کتاب شناسی کی پہلی شام (رپورتاژ)/تصنیف حیدر

'آداب حاضرین!کتاب شناسی کی محفل میں آپ کا خیر مقدم ہے۔'یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک چھوٹے سے ہال میں گونجتی ہوئی آواز زمرد مغل کی تھی، جو ٹھیک شام سوا چار بجے کتاب شناسی کی محفل کاآغاز کرچکے تھے۔میں سامنے کی سیٹ پر بیٹھا ہوا سفید شرٹ اور نیلی جینس میں ملبوس اپنے دوست کو ہاتھ میں مائک تھامے پرجوش لہجے میں اس محفل کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے دیکھ رہا تھا، سفیدی اس کے شرٹ سے پھوٹتی ہوئی اس کے الفاظ میں گھلی جارہی تھی، ایک روشنی تھی جس میں ہال میں بیٹھے ہوئے تمام سامعین کہیں ڈوبتے جارہے تھے، کتاب شناسی کا اعلان ہم نے کئی روز قبل کردیا تھا۔ایک ایسا سلسلہ جس کی چھٹکی ہوئی چاندنی میں نہانے کے لیے قاری بے تاب ہو، ایک ایسی نشست، جہاں کچھ اہم لوگ مل کر اردو میں شائع ہونے والی اہم کتابوں پر گفتگو کریں، انہیں سمجھیں اور ان کے معائب و محاسن پر روشنی ڈال سکیں۔جی آپ نے ٹھیک سنا! یہ کوئی ایسی محفل نہ تھی، جس کو صرف اس لیے سجایا گیا ہو کہ کتاب اپنی رونمائی کی رسم تک ، شاعری کے متوالوں کی روایتی واہ واہ کی طرح ایک تعریفی دائرے میں محدود ہوکر رہ جائے۔اس کا یہ بھی مقصد نہیں تھا کہ انہی کتابوں پر گفتگو ہو جو ہمارا ادارہ شائع کرے بلکہ وہ کتابیں ، جن پر گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔جو اپنے اندر تخلیقیت کے ایسے جوہر لے کر عام قاری کے سامنے آنا چاہتی ہوں، جو اردو میں اچھی کتابوں کے وجود سے قریب قریب ناواقف ہوتا ہے، جسے اچھی کتابوں کے حصول کے لیے ڈائجسٹوں اور ادبی رسالوں کے بیچنے والوں کے پاس بھٹکنا پڑتا ہے اور زبردست مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ کتاب سے ہر قسم کی شناسائی کا ایک راستہ تیار کیا جائے، یعنی کہ کون سی اہم کتاب کب شائع ہونے والی ہے، کتاب کہاں سے حاصل کی جاسکتی ہے، کتاب پر ہونے والی گفتگو کب اور کہاں ہوگی اور کتاب پر گفتگو کیوں ضروری ہے۔ایسے بہت سے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے جو لوگ پروگرام ہال تک چل کر آئیں گے، انہیں کتاب پر گفتگو کرنے والوں کی زبانی اس کتاب کی اوپری سیر کرنے کا ایک موقع مل سکے گا، تاکہ اس سے تحریک پا کر وہ کتاب کے متن کی وادیوں میں اتر جائیں، حرف کے پھول سونگھیں، لفظ کے کانٹوں سے الجھیں اور چاروں طرف سے نثر و نظم کے بادلوں سے گھری ہوئی اس وادی میں ہونے والی برسات میں آخری قطرے تک تخلیق کار کے ساتھ ساتھ اس کے تجربات میں شریک ہوں۔یہی کتاب کلچر ہے، اسی کے ذریعے ہم اپنے کھوئے ہوئے معیار کو واپس حاصل کرسکتے ہیں۔بس یہی سوچ کر 19 مارچ 2016 کو ہم نے قارئین کے دروازوں تک اس پروگرام کی چٹھیاں پہنچادیں۔جن لوگوں کو کتاب پر بات کرنے کے لیے مناسب سمجھا، ان سے درخواست کی اور ہمیں خوشی ہے کہ زیادہ تر جگہوں سے ہماری بازگشت مایوسی کے بجائے حوصلے اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ واپس پلٹی۔پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی میں نے دیکھا کہ کس طرح زمرد مغل نے مہمانوں کے بیٹھنے کی ترتیب سے لے کر بینر کی آویزش تک پر کتنا دھیان دیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس طرح ہم ایک مثبت قدم اٹھانے اور اس محفل کو یادگار بنانے میں بہت حد تک کامیاب رہے۔ہم نے عرفان ستار صاحب کے شعری مجموعوں 'تکرار ساعت'اور 'ساعت امکاں' پر بات کرنے کے لیے ممتاز نقاد شمیم حنفی اور سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ شاہد مہدی سے درخواست کی تھی، اسی طرح مبشر علی زیدی کی کتاب'سو لفظوں کی کہانی' پر گفتگو کرنے کے لیے اردو کے اہم افسانہ نگار جوگندر پال کی دختر سکریتا پال کمار اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ہندی سے وابستہ استاد رحمٰن مصور سے ، طاہر اسلم گورا کے ناول 'رنگ محل' پر بات کرنے کے لیے پیغام آفاقی اور جلتی ہوا کا گیت نامی ثروت زہرا کے شعری مجموعے پر بات کرنے کے لیے دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو سے وابستہ نجمہ رحمانی سے درخواست کی گئی تھی۔خوشی کی بات یہ ہے کہ ان تمام درخواستوں کو قبول کیا گیا۔ کتابوں پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ کینیڈا کے ٹیگ ٹی وی نامی چینل کے لیے ایک مخصوص سیشن بھی رکھا گیا تھا، جس میں پہلے کامنا پرساد، فرحت احساس اور ارتضٰی کریم کو شرکت کرنی تھی، لیکن اتفاق کی بات کہ ان تینوں کے ساتھ جستہ جستہ کوئی نہ کوئی مصروفیت ایسی آن پڑی کہ وہ اس محفل میں شریک نہ ہوسکے، چنانچہ ہم نے شمیم حنفی اور انیس الرحمٰن صاحبان سے عین وقت پر جب اس سیشن میں گفتگو کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے نہ صرف اسے قبول کیا، بلکہ سیر حاصل گفتگو کرکے اس بحث کو سننے والوں کے لیے کارآمد بھی بنادیا۔
پہلا سیشن:
شمیم حنفی اردو کے وہ واحد اہم نقاد ہیں، جن کی گفتگو سنیے تو جی چاہتا ہے کہ وہ بات کرتے جائیں اور آپ ان کے لبوں سے جھڑتے ہوئے لفظوں کے موتی چنتے جائیں۔زندگی اگر علم اور تجربوں کے رنگوں سے تیار کی گئی کوئی تصویر ہے تو اس تصویر کو شمیم صاحب کی گفتگو کہنا چاہیے۔ہوسکتا ہے کہ شمیم صاحب کے علمی اور تنقیدی موقف سے آپ کسی پہلو سے اختلاف کرجائیں، مگر یہ اتنا آسان بھی نہیں، کیونکہ ان کے قائم کردہ نظریات نہایت ہی اہم فکری اورتنقیدی اصولوں کی روشنی میں جنم لیتے ہیں۔اور اس میں جہاں تک ہو وہ جانب داری اور آپسی تعلقات کی بنیاد پر کی جانے والی تنقیص و تعریف سے پرہیز کرتے ہیں۔اگر واقعی کسی نقاد نے اس وقت اردو میں غیر جانبداری اور دیانتداری کو رواج دیا ہے تو وہ شمیم حنفی صاحب ہی ہیں۔پہلے سیشن میں ان کی طرف سے ہونے والی گفتگو پر بات کرنے سے پہلے یہ بھی بتادوں کہ جب ہم نے ان سے کتاب شناسی نامی اس پروگرام میں شرکت کرنے کی درخواست کی تو وہ نہ صرف انہوں نے قبول کی، بلکہ اس پروگرام کے انعقاد (یعنی کتاب اور قاری کے درمیان قائم ہونے اہم رشتے کی پہلی کوشش )پر حیرت کے ساتھ اپنی بھرپور خوشی کا ساتھ دیا۔یہ بات کتاب شناسی پروگرام کے لیے یادگار بھی ہے اور اہم بھی کہ شمیم حنفی صاحب ، صبح علی گڑھ میں ایک صدارتی خطبہ دے کر، پورے تین، ساڑھے تین گھنٹے کا سفر کرکے اپنی دختر غزالہ شمیم صدیقی اوربیگم صبا شمیم کے ساتھ نہ صرف تشریف لائے بلکہ پروگرام کے آخر تک شریک رہے۔شمیم حنفی صاحب نے عرفان ستار کی شاعری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان دونوں مجموعوں کی اشاعت پر دلی خوشی ہوئی ہے کہ اب اردو میں زیادہ تر جس قسم کی شاعری ہورہی ہے وہ مصرعے سیدھے کرلینے کی صلاحیت سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔انہوں نے عرفان ستار کی شاعری کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ شاعر کے یہ انتخابات نہایت توجہ کے طالب ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اسی قسم کے انتخابات کے حق میں ہیں، کلیات کے نہیں۔اس موقع پر انہوں نے شکیب جلالی کے بیٹے سے ہونے والی اپنی اس گفتگو کا بھی ذکر کیا، جس میں شکیب کی کلیات کو شائع کروادینے پر شمیم صاحب نے افسوس کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کہا کہ عرفان ستار کی شاعری نے انہیں چونکایا ہے،کیونکہ غزلیں کہنا اب کوئی کمال نہیں، لیکن جس طرح کی غزلیں عرفان ستار کی ہیں، اگر ایسی شاعری کی جائے تو اسے واقعی ایک کامیاب شعری تجربہ قرار دیا جانا چاہیے۔شمیم صاحب جب گفتگو کرتے ہیں تو اپنی ہر بات کو واضح کرنے کے لیے دلائل بھی دیتے جاتے ہیں، انہوں نے عرفان ستار کی کتابوں سے اپنے ایسے اشعار بھی سنائے ، جنہوں نے سامعین کو عرفان ستار کی شاعری اور بالخصوص غزل پر غیر معمولی گرفت حاصل ہونے کا گواہ بنادیا۔شاہد مہدی صاحب نے اردو کے شعری منظرنامے پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کتاب شناسی کی روایت کو مستحکم کرنے کی بات تو کہی ہی، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ اردو والوں کا رویہ ذمہ دارانہ نہیں ہے، اسی وجہ سے کتابیں اکثر قارئین تک پہنچ نہیں پاتیں۔اس لیے سب سے پہلے ہمیں اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے عرفان ستار کی شاعری پر زیادہ گفتگو نہیں کی، جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک ہفتہ قبل بھیجی جانے والی کتاب ان تک پہنچ نہ سکی تھی، اور اس لیے وہ شاعری پر گفتگو کرنا چاہتے تھے، پھر بھی نہ کرسکے۔اس کے باوجود ان کی وضعداری کا عالم یہ تھا کہ وہ چار بجے کے دیے ہوئے وقت کے مطابق ٹھیک چار بجے ہی ہال میں تشریف لاچکے تھے۔اسی طرح کے لوگ جب پنکچوئل ہونے کی بات کرتے ہیں تو واقعی ہمیں اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتے ہوئے ان سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔
دوسرا سیشن:
سکریتا پال کمار تھوڑی دیر سے پہنچی تھیں، پھر بھی دوسرا سیشن شروع ہونے سے پہلے وہ آچکی تھیں، چنانچہ'سو لفظوں کی کہانی' پر گفتگو شروع ہوئی۔زمرد نے ابتدا میں حاضرین سے مبشر علی زیدی کا تعارف کروایا اور بتایا کہ کس طرح وہ روزانہ جنگ نامی اخبار میں سو لفظوں کی ایک کہانی لکھتے ہیں اور اخبار سے لے کر سوشل میڈیا تک اور وہاں سے دنیازاد جیسے اہم اور معیاری رسالے تک، مبشرعلی زیدی کی کہانیاں اپنے لیے ایک مخصوص مقام بناچکی ہیں۔سکریتا پال کمار کے والد جوگندر پال ، خود بہت سے افسانچے لکھ چکے ہیں، جو کہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے ہیں، حالانکہ افسانچے میں الفاظ کی کوئی قید نہیں ہوتی، پھر بھی اختصار کی وجہ سے 'سو لفظوں کی کہانیوں'سے ان کی بہرحال ایک نسبت ہے۔جس پر آغاز میں ہی سکریتا صاحبہ نے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ فلیش فکشن دنیا بھر میں مقبول ہورہا ہے،چونکہ کم الفاظ میں اپنی بات کو نہایت فنکارانہ طور سے کہنا دراصل ایک قسم کے تخلیقی ذہن کو آشکار کرتا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے ایک واقعہ بھی سنایا ، مگر وہ واقعہ میں یہاں اس لیے نہیں لکھوں گا کیونکہ اسے جلد ہی کتاب شناسی کی اپلوڈ ہونے والی ویڈیو میں آپ خود ان کی زبانی سنیں گے تو زیادہ لطف اندوز ہونگے۔رحمٰن مصور نے سو لفظوں کی کہانیوں پر تنقیدی نظر ڈالی، انہوں نے ان کہانیوں کے تخلیقی پہلو پر بات کرنے سے زیادہ اس کی ہیت پر گفتگو کی اور کہا کہ اس طرح کے افسانوں کو کہانی کہا جانا، بہر طور ناقابل قبول ہے کیونکہ اتنے مختصر الفاظ میں کہانی ٹھیک طور سے انگڑائی لینے کی بھی متحمل نہیں ہوسکتی۔لیکن اس بات سے زمرد مغل اور سکریتا پال کمار دونوں نےہی اختلاف کیا۔رحمٰن مصور کا ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ روزانہ ایک خیال کو طے کرنا اور پھر اس پر کہانی لکھنا، جو کہ کسی انسان کے پیشہ ورانہ فرائض میں شامل ہو، اس میں تخلیقیت کو بہرحال دھچکا لگتا ہے، لیکن زمرد نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مبشر علی زیدی کی مقبولیت اس بات کی گواہ ہے کہ وہ اسی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے بہتر کہانیاں لکھتے ہیں۔جملہ معترضہ کے طور پر یہاں میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں، منٹو کے بارے میں شاہد احمد دہلوی نے لکھا ہے کہ وہ ریڈیو میں لکھے جانے والے ڈراموں کو سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ لکھ لیتے تھے، جب کہ ان کے دوسرے ساتھی گھنٹوں صرف سوچ وچار میں وقف کردیا کرتے تھے۔اس لیے بطور قاری مجھے لگتا ہے کہ اچھی بری کہانیاں ہوسکتا ہے کہ مبشر علی زیدی کے یہاں ہوں، مگر چونکہ ان کی زیادہ تر کہانیاں اپنے بطن میں کوئی سماجی مسئلہ لیے ہوئے ہوتی ہیں اور وہ اسے انجام تک لے جاتے ہوئے قاری کو اپنے پائوں دیکھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اس لیے ان کے چونکانے کے عمل پر سوالیہ نشان لگانے سے پہلے ہمیں طے کرنا ہوگا کہ آیا چونکانے کا عمل کیا ادب میں اتنا ہی سطحی ہے جتنا ہم اسے سمجھتے ہیں، جبکہ محمد حسن عسکری بھی اس کا اقرارایک جگہ کرچکے ہیں کہ چونکانے کے عمل سے اردو والے کچھ زیادہ ہی خوف کھاتے ہیں۔
تیسرا سیشن:
اس سیشن کے بعد رنگ محل پر گفتگو شروع ہوئی جوکہ کینیڈا میں مقیم طاہر اسلم گورا کا ناول ہے، یہ ناول کچھ عرصہ قبل اجمل کمال کے مشہور رسالے 'آج' میں بھی شائع ہوچکا ہے۔اس ناول پر ہونے والی گفتگو میں چونکہ زمرد مغل اور پیغام آفاقی موجود تھے۔اس لیے اس سیشن کی نظامت آبگینہ عارف کو سونپی گئی تھی۔آبگینہ عارف سماجیات کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں، اورقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے بڑے ادارے میں بھی ہیں،براہ راست ان کا تعلق اردو زبان و ادب سے نہیں ہے، پھر بھی ہماری درخواست پر انہوں نے اس نظامت کو قبول کیا اور اپنی جانب سے جہاں تک ممکن ہوا اسے نبھایا بھی۔پیغام آفاقی بیک وقت شاعر اور فکشن نگار ہیں۔بطور فکشن نگار وہ زیادہ مشہور ہیں، ان کے ایک ناول 'مکان' نے جتنی شہرت حاصل کی تھی، غالباً اس سے تمام اردو فکشن پڑھنے والے واقف ہونگے۔اس لیے ناول پر بات کرنے کے لیے پیغام آفاقی سے بہتر نام اور کون ہوسکتا تھا، ہماری درخواست پر وہ نہ صرف اس پروگرام میں تشریف لائے بلکہ انہوں نے طاہر اسلم گورا کے ناول کی زبان، اس کی تھیم، اس کی انفرادیت اور اس کو پڑھنے کی ضرورت پر بھرپور روشنی ڈالی۔زمرد مغل نے بھی اس ناول کے تعلق سے اہم باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بھی اس ناول کو پڑھا جانا چاہیے کیونکہ ناول میں انتخاب کردہ موضوع کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پورے برصغیر میں رہنے والے اور یہاں سے مغرب کی جانب ایک بہتر زندگی کی تلاش سے ہے۔(ہمیں امید ہے کہ جلد یہ ناول ہندوستان میں اردو اور دیوناگری دونوں رسم الخط میں شائع ہوگا اور یہاں کے قارئین تک بہ آسانی پہنچ سکے گا، تاکہ اس پر مزید گفتگو کی گنجائش پیدا ہوسکے اور طاہر اسلم گورا جیسے اہم لکھنے والوں کی تخلیقات سے ہندوستان کے قارئین بھی استفادہ کرسکیں۔)
چوتھا سیشن:
چوتھا سیشن ثروت زہرا کے شعری مجموعے 'جلتی ہوا کا گیت' پر مبنی تھا۔اس سیشن کی نظامت بھی زمرد مغل نے کی۔اس میں ہونے والی گفتگو سے قبل آپ کو بتادوں کہ اس میں پہلے مجھے اور فرحت احساس کو ثروت زہرا کی اس کتاب پر گفتگو کرنی تھی، مگر کسی وجہ سے فرحت صاحب مصروف ہوگئے اور ہم نے بہت ہی کم وقت میں نجمہ رحمانی صاحبہ سے درخواست کی کہ وہ اس کتاب پر گفتگو کرلیں، ان تک ہم نے ثروت صاحبہ کی کتاب محض دو دن پہلے پہنچائی مگر حیرت کی بات ہے کہ اتنے کم وقت کے باوجود نجمہ رحمانی نے کتاب پر اہم گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ ثروت زہرا کی شاعری میں الفاظ زیادہ تر وہی استعمال ہوئے ہیں، جو عام خواتین کی زندگی کا حصہ ہیں، بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی خانگی اور پیشہ ورانہ زندگی میں گردش کرنے والے الفاظ کا ہی انتخاب کرکے نہایت موثر طریقے سے نظمیں بنتی ہیں اور ان کی نظموں کی بنت اتنی کامیاب ہوتی ہے کہ اگر یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے تو ضرور ان کا شعری مستقبل نہایت تابناک ہے، انہوں نے ثروت زہرا کے کلام کی اہمیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ان کی دو ایک نظمیں بھی سامعین کو سنائیں۔میں نے بھی ثروت زہرا کی شاعری کا اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جائزہ لینے کی کوشش کی، میرے خیال میں یہ بات درست ہے کہ نظم کہنا غزل کے مقابلے میں زیادہ مشکل کام ہے اور بقول آفتاب اقبال شمیم ہمارے یہاں اس چیلنج کو زیادہ تر خواتین نے قبول کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے شعری تجربوں کو بیان کرنے کے معاملے میں مردوں سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔ثروت زہرا کی شاعری کے تعلق سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی نظمیں آزاد ہیں، اس لیے وہاں بہرحال بحر کی بھی پابندی کی گئی ہے، چنانچہ ان کے شاعری کے تعلق سے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بحر کی الجھنوں سے بچنے کے لیے نظم لکھتی ہیں۔پھر انہوں نے اپنے وجودی مسائل اور سماجی مسائل دونوں کو ہی بڑی خوبصورتی سے نظموں میں بیان کیا ہے،انہیں صرف فیمنزم کے رویے سے جوڑدینا خود ان کے اور ان کی شاعری کے تعلق سے ایک نامناسب بات ہے کیونکہ بطور فرد وہ اپنے معاشرے اور حالات کو جس آنکھ سے دیکھتی ہیں، اس کو مصنوعی بنانے کی بالکل کوشش نہیں کرتیں۔
پانچواں سیشن:
پانچواں اور آخری سیشن ٹیگ ٹی وی کے لیے ہونے والی مخصوص گفتگو پر مشتمل تھا، جس کا موضوع تھا، اردو زبان و ادب کے فروغ میں اردو میلوں کا کردار۔اس پر بات کرنے کے لیےشمیم حنفی، انیس الرحمٰن ، جو کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انگریزی سے وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوکر ریختہ فائونڈیشن سے وابستہ ہیں اور زمرد مغل موجود تھے، جو کہ اس کی نظامت بھی کررہے تھے، ساتھ ہی ساتھ میں نے بھی اس مذاکرے میں اپنی جانب سے چھوٹا سا حصہ لیا۔اس گفتگو میں شمیم حنفی صاحب نے اردو کے منعقد ہونے والے میلوں پر بات کی اور کہا کہ حالانکہ یہ میلے آج کل زیادہ ہورہے ہیں،جو کہ ایک اچھی بات ہے اور ایک پہلو سے ہمیں اس جانب بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ کہیں معیار تو اس وجہ سے متاثر نہیں ہورہا ہے، انیس الرحمٰن صاحب نے کہا کہ اردو کے ایسے میلے اور جشن اردو کے حق میں سوسائٹی میں پیدا ہونے والے مثبت رویے کا احساس دلاتے ہیں، حالانکہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ فروغ کا غلط مطلب جو ہم نے طے کررکھا ہے، اس سے ہمیں بچنا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ مشاعروں سے ادب کا فروغ ہورہا ہے جبکہ مشاعروں نے اردو زبان و ادب کو نقصان بھی بہت پہنچایا ہے، ریختہ کے جشن کی اچھی بات یہ ہے کہ وہاں ہم اسد محمد خاں، شمس الرحمٰن فاروقی اور شمیم حنفی کو سننے جاتے ہیں نہ کہ دوسری مشہور فلمی و سیاسی مشہور شخصیات کو جن کے انٹرویوز سے یوٹیوب بھرا پڑا ہے،انیس الرحمٰن صاحب نے میری بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تو ان مشہور لوگوں کی ہی وجہ سے پروگرام میں آیا کرتے ہیں، لیکن چونکہ معیاری شخصیات بھی اس میلے کا حصہ ہوتی ہیں، اس طرح معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ ذریعہ ایک موثر وسیلہ ثابت ہوجاتا ہے۔زمرد مغل نے کہا کہ اردو والوں کو اس بات سے خوش ہونا چاہیے کہ اب اردو کا بھی جشن منایا جاتا ہے، جو کہ ایک زبردست پہل ہے، اور اسے بے حد کامیابی بھی مل رہی ہے، زمرد نے اس حوالے سے بحث میں شریک لوگوں سے اہم اور ضروری سوالات پوچھے اور خود اپنا موقف بھی نہایت خوبی سے بیان کیا۔اردو کے میلوں پر اس مخصوص پروگرام کو جلد ہی مکمل کرکے اگلے ماہ ٹیگ ٹی وی تک پہنچایا جائے گا، تاکہ اسے تمام احباب دیکھ اور سن سکیں ۔
چار سیشنز کی نظامت زمرد مغل نے نہایت کامیابی کے ساتھ کی اور آبگینہ عارف نے جس سیشن کی نظامت کی، وہ بھی کامیاب رہی۔پروگرام میں شریک تمام گفتگو کرنے والے حضرات نے بہت اچھی طرح کتابوں کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالی، مکمل گفتگو اپریل کے مہینے میں آپ یوٹیوب کے ذریعے دیکھ اور سن سکیں گے۔اس پروگرام کی کامیابی کے لیے محمد وسیم اور شیراز حسین کا بھی جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کہ انہی کی وجہ سے پروگرام کی ویڈیو اور تصاویر آپ تک پہنچ سکیں ہیں اور ان دوستوں نے صرف زبان و ادب کی محبت میں 'کتاب شناسی'کی اس کوشش کو فروغ دینے کے لیے ہمارا ساتھ دیا ہے، محمد وسیم ریختہ فائونڈیشن میں ویڈیو ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں، جبکہ شیراز حسین شعبہ فنون لطیفہ ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بطور استاد وابستہ ہیں، وہ ایک ماہرپینٹر اور زبردست آرٹسٹ ہیں۔پروگرام کے آخر میں ان کی بنائے ہوئے غالب اور جون ایلیا کے اسکیچز تقسیم کیے گئے، جو کہ حاضرین کو بہت پسند آئے۔اس پروگرام کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں فصیح اکمل قادری، مسز زبیر رضوی، سلمان رضوی(زبیر رضوی کے بیٹے)، صبا شمیم ، غزالہ شمیم صدیقی، طارق فیضی، حسین ایاز اور سالم سلیم جیسے اہم افراد بطور سامع آخر تک شریک رہے اور باقی حاضرین کے ساتھ تمام گفتگوئوں کو بہت شوق سے سنا۔کتاب شناسی کی یہ ابتدائی کوشش نہایت کامیاب رہی ہے، جس سے ہمیں بڑا حوصلہ ملا ہے۔امید ہے کہ اس سلسلے کے اگلے تمام پروگرامز بھی مزید کامیاب ہونگے۔شکریہ

تبصرے

اس تقریب کی کارروائی پڑھی اچھی لگی ، بہ طور خاص شمیم حنفی صاحب کی گفتگو اہم رہی ۔ اچھا آغاز ہے۔ خوب بہت خوب

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین