لشکری زبان/ظفر سید

تیرہویں صدی عیسوی کے آغازمیں وسطی ایشیا کی چراگاہوں سے ایک ایسا طوفان اٹھا جس نے معلوم دنیا کی بنیادوں کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ چنگیز خان کی سفاک دانش کی رتھ پر سوار منگول موت اور تباہی کا پیغام ثابت ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے بعد شہر،علاقے کے بعد علاقہ اور ملک کے بعد ملک سرنگوں ہوتے چلے گئے۔ محض چند عشروں کے اندر اندر خون کی ہولی کھیلتے، کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے،سنگین قلعوں اور عا لی شان محلوں کی راکھ اڑاتے منگول بیجنگ سے ماسکو تک پھیلی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی متصل سلطنت کے مالک بن گئے۔
اس سے پہلے کہ آپ سوچیں کہ اس سب قصے کا اردو سے کیا تعلق ہے، میں جلدی سے اضافہ کردوں کہ یہی وہ اتھل پتھل تھی جس نے لفظ ’اردو‘کو معلوم دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلا دیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں، پہلے کچھ لفظ’اردو‘ کے اشتقاق کی بات ہو جائے۔
ہر کوئی یہ سمجھتاہے کہ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب لشکرہے۔ اور اسے لشکر اس لیے کہا جاتا ہے کہ چوں کہ مغلوں کی افواج میں کئی زبانیں بولنے والے سپاہی تھے، ان کے اختلاط سے ایک نئی زبان وجود میں آگئی۔ اس بات پر بحث آگے آئے گی لیکن پہلے میں ایک قیاس پیش کرتا چلوں کہ ہو سکتا ہے اردو ترکی کا نہیں بل کہ اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہو!
اور وہ یوں کہ پرانی ترکی میں ایک لفظ پایا جاتا ہے، ’اُرتا‘، جس کے معنی ہیں، مرکز۔ یہ لفظ بعدمیں تبدیل ہو کر ’اوردُو‘ ہو گیا اور محل یا دارالحکومت کے معنی میں استعمال ہونے لگا(اس سے ملتا جلتا استعمال عربی لفظ ’صدر‘ کے ضمن میں سامنے آتا ہے۔ صدر ویسے تو چھاتی کو کہتے ہیں لیکن دیکھیے کہ پاکستان کے کئی شہروں کے مرکزی علاقے کو صدر کہا جاتا ہے۔مزید یہ کہ ’صدر مقام‘ دارالحکومت کو کہا جاتا ہے)۔ اب ملاحظہ ہو کہ سنسکرت کا لفظ ’ہردے‘ (دل) نہ صرف صوتی بل کہ معنیاتی اعتبار سے بھی ترکی ’اُرتا‘ اور ’اوردو‘سے مشابہ ہے۔ چوں کہ سنسکرت ترکی سے زیادہ قدیم زبان ہے، اس لیے ممکن ہے التائی کی چراگاہوں کے خانہ بہ دوشوں نے یہ لفظ سنسکرت سے اخذ کیا ہو ۔ اگر قاری کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ کہاں ہندوستان اور کہاں وسطی ایشیا کی چراگاہیں، توعرض ہے کہ ترکی زبان کی تمام قبل از اسلام مذہبی تحریریں بدھ مت سے متعلق ہیں(ارکان ترکمان، ۱۹۸۷ء)۔ اس پہ مستزاد، سنسکرت زبان کا ایک مادہ ’اُر‘ بھی ہے جس کا مطلب بھی دل ہے(برج موہن کیفی، ۱۹۶۶ء)۔
اب ہم لفظ اردو کی ترسیل کی طرف آتے ہیں۔ تحریری ترکی کی سب سے پرانی مثال منگولیا کی ایک لاٹھ پر کندہ ملتی ہے، جسے کُل تگین تحریر کہا جاتاہے۔ یہ یادگار ۷۳۲ء میں اس نام کے ایک بادشاہ کی یاد میں اس کے بھائی نے تعمیرکرائی تھی۔ تحریر کا رسم الخط گوک ترک ہے اور اس میں کل چھیاسٹھ سطور ہیں۔ اس لاٹھ کی موضوعِ زیرِ بحث سے متعلق بات یہ ہے کہ اس میں الفاظ ’اورتو‘ اور ’اوردو‘ کئی بارآئے ہیں۔ انٹر نیٹ پر اس لاٹھ کی زبان کی فرہنگ موجود ہے جس میں ان الفاظ کے معنی کچھ یوں دیے گئے ہیں:
اورتو: کاغان (مفرس شکل خاقان،یعنی بادشاہ) کی رہائش گاہ، دارالحکومت
اوردو: درمیان، مرکز
زمانے کے اوراق تیزی سے پلٹ کر ہم ساڑھے تین صدیوں بعد یوسف خاص حاجب کی سیاسی جوڑ توڑ پر مبنی کتاب ’مقدس دانش‘ (۱۰۷۲ء) میں لفظ اردو کو دومختلف معانی میں استعمال ہوتا دیکھتے ہیں:
* ’ہر شہر، ملک، اور ’اردو‘ میں اس کتاب کانام مختلف تھا (سلجوق یونیورسٹی، ترکی، کے ڈاکٹر ارکان ترکمان نے لکھا ہے کہ یہاں ’اردو‘ کا مطلب محل ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا مطلب دارالحکومتبھی ہو سکتا ہے)۔
*)وہ( ایک الگ’اُردو‘ کے رہنے والے تھے (شہر(
* دنیا قید خانہ ہے، اس کی محبت میں مت گرفتار ہونا۔ بل کہ ایک بڑے ’اردو‘ اور ملک کی جستجو کرناتاکہ چین سے رہ سکو (محل، شہر، دارالحکومت(
* موت نے بڑے بڑے ’اُردو‘ اور ملک اجاڑ دیے (شہر(
شایدبہت سے لوگوں کے لیے’مقدس دانش‘میں اردو لفظ کاشہر کے معنی میں استعمال نیا ہولیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ترکی میں ’اوردو‘کے نام سے ایک صوبہ ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس صوبے کے دارالحکومت کا نام بھی ’اوردو‘ ہے۔ بحیرۂ روم کے ساحل پر سرسبز وشاداب جنگلوں سے گھراہوایہ چھوٹا سا شہرقا بلِ دید مقام ہے۔
لیکن یہ گمان نہ رہے کہ کسی شہر کے نام کی مندرجہ بالا مثال انوکھی ہے۔ اس نام کے کئی اور شہر بھی گزر چکے ہیں۔ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع چینی شہر کاشغر کا منگول نام ’اردو قند‘ تھا۔ اسی طرح ایک اور شہر ’اردو بالیغ‘ کے نام سے تھا،جسے بعدمیں قراقرم کہاجانے لگا (حافظ محمودشیرانی، ۱۹۲۹ء(

سنہرا کیمپ

چوں کہ پہلے ہزاریے میں خانہ بہ دوش ترکوں اور منگولوں کے درمیان کافی ربط و اختلاط رہا ہے (جس کا اندازہ کل تگین لاٹھ کے منگولیا میں تعمیر کیے جانے سے لگایا جاسکتا ہے)، منگولوں نے لفظ اردو ترکی زبان سے مستعار لے لیا اور اسے محل کے معنوں میں برتنے لگے(خیال رہے کہ ترکی اور منگولیائی زبانوں کے التائی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں آپسی رشتہ موجود ہے)۔ جدید منگولیائی لغات اب بھی اس لفظ کے معنی محل ہی بتاتی ہیں۔
منگولوں کا مقدس ترین مقام وہ جگہ ہے جہاں چنگیز خان کی باقیات محفوظ کی گئی تھیں۔ اسے ’اردوس‘ کہا جاتا ہے (اویون بیلگ، ۱۹۹۷)۔
لیکن چوں کہ منگول خانہ بہ دوش تھے اور اپنی زندگیوں کا بیش تر حصہ خیموں میں گزارا کرتے تھے، لفظ اردو خیمہ یا کیمپ کے معنی میں استعمال کیاجانے لگا۔
۱۲۳۵ء میں چنگیز خان کے جانشین اوغدائی خان نے باتو خان کی قیادت میں ایک لشکر یورپ کی سمت روانہ کیا۔ چند سالوں کے اندر اندر اس لشکر نے روس، پولینڈ اور ہنگری کو روند کے رکھ دیا۔ اس تمام مہم کے دوران ایک منقش طلائی خیمہ باتو خان کے زیرِ استعمال رہا، جس کی وجہ سے تمام لشکری خیمہ گاہ کو ’التون اوردو‘ یا سنہرا کیمپ کہا جانے لگا۔ باتوخان نے ۱۲۴۲ء میں مشرقی یورپ میں منگول سلطنت کی داغ بیلڈالی جو پندرھویں صدی تک قائم رہی۔ اسی اثنا میں لفظ اردو بھی یورپ کی زبانوں میں داخل ہونے لگا۔ اطالوی اور پرانی یوکرینی میں یہ ’اُردا‘ کے روپ میں ڈھلا، پولش اور ہسپانوی میں ’ہوردا‘ بن گیا، سوئس میں ’ہورد‘ کہلایا اور بالآخر مغرب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ۱۵۵۵ء میں انگریزی اور ۱۵۵۹ ء میں ’ہورڈ‘بن کر فرانسیسی میں داخل ہو گیا۔ رچرڈ ایڈن کی کتاب ’نئی دنیا کے عشرے‘ انگریزی زبان کی وہ کتاب ہے جس میں یہ لفظ پہلی بار استعمال ہوا ہے۔
اس قسم کے خیمے اب بھی منگولیا میں عام ہیں اور انہیں آج کل ’گَر‘ کہا جاتا ہے۔نیشنل جیوگرافک رسالے سے اقتباس:
کہیں نہ کہیں آپ کو ایک گول خیمہ نظر آجائے گاجسے منگول گَر کہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی ایک خیمے کے باہر رکے اور چائے کے لیے گرم پانی مانگا۔ گنگا نامی ایک عورت نے کمال مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیتلی چولھے پر رکھ دی۔
میں نے اس سے پوچھا کہ آپ لوگ گھروں میں کیوں نہیں رہتے؟ ’’گھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ اس نے یوں جواب دیا جیسے اس سے بڑھ کر کسی اور بات کی اہمیت ہی نہ ہو۔ ’’آپ اسے یہاں سے وہاں، یا وہاں، یا وہاں نہیں لے جا سکتے،‘‘وہ ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ مجھے تو گنگا کا گھر اچھا خاصا پائدار معلوم ہوا۔ اس میں چارپائیاں تھیں، الماریاں تھیں، حتیٰ کہ دیواروں پر تصویریں تک ٹنگی ہوئی تھیں۔ لیکن اس نے بتایا کہ اس کا خاندان اپنے جانوروں کے لیے بہترچراگاہوں کی کھوج میں اس سال تین بار نقل مکانی کر چکاہے۔ ایک گر کو تہ کرنے میں صرف ایک گھنٹا لگتا ہے (مائیک ایڈورڈز، ۱۹۹۶(
جب منگول ایران میں آبسے تو لفظ اردو بھی ان کے ساتھ ہی چلاآیا۔ علاؤالدین عطا کی کتاب ’جہاں کشا‘ فارسی کی قدیم ترین کتاب ہے جس میں اس لفظ کو برتا گیا ہے (شیرانی، ۱۹۲۹ء)
چلتا پھرتا شہر

ہر چند کہ ہندوستان میں لفظ اردو کے استعمال کی چند قبل از مغل دور مثالیں مل جاتی ہیں، لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ بعد میں اضافہ کیا گیا ہے (شیرانی ۱۹۲۹ء)۔ تاہم ظہیر الدین بابر کے وقت یقیناًلفظ اردو کا استعمال عام ہو چکاتھا، حتیٰ کہ خود بابر نے اسے اپنی تزک میں لکھا ہے۔ اکبر کے دور میں اس لفظ کے مرکبات عام استعمال کیے جاتے تھے، مثال کے طور پر ’اردوے معلیٰ‘، ’اردوے علیا‘، ’اردوے بزرگ‘، حتیٰ کہ’اردوے لشکر‘۔تمام مرکبات میں اردو کا مطلب شاہی کیمپ ہے (شیرانی، ۱۹۲۹ء)۔ اکبر کے درباری وقائع نویس ابوالفضل نے اپنی مشہور کتاب ’آئینِ اکبری‘ میں ایسی ہی ایک خیمہ گاہ ’اردوے ظفر قریں‘کا ذکر تفصیل سے کیا ہے:
شاہی خیمے اور حرم کے لیے ایک ۱۵۳۰ گزلمبا میدان منتخب کیا گیا۔ ان میں سب سے بڑا اور اہم خیمہ گلال باڑ ہے جو ایک قلعہ نما، تہ ہو جانے والاچوبی خیمہ ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی سو سو گز ہے۔ اس کے جنوبی حصے میں دربارہے جس کے ۵۴ حصے ہیں، ہر حصہ ۱۴ ضرب ۲۴ گز ہے ۔ مرکز میں دو منزلہ چوبی شاہی محل ہے جہاں بادشاہ صبح عبادت کرتا ہے۔ بیگمات اس حصے میں بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتیں۔ اس سے ملحق ۲۴ چوبی راوٹیاں (چوکور خیمے) ہیں، ہر ایک ۱۰ ضرب ۶ گز ہے جہاں بیگمات رہائش پذیر ہوتی ہیں۔ ۔۔ وسط میں بڑا چوبی دربار ہے ۔ ایک ہزار ملازم اسے نصب کرنے پر مامور ہیں۔ اس کے ۲۷ دروازے ہیں اور اس میں دس ہزار لوگوں کی نشست کی گنجائش ہے۔ (شیرانی، ۱۹۲۹ء(
آپ نے دیکھا کہ خیمہ گاہ کیا ہے، چلتا پھرتا شہر ہے۔ جرمن مورخ فریڈرک آگسٹس نے بھی اپنی کتاب ’شہنشاہ اکبر‘ میں ایک خیمہ گاہ کا ذکر کیا ہے:
ایسے ہر خیمے کی ترسیل کے لیے ۱۰۰ ہاتھی، ۵۰۰ اونٹ، ۴۰۰ بیل گاڑیاں اور ۱۰۰ قلی استعمال کیے جاتے تھے۔(آگسٹس ۱۸۸۵ء(
’اردوے ظفر قریں‘ میں ایک سفری ٹکسال بھی تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے بھی اردوے ظفر قریں کہا جاتا تھا۔ یہ ٹکسال جہانگیر اور شاہجہاں کے وقت بھی زیرِ استعمال تھی اور بعد میں صرف اردوکہلانے لگی (شیرانی، ۱۹۲۹ء)۔ اس ٹکسال کے کئی سکے اب بھی پائے جاتے ہیں جن پر ’ضربِ اردوے ظفر قریں‘ کندہ ہے۔ ان میں سے کچھ سکوں کی تصاویر انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔

دلّی جو ایک شہر تھا

بابر کے جانشین دہلی کے کچھ زیادہ دل دادہ نہیں تھے اور اس پر آگرے یا لاہور کو ترجیح دیتے تھے۔ اکبر نے تو خیر کبھی دہلی کی سرزمین پر قدم ہی نہیں رکھا ۔ تاہم فنِ تعمیر کے شوقین شاہجہان نے جب اپنے لیے ایک نیا شہر بسانا چاہا تو اس کے مہندسوں نے جو جگہ منتخب کی وہ دریاے جمنا کے کنارے دہلی شہر کے قریب واقع تھی۔ دس برس کی تعمیرات کے بعد ۱۸ اپریل ۱۶۴۸ء کو ہندوستان کے نئے دارالسلطنت کا افتتاح ہوا اور اسے شاہجہان آباد کا نام دیا گیا۔ اس شہر کی چند اہم عمارات میں لال قلعہ، جامع مسجد، باغِ حیات بخش، امتیاز محل اور ایک دو منزلہ ڈھکا ہوابازار شامل تھے (شاہجہان نامہ،۱۶۶۰ء)۔
نئے شہر کے بسنے کے کچھ ہی عرصے بعد پہلے لال قلعے اور پھر پورے شاہجہان آباد کو ’اردوئے معلی‘ اور بعض اوقات صرف ’اردو‘ کہا جانے لگا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مغل بادشاہ اکثرسفر میں رہتے تھے اور اس لیے ان کی قیام گاہ اردوے معلی یعنی شاہی کیمپ کہلانے لگی تھی۔ قدیم ترکی زبان کا ذکر پہلے ہی گزر چکا ہے جس میں لفظ اردو ’’خاقان کی رہائش گاہ‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا تھا(دل چسپ بات یہ ہے کہ بھوٹان کی قومی زبان کا نام زونگ کھا‘ ہے ،جس کا لفظی مطلب ’قلعے کی زبان ‘ہے)۔ عہد ساز ماہرِ لسانیات، شاعر اور اور اردو شاعر ی میں استادی شاگردی کے ادارے کے بانی خانِ آرزواپنی لغت ’نوادرِ الفاظ‘ (۱۷۴۷ تا ۱۷۵۲ء) میں لفظ ’چھنیل‘ کے تحت لکھتے ہیں:
ہم جو ہند کے باسی ہیں اور ’اردوے معلی‘ میں رہتے ہیں، اس لفظ سے آشنا نہیں ہیں۔
خانِ آرزو اپنی ایک اور کتاب ’مثمر‘ (۱۷۵۲ء) میں رقم طراز ہیں:
پس ثابت ہوا کہ ’اردو‘ کی زبان ہی معیاری زبان ہے۔ یہیں کی فارسی مستند ہے۔ ہر ملک کے مختلف شہروں کے شاعر مستند زبان میں شاعری کرتے ہیں، جیسے شروان کا خاقانی، گنجہ کا نظامی، غزنی کا سنائی اور دہلی کا خسرو۔ اور یہ زبان اردو کی زبان کے سوا کچھ اور نہیں۔
اس اقتباس سے دو باتیں واضح ہوئیں: اول یہ کہ لفظ ’اردو‘ زبان کے لیے نہیں بل کہ شاہجہان آباد شہر کے لیے استعمال ہو اہے۔دوم یہ کہ خانِ آرزو کَہ رہے ہیں کہ شاہجہان آباد (دہلی) کی زبان فارسی ہے۔ اور اس میں تعجب کی کوئی بات اس لیے نہیں کہ مغلوں کے دور میں فارسی ہندوستان کی سرکاری اور دفتری زبان تھی۔
ایک اور مثال دیکھیے جو انیسویں صدی کے آغاز سے لی گئی ہے۔ دریاے لطافت(۱۸۰۷ء) میں انشا اللہ خان انشا اور مرزا قتیل لکھتے ہیں:
مرشد آباد اور عظیم آباد کے باسی اپنے تئیں اہلِ زبان سمجھتے ہیں اور اپنے شہر کو ’اردو‘ گردانتے ہیں(فاروقی، ۱۹۹۹ء(
ظاہر ہے دریاے لطافت کے فاضل مصنفین اردو سے مراد شاہجہان آباد لے رہے ہیں نہ کہ زبان۔ زبان تو خیر ان دنوں ہندی کہلاتی تھی۔
آیا نہیں ہے لفظ یہ ہندی زباں کے بیچ
پہلے ذکر آچکا ہے کہ اٹھارہویں صدی میں اردو زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ دراصل اس زبان کے لیے ہندی یا ہندوی نام صدیوں سے استعمال ہوتا چلا آیا تھا۔فارسی کے مشہور شاعر خواجہ سعد سلمان (۱۰۴۶ء تا ۱۱۲۱ء) جو لاہور کے باسی تھے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندوی زبان میں ایک دیوان چھوڑا ہے۔ اگرچہ اس دیوان کا ایک شعر بھی وقت کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکا، ایسے شواہد ضرور پائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دیوان کا واقعی وجود تھا۔ امیر خسرو (۱۲۵۳ء تا ۱۳۲۵ء) نے اپنی معرکۃ ا لآرا کتاب’غرۃ الکمال‘(۱۲۹۴ء)کے دیباچے میں لکھا ہے کہ مسعود نے تین زبانوں میں دواوین چھوڑے ہیں، فارسی،عربی اور ہندوی (جمیل جالبی، ۱۹۸۴ء)۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ ممکن ہے اس’ہندوی‘ سے مراد پنچابی ہو، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امیر خسرو اس دور کے ہندوستان میں بولے جانی والی زبانوں میں فرق روا رکھتے ہیں اور پنجابی کو ’لاہوری‘لکھتے ہیں۔
غرۃ الکمال ہی میں خسرو اپنی زبان کے بارے میں یوں سخن طراز ہیں:
من ترکِ ہندوستانیم، من ہندوی گویم چوں آب
(میں ہندوستانی ترک ہوں، میں ہندوی پانی کی طرح بولتا ہوں(
اپنی مثنوی ’نہ سپہر‘ میں خسرو نے دعویٰ کیا ہے کہ الفاظ کی شیرینی میں ہندوی فارسی اور ترکی دونوں سے بڑھ کر ہے۔ (سلیم اختر، ۱۹۹۵ء)
اس وقت سے لے کر انیسویں صدی تک اردو زبان کو ہندی ہی کہا جاتا تھا۔ مختلف ادوار سے چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
بہ کالاپانی فرود آمدم کہ بہ زبانِ ہندی مراد آبِ سیاہ است
جہانگیر، تزکِ جہانگیری، دورِ حکمرانی ۱۶۰۵ء تا ۱۲۶۷ء (جمیل جالبی، ۱۹۸۴ء(
میں ہندی زبان سوں لطافت اس چھنداں سوں نظم ہور نثر ملا کر گلہ نہیں بولیا
ملا وجہی، سب رس، ۱۶۵۳ء (سلیم اختر، ۱۹۹۵ء(
اگرچہ سبھی کوڑا و کرکٹ است
بہ ہندی و رندی زبان اٹ پٹ است
جعفر زٹلی، متوفی ۱۷۱۳ء (شوکت سبزواری، ۱۹۸۷ء(
تمام شد نکات الشعرا ے ہندی
میرتقی میر، نکات الشعرا، ۱۷۵۹ء
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کوسکونِ قلب
آیا نہیں ہے لفظ یہ ہندی زباں کے بیچ
میرتقی میر
وہ اردو کیاہے، یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے
مراد شاہ، نامۂ مراد، ۱۷۸۸ء (جمیل جالبی، ۱۹۸۴ء(
مصحفی فارسی کو طاق پہ رکھ
اب ہے اشعارِ ہندوی کا رواج
شیخ ہمدانی مصحفی
اول یہ کہ اس جگہ ترجمہ لفظ بہ لفظ ضروری نہیں کیوں کہ ہندی تراکیب عربی سے بہت بعید ہے۔
شاہ عبدالقادر، ترجمۂ قرآن، ۱۷۹۵ء
یہی نہیں بل کہ اردو کے لیے لفظ ہندی کا استعمال بیسیوں صد ی میں بھی موجود ہے۔ اور وہ علامہ اقبال کے ہاں، جو اپنی فارسی شاعری کے دفاع میں فرماتے ہیں:
گرچہ ہندی در عذوبت شکر است
طرزِ گفتارِ دری شیریں تر است
)اگرچہ’ہندی‘ذائقے میں شکر ہے فارسی کا طرزِ گفتار شیریں تر ہے(
علامہ اقبال، اسرارِ خودی، ۱۹۱۵ء(فاروقی، ۱۹۹۹ء(
مثالوں کی لمبی فہرست کے لیے معذرت، لیکن ان سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ زبان جسے ہم آج اردو کے نام سے جانتے ہیں، انیسویں صدی میں اور اس سے پہلے ہندی کے نام سے جانی جاتی رہی ہے۔ اوپر دیے گئے مراد شاہ کے شعر میں پہلی بار لفظ اردو کوزبان کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ سال ہے ۱۷۸۸ء ( واضح رہے کہ بعض محققین نے اس سے پیش تر کی بھی چند مثالیں ڈھونڈنکالی ہیں، جیسے محمد مائل، ۱۷۷۶ء اور مصحفی، ۱۷۷۶ء لیکن ان دونوں مثالوں کی توقیت کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، فاروقی، ۱۹۹۹(
لیکن لاہور کے باسی مراد شاہ کے مندرجہ بالا شعر کے وقت بھی اردو کا عام مطلب زبان نہیں تھا۔ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں کہ انشا و قتیل نے ۱۸۰۷ء میں اس اردو کو دہلی شہر کے معنی میں استعمال کیا ہے۔حتیٰ کہ۱۸۴۶ء میں شائع ہونے والی جان شیکسپیئر کی مرتبہ لغت ’اے ڈکشنری آف ہندوستانی اینڈ انگلش‘ بھی لفظ اردو کے بہ طور زبان معنی سے واقف نہیں ہے، جہاں اس لفظ کے تحت لکھا ہے:
اردو: فوج، کیمپ، بازار
اردوئے معلی: شاہی کیمپ یا لشکر۔ عام طور پر اس سے دہلی شہر یا شاہجہان آباد مراد لی جاتی ہے۔
اس موقعے پر اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کب اور کیسے ہندی زبان کا نام اردو پڑا۔

کلام الملوک

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، اٹھارہویں صدی میں اردو یا اردوے معلی کا مطلب دہلی شہرتھا۔ خانِ آرزو کا بیان بھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ اردو کی زبان فارسی ہے۔ لیکن خانِ آرزو کے بھانجے میر تقی میرکو اس سے اختلاف تھاچناں چہ وہ اپنے تذکرے نکات الشعرا میں لکھتے ہیں کہ ہندی دراصل زبانِ اردوے معلی ہے۔ (فاروقی، ۱۹۹۹ء)
یقیناًفارسی مغلوں کے دور میں ہندوستان بھر کی سرکاری زبان تھی۔ لیکن اورنگ زیب کے انتقال (۱۷۰۷ء) کے بعد مغل قلمروکا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا تھا۔ اوراٹھارہویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے باجبروت مغل سلطنت عملاً اردوے معلی تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ مغل بادشاہ شاہِ عالم ثانی کے بارے میں ایک شعر اس صورت حال کی عکاسی کرتا ہے:
سلطنتِ شاہِ عالم
از دلی تا پالم
نظامِ حکومت کے تاروپود بکھرنے اور انتظامی ڈھانچے میں دراڑیں پڑنے سے مغلوں کو تو خیر بڑا نقصان ہوا لیکن اردو زبان کو یہ فائدہ ہوا شاہی زبان فارسی کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی اور عوام کی زبان، یعنی اردونے اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کر دیں۔(فاروقی، ۱۹۹۹ء) چنا ں چہ رفتہ رفتہ فارسی کی بہ جائے اردو دارلحکومت اور دربار کی اہم ترین زبان کے روپ میں سامنے آنا شروع ہو گئی۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ کہ خود مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا (عرصۂ حکومت ۱۷۱۹ء تا۱۷۴۸ء) اور عالمگیر ثانی (عرصۂ حکومت۱۷۵۴ء تا ۱۷۵۹ء)اردو میں شاعری کرتے تھے۔ شاہ عالم ثانی (عرصۂ حکومت۱۷۵۹ء تا ۱۸۰۶ء ) ہفت زبان تھااور اس نے نہ صرف ہندی، پنجابی، فارسی اور برج بھاشا میں شاعری کی ہے بل کہ اس کی داستان ’عجائب القصص‘شمالی ہندوستان میں اردو نثر کی اولین کتابوں میں سے ایک ہے ۔ چناں چہ چند عشروں کے اندر اندر ’زبانِ اردوے معلی‘ بجائے فارسی کے اردو قرار پائی(جمیل جالبی، ۱۹۸۷ء؛ فاروقی، ۱۹۹۹ء (
اب سوال یہ ہے کہ آخر دارالحکومت کی زبان پر اتنا اصرار کیوں؟ ہم نے دیکھا کہ خانِ آرزو کے بہ قول صرف دارالحکومت کی زبان ہی فصیح کہلائی جا سکتی ہے۔ ایک عربی کہاوت ہے، ’کلام الملوک، ملوک الکلام‘، مطلب یہ کہ بادشاہ کی زبان زبانوں کی بادشاہ ہوتی ہے( کلام الملوک والی بات فقط مشرق تک محدود نہیں بل کہ مغرب میں بھی یہی حال ہے۔ آج بھی انگریزی زبان کی سب سے مستندگرامر کی کتاب کا نام ’دی کنگز انگلش‘ہے۔)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہی دربار محض انتظامی مرکز ہی نہیں بل کہ علوم و فنون کا گڑھ بھی ہوا کرتا تھا۔ شاہی سرپرستی کی آرزو میں نہ صرف ملک بھر بل کہ دوسرے ملکوں سے علما و فضلا کھنچے چلے آتے تھے۔ مغلوں کا سنہرا دور تو الگ رہا، ہم دیکھتے ہیں کہ محمد شاہ رنگیلا کے سے گئے گزرے زمانے میں بھی مشہور فارسی شاعر شیخ حزیں دہلی آ بسے تھے۔غالب نے ’مہرِ نیم روز‘ میں رونا رویا ہے کہ شاہجہان کے درباری شاعر طالب آملی کو سونے میں تولا گیا تھا (حالی، ۱۸۹۴ء)۔ داراشکوہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے ایک شعرپرخوش ہو کرشاعر کو ایک لاکھ روپے انعام دیا تھا (جمیل جالبی، ۱۹۸۷ء)۔ ظاہر ہے وہ شہر جہاں ایسے صاحبانِ علم و فن بستے ہوں، وہاں کی زبان کا مستندمانا جانا عین قرینِ قیاس ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ رفتہ رفتہ اردو فارسی کو ہٹا کر دہلی کی فصیح اور مستند زبان کے تخت پر براجمان ہو گئی اور لوگ اسے ’زبانِ اردوئے معلی‘ کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ ترکیب لمبی تھی، اس لیے سکڑ کر ’اردوے معلی‘ اور آخر کار صرف ’اردو‘ بن گئی۔
اس طولِ کلام سے واضح ہوا کہ اردو زبان کے نام کا لشکر سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ زبان کا مغل فوج کی چھاؤنیوں میں جنم لینے والا قصہ تو گپ شپ کے قبیل میں آتاہے۔ اردو کے زبردست نقاداور محقق جناب شمس الرحمن فاروقی نے مجھے بتایا ہے فارسی زبان میں لفظ اردو کے بہ طورِ لشکر استعمال کی انیسویں صدی سے قبل ایک بھی مثال نہیں ملتی۔
اس موقعے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ بحث کا خلاصہ پیش کر دیا جائے:
* اردو زبان کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
* اس کا نام شاہجہان آباد (یعنی دہلی) سے نسبت کی وجہ سے پڑگیا۔
* زبان کو اردو اٹھارہویں صدی کے آخری چوتھائی حصے میں کہا جانے لگا۔
* اس سے قبل اور اس دوران بھی اردو کا سب سے زیادہ مستعمل نام ہندی تھا۔
اب ہم جائزہ لیں گے کہ اگر اردو کو ہندی کہتے تھے تو پھر یہ آکاش وانی پر بولی جانے والی زبان کیا شے ہے؟

دو نئے انداز

جب انگریز ہندوستان آئے تو انہیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہواکہ ہندواور مسلمان ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ ایک ایسی زبان جس کا ڈھانچا اور صرف و نحو خالصتاً مقامی ہیں لیکن جس نے فارسی اور فارسی کے توسط سے عربی زبان سے اثر قبول کیا ہے اور جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزوں کی حیرت کی بنایہ تھی کہ مسلمان اور ہندو ان کے تئیں دو مختلف قومیں تھے چنا ں چہ ان کی زبانیں بھی مختلف ہونی چاہیے تھیں۔ فورٹ ولیم کالج کے بانیوں میں سے ایک، جان گلکرسٹ کچھ یوں رقم طراز ہے:
’’ ہندوستان"کے باسی ہندو اور مسلمان ہیں۔ ہم ان کے لیے اور ان کی زبان کے لیے بڑے آرام سے عمومی اور جامع اصطلاح ہندوستانی استعمال کرسکتے ہیں۔ جس کو میں نے مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل اسباب کی بنا پر اختیار کیا ہے:
اگرچہ اس ملک اور اس کی مذکورہ زبان (ہندوستانی )کا یہ نام نیا ہے، لیکن مجھے اس زبان کے مطالعے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور نام نہیں ملا۔ اس امر کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ مقامی لوگ اسے ہندوستان کے پرانے نام ہند کی نسبت سے ہندی کہتے ہیں،لیکن اس نام کے دوسرے ناموں، ہندوی، ہندووی وغیرہ سے خلط ملط ہونے کے امکانات ہیں جو ہندو سے مشتق ہیں۔ اس لیے میں اپنے نظریے پر قائم ہوں کہ اس ملک کی مقبولِ عام زبان کے دوسرے تمام نام، جن میںُ مور جیسا بے معنی نام بھی شامل ہے، ترک کرکے انہیں ہندوستانی سے بدل دینا چاہیے۔ چاہے مقامی اس کی پیروی کریں یا نہ کریں۔ وہ تو ویسے بھی سمجھانے کے باوجود ایسی باتوں کی مصلحت نہیں سمجھ سکتے۔‘‘
یہاں قابلِ غوربات یہ ہے کہ مستشرقوں کے عام اندازِ فکر کے عین مطابق گلکرسٹ مقامیوں کی مادری زبان کے بارے میں ان کے نظریے کو قلم زد کرکے یک طرفہ ڈگری جاری کر دیتاہے۔ دوہی برس بعد گلکرسٹ ایک بار پھر پُر تیقن لہجے میں لکھتاہے:
’’ہندو قدرتی طور پر ہندی کی طرف جھکیں گے جب کہ ظاہر ہے مسلمان عربی اور فارسی کی نسبت جانب دارہوں گے۔ یوں دو نئے انداز جاری ہو جائیں گے۔‘‘
اور دو نئے اندازوں کی نشو ونما کے لیے گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں ملازمت اختیار کر لی۔ یہ کالج انگریزوں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔چوں کہ نصابی ضروریات کے لیے درکار سلیس اردو نثر کی کتابیں دستیاب نہیں تھیں اس لیے کالج نے کئی مصنفین کو ملازم رکھا تاکہ وہ نئی کتابیں لکھیں(کہا جاتا ہے کہ میر تقی میر نے بھی ملازمت کے لیے عرضی دی تھی لیکن ان کی درخواست اس بنا پر نامنظور کر دی گئی کہ یہ ملازمت ان کے مرتبے سے بہت کم تھی،ڈاکٹر گوہر نوشاہی، ذاتی گفتگو)۔ یہ کالج ۱۸۵۳ء تک کام کرتا رہا اور اس عرصے میں اس کے توسط سے کل ۱۴۷کتابیں مرتب ہوئیں، جن میں سے ۳۵شائع ہوئیں(ڈاکٹر سمیع اللہ)۔
میر امن دہلوی نے اس کالج کے نصاب کے لیے ۱۸۰۲ء میں ’باغ و بہار‘ لکھی جو آج اردو نثر کے شاہکاروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی کالج سے اردو کے مشہور ادیب حیدر بخش حیدری (آرائشِ محفل)، کاظم علی جوان(شکنتلا کا اردو ترجمہ( اور بابر علی حسینی وغیرہ وابستہ تھے۔
یہ تو ہوگئے اردو مصنیفین( واضح رہے کہ انگریز اس زمانے میں اردو کو ہندوستانی کہنے پر مصر تھے)، لیکن فورٹ ولیم کالج نے ساتھ ہی ساتھ کچھ دیوناگری کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر لیں اور ان سے ’جدید‘ہندی میں کتابیں لکھوانے لگے۔ للولال جی جس نے ۱۸۰۳ء میں ’پریم ساگر‘ لکھ کر جدید ہندی ادب کی خشتِ اول رکھی، کے سامنے جدید ہندی کا کوئی نمونہ نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے میر امن کی باغ و بہار سامنے رکھ کر عربی فارسی اسما کو سنسکرت اسما سے بدل دیا۔ رام چند رشکلا لکھتے ہیں:
اگر للو لال اردو کے ماہر نہ ہوتے تووہ پریم ساگر میں عربی و فارسی الفاظ سے گریز میں کامیاب نہ ہوپاتے۔ اس دور کی روزمرہ زبان میں یہ الفاظ اس حد تک سرایت کر گئے تھے کہ محض سنسکرت یا ہندی کے ماہر کے لیے ان کی شناخت مشکل تھی۔ (ہندی ساہتیہ کا اتہاس(
فورٹ ولیم ہی کا تنخواہ دار ایک اور ماہرِ دیوناگری سڈل متر تھا۔ وہ اپنی کارگزاری کچھ یوں بیان کرتا ہے:
گلکرسٹ نے۔۔۔ ایک دن آگیا دی کہ ادھیا تم رامائن کو ایسی بولی میں کروجس میں فارسی، عربی نہ آوے۔ تب سے میں اس کو کھڑی بولی میں کرنے لگا۔
یہاں د ل چسپ اور قابلِ غوربات لفظ’کھڑی بولی‘ کا استعمال ہے۔ اس لفظ نے ماہرینِ لسانیات کو بڑے مغالطوں میں مبتلا کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ چوں کہ اردویا ہندی میں افعال کا اختتام الف پر ہوتا ہے (آنا، جانا، کھانا، وغیرہ) اس لیے اس کو کھڑی بولی کہتے ہیں، جب کہ اس کے مقابلے میں دوسری زبانیں ’پڑی بولی‘ہیں۔ مثال کے طور پر برج بھاشا پڑی بولی ہے کیوں کہ اس میں آئیو، جائیو، کھائیوکہتے ہیں۔ معروف ماہرِ لسانیات ڈاکٹر سہیل بخاری تو بڑے دور کی کوڑی لائے اور انہوں نے مشرقی ہندوستان میں ریاست اڑیسہ کے قرب و جوار میں ایک علاقہ کھڑدیس کے نام سے بھی دریافت کرڈالا اور دعویٰ کیا کہ یہی کھڑی بولی، یعنی اردو کی مرزبوم ہے۔
کھڑی بولی نام کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک جعلی اور مصنوعی نام ہے۔ اس کا سراغ ۱۷۹۸ء سے قبل نہیں ملتا۔اس سال گلکرسٹ ’اورینٹل لنگوئسٹ‘میں لکھتا ہے:
شکنتلا کا دوسرا ترجمہ کھڑی بولی یا ہندوستان کی خالص بولی (sterling tongue)میں ہے۔ ہندوستانی [یعنی اردو] سے مختلف یہ صرف اس بات میں ہے کہ عربی و فارسی کا لفظ چھانٹ لیا جاتا ہے۔
میرا اندازہ ہے کہ گلکرسٹ یہاں’کھری بولی‘لکھنا چاہ رہا تھالیکن کتابت کی غلطی یا کسی اور بنا پر لفظ کھری کو کھڑی مان لیا گیا۔ بعد میں فورٹ ولیم کالج کے مصنفین نے ’ہندوستان کی خالص بولی‘ کو کھڑی بولی کہنا شروع کر دیا اور یہ لفظ غلط العوام و خواص ہو گیا۔
خیر ہندی اردو تنازعے کی طرف لوٹتے ہیں۔ ماہرِ لسانیات ایف ای کی اپنی کتاب’تاریخِ ہندی ادب‘میں لکھتاہے:
ہندوؤں کے لیے ایک ایسی زبان حسبِ خواہ تھی جس سے وہ وابستگی محسوس کر سکیں۔ اور اس مقصد کے لیے اردوسے فارسی اور عربی کے الفاظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھ دیے گئے (ایف ای کی، ۱۹۲۰ء)۔
دوسرے ماہرینِ لسانیات بھی کی کے ہم نوا نظر آتے ہیں۔ عالمِ بشریات اورمشہور کتاب ’شاخِ زریں‘ کا مصنف ولیم فریزر ’ہندوستان کی ادبی تاریخ‘ میں لکھتا ہے:
اونچی ہندی ایک کتابی زبان تھی جو انگریزوں کے زیرِ اثر پروان چڑھی، جنہوں نے مقامی ادیبوں کو آمادہ کیا کہ وہ اردو سے فارسی اور عربی کے الفاظ نکال کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ رکھ دیں(ولیم فریزر، ۱۸۹۳ء(
ڈاکٹر تاراچند’ہندوستانی کا مسئلہ‘ میں رقم طراز ہیں:
فورٹ ولیم کالج انگریزوں نے برطانوی افسروں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا تھا۔ ان میں دو زبانیں برج اور اردو تھیں۔ برج شاعرانہ زبان تھی اور نثری تحریر کے لیے مناسب نہیں تھی۔ اردو تمام ہندوستان کی مشترکہ زبان تھی۔ بدقسمتی سے زبان میں تخصیصات تلاش کرنے کی دھن میں کالج کے پروفیسروں نے ایک نئی اردو تخلیق کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دی جس میں عربی و فارسی الفاظ کو سنسکرت الفاظ سے بدل دیاگیا تھا۔ یہ کام بڑی ڈھٹائی سے ہوا تاکہ ہندوؤں کو ان کی اپنی زبان فراہم کی جاسکے۔ لیکن اس کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور ہندوستان آج تک زبانوں کی اس مصنوعی تقسیم کے اثرات سہ رہا ہے (تاراچند، ۱۹۴۴ء(
جارج گریرسن جس نے ہندوستانی لسانیات کی سب سے اہم کتاب ’ہندوستان کا لسانی سروے‘ مرتب کی، ۱۸۹۶ء میں للو لال کی کتاب کے دیباچے میں لکھتا ہے:
ہندوستان میں ایسی کوئی زبان پہلے سے موجود نہیں تھی۔ چنا ں چہ جب للو لال نے پریم ساگر لکھی تو وہ دراصل ایک نئی زبان ایجاد کر رہا تھا۔
اور آخر میں سنیتی کمار چیٹرجی کی سن لیجیے، جنہیں ہندوستانی لسانیات کا باوا آدم مانا جاتا ہے:
تاریخی اورلسانی اعتبارسے اردو ہندی یا سنسکرت آمیز کھڑی بولی کی اسلامی شکل نہیں ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دراصل ہندوؤں نے فارسی آمیز ہندوستانی اختیار کر لی تھی جو دربار اور اس کے حلقوں میں استعمال ہونے لگی تھی۔ چوں کہ فارسی اور عربی الفاظ ان کے لیے بے کارتھے، اس لیے انہوں نے دیوناگری رسم الخط اختیار کرلیا اور فارسی اور عربی کے الفاظ خارج کر کے زبان کو سنسکرت آمیز بنادیا۔ (چیٹرجی، ۱۹۷۳ء(
اس موقعے پر سوال اٹھتا ہے کہ دونوں زبانوں کا ماخذ اردو سہی، لیکن کیا جدید اردو اور جدید ہندی دو مختلف زبانیں ہیں؟اور جواب ہے، نہیں۔ لسانیات کا مانا ہوا اصول ہے کہ زبانوں کی تقسیم و تفریق اور درجہ بندی ان کے افعال کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ اسما کی بنیادپر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندہ زبانوں کے اسما بہت لچکدار ہوتے ہیں اور بڑی تیزی سے زبان کے ذخیرے میں داخل ہوتے اور نکلتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں افعال نسبتاً مستقل رہتے ہیں اور ان میں آسانی سے تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ لسانیات میں افعال کو زبان کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اگر جدید ہندی اور جدید اردو کو افعال کے حوالے سے پرکھا جائے تو کیا شکل سامنے آتی ہے۔
ایک روسی ماہرِ لسانیات سٹینی سلاف مارٹنیک نے اسی تناظر میں جدید ہندی اور جدید اردو کے تقریباً ساڑھے چار لاکھ الفاظ لیے اور ان کی بسامد( فریکونسی) کا تجزیہ کیا ۔ معلوم ہوا کہ دونوں زبانوں میں ایک سو سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ستر مشترک ہیں۔ دونوں زبانوں میں بیس سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
اردو: کا، ہونا، میں، کرنا، نے، اور، سے، کو، جانا، پر، کہ، دینا، یہ، کہنا، وہ، کے لیے، نہیں، ایک، رہنا، جو،
ہندی: کا، ہونا، میں، نے، کرنا، کو، سے، جانا، کی، یہ، اور، وے، پر، کہنا، دینا، بھی، رہنا، نہیں، ایک، کے لیے
( ’ہندی اور اردو کی بحث کا شماریاتی جائزہ‘، ۲۰۰۲ء(
اور خیر، اب تو ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں اسماکے منبع کی بحث غیر متعلق ہوتی جارہی ہے۔ اور وہ یوں کہ سرحد کے دونوں اطراف اسما، چاہے وہ فارسی و عربی کے ہوں یا سنسکرت کے، بڑی تیزی سے انگریزی الفاظ سے تبدیل کیے جارہے ہیں۔

گیان گمان کی سرحد

عام خیال یہی ہے کہ اردو فارسی اور مقامی زبان (یازبانوں) کے میل جول سے وجود میں آئی ہے۔ یہ بات اس لیے بالکل غلط ہے کہ اردو زبان کا ڈھانچاخالصتاً ہندوستانی ہے اور اس کا فارسی کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، زبانیں افعال اور صرف و نحو کی بنیا د پر جانچی جاتی ہیں، نہ کہ اسما کی بنا پر۔ چنا ں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اردو صرف و نحو پر فارسی اثر انداز نہیں ہوئی۔ اس کی ایک د ل چسپ اور واضح مثال فارسی اضافت کی بحث ہے۔ بے شک ایک زمانہ گزرا ہے کہ بعض ادبا نے اردو اور فارسی الفاظ کے درمیان اضافت برتی ہے، مثال کے طور پر:
’وعدۂ کل‘ مت کر اے ظالم کہ تجھ بن کل نہیں (شاہ حاتم(
یا پھر :
چاہو کہ پی کے پگ تلے اپنا وطن کرو
اول اپس کو عجز میں ’نقشِ چرن‘ کرو (ولی دکنی(
جدید دور میں اردو لسانیات کے تین بڑوں نے اردو اور فارسی الفاظ کے درمیان اضافت کو رواجانا ہے، میری مراد ہے، شمس الرحمن فاروقی، رشید حسن خاں اور شان الحق حقی سے۔ حقی صاحب نے تو اس‘صنعت‘میں کچھ غزلیں بھی کہی ہیں۔ چند اشعار دیکھیے:
سج گئی اشکِ فراواں سے مری کشتِ حیات
کثرتِ اوس سے ہے طرفِ چمن آئینہ بند
یہ ہے گیان وگماں کی سرحد، کدھر ہے تیرا جھکاؤ اے دل
گیاں ہے فکرو نظر کا پھندا، گماں میں آزادیاں ہیں کیا کیا
لیکن بات پھر قبولِ عام کی آجاتی ہے۔ ان حلقوں کے اصرار کے باوجود اردواور فارسی و عربی الفاظ کے درمیان اضافت کو کسی دور میں بھی قبولِ عام نہیں مل سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے زبانیں دوسری زبانوں سے اسماتو بڑی سہولت سے قبول کر لیتی ہیں، دوسری زبانوں کی گرامر کے اصول اتنی آسانی سے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل نہیں ہوتے۔ اضافت کے ذریعے دو الفاظ کومنسلک کر دینا فارسی گرامر کا اصول ہے اوراردو نحو کو یہ بات گوارانہیں کہ وہ دوسری زبان سے اصول برآمد کرے۔
ایک مثال سے بات واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں: انگریزی کا قاعدہ ہے کہ الفاظ کی جمع بنانے کے لیے آخر میں حرف ایس لگا دیا جاتا ہے، جیسے کار سے کارز، روڈسے روڈز، وغیرہ۔ اب ہم اردو بولتے وقت انگریزی الفاظ میں تو انگریزی جمع کا اصول بے تکلفی سے برت لیتے ہیں، جیسے اس فقرے میں، ’روڈز پر کارز کی بھرمار ہو گئی ہے۔‘ لیکن انگریزی جمع بنانے کا اصول کبھی بھی اردو الفاظ کی جمع بنانے کے لیے نہیں استعمال کرتے۔ایسے الفاظ کی شکل ہی مضحکہ خیز ہے، یعنی سڑکزاور گاڑیز ۔ وجہ وہی کہ اسما تو قبول ہو جاتے ہیں، گرامر ہضم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی گرامر کا اصول اردو کو گوارا نہیں۔
گرامر کو ایک طرف رکھ بھی دیں، پچھلے ایک ہزار سال کے تسلط کے باوجود فا رسی اردو زبان کے بنیادی اسماکو متاثر نہیں کر سکی۔ جیسے بنیادی رشتے (ماں، باپ، بیٹا، بیٹی،بھائی، بہن، نانا، دادا،ماموں، چچا، حتیٰ کہ ساس، سسر)، بنیادی ہندسے (ایک، دو، تین، چار، پانچ، دس، بیس، پچاس،سو )،اہم اعضا(ہاتھ، پاؤں، ناک،ٹانگ، کان، آنکھ، منھ)، وغیرہ اب بھی اردو کے اپنے الفاظ ہیں۔
مزید برآں، مارٹنیک کی تحقیق، جس کا ذکر پہلے آچکاہے، کے مطابق تحریری اردو کے بیس سب سے عام استعمال ہونے والے الفاظ میں، جو اردو ذخیرۂ الفاظ کا اڑتیس فیصد بنتا ہے، ایک لفظ بھی فارسی یا عربی کا نہیں ہے۔
مذکورہ بالا دلائل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو مسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے، بل کہ یہ دہلی اور اس کے قرب وجوانب میں قطب الدین ایبک کے ورود (۱۱۹۳ء) سے پہلے ہی بولی جاتی تھی۔ اس زبان کو اس وقت کیا کہا جاتا تھا، اس کا ادبی سرمایہ کیا تھا، کوئی نہیں جانتا۔ لیکن ماہرینِ لسانیات نے کچھ دھندلا سا نقشہ ضرور مرتب کیا ہے۔
پہلی زبانیں، بگڑی زبانیں
برِصغیر میں زبانوں کے ارتقا کا سادہ نقشہ کچھ یوں مرتب کیا جا سکتا ہے۔
* منڈازبانیں: ۵۰۰۰ ہزار تا ۳۰۰۰ قبل مسیح
* قدیم دراوڑی زبانیں: ۳۰۰۰ تا ۱۵۰۰ قبل مسیح
* انڈو آرین: ۱۵۰۰ تاقبل مسیح
* ویدک سنسکرت/قدیم انڈو آرین: ۱۵۰۰ قبل از مسیح تا ۱۰۰۰ قبل مسیح
* کلاسیکی سنسکرت /وسطی انڈوآرین: ۱۰۰۰ ق م تا۵۰۰ ق م
* پراکرتیں: ۱۵۰۰ ق م تا ۵۰۰ق م
* اپ بھرنشائیں: ۵۰۰ ق م تا ۱۰۰ ق م
* جدید زبانیں: ۱۰۰۰ تا حال
)ماخوذ از گیان چند جین، ۱۹۸۴ء؛ عین الحق فریدکوٹی، ۱۹۷۲ء(
پراکرتیں وہ زبانیں تھیں جو آریاؤں کی آمد سے قبل ہندوستان میں بولی جاتی تھیں(پرا: پہلے؛ کرت: بنائی ہوئی۔ اس کے مقابلے میں سنسکرت کا مطلب ہے، خالص زبان)۔ ہم جانتے ہیں کہ آریاؤں کی آمد سے قبل بھی برِ صغیر گنجان آباد خطہ اورمتنوع تہذیبوں کا گہوارہ تھا۔ امری نل تہذیب سات ہزار سال پرانی ہے جب کہ وادئ سندھ کی عظیم الشان تہذیب آج سے پانچ ہزار پہلے اپنے عروج پر تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ سب قومیں مختلف زبانیں بولتی تھیں، جو صدیوں کے سفر میں اپنی شکلیں بدلتی چلی گئیں۔انہی زبانوں کو پراکرتیں کہا جاتا ہے۔ پالی ان میں سے ایک پراکرت ہے جسے گوتم بدھ نے اپنی تعلیمات کی تشہیر کے لیے منتخب کیا۔
اپ بھرنشائیں (لفظی مطلب، بگڑی زبانیں)کچھ اور بل کہ پراکرتوں کی ارتقائی شکلیں ہیں۔ بگڑی ہوئی زبانیں انہیں برہمنوں نے کہا جو سنسکرت کو خالص زبان سمجھتے تھے اورجنہیں اس کے بے داغ دامن پر تغیر کی ہلکی سی دھول بھی گوارانہیں تھی۔ چناں چہ ہوا کیا کہ سنسکرت تو عجائب گھر میں رکھی ہوئی حنوط شدہ ممی بن گئی لیکن زندہ زبانوں کا سفر جاری و ساری رہا اور یہ دوسری زبانوں سے اثر قبول کرتی، اثرڈالتی، سکڑتی پھیلتی، چھلتی چھلاتی آگے بڑھتی رہیں۔ ماہرینِ لسانیات کا خیال ہے کہ موجودہ زبانیں یکایک وجود میں نہیں آئیں بل کہ قدیم زبانوں کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں۔دراصل زبانیں زمانی اور مکانی دونوں اعتبار سے مسلسل عملِ تغیر سے دوچار ہوتی رہتی ہیں۔ جیسے ہر دس بارہ میل کے بعد ایک ہی زبان میں معمولی سافرق آجاتا ہے، بالکل ویسے ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھی زبانیں دھیرے دھیرے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ جس طرح کسی علاقے میں زمین پر خط لگا کر نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں سے فلاں لہجہ شروع ہوتا ہے، اتنا ہی مشکل زبان میں کسی تبدیلی کے صحیح سن کا تعین بھی ہے۔
ان نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے محققین نے بڑی دقت نظری سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جدید پنجابی جس اپ بھرنشا سے نکلی ہے اسے پشاچی اپ بھرنشا کہا جاتا ہے جب کہ برج بھاشا شورسینی اپ بھرنشا کی ارتقائی شکل ہے۔ اردو زبان کی اپ بھرنشا کون سی ہے، اس سلسلے میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے اور تاحال ماہرینِ لسانیات کسی کے لیے قابلِ قبول نتیجے تک نہیں پہنچ پائے۔ (گیان چند جین، ۱۹۸۴ء؛ شوکت سبزواری، ۱۹۸۷ء(

چڑیا لائی چاول کا دانہ

یہ بحث ہمیں ۱۱۹۳ء میں لے جاتی ہے جب سلاطینِ غلاماں دہلی میں اپنی قلمرو کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ مذکورہ بالا، تاحال نامعلوم اردوزبان کی ’ماں‘ اپ بھرنشا اس وقت دہلی اور اس کے نواح میں بولی جاتی تھی۔ جب مسلمان دہلی میں آباد ہوگئے توظاہر ہے کہ مقامی آبادی، جو غالب اکثریت میں تھی، کے ساتھ بول چال کے لیے انہیں مقامی زبان سیکھنا پڑی۔ سات صدیوں بعد تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا جب انگریز ہندوستان میں آبسے اور انہیں مقامیوں کی زبان سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔مسلمانوں نے تو خیر اس مقصد کے لیے کوئی فورٹ ولیم کالج نہیں قائم کیاتاہم جیسا کہ امیر خسرو کی گواہی سے معلوم ہوتاہے، وہ جلد ہی مقامی زبان پانی کی طرح بولنے لگے۔ اور جیسا انیسویں صدی میں ہواکہ شاہ کی زبان (انگریزی) کے الفاظ مقامی زبان (اردو) میں استعمال ہونے لگے، ویساہی بارہویں اور تیرہویں صدی میں بھی ہوا کہ فارسی کے اسما کا اثر مقامی زبان (اردو) پر ہوا۔ بالکل ایسے ہی جیسے انیسویں صدی میں اردو اور انگریزی کے میل جول سے کسی نئی زبان نے جنم نہیں لیا، بارہویں صدی میں بھی فارسی اور مقامی زبان کے اختلاط سے کوئی نئی زبان وجود میں نہیں آئی۔
ان صاحبان کی خدمت میں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اردو مسلمانوں اور مقامیوں کی زبانوں کے خلط ملط ہونے سے ظہور میں آئی ہے،ایک سوال پیش کیا جا سکتا ہے۔ اور وہ یہ کہ کیا وجہ ہے کہ اس مبینہ تال میل سے صرف ایک ہی زبان، یعنی اردو وجود میں آئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی نئی زبانیں کھمبیوں کی طرح اگ آتیں، کیوں کہ مسلمان صرف دہلی تک محدود نہیں رہے، وہ اس سے پہلے چار صدیاں قبل سندھ میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ پنجاب پر حکومت کرتے کرتے بھی انہیں ڈیڑھ صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا۔ بعد میں وہ بنگال، دکن اور ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ حتیٰ کہ پاکستان کے صوبۂ سرحدمیں بھی کسی نئی زبان کے آثار نہیں ملتے حالانکہ وہاں کی توکل آبادی اجتماعی طور پر مشرف بہ اسلام ہوگئی تھی۔
یہ نظریہ مشرق و مغرب کے کئی ماہرینِ لسانیات رد کرچکے ہیں کہ اردو زبانوں کے اختلاط سے بنی ہے، لیکن شاید سب سے رنگارنگ تردید جناب شوکت سبزواری کی طرف سے آئی ہے، فرماتے ہیں:
ایک نظریہ جسے میں غیر سنجیدہ سمجھتا ہوں، یہ ہے کہ اردو کھچڑی ہے: چڑیا لائی چاول کا دانہ، چڑا لایا دال کا دانہ، دونوں نے مل کر کھچڑی بنائی۔
حقیقت یہ ہے کہ زندہ زبانیں دوسری زبانوں سے الفاظ مستعارلیتی رہتی ہیں۔ انگریزی کی مثال سامنے کی ہے، اس نے دنیا بھر کی زبانوں، بہ شمول اردو، سے الفاظ اخذکیے ہیں۔ لیکن انگریزی کو کوئی بھی مخلوط زبان نہیں کہتا۔ ہندوستان میں آئیے تو کئی دوسری زبانوں نے فارسی کے الفاظ اپنائے ہیں۔ پنجابی زبان کی مثال لے لیجیے، اسے بھی عام طور پر کھچڑی نہیں کہا جاتا۔ لیکن جدید پنجابی اور مسلمانوں کے بولنے والی پنجابی تو خیر الگ رہی، سولہویں صدی کے اوائل میں اس زبان میں لکھی گئی سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ ’صاحب‘ تک میں فارسی و عربی کے ۱۳۴۳ منفرد الفاظ پائے جاتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
نانک دنیا کیسی ہوئی
سالک مت نہ رہیو کوئی
بھائی باندھی ہیت چکایا
دنیا کارن دین گنوایا
دل دروائی جو کرے، درویشی دل راس
عشق، محبت،نانکا، لیکھتاکرتے پاس
)جمیل جالبی، ۱۹۸۳ء(
یہ سوال اکثر پوچھا گیا ہے کہ انیسویں صدی سے قبل ہندو کون سی زبان بولتے تھے۔ اس کا جواب پہلے ہی سنیتی کمار چیٹرجی دے چکے ہیں۔ یعنی وہی زبان جسے آج اردو کہا جاتا ہے۔ نقطہ یہ ہے کہ مسلمان یہ زبان اپنے ساتھ ایران یا طوران سے تو لائے نہیں تھے۔ یہ زبان انہوں نے یہیں پر مقامیوں سے سیکھی۔ اس لیے اسے مسلم زبان کہنا بالکل غلط ہے۔
جہاں تک رسم الخط کی بات ہے تو ناگری رسم الخط کے علاوہ کیتھی بھی استعمال کیاجاتا تھا۔ تاہم سب سے زیادہ مستعمل لپی ترمیم شدہ فارسی ہی تھی۔ وجہ وہی کہ یہ سرکاری رسم الخط تھا اور ہندوستان بھر کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اس حد تک کہ جنوب میں مرہٹوں اور شمال مغرب میں سکھوں کی ریاستوں کی درباری زبان بھی فارسی ہی تھی۔ بیسیوں صدی میں پہلی بار عدالتوں میں اردو کے ساتھ ساتھ ناگری رسم الخط کو جگہ ملی۔ یہ الگ بات ہے کہ حکم نامے کے اصل الفاظ ’’ناگری اور فارسی رسم الخط‘‘ کو بعد میں حکومتِ ہند نے بدل کر ’’ہندی اور اردو زبانیں‘‘ کر ڈالا (الوک رائے، ۱۹۹۵ء)۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں میں ہزاروں ہندو اُردو میں لکھتے تھے۔ لیکن جوں جوں ہندی اور اردو کے درمیان خلیج وسیع تر ہونے لگی، اردو ادبا اور مورخین نے ہندو ادیبوں کو اردو کے دائرۂ استثناد سے خارج کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پراردو ادب کی انتہائی بااثر ’آبِ حیات‘ میں صرف ایک ہندو شاعردیا شنکر نسیم کاذکرہے اور بھی محض حاشیے پر۔ دوسری طرف ہندی میں بھی یہی کچھ ہورہا تھا، چناں چہ رام چندر شکلا کی کتاب ’ہندی ساہتیہ کا اتہاس‘ میں اٹھارہویں صدی کے اردوشعرا کا تذکرہ نہیں ہے، اس بات سے قطعِ نظر کہ وہ خود اپنی زبان کو ہندی کہتے تھے۔
فی الوقت تو صورتِ حال یہ ہے کہ اردو اور ہندی کے درمیان سیاسی اور مذہبی نزاع کی خلیج اتنی گہری ہوچکی ہے کہ اسے پاٹنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ منشی پریم چند کے پوتے الوک رائے ایک مضمون میں تحریر فرماتے ہیں:
’’قابلِ غور بات یہ ہے کہ دونوں فریق اس حقیقت سے آنکھ چرا رہے ہیں جس سے دونوں بہ خوبی واقف ہیں۔۔۔اور دونوں کو جاننے کی ضرورت ہے ۔۔۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے صدیوں کے عمل میں ایک خوب صورت اور مشترک زبان تخلیق کی تھی۔ بات یہ ہے کہ اگر مسئلے کی جڑ پر ایک زبان نہ ہوتی تو یہ معاملہ کبھی بھی اتنا طول نہ پکڑتا۔‘‘
تو یہ تھی اردو کی کہانی۔ یہ غالباً دنیا کی واحد زبان ہے جو اول تا آخر بدگمانیوں، استعماری سازشوں، ریشہ دوانیوں اور شکوک و شبہات کی زد میں رہی ہے۔ اس کا آغاز نزاعی، اس کا ارتقاغلط فہمیوں کی دھند میں لپٹا ہوامذہبی،علاقائی اور قومی تعصبات سے آلودہ اور اس کا رسم الخط متنازعہ ہے ۔ باقی باتیں تو الگ رہیں، اس کے نام ہی کے بارے میں یاروں نے طرح طرح کے افسانے اڑائے ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر پچھلے صفحات پرآچکا ہے۔
شان الحق حقی کہا کرتے تھے کہ اردو زبان کی ہمہ گیری، وسعت اور مٹھاس کا کیا کہنا، یہ وہ زبان ہے جس نے دنیا کی تین عظیم زبانوں کا دودھ پیا ہے، سنسکرت، عربی اور فارسی۔ غالباً اسی دودھ نے اردو میں وہ قوتِ مدافعت بھی پیدا کر دی ہے کہ مندرجہ بالا تمام اڑچنوں کے باوجود اس زبان کا ارتقا قابلِ رشک اور اس کا مستقبل تابناک ہے۔ دنیا میں کوئی اور زبان ایسی ہو تو بتایئے۔

بشکریہ
علی محمد فرشی
سمبل، شمارہ 2، اکتوبر تا دسمبر 2006

تبصرے

Hasan Mansoor نے کہا…
ہو سکتا ہے اردو ترکی کا نہیں بل کہ اصل میں سنسکرت زبان کا لفظ ہو!

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین