منگل، 10 نومبر، 2015

ہر گھڑی دھیان/زین (Zen) کہانیوں سے ایک انتخاب

اپنی زندگی کے آخری ایام میں گوتم بدھ ایک مرتبہ اپنے شاگردوں کو تعلیم کی غرض سے ایک پرسکون تالاب کے پاس لے گیا۔ تمام معتقد حسبِ معمول اپنے گرو کے اردگرد دائرے کی صورت میں بیٹھ گئے اور خطبہ شروع ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ بدھ کی خاموشی طول پکڑتی گئی۔حاضرین کی بے چینی بڑھتی گئی۔ بالاخر بدھ نے کنول کا ایک پھول توڑا اور خاموشی کے ساتھ ان کے سامنے اٹھایا۔شاگردوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ بدھ نے وہ پھول یکے بعد دیگرے سب شاگردوں کے سامنے کیا ہر ایک نے اپنی دانست کے مطابق اس رمز کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر جب مہاکھشیاپا نامی ایک شاگرد کے سامنے کنول کا پھول آیا تو کچھ کہنے کی بجائے وہ فقط مسکرادیا۔ بدھ نے وہ پھول مہاکھشیاپا کے حوالے کیا اور سب سے مخاطب ہوکر کہا: ’’ جو کچھ بیان کیا جاسکتا تھا وہ تو میں تم سب کو بتا چکااور جو بیان نہیں کیا جاسکتا وہ میں مہاکھشیاپا کے حوالے کررہا ہوں!‘‘
اس داستان سے مشرقِ بعید کے مخصوص مزاج کے حامل بدھ مت زین (Zen) (سنسکرت لفظ ’دھیان‘ کی بالواسطہ جاپانی صورت) کا آغاز ہوتا ہے۔ ذیل میں اس روایت سے روحانی و اخلاقی اہمیت کی حامل چند داستانیں پیش کی جاتی ہیں۔ اس مخصوص مزاج کے متعلق اپنی جانب سے کوئی تعارفی معلومات دینے کی بجائے ہم توقع کرتے ہیں کہ قارئین ان داستانوں کی روشنی میں خود اس کا اندازہ کرنے کی کوشش کریں۔ یوں بھی ایک ایسی روایت جو تصورات و عقائد پیش کرنے کی بجائے حقیقت کی جانب خاموش اشارہ کرنے کے باعث پہچانی جاتی ہو ایسے ہی کسی لائحہ عمل کی متقاضی ہے۔ اسی طرح ہم ان داستانوں سے یہاں کسی قسم کے نتائج بھی اخذ نہیں کریں گے اور یہ کام اپنے قارئین پر چھوڑ نا پسند کریں گے۔
میں نے یہ داستانیں چارلس رپر کی کتاب Zen Flesh, Zen Bones سے منتخب کی ہیں۔

۱
اندھے کی لالٹین
ایک نابینا راہب اپنے کسی دوست سے ملنے اس کے گا ؤں پہنچا۔ رات کو واپسی کا قصد کیا تو میزبان نے اسے ایک لالٹین دی۔ راہب نے ہنستے ہوئے میزبان سے کہا : ’’ بھلا مجھ اندھے کو لالٹین کاکیا فائدہ ؟ میرے لیے تو دن کو بھی اندھیرا ہی ہوتا ہے۔‘‘ میزبان بولا: ’’یہ لالٹین میں آپ کو اس لیے ساتھ لے جانے کا مشورہ دے رہا ہوں کہ کہیں کوئی اور مسافر آپ سے ٹکرا نہ جائے۔ ‘‘ اس پر راہب نے لالٹین لے لی اور چل دیا۔ کافی دیر چلتے رہنے کے بعد اچانک ایک شخص اس سے ٹکرا گیا۔ راہب کو بہت غصہ آیا اور وہ اس شخص پر برس پڑا کہ کیا وہ بھی اندھا ہے۔ اس شخص نے کہا: ’’ میں معذرت خواہ ہوں جناب، مگر آپ کی لالٹین تو بجھ چکی ہے!‘‘

۲
اپنا پیالہ خالی کرو!
جاپان کے ایک زین ماہر نان اِن سے یونیورسٹی کا ایک استاد ملنے آیا اور زین کی حقیقت دریافت کی۔ میزبان نے مہمان کو چائے پیش کی اور اس کی پیالی میں چائے انڈیلتا رہا یہا ں تک کہ چائے پیالی سے باہر گرنے لگی۔ کچھ دیر تو پروفیسر خاموشی سے دیکھتا رہا پھر اس سے رہا نہ گیا ، کہنے لگا: ’’جناب یہ پیالی بھر چکی ہے اب اس میں مزید چائے کی گنجائش نہیں!‘‘ نان اِ ن نے کہا ’’ بالکل اس پیالی کی مانند تم بھی اپنی آرا اور وہم و گمان سے بھرے ہو۔ جب تک تم اپنا پیالہ خالی نہ کرو میں تمھیں زین کی حقیقت کیسے سمجھا سکتا ہوں؟

۳
اچھا؟
مشہور زین ماہر ہا کوئن اپنی صاف ستھری زندگی کے باعث ہمسائیوں کے ہاں نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ یوں ہوا کہ اشیائے خورد ونوش کے ایک قریبی تاجر کی خوبصورت کنواری بیٹی حاملہ پائی گئی۔ اس کے والدین نے اس گناہ کے ذمہ دار شخص کا نام پوچھا۔ لڑکی نے اپنے آشنا کو بچانے کے لیے ہاکوئن پر الزام عائد کردیا۔ وہ لوگ غیض و غضب میں بھرے ہوئے ہاکوئن کے ہاں پہنچے۔ ہاکوئن کے منہ سے بس ایک لفظ نکلا : اچھا؟ کچھ عرصے میں بچہ تولد ہوااور اسے ہاکوئن کے حوالے کردیا گیا، جو کہ اس وقت تک اپنی نیک نامی کھو چکا تھا مگر اسے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہ تھی۔ اس نے بچے کا بہت خیال رکھا اور اس کی پرورش نہایت توجہ سے کرتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد لڑکی کا ضمیر جاگ اٹھا اور اس نے اپنے والدین کو اصل مجرم کے نام سے آگاہ کردیا وہ لوگ بہت شرمندہ ہوکر ہاکوئن کے گھر آئے اور اس کے سامنے اپنی غلطی کا اقرار کرکے معافی کے خواستگار ہوئے اور بچہ واپس کرنے کی درخواست کی۔ اس پر پھر اس شخص کی زبان نے سے ایک لفظ ہی برآمد ہوا: ’’ اچھا؟‘‘

۴
اتار دو!
تانزان اور ایکیدو ایک مرتبہ اکٹھے سفر کررہے تھے۔ بہت تیز بارش کے باعث راستے کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک موڑ پر پہنچے تو انہیں ایک خوبصور ت نوجوان لڑکی کھڑی نظری آئی جو ندی پار کرنے سے گھبرا رہی تھی۔ ’’آؤ لڑکی!‘‘ تانزان نے کہا اور اپنے بازؤوں پر اٹھا کر اسے ندی سے پار اتار دیا۔ جب دونو ں مسافر رات کو ایک سرائے میں پہنچے تو ایکیدو ، جس نے اب تک بالکل کچھ نہ کہا تھا، بول پڑا: ’’ہم راہب لوگ خواتین کے نزدیک نہیں جاسکتے کیونکہ ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں، تو پھر تم نے آج یہ کیا کیا؟ ‘‘ تانزان نے جوا ب دیا: ’’میں نے تو اس لڑکی کو وہیں اتار دیا تھا کیا تم نے ابھی تک اسے اٹھا رکھا ہے؟ ‘‘

۵
پہلا اصول
جاپان کے شہر کیوٹو میں واقع اوباکو معبد میں داخل ہونے پر یہ الفاظ دروازے پر کندہ ملتے ہیں: ’’پہلا اصول‘‘۔ اس تحریر کے حروف نہایت جلی ہیں اور خطاطی کے ماہرین ہمیشہ سے انہیں شاہکار قرادیتے آئے ہیں۔ یہ الفاظ دوسو سال پہلے کو سین نے لکھے تھے۔ ان الفاظ کی خطاطی کے دوران ان کا ایک شاگرد بھی پاس تھا جو ہمیشہ استاد کے کام پر تنقید کیا کرتا۔ استا د کا کام دیکھ کر وہ بولا: ’’ یہ تو کوئی خوبصورت خطاطی نہیں!‘‘ استاد نے ایک اور نمونہ تیار کرکے شاگرد کو دکھایا۔ ’’ یہ تو پہلے سے بھی برا ہے!‘‘ نک چڑھا شاگرد بولا۔ کوسین نے نہایت صبر کے ساتھ یکے بعد دیگرے چوراسی مرتبہ وہ الفاظ لکھے مگر شاگرد کو کوئی بھی پسند نہ آیا۔ پھر وہ شاگرد کچھ دیر کے لیے معبد سے باہر آیا اور کوسین نے سوچا کہ اب اس شاگرد کی تنقیدی آنکھ سے بچ کر اور پرسکون ذہن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ہے۔ لہٰذا اس نے جلدی جلدی ایک کاغذ پر یہ تحریر لکھ ڈالی۔ اس کاغذ سے یہ تحریر لکڑی پر کندہ کی گئی۔ اس مرتبہ وہ شاگرد بھی کہہ اٹھا : ’’بے شک یہ ایک شاہکار ہے!‘‘

۶
کانے کی جیت!
سفر کے دوران اگر کوئی راہب کسی خانقاہ میں رات بسر کرنا چاہے تو اسے خانقاہ میں موجود کسی راہب یا عالم سے مناظرہ جیتنا پڑتا ہے اگر وہ ایسا کرلے تو اسے مفت رہائش دی جاتی ہے ورنہ وہا ں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ملتی۔
شمالی جاپان کے کسی معبد میں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ بڑا بھائی تو تعلیم یافتہ اور مہذب شخص تھا جب کہ ایک آنکھ سے محروم چھوٹا بھائی ان پڑھ تھا۔ ایک رات کسی راہب نے دروازے پر دستک دی اور رات بسر کرنے کی اجازت چاہی۔ بڑے بھائی نے اسے شرط سے آگاہ کیا اور کہا کہ چونکہ میں اس وقت تھک چکا ہوں لہذا آپ میرے چھوٹے بھائی سے مناظرہ کرلیجئے اگر آپ جیت گئے تو آپ کو یہا ں قیام کی اجازت ہوگی۔ مسافر بے چارہ رضامند ہوگیا اور چھوٹے بھائی سے بات چیت کے لیے چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا اور کہنے لگا ’’ آپ کا چھوٹا بھائی تو بہت بڑا عالم ہے اس نے مجھے فورا پچھاڑ دیا۔ لہذا میں شرط ہار گیا ہوں ، مجھے اب یہاں رہنے کا حق نہیں۔ ‘‘ بڑے بھائی نے مناظرے کی تفصیل پوچھی۔ اس نے کہا’’ سب سے پہلے تو میں نے اس کے سامنے ایک انگلی سے اشارہ کیا جس سے میری مراد گوتم بدھ سے تھی۔ آپ کے بھائی نے جواباً دو انگلیاں اٹھائیں کہ بدھ کے ساتھ اس کی تعلیمات بھی ہیں۔ میں نے تین انگلیوں سے اشارہ کیا کہ بدھ ، ان کی تعلیمات کے علاوہ ان کے پیروکار بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ اس پر آپ کے بھائی نے مکا فضا میں لہرایا جس کا مطلب تھاکہ یہ تینوں ایک ہی حقیقت کے تین نام ہیں۔چنانچہ وہ جیت گیا اور میں ہار گیا اور اب مجھے اجازت دیجئے میں رات کا ٹھکانہ کہیں اور ڈھونڈ لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر مسافر چل دیا۔ اتنی دیر میں چھوٹا بھائی آگیا وہ نہایت غصے کے عالم میں تھا۔ بڑے بھائی نے اسے مناظرہ جیتنے کی مبارک دی تو وہ کہنے لگا میں نے کچھ نہیں جیتا، وہ مسافر کہاں ہے میں اسے ماروں گا۔ بھائی نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا: ’’ ہم دونوں مناظرے کے لیے بیٹھے تو اس بدتمیز شخص نے ایک انگلی بلند کرکے میرے ایک آنکھ سے محروم ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ مجھے توہین محسوس ہوئی مگر میں نے سوچا کہ مسافر کیساتھ خوش اخلاقی سے پیش آؤں لہٰذ ا میں نے دو انگلیا ں دکھا کر اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس کی تو دونوں آنکھیں سلامت ہیں۔مگر اس آدمی نے تین انگلیوں کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ میری اور تمھاری آنکھوں کا حاصلِ جمع تین ہے۔ اس پر مجھے غصہ آگیا میں اسے گھونسہ رسید کرنا چاہتا تھا مگر وہ فوراً وہاں سے بھاگ نکلا!‘‘

۷
ہر شے بہترین ہے
جب بازان بازار سے گزر رہا تھا تو اس کے کانوں میں ایک قصاب اور اس کے گاہک کی گفتگو کی آواز پڑی۔
گاہک: ’’مجھے گوشت کا بہترین پارچہ دے دو!‘‘
قصاب: ’’ جناب میری دکان میں ہر شے بہترین ہے!‘‘
’’ہر شے بہترین ہے ‘‘یہ الفاظ سنتے ہی بازان کو گیان حاصل ہوگیا۔

۸
کنجوس بیوی
موکوسین تامبا صوبے کے ایک معبد میں قیام پذیر تھا۔ اس کے ایک پیروکار نے اس سے اپنی بیوی کی کنجوسی کی شکایت کی اور درخواست کی کہ وہ اس کی بیوی کو نصیحت کرے۔ موکوسین اس شخص کے پیروکار کے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ بیوی نے دروازہ کھولا۔ موکوسین نے اپنی بند مٹھی اس کے چہرے کے سامنے کی۔ عورت نے اس بات کا مطلب دریافت کیا تو موکوسین نے اس سے پوچھا: ’’ اگر میرا ہاتھ ہمیشہ اسی حالت پر رہے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ ‘‘ ’’ مفلوج‘‘ عورت نے فوراً جواب دیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ کو پور ا کھولا اور اس عورت سے پوچھا ’’ اور اگر میرا ہاتھ ہمیشہ ایسا رہے تو پھر؟ ‘‘ ’’ پھر بھی اسے مفلوج ہی کہا جائے گا۔‘‘ ’’ اگر تم اتنی بات سمجھتی ہو تو پھر تم ایک اچھی بیوی ہو‘‘۔ اس دن کے بعد اس عورت کی کنجوسی کی کوئی شکایت نہ ملی۔

۹
ہر گھڑی دھیان
تدریس کے فرائض سنبھالنے سے پہلے زین کے طالبعلم کم از کم دس سال کسی ماہر کے ساتھ گزارتے ہیں۔
نان اِن سے ملنے اس کا ایک سابقہ شاگرد تیننو آیا جو دس سال پورے کرنے کے بعد کسی اور علاقے میں روحانی تعلیم سے وابستہ تھا۔ بارش ہو رہی تھی اور مہمان نے لکڑی کے جوتے پہن رکھے تھے اور چھتری اٹھا رکھی تھی۔ یہ چیزیں دروازے کے پاس چھوڑ کر تیننو اندر آیا۔ استا د نے اس سے پوچھا: ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے اپنی چھتری جوتوں کے دائیں جانب رکھی تھی یا بائیں جانب؟‘‘ تیننو اس سوال کا کوئی جواب نہ دے پایا۔ اسے احساس ہوا کہ ’’ہر گھڑی دھیان‘‘ کے اصول پر وہ عمل نہ کرسکا۔ لہٰذا اس نے چھ مزید سال نان اِن کی زیرِ نگرانی گزارے۔

۱۰
زِین کی حقیقت
چھٹی صدی میں زین کو بودھی دھرما نے چین میں متعارف کرایا۔ سنہ1004 میں چینی عالم دو جین کی تیار کردہ سوانح عمری کے مطابق چین میں نو سال گزارنے کے بعدبودھی دھرما نے وطن ہند)واپس جانے کا ارادہ کیا اور اپنے شاگردوں کا امتحان لینے کی غرض سے انہیں اپنے گرد جمع کیا تا کہ اندازہ ہو سکے کہ وہ معرفت کے کس درجے پر پہنچے ہیں۔
دوفْو کو نے کہا: ’’ میری رائے میں ،حقیقت نفی واثبات سے پرے ہے۔ ‘‘
بودھی دھرما نے اس سے کہا: ’’ تم میری [تعلیم کے] پوست تک پہنچ گئے!‘‘
ایک راہبہ سَوجی نے کہا: ’’ میرے نزدیک یہ انندا کا بدھ کی سرزمینِ بہشت کو ایک لمحے میں اور ہمیشہ کے لیے دیکھ پانا ہے‘‘
بودھی دھرما نے کہا: ’’تم میری [تعلیم کے] گوشت تک پہنچ گئی‘‘
دو فْ و کو نے پھر کہا: ’’ روشنی، ہوا، بہاؤ اور ٹھوس یہ چاروں عناصر خالی ہیں۔میری رائے میں ’’لا شے‘‘ ہی حقیقت ہے‘‘
بودھی دھرما نے تبصرہ کیا: ’’ تم میری[تعلیم کی ]ہڈیوں تک پہنچ گئے!‘‘
سب سے اخیر میں ایک ا نامی ایک شاگرد آگے بڑھا ، استاد کے سامنے رکوع کیا اور بالکل خاموش رہا۔
بودھی دھرما نے کہا :’’ تم میری [تعلیم کی ہڈیوں کے] گودے تک پہنچ گئے!‘‘

۱۱
تیتسوجین زین بدھ مت کا ایک جاپانی پیرو کار تھا۔ ایک مرتبہ اس نے بدھ مت کی مذہبی کتاب [سوترا]کو جاپانی زبان میں شائع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ اس سے پہلے وہ فقط چینی زبان میں ہی دستیاب تھے۔ چونکہ یہ اشاعت گیارہ ہزار نسخوں پر مشتمل ہونا تھی اس لیے اسے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت تھی۔ لہذا وہ عطیات اکٹھے کرنے کے لیے ایک لمبے سفر پر روانہ ہوگیا۔ چند سخی لوگوں نے اسے سونے کی کئی اشرفیاں دیں جبکہ زیادہ تر لوگوں نے معمولی رقوم ہی عطیہ کیں۔ مگر تیتسوجین نے سب لوگوں سے یکساں احسان مندی کا اظہار کیا۔ تقریباً دس سال چندہ اکٹھا کرنے کے بعد اشاعت کے لیے کافی رقم جمع ہو چکی تھی۔
ان دنوں اْوجی دریا میں طغیانی کے باعث علاقے میں شدید قحط پھیل گیا۔ تیتسوجین نے اشاعت کی غرض سے جمع شدہ تمام رقوم لوگوں کو بھوکا مرنے سے بچانے پر صرف کردی۔ اور دوبارہ چندہ اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ کئی سال بعد جب وہ دوبارہ مطلوبہ رقم جمع کرچکا تو اس کے علاقے کو متعدی وبا نے آلیا اور تیتسوجین نے ایک بار پھر تمام رقم لوگوں کی مدد پر صرف کردی۔
تیسری مرتبہ کئی سال کی محنت سے وہ رقم مہیا کرنے میں کامیاب ہوا او ر بالآخر اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ اس کی شائع کردہ کتاب کو آج بھی کیوٹو شہر کی اوباکو خانقاہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
جاپان میں لوگ اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ تیتسوجین نے وہ مذہبی کتاب تین مرتبہ شائع کی۔ پہلی دو غیر مرئی طباعتیں تیسری سے عظیم تر تھیں!

۱۲
شوچی زین کا ایک یک چشم ماہر تھا گیان جس کے رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔ وہتو فو کو معبد میں تعلیم دیا کرتا۔ رات دن تمام لوگ بالکل خاموشی سے مراقبے میں مصروف رہتے۔ کوئی ہلکی کی سی آواز بھی کبھی اس معبد سے سنائی نہ دیتی۔ یہاں تک کہ اس نے مقدس کتب کی تلاوت کی بھی ممانعت کررکھی تھی لہٰذا مراقبے کے سوا شاگردوں کے پاس کرنے کا کوئی کام نہ تھا۔ جب وہ مرگیا تو پڑوسیوں نے گھنٹیوں اور کتب پڑھے جانے کی آوازیں سنیں تو انہیں معلوم ہوا کہ شوچی مرچکا ہے۔

۱۳
زین ماہر سن گائی کے زیرنگرانی بہت سے شاگرد تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک نے یہ عادت اپنا لی کہ آدھی رات کو معبد کی دیوار پھلانگ کر بازار چلا جاتا اور کھیل تماشوں میں لگا رہتا۔ ایک رات استاد نے شاگرد کو بستر سے غائب پایا۔ معبد کا جائزہ لینے پر اسے دیوار کے ساتھ ایک کرسی رکھی دکھائی دی جس پر چڑھ کر شاگرد دیوار پھلانگا کرتا تھا۔ اس نے وہ کرسی وہاں سے ہٹائی اور بالکل اس جگہ جھک کر کھڑا ہوگیا۔ رات کے پچھلے پہر شاگرد واپس آیا تو کرسی سمجھ کر استاد کی پیٹھ پر پاؤں رکھ کر زمین پرکود پڑا۔ جب صورتحال واضح ہوئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ سن گائی نے اسے پیار سے کہا: ’’ بیٹا اس وقت ٹھنڈ بہت ہوتی ہے اپنا خیال رکھا کرو ایسا نہ ہو کبھی بیمار پڑ جاؤ۔‘‘ شاگر د یہ مشفقانہ رویہ دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگیا اور پھر کبھی ایسی حرکت نہ کی۔

۴۱
زین مکالمہ
قریب قریب واقع دو معابد میں دو کم عمر لڑکے صبح کے وقت بازار سے سبزی لینے جایا کرتے۔ ایک لڑکے کا سامنا دوسرے سے ہوا تو اس سے پوچھا:
’’تم کہاں جارہے ہو؟‘‘
جواب ملا: ’’ جہاں میرے پاؤں جارہے ہیں‘‘
سوال کرنے والے لڑکے کو اپنی ہتک محسوس ہوئی اور اس نے اپنے استاد کے سامنے یہ واقعہ دہرا کر رہنمائی طلب کی۔ استاد نے کہا : کل جب وہ تمھیں ملے تو پھر اس سے یہی سوال پوچھنا اس کا جواب وہی ہوگا۔ اس پر تم اس سے کہنا : ’’فرض کرو تمھارے پاؤں نہ ہوں تو پھر تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘‘ شاگرد یہ جب دوبارہ یہ سوال اس لڑکے سے کیا تو اس نے جواب دیا: ’’ میں وہاں جارہا ہوں جہاں ہوا جارہی ہے‘‘ شاگر د ایک بار پھر شکایت لے کر اپنے استاد کے پاس پہنچا استاد نے اس لڑکے سے یہ پوچھنے کا کہا کہ ’’ اگر ہوا کہیں نہ جا رہی ہو تو پھر تم کہاں جارہے ہو؟ ‘‘
اگلی صبح دونوں کا ایک بار پھر سامنا ہوا:
شاگرد: ’’تم کہاں جارہے ہو؟ ‘‘
لڑکا: ’’بازار سے سبزی لینے!‘‘

۱۵
زین ماہر اکیو لڑکپن سے ہی نہایت ذہین تھا۔ اس کے استاد کے پاس ایک نہایت قیمتی اور قدیم پیالہ تھا جسے وہ بہت پسند کرتا تھا اکیو کے ہاتھ سے گر کر وہ پیالہ ٹوٹ گیا اور وہ سخت پریشان ہوا۔ استاد کے آنے پر اس نے پیالے کے ٹکڑے چھپادئیے اور اس سے پوچھا: ’’ہم مرتے کیوں ہیں؟‘‘ استاد نے وضاحت کی کہ یہ فطرت کا ایک اصول ہے، اس دنیا میں ہر ایک شے فانی ہے اور ہرایک کی موت کی ایک ساعت مقرر ہے۔ یہ سن کر اکیو نے پیالے کے ٹکڑے استاد کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا: ’’ تو جناب میرا خیال ہے آپ کے پیالے کاآخری وقت آچکا تھا۔ ‘‘

۱۶
سب مایا ہے!
زین بدھ مت کا ایک طالبعلم یاما اوکا کئی ماہرین سے ملنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ دوکوآن نامی ایک ماہر کے ہاں پہنچا اور اس فلسفے میں اپنی مہارت ثابت کرنے کی غرض سے کہنے لگا: ’’ذہن، بدھ اور احساس کی حامل اشیا کا کوئی وجود نہیں۔ اسی طرح گیان، التباس، حکما اور عام آدمی بھی حقیقت میں کچھ نہیں۔ نہ تو دینے کو کچھ ہے اور نہ ہی لینے کو‘‘دوکوآن اس وقت خاموشی سے تمباکو نوشی میں مصروف تھا۔ اس نے یہ بات سن کر کچھ نہ کہا پھر اچانک اپنی بانس کی نالی طالبعلم کو زور سے رسید کی۔ شاگرد غصے میں آگیا۔ اس پر دوکوان بولا: ’’ اگر سب مایا ہے تو یہ غصہ کہاں سے آیا؟‘‘

۱۷
اصل کرامت:
جب بانکائی ایک مشہور معبد میں درس دے رہاتھا تو مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والا ایک راہب جس کے عقیدے کے مطابق گیان حاصل کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ بدھ کے نام کا جاپ کیا جائے سامعین کی کثیر تعداد دیکھ کر حسد میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے بانکائی کو مناظرے کی دعوت دی۔ راہب نے اپنے فرقے کے بانی کے متعلق ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ’’وہ اس قدر پہنچے ہوئے بزرگ تھے کہ ایک مرتبہ خطاطی کا برش لے کر وہ دریا کے ایک کنارے پر کھڑے ہوے اور دوسرے کنارے پر ایک شاگرد نے کاغذ ان کے سامنے رکھا۔ ہمارے استاد نے وہیں کھڑے کھڑے اشاروں میں کچھ لکھا اور خطاطی کا ایک شاہکار دوسرے کنارے پر موجود کاغذ پر بنتا چلا گیا!‘‘ بانکائی نے جواب دیا: ’’ ممکن ہے لومڑی جیسے مکار تمھارے استاد نے یہ کرامت دکھلائی ہو۔ میری کرامت یہ ہے کہ جب مجھے بھوک لگتی ہے میں کھانا کھاتا ہوں اور جب پیاس محسوس ہو تی ہے تو پانی پیتا ہوں۔‘‘

۱۸
خوشحالی:
کسی امیر آدمی نے سن گائی سے کوئی ایسا حکیمانہ قول لکھنے کی فرمائش کی جسے وہ اپنے آئندہ نسلوں کی تربیت کے لیے محفوظ کرسکے۔ سنگائی نے یہ جملہ لکھ کر دیا: ’’ باپ مرجاتا ہے۔ بیٹا مر جاتا ہے۔ پوتا مر جاتا ہے۔‘‘ اس پر وہ امیر آدمی غصے میں آکر کہنے لگا: ’’ میں نے آپ سے حکمت آموز بات کی فرمائش کی تھی آپ نے یہ کیا لطیفہ لکھ دیا؟ ‘‘ سن گائی نے کامل اطمینان سے جواب دیا: ’’ میں بالکل سنجیدہ ہوں۔ دیکھو ، اگر تم سے پہلے تمھارا بیٹا مر جائے تو تمہیں بہت دکھ ہوگا اور اگر تمھارے بیٹے سے قبل تمھارا پوتا مرجائے تو تم دونوں پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی لیکن اگر تمھارے خاندان کی ہر نسل اس ترتیب سے مرے جس کا اس قول میں ذکر ہے تو یہ فطری اندازِ زندگی ہوگا اور میری نظر میں اصل خوشحالی یہی ہے۔ ‘‘

۱۹
ذہن میں پتھر:
ہوجین ایک چینی ماہر کسی معبد میں تنہا رہا کرتا تھا۔ ایک شام چار راہب اس کے دروازے پر آئے اور معبد کے صحن میں آگ جلانے اور رات بسر کرنے کی اجازت طلب کی اس نے انہیں اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد اسے ان کی باتوں کی آواز سنائی دی۔ وہ لوگ اس بات پر بحث کررہے تھے کہ دنیا ذہن کے اندر ہے یا باہر۔ ہوجین بھی ان کے پاس آبیٹھا اور ایک راہب سے پوچھنے لگا: ’’سامنے پڑا وہ بڑا پتھر دیکھو ! کیا یہ تمھارے ذہن سے باہر واقع نہیں؟ ‘‘ راہب نے جواب دیا: ’’ بد ھ مت کے نقطۂ نظر سے ہر شے ذہن ہی میں ہے لہٰذا یہ پتھر بھی میرے ذہن کے اندر ہی ہے۔ ‘‘ ہو جین نے کہا: ’’ پھر تو تمھارا سر ہمیشہ بھاری رہتا ہوگا کیونکہ تم اس چٹان کو ہر وقت ذہن میں اٹھائے پھرتے ہو!!‘‘

۲۰
اپنا غصہ دکھاؤ!
ایک شاگرد نے بانکائی سے شکایت کی کہ اسے غصہ بہت آتا ہے اور وہ اپنی اس فطرت سے نجات چاہتا ہے۔ بانکائی نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اپنا غصہ دکھائے۔ شاگرد نے کہا کہ غصہ اس پر اچانک طاری ہوا کرتا ہے اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ جب چاہے اپنی مرضی سے غصے میں آسکے۔ اس پر بانکائی نے اسے سمجھایا: ’’ اگر ایسا ہے تو پھر وہ تمھاری فطرت کا حصہ نہیں اگر وہ تمھاری فطر ت کا حصہ ہوتا توتم جب چاہتے غصے میں آسکتے۔ یہ پیدائش کے وقت تمھاری فطرت کا حصہ نہ تھا۔ اس بات پر غور کرو!‘‘

۲۱
زین کے ایک چینی ماہر سوزان سے کسی نے پوچھا: ’’دنیا کی انمول ترین شے کیا ہے؟ ‘‘
’’ ایک مردہ بلی کا سر!‘‘ سوزان نے جواب دیا
’’اس کی کیا وجہ ہے؟ ‘‘ پوچھا گیا
’’ کیونکہ مردہ بلی کے سر کا مول کوئی نہیں لگا سکتا!‘‘

۲۲
آپ ہی رکھئے!
مونان کی تعلیم کا وارث اس کا فقط ایک شاگرد شو جو تھا جب وہ اپنی تربیت مکمل کرچکا تو مو نان نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا اور کہا: ’’ میں اب بوڑھا ہو چلا ہوں میری اس تعلیم کو لے کر آگے چلنے والے بس تم ہی ہو۔ دیکھو یہ ایک کتاب ہے جو نسل در نسل ہمارے مکتب میں چلی آرہی ہے میں نے اس میں کچھ مزید نکات کا اضافہ بھی کیا ہے۔ یہ کتاب بہت اہم ہے میں یہ تمھیں دینا چاہتا ہوں تاکہ میرے روحانی وارث ہونے کی حیثیت سے تم پہچانے جاؤ!‘‘ شوجو نے جواب دیا: ’’ اگر یہ کتاب اتنی اہم ہے تو اسے آ پ اپنے پاس ہی رکھئے میں نے زین کی تعلیم آپ سے تحریر کے بغیر حاصل کی ہے اور وہ میرے لیے کافی ہے۔ ‘‘ مونان نے کہا: ’’ میں جانتا ہوں مگر چونکہ یہ کتاب ہمارے بزرگوں سے منتقل ہوتی چلی آئی ہے اس لیے تم یہ رکھ لو ! تمھارے پاس اس کا ہونا یہ ثابت کرے گا کہ تمہیں گیا ن حاصل ہو چکا ہے۔ ‘‘ یہ کہ کر استاد نے کتاب شو جو کے ہاتھ پر رکھ دی۔ شاگرد نے فوراً وہ پاس رکھے آتش دان میں جھونک دی۔

۲۳
بدھ مت کے قاتل!
گاسان ایک دن اپنے شاگردوں کو یوں تعلیم دے رہا تھا: ’’ جو لوگ قتل کی مخالف کرتے اور احساس رکھنے والی تمام اشیاکی جان بچانے کی تبلیغ کرتے ہیں بے شک وہ سیدھے راستے پر گامزن ہیں۔ جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی حفاظت کرنا اچھی بات ہے۔ لیکن ان لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے جو وقت کا قتل (ضیاع) کرتے ہیں؟ مال و متاع اور ملکی معیشت کو تباہ وبرباد کرتے ہیں ؟ ہمیں ایسے لوگوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مزید براں کچھ لوگ ایسے بھی تو ہیں جو خود گیان حاصل کیے بغیر دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں، یہ لوگ تو بدھ مت ہی کو قتل کرتے ہیں!

۲۴
تم جانتے ہو ہم کون ہیں؟
جاپانی فوجیوں کا ایک دستہ گاسان کے معبد میں ٹھہر ا۔ گاسان نے اپنے باورچی کو ہدایت دی کہ ان لوگوں کو وہی سادہ کھانا پیش کیا جائے جو سب لوگ وہاں کھاتے ہیں۔ اس پر فوجی ناراض ہوگئے اور گاسان سے کہا: ’’ تمہیں معلوم نہیں ہم کون ہیں؟ ہم سپاہی ہیں اور ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں! تم ہماری خدمت ہمارے شایانِ شان طریقے سے کیوں نہیں کرتے؟‘‘گاسان نے جواب دیا: ’’تمہیں معلوم نہیں ’’ہم‘‘ کون ہیں؟ ہم انسانیت کے سپاہی ہیں اور ہمارا مقصد تمام موجودات کو بچانا ہے۔ ‘‘

۲۵
ہاکوئن کے پاس ایک سپاہی آیا اور دریافت کیا: ’’کیا جنت اور دوزخ حقیقی ہیں؟‘‘
’’تم کون ہو؟ ‘‘ ہاکوئن نے پوچھا
’’ میں ایک جنگجو ہوں‘‘ جوا ب ملا۔
’’ تم اور جنگجو! کون احمق بادشاہ تم جیسے کسی گاؤدی کو اپنا سپاہی مقرر کرے گا؟ چہرے سے تو تم بھکاری دکھائی دیتے ہو!‘‘
اس پر سپاہی غضب ناک ہوکر اپنی تلوار نیام سے نکالنے لگا۔
’’اچھا تو تمھارے پاس تلوا ر بھی ہے؟ اس کند تلوار سے میرا سر قلم نہیں کیا جاسکتا!‘‘
جب سپاہی نے تلوار سونت لی تو ہاکوئن نے کہا: ’’لو جہنم کا دروازہ کھل گیا!‘‘
سپاہی نے شرمندہ ہوکر تلوار پھر سے نیام میں ڈال لی۔ اس پر ہاکوئن نے کہا: ’’ لو اب جنت کا دروازہ کھل گیا۔‘‘

انتخاب و ترجمہ: قیصر شہزاد

بشکریہ: قاسم یعقوب

2 تبصرے:

Asad Ikram کہا...

Zen kitabo ka urdu may tarjuma honay say aam logo k liye in taleemat ko samajna asan hoga

Ansar Younas کہا...

,nice

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *