ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

میر واہ کی راتیں/ رفاقت حیات

آج کیّّّّّّّّّّّّّ رات اس کی بے کار زندگی کی گزشتہ تمام راتوں سے بے حد مختلف تھی، شاید اسی لیے اس کی نینداس کی آنکھوں سے پھسل کررات کے گھپ اندھیرے میں کہیں گم ہو گئی تھی مگر وہ اسے تلاش کرنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ آج رات اس کے لیے پلک جھپکنادشوار تھا اور آنکھیں موندکر سونابالکل ناممکن۔وہ محرابوں والے برآمدے میں چھت کی سیڑھیوں کے قریب چارپائی پر رضائی اوڑھے لیٹا ہوا رات گزارنے کی تدبیر ڈھونڈ رہا تھا۔وہ اٹھ بیٹھااور اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے تکیے کے نیچے سے ایک بوسیدہ اور مڑے تڑے صفحات والا رسالہ نکالا اور کئی مرتبہ کی پڑھی ہوئی کہانیوں پر نظرڈالنے لگا۔ اسے ـ ’مومل رانا‘ کی کہانی بے حد پسند تھی مگر آج اپنی پسندیدہ کہانی پڑھتے ہوے نجانے کیوں اس کے سر میں درد ہونے لگا۔باریک لفظوں کی سطریں جو کاغذ کی سطح پر قطار باندھے کھڑی تھیں، دھیرے دھیرے بکھرنے لگیں۔ باریک لفظ موقلم بن کر کاغذکی سطح پرایک خاکہ بنانے لگے۔ خاکہ مبہم اور غیر واضح تھا،مگر غور کرنے پرکسی عورت کی پشت معلوم ہوتا تھا۔عورت کا خیال آتے ہی وہ خاکے پر اور زیادہ غور کرنے لگا، مگریہ کیا؟ اچانک تمام لفظ کاغذ کی سطح سے یکسر غائب ہو گئے، اور ان کے ساتھ ہی لفظوں سے بنا وہ مبہم سا خاکہ بھی غائب ہو گیا۔وہ حیرت سے رسالے کے اوراق پلٹنے لگا۔رسالے کے تمام اوراق لفظوں سے یکسر خالی ہو چکے تھے۔کسی بھی صفحے پر نہ تو کہانی کا عنوان لکھا نظر آرہا تھا اور نہ ہی کہانی کی عبارت۔سارے کے سارے کاغذ کورے اور سادہ نظر آرہے تھے۔اسے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت مومل کے کاک محل میں موجود ہے۔اس نے بلا تردد رسالے کو اس کی جگہ واپس رکھ دیااور تکیے پر اپنا سر رکھ کر وہ سیدھا لیٹ گیااور رضائی کو اپنے آدھے جسم پر اوڑھ لیا۔اس نے کئی مرتبہ آنکھیں زور سے میچ کر نیند کے خمار کو اپنے ذہن پر طاری کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کے ذہن نے اس دھوکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یکے بعد دیگرے کروٹیں لینے کے بعد وہ ایک بار پھر سیدھا لیٹ گیا۔
اس کی آنکھیں خود بہ خود محرابوں والے برآمدے کی اونچی چھت پر بھٹکنے لگیں۔ بےضرورت اور بےسبب وہ چھت کی کڑیاں گننے لگا۔اس نے پہلے دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں چھت کی کڑیوں کو شمار کیا مگر دونوں مرتبہ ان کی تعداد اکیس ہی نکلی۔اکیس بظاہر تو گنتی کا سیدھا سادہ عدد ہے مگر اس کا خود سری پر آمادہ ذہن اس عدد سے کوئی خاص مطلب برآمد کرنا چاہتا تھا۔اس لیے اس نے اکیس کے دو اور ایک کو آپس میں جمع کردیااور اس کے حاصل جمع تین پر خوامخواہ غور کرنے لگا۔یہ سادہ سا عدد اس کے ذہن کواقلیدس کے مسئلے کی طرح پیچیدہ معلوم ہورہا تھا۔دو کا عدد اس پیچیدگی کا حامل نہیں تھا جو پیچیدگی تین کے عدد میں پنہاں محسوس ہو رہی تھی۔تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ مومل نے محض اس کے حاسدانہ جذبے کو انگیخت کرنے اور اس سے تفریح لینے کے لیے اپنی چھوٹی بہن سومل کو رانا کا روپ دیا ہوا تھا۔
مگر نذیر رانا مہندرا سنگھ سوڈو نہیں تھا۔وہ محرابوں والے برآمدے سے ملحقہ کمرے سے سنائی دینے والی عورت اور مرد کی دھیمی دھیمی سرگوشیاں سنتا رہا۔ان کی سرگوشیوں کے مختلف اتار چڑھائو محسوس کر تے ہوے، جن میں بعض اوقات دبی دبی ہنسی اورگھٹا گھٹا سا قہقہہ بھی شامل ہوتا تھا، وہ بھی حاسدانہ مخاصمت محسوس کر رہا تھا۔اس نے ان کی سرگوشیوں میں چھپی باتوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔وہ جتنی زیادہ کوشش کرتا اتناہی زیادہ رقابت کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔حسد اور رقابت کے جذبات نے اس کے رگ و پے میں عجیب سنسنی اور گرمی سی پیدا کر دی۔وہ رضائی اتارنے پر مجبور ہو گیا۔کچھ دیر بعد کمرے سے سرگوشیاں سنائی دینی بند ہو گئیں، شاید وہ دونوں اب سو گئے تھے۔
وہ کھاٹ سے اُتر کر صحن کے ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں چلنے لگا۔اس کے رگ و پے میں دوڑنے والی گرمی دھیرے دھیرے ختم ہو گئی مگر ایک عجیب سی سنسنی اب بھی باقی تھی۔ اس کی زندگی میں ایسی مضطرب اور اذیت بھری رات نہیں آئی تھی۔ا سے توقع تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور لذیذ واقعہ صرف ایک رات کی مسافت پر تھا مگر یہ رات کسی طور کٹنے کا نام نہیں لیتی تھی۔اس نے ٹھنڈا سانس لیتے ہوے آسمان پر چمکتے ہوے ستاروں کی ماند پڑتی روشنی کو دیکھا۔آج آسمان پر چاند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔اس کا دل چاہا کہ وہ آئندہ شب پیش آنیوالی مہم جوئی کے متعلق آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔اسے فوراً خیال آیاکہ آئندہ شب وہ کوئی کار خیر انجام دینے تھوڑا ہی جارہا ہے کہ وہ آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ایسی درخواست کرنے کی صورت میں آئندہ شب اسے کسی افتاد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔اس نے فوراً یہ خیال ترک کر دیا۔
صحن میں ٹہلتے ہوے اسے دھیمی سی شونکار سنائی دی۔اسے فوراً یادآیاکہ رات کی خنکی میں سانپ اور بچھوباہر نکل آتے ہیں۔وہ فوراً کھاٹ پر جا لیٹااور ایک بار پھر نیند کی پری کو گرفت میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش کے دوران اسے نیند آگئی، نیند کی پری اس پر مہربان ہوگئی۔
وہ رضائی میں سمٹاہوا سو رہا تھاکہ ایک نسوانی آواز نے اسے پکارا۔اس کا جواب نہ پا کر وہ اس کے قریب آئی۔ اس کے چہرے سے رضائی ہٹا کرچند ثانیے اس کے سوئے ہوے چہرے کو دیکھتی رہی،پھراپنے ٹھنڈے ٹھنڈے نرم ہاتھ سے اس نے اس کی پیشانی کو چھوا تو وہ فوراً جاگ گیا۔وہ پلکیں جھپکائے بغیرحیرت سے چاچی خیر النسا کو تکنے لگا۔
’’نذیرے اب اُٹھ جا۔‘‘یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔
وہ بستر سے اُٹھا نہیں اور اس نے اپنے ہونٹوں سے کچھ کہا بھی نہیں۔وہ حیران تھا کہ آج صبح چاچی خیر النسا اسے حسین اور پرکشش کیوں محسوس ہو رہی تھی۔شاید اپنے لمس کی وجہ سے وہ اس کے لیے یک دم حسین ہوگئی تھی۔وہ عجیب ندامت میں لپٹی ہوئی اس کی کھاٹ کے پاس کھڑی تھی۔اس کا لباس شکن آلود تھا اور بال بکھرے ہوے تھے۔ اس کے چہرے پر نیند کی سوگواری تھی۔ یکا یک اس نے اپنے سینے سے چادر ہٹائی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پھیلا کراسے دوبارہ اپنے جسم پر تانا اورغسل خانے کی طرف چلی گئی۔
نذیر اس کے جانے کے بعد اس کی خوشبو کو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہوگیا تھا۔کچھ دیر بعد اسے غسل خانے کے فرش پر پانی گرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ کھاٹ پر لیٹے لیٹے پانی گرنے کی آواز سنتے ہوے کسمساتا رہا۔اس کا جی چاہا کہ وہ اسی لمحے بھاگ کر غسل خانے میں جا گھسے اورٹاٹ کا پردہ ہٹا کر چاچی کو بے لباس دیکھ لے — وہ جسے لباس میں کئی مرتبہ عریاں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے تصور میں ہینڈپمپ کے پانی کی دھار کے نیچے سمٹے نسوانی جسم کو دیکھا اور ٹھنڈا سانس بھر کے رہ گیا۔اس نے اپنے جسم سے رضائی ہٹادی اورصحن کے ساتھ واقع خالی احاطے کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں صبح کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
جب وہ ٹھٹھرتی ہوئی غسل خانے سے باہر آئی تو نذیر اسے ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکا۔ اس نے اس کے بدن سے اٹھتی صابن کی مہک اور اس کے جسم کے گیلے پن کو محسوس کیا۔ وہ اپنے سامنے کھڑی بھرپوراور پرکشش عورت کو، اس کی نظروں کے سامنے،غور سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔یہ اس کی فطری کم ہمتی تھی یا بزدلی۔ وہ ایسے موقعے کی تلاش میں تھا جب وہ اس کی جانب سے توجہ ہٹا کر کسی اور طرف دیکھنے لگے، مگر وہ اسی کی طرف دیکھتی ہوئی تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔
’’اندر نلکے کا پانی کوسا کوسااے۔اُٹھ۔تُوبھی نہالے۔‘‘وہ نذیر کو مکمل طور پر مایوس کرتی کمرے میں چلی گئی۔
نذیر نے جماہی لی اور چپلیں پہن کر غسل خانے کی طرف چلا گیا۔ اندر آکر وہ گیلے فرش اور بھیگی ہوئی دیواروں کو دیکھنے لگا۔معاً اس کی نظرکیل میں اٹکے ہوے بلاؤز کی طرف اٹھی تو اس کی رگوں میں سنسنی پھیل گئی۔اس نے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا،کوئی اس طرف تو نہیں آرہا۔ اطمینان کر لینےکے بعداس نے کیل سے بلاؤزاُتار لیا اور اسے آنکھوں کے قریب لا کر دیکھنے لگا۔وہ گلابی ریشمی کپڑے سے بنا ہوااورہاتھ سے سِلاہوا بلاؤزتھا۔وہ انگلیوں سے اسے ٹٹولنے لگا۔ بلائوز کو دیکھنا اور چھونا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اس کے کناروں پر ہلکی سی گرد جمی ہوئی تھی اور کہیں کہیں اکا دکا بال بھی اٹکے ہوے تھے، دھیرے دھیرے وہ بلائوز کو اپنی ناک کے قریب لے گیا اور اسے سونگھنے لگا۔اسے سونگھتے ہوے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پر طاری ہونے لگی۔اس نے بلاؤز کو ناک کے قریب سے ہٹایااور دوبارہ وہیں کیل پر لٹکا دیا۔
اس نے کچھ دیر ہینڈ پمپ چلا یا۔ جب اس میں سے کوسا پانی نکلنے لگا تو اس نے اپنی قمیض اُتارکر اسی کیل پر لٹکا دی۔اب وہ اپنے سینے اور اپنے بازوؤں کا معائنہ کرنے لگا۔ اسے ان کی سپیدی اور نرمی اچھی لگی۔اپنی چھاتی پر ابھرے نوخیزبالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوے اس کا ذہن ایک بار پھرچاچی خیر النسا کے لذیذ تصورمیں گم ہو گیا۔ اسے اپنی کم مایگی اور نا تجربہ کاری کا احساس ہونے لگا۔
جب وہ اپنی شلوار اتارنے لگاوہاں اسے ایک گدلاسا دھبا دکھائی دیا۔ دھبا دیکھتے ہی وہ اسے مسلتے ہوے اپنے دانت کچکچانے لگا۔
’’آج یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،‘‘وہ جھلاہٹ میں بڑبڑایا۔
وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبا کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکا یک مر جھاگئی ہیں۔آج کی رات، وہ شدید بے تابی سے جس کا انتظار کرتا رہا تھا،اب زیادہ دور نہیں تھی۔اس نے سوچا کہ ذرا دیر کے لیے اس کی آنکھ کیا لگی، نیند کی پری اس کی جان ہی نکال کر لے گئی۔شاید اس نے کوئی خواب دیکھا تھا اور خواب میں کوئی عورت — مگر وہ عورت کون تھی؟ کیسی تھی؟ وہ اپنے ذہن کوٹٹولتا رہا مگر اسے مطلق یاد نہیں آسکا۔ خواب میں آنے والی عورت نہ تو چاچی خیر النسا تھی اور نہ ہی رانا مہندر سنگھ سوڈو کی چہیتی مومل۔سوچتے سوچتے وہ زچ ہو گیا۔اِس نے افسردگی سے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھاتو وہ اسے سوکھی سڑی معلوم ہوئیں۔
بہ مشکل وہ اپنے ذہن سے تمام خیالات جھٹک کر ہینڈپمپ چلا کر غسل کرنے لگا۔ غسل کے بعد وہ اپنی شلوار پر چپکے ہوے مادۂ انزال کوصابن سے رگڑرگڑ کر دھونے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے دھبے کو شلوار سے مٹا ڈالا کیونکہ اسے نماز بھی توپڑھنی تھی۔نذیر نادانستہ سرزد ہونے والے عمل پر نادم تھااس لیے وہ غسل خانے سے نکل کر بھی خود کو ملامت کرتا رہا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ نئے دن کا آغاز کسی بدشگونی سے ہو، مگر اس کی خواہش کے بر خلاف بد شگونی رونما ہو چکی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج رات اس کے ساتھ کیاپیش آنے والا تھا۔اس کی توقع کی تکمیل ہونی تھی یا اسے ملیا میٹ ہونا تھا۔
جب تک اس کی شلوار سوکھ نہیں گئی وہ بار بار اپنی شلوار کو دیکھتا رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعداس نے تکیے کے نیچے پڑا ہوا رومال اُٹھایا اور اسے اپنے سرپر باندھ لیا۔
اسے چاچی صحن اور برآمدے میں نظر نہیں آئی تو وہ دروازے سے کمرے کے نیم تاریک ماحول میں جھانکنے لگا۔وہاںچاچی اسے نماز پڑھتی نظر آئی، جبکہ غفور چاچا ابھی تک گہری نیند سویا ہوا تھا۔وہ مڑ کر پچھلے دروازے کی طرف چلا گیا جو پیچھے والی گلی کی طرف نکلتا تھا۔
گلی میں صبح کی دھندلی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مکانوں کے دروازوں اور کھمبوں پر جلتے بجلی کے بلب صبح کی پھیلتی روشنی کے سبب اپنی چمک کھوتے جا رہے تھے۔وہ گلی کے پختہ اینٹوں سے بنے فرش پر چلتا رہا۔ اچٹتی ہوئی نیند کے دوران دکھائی دینے والا خواب تو اسے بھول چکا تھا، مگر اس خواب کے دوران ملنے والی لذت کی ہلکی سی رمق اس کے ذہن کے کسی خفیہ گوشے میں اب بھی موجود تھی۔وہ اس کے بارے میں سوچتا سوچتا رک گیا۔ایک بار پھر وہ اپنی شلوار کو ٹٹول کر دوبارہ چل پڑا۔
اب روشنی خاصی پھیل چکی تھی۔ ابھی وہ مسجد سے کافی فاصلے پر تھا کہ اسے نمازی مسجد سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آگیاتا کہ چاچی کے پوچھنے پر اُسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔
وہ گھر میں داخل ہوا تواسے باورچی خانے سے آنکھوں میں چبھنے والاگاڑھا دھواں سارے گھر میں پھیلا ہوا دکھائی دیا۔وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں چلا گیا۔ یہاں صرف دھواں ہی دھواں بھرا نظر آتا تھا۔نذیر کی آنکھوںسے فوراً پانی بہنے لگا۔ بہت غور کرنے کے بعداسے بہ مشکل چولھے کی آگ نظر آسکی۔ وہ اپنے پیروں سے زمین ٹٹول کر چلتا ہوا چولھے کے پاس پہنچا تو اسے چاچی کی ناک اور آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دکھائی دیا۔وہ سمجھ گیاکہ ٹال والے نے ایک مرتبہ پھر گیلی لکڑیاں بھیج دیں۔اس نے دھونکنی اٹھائی اور اس کی مدد سے کچھ دیر تک پھونکیں مارتا رہا۔ اس عمل سے چولھے میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھونکنی ایک طرف رکھ کر وہ گیلی لکڑیوں کو چولھے سے نکالنے لگا۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ باورچی خانے میں بھرا ہوا دھواں باہر نکلنے لگا اور دھویں کی چبھن بھی دھیرے دھیرے ختم ہونے لگی۔اس نے چاچی خیر النسا کی طرف دیکھا۔وہ اپنے دوپٹے سے اپنی ناک اور آنکھیں پونچھ رہی تھی اور اس کا سفید چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ چولھے میں جلتی آگ اس کے چہرے کی تابانی میں اضافہ کر رہی تھی۔وہ کھنکار کر گلا صاف کرتی ہوئی کہنے لگی،’’تیرے چاچے کی طبیعت آج خراب ہے۔‘‘
اس نے تجسس سے پوچھا،’’کیا ہوا؟‘‘
’’ میرا خیال ہے اسے سردی لگ گئی ہے،ــ‘‘وہ اپنے ڈوپٹے کی مدد سے چائے کی دیگچی اُتارتے ہوے بولی۔
’’چاچے کو سردی کیسے لگ گئی ؟ وہ تو کل کہیں باہر گیا ہی نہیں تھا۔‘‘وہ اپنے سوالوں میں چھپی حیرت کو چاچی سے پنہاں نہ رکھ سکا۔ اس کی حیرانی کو بھانپ کر چاچی نے جواب دینے کے بجاے اپنا سرجھکالیا۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ اس کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔اس کے بعد اس نے اپنی چادر کو سینے پر پھیلا لیا۔ کچھ دیر بعد کھانستا ہوا چاچا غفور سر سے پائوں تک کھیس میں لپٹا ہوا باورچی خانے کی کوٹھڑی میں داخل ہوا۔
اسے دیکھ کرنذیر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی چوکی اسے دے دی اور خود زمین پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گیا۔
’’جیتے رہو،‘‘چاچا نقاہت سے بولا۔ اس نے اپنے سر سے کھیس اُتار لیا۔ شیو نہ کرنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر سفید داڑھی نکل آئی تھی۔گالوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اورآنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ وہ ہانپ رہا تھا، جیسے اپنے سانسوں پر اسے کوئی اختیارنہیں تھا۔چاچی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ کمرے سے کیوں نکل آئے؟میں چائے وہیں لے آتی۔‘‘اس نے منھ بسورتے ہوے شکایت کی۔
’’میں نے سوچاآگ کے پاس بیٹھوں گا تو سردی کم لگے گی اس لیے یہاں آ گیا۔‘‘ وہ لفظوں پر زور دیتے ہوے بہ دقت بولا اوردھیرے سے مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھنے لگا۔
چاچی نے اس کی مسکراہٹ نظرانداز کرتے ہوے نظریں جھکا لیں اوردیگچی اُلٹا کر تام چینی کے پیالوں میں چائے انڈیلنے لگی۔
’’پترنذیر!آج میں دکان نہیں جاؤں گا۔ مجھے سردی لگ رہی ہے اوربدن میں کپکپاہٹ سی بھی ہے۔تُو سویرے ہی دکان پر چلا جا اوردکان کھول لے۔حاجی اللہ بخش کو بھریاروڈ جانا ہے۔میں اس کے جوڑے کل ہی سِی کر آیا تھا۔تو اس سے پیسے لے لینا۔ اور ہاں، کل ماسٹر طفیل کے بیٹے کی شادی ہے۔وہ بھی شام کو اپنے کپڑے لینے آئے گا۔کوئی اگر میراپوچھے تو کہنا کہ بخار چڑھا ہے۔کل ضرور آؤں گا۔‘‘باتیں کرتے ہوے چاچے کی سانس پھول گئی اور وہ مزید بول نہیں سکا۔
نذیر چائے کی چسکیاں لیتے ہوے بے دھیانی سے سنتا ہوں ہاں کرتارہا۔
چاچی خیر النسا پریشان لگ رہی تھی۔اس کی آنکھیں چولھے میں راکھ ہوتے اور بجھتے ہوے انگاروں پر جمی تھیں۔
کچھ دیر بعد چاچا غفور نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا،’’ سلائی مشین پر تیرا ہاتھ صاف ہوگیا ہے۔اب میری دکان تیرے حوالے۔‘‘نذیر نے اثبات میں سر ہلایا۔یہ بات سن کر چاچی زیر لب مسکرائی۔ اس نے تیکھی نظروں سے بھتیجے کو دیکھا اور اپنے نچلے ہونٹ کو کاٹنے لگی۔
چاچے غفور کی بات سن کر وہ نجانے کیوںندامت محسوس کررہا تھا۔اپنے کندھے پر اس کا کمزور و ناتواں ہاتھ اسے بھاری بھر کم محسوس ہو رہا تھا۔وہ دل ہی دل میں خود کو چاچے کے اس اعتماد کا مستحق نہیں سمجھتا تھا۔اپنے نا کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے و ہ چاچی کی طرف دیکھنا چاہتا تھامگر نہیں دیکھ سکا۔
تھوڑی دیر بعد وہ باورچی خانے سے باہر نکلا۔معمول کے مطابق اس نے کمرے سے چارپائی نکال کر صحن کی دھوپ میں بچھائی۔،پھرچاچے کو سہارا دے کرباورچی خانے سے نکالا اور صحن میں چار پائی پرلٹا دیا۔آنکھیں مچمچاتا، لمبے سانس بھرتا چاچا غفور اس لمحے اسے بچے کی طرح معصوم دکھائی دیا۔
نہ جانے کیوں نذیر نے ارادہ باندھا کہ وہ کبھی چاچی کو ایک نظر نہیں دیکھے گا۔
وہ چاچے کے پائنتی بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں دبانے لگا۔
نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہورہا تھا۔اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔ اس بھاری اور گونج دار آواز ہی اس کے لیے چاچے کے مکمل وجود کا درجہ رکھتی تھی،جو سننے والے کو محکوم بنا دیتی تھی۔اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاٹ دار آواز رکھنے والا شخص در حقیقت اس قدر کمزور بھی ہوسکتا تھا۔
چاچی خیر النسا نذیرکے ناشتے کے لیے دیسی گھی سے بنے پراٹھے پر ساگ اور مکھن رکھ کر لے آئی۔رکابی لیتے ہوے اس نے چاچی کی انگلیوں کے لمس کو اپنی ہتھیلی پرمحسوس کیا۔اس نے جھجکتے ہوے چاچی کے چہرے کی طرف دیکھا تو کچھ پریشان ہوگیا۔وہ اپنی آنکھوں میں پوشیدہ جذبے کی چمک لیے اب بھی زیر لب مسکرا رہی تھی۔اس نے جلدی سے رکابی تھام لی اور فوراً اٹھ کرد وسری چاپائی پر جا بیٹھا۔ وہ چارپائی کی ادوائن کے سوراخوں سے سرخ اینٹوں کے فرش کو دیکھتے ہوے نوالے چباتا رہا۔اس دوران وہ اپنے آپ کو جبراً چاچی کی طرف دیکھنے سے روکتا رہا۔وہ اپنے شوہر سے دوچار باتیں کر کے اس کی چارپائی پرآبیٹھی۔نذیر نے اس کی آنکھوں کو خود پر گھومتے ہوے محسوس کیاتو نوالے چباتے ہوے اس کی زبان دانتوں کے نیچے آنے لگی۔ لذیذساگ اور پراٹھے کا مزہ خراب ہوگیا۔
اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی، بس اپنی آنکھوں کے کونوں سے شریر انداز میں اسے دیکھتی رہی اور اسے دیکھتے ہوے اپنی چادر کے کونے کو شہادت کی انگلی پر لپٹتی رہی۔ وہ بار بار اپنے دانتوں سے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا تی رہی۔ ایسے میں سانسوں کے زیروبم سے اس کی چھاتیاں دھیرے دھیرے لرز سی رہی تھیں۔
چاچا غفور اپنی چارپائی پر بیماری کے زیر اثر غافل لیٹا ہوا تھا۔وہ لاچاری سے ٹھنڈا سانس بھرتی ہوئی اٹھی اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔اس کے جاتے ہی نذیر نے پلٹ کر اسے دیکھا۔وہ خود کو اس کی پشت دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ چلتی ہوئی عورتوںکی پیٹھ دیکھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ایسے میں وہ کہیں گم ہوجاتا۔ عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوے کسی صحر ا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔ اس لمحے بھی اس کے دل میں ایسی ہی خواہش نے سر اٹھایا۔ خوابیدہ جذبے بیدار ہوے مگروہ آہ بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکا۔اس نے جلدی سے پراٹھے کا آخری نوالہ توڑ کر اپنے منھ میں ٹھونسا۔
اچانک چاچے غفور کے سینے سے خرخراتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیں، جو اگلے لمحے کھانسی میں بدل گئیں۔ اس نے بہ دقت کروٹ لی اور زمین پر بلغم تھوکنے لگا۔
نذیر رکابی اٹھائے چاچے کے پاس آیا اور اس کا حال دریافت کیا۔ چاچے نے اس کی طرف دیکھے بغیرہاتھ کا اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ میں ٹھیک ہوں، تم جائو۔ وہ باورچی خانے میں رکابی رکھنے گیاتو وہاں اس نے چاچی کو گھٹنوں میں اپنا سردبائے ہوے دیکھا۔وہ اس کی آہٹ سن کر چونکی او ر اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی خوامخواہ مسکرانے لگی۔اس کی زرد آنکھیں اوراداس چہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل مسوس کر رہ گیا۔
اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر وہ گویا ہوا۔’’چاچی، پریشان مت ہو،چاچا شام تک بھلا چنگا ہوجائے گا۔‘‘ اس کی یہ بات سن کراس نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوے اپنا سر ہلا دیا۔
وہ باورچی خانے میں کچھ دیر ٹھہرنے کے بجاے فوراً وہاں سے باہر چلا گیا۔ چاچے کو خدا حافظ کہہ کر وہ گھر سے نکلا اور دکان کی راہ لی۔
گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے کہانیوں والا رسالہ بھی ساتھ لے لیا تھا۔اس کی طبیعت دکان میں کوئی کام کرنے پر مائل نہیں تھی۔اس نے سوچا کہ یعقوب کاریگراکیلا ہی شادی والے کپڑوںکی سلائی کردے گا اور اس کی تساہل پسندی کے بارے میں چاچے سے شکایت بھی نہیں کرے گا۔
راستوں پرتیز ی سے چلنا اس کا معمول تھا،مگر وہ آج گلی کی ڈھلان سے بہت آہستگی سے اُتر رہا تھا۔وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔وہ اسے جلداز جلد سلجھاناچاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔
گلی کے درمیان چلتے چلتے بے دھیانی میں وہ دا ہنی طرف بدرو کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گلی لوگوں سے یکسر خالی تھی اور اس وقت یہاں سے مویشیوں کے کسی ریوڑ کو بھی نہیں گزرنا تھا۔رفیق حجام کا بیٹا شلوار اتارے نالی پر بیٹھا ٹٹی کر رہاتھا۔اسے دیکھ کر وہ شرمانے لگا اور بیٹھے بیٹھے اس نے اپناچہرہ قمیض کے دامن میں چھپالیا۔
نذیر نے اسے دیکھا تک نہیں اور اپنی دھن میں اس کے قریب سے گزر گیا۔
وہ سوچتا جا رہا تھا کہ اسے چاچے کے پاس رہتے ہوے تین سال گزرگئے تھے۔ اس دوران اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی کہ چاچی خیر النسا اس کے بارے میں کسی بدگمانی میں مبتلا ہوجاتی۔وہ اسے اچھی لگتی تھی— بالکل جس طرح بھابی خدیجہ اسے اچھی لگتی تھی۔ چاچی کا جسم پر کشش تھا اور اسے چوری چھپے دیکھ کر وہ لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی اسے اچھی لگتی تھیں مگر وہ انھیں حسین خیال نہیں کرتا تھا۔
آج اس نے پیشانی پرہاتھ رکھ کر نیند سے جگایا تھا۔کیوں؟اس سے پہلے وہ ہمیشہ اسے آوازدے کر اٹھاتی تھی یا اس کی رضائی کو جھنجھوڑدیا کرتی تھی۔رکابی تھماتے ہوے اس کی انگلی کا لمس... اسے لگتا تھا کہ چاچی نے جان بوجھ کر اسے چھوا تھا۔
جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیر النسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اُتارا تھا۔وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریزکرتی تھی۔وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے وہ ان چیزوں کے حوالے سے لاپروا ہوتی جارہی تھی۔ اب وہ اس کے سامنے ڈوپٹے کے بغیر گھومتی اوربےنیاز ہوکر انگڑائیاں لیتی۔ اپنا لباس سرکنے سے بےخوف ہو کر وہ گھر بھر میں جھاڑو لگاتی۔اور تو اور، بعض اوقات وہ اس کے سامنے کھاٹ پر لیٹ جاتی اور قمیض کا دامن بھی درست نہ کرتی۔
تین برسوں سے نذیر کے ذہن میں اس خیال کی پھانس اٹکی ہوئی تھی کہ چاچا غفور ساٹھ برس کا تھا اور چاچی خیر النسا اس سے پچیس سال چھوٹی تھی۔وہ اکثر سوچتا رہتا تھا کہ وہ لاغراندام بوڑھے شخص کے ساتھ کس طرح نباہ کرتی رہی تھی۔
چلتے چلتے اسے چاچی کی انگڑائی یاد آئی اور پیشانی پر اس کے ہاتھ کا لمس۔ وہ مسکرانے لگامگر جب اس نے آس پاس نظر ڈالی تو ٹھٹک کے رہ گیا۔گلی سے نکل کر اسے بازاروالی سڑک کی جانب مڑنا تھالیکن وہ خیالوں میں چلتے چلتے قصبے کے آخری مکانات تک پہنچ گیا تھا۔اسے اپنے سامنے گندم کے کھیت دکھائی دے رہے تھے۔
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا گارے اور لکڑی کے مکانوں کو دیکھتا واپس لوٹنے لگا۔ایک بار پھروہ خود کوسمجھانے لگا کہ اس کی جانب سے کسی قسم کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ خطرناک ہوسکتا تھاکیونکہ آخر کار چاچا غفور اس کے والد کا سگابھائی تھا۔
بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔اس نے محکمۂ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہرلگے ہوے بورڈ کو دیکھا۔ جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوے تھے۔سڑک پر خاصی چہل پہل تھی۔دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔دکانداروں کے چھڑکاؤکی وجہ سے سڑک کیچڑ آلودہوگئی تھی۔گردوپیش کے دیہات سے گدھا گاڑیوں، سوزوکیوں اور بسوں کے ذریعے قصبے میں لوگوں کی آمد شروع ہوگئی تھی۔ چائے خانے بھرنے لگے تھے اور وہاںٹیپ ریکارڈرپر مشہور گانے بجنے لگے تھے۔
چاچے غفور کی دکان سڑک کے آخری سرے پر چھوٹی سی گلی میں واقع تھی۔اس گلی میں صرف درزیوں کی دکانیں تھیں۔یعقوب کاریگرنذیر کو راستے میں ہی مل گیا۔وہ دکان کی چابیاں لینے گھر جارہا تھا۔نذیر نے چاچا غفور کی صحت کے بارے میں اسے بتایا تو اسے تشویش ہونے لگی۔
یعقوب کاریگر نے دکان کا تالا کھولا تونذیر نے شٹراُٹھانے میں اس کی مدد کی۔ وہ یعقوب کا احترام کرتا تھا،اس لیے کہ ایک تو وہ ادھیڑ عمر آدمی تھااورپھر چاچے کا دوست بھی تھا۔ دکان کے بیشترمعاملات اسی کے ہاتھ میں تھے۔لوگوں کی نظر میں دکان کا مالک چاچا غفور نہیں بلکہ یعقوب کاریگر تھا۔کئی بہت پرانے گاہکوں کے ناپ اسے زبانی یاد تھے۔جب انھیں ردوبدل کروانا ہوتا یا وہ نئے فیشن کا ڈیزائن بنواتے تو اپنی فرمائشیں اِسی کو بتاتے۔وہ دھاگوں، بٹنوں اور بُکرم کی خریداری میں خودمختارتھا۔
اسے بہ یک وقت مردانہ اورزنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔دور دراز گوٹھوں کی عورتیں تک بھی اس کی مہارت کی شہرت پھیل چکی تھی۔ کپڑے سِلوانے والی خواتین دیر تک اس کی فضول باتیں بھی سنتی رہتی تھیں۔
نذیر یعقوب کاریگر کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔اسے یقین تھا کہ کچھ عورتوں سے اس کے گہرے تعلقات تھے شاید اسی لیے اتنی عمر گزرنے کے باوجوداِس نے شادی نہیں کی تھی۔
نذیر کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ دکان کا تالا اور شٹروہی کھولے اور فرش کی صفائی بھی وہی کرے، لیکن یعقوب ہمیشہ ہی اس کا ہاتھ تھام لیتا تھا۔
’’بابو،تم مالک، میں نوکر، یہ کام تمھارے لیے نہیں۔‘‘
مگر آج نذیرنے اپنے دل کچھ اور ہی ٹھانی ہوئی تھی۔ دکان میں داخل ہوتے ہی نذیر نے جھاڑو اُٹھالی اور صفائی کرنے لگا۔یعقوب نے اس کے ہاتھوں سے جھاڑو لینے کی کوشش کی تو اس نے مصنوعی غصہ ظاہرکرتے ہوے اسے دکان سے باہر جانے کااشارہ کر دیا۔سفید بالوں والاکاریگر اپنے سیٹھ کے بھتیجے کا حکم سن کر ہنسی میں کندھے ہلاتا گلی میں جاکھڑا ہوا۔اس نے قمیض کی جیب سے بیڑیوں کا بنڈل نکالا اور اسے پنے ہاتھ سے نرمی سے دبانے لگا۔پھر اس میں سے ایک بیڑی نکال کر اسے دانتوں میں چبا کر اس نے اسے سُلگایا۔
اس دوران نذیرنے کرسیوں، سلائی مشینوں اور میز کے نیچے سے کچرا صاف کیا۔ اس نے دھاگوں، لیروں اوربیڑی کے ٹکڑوں کو جمع کرکے اخبار میں سمیٹا اور اخبار کو دکان سے باہر پھینک دیا۔
یعقوب کاریگر آستینیں چڑھاتا دکان میں داخل ہوااور اپنی، مخصوص نشست پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنی ٹانگیں کرسی پر سکیڑلیں اور مزے سے بیڑی کے کش لیتا رہا۔ بیڑی ختم ہونے پراس نے اسے چپل کے نیچے مَسل دیا ۔اس کے بعد میز کے دراز سے اگربتّی کا پیکٹ نکالااوراس میں سے دو اگر بتیاں نکال کر اس نے دیا سلائی کی مدد سے جلائیں، پھرزور سے پھونک مار کر اس نے اگربتیوں کے شعلے کو بجھایا اور ان کے خوشبو دار دھویں میں لمبے سانس بھرنے لگا۔یعقوب کے لیے صبح دکان کھولتے ہی اگربتی جلانا ایک مقدس رسم کی طرح تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگربتی کی خوشبو سے دکان پر پڑنے والا ہر قسم کے شر کا سایہ چھٹ جاتا ہے۔اس نے سلگتی ہوئی ایک اگربتّی کو میز کے کاؤنٹرمیں اٹکایا جبکہ دوسری کو دیوار کے رخنے میں لگا دیا۔
نذیر اپنی سلائی مشین صاف کر رہا تھاکہ اسے چاچے کی بات یاد آگئی۔سلائی مشین صاف کرتے ہوے اس نے اپنا ہاتھ روک لیااور کاریگر سے مخاطب ہوا۔’’وہ، ماسٹر طفیل شام کو کپڑے لینے آئے گا۔ اس کے پانچ جوڑے ہیں شاید،‘‘وہ ہچکچا کر بولا۔ بڑی عمر کے لوگوں سے بات کرتے ہوے وہ اعتماد کھوبیٹھتا تھا؛ اس کی نگاہ جھک جاتی تھی اور زبان میں گرہ پڑنے لگتی تھی۔
یعقوب نے اس کی بات سنی اور مسکراتے ہوے بولا،’’معلوم ہے۔دو لیڈیز کے ہیں اور تین مردانہ جوڑے۔‘‘
نذیر نے مطلوبہ دھاگے کی نلکی کو سلائی مشین پر چڑھایا اور دھاگے کو مختلف جگہوں سے گزار کر سوئی کے ناکے میں ڈال دیا۔بیکار کپڑے کو سوئی کے نیچے رکھا اور مشین چلا کر ٹانکوں کا جائزہ لیتا رہا۔
کل صبح ہی ا نھوں نے ماسٹر طفیل کے کپڑوں کی کٹائی کرلی تھی اور شام تک آدھے جوڑوں کی سلائی بھی ہو چکی تھی۔ اب نذیر کا ہاتھ سلائی مشین پر رواں ہوگیا تھا۔وہ اکیلا ہی شام تک بیٹھ کر پانچ جوڑوں کی سلائی کرسکتا تھا۔ مگر اس کا مزاج سیمابی تھا اس لیے اس کے لیے ایک جگہ دیر تک بیٹھنا مشکل تھا۔ یکسوئی سے کام کرتے کرتے اچانک اس پر بے قراری کا دورہ پڑتا اور وہ فوراً دکان سے باہر نکل جاتا؛کچھ دیر سڑک پر ٹہل کراِدھر اُدھر کی چیزوں کو دیکھتا او ر پھر واپس آکر اپنا کام کرنے لگتا۔
درزیوں کی اس گلی کی ہر دکان پر ٹیپ ریکارڈ ر اونچے سروں میں بجتا تھا۔ہر درزی اپنی پسند کے گانے سنتا تھا۔ نذیر بھی فلمی گانے سننے کاشوقین تھا۔کئی مرتبہ وہ یعقوب کاریگر سے اپنی خواہش کا اظہار کرچکا تھا۔ اسے بھی موسیقی سننا پسند تھامگر چاچے غفور کو موسیقی سے نفرت تھی۔گلی میں کوئی درزی جب اونچی آواز میں گانے بجاتا تو چاچا غفور اسے گالیاں دینے لگتا اور ٹیپ بند کرواکے دم لیتا۔ مگر وہ درزی کچھ دیر بعد دوبارہ ٹیپ ریکارڈ بجانا شروع کر دیتا۔ چاچا غفور اس مرتبہ اٹھ کر جانے کے بجاے بیٹھا بڑبڑاتا رہتا۔
یعقوب کاریگرنے ایک اور شوق بھی پال رکھا تھا۔اس نے کچھ ہٹ دھرمی اور کچھ بے شرمی کی وجہ سے اپنے اس عجیب شوق کی تکمیل کرلی تھی۔اسے اپنے چاچا غفور کے طعنوں کی بھی پروا نہیں تھی۔اس نے اخباروں، رسالوں، کتابوں اور پوسٹروں سے رنگین تصویریں کاٹ کاٹ کر دکان کی دیواروں پر چپکا دی تھیں۔ چھت سے فرش تک کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی تھی۔تمام کی تمام تصاویر فلمی اداکارائوں اور ٹی وی کی ماڈل لڑکیوں کی تھیں۔ وہ سب کی سب جوان اور پرُکشش دکھائی دیتی تھیں۔یعقوب کا یہ مشغلہ بہت پرانا تھا اور اس میں کبھی کمی نہیں آتی تھی۔وہ ہر دوسرے دن ڈھونڈڈھانڈ کر کوئی نئی نویلی تصویر لے آتا اور اسے کسی پرانی تصویر کی جگہ لگا دیتا۔گلی میں ایک اور درزی نے بھی اس کی دیکھا دیکھی یہی شغل اختیار کرلیا تھا۔وہ گاہے گاہے یعقوب کاریگر کو اپنی تصویروں کے معائنے کے لیے بلاتا رہتااور اس کی رائے بھی معلوم کرتا۔
نذیر نے بے دلی سے کٹا ہوا کپڑااُٹھایا اور سلائی کرنے لگا۔
گلی میں گاہکوں کی آمدورفت شروع ہو چکی تھی۔یہ مختصر بندگلی شام تک لوگوں سے بھری رہتی تھی۔ دکانداروں نے دکانوں پر کپڑوں کے سائبان لگا رکھے تھے،جس کی وجہ سے گلی صبح سے شام تک سایہ دار رہتی تھی۔
چاچے غفور کی بیماری کی خبر پوری گلی میں پھیل گئی۔ تمام دکاندار نذیر سے اس کی خیریت دریافت کرنے آئے مگر واپس جا کر انھوں نے ٹیپ ریکارڈ اونچی آواز میں بجانا شروع کردیا۔ ہر دکان پر مختلف گانا چل رہاتھا— ملی جلی آوازوں کے بیچ کسی گانے کے بول سمجھ نہیں آتے تھے۔
جب دکان کے آگے سے گزرنے والے کسی شخص کا سایہ اندر پڑتا تو نذیر بے اختیار ہو کر باہر دیکھنے لگتا۔وہ احتیاط سے کئے جانے والے کام میں جلد بازی برتنے کی کوشش کررہا تھا۔اس کا ایک ہاتھ تیز رفتاری سے سلائی مشین کے ہینڈل پر گھوم رہاتھا جبکہ دوسرا ہاتھ کپڑے کو تیزی سے آگے سرکا تا جا رہا تھا۔ سوئی چشم زدن میں کپڑے پرٹانکے پر ٹانکا لگا تی جارہی تھی۔تھوڑی دیر بعد اس نے سلائی مشین روک دی۔
یعقوب کاریگرنے شلوار مکمل کرلی تھی۔ کچھ سستانے کے لیے اس نے نئی بیڑی سلگائی۔ نذیر اپنی نشست سے اُٹھا اور دکان کے سر ے پر کھڑا ہوگیا۔ہوٹل کا باہر والا کیتلی اورپیالیاں اٹھائے اس کے سامنے سے گزرا تو اس نے اسے دوچائے کے لیے کہہ دیا۔ پھر وہ دکان کے اندر آکر یعقوب کاریگر کے پاس جا کھڑا ہوا۔وہ بیڑی کے کش پر کش لگاتا اپنی گدلی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے نوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوے مسکرایا۔
’’آج کام میں دل نہیں لگ رہا،‘‘نذیرجھجکتے ہوے بولا۔
’’تمھاری جو عمر ہے نا، اس میں یہ دل بڑا تنگ کرتا ہے، جب کہ یہ کام کرنے کے لیے ِپتہّ مار کر بیٹھنا پڑتا ہے،‘‘وہ اپنی سفید اور سیاہ داڑھی کھجاتے ہوے بولا۔ ’’پروا مت کرو۔ میرے ہوتے ہوے کوئی غم نہ کرو۔‘‘
’’چاچے کو نہ بتانا...‘‘نذیر نے اس سے درخواست کی۔کاریگر نے یہ سن کرقہقہہ لگایا۔ اس کاقہقہہ سن کر نذیر بھی مسکرایا۔وہ اسٹول کھینچ کر خوش مزاج کاریگرکے پاس بیٹھ گیااوراس نے یونہی موسم کی شدت کا ذکر چھیڑدیا۔
’’اس مہینے سردی اوربڑھ جائے گی۔سنا ہے کوئٹہ میں برف باری ہورہی ہے!‘‘
یعقوب کاریگرکندھے جھٹک کر ہنستے ہوے بولا،’’تمھارے چاچے کو اسی لیے ٹھنڈ لگ گئی... مگر یار، اس کے پاس تو بہترین ہیٹر ہے۔اسے ٹھنڈ نہیں لگنی چاہیے تھی۔‘‘
اس کی یہ بات سن کرنذیر نے شرما کر اپنا سرجھکالیا۔
یعقوب اس کے گھٹنے پر ہاتھ مارکر قہقہے میں لوٹنے لگا۔’’تم اب بچّے نہیں رہے۔ ماشا اللہ سمجھ دار ہو۔‘‘
باتوں کے دوران چائے والا آگیا۔نذیر نے پیالیوں میں چائے ڈالی۔
کاریگرچائے پی کر اُٹھا اورانگڑائی لیتے ہوے اس نے اپنی کمر کا پٹاخہ نکالا۔
نذیرنے اسے انگڑائی لیتے ہوے دیکھا تو آج کی رات جو واقعہ پیش آنے والا تھا اس کے تصوّر سے اس کے خون میں سنسنی پھیل گئی۔ اس کا ذہن یعقوب کے فحش مذاق سے نکل کر یکایک کہیں اور پہنچ گیا۔اسے چاچی خیر النسا کا خیال تک بھی نہیں آیاکیونکہ اس کا ذہن خیالات کے ایک اور بگولے کی زد میں آکر اِدھر اُدھر بھٹکنے لگا تھا۔ وہ واقعہ جو پینتالیس روز قبل پیش آیا تھا، آج اپنے انجام کو پہنچنے والا تھا۔وہ بالکل نہیں جانتا تھاکہ آج کی شب اس کی امیدوں کو بر آنا تھا یا انھیں ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ ہونا تھا۔اس کے علاوہ آج شب جو واقعہ رونما ہونے والا تھا اس سے اس کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق تھا۔اگر وہ اس سے کامیاب گزر گیا تو ٹھیک؛ ناکامی کی صورت میں اس کی موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔


ڈیڑھ مہینہ پہلے چاچا غفورنے اسے پڈعیدن شہر ایک ضروری کام سے بھیجا تھا۔وہ فجر کے وقت میر واہ سے نکلنے والی پہلی بس پر سوار ہو کر پہلے سیٹھارجہ پہنچا اور وہاں سے ٹرین پکڑ کر تقریباً دس گیارہ بجے پڈعیدن پہنچ گیا۔ اسے کام نمٹاتے نمٹاتے دوپہر ہو گئی۔ پھر ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد وہ سہ پہر کے وقت ریلوے اسٹیشن پہنچا اور ٹرین کا انتظار کرنے لگاجو پون گھنٹے بعد آنے والی تھی۔ بے چینی سے انتظار کرتے ہوے وہ پلیٹ فارم پرٹہلنے لگا۔
پڈعیدن ریلوے اسٹیشن ایک جنکشن تھا، جہاں سے برسوں پہلے نوشہرو فیروز، ٹھارو شاہ،کنڈیارو اور دیگر چھوٹے قصبوں کی طرف ریل جایا کرتی تھی، مگر اب بہت عرصے سے محکمۂ ریلوے نے اس راستے کو منسوخ کردیا تھا؛ اب یہاں سے صرف مین لائن ٹرینیں ہی گزرتی تھیں۔لیکن پڈعیدن ریلوے اسٹیشن کا پھیلائواب بھی پہلے جیسا ہی تھا اور اب بھی اس کے نام کے ساتھ بہت سے اسٹیشنوں کی طرح جنکشن کا دم چھلا لگا ہوا تھا۔ اضافی لائنوں پر اکثرایک یا دو انجن کھڑے شور مچاتے اور دھواں اگلتے رہتے تھے۔ پڈعیدن شہر ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے عین مخالف سمت میں واقع تھا۔وہ بھی اسی راستے سے پیدل چلتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔
نذیر کی عادت تھی کہ وہ سفر کرتے ہوے کسی خوبصورت نسوانی چہرے کی تلاش میں رہتا تھا تاکہ اس کی آنکھوں میں جھانک جھانک کر اور اپنی آنکھوں سے اس کے چہرے کو ٹٹول ٹٹول کر بیزارکن اور اکتاہٹ سے بھرے سفر کو اہم ترین یاد میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ معاملہ ایک ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوکر دوسرے پرختم ہوجاتا تھا مگر اس کی یاد ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہتی تھی۔ تین مرتبہ وہ اس معاملے کو طول دینے کی کوشش میں اذیت اورخواری کا تجربہ کر چکاتھا۔
اس کا مشاہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ انھیں اپنے دیکھنے والوں پر اپنی مسکراہٹ، ہنسی اور ادائیں نچھاور کرکے کوئی روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔بعض عورتیں اپنے سینے کی نمائش کرنے سے بھی نہیں چوکتی تھیں، اسی لیے وہ باربار اپنے دوپٹے یا چادر کودرست طریقے سے اوڑھنے کاجتن کرتی رہتی تھیں اور اس طریقے سے وہ مردوں کو لبھانے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان خواتین پر اسے حیرانی ہوتی تھی جو مردوں کی گھورتی نظروں سے لاتعلق ہو کر شیرخواربچوں کو دودھ پلانا شروع کردیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ریل کے دوسرے د رجے کی بوگیوں میں سفر کرتا تھا کیونکہ وہ ہجوم سے بھری ہوتی تھیں؛ اس طرح کبھی کبھار اسے کسی نسوانی جسم کو چھونے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ ان بوگیوں میں ہمیشہ نچلے اور نیم متوسط طبقے کی عورتوں کی بھرمار ہوتی تھی۔نچلے طبقے والی خواتین لباس اور جسم کی صفائی سے بے نیاز ہوتی تھیں اور انھیں دیکھ کر گھن سی آتی تھی، جبکہ نیم متوسط طبقے کی عورتیں رنگین ملبوسات، اپنی پردہ پوشی، زیورات اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے حقیقی نسوانی پیکردکھائی دیتی تھیں۔ان کی آنکھیں غمزوں کے ان دیکھے جہان آباد کرتیں۔ان کے ہاتھوں اور بازوئوںکی سپیدی مردوں کی آنکھوںکو پوشیدہ نظاروں کے لیے تڑپاتی، جن کے دیدار کے نہ کوئی آثار ہوتے اور نہ امکان۔
پلیٹ فارم پرچہل قدمی کرتے ہوے اس نے ساری خواتین کو دیکھ لیا۔اسے مایوسی ہوئی کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس کے معیار پر پوری نہیں اتری۔اپنی جستجو کو مہمیز دیتے ہوے وہ پرلی طرف والے پلیٹ فارم کی جانب چلا گیا۔وہاں پر اسے ایک حسین عورت نظر آئی۔ وہ کچھ دیر اسے تکتا رہا، مگر خاتون نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ نذیر نے محسوس کیاکہ اس کے التفات کی ندی کا رخ کسی اور جانب تھا۔وہ شخص پتلون اور شرٹ میں ملبوس تھا اوراس نے چشمہ بھی لگا رکھا تھا۔نذیر اسے دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگیاکیونکہ اس نے کبھی پتلون شرٹ زیب تن نہیں کی تھی۔ وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔وہ ایسی پرکشش،حسین اور مقامی نوجوان خاتون کی تلاش میں تھا جو انگریزی لباس پسند نہ کرتی ہو۔
پلیٹ فارم کے دونوں سروں کے درمیان چکر لگاتے ہوے اس نے ایک برقع پوش نوجوان خاتون کو منتخب کیاجوایک ادھیڑ عمر عورت کے ساتھ پتھر کی نشست پربیٹھی تھی۔ نذیر نے چائے کے اسٹال کے پاس کھڑے ہو کر انھیں کچھ دیر تاکنے کے بعد اندازہ لگا لیا کہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔اس نے محسوس کیا کہ وہ نوجوان پردہ نشین اس کی مسلسل تاکاجھانکی کا برا نہیں مان رہی تھی بلکہ وہ بھی بار بار اپنی نظروں کے تیر اس کی طرف پھینک رہی تھی۔نذیر نے اس کا انتخاب اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ بھی مسلسل اس کی نظروں کا جواب دے رہی تھی بلکہ اسے اس کی گہری سیاہ آنکھیں اور اس کی کمان جیسی بھنویں بےحد پرکشش لگ رہی تھیں۔نجانے کیوں وہ ان میں اپنے لیے پسندیدگی اور دلچسپی محسوس کر رہا تھا— ہو سکتا ہے یہ اس کی خوش فہمی ہو، مگروہ جس طرح اسے دیکھ رہی تھی، اسے اس کے دیکھنے کا اندازبھاگیا۔اس کا جوان حُسن اس کی آنکھوں سے آشکار تھا۔ وہ ٹکٹکی لگائے اس کے نازک سفیدہاتھوں، گلکاری والی چپل میں محفوظ پیروں اور برقعے میں چھپے ہوے اس کے جسم کو دیکھتا رہااور اس کے پوشیدہ حسن کی کشش کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر وہ اس کے بازووئں کا جائزہ لینے لگا۔اس کی کلائی بہت نازک اندام اور اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بہت گداز تھیں۔
نذیر چائے کے اسٹال پرکہنی ٹکا کر، اس کے حسن سے مبہوت، اسے تکتا ہی رہا۔ چائے کے اسٹال کا مالک من موجی مگر زیرک شخص تھا۔ وہ اس کی نیت فوراً بھانپ گیا۔نذیر کے پاس آکر اس نے اس کے کان میں سرگوشی سے کہا،’’ استاد!موقع اچھا ہے۔اسے گرما گرم چائے پلا کر اس کے دل میں گرمجوشی پیدا کرو۔ دودھ پتّی چائے فس کلاس ہوگی اور اسے پلانا میرا کام ہے۔‘‘اس کے منھ سے نسوار کی بُو آرہی تھی اور وہ ہنستے ہوے اپنے بدنما دانتوں کی نمائش کر رہا تھا۔
اس کی پیشکش سن کرنذیر چونکا۔اس نے شک بھری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور نفی میں سرہلا دیا۔اس نے اسے صرف اپنے لیے چائے لانے کے لیے کہا۔
پردہ نشین حسینہ کچھ دیر پہلے تک سکون سے بیٹھی اپنے فطری انداز میں آس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہی تھی مگر اب اچانک اس کے وجود میں عجیب سی ہلچل نظر آنے لگی تھی۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگی تھی اور بار بار اپنے نقاب کو ہلاہلا کر اس کی شکنیں درست کر رہی تھی۔وہ بے اختیار ہو کر ذرا ذرا دیر بعد نذیر کو دیکھتی۔اس کی ساتھی عورت سوگوار سے لہجے میں مسلسل کچھ بول رہی تھی۔ برقع پوش کی توجہ اس کی باتوں پر نہیں تھی، وہ ہوں ہاں کر کے اسے ٹال رہی تھی۔دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں میں فطری نرمی کی جگہ ایک بے قراری لیتی جارہی تھی۔
نذیر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرکرچائے کے میٹھے پن کو محسوس کر رہا تھا۔وہ ابھی تک چائے کے اسٹال والے کی پیش کش میں الجھا ہواتھا۔ اسے برقع پوش کی توجہ حاصل ہو چکی تھی۔ اب وہ بار بار اپنی گردن موڑ کراسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی اپنی طرف متوجہ بڑی بڑی آنکھوںکودیکھتے ہوے نذیر کے خون میں پراسرار سی سرسراہٹ ہونے لگی تھی، جس کے باعث اس کی کنپٹیوں اور اس کے سر کے پچھلے حصے پر پسینہ آنے لگا تھا۔
بہت دیر سوچنے کے بعدنذیر نے اسٹال والے کو بلایا اور اسے چائے بنانے کے لیے کہا۔اس نے طے کر لیا تھا اب بات کو آگے بڑھانا چاہیے۔
برقع پوش کی ساتھی ادھیڑعمر عورت جو بظاہر اب تک ان دونوں کے معاملے سے لاعلم تھی، لگتا تھا شایداب اسے اس معاملے کی بھنک پڑگئی تھی۔وہ وقفے وقفے سے اپنی مسکراتی ہوئی شریر نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی تھی۔
مٹی کے تیل سے جلتے چولھے پر چائے ابلنے لگی تو اسٹال والے نے دھلی ہوئی صاف پیالیوں میں دودھ پتّی انڈیل دی۔ مسکراتے ہوے اس نے نذیر کو آنکھ ماری مگر وہ اس وقت شدید بےچینی محسوس کر رہا تھا۔اسے خدشہ تھا کہ کہیں پردہ نشین ناراض ہو کر انکار نہ کر دے یا غصے میں آ کر اسے گالیاں نہ دینے لگے۔وہ ایسے اندیشوں میں گھرا چائے کے اسٹال سے پرے ہٹ گیا اور ان کی نشست کے بہت پیچھے جا کر ٹہلنے لگا۔اس نے اپنی کلائی اٹھا کر گھڑی دیکھی تو ریل کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی تھے۔
چائے اسٹال والا جھوم کر اپنی چال چلتا ان کے پاس پہنچا اور جھک کر سلام کرتے ہوے اس نے انھیں چائے پیش کی۔
برقع پوش نے ہچکچا کر نفی میں سرہلایا اور بے اختیاری سے اس طرف دیکھنے لگی، جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا۔ اسے وہاں نہ پاکر وہ پریشان سی ہوئی۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا مگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ اس کی اس کیفیت سے ادھیڑعمر خاتون لطف اندوز ہوتی رہی۔ اس نے معمولی سے ردوکد کے بعد چائے کے اسٹال والے سے پیالیاں لے لیں۔
چند منٹوں کے بعد وہ زیرِ لب مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی جگہ پر آکھڑا ہوا۔اسے دیکھ کر برقع پوش کی آنکھوں میں خفگی کی شدید لہر دکھائی دی،جبکہ اس کی ساتھی عورت پہلے والی جگہ پر اس کی دوبارہ موجودگی سے محظوظ ہوتی چائے کی سُڑکیاں لیتی رہی۔
نذیر نے سوچا کہ جو عورتیں ناراض ہوجائیں انھیں منانے کا جتن بہرحال کر نا ہی پڑتا ہے۔اس نے ارادہ باندھا کہ اگر وہ سیٹھا رجہ کے اسٹیشن پراُتری تووہ اسے منانے کی خاطراس کے گوٹھ یا اگر ممکن ہوا تو اس کے گھر تک اسے چھوڑنے ضرور جائے گا۔
نذیر نے ممنون نگاہوں سے چائے اسٹال والے کی طرف دیکھتے ہوے اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔پیسے لیتے ہوے اسٹال والے نے اس کے قریب آکر آہستگی سے کہا،’’ مرد کی شان ہوتی ہے کہ پسند آنے والی چیز کو اپنی مٹھی میں اچھی طرح کس لے۔ معشوق کے سامنے ڈٹ جائے اور کسی طرح پیچھے نہ ہٹے۔‘‘اس کی بات سن کر نذیر نے مسکراتے ہوے اثبات میں سر ہلایا۔
بہت دور سے ریل کی سیٹی سنائی دی توپلیٹ فارم پر انتظار سے اونگھتے ہوے لوگ یک بہ یک ہوشیار ہو کر اس سمت دیکھنے لگے جدھر سے ریل آنے والی تھی۔خوابیدہ اور خاموش پلیٹ فارم پوری طرح بیدار ہو گیا۔سامنے کی پٹریوں سے سنائی دینے والی گڑگڑاہٹ کی آواز ٹرین کی آمد پر طوفانی گھن گرج میں تبدیل ہو گئی۔پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوے بیٹھے تھے۔
نذیر کی کوشش تھی کہ جس بوگی پر بھی وہ دونوں عورتیں سوار ہوں، وہ بھی ان کے آس پاس ہی اپنے لیے جگہ تلاش کر ے۔وہ دونوں ٹرین پر سوار ہونے کی تگ و دومیں آخری بوگیوں تک چلی گئیں۔دروازوں پر قبضہ جمائے ہٹ دھرم لوگ انھیں سوار ہونے کے لیے راستہ دینے پر تیار نہیں تھے۔نذیر کو ان لوگوں پر غصہ آیا۔کچھ دیر بعد اس کی برداشت جواب دے گئی تو ایک بوگی کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا، تب کہیں جا کر انھیں اور اُسے بہ مشکل سوار ہونے کی جگہ مل سکی۔نذیر چاہتا تو ہجوم کا فائدہ اُٹھا کر پردہ نشین خاتون کے جسم کو چھو کر ذرا سا محسوس کرسکتا تھا مگر اس نے اپنے آپ کو روکے رکھااور ایساکچھ نہیں کیا۔پلیٹ فارم پرشتابی سے چلتے ہوے اس بےنام حسینہ کا جسم اسے بہت پرُکشش لگ رہاتھا۔ اس کی کمر نشیب میں واقع کسی سرسبز و شاداب وادی کی طرح طویل مشاہدے کی متقاضی تھی۔وہ پرامید تھا کہ آنے والا وقت اس پر ایسے مشاہدات کے بہت سے در وا کر نے والا تھا۔
انجن کا ہارن بجتے ہی ریل چل پڑی۔ان کی بوگی لوگوں سے کھچا کھچ بھری تھی۔ گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے ہوے انھیں اور اسے آرام سے کھڑا ہونے کو تھوڑی سی جگہ مل گئی۔وہ ان کے قریب کھڑاہو گیا۔ ادھیڑعمر عورت اپنی پردہ نشین رفیق کی حفاظت کی خاطران دونوں کے درمیان کھڑی ہوئی تھی۔
کچھ فاصلے پر نذیر کو کنڈکٹر گارڈ دکھائی دیا۔وہ فوراً اس کے پاس جا کراس سے نشست کے لیے درخواست کرنے لگا مگر وہ اسے روکھا ساجواب دے کر چلتا بنا۔اس کے بعد اس نے گزرنے والے ایک پولیس کے سپاہی سے مدد چاہی تو اس نے تیس روپے کے عوض عورتوں کے لیے نشست کا بندوبست کردیا۔جب اس نے ادھیڑ عمر عورت کو بتایاتو وہ حیرت سے اس کا منھ تکنے لگی۔اس نے اپنی ساتھی خاتون کو اس کی پیشکش سے آگاہ کیا۔اس نے اپنی مشکور نظروں سے نذیر کی طرف دیکھتے ہوے سر کے خفیف اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر وہ کچھ دور تک اس کے ساتھ جاکر اس نشست پر بیٹھ گئیں۔وہ اس حسینہ کو اپنا قبلہ بنا کر ذرا فاصلے پر کھڑا ہو گیا،جبکہ وہ عورت احسان مندی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
مختصر سے وقت میں یہ اس کی دوسری کامیابی تھی۔وہ اس پر مسرور تھامگر ساتھ ہی وہ یہ بات سوچ کرخوفزدہ بھی تھا کہ معلوم نہیں یہ دونوں کب اور کون سے اسٹیشن پر اتر جائیں۔ پڈعیدن سے سیٹھارجہ زیادہ دور نہیں تھا۔درمیان میں صرف چاراسٹیشن پڑتے تھے۔ ہر اسٹیشن پرریل کی رفتار کم ہونے پراس کا دل ڈوبنے لگتا تھااور جب گاڑی وہاں سے نکلنے لگتی تووہ کچھ مطمئن ہو جاتا تھا۔یہ عارضی ناامیدی اور عارضی اطمینان اس کے لیے بہت اذیت ناک تھا۔
جب ٹرین محراب پورجنکشن سے نکلی تو وہ ایک مرتبہ پھر پرُامید نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔ اسے ان کے چہروں پربےچینی کے آثار نظر آنے لگے۔ان کے باربار کھڑکی سے جھانکنے کے عمل سے اس کی ڈھارس بندھ رہی تھی۔ڈیپارجہ کا گمنام اسٹیشن بھی چپکے سے گزر گیااور اس کے بعدچھوٹی نہر بھی سرعت سے پیچھے چلی گئی۔ سیٹھارجہ آنے کو ہی تھا۔ریل کی رفتار ایک بار پھر دھیمی ہونے لگی۔
اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آیا جب اس نے دیکھا کہ ان دونوں نے اپناسامان اٹھا لیا تھا اوربرقع پوش اپنے برقعے کو ٹھیک کرنے لگی تھی۔
ٹرین کے بریک چرچرائے اور اگلے ہی لمحے وہ تھم گئی۔
نذیر وقت سے ہجوم کے درمیان راستہ بناتا ہوا بوگی کے دروازے تک پہنچا اور لکڑی کی سیڑھیوں سے نیچے اُترا۔وہ نیم پختہ پلیٹ فارم پر سفید ے کے قد آور درخت کے قریب کھڑا ہوگیا۔اگلے ہی ثانیے اس نے ان دونوں کو بوگی سے اترتے ہوے دیکھا۔ نیچے اُترتے ہی برقع پوش جوان عورت نے بھرپور نظر وںسے اسے دیکھااور آنکھیں گھما کر اسے ایک اشارہ کیا اور سیڑھیوں والے پل کی طرف چل دی۔پل کے قریب پہنچ کر ان کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈ نے لگیں۔ایک دُبلاشخص ہانپتا کانپتا ان کے قریب آکھڑا ہوا اور کِھیسیں نکال نکال کران سے باتیں کرنے لگا۔نذیر اس آدمی کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کرتارہاکہ اس کا ان سے کیا تعلق ہے؟اس کا لباس میلا کچیلا تھا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوے تھے اور چہرے پر شیو ابھری ہوئی تھی۔ اس نے پکوڑوں کا تھال اٹھایا ہوا تھا۔وہ اپنی وضع قطع سے ادھیڑ عمر خاتون کا شوہر معلوم ہوتا تھاکیونکہ وہ اس سے لہک لہک کر باتیں کر رہی تھی۔ وہ دونوں آپس میں بہت بےتکلف دکھائی دے رہے تھے۔ نذیر کو محسوس ہوا کہ وہ اسے کہیں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے ذہن پر بہت زور دیا مگراسے یاد نہیں آسکا۔
سیٹھارجہ کی آبادی بھی اسٹیشن کی عمارت کے مخالف سمت تھی۔پل کے ذریعے سے انھوں نے پٹریاں عبور کیں اورآبادی کی طرف جانے والے راستے پر چلنے لگے۔قصبے کی آبادی کچھ زیادہ نہ تھی۔دائیں طرف محلے اور گلیاں واقع تھیں جبکہ بائیں طرف کچھ دور جا کر سیٹھارجہ کا بازار شروع ہوتا تھا۔بازار کی دکانیں کولتار سے بنی نئی سڑک کے دونوں طرف واقع تھیں۔گارے اور سرخ اینٹوں سے بنی دکانیں بہت پرانی اور خستہ حال تھیں۔ نئی سڑک کی وجہ سے ان کی سطح بہت نیچی ہو گئی تھی۔شام ڈھلنے والی تھی اس لیے خریداروںکی تعداد براے نام تھی۔قصبے کے لوگ یوں ہی اِدھر اُدھرگھوم رہے تھے۔ کہیں کہیں بعض دکاندار کرسیاں بچھائے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وقفے وقفے سے کوئی سائیکل،گدھا گاڑی یا موٹر سائیکل سڑک سے گزر جاتی تھی۔
وہ پردہ نشین اب چونکہ ایک مرد کی معیت میں تھی اس لیے اس سے نگاہیں ملانا بہت مشکل تھا۔نذیر سوچ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے،وہ یہیں رہتی ہو اور شاید اچانک کسی گلی میں مڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تواسے کم از کم برقع پوش کا پتا معلوم ہو جائے گا۔وہ ان سے کچھ فاصلہ رکھ کر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اس پر کسی قسم کا شک گزرے۔ چلتے چلتے اچانک برقع پوش عورت نے اسے مڑ کر دیکھا۔اس کے مڑکر دیکھنے کو نذیر نے تعاقب جاری رکھنے کا اشارہ سمجھا۔اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ یقینی طور پر اس قصبے کی رہنے والی نہیں ہے۔
قصبے سے باہر نکلنے والی سڑک پر ٹھری میرواہ جانے والی پرانی دھرانی ایک بس کھڑی تھی۔ وہ تینوں اس پرسوار ہوگئے۔بس چلنے میں ابھی دیر تھی۔ ذرا فاصلے پرنذیر کو ایک چھوٹی سی مانڈلی دکھائی دی۔اس نے وہاںسے سگریٹ خرید کر سلگایا اور جلدی جلدی کش لے کر دھواں اُڑانے لگا۔
ابھی سگریٹ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ ڈرائیور ہارن بجانے لگا۔ اس نے جلدی سے جوتے کے نیچے سگریٹ مسلا اور بس پر سوار ہو گیا۔چند لمحوں میں بس چل پڑی۔نذیر کو ان کے قریب کوئی خالی نشست نہ مل سکی۔
سڑک دو تین بل کھا کر قصبے سے باہر نکل جاتی تھی۔ قصبے کی آخری تعمیرات یعنی اسکول، ہاسپٹل،واٹر سپلائی،اور ٹائون کمیٹی وغیرہ پیچھے رہ گئے۔پرانی گول باڈی بس کی کھڑکیوں کے شیشے اور چھت پر لٹکی آرائشی جھالریں ہل ہل کر مسلسل شور مچانے لگیں۔ بس کاانجن شور بھی مچا نے لگاجبکہ بیٹھے ہوے اکثر مسافر اس ہنگامے سے بے نیاز اپنی باتوں میں مگن تھے۔
نذیر پیچھے بیٹھا ہوا بار بار ان کی طرف دیکھے جارہا تھا۔برقع پوش وقفے وقفے سے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھ لیتی تھی، دو لمحوں کے لیے ہی سہی، وہ اس سے آنکھیں چار کر لیتا تھا، مگر آنکھیں چار کرنے سے اس کی تشفی نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ان کے پاس تھال سنبھال کر بیٹھے ہوے پکوڑا فروش کی جگہ لینا چاہتا تھا، اس اجنبی عورت سے اس کا نام پوچھنا چاہتاتھا، اس کے ساتھ ہنسنا اور قہقہے لگانا چاہتا تھا۔ایسی اور نجانے کتنی خواہشوں کی منھ زور لہریں تھیں جو اس کے دل کے ساحل پر بار بار زور سے اپنا سر پٹخ کر لوٹ جاتی تھیں۔وہ آہیں اور ٹھنڈے سانس بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
پکوڑا فروش اور ادھیڑ عمر عورت آپس میں جس طرح باتوں میں محو تھے، انھیں دیکھ کر اسے یقین ہوتا جا رہاتھا کہ یہ لوگ بھی اس کے ہمراہ بس کے آخری اسٹاپ پر ہی اُتریں گے۔
کھڑکھڑاتی ہوئی بس ہر چھوٹے بڑے بس اسٹاپ پر رکتی آگے بڑھ رہی تھی۔ مغربی افق پر سورج ڈوبنے سے پہلے آخری دم لے رہا تھا۔اس کی رنگت گہری سرخ تھی لیکن اس کی روشنی ماند پڑتی جا رہی تھی۔ آسمان پر دور تک شفق پھیلی تھی، اس کی زردی اور سرخی نے زمین کو گلناربنارکھا تھا۔ کچھ دیر قبل اپنی جزئیات کے ساتھ دکھائی دینے والے کھجور، کیکر،شیشم اور سفیدے کے پیڑوں کے رنگ ماند پڑنے لگے تھے اور ان کی جزئیات غائب ہونے لگی تھیں۔گندم کے نوخیز پودوں کی شوخ رنگت بھی شام کے ملگجے پن میں گم ہونے لگی تھی۔ راستے میں پڑنے والے مختلف گوٹھوں کے مکانوں سے اٹھنے والے دھوئیں کی بو،دھواں چھوڑتی بس کے ڈیزل کی بو سے گھل مل رہی تھی۔
نذیر پر بیزاری اور اکتاہٹ طاری ہونے لگی۔اس نے برقع پوش کو ملامت کرتے ہوے اپنا سر اگلی نشست کی پشت پر ٹکا دیا۔اس کے ذہن میں پڈعیدن اسٹیشن سے شروع ہونے والے واقعے کی جزئیات گھو منے لگیں۔اس نے خودکو احمق خیال کیاجو ایک حماقت پوری سنجیدگی اور تندہی سے انجام دیتا آرہا تھا۔ وہ یہ بات بخوبی جانتا تھاکہ اسے آگے بیٹھی عورت سے محبت نہیں تھی، پھر کیوں پچھلے بہت سے وقت سے وہ اس کے خیالات و احساسات پر چھائی ہوئی تھی؟اس نے خودکو سمجھایا کہ یہ معاملہ کھیل جیسا تھا، اس میں زیادہ سنجیدگی برتنا اصول کے خلاف تھا۔
بہت دیر بعد ایک بار پھربالآخر پردہ نشین نے اسے مڑکر دیکھا۔نذیر کئی لمحوں سے اس کی آنکھیں دیکھنے کا منتظر بیٹھا تھا۔
سورج غروب ہونے کے بعددھیرے دھیرے آسمان سے شفق بھی معدوم ہو گئی۔ اطراف میں اندھیرا پھیلنے پر بس کے اندرروشنیاں جلا دی گئیں۔ بس میں داخل ہونے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے بچنے کے لیے لوگوں نے کھڑکیاں بندکرلیں۔
بس ایک تاریک کھوہ میں سفر کر رہی تھی۔گردوپیش کے تمام مناظراندھیرے کی چادر میں چھپنے کی وجہ سے بس کا ماحول بے کیف اور یکساں ہوگیا، جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی نذیر کو اونگھ سی آگئی۔ بہت دیر بعد جب بس ایک جھٹکے سے اپنے آخری اسٹاپ پر کھڑی ہوئی تو نذیر فوراً ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
اس نے ان تینوں کو بس سے اترتے دیکھا تو اس کی خوشی کا کوئی حساب نہ رہا۔وہ اپنی توقع پوری ہونے پر مسرور تھا کہ وہ لوگ یہیں رہتے تھے۔اب اسے پورا یقین ہو گیا کہ اس نے پکوڑا فروش کو ضرور کہیں دیکھا ہوگا۔
دیگر قصبوں کی طرح ٹھری میرواہ کا بازار بھی ایک طویل سڑک پر واقع تھا۔یہ طویل سڑک ایک جانب سے قصبے میں داخل ہو کر دوسری جانب سے میرواہ نہر تک چلی جاتی تھی۔اس کے اطراف چھوٹی چھوٹی گلیوں کا جال بچھا تھا۔ رات ابھی شروع ہی ہوئی تھی مگر قصبے کی بیشتر دکانیں بند ہو چکی تھیں۔چائے خانے تقریباً سبھی کھلے ہوے تھے اور وہاں سے ٹی وی پر چلنے والے پروگراموں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
بس سے اترنے کے بعد وہ تینوںاسی مرکزی سڑک پرچلنے لگے۔نذیر ایک بار پھر ان کا تعاقب کرنے لگا۔
پہلے چاچا غفور کے مکان والی گلی اور اس کے بعد اس کی دکان والی گلی پیچھے رہ گئی، مگر اس نے پروا نہیں کی اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا رہا۔اسے تجسس تھا کہ وہ تینوں کون سی گلی میں داخل ہوتے ہیں، مگر وہ لوگ کسی گلی میں داخل ہونے کے بجاے سیدھے چلتے چلے گئے۔ آگے جہاں سے سڑک بل کھا کر نہر کی طرف جاتی تھی وہ تینوں اسی راستے کی طرف مڑگئے۔نذیر ان کے پیچھے، مگر ان سے خاصی دور، سڑک پر کھڑا انھیں دیکھتا رہا۔
نہر کے پُل سے پہلے قصبے کی آبادی ختم ہوجاتی تھی۔نذیر تیزرفتاری سے دوڑتا ہوا پل تک پہنچا تو وہ لوگ پل سے اتر کر آگے بڑھ گئے تھے۔نذیر ہانپتا کانپتا پل پر کھڑا انھیں تاریکی میں تحلیل ہوتے ہوے دیکھتا رہا۔اسے معلوم تھاکہ پل سے اترنے والی کچی سڑک گوٹھ ہاشم جوگی کی طرف جاتی تھی۔وہ تیرگی میں چھوٹے سے پل پر مبہوت کھڑا رہا۔ اسے پردہ نشین کی آنکھیں یاد آرہی تھیں، وہ ایک بار پھر ان میں جھانکنا چاہتا تھا، انھیں جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا۔وہ ٹھنڈا سانس بھرتا پل کی دیوار پر بیٹھ گیا۔ اس کے لیے اس وقت آگے جانا ممکن نہیں تھا۔پل کے نیچے سے گزرتے پانی کی وجہ سے وہاں بے حد خنکی محسوس ہو رہی تھی۔وہ دیوار سے اٹھ کر چندقدم اس طرف بڑھاجس طرف وہ لوگ گئے تھے۔مزید آگے بڑھنے کی وہ ہمت نہ کر سکا۔اس نے دور واقع گوٹھ کی طرف دیکھا، جہاں دوچار ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں دکھائی دے رہی تھیں۔

اس شب وہ سونے کے لیے محراب دار برآمدے میں چارپائی پر بچھے اپنے بستر پر لیٹا تواسے محرابوں کی جگہ دو بڑی بڑی آنکھیں دکھائی دینے لگیں۔کبھی وہ آنکھیں بازو بن کر اس کے وجود کے گرد پھیل جاتیں اور کبھی ہونٹ بن کر اس کی سماعت میں مبہم لیکن مسحور کر دینے والی سرگوشیاں کر نے لگتیں۔نیند کے دوران خواب میں اس نے ان آنکھوں کو زیرِزمین غلام گردش میں تبدیل ہوتے دیکھا، وہ جس میں داخل ہوا تو پھر اسے وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں مل سکا۔ غلام گردش میں وہ ان آنکھوں کی مالکن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گیا مگر وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دی۔ صبح کو چاچی خیر النسا نے جب اسے نیند سے جگایا تو وہ ہانپ رہا تھا اور اس کا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔
وہ آنکھیں اس کے اعصاب پر اتنی بری طرح سوار ہوئیں کہ اگلے کئی روز تک وہ گوٹھ ہاشم جوگی کے پھیرے ہی لگاتا رہا لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ پردہ نشین کون تھی اور کس کے گھر میں رہتی تھی۔نذیر کبھی پیدل اور کبھی سائیکل پر گوٹھ کے آس پاس منڈلاتارہا۔وہ وقفے وقفے سے بہانہ بنا کر دکان سے چھٹی لیتا اورآدھے پون گھنٹے میں چکر لگا کرلوٹ آتا۔ایک مرتبہ اس نے گوٹھ سے آنے والے راستے پر نگاہ رکھنے کے لیے گنے کے کھیت کو منتخب کیا۔ وہ بہت دیر تک وہاں دبک کربیٹھا رہا اور گاؤں آنے جانے والوں پر نظر رکھتا رہا،مگر اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اس نے گوٹھ ہاشم جوگی آنے جانے والے تمام راستوں کا پتا چلایا او ر وہ وہاں بھی پہرہ دیتا رہا،مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

تین مرتبہ اسے برقع پوش عورتوں کو دیکھ کرا س پردہ نشین کا گمان گزرا۔ اس نے تندہی سے ان کا تعاقب کیا۔ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا وہ نہر عبور کرکے قصبے کی طرف نکل آیااوربازار کے اطراف کی گلیوں میں گھومتا پھرا۔نذیر کے لیے عورتوں کو ان کی چال کے ذریعے پہچاننا مشکل تھا مگر جب اس نے ایک نظر ان کی آنکھوں میں جھانکا تواسے فوراً پتا چل گیا کہ وہ برقعے کی وجہ سے دھوکا کھا گیا تھا۔
اسے اپنی کوششوں کے رائیگاں چلے جانے پر بے حد قلق تھا۔وہ اپنے آپ سے خفا بھی تھا کہ اس معاملے میں وہ کس قدر انہماک سے مبتلا ہوگیا تھا۔ ا یک ایسی عورت کے لیے اس کی جستجواورخواری کے کیا معنی؟اس کے لیے جس سے ملاقات کرنا ناممکن،جسے دیکھنا شدیددشوار اور جس سے گفتگو کرنا بالکل محال تھا۔اس نے خود کو ذلیل ترین آدمی تصور کیا۔اس نے اپنے آپ سے پیمان باندھا کہ وہ آئندہ اس کے بارے میں بالکل نہیں سوچے گا۔اس نے غصے میں آکر اپنے آپ سے پیمان تو باندھ لیا مگر وہ اچھی طرح جانتا تھا،اس کی ذات کے پاتال میں پیوست دوآنکھیں اسے بے قراری سے اپنی جانب بلاتی رہیں گی اور ان کے بلاوے پر وہ اپنا پیمان، اپنا غصہ وغیرہ سب فراموش کر دے گا،اور ایک نئے عزم کے ساتھ پردہ نشین کی جستجو میں نکل پڑے گا۔
ایک دوپہر کو نذیر وڈیرے کریم بخش جلبانی کی حویلی میں سلائی شدہ کپڑے پہنچا کر لوٹ رہا تھاکہ اسے ایک گلی میں وہی پکوڑا فروش اپنے پکوڑوں سے بھرے تھال سمیت نظر آیا۔اسے دیکھتے ہی اس کے پائوں ساکت ہو گئے۔
پکوڑا فروش ایک دیوار کے سائے میں تھال زمین پر رکھ کر بیٹھا تھا۔اس کے آس پاس چاربچوں نے حلقہ بنا رکھا تھا اور شور مچا مچا کر وہ سب اس سے پکوڑے مانگ رہے تھے۔ وہ ان کی مانگ پرہنستا ہوا اخباری کاغذ کے کٹے ہوے ٹکڑوں پر پکوڑے رکھ کر، ان پر مسالہ چھڑک کر بچوں کو تھمادیتا۔جس بچّے کو پکوڑے مل جاتے وہ اسے پیسے تھما کر بھاگ جاتا۔ اس کی چابکدستی کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں بچوں کی بھیڑچھٹ گئی۔ پکوڑوں سے بھرا تھال تقریباً آدھا فروخت ہو چکا تھا۔پکوڑا فروش اپنی آمدنی کا حساب لگا کر پیسے اپنی جیب میں رکھنے لگا۔اس دوران اس کی نظر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے نذیر پر جا ٹھہری، جو اس سے بظاہر لاتعلقی ظاہر کرتا یوں ہی اِدھراُدھر دیکھ رہا تھا۔
پکوڑا فروش ٹھنڈاسانس بھرتے ہوے اسے شک بھری نظر سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے کاندھے سے انگوچھااُتار کراپنے چہرے کی گرد صاف کرتے ہوے وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا۔اس نے کھڑے کھڑے جیب سے پولوفلٹر کا سگریٹ نکال کر سلگا یا اور دو تین لمبے کش کھینچے۔ اس کے بعد وہ اپنے تھال کو سر پر رکھ کر وہاں سے چل پڑا۔
جانے سے پہلے اس نے ایک بار پھر نذیر کو مشکوک نظروں سے دیکھا مگر وہ دوسری جانب دیکھتارہا اور اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔پکوڑا فروش کے جانے کے بعدوہ مخمصے میں تھا کہ اس کا پیچھا کرے یا نہ کرے۔اس دوران معاً اس کا ہاتھ اپنی جیب تک گیا تو وہاںچندنوٹوں کی موجودگی نے اسے مخمصے کے عالم سے نکالا۔ وہ تیز رفتاری سے اس سمت بھاگنے لگا جس طرف وہ گیا تھا۔
اگلی گلی کے موڑ پر اسے دور سے پکوڑا فروش جاتا ہوا دکھائی دیا۔تیز دوڑنے کی وجہ سے بےحدّت دھوپ کے باوجود نذیر کی بغلیں سلگنے لگیں اور وہاں سے بہتا پسینہ قمیض سے ہوتا اس کی شلوار میں داخل ہونے لگا۔اسے لگ رہا تھا کہ جب وہ پکوڑا فروش کے پاس پہنچے گا تو وہ قہقہے لگائے گا اور پوشیدہ بات آشکار ہوجائے گی۔اپنا پسینہ خشک کرنے کی خاطر وہ دھیرے سے چلتا اس کا تعاقب کرنے لگا۔آگے چل کرایک سایہ دار گلی میں اس نے پکوڑا فروش کو آواز دی:’’ پکوڑے والے، رکنا!‘‘
وہ اپنے سرسے تھال اُتارے بغیر رک گیا اور پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
نذیر آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیااور اس سے کھردرے لہجے میں پوچھنے لگا، ’’تھال میں جو پکوڑے بچ گئے ہیں، وہ کتنے کے بیچو گے ؟‘‘
پکوڑا فروش اس کے لہجے کے تحکم سے متاثر ہوا۔اس کی آنکھوں سے شک کے سبب پیدا ہونے والی درشتی غائب ہوگئی۔ وہ اپنی نظروں سے تھال میں پڑے پکوڑوں کو تولنے لگا۔’’سائیں وڈا! یہ سارے آپ اکیلے کھا نہیں سکیں گے۔‘‘
نذیر گھورتے ہوے بولا،’’تمھیں اس سے مطلب؟‘‘
’’غلطی معاف! پورا تھال چھتیس روپے کا دے دوں گا۔‘‘
’’مطلب، پکوڑوں کے ساتھ تھال بھی؟‘‘اس نے مسکراتے ہوے پوچھا۔
پکوڑا فروش عاجزی سے مسکرانے لگا۔’’یہ تو میری روزی کا وسیلہ ہے، سائیں!‘‘
’’تم کوئی گاڈا یا ٹھیلاکیوں نہیں خریدلیتے؟‘‘وہ اس کے مرعوب ہونے سے لطف اندوزہورہا تھا۔
’’بھوتار! میں غریب آدمی ہوں،گاڈا خریدنا میرے بس سے باہر ہے،‘‘ یہ بات کہتے ہوے اس نے تھال پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
نذیر نے اس کانام پوچھا تو اس نے بتایا:’’نُورل جوگی۔‘‘
سارے پکوڑے اخبار میں لپیٹنے کے بعد اس نے اپنے تھال کو فوراً اپنی بغل میں دبا لیا۔اس نے یہ دیکھ کر خود کو مسکرانے سے بمشکل روکا۔جب نورل نے اخبار میں لپٹے ہوے پکوڑے اس کی طرف بڑھائے تونذیر نے پکوڑے لینے سے انکار کردیا۔
اس کا انکار نورل جوگی کے لیے غیر متوقع تھا۔ وہ بار بار پلکیں جھپک کر اسے دیکھنے لگا۔نذیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پچاس کا نوٹ اس کی جیب میں رکھتے ہوے بولا،’’نورل، تم بہت اچھے آدمی ہو اور یہ تمھاری خرچی ہے۔‘‘
اس کی بات سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا، پھر اس نے اپنے آپ کوسنبھالا اور اپنے ہاتھ جوڑکر اس کا شکریہ ادا کیا۔
نذیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیااور خوش دلی سے اسے ساتھ چلنے کی پیشکش کرنے لگا۔’’آئو ! چل کرہوٹل پر بیٹھتے ہیں۔‘‘
یہ سن کرنورل کی باچھیں کھل اٹھیں۔ وہ نذیر کو صاحبِ ثروت خیال کرنے لگا۔وہ تابعداری اور جی حضوری کے جذبات سے سرشار ہو کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔اس نے اپنی حیرت اور پریشانی نذیر پر ظاہر نہیں ہونے دی۔وہ اندر سے سہما ہوا تھا کیونکہ اس وقت اس کی جیب میں تھوڑی سی چرس پڑی تھی۔اسے خدشہ تھا کہ یہ نوجوان سخی بابو کسی ایجنسی کا اہلکار نہ ہو اور اسے پچاس روپے اوراس کی چائے کی پیشکش کے عوض نورل کو کہیں تین مہینے حوالات میں نہ کاٹنے پڑجائیں۔ چائے خانے تک پیدل جاتے ہوے وہ اسے کریدنے کی کوشش میں اس سے الٹے سیدھے سوال پوچھتارہا۔نذیر بھی اس کی ذہنی کیفیت کو بھانپ چکا تھا۔وہ اس کے بے تکے سوالوں کے بے تکے جواب دیتا رہا۔ وہ اس بات سے بھی بے نیاز ہو گیا کہ چھوٹے سے قصبے میں حقیقت کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو یہ سوچ کر تسلی دے کر مطمئن کر لیاتھاکہ اس کا تعلق اس قصبے سے نہیں تھا۔یہی سوچ کر اس نے دروغ گوئی سے کام لیتے ہوے نورل کے سامنے خود کو وڈیرے کریم بخش جلبانی کے دوست کا بیٹا ظاہر کر دیا۔نورل نے اس کے جھوٹ پر یقین کرلیااوراسے اطمینان ہوگیا کہ یہ چھوکرا اسے حوالات میں بند نہیں کروائے گا۔
چند چھوٹی بڑی گلیوں سے گزرتے وہ بازار تک پہنچے او ر بازار سے گزر کرنہر کے وسیع و عریض بندپر واقع ایک چائے خانے تک۔یہ میرواہ نہر کا دایاں کنارہ تھا اور آگے اس کنارے پر واقع کئی گوٹھوں کے لیے یہ بنداچی سڑک کا کام بھی دیتا تھا۔اس سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت براے نام ہوتی تھی۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر چائے خانے کے مالک نے سڑک پر کرسیاں بچھا دی تھیں۔اس چائے خانے کے آس پاس چندخستہ سی دکانیں تھیں۔ کسی دکان میں حجام کام کررہا تھا تو کسی میں بڑھئی۔ان دکانوں کے عقب میں مکانوں کی طویل قطار ان سے متصل تھی۔ مکانوں کی یہ قطارتھوڑی دور جاکر ختم ہوجاتی تھی۔ سب سے آخر میں محکمۂ آبپاشی کا ڈاک بنگلہ واقع تھاجبکہ سامنے،بائیں کنارے پر، کھیتوں کا طویل سلسلہ تھاجس کے درمیان کہیں کہیں چھوٹے بڑے گوٹھ نظرآتے تھے۔
نذیر بند پر درختوں کے نیچے بچھی کرسیوں میں سے ایک پربیٹھ گیا۔اس کے چہرے کا رخ گوٹھ ہاشم جوگی کی طرف تھا جہاں اسے متحیر کرنے والی، بے باک اور چمکداردو آنکھوں کی جوڑی کی مالکن رہتی تھی۔اس کے دل میں بسی برقع پوش کی یاد کی آگ دھیرے دھیرے آنچ دینے لگی۔نورل بلاسبب اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتا، اپنا تھال اس کے سامنے رکھ کر چائے خانے کے اندر چلا گیا۔
نذیر کو اس سے بے حد اہم باتیں پوچھنی تھیں۔ وہ منھ بسورتے ہوے نہر کی طرف دیکھنے لگا۔نہر میں پانی بہت کم تھا۔کناروں کے اندر پانی سے زیادہ مٹی نظر آرہی تھی۔ شیشم کے ٹنڈمنڈ درخت بند پردور تک قطار وارکھڑے تھے۔
نورل جوگی نے واپس آنے میں کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی مگر جب وہ آیا توچائے کی پیالیاں ہاتھوں میں اٹھائے ہوے آیا۔اس کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں اور اس کا چہرہ سوجا ہواتھا۔
نذیر فوراً بھانپ گیا کہ پکوڑا فروش نے اندر ضرور چرس یا بھنگ کا نشہ کیا ہے اسی لیے اس کی یہ درگت بنی ہوئی ہے۔اس نے مسکرا کر اسے دیکھا اور چائے کا گھونٹ لیتے ہوے نذیر اس سے چرس کا سگریٹ پلانے کی فرمائش کی۔اس کی فرمائش سن کر پکوڑافروش نے قہقہہ لگایااور کسی توقف کے بغیرجیب سے سگریٹ نکال کر اسے خالی کرنے لگا۔اس کے ہاتھ سرعت سے کام کر رہے تھے۔اس دوران وہ چند لمحوں کے لیے دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہوگیا۔چرس کا سگریٹ بننے کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ پر دیاسلائی اور دوسرے پر چرس کا سگریٹ رکھ کر اسے پیش کردیا۔نذیرکو چرس پیتے دیکھ کر اس کے ذہن میں بسے دیگر شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے۔
نذیر پہلی بار چرس کے سگریٹ کو اپنے ہونٹوںسے لگا رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی پہلا کش لگایا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کی چھاتی پر کسی نے زوردار مُکّامار دیا ہو۔ وہ فوراً کھانسنے لگا اور اس کا سر اتنی تیزی سے چکرانے لگا کہ اس کی آنکھوں سے پانی رواں ہو گیا اور اس کے حلق میں کڑوا ذائقہ پھیل گیا۔اس نے اپنے سر کو دو تین بار زور سے جھٹکا اور ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔کچھ دیر بعد اس کے سر نے چکرانا بند کر دیا اور گردوپیش کی چیزوں کا گھومنا بھی تھم گیا۔
نورل بھاگتا ہوا گیا اور پانی سے بھرا گلاس لے آیا۔ اس نے پانی سے بھرا گلاس نذیر کو تھمایا۔پانی کے چند گھونٹ پی کر اس کے حلق میں پھیلی تلخی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے بےحد اصرار کے نورل سے ایک مرتبہ پھر چرس کا سگریٹ لیااور دوتین کش لگائے۔ اس بار بھی وہ کش کے ذریعے زیادہ دھواں نہیں کھینچ سکا۔
نورل اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر مسکراتے ہوے کہنے لگا،’’میرے سائیں،یہ فقیر فقرا کا پسندیدہ نشہ ہے۔ اس کے کش لگا کرآدمی کا ذہن عرش پر پہنچ جاتا ہے۔‘‘
نذیر نے اس کی بات سمجھے بغیر اثبات میں سر ہلایا، مگر درحقیقت اس کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔ اسے نورل جوگی سے بہت کچھ پوچھنا تھا مگر چرس کے چند کش لگا کر وہ اپنی جرأتِ اظہار کھوچکا تھا۔اس کے لیے سوال پوچھنا تو درکنار، بات کرنا بھی سخت دشوار ہو رہا تھا۔وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوا پکوڑا فروش سے بس اتنا ہی کہہ سکا۔’’نورل، آج سے اپنی دوستی پکی۔ ٹھیک ہے؟‘‘
’’ہاں، بالکل ٹھیک ہےبھوتار!‘‘ اس نے تابعداری سے جواب دیا۔
کچھ دیر بعد نذیر نے رخصت لیتے ہوئے اسے خداحافظ کہا اور ڈگمگاتے قدموں سے ڈاک بنگلے کی طرف چل پڑا۔وہ ایسی حالت میں دکان پرنہیں جانا چاہتا تھا۔اسے خوف تھا کہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کرسب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ اس نے نشہ کیا ہوا ہے۔وہ ڈاک بنگلے کے عقب میں واقع سرسبز قطعۂ زمین پر نیم کے گھنے پیڑوں کی چھائوںمیں کچھ دیر سستانے کی غرض سے دراز ہو گیا۔خنک ہوا اور نشے کی وجہ سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں اور اس کے اعصاب پر نیند کا خمار چھانے لگا۔

نذیر کو میرپور ماتھیلو سے ٹھری میرواہ آئے ہوے چھ مہینے سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔اسی لیے یہاں زیادہ لوگوں سے اس کی جان پہچان نہیں تھی۔وہ اپنے والدین کی آٹھ اولادوں میں چوتھے نمبر پر تھا، اس لیے اس کے حصے میں ماں باپ کا اتنا پیار نہیں آسکا جتنا اس کے سب سے بڑے بھائی اور سب سے چھوٹے بھائی کے حصے میں آیا تھا۔ اس کا بچپن اور لڑکپن ماں باپ اور بڑے بھائیوں کی گھرکیاں کھاتے ہوے گزرا۔ پانچ برس کی عمر میں جب اسے اسکول میں داخل کروایا گیا تو پہلے ہی دن ایک لنگڑے استاد نے کسی وجہ کے بغیر اسے تین زوردار تھپڑ رسید کیے۔اب معلوم نہیںیہ استاد کے تھپڑوں کا اثر تھا یا اس کی طبیعت کا من موجی پن، کہ وہ آٹھویں جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکا۔اسکول کو خدا حافظ کہنے کے بعد اس نے آوارہ گردی کا شغل اپنایا۔وہ صبح سے شام تک میرپورماتھیلو کے گلی محلوں کی خاک چھانتا پھرتا۔ اپنی والدہ کی ڈانٹ ڈپٹ کو وہ خاطر میں نہیں لاتا تھا، مگر اپنی آوارہ گردیوں کی وجہ سے وہ اکثر اپنے بڑے بھائیوں کے ہاتھوں مار کھاتا۔اس کے والد میرپورماتھیلو کے مشہورحلوائی تھے اور وہاں ان کی مٹھائی کی بہت بڑی دکان تھی۔اس کے تین بڑے بھائی دکان پر والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ نذیر کی آوارہ گردیوں سے تنگ آکر اس کے والد نے اسے بھی دکان پر رکھ لیا۔ اس کی عمر کا یہ وہی دورتھا جب اپنی ہم عمر لڑکیاں بلا کسی سبب کے اچھی لگنے لگتی ہیں۔ راہ چلتے ہوے کسی حسین دوشیزہ کی ایک جھلک ہی اسے راستے سے بھٹکانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔وہ اپنے والد اور بھائیوں کے بتائے ہوے کام فراموش کر کے اس حسین دوشیزہ کو اس کے گھر تک پہنچانے کا فریضہ انجام دینے لگتا تھا۔بعد میں جب اس کے بھائی اور والد کام میں ہونے والی تاخیر کے متعلق دریافت کرتے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتا۔ ایسے میں اس کے بھائیوں اور والد کے طمانچے اس کے چودہ طبق روشن کر دیتے۔گھر پہنچ کر وہ اپنی ماں کو بھائیوں اور والد کی اس کارگزاری کے بارے میں بتاتا تو وہ دکھ اور افسوس سے اس کے سرخ گالوں پراپنے ہاتھ پھیرتی۔
نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہر بدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔وہاں کا راستہ اسے ایک دوست نے دکھایا، اس کے بعد وہ خودہی آنے جانے لگا۔ مگر زوری بہت منھ زور تھی۔ اس جیسے کم عمر بالک پر اپنی نظرِ الفت ڈالنا اسے اپنے شایانِ شان نہیں لگتا تھا۔ہر مرتبہ وہ تھوڑی دیرتک زوری کا دیدار کر کے لوٹ آیا۔ایک روز اس کے والد نے اسے پچاس ہزار روپے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیے، مگر اس کے دل میں نہ جانے کیا سمائی کہ وہ رقم جیب میں لیے چکلے پہنچ گیا۔وہاں پہنچنے کے بعد جب اس نے زوری کے سامنے نوٹوں کی گڈی نکالی تو وہ اس پر توجہ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ مگر وہ بھی ایک گھاگ عورت تھی، نذیر جیسے نوخیز لڑکے کو بہلانا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔وہ شام تک اسے اپنی لچھے دار باتوں سے بہلاتی رہی۔دوسری طرف دکان پر اس کے واپس نہ آنے پر ڈھنڈیا مچ گئی۔ اس کے بھائیوں نے اس کے دوستوں سے مل کر اور انھیں کرید کر پتا چلالیا کہ اس وقت وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے۔انھوں نے اپنے والد کی معیت میں چکلے پر چھاپہ مارا تو وہ زوری کے کمرے سے برآمد ہوا۔اس کے بھائیوں اور والد نے زوری کو دھمکیاں دے کر اس سے سارے پیسے نکلوا لیے اور نذیر کو پیٹتے ہوے وہاں سے لے گئے۔اس واقعے کے اگلے دن اس کے والد نے اس کی حرکتوں سے نالاں ہو کر اسے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھری میرواہ بھجوا دیا۔

نورل پکوڑا فروش سے اگلی دو ملاقاتوں میں بھی نذیر اپنے دل و دماغ میں پیوست آنکھوں کی مالکن کے متعلق کوئی بات نہیں پوچھ سکا۔مگر نورل سے اس کی دوستی مضبوط ہو گئی تھی۔وہ مطمئن تھا کہ مسحورکن آنکھوں والی کاشجرۂ نسب معلوم کرنا اب اس کی دسترس میں تھا۔مگر اسے یہ احساس بھی شدت سے تھا کہ اس معاملے میں اسے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔یہی سوچ کر ایک روز نذیر نے شام ڈھلے نورل کو نہر کے کنارے اسی ہوٹل پر بلایا۔یہ ان کی چوتھی ملاقات تھی۔نذیر چاہتا تھا کہ اس عورت کے بارے میں آج ساری تفصیلات معلوم کر کے کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کر لے، کہ اسے اس عورت تک رسائی کے لیے کوشش کرنی چاہیے یا اس کی یاد کو ہمیشہ کے لیے طاقِ نسیاں پر رکھ دینا چاہیے۔ اپنی پہلی غلطی کے خمیازے کے طور پر نذیر کو ہر ملاقات پراس کے ساتھ چرس کا سگریٹ پینا پڑ رہا تھا۔اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے اس بتایاکہ وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ آدمی ایک موالی ہے— اسی وجہ سے تو اس نے اس کے ساتھ دوستی کی تھی۔نورل اس کی یہ بات سن کر اپنے آپ پر فخر محسوس کرنے لگا۔ نذیر گزشتہ ملاقاتوں کی طرح اس بار بھی اس سے تفصیلات معلوم کرنے میں ناکام رہا۔اسے اپنی کم ہمتی پر غصہ آرہا تھاکہ وہ ایک معمولی سے آدمی کے سامنے کھل کر بات کرنے سے گھبرارہا ہے۔ اسے دل ہی دل میں یقین تھا کہ وہ جب بھی پکوڑافروش سے اس بابت دریافت کرے گا، وہ اسے کسی ردوکد کے بغیر سب کچھ بتا دے گا۔مگر چرس کے سگریٹ پینے کے بعد وہ نجانے کیوں گھگھیانے لگتا تھا۔عام سی باتیں کرتے ہوے بھی اس کی زبان میں گرہ لگ جاتی تھی۔اس نے چرس پر تمام الزام رکھ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی۔مگر وہ بھول رہا تھا کہ ایک مرتبہ بھی نورل نے اسے چرس پینے کی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ ہر بار اسی نے اصرار کر کے اس سے چرس پینے کی خواہش کی تھی۔
نذیر دھیرے دھیرے چرس کا عادی ہونے لگا تھا۔اسے اس نشے میں لطف آنے لگا تھا۔اس کے چند کش لگانے کے بعد وہ خود کو پردہ نشین کے قرب میں محسوس کرنے لگتا تھا۔وہ اس کے ذہن و دل میں ایستادہ دھیرے دھیرے اپنا نقاب اتارتی تووہ مبہوت ہو کر اس کے جمال کا مشاہدہ کرنے لگتاتھا۔اس کا مکمل چہرہ اسے اس کی آنکھوں سے زیادہ تابناک محسوس ہوتا۔ایسے لمحوں میں اسے یقین ہونے لگتا کہ یہ حسینہ غیر زمینی جمال لے کر اس کرۂ ارض پر اتری ہے۔نذیر ہولے ہولے برقع پوش کی حقیقت سے زیادہ اس کے خیال کی لو سے متاثر ہو رہا تھا۔
اسی لیے نذیر پکوڑا فروش کے ساتھ ایسی تمام جگہوں پر جانے لگا جہاں موالی اکٹھے ہوتے تھے۔ نورل کے ساتھ اسے ہر جگہ خوش دلی سے قبول کیا جاتا او ر ان دونوں کی چرس اور چائے سے خوب آؤبھگت کی جاتی۔
چرس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نذیر احساسِ جرم محسوس کرنے لگا۔ اس عرصے میں چاچا اور چاچی نے کئی مرتبہ اس سے اس کی صحت کے بارے میں پوچھا مگر اسے ہر بار جھوٹ بول کر انھیں جھانسا دینا پڑا۔
نذیر کے دوست حیدری کو بھی اس گڑبڑکا احساس ہوگیا تھا۔نذیر نے ایک دن اس کے پاس جا کر پڈعیدن اسٹیشن سے شروع ہونے والے اس قصے کی مکمل تفصیلات بتا دی تھیںاور اس کے بعد کے معاملات سے بھی اسے باخبر رکھتا رہا تھا۔۔حیدری نے ہر مرتبہ اس کی سادہ لوحی کا مذاق اڑایا کیونکہ وہ پکوڑا فروش کو اچھی طرح جانتا تھا۔نذیر نے حیدری کی منت سماجت اور خوشامد کرکے اسے اپنی مدد کرنے پر آمادہ کرلیا۔حیدری نے اسے مشورہ دیاکہ وہ اسے اپنے ساتھ دکان پر لے آئے۔

نذیر شام کی نیم تاریکی میں ہوٹل پہنچا تو اس نے دیکھا کہ نورل شیشم کے درخت کی کی آڑ میں بیٹھا ہواچرس کا سگریٹ بنا رہا تھا۔ اس کے سر پر مچھروں کا غول منڈلارہاتھا مگر وہ اس سے بے پروا سگریٹ بھرنے میں مگن تھا۔نذیر نے اسے دیکھتے ہی کہا،’’تم یہاں چھپ کر بیٹھے ہو؟‘‘
نورل گردن موڑ کر اسے دیکھتا مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔اس نے چرس کے تازہ تازہ سگریٹ کو اپنے انگوٹھے کے ناخن پر آخری مرتبہ ٹھوکااوراگلے ہی لمحے وہ سگریٹ سلگاتے ہوے بولا،’’ میں چھپ کر نہیں، سرِ عام بیٹھا ہوں اور مجھے یہاں بیٹھے ہوے بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘
نذیر نے اس کے شانے پرہاتھ رکھتے ہوے کہا،’’میں بندوبست کرنے میں مصروف تھا۔‘‘
اس کی بات سن کر نورل چونکا۔’’کس چیز کا بندوبست؟‘‘
’’ایک بہت ہی خاص چیز کا۔ تم اٹھ کرمیرے ساتھ چلو۔‘‘
اس نے سگریٹ کے کش کھینچ کر اسے نذیر کی طرف بڑھا دیا۔’’ پہلے اسے پی لیں، اس کے بعد چلتے ہیں۔‘‘
سرد ہوائوں کی وجہ سے بڑھنے والی خنکی کے سبب چائے خانے کا عملہ اندر تھا۔ ویران اور کچی راہگزر پر چند کرسیاں پڑی تھیں۔ نہر سے اترکر گوٹھ ہاشم جوگی جانے والا راستہ دھول سے اٹا تھا۔دھند اور دھویں کی دبیز تہہ گوٹھ کے مکانوں کے گرد حصار بناتی ٹھہر سی گئی تھی۔ آسمان پر شفق کی سرخی، سرمئی رنگ میں تبدیل ہوکر، آہستہ آہستہ مغرب سے امڈتی ہوئی تاریکی میں جذب ہوتی جارہی تھی ۔ سگریٹ کا آخری کش لگا کر نورل نے سگریٹ کا ٹکڑا نہر کی طرف اچھال دیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے اوپر لے جا کر تالیاں بجاکر مچھروں کو مارنے لگا۔ اس کی یہ حرکت دیکھ کرنذیر نے ہنستے ہوے اسے دھکا دیا۔ نورل نے خود کو گرنے سے بمشکل بچایا۔ اس کے بعد وہ دونوں بازار کی طرف چل پڑے۔
نہر کے پُل کے قریب گھورے کے ڈھیر پرکتّے اور بلیاں اپنے پنجوں کی مدد سے اپنے لیے خوراک ڈھونڈرہے تھے۔دن کے وقت پل کے اطراف پھلوں اور کھانے پینے کی اور چیزوں کے ٹھیلے لگے ہوتے تھے اوریہاں کھانے کے شوقین لوگوں کا ہجوم رہتا تھا، مگر شام ڈھلنے سے پہلے پہلے یہاں کی رونق ختم ہو جاتی تھی۔ اس وقت پُل کی دیوار پر بیٹھ کر دو لڑکے آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
ایک کتے اور کتیا کو جفتی کرتے ہوے دیکھ کرنورل قہقہہ لگا یا۔ایک پتھر اٹھا کر ان کی طرف پھینکتے ہوے پل سے اترنے والی ڈھلان پر دوڑتا چلا گیا۔نذیر نے مذاقاً اسے ایک گالی سے نوازا۔ شام کے وقت بازار کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے سڑک بہت کشادہ معلوم ہورہی تھی۔سڑک پر کچھ دور جا کر وہ دونوں داہنی طرف واقع ایک گلی کی طرف مڑ گئے۔اس گلی میں حیدری کی تمباکو کی دکان تھی۔
حیدری اپنی دکان کھولے بیٹھاان کا انتظار کررہا تھا۔اس نے اپنے والد کو بہت دیر پہلے گھر بھیج دیا تھا۔ وہ ان کے انتظار میں بار بار اٹھ کر سڑک پر نگاہ ڈالتا اوربیٹھ جاتا۔مختصر سی دکان بہت خستہ حال تھی۔ گلی میں اس کے دروازے کے نیچے سے ایک بد رو گزرتی تھی۔حیدری کا باپ اس بدرو کی وجہ سے ٹاؤن کمیٹی کو ستا رہتاتھاکیونکہ اس کے سبب دکان کی بنیادوں اور دیواروں میں سیلن آگئی تھی۔ دکان کے فرش پرتمباکو کی کھلی ہوئی بوریاں پڑی رہتی تھیں جس کی وجہ سے تمباکو کی گہری خوشبواس کے درودیوار میں رچی بسی ہوئی تھی۔
حیدری ایک بار پھر اٹھا، اس نے الماری کے پاس جا کر اس کا ایک پٹ کھولااور وہاں رکھے ہوے لفافے کو ٹٹولنے لگا۔ لفافے میں موجود شے کو محسوس کرکے اسے اطمینان سا ہوا۔
نذیر نالی پھلانگ کردکان میں داخل ہوا، جبکہ نورل نے چھلانگ لگا کر بدرو پارکی اور اندر داخل ہوا۔ تمباکو کی گہری بو کے زیرِاثر نورل لگاتار چھینکیں مارنے لگا۔مسلسل چھینکنے سے اس کی جو حالت ہو رہی تھی اس سے محظو ظ ہوتے ہوے وہ دونوں ہنسی میں لوٹنے لگے۔نورل نے سو کینڈل پاور کے بلب کی زرد روشنی میں دکان کا جائزہ لیا تو وہ اسے قبر جیسی معلوم ہوئی۔ قبر کا خیال آتے ہی اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اورزیرِلب توبہ توبہ کرنے لگا۔ نذیر نے اسے تمباکو سے بھری بوری پربٹھاتے ہوے بتایا کہ انھوں نے اس کی دعوت کے طور پر اس کی خاطر شراب کا بندوبست کیا ہے۔شراب کا ذکر سنتے ہی نورل نے اٹھ کر فوراً جیے شاہ نورانی اورجیے لاہوتی کا نعرہ بلند کیا۔ حیدری نے اسے جھڑکا کہ گلی سے گزرنے والے لوگ بلاسبب ان کی متوجہ ہو جائیں گے اور یہ دعوتِ بادہ و ساغر برباد کر دیں گے۔ جھڑکی سننے کے بعد نورل نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی۔ اس کی آنکھوں میں حریصانہ چمک واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی۔حیدری ایک بار پھر اٹھ کر الماری تک گیا اور اس کا ایک پٹ کھول کر لفافہ باہر نکالا اور اس کے ساتھ ہی پانی سے بھرا جگ اور تین خالی گلاس بھی نکال لیے۔نذیر نے حیدری کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا اور اس میں سے بوتل نکال کر نورل کو دکھانے لگا۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کانچ کی بوتل اور اس میں بھرے آتشیں محلول کو دیکھنے لگا۔
نذیر اس کا تجسس مزید بڑھانے کے لیے اسے بتانے لگا:’’اس شراب کا انگریزی نام لائن ہے۔لائن کو سندھی زبان میں شینھ کہتے ہیں۔ مطلب، اسے پینے کے بعد آج کی رات تم شیر بن جائو گے۔بس ہم دونوں کا خیال رکھنا، باقی سب خیر ہوگی۔‘‘
اس بات پر وہ تینوں بے ساختہ ہنسنے لگے۔نورل جوگی نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہاں کا ماحول دوستانہ ہے۔اس کا فائدہ اٹھا کر وہ انھیں اپنی شراب نوشی کی تاریخ سنانے لگا۔وہ پلاسٹک کی بوتلوں میں ملنے والی دیسی شراب اب تک سات مرتبہ پی چکا تھا۔وہ اپنی زندگی میں پہلی بار شیشے کی بوتل والی شراب پی رہا تھا۔ وہ اس قدرافزائی کے لیے نذیر کا بے حد ممنون تھا۔
حیدری نے ناپ تول کر شراب کے تین پیگ بنائے اور اس کے بعد ان میںملانے لگا۔جب وہ نورل کے پیگ میں پانی ملانے لگا تو اس اس کا ہاتھ روک لیا اور اسے اپنی شراب میں پانی نہیں ملانے دیا۔تینوں نے اپنے اپنے گلاس تھام لیے اور چسکیاں لے لے کر پینے لگے۔
حیدری نے اس کے گھٹنے پرہاتھ مار تے ہوے اس سے پوچھا،’’نورل ! ہمیں بتائو۔ کبھی تم نے کسی سے محبت کی؟‘‘
پکوڑا فروش تو پہلے سے ہی موج میں تھا۔شراب کی وجہ سے اس کا نشہ دوآتشہ ہو گیا تھا۔ وہ انھیں قصبے میںبھیک مانگنے والی باگڑی عورتوں کے متعلق بتانے لگا، چند روپوںکے عوض وہ جن سے مباشرت کر چکا تھا۔ان عورتوں میں سے ایک لچھمی اسے آج بھی بہت یاد آتی تھی۔وہ جب اس سے ملا تھا تب وہ سولہ سال کی تھی اور اس کے تن پر جوانی کی باڑھ آئی ہوئی تھی۔اس سے ملنے والی لذت کو وہ آج بھی اپنے رگ و ریشے میں محسوس کرتا تھا۔
نورل کے بعد حیدری اپنا فرضی معاشقہ سنا نے لگا۔اس دوران نذیر گم سم بیٹھا رہا۔ اسے اس حال میںدیکھ کر نورل نے ہنستے ہوے کہا،’’ مجھے لگتا ہے،یہ محبت میں ناکام ہوگیاہے۔یا پھر کسی نے اس کے ساتھ محبت ہی نہیں کی۔‘‘ وہ اپنے سوال پرخود ہی کھیسیں نکالنے لگا۔
نذیر گلاس سے گھونٹ بھر کر سنجیدگی سے بولا،’’میرا دل ایک پردہ نشین کی آنکھوں میں غرق ہوچکاہے۔ وہ پڈعیدن سے ٹرین میں آتے ہوے مجھے راستے میں ملی تھی۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر پڈعیدن کا ذکر کیا تھا تاکہ نورل کوئی ردِعمل ظاہر کرے مگر وہ اس شراب سے طاری ہونے والی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
یہ بات سن کر حیدری چونکا جیسے اسے بہت اہم کام یاد آگیا ہو۔وہ جلدی سے پکوڑافروش سے مخاطب ہوا۔’’ نورل!ہمارا یار بہت دکھی ہے۔ ہم پر خدا کی لعنت ہو اگر ہم اپنے دوست کی مدد نہ کریں۔کیوں بھئی؟‘‘
نورل نے فوراًاثبات میں سرہلاتے ہوے کہا،’’ ہاں ہاں! جو یار کی مدد نہ کرے اس پرلعنت ہو بے شمار۔‘‘
حیدری نے بات آگے بڑھائی۔’’ مگر نورل، ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے یار کی معشوق ذات کی جوگی ہے او ررہتی بھی تمھارے گوٹھ میں ہے۔‘‘
’’اچھا؟ وہ میرے گوٹھ میں رہتی ہے؟ پھر نذیر یار، تجھے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے بس اس کا نام بتائو۔‘‘
’’ یہی تو مسئلہ ہے۔میں اس کا نام نہیں جانتا۔‘‘ نذیر اسے پڈعیدن سے ٹھری میرواہ تک کے اپنے سفر کی روداد سنانے لگا۔ روداد مکمل ہونے پراس نے نورل سے پوچھا، ’’اب تم ہی بتا سکتے ہو، اس پردہ نشین کا نام کیا ہے؟‘‘
اس کی بات ختم ہوتے ہی نورل نشے کی جھونجھ میںسرہلاتے ہوے بولا۔’’ ہاں۔ میں سب سمجھ گیا۔وہ...وہ میرے گوٹھ کے معمولی وڈیرے اور ٹیلی فون آپریٹر موسیٰ جوگی کی زال ہے اوراس کا نام شمیم ہے۔ اسے وہ پیار سے چھمی کہہ کر بلاتا ہے۔‘‘
’’تم کس طرح اس سے نذیر کے بارے میںبات کروگے؟‘‘حیدری نے اسے کریدا۔نورل نے فوراً اس کے جواب میں کہا، ’’ وہ میری ماموں زاد بہن ہے اور میرااس کے گھر آنا جانا ہے۔ویسے آپس کی بات ہے، وہ اپنے شوہر سے خوش نہیںہے۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘نذیر نے بے چینی سے دریافت کیا۔
نورل اس تفصیل بتانے لگا۔’’ موسیٰ جوگی اسے گھر کا خرچہ نہیں دیتاکیونکہ وہ چوٹی کا رنڈی باز اور جواری ہے۔ وہ آئے دن اس کی پٹائی کرتا رہتاہے۔‘‘
’’کیا تم اپنی بیوی کے ذریعے اس سے میرے بارے میںبات نہیں کر سکتے؟‘‘ نذیر نے جھجکتے ہوے اس سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔
نورل نے یہ سن کر کچھ دیر کے لیے چپ سادھ لی۔چند لمحوں بعدوہ کہنے لگا،’’ کچھ دن پہلے میری بیوی نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ جوگی کی بیوی پڈعیدن سے آتے ہوے راستے میں کسی کو دیکھ دیکھ کر ہنستی رہی تھی۔‘‘
’’تم اس کے ذریعے میرے یار کی بات چلاؤ،‘‘حیدری نے کرسی کے نیچے سے بوتل نکالتے ہوے کہا۔
نورل بوتل کے سحر میں مبتلا، سر ہلاتے ہوے بولا،’’جوسنگت کی صلاح۔‘‘
انھیں شراب پینے کی عادت نہیں تھی۔اس لیے انھیں اس کے نشے کا اندازہ نہیں تھا۔وہ آپس میں ایک دوسرے کویقین دلانے کی کوشش کررہے تھے کہ انھیں نشہ نہیں چڑھا ہے، جبکہ باتیں کرتے ہوے ان کے لہجے بگڑ گئے تھے اورلفظوں کے تلفظ تک بالکل غلط ہو گئے تھے۔وہ گفتگو میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے ہڑبونگ مچا رہے تھے۔
ان کے بلند آہنگ لہجے سن کر گلی سے گزرتے ہوے راہگیر ٹھٹک کر دکان کے سامنے رک گئے اور شور مچانے کا سبب پوچھنے لگے۔ انھیں یہ ہوش نہیں رہا تھا کہ وہ مرکزی سڑک سے متصل گلی میںحیدری کی دکان پربیٹھے تھے۔کسی واقف کار یا رشتے دارکی آمداِن کی شراب نوشی کو تمام قصبے کے باسیوں کے لیے گفتگو کا دلچسپ موضوع بناسکتی تھی... اور پھربات صرف گفتگو تک ہی محدودنہ رہتی۔
نذیر اور حیدری کو خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو پکوڑافروش موالی اپنے گھر پہنچ کر اپنی بیوی سے اس ضمن میںبات کرنا بھول جائے۔ وہ اسے یہ بات یاد رکھنے لیے اپنی دوستی کے ساتھ ساتھ مولا مشکل کشااور شاہ نورانی کے واسطے دیتے رہے جبکہ پکوڑا فروش بار بار سر ہلا کر انھیںیقین دلاتا رہا کہ وہ نشے میں نہیں ہے اور وہ گھر پہنچ کر اپنی گھر والی سے ضرور بات کرے گا۔وہ انھیں یہ یقین بھی دلاتا رہا کہ اب اس کی ان دونوں سے پکی دوستی ہے اور وہ ان کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے۔ اس بات پر نذیر نے اٹھ کر اس کا ماتھا چوم لیااور ساتھ ہی اس سے یہ وعدہ بھی کرلیا کہ ٹیلی فون آپریٹر کی بیوی سے اس کا تعلق قائم ہو جانے پر وہ اسے گھوڑا مار کہ بوسکی کا کپڑا خرید کراور اس کاجوڑ اپنے ہاتھوں سے سی کر اسے دے گا۔اس پیشکش پر نورل نے اسے ایک فوجی کی طرح کھڑے ہو کرسلیوٹ کیا اور اپنا قدم آگے بڑھایا۔وہاں پڑی ہوئی تمباکو کی بوری اسے دکھائی نہیں دی اور وہ اس پر سے ڈگمگا کر نیچے گرگیا۔ کھلی ہوئی بوری سے نکل کر تمباکوفرش پر پھیل گیا۔حیدری یک دم اٹھا اور فرش پر گرا ہوا تمباکوبوری میں بھرنے لگا۔
پکوڑا فروش موقع تاک کر حیدری کی کرسی پر براجمان ہو گیا۔ اپنی اس کارگزاری پر وہ کھیسیں نکالنے لگا۔ حیدری اسے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر بہت جزبز ہوا۔ اس نے اسے الف ننگی گالیاں دیںجنھیں سنتے ہوے پکوڑافروش ہنس ہنس کر محظوظ ہوتا رہا۔حیدری نے کلائی پر بندھی گھڑی کو آنکھوں کے نزدیک لے جاکر اس پر وقت دیکھا تو دس بجنے والے تھے۔وہ سٹپٹایا کیونکہ اسے گھر پہنچ کر والد کے طمانچوں کا خیال آنے لگا تھا۔وہ سہم گیا کہ اگر والد کو اس کی شراب نوشی کا پتا چل گیا تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے نکال دے گا۔اسے معلوم تھا کہ اگلے دن تک اس کے منھ سے شراب کی بو نہیں جائے گی۔
دکان کے دروازے پر کسی قوی الجثہ شخص کا سایہ دیکھ کر حیدری خوف سے کانپ کر رہ گیا۔اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور زبان سے ایک لفظ تک نہیں نکلا۔نذیر اور پکوڑافروش بھی مبہوت ہو کر اسے تکنے لگے اور اندازہ لگانے لگے کہ یہ کوئی بشر ہے یا جن بھوت۔ اس طویل قامت ہیولے جیسے شخص نے اپنے چہرے کوڈاٹھا باندھ کرچھپایا ہوا تھا۔ اس کے پورے جسم پر چادر پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ میںلکڑی کا بڑا سا ڈنڈا تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹارچ پکڑی ہوئی تھی۔اس نے ٹارچ سے باری باری ان تینوںکے چہروں پر روشنی ڈالی۔
نذیر اور حیدری کے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ انھوں نے دکان پر کھڑے طویل قامت شخص کوواقعی کوئی ماورائی ہستی تصور کرلیا تھا، مگر نورل جوگی مسلسل اسے دیکھتے رہنے کی وجہ سے پہچان گیاکہ وہ ٹھری میرواہ کے بازار کا پراناچوکیدار ہے۔ اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا:’’ارے لاہوتی سلیمان شر، یہ تم ہو کیا؟ کیا تمھارے نازل ہونے کا وقت ہوگیا۔ آدھی رات گزر گئی ہے کیا؟‘‘
یہ سن کرجناتی قد کاٹھ والے سلیمان شر نے قہقہہ لگایا۔’’ ارے نورل! پکوڑے بیچنے والے، اس وقت تیرا یہاں کیا کام؟‘‘
چوکیدار کو پہچانتے ہی حیدری پر ہنسی کا دورہ پڑگیا۔’’ ارے سلیمان شر!تو نے تو ہماری روح فنا کر ڈالی۔‘‘
چوکیدار مسکراتا ہوا دکان کے اندر داخل ہوا۔وہ سامنے زمین پر پڑے ہوے گلاس، جگ اور بوتل کودیکھ کر فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔
وہ افسوس سے اپنے سر کو جنبش دیتا دونوں لڑکوں سے مخاطب ہوا۔’’تم دونوں کیوں حرام چیز اپنے منھ سے لگا کر اپنے بزرگوں کی عزت خراب کررہے ہو؟ تم دونوں کو شرم آنی چاہیے۔‘‘ انھیں ڈانٹنے کے بعدوہ نورل جوگی پر برسنے لگا۔ شاید اسے پکوڑافروش سے کوئی پرانی پرخاش تھی۔ وہ اسے اسے تھانے میں بند کروانے کی دھمکیاں دینے لگا تھا۔پکوڑا فروش زیرلب مسکراتے ہوے اس کی ڈانٹ سنتا رہا۔وہ چوکیدار کے ہنگامہ خیز مزاج سے بخوبی آشنا تھا۔ دھمکیاں دیتے دیتے اس نے نورل کو بازو سے پکڑ کر کرسی سے اٹھایا جیسے وہ اسے اسی وقت تھانے لے جانا چاہتا ہو۔ یہ دیکھ کر حیدری اور نذیر اس کی مدد کے لیے لپکے اور چوکیدار کو برا بھلا کہنے لگے۔ نورل کا ایک ہاتھ تو اس کی گرفت میں تھا مگر اس نے اپنے دوسرے ہاتھ کو استعمال کرتے ہوے اپنی جیب سے تھوڑی سی چرس نکال ہی لی۔اس نے ہاتھ اٹھا کر وہ چوکیدار کو دکھائی تو اس نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔نورل کی ہوشیاری پر نذیر مسکرانے لگا۔
چوکیدار نے نورل سے چرس لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے فوراً چرس جیب میں ڈال لی اور اسے تنگ کرنے لگا۔اب اسے کھری کھری سنانے کی نورل کی باری تھی۔اس نے سلیمان شر کی تمام گالیاں اسے سود سمیت واپس کر دیں۔سلیمان شر نے زبان نہیں کھولی اور چپ چاپ سنتا رہا۔
نذیر اور حیدری نے اس معا ملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ان دونوں کا رویہ سمجھ نہیں آسکا۔کچھ دیر بعد حیدری نے اپنی دکان بند کرنے کا اعلان کیا تو وہ سب جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوے۔
نورل نے اپنے گھر پر حقہ پینے کے لیے حیدری سے تمباکو مانگا تو اس نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بہت سا تمباکو اسے دے دیا۔
دکان کو تالا لگانے کے بعد حیدری ان سےہاتھ ملا کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ چوکیدار سلیمان شر سیٹی بجاتا سڑک کے دوسری جانب چل پڑا جبکہ نذیر اور نورل نہر کے پل کی سمت چلے گئے۔
کھلی سڑک پر نذیر کو ٹھنڈ لگنے لگی۔نہر کے پُل پر پہنچ کراس نے پکوڑا فروش کو ایک مرتبہ پھر وعدہ یاد دلایا اور ڈگمگاتے ہوے قدموں سے ڈاک بنگلے کی طرف چل پڑا۔

نذیر سے الگ ہو کر پل سے نیچے اترتے ہی نورل کا دھیان ایک ست رنگے لیکن مست خیال کے زیرِ اثر آگیا۔وہ لڑکھڑاکر چلتے ہوے دھیرے دھیرے اپنے گوٹھ کی طرف بڑھنے لگا۔گھر پہنچ کراس نے بھوک سے بلبلاتے ہوے اپنے معدے کے بارے میں نہیں بلکہ صرف اپنی رگوں میں سرسراتے ہوے نشے کے بارے میں سوچا جس کی وجہ سے آج اسے مباشرت بھری ایک طویل رات میسر آنے والی تھی۔گوٹھ کی حدود میں داخل ہوتے ہی آوارہ کتوں کاایک غول اسے دیکھ کر اس کی جانب لپکا، مگراس کے قریب آکراس کے بدن کی مانوس بو محسوس کرنے کے بعد وہ سب اس کے پائوں میں لوٹنے لگے۔وہ اپنے گھر میں داخل ہوا تو یہاں تاریکی اور سکوت نے اس کا خیرمقدم کیا۔وہ ڈگمگاتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازے کو دھکیل کر کھولتے ہوے اندر داخل ہو کر وہ ٹھہر گیااور اندھیرے میں آنکھیں مچمچا کر دیکھتے ہوے وہ اپنی گھروالی کی چارپائی ڈھونڈنے لگا۔ اس کی چارپائی نظر آتے ہی وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔اس کے قریب پہنچ کر اس نے جھک کر ہولے سے اپنی بیوی کے پیروں کو چھواتواس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔وہ خوف سے چیخنے ہی لگی تھی کہ نورل کے ہنسنے کی آواز سن کروہ سمجھ گئی کہ اس کا شوہر گھر واپس آگیا ہے۔وہ خفگی سے بڑبڑانے لگی۔نورل اس کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس نے اس کے بڑبڑاتے ہونٹوں پر اپنے جلتے ہوے ہونٹ رکھ کر اسے خاموش ہونے پر مجبور کردیا۔
اگلے دن پکوڑافروش کی بیوی نوراں سویرے ہی اٹھ گئی۔اس نے اٹھ کراپنے سر پر ڈوپٹہ باندھتے ہوے خود کو بیمار محسوس کیا۔ آج اس نے دو سیر دودھ خریدا اور اپنے بچوں کو نورل سے چغلی نہ کھانے کی نصیحت کر نے کے بعد وہ اس میں سے ایک سیر دودھ غٹاغٹ پی گئی۔دودھ پینے کے بعدکل شب کی صحبت سے زائل ہونے والی توانائی کو اس نے قدرے بحال ہوتے محسوس کیا، مگر نجانے کیوںچائے کی دو پیالیاں پیتے ہی اس کا دل ڈوبنے لگا۔مگر وہ مضبوط کاٹھی کی عورت تھی، اس لیے دل کے ڈوبنے کو خاطر میں نہیں لائی اور جھاڑو اٹھا کر گھر کی صفائی میں مصروف ہو گئی۔
اس نے جان بوجھ کر نورل کو نیند سے جلدی نہیں جگایا۔ وہ اس کی نیند خراب نہ کرکے اس کی کل رات کی محبت کا قرض چکا نا چاہتی تھی۔ کام کاج سے فارغ ہو کر وہ کمرے میں گئی تو چند لمحے اس کی چارپائی کے پاس کھڑی اسے تکتی رہی۔
نورل کی ٹانگ اورچہرہ لحاف سے باہر نکلے ہوے تھے۔اس کی بےترتیب مونچھوں اور بکھرے ہوے بالوں کو دیکھ کر نوراں مسکرائی۔مگرپھر یکایک نجانے کیوں اسے اپنے شوہر پر غصہ آنے لگا۔وہ پکوڑوں سے بھرا ہوا تھال اندر لے گئی اور اسے اچھی طرح ڈھانپ کر زمین پر رکھ دیا۔پھر کمرے میں واپس آکر اس نے نورل کی رضائی کو اُتار کرپھینک دیا۔ وہ آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا۔اس نے صحن میں پھیلی ہوئی دھوپ دیکھی تودیر سے جگانے پر اپنی بیوی کو ملامت کرنے لگا۔اس کے بعد وہ کھیتوں کی طرف چلا گیا۔
گنے کے کھیت میں رفعِ حاجت کے بعد وہ اپنے وڈیرے کی اوطاق میں لگے ہوے نلکے پر غسل کر کے گھر واپس آیا۔ نوراں نے اسے چائے کی پیالی لا کر تھمائی۔ سڑکیاں لگا کرچائے پیتے ہوے اسے نذیر کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس نے فوراً آواز دے کر نوراں کو بلایا۔
نوراں اسے شک بھری نظر سے دیکھتی کھاٹ پر اس کے برابربیٹھ گئی۔نورل چائے کا گھونٹ لینے کے بعد اس سے مخاطب ہوا۔’’تیری ساس مرے، ایک بات غور سے سن۔مگر بات سننے سے پہلے مجھ سے وعدہ کر کہ میں تجھ سے جیسے کہوں گا، تو ہوبہو ویسے ہی کرے گی۔‘‘
اپنے شوہر کی مضحکہ خیز سنجیدگی پر اسے ہنسی آنے لگی مگر وہ اپنی ہنسی پر بمشکل ضبط کرتے ہوے سر ہلاتے ہوے بولی،’’ اچھا اچھا،وعدہ کرتی ہوں۔‘‘
نورل اپنا مدعا بیان کرنے سے پہلے اسے کچھ دیر کے لیے چمکدار خوابوں کی دنیا میں لے گیا۔اس نے رنگین چوٹیوں، مرزا کمپنی کی مضبوط چیل، پھول دار ملبوسات اور لیس والے ریشمی دوپٹوں کا ذکر کچھ ایسے پر کشش انداز سے کیا کہ ان سب چیزوں کے لیے ترسی ہوئی نوراں خود کو تھوڑی دیر کے لیے وڈیرے ہاشم جوگی کی بہو خیال کرنے لگی۔ اس دوران وہ اپنے بے رنگ ڈوپٹے میں اپنے سفید اور کالے بال چھپاتی ہوے نورل کی باتوں میں کھوئی رہی۔
اپنی کامیابی پر زیرِ لب مسکراتے ہوے نورل نے اس کے پڈعیدن جانے کا ذکر چھیڑ دیا۔اس سفر کے بارے میں سنتے ہی نوراں نے اپنے شوہر کو صاف صاف بتادیا کہ اس لڑکے نے بڑے پُل تک ان کا پیچھا کیا تھا اور شمیم ابھی تک اسے بھول نہیں سکی تھی، اور اکثر اس ذکر کسی نہ کسی بہانے سے کرتی رہتی تھی۔
پکوڑا فروش نے اپنی بیوی کویہ بتا کر حیران کردیاکہ وہ اس لڑکے کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اصل مقصد کی طرف آیااور کہنے لگا،’’وہ لڑکا اب میرا اچھادوست ہے ا ور میں اسے زبان دے چکا ہوں۔سمجھتی ہونا؟وہ بیچارہ اس کی محبت میں چرس پینے لگاہے۔ مگر وہ سگریٹ بھی نہیں پیتا تھا پہلے۔‘‘
نذیر کی حالتِ زار کا سن کرنوراں کا دل پسیجنے لگااور وہ اس سے ہمدردی محسوس کرتے ہوے آہ بھر کر بولی،’’وے چارو!‘‘
پکوڑا فروش نذیر کا حال بڑھا چڑھا کر بیان کرتا رہا اور ساتھ ہی اپنے فائدے کی بات بھی کرتا رہا، جس کا اس کی بیوی پر بہت اثر ہوا اور اس نے تباہ حال نوجوان کی مدد کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔
پکوڑوں سے بھرا ہوا تھال اٹھاتے ہوے اس نے اپنی بیوی کوآخری نصیحت کی۔ ’’اور یہ بات اچھی طرح سن لو!شمیم کو میرے بارے میں نہ بتانا۔اسے کہنا کہ وہ لڑکا تمھیں بازار میں اچانک ملا تھااور تمھارے قدموں میں آکرگر پڑاتھا۔ اگر تم نے اس کے سامنے میرا نام لے لیا تو وہ اس سے ملنے پر رضا مند نہیں ہوگی۔سمجھ گئیں نا؟‘‘
نوراں یہ سن کر ذرا سی پریشان تو ہوئی مگر پھر کہنے لگی، ’’ایسے معاملے میںاگرکوئی مرد درمیان میں آجائے تو عورت فوراً بدک جاتی ہے۔‘‘
پکوڑا فروش اپنی بیوی کی ذہانت پر اس کی تعریف کرنے لگا اور تھال سر پر رکھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔

نورل نے گاؤں کی شریف اور معتبر عورت کے دل میں نذیر کے لیے موجود محبت کو کچھ دنوں تک اس سے چھپائے رکھا۔ وہ ایک طرف اپنے دوست کے جذبوں کی شدت کااندازہ لگانا چاہتا تھا مگر دوسی طرف وہ اپنے گوٹھ کی عورت کی رسوائی سے بھی خوفزدہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ذرا سی بےاحتیاطی سے یہ معاملہ قصبے اور گردوپیش کے دیہات کے لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن سکتا تھااور اس عورت کے لیے ہمیشہ رسوائی اور ذلت کا باعث بھی بن سکتا تھا۔اس نے نذیر کو بھی اس معاملے میںراز داری برتنے کی تنبیہ کی اور اسے اس کی محبت کے ہرممکنہ انجام کے متعلق بھی آگاہ کیا۔
نورل نے اپنی باتوں سے اپنے دوست کے دل میں مایوسی کو گھر بنانے نہیں دیا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا— وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔
نذیر جو ہروقت اسے کریدتا رہتا تھا اور اس کی باتوں کی ٹوہ لیتا رہتا تھا، تو وہ یہ بےسبب نہیں کرتا تھا— وہ پوری سنجیدگی اور انہماک سے پردہ نشین خاتون سے تعلق استوار کرنا چاہتا تھا۔
نذیر نے ان معاملات کو غفور چاچا اور یعقوب کاریگر سے چھپایا ہوا تھا۔اب وہ دن کا بیشتر وقت دکان پر گزارتا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد چاچا غفور قیلولہ کرنے کی غرض سے چند گھنٹوں کے لیے گھر چلا جاتا تھا۔ نذیر اور کاریگر سہ پہر تک جمائیاں لیتے کام کرتے رہتے اور شام کو چاچے کی آمد سے پہلے تک چاق و چوبند ہوجاتے۔
نذیر کو شام سے پہلے ہی دکان سے چھٹی مل جاتی۔ اس کے بعد وہ رات نو بجے تک حیدری کے ساتھ قصبے میں آوارہ گردی کرتا رہتا۔
اس نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جیب خرچ بچا بچاکر جتنی بھی رقم جمع کی تھی وہ نورل سے ملاقاتوں میںاس کے بہت کام آئی تھی۔کپڑوں کی خریداری کے بعد وہ پریشان ہو گیا،کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اظہارِمحبت کے بعد بھی اسے روپوں کی ضرورت پیش آئے گی۔لوگوں سے محبت کی کہانیاں سن سن کر اس نے یہ اصول اخذکیا تھا کہ دولت کے بغیر کسی محبوبہ کا دل نہیں جیتنا ممکن ہی نہیں ہے۔
دو دن کے لیے جب پکوڑا فروش قصبے کی طرف نہیں آیا تونذیر اسے ڈھونڈتا دیر تک گلیوں میں گھومتا رہا۔اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر جا کر اسے مایوسی ہوئی۔وہ تھک ہار کر نہر کے کنارے چائے خانے پر جا بیٹھا اور گردوپیش نظر دوڑانے لگا۔آسمان گہرانیلا تھا، اس کے کناروں پر بہت دورکہیں کہیں سفید بادل اپنا سر نکالے نظر آرہے تھے۔سورج کی کمھلائی پیلی دھوپ نہر کے پانی اور کھیتوں پر دور دور تک پھیلی تھی۔نہر کے پُل پر اکادکا سائیکلوں اور چھکڑوں کی آمدورفت جاری تھی۔
نذیر سوچتا رہا کہ جتنے روز نورل سے ملاقات ہوتی رہی، اُس کے طفیل وہ بلا سبب برقع پوش کی قربت کو محسوس کرتا رہا۔
اسے وہاں بیٹھے بیٹھے بہت دیر گزر گئی۔ دھیرے دھیرے شام ڈھلنے لگی توآسمان اچانک پرندوں کی آوازوں سے بھر گیا۔
ہولے ہولے تاریکی پھیلنے لگی تو نذیرمایوس ہوکر اٹھ کھڑا ہوااور نہر کے کنارے چلنے لگا۔ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔وہ بہت بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ بار بار اسے یہ خیال تنگ کر رہا تھا کہ اس نے بلاضرورت بیکار کی پریشانی مول لے لی تھی۔
نہر کے آس پاس سب ٹھیلے والے جاچکے تھے۔ پل کی دیوار پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا کھانس رہا تھا۔نذیر پرانے اور خستہ سے پُل پر چلتا ہوادوسری طرف پہنچا اور گوٹھ ہاشم جوگی سے اٹھنے والے دھویں کی بو سونگھنے لگا۔ گائوں سے آنے والے کچے راستے پر اس نے ایک شخص کو لحاف اوڑھ کر پل کی طرف آتے ہوے دیکھا۔
آہستہ آہستہ دھندلائے منْطر بھی اندھیرے میں معدوم ہونے لگے مگر نذیر وہیں کھڑا رہا۔ پل پر بیٹھا ہوابوڑھا آدمی بھی جا چکا تھا۔وہ دن بھرخاموشی سے بہنے والے پانی کی مدھم مدھم سی سرگوشیاں سننے لگا۔وہ کچھ کہہ رہا تھا — اس پرہنس رہاتھا یا شاید رو رہا تھا۔تاریکی میں ٹھنڈے سانس بھرتے ہوے وہ پُل کی دیوارپر جابیٹھا۔
اچانک کسی نے کھڑکھڑاتے ہوے لہجے میں اس کا نام پکاراتو اس نے فوراً چونک کر اس کی طرف دیکھا۔وہ نورل جوگی تھا۔سرد ہواسے بچنے کی خاطر اس نے سر سے پیر تک لحاف اوڑھا ہواتھا۔
نذیر سے مصافحہ کرتے ہوے اس نے قہقہہ لگایاجو اگلے ہی لمحے شدید کھانسی میں تبدیل ہوگیا۔کھانستے ہوے اس کا جسم جھک گیا۔ چند لمحوں بعد کہیں جا کر اس کی کھانسی تھمی۔
نذیرپکوڑا فروش سے کوئی بات سننا چاہتا تھا۔اس نے اس سے کوئی سوال نہیں پوچھا۔ اسے معلوم تھا کہ پکوڑافروش موالی طوطے کی طرح خودبخود بولنا شروع کر دے گا۔وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔
سگریٹ سلگاکرنورل اسے اپنی بیماری کے متعلق بتانے لگا۔وہ اپنے گاؤں کی اوطاق میں چرس اور بھنگ پیتا رہا تھا۔ وہیں پر اسے ٹھنڈ لگ گئی۔اس نے بتایا کہ اگر اسے آج چرس نہ خریدنا ہوتی تو آج بھی قصبے کی طرف نہ آتا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے ہنستے ہوے نذیر کو بتایا۔’’بھوتار، تیرے لیے ایک خاص خبر ہے، اور ایک خاص پیغام بھی۔‘‘
اس کی بات سن کرنذیر خود کو مسکرانے سے نہیں روک سکا۔
نورل نے اگلے ہی لمحے کسی تردّد کے بغیر اسے بتا ہی دیا کہ اس نے پڈعیدن اسٹیشن پرشمیم کو جو چائے پلائی تھی، وہ اس چائے کی پیالی کو ابھی تک نہیں بھولی تھی۔ وہ نذیر سے ملنا چاہ رہی تھی۔
یہ سنتے ہی نذیر خوشی سے بے قابو ہو کر پکوڑا فروش سے لپٹ گیا۔



نذیر کی زندگی میںشمیم پہلی عورت تھی جس نے اس سے ملنے کے لیے اسے پیغام بھیجا تھا، ورنہ اس سے پہلے بھی وہ بے شمار لڑکیوں اور عورتوں کا تعاقب کرچکا تھا، مگر ان میں سے کسی کی جانب سے پیغام آنا تو درکنار، اسے انھیں دیکھنے کو دوسرا موقع تک میسر نہیں آسکا تھا۔وہ سب کی سب اپنے گھروں میں جانے کے بعد اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول گئی تھیں۔ پکوڑافروش کے ذریعے موصول ہونے والے پیغام کی اس کے لیے بہت خاص اہمیت تھی۔اسی لیے اس کا اپنا بیکار وجودبھی اس کی اپنی نظروں یکایک کچھ اہم ہو گیا تھا۔بار بار کسی سبب کے بغیر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی تھی۔اسے محسوس ہونے لگتا تھاکہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔اس کے لیے یہ خیال بہت مسحورکن تھا۔مگر اس سے بھی زیادہ مسحورکن خیال آج کی شب پیش آنے والے وصل کی لذت کا خیال تھا، جس کا ہلکا سا احساس ہی اس کے بدن پر سرشاری طاری کر رہا تھا۔
اسی خیال کے زیرِاثر وہ بہت دیر تک متواترسلائی مشین چلاتا رہا۔ اسے وقت کے تیزی سے گزرنے کااحساس ہی نہیں ہورہاتھا۔بہت دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ روکا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔اس کی نظر یعقوب کاریگرکے چہرے پر جا کر ٹھہر گئی جو ایک ریشمی لباس کی سلائی میں مصروف تھا۔اس کی آنکھیں سلائی مشین کی ٹانکے لگاتی باریک سوئی کو شوق بھری نظر سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاںریشمی کپڑے کو کچھ اس طرح جھجکتے ہوے چھو رہی تھیںجیسے وہ کسی عورت کے جسم کو اس کی اجازت کے بغیر اور اس سے چھپ کر چھورہی ہوں۔
نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے کتنا لاتعلق ہوجاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کاہوش بھی نہیں رہتا تھا۔ عجیب لذت سے تمتماتا ہوا اس کاچہرہ دیکھ کر نذیر کو اس کے ہاتھوں کے ہنر کی مقبولیت کا راز معلوم ہوگیا۔
ابھی شام ڈھلنے میں خاصا وقت تھا اور آدھی رات ہونے میں تو اس سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔یکایک وہ محسوس کرنے لگاکہ ہیجان خیز محسوسات و خیالات کی یورش کی وجہ سے دھیرے دھیرے اس کے جذبات کند ہونے لگے ہیں اور وہ اپنے آپ کو فاترالعقل سمجھنے لگا۔ اپنا ذہن بٹانے کا سوچ کراس نے دیوار پر چسپاں تصویروں پر ایک نگاہ ڈالی۔ فلمی اداکارائوں کے میک اپ سے بھرے ہوے چہرے اس کی نگاہوں سے خود بخود اوجھل ہو گئے۔ اسے صرف کسے کسائے ملبوسات میں پھنسے ہوے بدن دکھائی دیے۔اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیںاورہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اورحسن سے یکسر عاری ہے او ر اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔وہ کچھ دیر تک بھرے بھرے جسموں کی گداز چھاتیوں اور ابھرے ہوے پیٹ کی ناف کو دیکھتا رہا۔ اس عمل سے اچانک اس کا خون گرم ہوگیا او ر اس کی ناک کے نتھنوں سے گرم گرم سانسیں نکلنے لگیں۔
یعقوب کاریگر اسے محویت سے تصویروں کو تاکتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔اسے مسکراتا دیکھ کر نذیر کھسیانا ہو کر اٹھا اور دکان سے باہر چلا گیا۔ گلی سے نکل کر وہ سڑک پر آیااور یہاں کی کھلی فضا میںلمبے لمبے سانس لیتے ہوے اپنی طبیعت بحال کرنے لگا۔
سڑک کے پرلی طرف کپڑے کی ایک دکان پر لٹکی ہوئی پھول دار چادریں اور ڈوپٹے ہوا کے جھونکوں سے ہل رہے تھے۔ایک دکانداراپنی پردہ نشین گاہک کے سامنے ریشمی کپڑے کاتھان کھول رہا تھا۔نذیر اس برقع پوش عورت کی طرف دیکھنے لگا۔دکان پر پڑتی سورج کی تیز روشنی کے سبب اس کے برقعے میںعجیب سی چمک پیدا ہوگئی تھی۔اسے لگا کہ وہ یہاں کھڑا ہو کرزیادہ دیر تک اس برقعے کی چمک کو اپنی آنکھوں میں جذب نہیں کرسکتا۔
تھوڑی دیر بعد وہ دکان پر لوٹ آیا۔یعقوب کاریگر اسے دیکھتے ہی بولا،’’آج میںدکان پر بہت اکیلائی محسوس کررہا ہوں۔آج میرے یار کی طبیعت خراب ہے، اس لیے وہ نہیں آیا۔ اور تم ہو کہ مجھ بوڑھے سے کوئی بات ہی نہیں کرتے۔‘‘ وہ ایک بیڑی سلگا کرسُلگاکر کش لینے لگا۔
نذیر اس کے قریب رکھے ہوے اسٹول پر جا کربیٹھ گیااوروہ دونوںچاچے غفور کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔زیادہ تر باتیں پرانی تھیں جو وہ پہلے بھی کئی بار کر چکے تھے۔نذیر کو نئی بات نہیں سوجھ رہی تھی اس لیے وہ خاموش ہوگیا، کیونکہ کاریگر باتیں کرنے کی موج میں آیا ہواتھا۔نذیر کو اچانک چاچی خیر النسا یاد آئی۔آج چاچا بھی گھر پر موجود تھا۔اس نے اپنیچشم ِتصور پرکمرے میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست سایوں کو حرکت کرتے ہوے دیکھا۔
یعقوب کا ریگرکی باتیں سنتے ہوے اسے لگا کہ چاچے غفور سے اس کی دوستی کی ضرور کوئی خاص وجہ رہی ہوگی،جس کے بارے میں کاریگر نے بھول کر بھی باتوں میں کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔نذیر نے سوچا کہ اگر کسی دن وہ کاریگرکو اعتمادمیں لے کر اس سے پوچھ گچھ کرے تو شاید اسے کچھ گڑے مُردوں کا پتا چل جائے۔
دکان کے باہر ایک سائیکل کو رکتا دیکھ کر وہ دونوں چپ ہوگئے۔
ماسٹر طفیل اپنی دھوتی سنبھالتاہواسائیکل سے اتر کر دکان میں داخل ہوا۔
’’ میںتمھارا ہی کام کررہا تھا ماسٹر۔صرف قمیص کے بٹن لگانے رہ گئے ہیں۔‘‘ یعقوب نے خوش مزاجی سے اسے اس کے کپڑوں کے بارے میں بتایا۔ماسٹر طفیل کچھ دیر بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔
گلی میں دکانوں کے شٹر بند ہونے کی کھڑاک پڑاک شروع ہوگئی۔تمام درزی ہنستے، شور مچاتے ہوے اپنی اپنی دکانوں سے نکلے۔تھوڑی دیر بعد اذان بھی سنائی دینے لگی۔
ماسٹر طفیل کو اس کے کپڑے دینے کے بعدانھوں نے بھی دکان بند کردی اور یعقوب کاریگر چاچے غفور کی عیادت کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔
ملگجی شام میں چاچی خیر النسا کشادہ صحن میںجانماز پرسمٹی ہوئی بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔اس کے ہونٹ دعا مانگتے ہوے لرزرہے تھے۔نذیر کے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مڑکر دیکھا اور اس کے ہونٹ تیزی سے دعا ختم کرنے لیے ہلنے لگے۔
نذیر دو محرابوںکے درمیان کھڑا عبادت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ صحن میںپھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔اس نے تاریک کمرے پر نظر دوڑائی۔غفور چاچا وہاں رضائی اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔اس کے خراٹوں کی خرخراہٹ سن کر وہ مسکرایا۔
چاچی کو جا نماز اٹھاتا دیکھ کر اس نے اس کے پاس جا کر اسے یعقوب کاریگر کی آمد کے بارے میں بتایا۔وہ فوراً اپنے شوہر کو جگانے کے لیے کمرے میں چلی گئی۔چاچا غفور اپنے یار کا نام سن کر فوراً اُٹھ بیٹھا۔
چاچی خیر النسا پردے کی خاطر باورچی خانے والی کوٹھڑی میں چلی گئی۔
یعقوب کاریگر کو دیکھ کر بوڑھا مریض خوشی سے کھل اُٹھا۔
نذیر اپنی گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا،کیونکہ پہلوان کے چائے خانے پر نورل جوگی اس کا انتظار کررہا تھا۔ اسی بے چینی میںوہ باورچی خانے میں چاچی کے سامنے چوکی پر جا بیٹھا۔چاچی خیر النسا نے اپنے شوہر اور کاریگر کی پرانی دوستی کا ذکر چھیڑدیا۔
باتوں کے دوران نذیر کو پہلے اس کے ہاتھ کا لمس یاد آیا اور پھر غسل خانے میں لٹکا ہوا اس کا بلاؤز۔ بیٹھے بیٹھے وہ چاچی کے سرخ و سفید ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔اس نے سوچا کہ ان ہاتھوں میںپوشیدہ حدت کتنی نرم و ملائم ہوگی۔اس کا جی چاہا کہ وہ اسی وقت انھیں چھوکر محسوس کرے اور ان کی ہتھیلیوں پر ایک بوسہ ثبت کردے۔اس نے خود کو گستاخی پر آمادہ محسوس کیا۔وہ اس کے کشادہ سینے کے زیر و بم کو دیر تک محویت سے دیکھتا رہا۔
وہ حیران تھا کہ اس کی باتوں میں عدم دلچسپی کے باوجود وہ بے خبری کے عالم میں دیر تک باتیں کرتی رہی۔جب وہ چولھے میںپھونک مارنے کے لیے جھکی تو نذیر نے چپ چاپ اس کی چھاتی کے ابھار کو دیکھا، مگراگلے لمحے چاچی خیر النسا اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے شک بھری نظروں سے گھورنے لگی۔اس کے گھورنے پر وہ جھینپ سا گیا۔ اسے الجھن سی ہونے لگی۔وہ باتونی نہیں تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ پرُکشش جسم والی اس حسین عورت سے دیر تک لچھے دار باتیں کرکے اس کا دل بہلائے۔
چاچی نے پتیلی اٹھا کر چینک میں چائے انڈیلی۔ وہ ٹرے میں رکھی چینک اور پیالیاں اٹھائے ہوے باورچی خانے سے باہر چلا گیا۔
کمرے میں ان کے سامنے چائے رکھنے کے بعدوہ آدھے گھنٹے تک وہ ان دو بوڑھے آدمیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ان کی باتیں سنتے ہوے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا،اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد یعقوب کاریگر نے چاچے سے جانے کی اجازت مانگی۔ وہ اسے رخصت کرنے گلی کے آخر تک چلا گیا۔الوداعی مصافحے کے بعد وہ کچھ وقت وہیں کھڑا اسے جاتے ہوے دیکھتارہا۔اس کے بعد وہ پہلوان کے چائے خانے کی طرف چل پڑا۔
چائے خانے میںنوجوان لڑکے ڈبو کھیلتے ہوے شور مچارہے تھے۔ وہاںٹیپ ریکارڈر پر جلال چانڈیو کا گانا بج رہا تھا۔ ایک طرف پڑے ہوے موڑھوں پر دوچار آدمی بیٹھے دھیمے لہجوں میں گفتگو کر رہے تھے،جبکہ نورل منھ بسورتا ہوا اکیلا بیٹھا تھا۔
نذیر پکوڑافروش پاس گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔انھوں نے موڑھے اٹھا کر ایک کونے میں کھسکالیے اور آپس میںسرگوشیاں کرنے لگے۔
پکوڑا فرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گی۔اس پر لازم تھا کہ وہ ایک بجے سے پہلے وہاں پہنچ جائے۔ اس نے اسے مزید یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران وہ دونوں عاشقوں کے آس پاس منڈلا تا رہے گا۔
نذیر نے اس کی ہر بات غور سے سنی۔اس نے اپنے ذہن میں پہلی ملاقات کا جو تصور باندھا تھا،اس پر خوف کی پرچھائیں لہرانے لگی۔اس کے باوجود چائے خانے سے اٹھ کر جاتے ہوے نذیر نے وعدہ کیا کہ وہ ساڑھے بارہ بجے تک نہر سے اُترنے والی سڑک پر پہنچ جائے گا۔
نورل نے بھی سنجیدگی سے اپنا وعدہ دُہرایا اور وہاں سے چلا گیا۔

کل وہ اپنے بستر پر جس شب کے انتظار میں لیٹا ہوا کروٹیں لے رہا تھا، وہ شب آپہنچی تھی اوراپنے بازو پھیلا کر اسے دعوتِ نشاط دے رہی تھی۔مگر یہ کیا؟گزرتے ہوے لمحوں کے ساتھ نہر پار جانے کے خیال سے اس کے دل میں دہشت بڑھتی جارہی تھی۔وہ خود کو کسی طور پرڈرپوک ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔اس نے بزدلی کو واہمہ قرار دے دیا اور اس کے خیال کو جھٹکنے کے لیے وہ چاچے غفور کے ساتھ اس وقت کمرے میں بند چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔مگر اس کا ذہن اس پل چاچی کے متعلق کچھ بھی سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوا۔اسے کوئی بات نہیں سوجھی، اس کے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا،حتیٰ کہ چاچی کے گداز سینے کا خیال بھی اس کے ذہن کو اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔اور دوسری طرف کسی کوشش کے بغیر اس کا ذہن بار بار خود بخود شمیم کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ اگرچہ اس نے اب تک اس برقع پوش شمیم کی آواز نہیں سنی تھی،اس کے ہونٹ اور اس کے سینے کا شاہد نہیں ہوا تھا، اس کے باوجودفوراً اس کے ذہن میں دراز قد اور بھرپورجسم کی ایک شاندار عورت درآئی تھی۔وہ اس کے سحر انگیز حُسن کی باریکیوں میں اُلجھ گیا۔
اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے سر سے چادر ڈھلکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بالوں کی مانگ نظر آرہی تھی۔وہ کہیں کھڑی ہوئی شدت سے اس کی منتظر تھی۔
چند لمحوںکے بعد وہ ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا اپنے تخیل کے اڑن کھٹولے سے نیچے اترا اور چھت کی کڑیوں کی طرف دیکھتے ہوے بلا سبب مسکرانے لگا۔کچھ دیر قبل اس کے لیے شعوری طورپرجس چیز کے لیے سوچنا محال ہو رہا تھا، اب اس کا ذہن اس کے بارے میں خود بخود سبک روی سے سوچنے لگا۔شمیم کے تصور کے بعداب وہ چاچی کا تصور باندھنے لگا۔ سوچتے سوچتے اس نے لحاف اتارا اورچارپائی سے اتر کروہ کمرے کے دروازے کے پاس گیا اور اس سے کان لگا کر وہ کچھ دیر تک ان کی آپس کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انھیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیااور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آگیا۔وہ سوچنے لگاکہ پہلی ملاقات پر اسے کیا باتیں کرنی چاہییں اور کس انداز سے کرنی چاہییں؟کس طرح چکنی چپڑی اور دل لبھانے والی باتوں کے ذریعے شمیم کو شیشے میں اُتارنا چاہیے؟ اس حوالے سے اسے خود پر اعتماد نہیں ہو رہا تھاکیونکہ ماضی میں دو مرتبہ پہلے بھی وہ ایسے معاملات میںناکامی کی اذیت برداشت کرچکا تھا۔
اپنی بہن کی سہیلی سے پہلی بار ملتے ہی اس نے اس سے محبت کا اظہار کردیا تھا۔ اس کے بے سلیقہ اظہار کا برا مان کروہ لڑکی اس سے بدک گئی اور اس نے اس کی بہن سے بھی ہمیشہ کے لیے ملنا ترک کردیا تھا۔دوسرا واقعہ اسی قصبے میں پیش آچکا تھا۔ایک دن وہ پرائمری اسکول کی عمارت کے قریب سے گزر رہا تھا۔اس نے ایک لڑکی کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوے دیکھا۔وہ اسے پہلی نظر میں ہی بھاگئی۔اس کے بعد وہ کئی روز تک اس کے گھر کے باہر چکر لگاتا رہا۔کبھی کبھاروہ دکھائی دے جاتی لیکن ہر بار اسے دیکھتے ہی پردہ گرا کر اندر بھاگ جاتی۔ایک شام وہ اسے ایک سنسان گلی میں دکھائی دے گئی۔اس نے فوراً اپنادل کھول کر اس کے سامنے پیش کردیا۔لڑکی نے اس کا دل اپنے پیروں تلے روند ڈالااوراسے برا بھلا کہتی ہوئی چلی گئی۔
اسے خدشہ تھا کہ شمیم بھی کہیں اس کی بے ربط اوراکھڑی باتیں سن کر اس سے اکتانہ جائے۔پچھلے کچھ برسوں سے وہ شادی شدہ عورتوں سے ذاتی تعلقات قائم کرنے کے خواب دیکھتا رہا تھا۔اب اس نے لڑکیوں کو اپنی محبت کے لائق سمجھنا چھوڑ دیاتھا۔ان کے نخروں کو برداشت کرنااس جیسے کم ہمت کے بس کی بات نہیں تھی۔جوانی کے حُسن اور فطری کشش کے باوجود اب قصبے کی لڑکیاںاسے بالکل اچھی نہیں لگتی تھیں۔
وہ اپنے خیالوں میں گم صحن کے ٹھنڈی اینٹوں والے فرش پر چہل قدمی کرتا رہا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ صحن کے چاروں کونوں سے بچھو اور سانپ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس احساس سے خوفزدہ ہو کروہ فوراًبھاگ کر برآمدے میں پڑی ہوئی چارپائی پر چڑھ گیا اوررضائی اپنے جسم پر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔
بستر یخ بستہ ہو رہاتھا۔ اپنی رضائی پائوں پر اچھی طرح اوڑھنے کے باوجود بہت دیر تک اس کے پیرگرم نہیں ہوسکے۔ تنگ آکر وہ انھیں اپنے ہاتھوں سے مسلنے لگا۔
اسے اپنی حماقت کا احساس بہت تاخیر سے ہوا۔اوس سے بھیگی رات میں صرف شلوار قمیض پہنے ہوے گھر سے نکلنا بہت دشوار تھا۔ کمرے میں رکھے ہوے اپنے صندوق سے چادر، مفلر اور جرابیں نکالنا اسے یاد نہیں رہا تھا۔ اس کے پاس صرف بغیر آستینوں والا سویٹر تھا۔اس سویٹر کی مددسے سردیوں کی رات کی ٹھنڈ اور پالے کارُکنا محال تھا۔
اسے محسوس ہونے لگا کہ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے۔گھڑی پر وقت دیکھنے کے لیے برآمدے کا بلب جلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی ماچس بھی نہیں تھی۔وہ چارپائی سے اُتر کے دبے پاؤں باورچی خانے کی کوٹھڑی تک گیا۔ اس کے ٹھنڈے ہاتھ چولھے کی راکھ اور اس کے گردوپیش کی زمین ٹٹولتے رہے لیکن اسے وہاں ماچس نہیں ملی۔اندازے سے اس نے خانوں والی الماری کھول کر اس میںہاتھ مارا تو وہاں اسے ماچس مل گئی۔دیاسلائی جلا کر اس کے شعلے کی روشنی میں اس نے گھڑی پر وقت دیکھ ہی لیا۔ بارہ بج کر دس منٹ ہورہے تھے۔وہ دیواریں ٹٹولتا باورچی خانے سے باہر نکلا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوابرآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔اس نے رات کے پالے سے بچنے کے لیے حفظِ ماتقدم کے طور پر بستر سے چادر اتار کراپنے گلے میں ڈال لی۔پھرتکیے کو بستر کے درمیان رکھ کر اسے رضائی میں چھپا دیاتا کہ اگر کمرے سے کوئی باہر نکلے تو ابھری ہوئی رضائی دیکھ کر وہ یہ سمجھے کہ وہ یہاں سو رہا ہے۔رضائی کا اونچا ابھار بنا کر وہ خاصامطمئن ہوگیا۔اس کے بعد وہ دبے پائوںچلتا ہواگھر سے باہر نکلنے والے دروازے تک گیا۔دروازے سے نکلنے کے بعد اس نے کنڈی چڑھا دی اور احتیاط سے چلتا گلی میں نکل گیا۔
گلی میں گہراسناٹا تھا۔موسمِ زمستاں کی یہ شب کہر آلود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے آسمان سے یخ بستہ بوندیں برس رہی ہوں۔گلی سے نہر کے پُل تک اسے بہت سی گلیوں سے گزرنا تھا۔وہ اپنے بے اعتماد قدموں اوربے ترتیب سانسوں کی آوازیں سنتا نپے تلے قدموں سے چلتا رہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آرہی تھیں۔
چوکیدار کی سیٹی سن کر وہ ہر بارچونک جاتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ برابر والی گلی سے گزر رہا ہے۔ وہ اس کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کرتے ہوے آگے بڑھتا رہا۔ ہر گلی کے دونوں طرف دیواروں کا طویل سلسلہ تھا۔ہر موڑ کے بعدنئی دیواریں آ جاتیں اور وہ ان کے بیچ سہما ہوا اور خوف سے لرزتا ہوا قدم بڑھاتارہا۔
ایک ڈھلان کی چڑھائی چڑھنے کے بعد وہ نہر کے کنارے پر پہنچ گیا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔قصبے کی آبادی سے نکل کرکھلی فضا میں آتے ہی اسے سردی زیادہ محسوس ہونے لگی۔وہ درختوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔اس کی نظریں پُل پر جمی ہوئی تھیں جو دور سے دھند اور کہرے میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے نہر کے پانی کی سطح پر چمکتے ہوے ستاروں کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔یوں لگ رہا تھا جیسے پانی میں موتی جگمگا رہے ہوں۔رات کے اس پہرپُل ویران پڑا تھا۔اس نے ٹھٹھرتے ہوے تیز رفتاری سے چل کر پل عبور کیا۔پل سے نیچے اتر کر اسے تھوڑی دور چلنے کے بعد دائیں جانب کی جھاڑیوں سے گاڑھا دھواں اُٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ دھواں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا۔اس نے چرس کی مخصوص خوشبو کو پہچان لیا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے وہ دھیرے سے کھنکاراتو اسے جھاڑیوں میں سے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔کھانسی کی آواز پہچانتے ہوے وہ جھاڑیوں کی طرف چلاگیا۔ وہاں نورل جوگی اس کا انتظار کرتے ہوے چرس کی سلفی پینے میں مگن تھا۔
رات کے اس پہرہوا مکمل طور پر بند تھی۔تمام چیزوں پر سکوت طاری تھا۔آسمان کی چاروں انتہائوںسے یخ بستگی زمین پر ٹپک رہی تھی اور دھیرے دھیرے ساری فضا میں پھیل رہی تھی۔ نذیر محسوس کر رہا تھاکہ اس کے کپڑے بھی آسمان سے گرتی اوس سے بھیگنے لگے تھے اور اس کی ناک کے نتھنوں میں سانسیں جم رہی تھیں۔ اس کے باوجود پکوڑافروش کی فراخدلانہ پیشکش ٹھکراتے ہوے اس نے سلفی پینے سے انکار کردیا۔اس کے انکار کے بعدنورل جوگی نے بھی اصرار نہیں کیا۔وہ نشے کی کثرت کے باوجود بچے رہ جانے والے اپنے ہوش وحواس کو بروےکار لاتے ہوے نذیر کو گوٹھ میں واقع شمیم کے مکان کا حدوداربعہ سمجھانے لگا۔
’’وہ دیکھو... اُس طرف ! ہاں، وہ جوسیمنٹ سے بنی ہوئی صاف ستھری عمارت ہے نا، وہ ہمارے گوٹھ کی یونین کونسل ہے۔ کبھی بھول کر بھی اس کے قریب سے مت گزرنا۔ یونین کونسل کاچوکیدار شام ڈھلتے ہی اس کے باہرکتے چھوڑدیتا ہے۔بڑے مادر چود کتے ہیںوہ۔ایک بار انھوں نے میری پنڈلی بھی نوچ کھائی۔ میں پورے چار مہینے چارپائی پرلیٹا رہا تھا۔ اچھا؟ ہاں، اس یونین کونسل سے کچھ آگے ہاریوں کی جھونپڑیاں ہیں۔یہ سب کے سب ہاری گوپانگ قبیلے سے ہیں۔ گوپانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوے ہیں۔ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ہرسال ہمارے جوگیوں کابھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہوجاتا ہے۔اگر تمھاری ٹھرک بڑھ جائے تو بتانا۔‘‘ بات کرتے کرتے وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔
نذیر دیکھ رہا تھا کہ پکوڑا فروش دن بھر قصبے میں جوتیا ں چٹخانے کے بعد اس وقت تھکن سے چور چورتھا اور نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کے اعصاب مضمحل لگ رہےتھے۔
اس نے مسکراتے ہوے اپنی بات جاری رکھی۔’’یہ گوپانگ ہم جوگیوں کی عزت پر داغ ہیں۔ مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں کر سکتے! ان بھڑووں کو اپنے گوٹھ سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ہمارے وڈیرے ایک نمبر کے رنڈی باز ہیں۔‘‘
اس کی بے تکی باتیں سن کر نذیراونگھنے لگا تھا۔اس نے ماچس کی تیلی جلا کر گھڑی پر وقت دیکھا۔نورل سے چرس کا سگریٹ بنانے کی درخواست کرتے ہوے اس کے دانت کٹکٹانے لگے تھے۔اس کی آنکھیں شدید تکان کے سبب بند ہورہی تھیں۔
نورل جوگی کے ہاتھوں نے چابکدستی سے سگریٹ بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔ نذیر نے اسے دیا سلائی سے سلگاتے ہوے ایک زوردار کش لگایا۔ سگریٹ پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔اس نے پوری طرح اپنے ہاتھ پھیلا کر انگڑائی لی اور اس کے بعدڈنڈنکالنے لگا۔
وہ رات کے اس پہرویران سڑک پر چلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ جھاڑیوں کے ساتھ ہی گنے کے کھیت واقع تھے۔وہ جھاڑیوں کے بیچ چلتے چلتے گنے کے کھیتوں میں داخل ہوگئے۔گنے کے قد آور پودے ان کے جسموں سے ٹکرا ٹکرا کر دھیما سا شور مچانے لگے۔نورل نے اس کے پاس آکر سرگوشی میں کہا،’’تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔‘‘
یہ بات سن کر نذیر خود کو ہنسنے سے نہیں روک سکا۔
گنے کی فصل میں کچھ دور تک چلنے کے بعدوہ رک گئے۔انھوں نے فصل سے باہر سر نکال کر اِدھر اُدھر دیکھا، پھر احتیاط سے دبے پائوں چلتے ہوے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ پارکیااور تیزی سے پرلی طرف کے کھیت میں گھس گئے۔چلتے چلتے نذیر کی چپلیں گیلی مٹی لگنے کی وجہ سے بھاری ہو گئی تھیں۔ مزید آگے جاکر پانی بہنے کی سرسراہٹ سنائی دی۔یہ آواز پانی کے نالے سے آرہی تھی۔کچھ دور جانے کے بعدانھیںوہ نالہ دکھائی دینے لگا۔سیمنٹ سے بنے ہوے اس نالے کے پاس جا کر فصل ختم ہوجاتی تھی۔
نورل نذیر کونالے کے پاس،شیشم کے ایک درخت کی اوٹ میں کھڑا ہونے کا مشورہ دے کر غائب ہوگیا۔نذیر پگڈنڈی پر تیزی سے چلتے اس کے پیروںکی دھپ دھپ سنتا رہا۔ اس کے بعد وہ گردوپیش نگاہ ڈال کر آہستہ آہستہ چلتا شیشم کے پیڑ کی اوٹ میں جا کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد وہ کھڑا رہ رہ کر تھک گیاتو نالے پرجا کربیٹھ گیا۔ نالے کاسیمنٹ اس وقت یخ ہورہا تھا۔
گوٹھ کے مکانوں کا پچھلا حصہ اس کی نظروں کے سامنے تھا۔وہ ان مکانوں میں شمیم کا مکان تلاش کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ بائیں طرف بنے ہوے تین پختہ مکانوں میں سے ایک میں شمیم رہتی تھی۔کپاس کی لکڑیوں اور شرینہہ کے پیڑوں کے سایوں کی وجہ سے وہ ان مکانوں کے دروازے نہیں دیکھ سکا۔
وہ شیشم کے جس طویل قامت پیڑ کے نیچے کھڑا تھااس نے جب اس کے موٹے سے تنے کو دیکھا تو اس کے رگ و پے میںخوف کی لہر دوڑ گئی۔بچپن میں سنے ہوے بھوتوں اور چڑیلوں کے قصّے اسے یاد آنے لگے۔وہ زمین پر پھیلے ہوے اس درخت کے سائے کو دیکھتا رہا۔
نجانے کیوں بار بار اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ یہاںنہیں آئے گی، مگر اس کے باوجود وہ دیر تک وہاںسرجھکائے بیٹھا رہا۔ اس نے گھڑی پر وقت بھی نہیں دیکھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اب شاید رات کے دو بجنے والے ہوں گے۔وہ اپنے تخیل کی مدد سے سوچنے لگا۔ ’’شاید وہ اپنے کمرے سے باہر آگئی ہو مگر اپنے شوہر کو دھوکا نہ دینا چاہتی ہو اور برآمدے میں ٹہلتی ہوئی کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش میں ہو۔‘‘
اچانک ایک لرزا دینے والے خیال نے اس کے خوف میں اضافہ کردیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں پکوڑافروش نے اسے کوئی فریب نہ دیا ہو؛کہیں اس کی سنائی ہوئی ساری باتیں جھوٹی نہ ہوں اور کہیں اس نے اس کے کوئی سازش تیار نہ کر رکھی ہو۔اس کا ذہن مختلف وسوسوں اوراندیشوں سے بھر گیا۔اسی کیفیت کے زیرِاثر وہ سیمنٹ کے نالے سے اُٹھ کر چلتا ہوا کماد کے کھیت میں جا چھپا۔بہت دیر تک وہ وہاں چھپا سامنے کی طرف دیکھتا رہا۔اس کی نگاہ شرینہہ کے دیو قامت پیڑوں کے سایوں پر جمی تھیں۔
اچانک اسے کسی کے قدموں کے نیچے کپاس کی سوکھی لکڑیوں کے کچلنے کی دھیمی دھیمی سی چرمراہٹ سنائی دی۔ اس کے بعد اس نے چاندنی میں وہاںایک سائے کو حرکت کرتے ہوے دیکھا۔وہ اطمینان کا سانس لیتے ہوے گنے کی فصل سے باہر نکلا اور شیشم کے درخت کے پاس کھڑا ہوگیا۔اب وہ واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ شمیم ہولے ہولے قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھتی آرہی تھی، مگر چلتے چلتے وہ اچانک کھڑی ہوگئی۔چادر میں لپٹی ہوئی شمیم نے اسے اشارہ کرتے ہوے اپنی طرف بلایا۔اس کے اشارے پر وہ حواس باختگی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔
شمیم لجاتےاورکسمساتے ہوے اس سے مخاطب ہوئی۔’’نزدیک ہی ایک محفوظ جگہ ہے۔آؤ چل کروہاںبیٹھتے ہیں۔‘‘
سردیوں کی رات کے گہرے سکوت میں اس کی آوازنذیر کو کسی شیریں نغمے جیسی محسوس ہوئی۔وہ اس کی آواز کی تعریف کرنا چاہتاتھا مگر سر جھکائے چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگا۔سردی کے سبب اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔اس کے بند ہونٹ ہل رہے تھے۔ وہ آگے چلتی ہوئی کپڑوں میں سمٹی ہوئی عورت کو دیکھ رہا تھا جو بےآواز قدم اٹھا تی چل رہی تھی۔
کچھ دور جا کر وہ ٹھہر گئی۔ اسے دیکھ کر نذیر بھی رک گیا۔نذیر نے جگہ کے انتخاب کی بہت تعریف کی۔شمیم اسے بتانے لگی کہ اسے اس علاقے کے چپے چپے کی خبر تھی۔
آج بھی اس نے اپنا چہرہ نقاب میں چھپایا ہوا تھا۔ اندھیرے کے سبب وہ اس کی تابناک آنکھوں کو نہیں دیکھ سکا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی چادر سے باہر نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے دوقدم پیچھے ہٹاتے ہوے اپنے چہرے سے نقاب اُتاردیا۔
نذیر بہت غور سے اسے دیکھنے لگا۔وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر اس وقت اسے بےحد پر کشش محسوس ہورہی تھی۔ وہ سندھی گانوں کی مدد سے اس کی تعریف کرنے لگا۔ اس کے چہرے کو چاند اور آنکھوں کو ستاروں سے تشبیہ دینے لگا۔ایک نوجوان لڑکے سے اپنی تعریفیں سن کر شمیم مسکرانے لگی۔وہ کئی برسوں کے بعد کسی کے ہونٹوں سے اپنی اتنی تعریف سن رہی تھی۔اس کی نظر یں جھکی ہوئی تھیں۔وہ اسے اپنی معمولی زندگی کی معمولی سی باتیں مزے لے لے کر سنانے لگی۔
نذیر کو حیرت ہورہی تھی کہ اب تک اس نے اپنے شوہر کے خلاف کوئی جملہ نہیں کہا تھا،جبکہ پکوڑافروش نے اسے بتایا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے۔
شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔ وہ صرف اس کی صورت دیکھتا اور اس کی باتیںسنتا رہا۔اس نے اس کے نزدیک کھڑے ہو کراس کے بالوں کی مانگ کو دیکھا، پھر اس کی پیشانی اور اس کی آنکھوں کو، اس کے بعد اس کے ہونٹوں اور گالوں کو۔اس نے اس کی جلد کی سفید رنگت کو دیکھا۔ اس کلائی کی چوڑیوں کو دیکھا جو بار بار خود بخود کھنک پڑتی تھیں۔اس کا مترنم اور دھیما لہجہ اس پر فسوں طاری کر رہا تھا۔اوڑھی ہوئی چادر کے باوجود اس کے سینے کا زیروبم صاف دکھائی دے رہا تھا۔
شمیم بھی اس کی نظروں سے غافل نہیں تھی۔وہ اس کی نگاہوں کی خاموش تعریف سے لطف اندوز ہورہی تھی۔اچانک کسی احساس کے زیرِاثراس کے لہجے کی بےساختگی ختم ہوگئی اور وہ اٹک اٹک کر باتیں کرنے لگی۔
نذیر کے لیے یہ لمحات اس کی زندگی کے سب سے زیادہ مسرور لمحات تھے۔ایک شادی شدہ جوان خاتون اس کے پہلو میں تھی اور اس کی خاطر اپنی جان دائو پر لگا کراس سے ملنے آئی تھی۔وہ دونوںآنے والے دنوں میں اپنی ملاقاتوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔
شمیم نے اسے بتایا کہ آئندہ اس کے لیے رات کے وقت کھیتوں میں آنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ خوفزدہ تھی۔اس نے کہا کہ وہ اس سے ملنے کے لیے کوئی اور بندوست کرے گی۔اس نے اپنے دل میں امڈتی ہوئی محبت کا اظہار کیا اور نذیر کی تعریفیں کرنے لگی۔وہ مسکرایا اور اس نے موج میں آکر،آگے بڑھ کر شمیم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔اس نے پہلی بار نسوانی جسم کے اضطراب اور اس کی نرمی کو محسوس کیا۔اسے لگا کہ وہ ریشم کے نرم و ملائم تھان سے لپٹ گیا ہے۔ وہ اس کے بازوئو ں میں کسمسانے لگی۔اس کے بدن سے اٹھتی کسی عطر اور پائوڈر کی خوشبو اسے بےحد مسحورکن محسوس ہو رہی تھی۔اس نے پہلابوسہ اس کے داہنے ہاتھ پر دیا،وہ جس کی مدد سے اپنا چہرہ چھپا نے کی کوشش کررہی تھی۔ نذیر نے اپنے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر اس کے نرم ہونٹوں کو چومنے لگا۔ وہ ان لمحوں کے ذریعے اپنی زندگی بھر کی محرومی کو سیراب کرنا چاہتا تھا۔وہ اس کی چادر پر ہاتھ پھیرتے ہوے اس میں چھپی ہوئی اس کی چھاتیوں کو محسوس کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ اس کی چادر کو چومتے چومتے اس کے سینے سے نیچے آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
شمیم گڑبڑا گئی۔اس نے اس کے بوسوں کے خلاف براے نام مزاحمت کی۔اس نے اپنے نوآموز عاشق کے وحشی پن کا برُا نہیں مانا اگرچہ اس کے تیزوتندبوسوں نے اس کے انگ انگ میں ہیجان برپا کردیا تھا۔نذیر بھی اپنے آپ میں نہیں تھا۔وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کراس کی ٹانگوں کو بھینچتا رہا۔اس صورتِ حال میں شمیم کوخود کو سنبھالنے کا موقع مل گیا۔
کچھ دیر بعد وہ زمین سے اٹھا اور اس نے دوبارہ اس کی کمر کے گرد بازوڈالنے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ وہ پیچھے ہٹ گئی۔اس نے دھیمے لہجے میں اسے سرزنش کی۔
عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چُورکردیا تھا۔وہ اس کے ہمراہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے،غرض ہر جگہ لوٹنا چاہتا تھا،اس کے جسم کو آغوش میں لے کر رقص کرنا چاہتا تھا،مگر شمیم نے اگلے ہی ثانیے اسے دھکا دے کر سب کچھ ختم کردیا۔وہ نذیر پر طاری ہونے والی پیار کی وحشت سے خو فزدہ ہوگئی تھی۔اس سے الگ ہوتے ہی وہ اپنی بھٹکتی ہوئی سانسوں کو سنبھالنے لگی۔نذیر نے اس کے قریب آکر اس سے اپنے رویے پر معذرت کی تو وہ مسکرانے لگی۔
اگلے ہی لمحے اس نے اپنا رخ ِروشن نقاب میں چھپالیا۔ نذیر سے مخاطب ہو کر اس نے اسے’’اللہ وائی‘‘ کہا اور اس کے بعد پلٹ کر سبک خرامی سے چلتی ہوئی،دیو قامت شرینہہ کے درختوں کے سائے میں غائب ہو گئی۔
اس کے جانے کے فوراً بعد نذیر کو احساس ہوا کہ شاید اس نے اپنے رویے سے اسے سہمادیا۔ اپنے احمقانہ رویے کی تلافی کی خاطر اس نے اسے آواز دی مگر اس کی آوازگوٹھ کے مکانوں کے درودیوار سے ٹکرا کر واپس آگئی۔وہ دیر تک وہیں پر مبہوت کھڑا اسی سمت دیکھتا رہا، کچھ دیر پہلے وہ جس طرف گئی تھی۔
گھر سے گوٹھ ہاشم جوگی کی جانب آتے ہوے خوف کے سبب نذیر کے رگ و ریشے میں جو کپکپی طاری تھی،واپس جاتے ہوے اس کا نام و نشان بھی نہیںتھا۔آتے ہوے اسے جو راستہ طویل اور لا متناہی محسوس ہو رہا تھا، واپسی پراسے پتا ہی نہیں چلا اور وہ سبک روی سے چلتا ہوا گھر تک پہنچ گیا۔

صبح کوچاچی خیر النسا اس کی چارپائی کے پاس کھڑی ہو کراسے جگانے کی کوشش کرتی رہی۔اس نے گنگناتے ہوے دھیمے لہجے میں دو تین مرتبہ اس کا نام پکارامگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔اس کی گہری نیند پر وہ حیرت سے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔وہ لحاف اوڑھے اوندھے منھ بستر پر سو رہا تھا۔اس کا جسم مکمل طور پربے حس تھا اور اس کے اکھڑے ہوے، بے ترتیب سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔آخر تنگ آکر چاچی نے اس کے چہرے سے رضائی اُتاردی۔ اس کی آنکھیں زور سے مندی ہوئی تھیں اور اس کے ہونٹ آپس میںایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوے تھے۔
وہ اس کے ہونٹوں کی سرخی کو اچھی طرح جانتی تھی کیونکہ اکثر خوابوں میں وہ اس کے سرخ ہونٹوں کو چوم چکی تھی۔ مگر اس وقت وہ اس کے ہونٹوں کی نیلا ہٹ دیکھ کر دنگ رہ گئی۔چاچی نے جھجکتے ہوے آگے بڑھ کراس کی پیشانی کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوا، پھر اس کے گالوں اور ہونٹوں کو مس کیا۔اسے اس کی پیشانی، گالوں اور ہونٹوں سے خفیف سی گرم لہریں اٹھتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ا س نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور گھبرائی ہوئی کمرے کے دروازے سے اندرجھانکنے لگی۔
اس کا شوہر وہاںگہری نیند میں سو رہاتھا۔یہ اطمینان کرنے کے بعد وہ دوبارہ نذیر کی طرف متوجہ ہوگئی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ بیمار ہوگیا ہے۔اس نے جھک کر اس کے کندھے کو دھیرے سے ہلا یامگر اس مرتبہ بھی اس نے کوئی جنبش نہ کی۔
اس نے فکر مندی سے آس پاس نظر دوڑائی اور صحن میں بڑھتی ہوئی روشنی کو دیکھا۔ فجر کی نماز کا وقت نکلا جارہا تھا۔ اس نے نذیر کو اس کے حال پر چھوڑا اورخوددیوار پر کیل میں لٹکا ہوا مصلّیٰ اتار کر اسے زمین پر بچھانے لگی۔
ابھی اس نے مصلیٰ بچھایا ہی تھا کہ اسے نذیر کے منھ سے نکلتی بے معنی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے جسم نے اضطراب سے ایک کروٹ لی اور اس کا لحاف اس کے جسم سے اتر کر نیچے جا گرا۔
نذیر کی طرف دیکھتے ہی چاچی کو فوراً یہ محسوس ہوا کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ایک سنسنی سی اس کے تن و پے میں گہرائی تک دوڑتی چلی گئی۔کسی مقناطیسی کشش نے اس کی آنکھوں کو اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ اپنی نظر کو وہاں سے نہیں ہٹا سکی۔اس کی آنکھیں چند لحظوں تک اس کی مرضی کے خلاف پلکیں جھپکے بغیراس منظر کو دیکھتی رہیں۔اس کا چہرہ ذرا سی دیر میںسرخ ہوگیااور اس کے کانوں کی لویں گرم ہونے لگیں۔اس نے زیرِلب مسکراتے ہوے اوڑھی ہوئی چادر کا کونا اپنے دانتوں میں دبا لیامگر اگلے ہی لمحے وہ توبہ استغفار کرتی ہوئی اپنے آپ کو ملامت کرنے لگی۔
مصلے کو دیوار پر دوبارہ لٹکا کرایک مرتبہ پھر اس نے کمرے میں جھانکا اور اطمینان کرنے کے بعد وہ دھیرے دھیرے چلتی چارپائی کے قریب گئی۔وہ نادانستہ طور پراب کوشش کر رہی تھی کہ اس کی نظر نذیر کے جسم پر نہ پڑے۔اس نے اپنی نظریں پرے لے جاتے ہو ئے زمین سے رضائی اٹھا کر اسے دوبارہ اُڑھا دی۔
اپنی نگاہوں کی کوتاہی پر وہ اپنے آپ کوسرزنش کرنے لگی۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا وضوٹوٹ چکاہے۔ہینڈ پمپ سے نکلتے ٹھنڈے پانی کے باوجود اسے دوبارہ وضو کرنا پڑا۔
اس دوران صحن اور برآمدے میں روشنی پھیل گئی تھی۔اس نے پڑوسیوں کی چھت پر گرتی سورج کی شعاعوں کو دیکھا تو ا یک مرتبہ پھر استغفار کرتی، جلدی سے مصلیٰ بچھا کر نماز قضا کر کے پڑھنے لگی۔
نذیر کے جسم کے منظر کو ذہن سے نکالنامشکل ہوگیا تھا۔اس نے جیسے تیسے نماز ختم کر کے یہ فرض ادا کیا۔اس کے بعد اس نے کمرے میں جا کر اپنے شوہر کو نیند سے جگایا اور خود باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔
کچھ دیر کے بعدغفور کھانستا ہوا صبح کی چائے پینے کے لیے باورچی خانے میں آیا تو وہ اسے نذیر کی صحت کے بارے میں بتانے لگی۔’’پتا نہیں آج اسے کیا ہوگیا ہے۔ میں نے کئی دفعہ اسے جگایا مگر ایک بار بھی اس کی آنکھ نہیں کھلی۔‘‘
جب وہ دونوں چائے پی چکے تو اٹھ کر برآمدے میں سوئے ہوے نذیر کے پاس گئے۔چاچی ذرا پیچھے ہٹ کرفاصلے پر کھڑی ہوگئی جبکہ غفور اپنے بھتیجے کو جگانے میں مصروف ہو گیا۔جھنجھوڑے جانے پر نیند کے عالم میں اس کا بدن کسمایا اور اس نے عجیب انداز سے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوے آنکھیں کھول دیںاور حیرت سے ان دونوں کو تکنے لگا۔
’’کیا بات ہے نذیر ؟ تیری طبیعت توٹھیک ہے نا؟‘‘غفورچاچا نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ ‘‘وہ آنکھیں مسلتا ہوااٹھ کر بیٹھ گیا۔اس کے اٹھ کر بیٹھنے پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔
’’جوانی کی نیند بہت دیوانی ہوتی ہے،‘‘چاچے نے شرارت آمیز نظر سے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔
نذیرانگڑائی لے کر اٹھنے کے بعد کچھ دیر ٹانگیں لٹکائے اورسرجھکائے بیٹھا رہا۔پھر چارپائی سے اٹھتے ہوے بڑبڑایا:’’پتا نہیں کیوں، آج میرے جسم میں درد ہو رہا ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں اوراس کا چہرہ کمزور لگ رہاتھا۔
’’اچھا۔ آج تو گھر پر آرام کرلے۔ دکان میں چلا جاتا ہوں،‘‘غفورچاچا نے تشویش سے اس کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔
’’ٹھیک ہے،‘‘ جواب دیتے ہوے وہ غسل خانے کی طرف چلا گیا۔
واپس آ کر نذیر دوبارہ چارپائی پرلیٹ گیا۔اس کے سر میں تیز درد ہو رہا تھا۔اس کے منھ کا ذائقہ شاید کل رات چرس پینے کی وجہ سے اب تک کڑوا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر موٹی سی پپڑی جمی ہوئی تھی۔ اس کا حلق اس طرح سوکھ رہا تھا جیسے اس نے کئی دن پانی پیے بغیرطویل مسافت طے کی ہو۔وہ لحاف میں دبکا ہوا اپنی عجیب حالت پر سوچ رہا تھا۔ کل شب کے لذت بھرے واقعے کی وجہ سے اس کے بدن کو سبک اور لطیف ہونا چاہیے تھا، مگراس وقت اس کے بدن کا عضو عضو درد سے اینٹھ رہا تھا۔ اس کے باوجود اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوے اسے بار بار شمیم کے ہونٹوں کی نرمی یاد آرہی تھی۔وہ حیرانی سے سوچ رہا تھا۔شب کے تیسرے پہراس مہربان عورت کے چلے جانے کے بعدوہ بہت دیر تک زمین پر گھٹنے ٹیکے ہوے اسے جاتے ہوے تکتا رہا تھا۔اس وقت اس نے اپنے آپ کو وہ زمین خیال کیا تھا جس کی چھاتی پر پائوں دھرتی ہوئی وہ جس طرف سے آئی تھی اسی طرف واپس لوٹ گئی۔۔رات میں فضا سے گرنے والی اوس نے نہ صرف اس کے کپڑوں کو گیلا کیا تھا بلکہ زمین پر اگی ہوئی گھاس کا سبز رنگ بھی ان پر لگ گیا تھا۔اس وقت وہ خوف کی جگہ سخت اذیت میں مبتلا ہوتھا۔اس کے پیٹ میں عجیب سے مروڑ اٹھ رہے تھے اور اس کی ٹانگوں سے جیسی ساری جان نکل گئی ہو۔مسکراتے ہوے اس نے دل ہی دل میں اپنے آپ سے کہا،’’ایسی حسین اور دلربا رات کی خاطرایسی لاکھ اذیتیں بھی برداشت کرنی پڑیں تو کر لینی چاہییں۔اس سخی عورت کی وجہ سےآخر میری انگلیوں نے پہلی بارخالص نسوانی لمس کا ذائقہ چکھا ہے اور میرے ترسے ہوے ہونٹ بوسوں کی لذت سے ہم کنار ہوے ہیں۔‘‘ اس نے ایک لذیذ سی آہ بھرتے ہوے بستر پر کروٹ لی۔
کچھ دیر بعدچاچی خیر النسا اس کے لیے چائے کاپیالہ ہاتھ میں لیے ہوے چارپائی کے پاس آئی اور اسے مخاطب کر کے چائے پینے کے لیے کہا۔نذیر نے اٹھ کر اس کے ہاتھوں سے چائے کا پیالہ لیتے ہوے اپنی انگلیاں اس کے پورے ہاتھ کے ساتھ مس کیں۔نذیر نے جرأت سے اپنا سر اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھاتو اس نے اپنی نظریں جھکا لیںاوراپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی فوراً چلی گئی۔وہ گم سم ہوکراس کے ہاتھوں سے بنی میٹھی چائے کی چسکیاں لینے لگا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعدچاچا غفور اسے ڈاکٹر کے پاس جا کر دوا لینے اورآرام کرنے کی تنبیہ کرکے گھر سے باہر چلاگیا۔
چاچی خیر النسا اسٹیل کی تھالی میں اس کے لیے دو اُبلے ہوے انڈے لے آئی۔ اس کی چارپائی پر اس کے قریب بیٹھ کروہ انڈوں پر سے چھلکے اُتارنے لگی۔اسے کام میں محو دیکھ کر وہ اپنی آنکھوں سے چاچی کا جسم ٹٹولنے لگا۔وہ بھی اپنے لباس کی شکنوں سے بےنیاز تھی۔معاًوہ انڈے چھیلتے ہوے کہنے لگی،’’مجھے لگتا ہے کہ تجھے بخار ہو گیا ہے۔ اور دیکھ!سردی کا بخاراچھا نہیں ہوتا۔میں دن میں تین بارانڈے ابال کر تجھے کھلاؤں گی۔تیرا چاچا دکان سے کسی کے ہاتھ مرغی کا گوشت بھی بھجوادے گا۔یخنی کا شوربہ پی کر تیری صحت بہترہوجائے گی۔سوتے میں تجھے اپنی رضائی کا بھی ہوش نہیں رہتا۔رضائی اترنے سے تجھے سردی لگ گئی ہے۔‘‘
وہ انڈے کا ٹکڑا اپنے منھ میں رکھتے ہوے بولا،’’معاف کرنا چاچی، میری وجہ سے تجھے تکلیف کرنی پڑی۔تیری پریشانی ختم ہونے کے بجاے بڑھ گئی۔ چاچا بھلا چنگا ہوا تو اب میں بیمارپڑگیا۔‘‘
اپنی صبح سے اب تک کی مصروفیت کا حال سنا نے کے بعد چاچی نے اس سے کہا، ’’تُوآرام سے بیٹھ کر یہ کھا،میں تیرے لیے صحن میں چارپائی بچھادیتی ہوں۔تجھے دھوپ اچھی لگے گی۔کام سے فارغ ہوکر میں تیرے سر کی مالش بھی کردوں گی۔‘‘
’’ہاں چاچی، واقعی میرے سر میں بہت درد ہو رہاہے۔‘‘ وہ دل جمعی سے انڈے کھانے لگا۔انڈے کا آخری ٹکڑا منھ میں رکھ کر وہ اٹھا اور تیزدھوپ میں جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ آسمان کی طرف دیکھا تو دیکھ نہیں سکا۔اس کی آنکھیں چندھیا گئیںاور وہ لمبے سانس بھرنے لگا۔
اس نے چاچی خیر النسا کو جھک کر چارپائی اٹھاتے ہوے دیکھاتو دنگ رہ گیا۔وہ اس کی قمیض سے باہر آتی چھاتیوں کو تکتا ہی رہ گیا۔یہ منظر دیکھتے ہوے اچانک اس کا سر چکرایا۔ وہ صحن میں گرتے گرتے بچا۔
چارپائی کے صحن میں بچھتے ہی وہ تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔کچھ ہی دیر میں اس کی آنکھیں بند ہوگئیں اور وہ گہری نیندسوگیا۔

دوروز تک اس کا بخار نہیں اترااور وہ گھر سے باہرنہیں جاسکا۔
شمیم سے ملاقات کی یاد دھیرے دھیرے اس کے ذہن سے محو ہوتی جا رہی تھی۔ جب بھی اس ملاقات کا عکس اس کی نگاہوں میں جھلملاتا تو خودبخود چپکے چپکے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل جاتی اور وہ جلد از جلدصحت یاب ہونے کی خواہش کرنے لگتا۔
اسے غسل کیے ہوے بھی تین روز گزر گئے تھے۔ اس کی گردن پر میل کی تہہ جم گئی تھی اور اسے اپنے بدن میں سوئیاں سی چبھتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔
بخار کے پہلے روز تو وہ چاچی خیر النسا کی خدمت سے بہت لطف اندوز ہوا۔اسے کھاٹ پر اُبلے ہوے انڈے، گرم یخنی اور چائے وغیرہ ملتی رہی۔ شام کو اس نے اس کے لیے خس خس کا حلوہ بھی تیار کیا۔دوسرے دن چاچی سرسوں کے تیل سے اس کے سر کی مالش کرنے لگی تو وہ تلملا اُٹھا۔ اس کے بھاری ہاتھوں کی رگڑ اتنی تیز تھی کہ اس نے اس کی منّتیں کرکے اپنی جان چھڑائی۔اسے حیرت ہوئی کہ جن ہاتھوں کو کئی مرتبہ اس نے چومنے کی خواہش کی تھی وہ درحقیقت کتنے سخت اور کٹھور نکلے۔
چارپائی پرلیٹے لیٹے وہ عاجز آگیا تھا۔کئی بار وہ اٹھ کر صحن میں چہل قدمی کرنے لگا اور دروازے کے پاس جاکر گلی میں بھی جھانکنے لگا۔
گھر میں رہتے ہوے اس نے کسی معاملے پر بھی احتجاج نہیں کیا۔وہ اپنی پیاری چاچی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔جب وہ اس کے سر کی مالش کر رہی تھی تو اس دوران اس کا سر بارہا نرم اور گداز چھاتیوں سے ٹکرایا تھا۔ نذیر کو سر کی مالش کروانا پسند نہیں تھا مگروہ زبردستی اس کے سر کی مالش کرتی رہی تھی۔
ایک مرتبہ تو نذیر کی صحت یابی کے لیے اس نے گیارہ دفعہ سورئہ یٰسین پڑھ ڈالی اور جب اس پر پھونک مارنے کے لیے وہ اس کے قریب ہوئی تو نذیر نے شرارت کرتے ہوے اچانک اپنا سراٹھا کر اس کے ہونٹوں کابوسہ لے لیاتھا۔وہ ایک بوسہ اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا مگر وہ زیادہ عرصے تک اس بوسے کو یاد نہیں رکھ سکا۔

آج کاسورج بھی غروب ہوچکا تھااورآسمان پر پھیلی شفق معدوم ہوتی جا رہی تھی۔
اسے اپنے معمولات کی یکسانیت پروحشت سی ہونے لگی تھی۔آج پورے تین دن ہو گئے تھے اور اس نے گھر سے باہر قدم نہیں نکالا تھا۔ اسے معلوم تھا، اس کے لیے نئی ملاقات کا سندیسہ لے کر نورل جوگی قصبے کی گلیوں اور چائے خانوں میں اسے ڈھونڈتا پھر رہا ہوگا۔
اس کے دل میں چاچی کے لیے کینہ توز مخاصمت بڑھتی جا رہی تھی۔وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ وہ اس کے سامنے کبھی بھی کھل کر اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرے گی۔اس کے رویے میں ہمیشہ ایک پراسراریت رہے گی۔وہ کبھی اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا کہ وہ آخر اس سے کس بات کی متقاضی تھی؟وہ پورے ایک دن تک اس سے اس کے معمولی بوسے پرخفا رہی جبکہ مالش کے دوران وہ خود اپناسینہ اس کی پیٹھ سے ٹکراتی رہی تھی۔
نذیر نے سوچا کہ شمیم تک رسائی کے بعد اسے بے ضرر چیزوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔ چاچی خیر النسا کے معاملے میں اس کا جلد یا بدیر احساسِ گناہ سے دوچار ہونا طے ہو چکا تھا اور اس گناہ کے نتیجے میں خاندان بھر میں اس کا ذلیل و رسوا ہونا بھی طے ہو چکا تھا۔

شام ڈھلتے ہی گھر کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔نذیر نے جا کرکنڈی کھولی تو باہرحیدری کھڑا اسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔اس نے ہاتھ ملاتے ہوے اسے جلدی سے بتایا کہ نورل جوگی پہلوان کے چائے خانے پربیٹھا اس کا انتظار کر رہا ہے۔نذیر کے دل میں نجانے کیا سمائی کہ وہ چاچی خیر النسا کو بتائے بغیر اس کے ساتھ چل دیا۔
راستے میں حیدری اس سے چھیڑچھاڑکرتا رہا۔ اس نے شکایت کی کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے اسے نظر انداز کررہا ہے۔وہ دراصل اب اس کے راز جاننا چاہتا تھا، مگر نذیر ہوشیار تھا، اس نے اسے عام سی باتیں بتاکر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔اس نے دوست کا دل رکھنے کی خاطر روکھے پھیکے انداز سے رات کی اپنی مہم کو بیان کیا۔ پھر اسے اپنی بیماری کے متعلق بتانے لگا۔
پہلوان دستی کے چائے خانے تک پہنچنے تک حیدری کی ساری چونچالی ختم ہوگئی اور وہ دل ہی دل میں اپنے دوست سے حسد کرنے لگاکیونکہ اس کی کسی عورت سے دوستی نہیں تھی۔
نذیرگھر میں اپنی تین دن کی اسیری سے نکل کر چائے خانے کے ماحول میں قید نہیں ہونا چاہتا تھا۔اس نے اپنے رفیقوںسے درخواست کی کہ وہ قصبے سے باہر نکلنے والی سڑک پر چہل قدمی کے لیے اس کے ساتھ آئیں۔
وہ تینوں اپنی بے تکی باتیں کرتے ہوے وہاں ٹہلنے لگے۔ سڑک پر واقع دکانیں کچھ دور تک جا کر ختم ہو گئیں۔وہ تعلقہ ہسپتال کے قریب سے گزرے، پھر آگے چل کرٹاؤن کمیٹی اور سیشن کورٹ کی عمارتیں آئیں۔واٹرسپلائی کی اونچی ٹنکی تاریکی میںکسی دیو کی طرح کھڑی نظر آرہی تھی۔سڑک پر بجلی کے کھمبوں میں بلب نہیں تھے۔
نورل جوگی اپنی اندھی عقیدت کے جوش میں چند روز پیشتر گردونواح میں رو نما ہونے والے ایک معجزے کا ذکر کرنے لگا۔اس کے خیال میں یہ معجزہ قیامت کے نزدیک آنے کی علامت تھا۔وہ جوشِ عقیدت سے کہہ رہا تھا،’’ہم ظالم لوگ ہیں، ظالم لوگ!سادات خاندان کے معصومین پر ہونے والے جبر کو چپ چاپ سہہ گئے۔ہم باطل کی آواز میں آوازملاتے رہے۔ پہلے سیہون شریف میں سیاہ علم پر حضرت امام حسین کاسردکھائی دیا ہے۔ان کے چہرے پر نور ہی نور تھا اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ ان کی مسکراہٹ حقیقت میں حق کی فتح ہے۔ سیہون شریف کے بعد اب سیٹھارجہ اور پیروسن میں بھی امام عالی مقام کی شبیہ نظر آئی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہاں۔معجزہ ہے، معجزہ!‘‘
نذیر اور حیدری اس کی باتوں پر اور اس کے جذباتی انداز پر ہنستے رہے۔
حیدری نے مذاقاً اس کے چٹکی لی۔’’بھنگ اورچرس پی کر تو چاروں طرف شبہیں ہی شبیہیں نظر آتی ہیں۔‘‘
نورل جانتا تھا کہ اس کا والد وہابی ہے مگر وہ اس بات پر حیران بھی تھا کہ اس کے وہابی باپ نے آخر کیا سوچ کر اس کا نام حیدری رکھ دیا تھا۔اس کی یہ بات سن کر حیدری پھٹ پڑا۔نذیر بہ مشکل ان دونوں میں صلح کرواکر انھیں چپ کرواسکا۔
وہ تینوںہائی اسکول کے میدان میں جابیٹھے۔کھیل کا یہ میدان ناہموارتھا اور وہاںاس پر جا بجا خود رو جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔نذیر کی فرمائش پرنورل چرس کا سگریٹ بنانے لگا۔اس دوران حیدری چرس اور شراب کا موازنہ کرنے لگا۔ اس کے خیال کے مطابق شراب چرس سے بہت بہتر تھی۔ اس کی باتیں سنتے ہوے پکوڑا فروش کے لیے خاموش رہنا محال ہو گیا۔ وہ اس کے خیال کو باطل قرار دیتے ہوے چرس کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔کچھ دیر تک وہ دونوں آپس میں الجھتے رہے۔نذیر خاموشی کے گردوپیش کے ماحول کو دیکھتا رہا۔
چاند مشرقی سمت سے آسمان پر طلوع ہو چکا تھا۔شام کی مدھم مدھم ہوا چل رہی تھی۔ سڑک تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ بہت دور واقع پٹرول پمپ کی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔
نورل نے چرس کا سگریٹ بنانے کے بعد اسے دیا سلائی دکھا کر سر کیااور اس کا طویل کش لیا۔ اس کے بعدوہ کھنکھار کر گلہ صاف کرنے کے بعد سنجیدگی سے کہنے لگا، ’’کل شمیم میری بیوی سے ملنے آئی تھی۔ وہ بتا رہی تھی، کل وہ سچل سرمست کے مزار پر حاضری کے لیے درازہ شریف جائے گی۔ اس کے ساتھ اس کے شوہر کے علاوہ میری بیوی بھی ہوگی۔وہ سب وہاں رات گزار کر صبح واپس آ جائیں گے۔‘‘
’’کیا اس نے میرے لیے کوئی پیغام بھیجا ہے ؟ کیاوہ چاہتی ہے کہ میں بھی وہاں آؤں؟‘‘
’’ہاں، اس نے پیغام بھیجا ہے کہ تم ضرور آئو،‘‘نورل نے اسے سگریٹ تھماتے ہوے کہا۔
نذیر نے سوال پوچھا،’’کیاتم نہیں چلوگے؟‘‘
’’ میںنہیں جائوںگابھوتار۔‘‘
’’اگرمیںتم سے چلنے کی درخواست کروں تو؟‘‘
پکوڑا فروش جواب دینے کے بجاے مسکرایا۔اس کی مسکراہٹ میں اس کی رضامندی پنہاں تھی۔
نذیر کے لیے پوری رات گھر سے باہر گزارنا مشکل تھا۔اگر وہ چاچی سے اجازت مانگتا تو وہ اسے چاچے سے بھی اجازت دلا دیتی مگروہ چاچی سے مدد مانگنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس کی گھر سے باہر شب گزاری کے حوالے سے خوامخواہ شک میں مبتلا ہوسکتی تھی۔
حیدری کے تعاون سے اس کی یہ دشواری حل ہوگئی۔ اس نے دکان پر جاکرچاچے غفور سے درخواست کی کہ کل رات ہنگورجہ میں اس کے رشتے دار کی شادی ہونے والی ہے اور وہ نذیر کووہاں اپنے ساتھ لے جاناچاہتاہے۔حیدری سے یہ سن کر چاچے غفور کوحیرت ہوئی کہ اس کے گھر والوں نے شادی کے موقع پر اس سے کپڑے کیوں نہیں سلوائے؟حیدری نے اسے اطمینان دلایا کہ وہ ان کے دورپار کے رشتے دار ہیں اور دورپار کے رشتے داروں کی شادی کے لیے ایسے لوازمات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی مضبوط دلیل سن کر چاچا غفورنے نذیر کو جانے کی اجازت دے دی۔
سچل سرمست کے مزار پر شب گزارنا دونوں دوستوں کی پرانی خواہش تھی۔حیدری نے بھی اپنے والد سے جھوٹ بول کر درازہ شریف جانے کی اجازت حاصل کرلی۔
پکوڑا فروش نے انھیں پہلے سے ہی بتادیا تھا کہ وہ لوگ ڈھائی بجے والی بس سے پہلے ہنگورجہ جائیں گے، پھر وہاں سے بس تبدیل کر کے وہ درازہ شریف کے لیے دوسری بس میں سوار ہوں گے۔
وہ دونوںقصبے کے مختصر سے بس اسٹاپ پردوپہر ڈھائی بجے سے پہلے ہی پہنچ گئے اور کھڑکھڑاتی ہوئی گول باڈی بس کے قریب کھڑے ہو کران کی آمد کا انتظارکرنے لگے۔دوپہرکوقصبے سے باہر جانے والے لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی تھی۔پھر بھی انھوں نے بس کی سیٹوں پر ایک رومال رکھ کر اپنے لیے نشستیں محفوظ کرلیں۔وقت گزارنے کے لیے وہ دونوں مونگ پھلیاں کھاتے رہے۔
کچھ دیر بعدانھوں نے دو عورتوں اور دومردوں پرمشتمل ایک چھوٹی سی ٹولی کو اس طرف آتے ہوے دیکھا۔مرد آگے چل رہے تھے جبکہ دونوں عورتیں ان کے پیچھے آ رہی تھیں۔انھوں نے دیکھا کہ پکوڑافروش تو اپنے پرانے اور بوسیدہ لباس میں تھا جبکہ شمیم کا ٹیلی فون آپریٹر شوہر عجیب رنگ میں نظر آرہا تھا۔اس نے کلف سے اکڑاہوا سفیدلباس اور اس پر سرخ رنگ کی واسکٹ زیب تن کی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ گردن میں اجرک،سر پر شیشے کے کام والی سندھی ٹوپی اور آنکھوں پرسیاہ چشمہ بھی لگا رکھا تھا۔ وہ میلہ گھومنے نکلا تھا۔
نذیر نے برقعے میں شمیم کو پہچان لیا۔آج نذیر کو اس کی آنکھیں کچھ زیادہ ہی چمکدار اور تابناک لگ رہی تھیں۔نورل کی ادھیڑ عمربیوی بھی آج برقعے میںلپٹی ہوئی تھی۔ شمیم نے بس پر سوار ہوتے ہوے اس کی طرف دیکھ کر اپنے ابرو سے ایک اشارہ کیا۔ نذیر اس اشارے کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔
تھوڑی دیر بعد جب انھوں نے ڈرائیورکو اپنی نشست پر بیٹھتے ہوے دیکھا تو وہ دونوں بھی اندر جا بیٹھے۔ بس جو کھڑی ہوئی بہت دیر سے کانپ رہی تھی، بالآخر اسٹان سے چل پڑی۔
پردہ دارعورتیں ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھی تھیں جبکہ نورل اور ٹیلی فون آپریٹرداہنی طرف کی سیٹوں پر بیٹھے تھے۔نذیر سوچ رہا تھا کہ ہنگورجہ تک شمیم کا اسے اپنی گردن موڑ کر کر دیکھنا مشکل تھا۔وہ حیدری سے اسی لیے بلندآہنگ لہجے میںباتیں کرتا رہا۔وہ چاہتا تھا کہ اس کی آواز شمیم تک پہنچتی رہے۔ وہ بار بار پہلو بدلتے اس کے جسم کی بے چینی کو محسوس کررہا تھا۔دفعتا ًاس کی نگاہ ڈرائیور کے سامنے لگے آئینوں پر جا کر ٹھہر گئی اور اس کی مسرت کی کوئی حد نہ رہی۔سامنے لگے ہوے ہرآئینے میں اسے اس کی جھلک نظر آرہی تھی۔نذیر کی آنکھیں ان آئینوں کے درمیان بھٹکنے لگیں۔
اس نے برقع پوش شمیم کو بھی ان آئینوں میں جھانکتے ہوے دیکھ لیا۔ ان دونوں کی نظریںآئینوں میں باہم ملنے لگیں۔اس نے اپنے شوہر کی موجودگی کی پروا کیے بغیر اپنا نقاب ذرا سا الٹ دیا اور زیرِ لب مسکراتی اپنے نوخیز عاشق کومستی بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
نذیر بہت چوکنا بیٹھا تھا اس لیے اس نے کچھ ہی دیر میںبھانپ لیا کہ اس کا ٹیلی فون آپریٹر شوہر سفید چادر میں لپٹی ہوئی ایک لڑکی کی طرف متوجہ تھا۔
شمیم کی نشیلی آنکھوں میں گم خود اسے باہر سے گزرتے ہوے مقامات کا کوئی پتہ نہ تھا۔گول باڈی بس گرد اڑاتی سڑک پر چلتی رہی۔ اس کے اطراف میں کہیں گندم کا کھیت نظر آتا تو کہیں کماد کی فصل،کہیں لیموں تو کہیں کھجور کا باغ، اور کہیں کہیں سیم و تھور سے متاثرہ زمینیں بھی گزرتی جا رہی تھیں۔
سواگھنٹے بعد وہ ہنگورجہ پہنچ گئے۔ یہ قصبہ سپرہائی وے کے ساتھ ہی واقع تھا۔سپر ہائی وے پر واقع اسٹاپ پر بس کے رکتے ہی سارے مسافر ذرا سی دیر میں نیچے اُترگئے۔ وہاں سے کوئی سواری سیدھی درازہ شریف نہیں جاتی تھی، اس لیے وہ لوگ مجبوراً سکھر جانے والی بس پرسوار ہوگئے جس نے انھیں رانی پورمیں بابِ سچل سرمست کے قریب اتار دیا۔
وہاں سے ایک سوزوکی پربیٹھ کر وہ درازہ پہنچے ۔شام ڈھلنے میں تھوڑی سی دیر باقی تھی،جب وہ سچل سرمست کے مزارکے احاطے میں داخل ہوے۔
مزار پر واقع مسجد میں لوگ مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔ ہوا سے ہلتا پھریرے کھاتا ہوا مزار کا سیاہ علم بہت بلندی پرقمقموں سے جگمگا رہا تھا۔کشادہ اور وسیع لنگرگاہ میں ان قمقموں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔وضو خانے کے نلوں سے پانی بہنے کی آوازیں آرہی تھیں۔لوگ مزار کے وسیع و عریض احاطے میں واقع قبروں پر فاتحہ پڑھتے اور لنگر گاہ کے فرش پر بیٹھ جاتے۔
اشرف اورنذیر مزار سے باہرٹھیلے والوں کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے اور چلغوزے خرید کر کھانے لگے۔مزار پر پہنچتے ہی شمیم نے برقع اُتاردیا اور سر پر صرف چادر اوڑھ کر مسکرا تے ہوے ان کی طرف دیکھا۔وہ دونوں اندر مزار کے احاطے کی طرف نہیںگئے۔انھوں نے ٹیلی فون آپریٹر کے شک کو بھانپ لیا تھا۔کسی بدمزگی سے بچنے کی خاطر انھوں نے فاصلے پررہنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
وہ دونوں چلغوزے کھا کتے ہوے باہر ہی ٹہلتے رہے۔تھوڑی دیر بعد نورل جوگی ان کے پاس آیاتوانھوں نے اس کے ہاتھ میں بھی کچھ چلغوزے تھما دیے اور مزار کے قریب سے گزرنے والی سڑک پر واقع ہوٹل کی طرف چل پڑے۔
کوٹھڑی نما ہوٹل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا۔ وہاں اندروی سی آر پر کوئی پنجابی فلم چل رہی تھی۔وہ دونوں باہر چولھے کے پاس بنچ پر بیٹھ گئے جبکہ حیدری پنجابی فلم دیکھنے ہوٹل کے اندر چلا گیا۔
نورل نذیر کے پاس بیٹھ کرٹیلی فون آپریٹر کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہا۔نذیر کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے ہوٹل کے بیرے کے چائے کی پیالی لاتے ہی اس نے موضوع بدل دیا۔
پکوڑا فروش نے اسے بتانے لگا کہ کھانے کے لنگر کے بعد محفلِ موسیقی شروع ہوگی جو صبح فجر سے پہلے تک جاری رہے گی۔ بے سرے شوقین فنکار صبح تک عارفانہ کلام گائیں گے۔ہوسکتا ہے ان کی گائیکی سے بیزار ہو کر ٹیلی فون آپریٹر رَلّی بچھاکر وہیں سوجائے، مگراس خبیث کا کچھ پتا نہیں، اگر اسے کوئی عورت بھاگئی تو حرامی رات بھرآنکھ نہیں جھپکے گا۔خیر، چاہے کچھ بھی ہوجائے،اس کی بیوی شمیم کو لے کر قبرستان پہنچ جائے گی جہاں ان دونوں کو ملاقات میسر آسکے گی۔
نذیرمطمئن ہوگیا کہ اس کا یہاں آنا اکارت نہیں جائے گا۔ اس نے سچل سرمست سائیں کی عظمت کا ذکر چھیڑدیا اور نورل عقیدت سے اس کی باتیں سنتے ہوے اپنا سر دھننے لگا۔بہت دیر تک وہ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
جب اندر پنجابی فلم ختم ہو گئی توسب لوگ انگڑائیاں لیتے ہوے باہر نکلے۔حیدری ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا آیا اور اِن کے پاس بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد وہ تینوں وہاں سے اٹھے اور ٹہلتے ہوے دوبارہ مزار تک آئے اور لنگر گاہ میں گھومنے لگے۔
ٹیلی فون آپریٹر نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوے نورل کو بلایا۔اس نے رات میں بھی کالا چشمہ آنکھوں پر پہن رکھا تھا۔
نورل کے جانے کے بعدان دونوں نے وضو خانے میں جا کرہاتھ منھ دھویا اور اس کے بعد دونوں نے سچل کے مزار کے اندرجا کرفاتحہ خوانی کی۔فاتحہ خوانی کر کے نکلے توصحن میںشمیم برگد کے ایک گھنے پیڑ کے نیچے اپنے شوہر کے قریب بیٹھی ہوئی نورل کی بیوی سے باتیں کررہی تھی۔اسے دیکھنے کے لیے نذیر حیدری کے ساتھ کچھ دیر وہاں گھومتا رہا۔ وہ اسے اپنے گردوپیش منڈلاتے دیکھ کر لطف اندوز ہورہی تھی۔جب وہ ٹہلتا ہوا اس کے نزدیک سے گزرتا تو وہ مسکراہٹ سے اسے دیکھتی،اپنی آنکھوں کے کونوں سے اشارے کرتی اور اپنے شوہر سے نظر بچا کرہاتھ بھی ہلاتی۔
لنگر شروع ہوتے ہی لنگر خانے میںدیگوں کے گرد لوگوں کاہجوم جمع ہوگیا۔ مزار کے خلیفے اور مجاور زائرین کو کو صبر کی تاکید کرتے رہے۔جسے مٹی کی تھالی میں اپنے حصے کا لنگر ملتا وہ وہاں سے دور جا بیٹھتا۔حیدری نے ہمت کرتے ہوے ہجوم میں راستہ بنا کر لنگر حاصل کر لیا۔مٹّی کی تھالی میں گرما گرم چاولوں نے انھیں بہت مزہ دیا۔چاول ختم ہونے کے بعد وہ دونوں اپنی انگلیاں چاٹنے لگے۔
سماع گاہ میںفرش کی صفائی کے بعد کھلے صحن میںچٹائیاں بچھادی گئیں۔مقامی فنکار طبلے اور ہارمونیم سنبھالے اپنی مخصوص نشستوں پر آکر بیٹھ گئے۔لنگر ختم ہونے کے بعد محفلِ سماع سے لطف اندوز ہونے والے بہت کم لوگ باقی رہ گئے تھے۔
کچھ ہی دیر میںپورے احاطے میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کے سُرپھیل گئے اور سب کے سب سروں کی کشش میں کھنچے سماع گاہ میں آآکر ڈیرہ ڈالنے لگے۔
نذیرشمیم سے بے خوف و خطر ہو کر ملاقات کرنا چاہتا تھا۔وہ یہاں کے اجنبی لوگوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہاں کا سارا اہتمام صرف اس کی ملاقات کے لیے کیا گیا ہے۔
رات ہولے ہولے دبے پائوں گزر رہی تھی۔کئی لوگ قوالی سنتے سنتے اپنی چٹائیوں پر ہی گہری نیندسوگئے اور بہت سے دھیرے دھیرے اٹھ اٹھ کر رخصت ہوگئے۔
ٹیلی فون آپریٹربھی تھکاوٹ اور اکتاہٹ کی وجہ سے جماہی پر جماہی لے رہا تھا۔ شمیم نے اس کے لیے رلّی بچھائی۔اس نے اپنی ٹوپی،چشمہ اور بٹوا اس کے حوالے کیااور خود اجرک اورڑھ کر سوگیا۔
محفل ِسماع چل رہی تھی۔بوڑھے قوال اپنا اپنا ہنر دکھا کر چلے گئے توہارمونیم اورطبلے پر نوخیز قوالوںکی اجارہ داری قائم ہوگئی۔وہ اپنی محرومیوں اور ناآسودہ خواہشوںکاغبار چیخ چلّاکرنکالنے لگے۔
نذیر نے اِدھراُدھر نگاہ دوڑائی۔سماع گاہ کے فرش پر لوگ ادھر ادھر بکھرے ہوے تھے۔مسجد کے مینار اور محرابیں تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔مسجد سے متصل مزار کی اونچی اور سیاہ دیوار تھی۔بہت دیر تک بیٹھے رہنے کی وجہ سے نذیر کو بھی اونگھ سی آنے لگی تھی۔ نورل نے آکراسے جھنجھوڑااور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے اسے باہر چلنے کو کہا۔
نذیر اٹھ کر اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔سب ٹھیلے والے وہاں سے جاچکے تھے۔ نذیر لمبے سانس بھرتا سامنے واقع خالی ڈھنڈار میدان کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاںیکہ و تنہا کھڑا ہواکھجور کا درخت آسمان کے نیچے اپنے پنکھ پھیلائے کھڑا تھا۔اس کے تنے کی کھردراہٹ اورمیلی رنگت رات کی تاریکی کے سبب اوجھل ہو گئی تھی۔اس کی ٹیڑھی میڑھی شباہت میں اسے عجیب حسن دکھائی دے رہاتھا۔شاعرِ ہفت زبان کے مزار کے سامنے اسے رات کے اس پہر کھجور کا یہ درخت پرکشش محسوس ہورہا تھا۔نورل اسے اکیلا چھوڑ کر واپس چلا گیا تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے شمیم کو نورل کے ساتھ آتے دیکھا تو اسے کھجور کے درخت کے لیے اپنے دل میں پیدا ہونے والی پسندیدگی کی حقیقت معلوم ہو گئی۔شمیم اس وقت بھی سرتاپا برقعے میں لپٹی ہوئی تھی۔نذیر نے اپنے جگری یار حیدری کو قبرستان کے باہر پہرے داری پر مامورکیا اور خود شمیم سے ذرا تسلی سے بیٹھ کر دو باتیں کرنے چلا گیا۔
اس مختصر سے قبرستان میں جابجاکیکر اوربوڑھ کے ٹنڈمنڈ درخت کھڑے تھے جن کے بیچ بہت سی چمگادڑیں اڑتی پھرتی تھیں۔ وقفے وقفے سے ان کی نوکیلی آواز گونجتی اور پورے قبرستان میں پھیل جاتی۔
وہ اس سے آگے احتیاط سے چل رہا تھاتا کہ کوئی ایسی جگہ ڈھونڈ سکے،جہاں ان کا کچھ دیربیٹھناممکن ہوسکتا۔’’اس پراسرار ماحول سے شمیم کہیںخوفزدہ نہ ہوجائے،‘‘ اس نے سوچا۔
پیڑوں کے بیچ چلتے ہوے وہاں واقع ایک چھوٹے سے خستہ اور بوسیدہ مزار کی داہنی دیوار کے ساتھ انھیں کچھ جگہ مل گئی۔ اس نے اپنے جوتوں کی مدد سے وہ جگہ صاف کی اور آس پاس کی زمین پراینٹوں کے ایسے ٹکڑے تلاش کرنے لگاجن پر تھوڑی دیر بیٹھنا ممکن ہو سکتا۔
ایک سبک رو چمگادڑ شمیم کے کانوں کے قریب سے گزر گئی۔چمگادڑ کو اپنے بہت قریب دیکھ کر اور اس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سن کرشمیم دہشت زدہ ہو گئی اور اس کے منھ سے ایک زوردار چیخ نکلی۔اس کی چیخ سن کر قبرستان کے باہر موجود پکوڑافروش دوڑتا ہوا آیا۔اس نے شمیم کی ہمت بندھانے کے چند جملے کہے اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔
نذیر اینٹوں کے ٹکڑوں کی تلاش میں کچھ دور نکل گیا تھا۔وہ اینٹوں کے دو بڑے ٹکڑے اٹھائے واپس آیا توشمیم تاریکی میں اسے دیکھ کر بھی سہم گئی۔نذیر نے دیوار کے پاس اینٹوں کے ٹکڑے لگا کر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی۔شمیم اس کے ساتھ ہی ایک ٹکڑے پر بیٹھ گئی۔وہ ابھی تک سہمی ہوئی تھی۔چمگادڑ کے علاوہ وہ شاید قبرستان کے وحشت ناک ماحول سے بھی سراسیمہ لگ رہی تھی،اس لیے کچھ دیر گزرنے کے باوجود اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی۔
نذیر نے دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے شانے پر رکھ دیا اور اسے ہولے ہولے سے دبانے لگا۔مردانہ ہاتھ کے بے صبر مگر اپنائیت بھرے لمس نے اسے خوف کی دلدل سے نکالاتو وہ اپنی بزدلی پر ندامت محسوس کرتی مسکرانے لگی۔
نذیر کا ہاتھ اس کے نرم کندھے سے ہوتا ہوا اس کے گداز بازو کے نرم گودے میں اتر گیا۔ شمیم کا ذہن بٹانے کے لیے اس نے پچھلی ملاقات کا ذکر چھیڑتے ہوے اس کی جرأت و بہادری کو سراہا۔ اس کی حوصلہ افزائی کی۔نذیر سے اپنی تعریف سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔
وہ اسے آہستگی سے اپنی طرف کھینچتے ہوے ہنس کر بولا،’’تم مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہو کہ اگر تمھارے شوہر کے خاندان میں کسی کو ہمارے اس تعلق کے بارے میںذرا سی بھنک بھی پڑ گئی تو ہم دونوں کو کاروکاری کر کے مار دیا جائے گا۔ ہم آگ کے دریاکے او پر بندھی ہوئی باریک سی ڈوری پر چل رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تم مجھ پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتی رہیں تو ہم آگ کے دریا کے پار ضرور اتریں گے۔‘‘ اس نے شمیم کی تابناک آنکھوں میں جھانکا۔ وہ اس کی بے باک نگاہوں کی تاب نہیں لا سکی اوراس نے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ بھی اپنے دل کے منجمد دریا کو پگھلا نے والے اور اسے ایک پُر شور ندی میں تبدیل کرنے والے، اپنے اس محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی مگر نذیر کے ہاتھوں کی جنبش اسے بے خودی کی خواب آگیں وادیوں کی طرف لیے جا رہی تھی۔ لذت کا ست رنگا پرندہ اس کی پور پور میں دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلانے لگا تھا۔
نذیر نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوے کہا،’’ہمارا آج کایہ ملاپ ہمارے پیار کی یادگار ہے۔ میں اسے زندگی بھر بھول نہیں سکوں گا۔ آج حضرت سچل سرمست بھی ہمارے پیار کے گواہوں میں شامل ہوگئے۔‘‘اس کا ہاتھ اس کے بازو کے گداز سے پھسل کر اس کے سینے کی گولائیوں کو ناپنے لگا۔وہ اس کے اور نزدیک آگیا۔’’دیکھو!تم گاؤں کی عورت ہو،اورتمھیں ڈرنا نہیں چاہیے۔‘‘
وہ مزاحمت کرنا چاہتی تھی مگر اس کے شریر ہاتھوں کے اس کے حواس معطل کر دیے تھے۔اس کے بدن کے رگ و ریشے میںایک بے چینی اور بے اطمینانی سی پھیلتی جارہی تھی۔وہ لذت کے ست رنگے پرندے کو اپنے بدن کی تمام پہنائیوںاورتما م وسعتوں میں مائل بہ پرواز دیکھنا چاہتی تھی۔ اس خواہش میں وہ اپنی ملاقات کامحل ِوقوع تک فراموش کر بیٹھی تھی۔اس کی آنکھیں خود بخوبند ہو رہی تھیں۔اپنے بوجھل پپوٹے بمشکل پوری طرح کھول کر اس نے نذیر کی طرف دیکھا اورپہلی بار اپنے بازو پھیلا کر اس نے اسے اپنے بدن سے لپٹا لیا۔نذیر کے تشنہ لبوں کا بوسہ لینے کے بعد اس نے بمشکل اسے اپنے آپ سے علیحدہ کردیا۔الگ ہونے کے بعد نذیر نے گردوپیش نظر دوڑائی تو اسے پہلی بار اس محلِ وقوع کی حرمت کا خیال آیا۔شب کا نجانے کون سا پہر تھا اور وہ انسانی لاشوں کے مدفن میں اس وقت کیا کر رہا تھا۔
اسے خاموش پا کروہ سمجھی کہ شاید وہ برا مان گیا۔ وہ اس کا دھیان بٹانے کے لیے اپنے ٹیلی فون آپریٹرشوہر کے خلاف باتیں کرنے لگی۔وہ اس کی باتوں کے بیچ بیچ میں اسے لقمہ دیتا، اپنا غبارِ دل نکالنے میں اس کی مدد کرتا رہا۔
اچانک قبرستان کے باہر سے پکوڑافروش کی پکار سنائی دی۔وہ نذیر کا نام لے کر اسے بلا رہا تھا۔نورل کی پکار سن کر وہ دونوں چونکے۔ شمیم فوراً اٹھ کر اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔اس نے برقعے کا نقاب اچھی طرح کس کر باندھا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔تشنہ لذت کی عدم تکمیل سے پیدا ہونے والی اذیت کا بوجھ اٹھائے ہوے وہ دونوں نڈھال قدموں سے چلنے لگے۔
نذیر تلخ سانس بھرتا ہوا قبروں کو روند تا ہوا چل رہا تھا۔قبرستان کے باہر پہنچنے پر حیدری نے اسے ٹیلی فون آپریٹر کے نیند سے جاگنے کی خبر سنائی تو وہ اپنی کامیابی پر زیرِلب مسکرانے لگا۔
شمیم نورل کے ساتھ لنگر گاہ کی طرف چل پڑی جبکہ نذیر حیدری کے ساتھ سڑک کی جانب۔

ٹھری میرواہ واپس پہنچنے کے بعدکچھ روز تک وہ دکان پر نہیں گیا۔نجانے کیوں ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کے خیال سے ہی اسے وحشت ہونے لگی تھی مگر اس کے لیے سارا دن گھر پہ رہنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔چاچی خیر النسا کے لیے اس کی آنکھوں سے حیا ختم ہوگئی تھی۔وہ جب چولھے پر جھکتی تو وہ ڈھٹائی سے اس کے سینے کی طرف دیکھنے لگتا اور ٹکٹکی لگائے دیکھتا ہی رہتا۔
ایک شام وہ صحن میں پیڑھی پر بیٹھی وضو کرتے ہوے اپنی ایڑیوں کا میل اُتار رہی تھی۔بے دھیانی میں اس نے اپنی شلوار گھٹنوں تک کھینچ لی تھی۔نذیر کو انھیںتاکنے کا موقع مل گیا۔ اس کی پنڈلیاںاسے بہت کداز محسوس ہوئیں۔چاچی نے معاً اس کی طرف دیکھا تو اس کی بے حیا نظروں سے جھینپ کے رہ گئی اور فوراً اُٹھ کر جا نماز پر نماز کی نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔
وہ انتظارمیں رہنے لگا تھاکہ وہ اسے چارپائی پرسوئی ہوئی نظر آجائے۔ ایسے میں اس کی قمیض ذرا سی کھسک جاتی تھی اور اس کا لو دیتا بدن جھانکنے لگتا تھا۔
اگر کبھی اسے غسل خانے میں چاچی کے لٹکے ہوے ریشمی کپڑے مل جاتے۔وہ ان کی ملائمت محسوس کرنے کی خاطرانھیں اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتا اور اپنے ہونٹوں سے لگا کر انھیں چومتا۔
اس کے لیے چاچی سے گفتگو کرنامزید مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس سے باتیں کرتے ہوے اچانک اس کی نظریں اس کے بدن پر بھٹکنے لگ جاتی تھیں۔ وہ اس کے گداز بھرے بازو کو دیکھنے لگتا تو خود بخود اس کی زبان میں لکنت پیدا ہوجاتی۔اسے موقع محل کے مطابق مناسب لفظ نہ سوجھتا اور وہ جملوں کو توڑ کر بچوں کی طرح بولنا شروع کردیتا۔
ایک بار وہ پورے انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ اس سے دست درازی کرنے کے متعلق سوچتا رہا مگر ایسا کرنے کی وہ اپنے اندر ہمت محسوس نہیں کر سکا۔اسے لگتا تھا کہ چاچی جان بوجھ کر اس کی آنکھوں کے لیے منظر بناتی تھی لیکن اس کی بے لگام آنکھوں کو برداشت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اس کا لگاتار دیکھنا بھی اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ جلد ہی بیزار ہوجاتی اور اس کے چہرے پر تنفر اور بیزاری کے آثار پیدا ہوجاتے اوروہ فوراً اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیتی۔کئی مرتبہ اس نے اس کی بے معنی سی بڑبڑاہٹ بھی سنی تھی۔ اس عورت کے سامنے دل کھولنا آسان نہیں تھا۔وہ سوچتا، دوری کے اس سراب کے درمیان قرب کا دھوکا شاید ختم ہوجائے۔وہ دونوں جہاں پرتھے، کیا پتا آنے والے دنوں میں اس سے اور زیادہ پیچھے چلے جائیں۔
چاچی خیر النسا کے وجود سے اٹا یہ مکان اکثر اسے کاٹنے لگتا۔اس لیے وہ صبح سویرے گھر سے نکل جاتا اور شام کو واپس لوٹتا۔وہ شمیم سے دوبارہ ملنا چاہتا تھا۔ملاقات کا ڈول ڈالنے کی اس نے پوری کوشش کی مگر اس کے کسی بھی پیغام کا مثبت جواب نہیں آیا۔ جب اس نے پکوڑافروش سے اس کی وجہ جاننی چاہی تواس نے بتایا کہ وہ عورت ذات ہے،تھوڑا بہت نخرہ تو کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس رات کے پچھلے پہردرازہ شریف کے قبرستان کا ماحول بہت خوفناک تھا۔ شاید اس پر کوئی اثر ہو گیا ہواور کسی آسیب یا سائے کی وجہ سے وہ اس سے ملنے سے گریز کرنے لگی ہو۔
نذیر نے نورل کی اس بات کو من گھڑت سمجھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس رات کے بعداب شمیم اس سے اپنا تعلق ختم کرنا چاہتی ہے۔ وہ حیران تھا کہ اس سے ملنے کی خاطر وہ دو مرتبہ خطرہ مول لینے کے بعد اب کیونکر محتاط ہوگئی تھی۔دوسرے رقیب کا خدشہ بھی خارج ازامکان نہیں تھایا پھر ہوسکتا ہے کہ اس کے ٹیلی فون آپریٹرشوہر کے کان میں ان کے پیار کی بھنک پڑگئی تھی۔
اسے نورل پر بھی شک ہونے لگا تھا کہ اس نے اس کے شوہر سے مل کر ساز باز نہ کر لی ہو یا نذیر سے دوستی کی آڑ میں اس کے لیے بھڑوت گیری کرنے سے وہ بیزار نہ ہو گیا ہو۔ مگرشاید اس کا خیال غلط تھا کیونکہ پکوڑا فروش ویسے کا ویسا ہی تھا۔ وہ اب اس سے روپے بھی نہیں لیتا تھا۔
ایک مرتبہ اسے یہ اذیت ناک خیال آیا کہ شمیم سے ملاقاتوں میں دونوں مرتبہ وہ اپنی بھرپور مردانیت کا مظاہرہ نہیں کرسکاتھا۔ اسی لیے وہ اس سے روٹھ گئی اور اس کے حصے میں چندبوسوں کے علاوہ کچھ نہیں آسکا۔ وہ چند بوسے اسے بہت ناکافی محسوس ہو رہے تھے۔وہ اس کے وصل کی پوری لذت سے بہرہ یاب ہونا چاہتا تھا۔
شمیم کے ہجر کے ان روزوشب میںوہ خود کو زیادہ اکیلا محسوس کرنے لگا تھا۔حیدری مذاق کے طور پر اسے جو طعنے دیتا اور جو پھبتیاں کستا،وہ اس کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتیں۔وہ سمجھنے لگتا کہ اپنی کم ہمتی اور ناتجربہ کاری کے سبب اس نے خود کو ایک شادی شدہ عورت کی نظروں میں بے وقعت ظاہر کردیا تھا،اسی لیے اب وہ اس سے ملنے سے گریز کر رہی تھی۔
کچھ نئی عادتیں اور نئے مشغلے بھی اس کی اذیت کو کم نہیں کرسکے۔اگرچہ قصبے کی ساری گلیاں اور سارے مکان اس کے دیکھے بھالے تھے، اس کے باوجود وہ بہت سا وقت آوارہ گردی میں گزارنے لگا۔ اس دوران راستے میں اسے کوئی لڑکی یا برقع پوش عورت نظر آتی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتا۔وہ خاتون یا لڑکی جس مکان میں داخل ہوتی وہ اس کے دروازے پر ٹکٹکی لگائے اس گلی میں کھڑا ہو جاتااور خوامخواہ اس مکان کی دیواروں کے رخنوں اور دروازے کی دزدوں سے جھانکنے لگتا۔کبھی کبھار کوئی آدمی اس کی اس حرکت کا برا منا کر اسے للکار تا تووہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا۔
قصبے کی دکانوں پر ویڈیو گیم اور کیرم بورڈ، ڈبو، اور بلیئرڈکھیل کھیل کر اس کی طبیعت اب ان سے بھی سیر ہوگئی تھی۔
وہ شمیم کے نرم و لذیذ لمس اور بوسوں کو فراموش کرنا چاہتا تھا۔جب تک اس نے اس کے شوہر کو نہ دیکھا تھا، تب تک وہ اپنی تصور اتی دنیا میں خود کو اس کے پرشباب اورپرلطف جسم کا اکلوتا مالک سمجھتا تھا، مگر اب ٹیلی فون آپریٹرایک ایسی حقیقت بن کر سامنے آچکا تھا، اس کے لیے جسے جھٹلانا ناممکن تھا۔
وہ یہ سوچ کر کڑھتا رہتا اور دل ہی دل میں تائو کھاتا رہتا کہ وہ ٹیڑھا بینگا شخص اس جسم کا یکہ و تنہامختارتھا۔وہ اس کے نکاح میں داخل تھی۔اس کے روزوشب اس شخص کی خاطر مدارات میں بسر ہو رہے تھے۔وہ جب چاہتا، اس سے خلوت میں وصل کی لذت سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔نذیر کے لیے سب سے کربناک بات یہی تھی۔یہ ہر وقت اس کے ذہن پر مسلط رہتی تھی اور اس کے لیے اس سے نجات پانا ممکن نہیں تھا۔جب بھی ان خیالات کی اذیت ناکی حد سے بڑھنے لگتی تووہ دانت کچکچانے لگتا، بے بسی سے اپنی مٹھیاں بھینچتا اور ہیجانی انداز میں زیرِ لب بڑبڑاتا۔’’وہ سر تا سرگہرے سرور سے بھری ہوئی ایک صراحیِ مے ہےجو پوری کی پوری اس کڈھب آدمی کی دسترس میں ہے۔‘‘
اس پر یہ مجنونانہ کیفیت عارضی طاری ہوتی۔جب وہ اس کیفیت سے باہر آتا تو سکون کے لمحوں میں اپنے آپ کو سمجھانے لگتا۔اس کی زندگی میںوہ پہلی عورت تھی جس نے اس کے غیر سنجیدہ رومان کا جواب پورے خلوص اور سنجیدگی سے دیا تھا۔وہ اس رات صرف اس کی خاطراپنے گھر، اپنے شوہر، اپنے گرم بستر اور لحاف کو چھوڑ کر اس سے ملنے آئی تھی۔وہ اس کی دست درازی اور اس کی بوسہ باری کو برداشت کرتی رہی تھی۔ وہ ہرگز کوئی فاحشہ نہیں تھی اور نہ ہی قیمتی چیزوں پر مرنے والی تھی۔ شاید اسے محبت کی ضرورت تھی، اور وہ اس کی یہ ضرورت پوری کرنے کو تیار تھا۔اس نے اپنی بے لگام جسمانی خواہشوں کو ملعون و مطعون قرار دیا۔
کیا وہ پردہ نشین شمیم کے لیے اپنے دل میں محبت محسوس کرنے لگا تھا؟اس کے لیے اپنے بدن میں اٹھتے طوفانوں اورہیجانوں کو محبت قراردینا بہت مشکل تھا۔ یہ کوئی اور ہی چیز تھی، محبت سے بھی زیادہ گہری،پراسرا ر اور عمیق چیز۔
بہت سوچ بچار کے بعد بالآخراس نے فیصلہ کیا کہ شمیم کو ایک آخری تحفہ بھجوائے۔ ہو سکتا ہے،تحفہ پا کراس کے دل میں امڈ کر ہیجان برپا کرنے کے بعد یخ بستہ ہونے والی اس کے پرجوش جذبات کی پرانی روایک مرتبہ پھر عود کر آئے۔یہی خیال ذہن میں لا کروہ رحیم سنار کے پاس گیا جوقصبے کا پرانا اور مشہورزر گرتھا۔اس نے سوچا کہ شاید زیور کی بدولت اس سے دوبارہ ملنے کی سبیل پیدا ہوجائے۔
زیورات کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ زرگر گلی میں واقع میلے شو کیسوں والی ایک دکان میں داخل ہوا تو اپنے کام میں مصروف بوڑھے سنارنے اپنا سر اٹھا کر ٹوہ لینے والی آنکھوں سے اسے دیکھنے کے بعد، مخصوص انداز میں مسکراتے ہوے اس کا استقبال کیا۔اس نے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا جلتا ہوا دِیا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑازیور ایک طرف رکھ دیا اور اپنے نوجوان گاہک کی طرف متوجہ ہوا۔
نذیرمیلی کچیلی کرسی پر بیٹھتے ہوے بولا،’’میں نے آپ کے کام کی بہت دھوم سنی ہے۔ مجھے آپ سے ایک چھوٹا سا زیور بنوانا ہے۔‘‘
اپنی تعریف سن کربوڑھازرگر ہنسا، پھراپنی موٹے شیشوں والی عینک کواپنی میلی قمیض سے صاف کرتے ہوے بولا،’’عزت اور ذلت دینا میرے رب سائیں کا کام ہے، میرا کام صرف محنت کرنا ہے۔‘‘
نذیر نے اس سے ہاربنانے کی فرمائش کرتے ہوے کہاکہ ہار بے شک چاندی کا بنا ہوا ہو مگر پہلی نظر میں دیکھنے پر وہ سونے کا معلوم ہونا چاہیے۔ اس کی چمک اتنی جلدی ماند نہ پڑے اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ نہ ہو۔
نذیر کی باتیں سن کررحیم سنار کو اس کے دل تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
’’یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا ہے۔ مگر میں اس کے پیسے ایڈوانس لوں گا۔‘‘
نذیر نے مطلوبہ رقم زرگرکے حوالے کی تو وہ کہنے لگا کہ پرسوں آکر وہ اپنا ہار لے جائے۔نذیر دکان سے مطمئن ہو کر نکلا۔

دکان سے اس کی لگا تار غیرحاضری پرچاچا غفور یہی سمجھتا رہا کہ اب تک اس کے بھتیجے کی صحت بہتر نہیں ہے۔وہ ہر روزنذیر کو گھر میںسوتا ہواچھوڑکر اکیلا ہی دکان پرجاتا رہا۔ جب دکان سے اس کی غیر حاضری طول پکڑنے لگی تو چاچے کے دل میں شکوک و شبہات سر اٹھانے لگے۔اس نے ان شکوک وشبہات کو کچل کر دل سے نکالنے کی بہت کوشش کی، مگر ان کی خودسری بڑھنے لگی۔اس نے یعقوب کاریگر کو اپنے اندیشوں میں شریک نہیں کیا۔ سُبکی کے خوف سے پہلی بار اس نے کاریگر سے کوئی بات چھپائی۔ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ اس کامذاق اڑاتا اور اس کے لیے زندگی بھر کے لیے کوئی پھبتی ایجاد کرلیتا۔اسی خوف کے سبب اس نے اسے شاملِ راز نہیں کیا۔
جب اس کے دل میں پہلے شک نے رینگتے ہوے جگہ بنائی تو وہ بہت جزبز ہوا تھا، اوراس نے اسے پوری شدت سے رد کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر وہ کانٹے کی طرح اس کے دل میں پیوست ہوگیا تھا۔اس نے خود کو ملامت کی تھی کہ اس کا بھتیجا ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ وہ اسے اچھی طرح جانتا تھا۔
روزانہ گھر سے نکلتے وقت وہ برآمدے میں کھاٹ پر بے سدھ سوئے نذیر کو گھورکر دیکھتا۔ اس وقت اسے محسوس ہوتا کہ وہ رضائی کے نیچے آنکھیں کھول کر لیٹا ہوگا اور اس کے گھر سے جانے کا انتظار کر رہاہوگا۔بوڑھا درزی ایسے خیالات کو جھٹکنے کے لیے بار بار اپناسرہلانے لگتا، اور گھر کی دہلیز سے نکلتے وقت اس کا دل ڈوبنے لگ جاتا۔گلی میں چلتے ہوے بار بار اس کے قدم ٹھٹک کر رک جاتے۔وہ مڑ کر لمحہ بھر کے لیے سوچتا مگر اپنے گھر واپس لوٹنے سے گریز کرتا۔
دکان پر تمام دن وہ اسی ادھیڑبن میں مبتلا رہتا۔ شام کو جب واپس لوٹتا تو گھر کے کونوں کھدروں میں جھانکتا پھرتا، جیسے کوئی ثبوت تلاش کرنا چاہتا ہو۔وہ باتوں کے دوران اپنی بیوی کو کرید کر بھتیجے کے رویے اور اس کی عادتوں کے متعلق پوچھتارہتا۔
چاچی خیر النسا کے گمان میں نہیں تھا کہ اس کے ذہن میں کیسے خیالات رینگ رہے تھے۔ اس کی ذہنی حالت سے بے بہرہ، وہ عام سے انداز میں اسے دن بھر کی مصروفیات کا احوال سنادیتی۔اس کی باتیں سنتے ہوے چاچا اس کے چہرے کو گہری نظروں سے گھورتا رہتا۔پھر مایوس ہو کر کوئی خاص بات معلوم نہ کرسکنے کے دکھ میں مبتلا ہوکر وہ ٹھنڈے سانس بھرنے لگتا اور اپنے ایک ہاتھ کی مٹھی کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پرمارتارہتا۔
ایک روزدوپہر کو اچانک کام روک کر وہ یعقوب کاریگرسے بہانہ بنا کر دکان سے نکلا۔ وہ پرُامید جوش میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوااپنی گلی میں داخل ہوا۔مگر جوں جوں گھر کے قریب پہنچنے لگا، اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔کچھ اور آگے جا کراس کا سر چکرایا اور پاؤں ڈگمگائے مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ گھرکے دروازے تک پہنچااور کچھ دیر تک کان لگائے وہاںکھڑا رہا مگر اسے اندر سے کوئی آواز نہیں سنائی دی۔اس نے سوچا کہ اگر وہ یہاں سے اندر داخل ہوا تو وہ لوگ اس کے قدموںکی چاپ سن لیں گے۔وہ برسوں سے مقفل دروازے پر گیاجس کا راستہ دوسری گلی سے تھاجو ایک بند گلی تھی۔وہ وہاں کھڑابندگلی کو دیکھتا رہا۔اس کے گھر کی پرانی دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی۔پہلی بار دروازے پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہوے وہ پیٹھ کے بل گلی کے کنارے پر بنی ہوئی نالی میں گرتے گرتے بچا۔دوسری مرتبہ اس نے دروازے پرمضبوطی سے پیر جمایا اورکنڈی کے لوہے کو زور سے پکڑااور گھر کے پچھلے حصے میں کود گیا۔غسل خانے کی طرف سے کپڑے دھونے کی دھپ دھپ سن کر اسے سخت مایوسی ہوئی۔اس نے سوچا کہاگر وہ اس جانب سے گھر میں داخل ہوا تو وہ اسے دیکھ کر پریشان ہو جائے گی۔ وہ چپکے سے دبے پائوں واپس چلا گیا، مگر شک کا کانٹا کسی طور اس کے دل سے نہیں نکل سکا۔
شام کو دکان سے واپس آنے کے بعداس نے دبے لفظوں میں نذیر سے دکان پر نہ آنے کی شکایت کی تو ندامت محسوس کرتے ہوے اس نے اگلے دن دکان پر جانے کا وعدہ کرلیا۔
اگلی صبح وہ دکان جانے کے لیے تیار ہو کر گھر سے نکلا، مگر اس کے قدم اسے بہکا کر میرواہ کے کنارے واقع چائے خانے پر لے گئےجہاں اس کی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔ اس کے ہمراہ چرس پینے کے کے بعد دکان جانے کا خیال اس کے ذہن سے نکل گیا۔اس نے چاچے غفور کی نافرمانی کی اور وہ مزید کچھ روز تک جان بوجھ کر دکان نہیں گیا۔چاچے نے اپنے بھتیجے کی ہٹ دھرمی دیکھتے ہوے اسے دوبارہ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔
چاچا غفور نہیں چاہتا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی بات نکل کر مشہور ہو جائے۔وہ خاندان بھر میں اپنی بدنامی سے خوفزدہ تھا۔اس لیے اس نے اپنے بھتیجے پر دھونس نہیں جمائی،اسے ڈانٹا ڈپٹا نہیں۔
اس نے میرپور ماتھیلو میں رہنے والے اپنے بڑے بھائی سے ایک مرتبہ نذیر کو اس کے پاس بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ اس لیے وہ سوچ رہا تھاکہ اگر اس نے گالم گلوچ کرکے اسے نکال دیا تواس کی بہت جگ ہنسائی ہوگی اور پوری برادری میں اس کی ناک ہمیشہ کے لیے کٹ جائے گی۔

شام کی آوارہ گردی کے دورا ن ایک گلی میں اس کی مڈبھیڑ نورل سے ہو گئی۔اس نے نذیر کو ایک ایک حیران کن مگر خوشی سے لبریز خبر سنائی۔کچھ دیر پہلے ہی نذیر نے زرگر کی دکان پر جا کر اس سے ہار وصول کیا تھا۔ہار کے بارے میںپکوڑا فروش کو بتانے سے پہلے ہی اس نے اسے مژدۂ جاں فزا سنا دیا۔
نذیر وہ بات سن کر اس پریقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔اس کے تو سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی جراَت مند اور دلاور بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اپنے عاشق کو ملاقات کے لیے دعوت دے دے۔خوشی میں اس نے بےاختیار ہو کرنورل کے کھردرے گالوں کو چوم لیا اور اس کی بے ترتیب مونچھوں کو تھپتھپانے لگا۔ اس کے بعدشام بھروہ پکوڑا فروش کو ساتھ لیے مختلف چائے خانوں میں گھومتا پھرا۔اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا۔اس نے ہار والی بات جان بوجھ کر اس سے پوشیدہ رکھی مبادااس کے دل میں حرص پیدا ہوجائے اور وہ اپنی بیوی کے ذریعے مسرتوں بھری آئندہ ملاقات میں کھنڈت ڈال دے۔رات نو بجے کے آس پاس اس نے اسے میرواہ کے پل پر خدا حافظ کہا۔

صبح کو عجیب واقعہ رونما ہوا۔نذیر گہرے خوابوں میں گم مزے کی نیند سورہا تھا۔ غفور چاچا غصے میں بپھرا ہوا برآمدے میں آیا اور اس نے بلند لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوے شانوں سے پکڑکر اسے جھنجھوڑ کر جگایا۔اس نے ہڑبڑاتے ہوے آنکھیں کھول دیں۔اس نے آج پہلی بار چادر میں لپٹے ہوے اپنے چاچا کو غیظ وغضب کے عالم میں دیکھا۔ اس کے چہرے پر شدید تناؤتھا۔ اس کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں اور غصے کی شدت سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔
نذیر چارپائی پر اٹھ کر بیٹھا توبوڑھے درزی نے اسے سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کر اس کے چہرے اور سینے پر زوردارمکے رسید کرنے لگا۔
ایسی بے موقع پٹائی کے بارے میں نذیر نے سوچا بھی نہیں تھا۔دو چار لمحوں تک وہ اپنے جسم پر چاچے کے زوردار گھونسوں کی ضربیں برداشت کرتا رہا۔اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی مگرچاچی خیر النسا اسے کہیں نظر نہیں آئی۔اس نے اپنے ہاتھ اور منھ سے جواب دینے کے بجاے خود کو بچانا ہی مناسب سمجھا۔
وہ چاچے کی کرخت اور فحش گالیوں کا جواب اپنے مسکین سوالوں سے دیتا رہا۔کچھ دیر بعد وہ لاچار اٹھا اور وہ بوڑھے درزی کو دھکا دیتا ہواصحن کی طرف بھاگ نکلا۔ اس کے دھکے سے چاچاغفورفرش پر گر گیا اور ہانپتا ہوااُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔
چاچی خیر النسا غسل خانے سے باہر آئی تو اس نے پہلے نذیر کی طرف اور پھراپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر تک وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ ان دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔ چاچا ایک مرتبہ پھر نذیر پر حملہ کرنے کے لیے اس کی طرف لپکا تواسے چاچی نے روک لیا اور اسے سمجھاتی ہوئی زبردستی کمرے میں لے گئی مگر اس کے منھ سے لگاتار گالیاں سنائی دیتی رہیں۔
نذیر نے غصے میں چاچے کی بڑبڑاہٹ سے اندازہ لگالیا تھا کہ بوڑھے زرگرنے کل شام نے اس کے پاس جا کر اسے ہار کے متعلق بتا دیا تھا جو اس نے اسے بنا کر دیا تھا۔ اس نے زیرِلب اس رذیل سنار کو جی بھر کر گالیاں دیں۔
غسل خانے میںہاتھ منھ دھونے کے بعد وہ چائے پینے کے لیے باورچی خانے میں جا کر بیٹھ گیا تاکہ چاچا کی غضب ناک آنکھوں سے دور رہ سکے۔ پتیلی میں موجود چائے کو چھان کر اس نے پیالی میں ڈالا اوربلند آہنگ سڑپے لے کرچائے پیتے ہوے وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
اس کے ذہن میں خیالات کی روچل رہی تھی۔آج رات اسے شمیم سے ملنے جانا تھا اور صبح سویرے ایسی بدمزگی کا رونما ہونا اسے اچھا شگون نہیں لگ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ غفور چاچا کے دل میں اس کے لیے جو نفرت بھر گئی ہے کسی طرح سے وہ ختم ہو جائے۔
وہ بار بار سوچ کر خود کو تیار کر رہا تھا کہ کچھ بھی ہووہ جوگیوں کے گوٹھ ضرور جائے گا۔ اس نے کئی مرتبہ شلوار کی جیب میں رکھے ہار کوٹٹول کر اس کی موجودگی کو محسوس کیا۔
باورچی خانے کی طرف آتے ہوے قدموں کی آہٹ سن کر وہ چونکا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا توچاچی خیر النسا کو آتے دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔
چولھے کے قریب بیٹھتے ہوے اس نے نذیر کو گہری نظر سے دیکھا۔ اس کی جھکی ہوئی نگاہ اور جھکا ہوا سر دیکھ کراس کے چہرے پر تمسخرآلود تاثر نمایاں ہونے لگا۔ اس سے کوئی بات کیے بغیر اس کے منھ سے ہونہہ کی آواز نکلی۔نذیر نے یہ آواز کو سنتے ہی اس کا مطلب سمجھ لیا۔وہ صبح ہونے والی اپنی پٹائی کی وجہ سے اس کے سامنے عجیب سی خفت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے خالی پیالے کوایک بار پھر چائے سے بھردیا۔وہ چاہتا تھا کہ کسی موضوع پر اس سے بات چیت شروع ہومگر وہ پہل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہا تھا۔وہ سر جھکائے صرف اس کے سانسوں کی آوازسنتا رہا۔
خاموشی میں اس کے سانسوںکی آواز نے اسے چاچی خیر النسا کے اس وقت کے محسوسات کے بارے میں بہت کچھ بتا دیا۔ بےدھیانی میں چسکی لیتے ہوے چائے کا گھونٹ اچانک اس کی سانس کی نالی میں چلا گیا۔وہ اتنے زور سے کھانسا اور چھینکاکہ اس کے حلق اور ناک سے نکلتے چائے کے ذرّے چاچی کے کپڑوں پر جاگرے۔اس کا ہاتھ کانپا اور چائے کاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
اس کی یہ حالت دیکھ کرچاچی بے ساختہ ہنسنے لگی۔ اس نے زمین پر پڑے ہوے اوندھے پیالے کو سیدھا کردیا، کیونکہ اوندھی پڑی ہوئی چیزیں اس کے خیال میں بدشگونی کی علامت ہوتی تھیں۔
ایسے حساس ترین موقعے پر اس کا ہنسنا نذیر کو ناگوار محسوس ہوا۔اس نے نزدیک ہی رکھے ہوے گھڑے سے پانی نکال کر اپنا منھ اور ناک صاف کیا۔
چاچی کچھ دیر تک اسے کریدنے والی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔پھرکسی تمہید کے بغیر اس سے پوچھنے لگی،’’تم نے وہ ہار آخرکس لیے بنوایا تھا؟‘‘
’’کون سا ہار؟!‘‘وہ خود کو سنبھالتے ہوے صاف مکر گیا۔
’’وہی جو تم نے رحیم سنار سے بنوایا تھا؟‘‘
’’کیا یہ بات سنار نے خود چاچے کو بتائی ہے ؟‘‘نذیر اس قضیے کے ماخذ تک پہنچنا چاہتا تھا۔
’’ہاں! اسی نے تیرے چاچے کو بتایا ہے۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھتی اس کی دلی کیفیت کو آنکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’میں نے وہ ہار...‘‘وہ کہتے کہتے رک گیا۔اچانک اسے ایک اور خیال سجھائی دیا اور اس نے بغیر سوچے بے دھڑک کہہ دیا،’’میں نے...وہ ہار... تیرے لیے بنوایا تھا۔ میں وہ تجھے دینا چاہتا تھا۔مگر کل رات وہ میری جیب سے کہیں گرگیا۔‘‘اپنی جرأتِ اظہار پروہ خودحیران تھا۔
’’میرے لیے؟‘‘اس کی بات سن کر اس کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی۔’’مگر میرے لیے کیوں؟‘‘
’’ اس لیے کہ کچھ دن پہلے جب میں بیمار ہوا تھا تو تُو نے میری بہت خدمت کی تھی،‘‘ وہ معصومیت سے بولا۔
چاچی اسے گھورتی رہی، پھر جھرجھری لیتے ہوے بولی،’’اپنے چاچا کو مت بتانا، ورنہ وہ ہم دونوں کو جان سے مار دے گا۔‘‘ اس نے سہمی نظر سے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ اسے کیا بتانا ہے۔‘‘
بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے کے بعد وہ ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گئی جبکہ وہ وہیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔جب ناشتہ تیار ہوچکا توکوہ اسے اپنے ساتھ غفور کے کمرے میں لے گئی۔
چاچے کے تیور اب تک ویسے ہی تھے۔اس کے ماتھے پر شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔ انھیں کمرے میں آتے دیکھ کر اس نے اپنا منھ دوسری طرف پھیر لیا۔
’’رحیم سنار کی بات سچی ہے یا نہیں؟‘‘اس نے تحکم آمیز لہجے میں اس سے سوال کیا۔
’’اس کی بات میں سچائی ہے، مگرمیں نے وہ ہار حیدری کے کہنے پر بنوایاتھا۔‘‘
’’ حیدری کے کہنے پر؟وہ کیوں؟‘‘
’’اس کا کسی لڑکی کے ساتھ کوئی چکر ہے،‘‘نذیر نے بتایا۔
اس کا جواب سن کر چاچے کے لبوں پر خود بخود مسکراہٹ پھیل گئی۔’’ اچھا،اس کا چکر ہے! کہیںتمھارا بھی کوئی چکر تو نہیں ہے؟‘‘
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا،’’نہیں چاچا۔‘‘
وہ ہنستے ہوے اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو پائینتی پربیٹھی ہوئی تھی۔
چاچے کا مزاج بدلتا دیکھ کرنذیر کے علاوہ چاچی نے بھی اطمینان کا سانس لیا۔

ناشتہ کرتے ہوے نذیر کو اپنی کوتاہی کا احساس ہوگیا۔اسے دکان کی طرف سے تغافل نہیں کرنا چاہیے تھا۔میرپور ماتھیلو سے شہر بدر ہوتے ہوے اس کے والد نے اسے نصیحت کی تھی کہ ٹھری میرواہ جا کر درزی کے کام میں دل لگانا۔آدمی کے پاس کوئی ہنر ہو تو اس کی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چاچا کے پاس کام کرنے آیا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے دکان سے اپنی غیرحاضری کے حوالے سے وہ اس کی تشفی نہیں کرسکا تھا۔اس کے چھوٹے موٹے بہانے زیادہ عرصے تک کارآمد نہیں ہوسکتے تھے۔اسی لیے سنار کی بات سن کر وہ حصے سے لال بھبھوکاہوکر اس پر برس پڑا تھا۔چاچا کے غصے میں بھرے ہوے سرخ چہرے میں نذیر کو اپنے والد کی جھلک دکھائی دی تھی۔
چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر آج رات کسی نے اس کاخالی بستر دیکھ لیا تو وہ اس پر مچنے والے ممکنہ فساد کو دبانے میں کامیاب ہوسکے گا۔ نجانے کیوں اس کے دل کو دھڑکا لگا ہواتھا کہ آج کی شب اس کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے والا ہے۔
چاچی خیر النسا ناشتے کے برتن اٹھانے کے لیے جھکی تو وہ خود کو اس کے سینے کی لکیر دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔’’کیا یہ اس نے مجھ پر ایک اور مہربانی کی ہے؟‘‘وہ یہ سوچتا ہوا دکان جانے کے لیے اٹھا۔

وہ دکان پر پہنچا تو وہاںچاچا کو نہ پا کر سخت حیران ہوا۔اس کے سوال پوچھنے پر یعقوب کاریگرنے اسے بتایا کہ وہ کسی کام سے رانی پور گیا ہوا ہے۔اس نے اپنی پریشانی ظاہر کی کہ اس کا دوست پچھلے کچھ دنوں سے کسی ادھیڑبن میں مبتلا ہے۔اب اس کی ہنسی پہلے کی طرح بے ساختہ نہیں رہی تھی اور باتیں کرتے کرتے وہ اچانک کہیں کھو سا جاتاتھا۔ اس سے بہت پوچھنے اور اسے کریدنے کے باوجود اس نے اپنی الجھن کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔بتاتے بتاتے اس نے اپنی سلائی مشین بند کردی اورکرسی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوے اس نے بیڑی سلگائی اور بات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کیا۔’’میں یہ سمجھا کہ وہ کام کی وجہ سے پریشان ہے مگر وہ گھبرانے والا آدمی بھی نہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ہوسکتا ہے وہ دکان سے تمھاری غیر حاضری پر کڑھتا ہو، لیکن یہ بات مجھ سے چھپانے والی تو نہیں۔کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔‘‘اس نے چٹکی بجاکر اپنی بیڑی کی راکھ فرش پر جھٹکی۔
نذ یر اب تک محویت سے اس کی باتیں سنتا رہا تھا۔وہ وہ اس کیفیت سے نکل کر، اس کے قریب جا کر رازداری سے سے کہنے لگا،’’چاچا غفورپہلے ایسا نہیں تھا۔آج تو اس نے رحیم سناروالی بات پر صبح صبح میری دھنائی کردی۔‘‘
یہ سن کرکاریگرداڑھی کھجا کر زور سے ہنسنے لگا۔’’مجھے کل ہی لگ رہا تھاکہ وہ گھر جا کر تمھیں نہیں چھوڑے گا۔میں نے کل اسے بہت سمجھایا تھا کہ جوانی میں ہر آدمی دل لگی کرتا ہے۔ بلکہ اس نے خود کیا کچھ نہیں کیا، اور ابھی تک کرتا پھر رہا ہے۔‘‘
’’یعقوب، مذاق مت کرو۔چاچا ایسا آدمی نہیں،‘‘وہ ہچکچاتے ہوے بولا۔
’’ارے تمھیں کیا معلوم! وہ تو شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس لیے کہ اسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے لڑکپن میں ہی لیڈیز کپڑوں کا کام سیکھ لیا تھا اور اس زمانے میں تو عورتیں بھی گھروں سے کم ہی نکلتی تھیں۔غفور کا باتیں کرنے کا انداز اتنا میٹھا ہوتا تھا کہ جو عورت اس کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ بات کرلیتی، وہ اسی وقت اس کے شیشے میں اترجاتی۔ جب کبھی وہ کسی کیکپڑے پہنچانے اس کے گھر جاتا تو دروازے ہی پرہی دو تین جملوں میںاس نازنین کا دل جیت لیتا۔اس کی بے شمار راتیں گلیوں میں بھاگتے، دیواریں پھلانگتے اور معشوقائوں کے گھروں چھتیں ٹاپتے گزرتی تھی۔کبھی اس کی کسی محبوبہ کا بھائی تو کبھی کسی کا شوہر یا باپ نیند سے اٹھ جاتا۔ہر بار وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔صرف ایک مرتبہ وہ بہت برُے طریقے سے پھنس گیا تھااور اسے پورا ہفتہ حوالات میں گزارنا پڑا تھا۔ ہوا کچھ اس طرح تھا کہ میروں کے محلے میں ایک درزی تھا سائیں بخش۔تین سال پہلے وہ مرگیا۔غفوراس کی دکان پر کام کرتا تھا۔دکان کی چابیاں ہمیشہ اسی کے پاس ہوتی تھیں۔دکان والی گلی میں ایک بیوہ رہتی تھی۔وہ غفورپر جان دیتی تھی۔ایک شام اس نے بیوہ کو دکان پر بلوالیا اور دکان کا شٹر گرا کر اس سے ملنے لگا۔کسی نے بیوہ کو اندر گھستے ہوے دیکھ لیا تھا، جس کی وجہ سے باہر شور مچ گیا۔شٹر اٹھا تو لوگوں نے بیوہ کو توجانے دیا مگر تمھارے چاچے کوتھانے میں بند کروا دیا۔‘‘ یعقوب کاریگر یہ باتیں سنانے کے بعدہنسی میں لوٹنے لگا۔تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اس نے اس کے بھتیجے کو کچھ زیادہ ہی بتا دیا۔ یہ سوچ کراس نے فوراً سنجیدگی اختیار کرلی۔
نذیر اس کی باتیں سن کر بہت محظوظ ہوا۔
’’وہ میرا استاد ہے، مگر اب اسے خدا جانے کیا ہوا ہے، وہ مرجھاتا جارہا ہے،‘‘وہ افسردہ ہوکر بولا۔
کاریگر کے خاموش ہوتے ہی نذیر اپنی نشست پر جا بیٹھا اور پھر سے سلائی کے کام میں مصروف ہو گیا۔اس کے بعدسارادن انھوں نے کوئی خاص بات نہیں کی۔
شام سے ذراپہلے غفور چاچابکھرے ہوے بالوں اورگرد میں اٹے ہوے چہرے کے ساتھ دکان میں داخل ہوا۔ اپنی تھکاوٹ اوراضطراب چھپانے کے لیے اس نے ہنس کر ان سے دوچار باتیں کیں۔یعقوب کاریگرنے اس سے رانی پورجانے کا سبب پوچھا تو اسے ٹالنے کے لیے اس نے گول مول جواب دے دیا۔نذیرکوپتاچل گیا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا تھا۔ کچھ دیربعد وہ چاچا غفور سے اجازت لے کر دکان سے چلا گیا۔
نذیر شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے نہر کنارے واقع چائے خانے پر پہنچاتو وہاں پکوڑافروش کو اپنا منتظر پایا۔وہ چائے پینے کا خوہشمند تھا مگرنورل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
وہ تاریک گلیوں میں چلتے ہوے قصبے کے شمال میںواقع ایک مے خانے میں پہنچے۔ اندرون ِسندھ کے بیشتر گوٹھوں اور قصبوں میں ایسے مے خانے عموماً مزاروں اور درگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں،مگر قابلِ تعظیم سادات گھرانے کے معتقدین کی بڑی تعداد نے پنجتن پاک سے منسوب مخصوص نشان سے آراستہ بڑے بڑے سیاہ علم لگاکرمختلف جگہوں پر ایسے مے خانے قائم کر رکھے ہیں۔یہاں چرس اور بھنگ کے موالیوں کا ڈیرہ رہتا ہے۔یہاں آنے والے ہر خاص وعام کی تواضع بھنگ اور چرس سے کی جاتی ہے۔ یہاں سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ لاہوتیوں کو خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔یہ مے خانے عموماً کسی قسم کی شان و شوکت اور آرائش سے بےنیاز ہوتے ہیں۔موالی نشے کی جھونجھ میں سادات گھرانے کی قربانی، ان کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان سے منسوب کرامات اور معجزات کا ذکر بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔
وہ دونوںکسی دروازے کے بے نیاز ایک مختصر سے احاطے میں داخل ہوےجس کے اطراف دیواروں کے بجاے سوکھی شاخوں اورجھاڑیوں کی باڑھ تھی۔ یہاں کی زمین کچی مگر ہموارتھی۔ احاطے کے بیچوں بیچ مٹی کے چبوترے پر نصب ایک موٹے سے بانس پر سیاہ علم لگا تھا،جس پر پنجتن پاک کی نسبت سے مخصوص پنجے کی شکل کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک بلب روشن تھا، جس کی پھیکی سی روشنی میںہوا سے لہراتا ہوا علم دکھائی دے رہا تھا۔نیچے چبوترے پر دو چراغ جل رہے تھے جن کی لویں ہوا کے جھونکوں سے لرز رہی تھیں۔
احاطے کے ایک کونے میںگھاس پھوس کی ایک جھونپڑی سے بار بار موالیوں کے نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے تھے۔جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی نورل نے بھی نعرۂ حیدری بلند کرکے اپنی آمد کا اعلان کیا۔کشادہ سی جھونپڑی کے عین وسط میں چھوٹے سے گول دائرے میںآگ میں مختصر سا الائو روشن تھا، جس کے گرد پندرہ بیس موالی حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ان کے قریب ہی ان دونوں کو زمین پر بچھی پیال پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ اس وقت وہاں چرس کی سلفی کا دور چل رہا تھااور پوری جھونپڑی چرس کے دھویں اور بو سے بھری ہوئی تھی۔
موالیوں نے آس پاس ہٹ کر انھیں الائو کے قریب ہو کر بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔ نذیر نے جیب سے پچاس روپے نکال کر ایک موالی کو دیے اور اسے بھنگ اور چرس لانے کے لیے کہا۔وہاں بیٹھے موالی اس کی سخاوت سے متاثر ہوے اور نورل سے پوچھ پوچھ کرتعارف حاصل کرنے لگے۔نذیر عام طور پرزیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا مگر ان بیکار لوگوں کے بیچ بے دھڑک بولنے لگا۔
الائو کے گرد بیٹھے لوگوںکے چہرے نشے کی کثرت سے سوجے ہوے تھے اور ان کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں۔نذیر کے تعارف کے بعد وہ سب ایک دوسرے پر تصوف کی جھوٹی سچی باتیں جھاڑنے لگے۔ ہر آدمی زیارتوں اور مزاروں کے قصّے سنارہا تھا، جن سے نذیر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وقفے وقفے سے کسی درگاہ کا کوئی بھولابھٹکا درویش ادھر آنکلتا تومے خانے کی رونق اور بڑھ جاتی۔
نذیر نے اپنے نشے کی حد سے تجاوز کرتے ہوے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے اور گاہے بگاہے چرس کی سلفی کے کش بھی کھینچتا رہا۔اسے خود پر اعتماد تھا کہ نشے کی زیادتی کے باوجود نہیں بہکے گا۔ جب اس نے بہت زیادہ نشہ کر لیاتواس کے دل میں کسی سے بھی بات کرنے کی خواہش یکسر ختم ہوگئی۔الائو کے گرد بیٹھے ملنگوں کی بے سروپالن ترانیوں پر وہ بار بار اپنا سر دھنتا رہا۔دھیرے دھیرےاس کی سماعت کے در بند ہونے لگے اور وہ ان کی آوازوں سے دورہو تا چلاگیا۔وہ یوں ہی خالی خالی نظروں سے موالیوں کے چہروں کو دیکھنے لگا۔الائو کی مچلتی اور تلملاتی لپٹوں کی روشنی میں وہ سب کے سب اسے اس وقت بدروحوں جیسے معلوم ہو نے لگے تھے۔ان کے چہروں کی تمام سرخی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔
جھونپڑی سے باہر گہری رات پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظر جھونپڑی میں داخل ہونے کے لیے بنے چوکھٹے پر ٹھیر گئی۔آسمان پر ٹمٹماتے ہوے تارے اسے صاف دکھائی دیے۔ اس نے ایک حواس باختہ شخص کو زور سے زمین پر پاؤں پٹختے ہوے دیکھا اور ایک جھرجھری سی لی۔ذرا فاصلے پر نورل جوگی بیٹھا تھا۔نذیر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔وہ اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا پیال سے اٹھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کرمے خانے کے موالیوں کو اللہ وائی کہااور ڈگمگاتے ہوے قدموں سے جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔
وہ دونوں لہرا تے ہوے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوے گلیوں میں چلنے لگے۔رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہ ہوا تھا مگرقصبے کی گلیوں اور سڑکوں سے زندگی ختم ہوگئی تھی، لیکن نذیر کو شب کے تیسرے پہرکا شدت سے انتظارتھا۔وہ مضطرب تھا مگر اس نے رستے بھر نورل سے کوئی بات نہ کی۔ وہ بار بار اپنے تخیل میں ایک دیہاتی حویلی کی خوابگاہ میں حجاب سے بےنیا زشمیم کے بدن کے مہین خدوخال دیکھ رہا تھا، جو بے قراری سے وہاں اس کے لیے منتظر تھی۔وہ اس کے ساتھ اپنی گزشتہ بےڈھب ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریںاس کے اعضاے بدن کے لمس اور اس کے ہونٹ اس کے لبوں کے نرم گرم بوسوں کے لیے مچل رہے تھے۔اس کے گزشتہ لمس اور پرانے بوسوں میں لذت و سرور سے زیادہ افسوس اور تشنگی شامل تھی۔
گلیوں سے گزرتے ہوے نورل اسے مختلف نصیحتیں کرتا رہا۔’’اس کے گھر پہنچنے کے لیے گاؤں کے اندرونی راستوں سے جانا تمھارے لیے ٹھیک نہیں ہوگا۔اس نے جو بندوبست کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ ذہین عورت ہے۔اس لیے اس نے تمھاری آمد کے لیے پچھلے راستے کو منتخب کیا۔ اور دیکھو! اگرکوئی گڑبڑ ہو جائے تو تم اسی راستے سے باہرنکلنا۔مولا مشکل کشا تمھاری مدد کرے گا۔‘‘
’’نورل!اب مجھے وہاں جانے سے کوئی خوف نہیں،‘‘نذیر نے اعتماد سے کہا۔
پکوڑا فروش نے چلتے چلتے جماہی لی۔’’مگر یاد رکھنا! کسی کے گھر میں گھس کر اس کی عورت سے ملنا اتنا آسان نہیں۔‘‘
اپنے گھر والی گلی کے کونے پر پہنچ کرہاتھ ملاتے ہوے کر اس نے نورل سے کہا، ’’تم اسی پرانی جگہ پر میرا انتظار کرنا۔میں بالکل ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گا۔‘‘

دروازے میں ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور ہولے ہولے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔
چاچی خیر النسا نے شاید اس کی آہٹ سن لی۔اسی لیے وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔ چاچا غفورکے خراّٹے برآمدے میں نذیر کو بھی سنائی دے رہے تھے۔
اسے دیکھ کر نذیر حیران ہوا مگر اپنی حیرت چھپاتے ہوے کہنے لگا،’’میں نے دروازے پر کنڈی لگا دی ہے۔ معاف کرنا میری وجہ سے تیری نیند ٹوٹ گئی۔تو دوبارہ جا کر سوجا۔ میں خود ہی روٹی نکال کرکھالوں گا۔‘‘
خیر النسا نے اپنے چہرے سے بال ہٹاتے اور سر پر چادر اوڑھتے ہوے کہا،’’میں نے تیرے لیے آج روٹی نہیں پکائی، اور سالن بھی تو گرم کرنا ہوگا۔‘‘
یہ بات یکسر خلافِ معمول تھی اس لیے اسے شدید حیرت ہوئی، لیکن وہ چپ سادھے رہا۔وہ جماہی لیتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔
نذیر نے برآمدے کا بلب روشن کردیا اور دوبارہ آکر چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے کمرے میں جھانک کر چاچے کی طرف سے ایک بار پھر اطمینان کرنے لگا۔پھر وہ اٹھ کر غسل خانے میں جا کر ہاتھ منھ دھونے لگا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی کو اس کے نشے کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔
وہ دھیرے دھیرے چلتاباورچی خانے میں داخل ہوا اور چولھے کے پاس رکھی پیڑھی پرجابیٹھا۔چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا: ’’ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔میں جب سے یہاں آیا ہوںتوُمیرا بہت خیال رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تُو میری دور کی رشتے دار بھی نہیںلگتی۔ جومیرے رشتے دار ہیں، وہ سب کے سب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میر پور ماتھیلو میں تھا تو وہاں ابا اور بھائی مجھے گالیاں دیتے تھے۔اور یہاں پر میرا چاچادیتا ہے۔میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ تھوڑے ہی دن میں ٹھری میرواہ بھی چھوڑ کر چلا جائوں گا،اور کسی ایسی جگہ جائوں گا جہاں سے کسی کو میری کوئی خبر نہیں مل سکے گی۔۔آخر مجھے تو ہی بتا، کیامیںبہت خراب ہوں؟کیا میں واقعی بہت برا شخص ہوں؟‘‘کہتے کہتے وہ اچانک خاموش ہوگیا۔
اس کے کہے ہوے جملوں نے چا چی کے دل پربہت اثرکیا۔وہ اس کے لیے پہلے سے جو ہمدردی محسوس کررہی تھی اس کی یہ باتیں سن کراس میں اضافہ ہو گیا۔آج کا تمام دن اس نے نذیر کے بارے میں سوچتے ہوے گزارا تھا۔اس نے پہلی بار اپنے ذہن میں اس کے لیے ابھرنے والی جذبات کی رو کو دبایانہیں تھا۔اپنے شوہر کے نامناسب طرزِعمل پر وہ اسے جی ہی جی میں ملامت کرتی رہی تھی اور اسے مسترد کرتی رہی تھی۔وہ بھی چاہتی تھی کہ نذیر سے صرف ایک بار ہی سہی مگرکھل کر بات کرے۔
اس نے اندازہ لگا رکھا تھاکہ شاید وہ اس سے کبھی کوئی بات نہ کرے،کیونکہ وہ اس کے گھر میںمہمان کی حیثیت سے رہتا تھا اور ان کے رشتے کی نوعیت بھی بےحد حساس تھی۔ اس نے سوچ کر خود سے ہی طے کر لیا تھاکہ بات کرنے میں وہ پہل کرے گی۔نذیر کی اس کے لیے دلچسپی کے متعلق اسے اب پورا یقین ہوچکا تھا۔وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ہار اب بھی اسی کے پاس تھا اور وہ موقع محل دیکھ کر اسے دینا چاہتا تھا مگر صبح کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اس نے جھوٹ بول دیا تھا۔اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لیے بنوایا جانے والاہاردیکھے اور اسے اپنے گلے میں سجائے۔
مگر...اس کے ہونٹوں سے ٹھری میراہ چھوڑ کرجانے کی بات سن کر وہ دھک سے رہ گئی تھی۔اس کی افسردگی دیکھ کر وہ بھی آزردہ خاطر ہو گئی تھی۔کاش وہ اسے بانہوں میں بھر سکتی اور اس کے لبوں کو چوم چوم کر اس کا غم اپنے اندر جذب کرسکتی۔
وہ کسمساتے ہوے بولی،’’دیکھ! تیرے چاچے کو بدگمانی اور غلط فہمی ہوگئی تھی، مگر تُو نے اس کا شک دور کرکے اسے مطمئن کردیا۔میں نے بھی اس سے بہت کچھ کہا سنا۔ اس کے بارے میں ایک بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ دل کا برُا نہیںہے۔تم اسے چھوڑکر نہیں جاؤ گے، ورنہ وہ ٹھری میرواہ میں اکیلا رہ جائے گا۔‘‘
نذیر غور سے اس کی طرف دیکھتا اس کی باتیں سنتا رہا۔
چاچی خیر النسا نے مزید کہا،’’میں اپنی شادی سے پہلے تمھاری رشتے دار نہیں تھی مگر اب تیری چاچی لگتی ہوں۔ اگر تم میری عزت کرتے ہو تو میرواہ چھوڑکرنہیں جاؤگے۔نہیں جائو گے نا؟‘‘
وہ جواب میں کچھ نہیں بولا۔اپناسرجھکائے چپ چاپ روٹی کا نوالہ چباتا رہا۔
وہ نذیر سے مثبت جواب سننا چاہتی تھی مگر اس کی خاموشی سے وہ تلملا کر رہ گئی۔
’’میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گی۔ آج کے بعد وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا،‘‘وہ پیڑھی پر بیٹھی بیٹھی پہلو بدل کر بولی۔
’’بس چاچی، میں نے فیصلہ کرلیا ہے!‘‘نذیر نے حتمی بات کہہ دی۔
اس کی خموشی کو اس کا اٹل فیصلہ سمجھ کرچاچی خیر النسا چپ ہوگئی اور اذیت بھرے سانس لینے لگی۔
نذیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کردیکھا تو وہاں اسے کرب کی خفیف سی لہر دکھائی دی۔
وہ رہ رہ کر سوچ رہی تھی کہ اس کے جانے بعد کیاہوگا۔اس کے بغیر اپنے بنجر ماہ و سال کاخیال اسے بہت ہولناک محسوس ہو رہا تھا۔زندگی پھر ویسی ویران اور بے مزہ ہوجائے گی جیسی کہ پہلے تھی۔
نذیر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا:’’یہ آخر رات کے اس پہریہاں کیوں بیٹھی ہے؟ اپنے کمرے میں جا کرسو کیوں نہیں جاتی؟‘‘
خیر النسا نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی تو وہ خود کو اس کے سینے کے پرکشش ابھار دیکھنے سے نہیں روک سکا۔وہ ہٹ دھرمی سے اس کے بدن کا جائزہ لیتا رہا۔ اس کی رانوں سے چپکی ہوئی شلوار اور اس کے ابھرے ہوے پیٹ کو دیکھ کر اسے محسوس ہوا کہ وہ اگر چاہے توصرف لمحے بھر میں اس سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔شاید وہ اسی خاطر وہ اب تک یہاںبیٹھی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ جھرجھری سی لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی،’’کیا تُو واقعی ہمیشہ کے لیے میرواہ سے چلاجائے گا؟‘‘
نذیر اس کی تشویش پر مسکراتے ہوے اٹھا اور نفی میں سرہلاتے ہوے باورچی خانے کے دروازے تک گیا۔وہ اس کی مسکراہٹ اور اس کے اٹھ کر جانے کو نہیں سمجھ سکی۔وہ دو لمحوں تک باہر جھانکنے کے بعدپلٹ آیا اوراس کے نزدیک آکھڑا ہوا۔ ’’نہیںجاؤں گا۔ میںیہاں سے کبھی نہیں جائوں گا۔ اور وہ بھی صرف تیری خاطر۔‘‘
اس کا جواب سن کر وہ ضبط کی کوشش کے باوجود ہنسنے لگی۔’’تو مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ بات کر رہا تھا۔ جانتی ہوں تجھے!‘‘
نذیر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے اس نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور انھیں بےطرح چومنے لگا۔ اپنے ہاتھوں پراس کے بوسوںکو محسوس کرکے وہ لرز کر رہ گئی۔اس کے وجود پر چڑھا ہوا کوئی پرانا میل اتر رہا تھا اور اس کے بدلے اس کے وجود پر ایک انوکھا اور منفرد رنگ چڑھتا جا رہا تھا۔اس نے کچھ دیر کے لیے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ لیں۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ اسے ہلکا سا دھکا دے کر اپنے ہاتھ چھڑا کراُٹھ کھڑی ہوئی۔
دھکا لگنے سے وہ لڑکھڑا گیا۔مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے خیر النسا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔دونوں کے بدن کچھ دیر کے لیے ایک وجود معلوم ہونے لگے۔وہ اس کے شانے کو چومتا ہوا اس کے چہرے تک پہنچااور والہانہ انداز سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ باری کرنے لگا۔وہ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
نذیر نے اس کی سماعت میں شیریں سی سرگوشی کرتے ہوے کہا،’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔میں تم سے پیار کرتا ہوں۔تم بہت اچھی ہو۔‘‘
وہ اس کے بوسوں کا جواب دینے کے بجاے کسمسارہی تھی اور دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی۔ ’’وہ جاگ جائے گا۔ وہ جاگ گیا تو بہت برا ہوگا۔میں جاتی ہوں۔‘‘یہ کہتے ہوے اس نے نذیر کو اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ باورچی خانے میں کھڑا کچھ دیر تک اپنی بپھری ہوئی سانسیں درست کرتا رہا۔پھر وہ جا کربرآمدے میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔
لیٹے لیٹے وہ حیرت سے مسکرایا، پھر آہستگی سے ہنسنے لگا۔ وہ حیران تھاکہ اتنی بڑی انہونی آخر کیسے ہو گئی؟ مگر جو کچھ بھی ہوا وہ اچانک اور اس کے کسی ارادے کے بغیر ہوا تھا۔ اس نے اس کی دست درازی کا برُا نہیں مانا۔اس نے کسی خفگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اپنی اس غیر متوقع کامیابی پر خوش ہوتے ہوے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور انھیں اپنے ہونٹوں کے پاس لے جاکر چومتے ہوے ان میںچھپے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوے سوچا کہ اس کی زندگی میں چند اور خوشگوار لمحوں کا اضافہ ہوگیا۔وہ مدت سے ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں تھا جو چند لمحوں کے لیے سہی، اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کردے۔وہ مستقبل سے وابستہ اپنی توقعات کے بارے میں سوچ سوچ کرلذت کشیدکرنے لگا۔
آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوش نصیب رات تھی۔دو طرف سے اس پر لطف و کرم کی پھوار گرنے لگی تھی۔یہ پھواراس کے بے قرار اعضاے بدن کو قرار دے رہی تھی۔وہ چارپائی سے اتر کر صحن میں آگیا۔اس کی نگاہ اٹھ کر آسمان پر گئی اور وہاں چمکتے ہوے ستاروں پر بھٹکتی رہی۔ہر ستارہ اسے آج خوشی کا چراغ معلوم ہورہا تھا۔ اس کا رنگ، اس کی چمک گویا کسی شادمانی کا اظہار کر رہی تھی۔اس نے اس گھر کے درودیوار سے ملحقہ مکانوں کے ابھرے ہوے نوکدار سایوں کو دیکھا۔ رات کے اس پہرہرمکان خاموشی اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور تمام کھڑکیاں اور روشندان بندتھے۔
ٹہلتے ٹہلتے اسے چاچے غفور کا خیال آیا۔وہ اس کی لاعلمی پردھیرے دھیرے ہنسنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو ملامت کرتے ہو ئے اس عجیب وغریب انتقام پر حیران ہونے لگا۔اس نے اپنے دل میں چاچے کے لیے ہمدردی محسوس کی۔اس نے گناہ کے شدید احساس کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔ خود کو سمجھایا کہ یہ سارا معاملہ اس کی مرضی کے بغیر خود بہ خود طے ہوا ہے۔اس نے اس راز کے کھلنے کی صورت میںاپنے لیے منتظر بدنامی اورذلت کے بارے میں سوچاتواس کے جی میں آیا کہ اسی وقت دروازہ کھول کر کمرے کے اندر گھس جائے اور بوڑھے درزی کو ہلاک کردے۔
جوگیوں کے گوٹھ جانے کا خیال کچھ وقت کے لیے اس کے ذہن سے محو ہوگیا تھا۔ اسے شمیم یاد آئی تو چونک پڑا۔اس نے گھڑی پروقت دیکھا۔ابھی اس کے گھر سے نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا۔پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی یہ سفر اسے دشوار گزار معلوم ہورہا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے لیے یہ سفر ناگزیر ہوچکا ہے۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ چارپائی سے اٹھا اور پہلے کی طرح اپنے تکیے کو رضائی کے نیچے رکھ کر اسے اس کے اوپر بچھا دیا۔چپل پہن کر وہ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔دہلیز پار کرنے کے بعد اس نے باہر سے دروازے پر کنڈی لگائی اور چل پڑا۔ وہ محتاط انداز میں دبے پائوں چلتا ہوامختلف گلیوں سے گزرا۔ اس نے مختلف جگہوں پرتعینات چوکیداروں کی سیٹیوں کو سنا تو اس کے حوصلے خطا ہونے لگے۔ ایک گلی میں داخل ہوتے ہی آپس میں گتھم گتھا دو آوارہ کتے اچانک اس کے سامنے آ گئے۔ اس کی سانسیں لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئیں۔ان کی چیخوں میں وحشت کے ساتھ ساتھ دہشت بھی تھی۔
ابھی بمشکل آدھا راستہ طے ہوا تھا۔وہ چلتے ہوے چاروں سمتوں میں بار بار دیکھتا رہا۔ جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا،اس کے قدموں میں ایک عجیب سی ڈگمگاہٹ آتی جا رہی تھی۔اسے اپنے پورے وجود میں ڈر پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ا ایک بجلی کے کھمبے کے سائے سے خوف کھا کر اس نے لوٹ جانے کے بارے میں سوچا۔ چلتے چلتے وہ ٹھٹک کر رکا، مگر پھر دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔
اسے بار بار یہ خیال ستا رہا تھا کہ کسی لمحے کوئی شخص اچانک اسے پکڑلے گا اور اسے چور یا ڈاکو سمجھ کر پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ وہ ہر مکان کے دروازے کوغور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔اسے لگ رہا تھا کہ اچانک سب کے سب مکانوں کے دروازے بھک سے کھل جائیں گے اور وہاں سے اچانک بہت سے لوگ باہر نکلیں گے اور اسے ہلاک کر ڈالیں گے۔اس نے خود کو ملامت کی کہ آج کی شب اس نے بھنگ اورچرس کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کرلیا۔اسی وجہ سے اس کا ذہن واہموں اور وسوسوںسے بھر گیاتھا۔ان سے پیچھاچھڑانے کے لیے وہ تیزرفتاری سے چلنے لگا۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔اسے اپنے گھر سے خوش باش نظر آنے والے ستارے یکسر تبدیل ہوگئے تھے اور وہ بھی آنکھیں مچمچاتے ہو ئے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔اسے لگ رہا تھا، زمیں و آسمان کے تمام مظاہر اور مناظر آج کی رات اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔
وہ نہر کے کنارے پہنچاتو سردی کا احساس شدت اختیار کرگیا، مگرآج وہ سویٹرکے اوپر جرسی پہن کر آیا تھا۔اس کے گلے میں مفلر بھی تھا مگر اس کے باوجود درختوں کے قریب سے گزرتے ہوے وہ ٹھنڈسے کپکپانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوے نہر کے پل تک پہنچا۔یہاں ہرچیز دھند میں اٹی ہوئی تھی اور کہرا پڑرہا تھا۔پل کے نیچے سے گزرتا پانی مدھم سی سرگوشیاں کر بہہ رہا تھا۔اس نے پل کی دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ گیلا ہوگیا۔پل سے نیچے اترنے سے پہلے اس رک کر گردوپیش کے منظر پر نظر دوڑائی۔ گہری تاریکی کے باوجود ایک مدھم سی روشنی سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔پل سے نیچے اتر کر وہ کچھ دیر کچی سڑک پر چلتا رہا۔اس کے بعدوہ داہنے ہاتھ پر واقع کھیتوں کے اندرگھس گیااورگیلی گھاس پر پاؤں جما کر چلنے لگا۔کچھ آگے جا کر وہ ٹھہر گیا اور پکوڑافروش کو آوازدینے لگا۔اس نے آس پاس بہت غور سے دیکھا۔ اسے نہ کہیں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیااور نہ ہی فضا میں چرس کی خوشبو محسوس ہوئی۔وہ ہاتھ سے جھاڑیوں کو ٹٹولتا رہا مگرنورل اسے کہیں بھی نہیں ملا۔
اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ ایسی جگہ کھڑا ہواگیاجہاں سے اسے پُل آسانی سے دکھائی دے۔بہت وقت گزرنے کے بعد بھی کوئی نہیں آیا۔وہ مخمصے میں تھا۔اسے اپنے دوست سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔وہ اس پر ہمیشہ اندھا اعتماد کرتا رہا تھا۔
ملاقات کے لیے مقررہ وقت میںتھوڑی دیر باقی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہےشمیم نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ہو،مگر رہ رہ کر اسے پکوڑہ فروش کی دغابازی تنگ کر رہی تھی۔اس کے بغیر وہ خود کو بے آسرا اوربے بس محسوس کر رہا تھا۔وہ گومگو کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔پچھلی بار بھی وہ اسی کے سہارے وہاں تک چلا گیا تھا، مگر آج وہاں تک جانا اسے پُرخطرمحسوس ہو رہا تھا۔اس کا ذہن اسے بار بار وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ رہا تھامگر اس کا دل اس کے قدم روکے ہوے تھا۔ رہ رہ کر اسے شمیم کا مخملیں بدن یاد آرہا تھا۔اس کی یاد کی کشش خودبخود اس کے قدموں کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔
وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ اِدھر اُدھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی اور وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔کچھ آگے جاکر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبورکیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں۔پانی کا نالا قریب ہی واقع تھا۔کچھ دور جا کر وہ ایک بار پھر کمادکی فصل سے باہر نکلا۔اور سیمنٹ سے بنے پختہ نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ شرینہہ کے درخت کے پاس پہنچ کر وہ نالے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔آج اس کی سطح اس دن سے بھی زیادہ ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔وہ ٹھنڈ سے کانپنے لگاتھا۔نورل کی غیرحاضری پر اسے جی ہی جی میں غصہ آرہا تھا۔اس کا ذہن اب بھی اسے واپس جانے پر اکسا رہا تھا۔وہ بار بار اس خیال کو رد کر رہا تھا۔اس کے دل کہیں یہ خواہش بھی چٹکی لے رہی تھی کہ وہ جا کرحویلی کے اس دروازے کو نزدیک سے دیکھ لے، جہاں سے اس دن شمیم آئی اور گئی تھی۔
اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔کماد کی فصل میں یخ ہوا کے جھونکے سرسرا رہے تھے۔ ان کی سرسراہٹ پر اسے بار بار کسی چڑیل کی ہنسی کا گمان گزرتا تھا۔وہ گرد ن موڑموڑ کر اس جانب دیکھنے لگتا تھا۔اس طرف پانی کے نالے کی لکیر دور تک چلی گئی تھی جبکہ دوسری طرف ایک کھیت خالی پڑا ہوا تھا۔وہاں اگلے مہینے کپاس کا بیج ڈالا جانا تھا۔
وہ ٹھٹھرتا کانپتا ہوا نالے پر بیٹھا ہواشمیم سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ یاد کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ اٹھ کرخالی کھیت کی جانب بڑھا۔کھیت میں چلتے ہوے اس کے پائوں کے نیچے سوکھی لکڑیاں چرچرانے لگیں۔
’’وہ شایدآخری مکان میں رہتی ہوگی، نورل جسے بار بار حویلی کہہ رہا تھا،‘‘اس نے سوچا۔وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچااور ارد گرد دیکھنے لگا۔
اسے معاً کسی دروازے کی کنڈی اترنے کی آواز اور پھر اس کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چند لمحوں کے بعدایک دھیمی سی ہشکار اس کے کانوں میں پڑی۔اس نے شمیم کے سائے کودروازے سے باہر جھانکتے ہوے دیکھا تو اطمینان کا لمبا سانس لیا۔اس کے ذہن سے تمام اندیشے اور وسوسے آناً فاناً مٹ گئے۔ناہموار زمین پر دھیرے دھیرے چلتا ہوا وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔رات کے تیسرے پہر جب دنیا گھٹا ٹوپ اندھیروں کے فسوں میں لپٹی، نیند کے خمار میں ڈوبی ہوئی تھی،دو پیار کرنے والوں کے سائے ایک دوسرے کے نزدیک آکر، ٹھٹک کر،رک گئے۔ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے جگنو دو لمحوں کے لیے جگمگائے اورانھیں لاحق تشویش کی دھند میں چھپ گئے۔
’’ میں بہت دیر سے تمھاری منتظر ہوں۔تین بار دروازے سے باہر جھانک کردیکھا مگر تم نظر نہیں آئے۔میں پریشان اور مایوس ہورہی تھی۔مجھے لگ رہا تھا کہ تم نہیں آئو گے۔شاید تم مجھ سے روٹھ گئے... یا...‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بات کرتی کرتی رک گئی۔ اس کے لہجے کے اتارچڑھائو سے ظاہر ہورہا تھاکہ وہ اپنی موجودہ صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی ہے اور اسے اپنی باتوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔
نذیر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا:’’میں یہاں بہت پہلے پہنچ جاتا مگر میرا رازدار عین وقت پر آج مجھے دھوکا دے گیا۔پھر تم جانتی ہی ہو کہ آدھی رات کو قصبے سے نکل کر اس طرف آنا کتنا بڑا جوکھم ہے۔ہے کہ نہیں؟ ‘‘وہ اپنے استفسار کے بعدشمیم کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ جواب دینے سے پہلے دھیرے سے ہنسی۔ اس کی ہنسی کی مدھم سی کھنک نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔’’جوکھم تو ہے، مگر تم سے زیادہ بڑا جوکھم تو میں مول لیا ہے۔ سنو!میرے سب گھر والے اس وقت گہری نیند سو رہے ہیں۔تم چیزوں کو دیکھ بھال کر آہستہ آہستہ میرے پیچھے آؤ۔دیکھو، کسی چیز سے ٹکرا کر گر مت جانا!‘‘اس کے لہجے سے جھلکتی شوخی یہ عندیہ دے رہی تھی کہ وہ اپنی تشویش اور گھبراہٹ پر قابو پاتی جا رہی ہے۔
وہ آگے بڑھی تو نذیر بولایا ہوا سا دروازے کو بھیڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔
شمیم نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوے پوچھا،’’سمجھ گئے نا؟آؤ۔‘‘
نذیر نے چند قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔’’کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟‘‘
یہ بات سن کر اس نے بمشکل اپنے آپ کو ہنسنے سے روکا۔’’ڈرتے ہو تویہاں تک آئے کیوں تھے؟ ‘‘یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑی جبکہ وہ ہولے ہولے اس کے پیچھے آنے لگا۔
دروازے سے کچھ دور جاکر ایک طویل برآمدہ شروع ہوتا تھاجہاں کئی ستون قطاروار کھڑے تھے۔برآمدے میں ایک طرف تین کمرے واقع تھے جن کے دروازے بند تھے۔برآمدے سے گزر کر وہ ایک کشادہ صحن میں آگئے۔صحن میں سو کینڈل پاور کے ایک بلب کی پھیکی سی روشنی پھیلی تھی۔نذیردبے پائوںچلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے بے ترتیبی سے پڑتے ہوے قدم آواز کررہے تھے،جبکہ شمیم اس طرح بے آواز قدم اٹھا رہی تھی جیسے پانی کی سطح پر چل رہی ہو۔
کشادہ صحن میں چلتے چلتے دا ہنی طرف واقع ایک بڑے سے چھپرکے نیچے پہنچ کر وہ دونوں ٹھہر گئے۔
’’ میں نے تمھارے لیے بہت پہلے سے ہی چائے تیار کر لی تھی۔تم یہاں کھاٹ پربیٹھو۔میں چائے لے آتی ہوں۔‘‘یہ کہہ کر وہ کشادہ صحن کے کونے پر واقع باورچی خانے کی سمت چلی گئی۔
نذیر اسے بلب کی پھیکی روشنی میں جاتے ہوے دیکھتا رہا۔وہ اپنے دل و دماغ میں شدید بے قراری محسوس کررہا تھا۔ اس وجہ سے اس کے لیے بیٹھ جانا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چھپر کے نیچے دھیرے دھیرے ٹہل کر گھر کا جائزہ لینے لگا۔یہاں سے اس کی نگاہ پورے گھر کا احاطہ کر رہی تھی۔اس نے باورچی خانے سے ملحقہ لکڑی کے اونچے سے دروازے کو دیکھا جو شاید گھر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا۔
شمیم کو واپس آتا ہوا دیکھ کر وہ بیٹھ گیا۔اس نے ایک ہاتھ میں کیتلی اور د وسرے میںدوپیالیاں اٹھا رکھی تھیں۔چھپر کے نیچے پہنچ کر اس نے پیالیاں کھاٹ پر رکھ دیں اور کیتلی سے ان میں چائے انڈیلنے لگی۔
نذیر خوش دلی سے گویا ہوا،’’تم نے بہت اچھا کیا کہ اس وقت چائے بنالی۔‘‘
شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے ہوے بولی،’’رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اورپالا بھی گرتاہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔‘‘
’’میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے پیوں گا،‘‘ نذیر نے چائے کی چسکی لیتے ہوے کہا۔اس شمیم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوے بیٹھی تھی۔
’’تم جانتے ہو، مہمان نوازی تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہتی ہو،‘‘وہ چائے کا گھونٹ لے کر کہنے لگا۔’’درازہ شریف میں ہونے والی ملاقات کے بعد میں سمجھا کہ تم ڈر گئیں اور اب مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔‘‘
وہ ہنسی۔’’میں تم سے نہیں ملنا چاہتی؟ اچھا! تو تم میرے بارے میں یہ سوچتے رہے؟ مجھے تاپ چڑھ گیا تھا۔پورا ایک ہفتہ میںکھاٹ پر بیمار پڑی رہی۔نوراں نے تمھارے پیغام مجھ تک پہنچائے تو تھے مگر میں نے ملنے سے منع کردیا تھا۔‘‘
’’ مگر میں تمھاری بیماری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔‘‘
’’میں نے اسے کہا توتھا کہ وہ اس بارے میں تمھیں بتادے۔‘‘وہ بار بار گردن گھما کر برآمدے کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’اس روزتمھارے شوہر کو مجھ پرشک تونہیں ہوا؟‘‘
وہ کسمساکر بولی،’’ اسے شک نہیں ہوا۔ویسے قبرستان بہت خوفناک جگہ ہے۔ قبروں کے درمیان پیار کی باتیں کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تم سے ملنے میں وہاں چلی آئی۔‘‘وہ مسکرائی۔
’’ملنے کے لیے جب کوئی اور جگہ نہیں مل سکی تو قبرستان کا انتخاب کرنا پڑا۔‘‘وہ پہلی بار ہنسا۔’’تمھارے ہاتھوں کی چائے بہت مزے دارہے۔‘‘
اپنی تعریف سن کر وہ مسکرائی، پھر وہ اسے اپنے شوہر اور اپنے سسرال والوں کے بارے میں بتانے لگی۔اس کی یہ باتیں سنتے ہوے نذیر جماہیاں لینے لگا۔ وقفے وقفے سے گوٹھ کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔چھپر کے کسی کونے میں چھپا ہوا جھینگر مسلسل شور مچا رہا تھا۔
اس کی باتوں کے دوران نذیر نے اپنی جیب سے اس کے لیے بنوایا ہوا ہارنکالا اور اسے ہاتھ میں لہرا کر اسے دکھاتے ہوے کہنے لگا،’’میں نے سنارسے تمھارے لیے یہ ہاربنوایا ہے۔‘‘
ہار کو دیکھ کرشمیم اپنی خوشی کو دبا نہ سکی۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔’’میرے لیے؟‘‘
’’ہاں، تمھارے لیے۔ اگر تم اجازت دو تو میں یہ ہارتمھاری گردن میںپہنا دوں۔‘‘
اسے جواب دینے کے بجاےوہ شرمانے لگی۔نذیر اٹھ کر اس کے نزدیک آکھڑا ہوا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہار تھام لیااور ذراسا جھک کر اپنے یخ بستہ ہاتھ اس کی نرم گردن تک لے گیا۔اس کی انگلیاں اس کی مخملیں گردن کو چھونے لگیں۔
اس نے چہرہ جھکالیاتھا۔اس کی انگلیوں کو گردن پر محسوس کرتے ہوے اسے گدگدی سی محسوس ہورہی تھی۔وہ اپنے آپ کو ہنسنے سے مشکل سے روکے ہوے تھی۔ اس کی بنجر اور بیزار زندگی کے لیے یہ لمحات مسرت و شادمانی سے بھرپور تھے، مگر ساتھ ہی اس کے دل کو گھر کے کسی فرد کے جاگ اٹھنے کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی خوشی کا دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا اظہار کر رہی تھی۔
کم روشنی کی وجہ سے نذیر ہار کی زنجیر بند نہیں کر سکا۔عاجز آ کراس نے ہارشمیم کی ہتھیلی پررکھ دیا۔’’یہ تم خود ہی پہن لینا۔۔اور اب اپنے پیارے پیارے ہاتھ مجھے دکھائو۔‘‘وہ اس مقابل آکر زمین پر بیٹھ گیااور اس کے سمٹے ہوے نرم ہاتھوںکو اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر انھیں دبانے لگا۔پھر انھیں اپنے چہرے پر لے جا کر محسوس کرتا رہا۔اس کے بعد وہ اس کی ہتھیلیوں کواپنے ہونٹوں سے چومنے لگا۔
’’ہار نیچے گرگیا،‘‘اس نے سرگوشی سے کہا۔
نذیر فوراً اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر، زمین پر جھک کر مٹی میں ہاتھ مارتے ہوے ہار ڈھونڈنے لگا۔کچھ ہی دیر میں وہ اسے مل گیا۔اس نے اپنی قمیض سے ہار صاف کرکے اسے تھمادیا۔’’تم پہن لو ابھی۔‘‘
شمیم نے اس کا کہا مان لیااور ہارپہن لیا۔ا س کے بعداس نے کیتلی اٹھائی اوراس میں سے چائے انڈیل کر اسے پینے کے لیے دوسری پیالی پیش کی۔چائے پیتے ہوے وہ مسلسل اس کی تعریف کرتا رہا۔شمیم نے جب اس سے ہار کی قیمت دریافت کی تواس نے ہار کی جھوٹی قیمت بتائی۔زیادہ قیمت کا سن کروہ مرعوب ہوئی اور اسے اپنے زیور ات کے متعلق بتانے لگی۔
اس کی بات کاٹتے ہوے نذیر نے کہا،’’آج میں صبح تک تمھارامہمان ہوں۔‘‘
’’ہاں میرے پیارے۔‘‘
اس مرتبہ نذیراس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کے گردحمائل کر دیا۔اگلے ہی لمحے کسی مزاحمت کے بغیرشمیم اس سے لپٹ گئی۔نذیرکے پیاسے اور خشک ہونٹ شمیم کے نازک اور شیریں لبوں سے زندگی کا رس کشید کرنے لگے۔ وہ اس کے بوسوں کیشدت سے عاجز اوربے بس تھی۔اس نے آنکھیں زور سے میچ لی تھیں اور اور خود کو اس کے پیار کی ٹھا ٹھیں مارتی ہوئی ندی کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا، جو اس کے لبوں سے ہوتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے وجود کو بھی بھگونے لگا تھا۔ نذیر کا جوش جتنا بڑھتا جارہا تھا وہ اس کے بازوئوں میں اتنی ہی سمٹتی جارہی تھی۔ پگھلتی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں قبائوں سے بھی یکسر بے نیاز ہوگئے۔
پہلی بار کسی عورت کا جسم نذیر کے سامنے پوری طرح کھلا تھا۔خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود اس کی وحشت بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔پہلے پہل وہ ذرا ہچکچا تا رہا تھا۔پھر اس کے لمس کی حرارت اور بوسوں کی شدت اس کی جانگھوں تک پھیلتی چلی گئی۔
شمیم آنکھیں میچے لمبے سانس بھر رہی تھی۔اس کا ہر سانس، اس کی ہر سسکی، اس کی ہر لذت بھری آہ،نذیر کی احسان مند تھی۔اس کی رگوں میں عرصے سے جما ہوا اس کا لہو کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا۔اس کی نرم و گداز اندام نہانی گلاب کے پھول کی طرح کھلی ہوئی تھی اور عضوِ خاص کے لیے مچل رہی تھی۔
چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آکر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔نذیر کا منھ زوردار چیخ کے لیے کھلنے ہی والا تھا کہ شمیم نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، مگر اس بیچارے کی روح فنا ہوچکی تھی۔ بلی کے پنجوں نے نذیر کی پشت کو زور سے رگیدا۔اس کے بعد وہ اس کی پشت سے اتر کرچھپر کے کونے میں کہیںغائب ہوگئی۔
بلی کے پنجوں کی رگڑ،اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریاسے نکال کر باہر اچھال دیا۔وہ چند لمحے نسوانی جسم پر بے سدھ لیٹا رہا۔اس بدن کے بوجھ سے شمیم کی سانسیں گھٹنے لگیں۔وہ ا س کے نیچے تڑپ رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔دفعتاً نذیر نے اپنا سر اٹھایا اورصحن سے ملحقہ برآمدے کی طرف دیکھا اور گھر کی دیگر اشیا پر بھی نگاہ ڈالی۔اسے محسوس ہونے لگا کہ نینداور سکوت میں ڈوبا ہوا گھر اور اس کی تمام چیزیں یک بہ یک بیدار ہوگئی ہیں اور اس بلی کی طرح غراتی ہوئی اس کی جانب لپک رہی ہیں۔ ڈر اور خوف کے سبب اس کے جسم کے ایک ایک عضو میںتشنج کی لہر سی دوڑگئی۔
شمیم کا ہاتھ اٹھا اور اس کے سر کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوے دھیرے سے گویا ہوئی،’’کیا ہوا؟ تم ایک بلی سے ڈرگئے؟‘‘
نذیر نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔’’اس نے تو میری جان ہی نکال دی،‘‘ اس نے تیز اور طویل سانس کھینچتے ہوے کہا۔’’مجھے لگا کہ وہ کوئی بلی نہیں، بلکہ کوئی غیر مخلوق ہے۔‘‘اس کی یہ بات سن کر شمیم افسوس سے سر ہلانے لگی۔
اسے سر ہلاتے دیکھ کر نذیر کو اپنی شکست کا احساس ہونے لگا۔وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس پر دوبارہ دراز ہوگیا اور اس کے کانوں کی لووں کے آس پاس کے نرم و گداز علاقے پر اپنے بوسوں کی بارش کرنے لگا۔مگر اس مرتبہ اس کے بوسوں میں نہ پہلے والی حدت رہی تھی اور نہ ہی وہ شدت۔پہلے بوسوں کے دوران اس کے انگ انگ پر عجیب سی مستی چھا گئی تھی۔وہ ایک طائرِ آزاد کے مانند فضائے جسم کے تمام گوشے دریافت کرتا رہا تھااور نت نئی دریافتوں کے لیے کوشاں تھا، لیکن اب اس کے ہر بوسے سے بیزاری کا احساس نمایاں ہو رہا تھا۔اس کے لیے وہ کارِ لذت سے زیادہ عذابِ جاں بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اس کی گردن کی مہین و نازک جلد کو اپنے لبوں سے چومتا اور نوکِ زبان سے چاٹتا رہا مگر اس کے اندر کی تحریک مردہ ہو چکی تھی اور اس کے لہو میں سنسناتے، کلبلاتے، تڑپتے، تلملاتے سارے جذبے سرد پڑ چکے تھے۔اچانک وہ شمیم کے اوپر سے ہٹا اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔
شمیم کروٹ لیتی ہوئی اٹھی اور کھاٹ سے اترکر جلدی جلدی کپڑے پہننے لگی۔نذیر نے کھاٹ پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا ، مگر اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑالیا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی۔ اس نے دھیمے لہجے میں آواز دے کر اسے بلانا چاہا، مگروہ اس کے قریب نہیں آئی۔وہ زرا پرے ہو کرآہیں بھرتی اپنے لباس کی شکنیں درست کرتی رہی۔پھروہ آنگن میں رکھی گھڑونچی کی طرف گئی، اس نے مٹکے کو لٹا کر کٹورے میں پانی انڈیلا اور اس کے بعد زمین پربیٹھ کرگھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔
نذیرشدید اذیت میں تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے تکے انداز میں چارپائی پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھا رہا، پھر نیچے اترکر کپڑے اٹھائے کونے میں چلا گیا۔شمیم پیتل کے کٹورے میں اس کے لیے پانی لے آئی۔وہ اس کے ہاتھ سے پانی کا کٹورا لے کرکئی دنوں کے پیاسے شخص کی طرح یک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا۔
’’میری ساس تھوڑی دیر میں اٹھنے والی ہے، اگراس نے دیکھ لیا تویہ ہم دونوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا،‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولی اور اس کے ہاتھ سے کٹورا لے کر دور ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔
وہ اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا تھا، اسے اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتانا چاہتا تھا، لیکن اس کی بات سننے کے بعد اس میں کچھ بھی کہنے کا حوصلہ نہ رہا۔ وہ ہونق نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔اسے احساس ہوچکا تھا کہ اب اس کی تمام گرمجوشی پر اوس پڑ چکی ہے۔ نذیر اٹھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دھیرے دھیرے صحن کی طرف بڑھنے لگا۔
صحن سے برآمدے میں آتے ہوے وہ ایک ستون سے ٹکرایا۔وہ خود کو سنبھالنا چاہتا تھا مگر اس کے اعصاب پر ایک حواس باختگی طاری ہوچکی تھی۔ کھیتوں کی طرف کھلنے والے دروازے سے نکلتے ہوے اس کا پیر چوکھٹ سے بھی ٹکرا یا۔اس مرتبہ وہ لڑکھڑایا اورباہر کی طرف منھ کے بل گرتے گرتے بچا۔ وہ سنبھل تو گیا مگر اس کے پاؤں کی ڈگمگاہٹ ختم نہیں ہوسکی۔وہ گھر سے باہر نکلاتو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔ اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا، نہ راستہ،نہ مکان، نہ کھیت۔وہ ڈگمگاتا اور لڑکھڑاتا ناہموار زمین پر چلتا رہا۔وہ پلٹ کر دیکھنا چاہتا تھا مگر دیکھ نہیں سکا۔ وہ جانتا تھا کہ پیچھے دو آنکھیں اسے رخصت کرنے کے لیے موجود ہیں۔اپنی ندامت اور خفت کے سبب اس کے لیے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔وہ جلد از جلدیہاں سے دورجانا چاہتا تھا تاکہ ان آنکھوں کی پہنچ سے نکل جائے۔
شمیم گھر کے دروازے سے لگ کر نڈھال کھڑی آہیں بھرتی رہی اوراسے جاتے ہوے تکتی رہی۔کچھ دیر بعد اس نے دروازہ بند کردیا اور اس کی کنڈی چڑھا دی۔
نذیر کا وجود درد کا گولہ بنا ہوا تھا۔اس کی ٹانگیں دکھ رہی تھیں۔بازوؤں میں اتنا شدید درد تھا کہ اسے لگتا تھاکہ وہ کٹ کر اس کے کاندھے سے جھول رہے ہیں۔زمستاں کی رات میں گرتے کہرے اورپالے میں اسے اپنا خون اور اپنی سانسیں منجمدمحسوس ہو رہی تھیں۔وہ اوبڑ کھابڑ زمین پر دقت کے ساتھ قدم اٹھاتا رہا۔
وہ شرینہہ کے دیوقد پیڑ کے پاس پانی کے نالے پر بیٹھ گیا۔آنے کے بعد وہ اسی جگہ بیٹھ کر شمیم کا انتظار کرتا رہا تھا۔نالے کی سیمنٹ کی سطح اسے پہلے سے بہت زیادہ یخ محسوس ہورہی تھی۔وہ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگاتا کہ وہ گرم ہوسکیں، مگر بہت دیر تک ہاتھ مسلتے رہنے کے باوجود ان میں حرارت پیدا نہ ہو سکی۔ اس کی ٹانگیں بھی وقفے وقفے سے کانپ رہی تھیں۔
وہ اچانک اُٹھا اور ایک پگڈنڈی پردوڑ کر رگوں میں جامد خون کو گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔کچھ دور جا کر رات کے پالے سے بھیگی ہوئی پگڈنڈی پراس کا پائوں پھسلا اور وہ کماد کی فصل میں جاگرا۔ اس کے کپڑے اور پاؤںگیلی مٹی میں آلودہ ہو گئے۔ گرنے سے اس کا بدن اور زیادہ دکھنے لگا۔ کماد کے کھیت میں دشواری سے چلتے ہوے وہ دھیرے دھیرے گوٹھ ہاشم جوگی سے دور ہوتا چلا گیا۔
بہت آگے جاکر وہ جھاڑیوں سے باہر نکلااورآہستہ آہستہ چلتے ہوے وہ نہر کے پُل پر پہنچ گیا اور اندھیرے کے سبب سیاہ نظر آتے پانی کو دیکھنے لگا۔نہر کا پانی اپنے کناروں سے نیچے نیچے بہہ رہا تھا۔اس کی سطح پر ٹمٹماتے ستاروں کا عکس جھلملا رہا تھا۔
ہولے ہولے اس کا خوف زائل ہوتا جارہا تھا۔ درختوں کا عکس پانی میں دھندلے دھبوں کی طرح نظرآرہاتھا۔
اس نے قصبے کے مکانوں کی جانب نگاہ کی تو وہ سب مکانات اسے ایک ڈھیر کی صورت ایک دوسرے کے اوپر تلے پڑے ہوے دکھائی دیے۔وہ مکانات کے اس ڈھیر میں چھپی ہوئی گلیوں سے اس طرف آیا تھا۔پل پر کھڑے کھڑے اس نے اپنی چشمِ تصور سے شمیم کو بستر پر درازدیکھا اور اس کی تلخ آہوں کو سنا۔اس نے بے بسی اور لاچاری سے دانت کچکچائے۔اپنی دونوںمٹھیاں بھینچ لیں۔اس کے وجودمیں ایک ساتھ اذیت کی کئی لہروں نے سر اٹھایا۔اس کے دل نے چاہا کہ وہ بلند آہنگ انداز سے چیخے چلائے اور سینہ کوبی کرتے ہوے اپنی چھاتی کو زخمی کرڈالے۔اسے اپنے وجود کے وہ سب حصے جن سے اس نے شمیم کو چھوا تھا، قابلِ نفریں محسوس ہوے۔اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا اوراپنے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کوٹٹولا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہاں سے خون رسنے لگے۔اس نے نہر کنارے کسی درخت پر رسی باندھ کر خودکشی کے بارے میں سوچا۔
وہ بڑبڑایا:’’آج کے دن کی شروعات منحو س طریقے سے ہوئی تھی۔‘‘
اس کے بدن میںاب بھی درد تھا اور اس کے اعضا کی دکھن بڑھتی ہی جارہی تھی۔وہ پل سے اتر کر نہر کے کنارے پیڑوں کی قطار کے نیچے چلنے لگا۔کچھ دور جاکر وہ ایک ایسی جگہ پر کنارے سے نیچے اترنے لگاجہاں پر نہر کا پانی اسے زیادہ گہرا دکھائی دے رہا تھا۔وہ بے سوچے سمجھے نہر کنارے کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پربیٹھ گیا۔ کچھ آگے کھسک کراس نے اپنی چپلوں سمیت اپنے پاؤں نہر میں ڈال دیے۔ نہر کا پانی اسے بہت ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔اس کی یخ لہریں اس کے ٹخنوں اور پنڈلیوںمیں گھسنے لگیں۔مگر نذیر کے سر میں عجیب سودا سمایا ہوا تھا۔
وہ نہر کے پانی میں لرزتا ہوا اپنا دھندلا دھندلا عکس دیکھتا رہا۔وہ اپنی رگوں میں اپنے جامد خون کو گرمانا چاہتا تھا۔شمیم سے ملاقات کے دوران اسے جس ہزیمت اور اذیت کا بوجھ اٹھانا پڑا تھا، وہ اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔
اپنے عضوِلذیذ کو بہت دیر تک رگڑنے اور مسلنے کے بعداس کے جسم میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ اسے اور زیادہ حرارت کی ضرورت تھی۔اس کے ہاتھوں کی حرکت دھیرے دھیرے مجنونانہ اوروحشیانہ انداز اختیار کرتی چلی گئی۔اگر اس وقت اسے کوئی شخص اس حال میں دیکھ لیتا تو یقیناً فاترالعقل یا سودائی خیال کرتا۔
اس کے رگ و ریشے میں یکلخت کئی الائو جلنے لگے۔اس کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگیں۔اس کی سانسیں کسی دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔وہ اپنے ہاتھوں کی حرکت میں مزید تیزی پیدا کرتاگھاس پرلیٹ گیا اور سیاہ آسمان کو تکنے لگا۔
ایک شدید ہیجان خیز لمحے میں وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا اور نہر کے پانی میںانزال کی بوندیں گرانے لگا۔ اگلے ہی وہ گھاس پر نڈھال ہوکر گرپڑا اور زور زور سے سسکیاں لینے لگا۔اس کو معلوم نہیں تھا کہ صبحِ صادق اب صرف چند لمحوں کی منتظر تھی۔

صبح دیر سے جاگنے کے باوجودنذیر کے جسم میں کل شب کی ہزیمت اور اذیت کے آثار باقی تھے۔ اس نے کمرے میں جاکر صندوق سے استری شدہ لباس نکالا۔وہ جلدازجلدغسل کرنا چاہتا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی اس کے کپڑوں پرمٹی اورگھاس کے نشان دیکھ لے اور کسی شک میں مبتلا ہوجائے، مگروہ جیسے ہی برآمدے میں آیاچاچی خیرالنسا اسے برآمدے میں ٹہلتی دکھائی دی۔وہ اسے دیکھ کر تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔
چاچی اس کے پاس آگئی اور اسے ٹوہ لینے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
اس نے سنجیدگی سے کہا،’’تیرا چاچا آج سویرے سویرے ہی دکان پر چلا گیا۔‘‘
نذیر نے اسے دیکھا مگر کوشش کے باوجود اس سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔وہ کتھئی رنگ کے ریشمی لباس میں تھی جو اِس کی سفید رنگت سے مل کر پرکشش تاثر پیدا کررہا تھا۔ اس کی گردن اور کلائی کا رنگ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ اس کے سر سے دوپٹہ اُترا تو اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی۔
’’آج تو دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔دکان جانے سے پہلے تیرے چاچے نے تجھے ایک دو بار جگانے کی کوشش کی، مگر تو ہلا جلا ہی نہیں،‘‘اس نے بے تکلفی سے کہا۔
وہ اس کے ہونٹوں پرپہلی بار لگی ہوئی لپ اسٹک کی تہہ دیکھ کر بولا،’’رات جب تو کمرے میں چلی گئی تو اس کے بعد میں سونہیں سکا۔‘‘پہلی بار اسے چاچی کے بھرپور خدوخال روکھے پھیکے سے محسوس ہو رہے تھے۔
’’مجھے بھی نیند مشکل سے آئی۔‘‘وہ چاہتی تھی نذیر آج بھی اس کی تعریفیں کرے اور اس سے اپنی چاہت کا اظہار کرے۔ مگر وہ اس سے کھنچا کھنچا ساتھا۔اس کی آنکھوں میں پژمردگی تھی اور لہجے میں گرمجوشی کے بجاے سوگواری تھی۔وہ اسے نظر انداز کرتانیلے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا،جہاں پرندے اُڑتے پھررہے تھے۔’’تیرے لیے ناشتہ تیار ہے،‘‘وہ ٹھنڈا سانس بھرتے ہوے بولی۔
’’غسل کرکے کھا لوں گا،‘‘یہ کہتے ہوے وہ کپڑے اٹھائے غسل خانے کی طرف چل دیا۔
ناشتے کے بعد اس نے ایک اور چائے پینے کی فرمائش کردی۔وہ باورچی خانے جا کر اس کے لیے ایک اور چائے کی پیالی لے آئی۔وہ اس سے گریزاں ساتھا۔اس کا جسم اور چہرہ دیکھ کر اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے کل رات اس سے کیا کیا باتیں کی تھیں۔اس کے اعصاب اور حواس پرشمیم سے ملنے کے دوران ہونے والی شکست سوار تھی۔وہ اپنی ناکامی کے عذاب میں مبتلا تھا۔
’’آج تونے پیٹ بھرکے ناشتہ نہیں کیا۔‘‘
’’بھوک ہی کم تھی۔‘‘
وہ سوچ رہی تھی کہ آج اچانک اسے کیا ہوگیا۔ وہ پہلے تو اکیلا ہی چار پانچ روٹیاں کھاجاتا تھا۔’’آج تجھے دکان پرجانے کی ضرورت نہیں۔مجھے تیری طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ تو آرام کرلے،‘‘ اس نے اپنائیت سے کہا۔
’’دکان پر تو نہیں مگرذرا دیر کو باہرگھومنے جاؤں گا۔‘‘
اس کی بات سن کروہ افسردہ ہوگئی۔
نذیر نے اچانک اس کے بارے میں سوچا کہ کیا وہ اس عورت سے وصل کر کے اپنی جذباتی شکست کا مداوا کرسکتا تھا۔ اسے اچانک باورچی خانے میں پیش آنے والے واقعے کی جزئیات یاد آئیں تو وہ حیران رہ گیا۔اس نے کس طرح اسے چومتے ہوے اپنے بازوئوں میں بھر لیا تھا؟
ان خیالات کا سلسلہ بھی اس کے مزاج کی سرد مہری کو ختم نہیں کرسکا۔وہ پیالی سے چائے کی آخری چسکی لے کرباہر جانے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’سن! تیرا چاچا ہاروالی بات بھول گیا ہے۔‘‘
وہ روکھی مسکراہٹ سے بولا،’’اچھا؟‘‘اس کے بعدٹھنڈاسانس لیتے ہوے وہ گلی کی طرف چل پڑا۔
گلی سے گزرتے ہوے تنہائی میں وہ سوچتا رہا کہ کل رات کے تیسرے پہرجو کچھ پیش آیا وہ محض ایک اتفاق تھا۔اگر بلی چھپر کی چھت سے اس کی پیٹھ پر چھلانگ نہ لگاتی تو اس کا شاد کام ہونا یقینی تھا۔وہ اپنے آپ کو تسلی دینے لگا کہ اسے احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔وہ بالکل ٹھیک تھا۔اس کی مردانگی پوری طرح بحال تھی اور نہر کنارے بیٹھ کر اپنے انزال کے آب دار موتی نہر کے پانی میں گرا چکا تھا۔یہ سب باتیں سوچنے کے باوجود وہ خود پر اپنے یقین اور اعتماد کو بحال نہیں کر سکا۔
اس نے پان کی مانڈلی سے کچھ سگریٹ خریدے اوردھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کھیتوں کی طرف چل دیا۔وہ سگریٹ سلگا کر اس کے لمبے کش لیتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔
مکمل تنہائی میںمکمل خودسپردگی کے لیے آمادہ عورت سے مباشرت میں ناکامی غیرمعمولی اور شرمناک بات تھی۔ شمیم خود کو ملامت کرتی رہی ہوگی اور اسے ایک نامرد تصور کرتی رہی ہوگی اور دل ہی دل میں اس کا مضحکہ اڑاتی رہی ہوگی۔نذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس سے قطع تعلق کر لے گا اور آئندہ کبھی نورل کی شکل بھی نہیں دیکھے گا۔اپنے آپ سے یہ عہد کرتے ہوے وہ جانتا تھا کہ اس کی خاطر اس کا دل بری طرح مچلے گا اور کیا پتا وہ نیند میں اُٹھ کر نہر کی طرف دوڑتا چلاجائے۔
وہ قصبے کی مشرقی سمت میں واقع آخری مکانوں تک پہنچااورانھیں عبور کرتا ہوا کھیتوں میں داخل ہوگیا۔تا حدِنظرزمین پر سبزیوں اور گندم کے پودے لہلہا رہے تھا۔ سورج آسمان کے وسط میں چمک رہا تھااور سارے میںپیلی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ گردوپیش اچٹتی سی نگاہ ڈال کر وہ سرجھکائے ایک پگڈنڈی پرچلنے لگا۔
وہ اپنے آپ کوبار بار سمجھاتارہا کہ اس کے ساتھ جو واقعہ پیش آچکا تھا، وہ اس کے اناڑی پن کی وجہ سے پیش آیاتھا۔اس نے پہلی اور بنیادی غلطی پکوڑافروش کے ہمراہ مے خانے جا کر کی تھی۔ وہاں اس نے چرس اور بھنگ کا بے محابا استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حواسِ خمسہ کند ہو گئے تھے۔پھرشدید سردی کے موسم میں آدھی رات کو چوری چھپے گھر سے نکلنا،ویران اور تاریک گلیوں میں خوفزدہ چلنا، آہٹوں پر چونکنا اور کھیتوں کے پاس کانپتے ہوے انتظارکرنا—یہ تمام چیزیں بھی تواس افسوسناک عمل کی رونمائی میں شامل تھیں۔
سوچتے سوچتے اس کا دماغ شل ہوگیا اوروہ تھک کر ایک بلندقامت شیشم کے پیڑ کے نیچے پگڈنڈی پرہی بیٹھ گیا۔
چاچی خیر النسا کے بارے میں سوچتے ہوے اس نے عجیب شرمندگی محسوس کی لیکن اسے معلوم تھا کہ یہی وہ عورت ہے جو اس کے اعتماد کو بحال کرسکتی ہے۔
وہ بیٹھے بیٹھے تین سگریٹ پھونکنے کے بعد اپنی الجھنوں کو سلجھائے بغیر اُٹھااور قصبے کی طرف واپس چل دیا۔

اگلے دن وہ سویرے اٹھا اورچابیاں لے کر دکان چلا گیا۔
جانے سے پہلے باورچی خانے میںناشتہ کرتے ہوے اس نے محسوس کیا کہ چاچی اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کراس کے ہاتھ سے چائے سے بھرا پیالہ نیچے گر گیا اور گرم چائے نے اس کے پاؤں کو جلا دیا۔ اپنی تکلیف کو چھپاتے ہوے وہ اس سے آنکھیں ملائے بغیر اٹھا اور باورچی خانے کی کوٹھڑی سے باہر نکل گیا۔
دکان پر پہنچ کر اس نے اپنی جیب سے چابیاں نکالیں اورشٹر پر لگے ہوے تالے کھولے۔ شٹر اٹھا کردکان کھول کر وہ صفائی کرنے کے بجائے دیوار وں پر چسپاں فلمی اداکارائوں کی تصویروں کوغور سے دیکھنے لگا۔اس نے محسوس کیا کہ کچھ نئی تصویروں کا اضافہ ہوگیا تھا۔وہ تصویروں کے نزدیک ہو کر انھیں ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا کہ اسے اچانک ایک بھاری سی مردانہ آوازنے اسے چونکا دیا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تویعقوب کاریگر اس کے قریب ہی کھڑامسکرارہا تھا۔وہ نذیر کو ڈرانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکاتھا۔
’’دیوار پر لگے نئے نئے فوٹو کیسے ہیں؟میرے ایک دوست نے مجھے باہرکے ملک کا ایک رنگین رسالہ تحفے میں دیا تھا۔میں نے اس میں سے بہترین تصویریں نکال کر یہاں لگا دیں۔ذرا دیکھو! اس فوٹو کا تو جواب نہیں۔‘‘
’’ویسے تمھاری پسند کا بھی کوئی جواب نہیں۔‘‘
کاریگر اپنی تعریف سن کر اس تصویر کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے لگا۔’’اسے غور سے دیکھو! اس کے بالوں کا رنگ بالکل سونے جیسا ہے۔اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ دیکھ کر ہم جیسا خوامخواہ خوش ہونے لگتا ہے۔ذرااس کی چمڑی کو دیدے پھاڑ کر دیکھو، کتنی چمکیلی اور نرم ہے۔اور اس کے ممّے تو…‘‘ وہ بے قابو ہورہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کرچمکیلے رنگین کاغذ کی سطح پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھرتصویر کو چومتے ہوے کہنے لگا۔’’’پتا نہیں کہاںاور کون سے دیس میں رہتی ہیں یہ پریاں۔ہماری قسمت میں تو باگڑی اور بھیل بھکار نیں لکھی ہیں۔‘‘وہ بیڑی سلگا تے ہو ئے اپنی سلائی مشین کے پاس لگی اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
نذیر نے اسے چھیڑا۔’’تمھارے پاس کپڑے سلوانے خوبصورت عورتیں بھی آتی ہیں۔پھر ان سے دوستی کیوں نہیں کرتے؟‘‘
’’وہ بہت چالاک اور ہوشیارہوتی ہیں۔آسانی سے ہاتھ بھی نہیں آتیں۔پھر انھیں قابو کرنے کے لیے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک غریب درزی۔ تمھارے چاچے کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے زندگی بھر کے لیے ایک حسین اور جوان عورت مل گئی۔‘‘
نذیر نے اس سے یونہی ایک بات پوچھی۔’’اب اس کی پریشانی کا کیا حال ہے؟‘‘
یعقوب کاریگریہ سننے کے بعداپنی آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھنے لگا۔وہ اپنی بیڑی کی راکھ جھٹکتے ہوے اُٹھا اور گلی میں جھانکنے کے بعد نذیر کے پاس آبیٹھا۔وہ راز داری سے کہنے لگا،’’میں جانتا ہوںتم شریف آدمی ہو، اسی لیے میں تمھیں پسند کرتاہوںمگر یہ حقیقت ہے کہ وہ تمھاری وجہ سے پریشان ہے۔ اس نے کل یہ بات مجھ سے رازداری رکھنے کی قسم لینے کے بعد بتائی۔‘‘
’’میری وجہ سے؟‘‘
’’اسے شک ہے کہ تم اس کی بیوی کے ساتھ خراب ہو۔‘‘اس نے بیڑی کو فرش پر پھینکا اوراسے پائوں کے نیچے مسلتے ہوے کہنے لگا،’’وہ تھوڑی دیر میں آنے والا ہوگا۔دکان بند ہونے کے بعدتم مجھ سے جوگی کے چائے خانے پر ملو۔‘‘
واقعی تھوڑی دیر بعد چاچا غفور دکان پہنچ گیا۔یعقوب کاریگر سلائی میں مصروف تھا جبکہ نذیر قمیص کے بٹن لگا تا رہا۔اس دوران غفور نے ایک بار بھی نذیر سے کوئی بات تک نہ کی۔وہ سر جھکائے اپنے کام میں لگا رہا۔

شام ڈھلنے سے کچھ پہلے ہی س نذیر چائے خانے پر جا بیٹھا۔وہ گردوپیش کی چیزوں کو دیکھنے کے بجائے بار بار فکرمندی سے کاریگر کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق سوچتا رہا۔
غفورچاچاکی پریشانی کا راز جاننے کے بعد وہ شدید احساسِ گناہ میں مبتلا تھا۔وہ خود کو ملامت کرتا رہا کہ اس نے جانے یا انجانے میںچاچی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔وہ حیران تھا کہ چاچے کو اس معاملے کی خبر آخرکیسے مل گئی۔اب وہ فرار چاہتا تھا تاکہ اس کی وجہ سے یہ محترم رشتہ کہیںپامال نہ ہوجائے۔ مگر اس کے دل کی گہرائی میں کوئی شدید جذبہ موجود تھاجس کے آگے وہ خود کو پوری طرح بے بس محسوس کر رہا تھا۔اس کے لیے اب وسوسوں اور اذیت کے مہیب جنگل میں چاچی خیر النسا ہی واحد پناہ گاہ رہ گئی تھی۔
وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے یعقوب کاریگر کو آتے ہوے دیکھا۔وہ آتے ہی چپ چاپ کرسی پربیٹھ گیا اور جلدی جلدی بیڑی پھونکتا رہا۔اس کی پیشانی پر دوگہری لکیریں تھیں۔
اس نے چٹکی بجاکر راکھ کو جھٹکا اور استغراق سے نکل کر نذیرکو گہری نظر سے دیکھتے ہوے کھنکار کر اپنا گلا صاف کرنے لگا۔پھراس نے اس کی طرف تھوڑا جھک کر دھیمے لہجے میں کہا،’’غفور سے میری دوستی بہت پرانی پرانی ہے۔تمھاری عمر سے بھی زیادہ پرانی۔ اس نے بڑی بدفعلیاں کیں۔تم اندازہ نہیں لگا سکتے۔تین ضلعوں میں کوئی چکلا نہیں بچا ہوگا جہاں جا کر اس نے زنا نہ کیا ہو۔اس کے بیسیوں معاشقے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی وجہ سے جب اس نے شادی کی تو کچھ عرصے کے بعد اسے پہلی مرتبہ اپنی کمزوری کا احساس ہوا۔وہ مجھ سے چھپ چھپ کر اپنا علاج کرواتارہا۔ مگر اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ایک دن پریشان ہوتے ہوے اس نے شرمندگی سے مجھے بتا ہی دیا۔ میں اسے رانی پور میں ایک واقف حکیم کے پاس لے گیا۔اس کی دوا سے غفور کی قوت بحال ہونے لگی اوروہ شادی کے مزے سے ہمکنار ہوا۔‘‘ کہتے کہتے وہ خاموش ہوا اور اِدھراُدھر دیکھنے لگا۔
نذیراس کے ہونٹوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ بغور سن رہا تھا۔
کاریگرنے چائے کا گھونٹ بھرا اور سرگوشی میں پھر سے کہنے لگا،’’کل پہلی بار اس نے مجھ سے تمھارے قتل کے بارے میں بات کی۔دکان کے کام میں تمھاری عدم دلچسپی کی وجہ سے اسے شک ہونا شروع ہوا۔وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگا۔کئی مرتبہ اس نے تمھاری جاسوسی کی۔دیوار پھاند کر اپنے گھر میں گھسا۔رحیم سنار والے مسئلے پر اس نے تم پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں مجھے بتایاتومیں نے اس پر لعن طعن کی کہ اسے تم پر شک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ اس نے چائے کی پیالی ختم کی اور نئی بیڑی سلگائی۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ پھرگویا ہوا۔’’اس کی باتوں نے مجھے پریشان کردیا۔ میں رات بھر سوچتا رہا۔میں نے فیصلہ کیا کہ تم سے ضروربات کروں گا۔شاید غفور اپنی بیوی کو وہ آسودگی نہیں دے سکا جو اس کا حق تھا۔اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کرکسی اور سے اپنا تعلق جوڑلے گی۔یہ معاملہ تمھارے حق میں خطرناک ہوسکتا ہے۔تم اس کے گھر میں رہتے ہو اور تمھاری اس کی بیوی کے ساتھ بے تکلفی بھی ہے۔‘‘وہ جواب طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
نذیر ٹھنڈا سانس بھر کر بولا،’’تمھارا اندازہ ٹھیک ہے۔‘‘
’’میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم اپنی عزت اور زندگی بچاؤاور میرپور ماتھیلوواپس چلے جاؤ۔تمھیں یہاں سے جانے کے لیے وہ کبھی نہیں کہے گا لیکن اگرکسی دن اس کا مغز گھوم گیا تو پتا نہیں کیا کربیٹھے۔‘‘اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
’’تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
کاریگرہنسا۔’’مت بھولومیں اس کا پرانا دوست ہوں۔وہ اپنی دو محبوباؤں کے شوہروں کو زخمی کرچکا ہے۔یہاں غیرت کا مسئلہ بھی ہے اور کل بےساختگی میں اس کے منھ سے نکل گیا کہ اسے ثبوت ملنے کی صورت میں اس نے تمھیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ وہ تمھیں کارا کرکے مار ڈالے گا، کیا سمجھے؟‘‘
نذیریہ سن کر ہکا بکارہ گیا۔ناقابلِ یقین بات کی حقیقت کواسے اپنے دل سے تسلیم کرنا پڑا۔
شام ڈھلے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔آسمان پرستارے نکل آئے تھے۔چائے پینے والے سب گاہک بھی جاچکے تھے۔ ہوٹل کا مالک برتن سمیٹ رہا تھا۔وہ اٹھے اورنہر کے پل تک ساتھ چلتے ہوے گئے۔وہاں سے نیچے اترنے والے راستے پر وہ ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔
کچھ دورتک اس کے ذہن میں کاریگرکی باتیں گھومتی رہیں۔یہ سب تو اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھامگر اب اسے اندازہ ہونے لگاتھا کہ یہاں رہتے ہوے اس کے ساتھ کوئی واقعہ بھی پیش آسکتا ہے۔اسے غفور چاچا پیشہ ورقاتل معلوم ہوا۔اس کی سماعت میں اس کی پاٹ دار آواز گونجنے لگی۔اس کی بڑی بڑی آنکھیں اسے یاد آئیں جن میں ہر وقت اسے اپنے لیے عناد بھرا محسوس ہوتا تھا۔ اسے گزشتہ روز کی مارپیٹ یادآئی۔وہ کتنے نفرت انگیز لہجے میںاسے مخاطب کرتا ہوا چیخ رہا تھا۔
نذیر نے خود کو اپنے گھر والوں سے دور، اجنبی لوگوں کے درمیان مکمل طور پر غیر محفوظ محسوس کیا۔
وہ نیم تاریک سڑک پرروشنی کے کمزور دائروں میں چلتا رہا۔اس نے سوچا کہ کیا خبر اس کا چاچایعقوب کاریگر کے ساتھ مل کر اسے قصبے سے بھگانا چاہتا ہو تاکہ اس کے تمام خدشات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔
وہ گھر جانے کے بجاے پہلوان دستی کے چائے خانے پر جابیٹھا۔
اسے کاریگرپر اعتماد تو تھا مگر وہ فرارہونے کے خیال سے ہچکچا رہا تھا۔چاچی خیر النسا کے بارے میں سوچتے ہوے اس کے دل سے بار بارہوک سی اٹھ رہی تھی۔اسے اس کا طویل قامت جسم یاد آیا،اس کے فسوں کار انگ یاد آئے۔اس نے چاچی کو دیکھنے، اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے لپٹنے کی ناقابلِ مزاحمت خواہش کو محسوس کیا۔
وہ چائے خانے پربیٹھا رہا اورٹھری میر واہ میںاپنے گزرے ہوے وقت کے بارے میں سوچتا رہا۔اس کے دل میں گناہ کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہورہا تھا۔کل اسے سوچتے ہوے جو ندامت محسوس ہورہی تھی اب وہ مٹتی جا رہی تھی۔ اب وہ عورت واقعی اس کی محبوبہ بن گئی تھی۔وہ خود سے کہتا رہا کہ پہلی بار اسے محبت ہوئی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے سوچتا رہے۔اس نے چاچے کورقیب جان کر اس کے خلاف اپنے دل میں شدیدنفرت محسوس کی۔ نفرت سے ا س کے اعصاب تن گئے اور وہ مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا۔اسے معلوم تھا کہ اپنی محبت کی خود غرضی کے باوجود وہ اسے ہمیشہ کے لیے حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر فرار نہیں ہوسکتا تھا۔بہت دیر تک وہ ذہنی کشمکش سے دوچار رہا۔
ڈبو کھیلنے والے لڑکے شور مچا رہے تھے۔پہلوان دستی اپنے دکھل کے پاس اونگھ رہا تھا۔رات کے دس بجنے والے تھے۔قصبے سے باہر جانے والی گاڑیاں شام سے پہلے ہی بند ہوجاتی تھیں۔
وہ چائے خانے سے اٹھا اورجھجکتے ہوے قدموں سے اس مکان کی طرف چل دیا جو اب اس کا گھر نہیں رہا تھا۔ گلی میںپہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے ٹھیر گیا۔سارے مکان تاریکی میں ڈوبے ہوے تھے۔ایک خیال کی دہشت سے جھرجھری لیتے ہوے اس نے پاؤں آگے بڑھایا۔
دروازے کی کنڈی کھول کر وہ اندر آیا تو اس نے باورچی خانے والی کوٹھڑی کو بند پایا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوابرآمدے میں بچھی اپنی چارپائی تک پہنچا اور بیٹھ گیا۔ اسے بھوک نہیں تھی۔وہ اپنا سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا رہا۔
کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر وہ چونکا اور اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو چاچی خیر النسا دروازے سے باہر نکلتی دکھائی دی۔وہ اسے دیکھ کر عجیب انداز میں مسکرائی۔اس نے فوراً آگے بڑھ کربرآمدے کی بتّی جلادی۔
نذیرپریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔’’چاچا جاگ جائے گا۔‘‘
’’آج وہ صبح سے پہلے نہیں جاگے گا۔‘‘ وہ ایک بار پھر مسکرائی۔
’’کیوں؟‘‘نذیرنے حیرت سے پوچھا۔
’’نیند کی ایک گولی اس نے خود کھائی اور دو میں نے دودھ میں گھول کر اسے پلا دیں۔‘‘
’’آخر ایسا کیوں کیا؟‘‘
چاچی خیر النسا نے لجاتے ہوے کہا،’’تم سے ملنے کے لیے۔‘‘
نذیر نے خود کو اس عورت کے زیرِاثر محسوس کیا۔وہ دونوںباورچی خانے کی کوٹھڑی میں جابیٹھے۔
’’میرے لیے کھانا مت گرم کرنا۔میں نے باہر کھا لیا ہے۔‘‘
وہ چولھے کے پاس بیٹھی تھی جبکہ نذیر اس کے قریب پٹڑے پر۔اس نے لمبا سانس لیتے ہوے خود کو پراعتماد پایا۔وہ اس کی طرف دیکھتے ہوے مسکرایا۔
’’مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں،‘‘وہ بولا۔
’’کہو۔‘‘
’’توُمیرے چاچے کی بیوی ہے مگر میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،‘‘اس نے بےجھجک اپنے دل میں سمائی بات کہہ دی۔
’’میں جانتی ہوںیہ گناہ اوربے حیائی ہے مگر تو بھی جان لے کہ تومجھے اچھا لگتا ہے۔اسی لیےآج رات میں نے بڈھے کو نیند کی گولیاں کھلادیں۔میں جانتی ہوں تواس کا احترام کرتا ہے۔‘‘وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔ ’’میں بھی تیری طرح ڈرتی ہوں اس سے لیکن توخود سوچ!اس کے اورمیرے درمیان کتنا فرق ہے۔‘‘
اسے اداس دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا۔’’آدھی عمر کا فرق ہے! اور میں جب سے یہاں آیا ہوں،یہی سوچ رہا ہوں۔ تو اس سے بہت چھوٹی ہے اور خوبصورت بھی بہت ہے۔‘‘وہ مسکرانے لگا۔’’پرسوںرات میرے اور تیرے بیچ جو کچھ ہوامیں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔میں سمجھا کہ تومجھ سے بہت ناراض ہوگی اور مجھے تجھ کومنانا پڑے گا۔‘‘
یہ سن کرچاچی خیر النسا اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر مسکراہٹ خود بخود اس کے ہونٹوںپرنمایاں ہو گئی تھی۔
نذیر نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ یعقوب کاریگر سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گا۔اس نے تشویش سے اس سے ایک سوال پوچھا،’’صبح چاچے کو گولیوں کے بارے میں پتا نہیں چل جائے گا؟‘‘
’’نہیں چلے گا۔وہ یہی سمجھتا رہے گا کہ جو گولی اس نے کھائی یہ اسی کا نشہ ہے۔‘‘وہ پھر مسکرانے لگی۔
’’میں پہلے تیرے بارے میں جب بھی سوچتا تھا توخود کو بڑاگناہ گار سمجھتاتھا،‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’اور اب؟‘‘چاچی نے شرارت سے پوچھا۔
’’اب تیری محبت کو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔‘‘
’’میں تو اندر سے کانپ رہی ہوں۔وہ گہری نیند کر رہاہے،میںپھر بھی یہاںسہمی ہوئی ہوں، اور یہ گناہ ہے، بڑا گناہ!‘‘اس نے جھرجھری لی اور آنکھیں میچ لیں۔
’’یہ گناہ نہیں ہے، محبت کبھی گناہ نہیں ہوتی،‘‘وہ بلند لہجے میں بولا۔
’’آخر تم رشتے میںمیرے بھتیجے لگتے ہو۔‘‘
’’توُ اپنی مرضی سے میری چاچی نہیں بنی اور میں...‘‘وہ جذبے کی شدت سے خاموش ہوگیا۔
’’کچھ بھی ہو،میں اس بوجھ سے نہیں بچ سکتی... مگر خود کو روکنا بھی مشکل ہے،‘‘وہ آہ بھر کر بولی۔
نذیر اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتا رہا۔ وہ حیران تھا کہ اسے کیا ہوگیا۔وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا مگر اس کے پاس تمام الفاظ ختم ہوگئے تھے۔اسے خوشی سے ہمکنار کرنے کے لیے اور اپنی باقی ماندہ زندگی کے لیے ایک خوشگوار یاد کو اپنے سینے میں محفوظ رکھنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے بدن کا لمس کشید کرنے لگا۔وہ ایک نئی لذت سے آشنا ہوتا جارہا تھا۔
انھوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا اور ہنسنے لگے۔کچھ دیر بعدوہ برآمدے میں بچھی ہوئی چارپائی پرجاکر ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹ گئے اوران کے ترسے ہوے جسم نہ جانے کب تک ایک دوسرے میں مدغم ہانپتے کانپتے رہے۔

بہت دیر کے بعد چاچی خیر النسا اپنے کپڑے اٹھا کر غسل خانے کی طرف چلی گئی مگر وہ وہیں چارپائی پر لیٹا رہا۔
غسل خانے سے باہر نکل کر چاچی نے نذیر کے ہونٹوں پر آخری بوسہ دیا اور اسے نگاہ بھر دیکھنے کے بعد کمرے میں اپنے سوئے ہوے شوہر کے پاس چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعدنذیر آہ بھرتے ہوے مسکرایا۔اس نے چاچی خیر النسا کو پا کر کھودیا تھا، ہمیشہ کے لیے۔مگر اپنے لیے ایک یاد کو محفوظ کرلیا تھا۔

وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پھراس نے دیکھا کہ صبح کی روشنی پھیلنے والی ہے۔اس نے اٹھ کر کپڑے پہنے۔ غسل خانے میں گیا لیکن غسل نہیں کیا۔ہینڈپمپ چلا کر وہ اپنے ہاتھ اور منھ دھو کر باہر نکل آیا۔وہ صحن میں چند لمحے ٹہل کر کچھ اور وقت گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔اس نے کمرے کے دروازے سے کان لگا کر ان دونوں کے سانسوں کی آواز سنی اور دھیرے دھیرے چلتاباہر کی طرف چل پڑا۔
وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔اس نے چلتے ہوے گلی عبورکی،سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔

ناول نگار: رفاقت حیات

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *