منگل، 22 دسمبر، 2015

اسلام اور پاکستان/مولانا ابوالکلام آزاد

مولانا آزاد پر جو کچھ اب تک لکھا گیا ہے اس میں اس مضمون کا ذکر میری نظر سے نہیں گزرا۔ ادھر انٹرنیٹ پر اس مضمون کے چند حِصّوں کا ترجمہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ شورش کاشمیری مجلس احرار اسلام سے تعلق رکھتے تھے اور ہفتہ وار ’چٹان‘ (لاہور) کے مدیر تھے۔ مولانا آزاد سے کافی قریب تھے اور ان سے ملتے رہتے تھے۔ انھوں نے مولانا سے اپنی تین ملاقاتوں کے دوران جو گفتگو ہوئی تھی، اُسے قلم بند کیا تھا۔ یہ گفتگو ان کی کتاب ’ابوالکلام آزاد (سوانح و افکار)‘ کے باب ’اسلام اور پاکستان‘ میں شامل ہے۔ اس کتاب کا پہلا اڈیشن مطبوعہ ’چٹان‘ (لاہور) نے فروری ۱۹۷۸ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ میں موجود ہے اور اس باب کی نقل ڈاکٹر عطا خورشید نے مجھے فراہم کی۔ ممنون ہوں۔ مولانا آزاد کے ساتھ شورش کاشمیری کی دو ملاقاتیں ۱۹۴۲ء میں ہوئیں جب وزارتی مشن ہندوستان آیا ہوا تھا۔ تیسری ملاقات ۱۹۵۲ء میں ہوئی۔ یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ مضمون شورش کاشمیری نے اپنے ہفتہ وار ’چٹان‘ میں فوراً شائع کیا تھا یا نہیں، یا کئی برس بعد ۱۹۷۸ء میں پہلی بار ان کی کتاب میں شائع ہوا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ انھوں نے اس گفتگو کو فوراً لکھ لیا تھا یا کئی برس بعد۔ شورش کاشمیری کو ان سوالات کی توقع تھی۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں: ’’کہنا مشکل ہے کہ الفاظ تمام انھی کے ہیں، لیکن راقم کو اپنے حافظے پر ہمیشہ اعتماد رہا ہے۔ مفہوم انھی کا ہے اور الفاظ بھی قریب قریب انھی کے ہیں۔ کوئی سہو یا تسامح ہو تو اس کی مسؤلیت بہرحال راقم پر ہے‘‘۔
۱۹۴۲ء کی دو ملاقاتوں میں شورش کاشمیری نے مسلمانانِ ہند کے سیاسی مسائل، دو قومی نظریے اور ’تصورِ پاکستان، کے بارے میں سوالات کیے۔ ان کے جواب میں مولانا نے جو کہا وہ تقریباً وہی ہے جو وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں کہتے رہے ہیں۔ لیکن ۱۹۵۲ء کے انٹرویو میں مولانا نے تقسیم کے مسئلے پر، تقسیم کی صورت میں ہندوستانی مسلم ریاستوں کے بارے میں سردار پٹیل کے جن خیالات کا ذکر کیا ہے، آئندہ ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں جو پیش قیاسیاں کی ہیں وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ تحقیق طلب بھی ہیں، ان میں آئندہ ہونے والی سیاسی تبدیلیاں، پنجابی، سندھی، سرحدی اور بلوچی اختلافات کی صوبائی عصبیتوں کا طاقتور ہونا، اقتدار کا سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل کر عسکری طاقتوں کے ہاتھوں میں آجانا، بیرونی طاقتوں کا اِسی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاکر پاکستان کو بانٹنے کی کوشش کرنا اور مشرقی پاکستان کا علاحدہ ہوجانا۔۔۔ شامل ہیں۔
انور معظم

مولانا سے ملنا بہت مشکل تھا۔ کئی بڑے بڑے لوگ ہفتوں ملاقات کے لیے کوشاں ہوتے اور مایوس چلے جاتے، کچھ باریاب ہوتے تو زیادہ سے زیادہ آدھ پون گھنٹہ، سبب یہ تھا کہ مولانا:
۱۔ شروع دن سے کم آمیز تھے، ان کے لیے ملاقاتیوں کا ہجوم پریشانی کا باعث ہوتا، اکثر لوگ اس قسم کی باتیں کرتے جو انتہائی سطحی ہوتیں یا بے معنی و بے مقصد اور وہ ان سے طبعاً بیزار تھے۔
۲۔ کئی لوگ ذاتیات کا پلندہ لے کر آتے، مولانا ان چیزوں سے پرہیز کرتے۔ وہ شخصی عیب بینی یا عیب گوئی کو سخت ناپسند کرتے، حتیٰ کہ اپنے بدترین حریفوں کے متعلق بھی نازیبا الفاظ سنتے نہیں تھے۔
ایک دن شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین انصاری اور راقم الحروف صبح سویرے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشہور سوشلسٹ نوجوان منشی احمد دین بھی آگئے، انھوں نے گفتگو میں قائدِ اعظم کے متعلق ایک ایسا فقرہ کہہ دیا جو فروتر تھا۔ قائدِ اعظم نے مولانا سے متعلق پہلے ایک درشت کلمہ کہا تھا، اس سے عقیدت مندوں میں ہیجان تھا۔ مولانا نے منشی صاحب کی زبان سے فروتر کلمہ سنا تو فرمایا:
’’ناروا الفاظ بولنے سے آدمی بڑا نہیں ہوجاتا۔ اپنی زبان آلودہ نہ کیجیے۔ اس قسم کے الفاظ حلق سے نیچے نہیں اُترتے‘‘۔
مولانا کی طبیعت کلمہ کی درشتی سے بوجھل ہوگئی اور وہ اُٹھ کر اندر چلے گئے۔
مولانا علی گڑھ سے گزر رہے تھے کہ علی گڑھ کے طلبہ نے ریلوے پلیٹ فارم پر گھیر لیا اور سخت اہانت کی۔ ظاہر ہے کہ بدتمیزی کا بدترین مظاہرہ تھا، اس سے مولانا کے عقیدت مندوں کو سخت ٹھیس لگی۔ جب علی گڑھ کے طلبہ الیکشن کے زمانے میں پنجاب آئے تو انھوں نے مختلف شہروں میں مولانا کے خلاف شب و شتم کی عریاں بوچھاڑ کی۔ راقم سے قصور میں مڈبھیڑ ہوگئی، ان کی پٹائی ہوگئی تو اس پٹائی کا ملک بھر میں چرچا ہوا۔ مولانا نے راقم کو دہلی سے تار بھیجا کہ فوراً پہنچو، راقم پہنچا تو فرمایا:
’’قصور میں کیا ہوا ہے؟‘‘
راقم نے طلبہ کی زبان درازی کا ذکر کیا اور کہا کہ احراری عقیدت مندوں نے علی گڑھ کی بدتمیزی کا بدلہ لیا ہے۔ مولانا کا چہرہ سرخ ہوگیا، فرمایا:
’’ہلکی بات ہے، اپنے ہی بچّوں کی پٹائی سے فائدہ کیا؟ ان سے ایک غلطی ہوگئی، وہ جذبات سے بے بس تھے آپ بھی وہی کرو تو فرق کیا ہے؟ کوئی آدمی پٹائی یا ہاتھا پائی کرنے سے بالا نہیں ہوتا اور نہ اس طرح کسی کو جیت سکتا ہے۔ آج ان کی عقلیں بھڑکی ہوئی ہیں، کل وہ تجربے سے محسوس کریں گے کہ ان کے جذبات مشتعل کیے گئے تھے اور ان کی عقلیں غلط راہ پر ڈالی گئی تھیں۔ بہرحال میں نے تمھیں اس لیے بلایا ہے کہ ان چیزوں سے پرہیز کرو، خواہ وہ گالی دیں خواہ اس سے بھی آگے قدم اٹھائیں لیکن آپ انھیں تشدد سے زچ نہ کرو، وقت ان کے لیے خود معلم ثابت ہوگا‘‘۔
۳۔ وزارتی مشن کا زمانہ تھا اور ہم دہلی میں تھے، مولانا سے ملاقات اور بھی مشکل تھی۔ وہ دن بھر مذاکرات میں مشغول رہتے۔ رات کا ایک حصہ ورکنگ کمیٹی یا کانگریس کے زعما سے گفتگو میں صرف ہوتا۔ ایک روز فرمایا کہ ’’نمازِ فجر سے پہلے یا نمازِ فجر کے وقت چلے آیا کرو‘‘۔
میں عشرہ سے زیادہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ ان سے شبانہ روز کے سیاسی حالات اور ملک کا سیاسی مزاج بیان کرتا، وہ میرے بیان یا سوال کے جواب میں جو کچھ فرماتے وہ واپس آکر لکھ لیتا اور محفوظ کرتا رہا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ الفاظ تمام تر انھی کے ہیں لیکن راقم کو اپنے حافظے پر ہمیشہ اعتماد رہا ہے، مفہوم انھی کا ہے اور الفاظ بھی قریب قریب انھی کے ہیں کوئی سہو یا تسامح ہو تو اس کی مسؤلیت بہرحال راقم پر ہے۔ راقم نے عرض کیا:
’’ہندو مسلم مناقشات اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ جانبین میں مفاہمت کی دوسری تمام راہیں ناپید ہوکر پاکستان ناگزیر ہوچکا ہے‘‘۔
فرمایا: ’’ہندو مسلم مناقشات کا حل پاکستان ہوتا تو میں خود اس کی حمایت کرتا، ہندوؤں کا ذہن بھی اسی طرف پلٹ رہا ہے، ایک طرف آدھا پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان، دوسری طرف آدھا بنگال دے کر انھیں اگر سارا ہندوستان مل جائے تو ایک بہت بڑی سلطنت سیاسی حقوق کے ہر فرقہ وار قضیے سے محفوظ ہوجاتی ہے۔اس طرح ہندوستان ایشیا میں چین کے بعد لیگی اصطلاح کے مطابق ایک بڑی ہندو ریاست ہوگا، کسی حد تک عملاً بھی اور بڑی حد تک مزاجاً بھی یہ کوئی ارادی چیز نہ ہوگی بلکہ اس کے معاشرے کا خاصہ ہوگا۔ آپ ایک ایسے معاشرے کو جس کی آبادی نوّے فیصد ہندو ہو کسی اور سانچے میں کیونکر ڈھال سکتے ہیں، جب کہ زمانہ قبل از تاریخ سے وہ اسی سانچے میں ڈھلی ہو اور اس کی سب سے بڑی عصبیت ہو، وہ چیز جس نے اس معاشرے میں اسلام کی داغ بیل ڈالی اور اس کی آبادیوں میں سے اپنی ایک طاقتور اقلیت پیدا کی، اس تقسیمی سیاست کی پُرزور نفرت کے باعث وہ چیز ہی رُک گئی ہے۔ اب ہندوؤں اور مسلمانوں کی سیاسی منافرت نے اشاعتِ اسلام کے دروازے اس طرح بند کردیے ہیں کہ ان کے کھلنے کا سوال ہی نہیں رہا۔ گویا اس سیاست نے مذہب کی دعوت ختم کردی ہے۔ مسلمان قرآن کی طرف نہیں لوٹ رہے، اگر وہ قرآن و سیرت کے مسلمان ہوتے اور اسلام کی آڑ میں خود ساختہ سیاسی عصبیتوں کو استعمال نہ کرتے تو اسلام ہندوستان میں رُکتا نہیں، بڑھتا اور پھیلتا۔ اورنگ زیب کے وقت میں ہم مسلمان ہندوستان میں غالباً سوا دو کروڑ تھے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم، مغلیہ سلطنت ختم ہوئی، انگریز کا غلبہ ہوا تو مسلمان آج کا ۶۵ فیصد تھے۔ غرض تحریکِ خلافت کے آغاز تک مسلمان بڑھتے ہی رہے۔ لوگوں نے اسلام قبول کیا، افزائشِ نسل ہوئی۔ اگر ہندو مسلم منافرت سیاسی مسلمانوں کے لب و لہجے سے تند و تلخ نہ ہوتی اور سرکاری مسلمان انگریزوں کی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیے ہندو مسلم نزاع کو وسیع و متحارب نہ کرتے تو عجب نہ تھا کہ مسلمانوں کی تعداد موجودہ تعداد سے ڈیوڑھی ہوتی۔ ہم نے سیاسی نزاع پیدا کرکے تبلیغِ اسلام کے دروازے اس طرح بند کیے گویا اسلام اشاعت کے لیے نہیں، سیاست کے لیے ہے۔ اُدھر انگریزوں کے ہتھے چڑھ کر کہ وہ مسلمانوں کی آبادی میں وسعت نہ چاہتے تھے، ہم نے اسلام کو ایک محصور مذہب بنادیا پھر یہودیوں، پارسیوں بلکہ ہندوؤں کی طرح ہم ایک موروثی ملّت ہوگئے کہ یہودی، پارسی اور ہندو بنتے نہیں پیدا ہوتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں نے دعوتِ اسلام کو منجمد کردیا پھر خود کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض فرقے استعماری پیداوار تھے، ان سب میں حرکت و عمل کی جگہ جمود و تعطل پیدا ہوگیا اور وہ ذہناً اسلام سے محرومی کی زندگی میں داخل ہوگئے۔ ان کا وجود جہاد سے تھا، لیکن یہی چیز ان کے وجود سے خارج ہوگئی۔ اب وہ بدعات و سَیِّاٰت کا شکار ہیں، وہ مسلمان ضرور ہیں لیکن ایک تو اپنے خود ساختہ عقائد کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں، دوسرے دین کے نہیں سیاست کے مسلمان ہیں۔ انھیں قرآنی دین نہیں سیاسی دین پسند ہے۔
پاکستان ایک سیاسی موقف ہے اس سے قطع نظر کہ پاکستان ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلے کا حل ہے کہ نہیں؟ اس کا مطالبہ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے۔ سوال ہے کہ اسلام نے کہاں اور کب دین کے نام پر جغرافیائی تقسیم کا مطالبہ کیا اور کفر و اسلام کی بستیاں بسائی ہیں۔ کیا یہ تقسیم قرآن میں ہے کہ حدیث میں؟ صحابہ نے کسی مرحلے میں اس کی نیو اٹھائی؟ فقہاے اسلام میں سے کس نے خدا کی زمین کو کفر و اسلام میں بانٹا؟ اگر اسلام میں کفر و اسلام کے اصول پر زمین کی تقسیم ہوتی تو اسلام ہمہ گیر ہوتا؟ مسلمانوں کو اتنی وسعت ہوتی؟ خود ہندوستان میں اسلام داخل ہوتا اور یہ مسلمان جو آج مسلمان ہونے کی بنا پر پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں ان کے اجداد مسلمان ہوتے؟
جغرافیائی تقسیم صرف لیگ کی اختراع ہے۔ وہ اس کو سیاسی موقف قرار دے تو اس طرح بحث و نظر کا جواز ہوسکتا ہے، لیکن قرآناً یا اسلاماً جغرافیائی تقسیم کا جواز کہیں نہیں اور کوئی نہیں، مسلمان اسلام کی اشاعت کے لیے ہیں؟ یا سیاست کی اساس پر کفر و اسلام کی جغرافیائی تقسیم کے لیے، پاکستان کے مطالبے نے مسلمانوں کو اسلاماً کیا فائدہ پہنچایا۔ اب تک کچھ نہیں؟ پاکستان بن گیا تو اسلام کو کیا فائدہ پہنچے گا، اس کا انحصار اس علاقے کی سیادت پر ہے کہ اسے کس سرشت کی لیڈر شپ ملتی ہے۔ ہم جس ذہنی بحران سے گزررہے ہیں، دنیائے اسلام کی جو حالت ہے اور مغربی ابتلا نے جس طرح عالمی اذہان پر قبضہ کررکھا ہے، اس کے پیش نظر مسلم لیگ کی لیڈر شپ کے آب و گِل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اس طرح تقسیم ہوا تو پاکستان میں اسلام نہیں رہے گا اور ہندوستان میں مسلمان نہیں ہوگا۔ یہ ایک سیاسی اندازہ ہے، جو ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ لیکن پاکستان میں اولاً مذہبی تصادم پیدا کیے جائیں گے،ثانیاً وہاں اس قسم کے لوگ مسند اقتدار پر فروکش ہوں گے جن سے دین کو سخت دھچکا لگے گا۔ عجب نہیں کہ نئی پود پر اس کا ردِّعمل ہو اور وہ عصری تحریکوں کے لادین فلسفے کی ہوجائے۔ ہندوستان کے ہندو صوبوں میں مذہب سے جو لگاؤ یا دین سے جو شغف مسلمانوں کو ہے وہ پاکستان کے مسلمان صوبوں میں نہیں، پاکستان میں علما کی مزاحمت کے باوجود دین کی طاقت کمزور رہے گی، حتیٰ کہ پاکستان کی شکل بدل جائے گی‘‘۔
راقم نے عرض کیا:
’’بعض علما بھی تو قائدِ اعظم کے ساتھ ہیں‘‘۔
فرمایا: اکبر اعظم کے ساتھ بھی تھے، اس کی خاطر انھوں نے ’’دینِ اکبری‘‘ ایجاد کیا تھا، اس شخصی بحث کو چھوڑو، اسلام کی پوری تاریخ ان علما سے بھری پڑی ہے جن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا۔ راست باز زبانیں چند ہی ہوتی ہیں۔ پچھلے تیرہ سو برس کی تاریخ میں کتنے علما ہیں جنھیں تاریخ نے توقیر کے خانے میں جگہ دی ہے۔ احمد بن حنبلؒ تو ایک ہی تھا اور ابن تیمیہؒ بھی واحد ہی تھے، ہندوستان میں شاہ ولی اللہؒ اور ان کا خاندان ہی زندہ رہا باقی سب محو ہوگئے، الاّ ماشاء اللہ۔ مجدد الف ثانیؒ کی حق گوئی پائندہ ہے لیکن جن لوگوں نے شکایتوں کے انبار لگاکر انھیں گوالیار کے قلعہ میں ڈلوایا تھا وہ بھی علما تھے، اب کہاں ہیں؟ ان کے لیے کسی زبان پر کلمۂ احترام ہے‘‘؟
راقم نے عرض کیا:
’’مولانا! پاکستان اگر سیاستاً قائم ہوجائے تو اس میں عیب کیا ہے؟ اسلام کا نام تو مسلمان کی ملّی وحدت کو محفوظ رکھنے کے لیے بولا جارہا ہے‘‘۔
فرمایا: ’’آپ اسلام کا نام ایک ایسی چیز کے لیے بول رہے ہیں جو اسلام ہی کی مدد سے درست نہیں۔ جنگِ جمل میں قرآن نیزے پر لٹکائے گئے، وہ درست تھے؟ کربلا میں اہلِ بیت شہید کیے گئے، ان کے قاتل مسلمان تھے، کیا وہ حضورؐ کی حلقہ بگوشی کے دعویدار تھے۔ حجاج مسلمان تھا، اس نے بیت اللہ پر پتھراؤ کرایا، کیا اس کا فعل صحیح تھا؟ کسی بھی مقصدِ باطل کے لیے کوئی سا کلمہ حق درست نہیں ہوتا۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے سیاستاً درست ہوتا تو میں اس کی حمایت کرتا لیکن خارجی اور داخلی کسی اعتبار سے بھی اس کے مضمرات مسلمانوں کے لیے خوشگوار نہیں۔ میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا، لیکن میں جو دیکھ رہا ہوں اس سے پھرنا میرے لیے ممکن نہیں، لوگ طاقت کی مانتے ہیں یا تجربے کی، جب تک مسلمان پاکستان کے تجربے سے نہیں گزریں گے ان کے لیے پاکستان کے بارے میں کوئی دوسری بات جو اس کی نفی پر ہو، قابلِ قبول نہ ہوگی۔ وہ آج دن کو رات کہہ سکتے ہیں، لیکن پاکستان سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ ایک بات ہوسکتی ہے کہ سرکاری طاقت پاکستان بنانے سے انکار کردے اور وہ اس کے پلان پر راضی ہوجائیں یا خود مسٹر جناح ان کے ذہن کو پھیر دیں اور سمجھوتے کی جو صورت سامنے آئے اس پر صاد کریں۔
ہندوستان تقسیم ہوا، جیساکہ مجھے ورکنگ کمیٹی کے بعض رفقا کی ذہنی روش سے محسوس ہورہا ہے تو ہندوستان ہی کا بٹوارہ نہ ہوگا، پاکستان بھی بٹے گا۔ تقسیم آبادی کے اعتبار سے ہوگی، ان میں قدرتی حدبندی کیا ہوگی؟ کوئی دریا، کوئی پہاڑ،کوئی صحرا کچھ نہیں۔ ایک لکیر کھنچ جائے گی۔ کب تک؟ کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن جو چیز نفرت پر ہوگی وہ نفرت پر قائم رہے گی اور نفرت ان کے مابین ایک مستقل خطرہ ہوگی، اس صورت میں کسی بڑی تبدیلی، تغیّر یا کاٹ کے بغیر پاکستان اور ہندوستان کبھی دوست نہ ہوں گے۔ دونوں کے دل میں تقسیم کی فصیل ہوگی۔ تو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو سنبھالنا پاکستان کے لیے مشکل ہے کہ اس کی زمین اس کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی لیکن مغربی پاکستان میں ہندوؤں کا ٹھہرنا ممکن نہ ہوگا، وہ نکالے جائیں گے یا خود چلے جائیں گے، بہرحال دونوں صورتوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی نگاہ پاکستان پر ہوگی، پھر اس حالت میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے تین راستے ہوں گے:
۱۔ وہ لٹ لٹا یا پٹ پٹاکر پاکستان چلے جائیں، لیکن پاکستان کتنے مسلمانوں کو جگہ دے گا۔
۲۔ وہ ہندوستان میں اکثریت کے بلوائی ہاتھوں سے قتل ہوتے رہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایک طویل مدت تک قہر و غضب کی قتل گاہ سے گزرے گی تاآنکہ تقسیمی تلخیوں کی وارث پود عمر طبیعی گزارکر ختم ہوجائے۔
۳۔ مسلمانوں کی ایک تعداد جو معاشی ابتری، سیاسی درماندگی اور علاقائی غارت گری کا شکار ہو، وہ اسلام چھوڑکر مرتد ہوجائے۔
وہ مسلمان جو لیگ کے حلقوں میں نمایاں ہیں، پاکستان چلے جائیں گے۔ وہاں معاشی مسلمان صنعت و تجارت کو ہاتھ میں لے کر پاکستان کی معاشیات کے اجارہ دار ہوجائیں گے لیکن ہندوستان میں تین کروڑ کے لگ بھگ مسلمان رہ جائیں گے، لیگ کے پاس ان کے مستقبل کی ضمانت کیا ہے؟ کیا محض کاغذی معاہدہ ان کے لیے کافی ہوگا؟ ان کے لیے وہ حالت تو اور خطرناک ہوگی جو ہندوؤں اور سکھوں کے مغربی پاکستان سے نکل آنے کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوگی۔ پاکستان کئی ابتلاؤں کا شکار ہوگا۔ سب سے بڑا خطرہ جو محسوس ہوتا ہے وہ اندر خانہ عالمی طاقتوں کا اس پر کنٹرول ہوگا اور ہمہ قسم تغیرات کے ساتھ اس کنٹرول میں اضافہ ہوتا رہے گا، ہندوستان کو بھی اس سے اتفاق ہوگا کیوں کہ وہ پاکستان کو اپنے لیے خطرہ گردان کر عالمی طاقتوں سے سیاسی جوڑ توڑ کرے گا، لیکن پاکستان کا خطرہ شدید اور نقصانِ عظیم ہوگا۔ ابھی تک مسٹر جناح نے شاید اس پر غور نہیں کیا کہ بنگال اپنے سے باہر کی لیڈر شپ کو کسی نہ کسی مرحلے میں مسترد کردیتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں مسٹر اے. کے. فضل الحق نے مسٹر جناح سے بغاوت کی اور لیگ سے نکال دیے گئے، مسٹر حسین شہید سہروردی بھی مسٹر جناح کے متعلق چنداں خوش رائے نہیں، لیگ کو چھوڑو، کانگریس ہی کی پوری تاریخ پر نظر ڈ الو۔ سبھاش چندر بوس کی آخری بغاوت سب کے سامنے ہے۔ گاندھی جی ان کی صدارت سے مطمئن نہ تھے۔ انھوں نے راج کوٹ میں مرن برت رکھ کر سارے ملک کو اپنی طرف پھیرلیا، سبھاش بوس لڑکر کانگریس سے الگ ہوگئے۔ بنگال کی آب و ہوا کا خاصہ ہے کہ وہ بیرونی لیڈرشپ سے گریز کرتا اور اپنی لَے پر قائم رہتا ہے اور جب اس کے حقوق و مقامات مجروح ہوں تو بہر نوعی بغاوت کے لیے تیار ہوتا ہے۔ مسٹر جناح یا لیاقت علی تک تو مشرقی پاکستان کا اطمینان ڈانواڈول نہیں ہوگا کہ پاکستان کی تازگی ان کے اتحاد کا باعث ہوگی۔ لیکن ان کے بعد مشرقی پاکستان میں اس قسم کے آثار کا پھوٹنا یقینی ہے جو مغربی پاکستان سے اس کی بدظنی اور آخر کار علاحدگی کا موجب ہوں گے۔ مجھے شبہ ہے کہ مشرقی پاکستان زیادہ دیر مغربی پاکستان کے ساتھ رہ سکے گا؟ دونوں حصوں میں مسلمان کہلانے کے سوا کوئی چیز مشترک نہیں، لیکن مسلمان کہلانا کبھی مسلمان ریاستوں کے دائمی اتحاد کا باعث نہیں ہوا۔ عرب دنیا ہمارے سامنے ہے وہاں ایک نہیں کئی چیزیں مشترک ہیں، عقائد میں یک رنگی ہے، تہذیب یکساں ہے، ثقافت ایک ہے، زبان واحد ہے، حتیٰ کہ جغرافیائی حدود تک مشترک ہیں۔ لیکن ان میں سیاسی وحدت نہیں، ان کے نظام ہاے حکومت مختلف ہیں اور اندرخانہ ایک دوسرے سے تصادم کی فضا موجود ہے۔ مشرقی پاکستان کی زبان، رہن سہن، تہذیب، ثقافت اور بعض دوسری چیزیں مغربی پاکستان سے قطعی مختلف ہیں، پاکستان کا تخلیقی شعلہ سرد پڑتے ہی ان تضادات کا ابھرنا ایک بدیہی امر ہے۔ پھر عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ ان کی علاحدگی کا متحرک ہوسکتا ہے۔
خدانخواستہ مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو مغربی پاکستان تضادات و تصادمات کا مجموعہ بن جائے گا۔ پنجابی، سندھی، سرحدی اور بلوچی اختلافات و سوالات پیدا کیے گئے تو پاکستان ذہنی انتشار اور عالمی مفاد کی آماجگاہ بن جائے گا۔ آج جو نسل پاکستان بنائے گی، ممکن ہے اس کے اٹھتے ہی صوبائی عصبیتوں کا سوال اُبھرے اور عالمی طاقتیں پاکستان کی مختلف الفکر لیڈرشپ کو ہاتھ میں لے کر ایک ایسا کھیل رچائیں کہ مغربی پاکستان طبقاتی ریاستوں یا عرب ریاستوں کی طرح کئی ایک ریاستوں میں بٹ جائے؟ تب یہ سوال ممکن ہے، بعض ذہنوں میں پیدا ہو کہ ہم نے پایا کیا اور کھویا کیا؟
ایک دوسرا سوال جو برِّعظیم کی تقسیم سے وابستہ ہے وہ افریشیائی ملکوں میں عالمی طاقتوں کی مداخلت کا مسئلہ ہے۔ افریشیائی ممالک زیادہ تر مسلمان ریاستوں ہی کا مجموعہ ہیں، ان کے لیے ایک ہندوستان ہی زیادہ سے زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔ لیکن پاکستان کا ہندوستان سے اور ہندوستان کا پاکستان سے ٹکراؤ، نہ صرف ہندوستانی عوام کو مسلمانوں سے بدظن کردے گا بلکہ مسلمان ریاستوں کے ابتلا میں بھی ہمدردی و اعانت کے وہ جذبات پیدا نہ ہوں گے جو مشترکہ ہندوستان میں پیدا ہوسکتے ہیں۔
اصل سوال دین کا نہیں، معاش کا ہے۔ مسلمان اُمرا نے اپنی معاشی کمتری اور اقتصادی فروتری کے خوف و انحطاط کو دو قومی نظریے کی شکل دے کر فرقہ وار مسائل کو اس انتہا تک پہنچادیا ہے کہ اب انھیں ایک ہندوستان میں اپنے معاشی اقتدار کے لیے کوئی جگہ نظر نہیں آتی وہ ایک اسلامی ریاست میں بلاشرکتِ غیرے معاشیات کے واحد مالک ہوں گے، لیکن کب تک مسلمانوں کو نظریاتی سحر میں مبتلا رکھ سکیں گے۔ یہ غور طلب سوال ہے کہ پاکستان کے سر یہ کئی چیزیں سوار ہوں گی، مثلاً:
۱۔ سیاست دانوں کی ویرانی پر مسلمان ملکوں کی طرح فوجی انقلاب کے خطرے
۲۔ غیرملکی قرضوں کا اندھا دھند بوجھ
۳۔ ہمسایہ ملکوں سے جنگ کا خدشہ
۴۔ اندرونی تضادات کے تصادمات
۵۔ پاکستان کے نودولت سرمایہ داروں اور نوساختہ صنعت کاروں کی لوٹ
۶۔ اس استحصال سے طبقاتی جنگ پیدا ہونے کے امکانات
۷۔ اسلام سے نئی پود کا بہمہ وجوہ گریز و فرار بالفاظِ دیگر نظریہ پاکستان کا سقوط
۸۔ عالمی طاقتوں کی پاکستان کے بارے میں مختلف سازشیں
اِدھر ان حالات میں پاکستان کا استحکام مخدوش ہوگا اُدھر اسلامی ملک اس قابل نہیں ہوں گے کہ پاکستان کی اس طرح مدد کرسکیں جس طرح دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی ایک دوسرے کے معاون تھے۔ غیر اسلامی ملکوں نے پاکستان کی مدد کی، تو وہ ان کے مفادات کا ریلا لے کر آئے گی جس سے پاکستان میں نظریاتی اور جغرافیائی خلل کا پیدا ہونا یقینی ہے‘‘۔
راقم نے عرض کیا:
’’لیکن ایک ہندوستان میں مسلمان اپنی اصل انفرادیت کیوں کر قائم کرسکتے ہیں اور ان میں ایک اسلامی ریاست کے مسلمانوں کی خصوصیتیں کیوں کر پیدا ہوسکتی ہیں؟‘‘
فرمایا: ’’محض الفاظ کے سہارے حقائق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اور نہ سوالات کا رُخ پھیرکر جوابات میں کجی پیدا کی جاسکتی ہے۔ حقائق کو اس قسم کے سوالات یا جوابات سے توڑنا یا موڑنا خلط مبحث ہے۔ مسلمانوں کی ملّی انفرادیت سے مراد کیا ہے؟ اگر انگریزوں کے عہد میں وہ ملّی انفرادیت قائم رہی ہے تو آزاد ہندوستان میں جس کے حصّے دار مسلمان بھی ہوں گے، اس انفرادیت کا ضائع ہونا کیوں کر ممکن ہے؟ مسلمان ریاستوں کے عوام کی وہ کون سی خصوصیتیں ہیں جنھیں آپ یہاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اصل چیز دین اور اس کے لوازم ہیں، انھیں اختیار کرنے اور ان پر چلنے سے کون روک سکتا ہے؟ کیا نو کروڑ مسلمان آزادی کے بعد اس قدر بے بس ہوجائیں گے کہ دین اور اس کے لوازم ان سے چھن جائیں گے؟ انگریز ایک عالمی عیسائی طاقت ہونے کے باوجود ان سے اسلام چھین نہیں سکا، تو ہندوؤں میں وہ کون سی طاقت،کشش یا سحر ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے محروم کردیں گے؟ یہ سوالات عموماً ان لوگوں کے پیدا کردہ ہیں جو خود انگریزی تہذیب سے مغلوب ہوکر اسلام سے دستبردار ہوچکے اور اب سیاسی طور پر ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ اجتماعی طور پر مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ مسلمان بادشاہوں نے ہندوستان میں اسلام کی خدمت کی ہوتی تو آج تین چوتھائی ہندوستان ضرور مسلمان ہوتا۔ لیکن ان بادشاہوں نے اسلام سے ظواہر کا واسطہ رکھا، وہ اسلام کے داعی نہ تھے، وہ حکومت چاہتے اور حکومت کرتے تھے۔ اسلام یہاں صوفیوں کی بدولت پھیلا، مسلمانوں کا سوادِ اعظم ان اہل اللہ کا مرہون ہے، اسلام کی دولت انھی کی معرفت ملی ہے۔ کئی بادشاہوں نے ان کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا اور اپنے گرد و پیش اس قسم کے علما پیدا کیے جو اشاعتِ اسلام کی راہ میں ایک بڑی روک تھے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے اس وقت کی مہذب دنیا کو مغلوب کیا او رحجاز کے گرد و پیش کے بیسیوں ملک کاملاً اسلام کی آغوش میں آگئے، لیکن ہندوستان میں صحیح اسلام نہ آسکا۔ مسلمان یہاں کے رسومات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام کی حقیقی روح سے محروم رہ گئے۔ ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام یہاں عجم کی معرفت آیا تھا لیکن اس کے باوجود ہندوستان کی بارہ سو برس کی تہذیب پر مسلمانوں کی چھاپ لگی ہوئی ہے اور اس کا معاشرہ اسلامی نقش و نگار کا مرہون ہے، ہندوستان کے آرٹ، ہندوستان کی موسیقی، ہندوستان کے ادب، ہندوستان کی تہذیب، ہندوستان کے تمدن، ہندوستان کی ثقافت، ہندوستان کے فنِ تعمیر اور ہندوستان کی زبان میں نصف سے زائد حصہ اسلامیات سے فیض یاب ہے، ان کے خزانے عربی، عجمی، ترکستانی اور ایرانی مسلمانوں کی بود و ماند اور رنگ و آہنگ سے لدے پھندے ہیں۔ آج ہندوستان کے تہذیبی شہر مثلاً لکھنؤ اور دہلی کن محاسن کا مجموعہ ہیں؟ کیا مسلمانوں کی تہذیب ان کی روح رواں نہیں؟ مسلمان ہندوستان کو اتنا کچھ دے کر بھی خطرہ محسوس کریں اور انھیں وہم ہو کہ وہ انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کے فوراً بعد ہندوؤں کے غلام ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کو استقامتِ ایمان عطا ہو، آدمی بددل ہو تو اس کے دل کو سنبھالا دیا جاسکتا ہے اور اس میں حرکت کے آثار واپس لائے جاسکتے ہیں لیکن آدمی بزدل ہو تو اس کے دل کو سنبھالا دینا اور اس کے حوصلے کو ثبات کی سمت لوٹانا مشکل ہے۔ مسلمان اجتماعی طور پر بزدل ہوچکے ہیں، وہ خدا سے نہیں ڈرتے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور اس ڈر ہی سے انھیں اپنا وجود آزاد ہندوستان میں خطروں کا صید محسوس ہوتا ہے۔
انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو کیا مسلمانوں کو مٹانے کی ہر بہیمیت کے باوجود مٹا سکے؟ مسلمان جبر سہتے اور بڑھتے گئے، ہندوستان کی مردم شماری کے مختلف ادوار کا نقشہ ان کے علم میں ہو تو مسلمان شاید محسوس کریں کہ ان کے ذہنی خطرے بے اصل ہیں، وہ ہر دور میں پھیلتے رہے ہیں اور اس کی وجہ ان کے معاشرے کا سحر و کشش ہے۔ ہندوستان کے تین طرف اسلامی دنیا پھیلی ہوئی ہے، ہندوستان کی اکثریت مسلمانوں کو مٹاکر کیوں کر پنپ سکتی ہے۔ کیا نوکروڑ مسلمانوں کو مٹانا آسان ہے؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری تہذیب اور ثقافت میں ایک ایسا جادو ہے کہ شاید آئندہ پچاس سال میں ہندوستان کی سب سے بڑی آبادی مسلمان ہو۔
دنیا کو پائیدار امن کی تلاش کے علاوہ ایک فلسفۂ زندگی کی ضرورت ہے۔ اگر ہندو کارل مارکس کے پیچھے دوڑ سکتے اور فلسفۂ زندگی کی تلاش میں یورپ کے علم و دانش کو کھنگال سکتے ہیں تو اسلام سے انھیں کد نہیں، وہ اس کے سوانح سے آگاہ ہیں۔ ان کا دل اعتراف کرتا ہے کہ اسلام کسی عصبیت کا نام نہیں اور نہ استبدادی فلسفہ ہے۔ اسلام ایک عالمگیر معاشرے کی دعوت ہے، ایک عالمی امن کی اساس ہے۔ ایک پروردگار کی خدائی کا اقرار ہے اور ایک ایسے شخص کی رسالت کا اعلان ہے جو اپنی پوجا کے لیے نہیں خدا کی عبادت کے لیے نوعِ انسانی کو پکارتا رہا اور جس نے تمام معاشی و مجلسی امتیازات مٹاکر صرف تقویٰ، دیانت اور علم کے عناصر ثلاثہ پر معاشرے کی بنیاد رکھی۔ ہم نے اپنے اعمال کی تعدیوں سے نامسلمانوں کو اسلام سے برگشت کیا ہے۔ ہم اگر اسلام کو اپنے اغراض کی سیاہی سے داغدار نہ کرتے تو مضطرب الحال دنیا اسلام کے آغوش میں ہوتی۔ پاکستان اسلام نہیں ایک سیاسی مطالبہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کا مسلم لیگ کے الفاظ میں قومی نصب العین ہے۔ میرے نزدیک یہ ان مسائل کا حل نہیں جو مسلمانوں کو درپیش ہیں، یہ اور کئی مسئلوں کو جنم دے گا اور جو مسائل موجود ہیں ان کا حل نہ ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خدا نے میرے لیے تمام دنیا کو مسجد بنایا ہے اور ہم کسی حال میں بھی مسجد کی تقسیم کے مجاز نہیں۔ نو کروڑ ہندوستانی مسلمان تمام صوبوں میں اقلیتوں کی طرح منتشر ہوتے تو ان کی یکجائی کے لیے ایک دو صوبوں میں ان کے اکثریتی اتحاد کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا، گو یہ مطالبہ بھی اسلامی نہ ہوگا۔ لیکن مسلمانوں کے عمومی تحفظ کی خاطر کسی حد تک سمجھ میں آسکتا تھا۔ لیکن موجودہ حالت یکسر مختلف ہے۔ ہندوستان کے سرحدی صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ان سے ملحق خود مختار اسلامی ریاستیں ہیں۔ وہ کون سی طاقت ہے جو انھیں مٹا سکتی ہے یا مٹا دے گی۔ ہم تقسیم کا مطالبہ کرکے مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ کے علاوہ ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں کو خود ہندو راج کے حوالے کررہے ہیں۔ وہ مسئلہ جو آج ہندو مسلم آویزش کی شکل میں مسلم لیگ اور کانگریس کا تنازعہ ہے، کل دو ریاستوں کا تنازعہ ہوجائے گا اور یہی تنازعہ عالمی استعمار کی معرفت کسی دن ان میں جنگ کا موجب ہوگا۔ رہا یہ سوال کہ پاکستان مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے تو ہندو اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ تو یہ سوال فی الواقع دل چسپ ہے، جنھیں آزادی کی لگن ہے اور ملک کی یک جہتی کے شیدائی ہیں وہ عالمی سامراج کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہنے کے لیے بٹوارے کی مخالفت کرتے ہیں، کچھ خام دماغ اس کی مخالفت سے مسلمانوں کو پاکستان کے لیے پکّا کررہے ہیں کہ اس طرح پاکستان کو تسلیم کرکے وہ بلاشرکتِ غیرے ہندوستان کے مالک بننا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو حق حاصل ہے کہ اپنے لیے آئینی تحفظات کا مطالبہ کریں، مثلاً ملک کا آئین وفاقی ہو اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل ہو، اس طرح ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہتا۔ ان کے پاس صوبوں کے لازمی معاملات ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ اختیاری معاملات بھی سنبھال سکتے ہیں اور مرکز کے پاس صرف تحفظاتی امور رکھے جاسکتے ہیں، لیکن تقسیم میں مسلمانوں کا تحفظ نہیں، ایک سیاسی آویزش کا غیرسیاسی حل ہے۔ ہندوستان کے آئندہ مسائل فرقہ واری نہیں طبقہ واری ہیں، آئندہ تصادم مسلمانوں اور ہندوؤں میں نہیں سرمایہ و محنت میں ہوگا۔ کانگریس کے دوش بدوش سوشلزم اور کمیونزم کی تنظیمیں اور تحریکیں پیدا ہوچکی ہیں، انھیں آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو جس ہندو سرمایہ سے ڈرایا جارہا ہے، یہ تحریکیں اور تنظیمیں اس کے خلاف صف آرا ہوں گی، مسلمان سرمایہ داروں اور مسلمان جاگیرداروں نے ان تحریکوں کے قدرتی نتائج سے خوفزدہ ہوکر اپنے اغراض و مصالح کو اسلام کا رنگ دیا اور معاشی مسئلے کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مسئلہ بنادیا ہے لیکن اس کی تنہا ذمہ داری مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ انگریزوں نے اپنے ابتدائی دور میں اس مسئلے کو جنم دیا، پھر سرسیّد کی تعلیمی جدوجہد کے سیاسی ذہن نے اس کو پروان چڑھایا، آخر ہندوؤں کی من حیث الجماعت تنگ دلی اور کوتاہ نظری نے اس مسئلے کو تقسیم کی اس منزل تک پہنچادیا کہ ملک کی آزادی بٹوارے کے یقینی موڑ تک آپہنچی ہے۔ مسٹر جناح ایک زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کا مظہر تھے اور ان کے لیے یہ لقب کانگریس کے سالانہ اجلاس میں خود سروجنی نائیڈو نے تجویز کیا تھا، وہ دادا بھائی ناروجی کے شاگرد تھے۔ مسلمانوں کا مشہور وفد ۱۹۰۶ء میں ترتیب پایا تو مسٹر جناح نے اس میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔ یہی وفد تھا جس نے مسلم لیگ کی فرقہ وار سیاست کا آغاز کیا۔ ۱۹۱۹ء میں جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے روبرو ایک نیشنلسٹ مسلمان کی حیثیت سے بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح نے مسلم مطالبات سے اتفاق نہ کیا۔ انھوں نے ۳؍اکتوبر ۱۹۲۵ء کو ٹائمز آف انڈیا میں ایک مراسلہ لکھا جس میں اس کا ردّ کیا کہ انڈین نیشنل کانگریس ایک ہندو جماعت ہے۔ ۱۹۲۵ء اور ۱۹۲۸ء میں آل پارٹیز کانفرنسیں ہوئیں تو مسٹر جناح مخلوط انتخاب کے حق میں تھے۔ ۱۹۲۵ء میں مرکزی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’’میں اوّل و آخر نیشنلسٹ ہوں۔ میں اسمبلی کے ارکان سے ایک پُرزور اپیل کروں گا کہ خواہ آپ ہندو ہوں خواہ مسلمان، خدا کے لیے اس ایوان میں فرقہ وار مسئلوں پر بحث نہ چھیڑیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ اسمبلی حقیقی معنوں میں قومی پارلیمان بن جائے‘‘۔
۱۹۲۸ء میں سائمن کمیشن کے بائیکاٹ میں جناح کانگریس کے ساتھ تھے۔ غرض ۱۹۳۷ء سے پہلے جناح تقسیمِ ہند کی طرف مائل ہی نہ تھے، وہ طلبہ کی مشترکہ انجمنوں کو پیغام دیتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کی تلقین کرتے، لیکن کانگریس نے صوبجاتی خود مختاری کے بعد ہندوستان کے سات صوبوں میں اکثریت پاکر وزارتیں بنائیں تو لیگ کے نظرانداز کیے جانے پر انھیں ملال ہوا اور وہ مسلمانوں کے سیاسی انحطاط کو محسوس کرتے ہوئے مارچ ۱۹۴۰ء میں پاکستان کے مطالبے پر جم گئے۔ پاکستان فی الجملہ مسٹر جناح کے سیاسی تجربات کا ردِّعمل ہے۔ وہ میرے بارے میں جو رائے بھی قائم کریں انھیں حق پہنچتا ہے لیکن مجھے ان کی ذاتی ذہانت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں، انھوں نے ایک سیاست داں کی حیثیت سے مسلمانوں کی عصبیت کو مضبوط کیا اور پاکستان کو اٹل بنادیا۔ اب یہی چیز ان کی انا ہوگئی ہے اور وہ کسی قیمت پر یا کسی حالت میں اس اَنا سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں‘‘۔
راقم نے عرض کیا:
’’ان حالات میں مسلمانوں کا مطالبہ پاکستان سے ہٹنا یا مڑنا ممکن نہیں رہا؟ اور نہ انھیں کوئی سی خطابت، اس کا سحر یا استدلال الٹا سکتا ہے‘‘۔
مولانا نے فرمایا: ’’عوام کے اشتعال سے لڑنا مشکل کیا ناممکن ہوتا ہے۔ لیکن ضمیر کے ارتحال کو برداشت کرنا موت ہے۔ اس وقت مسلمان چل نہیں رہے بہہ رہے ہیں، بعض وجوہ کی بنا پر مسلمانوں نے دوڑنا سیکھا ہے یا بہنا، وہ چلنا جانتے ہی نہیں۔ جب قومیں اعتماد نفس سے محروم ہوجاتی ہیں یعنی انھیں عرفانِ نفس اور تعینِ ذات کا احساس نہیں رہتا تو پھر ان میں یمین و یسار کا تذبذب پیدا ہوتا ہے اور ان کا دماغ خطرے ڈھالنے لگتا ہے تب وہ مفروضوں سے ہراساں ہوتی ہیں، قوموں کی معنوی زندگی کا انحصار تعداد پر نہیں اس کا مدار استقامت و ایمان اور سیرت و عمل پر ہے۔ انگریزی سیاست نے مسلمانوں کی ذہنی زمین میں بہت سے خوف بو دیے ہیں اور اب وہ ان سے لرزہ براندام ہیں، انھیں اپنی ذات پر اعتماد ہی نہیں رہا، چیخ رہے ہیں کہ انگریز چلا گیا تو مٹ جائیں گے۔ وہ انگریزوں سے کہتے ہیں جاؤ، لیکن ملک تقسیم کرکے۔ اب غور کرو کہ جو خطرے ان کے جسموں کو ہیں وہ ان کی سرحدوں کو نہ ہوں گے، آخر وہ ان سرحدوں کو کہاں لے جائیں گے جو ایک دوسرے سے ملتی ہوں گی اور تقسیم کے بعد جن کے افق پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے‘‘۔
راقم نے دو قومی نظریے پر عرض کیا:
’’ہندو اور مسلمان بہرحال دو مختلف قومیں ہیں اور یہ اجتماعِ ضدین کیوں کر ہوسکتا ہے؟‘‘
فرمایا: ’’یہ ایک پامال بحث ہے۔ کئی سال پہلے علامہ اقبال اور مولانا مدنی کے مابین اس مسئلے پر جو بحث ہوئی تھی، میں نے بالاستیعاب دیکھی اور پڑھی ہے۔ قوم کا لفظ قرآن میں محض امّت کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ جماعتِ انسانی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، آخر ملّت، قوم اور امّت کے الفاظ کی بحث چھیڑکر ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہندوستان میں مذہباً ایک نہیں کئی قومیں بستی ہیں، ہندو ہیں، مسلمان ہیں، عیسائی ہیں، پارسی ہیں، سکھ ہیں؛ مسلمانوں اور ہندوؤں میں دینی اعتبار سے بہت بڑی مغائرت ہے، لیکن اس مغائرت کے باعث ہندوستان کی آزادی رد کی نہیں جاسکتی اور نہ دو قومی نظریۂ وحدت ہندوستان یا ملّت ہندوستان کی نفی کرتا ہے۔ سوال تو آزادی کا ہے کہ ہم ایک غیر ملکی طاقت سے کیوں کر آزاد ہوں اور آزادی ایک ایسی نعمت ہے کہ مذہباً تقسیم نہیں ہوسکتی، انسان کی مشترکہ میراث ہے۔ مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیے کہ ان کا ملّی وجود ایک عالمی دعوت ہے۔ وہ کوئی نسل نہیں جس کی علاقائی حدبندیوں میں کوئی دوسرا داخل نہیں ہوسکتا۔ اپنے حزبی عقائد کی رنگار نگی کے باعث مسلمان ہندوستان میں ملّتِ واحدہ نہیں رہے، عملاً کئی قوموں کا منتشر مجموعہ ہیں۔ انھیں ہندوؤں سے عداوت کی اساس پر تو جمع کیا جاسکتا ہے لیکن اصل اسلام پر متحد کرنا مشکل ہے۔ اسلام کے نام پر ان کے اندر بیسیوں فرقے جاگ اٹھتے ہیں اور عقائد کی دھما چوکڑی مچ جاتی ہے۔ وہابی، سنّی، شیعہ کے علاوہ دسیوں شاخیں ہیں، مثلاً ایک وہ جماعت ہے جو مغربی افکار سے پیدا ہوئی اور یورپ کے اتّباع میں مذہب و سیاست کی جداگانہ ہستی کا ذہن رکھتی ہے۔ اس کے نزدیک مذہب انسان کا نجی معاملہ ہے، پھر ہندوستان کے اسلامی فرقے یا طائفے ہیں نہیں، مثلاً بریلوی ہیں، چکڑالوی ہیں، دیوبندی ہیں، ان کی مختلف شاخیں ہیں۔ ان فرقوں کے علاوہ بے شمار خانقاہی سلسلے اور مشائخ کی حلقہ بندیاں ہیں، ان میں عقائد کی متحارب رنگارنگی ہے، غرض ہندوستانی مسلمانوں کے عقائد کی سرائے میں داخل ہوجاؤ۔ معلوم ہوگا کہ بِھڑوں کا چھتّہ پھیلا ہوا ہے۔ انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ باہمی نزاع کا ایک وحشت خانہ ہے۔ مشائخ و علما کی ایک بہت بڑی جماعت نے کیا نہیں کیا؟ جہاد کو منسوخ و متروک قرار دیا۔ پہلی جنگِ عظیم میں ترکوں کو مجرم ٹھہرایا کہ وہ فساد فی الارض کے مجرم ہیں، چھوٹے چھوٹے مسئلوں کا طوفان اُٹھا دیا۔ رفع یدین، آمین بالجہر، قبروں پر سجدہ اور اس قسم کے بیسیوں مسائل پیدا کرکے مسلمانوں کو آپس میں بھڑادیا، علما کی مختلف شاخوں نے کافر سازی کی تلوار نکال لی، پہلے وہ کافروں کو مسلمان بناتے تھے، اب مسلمانوں کو کافر بنانے لگے۔ بڑے بڑے لوگ کافر قرار پائے۔ ان مشکلات کا اندازہ کرناسہل نہیں۔ ہوشربا حالات سے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہی نمٹ سکتے تھے۔ انھیں بھی ابتلا و آزمائش کی ایک عمر گزارنی پڑی۔ جب عقلیں گمراہ ہوجائیں، دلوں کو تالے لگ جائیں اور طبیعتیں منجمد ہوں تو معلّمین و مصلحین کے لیے انسانوں کی اس جماعت سے عہدہ برآ ہونا دشوار ہوتا ہے، آج تو مسئلہ ہی دوسرا ہے۔ ہماری قوم سیاسی تعصبات میں اتنی پختہ ہوچکی ہے کہ وہ دین پر سیاست کو ترجیح دیتی اور اپنی ضرورتوں کے انبار کو اسلام سمجھتی ہے۔ المختصر ہر دور میں قوم نے استقامت کی تصویروں کو ہمیشہ اپنے قہقہوں میں اُڑایا۔ قربانی کی شمعیں گُل کیں اور ایثار کے پرچم پھاڑے ہیں۔ ہم تو خیر انسان ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وقت کے انسانوں نے کیا سلوک نہیں کیا، جب اللہ کے پیغمبروں سے جماعتِ انسانی کی سرکشی کا حال غضب ناک رہا تو کسی اور کے لیے اس غضب سے بچاؤ کا سوال کہاں‘‘؟
ایک دوسری ملاقات میں راقم نے عرض کیا:
’’آپ نے ’الہلال‘ کی دینی آواز غالباً اسی لیے بند کردی کہ مسلمانوں کا ذہنی ویرانہ اس کا متحمل نہیں ہورہا تھا یا آپ محسوس کرتے تھے کہ لق و دق صحرا میں آپ اذان دے رہے ہیں؟‘‘
فرمایا: ’’میں نے ’الہلال‘ کی آواز اس لیے ترک نہیں کی کہ اس آواز کی صداقت سے مایوس ہوگیا تھا۔ اس آواز نے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت میں اسلام کا ولولہ، آزادی کی لگن اور عمل میں استقامت پیدا کی جو میرے اندر ایک ایسی روح پیدا ہوگئی جو صحبت یافتگانِ رسالت کا امتیاز و جوہر تھا۔ میں اپنی اس آواز میں ققنس کی طرح مست ہوکر بھسم ہوگیا۔ ’الہلال‘ کے مقاصد، جہاں تک ان کے معنوی مضمرات کا تعلق تھا، اپنا اعجاز دکھا چکے تھے اور مسلمانوں کا ایک نیا دور انگڑائی لے رہا تھا۔ میرے سامنے تجربات کا ایک ڈھیر تھا، میں نے سفر میں ترتیب پیدا کی اور اس صراطِ مستقیم پر قدم جمادیے جو اس ملک کی آزادی کے حصول کا صحیح راستہ تھا۔ میرے اعتقاد میں یہ بات داخل ہوگئی کہ ایشیا اور افریقہ کی آزادی کا انحصار ہندوستان ہی کی آزادی پر ہے اور ہندوستان کی آزادی کا صحیح صحیح نقشہ ہندو مسلم اتحاد ہی سے بن سکتا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں (ہندو و مسلم) جو مذہب و اعتقاد کے معاملے میں مختلف اوضاع و اطوار رکھتی ہیں، جب تک متحد العمل نہ ہوں گی ہندوستان کی آزادی میں الجھاؤ پیدا ہوں گے اور اس طرح ایک ایسی برائی راہ پائے گی کہ سینکڑوں خرابیاں یکے بعد دیگرے جنم لیتی رہیں گی۔
میں نے پہلی جنگِ عظیم سے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان ضرور آزاد ہوگا اور اس کی آزادی کسی عنوان سے رُک نہیں سکتی، میرے سامنے مسلمانوں کے مقام کا تعین بھی تھا۔ میں ہمہ جہت غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمان اپنے وطنی بھائیوں کے ساتھ چلنا سیکھیں اور تاریخ کو یہ کہنے کا موقع نہ دیں کہ جب اہلِ وطن ہندوستان کی آزادی کے لیے سرگرمِ عمل تھے تو مسلمانوں نے موجوں سے لڑنے کے بجائے کناروں پر تماشا دیکھنے کی عادت ڈالی اور وہ پُرجہد کشتیوں کے ڈوبنے پر خوش ہوتے تھے‘‘۔
راقم نے عرض کیا:
’’پاکستان تو بن کے رہے گا۔ اب سوال وجوہ کا نہیں کہ اس کی تاسیس کے محرکات کیا ہیں؟ سوال اس چیز کا ہے جو قائم ہورہی ہے۔ اب اس حالت میں کیا ہونا چاہیے، بالخصوص ان مسلمانوں کا فرض کیا ہو جو قیامِ پاکستان کی مخالفت کرتے رہے اور کررہے ہیں لیکن پاکستان کے علاقائی شہری ہیں‘‘۔
فرمایا: ’’اس صورت میں میری رائے یہ ہے کہ پاکستان دشمنی سے نہیں، دوستی سے قائم ہو اور جب پاکستان بن جائے تو پھر دونوں ملکوں کی باہمی دوستی ہی ان کے استحکام کی ضامن ہوسکتی ہے۔ جانبین میں کشیدگی رہی تو دونوں کے لیے مضر ہوگی، نہ ہندوستان کا اس میں بھلا ہے نہ پاکستان کا۔ جذبات کا غصہ ایک عارضی چیز ہے لیکن حالات کی ضرورت ایک اساسی عنصر ہے۔ پاکستان ہندوستان ایک دوسرے کے دوست بن کر نہ صرف اپنے اپنے ملک کی خوش آئند تعمیر کرسکیں گے بلکہ ان عالمی طاقتوں کے مخفی جرائم سے بھی محفوظ رہیں گے جو دنیا کے تمام چھوٹے ملکوں اور نوآزاد ریاستوں کو اپنے تابع رکھنا چاہتی ہیں اور اسی میں ان کے مفادات ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کی ذہنی لڑائی خواہ اس کی شکل کوئی سی ہو، دونوں مملکتوں کومضطرب رکھے گی۔ ہندوستان نے پاکستان کو اتھل پتھل کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے لیے عالمی سطح پر بہت سے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ پاکستان نے ہندوستان سے لڑائی باندھ کے رکھی تو جس غرض سے اس نے تقسیم کرائی ہے وہ مسئلہ ختم نہ ہوگا بلکہ اس کی ایک خطرناک شکل پیدا ہوگی۔ پاکستان کا مطالبہ اگر مسلمانوں کی انفرادیت کو ایک خود مختار ریاست میں نشووبلوغ دینے کا نام ہے تو اس غرض سے ایک بے داغ امن کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی کٹاچھنی سے ساڑھے تین کروڑ ہندوستانی مسلمان جو ہندوستان ہی میں رہیں گے، نہ صرف موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہوں گے بلکہ خود پاکستان کے مسلمان عالمی طاقتوں کی شکار گاہ ہوں گے۔ خدا نخواستہ ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑگئی تو وہ تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہوکر برِّعظیم کے ایک نئے نقشے کا ظہور ہوسکتی ہے‘‘۔
مولانا نے ۱۹۵۶ء میں یاد کیا۔ راقم دہلی پہنچا وہاں ایک ہفتہ ٹھہرا۔ مولانا پاکستان کے سیاسی انتشار سے ناخوش تھے۔ مولانا:
’’پاکستان کو آٹھ سال بیت چکے ہیں۔ اب کہیں چودھری محمد علی نے آئین تیار کیا ہے اور مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی باہمی مفاہمتوں سے ایک کھچڑی پکّی ہے۔ خدا کرے اب اس کے مطابق ہی پاکستان کا سیاسی سفر شروع ہو۔ ایک آئینی سانچہ بن تو گیا، آئندہ تجربوں سے اس میں اصلاح ہوسکتی ہے، لیکن پاکستان کے اندرونی حالات کا غائر مطالعہ کئی ایک خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس آئین کے تحت پہلے انتخابات ہی نہ ہوسکیں گے، آئین ختم کردیا جائے گا۔ اُدھر پاکستان کے سیاست داں غیر تربیت یافتہ لوگ ہیں، انھوں نے ملک کی عنان بیورو کریسی کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ سکندر مرزا نہیں چاہتے کہ پاکستان میں انتخابات ہوں، وہ عمر بھر صدارت کی مسند پر رہنا چاہتے ہیں اور بیرونی مداخلت کے آلہ کار ہیں، انھوں نے آئین توڑکر مارشل لانافذ کیا، تو قطعی نتائج کے متعلق حتمی رائے دینا مشکل ہے۔ مارشل لا نافذ کرکے وہ کب تک اقتدار میں رہ سکیں گے؟ اس بارے میں کچھ کہنا یا مدت کا تعین کرنا مشکل ہے۔ لیکن جس فوج کے بل پر وہ مارشل لا لائیں گے وہی فوج انھیں سبکدوش کردے گی۔ ملک غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی وزارت توڑکر پاکستان کو غلطیوں کے راستے پر ڈال دیا ہے اور اب آئندہ کئی خرابیوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔ سیاست دانوں کی جگہ بیورو کریسی نے لی ہے۔ ہوسکتا ہے پاکستان ایک لمبے عرصے کے لیے سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل کر بیوروکریسی ہی کے عسکری ہاتھوں میں چلا جائے۔ پھر ایک طویل عرصہ مارشل لا کی حکومت ہو، اس کے بعد جو آئین وضع ہو وہ فوج کی ٹکسال میں ڈھلا ہو اور جمہوریت کے انتخابی مزاج پر پاکستان کی عسکری چھاپ ہو، فوج کے سپہ سالاروں کی جمہوریت پاکستان کے لیے کئی آفتوں کا مجموعہ ہوگی اور جو تجربہ بھی فوج کی معرفت اس جمہوریت کی آڑ میں کیا جائے گا وہ بدیر یا سویر ناکام ہوگا، چوں کہ فوج مغربی پاکستان کی ہے اور پنجاب کے لوگ عسکری ہیں، اس لیے اس خطرے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مشرقی پاکستان میں نظریۂ پاکستان سے متعلق منفی تحریکیں پیدا ہوکر بالآخر اس کی علاحدگی کا باعث ہوں۔
پاکستان کو محسوس کرنا چاہیے کہ ہندوستان کی ایک سیاسی کھیپ کو اس کے معرضِ وجود میں آنے پر قلق ہے۔ اگر مسلم لیگ کی لیڈرشپ گاندھی و نہرو کی جماعت سے مفاہمت کرلیتی تو پاکستان کئی خطروں سے محفوظ ہوجاتا۔ پنڈت جواہر لال نہرو جذباتی انسان ضرور ہیں، وہ بسااوقات ایک مسئلے پر ضدی ہوجاتے ہیں لیکن انھیں استدلال کی طاقت سے منالینا مشکل نہیں۔ سردار پٹیل کشمیر کے مسئلے میں پاکستان کی تائید کرتے تھے کہ پاکستان کا اس پر حق ہے اور وہ پاکستان ہی کو ملنا چاہیے۔ جواہر لال کو راضی کرلینا مشکل نہ تھا، وہ لازماً کشمیر پر ہندوستان کے قبضے سے دستبردار ہوجاتے لیکن قائدِ اعظم کی رحلت کے بعد لیاقت علی بھی کسی نیشنلسٹ مسلمان سے گفتگو کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ مجھ سے سردار پٹیل نے بیان کیا کہ انھوں نے گورنر ہاؤس لاہور میں لیاقت علی کے اصرار و استفسار پر ان سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں اور پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کے وزیرِ اعظم ہیں۔ دونوں ہی مجاز و مختار ہیں، کسی مسئلے کا حل مشکل نہیں۔ میں استدلال کے طویل چکر میں پڑے بغیر ذمہ داری لیتا ہوں اور معاہدہ ابھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان، منادور، جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن سے دستبردار ہوجائے ہم کشمیر کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ ریاستیں ہندوستان کے حدود میں ہیں اور کشمیر پاکستان کے حدود میں ہے۔ سردار پٹیل نے لیاقت علی کو یہ پیش کش بھی کی کہ وہ پاکستان کی ہندو اقلیت کو روکیں، میں ہندوستان کی مسلم اقلیت کو روکتا ہوں، اس کے بعد جو فساد برپا کرے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، اس سے امن دو دن میں قائم ہوجائے گا۔ لیکن لیاقت علی نے منادور، جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن کے بارے میں پس و پیش کیا، نتیجتاً دونوں مملکتوں کے وزرائے اعظم کی پہلی کانفرنس ناکام ہوگئی، لیکن اب وہ سب چیزیں ماضی کی ہیں، آج پاکستان ہندوستان کے داخلی خطروں پر خوش ہوتا ہے اور ہندوستان پاکستان کے سیاسی افتراق پر بغلیں بجاتا ہے لیکن دونوں میں سے کسی مملکت کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کی بساطِ سیاست پر عالمی طاقتیں اپنے اپنے مہرے لے کر کھیل رہی ہیں، ان طاقتوں کی ذہنی غایت دونوں کے مابین دوستی کی نیو اٹھانا نہیں بلکہ دوستی کا نام لے کر اپنے ہتھکنڈے جمانا ہے۔ پاکستان ہندوستان کے خطرے سے خوف زدہ ہوکر عالمی طاقتوں کی چوکھٹ پر کھڑا ہے اور خود سپردگی میں ذرّہ برابر عیب محسوس نہیں کرتا، ہندوستان چوں کہ سیاستاً پاکستان کا حریف ہے لہٰذا اس کو بھی عالمی طاقتوں کی معاونت درکار ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پورے ہندوستان کے دفاعی اخراجات سو کروڑ روپے تھے لیکن برعظیم کی تقسیم کے بعد ایک چوتھائی فوج پاکستان کے حصے میں چلی گئی اور تین چوتھائی ہندوستان میں چلی گئی۔ اب ہندوستان کی فوج کے اخراجات دو سو کروڑ ہیں اور پاکستان کے اخراجات بھی کم سے کم سو کروڑ پہنچتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو دونوں ملکوں کے عوام حکومت کے واجبات کی شکل میں ادا کرتے ہیں، وہ امداد اس کے علاوہ ہے جو دونوں ملکوں کو ان کے عالمی دوستوں سے ملتی اور اس کی مانگ برابر رہتی ہے۔ یہی رقم دونوں ملک اپنی ترقی و خوشحالی پر صرف کریں اور عوام پر روزمرہ کے ٹیکسوں کا بوجھ ہلکا پڑجائے تو ہر دو ملک صحیح معنوں میں خود مختار اور آزاد ہوسکتے ہیں اور ان کے وہ خطرات بھی ٹل سکتے ہیں جو فریقین کے دلوں میں بیٹھ چکے ہیں اور دونوں مملکتیں اپنے مسائل کا حل ایک جنگ کی شکل میں دیکھ رہی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ’جنگ‘ اندریں حالات پاکستان اور ہندوستان دونوں کے لیے مہلک ہے۔
ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ ہندوستان سے دوستانہ رشتہ استوار کرنے پر سوچے، ابھی وہ لوگ زندہ ہیں جو ہندوستان کے مزاج کی برہمی کو ٹھیک کرسکتے ہیں۔ پاکستان ایک سیاسی تجربہ ہے، پاکستان کے اربابِ حل و عقد کا فرض ہے کہ اس تجربے کو کامیاب بنائیں۔ ادھر ہندوستان کے اربابِ بست و کشاد کو لازم ہے کہ پاکستان کو ایک حقیقت مان لیں اور تسلیم کرلیں کہ اب جانبین میں دوستانہ تعلقات اور اشتراکِ عمل ہی ان کی بقا و استحکام کا باعث ہوسکتے ہیں۔ اگر نفرت کا شعلہ بھڑکتا رہا تو دونوں ملک عالمی طاقتوں کے مقاصد کی چتا میں بھسم ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا، کوئی سی طاقت اپنے اغراض کی خاطر تضادات سے مصافحہ و معانقہ کرتی ہے تو اس میں آخرکار خسارا ہی ہوتا ہے‘‘۔

3 تبصرے:

Haseeb Ur -Rehman کہا...

بہت عمدہ۔۔ابالکلام کے علم کو دیکھ کر میں حیران ہوں

TOUR PACKAGES کہا...

شکریہ

Arif Gul کہا...

کیا یہ سارا بیان مولانا آزاد کا ہے
1۔ 1946 کا انٹرویو 1987 میں منظر پر آتا ہے ، جب سب کچھ وقوع پذیر ہوچکاتھا
2۔ "جیسا آج مسلم ممالک میں فوج اقتدار پر قابض ہے ویسے پاکستان میں بھی ھوگا" کوئی بتا سکتا ہے 1946 میں دنیا میں کس اسلامی ملک فوج اقتدار میں تھی؟
3۔ "جناح اور لیاقت علی کے بعد پاکستانی قیادت حالات سنبھا نہیں سکے" یعنی یہ بھی پیش گوئی کی جاسکتی تھی 1946 میں کہ پاکستان کا پہلا حکمران قائداعظم اور دوسرا لیاقت علی خان ہوگا ۔ اور یہ بھی مولانا کو الہام ہوگیاتھا کہ پہلے قائداعظم اور بعد میں لیاقت علی خان فوت ہوں گے۔
اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں ۔ ذرا ان پر بھی غور کرلیں
ہاں ایک بات اور " مولاناابوالکلام آذاد اور پاکستان ۔۔ ہر پیش گوئی حرف بحرف غلط " منیر احمد منیر کی کتاب کا مطالعہ بھی کرلیں ، مولانا کی علمیت ظاہر ہوجاۓ گی ۔

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *