اتوار، 25 اکتوبر، 2015

تصنیف حیدر کی نظمیں

کچھ روز سے تیز بخار ہے، یہ گرمئی حالات کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔کچھ حالات ملک کے بگڑے ہوئے ہیں، کچھ میرے۔بہرحال حالت تو جلد یا بدیر ٹھیک ہوجائے گی، مگر حالات کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔لوگ یا تو بہت معصوم ہیں یا تو بہت چالاک، جو نفرت کے نام پر جتنی جلدی جمع ہوجاتے ہیں، محبت کی چیخوں پر بھی جمع نہیں ہوتے، چاہے اس کا گلا ہی کیوں نہ چھل جائے۔انہی خیالات نے کئی دنوں سے پریشان بھی کررکھا ہے، مجھے بھی اور میرے جیسے دوسرے نوجوان دوستوں کو بھی۔خیالات کی ایسی ہی بھیڑ بھاڑ کے نتیجے میں یہ چند نظمیں لکھی گئی ہیں۔آپ لوگوں کو پڑھوانے کے لیے بلاگ پر لگادی ہیں۔آپ کا رد عمل جو بھی ہوگا، مجھے قبول ہوگا۔بے حد شکریہ!

ہم اقلیت ہیں

ہم اقلیت ہیں
شہروں میں بھٹکتے ہوئے آوارہ کتوں کی مانند
راستوں پر بنے کچے گھڑوں کا پانی پینے والے
قصاب کی دوکانوں پر مظلوم آنکھوں
لٹکی ہوئی زبانوں کے ساتھ
ہانپتے ہوئے زندہ

ہم اقلیت ہیں
جن کو مارا جاسکتا ہے کبھی بھی
بازاروں میں گھسیٹ کر
پرنالوں پر ڈبو کر
مٹھیوں میں کس کر

ہم اقلیت ہیں
جن کا کوئی علاقہ نہیں
جن پر بھونکتے ہوئے تنو مند کتے
انہیں یہ احساس دلاتے رہتے ہیں
کہ تم اپنی گردنیں اونچی کرکے
دم لہراتے ہوئے
بغیر ڈرے
ان دھول بھری گلیوں سے نہیں نکل سکتے
تمہیں ٹرک کے ٹائروں کی چھائوں نصیب نہیں ہوگی
اور نہ ہوگی رال ٹپکانے کی اجازت
بس گزرتے جائو یا گزر جائو
---

علاج

ایک عورت علاج ہے
اس تھکی ہوئی زبان کا
جو دن بھر فلسفوں کے کھیت میں بیل کی طرح جتی رہی
جسے نفرت کی ہری لہلہاتی ہوئی فصلوں کو کاٹتے رین بیت گئی
تین سفید لکیروں میں سے اٹھتی ہوئی کالک
یا ہرے رنگ کے پھریروں پر لکھے ہوئے مقدس لفظ
سب سمٹ آتے ہیں بس ایک چھون میں
موٹے موٹے لال ہونٹوں پر اگے ہوئے کانٹے ہوں
یا پتلی بھنوئوں کے درمیان ابھر آنے والی فکر کی شکن
زندگی میں آنے والی آخری ہچکی سے پہلے
سارے امراض کا صرف
ایک عورت علاج ہے
---

الیاس ملک کے لیے ایک نظم

میں جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں
وہ تمہاری طرح نہیں سوچتے
انہوں نے لوگوں کو آوازوں میں تقسیم کردیا ہے
شہرتوں میں بانٹ دیا ہے
وہ شناختوں کا کھیل کھیلنا جانتے ہیں
عمارتوں کی تقدیس میں الجھے ہیں
جماعتوں کی حمایت میں مرمٹنے کو تیار ہیں
وہ اکیلے ہیں، مگر انہوں نے خود کو گھول لیا ہے
ایک کڑوی کسیلی تعصب آمیز چائے میں

میں جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں
وہ تمہاری طرح
انسان کو تہذیب اور نسل سے ہٹ کر نہیں دیکھتے
ان کے ہاتھوں کی انگوٹھیاں مٹھیوں کی مضبوطی بڑھانے کے لیے ہیں
ان کے افکار کے گالوں پر جھریاں ہیں
ماتھوں پر نفرت کےرینگتے ہوئے کیڑے
اس لیے دور تک پھیلے ہوئے اس بدصورت منظر نامے میں
تم جیسے خوش فکر لوگ بہت کم دکھائی دیتے ہیں
---

ایک جیسے لوگ

پولی گراف چیئر پر بیٹھا ہواکوئی ہوسٹ ہو
یاخود اینکر
مال وصولتا ہوا کوئی بنیا ہو
یا ادھار لیتی عورت
پان کھاتا ہوا کوئی کرمچاری ہو
یا صفائی ابھیان پر زور دیتا ہوا کوئی نیتا
سب
ایک جیسے لوگ ہیں
۔۔۔

حساب کتاب

ایک ہزار ایک راتوں تک
میں نے تمہیں سونے نہیں دیا تھا
اب تمہاری باری ہے
---

ملتاجلتا خدا

شہرام سرمدی کی کوئی نظم پڑھتے ہوئے
میں سوچ رہا ہوں
کہ خدا اس قدر محتاط کیوں ہے
کیوں وہ سرکاروں کی طرح
دو سبھائوں سے ایک نیا قانون پاس کرانے کی اجازت ملنے کے انتظار میں ہے
کیوں وہ چپ ہے
کیوں اس کا رویہ
اس ملک کے وزیر اعظم کی طرح ہے
---

2 تبصرے:

Anwer Hashmi کہا...

سیّد انور جاوید ہاشمی

ا نتہا ئی د ر جے کے بُخا ر کے با و جو د تصنیف حید ر نے کہیں بھی نظمیہ کا تاثر
بگڑ نے نہیں د یا۔ فورمز پر اور کہیں کہیں دبے لفظوں میں ہمار سینیر شا کی نظر آتے
ہیں کہ ۔۔۔۔۔یہ اور ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ان کی اور اُس کی غزل، نظم، کہانی پر سے نام ہٹا دیں اور
پھر سننے والے پڑھنے والے سے پوچھیں کہ یہ کن کن کی تحریر،تخلیق ہے تو سب
بہ یک زبان کہیں ایک ہی کی ہے۔۔۔یہا ں پر نہ ا یکتا ئی ہے نہ د و غلا پن سیدھے سبھائو
ا پنے معاشرتی، قومی،ملکی مسائل کا ا د ر ا ک اور شعور و احساس کی بے داری کا
عملی ا ظہار نظر آتا ہے۔۔۔۔۔۔ا للہ کرے ز و ر ِ بیا ں اور حسین تر........Sanwerjhashmi 29-10-2015 Karachi

Unknown کہا...

عمدہ نظمیں ہیں۔ تصنع سے پاک اور بے باک

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *