کیا ہیں مسٹر جوہر! آپ کے arguments are like pi...completely irrational"
جوہر جو پہلے ہی کافی غصے میں تھا؛ کشیپ صاحب کے اس ریمارکس سے اس کے منھ سے کف نکلنے لگا؛ ’’آج کے بعد don't you ever try to make a stress-strain curve with me. مسٹر کشیپ! کیوں کہ آپ کے لیے میری نفرت is going to be a concave up function...ever increasing!"
کشیپ صاحب اور جوہر کے درمیان بیچ سڑک پر ہی مناظرے بازی شروع ہوگئی۔
" I don't care! ۔ویسے بھی we are as compatable as windows and macintosh!"
جوہر کی قابلیت بھی کم نہ تھی، اس نے بھی رعایت لفظی کے جوہر دکھانے شروع کردیے؛ ’’ہم compatible ہو بھی نہیں سکتے...I am a marine, you are a moron!‘‘
’’رائٹ! کیوں کہ آپ مرین والے are not just a regular moron. You are the product of the greatest minds of a generation working together with the express purpose of building the dumbest moron who ever lived."
یہ ’’دانشورانہ تکرار‘‘ بہت دیر تک جاری رہی جسے دلچسپی سے دیکھنے والوں میں انکلیو کے کتے بلی بھی شامل تھے جنھوں نے شاید اس سے قبل دو شریف زادوں کو اتنے مہذب اور پروفیشنل انداز میں کبھی جھگڑتے نہیں دیکھا تھا۔

بغل میں لڑکا شہر میں ڈھنڈورا

To see a World in a Grain of Sand
And a Heaven in a Wild Flower,
Hold infinity in the palm of your hand
And Eternity in an hour.

- William Blake, Auquries of Innocence
اس واقعے کے بعد کشیپ صاحب اپنی انجینئری میں اتنا مصروف ہوگئے کہ انھیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ ابھی کچھ دنوں قبل وہ اپنی ’’کینچلی‘‘ اتارنے کی خاطر کس قدر بے تاب تھے۔ جوہر اور ان کا آمنا سامنا اب شاذ و نادر ہی ہوتا تھا۔ اگر کبھی ہو بھی جاتا تو دونوں سر جھکائے ایک دوسرے کے پاس سے گذر جاتے ۔ ایسا نہیں ہے کہ کشیپ صاحب اپنی آرزوؤں کی قید سے رِہا ہو چکے تھے ، صرف اتنا تھا کہ وہ کوئی خطرہ مولنا نہیں چاہتے تھے۔ جب تک جوہر کے ساتھ ان کی دوستی تھی، ان کے حوصلے کو زبان میسر تھی لیکن اب انھوں نے خود کو بے دست و پا چھوڑ دیا تھا؛ زیادہ سے زیادہ وہ کسی مناسب موقع کے منتظر تھے۔
اس دن جب انھیں آفس کی کار نے لنچ کے لیے ان کے بنگلے پر ڈراپ کیا تو اس ’موقع‘ کی تمہیدی گنگناہٹ ان کے کانوں میں رس گھول گئی جو جوہر کے بنگلے سے آ رہی تھی۔ ان کے قدموں میں زنجیر پڑگئی۔ پلٹ کر پڑوس کی طرف دیکھا اور جلوۂ حسن سے ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ شاید وہ مسز جوہر تھیں۔ انھیں یاد آیا کہ آج فرائڈے ہے اور جوہر کی بیوی اسی دن پونے سے گھر واپس آتی ہے۔ وہ اس وقت دھلے ہوئے کپڑے اپنے بنگلے کے لان میں سکھا رہی تھی اور ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی۔کشیپ صاحب کے دماغ میں پہلی بات جو آئی وہ یہ تھی کہ جوہر سے انھوں نے جھگڑ ا کر کے کہیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی تو نہیں مار لی؟ وہ اپنے خیالوں میں گم لان میں رکھے پھاؤڑے سے جا ٹکرائے اور منھ کے بل زمین بوس ہو گئے لیکن فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ کھڑے ہوتے ہوئے انھوں نے ایک عدد خود کو گالی دینے کی فراخ دلی دکھائی اور چور نظروں سے جوہر کے بنگلے کی طرف دیکھا جہاں جوہر کی بیوی گنگناتے ہوئے کپڑے سکھانے میں مصروف تھیں۔ کشیپ صاحب نے اطمینان کی سانس لی اور اس بار انھوں نے اپنی پڑوسن کا بغور مشاہدہ کیا۔ وہ شاید ابھی ابھی نہا کر نکلی تھیں، اس کے بھیگے ہوئے بال کھلے تھے اور ہوا میں لہرا رہے تھے۔ بغیر آستین کے بلاؤز اور کمر کے نیچے بندھی ساڑی میں وہ غضب کی لگ رہی تھی۔ اس پر مزید یہ کہ آسمان سے بوندا باندی بھی شروع ہوگئی۔ لیکن وہ بدستور لان میں ہی کھڑی رہی۔ شاید اسے مزہ آ رہا تھا۔ اس نے اپنا گلابی چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔ بارش کی بوندیں اس کے چکنے گالوں پر پھسلنے لگی۔ کشیپ صاحب کو اپنے دل کی دھڑکنوں کا شور بارش کی ٹپ ٹپ سے زیادہ محسوس ہوا۔ وہ جلدی سے اپنا ہاتھ دل پر رکھ کر اسے قابو کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگے لیکن صرف دل بے قابو ہوتا تو کوئی بات تھی ، یہاں تو پورا جسم ہی اینٹھنے لگا تھا۔ اچانک ایک چھ سالہ لڑکی دوڑتے ہوئے جوہر کے بنگلے سے باہر آئی ۔ کشیپ صاحب نے اندازہ لگایا کہ یہ جوہر کی بیٹی ہوگی جو اپنی ماں کے ساتھ بارش میں کھیلنے کے لیے اس سے ضد کررہی تھی۔لیکن کشیپ صاحب کو اب تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اتنی خوب صورت عورت جوہر جیسے گھامڑ کی بیوی ہو سکتی ہے لیکن ان کے اس شک کی تردید بھٹ صاحب کی آواز نے کردی جو اس وقت ان کی پڑوسن سے مخاطب تھے۔
’’کب آئیں مسز جوہر؟‘‘
’’کل شام کو ۔‘‘
بھٹ صاحب نے حسب عادت اپدیش دینا شروع کردیا؛ ’’میں کہتا ہوں، اب یہیں رہ جائیے۔ یہ پونہ ۔ممبئی آنے جانے کا چکر ختم کیجیے مسز جوہر!‘‘
’’آپ پونہ جیسی salary ممبئی میں دلوا دیجیے، میں رک جاؤں گی۔‘‘
بھٹ صاحب شاید جلدی میں تھے، اس لیے نکل گئے۔ جوہر کی بیوی جانے کے لیے مڑی تو اس کی نظر کشیپ صاحب پر پڑی۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے سے کشیپ صاحب شرمندہ ہو گئے۔ مسز جوہر نے سر کی جنبش اور ایک خوب صورت مسکراہٹ کے ساتھ انھیں سلام کیا۔ کشیپ صاحب نے فوراً نظریں گھما لیں جیسے وہ کسی اور چیز کو دیکھنے میں مصروف ہوں۔ ان کی نظر بنگلے کے قریب سے گذرتی اس جوان لڑکی پر پڑی جو کمر کے کافی نیچے جینس پہنتی تھی اور جس پر بھٹ صاحب نے ریمارکس پاس کیے تھے ، نتیجتاً بعد میں اس کے بوائے فرینڈ نے ان کی پٹائی کی تھی۔ کشیپ صاحب نے بھی اسے ان دیکھا کرنا چاہا لیکن وہ مسکراتی ہوئی ان کے بنگلے کے پاس رک گئی اور انھیں براہ راست مخاطب کیا؛ ’’انٹی لائن دے رہی ہے سر، grab it ‘‘
لڑکی نے کشیپ صاحب کو آنکھ مارتے ہوئے کہا اور نکل گئی۔ کشیپ صاحب بالکل بوکھلا گئے، پلٹے اور جوہر کی بیوی کی طرف دیکھا جو زمین پر جھکی ہوئی کچھ کر رہی تھیں۔ ان کا چوڑا چکلا کولہا کشیپ صاحب کے بالکل سامنے تھا ۔ کشیپ صاحب کے پورے جسم میں جیسے ڈھیروں چیونٹیوں نے ایک ساتھ اچانک رینگنا شروع کردیا۔ ان کا دھیان ان کے آفس کی کار کے ہارن سے ٹوٹا۔ ڈرائیور ان سے پوچھ رہا تھا؛ ’’لنچ ہو گیا سر؟‘‘
’’ہاں۔ بس ابھی آئے۔‘‘
کشیپ صاحب بنگلے کے اندر جاتے ہوئے مسز جوہر پر آخری نظر ڈالنا نہیں بھولے جو اپنے بنگلے کے اندر جا رہی تھی۔ کشیپ صاحب نے ایک زور دار سانس چھوڑی جسے اب تک انھوں نے اندر ہی قید کر رکھا تھا۔
کشیپ صاحب تقریباً دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکلے، ان کے ہاتھوں میں کچھ کیلے نظر آ رہے تھے جو شاید ان کے لنچ کے متبادل تھے۔ ڈرائیور نے جوں ہی کار اسٹارٹ کیا، ایک بار پھر کشیپ صاحب کی نظر مسز جوہر پر پڑی ۔ جوہر کے بنگلے کے سامنے ایک آم کا ٹھیلا کھڑا ہوا تھا اور وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنے پسندیدہ آموں کو چن رہی تھی۔
’’گاڑی روکیے ذرا۔‘‘ کشیپ صاحب کے اس اچانک حکم پر ڈرائیور نے حیرت سے کشیپ صاحب کی طرف پلٹ کر دیکھا جو پچھلی سیٹ کی کھڑکی کے رنگین گلاس سے باہر دیکھ رہے تھے۔ اس وقت وہ ایک آم اٹھا کر اسے سونگھ رہی تھی لیکن کشیپ صاحب کا تصور اڑان بھرتا چلا گیا۔ انھیں محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی مخروطی انگلیوں کے درمیان ایک آم اٹھایا اور اپنی خوب صورت اٹھی ہوئی ناک کے قریب لا کر گہری سانس کے ساتھ اسے سونگھنا شروع کردیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، پھر اس کے گلابی ہونٹ ایک دوسرے سے کپکپاتے ہوئے رفتہ رفتہ جدا ہوئے اور موتی جیسے دانتوں کی مدد سے اس نے آم کا رس چوسنا شروع کردیا۔ کشیپ صاحب کی ریڑھ میں سہرن دوڑ گئی۔ وہ بڑبڑائے؛ ’’یہ جوہر قسم سے بہت بڑا چورن ہے۔ راجدھانی گھر پر ہے اور سسرا جنتا میل میں بکنگ ڈھونڈتا ہے۔‘‘
’’سر ! چلیں؟‘‘
ڈرائیور کی آواز نے انھیں زمین پر لا پٹکا، خشمگیں آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے انھوں نے اثبات میں صرف سر ہلاتے ہوئے کہا؛ ’’ہاں! ڈاک یارڈ۔‘‘
’’ڈاک یارڈ؟‘‘ ڈرائیور نے حیرت سے پوچھا۔
کشیپ صاحب نے اسے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا، وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھے۔
’’لنچ تو آج ہم نے بھی نہیں کیا۔ ایک روٹی ایکسٹرا ہے کیا؟‘‘ جوہر جو ڈاک یارڈ کی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر تنہا بیٹھا ہوا اپنی ٹفن سے لنچ کر رہا تھا، اس نے چونک کر آواز کی طرف دیکھا۔ کشیپ صاحب ایک دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ سامنے کھڑے تھے۔ جوہر کا منھ کھانے سے بھرا ہوا تھا اور کچھ تو حیرت سے بھی کھلا رہ گیا تھا۔ پل بھر کے لیے تو وہ روٹی چبانا بھی بھول گیا۔ حیرت کی وادیوں سے بھٹکتا ہوا وہ جب ڈاک یارڈ کی پہاڑی پر لوٹا تو اس نے اپنا ٹفن کشیپ صاحب کی طرف کھسکا دیا۔ کشیپ صاحب نے بھی چپ چاپ کھانا شروع کردیاجس میں ان کے اندازے کے مطابق مسز جوہر کا لمس شامل تھا۔ دونوں کے درمیان بہت دیر تک خاموشی رہی، بالآخر کشیپ صاحب ہی نے پہل کی۔
’’آپ کو تو شاید یاد بھی نہیں ہوگا کہ ہم لوگوں کا کبھی جھگڑا بھی ہوا تھا۔‘‘
’’یاد کیوں نہیں ہوگا۔‘‘ جوہر نے حقیقت بیانی سے کام لیا۔
کشیپ صاحب کے لیے یہ جملہ غیر متوقع نہیں تھا، اس لیے انھوں نے برا نہیں مانا بلکہ وہ ایسی سچویشن کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے؛ ’’کیوں کہ اکثر ایک brilliant scientific mind کی ہارڈ ڈسک میں arbitrary اور insignificant data کے لیے کافی اسپیس نہیں ہوتی۔‘‘
کشیپ صاحب کی حکمت عملی نے اپنا کام کرنا شروع کردیا تھا؛ جوہر نے پہلی بار نظر بھر کر کشیپ صاحب کی طرف دیکھا اور بالآخر ایک دوستانہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آ کر رک گئی؛ ’’دراصل اس دن کے بہت سے details تو میری میموری سے ڈیلیٹ بھی ہوچکے ہیں۔‘‘
’’ہمیں بھی ایسا ہی لگا تھا، اسی لیے تو ہم سب کام چھوڑ کر آپ سے ملنے یہاں آگئے۔ ہم نے کہا اس بیہودہ دن کے سارے details آپ کی میموری سے ڈیلیٹ ہو جائیں، اس سے پہلے ہم آپ کو سوری بول دیں، نہیں تو آپ سوچیں گے کہ یہ کشیپ، میرا پڑوسی، میرا دوست، مجھے سوری کیوں بول رہا ہے۔‘‘ کشیپ صاحب نے سارے تیر ایک ساتھ جوہر کی طرف روانہ کردیے۔
’’تو آپ نے realize کیا نا ، کہ اس دن...‘‘
شڑاپ۔کوئی اور دن ہوتا تو کشیپ صاحب ’realize ‘جیسے ذلت آمیز لفظ کی چابک برداشت نہ کرتے لیکن انھوں نے اس درد کو بھی اندر ہی اندر پی لیا؛ ’’ہاں! ہم نے realize کیا کہ آپ بالکل صحیح تھے۔ ہم لوگ reputed انسٹی ٹیوٹ کے well-qualified انجینئرس ہیں، کسی ایری غیری یونیورسٹی کے ڈپلوما ہولڈر نہیں۔ اس کے علاوہ ہم لوگ Happy married, family personہیں...ہمارے ٹسٹ کے variables بازارو عورتوں جیسے سستے کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘
جوہر ان کی طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہا تھا؛ ’’یہ سب آپ نے realise کیا؟‘‘
کشیپ صاحب گرم لوہے پر آخری چوٹ لگائی؛ ’’ہاں! آپ سوچیے کہ پچھلے کچھ دنوں میں involuntarily جو ہم لوگوں سے غلطیاں ہو گئیں، ایسی غلطیاں voluntarily کرنے والے کسی انسان کو آپ اپنے گھر پر انوائٹ کرنا پسند کریں گے؟ اپنے بیوی بچوں سے interactکروانا پسند کریں گے؟
جوہر فکرمند نظر آ رہا تھااور کشیپ صاحب اپنے پھینکے ہوئے جال کا حشر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔
’’غلطی کہاں ہوئی ،سمجھ گیا۔ ہم اپنے لوجیکل اور reasonable left brain کو بالکل نظر انداز کر کے ، instinctive and emotional right brain پر پوری طرح depend ہو گئے تھے؛ ہے نا؟‘‘
’’واہ! کیا precise fault پکڑی ہے آپ نے۔ آپ کی اسی insight کے تو ہم قائل ہیں جوہر صاحب۔‘‘ کشیپ صاحب نے تعریفی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’تھینک یو۔‘‘
مچھلی کانٹا نگلنے ہی والی تھی؛ ’’آپ پلیز آج گھر آئیے شام کو...intellectual discussion کریں گے اور ساتھ میں ڈنر بھی۔ بیگن کا بھرتا، گھی کے تڑکے کے ساتھ دال اور ستّو کی پوری۔ کیا کہتے ہیں؟‘‘
مچھلی پھڑپھڑانے لگی ، لیکن اس نے ا چانک دانہ کانٹا نگلنے سے انکار کردیا؛ ’’آج تو possible نہیں ہو پائے گا۔ وائف پونے سے آگئی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب کی مشکل مزید آسان ہوگئی، انھیں ایک سنہرا موقع مل گیا تھا جسے وہ کسی قیمت پر گنوانا نہیں چاہتے تھے؛ ’’اچھا؟ بھابھی جی آ گئی ہیں؟ تو انھیں بھی لے آئیے...اب دیکھیے گھر کی عورتوں والی بات تو ہمارے کھانے میں آئے گی نہیں لیکن کوشش کریں گے۔ ابھی ہمارے کچن میں بھی سامان کم ہے، برتن ورتن بھی کام چلاؤ پڑے ہیں، مگر کیا ہے کہ آپ لوگ ساتھ رہیں گے تو اکیلا پن نہیں کھلے گا۔‘‘
بالآخر مچھلی نے دانہ نگل ہی لیا اور کانٹا بھی۔
’’اس سے تو اچھا یہ ہوگا کہ آپ ہمارے یہاں ڈنر کر لیں‘‘ جوہر نے درمیان میں ہی بات روک لی اور اپنی جیب سے موبائل فون نکالنے لگا؛ ’’میں ذرا ایک منٹ وائف سے...‘‘
کشیپ صاحب نے اسے آگے بولنے کا موقع کہاں دیا؛ ’’what time?‘‘
جوہر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، وہ ٹکر ٹکر کشیپ صاحب کا منھ تاکنے لگا۔کشیپ صاحب نے اپنی بات دہرائی؛ ’’ڈنر! کب کرتے ہیں؟‘‘
’’یہی...آٹھ، ساڑھے آٹھ بجے۔‘‘ جوہر کسمپرسی میں بدبدایا۔
’’او کے۔ تو ٹھیک آٹھ بجے ہم آپ کے یہاں آ رہے ہیں۔ اور ہاں!‘‘کشیپ صاحب نے اس پورے ڈرامے کو آخری ٹچ دینے کے لیے جوہر کو اپنے گلے لگا لیا؛ ’’ایک بار پھر تھینک یو! جوہر صاحبyou are outstanding ۔‘‘
اتنا جلدی سب کچھ ہو گیا تھا کہ جوہر سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ خوشی کا اظہار کرے یا جھنجھلاہٹ کا؛ وہ صرف اپنے موبائل کو غیر ارادی طور پر تکے جا رہا تھا ، جب کہ کشیپ صاحب کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔
کشیپ صاحب نے اس دن آفس دوبارہ جانے کا خطرہ نہیں اٹھایا۔ انھیں ڈر تھا کہ کہیں اوپر سے اوور ٹائم کا آرڈر نہ آ جائے، اس لیے حفظ ماتقدم کے تحت انھوں نے بیماری کا بہانہ بنا کر آدھے دن کی چھٹی لے لی۔ لیکن چھٹی لینے کا نقصان یہ ہوا کہ ان سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا۔ انھوں نے خود کو مصروف رکھنے کی کافی کوشش کی اور اس چکر میں انھوں نے اپنے مزاج کے خلاف پورے بنگلے کی صفائی تک کر ڈالی۔ لیکن وقت تھا کہ چیونٹی کی چال چل رہا تھا۔ پھر انھوں نے اپنے گندے کپڑے خود ہی دھو ڈالے جو عموماً دھوبی دھویا کرتا تھا۔ لیکن اب بھی شام کے چھ ہی بجے تھے۔ انھوں نے دیوار گھڑی پر تنقیدی نظر ڈالی ۔ اسے دیوار سے اتار کر دیکھا کہ چل بھی رہی ہے یا نہیں۔ کہیں بیٹری کی مدت نہ ختم ہو گئی ہو لیکن انھیں مایوسی ہوئی ، کیوں کہ وہ بالکل صحت مند تھی جس کی تصدیق ان کی کلائی کی گھڑی نے کردی۔
سات بجے ان کا صبر جواب دے گیا۔ انھوں نے سوچا کہ تیار ہونے میں بھی وقت لگے گا، چنانچہ تیاری شروع کردی۔ ان کا اندازہ درست ثابت ہوا، کیوں کہ تیار ہونے میں واقعی ایک گھنٹہ لگ گیا۔ آفس جانے کے لیے تو وہ مشکل سے پندرہ منٹ میں تیار ہوجاتے تھے لیکن دیار محبوب میں حاضری دینے اور آفس جانے میں کافی فرق ہوتا ہے۔ سو انھوں نے کوئی کور کسر نہیں چھوڑی، اس دھج سے نکلے کہ اگر وہ کمر کے نیچے جینس پہننے والی لڑکی انھیں دیکھ لیتی تو وہ بھی ایک بار اپنے بوائے فرینڈ کی جگہ ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتی۔
جوہر نے دروازہ کھولا تھا، اس نے کشیپ صاحب کو خوش آمدید کہا۔ کشیپ صاحب نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف آم کا ایک بکس بڑھا دیا۔
’’ارے اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’ضرورت نہیں بھئی، گفٹ ہے۔ ہمارے ایک کنڑیکٹر رتنا گری کے ہیں، وہ آج دے گئے...بولے ، صاحب آم تو بہت کھائے ہوں گے آپ نے، لیکن ہمارے رتنا گری کے ’ہاپوس ‘ جیسے نہیں۔‘‘کشیپ صاحب بول بھی رہے تھے اور چور نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھتے بھی جا رہے تھے، پورا اسٹیڈیم خالی تھا۔
’’میرو خوش ہو جائے گی...she loves hapus‘‘ جوہر نے بڑے پیار سے کہا۔
’’میرو؟‘‘ کشیپ صاحب نے پوچھا۔
’’میری وائف۔ ویسے نام تو مرینالنی ہے، لیکن سالا یہ نام مجھے ان کی کمر درد کی ٹیوب "Volini"جیسا لگتا ہے۔ میں نے کہا بھئی ہم میرو سے کام چلا لیں گے۔‘‘
میرو؟ کشیپ صاحب کی نظروں کے سامنے سے ممبئی کی مشہور "Meru cabs" فراٹے بھرتی گذر گئی۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ دیکھو اس الو کے پٹھے کو؛ بیوی کو نام بھی دیا تو ٹیکسی کا۔‘‘
’’ارے آپ کیا سوچنے لگے کشیپ صاحب!‘‘ جوہر کی آواز نے انھیں چونکا دیا۔
’’کچھ نہیں۔ بس دیکھ رہے تھے کہ عورت کے آتے ہی گھر کی رنگت کیسے بدل جاتی ہے۔ ایسا لگ ہی نہیں رہا ہے کہ یہ وہی گھر ہے جہاں ہم نے پارٹی کی تھی۔‘‘
’’پارٹی؟‘‘ میرو کچن سے باہر آ چکی تھی؛ ’’تو میرے پیچھے خوب پارٹیاں ہوئی ہیں یہاں؟‘‘
جوہر صاحب اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئے؛ ’’پارٹی نہیں ڈارلنگ، بالٹی۔ کشیپ صاحب پہلی بار ہمارے یہاں اپنی بالٹی لے کر آئے تھے...پانی نہیں آ رہا تھا ان کے یہاں۔‘‘جوہر نے فوراً بات بدلتے ہوئے کشیپ صاحب کا تعارف اپنی بیوی سے کرادیا۔ دونوں کے درمیان نمستے کا تبادلہ ہوا۔ کشیپ صاحب حسن بے پناہ کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر خود کو بمشکل سنبھالنے میں لگے ہوئے تھے لیکن میرو پر سے نظریں ہٹانا ان کے لیے ناممکن سا ہوگیا تھا۔ میرو نے بھی آج کی ڈنر پارٹی کے لیے خود کو بطور خاص تیار کیا تھا۔
’’ڈنر میں تھوڑا سا ٹائم ہے ، تب تک آپ کچھ لیں گے؟‘‘ میرو نے اپنے بالوں کی گستاخ لٹوں کو پیچھے کی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’جی؟‘‘ کشیپ صاحب سننے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ان کے کانوں میں شو ں شوں کی آواز یںآ رہی تھیں جیسے بانس کے جنگلوں سے ہوا تیزی سے گذر رہی ہو۔
’’کچھ لیں گے؟‘‘ ایک بار پھر میرو نے دہرایا۔
کشیپ صاحب نے لپ اسٹک لگے ان ہونٹوں کی حرکت کو غور سے دیکھا تو انھیں محسوس ہوا کہ وہ انھیں ترغیب دے رہے ہوں،’ ’کچھ لیں گے ؟‘‘
’’ہم تو کچھ دینا چاہتے ہیں آپ کو۔‘‘ کشیپ صاحب کے دل کی بات بے ساختہ زبان پر آگئی۔
میرو نے اپنی بھویں اٹھا کر ان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو کشیپ صاحب نے اپنے لائے ہوئے آم کے بکس کی طرف اشارہ کر دیا جو وہیں پاس ہی میں پڑا تھا۔ میرو کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’اوہ آم! تھینک یو سو مچ۔ سونو آج آم کے لیے ضد کررہی تھی...مارکیٹ جانے کی فرصت نہیں ملی...یہاں انکلیو میں جو بیچنے آتے ہیں، ایسے دام بولتے ہیں کہ...‘‘
’’کھول کے دیکھیے نا! رتنا گری کے بیسٹ ہاپوس ہیں۔‘‘ کشیپ صاحب بچھ گئے۔
میرو نے جوہر کی طرف دیکھا تو اس نے اشارے سے اجازت دی۔ میرو کی خوب صورت انگلیاں جس کے ناخن بڑے اور سلیقے سے ترشے ہوئے تھے، بکس کھول رہے تھے لیکن کشیپ صاحب کو ان کا لمس اپنے جسم پر محسوس ہورہا تھا ۔
’’رتنا گری کے ہی بیسٹ ہوتے ہیں۔ پتلی کھال، چھوٹا بیج، بہت لذیذ۔‘‘
کشیپ صاحب کو پل بھر کے لیے لگا کہ میرو اپنے بارے میں بات کررہی ہے لیکن جب میرو کے ہاتھوں میں آم انھوں نے دیکھا تو فوراً بولے؛ ’’سونگھ کر دیکھیے! کہتے ہیں اس کی خوشبو میں جادو ہوتا ہے۔‘‘
پھر شروع ہوگئی کشیپ صاحب کے اسی تصور کی اڑان جس نے آج صبح دور سے دیکھ کر ہی پَر تول لیے تھے۔ پتہ نہیں وہ اڑتے ہوئے کہاں سے کہاں نکل گئے، میرو کی آواز انھیں واپس لے آئی۔
’’بیئر؟‘‘
کشیپ صاحب نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ میرو فریج سے ایک بیئر لے آئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کشیپ صاحب کے لیے گلاس بھرتی، انھوں نے یاد دلایا؛ ’’بس ایک گلاس۔‘‘
’’انھوں نے تو ایک مہینے سے چھوڑی ہوئی ہے۔آپ کو اکیلے ہی پینی ہوگی۔‘‘ میرو نے کشیپ صاحب کا گلاس بھرتے ہوئے کہا۔ کشیپ صاحب نے جوہر کی طرف دیکھا تو اس نے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ لگتا ہے جوہر جیسا لنگور میرو جیسی حور کا شوہر ہونے کی قیمت ادا کررہا تھا، کشیپ صاحب سوچ رہے تھے۔ ڈنر ٹیبل پر بھی میرو کھانا پروستے وقت کشیپ صاحب سے کہہ رہی تھی؛ ’’آپ کے اس انکلیو میں آنے کی سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوئی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ اس کا منھ تکنے لگے۔ میرو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا؛ ’’کم سے کم ان پر کوئی نظر رکھنے والا تو آ گیا۔ نہیں تو مجھے یہی ڈر رہتا ہے کہ یہاں سے میں گئی اور وہاں یہ میری کوئی سوت لے آئے۔‘‘
’’آپ جیسی بیوی ہو تو کوئی چورن ہی ہوگا جو سوت کے بارے میں سوچے گا۔‘‘ کشیپ صاحب کے منھ سے بے ساختہ نکلا؛ بولنے کے بعد انھیں ڈر لگا کہ کہیں جوہر اسے اپنے اوپر حملہ نہ سمجھ لے لیکن وہ احمق تو کشیپ صاحب کے اس جملے کو اپنی معصومیت کا ثبوت بنا کر اپنی بیوی کے سامنے پیش کر رہا تھا ؛ ’’سن لیا؟ ان کو تو کشیپ صاحب شک کرنے کی بیماری ہے اور کچھ نہیں۔‘‘
’’لو میں پلاؤ تو کچن میں ہی بھول گئی۔‘‘
میرو کرسی سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن کمر پکڑ کر دوبارہ وہیں بیٹھ گئی۔ اس نے جوہر کی طرف بے چارگی سے دیکھا؛ ’’آپ لے آئیں گے پلیز۔ اسٹوو کے پاس ہی رکھا ہے۔‘‘
جوہر تعمیل حکم میں کچن کی طرف چلا گیا۔ اس وقت غنیمت کے کشیپ صاحب بہت دیر سے منتظر تھے ۔
’’کمر میں درد ہے؟‘‘ کشیپ صاحب کے پاس وقت بہت کم تھا۔
’’جی! آج صبح سے ہی...‘‘
’’لگتا ہے ہفتے بھر کی کسر ایک ہی رات میں جوہر صاحب...‘‘ کشیپ صاحب نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا ہی چھوڑ دیا اور میرو کی طرف دیکھنے لگے جو ان ہی کی طرف سخت نظروں سے دیکھ رہی تھی؛ ’’کھانا کھائیے مسٹر کشیپ! خالی پیٹ پئیں گے تو اور چڑھے گی۔‘‘
کشیپ صاحب ہربڑا کر رہ گئے۔ اسی وقت جوہر بھی پلاؤ کے ساتھ لوٹ آیا۔وہاں ایک پراسرار خاموشی دیکھ کر اس کا حیران ہونا فطری تھا؛ ’’کیا ہوا؟‘‘
اس سے پہلے کہ میرو کچھ بولتی، کشیپ صاحب نے صفائی پیش کردی؛ ’’ہم کہہ رہے تھے کہ ایک تو بھابھی جی کی کمر میں درد ہے، اوپر سے آپ نے ان پر ہمارے ڈنر کا لوڈ ڈال دیا۔‘‘
’’یہ درد بھی ان کا پالا ہوا ہے ۔ ارے باقی کے دن وہ چھوکرا آتا ہے نا یہاں کھانا بنانے، صاف صفائی کرنے...میں کہتا ہوں اسی سے کام کروا لیا کرو...لیکن نہیں، آتے ہی اس کی چھٹی کردیتی ہیں۔ کہتی ہیں، اس کی نظر گندی ہے۔ ایک تو ان عورتوں کو آدمیوں کی نظریں analyze کرنے کی بہت بری بیماری ہوتی ہے۔‘‘
کشیپ صاحب نے قدرے مطمئن ہو کر تھوک نگلا ۔ پھلوں کی ٹوکری کے پاس انھیں ایک ریلوے ٹکٹ پڑا ہوا نظر آیا تو انھیں موضوع بدلنے کا موقع مل گیا۔
’’اچھا تو آپ ٹرین سے سفر کرتی ہیں؟ ٹکٹ وغیرہ کی کبھی پرابلم ہو تو بتائیے گا۔‘‘
میرو نے صرف اپنا سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ کشیپ صاحب نے دل ہی دل میں اپنی جلد بازی پر خود کو کوسا۔ کھانا خاموشی سے ختم ہوا۔ میرو برتن سمیٹ کر کچن کی طرف چلی گئی اور پتہ نہیں وہ واقعی مصروف ہو گئی یا خواہ مخواہ مصروفیت کی نذر ہوگئی۔ بہرحال، اب وہاں کشیپ صاحب کے لیے کچھ نہ تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ جوہر سے گفتگو کرتے رہے اور میرو کی ایک جھلک دیکھنے کا انتظار کرتے رہے، پھر مایوس ہو کر انھوں نے اجازت طلب کی جو انھیں آسانی سے مل گئی۔
کشیپ صاحب کو باہر چھوڑنے کے لیے جب جوہر کے ساتھ میرو بھی آئی تب بھی اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ باہر بوندا باندی ہو رہی تھی۔ جوہر نے انھیں چھاتے کی پیش کش کی لیکن کشیپ صاحب نے معذرت کر لی۔ وہ بارش میں بھیگتے ہوئے اپنے بنگلے تک پہنچے اور پلٹ کر جوہر کے گھر کی طرف دیکھا جس کا دروازہ بند ہوچکا تھا۔ وہ کچھ دیر تک وہیں کھڑے ہو کر اس بند دروازے کو دیکھتے رہے جس کے پیچھے وہ اپنا جسم چھوڑ آئے تھے۔
رات بھر انھیں الٹے سیدھے خواب ستاتے رہے ۔ کبھی میرو ان کی بانہوں میں ہوتی تو کبھی وہ اس کے چوڑے چکلے کولھے پر چٹکی لے رہے ہوتے۔ پوری رات انھوں نے سوتے جاگتے گذاری۔ فریج میں رکھی پانی کی کئی بوتلیں ان کے حلق کی نذر ہوچکی تھیں لیکن کمبخت پیاس تھی کہ بجھ نہیں پا رہی تھی۔ ان کا پورا جسم پھنکنے لگا تھا؛ پتہ نہیں یہ بارش میں بھیگنے کا نتیجہ تھا یا اندر کی گرمی باہر ابل آئی تھی۔ دن چڑھے تک کمبل میں لپٹے اور monkey cap لگائے سوتے رہے۔ موبائل کی مسلسل گھنٹی نے انھیں آنکھ کھولنے پر مجبور تو کردیا تھا لیکن انھوں نے موبائل اٹھانا تو درکنار اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ شاید وہ جانتے تھے کہ یہ کس کا فون ہوگا۔ وہ آنکھیں بند کیے گھنٹی کے بند ہونے کا انتظار کرتے رہے لیکن فون کرنے والا بھی ڈھیٹ تھا۔ چار و ناچار انھوں نے جھنجھلا کر فون اٹھایا، حسب توقع دوسری طرف ان کی بیوی ہی تھی۔
’’کیا ہے؟ گاڑی پہنچ گئی؟ پلیٹ فارم سے باہر نکلیے اور ٹیکسی اسٹینڈ پہ پہنچ کر ٹیکسی والے سے بات کروائیے...ہم ایڈرس سمجھا دیں گے...‘‘
دوسری طرف سے شاید کچھ کہا گیا تھا جس پر کشیپ صاحب کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی ، ان کی آواز اونچی ہوگئی ؛ ’’اررے...بھیگ گئے تھے کل بارش میں، طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آئے۔ کیوں بھیگے کا کیا مطلب؟ رومانٹک گانے کی شوٹنگ کررہے تھے سری دیوی کے ساتھ، اس لیے بھیگ گئے۔‘‘انھوں نے غصے سے فون کاٹ دیا اور ایک زور دار چھینک ماری۔
کشیپ صاحب کے دل و دماغ میں اس وقت بھی میرو بسی ہوئی تھی جب وہ اپنے بنگلے کے گیٹ پر کھڑے فون پر ٹیکسی ڈرائیور کو اپنا پتہ سمجھا رہے تھے ، وہ بیچ بیچ میں جوہر کے بنگلے کی طر ف بھی نظر ڈال لیتے لیکن ہر بار ان کی نظریں مایوس لوٹتیں۔ اپنی بیوی کے پہنچنے سے قبل وہ میرو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے چین تھے لیکن افسوس، ٹیکسی پہلے پہنچ گئی۔
’’ہائے، ہائے! پھر سے اتنا بڑا گھر دے دیا۔ اس کی تو صاف صفائی میں ہی پورا دن نکل جائے گا۔ موئے ریلوے والوں کو اپنے افسروں کی بیویوں سے کوئی دشمنی ہے کیا؟‘‘ یہ کشیپ صاحب کی بیوی سمن کا بنگلے پر پہلا تاثر تھا۔ کشیپ صاحب بھلا ایسے بیہودے سوال کا جواب کیا دیتے۔ شاید سمن کو بھی ان کے جواب کی پروا نہیں تھی، وہ اپنے آٹھ سالہ بیٹے پنکو اور چار سالہ بیٹی پنکی کو گھڑکنے میں لگ گئی جنھوں نے آتے ہی بنگلے کے لان میں دھما چوکڑی شروع کردی تھی۔ بے چارے کشیپ صاحب کسی ٹنڈ منڈ درخت کی طرح وہیں کھڑے رہے جس پر بہار آنے سے پہلے خزاں نے ہلّہ بول دیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ ایک کامیاب آدمی کے پیچھے کون سی عورت ہوتی ہے، یہ تو مجھے نہیں پتہ۔ لیکن ایک ناکام آدمی کے پیچھے کون سی ہوتی ہوگی ، یہ میں جانتا ہوں؛ اس کی دھرم پتنی اور کون۔ آپ کے 70mm سنیما اسکوپ سپنوں کو ایک جھٹکے میں ٹی۔وی کا کوئی گھٹیا reality showبنا دیتی ہے۔
اس reality show کو نہ صرف کشیپ صاحب تصور کر رہے تھے بلکہ اپنی کھلی نظروں سے دیکھ بھی رہے تھے ، حتیٰ کہ اس میں عملی طور پر شریک بھی تھے۔ اس BIG FLOP شو کی اینکر ان کی بیوی سمن تھیں جن کا تکیہ کلام ’’ہائے ہائے‘‘ تھا۔ اس شو کی شروعات سامان سے لدے ایک ٹرک سے ہوئی جو کشیپ صاحب کے بنگلے کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔ سمن کی ہائے ہائے بیک گراؤنڈ اسکور بھی پورے منظر پر overlap کرتی رہی۔
’’ہائے ہائے!یہ ہماری مرادآباد والی کلسی پچک کیسے گئی؟ ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ کہاں گیا؟ یہ کتابوں والا بکسا بھیگا کیسے؟ ہائے ہائے...‘‘
پھر اس منظر نامے میں کچھ نئے رنگروٹوں کی انٹری ہوتی ہے۔ بھٹ صاحب اور جوہر، سمن کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اپنی مدد پیش کرتے ہیں۔ ہائے ہائے۔
کشیپ صاحب، بھٹ صاحب اور جوہر دوسرے نوکروں کے ساتھ سمن کی رہنمائی میں بنگلے میں سامان لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہائے ہائے کی صدائیں گونجتی رہیں؛ ’’ہاے ہائے! پلنگ کا سرہانہ دکھن کی طرف کس نے کردیا؟ کھسکائیے اسے، اتر میں کردیجیے...ارے ارے! گھڑی پچھم کی طرف کیوں لگا رہے ہیں، گھر میں جھگڑا کروائیں گے کیا؟‘‘
بھٹ صاحب معذرت کرتے ہوئے باہر نکل گئے، ان کے پیچھے پیچھے جوہر بھی آؤٹ ہوگیا۔ ایک ایک کرکے اس شو سے سارے کنڈیڈیٹ eliminate ہوتے گئے۔
’’ہائے، ہائے! ایک بھی باتھ روم میں انڈین لیٹرن نہیں ہے، جیجی آئیں گی تو پریشان ہو جائیں گی۔ اور اتنا بڑا ٹب کاہے لگا دیے ہیں غسل خانے میں...بچے پانی بھر کے کھیل رہے تھے... کوئی ڈوب گیا تو؟‘‘
کشیپ صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس عورت کو کیسے ہینڈل کریں۔
’’اور آخر میں بچتا ہے...اس شو کا winner اور لائف کا loser؛ ان کا پتی...مسٹر بگ فلاپ۔‘‘پتہ نہیں یہ آواز کہاں سے آرہی تھی، شاید خود کشیپ صاحب کے دماغ میں ہی گونج رہی تھی۔

کشیپ صاحب نہ تو ہمت ہارے تھے اور نہ ہی ان کی قسمت اتنی بری تھی کہ ان کے سپنوں پر فل اسٹاپ لگ جاتا۔اس دن جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک سپر مارکیٹ میں شاپنگ کرتے ہوئے دل ہی دل میں کڑھ رہے تھے کہ اچانک وہ جوہر اور میرو سے جا ٹکرائے۔ یہ ملاقات اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ پہلے تو وہ کچھ بول ہی نہ پائے۔ آفس میں ڈیڈ لائن اور گھر میں گیس لائن، سیور لائن، فون لائن، الیکٹرک لائن اور کبھی کبھی چھٹی ہو تو بیوی کی شاپنگ لسٹ کی لائن گننے کا ریزلٹ یہ ہوا کہ ہر چار منٹ میں جس کا خیال دل میں آتا تھا، جو ہر چار دن میں ان کے گھر سے چار قدم دور رہنے آتی تھی، اس سے چار ہفتے بعد اس طرح کسی شاپنگ سینٹر میں ملاقات ہوجائے تو اسی طرح کا ردعمل ہونا فطری تھا۔ کشیپ صاحب اتنے ترسے ہوئے تھے کہ ان کا دل کیا کہ سارے احتیاط قریب رکھے ڈسٹ بین میں ڈال کر وہ میرو کو اپنے سینے سے لگا لیں ؛ وہ اپنے خیالوں میں گم اس خطرناک ارادے کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے بھی لیکن عین وقت پر میرو ، سمن کی طرف مسکراتے ہوئے بڑھ گئی اور چار و ناچار انھیں جوہر کو گلے لگانا پڑا۔ جوہر، کشیپ صاحب سے شکایت کرتا رہا کہ وہ انھیں بھول گئے ہیں، بھابھی کو بھی ان کے گھر نہیں بھیجا وغیرہ وغیرہ۔ کشیپ صاحب ہوں ہاں میں جواب دیتے رہے لیکن ان کا مرکز نگاہ تو میرو تھی ۔ ان کے دل و دماغ کی عجب کیفیت تھی؛ وہ سوچ رہے تھے کہ پہلی بار دیکھا تھا تو گلابی ساڑی میں تھی، ڈنر والے دنmaroon suit میں اور آج لال ٹاپ... سبھی سرخ رنگ کے مختلف شیڈ...the color of seduction...کس کو seduce کرنا چاہتی ہے؟کیا اس کو پتہ تھا کہ ہم سپر مارکیٹ میں ملنے والے ہیں۔ کچھ تو ہے کشیپ صاحب! دل کی encrypted language پبلک پلیس میں ڈی کوڈ نہیں ہو سکتی۔
’’کل سب ساتھ چلتے ہیں Arbian Sea اپنی catamaran لے کر... اسی بہانے اپنی فیملی کی outing بھی ہو جائے گی...کیا خیال ہے مسٹر کشیپ؟‘‘جوہر نے پوچھا۔
کشیپ صاحب بھلا کیوں انکار کرتے۔ سالا کوئی نہ کوئی تو موقع ملے گا اتنے رومانٹک سفر میں جب وہ میرو کو اپنے دل کی سنا سکیں ؛اشاروں کنایوں میں سہی ۔
لیکن موقع ملنا اتنا آسان تو نہ تھا؛ کشیپ صاحب بھی جانتے تھے۔ جوہر کے catamaran(چوبی جہاز/کشتی) میں ان کی بیوی میرو کے ساتھ بیٹھی گفتگو کررہی تھی۔ کم بخت نے آج بھی سرخ پھولوں والی ساڑی پہنی ہوئی تھی۔ ان کے بچوں کے ساتھ جوہر کوئی بورڈ گیم کھیل رہا تھا اور وہ خود dock پر کھڑے ہوکر بیئر پی رہے تھے اور کچھ اس طرح پوز کررہے تھے جیسے وہ کیپٹن کے ساتھ مصروف ہوں۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ وہ صرف کسی موقع کے منتظر تھے۔ انھوں نے دل ہی دل میں ارادہ کرلیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے، وہ آج کچھ کر کے رہیں گے۔اور یہ موقع انھیں بالآخر مل ہی گیا۔ انھوں نے دیکھا کہ میرو کوئی چیز لینے کے لیے dock کے پیچھے گئی، وہ بھی اپنی جگہ سے ہلے۔
’’ریڈ کلر آپ کو بہت سوٹ کرتا ہے۔‘‘
میرو مسکرائی جو ایک بڑے سے آئس بکس میں کولڈ ڈرنک تلاش کر رہی تھی۔ کشیپ صاحب نے پھر کہا؛ ’’نو...رئیلی...بہت gaarjeus (gorgeous) لگ رہی ہیں آپ اس ساڑی میں۔‘‘
’’آپ کو اتنی اچھی لگی تو میں اسے سمن دیدی کو دے دیتی ہوں۔ پھر آپ آرام سے انھیں admireکیجیے گا۔‘‘ سالی نے دانت کاٹ لیا لیکن کشیپ صاحب بھی کہاں اتنی جلدی ہمت چھوڑنے والے تھے، انھوں نے برجستہ پوچھا؛ ’’ساڑی تو دے دیں گی لیکن بیوٹی؟‘‘
میرو کا چہرہ پل بھر کے لیے سخت ہوا لیکن پھر وہ نارمل نظر آنے لگی، اس نے کشیپ صاحب کے ہاتھوں سے بیئر کی ٹن لی اور سمندر میں پھینک دیا۔
’’لگتا ہے، آج پھر آپ نے اپنے کوٹے سے زیادہ لے لی ہے۔‘‘میرو جانے کے لیے مڑی لیکن کشیپ صاحب نے اسے آواز دی؛ ’’ایک منٹ سنیے تو...‘‘
میرو نے پلٹ کر کشیپ صاحب کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال دیں؛ ’’مسٹر کشیپ میں آپ کے پڑوسی کی بیوی ہوں، آپ کی سالی نہیں۔ آپ نشے میں ہیں، پلیز ریلنگ پکڑے رہیے ورنہ گر جائیں گے۔‘‘
میرو چلی گئی اور کشیپ صاحب نے سچ مچ ریلنگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ وہ بڑا بڑا رہے تھے؛ ’’میرو جی تو میرو پربت پر براجمان ہیں بابو۔ وہاں تک مونو ریل کیسے لے جائیے گا؟ two track railکا ایکسپرٹ اگر مونو ریل چلائے گا تو بہت چانس ہے کہ ایسے ہی ریلنگ میں کانپتا نظر آئے۔ لیکن یہاں تو two track rail بھی سیف نہیں ہے۔ دوسرا ٹریک پہلے ہی سے risky ہے، اوپر سے نشانے پہ وائف بھی اس کی ہے۔‘‘

گھر کی کھانڈ کرکری، چوری کا گڑ میٹھا

Food to eat and games to play.
Tell me why, tell me why.
Serve it out and eat it up.
Have a try, have a try.

- Brian Jacques

ممبئی آنے سے قبل کشیپ صاحب کی سوشل لائف کچھ نہ تھی۔ وہ کلب، پارٹی، سنیما، شادی بیاہ وغیرہ سے حتی المقدور دور رہنے کی کوشش کرتے تھے ، یہاں تک کہ وہ officer's get-together میں بھی شاذ ونادر ہی شریک ہوتے تھے۔وہ ہندوستان کے کسی بھی شہر میں رہے، انھوں نے officer's club کو بھی نظر انداز کیا۔ کیوں کہ اس بارے میں ان کی رائے صاف تھی کہ یہ کلب اور کچھ نہیں "Chirkut-opia"پھیلانے کے اڈے ہوتے ہیں۔ یہاں تو جوہر کے اصرار پر انھوں نے weekends میں آنا شروع کردیا تھا؛ اور وہ بھی صرف میرو کے لیے۔ کشیپ صاحب کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں تھا؛ میرو نے اپنا difficulty level اتنا بڑھا دیا تھا کہ ان کی B.E, M.Tech, Gold Medalist انا کو پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا تھا۔ میرو کے چکر میں انھیں اپنے ساتھ اپنی بیوی کو بھی یہاں لانا پڑتا تھا جو ظاہر ہے کہ اکثر سب کے سامنے رسوائی کا سبب بھی ہوتا تھا۔ ’’اس عورت کو عقل کب آئے گی پربھو؟‘‘
انھوں چاروں طرف ایک نظر ڈالی۔ پارٹی اپنے عروج پر تھی؛ چاروں طرف لپ اسٹک ، غازے میں لتھڑے چہرے اور مصنوعی مسکراہٹیں، سگریٹ کا دھواں اور غیر ضروری شور ۔ کشیپ صاحب ان سب سے تھوڑا دور ہاتھ میں وہسکی کا گلاس پکڑے ایک قدرے اونچی جگہ پر کھڑے تھے جہاں سے وہ اپنی ’’ڈریم لیڈی‘‘ کو صاف طور پر دیکھ سکتے تھے۔ جوہر اور میرو اس وقت ڈانس کر رہے تھے اور ان کے چاروں طرف ان کے دوست ایک دائرے میں کھڑے ہوئے گا رہے تھے؛ ’’گورے گورے اور بانکے چھورے! کبھی میری گلی آیا کرو۔‘‘ کشیپ صاحب ایک ٹک میرو کو دیکھ رہے تھے اور وہسکی کی مدد سے اسے گویا نگل رہے تھے۔ پھر کسی دوسرے کنارے سے ایک شور بلند ہوا تو انھوں نے پلٹ کر دیکھا۔ ان کے چہرہ کڑواہٹ سے بھر گیا۔
کشیپ صاحب کی بیوی سمن بالکل دیہاتی انداز میں ڈانس کررہی تھی؛ ’’کنکریا مار کے جگایا...بلما تو بڑا وہ ہے۔‘‘ ان کو لگا کہ ابھی اسی وقت وہ اپنی بیوی کو گھسیٹتے ہوئے کلب سے نکل جائیں لیکن جوہر کی آواز نے انھیں محتاط کردیا؛ ’’ارے ان کے بلما کہاں ہیں؟ کشیپ صاحب؟‘‘
کشیپ صاحب نسبتاً ایک تاریک حصے کی جانب کھسک لیے۔ اب یہاں سے انھیں میرو نظر نہیں آر ہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر اپنی بے بسی پرکڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے کچھ ایسا ہوا، جس نے انھیں گھپ اندھیرے میں گویا راستہ دکھادیا ہو ۔ پہلے تو انھیں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی؛ پرانے لوگ جا رہے تھے، کچھ نئے لوگ آ رہے تھے۔ لیکن ان کی نظر پتہ نہیں کیوں نئے آنے والے ایک جوڑے پر پڑی ، جس کا ایک پرانا جوڑے نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ تھوڑی دیر تک ان کے درمیان رسمی گفتگو ہو تی رہی، پھر اچانک پرانے جوڑے کے شوہر نے معذرت کرتے ہوئے کہا؛ ’’سگریٹ ختم ہو گئی ، میں لے کر آتا ہوں۔ آپ انجوائے کریں۔‘‘
یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے کشیپ صاحب کے دماغ کا ڈھکن کھول دیا۔ وہ آدمی جب سگریٹ لانے باہر جانے لگا تو نئے جوڑے کی بیوی نے آگے بڑھتے ہوئے کہا؛ ’’چلیے میں بھی چلتی ہوں۔ نزدیک ہی ایک پارسل پہنچانا ہے...بعد میں بھول جاؤں گی۔‘‘
وہ دونوں باہر نکل گئے۔ نئے جوڑے کے شوہر صاحب نے مسکراتے ہوئے پرانے جوڑے کی بیوی کی طرف دیکھا اور ایک خالی گیسٹ روم کی طرف اشارہ کیا جو پارٹی ہال کے دائیں طرف تھا۔ تھوڑی دیر تک پرانے جوڑے کی بیوی وہیں کھڑی رہی پھر اسی طرف چل دی جہاں نئے جوڑے کا شوہر گیا تھا۔ کشیپ صاحب کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ وہ زندگی میں پہلی بار ایسا نظارہ دیکھ رہے تھے۔ وہ تیزی سے بالکنی میں پہنچے اور نیچے جھک کر کچھ ڈھونڈنے لگے۔ آخر انھیں وہ نظر آ ہی گئے۔ جو شخص دوسرے کی بیوی کے ساتھ سگریٹ لانے باہر نکلا تھا، وہ اپنی کار کے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھنے کی دعوت دے رہا تھا۔ عورت جب اندر بیٹھنے لگی تو مرد نے اس کے کولھے کو تھپتھپا یا۔ عورت کی ہنسی کی آواز کشیپ صاحب تک بھی پہنچی۔ کار جا چکی تھی لیکن وہ بالکنی میں بت بنے کھڑے رہے۔ اس وقت کلب میں ایک میوزک پلے ہو رہا تھا؛"Humpty Dumpty sat on a wall."
سریش کی آواز دور سے آ رہی تھی؛ ’’لوگوں کی نظروں میں آپ کی ساری مہانتا کی وہی امیج ہے ... ’انڈا‘۔‘‘ کشیپ صاحب کو محسوس ہوا جیسے وہ اور جوہر دو انسان نہیں بلکہ انسان نما انڈے ہیں جو دیوار پر بیٹھ کر اپنے اپنے ہاتھ دونوں عورتوں کے آگے بڑھا رہے ہیں۔پھر انھوں نے دیکھا کہ کشیپ نما انڈے نے میرو کی طرف دیکھ کر کہا؛ ’’بھابھی جان، آئیے! آج ہمارے ساتھ بیٹھیے۔‘‘ جوہر نما انڈے نے تو حد ہی کردی؛ ’’Lets have fun بھابھی جی! variety is the spice of life."
کشیپ صاحب نے اپنی تصوراتی نظروں سے دیکھا کہ دونوں عورتیں ایک دوسرے کو ہکا بکا دیکھ رہی ہیں اور آخر کار اپنے اپنے چپل اتارکر سیدھا دونوں انڈوں کی طرف پھینکتی ہیں۔ میوزک جاری ہے؛ "Humpty Dumpty had a great fall."انڈے ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے اندر سے ان کی زردی باہر آ جاتی ہے۔ کشیپ صاحب نے نوٹ کیا کہ ساؤنڈ ٹریک ایک خاص لائن پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے؛ "All the king's horses, all the king's men! couldn't put Humpty Dumpty together again!"
کشیپ صاحب نے سر کو جھٹکا دیا؛ لگتا ہے آج پھر چڑھ گئی تھی ۔ انھوں نے دیکھا کہ لوگ blindfold gameمیں مصروف ہیں۔ آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بیویاں اپنے شوہروں کو تلاش کر رہی ہیں؛ یہ الگ بات ہے کہ اکثر بیویاں ایسے موقعوں پر چوک جاتی ہیں۔ کشیپ صاحب نے اکتا کر اپنی نظریں دوسری طرف پھیریں اور اپنی منزل مقصود کو ڈھونڈنے میں کامیاب رہے۔ اس شور شرابے سے دور میرو ایک اسپاٹ لائٹ کے نیچے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق دکھائی دے رہی تھی۔ کشیپ صاحب اسے ٹکٹکی لگائے دیکھتے رہے ، ان کا دھیان جوہر کی آواز سے بکھرا جو بالکنی میں شاید سگریٹ پینے آیا تھا۔
’’یہاں کیا کر رہے ہیں آپ؟ آپ تو سگریٹ بھی نہیں پیتے؟‘‘
’’ایک بڑے انٹرسٹنگ بھائی صاحب ملے آج پارٹی میں...ان ہی سے بات کررہے تھے۔‘‘کشیپ صاحب نے اچانک یوں بولنا شروع کردیا جیسے وہ اب تک اس کی تیاری کرتے رہے تھے؛ ’’ایک سول سرونٹ تھے۔ ہم سے ایک پرانا کنکشن نکل آیا تو لگے بتیانے۔ ایسی اسٹوری سنائی بھائی نے کہ مائنڈ ہلا کے رکھ دیا۔‘‘
جوہر نے سگریٹ سلگائی اور لاتعلقی سے ان کی طرف دیکھا۔ کشیپ صاحب اندر ہی اندر اسٹوری بُن بھی رہے تھے اور بغیر رکے سنا بھی رہے تھے؛ ’’جوہر صاحب! ہم انجینئر لوگ سوچتے ہیں کہ ہم سے شارپ کوئی نہیں ہو سکتا، لیکن سچ کہیں، یہ آئی۔اے۔ایس والے ہم سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ "Bloody genius!
’’کیا بات کررہے ہیں، کشیپ صاحب! maximum IAS toppers ہمارے اور آپ کے انجینئرنگ کالج کے ہی لونڈے ہیں۔‘‘جوہر کے پروفیشنل ایگو کو شاید ٹھیس پہنچی تھی لیکن کشیپ صاحب نے تو ابھی بس تمہید ہی باندھی تھی؛ ’’آپ نے اس کی اسٹوری نہیں سنی جوہر صاحب...ورنہ آپ بھی اس کے سامنے ’جہاں پناہ تحفہ قبول کرو‘ کہتے۔ ‘‘
’’اسٹوری کیا تھی؟‘‘ جوہر نے یوں ہی پوچھ لیا۔
کشیپ صاحب کو اسٹوری بننے میں ذرا وقت چاہیے تھا، سو انھوں نے اس وقت کا استعمال جوہر کی دلچسپی کو بڑھانے میں لگا دی؛ ’’چھوڑیے! اسٹوری brilliant تھی۔ ایک average I.Q. والے انسان کو شاید unbelievable لگے...مگر کیا ہے نا، تھوڑی واہیات بھی تھی۔‘‘
’’ارے ، اب بتائیے بھی۔‘‘جوہر کی دلچسپی شاید بڑھنے لگی تھی۔کشیپ صاحب بھی اب اسٹوری سنانے کے لیے پوری طرح تیار تھے۔
’’ان صاحب نے بتایا کہ ان کے پڑوس میں ایک اور سول سرونٹ رہتے ہیں، ان کے بڑے گہرے دوست بھی ہیں۔ انھیں ان کی وائف اتنی اچھی لگی کہ سالے ان کے عاشق ہوگئے، وہیں ان کے دوست ان بھائی صاحب کی وائف پر لٹو تھے۔ سمجھ رہے ہیں نا آپ؟‘‘
’’مطلب دونوں دوست ایک دوسرے کی بیویوں کی فیلڈنگ میں لگے تھے؟‘‘
جوہر کی بد ذوقی پر کشیپ صاحب تھوڑا سا جھنجھلا گئے؛ ’’فیلڈنگ؟ اچھا وائف کیچنگ ؟ رائٹ!‘‘
’’میں سمجھ گیا۔ اسے وائف کیچنگ نہیں، wife swapping کہتے ہیں، ‘‘ جوہر نے کشیپ صاحب کو ہمدردی سے دیکھتے ہوئے کہا؛ ’’دراصل آپ چھوٹے شہر سے آ رہے ہیں، اس لیے آپ کو brilliant لگی۔ یہاں ممبئی میں عام بات ہے...ہائی سوسائٹی میں یہ سب چلتا ہے۔‘‘
’’چھوٹے شہر‘‘ والا طنز کشیپ صاحب کو محسوس تو ہوا لیکن وہ اس وقت جھگڑے کے موڈ میں نہیں تھے؛ ’’نہیں بھائی! ان کے کیس میں وائف سوئپنگ ناممکن تھا کیوں کہ ان کی بیویاں typical
پتی ورتا مائنڈ سٹ والی تھیں۔ ان کو ان کے ارادے کی بھنک بھی لگ جاتی تو مار چپل کے ان کا بھرتا بنا دیتیں۔‘‘
’’اس معاملے میں میرو بھی بڑی خطرناک ہے یار۔‘‘ پتہ نہیں اس وقت جوہر کو میرو کی یاد کیوں آگئی۔
’’سمن کو آپ کیا سمجھ رہے ہیں؟‘‘ کشیپ صاحب نے چبھتی ہوئی نظروں سے جوہر کو دیکھا۔
جوہر نے پارٹی ہال میں نظریں دوڑائیں اور میرو کو مصروف دیکھ کر انھوں نے اطمینان کی سانس لی۔ کشیپ صاحب کا گلاس لے کر وہسکی اپنے حلق میں انڈیلا اور دوبارہ اسے کشیپ صاحب کے پاس رکھتے ہوئے پر تجسس انداز میں پوچھا؛ ’’پھر؟‘‘
’’پھر کیا؟ دونوں ہی سالے ٹاپ کلاس کے administrative brains تھے۔ ایک ایسا پلان بنا ڈالا کہ ان کے دل کے ارمان بھی نکل جائیں اور بیویوں کو پتہ بھی نہ چلے۔‘‘
جوہر کے چہرے سے تجسس اچانک ختم ہوگیا اور اس نے یوں سر ہلانا شروع کردیا جیسے وہ اس کہانی کے انجام تک پہنچ گیا ہو؛ ’’سمجھ گیا! کسی چیز میں نشے کی گولی دے کر بیویوں کو بیہوش کر دیا ہوگا اور...‘‘
کشیپ صاحب نے اس کے روایتی انجام پر پانی پھیرتے ہوئے جواب دیا؛ ’’نہیں بھائی! دونوں لیڈس ہمیشہ چوکس رہیں۔‘‘
’’Fully fake fiction ہے کشیپ صاحب!‘‘ جوہر شاید متوقع انجام نہ پا کر تھوڑا جھنجھلا گیا تھا؛ ’’ممبئی میں اس کو ماموں بنانا بولتے ہیں۔ وہ آپ کا آئی اے ایس دوست آپ کو ماموں بنا کر چلا گیا اور کچھ نہیں۔‘‘
کشیپ صاحب اس سر تاسر توہین پر تھوڑی دیر تک خاموشی سے خود کو سنبھالتے رہے پھر جب بولے تو ہر لفظ ان کے دانتوں کے درمیان سے پس کر نکل رہا تھا؛ ’’جوہر صاحب! ہم بہانے بنانے اور ماموں بننے والے phase سے اب بہت آگے نکل آئے ہیں۔ آپ بھی نکل آئیے۔ ان کے brilliant plot details اور thoughtful planning paradigm کو گہرائی سے سمجھ کے ہی ہمیں لگا کہ ان کی اسٹوری ایک believable and possible project کی کامیابی کی اسٹوری ہے۔ اور ہاں، یہ انھوں نے ایک بار نہیں کئی بار کیا اور اب بھی جب موقع ملتا ہے، کر لیتے ہیں۔‘‘ کشیپ صاحب اب حقیقت میں رنگ بھرنے لگے تھے۔ انھیں خود پر یقین نہیں آیا کہ وہ اتنی اچھی کہانی بھی اور بھی اتنی جلدی بُن لیتے ہیں۔
’’اور بیویوں کو آج تک پتہ نہیں چلا؟‘‘ جوہر نے حیرت سے دریافت کیا۔
’’یہی تو بیوٹی ہے ان کے پروجیکٹ کی۔‘‘ بولتے بولتے کشیپ صاحب اچانک رک گئے۔ کچھ اور لوگ وہاں سگریٹ پینے آگئے تھے۔
’’چلیے جوہر صاحب! یہ extraordinary لوگوں کی باتیں ہیں، ordinary لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گی، چلیے۔‘‘
جوہر اب پوری طرح کشیپ صاحب کے شکنجے میں تھا؛ ’’آپ ٹیرس پر چلیے، میں ڈرنکس لے کر آتا ہوں، مجھے یہ اسٹوری پوری سننی ہے۔‘‘ جوہر تیز قدموں سے نکل گیا لیکن مسکراتے ہوئے کشیپ صاحب کی نظریں اس کا تعاقب کرتی رہیں۔
جس تیزی کے ساتھ جوہر گیا تھا، اسی حیرت انگیز رفتار سے وہ لوٹ بھی آیا۔ اس کے ہاتھ میں دو گلاس تھے۔ کشیپ صاحب کے لیے وہسکی کا ایک گلاس اور اپنے لیے orange juice ۔
’’تو کیا پلان بنایا ان لوگوں نے؟‘‘ آتے ہی اس نے سوال داغا۔
’’پلان تو سمپل تھا مگر اس کا execution اتنا ہی challenging۔ زبردست تیاری، صحیح ریہرسل اور intimate details جو انھوں نے ایک دوسرے سے شیئر کیے، وہ اتنے accurateتھے کہ رسک فیکٹر totally nil ہو گیا۔ سمپل سا پلان، جوہر صاحب! ایک سمپل سے پلان کو دو brilliant بندوں نے ایک exceptional success story بنا دیا۔‘‘ کشیپ صاحب نے پلان کی ایسی خوب صورت تمہید باندھی کہ جوہر کا دماغ چکرا سا گیا۔
’’ مجھے تو اس میں کچھ بھی سمپل نہیں لگ رہا ہے۔‘‘
’’بہت سمپل ہے، دیکھیے‘‘ اب کشیپ صاحب تفصیل پر اتر آئے، ایک کے بعد ایک اس اسٹوری کے مناظر ان کے دماغ میں یوں اترنے لگے جیسے وہ فلم دیکھ رہے ہوں اور اس کی رننگ کامنٹری جوہر کے سامنے پیش کررہے ہوں۔ کہیں کوئی جھول نہیں، کہیں کوئی لکنت نہیں ؛ وہ بالکل کسی منجھے ہوئے اسکرپٹ رائٹر کی طرح مستقبل قریب کے اپنے پروڈیوسر پارٹنر کے سامنے ایک ایک سین رکھتے چلے جا رہے تھے۔
’’انھوں نے کوئی بھی ایک random دن فکس کرلیا۔ مان لیجیے کہ سٹر ڈے۔ تو اس رات کو، جیسا کہ عام طور پر سروس کلاس فیملی میں ہوتا ہے کہ میاں بیوی گیارہ ساڑھے گیارہ کے آس پاس سونے چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہی جو نارمل روٹین ہوتا ہے، تھوڑی بہت بات چیت، کچھ پڑھائی لکھائی اور لائٹ آف۔ لائٹ بند ہوتے ہی، پتی کروٹ لے کر سوجاتا ہے۔ لیکن دراصل وہ صرف سونے کی ایکٹنگ کرتا ہے تاکہ بیوی اس رات کچھ ہونے کی امید چھوڑ دے اور وہ بھی سو جائے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر لگ بھگ ایک بجے کے آس پاس، اس تسلی کے ساتھ کہ بیویاں گہری نیند میں ہیں؛ پتی چپ چاپ بستر سے اٹھ کر، بنا کوئی شور کیے، پہلے تو بیڈ روم سے اور پھر main door کھول کر گھر سے باہر نکل آتے ہیں۔ اور باہر نکلتے وقت گھر کے دروازے کھلے چھوڑ دیتے ہیں۔ دونوں کے گھر ایک دوسرے کے بغل میں ہی تو تھے اور افسروں کی کالونیوں میں ویسے بھی راتوں کو سناٹا جلدی ہی ہوجاتا ہے۔ تو دونوں آرام سے ایک دوسرے کو کراس کر کے، دوسرے گھر ، دوسرے بیڈ اور دوسری عورت کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب پل بھر کے لیے رکے، انھوں نے کنکھیوں سے جوہر کے چہرے کا جائزہ لیا جو اندر ونی تمازت سے دہک رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر مسکرائے اور وہسکی کے گلاس سے ایک گھونٹ بھرا۔
’’آپ کے ہاتھ میں orange juice دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے ہم کسی بچے کو adult story سنانے کا پاپ کر رہے ہیں۔‘‘
جوہر اس غیر متعلق ریمارکس پر جھنجھلا ہی تو گیا تھا، اس کی بے چینی دیکھنے کے لائق تھی۔ ’’ارے، چولھے میں ڈالیے پاپ۔پنیہ کو...یہ اورینج جوس نہیں وودکا ہے؛میرو کے چکر میں... آپ اسٹوری آگے بڑھائیے۔‘‘
’’ایک دوسرے کے گھروں میں انٹر کرنے کے بعد ان کی ہفتوں کی پریکٹس اور ریہرسل کام کرنا شروع کرتی ہے،‘‘کشیپ صاحب کو بھی کہانی سنانے میں مزہ آ رہا تھا ، کیوں کہ وہ جوہر کے علاوہ خود کو بھی تو سنا رہے تھے؛ ’’دونوں کو ایک دوسرے کے گھروں کی complete topography، مطلب all the coordinates of empty & filled spaces یاد تھے...باہر کے دروازے سے بیڈ روم تک کی دوری، number of steps ، سب اتنے calculated تھے کہ گھپ اندھیرے میں بھی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بس بچوں کے کمرے کو پار کرتے وقت تھوڑا careful رہنا تھا، کیوں کہ ان کے کمرے کا دروازہ ہمیشہ آدھا کھلا رہتا تھا۔‘‘ کشیپ صاحب بے دھیانی میں اپنے گھر کا نقشہ کھینچنے لگے تھے۔ جوہر نے بھی بے خیالی میں ان کی تائید کردی۔
’’ہاں ، سالا بچے بھی تو ایک فیکٹر ہیں۔ مان لو کہ جاگ گئے اور اس دوسرے بندے سے چلا کر پوچھ ہی لیا’پاپا ! آپ ہیں کیا؟‘‘ جوہر کا تردد یوں تھا جیسے وہ خود کو اس جگہ تصور کررہا ہو۔
’’ارے بچے تو بچے، مان لیجیے اگر کسی ایک کی وائف اچانک جاگ گئی اور پوچھ لیا؛’ کہاں بھٹک رہے ہیں رات کو بھوتوں کی طرح؟‘ ...تو؟ بھائی human enterprise میں human errorکے فیکٹر کو consider کیے بنا آپ optimum result کی امید کیسے کر سکتے ہیں؟ contingencies کے لیے ایمر جنسی پلان کے بنا آپ کیسے flawless executionکے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟‘‘
’’آپ نے ہمارے من کی بات پڑھ لی۔‘‘ جوہر خوش ہو گیا۔
’’Great minds think alike, Mr. Johar‘‘ کشیپ صاحب نے جوہر کے ساتھ ساتھ اپنی پیٹھ بھی تھپتھپائی؛ ’’ تو ان کا ایمرجنسی پلان بھی غضب کا تھا۔ اس سچویشن میں، جو بھی ایمرجنسی میں ہوتا ، اسے ترنت دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل جانا تھا اور اپنے گھر کے دروازے کی گھنٹی بجانی تھی۔ گھنٹی کی آواز دوسرے بھائی کے لیے سگنل تھا کہ بھیا سب کچھ چھوڑ کر اپنے گھونسلے میں واپس بھاگو۔ ایک باہر ، دوسرا اندر...ایک منٹ میں دونوں واپس اپنے اپنے گھر کے اندر۔‘‘
جوہر نے کشیپ صاحب کی طرف دیکھ کر لمبی سانس چھوڑی؛ ’’اور بیویاں بنائیں گی ان کا کچومر؛ کیوں؟‘‘
’’نہیں۔ نہیں۔‘‘ کشیپ صاحب تڑپ کر بولے۔
’’کیا نہیں نہیں؟ دروازے کی گھنٹی سنتے ہی پورا گھر جاگ جائے گا۔‘‘ جوہر کی اس بات نے کشیپ صاحب کے سامنے بھی ان کے منصوبے کی دھجی اڑا کر رکھ دی لیکن وہ بھی کراماتی تھے، جھٹ الہٰ دین کا چراغ اپنے دماغ کے خلیے میں گھسا اور پٹ حل کا جن ان کے سامنے موجود تھا۔
’’ارے گھر جاگ جائے تو جاگ جائے، کیا فرق پڑتا ہے۔ باہر سے اندر آتا ہوا بندہ بولے گا کہ میں دیکھنے گیا تھا کہ کون اتنی رات کو سالا بیل بجا رہا ہے۔ کوئی نہیں تھا، صبح سوسائٹی آفس میں بات کرتا ہوں، چلو سو جاؤ۔‘‘
’’اور دوسرا والا؟ وہ کیا بولے گا؟‘‘جوہر نے پوچھا۔
’’وہ بولے گا، کسی کو اس نے بنگلے کے باہر گھومتے دیکھا، وہ دیکھنے گیا تو وہ سالا بھاگ گیا۔ ہاتھ میں آتا تو ہڈی پسلی ایک کر دیتا سسرے کی۔ کیا پرابلم ہے اس اسٹوری میں؟‘‘
جوہر کے پاس اب بھی کچھ سوال تھے ؛ ’’اتنا تو خیر کوئی بھی ٹھیک ٹھاک IQ والا بندہ executeکر لے گا ۔ اصلی خطرہ تو ایک دوسرے کے بستر میں، ایک دوسرے کی بیویوں کے بغل میں لیٹنے کے بعد شروع ہوگا۔ ‘‘
’’لیٹتے ہی دونوں شروع...‘‘ کشیپ صاحب نے اپنی بات بھی ختم نہیں تھی لیکن جوہر نے ان کی زبان سے فوراً اچک لیا؛ ’’ایسے کیسے شروع؟ بیویاں تو سوئی ہیں نا؟‘‘
’’سوئی ہیں، بیہوش نہیں ہیں۔ یہ ہولے ہولے بڑے سلیقے اور ہوشیاری کے ساتھ ان کے sensitive areas...کیا بولتے ہیں انھیں؟‘‘
"Erogenous zones!"جوہر نے کشیپ صاحب کی مشکل آسان کی۔
’’ہاں! انھی پر کام شروع کردیتے ہیں اور جب تک بیویوں کو ہوش آئے ، تب تک تو آپ کو پتہ ہی ہے، feeling auto mode پر جا چکی ہوتی ہیں۔ دونوں ٹریک sync میں اور ٹرین پٹری پر...چھک ، چھک، چھک، چھک!‘‘کشیپ صاحب کے چہرے پر اس وقت وہی رنگ تھے جیسے وہ میرو کو ڈرائیو کر رہے ہوں۔
’’اتنا smooth چھک، چھک ، چھک، چھک کیسے possible ہوگا؟ مانا کہ feeling auto modeپر ہیں لیکن برین کا ٹوٹل بلیک آؤٹ تھوڑے ہی ہوا ہے؟ نئے بندے کے باڈی سائز سے ان کو اندازہ نہیں لگ جائے گا کہ ساتھ میں ان کا پتی نہیں ، کوئی اور ہے؟ اب یہ مت بولیے گا کہ دونوں بندے physically بھی ایک جیسے تھے۔‘‘
’’same نہیں تھے مگر قریب قریب دونوں کی قد کاٹھی ایک جیسی تھی۔ کلین شیوتھے، ہیئر اسٹائل بھی almost similiar کر رکھی تھی...یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ اب ہم دونوں کو ہی لے لیجیے...لگ بھگ ایک جیسی قد کاٹھی ہوگی ہماری؟‘‘ اسٹوری اب تصورات کی سیڑھیوں سے زمین پر اتر رہی تھی۔
’’ہائٹ کیا ہے آپ کی؟‘‘ کشیپ صاحب نے جوہر سے اچانک پوچھ لیا۔
’’5' 11"‘‘ جوہر نے جواب دیا۔
’’ ہم 5' 10"ہیں۔ مطلب ایک انچ کا insignificant difference ۔‘‘
’’اور ویٹ؟‘‘ جوہر نے کشیپ صاحب کو گھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’82‘‘
’’میرا 74 ہے، اب بولیے۔‘‘ جوہر نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیلنج کیا لیکن کشیپ صاحب پر کوئی خاص اثر ہوتا ہوا نظر نہیں آیا، وہ اسی اطمینان بھرے لہجے میں کہنے لگے؛ ’’مطلب، ہم ایک آدھا کیلو گھٹا لیں اور آپ ایک آدھا کیلو بڑھا لیں جو اتنا مشکل بھی نہیں ہے، تو we are almost same."
جوہر لا جواب ہوچکا تھا لیکن اس کی وجہ کشیپ صاحب کا دانش مندانہ جواب نہیں بلکہ میرو کی آمد تھی جسے کشیپ صاحب سے پہلے جوہر نے آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔
’’منّا! یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں کب سے پاگلوں جیسی آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔‘‘
’’ارے کچھ خاص ڈسکشن کرنا تھا، نیچے بہت شور تھا اس لیے یہاں...‘‘
’’خاص ڈسکشن کرنا تھا تو مجھے کیوں ساتھ میں لائے تھے؟ میں اور سمن دیدی بنا کسی ایڈرس کے پوسٹ کارڈ جیسے بھٹک رہے ہیں پارٹی میں۔ چلیے جلدی، ہم لوگ کھڑے ہیں نیچے پارکنگ میں۔‘‘میرو تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
"She called you Munna, Johar Sahab?"کشیپ صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
’’ ہاں بس وہ...چلیے انھیں گھر چھوڑ کر بعد میں ملتے ہیں انکلیو میں۔‘‘ جوہر کے لہجے میں تھوڑی سی شرمندگی تھی ، وہ سر جھکا کر تیزی سے پارکنگ کی طرف نکل گیا۔
کشیپ صاحب کے دماغ سے لفظ ’’منا‘‘ نکل ہی نہیں رہا تھا جسے میرو نے اپنے پتی جوہر کے لیے استعمال کیا تھا۔آخر ایک بیوی اس بدتمیزی سے اپنے شوہر کو کیسے مخاطب کرسکتی ہے۔ وہ اس وقت بھی شش و پنج میں تھے جب انکلیو کے باہر سڑکوں پر وہ جوہر کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے۔
’’لوگ کہتے ہیں، Atlantic between New York to Portugal is the most turbulent ocean in the world...میں کہتا ہوں عورتوں کےMood swings اس کے بھی باپ ہیں۔ اف!!‘‘
کشیپ صاحب نے جوہر کی سنی ان سنی کرتے ہوئے ایک بار پھر ان سے پوچھا؛ ’’یہ تو خیر سمجھ گیا مگر آپ کی وائف آپ کو منا کہہ کر بلاتی ہے؟ منا؟ یہ سمجھ میں نہیں آیا۔‘‘
’’ارے یار، آپ نے ایک word کیا سن لیا، اسے پکڑ کے بیٹھ گئے۔‘‘ جوہر کی شرمندگی جھنجھلاہٹ میں بدل گئی۔
’’لیکن جوہر صاحب! بیوی اپنے پتی کو منا بولے، یہ بات کچھ...‘‘
’’آپ تو یار؟ یہ trend ہے آج کل...سب بولتے ہیں...منا، بابو، بے بی، بچہ...تھوڑا cute لگتا ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ جوہر نے وضاحت کی۔
کشیپ صاحب نے اپنی لاعلمی کو چھپاتے ہوئے صفائی دی؛ ’’اوہ ہ ہ ہ! اصل میں ہماری نظروں میں آپ کی امیج trendsetter کی رہی ہے، trend-follower کی نہیں، اسی لیے تھوڑا strange لگا...‘‘
’’ٹھیک ہے یار، آپ اپنی کہانی کمپلیٹ کیجیے۔‘‘جوہر اس غیر متعلقہ گفتگو سے شاید اکتا گیا تھا۔
’’ہماری کہانی نہیں ہے بھائی، کسی اور کی ہے۔ خیر، کہاں تھے ہم؟‘‘
’’بیڈ روم میں،‘‘ جوہر نے کشیپ صاحب کا جواب دیتے ہوئے کہا؛ ’’لگ بھگ ایک ہی ہائٹ اور ویٹ والے دو بندے ایک دوسرے کی بیویوں کے ساتھ...Let me tell you Kashyap Sahab, I am not buying the story، کیوں کہ ہائٹ اور ویٹ کے علاوہ کئی فیزیکل فیکٹر اور بھی ہوتے ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب جوہر کا مطلب سمجھ نہ پائے؛ ’’آپ کا مطلب نین نقش، چہرہ وغیرہ؟ اندھیرے میں یہ سارے differences null and void ہو جاتے ہیں۔‘‘
’’نہیں، میں اصل میں دوسرے vital organ کی بات کر رہا تھا۔ اس کا سائز تھوڑے ہی... سمجھ رہے ہیں نا؟‘‘جوہر کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ سوال کیسے پوچھے لیکن کشیپ صاحب کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ اس کی بات سمجھ گئے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ جوہر کو جواب پیش کرتے، جوہر نے اپنے کنفیوژن پر مہر لگانا ضروری سمجھا؛ ’’ اب یہ مت کہیے گا کہ سبھی کے سائز بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔‘‘
’’بالکل‘‘ کشیپ صاحب نے جوہر کی تائید کی۔
’’اس دن انٹرنیٹ پر دیکھا تھا نا؟‘‘ جوہر نے انھیں یاد دلایا ’’Deodrant کی بوتل سے لے کر بھنڈی تک...differences کی رینج بہت vast ہے۔‘‘
’’آپ exception کی بات کر رہے ہیں جوہر صاحب۔ آپ برٹش جرنل آف یورولوجی کا 2007 والا سروے دیکھیے...one of the most accurate & scientific pieces of research on this subject...وہ کہتا ہے کہ 95% لوگوں کا سائز لگ بھگ سب کا same ہوتا ہے...ایک آدھ سینٹی میٹر اوپر نیچے بس...صرف 5% ہیں جو آ پ کی deoderant کی بوتل اور بھنڈی والی کیٹگری میں آتے ہیں۔ نہ یقین ہو تو آپ کسی تجربہ کار عورت سے پوچھ کر دیکھ لیجیے۔‘‘
کشیپ صاحب کے آخری جملے پر جوہرکی تو جل ہی گئی؛ ’’کیسے ؟یا پھر آپ کہیں تو tajrubakaraurat@gmail.comپر ایمیل کریں؟‘‘
’’ تو پھر جو ہم کہہ رہے ہیں، وہ مان لیجیے اور پھر انجن میکانکس تو آپ مرین والوں کو بھی پڑھایا جاتا ہے۔ انجن اگر well lubricated ہو تو پسٹن کا سائز، اسٹروکس اور friction ؛ یہ سب neutralize ہو جاتے ہیں۔‘‘
جوہر بھی بھلا کہاں رکتا، ایک چیلنج اور پیش کر دیا؛ ’’کشیپ صاحب! میکانکس میں ہم نے set of customary and mehanically performed activities کے بارے میں بھی پڑھا ہے۔ Layman's language میں جسے روٹین کہتے ہیں۔‘‘
’’تو؟‘‘
’’تو صاحب، ہر کوئی جانتا ہے کہ میاں بیوی جو برسوں سے ساتھ رہ رہے ہیں، ان کا ایک set routineڈیولپ ہو جاتا ہے...اور یہ recurrent اکثر unconscious pattern of behavior ہوتا ہے جو کہ acquired through frequent repetition ہے...مطلب یہ ہے کہ انجن کتنا بھی well lubricated کیوں نہ ہو، نئے اسٹائل والے نئے آپریٹر کو ایک سکنڈ میں پکڑ لے گا۔‘‘ جوہر نے کشیپ صاحب کی اسٹوری پر اپنی ایکسپرٹ رائے پیش کی جسے یہ کہہ کر کشیپ صاحب نے رد کردیا۔
’’روٹین کو replicate بھی کیا جا سکتا ہے جوہر صاحب! اگر ہر منٹ intimate detailکو آپس میں شیئر کر کے map out کر لیا جائے تو double digit IQ والے بھی routine replication کر لیں گے، یہ تو خیر 120 plus IQ والے تھے۔‘‘کشیپ صاحب نے جوہر کو اپنے دلائل سے چاروں شانے چت کردیا۔ پھر بھی جوہر منمنایا۔
’’مگر intimate details بڑے پرسنل ہوتے ہیں۔‘‘
’’یہ آپ نے کیسی منا، بے بی، بابو ٹائپ کی بات کردی؟ Don't you realise yet, کہ یہ پورا کھیل ہی پرسنل ہے؟‘‘ کشیپ صاحب نے اس کی طرف حقارت سے دیکھا۔
’’ہاں۔ ہاں۔ ‘‘ جوہر خواہ مخواہ ہنسنے لگا؛ ’’I was just kidding‘‘
’’یہ کھیل kidding سے نہیں، آسکر ایوارڈ جیتنے والے پرفارمنس سے جیتا جا تا ہے۔ گریٹ ایکٹر کی طرح ایک بالکل نئے کیریکٹر کی کھال میں اتر جانا ہے۔ اگر ہم اسے ٹرائی کرتے تو سمجھیے اے۔کشیپ کو کے۔جوہر اور کے۔جوہر کو اے۔ کشیپ بننا پڑتا۔‘‘کشیپ صاحب نے تقریباً اپنے پورے پتے’’شو‘‘ کردیے۔
’’بہت مشکل ہے۔‘‘ جوہر بدبدایا۔
’’آسان ہوتا تو ہر کوئی IAS نہ بن جاتا۔‘‘
’’ہر کوئی IIT بھی پاس نہیں کرپاتا کشیپ صاحب۔‘‘ جوہرنے تڑخ کر اپنی تعلیم کا دفاع کیا۔لیکن کشیپ صاحب اس وقت جھگڑے کے موڈ میں قطعی نہیں تھے، انھوں نے جوہر کی بات سے اتفاق کرنا ہی مناسب سمجھا۔
’’وہ تو ہے مگر جوہر صاحب! اتنے sensitive and intimate game میں feelingکو ہر وقت کنٹرول mode پر رکھنا ضروری ہے کہ کہیں آپ جوش میں آکر improvise نہ کرنے لگیں...اس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ باؤنڈ اسکرپٹ بنا کر اسے word-to-word followکرنا پڑتا ہے۔ ہم تو بھائی، اپنی ساری قابلیت طاق پر رکھ کر ان صاحب کے سامنے جھک گئے اور بولے’جہاں پناہ تحفہ قبول کیجیے۔ آپ لوگ مہان ہیں۔‘‘
جوہر کافی نروس نظر آ رہا تھا۔ وہ مسلسل سوچے جا رہا تھا۔
’’اگر پکڑے گئے تو لائف ٹائم کے لیے منھ کالا۔‘‘
’’ہر pioneer کے ساتھ یہ رِسک تو رہتا ہی ہے۔‘‘ کشیپ صاحب نے دلاسا دیا؛ ’’آپ کو پتہ ہے radioactive radiations سے مرنے والا پہلا انسان کون تھا؟‘‘
’’کون تھا؟‘‘
’’جس نے Radioactivity کو discover کیا تھا؛ خود مادام کیوری۔ یہ pathbreakingلوگ الگ ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں جوہر صاحب۔‘‘
جوہر صاحب کے پاس یوں بھی کوئی جواب نہ تھا لیکن میرو کی آواز نے ان کی توجہ کو اپنی گرفت میں لے لی۔
’’منا! ایک نظر گھڑی پر بھی ڈال لینا ذرا۔‘‘ میرو نے کھڑکی سے چلا کر کہا اور پھر اسے زور سے بند کردیا۔ کشیپ صاحب نے مسکرا کر جوہر کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس نے اپنی مردانگی دکھانے کے لیے کشیپ صاحب کو چیلنج کر دیا۔
’’یہ جو ان سول سرونٹ لوگوں نے کیا، کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ ہم لوگ بھی کرسکتے ہیں اور ان سے بہتر کر سکتے ہیں، اگر چاہیں تو۔‘‘
کشیپ صاحب نے چنگاری میں پھونک ماری؛ ’’چھوڑیے صاحب! بہت رِسکی ہے۔‘‘
’’کشیپ صاحب! رسک لینا ہم Mariners کا favorite sport ہے۔ We believe that a man cannot discover new oceans unless he has the courage to lose sight of the shores....یاد رکھیے، the person who risks nothing, does nothing, has nothing, is nothing & becomes nothing."
’’ یہ آپ نہیں، بلکہ آپ نے جو بیوی کے ڈر سے اورینج جوس میں جو وودکا (Vodka) ملا رکھی تھی، وہی بول رہی ہے۔‘‘ کشیپ صاحب نے ایک چرکہ اور لگایا؛ جو جوہر کو مزید سلگا گیا۔
’’ڈر والی کوئی بات نہیں ہے کشیپ صاحب، let's do it ...ہم ان سول سرونٹ لوگوں کو out-perform نہ کردیں تو بولیے گا۔‘‘
کشیپ صاحب بالکل جلدی میں نہیں تھے، ایک مشاق کھلاڑی کی طرح وہ اپنی چال چل رہے تھے؛ ’’That's a tough task...انھوں نے پرفارمنس کے standards بہت بڑا کر رکھا ہے...صبح وودکا اترے گی تو آپ realize کریں گے۔ جائیے، بھابھی جی! اپنے منا کے لیے پریشان ہو رہی ہیں۔ گڈ نائٹ۔‘‘کہتے ہوئے کشیپ صاحب آگے بڑھ گئے۔جوہر کی بے چینی اب اس جگہ پہنچ چکی تھی جہاں کشیپ صاحب اسے پہنچانا چاہتے تھے۔ جوہر کشیپ صاحب کے پیچھے لپکا؛ ’’ارے وہ مجھے منا بولتی ہیں تو میں منا ہو گیا کیا؟ آپ خود بکواس کر رہے ہیں، اور مجھے بولتے ہیں کہ چڑھ گئی ہے۔‘‘
’’گڈ نائٹ!‘‘ کشیپ صاحب بولتے ہوئے اپنے بنگلے کی طرف بڑھ گئے۔ جوہر بھی اپنے گھر کی جانب مڑ گیا۔ وہ اس وقت کافی تناؤ میں نظر آ رہا تھا۔ کشیپ صاحب نے پلٹ کر اس کی طرف نظر ڈالی، جوہر تیز تیز قدموں سے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ کشیپ صاحب مسکرائے کیوں کہ ان کا چلایا ہوا تیر سیدھا ترازو ہوگیا تھا۔
یہ تو پتہ نہیں کہ جوہر کی رات کیسی بیتی لیکن اس کا کچھ اندازہ کشیپ صاحب کو صبح سویرے ہی ہو گیا۔ ان کی بیوی سمن بچوں کو اسکول کی بس میں چھوڑ کر جب واپس لوٹی تو اس نے ناشتہ کرتے ہوئے کشیپ صاحب کو بتایا کہ باہر ’’بھائی صاحب‘‘ انتظار کر رہے ہیں۔ کشیپ صاحب ایک پیشگی مسکراہٹ کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ سمن کی بڑ بڑاہٹ شروع ہوگئی۔
’’لونڈوں جیسے بال، چھچھوروں جیسے کپڑے...آپ کے یہ بمبئی والے روپ کی کاپی لگ رہے ہیں۔ ایک بار تو ہم کو لگا کہ یہ آپ ہی ہیں۔‘‘
سمن کا تبصرہ بالکل درست تھا۔ کشیپ صاحب نے جب باہر نکل کر جوہر کو دیکھا تو ہکا بکا رہ گئے۔ کلین شیو، مختلف ہیئر اسٹائل، پھول دار شرٹ اور رنگین جینزمیں جوہر مسکرارہا تھا۔
’’ جینیس بندے صرف IAS کالونی میں ہی نہیں ، انجینئرس انکلیو میں بھی مل جاتے ہیں کشیپ صاحب!‘‘
’’سینٹی کر دیا آپ نے بائی گاڈ۔ لگتا ہے دل پر لے لی آپ نے ہماری بات۔‘‘ کشیپ صاحب بولے بنا رہ نہیں پائے۔
’’دل پر لگے گی تبھی تو بات بنی گی کشیپ صاحب۔ سینٹی میو جیتے۔‘‘
معاہدہ ہو چکا تھا۔ دونوں نے پہلے ہاتھ ملائے پھر ایک دوسرے کے گلے لگ کر اپنے اس مشترکہ منصوبے کو صاد بھی کردیا۔ کشیپ صاحب کی نظر میرو پر پڑی جو جوہر کے لان میں مصروف نظر آئی۔ وہ اس طرح مسکرائے جیسے انھوں نے باقاعدہ میرو۔ہرن کرلیا ہو۔
بھٹ صاحب نے لپکتے ہوئے جوہر کو کشیپ صاحب سمجھ کر ٹوکا جو اپنے بنگلے کی طرف جا رہا تھا؛ ’’مسٹر کشیپ! ایک منٹ۔‘‘
جوہر بغیر مڑے اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا۔بھٹ صاحب نے یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ ان کا مخاطب کون تھا؛ کشیپ صاحب یا ان کے گیٹ اپ میں جوہر؟
’’وہ ڈونیشن والی محترمہ کے حادثے کے بعد آپ سے اکیلے بات کرنے کا موقع نہیں مل پایا۔ اس دن وہ مسٹر جوہر آپ کے ساتھ چپکے ہوئے تھے، اس لیے کھل کر بول نہیں پایا۔ مسٹر کشیپ! اس دن وہ گنا اور گڑ والی بات آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی نا؟ میں کھول کر سمجھا تا ہوں۔‘‘
اب جو جوہر پلٹا، تو بھٹ صاحب کے ہوش اڑ گئے۔جوہر نے انھیں غور سے دیکھا۔
’’I know everything about sugarcane & jaggery, Bhatt Sahab!...اگر کشیپ صاحب کو کوئی کنفیوژن ہے تو وہ ادھر ہیں۔‘‘
بھٹ صاحب نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اپنے گیٹ پر کھڑے مسکرارہے تھے۔
’’کیسے ہیں بھٹ صاحب؟‘‘
بھٹ صاحب مکمل طور پر حواس باختہ ہو چکے تھے۔ ان کا سر اسپرنگ کی طرح جوہر اور کشیپ صاحب کے درمیان دائیں بائیں ناچ رہا تھا۔ کچھ پل یہی ہوتا رہا ، پھر انھوں نے ایک خارج از بحر شعر پڑھا ؂
’’ دوریاں اس قدر مٹ گئیں اب پیار میں
شکل بھی اپنی اب ملنے لگی ہے یار سے
ہرے رام! ہرے کرشنا! ہرے ہرے! بے چاری ان کی بیویاں ! Good Ladies with gud men?‘‘
کشیپ صاحب اور جوہر کے لیے یہ اطمینان بخش بات تھی کہ بھٹ صاحب بھی انھیں پہچاننے میں دھوکا کھا گئے۔اس بات نے ان کے اند ر مزید خود اعتمادی سرایت کردی۔

تانے گھاٹ کہ بانے گھاٹ

What makes the engine go?
Desire, desire, desire.

- Stanley Kunitz

کشیپ صاحب نے جب ایک سادے کاغذپر ہیڈ لائن لکھا؛ "GPL"۔جوہر جو ان کے ساتھ زیر تعمیر میٹرو برج میں بیٹھا ہوا تھا، اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
’’GPL?...مطلب؟‘‘
’’اپنے پروجیکٹ کا خفیہ نام...GPL...یعنی Greatest Planned Luck ‘‘ کشیپ صاحب نے جوہر کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھا ۔
’’Luck?...کتنی فالتو بات ہے...دو سائنس کے جینیس اورLuck؟‘‘کشیپ صاحب کو اوسط ذہن کے جوہر کی عقل پر ترس آگیا ، اس لیے جھنجھلاہٹ کو باہر نہیں آنے دیا۔
’’ارے یار فیملی پروجیکٹ ہے۔ نام میں "L"کی جگہ "F"استعمال کیجیے گا کیا؟ اچھا لگے گا؟‘‘اب کشیپ صاحب کی حکمت عملی جوہر کی سمجھ میں بھی آگئی۔ اس نے تعریفی نظروں سے کشیپ صاحب کی طرف دیکھا۔
’’ہم م م...اور ویسے بھی GPF سے General Provident Fund کا احساس ہوگا...ایسا لگے گا جیسے ہم اپنے پوسٹ ریٹائرمنٹ کی اسکیم بنا رہے ہیں،‘‘ جوہر نے ایک بار پھر کشیپ صاحب کو دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی لیکن کچھ اس طرح کہ لفظ "L" بولتے ہوئے لفظ "F"کا تاثر دیا؛ "You are Luck-ing genius Kashyap sahab"
کشیپ صاحب نے اس مذاق پر کھل کر قہقہہ لگایا اور انھوں نے بھی اسی رعایت لفظی کا سہارا لیتے ہوئے جواب دیا؛ ’’ Luck you ‘‘ پھر جلد ہی وہ اصل مقصد پر لوٹ آئے ؛’’ چلیے پروجیکٹ کے phasesکو سمجھ لیتے ہیں۔‘‘
جوہر نے ان کے ہاتھ سے نوٹ بک چھینتے ہوئے کہا؛ ’’میں کرتا ہوں۔‘‘
اس نے سب سے پہلے پانچ کالم بنائے۔ پھر سب کے اوپر ا نگریزی کے بڑے حروف میں ٹائٹل لگائے:
STAGE-1: INITIATION
STAGE-2: PLANNING
STAGE-3: EXECUTION & CONSTRUCTION
STAGE-4: MONITORING & CONTROLLING
STAGE-5: COMPLETION
اب انھوں نے ایک ایک کر کے سارے کالم کو pointers سے بھرنا شروع کردیا ۔دن بھر وہ اپنے پروجیکٹ میں لگے رہے۔دوسرے دن بھی یہی ہوا ، البتہ فرق صرف اتنا تھا کہ دونوں اپنے اپنے work-place پر مصروف رہے۔ شام کو جب انجینئر انکلیو لوٹے تو اپنے اپنے نوٹ انھوں نے ایک دوسرے کو سونپ دیا۔ اس وقت میرو اور سمن بنگلے کے باہر ایک ساتھ کسی آم کے ٹھیلے پر رکھے آم دیکھ رہی تھیں۔ کشیپ صاحب کو ایک بار پھر وہی منظر نظر آیا کہ میرو آم کو سیکسی انداز میں سونگھ رہی ہے، پھر اس نے وہ آم سمن کی طرف بڑھا دیا۔ اب سمن بھی اسی انداز میں آم سونگھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس بار جوہر نے سمن کو آم سونگھتے ہوئے وہی جذبات اپنے اندر کروٹیں لیتے ہوئے محسوس کیا جس کے کشیپ صاحب عادی ہو چکے تھے۔ جوہر کی نظر کشیپ صاحب پر پڑی تو وہ اسے گھورتے نظر آئے۔ جوہر پل بھر کے لیے سٹپٹاگیا۔
’’ایک بات نوٹ کی آپ نے؟‘‘
کشیپ صاحب نے خشمگیں نظروں سے اس کی طرف دیکھا؛ ’’ہاں! سونگھ کر آم پہچاننا سب کے بس کی بات نہیں ہوتی۔‘‘
’’وہ نہیں۔ میں بول رہا تھا کہ اپنے GPL کے vital parameters ان سول سرونٹ کی اسٹوری سے کتنی ملتی جلتی ہے۔ دو high IQ والے بندے، اغل بغل کے گھر، پتی ورتا ٹائپ کی بیویاں؟‘‘
’’ہاں بھائی!‘‘ کشیپ صاحب نے مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛ ’’Actually, being a scientific mind I don't believe in such things like divine intervention or lucky coincidence...مگر کچھ تو ہے یار۔‘‘
جوہر نے سر ہلاتے ہوئے کہا؛ ’’ویسے ایک بڑا difference بھی ہے...ہمارے مائنڈ میں ایک دوسرے کی وائف کے لیے کوئی پہلے سے dirty thoughts نہیں تھے ، ان لوگوں کی طرح۔‘‘
کشیپ صاحب نے اپنی جھینپ مٹانے کے لیے فوراً جوہر کو گلے لگا لیا تاکہ وہ ان کے چہرے کے تاثر کو نہ پڑھ سکے؛ ’’واہ! کیا mind boggling point پکڑے ہیں جوہر صاحب!‘‘ ایک بار پھر کشیپ صاحب کی نظر کے سامنے میرو کا چوڑا چکلا کولھا تھا جو انھیں ہمیشہ کچھ کر گذرنے کی دعوت دیتا رہتا تھا۔
بھٹ صاحب دور کھڑے جوہر اور کشیپ صاحب کو گلے ملتے ہوئے ناگواری سے دیکھ رہے تھے ۔ وہ ان دونوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے؛ ان کی ہر حرکت ان کے شک کو مزید تقویت دے جاتی تھی۔ اس دن بھی انھوں نے دوربین کی مدد سے دیکھا کہ کشیپ صاحب اپنے بنگلے سے دوڑتے ہوئے جوہر کے بنگلے کی طرف جا رہے تھے۔ جوہر ایک اسٹاپ واچ کی مدد سے ٹائم نوٹ کررہا تھا۔ پھر جوہر نے بھی یہی کیا یعنی اپنے بنگلے سے کشیپ صاحب کے بنگلے کی طرف دوڑ لگائی اور اس بار کشیپ صاحب نے اسٹاپ واچ کی مدد سے ٹائم دیکھا۔ پھر دونوں ایک طرف بیٹھ کر کچھ جوڑ گھٹاؤ کرنے لگے۔
یہی نہیں ، بھٹ صاحب نے ایک دن انکلیو کے پارک میں نیا تماشہ دیکھا۔ کشیپ صاحب پارک میں لمبی jogging کے بعد جوہر کے پاس لوٹے جو وہیں پڑی ایک سمینٹ کی کرسی پر بیٹھا کیلا کھا رہا تھا۔ جوہر نے اپنے بیگ سے ایک چھوٹی سی weighing machine نکالی اور دونوں اپنا اپنا وزن اس میں باری باری دیکھنے لگے۔ بھٹ صاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا لیکن انھوں نے اس بات کا اندازہ ضرور لگا لیا تھا کہ اندر ہی اندر کوئی کھچڑی پک ضرور رہی ہے۔
بھٹ صاحب کو جانے دیجیے، کچھ غیر معمولی باتیں تو کشیپ صاحب کی بیوی سمن نے بھی نوٹ کی ۔ اس دن جب وہ اپنی سگریٹ ختم کر کے اور منھ میں گٹکا کا ایک پورا پیکٹ ڈال کر گھر لوٹے تو اپنی سوتی ہوئی بیوی کے بغل میں جا لیٹے۔ پھر انھوں نے جان بوجھ کر اپنا چہرہ سمن کے بالکل قریب کر دیا۔ سوتی ہوئی سمن ہڑ بڑا کر اٹھ گئی۔
’’ کون ہے؟ کون ہے؟‘‘اندھیرے میں سمن کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
’’ارے بھائی ہم ہیں۔سو جائیے۔‘‘
’’اتنی باس آ رہی ہے...گٹر کا پانی پی کر آ رہے ہیں کیا؟‘‘ سمن نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ارے پان مسالہ ہے ٹاپ برانڈ کا...فالتو بات مت کیجیے۔‘‘ کشیپ صاحب نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
’’گندگی کھانے کا اتنا ہی شوق چرّایا تھا تو کتے کا گُو کاہے نہ چاٹ لیے...ٹاپ برانڈ کا؟‘‘ سمن نے اپنا تکیہ اٹھایا اور بڑ بڑاتے ہوئے بیڈروم سے باہر نکل گئی۔ کشیپ صاحب نے فوراً اپنا موبائل اٹھایا اور whatsapp پر جوہر کو ایک پیغام پہنچا دیا؛ "Cigarette & Paan Masala are injurious to the project."
جوہر کے دل پر اس پیغام نے کیا اثر کیا ہوگا ؛ اس کا معمولی سا اندازہ کشیپ صاحب کر رہے تھے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جوہر بغیر پان مسالہ کے خود کو مکمل تک نہیں سمجھتا ؛ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی رنڈی بناؤ سنگھار کے بغیر خود کو ادھوری سمجھتی ہے۔
خیر ، بات ہو رہی تھی بھٹ صاحب کی جو کشیپ صاحب اور جوہر کے درمیان رو زبروز بڑھتے ہوئے اس شرم ناک رشتے پر حد درجہ مشکوک تھے، ایک واقعے نے ان کے شک کو یقین کی سرحد میں داخل کردیا۔
اس دن اپنے بنگلے کے باہر جوہر اپنی بیوی میرو اور بچی کو ٹیکسی میں بٹھا کر انھیں الوداع کہہ رہا تھا۔ بھٹ صاحب نے دیکھا کہ ٹیکسی وہاں سے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد جوہر نے کشیپ صاحب کے بنگلے کی طرف منھ کر کے کو ئل کی آواز نکالی۔ کشیپ صاحب اس آواز کو سنتے ہی باہر آگئے اور جوہر کی طرف دیکھا۔ جوہر نے اپنا انگوٹھا اوپر کر کے انھیں راستہ صاف ہونے کا اشارہ دیا۔ کشیپ صاحب مسکرائے اور اپنے بنگلے سے لیپ ٹاپ لٹکا کر یوں نکلے جیسے حسب معمولی آفس جا رہے ہوں لیکن گیٹ کے باہر نکل کر پہلے تو اِدھر اُدھر اپنی نظریں دوڑائیں اور پھرتی سے جوہر کے بنگلے میں جا گھسے۔ بھٹ صاحب کے منھ پر دروازہ بند ہوگیا۔
بھٹ صاحب کے لیے اب یہ ’’بے حیائی‘‘ ناقابل برداشت ہو گئی تھی، انھوں نے تہیہ کرلیا کہ ان دونوں ’’گڑوں‘‘ کو آج رنگے ہاتھوں پکڑ کر رہیں گے۔ وہ تیزی سے جوہر کے احاطے میں داخل ہوئے۔
بدقسمتی سے اس وقت دروازے کے اس طرف جوہر اور کشیپ صاحب کے درمیان ایک بحث چل رہی تھی۔ جوہر کافی نروس نظر آ رہا تھا جب کہ کشیپ صاحب اسے رام کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’ارے یار، آپ تو ایسے نروس ہو رہے ہیں، جیسے ہم آپ کو پینٹ اتارنے کو بول رہے ہیں۔ Detailکا کھیل ہے جوہر صاحب...ہر فزیکل، پرسنل اور intimate detail کو دھیان میں رکھنا پڑے گا، ورنہ سب کے سامنے چرکُٹ بن جائیے گا۔‘‘
’’پہلے آپ اتاریے۔‘‘ جوہر منمنایا۔
کشیپ صاحب سمجھوتے پر اتر آئے؛ ’’چلیے ایک ساتھ اتارتے ہیں؛ ایک ، دو، تین۔‘‘
دونوں نے ایک جھٹکے سے اپنے اپنے شرٹ اتار دیے۔ جوہر کا سینہ تقریباً صاف تھا ، جب کہ کشیپ صاحب کا سینہ بالوں سے بھرا ہوا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب بھٹ نے لان کی کھڑکی کے ذریعے اپنی پھٹی آنکھوں سے دو مردوں کو ادھ ننگا دیکھ لیا۔ وہ ثبوت کی خاطر اپنے موبائل کے کیمرے سے ان کی تصویر اتارنے ہی والے تھے کہ پڑوس کی بڑی سی بلی نے انھیں دیکھ کر غرانا شروع کردیا۔ بھٹ صاحب کھڑکی سے چپ چاپ اتر آئے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری، وہ دوسری کوئی ایسی جگہ تلاش کرنے لگے ۔
اندر جو سین چل رہا تھا، وہ تکرار پر مبنی تھا۔ جوہر جھنجھلایا ہوا نظر آ رہا تھا۔
’’اچھا! میری باری میں detail کا کھیل اور آپ کی باری آئی تو سب فیل؟‘‘
کشیپ صاحب بے بسی سے کمزور لہجے میں اپنا دفاع کررہے تھے؛ ’’وہ بات نہیں ہے جوہر صاحب! لیکن چھاتی کے بال شیو کرنا؟ بڑا foolish type feeling ہو رہا ہے یار۔‘‘
’’ہم سے پوچھیے کیسا feel ہو رہا ہے،سالا کل سے پان، سگریٹ سب چھوڑے بیٹھے ہیں۔دل کرتا ہے کہ ابھی اس پروجیکٹ کو چھوڑدیں اور...‘‘
کشیپ صاحب نے کھلاڑی کو میدان سے بھاگتا دیکھ کر فوراً پینتر ا بدلا؛ ’’آپ یار، ذرا ذرا سی بات پر سینٹی ہو جاتے ہیں جوہر صاحب۔‘‘
یہ دونوں بھٹ صاحب کی موجودگی سے بے خبر تھے جو دروازے کی جھریوں سے انھیں دیکھنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ اگرچہ ان کی باتیں بھٹ صاحب کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھیں لیکن کبھی کبھی دونوں کی topless body اور ان کی مشکوک حرکتیں نظر آ جاتی تھیں۔ ٹیکسی کے ہارن کی آواز آئی تو انھوں نے پلٹ کر دیکھا؛ میرو خلاف توقع لوٹ آئی تھی۔
’’یہاں کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘ میرو نے بھٹ صاحب کی طرف شک بھری نظروں سے دیکھا۔بھٹ صاحب تھوڑا سٹپٹائے ضرور لیکن فوراً خود کو سنبھال لیا۔
’’آپ واپس آگئیں؟ آپ تو پونہ...‘‘
’’کچھ چھوٹ گیا تھا، وہی لینے آئی ہوں لیکن آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘ ایک بار پھر وہی سوال میرو کے ہونٹوں پر تھا جس کا جواب بہرحال بھٹ صاحب کو دینا ہی تھا۔لیکن جواب اتنا بھدا تھا کہ کسی عورت کو بتاتے ہوئے بھٹ صاحب کو مناسب الفاظ کی ضرورت تھی جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔
’’انکلیو کی لاج بچا رہے ہیں، آپ لوگوں کے سہاگ بچا رہے ہیں ؛ اور کیا کررہے ہیں۔‘‘
میرو نے کچھ سمجھ ہی نہیں پائی۔ اس کی ٹیکسی ویٹنگ میں کھڑی تھی، اس لیے وہ بھٹ صاحب کی واہی تباہی کو نظر انداز کرتے ہوئے چابی سے دروازہ کھولنے لگی لیکن اچانک جست لگا کر بھٹ صاحب دروازے اور میرو کے درمیان حائل ہوگئے۔
’’دروازہ مت کھولیے محترمہ! انسانیت پر رحم کھائیے ، پلیز۔ مردوں کی ذات کو سر عام شرمندہ مت کیجیے۔ جو چھوٹ گیا ہے، اسے چھوڑ دیجیے اور لوٹ جائیے اپنے بھروسے کی ٹیکسی لے کر اپنی معصومیت کی دنیا میں۔‘‘ جوہر نے بڑی رقت سے دہائی دی۔
میرو بھڑک گئی؛ ’’آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے نا، بھٹ صاحب؟ میں اتنی دیر سے آپ کی عمر کا لحاظ کر رہی ہوں ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ...ہٹیے سامنے سے، مجھے دیر ہو رہی ہے...ابھی مسٹر جوہر ہوتے تو آپ کو...‘‘
بھٹ صاحب نے میرو کی بات درمیان ہی سے اچک لی؛ ’’مسٹر جوہر ہوتے؟ کہاں ہیں مسٹر جوہر؟‘‘
’’آفس جانے والے تھے، وہیں ہوں گے۔‘‘ میرو کے اس جواب پر بھٹ صاحب مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔
’’آفس میں ہوں گے؟ تو چلیے کھولیے دروازہ...آپ کی قسمت میں آج ہی آپ کے سپنوں کا ڈھیر ہونا لکھا ہے تو یہی سہی۔ کھولیے دروازہ۔‘‘بھٹ صاحب ایک طرف ہٹ گئے۔ اب میرو کچھ نروس دکھائی دینے لگی تھی۔ بھٹ صاحب کی خود اعتمادی میں کچھ تو ایسا تھا جسے میرو نہ سمجھتے ہوئے بھی ایک انجانے خوف میں مبتلا ہوگئی تھی۔ بھٹ صاحب نے اسے تسلی دی۔
’’کھولیے...ڈریے مت، میں آپ کے پیچھے ہوں...اگر بے ہوش ہو کر گریں گی تو سنبھال لوں گا۔‘‘
میرو نے بالآخر ایک جھٹکے میں دروازہ کھول ہی دیا۔ اس کے پیچھے پیچھے بھٹ صاحب بھی اندر داخل ہوئے جو لگاتار بولے چلے جا رہے تھے۔
’’میں آپ سے ہمیشہ بولتا تھا ، یہ پونہ۔ممبئی کا چکر آپ کی شادی کو...‘‘
وہ اپنا جملہ پورا نہ کرپائے۔ نہ جوہر اور نہ ہی کشیپ صاحب وہاں نظر آ رہے تھے۔ بھٹ صاحب بری طرح کنفیوژ ہو گئے، پھر بھی انھوں نے اپنے لڑکھڑاتے اعتماد کو کسی قدر سنبھالتے ہوئے میرو سے کہا؛ ’’آپ بیڈ روم میں چلیے میرے ساتھ...‘‘
میرو جو پہلے ہی ان سے بھری بیٹھی تھی، اس کا غصہ اب جواب دے چکا تھا۔ اس نے اپنے پاؤں سے چپل اتارنا شروع کردیا۔
’’میں بیڈ روم میں چلوں؟ تیرے ساتھ؟ تیرا ارادہ کیا ہے غلیظ انسان؟‘‘
بھٹ صاحب سمجھ گئے کہ ایسی خطرناک غلط فہمی دونوں کے درمیان حائل ہو گئی ہے جسے فوراً دور نہ کیا گیا تو بڑے بے آبرو ہو کر وہ اس کوچے سے نکلیں گے۔
’’ارے آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں...میں تو بس آپ کو پتیوں کا ننگا ناچ دکھانا چاہتا ہوں۔‘‘
میرو اب کچھ سننے کے لیے تیار نہیں تھی، اس نے اپنا چپل بھٹ صاحب کی طرف پھینکا۔ بھٹ صاحب بھاگے لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، ان کی پشت پر چپل نے اپنی چھاپ چھوڑ دی۔
میرو نے وہاں پاس ہی میں پڑا اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف مڑی لیکن پھر ٹھٹک گئی، پل بھر کے لیے کچھ سوچا اور بیڈ روم کا دروازہ دھیرے سے کھولتے ہوئے آواز لگائی؛ ’’منا؟‘‘ لیکن بیڈروم میں کوئی ہوتا تو جواب دیتا۔ میرو نے اطمینان کی ایک ٹھنڈی سانس لی اور بڑبڑاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑ ھ گئی؛ ’’پاگل بڈھا!‘‘
باتھ روم میں موجود کشیپ صاحب اور جوہر تھوڑی دیر پہلے باہر آئے ہوئے زلزلے سے قطعی بے خبر تھے، کیوں کہ اندر بھی کچھ کم تناؤ نہ تھا۔ کشیپ صاحب کی آنکھیں بند تھیں، ان کا پورا سینہ اس وقت شیونگ کریم کے جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے razor کا رخ اپنے سینے کی طرف کردیا۔ جوہر نے خوشی سے تالی بجائی۔ تھوڑی ہی دیر میں کشیپ صاحب کا سینہ بالوں کی کثیر مقدار سے آزاد ہو کر چمکنے لگا۔
’’بولیے ، پہلے سے ہلکا لگ رہا ہے یا نہیں؟ چھاتی سے خواہ مخواہ کا وزن ہٹ گیا...اوپر سے آپ چکنوں کی گنتی میں آگئے۔‘‘جوہر نے کشیپ صاحب کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ بے چارے کشیپ صاحب تو جیسے اندر ہی اندر سنگسار ہو رہے تھے، انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے انھوں نے اپنے سینے کے بال صاف کر کے مرد ذات کو ایک بھدی گالی دی ہے۔ لیکن پھر انھوں نے خود کو ہی دلاسہ دیا کہ یہ قدم بھی تو آخر انھوں نے مردانہ وقار کی سر بلندی کے لیے اٹھایا ہے۔
اس مردانہ عظمت کے استحکام کے لیے کشیپ صاحب شب و روز کوشاں تھے ۔ وہ کبھی اپنے گھر کی مختلف زاویوں سے تصویریں کھینچتے ، پھر ان تصویروں کو اپنے بنگلے کے نقشے پر چپکاتے ۔ کبھی جوہر کے دروازے سے اس کے بیڈروم تک کے قدموں کی تعداد نوٹ کرتے۔ وہ اندھیرے میں چلنے کی عادت بھی ڈال رہے تھے۔
جوہر بھی ان کی کشادہ قلبی سے مدد کررہا تھا۔ جوہر کے گھر پر پریکٹس کرنا اس لیے زیادہ آسان تھا ، کیوں کہ پیر سے لے کر جمعرات تک میرو وہاں نہیں ہوتی تھی ۔
’’میرو اس سائڈ پر سوتی ہے توآپ کو تھوڑا گھوم کر یہاں آنا ہے۔‘‘ جوہر نے جب کشیپ صاحب کو اپنے بیڈروم کاجغرافیہ سمجھایا تو ان کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرنے لگے۔ وہ تصور میں میں میرو کو اپنے اتنا قریب دیکھنے لگے، جس کے بعد قربت اپنے تمام جمال و جلال کے ساتھ مجسم ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل کہ کشیپ صاحب کی تصوراتی تجسیم اپنے کمال تک پہنچتی، جوہر نے انھیں ٹوکا؛ ’’ ارے، کہاں کھوگئے آپ؟ کتنے steps ہوئے؟‘‘
کشیپ صاحب گنتی بھول چکے تھے ، اس لیے انھیں یہ کام دوبارہ کرنا پڑا۔ قدموں کی گنتی نقشے پر نوٹ کی جا رہی تھی۔ پھر انھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اندھیرے میں چلنے کی مشق شروع کردی۔ کبھی وہ باتھ روم تک پہنچ جاتے تھے تو کبھی اسٹور روم کی طرف نکل جاتے تھے؛ لیکن عزم پیہم کے صدقے وہ جب پلنگ کے متعینہ حصے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو خوشی سے تقریباً چلا اٹھے۔ جوہر نے اسٹاپ واچ پر وقت نوٹ کیا۔ کافی دیر تک یہ سب چلتا رہا، لیکن ان دونوں کو نہ تو تھکن کا احساس ہوا اور نہ وقت گذرنے کا۔
رات کو جب کافی دیر سے کشیپ صاحب گھر لوٹے تو ان کی بیوی ان کے انتظار میں اونگھتی ہوئی ملی۔
’’آج کل آپ آفس سے گھر نہیں، سیدھا جوہر صاحب کے یہاں چلے جاتے ہیں؟‘‘
’’ کام کر رہے ہیں بھائی ایک پروجیکٹ پر۔‘‘ کشیپ صاحب نے مختصر میں جواب دیا۔
’’کیسا کام؟ سرکار پانی میں ٹرین چلانے کا سوچ رہی ہے کیا؟ ‘‘ سمن نے طنز کیا لیکن کشیپ صاحب اتنا تھک چکے تھے کہ وہ سمن سے الجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ بغیر جواب دیے بیڈ روم کی طرف چل دیے۔ لیکن سمن کو تسلی کہا ں تھی، وہ بھی ان کا تعاقب کرتی ہوئی وہاں پہنچ گئی۔
’’گھر پر بال بچے بھی ہیں، کبھی ان کی چنتا بھی کر لیا کیجیے۔‘‘
’’ جو کر رہے ہیں، انھی لوگ کے لیے کر رہے ہیں ، تاکہ کل کو بڑے ہوں تو کوئی یہ نہ کہے کہ وہ دیکھو چرکٹ کی اولاد جا رہی ہے۔‘‘کشیپ صاحب نے پوری خود اعتمادی کے ساتھ جواب دیا۔
’’اتنی فکر ہے تو چرکٹوں جیسا حلیہ کیوں بنائے پھر رہے ہیں؟ اتنی شاندار مونچھ تھی، کٹا دیے...بڑھیا سوٹ بوٹ پہن کے نکلتے تھے تو سب بولتے تھے کہ ایک دم جینٹل مین لگتے ہیں ، راجیندر کمار جیسے۔‘‘ سمن نے لاڈ دکھایا۔
’’آپ جیسی مالا سنہا ساتھ رہیں گی تو راجیندر کمار ہی لگیں گے نا۔‘‘ کشیپ صاحب نے اپنا شرٹ اتارتے ہوئے جواب دیا۔ سمن ان کے طنز پر ردعمل کیا کرتی، وہ تو کشیپ صاحب کے صفاچٹ سینے کو دیکھ کر ایسے دہشت زدہ نظر ہو گئی تھی ، جیسے اس سے چھپکلی کی لجلجی کھال چھو گئی ہو۔
’’ہائے، ہائے! چھاتی بھی صفاچٹ کر لی۔‘‘ کشیپ صاحب نے اچانک شرما کر اپنے دونوں ہاتھ کسی کنواری دوشیزہ کی طرح اپنے سینے پر رکھ لیے۔ سمن نے وہاں پڑا ہوا اپنا bra ان کی طرف اچھالا؛ ’’لیجیے، یہ بھی پہن لیجیے۔ اور بچوں کے بڑا ہونے کا انتظار کاہے کررہے ہیں، ابھی سے ان کے ماتھے پر گڑوا دیجیے نا، ’چرکٹ کی اولاد‘۔‘‘
سمن کی آواز رندھ گئی، وہ سسکتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ کشیپ صاحب تھوڑی دیر تک یوں ہی کھڑے رہے پھر انھوں نے سر کو ایک جھٹکا دیا اور بڑبڑائے؛ "Bloody backward village mindset!"
کشیپ صاحب کو جب اس دن جوہر کی طرف سے میسیج ملا؛ ’’میرو آ رہی ہے‘‘ تو انھیں لگا کہ اتنی تگ و دو کے بعد وہ ساعت آہی گئی جس کے لیے انھوں نے کیا کیا عذاب نہ جھیلا تھا حتیٰ کہ سینے کا بال بھی صاف کر کے اپنی بیوی کی نظروں سے گر گئے تھے۔ لیکن بال کا کیا ہے، اپنی کھیتی ہے، دوبارہ کاشت کرلیں گے۔ انھوں نے دل ہی دل میں ایک بار پھر دہرایا کہ اپنے بنگلے سے جوہر کے بیڈ روم تک پہنچنے میں ۱۴ منٹ ۳۳ سکنڈ لگتے ہیں اور وہ بھی مکمل تاریکی میں۔لیکن سالے جوہر کا کیا کریں، روزانہ پوچھتا رہتا ہے کہ اس کی ٹریننگ کب شروع ہوگی۔ سمن بھی تو کہیں آتی جاتی نہیں، لیکن وقت کم ہے، کچھ کرنا ہوگا۔
کشیپ صاحب نے سمن کو آواز دی جو غسل خانے سے نہا کر گنگناتے ہوئے باہر نکل رہی تھی؛ ’’میری زندگی ہے کیا، ایک کٹی پتنگ ہے‘‘ ۔
’’ارے سنیے، وہ آپ کو سدھی ونایک جانا تھا نا؟ تو آج چلے جائیے، بچوں کو لے کر میرو جی کے ساتھ۔‘‘
’’آج شُکروار (جمعہ) ہے، بپّا کا دن منگل کو ہوتا ہے۔‘‘ سمن نے ان کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔
’’کیوں؟ شکروار کو بپّا چھٹی پر ہوتے ہیں؟‘‘ کشیپ صاحب نے جھنجھلاتے ہوئے کہا لیکن سمن انھیں جواب دیے بغیر کچن میں چلی گئی۔ کشیپ صاحب بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے، فریج کھولا اور سوڈا کا ایک خالی بوتل نکالتے ہوئے سمن کی طرف دیکھا۔
’’گرمی کا موسم ہے اور گھر میں سالا ایک کولڈ ڈرنک کا بوتل نہیں ...‘‘
’’ لائے تو تھے ، بچوں والا گھر ہے، ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ کشیپ صاحب کو بھی کہاں سوڈا پینا تھا، فوراً بولے؛ ’’ختم ہو جاتا ہے تو اور لے آئیے۔ ٹھیک ہے ہمیں ٹائم نہیں مل رہا ہے آپ کو سپر مارکیٹ لے جانے کا...مگر ہم نے آپ کو میرو جی کے ساتھ جانے سے بھی تو نہیں روکا ہے؟‘‘
’’دیکھیں گے۔ پنکی کے اسکول میں فنکشن ہے، ابھی اس کا تیاری کروانا ہے‘‘ سمن بولتے ہوئے ہال پہنچ گئی جہاں بچے ٹی۔ وی دیکھ رہے تھے۔ سمن نے ٹیلی ویژن بند کرتے ہوئے پنکی کو گھڑکی دی؛ ’’اے پنکی! چلیے اپنا song, sing کیجیے۔‘‘
پنکی نے ’’ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار‘‘ گانا شروع کردیا۔ کشیپ صاحب سے برداشت نہ ہو پایاتو وہ سمن پر بھڑک اٹھے کہ تم گانے کے نام پر پنکی کو نرسری کی کویتا پڑھا رہی ہو۔ سمن کی سمجھ میں یہ نہ آیا کہ کویتا اور گانے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ’’بول دو تو کویتا، گا دو تو گانا۔‘‘
’’آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ دوسری کلاس کی بچی سے آپ اسکول فنکشن میں نرسری کلاس کی کویتا گوائیں گی؟ مطلب اب ان بچوں کی بھی ناک کٹوائیں گی؟‘‘ کشیپ صاحب کی جھنجھلاہٹ کا کوئی اثر سمن پر نظر نہیں آیا۔ اس کے اپنے دلائل تھے۔
’’بھاگیہ شری ، سلمان خان کے لیے ’میں نے پیار کیا‘ میں ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار گائی تھی تو کیا وہ نرسری کے بچوں کی love story ہو گئی؟‘‘
’’آپ سے ہم کیا بحث کریں؟ جائیے میرو جی سے پوچھیے، پونہ میں ٹیچر ہیں، وہ سمجھائیں گی آپ کو ...بچوں کو بھاگیہ شری کے بھروسے پڑھائیے گا تو ہو گیا کلیان۔‘‘
کشیپ صاحب کا یہ داؤ چل گیا۔ سمن تھوڑی دیر خاموش کھڑی رہی پھر اس نے ایک نمبر ڈائل کیا؛ ’’ہیلو! میرو؟ کب آئیں؟‘‘ اخبار کے پیچھے کشیپ صاحب کے چہرے پر ایک مسکراہٹ جھلملانے لگی۔
بس پھر کیا تھا، تھوڑے ہی دیر میں میرو ، سمن اور اس کے بچوں کو اپنے گھر پر گانے کی مشق کرا رہی تھی، جب کہ کشیپ صاحب، جوہر کی آنکھوں میں پٹی ڈال کر اس کے گھر سے اپنے بیڈ روم تک پہنچنے کی مشق کرا رہے تھے۔ بھٹ صاحب نے کئی بار یہ عجیب و غریب نظارہ دیکھا، وہ ان کی بیویوں کو بتانا چاہتے تھے کہ ان کے شوہروں کے درمیان کچھ چل رہا ہے لیکن میرو کے ساتھ اپنے سابقہ تلخ تجربے کو یاد کر کے ان کا ارادہ بار بار بدل جاتا تھا۔
جوہر اپنی مشق کے نتیجے سے بہت خوش تھا۔ اس نے اپنا I-Pad کشیپ صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا؛’’یہ دیکھیے، میرا اسکور کارڈ ...۱۳ منٹ ۲۱ سکنڈ ...آپ کے اسکور سے پورے ۸۲ سکنڈوں کا فائدہ۔‘‘
’’وہ اس لیے ، کیوں کہ ہم نے اپنے گھر کے interiors کو simple رکھا ہے، آپ کی طرح hurdle race کا ٹریک نہیں بچھایا ہے۔‘‘ کشیپ صاحب نے جل کر بولا۔ جوہر اپنی کامیابی پر اتنا خوش تھا کہ وہ جھگڑا کر کے اسے غارت نہیں کرنا چاہتا تھا۔
’’چلیے، اہم بات یہ ہے کہ دونوں پارٹی match-fit ہیں...مطلب لوہا گرم ہے، تو کردیں وار؟‘‘
جوہر کے جوش پر کشیپ صاحب نے پانی چھڑکا؛ ’’ایسے کیسے کردیں وار، یار؟ ابھی تو صرف گھر سے بیڈ تک پہنچے ہیں...اصلی گیم تو بیڈ پر پہنچنے کے بعد کا ہے جوہر صاحب۔‘‘
’’ہاں یار! وہ سارے intimate moves بھی تو پریکٹس کرنے ہیں۔‘‘جوہر کا ابال تہہ پر آچکا تھا۔کشیپ صاحب نے ایک بار پھر اسے ڈرایا۔
’’پریکٹس کرنے سے پہلے انھیں ایک دوسرے سے openly share کرنا ہے.. . ادھر ایک بھی غلط قدم زندگی اور موت کا سوال بن جائے گا جوہر صاحب!‘‘
جوہر سچ مچ نروس ہوگیا تھا؛ ’’تو پھر کب؟‘‘ لیکن اس سے پہلے کہ کشیپ صاحب کچھ جواب دیتے، سمن آگئی۔
’’میروکل سپر مارکیٹ جا رہی ہیں، پوچھ رہی ہیں کہ آپ چلیں گی کیا؟‘‘
کشیپ صاحب نے سمن کو جواب دینے سے پہلے جوہر کی طرف دیکھا جیسے وہ اس کے ’’کب؟‘‘ کا جواب دے رہے ہوں۔
سپر مارکیٹ میں میرو نے بھٹ صاحب کو دیکھ لیا جو پتہ نہیں کیسے انھیں ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے تھے ۔ میرو نے انھیں دور سے آتا دیکھ کر فوراً سمن کو بھٹ صاحب کے مشکوک کردار کے بارے میں بتایااوراسے ان سے ہشیار رہنے کی تاکید کی۔
’’ وہ اب مجھ سے دوبارہ ٹکرانے کی ہمت نہیں کرے گا، اس بار آپ کے پیچھے ہے۔‘‘ میرو نے خود اعتمادی کے ساتھ کہا۔
’’ویسے شادی سے پہلے ایک دو لونڈے ہمارے پیچھے گھومتے تھے، مگر اب دو بچوں کے بعد کہاں وہ بات رہ جاتی ہے...‘‘ سمن اپنی سنہری یادوں کا تعاقب کرتے ہوئے دور نکلنے ہی والی تھی کہ میرو نے سرگوشی کی؛ ’’وہ پیچھے ہی ہے۔‘‘
اب سمن کو واقعی ڈر لگنے لگا، لیکن میرو نے اسے تسلی دی؛ ’’ڈریے مت! اس کا ایک سمپل سا فارمولا ہے۔ پہلے بولے گا کہ آپ مصیبت میں ہیں، پھر بولے گا کہ وہ آپ کا ہمدرد ہے، پھر آپ کو اپنے ساتھ کسی ’کھوپچے‘ میں بلائے گا...اس کے بعد وہ کیا کرے گا، آپ جانتی ہیں۔‘‘
’’کھوپچا؟ کھوپچا کیا ہوتا ہے؟‘‘ سمن نے اس سے پوچھنا چاہا لیکن میرو وہاں سے چپکے سے کھسک گئی ۔ سمن نے پلٹ کر دیکھا تو بھٹ صاحب اس کے قریب ہانپتے ہوئے پہنچ چکے تھے۔
’’میں کئی دنوں سے آپ سے اکیلے ملنے کی کوشش میں تھا۔‘‘
’’کوشش میں؟‘‘ سمن نے بھٹ صاحب کو غور سے دیکھا۔
’’ آپ کی شادی شدہ زندگی پر منڈلا رہے خطرے کی اطلاع دینے کے لیے۔ دیکھیے ، آپ یہاں ہیں میرو جی کے ساتھ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ مسٹر کشیپ کہاں اور کس کے ساتھ ہوں گے؟‘‘
بھٹ صاحب نے یوں سوال کیا جیسے سمن پر پہاڑ ٹوٹ پڑے گا ، لیکن اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا؛ ’’جوہر صاحب کے ساتھ ہوں گے۔ ان کے یا ہمارے گھر پر۔‘‘
بھٹ صاحب اس جواب سے مایوس تو ہوئے لیکن انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ اب سب کچھ کھل کھل کر بتانا ہوگا، چنانچہ وہ شروع ہو گئے۔
’’صحیح جواب۔ لیکن آپ کا اور میرو جی کا ساتھ ہونا اور آپ کے پتی اور مسٹر جوہر کا ساتھ ہونا دونوں برابر نہیں ہے۔ عورتیں لگ بھگ ’سُو کرم‘ کے لیے ایک ساتھ ہو تی ہیں مگر مرد کبھی کبھی ’کُو کرم‘ کے لیے بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔‘‘ سمن کے چہرے پر غصے کی لالی ابھرنے لگی تھی لیکن بھٹ صاحب ردعمل سے بے نیاز جاری رہے۔ انھوں نے شاپنگ کرتے ہوئے دو نوجوان لڑکوں کی طرف اشارہ کیا؛ ’’اب ان دونوں لڑکوں کو دیکھیے...وہ گنّے بھی ہو سکتے ہیں اور گڑ بھی۔‘‘دونوں لڑکے اس ریمارک پر بھٹ صاحب کی طرف مڑے لیکن انھیں اتنی فرصت کہاں تھی ، وہ تو آج دو مظلوم عورتوں کی ازدواجی زندگی کو بچانے کی قسم کھا کر آئے تھے۔
’’آج کل guess کرنا بہت مشکل ہے۔ دیکھیے، میں آپ کا دوست ہوں...میں ہر شادی شدہ عورت کا دوست ہونا چاہتا ہوں۔‘‘سمن کے شک کو تقویت ملتی رہی ۔
’’یہاں میں بہت کھل کر نہیں بول سکتا مگر یہ سمجھیے کہ آپ کا سہاگ اور میروجی کا سہاگ ، آپ لوگوں کے پیچھے ایک دوسرے کے ساتھ ’سہاگ۔سہاگ‘ کھیل رہے ہیں۔ آپ ایک سکنڈ کے لیے ادھر کھوپچے میں آئیے، میں سمجھاتا ہوں۔‘‘بھٹ صاحب نے آخر وہ خطرناک لفظ بول ہی دیا ۔
’کھوپچا‘...اس لفظ کی تپش سمن کے کنپٹی پر لپلپانے لگی، اس کا پورا چہرہ غصے سے سیاہ نظر آنے لگا تھا، اس نے جھک کر اپنے پاؤں سے چپل اتارنا شروع کیا ۔ بھٹ صاحب جو اس منظر سے بخوبی واقف تھے، فوراً بولے؛ ’’دیکھیے، میروجی والی غلطی مت کیجیے۔‘‘
لیکن بہت دیر ہوچکی تھی، سمن کی چپل اپنے نشانے کا سفر طے کرچکی تھی۔ وہ لڑکے جنھیں بھٹ صاحب نے ذرا دیر قبل ’گڑ‘ کہا تھا، وہ بھی چپل کی پرواز سے تحریک پا کر ان کی طرف لپکے۔ بھٹ صاحب اپنے بھاری جسم کے ساتھ بھلا کتنا تیز دوڑ پاتے، جلد ہی لڑکوں نے انھیں آ لیا ۔
لٹے پٹے بھٹ صاحب جب اپنے انکلیو لوٹے تو جہاں ان کا پورا جسم درد سے بلبلا رہا تھا، انھوں نے اپنا سوجا ہوا چہرہ اٹھا کر ایک حسرت بھری نگاہ کشیپ صاحب کے بنگلے پر ڈالی جہاں سناٹا بکھرا ہوا تھا۔ پھر سڑک پر کھڑے کھڑے انھوں نے اپنی زخمی آنکھوں سے جوہر کے بنگلے کی طرف دیکھنے کی کوشش کی، وہاں بھی کچھ نہ تھا۔ کچھ دیر تک وہ وہیں بے جان اور ہارے ہوئے سپاہی کی طرح کھڑے رہے ، پھر اچانک انھیں جوہر کے بنگلے کی چھت پر دو سائے حرکت میں نظر آئے۔ ان کی بے جان آنکھیں زندگی پا کر چمکنے لگیں۔ وہ اپنے گھر کی طرف بلند آواز سے بڑ بڑاتے ہوئے دوڑے؛ ’’ان محترماؤں کی عقل سے پردے نہ ہٹائے تو میرا نام بھی بھٹ نہیں۔ سنسکرتی کے پہرے داروں پر چپل جوتیوں سے وار؟ بھٹ اب ثبوت دے گا آپ کو...سنسنی خیز ثبوت!‘‘
بھٹ صاحب اپنی گردن میں کیمرے لٹکائے تیزی سے باہر نکلے اور عمارت کی چھت پر چڑھنے لگے جو بالکل جوہر کی چھت کے مقابل تھی۔
کشیپ صاحب اور جوہر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ بھٹ صاحب ان کے تعاقب میں ہیں۔ وہ دونوں تو اس وقت جوہر کے بنگلے کی چھت پر intimate movesشیئر کر رہے تھے۔ جوہر وہسکی کی آدھی بوتل خالی کرچکا تھا، کیوں کہ اس کے مطابق ایسی چیزیں دو شرفا آپس میں یوں ہی تھوڑی بانٹ سکتے ہیں، اس کے لیے ہونٹ ذرا گیلے کرنے ضروری ہیں۔
’’ہاں، نوٹ کیجیے۔‘‘ آخر کار جوہر شروع ہوگیا، اس نے ہندی کے قافیے ملائے، ’’پہلے چمبن، پھر آلینگن، تھوڑا بہت اسپنندن اور پھر دن دنا دن دن!‘‘
کشیپ صاحب بیانیہ کی توقع کر رہے تھے، جوہر کی شاعرانہ تلخیص سے سارا مزہ جاتا رہا۔
’’ یہ بولنے کے لیے آپ کو آدھی بوتل دارو اور ڈیڑھ گھنٹہ لگا؟‘‘کشیپ صاحب نے اسے اکسانے کی کوشش کی، ’’جوہر صاحب! دھکم پیل کے اس کھیل کی کامیابی کے لیے detail بہت ضروری ہے...اچھا چلیے، چمبن کی detail دیجیے۔ آپ کا تو انٹر نیشنل ٹائپ چلتا ہوگا؛ فرینچ ، ورینچ؟‘‘
’’نہیں، صرف گال پر‘‘ جوہر نے تو یہ حوصلہ شکن جواب دے کر کشیپ صاحب کی امیدوں پر پانی نہیں بلکہ پورا سمندر ہی انڈیل دیا،’’دوپہر یا شام میں الگ بات ہے...رات کو ایک بار اگر میرو برش کر کے سو گئی تو پھر مشکل ہے۔ اس کا عجب پرابلم ہے یار۔ اگر غلطی سے بھی اس کے لب سے لب مل گئے تو پھر سمجھیے ، سارا معاملہ ختم۔‘‘
کشیپ صاحب کے تصور میں اس وقت میرو کے خوب صورت ہونٹ آ رہے تھے، جنھیں وہ چومنے کی تمنا میں یہاں تک پہنچ گئے تھے لیکن عین وقت پر پتہ چلا کہ ٹرین کینسل ہو گئی۔
پھر جوہر نے ایک انکشاف اور کیا کہ میرو پورے کپڑے اتارنے کی زحمت بھی نہیں مولتی، صرف مطلوبہ جگہ کے کپڑے کھسکا دیے جاتے ہیں۔ اس بات پر کشیپ صاحب کا صبر جواب دینا بالکل فطری تھا۔ ان کی جھنجھلاہٹ نے غصے کی شکل لے لی۔
’’عجیب بات کر رہے ہیں آپ؟ کپڑوں کا جھنجھٹ کون پالے سے آپ کا مطلب کیا ہے؟ یہ تو ایسی بات ہوگئی کہ بھائی آئس کریم کھا لیجیے مگر دیکھو اس کا wrapper نہ کھلے۔‘‘
’’اب یار پورا wrapper کھولنے سے آئس کریم کا flavor تو نہیں بدل جائے گا، وہی رہے گی جو برسوں سے کھا رہے ہیں۔ تو پھر کیوں رائتہ پھیلا رہے ہیں۔ جتنی کھانی ہے، اتنا کھولو۔ کھاؤ، بند کرو اور سو جاؤ۔‘‘ جوہر کے دلائل مضبوط تھے لیکن کشیپ صاحب کے دل کو نہیں لگی۔
’’یہ کھیل ختم کیجیے جوہر صاحب۔ مجھے اب اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘
اب جوہر نے کشیپ صاحب کی زبان میں انھیں سمجھانے کی کوشش کی؛ ’’ارے یار، آپ کو اگر چرچ گیٹ جانا ہے تو باندرہ اور دادر میں کیوں ٹائم برباد کیجیے گا؟ کشیپ صاحب! باندرہ اور دادار stoppageکے چکر میں کہیں ایسا نہ ہو کہ چرچ گیٹ ہی چھوٹ جائے۔‘‘ اب کے جوہر کی یہ بات کشیپ صاحب کے دل کو جا لگی۔ وہ بیٹھ گئے۔
’’مطلب اتنا speed میں گاڑی بھگا کے آپ چرچ گیٹ پہنچے اور وہاں بھی آپ نے stayنہیں کیا؟‘‘کشیپ صاحب نے کمزور لہجے میں دریافت کیا، وہ اب بھی کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آ رہے تھے۔ جوہر نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔
’’یار ، ایک ہی route پر ایک ہی گاڑی، برسوں سے چلا رہے ہیں، کتنا stay کریں گے؟ ‘‘ پھر اس نے کشیپ صاحب سے پوچھا، ’’آپ تو چرچ گیٹ slow چلاتے آئے ہیں شاید، کہاں کہاں اور کتنا stoppage لینا ہے، نوٹ کرا دیجیے۔‘‘
’’ہمارے بھی کوئی خاص stoppage اب بچے نہیں ہیں۔‘‘ کشیپ صاحب نے جواب دیا۔ دراصل ان پر مایوسی کا غلبہ تھا۔ وہ جس دلچسپی سے اب تک اس کھیل سے وابستہ تھے، اب اس میں وہ ایک بے نام سی کمی محسوس کر رہے تھے۔
اس دوران بھٹ صاحب اپنی عمارت کی چھت پر کھڑے ہوئے کیمرے کے لینس کی مدد سے دونوں کو ٹارگیٹ میں لینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن برا ہو اس بڑے سے پیپل کے درخت کا جو ان کے آڑے آ رہا تھا۔ پھر انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، درخت پر ہی چڑھ گئے جو مسز رابنسن کے بنگلے کے بالکل مقابل تھا۔ بھٹ صاحب نے اطمینا ن کی سانس لی، یہاں سے وہ کشیپ صاحب اور جوہر کی نقل وحرکت پر پوری نظر رکھ سکتے تھے اور تصویریں بھی برائے ثبوت کھینچ سکتے تھے۔
’’ایک چھوٹی سی detail اور ہے،‘‘ جوہر کو جیسے اچانک کچھ یاد آیا، ’’میرو کی internal panelمیں ایک mysterious wild button ہے ۔ اگر وہ دب گیا تو سمجھ لیجیے passionکا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ کپڑے، پلنگ، چھت، فرش، ہڈیا ں سب S.O.S بھیجنے لگتی ہیں۔‘‘
کشیپ صاحب اچھل ہی تو پڑے تھے۔وہ ایک بار پھر تازہ دم نظر آنے لگے۔’’اتنی خاص بات اب آپ بتارہے ہیں؟‘‘
’’میں آپ کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا۔ ‘‘
’’ ڈرانا اور ہمیں؟ ہم جیسے شکاری کو آپ wild button سے ڈر ا رہے ہیں؟ یہ آپ نے سوچا بھی کیسے منا؟‘‘ کشیپ صاحب کی خوشی چھپائے نہ چھپ رہی تھی، وہ خواہ مخواہ ہنسنے لگے۔ اچانک ان کی ہنسی کو زبردست جھٹکا لگا۔ گولی چلنے کی تیز آواز کے ساتھ بھٹ صاحب کی چیخ بھی سنائی دی تھی۔ کشیپ صاحب اور جوہر دہشت زدہ ہو کر پانی کی ٹنکی کے پیچھے جا چھپے۔
کشیپ صاحب کا ہنسنا کیا، ان کی بولتی تو دوسرے دن بند ہوگئی جب انھیں سمن نے ایک بری خبر دی کہ دو دن کے اندر ہی ان کی ساس یہاں تشریف لا رہی ہیں۔ کشیپ صاحب نے اپنی بیوی کو جب شک بھری نگاہوں سے دیکھا تو وہ نظریں چرانے لگی۔ وہ سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو ، یہ کارستانی اسی کی ہے جس کا اعتراف اس نے جلد ہی کر بھی لیا۔ دراصل سمن کو اپنی پتی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ان پر کسی نے جادو ٹونا کردیا ہے، اس لیے مدد کے لیے اس نے اپنی ماں کو بلالیا تھا۔
کشیپ صاحب اور جوہر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس نئی آفت کو کیسے ٹالیں۔ لیکن کشیپ صاحب کی ساس کوئی جوہر کی بیوی تو تھی نہیں کہ جمعہ کو آئی اور پیر کے صبح میں نکل گئی۔ کیا کریں؟
’’توآج ہی؟‘‘ دونوں کے ذہن میں یہ تدبیر ایک ساتھ آئی۔ زبان سے بغیر نکلے ایک دوسرے تک اس کی ترسیل بھی ہو گئی۔تھوڑی دیر تک دونوں ساکت و صامت کھڑے رہے، شاید اپنی تدبیر کے عواقب اور مضمرات پر غور کر رہے تھے۔
’’ویسے حالات تو ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ آج سنڈے ہے، میروجی گھر ہی پر ہیں۔ کل وہ پونہ چلی جائیں گی ، وہ جب دوبارہ یہاں آئیں گی ، تب تک ہماری ساس بھی یہاں پدھار چکی ہوں گی۔ پھر تو سارا کھیل گیا تیل لینے۔ اتنی محنت سب بے کار۔ تو آج کی رات ہی ہمارا last option ہے...‘‘ کشیپ صاحب سوچتے بھی جا رہے تھے اور بولتے بھی جا رہے تھے جیسے وہ جوہر سے نہیں خود سے بات کررہے ہوں۔
جوہر نے سر ہلاتے ہوئے ان کی تائید کی، ’’ بالکل، پھر ہماری پریکٹس بھی لگ بھگ پوری ہو چکی ہے۔‘‘ اس نے اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی، ’’ چلیے فٹا فٹ اسکرپٹ کو revise کر لیتے ہیں۔ Let tonight be the lucky night!"
پھر کیا تھا، ہمارے دونوں یہ دونوں شرفا پوری توانائی کے ساتھ جوڑ گھٹاؤ میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے اپنے ریزلٹ کو cross check کیا ، نئے سرے سے پورے منصوبے پر نظر ثانی کی اور سب کچھ ٹھوک بجا کر مکمل پایا، پھر ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک باد دی۔
انھوں نے پہلا کام تو یہ کیا کہ کشیپ صاحب اور جوہر کے بنگلے کے درمیان ایستادہ اکلوتے street lamp کا بلب غلیل کی مدد سے توڑ دیا۔ یہ کام جوہر نے کیا اور اس کی اس دور اندیشی پر کشیپ صاحب نے اسے مبارک باد دی۔
’’بچپن کا investment جوانی میں dividend دے گیا کشیپ صاحب! اب کھیل کا میدان fully safe ہوگیا۔‘‘ جوہر نے اطمینان کا سانس لیا۔
کشیپ صاحب نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی، پھر گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’چلیے جلدی سے ٹائم sync کر لیتے ہیں...آپ کی گھڑی کیا بول رہی ہے؟‘‘
"7.32.41...42...43..."جوہر نے اپنی گھڑی کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ کشیپ صاحب نے اپنی گھڑی کو اس کی گھڑی سے ملاتے ہوئے کہا، ’’ او کے۔ ہو گیا۔ تو ٹھیک 0100 پر ملتے ہیں۔‘‘
’’ مطلب 01.07.33 hours پر...یاد رکھیے، ۷ منٹ ۳۳ سکنڈ اپنا coordinated time ہے، بیڈ روم سے سڑک تک۔‘‘
کشیپ صاحب جوہر کی calculation کی تعریف کیے بنا نہ رہ پائے۔ ’’ You are out standing Johar Sahab"...پھر وہ جاتے جاتے ایک دوسرے کو اپنی نیک خواہشات دینا نہیں بھولے۔
’’wish you good luck‘‘ کشیپ صاحب کی ان نیک تمناؤں کا جواب دیتے ہوئے جوہر پل بھر کے لیے رکا، پھر اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ رینگ آئی۔
’’ Luck?...آج تو ہم "F" کا استعمال بھی کرسکتے ہیں...ہی ہی ہی ہی...‘‘

ایک کھائے ملیدا، ایک کھائے بھس

Congratulations!
Today is your day.
You're off to Great Places!
You're off and away!

- Dr. Seuss, Oh, the Places You'll Go

کشیپ صاحب نے باقاعدہ آج برپا ہونے والے خفیہ کھیل کی تیاری شروع کردی۔ اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام انھوں نے کیا، وہ یہ تھا کہ نشست گاہ میں ٹی۔وی دیکھتے ہوئے بچوں کو گھڑکا؛ ’’یہ کیا آپ لوگ ہر وقت ٹی۔وی سے چپکے رہتے ہیں؟ چلیے فٹافٹ ڈنر کیجیے اور سو جائیے۔‘‘
سمن کچن سے نکل رہی تھی، اس نے حیرت سے کشیپ صاحب کی طرف دیکھا؛ ’’ڈنر کیجیے اور سو جائیے؟ ساڑھے سات بجے؟‘‘
’’ساڑھے سات نہیں میڈم، سات بیالیس ہوا ہے، ڈنر ریڈی کیجیے، ہم نہا کر آتے ہیں ‘‘ کشیپ صاحب نے تصیحح کی ۔ سمن کو اسی وقت ٹی۔وی پر ایک اشتہار سنائی دیا؛ ’’Anytime contraceptive pills...کیوں کہ پیار کا موڈ بھی تو any time ہی بنتا ہے۔‘‘ کبھی کبھی اشتہارات جیسی بے ضرر چیزیں بھی متن کی تفہیم میں نمایاں رول ادا کرتی ہیں۔ اس ایک اشتہار نے بھی سمن کو سب کچھ سمجھا دیا کہ بچوں کو جلدی سلانے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ وہ نئی نویلی دلہن کی طرح شرما کر کچن کی طرف بھاگ گئی۔
سمن نے ڈنر ٹیبل پر بھی کشیپ صاحب کی ہی تائید کی جب پنکی ضد کرنے لگی کہ وہ میرو کے یہاں گانے کی پریکٹس کے لیے جائے گی۔
’’میں کرا دوں گی پریکٹس ۔ اب جو پاپا کہہ رہے ہیں کرو...چپ چاپ کھانا کھاؤ اور سو جاؤ۔‘‘ سمن نے کشیپ صاحب کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا لیکن ان کی نظر تو نشست گاہ میں حالیہ ہوئی تبدیلی پر ٹکی ہوئی تھی۔
’’یہ statue یہاں راستے میں کس نے رکھا؟‘‘
’’ہم نے رکھا، وہاں صوفے کے پیچھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔‘‘ سمن نے کہا تو کشیپ صاحب نے ان کی طرف ناگواری سے دیکھا اور کھانا چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ، statue کو دوبارہ اپنے پرانے مقام پر جب تک نہ رکھ دیا، انھیں چین نہیں آیا۔ پھر تنقیدی نگاہ پورے کمرے پر ڈالی کہ کوئی اور چیز تو نہیں بدلی۔ جب انھیں اطمینان ہوگیا تو وہ واپس کھانے کے ٹیبل پر آ گئے۔
’’بھگوان کے لیے آپ ہم سے بنا ڈسکس کیے گھر کی سیٹنگ مت بدلا کیجیے...پرابلم ہو جائے گی۔‘‘
’’کیسی پرابلم؟‘‘ سمن کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
’’وا وا وا وا...واستو کی پرابلم‘‘، کشیپ صاحب نے فوراً بات سنبھالی ، ’’سیٹنگ بدلنے سے اسٹارس بدل جاتے ہیں۔ اچھا خاصا lucky آدمی unlucky ہو جاتا ہے۔‘‘
سمن ان کی باتیں نہیں سن رہی تھی، وہ تو آنے والے لمحوں کے سحر کی گرفت میں تھی۔ جب سے ممبئی آئی تھی، کشیپ صاحب اس کی طرف کروٹ لے کر سوئے تک نہیں۔ پہلے تو ایسے نہ تھے، کبھی کبھی تو سمن ہی روز روز کے اس روٹین سے اکتا جاتی تھی۔ بھلا ایسا آدمی اتنا دن کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ ہو نہ ہو، ان پر کسی نے جادو ٹونا کردیا ہے، یہی سوچ کر اس نے اپنی ماں کو یہاں بلا لیا تھا۔ لیکن آج جب کشیپ صاحب نے بچوں کو جلد سونے کا حکم دے کر اسے اشارہ دیا تو جیسے سمن کے ہاتھ میں کوئی پرانا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔ وہ آج کشیپ صاحب کا سات خون معاف کرنے کو تیار نظر آ رہی تھی۔
سمن نے جب کپڑوں کی الماری سے کافی ڈھونڈ ڈھانڈ کر دو مختلف رنگوں کی نائٹی نکالی تو اس وقت کشیپ صاحب بستر پر ادھ لیٹے کسی میگزین کی ورق گردانی کر رہے تھے۔
’’ سنیے!‘‘ سمن نے انھیں بڑے دلبرانہ انداز میں آواز دی۔ کشیپ صاحب نے پلٹ کردیکھا تو اس نے اپنے ہاتھوں میں دونوں نائٹی کو دکھاتے ہوئے پوچھا؛ ’’کون سی پہنوں؟‘‘
’’کوئی بھی پہن لیجیے...اندھیرے میں کچھ نظر آتا ہے کیا؟‘‘ کشیپ صاحب نے سمن کے تپتے جذبات پر سر دمہری کے چھینٹے مارے۔ سمن مایوس تو ہوئی لیکن پھر ایک نائٹی اٹھا کر غسل خانے چلی گئی۔ کشیپ صاحب اپنے سینے کو کھجانے لگے اور اچانک انھیں کچھ احساس ہوا، انھوں نے بغور دیکھا تو ان کے صفا چٹ سینے پر اب نئے بالوں کی کھمبیاں نظر آنے لگی تھیں۔ وہ اچھل پڑے۔
کشیپ صاحب نے بڑی بے صبری سے غسل خانے کا دروازہ تھپتھپانے لگے۔ سمن نائٹی میں شرماتے ہوئے غسل خانے سے باہر آ رہی تھی۔
’’آپ تو ایسے بے صبرے ہو رہے ہیں جیسے فرسٹ نائٹ ہو۔‘‘
’’فرسٹ نائٹ ہی تو ہے۔‘‘ کشیپ صاحب تیزی سے غسل خانے کے اندر گھسنے لگے لیکن دفعتاً رک گئے، ’’فرسٹ نائٹ؟‘‘ انھوں نے سمن کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’تھوڑا صبر کیجیے...بچے ابھی سوئے نہیں ہیں، کوئی اٹھ کے آ گیا تو شرمندگی ہو جائے گی۔‘‘ سمن نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے کہا اور دوڑتی ہوئی بیڈ روم کی طرف چلی گئی۔ کشیپ صاحب نے اسے حیرانی سے دیکھا لیکن پھر غسل خانے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
کشیپ صاحب نے بڑے احتیاط کے ساتھ اپنے سینے کو دوبارہ بالوں سے آزاد کیا اور آئینے میں خود کو نہارنے لگے۔ پل بھر کے لیے محسوس ہوا جیسے میرو نے پیچھے سے آکر انھیں اپنی باہوں میں جکڑ لیا ہے۔کافی وقت لگا انھیں ہوش آنے میں...بہت مشکل سے اپنے دل کو سمجھایا...دل تو سمجھ گیا لیکن کم بخت جسم کو سمجھانے میں ذرا وقت لگ گیا۔
کشیپ صاحب بیڈروم لوٹے۔ انھوں نے سب سے پہلے نائٹ لیمپ کی سوئچ آف کی اور احتیاطاً اس کا پلگ بھی نکال دیا، پھر سوچنے لگے؛ ’’جوہر کو اپنے بیڈ کا پلگ نکالنا یاد ہوگا کیا؟ ‘‘ پھر خود کو سمجھانے لگے؛ ’’ آپ کے plug-ins صحیح بیٹھ گئے تو وہ نائٹ لیمپ کے پلگ کیوں ڈھونڈیں گی؟ Be positive! Just focus on her wild-button ...وہ ہِٹ تو سب فٹ۔‘‘ان کے تصور کا گھوڑا دوڑنے لگا تھا، پھر کچھ سوچا اور اس کی لگام زور سے کھینچی۔
’’یہ جوہر، اتنے برسوں میں wild-button کی صحیح لوکیشن نہیں ڈھونڈ پایا؟ الو کا پٹھا۔ انٹرنل پینل میں یہ بٹن کہاں ہو سکتا ہے؟ باندرہ اور دادر میں تو نہیں ہوگا...چرچ گیٹ پر ہی کہیں ڈھونڈنا پڑے گا...آپ کو چرچ گیٹ پر extra large stay چاہیے، کشیپ صاحب!‘‘
کشیپ صاحب اپنے خیالوں میں گم تھے اور اُدھر ان کی بیوی سمن ہم آغوشی کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ دفعتاً کشیپ صاحب کو ایک بار پھر کچھ یاد آیا، وہ ایک بار پھر بیڈ سے اچھل کر کھڑے ہوگئے اور غسل خانے کی طرف بھاگے۔
کشیپ صاحب نے غسل خانے کی cabinet سے دوائیوں کا بیگ نکالا اور اس میں سے "Shilajeet capsules" کی بوتل نکالی۔ ایک گولی پانی کی مدد سے نگل لی، پھر ایک اور، پھر ایک اور کیپسول۔
کشیپ صاحب بیڈ روم لوٹے تو سمن ان کی طرف مزید کھسکتے ہوئے بولی؛ ’’کیا ہوا، پیٹ خراب ہے؟‘‘کشیپ صاحب نے صرف انکار میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔سمن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کشیپ صاحب پہل کرنے میں اتنی دیر کیوں لگا رہے ہیں۔ پہلے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ پھر اسی نے ہمت کی اور کشیپ صاحب کی طرف اندھیرے میں پیار بھری نظروں سے دیکھا اور پھسپھسائی؛ ’’بچے سو گئے ہوں گے۔‘‘
کشیپ صاحب نے دوسری طرف کروٹ لیتے ہوئے کہا؛ ’’آپ بھی سو جائیے، گڈ نائٹ۔‘‘ سمن نے اس کے باوجود ان سے قریب ہونے کی کافی کوششیں کیں لیکن کشیپ صاحب کے مصنوعی خراٹوں نے اس کے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا اور اس کا یہ یقین مستحکم ہوگیا کہ ان کے پتی پر واقعی کسی نے جادو ٹونا کردیا ہے۔

کشیپ صاحب کی گھڑی نے رات کے پورے ایک بجائے اور اس کے ساتھ ہی میدان عمل میں اترنے کی نوید نے انھیں اندر تک گدگدا دیا۔ وہ محتاط انداز میں بستر سے اٹھے۔ سمن گہری نیند میں تھی، اس کا منھ کھلا ہوا تھا، وہ خراٹے لے رہی تھی۔ کشیپ صاحب نے دھیرے سے اس کے کھلے منھ کو بند کردیا، خراٹے کی آواز رک گئی۔ پھر انھوں نے چپل پہنے اور دبے پاؤں بیڈ روم سے باہر نکل گئے لیکن قصداً دروازے کو تھوڑا کھلا چھوڑ دیا۔
کشیپ صاحب دالان سے گذرتے ہوئے بچوں کے کمرے کے پاس رکے۔ دونوں سو رہے تھے لیکن حفظ ماتقدم کے تحت انھوں نے دونوں بچوں کا نام لے کر سرگوشی کی، کوئی جواب نہیں۔ وہ آگے بڑھ گئے۔
صدر دروازے کو کھولتے ہوئے بھی کشیپ صاحب کی کوشش تھی کہ کم سے کم آواز میں وہ کھل جائے۔ انھوں نے منصوبے کے تحت دروازے کو ادھ کھلا ہی چھوڑ دیا۔ اپنے لان تک پہنچتے پہنچتے وہ پسینے میں بھیگ چکے تھے۔’’دھڑکنیں بے قابو اور بدن پسینہ پسینہ... شاید شلاجیت کی ایک کیپسول زیادہ لے لی ہم نے۔‘‘ پھر انھوں نے اپنے سر کو جھٹکا، اب لے لی تو لے لی، اس وقت زیادہ سوچنے کا وقت نہیں ہے۔
بندر کی چال چلتے ہوئے کشیپ صاحب سے گذر کر بنگلے کے لوہے کے گیٹ تک پہنچے اور پھر سڑک پر آگئے۔ چاروں طرف اندھیرا بکھرا پڑا تھا، صرف چاندنی بکھری ہوئی تھی۔ لیکن انھیں یہ چاندنی بھی خطرناک نظر آ رہی تھی۔ وہ باؤنڈری کے سائے سے چپکے جوہر کے بنگلے کی طرف رینگنے لگے۔اچانک وہ جوہر سے اندھیرے میں ٹکرا گئے۔
"All set?" کشیپ صاحب نے سرگوشیوں میں پوچھا جس کا جواب انھیں جوہر کی طرف سے اثبات میں ملا۔ پھر اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو "Good Luck" کہتے ہوئے اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوتے، اچانک اس موذی کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی جو دور سے رفتہ رفتہ ان کے قریب ہوتی جارہی تھی۔کشیپ صاحب بڑ بڑائے؛ ’’ اس کی ماں کا...کیا کریں؟‘‘
’’ Let's proceedکشیپ صاحب! یہ موقع پتہ نہیں پھر کب ملے؟‘‘ جوہر بولتا ہوا کشیپ صاحب کے بنگلے کی طرف بھاگ نکلا۔
کتے کے بھونکنے کی آواز اب کافی قریب ہو گئی تھی۔ کشیپ صاحب نے بھی پاگلوں کی طرح جوہر کے بنگلے کی جانب دوڑ لگا دی۔ بھاگتے ہوئے انھیں احساس ہوا کہ وہ موذی جانور بالکل ان کے پیچھے ہے۔ وہ کسی طرح جوہر کے گیٹ کے اندر داخل ہوئے اور دروازہ بند کردیا۔ لیکن اس عمل میں منصوبے کے خلاف شور کافی پیدا ہو گیا۔ کشیپ صاحب نے گیٹ کے اندر داخل ہونے کے بعد پہلے تو خوب لمبی لمبی سانسیں لیں اور اپنی خود اعتمادی کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ کتے کے بھونکنے کی آواز بھی اب بند ہو چکی تھی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں تو کشیپ صاحب جوہر کے بنگلے کے صدر دروازے کی طرف لپکے۔
منصوبے کے مطابق اندر مکمل تاریکی تھی۔ کشیپ صاحب نے اپنے ذہن کو مجتمع کر کے قدموں کی تعداد یاد کی اور محتاط انداز میں گن گن کر قدم رکھنے لگے۔ وہ ابھی زیادہ دور تک نہیں گئے تھے کہ اچانک نشست گاہ کی روشنی جل اٹھی۔ کشیپ صاحب بالکل دہشت زدہ ہو گئے، ان کے قدموں کو زمین نے جکڑ لیا۔ تھوڑی دیر بعد ان کے سامنے میرو کھڑی تھی اور انھیں حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
’’کشیپ صاحب آپ؟ یہاں؟ اس وقت؟‘‘
کشیپ صاحب کی تو بولتی ہی بند ہو چکی تھی، انھوں نے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کچھ کہنے کی کوشش کی تو میرو سمجھ گئی۔
’’کتے سے بھاگ کر آ رہے ہیں؟ اچھا تو وہ آپ کے اوپر بھونک رہا ہے؟ ابھی ابھی آنکھ لگی تھی، شور نے جگا دیا۔ ‘‘
کشیپ صاحب کے لیے اتنا ہی غنیمت تھا کہ میرو نے اس پر کوئی شک نہیں کیا، وہ پلٹتے ہوئے بولے؛ ’’ہم...ہم...چلتے ہیں...sorry for the disturbance ‘‘
’’ارے نہیں...اچھا کیا آپ نے، جو یہاں آگئے...پاگل عورت کا پاگل کتا، کیا بھروسہ؟ لیکن اتنی رات کو آپ باہر کیوں ٹہل رہے تھے؟‘‘
اس سوال پر کشیپ صاحب سٹپٹا گئے لیکن پھر ان کی حاضر دماغی کام آئی؛ ’’بس، وہ...گھر میں تھوڑا suffocation سا لگ رہا تھا، اس لیے...‘‘
’’ہے بھگوان! کیسے پسینہ پسینہ ہو رہے ہیں آپ؟ بیٹھیے ، میں پانی لاتی ہوں۔‘‘ میرو کو شاید ان پر ترس آگیا۔
’’نہیں رہنے دیجیے، ہم چلتے ہیں۔‘‘ کشیپ صاحب منمنائے لیکن میرو پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
’’ بیٹھیے۔ حالت دیکھیے اپنی۔ چہرہ کیسا لال ہو رہا ہے۔ سمن دیدی کو فون کر کے بلاؤں۔‘‘
کشیپ صاحب کی روح ہی تو فنا ہو گئی ، جلدی سے بولے؛ ’’نہیں۔ نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔‘‘
میرو جب تک پانی لائی، کشیپ صاحب پہلو بدلتے رہے۔ انھوں نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور اندازہ لگایا کہ اس وقت جوہر ان کے ہال تک پہنچا ہوگا۔ انھوں نے ایک ہی سانس میں پانی کا پورا گلاس ختم کردیا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن میرو نے ایک بار پھر انھیں روک لیا۔
’’کتا ابھی بھی باہر ہی ہے۔‘‘ میرو کی بات درست تھی کیوں کہ کشیپ صاحب کو کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لیکن باہر والے کتے سے زیادہ اس وقت انھیں اس کتے سے پریشانی تھی جو ان کے گھر کے اندر پہنچ چکا تھا۔
’’کوئی بات نہیں، I'll manage ۔‘‘
’’کتے کو manage کر لیں گے مگر اس کی پاگل مالکن کو؟ ادھر آئیے۔‘‘ میرو نے کھڑکی سے مسز رابنسن کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔
’’دیکھیے، اس کے روم کی لائٹ جل رہی ہے۔ مطلب بڑھیا جا گ رہی ہے۔ باہر اسٹریٹ لائٹ بھی کسی حرامی نے آج پھوڑ دی۔ ایسے اندھیرے میں باہر نکلیں گے تو جان کا خطرہ ہے۔ بڑھیا کی لائٹ بند ہو جائے تو نکلیے گا۔‘‘
’’ارے بھاڑ میں گئی بڑھیا، ہم چلتے ہیں۔‘‘ کشیپ صاحب کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
’’ آپ بڑھیا کو مذاق سمجھ رہے ہیں؟ بھری دوپہر میں اس نے بھٹ پر گولی چلا دی جو اس کے بنگلے کے پاس والے پیڑ پر چڑھا ہوا جانے کیا کررہا تھا۔اور اب ہاسپٹل میں پٹیوں سے جکڑا ہوالیٹا ہے۔ ‘‘ میرو کے اس انکشاف پر کشیپ صاحب کے دماغ کا rewind button دب گیا، انھیں گولی کی آواز اور بھٹ کی چیخ یاد آگئی جس سے دہشت زدہ ہو کر جوہر اور انھوں نے پانی کی ٹنکی کے پیچھے پناہ لی تھی۔
’’بھٹ صاحب پر مسز رابنسن نے گولی چلائی تھی؟‘‘
’’ اس انکلیو میں اور کون ایسا ہے جو اپنے گھر پر بڑی بڑی بندوقیں، خونخوار کتا اور بھیانک بلی رکھتا ہے؟ سنا ہے، پولس یا سی۔بی۔آئی سے ریٹائر ہوئی ہے، اس لیے کوئی کچھ بولتا نہیں ہے۔ کالونی والوں کو لگتا ہے کہ ان کی وجہ سے ہم سب safe ہیں۔ ویسے اس عیاش بڈھے کو اس نے صحیح سبق سکھایا، وہ اسی لائق تھا۔‘‘
کشیپ صاحب نے گھڑی کی طرف نظر ڈالی پھر انھوں نے اندازہ لگایا کہ جوہر اس وقت بچوں کے کمرے کے پاس سے گذر رہا ہوگا۔ وہ بے خیالی میں بڑ بڑائے؛ ’’پنکو! اٹھ...پنکی۔‘‘
’’کچھ کہا آپ نے؟‘‘ میرو نے کشیپ صاحب سے پوچھا۔
’’ہم چلتے ہیں میروجی۔ مسز رابنسن اپنے کمرے میں ہیں...باہر کچھ دیکھیں گی تب فائر کریں گی نا؟ بائی۔‘‘کشیپ صاحب نے جانے کا مصمم ارادہ کرلیا تھا لیکن میرو نے ایک ایسی چیز کا انکشاف کیا کہ وہ اپنی جگہ پر بت بن کر کھڑے ہو گئے۔
’’اسے باہر دیکھنے کے لیے، باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیمرے لگائے ہوئے ہیں اس نے سب طرف۔‘‘
’’کیمرے؟‘‘
’’جی! اسی سے سب پر نظر رکھتی ہے۔ کتا اتنا بھونکا ہے تو بیٹھی ہو گی اپنے ٹی۔وی پر نظر جمائے...ادھر آئیے، دیکھیے۔‘‘
میرو نے مسز رابنسن کی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ اندر روشنی تھی اور پردے پر اس کا سایہ نظر آرہا تھا اور اس سائے کے ہاتھوں میں ایک بڑے سا رائفل بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ کشیپ صاحب کے حوصلے پست ہوگئے۔ انھوں نے نہایت ہی کمزور آواز میں میرو سے دریافت کیا؛ ’’جوہر کو پتہ تھا ان کیمروں کے بارے میں؟‘‘
’’پتہ نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ انھیں پتہ ہوگا۔ دیکھیے، آپ سے باتوں میں بھول ہی گئی کہ میں انھیں دیکھنے آئی تھی۔ پتہ نہیں کہاں نکلے ہیں؟ آپ کے ساتھ تو نہیں تھے؟‘‘ میرو نے ان سے دریافت کیا۔کشیپ صاحب نے انکار میں سر ہلایا۔ میرو کچھ سوچنے لگی ، پھر اچانک اس نے کشیپ صاحب کو گھورنا شروع کردیا۔
’’کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ یہاں چھپے بیٹھے ہیں اور منا آپ کے گھر میں گھس گئے ہوں۔ وہ بھی کم پھٹّو نہیں ہیں۔‘‘
’’پھٹّو؟‘‘ کشیپ صاحب نے حیرانی سے میرو کی طرف دیکھا۔
’’سوری! آج کل بچے ایسے ایسے شبد استعمال کرتے ہیں کہ انھیں ٹھیک کرتے کرتے ہماری بھاشا خراب ہو جاتی ہے۔ لگتا ہے آپ لوگ ساتھ ہی تھے۔ کہاں ہیں منا؟‘‘ میرو نے کشیپ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ لیکن کشیپ صاحب تو اندازہ لگا رہے تھے کہ جوہر اب تک ان کے بیڈ روم تک پہنچ گیا ہوگا اور سمن کے بغل میں لیٹنے کے لیے بالکل تیار ہوگا۔ کشیپ صاحب ہڑ بڑا کر کھڑے ہوگئے۔
’’ہم باہر دیکھتے ہیں۔ اگر ملیں گے تو انھیں بھیجتے ہیں۔‘‘
’’آپ دونوں مل کر کوئی خفیہ منصوبہ بنا رہے تھے نا؟‘‘ میرو نے براہ راست سوال ٹھوکا۔
’’جی؟؟‘‘ کشیپ صاحب نے چونک کر میرو کی طرف دیکھا۔
’’آپ ہم عورتوں کو الّو نہیں بنا سکتے۔ سمن دیدی نے مجھے بتایا ۔ پھر میں نے بھی نوٹس کیا۔ میں نے سمن دیدی سے کہا تھا کہ یہ لوگ ضرور ہمیں سرپرائز کرنے کے لیے کچھ پلان بنا رہے ہیں۔ صحیح ہے نا؟‘‘
’’ابھی تو آپ نے ہمیں سرپرائز کر دیا ہے۔ آپ کو جوہر کی ٹینشن نہیں ہو رہی ہے؟‘‘ کشیپ صاحب نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
’’نہیں۔ اگر آپ کے ساتھ نہیں تھے تو مجھے پتہ ہے، کہاں گئے ہوں گے؟... وہ باہر گنیش چوک پر پان والے کی دکان ہے نا؟ لیٹ نائٹ تک کھلی رہتی ہے...وہیں گئے ہوں گے۔‘‘ میرو نے بڑے اطمینان سے جواب دیا، ’’اتنے دن سے سگریٹ پان چھوڑے بیٹھے تھے...میں دیکھ رہی تھی، ان سے برداشت نہیں ہو رہا ہے...آج صبر کا باندھ ٹوٹ گیا ہوگا اور کچھ نہیں۔ آنے دیجیے، پھر بتاتی ہوں انھیں...دروازہ بھی کھول کر چلے گئے۔‘‘
کشیپ صاحب نے گھڑی پر نظر ڈالی اور ان کا دل ڈوبنے لگا۔ یہی وہ وقت تھا جب جوہر کوان کی بیوی کے ساتھ ’’خفیہ کھیل‘‘ شروع کرنا تھا۔ دھڑن تختہ۔
اچانک کشیپ صاحب کا پورا جسم سوکھے پتوں کی طرح لرزنے لگا، ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک بے ساختہ سیلاب جاری ہوگیا۔ میرو ان کی طرف لپکی۔
’’کیا ہوا مسٹر کشیپ! آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘
کشیپ صاحب بھلا کیا جواب دیتے۔ ان کے اندازے کے مطابق اب تک تو جوہر اور سمن بس کلائمکس تک پہنچنے ہی والے ہوں گے۔ انھوں نے شرم سے اپنی گردن جھکا لی اور سسکنے لگے۔
’’کیا ہوا، کشیپ صاحب؟‘‘ میرو نے ایک بار پھر پوچھا۔
’’اب کیا بتائیں آپ کو کہ کیا ہوا؟‘‘ کشیپ صاحب نے آنسوؤں سے بھیگا ہوا اپنا چہرہ اٹھایا اور ایک حسرت بھری نگاہ میرو پر ڈالی، ’’ آپ تو ستی ساوتری کی ستی ساوتری رہیں نا؟‘‘
میرو کچھ سمجھ نہ پائی، کشیپ صاحب ایک جھٹکے سے جانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میرو نے ایک بار پھر انھیں روکنے کی کوشش کی؛ ’’کہاں جارہے ہیں...رکیے، منا آ جائیں تو...‘‘
’’آپ کے منا کے چکر میں ہماری منّی بدنام ہوگئی میروجی!‘‘ انھوں نے بغیر پلٹے کہا اور ایک عزم مصمم کے ساتھ بڑ بڑاتے ہوئے صدر دروازے کی طرف بڑھ گئے، ’’ اب تو بڑھیاگولی مار ہی دے تو اچھا ہے۔‘‘
کشیپ صاحب جب مسز رابنسن کے گھر کے سامنے سے گذر رہے تھے، دوسری طرف سے بھاگ کر آتا ہوا جوہر ان سے ٹکراگیا۔ کشیپ صاحب نے اسے روک کر کچھ پوچھنے کی کوشش کی لیکن وہ راکٹ کی طرح اپنے بنگلے کی طرف بھاگ گیا۔
تھکے ہارے قدموں سے وہ جب اپنے بیڈروم میں آئے تو سب سے پہلے انھوں نے سوتی ہوئی سمن پر نظر ڈالی۔ انھوں نے سوچا کہ ایسی گہری نیند صرف تھکادینے والے وصال کے بعد ہی آتی ہے۔ وہ لڑکھڑا گئے، خود کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے کسی چیز کا سہارا لینا چاہا لیکن پھر کسی لاش کی طرح بیڈ پر گر گئے۔


پہاڑیے میت کس کے، بھات کھایا اور کھسکے

Then I glanced at the ring on my finger.
The snake that eats own tail,
Forever and ever.
I know where I came from,
but where did all you zombies come from?

- Robert A. Heinlein

پتہ نہیں بے ہوشی کی حالت میں کشیپ صاحب کب تک اپنے بستر پر پڑے رہے اور کب نیند نے اس بے ہوشی میں اپنی جگہ بنا لی۔ وہ اٹھے تو ان کے کانوں میں سب سے پہلی آواز ان کی بیوی کی گنگناہٹ کی آئی ؛ ’’آج مدہوش ہوا جائے رے...میرا من ...میرا من۔‘‘
کشیپ صاحب کے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی، وہ ایک آتشیں بگولے کی طرح اٹھے اور آندھی طوفان کی طرح جوہر کے بنگلے کی طرف اپنا رخ کیا۔ انھوں نے جوہر کے بنگلے کے لوہے کے گیٹ کو بار بار کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ پھر اچانک ان کی نظر اس تالے پر پڑی جو ان کا منھ چڑھاتا ہوا نظر آیا۔ انھوں نے جوہر کو فون لگانے کی کوشش کی لیکن دوسری جانب سے "out of reach" کا پیغام ان کے کانوں میں سیسہ انڈیل گیا۔
اس دوران اس لڑکی کا وہاں سے گذر ہوا، جو اکثر کمر کے کافی نیچے جینس پہنے بھٹ صاحب کے صبر کا امتحان لیا کرتی تھی۔ اس نے کشیپ صاحب کو جوہر کے بنگلے پر حیران پریشان کھڑے دیکھا تو رک گئی۔
’’یہ انکل اور انٹی تو early morning ہی چلے گئے۔ کافی سامان بھی تھا ان کے ساتھ۔ شاید شفٹ ہوگئے یہاں سے...آپ کو بول کر نہیں گئے انکل؟‘‘
کشیپ صاحب خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس لڑکی نے تھوڑی دیر ان کے ردعمل کا انتظار کیا پھر شانے اچکاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
اچانک کشیپ صاحب کی ویران آنکھوں میں زندگی کی لو بھڑکی۔ وہ تیزی سے اپنے بنگلے کی طرف بھاگے۔ جلدی جلدی تیار ہوئے۔ اس دوران ان کی کوشش تھی کہ وہ سمن سے آنکھیں نہ ملا پائیں۔ حالاں کہ سمن بار بار ان پر پیار لٹا رہی تھی لیکن آج کشیپ صاحب کو ہمیشہ کی طرح اس پر غصہ نہیں آ رہا تھا، بلکہ وہ خود کو اس کا مجرم سمجھ رہے تھے۔
کشیپ صاحب ، جوہر کو ڈھونڈتے ہوئے Dockyard پہنچے اور کسی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے آفس کی طرف اشارہ کردیا۔ انھیں جوہر کا آفس ڈھونڈنے میں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ اس کے چیمبر کے باہر ہی اس کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔
جوہر کے آفس میں ایک اچھے خاصے معقول افسر نے اس کا استقبال کیا۔ کشیپ صاحب نے ادھر اُدھر نظریں گھماتے ہوئے دریافت کیا؛ "Sorry! I was looking for Mr. K. Johar!"
’’That's me! ...کہیے؟‘‘ اس جواب نے تو کشیپ صاحب کے اوسان ہی خطا کردیے۔ حالاں کہ کشیپ صاحب نے ایک موہوم امید کے تحت انھیں بتایا کہ وہ اس کے۔جوہر کو تلاش کر رہے ہیں جو انجینئرس انکلیو کے بنگلہ نمبر ۔۲۷ میں رہتے ہیں تو اصلی جوہر صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
’’آپ شاید بھنڈارکر کی بات کررہے ہیں؟‘‘اصلی جوہر نے کشیپ صاحب کو مزید یقین دلاتے ہوئے آفس کی دیوار کی طرف اشارہ کیا جہاں کسی سیمی نار کا ایک بڑا سا پوسٹر لٹکا ہوا نظر آ رہا تھا، جس میں بہت سارے marine engineers کی تصویریں شامل تھیں۔ ایک تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے اصلی جوہر نے کشیپ صاحب سے پوچھا؛ ’’ شاید آپ ان کی بات کر رہے ہیں؟‘‘
کشیپ صاحب کا حلق خشک ہو رہا تھا، سو انھوں نے صرف سر ہلا کر تائید کی۔ اصلی جوہر صاحب نے معلومات دینے کا سلسلہ جاری رکھا؛ ’’بھنڈارکر deputation پر تھا ہمارے ساتھ۔ ہم نے اس سے بولا تھا کہ ہمیں اگلے مہینے ایک آدمی چاہیے لیکن آج صبح اچانک sick leave فیکس کر کے چلا گیا۔ ایک جگہ کہاں ٹکتے ہیں یہ لوگ۔ ‘‘
’’اگر آپ کے۔جوہر ہیں تو وہ وہاں انکلیو میں آپ کے گھر پر، آپ کے نام کے ساتھ...؟‘‘ کشیپ صاحب کے مفلوج ذہن میں ایک سوال نے سر اٹھایا۔
’’ کیا ہے نا صاحب...ہمیں تو بال بچوں کے ساتھ یہیں رہنا ہے ممبئی میں ...تو اپنا فلیٹ لے لیا ہے۔ فلیٹ safe رہتے ہیں۔ ادھر انکلیو میں چوریاں بھی بہت ہوتی ہیں۔ اب سب کے لیے مسز رابنسن کی طرح کیمرے لگا کر اور بندوق لے کر پہرے داری پر بیٹھنا تو possible نہیں ہے نا؟‘‘ کشیپ صاحب کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا لیکن ابھی بہت کچھ سننا انھیں باقی تھا۔
’’مگر بنگلہ تو اپنے نام پر ہی alloted ہے تو اس کا فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟ یہ جو deputaion پر انجینئر آتے ہیں، انھیں وہاں ٹھہرا دیتا ہوں۔انھیں ممبئی میں بنگلے کا سکھ ملتا ہے اور ہمیں اپنا کرایہ۔‘‘ اب ساری بات واضح ہو چکی تھی، مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہ تھی لیکن کشیپ صاحب نے ایک آخری تنکے کا سہارا لیا۔
’’ یہ بھنڈارکر صاحب یا ان کی فیملی کا کوئی پرماننٹ ایڈرس ہے آپ کے پاس؟‘‘
اصلی جوہر صاحب نے انکار میں سرہلاتے ہوئے عرض کیا؛ ’’میرے پاس تو نہیں ہے جی۔ یہ لوگ آدھا سال تو سمندر میں رہتے ہیں، ان کا ایڈرس رکھ کے کیا کرے کوئی؟ فیملی ویملی تو بھنڈارکر کی تھی نہیں...بیچلر آدمی تھا۔‘‘
’’بیچلر تھے؟‘‘ کشیپ صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
’’کیوں؟‘‘ اصلی جوہر کے ہونٹوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ نمودار ہوئی، ’’ادھر انکلیو میں وہ کسی لونڈیا کے ساتھ رہ رہا تھا کیا؟‘‘
کشیپ صاحب صرف اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے، کر بھی کیا سکتے تھے۔
ڈاک یارڈ پر بڑی دیر تک وہ یوں ہی خالی الذہن کھڑے رہے، وہ بہت ٹوٹے بکھرے نظر آ رہے تھے۔ اچانک انھیں کچھ جیسے یاد آیا، انھوں نے دانت پیسے۔ دراصل ان کے ذہن میں میرو کے ریلوے ٹکٹ کی وہ تصویر نمودار ہوئی جو انھوں نے جوہر کے گھر پر ڈنر کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ کشیپ صاحب نے گھڑی پر نظر ڈالی اور پاگلوں کی طرح اپنی گاڑی ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھا دی۔

کشیپ صاحب کی مطلوبہ ٹرین ابھی پلیٹ فارم ہی پر کھڑی تھی۔ انھیں زیادہ دیر ڈھونڈنا بھی نہیں پڑا، میرو نظر آگئی ، وہ ایک کمپارٹمنٹ میں سوار ہو رہی تھی۔
’’ایک منٹ، مسز مرینالنی کے۔ جوہر ! ہم سے ملے بنا چلی جا ئیں گی؟‘‘
میرو نے انھیں پلٹ کر دیکھا اور مسکرائی۔ وہ اس وقت بالکل پیشہ ور عورت نظر آ رہی تھی۔
’’آپ؟ منا بولے تھے کہ آپ بڑے brilliant انسان ہیں، ہمیں ڈھونڈ لیں گے۔‘‘
’’اکیلی جا رہی ہیں؟ آپ کے پتی پرمیشور اور بچی کہاں ہیں؟‘‘ کشیپ صاحب اس وقت بڑے جارح نظر آ رہے تھے، لیکن میرو بڑی پرسکون نظر آ رہی تھی۔
’’پتی پرمیشور کرائے کے تھے، کرایہ چکا کر چلتے بنے...بچی اپنی ہے...یہاں ہوسٹل میں پڑھتی ہے تو اسے ہوسٹل میں چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ فرائڈے کو واپس آ کر ملوں گی...بھگوان کی دیا سے اس کے ایک نئے پاپا کا انتظام ہوگیا ہے، یہیں کلیان میں۔‘‘
’’نئے پاپا کا انتظام؟‘‘ کشیپ صاحب نے اس معصومیت سے پوچھا کہ میرو مسکرائے بنا نہ رہ سکی۔
’’کیا کریں...اسکول کا rule ہے، بچے کو weekend پر اپنے ماں باپ کے ساتھ چھوڑنے کا۔ میرا یہاں کوئی fixed پتہ تو ہے نہیں...زندگی ٹرینوں پر ہی کٹتی ہے...پانچ دن آل انڈیا کا چکر لگا کر آتی ہوں اور weekend میں منا جیسے کسی پرانے loyal کے ساتھ گذار لیتی ہوں۔ Moving Escorts کی لائف بڑی مشکل ہوتی ہے، کشیپ صاحب۔‘‘
صدمے پر صدمے نے کشیپ صاحب کو تھوڑا بے وقوف بھی شاید بنا دیا تھا، جو اتنی آسان بات وہ سمجھ نہیں رہے تھے۔ انھوں نے سوالیہ نظروں سے میرو کی طرف دیکھا۔
’’میرا دھندا ہے‘‘ میرو نے سارے پتے اب کھول دیے، ’’ پورے سال ٹرین میں اپنی بکنگ رہتی ہے...نارتھ سے ساؤتھ...ایسٹ سے ویسٹ...چکر لگاتے رہو...ہر tour میں ایک دو اچھے گاہک مل ہی جاتے ہیں...ریل میں دھکم پیل کے شوقینوں کی کمی نہیں ہے کشیپ صاحب۔‘‘ میرو نے انھیں آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
’’تو وہ ستی ساوتری بننے کا ناٹک کیوں؟‘‘ کشیپ صاحب اس کی بے حیائی جھنجھلا گئے۔
’’کیوں کہ گاہک اسی کے پیسے دے رہا تھا کشیپ صاحب۔‘‘
ٹرین آگے رینگنے لگی۔ میرو تیزی سے کمپارٹمنٹ میں چڑھ گئی لیکن اندر جانے کی بجائے دروازے پر کھڑی ہوکر کشیپ صاحب کو چلا چلا کر بولتی رہی؛ ’’سمن دیدی کو میرا پرنام کہیے گا اور پلیز دعا کیجیے گا کہ میری سونو بڑی ہو کر ان کے جیسی بنے، میری جیسی نہیں۔‘‘
ٹرین جا چکی تھی، اب پلیٹ فارم اور کشیپ صاحب کے اندر ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے انکلیو لوٹے تو اپنے بنگلے میں داخل ہوتے ہوئے انھوں نے پہلے جوہر کے بنگلے کی طرف دیکھا ، پھر مسز رابنسن کے بنگلے کی طرف نظر ڈالی؛ سب کچھ ساکت و صامت تھا۔ صرف ان کے گھر سے سمن اور پنکی کے ایک ساتھ گانے کی آواز آرہی تھی۔شاید سمن، پنکی کو گانے کی پریکٹس کر ارہی تھی ۔
Why should boys have the fun?
Get up you girls & feel the sun
Be free, be odd, be up n even
Don't worry to err is just human...
(ختم شد)

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *