ایک مضحکہ خیز آدمی کا خواب/فیودردوستوئیفسکی

یوں تو دوستووسکی کے تمام ادبی کام میں فلسفۂ وجودیت کے تحت انسانی نفسیات کا مطالعہ ایک مستقل موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے پھر بھی نقادوں کے نزدیک اس کے مختصر ناول ’زیرِ زمین رسائل‘ (Notes from Underground) کو فرانسیسی مصنف دیدرو کے ناول ’رامیو کا بھتیجا‘، ترگنیف کے ’نئی پود‘ اور فلابرٹ کے ’مادام بوواری ‘ وغیرہ کے ساتھ بین الاقوامی ادب کے چند ایسے فن پاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہیں یورپ کی تنویری تحریک اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کے بعد ادب میں جدیدیت کی تحریک کا نقطۂ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ ۱۸۶۴ میں چھپنے والے اس ناول کا مرکزی کردار ادھیڑ عمر کا ایک سرکاری افسر ہے جو استعارتاً ایک زیر زمین تہہ خانے سے اپنے مغربیت زدہ تعلیم یافتہ روسی سامعین سے مخاطب ہے۔ شدید تنہائی کا شکار، شک میں گرفتار یہ زیرزمین آدمی لامعنویت کے کرب میں نہ صرف اپنی تحقیر پر مائل ہے بلکہ ان سامعین کی ہتک سے بھی گریز نہیں کرتا۔ زیر زمین آدمی کی کہانی نہایت دلچسپ اور ہمہ جہت ہے لیکن فی الوقت ہمارے موضوع کے لئے زیر زمین آدمی کا تذکرہ صرف یہ واضح کرنے لے لئے اہم ہے کہ قاری کے سامنے پورا بیانیہ ایک کشمکش کی نشاندہی تو کرتا ہے لیکن اس کو سلجھانے کی رتی برابر کوشش بھی نہیں کرتا۔ شاید یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ دوستووسکی اس سوال کا حتمی جواب کسی لاوجودیتی یا انکارِ کل پر مائل فلسفے کی مدد سے بھی فراہم نہیں کرتا۔ پورا قصہ اس جملے پر ختم ہوتا ہے:

’اس تناقضات کے مظہر انسان کی باتیں یہاں ختم نہیں ہوتیں۔ وہ رک نہیں سکا اور بولتا رہا۔ لیکن ہمیں یہ معقول معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بات ختم کر دی جائے۔‘

اس سے صاف ظاہر ہے کہ زیرزمین آدمی کے ذریعے دوستووسکی کا مقصد ایک کشمکش پیدا کر کے مسئلے کو حتی الوسع الجھانا ہے تاکہ قاری کے سامنے یہ پیچیدہ ترین منظر کشی کی جا سکے۔ اس کے ٹھیک تیرہ سال بعد دوستووسکی نے’ایک مضحکہ خیز آدمی کا خواب‘ (The Dream of a Ridiculous Man) کے عنوان سےایک اور کہانی لکھی جس کا مرکزی کردار بھی زیرِ زمین آدمی کی طرح شدید لامعنویت کا شکار ہے۔ لیکن یہاں وہ اپنی روحانی بے قراری کا تذکرہ کچھ عرصے بعد ایک یاداشت کے طور پر کر رہا ہے۔ ہم نے اس کہانی کو ترجمے کے لئے اس لئے منتخب کیا کیوں کہ ایک تو یہ نسبتاً کم مشہور ہے اور دوسری طرف ہماری نظر سے دوستووسکی کی اس کہانی کا اردو ترجمہ آج تک نہیں گزرا۔ کہانی کا مرکزی کردار چونکہ ایک خاص کیفیت میں اپنی سرگزشت سنا رہا ہے لہٰذا ہم نے دوستووسکی کے انگریزی مترجمین کی تقلید کرتے ہوئے یہی کوشش کی ہے کہ جملوں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالتے ہوئے ان کی ساخت بہت زیادہ تبدیل کرنے کی بجائے وقف کے استعمال سے بیانیے میں موجود تکرار، اضطراب اور ایک اصلی نیم رسمی سی کیفیت کو محفوظ کیا جائے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ مکمل لطف لینے کے لئے کہانی کو سکون سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔
اس موقع پر اگر ہم متحرک تصویری فلموں کے روسی ہدائیتکار الیگزینڈر پیٹروو کے ہاتھوں اس کہانی کی منفرد تصویر کشی کی جانب اشارہ نہ کریں تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ ۱۹۹۲ میں بننے والی اس مختصر دورانئیے کی فلم میں ناقابلِ یقین محنت سے دستی رنگوں پر مشتمل تکنیک کے استعمال سے مضحکہ خیز آدمی کے خواب کی متبادل دنیا تخلیق کی گئی ہے۔ کہانی سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس خواب کو سکرین پر دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ یہ فلم آپ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مضحکہ خیز آدمی پر کیا گزری۔
***

(۱)
میں ایک مضحکہ خیز انسان ہوں۔ لوگ اب مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایک درجہ ترقی ہے اگر میں ان کے لئے پہلے ہی جتنا مضحکہ خیز نہ رہوں۔ لیکن اب مجھے مزید کوئی ناراضگی نہیں، اب یہ سب لوگ مجھے محبوب ہیں، اور اس وقت بھی جب یہ مجھ پر ہنستے ہیں، یعنی اس وقت تو خاص طور پر یہ مجھے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہنسنے لگتا ہوں، اپنے اوپر نہیں بلکہ ان کی محبت میں کیوں کہ ان کی جانب دیکھنا میرے لئے شدید رنج کا باعث ہوتا ہے۔ رنج اس لئے کیوں کہ یہ سچائی سے ناآشنا ہیں اور میں جانتا ہوں کہ سچ کیا ہے۔ ہائے، حق شناسی کا تنہا دعویدار ہونا بھی کتنا کٹھن ہے! لیکن وہ یہ سب نہیں سمجھیں گے۔ نہیں، یہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔
پہلے پہل یہ میرے لئے شدید اذیت کا باعث تھا کہ میں مضحکہ خیز لگتا ہوں۔ لگتا کیا، بلکہ میں تھا ہی ایسا۔ میں ہمیشہ ہی سے مضحکہ خیز تھا اور میں شاید اپنی پیدائش کے دن سے ہی یہ جانتا ہوں۔ شاید مجھے سات سال کی عمر میں پتا چلا کہ میں مضحکہ خیز ہوں۔ پھر میں اسکول گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی اور پھر یوں ہوا کہ میں جتنا زیادہ پڑھتا گیا مجھے اتنا ہی زیادہ معلوم ہوتا گیا کہ میں مضحکہ خیز ہوں۔ ایسے لگتا تھا جیسے میرے لئے یونیورسٹی کی تمام تعلیم حتمی طور پر اسی حقیقت کے ثبوت اور بیان کے لئے ہو کہ میں جتنا اس کی گہرائی میں اترتا جاؤں اتنا ہی یہ منکشف ہوتا جائے کہ میں مضحکہ خیز ہوں۔ اور جو معاملہ تعلیم کے ساتھ تھا وہی زندگی کے ساتھ۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ مجھ میں یہی شعور بڑھتا اور تقویت پکڑتا گیا کہ میری حالت ہر لحاظ سے مضحکہ خیز ہے۔ ہر کوئی ہمیشہ میرا مذاق اڑاتا۔ لیکن ان میں سے نہ تو کوئی جانتا تھا اور نہ ہی کسی کو شک گزرا کہ اگر روئے زمین پر کوئی ایک بھی شخص میری مضحکہ خیزی کے بارے میں کسی سے بھی زیادہ واقف ہے تو وہ میں خود ہوں، اور ان کی یہ لاعلمی میرے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی لیکن اس کا ذمہ دار تو میں خود تھا: میں اتنا مغرور تھا کہ کسی کے سامنے بھی اقرار نہ کرتا۔ یہ گھمنڈ دن بدن بڑھتا گیا اور حالت یہ ہو گئی کہ اگر میں کسی دن کسی کے سامنے اپنے مضحکہ خیز ہونے کا اقرار کر لیتا تو گمان ہے کہ اسی شام ریوالور سے اپنا سر اڑا دیتا۔ ہائے، میں نے اپنی نوعمری میں ہمت نہ کر سکنے اور اچانک دوستوں کے سامنے یہ اقرار نہ کر سکنے کے باعث کتنی تکلیف اٹھائی۔ لیکن بلوغت میں قدم رکھتے ہی میں کسی وجہ سے کچھ پرسکون ہو گیا حالانکہ ہر گزرتے سال کی ساتھ مجھے اپنی اس ہولناک خصوصیت کے بارے زیادہ سے زیادہ معلوم ہو رہا تھا۔ کسی وجہ سے میں آج تک نہیں جان سکا کہ ایسا کیوں تھا۔ شاید اس دہشت ناک کرب کی وجہ سے جومیری روح میں ایک ایسے سبب کے باعث پرورش پا رہا تھا جو میری کُل ذات سے حد درجے بڑا تھا: یعنی یہ یقین مجھے پر حاوی ہو رہا تھا کہ آخر کائنات سے کیا فرق پڑتا ہے۔ عرصۂ دراز سے مجھے یہ اندیشہ تو تھا لیکن کسی وجہ سے اچانک پچھلے سال مکمل یقین ہو گیا۔ مجھے اچانک یہ محسوس ہونے لگا کہ کائنات کے ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کیا فرق پڑتا ہے یا یوں کہیے کہ کہیں کچھ موجود نہیں۔ میں یہ محسوس کرنے لگا اور اپنے پورے وجود سے جاننے لگا کہ میرے سمیت کچھ بھی موجود نہیں۔ پہلے پہل میں سوچتا رہا کہ اب سے پہلے تو کافی کچھ موجود تھا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ پہلے بھی کچھ موجود نہ تھا اور کسی وجہ سے یہ میرا گمان تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے یقین ہو گیا کہ کبھی بھی کچھ موجود نہیں ہو گا۔ پھر میں نے اچانک لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دیا اور تقریباً ایسا محسوس کرنے لگا جیسے وہ موجود ہی نہ ہوں۔ معمولی واقعات سے بھی یہ صاف ظاہر تھا: مثلاً ایسا ہوتا کہ میں گلی میں چلتے چلتے لوگوں سے ٹکرا جاتا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ میں سوچ میں ڈوبا ہوتا تھا: میں آخر سوچ بھی کیا سکتا تھا کیوں کہ اب تک تو میں سوچنا بالکل ہی ترک کر چکا تھا، بلکہ اس سے مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔ اور بہتر ہوتا اگر میں سوالوں کے جواب تلاش کرتا، ہائے میں نے تو ایک بھی سوال حل نہیں کیا اور وہ کتنے ہی سارے تھے! لیکن اب مجھے اس سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا اور تمام سوالات غائب ہو گئے۔
پھر آخر کار مجھے سچائی معلوم ہو گئی۔ مجھے سچائی پچھلے نومبر معلوم ہوئی، ٹھیک تین نومبر کو اور اس وقت سے ہر ساعت میرے ذہن پر نقش ہے۔ وہ ایک اداس شام تھی، اتنی اداس جس سے زیادہ اداسی ممکن نہ ہو۔ میں اس وقت گھر واپس آ رہا تھا، کوئی دس سے گیارہ بجے کے درمیان کی بات ہے، اور مجھے بالکل ٹھیک ٹھیک یاد ہے کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سے زیادہ اداسی ممکن نہیں۔ یہاں تک کہ طبعی طور پر بھی۔ سارا دن بارش برستی رہی تھی اور وہ سرد ترین اور اداس ترین بارش تھی، بلکہ ایک قسم کی دہشت ناک بارش، مجھے وہ سب یاد ہے کہ کیسے اس میں لوگوں کے خلاف بغض ظاہر تھا، اور پھر دس اور گیارہ بجے کے درمیان مینہ اچانک تھم گیا اور اس کی جگہ ایک کرب ناک نمی نے لے لی اور یہ نمی اور سردی بارش کے وقت سے بھی زیادہ تھی، ہر شے میں سے ایک بھاپ سی نکل رہی تھی، دور تک جہاں نگاہ جاتی تھی گلی کوچوں کا ہر پتھر بھاپ اگل رہا تھا۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ اگر ہر جگہ گیس کے لیمپ بجھ جائیں تو شاید تاثر ذرا خوشگوار ہو جائے کیوں کہ سارے میں پڑنے والی روشنی دل کو مزید سوگوار کر رہی تھی۔ میں نے اس دن رات کا کھانا بالکل نہ کھایا تھا اور شام کے شروع سے ہی ایک دو دوستوں کے ساتھ ایک انجینئر دوست کے گھر بیٹھا تھا۔ میں خاموش رہا اور محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھ سے تنگ ہیں۔ وہ کسی اشتعال انگیز واقعے کا ذکر کر رہے تھے اور اچانک جوش میں آ گئے۔ لیکن میں دیکھ سکتا تھا کہ اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا، وہ بس ایسے ہی جوش میں آ گئے۔ میں نے اچانک انہیں مخاطب کیا:’’حضرات،‘‘ میں نے کہا، ’’اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ مشتعل نہیں ہوئے لیکن مجھ پر ہنسنے لگے۔ کیوں کہ میں نے یہ کسی ملامتی لہجے میں تو نہیں کہا تھا اور سادہ سی بات یہی تھی کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اور وہ دیکھ سکتے تھے کہ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ ان کے لئے باعث تفنن تھا۔
جب میں نے گلی میں گیس لیمپ کے متعلق سوچا تو اوپر آسمان پر نظر دوڑائی۔ آسمان شدید سیاہ تھا لیکن ٹوٹے پھوٹے بادل اور ان کے بیچ میں اتھاہ سیاہ دھبے باآسانی دکھائی دیتے تھے۔اچانک میری نظر ان میں سے ایک دھبے میں موجود ننھے سے ستارے پر پڑی اور میں اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ کیوں کہ اس ننھے سے ستارے کو دیکھ کر مجھے ایک خیال آیا: میں نے اس رات خود کشی کا ارادہ کر لیا ۔ میں نے دو ماہ پہلے بھی مصمم ارادہ کیا تھا اور میری بے چارگی دیکھئے کہ ایک بہترین ریوالور خرید کر لایا اور اسی دن اسے بھر کر رکھ لیا۔ لیکن اب دو ماہ گزر چکے تھے اور وہ اب تک دراز میں ہی پڑا تھا، لیکن اس سے مجھے اتنا کم فرق پڑتا تھا کہ میں آخرکار کسی بہتر لمحے کی تلاش میں تھا۔ کیوں؟ یہ میں نہیں جانتا۔ لہٰذا ان دو ماہ میں ہر رات گھر واپسی پر میں یہی سوچتا کہ آج خود کو گولی مار لوں گا۔ میں اس لمحے کا انتظار کرتا رہا۔ اور اب اس ننھے ستارے کو دیکھ کر مجھے پھر یہ خیال آیا اور میں نے ارادہ کیا آج کی رات میں کسی ناکامی کے بغیر یہ کر گزروں گا۔ ستارے کو دیکھ کر مجھے یہ کیوں سوجھا،میں نہیں جانتا۔
اس وقت جب میں آسمان پر ٹکٹکی باندھے تھا، اُس بچی نے اچانک مجھے کہنی سے پکڑ لیا۔ گلی سنسان تھی اور تقریباً کوئی بھی نہ تھا۔ دور ایک کوچوان اپنے تانگے میں پڑا سو رہا تھا۔ بچی تقریباً آٹھ سال کی تھی، ایک گلوبند اور مختصر سا لباس پہنے تھی جو مکمل گیلا تھا، لیکن میری نظر اس کے پھٹے پرانے گیلے جوتوں پر پڑی اور وہ مجھے اب بھی یاد آ رہے ہیں۔ میری نظر خاص طور پر ان جوتوں پر پڑی۔ بچی نے اچانک مجھے کہنی سے کھینچ کر بلانا شروع کر دیا۔ وہ رو نہیں رہی تھی لیکن اچانک کچھ لفظ بولتے ہوئے چلائی جو سردی اور کپکپاہٹ کے باعث اس کے منہ سے صحیح طور پر ادا نہیں ہو رہے تھے۔ وہ کسی چیز سے خوف زدہ تھی، پھر وہ بے اختیار چلائی: ’’ماں! ماں!‘‘ میں نے اپنا چہرہ اس کی جانب موڑا لیکن کچھ کہے بغیر چلتا رہا،لیکن وہ بھاگتے بھاگتے مجھے کھینچ رہی تھی اور ا س کے لہجے میں وہ آواز تھی جو خوف زدہ بچوں میں مایوسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ میں اس آواز سے واقف ہوں۔ گو اس نے سب کچھ نہ کہا لیکن میں سمجھ گیا کہ اس کی ماں کہیں مر رہی ہے یا کہیں اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا ہے اور وہ اپنی ماں کی مدد کے لئے کسی کو بلانے بھاگ آئی ہے۔ لیکن میں اس کے ساتھ نہ گیا بلکہ اس کے برعکس مجھے اس کو دور بھگانے کا خیال آیا۔ پہلے تو میں نے اس کو کہا کہ جائے اور کسی پولیس والے کو تلاش کرے۔ لیکن اس نے اچانک اپنے ہاتھ جوڑ لئے اور ہچکیاں لیتے، روتے چلاتے میرے ساتھ بھاگتی رہی۔ اس وقت میں نے اس کو اپنے پیروں سے دھمکایا اور زور سے ڈانٹا۔ وہ صرف اتنا ہی چیخی کہ ’’صاحب! صاحب!۔۔۔‘‘ لیکن پھر اچانک اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور سامنے گلی میں بھاگ گئی: کوئی دوسرا راہ گیر نظر آ گیا تھا اور لگتا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ کی اس سے مدد لینے بھاگی ہے۔
میں اوپر اپنی پانچویں منزل پر چلا گیا۔ میں ایک کرائے کے آرائشی کمرے میں رہتا ہوں۔ یہ ایک تنگ حال چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں نیم دائروی بالائی کھڑکی ہے۔ میرے پاس ایک موم جامی صوفہ، کتابوں کی ایک میز، دو کرسیاں اورایک آرام کرسی ہے جو ہے تو پرانی لیکن اس کی کمر اونچی اوربیٹھنے کی جگہ کشادہ ہے۔ میں بیٹھ گیا، موم بتی جلائی اور سوچنے لگا۔ ساتھ والے کمرے میں دیوار کے پیچھے سے شور شرابہ سنائی دے رہا تھا۔ پچھلے دو دن سے مسلسل یہ غل غپاڑہ تھا۔ وہاں ایک ریٹائرڈ کپتان رہتا تھا اور یہ اس کے مہمان تھے، کوئی چھ اوباش آدمی جو ہر وقت ووڈکا پیتے اور بوسیدہ تاش کے پتوں سے جوا کھیلنے میں مصروف رہتے۔ پچھلی رات ان کے درمیان لڑائی ہوئی اور مجھے معلوم ہے کہ ان میں سے دو دیر تک ایک دوسرے کے بال کھینچتے رہے۔ مالکہ مکان ان کے خلاف رپورٹ لکھوانا چاہتی تھی لیکن وہ کپتان سے سخت خوف زدہ ہے۔ ہماری عمارت کے دوسرے آرائشی کمروں کے باقی کرائے دار وں میں صرف ایک چھوٹی سی کمزور عورت اپنے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتی ہے جو پہلے ہی ان کمروں میں بیمار پڑ چکے ہیں اور اس کا شوہر فوجی نوکری کے باعث شہر سے باہر ہوتا ہے۔ وہ اور اس کے بچے بدحواسی کی حد تک کپتان سے خوف زدہ ہیں اور پوری رات کانپتے اور سینے پر صلیب کا نشان بناتے گزارتے ہیں، سب سے چھوٹے بچے کو تو ڈر کے مارے دورہ بھی پڑ جاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ کپتان کبھی کبھار نیوسکی شاہراہ پر راہگیروں کو روک کر ان سے بھیک بھی مانگتا ہے۔ پتا نہیں یہ سروس والے اس سے کوئی کام کیوں نہیں لیتے پھر بھی عجیب و غریب بات یہ ہے (اور میں اسی کی طرف آنا چاہ رہا تھا) کہ اس پورا ماہ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے مجھے اس کپتان سے کوئی الجھن محسوس نہیں ہوئی۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں نے شروع ہی سے اس سے کوئی سلام دعا نہیں رکھی اور وہ بھی پہلے ہی دن سے مجھ سے اکتایا ہوا ہے، پھر بھی دیوار کے پیچھے ان کے شور شرابے سے مجھے کبھی بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ میں پوری رات بیٹھا رہتا ہوں اور ان کی طرف کان ہی نہیں لگاتا، اس حد تک کہ ان کو بالکل فراموش ہی کر بیٹھتا ہوں۔ ایک سال سے میں صبح صادق تک نہیں سویا۔ ساری رات میز کے ساتھ آرام کرسی پر بے کاربیٹھا رہتا ہوں۔ کتابیں صرف صبح کے وقت پڑھتا ہوں۔ میں بیٹھا رہتا ہوں اور کچھ بھی نہیں سوچتا، کچھ خیال آوارہ گردی کرتے ہیں لیکن میں انہیں بھٹکنے دیتا ہوں۔ رات کے دوران ایک پوری موم بتی ختم ہو جاتی ہے۔ میں خاموشی سے میز پر بیٹھ جاتا ہوں اور ریوالور نکال کر اپنے سامنے رکھ لیتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اسے وہاں رکھتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں: ’’کیا ایسا ہی ہے؟‘‘ اور خود کو اثبات میں جواب دیتا ہوں :’’ایسا ہی ہے۔‘‘ یعنی میں اپنے آپ کو گولی مار لوں گا۔ میں جانتا تھا کہ میں اُس رات اپنے آپ کو یقیناً گولی مار لوں گا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ میں اس سے قبل کتنی دیر میز پر بیٹھا رہوں گا۔ اور یقیناً اگر وہ بچی نہ ملی ہوتی تو میں اپنے آپ کو گولی مار لیتا۔
(۲)
دیکھئے حالانکہ مجھے فرق تو نہیں پڑتا لیکن مثال کے طور پر میں اب بھی درد تو محسوس کر سکتا ہوں۔ اگر مجھے کوئی مارے تو مجھے درد محسوس ہو گا۔ یہی اخلاقی صورت حال بھی ہے: اگر کوئی قابلِ افسوس واقعہ پیش آئے تومجھے اسی طرح افسوس ہو گا جیسے اس وقت جب میری زندگی کو کوئی فرق پڑا کرتا تھا۔ لہٰذا مجھے اس رات افسوس ہوا: میں یقیناً کسی بچے کی مدد کر دیتا۔ پھر میں نے اس ننھی سی بچی کی مدد کیوں نہ کی؟ اس وقت مجھے یہ خیال آیا: جب وہ چلاتے ہوئے مجھے کھینچ رہی تھی تو ایک سوال اچانک میرے سامنے اٹھا جسے میں حل نہ کر سکا۔ سوال فضول سا تھا لیکن مجھے غصہ آ گیا۔ میرے غصے کی وجہ یہ نتیجہ تھا کہ اگر میں نے اس رات خود کشی کی ٹھان لی ہے تو پھر تو کائنات میں کسی چیز سے مجھے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ مجھے فرق پڑا اور بچی پر ترس آیا؟ مجھے یاد ہے کہ مجھے اس پر شدید ترس آیا یہاں تک کہ ایک عجیب و غریب درد سا اٹھا جو میری حالت میں ایک ناقابلِ یقین بات تھی۔ میں وہ عارضی سا احساس اس وقت کی طرح اب بھی بیان نہیں کر سکتا لیکن یہ احساس گھر پہنچنے پر بھی میرے ساتھ تھا، جب میں اپنی میز پر بیٹھا تو میں اتنا شدید پریشان تھا جتنا مدتوں سے نہیں ہوا۔ استدلال سے استدلال جنم لیتا رہا۔ مجھے صاف نظر آتا تھا کہ اگر میں اب تک ایک انسان ہوں اور صفر میں تبدیل نہیں ہوا تو جب تک میں صفر میں تبدیل نہیں ہوتا تو میں زندہ ہوں اور نتیجتاً پریشان ہوں گا، غصے میں آؤں گا اور اپنے اعمال پر شرمندگی محسوس کروں گا۔ بہتر۔ لیکن اگر مثال کے طور پر میں دو گھنٹے میں اپنے آپ کو گولی مارنے والا تھا تو مجھے بچی کی کیا پروا اور مجھے پشیمانی اور دنیا کی کسی بھی چیز سے کیا لینا؟ اور میں نے اس بدنصیب بچی کو بالکل اسی لئے پیروں سے دھمکایا اور وحشیانہ آواز میں چلایا کیوں کہ نہ صرف میں کوئی ترس کھا رہا تھا بلکہ اگر میں کوئی غیر انسانی سفلا پن بھی دکھاتا تو میں کر سکتا تھا کیوں دو گھنٹوں میں ہر شے بجھنے والی تھی۔ کیا تم مانو گے کہ میں اس لئے چلایا؟ مجھے اب اس کا تقریباً یقین ہے۔ لگتا تھا کہ جیسے زندگی اور کائنات مجھ پر منحصر ہے۔ کوئی یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ کائنات اس طرح تھی جیسے میرے لئے تخلیق کی گئی ہو: میں اپنے آپ کو گولی مار لوں گا اورکم از کم میرے لئے تو کائنات نہیں رہے گی۔ اس بات کا توذکر ہی چھوڑیں کہ شاید میرے بعد کسی کے لئے بھی کچھ نہ بچے اور جیسے ہی میری شعور کی بتی بجھے تو تمام کائنات کسی پیکرِ خیالی کی طرح ایک دم غائب ہو جائے جیسے وہ محض میرے شعور کا لازمہ ہو، اس کا اختتام ہو جائے کیوں کہ شاید یہ ساری دنیا، یہ سارے لوگ، صرف تنہا میں ہی ہوں۔ مجھے یاد ہے، وہ بیٹھے ہوئے استدلال کرنا، کس طرح میں نے ان یکے بعد دیگرے حملہ آور ہوتے سوالوں کا رخ کسی اور ہی طرف موڑ دیا اور ایک بالکل نئی چیز ایجاد کر ڈالی۔ مثلاً اس وقت اچانک مجھے ایک عجیب و غریب خیال آیا کہ اگر میں کبھی چاند یا مریخ کا باسی ہوتا اور وہاں میں نے کوئی زیادہ سے زیادہ شدید شرمناک عمل کیا ہوتا اوراس کے باعث وہاں میری اتنی ہی زیادہ تحقیر و تذلیل کی گئی ہوتی جتنی کسی خواب میں محسوس یا تصور کی جا سکتی ہے، اور اس کے بعد اگر میں زمین پر آ پہنچتا اور یہ جانتے ہوئے کہ میں اب وہاں کبھی واپس نہ لوٹوں گا ،اس دوسرے سیارے پر کئے گئے عمل کا مسلسل ادراک رکھتا تو اس حالت میں زمین سے چاند کی جانب دیکھتے ہوئے کیا مجھے کوئی فرق پڑتا یا نہیں؟ کیا مجھے اس عمل پر کبھی شرمندگی محسوس ہوتی یا نہیں؟ یہ فضول اور مہمل سوالات تھے کیوں کہ ریوالور پہلے ہی میرے سامنے میز پر پڑا تھا اور میں اپنے پورے وجود کے ساتھ جانتا تھا کہ یہ میرا یقینی نتیجہ ہے لیکن ان سوالوں نے مجھے پرجوش کر دیا اور میں طیش میں آنے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب میں یہ مسئلہ حل کرنے سے پہلے نہیں مر سکوں گا۔ مختصراً یہ کہ اس بچی نے مجھے بچا لیا کیوں کہ ان سوالات کے باعث مجھے گولی ملتوی کرنی پڑی۔ اسی اثناء میں کپتان کی طرف معاملات سکون کی طرف مائل تھے: وہ تاش کی بازی ختم کر چکے تھے اور بڑبڑاتے اور سستی سے لپا ڈگی کرتے سونے کے لئے لیٹ رہے تھے۔ یہ وقت تھا کہ اچانک میری آنکھ لگ گئی، یعنی ایک ایسا واقعہ جو میرے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوا، وہیں اسی میز پر، اسی آرام کرسی میں دراز میں اپنے آپ سے بے خبر سو گیا۔ خواب جیسا کہ سب جانتے ہیں بہت عجیب و غریب ہوتے ہیں: ایک تصویر اتنی شدید وضاحت سے نظر آتی ہے جیسے کسی سنار کی سی تفصیلی کاوش ہو، اور دوسری چیزوں سےدھیان اس طرح ہٹ جاتا ہے جیسے ان کا وجود ہی نہ ہو مثال کے طور پر زمان و مکان۔ بظاہر خواب عقل سے نہیں بلکہ خواہش سے جنم لیتے ہیں، یعنی دماغ سے نہیں بلکہ دل سے، اور پھر بھی میری عقل نے سوتے میں کیا چالاکیاں کی ہیں! اور سوتے میں بالکل ناقابلِ یقین واقعات پیش آتے ہیں۔ مثلاً میرے بھائی کو ہی لے لیجئے جس کی پانچ سال پہلے موت واقع ہوئی۔ کبھی کبھار میں اسے خواب میں دیکھتا ہوں: وہ کاموں میں میرا ہاتھ بٹا رہا ہوتا ہے اور مجھے اچھی طرح یاد ہوتا ہے اور پورے خواب کے دوران اس بات کا مکمل علم ہوتا ہے کہ میرا بھائی مر چکا ہے اور دفنایا جا چکا ہے۔ پھر یہ واقعہ مجھے حیران کیوں نہیں کرتا کہ وہ میرے ساتھ موجود ہے اور کاموں میں مصروف ہے؟ میری عقل یہ سب کچھ تسلیم کیوں کر لیتی ہے؟ لیکن بہت ہو گیا، میں اب خواب کی طرف آتا ہوں۔ تو اس دن میں نے یہ خواب دیکھا، یعنی میرا تین نومبر کا خواب! وہ اب مجھے چھیڑتے ہیں کہ وہ صرف ایک خواب ہی تو تھا۔ لیکن اگر اس خواب نے مجھ پر سچائی منکشف کر دی تو کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ وہ خواب تھا یا نہیں؟ کیوں کہ اگر آپ ایک دفعہ سچائی جان لیں اور اس کا نظارہ کر لیں تو چاہے آپ سو رہے ہوں یا ہوش میں ہوں، آپ جانتے ہیں کہ یہی سچ ہے اور کچھ اور نہیں اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔تو اسے ایک خواب ہی مان لیتے ہیں، ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ زندگی جس کی ستائش تم کرتے نہیں تھکتے میں خودکشی سے بجھا دینا چاہتا تھا جب کہ میرے خواب، میرے اس خواب نے مجھے ایک نئی، عظیم، تازہ دم ، مضبوط زندگی سے نوازا! سنو۔
(۳)
میں نے ذکر کیا کہ جب میں بے خبر سو گیا تو میں اسی طرح تھا جیسے انہی معاملات کے بارے میں اسی طرح مصروفِ استدلال ہوں۔ اچانک میں نے خواب میں اپنے آپ کو ریوالور اٹھاتے اور وہیں بیٹھے بیٹھے عین اپنے دل کا نشانہ لیتے دیکھا، میرا دل نہ کہ میرا سر، گو پہلے میں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ میں خود کو سر میں گولی ماروں گا، ٹھیک دائیں کنپٹی میں۔ اپنے سینے کانشانہ لیتے ہوئے میں نے ایک یا دو سیکنڈ کا توقف کیا اور میری موم بتی، وہ میز اور میرے سامنے موجود دیوار اچانک ہلنا اور اوپر اٹھنا شروع ہو گئی۔ میں نے جلدی سے فائر کر دیا۔
خوابوں میں آپ اکثر کسی اونچائی سے گرتے ہیں، یا آپ پر وار ہوتا ہے، یا پھر مار پڑتی ہے، لیکن کبھی درد محسوس نہیں ہوتا مبادا آپ واقعی بستر میں زخمی پڑے ہوں جس صورت میں آپ کو درد محسوس ہوتا ہے جو آپ کو تقریباً جگا دیتا ہے۔ میرے خواب میں بھی یہی معاملہ تھا: مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہوا لیکن میں نے تصور میں دیکھا کہ میرے اندر ہر چیز ہل کر رہ گئی، سب کچھ بجھ سا گیا اور میرے ارد گرد ہر طرف سیاہی طاری ہو گئی۔اب میں جیسے اندھا اور بہرا، اپنی کمر کی جانب دراز کسی ٹھوس شے پر لیٹا تھا، میں نہ تو کچھ دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی ذرا سی حرکت کرنے کے قابل تھا۔ میرے ہر طرف افراتفری اور چیخ و پکار تھی جس میں کپتان کی دھیمی مردانہ آواز اور مالکہ مکان کی چیخیں سنائی دیتی تھیں، اب اچانک ایک اور وقفہ آیا اور میں ایک بند تابوت میں کہیں لے جایا جا رہاتھا۔ مجھے تابوت اٹھتا محسوس ہو رہا تھا اور میں نے اس کے بارے میں استدلال شروع کر دیا جب اچانک مجھے پہلی بار خیال آیا کہ میں مر چکا ہوں، بالکل مر چکا ہوں، میں یہ جانتا ہوں اور اس بارے میں شک میں مبتلا نہیں ہوں، میں دیکھ نہیں سکتا، حرکت نہیں کر سکتا، پھر بھی محسوس کر سکتا ہوں اور استدلال کر نے کے قابل ہوں۔ لیکن میں نے جلد ہی حالات سے سمجھوتا کر لیا اور جس طرح عام طور پر خوابوں میں ہوتا ہے، چوں چراں کئے بغیر حقیقت کو تسلیم کر لیا۔
اور اب وہ مجھے زمین میں دفنا رہے ہیں۔ ہر کوئی چلا جاتا ہے، میں اکیلا ہوں، بالکل تنہا۔ میں حرکت نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے ہمیشہ جب بھی میں نے اپنے آپ کو قبر میں تصور کیا میرے ذہن میں نمی اور سردی کا احساس ہی ابھرا۔ تو اب بھی مجھے شدید سردی محسوس ہو رہی تھی ، خاص طور پر میری انگلیوں کی پوریں تو برف ہو رہی تھیں لیکن اس کے علاوہ مجھے اور کچھ محسوس نہ ہوا۔
میں وہاں لیٹا رہا اور عجیب بات یہ تھی کہ میرے ذہن میں کوئی توقعات نہیں تھیں یعنی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ایک مرا ہوا انسان آخر کس چیز کی توقع کر سکتا ہے۔ لیکن وہاں کافی حبس تھی۔ میں نہیں جانتا کتنا وقت گزر گیا، ایک گھنٹہ یا کچھ دن یا کئی دن۔ لیکن پھر اچانک تابوت کے ڈھکن پر سے ایک پانی کا قطرہ رِس کر میری بند بائیں آنکھ کے اوپر آ گرا، ایک منٹ بعد ایک اور گرا، پھر ایک منٹ بعد تیسرا اور اس طرح ہر منٹ بعد قطروں کا تانتا بندھ گیا۔ میرے دل میں ایک گہری برہمی کی کیفیت بیدار ہوئی اور اچانک مجھے اس میں طبعی درد محسوس ہوا۔ ’’یہ میرا زخم ہے،‘‘ میں نے سوچا، ’’یہ گولی لگنے کی جگہ ہے۔۔۔‘‘ ہر منٹ بعد میری بند آنکھ پر قطرہ گرتا رہا۔ اب میں نے مالک الملک کو کسی آواز سے نہیں کیوں کہ میں تو بے جنش تھا بلکہ اپنے پورے وجود کی قوت سے صدا لگائی۔
’’تو جو بھی ہے، اگر وہاں موجود ہے، اور اگر مجھ پر گزرنے والے اس واقعے سے متعلق کوئی بھی معقول شے موجود ہے تو اسے ادھر حاضر ہونے کی اجازت دے۔ اور اگر تو میری خودکشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس بدصورت اور لامعنویت زدہ ہستی کے ذریعے مجھ سے میرے غیرمعقول عمل کا انتقام لے رہا ہے تو جان لے کہ مجھ پر کتنی ہی صعوبت کیوں نہ گزر جائے وہ اس احساسِ حقارت کے برابر ہرگز نہ ہو گی جو میں خاموشی سے محسوس کرتا رہوں گا، چاہے یہ صعوبت لاکھوں سال ہی کیوں نہ رہے!‘‘
میں نے صدا لگائی اور پھر خاموش ہو گیا۔ تقریباً ایک پورا منٹ گہری خاموشی طاری رہی یہاں تک کہ ایک قطرہ اور ٹپک گیا لیکن میں جانتا تھا اور مجھے لامحدود اور محکم یقین تھا کہ ہر چیز کا عنقریب بدلنا یقینی تھا۔ پھر اچانک میری قبر میں شگاف نمودار ہوا۔ اب مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ کیا اسے کھود کر کھولا گیا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ کوئی نامعلوم سیاہ وجود مجھے لئے جا رہا تھا اور ہم فضا میں تھے۔ میں اچانک دوبارہ دیکھ سکتا تھا: کالی سیاہ رات تھی اور ایسی سیاہی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی! ہم زمین سے دور خلا کی جانب پرواز کر رہے تھے۔میں نے اپنے اٹھانے والے سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا، میں انتظار کر رہا تھا اور اپنے ہی گھمنڈ میں تھا۔ میں نے اپنے آپ کو یقین دلایا کہ مجھے کوئی ڈر نہیں اور اپنی بے خوفی کے خیال سے ہی پھولے نہیں سمایا۔ مجھے یاد نہیں ہم کتنی دیر اسی طرح محوِ پرواز رہے کیوں کہ وقت کا تخمینہ ناقابلِ تصور تھا: سب کچھ اسی طرح ہو رہا تھا جیسے عموماً خوابوں میں ہوتا ہے، جب آپ زمان و مکان اور وجود و استدلال کی حدود کو پار کر جاتے ہیں اور صرف قلب کے ہوائی قلعوں ہی میں بسیرا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میں نے سیاہی میں اچانک ایک ننھا سا ستارہ دیکھا۔ ’’کیا یہ سگ ستارہ ہے؟‘‘،میں اچانک اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور پوچھ بیٹھا کیوں کہ میں کوئی سوال نہ کرنا چاہتا تھا۔ ’’نہیں، یہ وہی ستارہ ہے جو تم نے گھر واپسی پر بادلوں کے درمیان دیکھا تھا‘‘، مجھے اٹھائے لے جانے والی ہستی نے جواب دیا۔ میں جانتا تھا کہ اُس کے خدوخال انسانی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ مجھے وہ ہستی پسند نہ آئی، بلکہ میں نے اپنے اندر ایک گہری نفرت کی لہر دوڑتی محسوس کی۔ مجھے تو مکمل لاوجودیت متوقع تھی اور اسی لئے میں نے اپنے آپ کو دل میں گولی ماری تھی۔ اور یہاں میں ایک ہستی کے ہاتھوں میں تھا جو ظاہر ہے کہ انسانی تو نہ تھی لیکن بہرحال تھی، جو ایک وجود رکھتی تھی: ’’آہ، تو اس کا مطلب ہے کہ قبر کے پار زندگی موجود ہے!‘‘ میں نے ایک عجیب و غریب خوابیدہ لاابالی پن کے ساتھ سوچا لیکن میرا قلبی جوہر اپنی پوری گہرائی لئے میرے ساتھ موجود تھا: ’’اور اگر مجھے دوبارہ پیدا ہونا ہے‘‘ میں نے سوچا، ’’اور کسی اور کے ناگزیر ارادے کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے تو میں اپنی شکست اور تحقیر نہیں چاہتا!‘‘ ’’تم جانتے ہو میں تم سے خوف زدہ ہوں اور تم اس لئے مجھ سے نفرت کرتے ہو،‘‘ میں نے اچانک اپنے دل میں کسی سوئی کی طرح چبھتے اس شرمناک سوال پر قابو نہ رکھ سکتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہا۔ اس نے میرے سوال کا جواب نہ دیا لیکن مجھے اچانک محسوس ہوا کہ مجھ سے نفرت نہیں کی جا رہی اور نہ ہی مذاق اڑایا جا رہا ہے اور نہ ترس کھایا جا رہا ہے، اور یہ کہ ہمارے سفر کا کوئی نامعلوم پراسرار مقصد ہے جس کا تعلق صرف اور صرف میری ذات سے ہے۔ میرے دل میں اب خوف بڑھ رہا تھا۔ مجھے خاموشی سے مگر کرب ناک طور اپنے خاموش ساتھی کے ذریعے کوئی پیغام دیا جا رہا تھا جو اس طرح تھا جیسے مجھے چیرتے ہوئے میرے اندر گھس رہا ہو۔ ہم سیاہ اور نامعلوم خلاؤں میں پیش قدمی کرتے جا رہے تھے۔ کافی دیر سے جانی پہچانی کہکشائیں آنا ختم ہو چکی تھی۔ میں جانتا تھا کہ خلاؤں میں ایسے ستارے موجود ہیں جن کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لئے ہزاروں یا لاکھوں سال لیتی ہے۔ شاید ہم پہلے ہی ان فضاؤں سے گزر رہے تھے۔ میں اپنے دل میں اٹکے کسی خوف کے زیرِ اثر منتظرتھا۔ اور پھر اچانک ایک بالکل جانے پہچانے سے احساس نے مجھے جھنجھوڑ دیا: میں نے اچانک ہمارا سورج دیکھا! میں جانتا تھا کہ یہ ہمارا سورج تو نہیں ہو سکتا یعنی جس سے ہماری زمین نے جنم لیا کیوں کہ ہم تو اپنے سورج سے لامتناہی فاصلے پر پہنچ چکے تھے لیکن کسی وجہ سے میں نے اپنے پورے وجود کے ذریعے پہچان لیا کہ بالکل ہمارے سورج جیسا ہی تھا، ہوبہو اس کی نقل، اس جیسا دوسرا۔ ایک خوشگوار احساس نے میری روح کر پرمسرت کر دیا: روشنی کی خلقی قوت، وہی روشنی جس نے مجھے جنم دیا، میرے قلب میں گونجی اور اسے جِلا بخشی، اور مجھے قبر کے بعد پہلی دفعہ زندگی، سابقہ زندگی کا احساس ہوا۔
’’لیکن اگر یہ سورج ہے، اگر یہ واقعی بالکل ہمارے سورج جیسا ہے، ‘‘ میں چلایا، ’’تو پھر زمین کہاں ہے؟‘‘ اور میرے ساتھی نے اس ننھے سے ستارے کی طرف اشارہ کیا جو ایک زمردیں شان سے اندھیرے میں چمک رہا تھا۔ ہم تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
’’توکیا کائنات میں اس طرح کی نقلیں موجود ہیں، کیا یہ واقعی قانونِ فطرت ہے؟۔۔۔اور اگر وہاں زمین ہے تو کیا یہ واقعی ہماری زمین جیسی ہے، بالکل ویسی ہی، بدنصیب، بے چاری، لیکن عزیز اور ہمیشہ سے محبوب دھرتی جو اپنے نا شکرگزار بچوں میں بھی اپنی کرب ناک محبت پیدا کرتی رہی ہے؟‘‘، میں اپنی سابقہ دھرتی ماں کے ایک بے قابو، سرمستانہ عشق کے زیرِ اثر کانپتے ہوئے چلایا، جسے میں ترک کر آیا تھا۔ اس دھتکاری ہوئی ننھی سی بچی کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے لہرائی۔
’’تم ہر چیز دیکھ لو گے،‘‘ میرے ساتھی نے جواب دیا اور اس کی آواز میں کچھ اداسی نمایاں تھی۔ لیکن ہم تیزی سے سیارے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ میری آنکھوں کے سامنے پھیل رہا تھا، میں اب سمندر اور یورپ کے خدوخال کا اندازہ کر سکتا تھا، اور پھر اچانک ایک عجیب و غریب مقدس حسد نے میرے دل کو گرمایا:
’’اس طرح کی نقل کیسے ہو سکتی ہے، اور کیوں؟ میں صرف اس زمین سے عشق کرتا ہوں، اس سے عشق کر سکتا ہوں جو میں نے ترک کی، جہاں میرے خون کے چھینٹے گرے جب میں نے، میرے جیسے ناشکرے انسان نے دل میں گولی مار کر اپنی زندگی کا دیا بجھا دیا۔ لیکن میں نے اس زمین کی محبت کبھی نہیں چھوڑی، اور اس رات تو جب میں اس سے جدا ہو رہا تھا شاید اس کے لئے میری محبت پہلے سے زیادہ شدید تھی۔ کیا اس نئی زمین پر کرب کا احساس ہو گا؟ ہماری زمین پر تو ہم صرف اور صرف کرب سے ہی گزر کر سچا عشق کر سکتے ہیں۔ میں اس ساعت میں آنسو بہاتے ہوئے صرف اسی زمین کو چاہتا ہوں جو میں نے ترک کی، اسی کا پیاسا ہوں، اسی کو بوسہ دینا چاہتا ہوں، اور میں کسی دوسری زمین پر زندگی کا متلاشی نہیں ہوں!‘‘
لیکن میرا ساتھی مجھے پہلے ہی چھوڑ کر جا چکا تھا۔ اچانک بالکل غیر متوقع طور پر میں اس جنت جیسی خوبصورت دوسری زمین پر ایک روشن دھوپ سے منور دن میں کھڑا تھا۔ گمان تھا کہ میں ان جزیروں میں سے کسی ایک پر موجود ہوں جو ہماری زمین پر یونانی بحرالجزائر کا علاقہ ہے یا اس بحرالجزائر کے ساتھ جڑے کسی ساحلی علاقے پر۔ ہر چیز بالکل ویسی ہی تھی جیسی ہمارے ہاں ہے لیکن ہر جگہ ایک قسم کی بشاشت اور ایک عظیم تقدیس، ایک حتمی فتح کا سا احساس پھوٹتا تھا۔ لطیف زمردیں سمندر ساحلوں کے ساتھ نرمی سے ٹکرا رہا تھا اور محبت سے انہیں چوم رہا تھا، بالکل سادہ، واضح اور ایک نیم شعوری کیفیت لئے۔ لمبے حسین درخت اپنے پھلوں پھولوں کی پوری شان لئے ایستادہ تھے مجھے یقین تھا کہ ان کے بے شمار پتے اپنی نرم لطیف آوازوں سے مجھے اس طرح خوش آمدید کہہ رہے ہیں جیسے کوئی پیار بھرے الفاظ ادا کر رہے ہوں۔ گھاس چمکدار، معطر پھولوں سےزریں تھی۔ پرندوں کے غول ہوا میں اڑتے پھر رہے تھے اور مجھ سے بے خوف میرے شانوں اور بازوؤں پر اترتے ہوئے مسرت بھرے انداز میں مجھے اپنے پیارے پھڑپھڑاتے پر مار رہے تھے۔ پھر آخرکار میں نے اس پرمسرت زمین کے باسیوں کو بھی جان پہچان لیا۔ وہ خود ہی میری پاس آئے، مجھے گھیر لیا، مجھےچومنے لگے۔ سورج کے بچے، ان کے سورج کے بچے، اوہ، وہ کتنے خوبصورت تھے! میں نےاپنی زمین پر کبھی اتنے خوبصورت انسان نہ دیکھے تھے۔ شاید صرف ہمارے بچوں میں، وہ بھی ان کے اولین سالوں میں ایسے حسن کی دورافتادہ، دھندلی سی چمک نظر آتی ہے۔ان خوش و خرم لوگوں کی آنکھیں واضح روشنی سے دمک رہی تھیں۔ ان کے چہروں سے عقل اور ایک خاص قسم کا شعور ٹپکتا تھا جو اپنے اندر ایک احساسِ طمانیت لئے تھا ، لیکن پھر بھی یہ مسرور چہرے تھے کیوں کہ ان لوگو ں کے الفاظ اور آوازوں میں بچوں جیسی مسرت تھی۔ اوہ، ایک دم ان کے چہروں پر پہلی نظر ڈالتے ہی میں ساری بات سمجھ گیا، ساری بات! یہ زمین ابھی خطاؤں کے باعث ناپاک نہیں ہوئی تھی، یہاں کے باشندوں نے ابھی گناہ نہیں کیا تھا، وہ اسی جنت کے باسی تھے جس میں پوری انسانیت کی تمام روایات کے مطابق ہمارے خطاکار آباؤ اجداد رہے تھے، فرق صرف یہ تھا کہ یہاں اس پوری زمین پرایک ہی جیسی جنت آباد تھی۔ خوشی سے ہنستے ہوئے یہ لوگ میرے اردگرد جمع ہو گئے اور مجھے لاڈ پیار کرنے لگے، وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور ہر کوئی میری خاطر مدارت کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا بلکہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہیں پہلے ہی ہر بات معلوم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد میرے چہرے سے سوگواری کا احساس غائب کر دیں۔
(۴)
تم نے دیکھا ، ایک بار پھر: چلو اس کو ایک خواب ہی سمجھ لو! لیکن ان معصوم اور خوبصورت لوگوں کا احساسِ محبت اس دن کے بعد ہمیشہ میرے ساتھ رہا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی محبت اب بھی مجھ پر وہاں سے نچھاور ہو رہی ہے۔ میں نے خود انہیں دیکھا، انہیں جانا اور مانا، میں نے ان سے محبت کی اور پھر بعد میں ان کے لئے کرب محسوس کیا۔ میں اس وقت بھی ایک دم جان گیا تھا کہ میں کئی لحاظ سے انہیں کبھی نہ سمجھ سکوں گا، مثال کے طور پر میرے لئے یعنی ایک جدید ترقی پسند روسی اور سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک نابکار کے لئے یہ لاینحل مسئلہ تھا کہ ان کے پاس ہماری سائنس نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن مجھے جلد ہی پتا چل گیا کہ ان کا علم ہماری زمین کے مقابلے میں مختلف بصیرتوں سے تسکین اور جِلا پاتا تھا اور ان کی تمنائیں بھی کافی مختلف تھیں۔ انہیں کسی شے کی خواہش نہ تھی اور مکمل سکون حاصل تھا، وہ ہماری طرح علمِ حیات کے متلاشی نہ تھے کیوں کہ ان کی حیات کو تسکین حاصل تھی۔ لیکن ان کا علم ہماری سائنس سے گہرا اور ارفع تھا کیوں کہ ہماری سائنس زندگی کی وضاحت کی جستجو کرتی ہے، وہ اس کے فہم کی متمنی ہے تاکہ دوسروں کو جینا سکھا سکے لیکن وہ سائنس کے بغیر ہی جینا جانتے تھے اور مجھے یہ بات سمجھ آ گئی تھی لیکن میں ان کا علم سمجھنے سے قاصر تھا۔ انہوں نے اپنےدرخت مجھے دکھائے اور میں اس محبت کی حد نہیں جان سکا جس سے وہ ان کی جانب دیکھتے تھے جس طرح وہ اپنی ہی جیسی مخلوق سے مخاطب ہوں۔ اور جانتے ہو شاید میں یہ کہنے میں غلطی پر نہیں کہ وہ واقعی ان سے مخاطب تھے! ہاں، انہوں نے ان کی زبان دریافت کر لی تھی اور مجھے یقین ہے کہ درخت بھی ان کی بات سمجھتے تھے۔ وہ کُل فطرت کی جانب اسی طرح دیکھتے تھے، جانوروں کی طرف جو ان کے ساتھ امن و آشتی سے رہتے تھے، ان پر حملہ آور نہیں ہوتے تھے ، ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی محبت کے ہاتھوں رام تھے۔ انہوں نے مجھے ستارے دکھائے میرے سے ان کی بابت کچھ ایسی بات کی جو میں سمجھ نہیں سکا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کا ان سماوی اجسام سے کوئی تعلق تھا، صرف خیال کے واسطے سے نہیں بلکہ کسی زندہ طریقے سے۔ ان لوگوں نے تو یہ بھی کوشش نہیں کی کہ میں ان کی بات سمجھوں، انہوں نے اس کے بغیر ہی مجھ سے محبت کی، لیکن دوسری جانب میں جانتا تھا کہ وہ بھی میری بات نہیں سمجھیں گے اور اس لئے میں نے شاذونادر ہی ان سے اپنی زمین کےمتعلق بات چھیڑی۔ میں ان کے سامنے صرف اس زمین کا بوسہ لیتا جس کے وہ باسی تھے اور لفظوں کے بغیر ان کی تعریف کرتا، اور انہوں نے یہ دیکھا اور مجھے اجازت دی کہ میں کسی شرم کے بغیر ان کی تعریف کروں کیوں کہ وہ خود بھی اپنے آپ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں میرے لئے کرب محسوس نہیں ہوا جب کبھی کبھار میں نے آنسو بہاتے ہوئے ان کے پیر چومے، دل ہی دل میں پُرمسرت طور پر یہ جانتے ہوئے کہ وہ محبت کی کس قوت سے مجھے جواب دیں گے۔ کئی دفعہ میں اپنے آپ سے حیرانی میں پوچھتا کہ وہ اس تمام وقت کس طرح مجھ جیسے انسان کی تحقیر پر آمادہ نہیں ہوئے اور انہوں نے مجھ جیسے انسان میں ایک بار بھی حسد اور رشک کا بیج کیسے نہیں بویا؟ کئی دفعہ میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ میرے جیسا شیخی خورا اور دروغ گو انسان کس طرح ان سے اپنے علم کے بارے میں بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوا جس کے بارے میں ظاہر ہے انہیں تو کچھ پتا نہ تھا، کیسے میں نے کوشش نہ کی کہ انہیں اپنے علم سے حیران کر دوں، چاہے ان کی محبت کی خاطر ہی سہی؟ وہ بچوں کی طرح چنچل اور کھلنڈرے تھے۔ وہ اپنے خوبصورت باغات اور جنگلوں میں دوڑتے پھرتے، اپنے خوبصورت نغمے گاتے، اپنی ہلکی پھلکی غذا تناول کرتے، درختوں سے پھل، جنگلوں سے شہد، ان جانوروں کا دودھ جن سے انہیں محبت تھی۔ اپنی غذا اور لباس کے لئے وہ ہلکی پھلکی محنت کرتے تھے۔ان کے درمیاں پیار کا رشتہ تھا اور بچے پیدا ہوتے تھے لیکن میں نے ان میں کبھی اس سنگ دل شہوت کے جبلی محرکات نہیں دیکھے جو ہماری زمین پر ہر کسی کو اپنے قابو میں لے لیتے ہیں اور انسانیت کے تقریباً تمام گناہوں کا واحد ماخذ ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی خوش قسمتی میں شریک پا کر خوش تھے۔ان کے درمیان کوئی لڑائی اور کینہ نہ تھا، انہیں تو یہ تک معلوم نہ تھا کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں۔ ان کے بچے ہر ایک کے بچے تھے کیوں کہ وہ ایک ہی خاندان تھے۔ بیماری تقریباً ناپید تھی گو اموات واقع ہوتی تھیں لیکن ان کے بوڑھے لوگ خاموشی سے مر جاتے تھے جیسے سونے جا رہے ہوں، الوداع کہنے والوں کے ہجوم میں جو ان کو مسکراتے ہوئے دعائیں دے رہے ہوتے تھے اور آپس میں الوداعی مسکراہٹوں کا تبادلہ جاری ہوتا۔ میں نے کبھی ایسے موقعوں پر غم یا آنسو نہیں دیکھے، صرف محبت اپنے نقطۂ انشقاق تک بڑھ جاتی تھی لیکن ایک ایسا انشقاق جو اپنے اندر ایک سکوت، تسکین اور تفکر لئے تھا۔ کوئی خیال کر سکتا ہے کہ وہ اپنے مرے ہوؤں کے ساتھ مرنے کے بعد بھی تعلق میں تھے اور زمینی رابطہ موت سے منقطع نہیں ہوتا تھا۔ انہیں میری بات کچھ زیادہ سمجھ نہیں آئی جب میں نے ان سے حیاتِ ابدی کے بارے میں دریافت کیا لیکن وہ اس کے بارے میں بظاہر اس قسم کا غیر شعوری یقین رکھتے تھے کہ ان کے لئے اس کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ان کے ہاں کوئی گرجا نہ تھے لیکن کائنات کی کلیت کے ساتھ ایک ناگزیر، زندہ اور مسلسل رشتہ تھا، ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا لیکن اس کی بجائے یہ محکم علم تھا کہ جب ان کی ارضی مسرت فطرتِ ارضی کی حدود کے مطابق تسکین پا لے گی تو اس وقت ان کے نفوس چاہے وہ مردہ ہوں یا زندہ، کائنات کی کلیت سے اپنا تعلق پھیلا کر اسے مزید استوار کر لیں گے۔ وہ اس طرح خوشی سے اس ساعت کے منتظر تھے کہ انہیں کوئی جلدی نہ تھی اور نہ ہی اس آگہی کا کرب تھا، بلکہ اس طرح جیسے ان کے قلوب میں کوئی پیش آگہی موجود ہو جسے وہ ایک دوسرے کو مسلسل منتقل کرتے رہتے ہوں۔ شاموں کو سونے سے قبل وہ متوازن ، ہم آہنگ گائک منڈلیوں میں نغمے گاتے تھے۔ ان نغموں میں گزرنے والے دن کے تمام احساسات بیان ہوتے تھے، وہ اس کی حمد کرتے اور اسے الوداع کہتے۔ وہ فطرت کی حمد بیان کرتے، زمین، سمندر اور جنگلوں کی حمد۔ وہ ایک دوسرے کے بارے میں نغمے لکھتے اور بچوں کی طرح ایک دوسرے کی تعریف کرتے۔ یہ کوئی سادہ سے ترانے نہ تھے بلکہ دلوں سے نکلتے اور دلوں ہی میں اپنی جگہ بناتے۔ اور نہ صرف نغمے بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کی پوری زندگی ہی ایک دوسرے کی تعریف بیان کرنے میں گزری ہے۔ یہ ایک قسم کا کامل عالمگیر باہمی عشق تھا۔ اور ان کے کچھ اداس کر دینے والے سرمستانہ نغمے شاید ہی میری سمجھ میں آ سکے۔ ہاں میں لفظ تو سمجھ گیا لیکن کبھی معانی تک مکمل رسائی نہ ہو سکی۔ وہ میرے ذہن کی دسترس سے تو باہر رہے لیکن میرا دل غیر شعوری طور پر زیادہ سے زیادہ کی چاہت میں مبتلا ہو رہا تھا۔ میں نے اکثر انہیں بتایا کہ مجھے بہت پہلے سے اس کیفیت کی پیش بینی حاصل تھی، ان کی یہ شان میرے قلب کے خوابوں اور ذہن کے ہوائی قلعوں میں پہلے سے موجود تھی، کہ میں اکثر اپنی زمین پر آنسوؤں کے بغیر ڈوبتے سورج کا نظارہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔اور یہ کہ اپنی زمین کے باسیوں کے لئے میرے دل میں موجود نفرت کے اندر ہمیشہ ایک اضطراب رہا: میں کیوں ان سے محبت کئے بغیر ان سے نفرت کے قابل نہیں، میں کیوں ان کو معاف کر دینے کے قابل نہیں، اور میری محبت میں کیوں ان کے لئے احساسِ کرب موجود ہے: میں کیوں ان سے نفرت کئے بغیر انہیں پیار کرنے کے قابل نہیں؟ انہوں نے میری بات سنی اور میں نے دیکھا کہ وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، لیکن مجھے ان سے اس بارے میں بات کرنے کا کوئی پچھتاوا نہیں: میں جانتا تھا کہ وہ ان لوگوں کے متعلق میرے کرب کی شدت سے واقف ہیں جنہیں میں ترک کر آیا تھا۔ ہاں، اس وقت جب انہوں نے اپنی محبت بھری آنکھوں سے مجھے دیکھا، جب مجھے محسوس ہوا کہ ان کی موجودگی میں میرا قلب بھی ان ہی کا طرح معصوم اور سچا تھا تو مجھے ان کی بات سمجھنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔ زندگی کے لبریز ہونے کی کیفیت میرے ہوش اڑا رہی تھی اور میں خاموشی سے ان کی عقیدت میں مگن تھا۔
اب ہر کوئی میرے منہ پر ہنستا ہے اور مجھے یقین دلاتا ہے کہ اس طرح کی تفصیلات تو خواب میں بھی دیکھنا ممکن نہیں ہے، کہ میں نے خواب میں اپنے ہی قلب کی ایک ہذیانی کیفیت سے جنم لیتی مخصوص سنسناہٹ دیکھی یا محسوس کی، اور بیدار ہونے پر تفصیلات گھڑ لیں۔ اور جب میں ان پر انکشاف کرتا ہوں کہ شاید واقعی ایسا ہی ہو تو خدایا، وہ مجھے دیکھ کر کس قسم کے قہقہے لگاتے ہیں اورمیری حالت کا کون سا مذاق نہیں اڑاتے! ہاں، یقیناً میں اس خواب کی سنسناہٹ سے مغلوب ہو گیا ہوں گا اور وہی میرے دل کے خونی زخم میں بچ رہی ہو گی: تاہم میرے خواب کی نظارے اور شکلیں یعنی وہ جو میں نے خواب کے دوران اصل میں دیکھیں اتنی ہم آہنگی سے پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی تھیں، وہ اتنی سحرانگیز، حسین اور سچی تھیں کہ بیداری کے بعد ان کے پردۂ ذہن سے مٹ جانے کے بعد انہیں اپنے کمزور الفاظ میں مجسم نہ کر سکنے کے باعث میں نے شاید لاشعوری طور پر اپنے آپ کو تفصیلات گھڑنے پر مجبور پایا، اور یقیناً ان کو مسخ بھی کیا ، خاص طور پر اپنی اس شدید جذباتی خواہش کے زیرِ اثر کہ جلد از جلد کسی نہ کسی طرح تو یہ سب کچھ کسی اور کو سناؤں۔ اس کے باوجود میں کیسے نہ مان لوں کہ یہ سب حقیقت تھی؟ اور شاید میری کہانی کی نسبت ہزار گنا بہتر، روشن اور زیادہ مسرت آمیز ہو؟ چلو اسے خواب ہی رہنے دو تو پھر بھی کیا یہ ہونا ممکن نہیں؟ میں تمہیں ایک راز کی بات بتاؤں: شاید یہ خواب تھا ہی نہیں! کیوں کہ یہاں ایک مخصوص واقعہ رونما ہوا، کچھ ایسی شدت سے حقیقی کہ خواب میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مان لو کہ میرا خواب میرے قلب سے نمودار ہوا لیکن کیا میرا قلب اس شدید حقیقت کو جنم دینے پر قادر تھا جو اس کے بعد رونما ہوئی؟ میں کیسے اسے اپنے قلب کے ذریعے تصور یا تخلیق کر سکتا ہوں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ میرا قابلِ حقارت قلب اور بے وقعت من موجیا ذہن سچائی کے اس قسم کے الہام کا متحمل ہوسکے! تم لوگ خود ہی فیصلہ کر لو: میں نے اب تک یہ بات صیغۂ راز میں رکھی لیکن اب مجھے یہ سچائی بھی بتانی ہی ہو گی۔ بات یہ ہے کہ میں نے۔۔۔۔ان سب کو بگاڑ کر رکھ دیا۔
(۵)
ہاں، ہاں، یہ سب کچھ میرے ہاتھوں ان کے بگاڑ پر ختم ہوا! میں نہیں جانتا یہ کیسے ممکن تھا لیکن مجھے یہ سب کچھ اچھی طرح یاد ہے۔ خواب ہزاروں سالوں ہر محیط تھا اور میرے اندر ایک کلیت کا سا احساس چھوڑ گیا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس تنزلی کا ذمہ دار میں تھا۔ کسی زہریلی سُنڈی کی طرح، پورے کے پورے ملکوں کو کوڑھ میں مبتلا کر دینے والے کسی ایک ننھے سے جرثومی ذرے کی طرح میں نے خوش و خرم اور معصوم زمین کو اپنے ذریعے مرض میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے جھوٹ بولنا سیکھا، دروغ گوئی سے محبت بڑھی اور پھر انہیں جھوٹ میں حسن نظر آنے لگا۔ شاید یہ سب کچھ معصومانہ طور پر کسی لطیفے، چونچلے بازی، کسی رنگیلے عاشقانہ کھیل، شاید کسی بھی ذرا سی وجہ سے شروع ہوا، لیکن جھوٹ کا یہ ننھا سا ذرہ ان کے دلوں میں سرایت کر گیا اور انہیں پسند آیا۔ پھر اس کے فوراً بعد شہوت پیدا ہوئی، شہوت نے حسد کو جنم دیا، اور حسد نے ظلم کو۔۔۔۔ہائے ہائے، میں کیا جانوں، مجھے نہیں یاد لیکن جلدی، بہت جلدی خون کا پہلا قطرہ گر گیا۔ وہ ششدر اور ہیبت زدہ رہ گئے اور باہمی فاصلے بڑھنا شروع ہوئے۔اتحاد بننا شروع ہوئے لیکن اب وہ ایک دوسرے کے خلاف تھے۔ تادیبی کاروائیوں، الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہیں شرم کے بارے میں معلوم ہوا اور شرم نیکی میں تبدیل ہو گئی۔ تکریم و توقیر نے جنم لیا اور ہر جتھے نے اپنا علم بلند کر دیا۔ انہوں نے جانوروں کو اذیتیں دینی شروع کیں اور جانور جنگلوں کی جانب ہجرت کر کے ان سے دشمنی پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے علیحدگی کی جدوجہد شروع کر دی، تنہائی کی جستجو، اپنی ذات کے لئے، میرے تمہارے لئے۔ انہوں نے مختلف زبانیں بولنی شروع کر دیں۔ انہوں نے غم کو جانا اور غم سے محبت میں مبتلا ہوئے، انہیں کرب کی پیاس لگنے لگی اور کہنے لگے کہ حقیقت تک رسائی صرف کرب کے ذریعے ممکن ہے۔ پھر ان میں سائنس کا ظہور ہوا۔ جب وہ شاطر ہو گئے تو انہوں نے بھائی چارے اور انسانیت کے متعلق بات چیت شروع کر دی اور ان تصورات کو سمجھ لیا۔ جب وہ مجرم بن گئے تو انہوں نے انصاف ایجاد کیا اور اپنے لئے پورے کے پورے قانون تشکیل دئیے تاکہ ان پر عمل کر سکیں، اور ان قوانین پر عمل درآمد کے لئے انہوں نے پھانسی گھاٹ لگائے۔ انہیں بمشکل ہی کچھ یاد تھا کہ انہوں نے کیا کھویا ہے ، یہاں تک کہ وہ ماننا بھی نہ چاہتے تھے کہ وہ کبھی معصوم اور خوش تھے۔ حد تو یہ کہ وہ اب کسی گزری مسرت کے امکان پر بھی ہنستے تھے اور اسے خواب کہتے تھے۔ وہ منظروں اور شکلوں میں بھی اس کا تصور کرنے سے قاصر تھے، لیکن عجیب اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس سابقہ مسرت پر پورا یقین ضائع کر چکنے کے بعد، اس کو ایک دیومالائی قصہ کہنے کے بعد بھی وہ دوبارہ معصوم اور خوش ہونا چاہتے تھے، ایک بار پھر ان کی خواہش تھی کہ وہ بچوں کی طرح اپنی دلی تمناؤں کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں، سو اب وہ اپنی تمنا ؤں کی صنم گری پر مائل ہوئے، انہوں نے مندر بنائے اور اپنے ہی تصور کی پوجا شروع کر دی، ان کی اپنی ’تمنا‘ کی، اور اس دوران اس کے ناقابلِ رسائی اور غیر امکانی ہونے پر کامل ایمان رکھتے ہوئے وہ آنسوؤں سے اس کی حمد اور پوجا کرتے رہے۔ اور پھر بھی اگر یوں ہوتا کہ وہ اس معصوم اور پرمسرت حالت پر واپس لوٹ سکتے جو انہوں نے کھوئی تھی یا کوئی اچانک انہیں وہ نظارہ دوبارہ دکھاتا اور ان سے پوچھتا کہ کیا تم اس حالت میں واپس لوٹنا چاہتے ہو تو وہ یقیناً انکار کر دیتے۔ وہ مجھے جواب دیا کرتے تھے:
’’ ٹھیک ہے کہ ہم دھوکے باز، شاطر اور ناانصاف ہیں، لیکن ہم یہ جانتے ہیں اور پشیمانی سے روتے اور اس غم میں اپنے آپ کو اُس باعدل قاضی سے بھی زیادہ اذیتیں اور سزائیں دیتے ہیں جو ہمارا فیصلہ کرے گا اور ہمیں اس کا نام معلوم نہیں۔ لیکن ہمارے پاس سائنس ہے اور اس کے ذریعے ہم دوبارہ سچائی کو پا لیں گے، لیکن اب ہم اسے شعوری طور پر مانیں گے، علم احساس سے ارفع ہے، حیات کا شعور حیات سے بلند ہے۔ سائنس ہمیں دانش دے گی، دانش قوانین کو دریافت کرنے میں ہماری مدد کرے گی، اور مسرت کے قوانین کا علم مسرت سے ارفع ہے۔‘‘
وہ یہ کہا کرتے تھے اور اس طرح کے الفاظ کے بعد ان میں سے ہر ایک اپنے آپ سے کسی دوسرے سے بھی زیادہ محبت میں گرفتار ہو جاتا اور وہ اس کے علاوہ کچھ کرنے کے قابل نہ تھے۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی ذات کے اس درجہ گھمنڈ میں مبتلا تھا کہ دوسروں کی تحقیر و تذلیل کی پوری کوشش کرتا تھا، اور اس کے لئے زندگی صرف کر دیتا تھا۔ غلامی ظاہر ہوئی، یہاں تک کہ رضاکارانہ غلامی: کمزور اپنی مرضی سے طاقتور کے فرمانبردار بن گئے، صرف اس لئے تاکہ اپنے سے بھی کمزور کی بربادی میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ صالح افراد ظاہر ہوئے جو آنسوؤں میں تر ان لوگوں کے سامنے آتے اور ان سے ان کے گھمنڈ، ان کے عدم توازن، ہم آہنگی کے فقدان اور حیا کے اٹھ جانے کی بابت بات چیت کرتے۔
یا تو انہیں دھتکارا جاتا یا پھر سنگسار کر دیا جاتا۔ مندروں کی دہلیزیں مقدس خون سے نہا گئیں۔ دوسری طرف ایسے لوگ ظاہر ہونا شروع ہوئے جو دوبارہ ایک کامل اتحاد کے طریقے وضع کرنے لگے تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنی ذات سے محبت ترک کئے بغیر دوسروں کا راستہ بھی نہ روکے اور وہ اسی طرح ایک ہم آہنگ معاشرے کے طور پر رہتے رہیں۔ اس تصور نے کئی جنگوں کو جنم دیا۔ ساتھ ہی ساتھ جنگوں میں مشغول طرفین کا یہ محکم یقین تھا کہ سائنس، دانش اور حفظِ نفس کا احساس آخرکار انسانوں کو مجبور کر دے گا کہ وہ ایک مربوط اور معقول معاشرے میں یکجا ہو جائیں ، لہٰذا اس جانب سفر کی رفتار تیز کرنے کے لئے اس دوران ’دانشمندوں‘ نے تمام ’احمقوں‘ کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کی تاکہ جو اس تصور کو نہیں سمجھ سکتے وہ اس فتح کے آڑے نہ آئیں۔ لیکن حفظِ نفس کا احساس جلد ہی کمزور پڑنا شروع ہوا، گھمنڈی اور شہوت پرست انسانوں کا ظہور ہوا جو ہر شے کا مطالبہ یا انکارِ کل کا دعوی کرتے تھے۔ ہر شے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے برائی کا سہارا لیا اور اگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو خود کشی کا۔ لاوجودیت اور خودغارتی کے مسالک پر مبنی مذاہب کا ظہور ہوا تاکہ فنا میں ابدی سکون حاصل کیا جا سکے۔ بالآخر یہ لوگ بے معنی مشقت سے تھک ہار گئے اور ان کے چہروں پر کرب کے آثار نمودار ہوئے اور اب ان لوگوں نے یہ دعوی کیا کہ کرب ہی حسن ہے کیوں کہ کرب میں ہی تفکر کا پہلو موجود ہے۔ انہوں نے اپنے نغموں میں کرب کو اجاگر کیا۔ میں ان کے درمیان اپنے ہاتھ بھینچے پھرتا رہتا تھا اور ان کی حالت پر آنسو بہاتا تھا، لیکن اب میں شاید ان سے پہلے سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا جس وقت ان کے چہروں پر کرب نہ تھا اور وہ معصوم اور حسین تھے۔ میں ان کی بگڑی زمین سے اس وقت سے زیادہ محبت کرتا تھا جب وہ جنت تھی کیوں کہ اب اس پر غم کا ظہور ہوا تھا۔ افسوس میں نے ہمیشہ غم والم سے محبت کی، لیکن صرف اپنے لئے، صرف اپنے لئے، جب کہ ان کی حالت پر تو میں ترس کھاتے ہوئے روتا رہتا۔ میں نے مایوسی میں خود کو الزام دیتے، لعنت ملامت کرتے، خود سے نفرت کرتے ہوئے اپنی بانہیں ان کی جانب بڑھائیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں، صرف میں اکیلا ہی وہ شخص ہوں جس نے یہ سب کچھ کیا، کہ یہ میں ہی تھا جو انہیں اس زوال، بیماری اور جھوٹ کی طرف لایا! میں نے ان کی منت سماجت کی کہ مجھے سولی پر لٹکا دو، یہاں تک کہ میں نے انہیں سولی بنانا سکھائی۔ میں نہیں کر سکا، مجھ میں اپنے آپ کو مار ڈالنے کی ہمت نہیں تھی، لیکن میں چاہتا تھا کہ ان سے ان کا کرب لے لوں، میں کرب کا متلاشی تھا، میں اس حالتِ کرب میں اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دینے کی تمنا رکھتا تھا۔ لیکن وہ صرف مجھ پر ہنستے رہے اور آخر کار مجھے ایک مقدس احمق سمجھنے لگے۔ وہ میری بریت ثابت کرتے، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہی پایا جو وہ چاہتے تھے اور ہر چیز اب پہلے کی طرح تو نہیں ہو سکتی۔ آخرکار انہوں نے اعلان کیا کہ میں ان کے لئے خطرناک ثابت ہو رہا ہوں اور اگر میں خاموش نہ ہوا تو کسی پاگل خانے میں ڈال دیا جاؤں گا۔ یہاں غم نے میری روح میں اس قوت سے نفوذ کیا کہ میرا دل بھنچ کر رہ گیا، اور مجھے محسوس ہوا کہ میں مرنے والا ہوں، اور یہاں ۔۔۔ یہاں میری آنکھ کھل گئی۔
صبح ہو چکی تھی، ابھی روشنی تو نہ ہوئی تھی لیکن تقریباً چھ بجے تھے۔ ہوش آیا تو میں اسی آرام کرسی میں تھا، موم بتی آخر تک جل چکی تھی، کپتان کے ہاں ہر کوئی محوِ خواب تھا، اور میرے ارد گرد ایک ایسا سناٹا تھا جو اس عمارت میں کبھی کبھار ہی ہوتا تھا۔ پہلے تو میں شدید حیرانی کے عالم میں اچھل کر کھڑا ہو گیا، میرے ساتھ پہلے کبھی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا یہاں تک کہ غیر اہم چھوٹی چھوٹی تفصیلات تک: مثال کے طور پر میں پہلے کبھی آرام کرسی میں اس طرح نہ سویا تھا۔ یہاں اچانک جب میں ہوش میں آتے ہوئے کھڑا ہو رہا تھا تو میرا بھرا ہوا تیار ریوالور میری آنکھوں کے سامنے آیا، لیکن میں نے ایک دم اسے دور ہٹا دیا! اف، زندگی، یہ زندگی! میں نے اپنے بازو اٹھائے اور ابدی سچائی کی جانب صدا لگائی، صرف صدا ہی نہیں لگائی بلکہ گریہ کیا، بے خودی، ایک لاانتہا بے خودی میرے پورے وجود کو رفعت بخش رہی تھی۔ ہاں، زندگی اور تبلیغ و تلقین! میں نے اسی لمحے تبلیغ و تلقین کا سوچا، یقیناً اپنی باقی ماندہ زندگی کے لئے! میں اب تبلیغ پر نکل رہا ہوں، میں تبلیغ کرنا چاہتا ہوں، لیکن کس چیز کی تبلیغ؟ سچائی کی ، کیوں کہ میں نے اس کا مشاہدہ کیا، اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا، اس کی پوری شان و شوکت دیکھ لی!
اور یوں اس د ن سے میں تبلیغ و تلقین میں مصروف ہوں! اس کے علاوہ یہ کہ میں اپنے اوپر ہنسنے والوں سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ ایسا کیوں ہے، میں نہیں جانتا اور نہ ہی میں وضاحت کر سکتا ہوں، لیکن ایسا ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہی اپنے ہوش کھو رہا ہوں، یعنی اگر میں پہلے ہی ہوش کھو بیٹھا ہوں تو بعد میں کیا ہو گا؟ کھرا سچ: میں اب ہوش کھو رہا ہوں اور شاید بعد میں حالت مزید ابتر ہو گی۔ اور یقیناً مجھے ایک دو بار ہوش کھونےہوں گےاس سے پہلے کہ میں تبلیغ کا طریقہ دریافت کروں یعنی کونسے الفاظ اور کیسے اعمال، کیوں کہ یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ میں اب بھی اسے دن کی روشنی کی طرح واضح دیکھتا ہوں، لیکن سنو: کوئی ایسا ہے جو ہوش نہ کھوتا ہو؟ اور پھر بھی ہر کوئی ایک ہی شے کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کم ازکم ہر کوئی ایک ہی شے کی جستجو میں ہے، کسی عارف سے لے کر آخری قزاق تک، صرف کھوجنے کے راستے جدا جدا ہیں۔ یہ ایک قدیم سچائی ہے لیکن ندرت یہاں ہے: میں بہت زیادہ ہوش نہیں کھو سکتا۔ کیوں کہ میں نے سچائی کو دیکھا ہے، میں نے دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ لوگ زمین پر رہنے کی قابلیت کھوئے بغیر بھی حسین اور خوش و خرم ہو سکتے ہیں۔ میں نہیں مانوں کا اور نہیں مان سکتا کہ بدی انسانوں کی فطری حالت ہے۔ اور یہ سب محض میرے اس ایمان پر ہنستے ہیں۔ لیکن میں کیسے ایمان نہ لاؤں: میں نے سچائی دیکھی تھی، میرے ذہن نے اسے ایجاد نہیں کیا بلکہ میں نے خود اسے دیکھا تھا، میں نے اسے دیکھا اور اس زندہ تصویر نے آنے والے وقت کے لئے میری روح کو لبریز کر دیا۔ میں نے اسے ایسی لبریز کلیت میں دیکھا کہ میں نہیں مان سکتا کہ لوگوں کے لئے اسے حاصل کرنا ناممکن ہے۔ تو پھر میں کیسے ہوش کھو سکتا ہوں؟ میں بھٹکتا رہوں گا، یقیناً کئی بار، اور شاید میں دوسرے لوگوں کے الفاظ میں بات بھی کروں لیکن بہت زیادہ دیر نہیں: وہ زندہ منظر جو میں نے دیکھا ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اور میری راہنمائی کرتا رہے گا۔ اف، میں کتنا مضبوط ہوں، کتنا تروتازہ ہوں، میں چلتا جا رہا ہوں، چلتا چلا جاؤں گا چاہے ایک ہزار سال ہی کیوں نہ گزر جائیں۔ تم جانتے ہو کہ پہلے پہل جب میں نے انہیں بگاڑا تو میں یہ راز چھپائے رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ میری غلطی تھی، پہلی غلطی! لیکن سچائی نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور میری حفاظت اور راہنمائی کی۔ لیکن جنت کیسے قائم کی جائے، میں نہیں جانتا، کیوں کہ میں یہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ خواب کے بعد میں نے اپنےا لفاظ کھو دئیے۔ کم از کم بنیادی، ناگزیر الفاظ۔ لیکن ہوتا ہے تو ہو: میں تو جاؤں گا اور تھکے بغیر بولتا جاؤں گا کیوں کہ آخر میں نے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، گو میں اب یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ میں نے کیا دیکھا۔ لیکن یہی بات طعنہ زنوں کی سمجھ میں نہیں آتی:’’اس نے خواب دیکھا،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’ایک ہذیان، ایک فریبِ نظر۔‘‘ اف، جیسے یہ سب بہت عقل مندی کی بات ہے؟ اور یہ کتنے زعم میں ہیں! ایک خواب؟ خواب کیا ہوتا ہے؟ اور کیا ہماری زندگی خواب نہیں؟ میں اس سے بھی زیادہ کہنے کو تیار ہوں: مان لیجئے کہ یہ تصور کبھی بھی سچائی میں تبدیل نہیں ہوتا، اور مان لیجئے کہ کسی جنت کا وجود نہیں (میں یہ سمجھ سکتا ہوں!)، پھر بھی میں تبلیغ اسی طرح جاری رکھوں گا۔ اس کے باوجود یہ بات بہت سادہ ہے: ایک دن، کسی ایک گھنٹے میں ، یہ سب کچھ ایک دم قائم کیا جا سکتا ہے! بنیادی بات یہ ہے کہ دوسروں سے اسی طرح محبت کی جائے جیسے اپنی ذات سے، یہ بنیادی بات ہے، اور یہی ساری بات ہے، کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں: ایک دم دریافت ہو جائے گا کہ یہ سب کچھ کیسے قائم کیا جائے۔ اور یہ محض ایک قدیم سچائی ہےجو تکرار سے دہرائی جاتی رہی ہے، ارب ہا ارب بار بتائی گئی ہے لیکن کبھی جڑ نہیں پکڑ سکی!’’حیات کا شعور حیات سے بلند ہے، اور مسرت کے قوانین کا علم مسرت سے ارفع ہے‘‘، یہ ہے وہ تصور جس کے خلاف جنگ ضروری ہے! اور میں کروں گا۔ اگر صرف ہر کوئی چاہے تو ہر چیز ایک دم قائم کی جا سکتی ہے۔
اور مجھے وہ ننھی بچی مل گئی۔۔۔تو میں چلتاہوں! میں چلتا ہوں۔

تعارف و ترجمہ: عاصم بخشی

عاصم بخشی کا یہ ترجمہ اور دوسرے تراجم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین