زمرد مغل سے دس سوالات

زمرد مغل حال ہی میں دہلی اردو اکیڈمی کے ممبر بنے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے بھی لوگ اس اکیڈمی کے ممبر بنتے رہے ہیں، مگر ان سے ظاہر ہے کہ میرا تعلق بھی خاص نہیں تھا اور توقعات بھی۔زمرد کے ساتھ یہ دونوں چیزیں وابستہ ہیں، اس لیے ان سے میں نے دہلی اردو اکیڈمی میں ان کی پوزیشن، ان کے ارادوں، اکیڈمی کے رویوں اور اس کے منصوبوں کے تعلق سے کچھ باتیں کرنی چاہی ہیں۔ مجھے علم ہے کہ کسی بھی معاملے میں سرکاری اداروں سے توقع کرنا یا ان کا محاسبہ کرنے کی کوشش کرنا وقت کا زیاں ہے، مگر زمرد مغل چونکہ اس عہدے پر فائز کیے گئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی جانب سے جہاں تک ممکن ہوسکے گااس پلیٹ فارم کے ذریعے بھی کچھ اچھے کام کروانے پر زور دیں گے۔ اس لیے ان سے دس سوال پر مشتمل یہ چھوٹا سا انٹرویو کیا گیا۔اب ان سوالات و جوابات سے آپ کتنا اتفاق و اختلاف رکھتے ہیں، پلیز ہمیں بتائیے، مجھے بھی، زمرد کو بھی ، بات کیجیے،سچی بات، دل کی بات، کیونکہ یہ بات ہی اصلی ''بات ''ہے، باقی سب کچھ نقلی ہے۔

تصنیف حیدر:آپ اردو اکیڈمی، دہلی کے ممبر بنائے گئے ہیں، آپ کے علاوہ جو لوگ بطورممبر نامزد کیے گئے ہیں، آپ ان میں سے کتنے لوگوں سے مطمئین ہیں؟کیوں؟

زمرد مغل: بات مطمئین ہونے یا نہ ہونے کی نہیں ہے۔ ہم سب لوگوں کو موقع دیا گیا ہے۔ہمیں اپنے آپ کو ثابت کرنا ہوگا۔ہمیں سال بھر انتظار کرنا ہوگا۔ہم سب کو ایک سال کی کارکردگی ہی بتائے گی کہ ہمیں کس سے کتنا مطمئین ہونا چاہیے۔آپ دعا کریں کہ سب کچھ اچھا ہو جس کی امید بہت کم ہے کہ اردو کے اداروں میں اب کوئی علمی کام نہیں ہوتا،جہاں تک نئے ممبران کی بات ہے تو ایک دو کو چھوڑ کر میں کسی کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں اور شاید ان لوگوں نے بھی میرا نام پہلی دفعہ سنا ہوگا۔مگر جن لوگوں کا نام آُ نے اور ہم نے بہت سن رکھا تھا ایسے لوگ بھی اکیڈمی میں کوئی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے۔

تصنیف حیدر:آپ نے اپنے ایک حالیہ اسٹیٹس میں کہا تھا کہ آپ کناٹ پلیس پر اکادمی کے اردو لرننگ سینٹر کھلوانے پر زور دے رہے ہیں، اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

زمرد مغل: اردو لرننگ کورس اگر نمایاں مقامات پر کھلوائے جائیں گے تو اس سےایک فائدہ یہ ہوگا کہ اردو ان طبقات تک پہنچے گی جن کی پشت پناہی سے اردو آج کے بازار کا مقابلہ کرسکے اور پھر ہماری کارکردگی پر بھی سب کی نظر رہے گی۔ایک اور بات اور وہ یہ کہ آج کا بازار ہی تہذیبوں کا مستقبل طے کرتا ہے، اردو بھی اپنی تہذیب کے ساتھ بڑی منڈیوں میں اپنے اخلاقی اقدار کا لوہا منوا سکتی ہے۔

تصنیف حیدر:بلراج مینرا، نند کشور وکرم، زبیر رضوی، رتن سنگھ اور جوگندرپال جیسے ادیبوں کے لیے آپ کی نظر میں دہلی اردواکیڈمی کوکیا اقدامات کرنے چاہیے؟

زمرد مغل: جتنے بھی اردو کے قابل ذکر نام ہیں خاص طور پر بلراج مینرا، ایسی ادبی شخصیات کے لیے اردو اکیڈمی کو بڑے بڑے ریسرچ مراکز قائم کرنے چاہیے اور ان کی تخلیقات کی معنویت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔ مگر کیا کریں بھائی کہ اردو مافیا بہت طاقتور ہوگیا ہے، خیر طاقتور تو پہلے بھی تھا مگر پہلے چھپ کر کرتے تھے اب سب کچھ سب کے سامنے ہورہا ہے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں کیونکہ اردو کی دلالی میں سب شامل ہیں۔

تصنیف حیدر:انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ پر دہلی اردو اکیڈمی کے اتنے زیادہ بجٹ ہونے کے باوجود دوسرے ذاتی ادارے کام کررہے ہیں، اس سلسلے میں آپ کے خیال میں کیا اردو اکیڈمی کو توجہ نہیں دینی چاہیے؟ کیا صرف کتابوں کی اشاعت، شاعروں کے چند وظائف اور مشاعروں سے زبان کی ترقی ممکن ہے؟

زمرد مغل: آپ کا کہنا صحیح ہے۔مثال کے طور پر ریختہ نے سیکڑوں ممالک تک اردو کو پہنچایا ہے، ریختہ نے اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اس کے باوجود اردو اکیڈمی کی اہمیت اپنی جگہ باقی رہتی ہے اردو میں سنجیدہ ادب کو انٹرنیٹ پر مہیا کروانے میں آپ بھی دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ بھائی یہ تو دیوانوں کے کام ہیں اردو کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس زبان میں پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے اور لکھنے والے زیادہ ہیں۔

تصنیف حیدر:خراب شاعروں اور غیر سنجیدہ لوگوں کو مالی منفعت دینے،بے ہودہ مشاعروں اور سیمناروں کے ذریعے اردو کا ماحول خراب کرنے میں ایسے سرکاری اداروں کا بڑا ہاتھ ہے۔کیا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟کیوں؟

زمرد مغل: خراب شاعروں اور غیر سنجیدہ لوگوں کو مالی منفعت دینے سے اور ساتھ ہی مشاعروں سے اردو کا کافی نقصان ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم بغض معاویہ میں آنکھیں بند کرکے کسی بھی ایرے غیرے پہ بھروسہ کرلیں گے۔نئے لوگوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ جو موقع انہیں دیا گیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں۔اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم نے بغض معاویہ میں زمام اقتدار پہلے سے بھی زیادہ خراب لوگوں کے ہاتھ نہیں دی ہے۔بہرحال وہ سب لوگ خراب ضرور تھے لیکن ان سے بھی زیادہ خراب لوگوں کی اس دنیا یں کمی تو ہے نہیں۔

تصنیف حیدر:کیا کسی موقع پر آپ اپنے سنجیدہ موقف پر اصرار کرتے ہوئے استعفیٰ کے بارے میں بھی غور کرسکتے ہیں؟

زمرد مغل: بالکل اگر اس کی ضرورت پڑی تو استعفٰی بھی دے سکتا ہوں۔ اردو کی باعزت ترویج و اشاعت کے لیے اردو کے فروغ کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھا ہوں۔

تصنیف حیدر:آپ کے نزدیک دہلی اردو اکیڈمی کو سب سے پہلے کون سے معاملات کو ترجیح دینی چاہیے، جس سے کچھ سنجیدہ قسم کی تبدیلیوں کی دستک محسوس کی جاسکے؟

زمرد مغل: آپ کا یہ سوال اردو اکیڈمی کےتمام ذمہ داروں سے تعلق رکھتا ہے۔اردو اکیڈمی کے تمام ارکان مل بیٹھ کے ہی طے کریں گے، کسی فرد واحد کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ترجیحات پر بنا مل بیٹھے گفتگو کرے۔

تصنیف حیدر:آپ پروفیسرز کے بھی خلاف ہیں، اور مشاعرہ بازوں کے بھی، تو ایسے میں آپ کے نزدیک کس قسم کے لوگوں کو ادارے سے وابستہ ہونا چاہیے؟کیوں؟

زمرد مغل: نہ تو میں تمام پروفیسروں کے خلاف ہوں اور نا ہی ہر مشاعرے کو برا سمجھتا ہوں۔ایسے بھی پروفیسر ہیں جن کے دم سے اردو زندہ ہے۔ہمیں تھوڑا ہوم ورک کرکے ہی طے کرنا چاہیے کہ کون پروفیسر کس لائق ہے کہ اس کو موقع دیا جائے اور کون اس لائق نہیں ہے۔لیکن اس وقت ہماری یونیورسٹی کی جو صورت حال ہے اس خوف آتا ہے جو لوگ اس وقت یونیورسٹیز میں ہیں مجھے تو یہ ذہنی طور پر معذور لگتے ہیں مجھے شکایت اپنے بزرگوں سے ہے جنہوں نے ایسے جہلا کو یونیورسٹی میں نوکری دے کر زبان و ادب کا بیڑہ غرق کیا ہے، آپ جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کے پروفیسروں کا زبان و ادب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ابھی علی گڑھ، جامعہ اور دہلی یونیورسٹی میں جس طرح کی تقرریاں ہوئی ہیں ان میں کس طرح انہی جہلا نے اپنے اپنے اندھوں میں ریوڑیاں بانٹی ہیں، آنے والی نسلیں انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی کہ وقت نے اپنا کام تو کرنا ہے۔

تصنیف حیدر:بہت سے لوگ ماجد دیوبندی کی سربراہی قبول کرنے پر راضی نہیں، آپ کا ان سے کیا کہنا ہے؟

زمرد مغل: ماجد کو موقع ملا ہے۔ ایسے لوگوں کو ماجد دیوبندی کی کارکردگی ہی جواب دے پائے گی۔اگر وہ اردو کے لیے کچھ کرپاتے ہیں تو یہ اس بات کو ثابت کرے گا کہ لوگ صحیح نہیں تھے اور اگر وہ اپنے آپ کو ثابت نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ لوگوں کا اندازہ صحیح تھا۔

تصنیف حیدر:کیا زمرد مغل کو لگتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں دہلی اردو اکیڈمی ایسے کچھ کام کرسکے گی، جو انقلابی نوعیت کے ہو ں یا پھراس سسٹم کے آگے ایک روز آپ کا جنون ایک قسم کا ایکسائٹ منٹ ثابت ہوسکتا ہے؟

زمرد مغل: اس کا جواب بھی وقت ہی دے پائے گا۔ میں فی الحال اتنا جانتا ہوں کہ اگر اکیڈمی نے اردو کے تئیں سنجیدہ موقف برقرار رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا تو زمرد مغل اس ٹیم کا حصہ بنا رہے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو زمرد مغل اپنی راہ لے گا۔لیکن ایسے موقع بار بار نہیں ملتے، اس وقت اروند کیجریوال(دہلی کے چیف منسٹر)نے ہمیں موقع دیا ہے باقی کام ہمیں خود کرنے ہونگے۔اب ظاہر ہے کہ اروند کیجریوال آکر ہمیں بال جبریل تو پڑھوائیں گے نہیں۔اگر اس موقع کا ہم فائدہ نہیں اٹھا پائے تو یہ بڑی ہی بد نصیبی کی بات ہوگی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین