عمر خیام اردو میں/ظفر سید

اگر غیاث الدین ابوفتح عمر بن ابراہیم نیشاپوری کا کوئی ہم عصر آج کے دور میں آ جائے تو اسے یہ جان کربڑا تعجب ہو گا کہ عمر خیام دنیا بھر میں شاعر کی حیثیت مشہور ہے۔ حالاں کہ نہ صرف خیام کے اپنے دور میں بل کہ بعد میں کئی صدیوں تک اسے ایک نابغۂ روزگار عالم اور سائنس دان کی حیثیت سے شہرت حاصل تھی۔ شبلی نعمانی اپنی کتاب ’شعرالعجم‘ میں لکھتے ہیں کہ خیام فلسفہ میں بو علی سینا کا ہم سر اور مذہبی علوم اور فن و ادب اور تاریخ میں امامِ فن تھا۔ جب کہ سائنسی مورخ جی سارٹن نے خیام کو ازمنۂ وسطیٰ کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کیا ہے۔
ویسے تو خیام کی اکا دکا رباعیاں کئی تذکروں اور دوسری کتابوں میں بکھری ہوئی مل جاتی ہیں، لیکن ان رباعیات کا پہلا باقاعدہ نسخہ ۱۴۲۳ء میں مرتب ہوا، یعنی خیام کی وفات کے تقریبا تین سو برس بعد۔ اس وجہ سے مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ خیام کے نام سے بہت سی ایسی رباعیاں بھی منسوب ہو گئیں ہیں جو اس کی کہی ہوئی نہیں تھیں۔
پچھلے ایک سو برسوں میں عمر خیام سے منسوب الحاقی رباعیوں کے موضوع پر بڑی دادِ تحقیق دی گئی ہے لیکن خیام کی رباعیوں کا اب تک کوئی متفق علیہ نسخہ سامنے نہیں آیا۔ خیام کے مشہور ایرانی محقق ڈاکٹر صادق ہدایت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایسی رباعیوں کی تعداد صرف ۱۵ہے جن کے بارے میں مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہو کہ یہ خیام کی ہیں۔ ایک اور نام ور محقق علی دشتی ۳۶رباعیوں کے بارے میں اعتماد سے کہتے ہیں کہ یہ خیام کی ہیں، تاہم بڑی رد و کد کے بعد وہ ۱۰۲رباعیوں کی فہرست جاری کرتے ہیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیام کی تخلیق کردہ ہیں۔ دوسرے محققین کے ہاں اس تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
خیام کی بین الاقوامی شہرت کا زیادہ تر دارومدار انگریز شاعر ایڈورڈ فٹز جیرلڈ کے اس ترجمے پر ہے جو اس نے رباعیاتِ عمر خیام کے نام سے ۱۸۵۹ ء میں کیاتھا۔ اس ترجمے کو انگریزی شاعری کے اعلیٰ ترین شاہ کاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ نہ صرف انگریزی شاعری کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، بل کہ سب سے زیادہ نقل کی جانے والی کتاب بھی یہی ہے۔’ آکسفرڈ ڈکشنری آف کو ٹیشنز‘ میں اس کتاب سے ۱۳۰ اقوال درج کیے گئے ہیں۔ اسی ترجمے کی بنا پر خیام کو وہ شہرت ملی جس کی بہ دولت ۱۹۷۰ ء میں چاند کے ایک گڑھے کا نام، جب کہ ۱۹۸۰ء میں ایک سیارچے کا نام خیام رکھا گیا، اور یوجین اونیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ جیسے مشہور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے نام اس کتاب سے حاصل کیے۔
فٹزجیرلڈ کے اس ترجمے کے ترجمے دنیا کی بیش تر بڑی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ خیام کے کئی اردو مترجمین نے بھی اصل فارسی کی بہ جائے اسی ترجمے کو مدِنظر رکھا ہے۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ خیام کا سب سے پہلا اردو ترجمہ اس وقت ہوا تھا جب فٹزجیرلڈ نے خیام کا نام بھی نہ سنا ہو گا۔ مترجم تھے راجا مکھن لال، جو دربارِ دکن سے وابستہ تھے اور نظام نصیرالدولہ نے انھیں راجا کا خطاب عطا کیا تھا۔ مکھن لال نے۱۸۴۲ء میں رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا، یعنی فٹزجیرالڈ سے۱۷برس قبل۔ اس ترجمے کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں:
اس نومشقِ سخن، خوشہ چینِ اربابِ کمال راجہ مکھن لال کو مدت سے تمنا یہ تھی کہ عندالفرصت اپنے ترجمہ فارسی رباعیات حضرت عمر خیام کا کہ اس بزرگ کے کلام میں سراسر معرفت اور حقیقت روشن کرتے ہیں، خلاصہ اس کا زبانِ ریختہ میں موافق اپنی استعداد کے رشتہ تحریرِ نظم میں لاوے۔
فٹزجیرلڈ کے ترجمے کی طرح راجا صاحب کا ترجمہ بھی خاصا آزاد ہے جس کی وجہ سے ان کی اردو رباعیوں کو خیام کی رباعیوں سے ملانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ایک رباعی ملاحظہ کیجیے:
ہو فصلِ بہار میں وہ حور سرشت
یک کوزہ مے پاس ہو اور ہو لبِ کشت
واللہ نہ پھر خیالِ جنت آوے
سمجھیں گے اس کو دوست گل زارِ بہشت

اب خیام کی رباعی دیکھیے:

فصلِ گل و طرفِ جوئے بار و لبِ کشت
با یک دو سہ دلبری حور سرشت
پیش آر قدح کہ بادہ نوشانِ صبوح
آسودہ ز مسجد و فارغ ز بہشت
فٹزجیرلڈ نے اس رباعی کو خیام کی ایک اور رباعی کے ساتھ ملا کر وہ ترجمہ کیا ہے جو ان کی کتاب کی مشہور ترین رباعیوں میں سے ایک ہے:
Here with a Loaf of Bread beneath the Bough
A Flask of Wine, a Book of Verse -- and Thou
Beside me singing in the Wilderness --
And Wilderness is Paradise enow.
راجا صاحب کی چند اور رباعیاں دیکھیے، جس میں انھوں نے سبکِ ہندی عناصر سے بھی استفادہ کیا ہے:
پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا
چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا
اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا

افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری
یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری
اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے
بے یادِ خدا کے زندگانی گزری
جیسا کہ راجا مکھن لال کی مثال سے واضح ہے، ہندوستان میں عمر خیام کو زمانہ قدیم ہی سے اہم مقام حاصل رہا ہے۔ چناں چہ آئینِ اکبری میں شہنشاہ اکبر کا قول رقم ہے کہ حافظ کے دیوان کے حواشی پر رباعیاتِ خیام تحریر کی جائیں۔ سید سلیمان ندوی کی تحقیق کے مطابق خیام کا دوسرا قدیم ترین نسخہ ہندوستان میں تحریر کیا گیا۔ اس کے علاوہ فٹزجیرلڈ نے رباعیاتِ خیام کے جن دو نسخوں سے استفادہ کیا تھا ان میں ایک اسے کلکتے سے اس کے دوست ایڈورڈ کوویل نے بھجوایاتھا۔
اب ہم چلتے ہیں جنوری ۱۹۶۰ء میں شائع ہونے والے رباعیاتِ خیام کے ایک ایسے اردو ترجمے کی طرف جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس میں مترجم نے خالق کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔ یہ ترجمہ پروفیسر واقف مرادآبادی نے کیا تھا اور اس قدر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا کہ چند مہینوں کے اندر اندر اس کے چار ری پرنٹ شائع کرنا پڑے۔ کتاب کے پیش لفظ میں پی یو کیمپ کالج دہلی کے وائس چانسلر دیوان آنندکمار نے لکھا کہ اس کتاب میں:
خیام کی روح ہر جگہ نظر آتی ہے بل کہ اکثر مقامات پر شگفتگی اور بے ساختگی خیام کو آئینہ دکھاتی نظر آتی ہے۔
واقف کے ترجمے کی چند مثالیں دیکھیے:
ہے جام سے وابستہ جوانی میری
یہ مے ہے کلیدِکام رانی میری
تم تلخ بتاتے ہو تو کچھ عیب نہیں
تلخ تو ہے عین زندگانی میری

پلا تو دے میرے ساقی نئی بہار کے ساتھ
عبث الجھتا ہے اس زہد کے سہار کے ساتھ
اجل ہے گھات میں دن زیست کے گزرتے ہیں
شرابِ ناب ہے موجوں میں بزمِ یار کے ساتھ
ترجمہ برا نہیں لیکن اس میں وہ وارفتگی اور سرمستی مفقود ہے جو خیام کا خاصہ ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ رباعی کے فن میں آخری مصرعہ گویا پنچ لائن کا حکم رکھتا ہے، لیکن واقف صاحب کے بعض ترجموں میں آخری مصرعے تک آتے آتے بات ہلکی پڑ جاتی ہے۔
رباعی چوں کہ ایک انتہائی مشکل فن ہے، اور اس کی فنی نزاکتوں اور باریکیوں پر ہر کوئی قادر نہیں ہو سکتا، اس لیے اب ہم خیام کے ایک ایسے مترجم کی کاوشوں کا جائزہ لیتے ہیں جو خودبھی رباعی کے مستند استاد تھے۔ میرا اشارہ ہے خانوادۂ غالب سے تعلق رکھنے والے شاعر صبا اکبر آبادی کی جانب۔
خیام کی ایک بہت خوب صورت رباعی ہے:
این یک د و سہ روز نوبتِ عمر گذشت
چون آب بجوے بار و چون باد ہ بدشت
ہرگز غمِ دو روز مرا یاد نگشت

روزی کہ نیامدہست و روزی کہ گذشت
دیکھیے کہ صبا نے اسے کیسے اردو میں منتقل کیا ہے:
ہے مدتِ عمر بس دو روزہ گویا
ندی کا سا پانی ہے کہ صحرا کی ہوا
دو دن کا کبھی غم نہیں ہوتا ہے مجھے
اک دن جو نہیں آیاہے، اک دن جو گیا
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صبا نے بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے لیکن یہ رباعی خیام کی اعلیٰ ترین رباعیوں میں شمار کی جاتی ہے اور اس میں جو زبردست نغمگی ہے، اس کا جواب صبا کے پاس نہیں ہے۔ صبا کا ایک اور ترجمہ دیکھیے:
وہ جام جو تازہ جوانی دے دے
اس جام کو بھر کے یارِ جانی دے دے
لا جلد کہ ہے شعبدہ دنیا ساری
ہو جائے گی ختم یہ کہانی، دے دے
یہ ترجمہ نسبتاً بہتر ہے لیکن اس میں بھی وہ بے ساختگی نہیں جو فارسی رباعی سے چھلک رہی ہے۔
شاعری کا ترجمہ کرنا پلِ صراط پر چلنے سے کم نہیں۔ اس راہ پر چلتے چلتے بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نثر کے برعکس شاعری میں زبان صرف خیالات کی ترسیل کے آلے کا کام نہیں کرتی بل کہ زبان بہ ذاتِ خود شاعری کا حصہ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ترجمے میں صرف مطلب ہی منتقل ہو سکتا ہے۔ چناں چہ داغستان کے ملک الشعرا رسول حمزہ توف کا قول مشہور ہے کہ شاعری کا ترجمہ قالین کا الٹا رخ ہوتا ہے، جب کہ امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ نے کہا تھا کہ ترجمے میں جو چیز پیچھے رہ جاتی وہ شاعری ہوتی ہے۔
تاہم اردو مترجمین کو ایک سہولت یہ حاصل ہے کہ وہ اپنے تراجم میں فارسی کی لفظیات کو کسی حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس کے باوجود ان میں سے کئی کی کوششیں کچھ زیادہ سودمند ثابت نہیں ہو سکیں۔ میں ذیل میں ایسی ہی چند کاوشوں کو خیام کی ایک ہی رباعی کے مختلف اردو تراجم کی مدد سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے خیام کی رباعی دیکھیے:
خورشید کمندِ صبح بر بام افگند
کیخسروئے روز بادہ در جام افگند
می خور کہ ندائے عشق ہنگام سحر
آوازۂ اشربوا در ایام افگند

فٹزجیرلڈ کے ترجمے کی پہلی رباعی بھی یہی ہے:
Awake! for the morning in the bowl of night
Has flung the stone that puts the stars to flight
And lo! the Hunter of the East has caught
The Sultan's Turret in a noose of light
یہ ترجمہ اصل سے بہت زیادہ مطابقت نہیں رکھتا، اور ویسے بھی فٹز جیرلڈ نے خود کہا تھا کہ اس کے تراجمtranslationنہیں ہے بل کہ transmogrification ہیں۔ تاہم فٹز جیرالڈ کا یہ کارنامہ قابلِ صد تحسین ہے کہ اس نے خیام کی قرونِ وسطیٰ کی ایرانی فضا کو بڑی عمدگی سے انگریزی میں منتقل کیا ہے، اور اس کے تراجم میں بھرپور تخلیقی شان نظر آتی ہے۔
۱۹۲۳ ء میں حضرت ملک الکلام سید محمد لائق حسین قوی امروہی نے خیام کی رباعیات کا ترجمہ ’تاج الکلام‘ کے نام سے کیا۔ اس کتاب میں مذکورہ رباعی کا یہ ترجمہ درج ہے:
خورشید نے کمند سی پھینکی ہے سوئے بام
فرماں روائے روز نے مے سے بھرا ہے جام
مے پی کہ اٹھنے والوں نے ہنگامِ صبح کے
بھیدوں کو تیرے کھول دیا سب پہ لا کلام
یہاں موصوف نے قرآنی لفظ ’اِشربو‘کا مطلب سمجھنے میں غلطی کی ہے چناں چہ رباعی کا مطلب خبط ہو گیا ہے۔ اب دیکھیے محشر نقوی کو کہ انھوں نے براہِ راست انگریزی سے ترجمہ کیا ہے:
اٹھ جاگ کہ خورشیدِ خاور، وہ چرخِ بریں کا شہ پارا
تاریکیِ شب کی چادر کو اک آن میں کر پارا پارا
ہر برگ و شجر، ہر بام و در کو نور کا پہنا کر زیور
مشرق کی مہم کو سر کر کے اجرامِ فلک کو دے مارا
اس ترجمے میں لفظوں کی بھرمار ہے، جب کہ عمدہ شاعری میں کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ بات کہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو کہ خیام کی رباعی میں ۲۴، فٹزجیرلڈ کے ترجمے میں ۳۶جب کہ محشر کے ترجمے میں ۴۸الفاظ ہیں۔
ایم ڈی تاثیر اردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں۔ ان کے نامۂ اعمال میں چند پردہ نشینوں کے ناموں کے علاوہ عمر خیام کی کچھ رباعیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔
اٹھ جاگ کہ شب کے ساغر میں سورج نے وہ پتھر مارا ہے
جو مے تھی وہ سب بہ نکلی ہے، جو جام تھا پارا پارا ہے
مشرق کا شکاری اٹھا ہے، کرنوں کی کمندیں پھینکی ہیں
ایک پیچ میں قصرِ اسکندر،اک پیچ میں قصرِ دارا ہے
آپ نے دیکھا کہ اگرچہ یہ ترجمہ رواں دواں اور چست ہے، تاہم اسے خیام کاترجمہ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ تاثیر صاحب نے اسے فٹزجیرلڈ کے انگریزی ترجمے سے اخذ کیا ہے۔
تاثیر نے خیام کی تمام رباعیوں کا ترجمہ تو نہیں کیا لیکن یہ کام ضرور کیا کہ اردو کے رندِ خراباتی شاعر عبدالحمید عدم کو رباعیاتِ خیام کے تراجم کی طرف مائل کیا۔ عدم کی کاوش ۹۶۰اء میں منظرِ عام پر آئی، جس میں انھوں نے یہ اختراع کی کہ اکثر رباعیوں کا ترجمہ رباعی کی شکل میں نہیں بل کہ قطعے کی شکل میں کیا، جس میں تین کی بہ جائے دو قوافی برتے گئے ہیں۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خیام کے اکثر مترجموں کے لیے فارسی رباعی کے تین قوافی کونبھانابڑا بھاری پتھر ثابت ہوا ہے،جس کی وجہ بسا اوقات سے رباعی رباعی نہیں بل کہ قافیہ پیمائی نظر آنے لگتی ہے ۔ لیکن عدم نے قطعے کی ہیت استعمال کر کے اور دو قافیے برت کر روانی اور بندش کی چستی کی خوبیاں حاصل کرلی ہیں:
جاگ ساقی کہ حجلۂ شب میں
ایسا کنکر سحر نے مارا ہے
جامِ درویش کی بساط ہی کیا
جامِ سلطاں بھی پارا پارا ہے
اب واقف مرادآبادی کو دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اسی رباعی کو کیسے اردو میں منتقل کیا ہے:
اب صبح ہوئی، دیر نہ کر، جاگ شِتاب
ہنگامِ صبوحی ہے یہی محوِ خواب
یوں وقت نہ کھو، جلدی سے اٹھ کر پی مے
خورشید نے خود جام میں ڈھالی ہے شراب
اس میں کوئی شک نہیں کہ واقف صاحب کا ترجمہ نک سک سے درست اور خوب رواں دواں ہے۔ اب ذرا صبا اکبرآبادی کے ترجمے پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
خورشید نے پھینکی ہے کمندِ سحری
خسرو نے اڑائی دن میں شیشے کی پری
مے پی کہ سحر خیز پرندوں کی صدا
اسرار کی کرتی ہے ترے پردہ دری
اردو نظم کے عظیم شاعر میرا جی نے جہاں دنیا بھر کے شعرا کے اردو میں ترجمے کیے، وہیں انھوں نے ’خیمے کے آس پاس‘ کے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ بھی کیا۔ جیسے کہ نام سے ظاہر ہے، یہ ترجمہ اصل کی ڈھیلی ڈھالی پیروی ہے۔ تاہم میرا جی کا کمال یہ ہے کہ اکثر مقامات پر وہ خیام کو ہندوستانی لبادہ پہنانے میں کام یاب رہتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو انگریزی میں فٹزجیرلڈ نے سرانجام دیا تھا:
جاگو، سورج نے تاروں کے جھرمٹ کو دور بھگایا ہے
اور رات کے کھیت نے رجنی کا آکاش سے نام مٹایا ہے
جاگو اب جاگو، دھرتی پر اس آن سے سورج آیا ہے
راجا کے محل کے کنگورے پر اجول کا تیر چلایا ہے
مجید امجد نے غالباً خیام اور میرا جی دونوں سے فائدہ اٹھا کر بہت عمدہ شعر نکالا ہے:
کس کی کھوج میں گم صم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی
اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا
میرا جی نے رباعی کی ہیئت کے بھاری پتھر کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔چوں کہ وہ گیت کے شاعر تھے، اس لیے انھوں نے خیام کے ترجمے کے لیے گیت کی لمبی اور مترنم بحر کا انتخاب کیا۔ میں نے ہندوستانی چولا پہنانے کی بات کی تھی، اس کی ایک اور مثال دیکھیے:
اس بستی میں یا اس بستی، ہر بستی کی ریت یہی
باری باری گرتے پتے اور ڈالی مرجھاتی ہے
پیالی میں میٹھی کڑوی اور مہنگی سستی کی ریت یہی
بوند بوند میں جیون مدھرا، پل پل میں رستی جاتی ہے
ہندوستانیت کی بات آئی ہے تو قارئین کی دل چسپی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہندی کے مشہور شاعر اور امیتابھ بچن کے والد ہری ونش رائے بچن نے بھی ’خیام کی مدھو شالا‘ کے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا تھا۔ تقابل کی غرض سے ان کا ’خورشید کمندِ صبح‘ والی رباعی کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے:
اوشا نے پھینکا روی پاشانڑ
نشا بھاجن میں، جلدی جاگ
پریئے، دیکھو پا یہ سنکیت
گئے کیسے تارک دل بھاگ
اور دیکھو ،اوہیری نے پورب کے لال
پھنسا لی سلطانی مینار
بچھرا کیسا کرنوں کا جال
جیسا کہ اس مثال سے بھی ظاہر ہے،’خیام کی مدھوشالا‘میں بچن کو کوئی خاص کام یابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم اس کے بعد بھی بچن خیام کے جادو سے باہر نہیں نکل سکے اور انھوں نے ایک اور شعری مجموعہ ’مدھوشالا‘کے نام سے لکھا، جو ان کی مشہور ترین کتاب ہے، جس میں جگہ جگہ خیام کا رنگ صاف چھلکتا نظرآتاہے:
لالایت ادھاروں سے جس نے ہائے نہیں چومی ہالا
ہرش وِکانپت کر سے جس نے، ہا، نہیں چھوا مدھو کا پیالا
ہاتھ پکڑ لجّت ساقی کا پاس نہیں جس نے کھینچا
وِیئرتھ سکھا ڈالی جیون کی اس نے مدھو مے مدھو شالا
براہِ راست ترجمہ نہ سہی، لیکن بچن یہاں خیام کی اس مشہور رباعی سے متاثر ہوئے ہیں:
آمد سحرے ندا از مے خانۂ ما
کائے رندِ خراباتی و دیوانۂ ما
برخیز کہ پر کنیم پیمانہ زمے
زاں پیش کہ پر کنند پیمانۂ ما
آغا شاعر قزلباش نے ۱۹۳۲ ء میں ’خم کدہ خیام‘ کے عنوان سے خیام کی ۲۰۰رباعیوں کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ مندرجہ بالا رباعی کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
آئی یہ صدا صبح کو مے خانے سے
اے رندِ شراب خوار، دیوانے سے
اٹھ جلد بھریں شراب سے ساغر ہم
کم بخت چھلک نہ جائے پیمانے سے
ملک الکلام کا پہلے ذکر آ چکا ہے، انھوں نے اسی رباعی کا یوں ترجمہ کیا ہے:
اک صبح ندا آئی یہ مے خانے سے
اے رندِ خرابات، مرے دیوانے
قبل اس کے مےِ ناب سے بھر لے ساغر
پیمانہ تن سے بادۂ جاں چھلکے
ایک نسبتاً جدید ترجمہ دیکھیے جو جناب عزیز احمد جلیلی نے کیا ہے۔ کتاب کے دیباچے کے مطابق جلیلی خانوادۂجلیل مانک پوری سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ترجمہ جنوری ۱۹۸۷ء میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوا۔ اس میں مترجم نے یہ جدت روا رکھی ہے کہ پہلے فارسی رباعیات کا ترجمہ کیا گیا ہے جب کہ دوسرے حصے میں فٹزجیرلڈ کی انگریزی کو اردو میں ڈھالا گیا ہے۔
اک صبح ندا آئی یہ مے خانے سے
اے رندِ قدح نوش، مرے دیوانے
آخوب مےِ ناب کے ساغر چھلکائیں
بھر جائے قدح زیست کا اس سے پہلے
رباعی کے آخری مصرعے میں ترتیبِ الفاظ کا مسئلہ درپیش ہو گیا ہے،جس سے مطلب کچھ گڈ مڈ سا ہو کر رہ گیاہے۔
واقف مراد آبادی:
ہوئی سحر تو پکارا یہ پیرِ مے خانہ
ارے او مست، کہاں ہے سدا کا دیوانہ
بلانا اس کو کہ جلدی سے اس کا جام بھریں
مبادا موت نہ بھر ڈالے اس کا پیمانہ
ایک بار پھر واقف کا ترجمہ بہت عمدہ اور کام یاب ہے۔

میرا جی
آئی ندا یہ صبح سویرے کانوں میں مے خانے سے
کوئی یہ کَہ دے جاکے ذرا یہ بات ترے دیوانے سے
اٹھ جاگ، بس آنکھوں کھول، چل آجا، بھر لیں ہم پیمانے کو
کوئی دم میں چھلک اٹھے گی مدھرا جیون کے پیمانے سے
عدم
کل صبح خرابات سے آئی یہ ندا
اٹھ جاگ، صراحی مےِ خنداں کی اٹھا
کب ٹوٹ کے ہو جاتا ہے ریزہ ریزہ
پیمانہ ہستی کا نہیں کوئی پتا
اسی رباعی کا فٹزجیرلڈ نے ایسا ترجمہ کیا ہے جس کے سامنے درج بالا تمام اردو تراجم کملا جاتے ہیں:
Dreaming when Dawn's Left Hand was in the Sky
I heard a Voice within the Tavern cry,
"Awake, my Little ones, and fill the Cup
Before Life's Liquor in it's Cup be dry."
خیام کی رباعیوں کا ترجمہ اس لیے بھی مشکل ثابت ہوتا ہے کہ ان کی ایک خصوصیت وہ ہے جسے کلاسیکی اردو شعریات کی اصطلاح میں ’کیفیت‘کہا جاتا ہے۔ کیفیت والا شعر سن کر اس کے الفاظ اور معنی کی طرف ذہن نہیں جاتا بل کہ یہ دل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ معنی آفرینی والے شعر کو سن کر زبان سے واہ نکلتی ہے، جب کہ کیفیت والا شعرسننے کے بعد دل سے آہ نکلتی ہے۔ ظاہر ہے کہ معنی کا ترجمہ آسان ہے، کیفیت کا بہت مشکل۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عدم کے بعض کام یاب ترجموں میں خیام کی کیفیت کسی حد تک عود کر آئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عدم خود بھی بنیادی طور پر کیفیت کے شاعر تھے:
سلسلہ تیری میری باتوں کا
پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے
پردہ اٹھا تو آگہی ہو گی
پردہ داری ہی پردہ داری ہے
ہم نے دیکھا کہ خیام کی رباعیات کے تراجم کے سلسلے میں اردو شعرا نے خاصی محنت کی ہے، لیکن ابھی تک کوئی ایسا مترجم سامنے نہیں آیا جسے ہم اردو کا فٹزجیرلڈ کہہ سکیں۔ راقم کی رائے میں اب تک کیے گئے ترجموں میں عدم کو زیادہ کام یابی ملی ہے۔ چناں چہ اس مضمون کا اختتام عدم ہی کی ایک رباعی پر کیا جاتا ہے:
نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مےِ ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا

بشکریہ: سمبل، مدیر علی محمد فرشی، جولائی تا دسمبر 2007

تبصرے

شاندار، بہت اہم مضمون ہے
شاندار، بہت اہم مضمون ہے
Nadeem Zaheer Khan نے کہا…
شاندار، زبردست

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین