سورہ یوسف/قرآنی حکایت

یہ بات واقعی افسوس کی ہے کہ جس قوم کے پاس دنیا کی ایک بے حد اہم اور بلیغ کتاب موجود ہے، وہ عقل سے کام نہ لے کر جذبات اور جہالت کا شنکھ بجاتے پھرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں، جوایک اچھے نظریے کو صرف زندگی کے معمولی مسئلے مسائل کا معاملہ بنا کر میلا کردیتے ہیں، ملا کو مذہب کا ٹھیکیدار اور بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ کسی بھی نئی چیز کو اپنانا، قبول کرنا بہت بڑا گناہ گردانتے ہیں۔آج ہم 'ادبی دنیا ' پر سمبل میں شائع شدہ محمد کاظم کے ترجمہء سورہ یوسف کو اپلوڈ کررہے ہیں۔اس سورہ میں دو جملے قابل غور ہیں۔اول ' اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے (۱۰۵) اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اﷲ پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی شرک بھی کیے جاتے ہیں۔' اور دوسرے ' اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔'جو لوگ خدا پر یقین کامل رکھتے ہیں وہی ان پھیلائی ہوئی بے بنیاد باتوں پر یقین بھی رکھتے ہیں، جو اللہ کی کہی ہوئی نہیں، بلکہ ملا کی گڑھی ہوئی ہیں،کیا یہ کسی طور شرک سے کم ہے؟ اور دوسرے یہ خدا کی محبت کا دم بھرنے والے ہی سب سے پہلے کسی بھی غور و فکر کرنے والے کے آگے آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اس قصے سے صاف ثابت ہے کہ خدا برداشت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور بروں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے والوں کو محبت سے دیکھتا ہے۔وہ بھائی جنہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالا، اذیتیں دیں، وہ عورت جس نے انہیں جنسی طور پر پریشان کرنے کی کوشش کی اور وہ بادشاہ جس نے انہیں بغیر کسی جرم کے لمبے عرصے کے لیے کال کوٹھری میں ڈال دیا، ان سب کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد بھی یوسف کا برتائو اچھا رہا، وہ سچ پر قائم رہے، کردار پر مضبوطی سے ڈٹے رہے۔ایک سب سے خوبصورت بات جو مجھے اس قصے میں نظر آئی وہ یہ کہ عزیز مصر کے خواب میں موجود موٹی گائے، اناج کی اور پتلی گائے قحط کی علامت کے طور پر بیان کی گئی ہے، یہ بھی ایک اشارہ ہے ان لوگوں کے لیے، جو سمجھیں کہ گائے کی استعاراتی اہمیت دوسرے مذاہب کی طرح اسلام میں بھی تسلیم کی گئی ہے۔اردو کے سب سے مشہور شاعر مرزا غالب نے تلمیحات میں اس قصے کو بہت پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا اور اس پر کئی اچھے اشعار نئے نئے زاویے سے لکھے، ایک طرف یعقوب جیسے والد استعارہ ہیں، انتظار اور صبر کا تو دوسری طرف یوسف جیسی اولاد علامت ہے کردار ، حیا ، حلم اور سچائی کی۔آئیے یہ قصہ ایک دفعہ پھر پڑھیں۔اس ترجمے کی خوبصورتی اور سلاست پر میں محمد کاظم کا قائل ہوگیا ہوں، ساتھ ہی ساتھ علی محمد فرشی کا شکر گزار ہوں جن کی عنایت سے یہ قصہ آج بلاگ پر پوسٹ کرپارہا ہوں۔شکریہ(تصنیف حیدر)
٭٭٭

(یہ مکّی ہے۔ اس میں ۱۱۱ آیتیں اور ۱۲ رکوع ہیں)

شروع اﷲ کے نام سے جو نہایت رحم والا اور مہربان ہے۔
الف، لام، را۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں(۱) ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم اسے سمجھ سکو(۲) ہم نے تمھاری طرف یہ قرآن جو وحی کیا تو اس کے ضمن میں ہم تمھیں ایک بہترین قصہ سناتے ہیں۔ اگرچہ تم پہلے اس سے یقیناً بے خبر تھے (۳) یہ اُس وقت کی بات ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ اباجان میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں، اِس طرح کہ یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں (۴) جواب میں باپ نے کہا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا، ورنہ وہ تمھارے خلاف کوئی تدبیر کرنے لگیں گے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے(۵) اور جیسا تم نے خواب میں دیکھا ہے اسی طرح تمھارا رب تمھیں برگزیدہ کرے گا، تمھیں خواب کی باتوں کی تعبیر سکھائے گا، اور تم پر اور آلِ یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اپنی نعمت تمھارے دادا پر دادا اسحٰق اور ابراہیم پر تمام کی تھی۔ بے شک تمھارا رب سب کچھ جاننے والا اورحکمت والا ہے(۶) ۔۔۔ ع ۱
بے شک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں(۷) جب بھائیوں نے آپس میں تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالاں کہ ہم ایک پوراگروہ ہیں۔ یقیناً ہمارے ابا صریحاً غلطی پر ہیں(۸) ایسا کرو کہ یوسف کو مار ڈالو، یا اسے کہیں پھینک آؤ۔ تاکہ تمھارے باپ کی ساری توجہ تمھاری طرف ہو جائے اور اس کے بعد تم نیک بن جانا (۹) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے تو نہ مارو۔ اگر تمھیں کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں کی تہ میں پھینک دو کہ کوئی راہ چلتا قافلہ اسے نکال کر لے جائے(۱۰)
یہ مشورہ کر کے وہ باپ کے پاس آئے اور کہا اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے، حالاں کہ ہم اس کے سچے خیرخواہ ہیں(۱۱) کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، کہ کچھ کھا پی لے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہوں گے(۱۲) باپ نے کہا تمھارا اسے لے جانا مجھ پر شاق گزرتا ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ تم اس سے غافل ہو جاؤ اور اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے(۱۳) وہ کہنے لگے اگر ہماری موجودگی میں، کہ ہم ایک طاقت ور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے ہی نامُراد ثابت ہوں گے (۱۴) ۔
جب وہ اس کو لے کر گئے اور یہ طے کر لیا کہ اس کو کنویں کی تَہ میں پھینک دیں ۔ تو ہم نے یوسف کو وحی کی کہ ایک وقت آئے گا جب تم ان کو ان کے اِس سلوک سے آگاہ کرو گے۔ جب کہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہو گا (۱۵) کچھ رات گئے وہ اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (۱۶) اور کہنے لگے اباجان ہم تو دوڑ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے نکل گئے، اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا، تو اتنے میں ایک بھیڑیا آ کر اسے کھا گیا۔ اور آپ تو ہماری بات کا یقین کرنے کے نہیں، چاہے ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں(۱۷) اور یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا کر لے آئے ۔ یہ سُن کر باپ نے کہا: بات یہ نہیں ہے، بل کہ تمھارے نفس نے تمھارے لیے ایک بُرے کام کو آسان بنا دیا ۔ خیر، صبر و شکر کے سوا چارہ نہیں۔ جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس پر اﷲ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے (۱۸)
اُدھر ایک قافلہ آیا اور اس نے اپنے سقّے کو پانی لانے کے لیے بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو (یوسف کو دیکھ کر) پکار اٹھا: خوش خبری ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ چناں چہ انھوں نے اسے مالِ تجارت قرار دے کر چھُپا لیا۔ اور جو کچھ وہ کر رہے تھے اﷲ اس سے خوب باخبر تھا(۱۹) ان لوگوں نے اسے تھوڑی سی قیمت، چند درہموں کے عوض بیچ دیا۔ اس کی قیمت کے معاملے میں انھیں کوئی زیادہ لالچ نہیں تھا (۲۰) ۔۔۔ع ۲
اور اہل مصر میں سے جس نے اس کو خریدا اُس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کو عزت و اکرام سے رکھو۔ عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی راہ پیدا کر دی۔ تاکہ ہم اسے خواب کی باتوں کی تعبیر سکھائیں۔ اﷲ اپنا ارادہ نافذ کر کے ہی رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (۲۱)
جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو دانائی اور علم عطا کیا، کہ نیکوکاروں کو ہم اس طرح بدلہ دیا کرتے ہیں(۲۲) اب ہوا یہ کہ جس عورت کے گھر میں وہ رہتا تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور دروازے بند کر کے کہنے لگی: لو آ جاؤ! یوسف نے کہا معاذ اﷲ۔ تمھارا شوہر میرا آقا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے۔ یقیناً خیانت کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے (۲۳) وہ عورت تو یوسف کی طرف بڑھی ہی تھی ۔ یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اُس نے اپنے رب کی واضح نشانی نہ دیکھ لی ہوتی۔ یہ اس لیے ہوا کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں۔بے شک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا(۲۴) وہ دونوں دروازے کی طرف بھاگے، اور عورت نے یوسف کا کرتا جو کھینچا تو اسے پیچھے سے پھاڑ دیا۔ معاً دونوں نے عورت کے شوہر کو دروازے پر موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت بول اٹھی: جو شخص تمھاری بیوی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرے اس کی سزا کیا ہو سکتی ہے، سوائے اس کے کہ یا تو وہ قید میں ڈالا جائے، یا اسے دردناک عذاب دیا جائے (۲۵) یوسف نے کہا: یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی۔ اس پر عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر یوسف کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے(۲۶) اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے(۲۷) جب شوہر نے یوسف کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بول اٹھا کہ بے شک یہ تمھارا ہی مکر و فریب ہے، اور تم عورتوں کے مکر و فریب غضب کے ہوتے ہیں (۲۸) یوسف! اس معاملے سے درگزر کرو، اور اے عورت تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ۔ کوئی شک نہیں کہ اس میں تو ہی خطاوار تھی (۲۹) ۔۔۔ ع ۳
اور شہر میں کچھ عورتیں آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنے میں لگی ہے۔ غلام کا عشق اس کے دل میں گھر کر گیا ہے۔ ہم دیکھ رہی ہیں کہ وہ صریحاً گم راہی میں ہے (۳۰) جب اُس نے اُن کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو انھیں بلا بھیجا، اور ان کے لیے تکیہ دار نشست آراستہ کی اور (پھل تراشنے کے لیے) ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی، اور یوسف سے کہا کہ تم ان کے سامنے آؤ۔ جب عورتوں نے اس کو دیکھا تو اُن پر اُس کے حسن کی ایسی دھاک بیٹھی کہ انھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے، اور بولیں: حاشاﷲ یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے(۳۱) تب عزیز کی عورت نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں۔ بے شک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا، لیکن یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہیں کرے گا جو میں اس سے کہتی ہوں تو وہ ضرور قید میں ڈال دیا جائے گا اور ذلیل ہو کے رہے گا (۳۲) یوسف نے دُعا کی اے میرے ربّ جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے، اور اگر تُو نے ان کے فریب کو مجھ سے نہ ہٹایا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں شامل ہو کے رہوں گا (۳۳) تو اُس کے ربّ نے اس کی دعا قبول کر لی اور اس سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بے شک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے(۳۴) پھر یوسف کی پاک دامنی کی نشانیاں دیکھ چکنے کے باوجود ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لیے یوسف کو قید میں ڈال دیا جائے (۳۵) ۔۔۔ ع ۴
یوسف کے ساتھ قید خانے میں دو اَور نوجوان بھی داخل ہوئے۔ ایک روز اُن میں سے ایک نے اس سے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔ ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتاؤ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نیکوکاروں میں سے ہیں(۳۶) یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والاہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ من جملہ ان باتوں کے ہے جومیرے ربّ نے مجھے سکھائی ہیں۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑ دیا ہے جو اﷲ پر ایمان نہیں رکھتے اور یہی لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں(۳۷) میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی پیروی کی ہے۔ ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم اﷲ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی اﷲ کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے(۳۸) اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ذرا سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اﷲ جو سب پر غالب ہے(۳۹) اﷲکے سوا تم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اﷲ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اُتاری۔ اختیار و اقتدار تو صرف اﷲ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دین محکم ہے۔ لیکن اکثرلوگ اس سے بے خبر ہیں(۴۰)
اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا ۔ رہا دوسرا تو اس کو سُولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ جس امر کے بارے میں تم مجھ سے پوچھتے تھے اس کا فیصلہ ہو گیا (۴۱) اور جس کے بارے میں یوسف نے خیال ظاہر کیا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسف نے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کر دینا۔ لیکن شیطان نے اس کو اپنے آقا سے وہ ذکر کرنا بھلا دیا۔ چناں چہ یوسف کئی برس قید خانے میں پڑا رہا (۴۲) ۔۔۔ ع ۵
ایک روز بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک! اے اہل دربار مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو (۴۳) انھوں نے کہا یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں۔ ہمیں خوابوں کی تعبیر نہیں آتی (۴۴) اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور ایک مدت کے بعد اسے وہ بات یاد آئی کہنے لگا میں آپ کو اس کی تعبیر بتاتا ہوں مجھے بس قید خانے کی طرف بھیج دیجیے (۴۵)
(چناں چہ وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف! اے بات کے سچے، ہمیں اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں۔ تاکہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور شاید وہ تمھاری قدر جان لیں (۴۶) یوسف نے کہا تم لوگ سات سال برابر کاشت کرتے رہو گے پس جو فصل تم کاٹو اس میں سے اس قلیل مقدار کے سوا جو تم کھاؤ باقی اس کی بالوں میں ہی رہنے دو (۴۷) پھر اس کے بعد سات سال سخت آئیں گے، ایسے کہ جو غلّہ تم نے جمع کر رکھا ہو گا وہ اس سب کو چٹ کر جائیں گے، سوائے اس قلیل مقدار کے جو تم محفوظ کر لو گے(۴۸) پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ جس میں لوگوں کی سُنی جائے گی اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے(۴۹) ۔۔۔ ع ۶
بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔ جب قاصد اس کے پاس آیا تو یوسف نے کہا تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا ربّ تو ان کے مکر و فریب سے واقف ہی ہے(۵۰) بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا تمھیں اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ بولیں کہ حاشا ﷲ ہم نے اس میں کوئی برائی نہ دیکھی۔ عزیز کی بیوی بولی اب حق سامنے آ چکا ہے۔ میں نے ہی اسے پھسلانے کی کوشش کی تھی اور بے شک وہ بالکل سچا ہے (۵۱)
یوسف نے کہا کہ یہ میں نے اس لیے پوچھا کہ عزیز جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی تھی اور اﷲ خیانت کرنے والے لوگوں کی چالوں کو چلنے نہیں دیتا (۵۲) میں کچھ اپنے نفس کو پاک صاف نہیں قرار دے رہا۔ نفس تو بُرائی پر اکساتا ہی ہے سوائے اس کے کہ کسی پر میرے ربّ کی رحمت ہو۔ بے شک میرا ربّ بخشنے والا اور مہربان ہے (۵۳)
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے مخصوص کر لوں۔ پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہا اب تم ہمارے ہاں صاحبِ منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو (۵۴) یوسف نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے۔ میں حفاظت بھی کر سکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں (۵۵) اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اس سرزمین میں اقتدار کی راہ ہم وار کی ، کہ جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ اور نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے (۵۶) جو لوگ ایمان لائے اور اﷲ سے ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر کہیں بڑھ کر ہے(۵۷)۔۔۔ ع ۷
یوسف کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے تو اس نے انھیں پہچان لیا لیکن وہ اس کو نہ پہچان سکے (۵۸) جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر لیا تو کہا کہ اب اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا، دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور مہمان داری بھی خوب کرتاہوں (۵۹) اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو نہ تمھارے لیے میرے پاس غلّہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا (۶۰) انھوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ کام کر کے رہیں گے (۶۱)
یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا کہ ان کا دیا ہوا مال ان کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچیں تو اسے پہچان لیں اور پھر یہاں آئیں (۶۲) تو جب وہ اپنے باپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے: ابا جان آئندہ ہم کو غلّہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں، اور ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں(۶۳) باپ نے جواب دیا کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسا کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کر چکا ہوں۔ اﷲ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (۶۴) اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انھیں واپس کر دیا گیا ہے۔ بولے ابا جان اور ہمیں کیا چاہیے۔ یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لائیں گے۔ اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارِ شتر غلہ زیادہ لے آئیں گے۔ یہ غلہ جو ہم اس وقت لائے ہیں تھوڑا ہے (۶۵) ان کے باپ نے کہا میں اس کو ہر گز تمھارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اﷲ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آؤ گے۔ سوائے اس کے کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ۔ جب انھوں نے اس کو اپنا پیمان دے دیا تو اس نے کہا دیکھو ہمارے اس قول پر اﷲ نگہبان ہے (۶۶)
پھر اس نے ہدایت کی اے میرے بیٹو شہر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بل کہ الگ الگ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اس حیلے سے میں اﷲ کے حکم کو تو تم سے نہیں ٹال سکتا۔ حکم تو بس اﷲ ہی کا چلتا ہے۔ میرا بھروسا اسی پر ہے اور جس کو بھی بھروسا کرنا ہو اسی پر کرے (۶۷) اور جب وہ داخل ہوئے جس طرح سے ان کے باپ نے ان کو ہدایت کی تھی تو وہ تدبیر اﷲ کے حکم کو تو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی۔ بس یعقوب کے دل میں ایک خواہش سی تھی جسے اس نے پورا کیا۔ اور بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم کے طفیل صاحبِ علم تھا۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے (۶۸) ۔۔۔ ع ۸
جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور اس سے چپکے سے کہا کہ میں تمھارا بھائی ہوں ۔تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس کا رنج مت کرنا (۶۹) پس جب ان کا سامان تیار کرا دیا تو اپنے بھائی کے سامان میں کٹورا رکھوا دیا۔ پھر ایک منادی نے آواز دی کہ اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو (۷۰) انھوں نے ان کی طرف مُڑ کر پوچھا تمھاری کیا چیز کھوئی گئی ہے (۷۱) وہ بولے ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے ہیں، اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے غلّے کا ایک اونٹ ہے، اور میں اس کا ذمہ لیتا ہوں (۷۲) وہ کہنے لگے اﷲ کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے کی غرض سے نہیں آئے، اور ہم چوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں (۷۳) انھوں نے کہا اچھا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس چوری کرنے والے کی کیا سزا ہے (۷۴) وہ بولے: اس کی سزا؟ جس کے سامان میں وہ پیالہ نکلے وہی اس کی سزا میں دھر لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو اس طرح سزا دیا کرتے ہیں (۷۵) تب یوسف نے اپنے بھائی سے پہلے ان کے تھیلوں سے تفتیش کا آغاز کیا، پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کر لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی۔ ورنہ وہ بادشاہ کے قانون کی رُو سے اپنے بھائی کو نہیں روک سکتا تھا، سوائے اس کے کہ اﷲ ہی ایسا چاہے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے (۷۶)
ان بھائیوں نے کہا اگر یہ چوری کرے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کر چکا ہے۔ یوسف نے اس بات کو اپنے دل ہی میں رکھا اور حقیقت کو ان پر ظاہر نہ ہونے دیا۔ زیرِ لب اتنا ہی کہا کہ تم خود ہی بدقماش لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اﷲ اس سے خوب واقف ہے (۷۷) وہ کہنے لگے اے عزیز مصر: اس کا ایک باپ ہے جو بہت بوڑھا ہے۔ تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نیک دل انسان ہیں (۷۸) یوسف نے کہا اﷲ کی پناہ اس بات سے کہ ہم اس کے سوا جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے کسی اَور کو پکڑ لیں۔ اس صورت میں تو ہم بڑے بے انصاف ہوں گے (۷۹) ۔۔۔ ع ۹
جب وہ یوسف سے مایوس ہو گئے تو الگ ہو کر سرگوشی میں مشورہ کرنے لگے۔ ان کے بڑے نے کہا کیا تمھیں علم نہیں کہ تمھارے باپ نے اﷲ کے نام پر تم سے عہد و پیمان لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو زیادتی تم کر چکے ہو (وہ بھی تمھارے علم میں ہے) تو میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں جب تک میرا باپ مجھے اجازت نہ دے، یا اﷲ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ نہ فرمائے، وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے (۸۰) تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اباجان آپ کے بیٹے نے چوری کی، اور ہم نے وہی بات بیان کی ہے جو ہمارے علم میں آئی ہے ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں (۸۱) جس بستی میں ہم ٹھہرے تھے آپ اس کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے اور اس قافلے سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں (۸۲)
باپ نے یہ داستان سن کر کہا (میرے بیٹے نے تو چوری نہیں کی) بل کہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا کر لائے ہو۔ تو خیر، صبر و شکر کے سوا چارہ نہیں۔ امید ہے اﷲ ان سب کو میرے پاس لائے گا۔ بے شک وہی جاننے والا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں (۸۳)
پھر وہ ان کی طرف سے منھ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید پڑ گئیں۔ وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا (۸۴) بیٹے کہنے لگے بہ خدا آپ تو یوسف ہی کو یاد کیے جائیں گے یہاں تک کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھُلا دیں گے، یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے (۸۵) اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اﷲ ہی سے کرتا ہوں، اور میں اﷲ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (۸۶) اے میرے بیٹے جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اﷲ کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں (۸۷)
جب وہ یوسف کے پاس آئے تو کہنے لگے اے عزیز ہم اور ہمارے اہل و عیال بڑی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ہم تھوڑی سی پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں، تو آپ ہمیں غلہ بھی پورا دیجیے اور ہم کو خیرات بھی عنایت فرمائیے کہ اﷲ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے (۸۸) یوسف نے کہا تمھیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادانی کی حالت میں تھے (۸۹) وہ بول اٹھے: کیا تم ہی یوسف ہو؟ اس نے کہا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اﷲ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ بے شک جو اﷲ سے ڈرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے تو اﷲ ایسے نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا (۹۰) وہ بولے اﷲ کی قسم اس نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بے شک ہم خطاکار تھے (۹۱) اس نے جواب دیا : آج تم پر کچھ الزام نہیں ہے۔ اﷲ تم کو معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے (۹۲) یہ میرا کُرتا لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو، اس کی بینائی لوٹ آئے گی، اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ (۹۳) ۔۔۔ ع ۱۰
اور جب قافلہ وہاں سے روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ سمجھو تو مجھے یوسف کی خوش بو آ رہی ہے (۹۴) لوگ بولے واﷲ آپ ابھی تک اپنے اُس پرانے خبط میں مبتلا ہیں (۹۵) پھر جب خوش خبری دینے والا آیا تو اس نے کُرتا اس کے چہرے پر ڈال دیا اور اس کی بینائی لوٹ آئی۔ تب اس نے کہا میں تم سے نہ کہتا تھا کہ میں اﷲ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (۹۶) بیٹوں نے کہا اباجان ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دُعا کیجیے۔ بے شک ہم خطاکار تھے (۹۷) اس نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمھارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بے شک وہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے (۹۸)
پھر جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا، اور کہا مصر میں آ جائیے، اﷲ نے چاہا تو یہاں امن و چین سے رہیں گے (۹۹) اُس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب اُس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے۔ اس وقت یوسف نے کہا اباجان یہ میرے اُس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا ۔ میرے ربّ نے اسے سچ کر دکھایا۔ اس نے مجھ پر بڑا کرم کیا کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے یہاں لایا۔ بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا ۔بے شک میرا ربّ جو چاہتا ہے اس کے لیے بہترین تدبیر کرتا ہے اور وہ ہر ایک بات سے واقف اور حکمت والا ہے (۱۰۰) تب یوسف نے دعا کی اے میرے ربّ تو نے مجھے حکومت بخشی اور خواب کی باتوں کی تعبیر سکھائی ۔ اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ مجھے اسلام کی حالت میں موت دے اور اپنے نیک بندوں میں شامل کر (۱۰۱)
اے نبی، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں۔ ورنہ تم اس وقت موجود نہ تھے جب یوسف کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی(۱۰۲) اوراِن لوگوں میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں، خواہ تم کتنی ہی خواہش کرو (۱۰۳) حالاں کہ تم ان سے اس خدمت پر کوئی اجرت نہیں مانگتے ۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (۱۰۴) ۔۔۔ ع ۱۱
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے (۱۰۵) اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اﷲ پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی شرک بھی کیے جاتے ہیں (۱۰۶) کیا یہ اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر اﷲ کے عذاب کی کوئی آفت ہی آ نازل ہو، یا ان پر ناگہاں قیامت آ جائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو (۱۰۷) کَہ دو میرا راستہ تو یہی ہے، میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔ پاک ہے اﷲ کی ذات اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں (۱۰۸)
اے نبی تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ بھی سب انسان ہی تھے اور انھی بستیوں میں رہنے والوں میں سے تھے۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا جو اِن سے پہلے تھے کیا انجام ہوا۔ یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنھوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔ تو کیا اب بھی تم لوگ نہیں سمجھو گے (۱۰۹) یہاں تک کہ جب یہ نوبت آ گئی کہ رسول اپنی قوموں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان کو جھوٹ موٹ کے ڈراوے دیے گئے تھے تو رسولوں کو ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا وہ بچا لیا گیا۔ رہے مجرم تو ان سے تو ہمارا عذاب کبھی ٹالا نہیں جا سکتا (۱۱۰)
اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ یہ قرآن کوئی جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں ہے، بل کہ یہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے آ چکی ہیں، اور تفصیل ہے ہر چیز کی، اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے (۱۱۱) ۔۔۔ع ۱۲

ترجمہ :محمد کاظم
مشمولہ سمبل شمارہ 6، بشکریہ علی محمد فرشی

تبصرے

Naeem Subhani نے کہا…
بہت خوبصورت اور جماع ترجمہ....

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین