وجود کی ناقابلِ برداشت لطافت(حصہ دوم)/میلان کنڈیرا

(دوسرا حصہ : روح اور جسم )

(۱)
مصنف کا قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنا مہمل ہو گا کہ اس کے کرداروں کا کبھی حقیقی وجود رہا ہے۔ یہ کسی ماں کی کوکھ سے پیدا نہیں ہوئے ہیں بل کہ ان کا وجود تو ایک بنیادی صورتِ حال کے دو ایک تحریک آور فقروں کا رہینِ منت ہے۔ توماش "Einmal ist keinmal" کا زائیدہ تھا اور تیریزا پیٹ کی گڑگڑاہٹ سے پیدا ہوئی تھی۔
جب وہ پہلی بار توماش کے فلیٹ آئی، تو اس کے پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہونے لگی۔ اس میں تعجب کی کیا بات ہے، ناشتے کے بعد سے ایک سینڈوچ کے علاوہ، جو گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے پلیٹ فارم پر بڑی جلدبازی میں حلق سے اتارا گیا تھا، اس نے کچھ اور نہیں کھایا تھا۔ اس کی ساری توجہ تو آنے والے سفر پر مرتکز تھی، جس میں اسے کھانے پینے کا خیال نہیں رہا تھا۔ لیکن جب ہم جسم سے غافل ہو جاتے ہیں تو زیادہ آسانی سے اس کا شکار بن جاتے ہیں۔ توماش کے سامنے کھڑے اپنے پیٹ کا احتجاج سنتے ہوئے اسے سخت برا لگ رہا تھا۔ اس کا جی چاہا کہ روپڑے۔ خوش قسمتی سے چند لمحوں بعد توماش نے اپنی بانہیں اس کے گرد ڈال دیں اور وہ اپنے شکم سے اٹھتی ہوئی آوازوں کو بھول بھال گئی۔

(۲)
سو تیریزا نے ایک ایسی صورتِ حال سے جنم لیا تھا جو بڑی بے دردی کے ساتھ جسم اور روح کی ناقابل مصالحت ثنویت کا انکشاف کرتی ہے، ایک بڑے بنیادی انسانی تجربے کا۔
ایک زمانہ ہوا کہ آدمی اپنے سینے میں دِل کی باقاعدہ دھڑکنوں کی آواز کو حیرت کے ساتھ سُنا کرتا تھا، ان کی ماہیت سے قطعی بے خبر۔ وہ جسم جیسی اتنی اجنبی اور نامانوس شے کے ساتھ خود کو نسبت دینے کا اہل نہیں تھا۔ جسم ایک قفس تھا، اور اس کے اندر کوئی چیز تھی جو دیکھتی، سنتی، خوف کرتی، سوچتی اور تعجب کرتی تھی۔ اور یہ چیز جسم کے حساب کتاب کے بعد باقی بچ رہنے والی چیز، روح تھی۔
آج، ظاہر ہے جسم نامانوس نہیں رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سینے میں دھڑکنے والی چیز دل ہے اور ناک اس نلکی کی ٹونٹی ہے جو جسم سے باہر کو نکلی ہوئی ہے تاکہ آکسیجن کو پھیپھڑوں تک پہنچائے۔ چہرہ ایک آلہ جاتی پینل سے زیادہ نہیں جس کا کام ساری جسمانی عملیات (میکینزمس) کا اندراج کرنا ہے: ہضم، سماعت، تنفس، خیال۔
جب سے انسان نے جسم کے ہر عضو کوالگ الگ نام دینا سیکھ لیا ہے، جسم نے بھی اسے تنگ کرنا کم کر دیا ہے۔ آدمی نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ روح حرکت پذیر دماغ کے خاکستری مادے کے علاوہ کچھ نہیں۔ جسم و روح کی یہ عجیب ثنویت سائنسی اصطلاحات میں دب دبا کر رہ گئی ہے، اور ہم اس کی ایک فرسودہ تعصب کے طور پر ہنسی اُڑا سکتے ہیں۔
لیکن کسی گرفتارِ محبت سے اپنے پیٹ کی گڑگڑاہٹ کو سننے کے لیے ذرا کَہ کر تو دیکھیں،جسم و روح کی وحدت، سائنسی عہد کا وہ غنائی التباس، چشم زدن میں رفوچکر ہو جائے گا۔

(۳)
تیریزا نے اپنے جسم کے ذریعے خود کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ اسی لیے وہ بچپن ہی سے اکثر آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوتی۔ اور چوں کہ اسے اس بات سے خوف آتا تھا کہ کہیں اس کی ماں اس کی چوری نہ پکڑ لے، آئینے میں اس کی ہر تاک جھانک خفیہ برائی کا شائبہ لیے ہوتی۔
یہ خودنمائی کا احساس نہیں تھا جو اسے کشاں کشاں آئینے تک لے آتا تھا۔ یہ تو خود اپنے ’’میں‘‘ کو دیکھنے کی حیرت تھی۔ وہ بھول جاتی کہ اپنے جسم کی عملیات کے آلہ جاتی پینل کو دیکھ رہی ہے۔ اسے تو بس یوں لگتا جیسے وہ اپنی روح کو اپنے چہرے کے خط وخال سے جھلکتا ہوا دیکھ رہی ہو۔ وہ بھول جاتی کہ ناک محض ایک نلکی کی ٹونٹی ہے جو پھیپھڑوں کو آکسیجن پہنچانے پر مامورہے۔ یہ اسے اپنی فطرت کا حقیقی اظہار نظر آنے لگتی۔
اپنے سراپے کا دیر تک جائزہ لیتے ہوئے، کبھی کبھار وہ اپنے چہرے میں خود اپنی ماں کے خط و خال کا عکس دیکھ کر مضطرب ہو جاتی۔ پھر وہ کچھ اور بھی جم کر اپنے پیکر پر غور کرتی، اس کوشش میں کہ کچھ نہیں تو تصور ہی میں ماں کے خط و خال کو بے دخل کر دے، اور اسی کو باقی رہنے دے جو صرف اس کا اپنا ہے۔ اور جب کبھی وہ اس کوشش میں کام یاب ہو جاتی، تو یہ نشاط مدہوشی سے کم نہ ہوتا، اس کی رُوح اٹھ کر اس کے جسم کی سطح پر آ جاتی، جیسے کسی جہاز کے احشا سے یک بارگی نکل کر عرشے پر ہر طرف پھیلتا ہوا عملہ جو آسمان کی طرف ہاتھ لہرا رہا ہو اور مارے بہجت کے نغمہ سنج ہو۔

(۴)
وہ اپنی ماں پر جاتی تھی، اور صرف جسمانی اعتبار ہی سے نہیں، کبھی کبھی تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کی پوری زندگی اس کی ماں کی زندگی ہی کا تسلسل ہو، بالکل اسی طرح جیسے بلیئرڈ کی میز پر گولوں کی دوڑ کھلاڑی کی بانھ کی حرکت کا تسلسل ہوتی ہے۔
یہ کہاں اور کب شروع ہوئی تھی، وہ حرکت جو آگے چل کر تیریزا کی زندگی میں بدل گئی؟
شاید اس وقت جب تیریزا کا نانا جو پراگ میں ایک بیوپاری تھا سب کو سنانے کے لیے اپنی بیٹی، یعنی تیریزا کی ماں کی خوب صورتی کے گن گانے لگا تھا۔ وہ جب تین یا چار سال کی تھی تو وہ اس سے کہا کرتا تھا کہ وہ ہو بہ ہُو رفائیل کی میڈونا کا پیکر ہے۔ تیریزا کی چار سالہ ماں یہ بات کبھی فراموش نہ کر سکی۔ جب وہ سکول میں ایک نوجوان لڑکی کی طرح اپنے ڈیسک سے لگ کر بیٹھتی تو استادوں کی کسی بات پر توجہ نہیں دیتی تھی، بس بیٹھی بیٹھی اسی خیال میں گم رہتی کہ وہ کن کن پینٹنگز جیسی ہے۔
پھر اس کی شادی کا وقت آیا۔ نو آدمی اس کے طلب گار تھے۔ وہ سب کے سب اس کے گرد دو زانو ہو گئے۔ کسی شہ زادی کی طرح ان کے درمیان کھڑے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ چُنے تو آخر کس کو چُنے۔ ایک سبھوں سے زیادہ شکیل و جمیل تھا، ایک اور سب سے زیادہ تیز فہم، تیسرا سب سے زیادہ مال دار، چوتھا سب سے زیادہ کسرتی جسم کا مالک، پانچواں بہترین خاندان کا سپوت، چھٹا شعر سناتا تھا، ساتواں خوب گھوما پھراہوا تھا، آٹھواں وائلن بجاتا تھا اور نواں سب سے زیادہ مردانہ تھا۔ لیکن ان کے دو زانو ہونے کا انداز یک ساں تھا۔ ان سبھوں کے گھٹنوں پر ایک جیسے گٹے پڑے ہوئے تھے۔
بالآخر جب اس نے نویں کا انتخاب کر ڈالا تواس کی وجہ اتنی زیادہ اس کا مردانہ پن نہیں تھی جتنی یہ بات کہ جب جفتی کے دوران اس نے اس سے سرگوشی میں کہا تھا، ’’ذرا خیال رکھنا‘‘، تو اس نے جان بوجھ کر لاپروائی کا ثبوت دیا تھا، اور وہ اس سے شادی کرنے پر مجبور ہو گئی تھی کیوں کہ اسے کوئی ایسا ڈاکٹر نہ مل سکا تھا جو حمل گرانے پر راضی ہو جاتا۔ سو یوں تیریزا کا دنیا میں ورود ہوا ۔ ملک بھر سے متعدد رشتے دار بھاگے آئے تاکہ بچہ گاڑی پر جھک کر بچوں کی طرح تتلا تتلا کر باتیں کریں۔ لیکن تیریزا کی ماں نے بالکل اس طرح باتیں نہیں کیں۔ اس نے تو سرے سے بات ہی نہیں کی۔ اس نے دوسرے آٹھ طلب گاروں کے بارے میں سوچا جو سب کے سب نویں سے بہ درجہ ہا بہتر تھے۔
بیٹی ہی کی طرح تیریزا کی ماں بھی اکثر آئینے میں اپنا سراپا دیکھتی تھی۔ ایک دن اسے اپنی آنکھوں کے قریب جھریاں نظر آئیں اور فیصلہ کر ڈالا کہ اس کی شادی کے کوئی معنیٰ نہیں نکلتے۔ اسی زمانے میں اس کی ایک مردانہ صفات سے تہی آدمی سے ملاقات ہو گئی جس کے نامۂ اعمال میں جعل سازی کے کئی الزامات تھے۔ دو ناکام یاب شادیوں کا تو ذکر ہی کیا۔ اب اسے ان گٹے پڑے گھٹنوں والے طلب گاروں سے نفرت ہو گئی۔ منھ کا مزہ بدلنے کی خاطر اس کا جی چاہا کہ کبھی خود بھی کسی کے سامنے دو زانو ہو جائے۔ اور وہ شوہر اور تیریزا کو ان کے حال پر چھوڑ چھاڑ کر اپنے نئے دھوکے باز دوست کے آگے دو زانو ہو گئی۔
سب سے زیادہ مردانہ آدمی سب سے زیادہ پژمردہ آدمی بن گیا۔ اتنا پژمردہ کہ اب اسے کسی چیز کی پروا نہیں رہی۔ وہ جو ذہن میں ہوتا کھلم کھلا بک دیتا اور اشتراکی پولیس نے، جو اس کے بے دھڑک بیانات سے کھلبلا گئی تھی، اسے گرفتار کر لیا، مقدمہ دائر کر دیا، اور جیل میں ایک لمبی مدت کی قید کا فیصلہ سنا دیا۔ انھوں نے اس کے فلیٹ پر تالا ڈالا اور تیریزا کو اس کی ماں کے پاس بھیج دیا۔
جیل خانے میں تھوڑی ہی مدت گزارنے کے بعد وہ سب سے پژمردہ آدمی جاں بہ حق ہوا اور تیریزا اور اس کی ماں پہاڑوں کے قریب ایک چھوٹے سے شہر میں ماں کے دھوکے باز کے ساتھ رہنے چلی آئیں۔ دھوکے باز ایک دفتر میں کام کرتا تھا، اور تیریزا کی ماں ایک مکان میں۔ اس کی ماں نے تین بچے اور جنے۔ پھراس نے ایک بار اور آئینہ دیکھا اور دریافت کیا کہ وہ بوڑھی اور بدصورت ہو گئی ہے۔

(۵)
جب اسے یہ احساس ہوا کہ وہ سب کچھ کھو چکی ہے تو اس نے مجرم کی تلاش شروع کی۔ کسی سے بھی کام چل سکتا تھا: اس کا پہلا خاوند، مردانہ اور محبت کیے جانے سے محروم، جس نے اس کی سرگوشی میں کی ہوئی تنبیہ کی پروا نہیں کی تھی اس کا دوسرا خاوند مردانگی سے محروم لیکن بہت زیادہ چاہا جانے والا، جو اسے پراگ سے ایک چھوٹے سے شہر میں گھسیٹ لایا تھا اور ایک کے بعد ایک نئی عورت سے تعلق پیدا کر کے اسے مسلسل رقابت کے عذاب میں لٹکا رکھا تھا۔ لیکن ان دونوں کے باب میں وہ بے بس تھی۔ ایک تیریزا ہی وہ واحد متنفس تھی جو اس کی تھی اور فرار کرنے سے معذور، وہ یرغمال جو تمام مجرموں کا کفارہ ادا کر سکتی تھی۔
حقیقت میں کیا وہ خود اپنی ماں کی قسمت کا تعین کرنے کی اصلی مجرم نہیں تھی؟ وہ جو مردوں میں سے سب سے زیادہ مرد کے تخم اور عورتوں میں سے حسین ترین عورت کے بیضے کی مہمل مڈبھیڑ کا نتیجہ تھی؟ ہاں، یہ تیریزا کہلانے والا وہی بدشگون لمحہ تھا جس میں لمبے فاصلے کی وہ دوڑ، اس کی ماں کی زندگی، شروع ہوئی تھی جس کا پہلا قدم ہی غلط اٹھا تھا۔
تیریزا کی ماں اسے کبھی یہ یاد دلانے سے باز نہیں رہی کہ ماں ہونے کا مطلب ہر چیز کو قربان کرنا ہے۔ اس کے الفاظ میں صداقت کی گونج تھی، کیوں کہ اس کے پیچھے ایسی عورت کا تجربہ تھا جس نے اپنی بیٹی کی وجہ سے سب کچھ کھو دیا تھا۔ تیریزا سنتی اور یقین کر لیتی کہ ماں ہونا زندگی کی اعلیٰ ترین قدر ہے اور ماں ہونا ایک عظیم قربانی ہے۔ اور اگر ماں قربانی مجسم ہے، تو پھر ظاہر ہے بیٹی صرف ایک پاپ ہی ہو سکتی ہے، جس کی تلافی کا کوئی امکان نہ ہو۔

(۶)
ظاہر ہے تیریزا کو اس رات کی کہانی معلوم نہیں تھی جب اس کی ماں نے اس کے باپ کے کان میں سرگوشی کی تھی کہ ’’ذرا خیال رکھنا‘‘۔ اس کا احساس جرم گناہ اول ہی کی طرح مبہم تھا لیکن اس نے اس سے رہائی پانے کی مقدور بھر کوشش ضرور کی۔ اس کی ماں نے پندرہ سال کی عمر میں اسے اسکول سے اٹھا لیا اور تیریزا ویٹریس کی حیثیت سے کام کرنے لگی اور اپنی ساری آمدنی ماں کے حوالے کر دیتی۔ وہ اپنی ماں کی محبت کے حصول کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھی۔ وہ گھر چلاتی، اپنے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرتی، اور اتوار کا سارا دن گھر کی صفائی اورگھر والوں کے کپڑے لتے دھونے میں گزارتی۔ یہ بڑی قابل رحم بات تھی کیوں کہ وہ اپنی جماعت کی ذہین ترین طالب علم تھی۔ وہ جب بھی کپڑے دھوتی، ٹب کے پاس ایک کتاب رکھ لیتی۔ صفحے الٹتے وقت دھلائی کا پانی ان پر ٹپکنے لگتا۔
گھر پر ایسی کوئی چیز نہیں تھی جسے شرم و حیا کہا جا سکے۔ اس کی ماں فلیٹ میں اپنے زیریں کپڑوں میں گھومتی پھرتی، کبھی انگیا کے بغیر اور کبھی، گرمیوں کے دنوں میں، مادرزاد برہنہ۔ اس کا سوتیلا باپ برہنہ جسم تو نہیں پھرتا تھا، لیکن جب بھی تیریزا غسل کر رہی ہوتی وہ غسل خانے میں ضرور نکل آتا۔ ایک بار تیریزا نے اندر سے چٹخنی چڑھا دی جس پر اس کی ماں طیش میں آ گئی تھی۔ ’’کیا سمجھتی ہو اپنے باپ کو، ہاں؟ تمھارے خیال میں وہ تمھارے حسن کا ایک ٹکڑا نوچ لے گا؟‘‘۔
(اس تصادم سے عیاں ہے کہ بیٹی سے نفرت شوہر پر شک و شبہ کرنے سے کہیں زیادہ تھی۔ بیٹی کا جرم لامنتہا تھا، جس میں شوہر کی بے وفائیاں بھی شامل تھیں۔ تیریزا کی یہ خواہش کہ رہائی پائے اور اپنے حقوق پر اصرار کرے۔جیسے غسل خانے میں اندر سے قفل لگا لینے کا حق۔اس کی ماں کی نظروں میں شوہر کے تیریزا میں شہوانی دل چسپی لینے کے امکان کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتراض تھی)۔
ایک بار سردیوں میں جب گھر میں روشنیاں جل رہی تھیں اس کی ماں نے برہنہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تیریزا نے جھپٹ کر پردے کھینچ دیے کہ کہیں کوئی سڑک کے پار سے اسے دیکھ نہ لے۔ اسے اپنے پیچھے ماں کا قہقہ سنائی دیا۔ اگلے روز ماں نے کچھ دوستوں کو مدعو کیا ہوا تھا: ایک ہمسائی، جو اس کی ہم کار تھی، مقامی اسکول کی ایک ناظمہ، اور دو یا تین اور عورتیں جو عام طور پر باقاعدہ ملا کرتی تھیں۔ تیریزا اور ان میں کی کسی ایک عورت کا سولہ سالہ لڑکا ایک بار سلام علیک کرنے اندر آئے اور ماں نے ان کی موجودگی سے فوری فائدہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ تیریزا نے کیسے ماں کی شرم و حیا کی حفاظت کی تھی۔ وہ ہنسی اور بقیہ عورتیں بھی ہنسی میں شامل ہو گئیں۔ ’’تیریزا اس بات سے مفاہمت نہیں کر سکتی کہ انسانی جسم پیشاب اور ریح خارج کرتا ہے،‘‘ اس نے کہا۔ تیریزا لال بہوٹی ہو گئی، لیکن اس کی ماں بھلا کب چپ ہونے والی تھی۔ ’’اس میں ایسی کیا بری بات ہے؟‘‘ اور اپنے سوال کے جواب میں اس نے بڑے زور سے گوز ماری۔ ساری عورتیں ایک بار پھر ہنسنے لگیں۔

(۷)
ماں زور سے ناک سِنکا کرتی، لوگوں سے کھلے بندوں اپنی جنسی زندگی کی باتیں کرتی، اور اپنے نقلی دانتوں کی نمائش سے لطف اٹھاتی۔ اسے انھیں اپنی زبان کی گردش سے ڈھیلا کرنے میں مہارت حاصل تھی، اور ایک کشادہ مسکراہٹ کے ساتھ اوپری چوکھٹے کو زیریں چوکھٹے پر اس طرح گرا دیتی کہ جس سے اس کا چہرہ خاصا مکروہ نظر آنے لگتا۔
اس کا طرز عمل بس ایک عظیم الشان اشارہ تھا، حسن و شباب سے پیچھا چھڑانے کا۔ ان دنوں میں جب اس کے نوطلب گار اس کے گرد دائرے کی صورت گھٹنے ٹیک رہے تھے، وہ بڑے خوف و ہراس کے ساتھ اپنی برہنگی کی حفاظت کیا کرتی تھی، یوں جیسے اپنے جسم کی قدروقیمت کا اظہار اس شرم و حیا کے ذریعے کر رہی ہو جسے وہ اس سے ملتزم سمجھتی تھی۔ اب وہ اس شرم و حیا ہی کو نہیں کھو بیٹھی تھی، اس نے تو فیصلہ کن طور پر اس سے اپنا ناتا ہی توڑ لیا تھا، اپنی نویافتہ بے حیائی کو اپنی زندگی کے بیچ میں ایک حد فاصل کی طرح استعمال کرتے ہوئے اور یہ اعلان کرتے ہوئے کہ شباب اور حسن کی ارزش میں مبالغے سے کام لیاجاتا ہے اور کہ یہ مہمل ہیں۔
تیریزا مجھے اسی اشارے کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جس کے ذریعے اس کی ماں نے ایک نوجوان حسینہ کے طور پر اپنی زندگی کو اتار پھینکا تھا، اپنے پیچھے کہیں بہت دُور۔
(اور اگر تیریزا کی حرکت کرنے کے انداز میں ایک اضطرابی کیفیت ہے، اگر اس کے اشاروں میں ایک مخصوص پرسہولت تمکنت کی کمی ہے، تو ہمیں اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے: اس کی ماں کی پُرشکوہ، وحشت انگیز اور خود تخریبی روش اس پر اپنا ان مٹ نقش چھوڑ گئی ہے)۔

(۸)
تیریزا کی ماں انصاف مانگتی تھی۔ وہ مجرم کو سزا بھگتتے دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی لیے وہ اس پر مصر تھی کہ اس کی بیٹی بے حیائی کی دنیا میں اس کا ساتھ دے، جہاں شباب اور حسن کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، جہاں زندگی جسموں کے ایک وسیع کونسن ٹریشن کیمپ کے علاوہ کچھ نہیں، ایک بالکل دوسرے جیسا، اور ایسی روحوں کے ساتھ جو غیر مرئی ہوں۔
اب ہم تیریزا کے پُراسرار عیب کا مفہوم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، اس کا دیر دیر تک آئینے میں اپنا جائزہ لینا۔ یہ اس کی اپنی ماں کے خلاف جنگ تھی۔ یہ ایک ایسا جسم ہونے کی آرزو تھی جو دوسرے جسموں سے مختلف ہو، یہ دیکھنے کا ارمان کہ اس کے چہرے کی سطح پر روح کے عملے کا وہ عکس ہے جو دندناتا ہوا نیچے سے اوپر آ رہا ہو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا: اس کی روح ۔اس کی غم زدہ جھجھکو ،منکسر روح۔اس کے شکم کی گہرائیوں میں چھپی بیٹھی تھی اور اپنے کو ظاہر کرنے پر شرم سار تھی۔
اور اس کی یہی حالت اس دن بھی تھی جب وہ پہلی بار توماش سے ملی۔ ہوٹل کے ریستوران میں مست شرابیوں کے بیچ سے اپنا راستہ بناتا ہوا اس کا جسم ٹرے پر دھری بیئر کی بوتلوں اور گلاسوں کے دباؤ سے خم کھانے لگا، اور اس کی روح پیٹ یا لبلبے کی سطح کے پاس کہیں امڈ آئی۔ دریں اثنا توماش نے اسے بلایا۔ اس بلاوے کی بڑی وقعت تھی کیوں کہ یہ ایک ایسے آدمی کی طرف سے آ رہا تھا جو نہ اس کی ماں سے واقف تھا نہ ان شرابیوں سے جو روز ہی اپنے گھسے پٹے فحش کلمات دہرانے کے عادی تھے۔ اس کی اس حیثیت نے کہ باہر کا فرد ہے اس کا رتبہ اوروں سے بلند کر دیا تھا۔
اس کے علاوہ ایک شے اوربھی تھی جو اس کے رتبے میں اضافہ کر رہی تھی: اس کے سامنے میز پر ایک کتاب کھلی ہوئی تھی۔ اس ریستوران میں اس سے پہلے کسی نے کتاب نہیں کھولی تھی۔ تیریزا کی نظروں میں کتابیں ایک خفیہ برادری کا عَلم تھیں۔ اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی ناشائستہ اور غلیظ دنیا کے خلاف اس کے پاس بس ایک ہی حربہ تھا۔وہ کتابیں اور خاص طور پر ناول، جو وہ بلدی کتب خانے سے مستعار لے آتی تھی۔ اس نے کتنے ہی پڑھ ڈالے تھے ،فیلڈنگ سے لے کر تو مس مَن تک۔ یہ کتابیں اسے ایک ایسی زندگی سے جو اسے غیر مطمئن لگتی تھی خیالی فرار کا امکان ہی نہیں مہیا کرتی تھیں، اس کے لیے مادی اشیا کی حیثیت سے بھی بامعنی تھیں، بغل میں کتاب دبائے سڑکوں پر چلنے سے اسے عشق تھا۔ اس کے نزدیک کتاب کی وہی اہمیت تھی جو سو سال پہلے ایک نفیس بید کی کسی طرح دار]ڈینڈی[ کے لیے ہوا کرتی تھی۔ یہ اسے دوسروں سے ممیز کرتی تھی۔
(کتاب کا طرح دار کی نفیس بید سے موازنہ پوری طرح درست نہیں ہے۔ ایک طرح دار کی بید اسے ممیز سے کچھ زیادہ ہی کرتی تھی۔یہ اسے جدید اور مروجہ مذاق کے مطابق]اپ ٹو ڈیٹ[‘ بناتی تھی۔ کتاب تیریزا کو مختلف تو ضرور بناتی تھی لیکن فرسودہ مذاق رکھنے والی بھی۔ اس میں شک نہیں کہ وہ اپنی کم عمری کے باعث یہ دیکھنے سے قاصر تھی کہ دوسروں کو کیسی نظر آتی ہے۔ ٹرانزسٹر ریڈیو اپنے کان سے بھڑائے برابر سے گزرتے ہوئے نوجوان اسے نہایت گاودی معلوم ہوتے تھے۔ یہ خیال اسے کبھی نہیں آیا کہ وہ جدید تھے)۔
سو جو آدمی اسے بلا رہا تھا وہ بہ یک وقت ایک اجنبی بھی تھا اور خفیہ برادری کا رکن بھی۔ اس نے اسے بڑی شرافت سے بلایا تھا، اور تیریزا کو اپنی روح رگوں اورپوروں سے دیوانہ وار اُبل کر سطح پر آتی ہوئی محسوس ہوئی تاکہ خود کو اس کے سامنے کھول کر رکھ دے۔

(۹)
زیورچ سے پراگ لوٹ آنے کے بعد توماش کو اس بات سے بے اطمینانی محسوس ہونے لگی کہ تیریزا سے اس کی واقفیت چھہ عدد بعید از امکان اتفاقات کا نتیجہ ہے۔
لیکن حقیقت میں ایک واقعے کو معرضِ وجود میں لانے کے لیے جتنے زیادہ ناگہانی حادثات کی ضرورت ہو تو کیا ٹھیک اسی اعتبار سے وہ واقعہ زیادہ اہم اور قابل ذکر نہیں ہوتا؟
اتفاق اور صرف اتفاق ہمارے لیے ایک پیغام کا حامل ہوتا ہے۔ ہر چیز جو ضرورت کے تحت واقع ہوتی ہے، ہر چیز جو متوقع ہوتی ہے، باقاعدگی سے روز روز دہرائی جاتی ہے، گونگی ہوتی ہے۔ صرف اتفاق ہی ہم سے کلام کر سکتا ہے۔ ہم اس کا پیغام اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح خانہ بہ دوش]جپسی[پیالی کی تہ میں قہوے کی تلچھٹ سے بننے والی اشکال کو۔
ہوٹل کے ریستوراں میں توماش تیریزا کو ایک خالص اتفاق کی طرح نظر آیا تھا۔ وہ وہاں بیٹھا ایک کھلی ہوئی کتاب کے مطالعے میں غرق تھا کہ اچانک نظر اس کی طرف اٹھائی، مسکرایا، اور کہا ’’ایک کونیاک، بہ راہِ مہربانی‘‘۔
اس وقت اتفاق سے ریڈیو پر موسیقی آ رہی تھی۔ کونیاک لینے کاؤنٹر کے پیچھے جاتے ہوئے تیریزا نے ریڈیوکی آواز اونچی کر دی۔ وہ پہچان گئی کہ بیتھوون ہے۔ وہ اس کی موسیقی سے اس وقت سے واقف تھی جب پراگ کا ایک اسٹرنگ کوارٹیٹ ان کے شہر آیا تھا۔ تیریزا (جو جیسا کہ ہمیں معلوم ہے، کسی ’’ارفع چیز‘‘ کی آرزومند تھی) کونسرٹ سننے گئی۔ ہال تقریباً خالی تھا۔ دیگر سامعین میں صرف مقامی دوا فروش اور اس کی بیوی ہی تھے۔ اور اگرچہ اسٹیج پر چار موسیقی نوازوں کے سامنے صرف تین سامعین ہی تھے، انھوں نے از راہ عنایت کونسرٹ منسوخ نہیں کیا، اوربیتھوون کے آخری تین کوارٹیٹس پر مشتمل ایک انفرادی پروگرام پیش کیا۔
پھر دوافروش نے موسیقاروں کو کھانے پر مدعو کیا اور سامعین میں شامل لڑکی کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا۔ اس وقت سے بیتھوون اس کے لیے اس دنیا کا پیکر بن گیا تھا جو دوسری جانب آباد تھی۔ وہ دنیا جس کی اسے حسرت تھی۔ توماش کی کونیاک اٹھائے کونے کے ساتھ مڑتے ہوئے اس نے اتفاق کے پیغام کو پڑھنے کی کوشش کی: یہ کیسے ممکن تھا کہ ٹھیک جس لمحے وہ ایک پُرکشش دکھائی دینے والے اجنبی کے لیے کونیاک کے آرڈر کی تعمیل کر رہی تھی اسے بیتھوون سنائی دیا؟
ضرورت کوئی جادوئی قاعدے نہیں جانتی۔یہ سب تو اتفاق کے حصے میں آتے ہیں۔ اگر ایک محبت کو ناقابل فراموش ہونا ہے تو پھر اتفاقات کو فوراً پھڑپھڑاتے ہوئے اس کی طرف اس طرح اُڑ کر آنا چاہیے جس طرح پرندے فرانسیس اسیسی کے کندھوں کی طرف آتے تھے۔

(۱۰)
اس نے اسے کونیاک کی قیمت ادا کرنے کے لیے واپس بلایا۔ اپنی کتاب (خفیہ برادری کی علامت) بند کی، اور تیریزا کو خیال آیا کہ پوچھے کیا پڑھ رہا ہے۔
’’کیا تم بل میرے کمرے کے اخراجات میں شامل کر سکتی ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’آپ کس نمبر کے کمرے میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟‘‘۔
اس نے اپنی کنجی دکھائی، جو ایک چوبی ٹکڑے سے نتھی تھی جس پر چھہ کا عدد سرخ رنگ سے لکھا ہوا تھا۔
’’یہ عجیب بات ہے‘‘۔ وہ بولی ’’چھہ‘‘۔
’’اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟‘‘۔ اس نے پوچھا۔
تیریزا کو اچانک پراگ کا وہ گھر یاد آ گیا جس میں وہ لوگ اس کے والدین کی علاحدگی سے پہلے رہا کرتے تھے اور جس کا نمبر بھی چھہ تھا۔ لیکن اس نے جواب میں کچھ اور بتا دیا (جسے ہم اس کی چال بازیوں کی ذیل میں ڈال سکتے ہیں)۔ ’’آپ چھہ نمبر کے کمرے میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور میری شفٹ چھہ بجے ختم ہوتی ہے‘‘۔
’’خیر، میری ٹرین سات بجے روانہ ہو گی‘‘ ، اجنبی نے کہا۔
اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جواب میں کیا کہے، چناں چہ اس نے بل دست خط کرنے کے واسطے پیش کر دیا اور اسے لے کر ریسیپشن ڈیسک کی طرف چل دی۔ جب اس نے اپنا کام ختم کیا، اجنبی اب اور وہاں میز پر موجود نہیں تھا۔ کیا وہ اس کے محتاط پیغام کو سمجھ گیا تھا؟ وہ ایک ہیجان کے عالم میں ریستوراں سے نکلی۔
ہوٹل کے مقابل ایک چھوٹا خشک سا پارک تھا، اتنا ہی حقیر فقیر جتنا کسی چھوٹے سے شہر کا پارک ہو سکتا ہے، لیکن تیریزا کو یہ ہمیشہ ہی ایک جزیرۂ حسن نظر آیا تھا۔ اس میں گھاس تھی، سفیدے کے چار درخت ،بینچیں، ایک بیدِمجنوں اور فورستھیا کی چند جھاڑیاں۔
وہ ایک پیلے رنگ کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا جہاں سے ریستوراں میں داخلے کا دروازہ صاف نظر آ رہا تھا۔ عین وہی بینچ جس پر وہ پچھلے روز اپنی گود میں ایک کتاب کھولے بیٹھی تھی! اس وقت اسے معلوم ہو گیا (اتفاق کی چڑیاں اس کے شانوں پر اترنا شروع کر چکی تھیں) کہ یہ اجنبی اس کی تقدیر ہے۔ توماش نے اسے آواز دے کر بلایا ، اپنے برابر بیٹھنے کی دعوت دی۔ (اس کی روح کا عملہ تیزی سے کود کر اس کے جسم کے عرشے پر آ گیا) پھر وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی اسٹیشن تک آئی، اور توماش نے الوداع کے طور پر اسے اپنا ملاقاتی کارڈ دیا ’’اگر کبھی تمھارا پراگ آنا ہو....‘‘

(۱۱)
اس کارڈ سے کہیں زیادہ جو اس نے آخری لمحے میں اس کی طرف بڑھا دیا تھا، یہ ان تمام اتفاقات کی پکار تھی (کتاب ،بیتھوون، نمبر چھہ، پارک کی پیلی بینچ) جس نے اسے اپنا گھر چھوڑنے اور اپنی قسمت کو بدلنے کی ہمت دلائی۔ ہو سکتا ہے یہ چند اتفاقات ہی ہوں (سرِ راہے واجبی سے، بل کہ بے کیف، جن کی ایک بے رونق شہر سے توقع کی جا سکتی ہے) جو اس کی محبت کو حرکت میں لے آئے تھے اور اسے توانائی کا ایسا وسیلہ فراہم کر دیا تھا جسے وہ آخر عمر تک پوری طرح صرف نہیں کر پائی تھی۔
ہماری روزمرہ کی زندگی پر اتفاقات کی بم باری ہوتی رہتی ہے یا، اگر زیادہ درست طریقے پر کہیں تو، لوگوں اور واقعات سے ہماری ناگہانی مڈبھیڑوں کی جنھیں ہم اتفاقات کا نام دیتے ہیں۔ ’’اتفاق‘‘ کا مطلب ہے کہ دو وارداتیں ناگہانی طور پر ایک ہی وقت میں واقع ہوں، وہ ملتے ہیں۔ توماش ہوٹل کے ریستوران میں ٹھیک اس وقت نمودار ہوتا ہے جب ریڈیو پربیتھوون کی موسیقی بج رہی ہے۔ ہم ایسے اتفاقات کی اکثریت پر سرے سے متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ وہ کرسی جس پر توماش بیٹھا تھا اگر اس پر اس کی بہ جائے مقامی قصاب بیٹھا ہوتا تو تیریزا کی توجہ میں یہ بات کبھی نہیں آتی کہ ریڈیو پر بیتھوون کی موسیقی بج رہی ہے (اگرچہ بیتھوون اور قصاب کی ملاقات بھی ایک دل چسپ اتفاق ہوتی)۔ لیکن اس کی نوخاستہ چاہت نے اس کے احساس حسن کو مشتعل کر دیا تھا اور وہ ساری زندگی اس موسیقی کو نہیں بھولے گی۔ یہ اسے جب بھی سنائی دے گی، اس پر اثر کیے بغیر نہ رہے گی۔ اس لمحے اس کے گردوپیش میں رونما ہونے والی ہر چیز اس موسیقی کی بہ دولت ایک ہالہ نورمیں داخل ہو جایا کرے گی اور اس کا حسن اختیار کر لیا کرے گی۔
اس ناول کے شروع ہی میں جسے وہ بغل میں دبائے توماش سے ملنے گئی تھی ، انّا کی ورونسکی سے بڑے عجیب حالات میں ملاقات ہوتی ہے:دونوں ایک ریلوے اسٹیشن پر ہوتے ہیں کہ کوئی شخص گاڑی کے نیچے آ جاتا ہے۔ ناول کے اختتام پر،ا نّا خود کو ایک ریل گاڑی کے پہیوں کے نیچے ڈال دیتی ہے۔ یہ متناسب بندش۔آغاز اور اختتام دونوں میں ایک ہی خیال رونما ہوتا ہے۔شاید آپ کو خاصی ’’ناولی‘‘ معلوم ہو، اور میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن صرف اس شرط پر کہ آپ لفظ ’’ناولی‘‘ میں ’’خیالی‘‘، ’’گھڑنت‘‘ اور ’’خلافِ زندگی‘‘ جیسے تصورات کی بازگشت سننے سے احتراز کریں۔ یہ اس لیے کہ انسانی زندگیاں ٹھیک اسی روش پر تشکیل پاتی ہیں۔
یہ موسیقی کی طرح تشکیل دی جاتی ہیں۔ اپنے احساس حسن کی قیادت میں ایک فرد کسی ناگہانی واقعے (بیتھوون کی موسیقی، ریل کے نیچے آ کر موت) کو ایک خیال]موتیف[ میں بدل دیتا ہے، جو پھر اس فرد کی زندگی کی ترکیب میں ایک مستقل مقام اختیار کر لیتا ہے۔ انّا خودکشی کا کوئی اور راستہ بھی اختیار کر سکتی تھی لیکن موت اور اسٹیشن کے موتیف نے، جو محبت کی پیدائش سے ناقابل فراموش طریقے پر بندھا ہوا تھا، اسے مایوسی کی گھڑیوں میں اپنے تاریک حسن سے ترغیب دلائی۔ شدید ترین دل گیری کے لمحات میں بھی ایک فرد اپنی زندگی کی تشکیل محبت کے قوانین کے مطابق ہی کرتا ہے، گو اسے اس کا احساس نہیں ہوتا۔
چناں چہ پُراسرار اتفاقات (جیسے ا نّا، ورونسکی، ریلوے اسٹیشن، اور موت کی ملاقات یا بیتھوون، توماش، تیریزا اور کونیاک کی ملاقات) سے مسحور ہونے پر ناول کی سرزنش کرنا غلط ہے، ہاں ان روزمرہ کے اتفاقات سے کورچشمی کرنے پر ایک آدمی کی سرزنش کرنا بالکل درست ہے کیوں کہ اس صورت میں وہ اپنی زندگی کو حسن کے ایک بُعد سے محروم کر رہا ہوتا ہے۔

(۱۲)
اپنے شانوں پر پھڑپھڑاتی ہوئی اتفاقات کی چڑیوں سے تحریک پا کر تیریزا نے ہفتے بھر کی چھٹی لی اور اپنی ماں سے ایک لفظ بھی کہے بغیر، پراگ جانے والی ریل میں جا سوار ہوئی۔ دورانِ سفر، اس نے ٹوائلیٹ کے بار بار چکر لگائے تاکہ آئینے میں دیکھے اور اپنی روح سے منت سماجت کرے کہ وہ اس کی زندگی کے اس سب سے زیادہ اہم دن اس کے جسم کے عرشے سے ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہ ہو۔ ٹوائلیٹ کے ایک چکر کے دوران اپنے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے وہ اچانک خوف سے سٹپٹا گئی: اسے اپنے حلق میں خراش سی محسوس ہوئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی کے اس اہم ترین دن اسے کوئی بیماری لاحق ہو رہی ہے؟
لیکن اب واپس نہیں لوٹا جا سکتا تھا۔ چناں چہ اس نے اسٹیشن پر اُترتے ہی توماش کو فون کیا، اور جس دم توماش نے دروازہ کھولا اس کا پیٹ شدت سے گڑبڑانے لگا۔ وہ سخت شرمندہ ہوئی۔ اسے یوں لگا جیسے وہ اپنی ماں کو پیٹ میں لیے لیے پھر رہی ہو اور اسی نے توماش سے اس کی ملاقات میں بھنگ ڈالنے کے لیے قہقہ لگایا ہو۔
اولین چند ثانیوں تک اسے یہ خوف لاحق رہا کہ ان ناشائستہ آوازوں کے باعث جو اس سے خارج ہو رہی تھیں کہیں وہ اسے باہر ہی نہ نکال دے، لیکن پھر توماش نے اپنی بانہیں اس کے گرد ڈال دیں۔ وہ اپنی گڑگڑاہٹوں کو نظراندازکرنے پر اس کی ممنون تھی، اور بڑے جوش سے اسے چومنے لگی۔ اس کی آنکھیں کہرانے لگیں۔ پہلامنٹ گزرنے سے پہلے ہی وہ بھوگ میں جتے ہوئے تھے۔ اس وقت تک اسے تپ چڑھ چکا تھا۔ وہ فلو میں مبتلا ہو چکی تھی۔ پھیپھڑوں کو آکسیجن پہنچانے والی نلکی کی ٹونٹی ٹھساٹھس بھر گئی تھی اور سرخ پڑ گئی تھی۔
جب اس نے دوبارہ پراگ کا سفر کیا تو اس کے ساتھ ایک وزنی سوٹ کیس تھا۔ اس نے اپنی ساری چیزیں اس میں بھر لی تھیں اور مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ اب کبھی اس چھوٹے سے شہر لوٹ کر نہیں آئے گی۔ اس نے اسے اگلی شام اپنے گھر آنے کے لیے کہا تھا۔ وہ رات تیریزا نے ایک سستے سے ہوٹل میں گزاری۔ صبح ہونے پر وہ اپنا بھاری بھر کم سوٹ کیس لے کر اسٹیشن پہنچی، اسے وہاں چھوڑا، اور بغل میں ’’ انّا کرے نینا‘‘ دبائے سارا دن پراگ کی سڑکوں پر مٹرگشت کرتی رہی۔ دروازے کی گھنٹی بجاتے وقت اور جب توماش نے دروازہ کھولا اس وقت بھی اس نے کتاب بغل سے جدا نہیں کی۔ یہ توماش کی دنیا میں داخلے کے ٹکٹ کی طرح تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے پاس اس بدبخت ٹکٹ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے، اور اس خیال سے اس کی آنکھیں تقریباً بھر آئیں۔ خود کو رونے سے باز رکھنے کے لیے وہ بہت زیادہ باتیں کرنے لگی اور خوب بلند آواز میں، اور وہ ہنسی بھی۔ اور توماش نے اسے ایک بار پھر اپنی آغوش میں لے لیا اور انھوں نے جفتی کی۔ وہ ایک کہر میں داخل ہو گئی تھی جس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اورصرف اس کی چیخیں ہی سنی جا سکتی تھیں۔

(۱۳)
وہ کوئی سرد آہ نہیں تھی، کوئی کراہ نہیں تھی۔وہ تو واقعی ایک چیخ تھی۔ وہ اتنے زور سے چیخی تھی کہ توماش کو اپنا سر اس کے چہرے سے دور کر لینا پڑا، اس ڈر سے کہ کان سے اتنے قریب اس کی آواز کہیں پردہ ہی نہ پھاڑ دے۔ وہ چیخ شہوت پرستی کا اظہار نہیں تھی۔ شہوت پرستی تو تمام حواس کے مکمل اجتماع کا نام ہے۔ ایک فرد اپنے شریک کو بڑے انہماک سے دیکھتا ہے، ہر ہر آواز کو پورا زور لگا کر گرفت میں لاتا ہے لیکن اس کی چیخ کا مدعا تو تمام حواس کو اپاہج کر دینا تھا، تمام بصارت اور سماعت کو معطل کر دینا تھا۔ جو چیز چیخ رہی تھی وہ اس کے عشق کی سادہ لوح مثالیت پسندی تھی جو تمام تضادات کو، جسم اور روح کی ثنویت کو، اور شاید وقت کو بھی بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کیا اس کی آنکھیں مندی ہوئی تھیں؟ نہیں، لیکن وہ کسی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔ اس نے تو انھیں چھت کے خلا میں جما رکھا تھا۔ اب تب وہ اپنا سر بڑی سختی کے ساتھ ایک طرف سے دوسری طرف جھٹکتی۔
جب چیخ ٹھنڈی پڑ گئی تو وہ اس کے پہلو میں ہی سو گئی، اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے پکڑے۔ وہ اس کا ہاتھ پوری رات پکڑے رہی۔
آٹھ سال کی عمر میں بھی وہ ایک ہاتھ کو دوسرے میں دبائے ہی سوتی اور تصور کرتی کہ اس نے اس آدمی کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے جسے چاہتی ہے، وہ آدمی جو اس کی زندگی کا ماحصل ہے۔ تواگر اس نے اپنی نیند میں توماش کا ہاتھ اتنی سختی سے دبائے رکھا تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں: وہ بچپن سے اس کی مشق کرتی آ رہی تھی۔

(۱۴)
ایک عورت جسے کسی ’’ارفع شے‘‘ کی جستجو کرنے کی اجازت دینے کی بہ جائے مست شرابیوں کو مسلسل بیئر مہیا کرنے اور بھائی بہنوں کو دھلے زیر جامے فراہم کرنے پر مجبور کر دیا جائے، وہ اپنے اندر توانائی کے بھاری ذخیرے جمع کر لیتی ہے، ایسی توانائی جس کا اپنی کتابوں کے اوپر جمائیاں لیتے ہوئے دانش گاہ کے طالب علموں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ تیریزا نے ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑھا تھا اور زندگی کے بارے میں کہیں زیادہ علم حاصل کیا تھا، لیکن اسے اس کا احساس کبھی نہیں ہو گا۔ دانش گاہ کے فارغ التحصیل اور اس شخص کے درمیان جس نے خود ہی پڑھا لکھا ہو فرق اتنا زیادہ وسعت علم میں نہیں ہوتا جتنا توانائی اور اعتماد کی وسعت میں۔ اس نے جس گرم جوشی کے ساتھ خود کو پراگ کی زندگی کے حوالے کر دیا تھا وہ شوریدہ اور خطرناک دونوں ہی تھی۔ اسے مسلسل یہی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کوئی دن جاتا ہے کوئی اس سے آ کر کہے گا، ’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ جہاں سے آئی ہو وہیں واپس چلی جاؤ!‘‘۔ زندگی سے اس کا سارا شوق بس ایک سوت کے تار سے لٹکا ہوا تھا: توماش کی آواز۔ کیوں کہ یہ توماش کی آواز ہی تھی جس نے ایک بار اس کی کچ دل روح کو اس کے شکم کی گہرائیوں سے بہلا پھسلا کے باہر نکالا تھا جہاں وہ روپوش ہو کے بیٹھی تھی۔
تیریزا کے پاس ڈارک روم کی ملازمت تھی، لیکن یہ اس کے لیے ناکافی تھی۔ وہ تصویریں کھینچنا چاہتی تھی، انھیں ڈیویلپ کرنا نہیں۔ توماش کی دوست سبینا نے اسے چند مشہور فوٹوگرافروں کی کتابیں مستعار دے دی تھیں، پھر اسے ایک کیفے میں مدعو کر کے کھلی ہوئی کتابوں میں اس چیز کی نشان دہی کی تھی جو ہر تصویر کو دل چسپ بناتی تھی۔ تیریزا خاموش ارتکاز سے سنتی رہی، ایسا ارتکاز جس کی جھلک کم ہی پروفیسروں کو اپنے شاگردوں کے چہروں میں نظر آتی ہے۔
سبینا کے طفیل ہی اسے پینٹنگ اور فوٹوگرافی کا فرق سمجھ میں آیا، اور اس نے توماش کو مجبور کیا کہ وہ اسے پراگ میں لگنے والی ہر نمائش دکھانے لے جایا کرے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تصویریں اس مصور ہفتہ وار رسالے میں چھپنے لگیں جہاں وہ ملازم تھی۔ رفتہ رفتہ اسے ڈارک روم سے نجات ملی اور وہ بھی پیشہ ور فوٹوگرافروں کے طائفے میں شامل ہو گئی۔
اس دن شام کو وہ اور توماش دوستوں کے ساتھ ایک بار میں اس کی ترقی کی خوشی منانے کے لیے جمع ہوئے۔ سبھوں نے رقص کیا۔ توماش منھ چڑھائے بے کیفی سے الگ تھلگ کھڑا ہو گیا۔ گھر پر، تیریزا کے کریدنے پر، اس نے اعتراف کیا کہ اپنے ایک ہم کار کے ساتھ تیریزا کے رقص کرنے پر اسے رقابت محسوس ہوئی تھی۔
’’تمھارا مطلب ہے تمھیں واقعی رقابت محسوس ہو رہی تھی؟‘‘ کم از کم دس یا زائد بار اس نے استفسار کیا، بے یقینی سے، یوں جیسے ابھی ابھی کسی نے اسے اطلاع دی ہو کہ اسے نوبیل پرائز ملا ہے۔
پھر تیریزا نے اپنی بانہہ اس کی کمر کے گرد ڈال دی اور کمرے میں رقص کرنے لگی۔ یہ وہ جنبشِ پا نہیں تھی جس کا مظاہرہ اس نے بڑے رسان سے بار میں کیا تھا۔ یہ دیہاتی پولکا سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، ایک وحشیانہ دھماچوکڑی جس کے دوران اس کی ٹانگیں ہوا میں اچھل رہی تھیں اور دھڑ سارے کمرے میں گدے کھاتا پھر رہا تھا۔ ساتھ ساتھ توماش بھی کھنچا پھر رہا تھا۔
بہت وقت نہیں گزرا تھا کہ بدقسمتی سے وہ خود بھی رقابت محسوس کرنے لگی، اور توماش نے اس رقابت کو نوبیل پرائز نہیں گردانا، بل کہ ایک بوجھ سمجھا، ایسا بوجھ جو اس پر اپنی موت کے قریب آنے تک سوار رہے گا۔

(۱۵)
جب وہ تیرنے کے تالاب کے گرد برہنہ جسم دوسری برہنہ عورتوں کے ساتھ مارچ کر رہی تھی، توماش ان کے اوپر تالاب کی محرابی چھت سے لٹکی ہوئی ایک چنگیری میں کھڑا ہوا تھا، ان پر چلا رہا تھا، انھیں گانے اور اٹھک بیٹھک کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ جس لمحے ان میں سے کسی نے بھی غلط اٹھک بیٹھک کی، وہ اسے گولی مار دے گا۔
مجھے اس خواب کی طرف مراجعت کی اجازت دیں۔ اس کی دہشت توماش کے پہلی بار پستول داغنے سے نہیں شروع ہوئی تھی؛یہ تو ابتدا ہی سے دہشت ناک تھا۔ ننگی عورتوں کے ساتھ ایک قطار کی صورت میں خود بھی برہنہ جسم مارچ کرنا تیریزاکے نزدیک دہشت کے پیکر کا جوہری عنصر تھا۔ جب وہ اپنے گھر رہتی تھی، اس کی ماں نے اسے غسل خانے کے دروازے کو اندر سے مقفل کرنے کی ممانعت کر رکھی تھی۔ اس نہی سے اس کی مراد یہ تھی: تمھارا جسم بالکل دوسرے جسموں کی طرح ہے؛ تمھیں شرم محسوس کرنے کا کوئی حق نہیں؛ تمھارے پاس ایک ایسی چیز کو پوشیدہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں جو ایک جیسی کروڑوں نقلوں میں موجود ہے۔ اس کی ماں کی دنیا میں سارے جسم ایک جیسے تھے اور ایک دوسرے کے پیچھے قطار بند مارچ کرتے تھے۔ تیریزا بچپن ہی سے برہنگی کو کونسن ٹریشن کیمپ کی یک سانیت کی علامت کے طور پر دیکھتی چلی آئی تھی، ایک ذلت کی علامت۔
خواب کے بالکل شروع میں ایک دہشت اور بھی تھی: ساری عورتوں کے لیے گانا ضروری تھا! یہی نہیں کہ ان کے جسم ایک جیسے تھے، ایک جیسے بے قدروقیمت، یہی نہیں کہ ان کے جسم روح سے عاری گونج پیدا کرنے والے میکینزمس تھے۔ بل کہ عورتیں اس کی خوشی بھی منا رہی تھیں۔ وہ روح کی متانت سے سبک دوش ہونے پر۔وہ قابل خندہ زعم،وہ خام خیالی یک تائی۔ ایک دوسری جیسی ہونے پر شادماں تھیں۔ تیریزا نے ان کے ساتھ گایا تو، لیکن خوشی نہیں منائی۔ وہ گائی تو اس لیے کہ خوف زدہ تھی کہ اگر نہیں گائے گی تو دوسری عورتیں اسے مار ڈالیں گی۔
لیکن توماش کے ان پر گولیاں چلانے کا کیا مطلب تھا، ٹپ ٹپ تالاب میں مردہ گرا دینے کا؟
عورتیں جو اپنے ایک جیسی ہونے پر، کسی بھی تنوع سے تہی ہونے پر خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھیں، درحقیقت اپنے سروں پر منڈلاتی ہوئی ہلاکت کا جشن منا رہی تھیں، جو اُن کی یک سانیت کو مطلق بنا دے گی۔ سو توماش کی گولیوں کے دھماکے ان کی مریضانہ مارچ کا محض ایک پرمسرت نقطہ عروج تھے۔ پستول کے ہر دھماکے کی گونج کے بعد وہ ٹوٹ کر ایک پُرمسرت قہقہ لگاتیں اور جوں ہی ایک لاش سطح آب کے نیچے غرق ہوجاتی، وہ اور بھی زور زور سے گانے لگتیں۔
لیکن گولی چلانے والا توماش ہی کیوں تھا اور بقیوں کے ساتھ تیریزا کو بھی کیوں گولی مارنے کے درپے تھا؟اس لیے کہ یہ وہی تھا جس نے تیریزا کو ان عورتوں میں شامل ہونے کے لیے بھیجا تھا اور خواب یہی توماش کو بتانا چاہتا تھا، وہ بات جو تیریزا خود اس سے نہیں کَہ سکتی تھی۔ وہ اپنی ماں کی دنیا سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس آئی تھی، ایک دنیا جس میں تمام جسم مساوی تھے۔ وہ اس کے پاس اپنے جسم کی انفرادیت قائم کرنے کے لیے آئی تھی، اسے ناقابل بدل بنانے کے لیے۔ لیکن توماش نے بھی تیریزا اور دوسری عورتوں کے درمیان مساوات کا نشان کھینچ دیا تھا: وہ ان سبھوں کو ایک ہی طرح چومتا، ایک ہی طرح تھپ تھپاتا، تیریزا کے جسم اور دوسری عورتوں کے جسم میں کوئی، مطلق کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔ اس نے اسے پھر اسی دنیا میں واپس بھیج دیا تھا جس سے فرار پانے کی اس نے جستجو کی تھی، دوسری برہنہ عورتوں کے ساتھ برہنہ مارچ کرنے کے لیے لوٹا دیا تھا۔

(۱۶)
وہ خوابوں کے تین سلسلے یکے بعد دیگرے دیکھتی: ایک تو وہ جس میں بلیاں نہایت غضب ناکی سے ہر طرف دوڑتی پھر رہی ہوتیں اور اس رنج و محن کا حوالہ تھیں جو اس نے اپنی زندگی میں اٹھایا تھا؛ دوسرے میں وہ پیکر دکھائی دیتے جن کا تعلق اس کی گردن مارنے سے تھا اور تھوڑی تھوڑی تبدیلی سے مختلف قالب میں رونما ہوتے رہتے تھے؛ اور تیسرا اُس کی موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں ہوتا، جس میں ذلت ایک غیر مختتم کیفیت میں بدل جاتی۔
ان خوابوں میں تعبیر کے لیے کچھ دھرا ہی نہیں تھا۔ توماش پر تہمت اتنی واضح تھی کہ جو واحد ردِعمل وہ ظاہر کر سکتا تھا یہی تھا کہ سر جھکا لے اور خاموشی سے اس کا ہاتھ تھپ تھپاتا رہے۔
خواب بڑے بلیغ تھے، لیکن خوب صورت بھی۔ یہ وہ پہلو تھا جو فروئیڈ کے نظریۂ خواب میں ذکر پانے سے بچ رہا تھا۔ خواب دیکھنا محض پیغام رسانی (یا، آپ چاہیں تو، اشاراتی پیغام رسانی) کا عمل ہی نہیں؛ یہ ایک جمالیاتی کارگزاری بھی ہے، تخیل کا ایک کھیل، ایک کھیل جس کی بہ ذاتہٖ قدروقیمت ہے۔ ہمارے خواب ثابت کرتے ہیں کہ خیال کرنا۔ان چیزوں کا خواب دیکھنا جو ابھی واقع نہیں ہوئی ہیں۔انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے۔ اور سارا خطرہ بھی اسی میں ہے۔ اگر خواب خوش نما نہ ہوں تو بہت جلد بھلا دیے جائیں۔ لیکن تیریزا اپنے خوابوں کی طرف بار بار لوٹ کر آتی رہی، اپنے ذہن میں انھیں گزارتی رہی۔ انھیں اساطیر کا جامہ پہناتی رہی۔ توماش تیریزا کے خوابوں کے دردانگیز حسن کے زائیدہ سحر کے سائے میں سانس لے رہا تھا۔
’’پیاری تیریزا، شیریں تیریزا، میں تمھیں کس چیز کے بدلے کھوئے دے رہا ہوں؟‘‘ ایک بار جب وہ دونوں کسی شراب خانے میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، اس نے تیریزا سے کہا۔ ’’تم ہر رات موت کا خواب بالکل اس طرح دیکھتی ہو جیسے واقعی اس دنیا سے گزر جانے کی خواہش مند ہو...‘‘
یہ دن کا وقت تھا؛خرد اور قوتِ ارادی اپنی اپنی جگہوں پر واپس آ چکے تھے۔ تیریزا کے جواب دیتے وقت سرخ شراب کا ایک قطرہ اس کے گلاس پر آہستہ خرامی سے نیچے کی طرف بہ رہا تھا۔ ’’توماش، میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ آہ، میں جانتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ تم مجھے چاہتے ہو۔ میں جانتی ہوں کہ تمھاری بے وفائیاں کوئی بہت بڑا المیہ نہیں...‘‘
اس نے محبت بھری نظروں سے اس کو دیکھا، لیکن اسے سامنے کھڑی رات سے خوف آ رہا تھا، اپنے خوابوں سے۔ اس کی زندگی دونیم ہو چکی تھی۔ دن اور رات دونوں ہی اس کے حصول کے لیے باہم دست بہ گریباں تھے‘‘۔

(۱۷)
ہر وہ شخص جس کے عزم کا ہدف کوئی ’’ارفع چیز‘‘ ہو، اسے کسی نہ کسی دن گھمیری لاحق ہونے کی توقع کرنی چاہیے۔ گھمیری کیا ہے؟ نیچے گہرائی میں گرنے کا خوف؟ لیکن اگر بات یہی ہے تو پھر یہ ہمیں اس وقت بھی کیوں محسوس ہوتی ہے جب مشاہدے کے مینارے میں مضبوط حفاظتی جنگلا لگا ہو؟ نہیں، گھمیری نیچے گرنے کے خوف سے مختلف کوئی شے ہے۔ یہ ہمارے نیچے سے آتی ہوئی خالی پن کی آواز ہے جو ترغیب دلاتی ہے اور ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے، یہ نیچے گرنے کی خواہش ہے، جس کے خلاف، خوف زدہ، ہم اپنی مدافعت کرتے ہیں۔
تیرنے کے تالاب کے گرد مارچ کرتی ہوئی برہنہ عورتیں، جنازہ گاڑیوں میں پڑی لاشیں، اس بات پرمسرور کہ وہ بھی مر گئی ہے ۔یہی وہ ’تحت الثریٰ‘ تھاجس سے اسے خوف آتا تھا، جس سے ایک بار پہلے اس نے فرار کیا تھا لیکن جو پُراسرار طریقے پر اسے اپنی طرف لوٹ آنے کے اشارے کر رہا تھا۔ یہی اس کی گھمیری تھے: اسے ایک شیریں (تقریباً شادماں) بلاوا سنائی دیا کہ اپنی قسمت اور روح سے کنارہ کش ہو جائے۔ بے روح بلاوے کی یگانگت۔ اور کم ہمتی کے لمحات میں وہ اس بلاوے پر لبیک کہنے اور ماں کے پاس واپس لوٹ جانے کے لیے خود کو آمادہ پاتی۔ وہ اپنی روح کے عملے کو اپنے جسم کے عرشے سے برخاست کرنے کے لیے تیار ہو جاتی؛ اپنی ماں کی دوستوں میں شامل ہونے اور جب ان میں سے کوئی ریح خارج کرے تو ہنس دینے کے لیے مستعد؛ان کے ساتھ تالاب کے گرد برہنہ مارچ کرنے اور گانے کے لیے تیار۔

(۱۸)
ٹھیک ہے، تیریزا گھر چھوڑنے کے دن تک اپنی ماں سے برسرپیکار رہی، لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اس نے کبھی اس سے محبت کرنا نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی، بہ شرطے کہ اس نے پیار بھری آواز میں درخواست کی ہوتی۔ اسے چھوڑنے کی تنہا وجہ یہی تھی کہ اسے وہ آواز کبھی سنائی نہ دی۔
جب ماں کو اندازہ ہوا کہ اس کی جارحیت بیٹی کے آگے لاچار ہو گئی ہے تو اس نے اسے جھگڑالو خط لکھنے شروع کر دیے، جن میں اپنے شوہر، اپنے بوس، اپنی صحت، اپنے بچوں کے شکوے شکایات ہوتیں، اور اس بات کی یقین دہانی کہ اس کی زندگی میں اب صرف تیریزا ہی باقی رہ گئی ہے۔ تیریزا کو یوں لگا کہ بالآخر بیس برسوں بعد وہ اپنی ماں کی محبت بھری آواز سن رہی ہے، اور واپس لوٹ جانے کا خیال کیا۔ اس وجہ سے اور بھی کہ وہ اپنے کو حد درجہ بے حوصلہ اور توماش کی بے وفائیوں سے اتنا زیادہ خستہ و لاغر محسوس کر رہی تھی۔ یہ اس کی مجبوری کا بھانڈا پھوڑ رہی تھیں جو اسے گھمیری تک، نیچے گرنے کی اس غیر مغلوب آرزو تک لے جا رہا تھا۔
ایک روز اس کی ماں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا کہ اسے سرطان لاحق ہے اور بس چند مہینے کی مہمان ہے۔ اس خبر نے توماش کی بے وفائیوں پر تیریزا کی یاس کو بغاوت میں بدل دیا۔ اس نے اپنی ماں سے دغا کی تھی۔ اس نے خود پر لعن طعن کرتے ہوئے کہا، اور ایک ایسے آدمی کی خاطر جو اُس سے پیار نہیں کرتا تھا۔ وہ ان ساری باتوں کو بھول جانے کے لیے تیار تھی جو اس کی ماں نے اسے اذیت پہنچانے کے لیے کی تھیں۔ اب وہ اس حالت میں تھی کہ اسے سمجھ سکتی تھی؛ دونوں یک ساں صورتِ حال سے دوچار تھیں: اس کی ماں اس کے سوتیلے باپ کو بالکل اسی طرح چاہتی تھی جس طرح تیریزا توماش کو، اور اس کا سوتیلا باپ اپنی بے وفائیوں سے ماں کو اسی طرح عذاب پہنچا رہا تھا جس طرح توماش اسے اپنی بے وفائیوں سے دق کرتا تھا۔ اس کی ماں کی کینہ پروری کی وجہ وہ تکلیفیں تھیں جو اس نے جھیلی تھیں۔
تیریزا نے توماش کو بتایا کہ اس کی ماں بیمار ہے اور وہ ایک ہفتے کے لیے اسے دیکھنے جا رہی ہے۔ اس کی آوازکینے سے چھلک رہی تھی۔
اس احساس سے کہ ماں کے پاس لوٹنے کے بلاوے کی اصل وجہ گھمیری ہے، توماش نے سفر کی مخالفت کی۔ اس نے اس چھوٹے سے شہر کے اسپتال کو فون کیا۔ سرطان کی وارداتوں کے رکارڈ سارے ملک میں بڑی جزرسی کے ساتھ رکھے جاتے تھے، اس لیے اسے یہ معلوم کر لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی کہ اس مرض کا تیریزا کی ماں کی بابت شک نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس نے ایک سال سے زائد عرصے میں کسی ڈاکٹر کا منھ ہی دیکھا تھا۔
تیریزا نے توماش کی بات مان لی اور اپنی ماں کی عیادت کے لیے نہیں گئی۔ اس فیصلے کے چند گھنٹوں بعد وہ سڑک پر گر پڑی اور گھٹنا زخمی کر لیا۔ وہ لڑکھڑا لڑکھڑا کر چلنے لگی۔ تقریباً روز ہی گر پڑتی، چیزوں سے ٹکرا جاتی یا، کم سے کم، چیزیں گرا دیتی۔
وہ نیچے گر جانے کی ناقابلِ تسخیر خواہش کی گرفت میں تھی۔ وہ گھمیری کی مسلسل کیفیت میں رہ رہی تھی۔’’مجھے اٹھا دو‘‘، ایسے شخص کا پیغام ہے جو مسلسل گر پڑتا ہے۔ توماش، صبر و تحمل کے ساتھ، اسے اٹھاتا رہا۔

(۱۹)
’’میں تمھارے ساتھ اپنے اسٹوڈیو میں جفتی کرنا چاہتی ہوں۔ یہ ایک اسٹیج کی طرح ہو گا جس کے گرد خلقت جمع ہو گی۔ تماش بینوں کو قریب آنے کی اجازت نہیں ہو گی، لیکن وہ ہم سے اپنی نظریں نہیں ہٹا سکیں گے۔‘‘
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پیکر کی اولین سفاکی کسی قدر ماند پڑ گئی اور وہ تیریزا کو برانگیخت کرنے لگا۔ جب وہ جفتی کر رہے ہوتے تو وہ توماش سے سرگوشیوں میں اس کی تفاصیل کا ذکر کرتی۔
پھر اسے خیال آیا کہ توماش کی بے وفائیوں میں اسے جو ملامت نظر آتی ہے اس سے گریز کرنے کی ایک صورت نکل سکتی ہے: توماش کو بس اتنا ہی چاہیے کہ جب اپنی داشتاؤں سے ملنے جاتا ہے تو اسے بھی ساتھ لے جایا کرے! اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس کا جسم ایک بار پھر تمام جسموں میں پہلا اور منفرد بن جائے۔ اس کا جسم اس کا نائب، اس کا معاون، اس کا ہم زاد بن جائے۔
’’میں ان کے کپڑے اتار کر انھیں تمھارے لیے برہنہ کیا کروں گی، انھیں نہلاؤں گی، تمھارے پاس لاؤں گی...‘‘ جب وہ ایک دوسرے میں پیوست ہوتے تو وہ اس کے کان میں کہتی۔ اسے ارمان تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک دوجنسی وجود بن جائیں۔ اس صورت میں دوسری عورتوں کے جسم ان کے کھلونے ہوں گے۔

(۲۰)
آہ، اس کی کثیر الزواج زندگی کا ہم زاد ہونا! توماش نے اسے سمجھنے سے انکار کر دیا، لیکن یہ خیال تیریزا کے ذہن سے نکل نہ پایا، اور اس نے سبینا سے دوستی بڑھانے کی کوشش کی۔ تیریزا نے پہل سبینا کی سلسلہ وار تصویریں اتارنے کی پیش کش سے کی۔
سبینا نے تیریزا کو اپنے فلیٹ آنے کی دعوت دی، اور تیریزا نے بالآخر وہ کشادہ کمرا اور اس کی مرکزی شے دیکھ ہی لی: ایک وسیع، چوکور چبوترا نما پلنگ۔
’’مجھے سخت برا لگ رہا ہے کہ تم یہاں پہلے کبھی نہیں آئیں‘‘۔ سبینا نے اسے وہ تصویریں دکھاتے ہوئے کہا جو دیوار سے ٹکی تھیں۔ اس نے ایک پرانا کینوس بھی نکالا، ایک فولادی ساخت جو زیر تعمیر تھی، جو اس نے اپنے اسکول کے دنوں میں بنائی تھی، وہ دور جس میں طالب علموں سے کٹر حقیقت پسندی کی پیروی کا مطالبہ کیا جاتا تھا (وہ آرٹ جو حقیقت پسندانہ نہیں تھا اس کی بابت یہ فرض کیا جاتا تھا کہ سوشل ازم کی بنیادوں کی ساری توانائی چاٹ جائے گا)۔ روح عصر کی مطابقت میں اس نے اپنے اساتذہ سے بھی زیادہ کٹر ہونے کی کوشش کی تھی اور اس طرز پر پینٹ کیا تھا کہ موقلم کی ضربیں مخفی رہیں اور تصویر رنگین فوٹوگرافی سے زیادہ قریب نظر آئے۔
’’یہ رہی ایک تصویر جس پر اتفاقاً مجھ سے سرخ رنگ ٹپک گیا تھا۔ شروع میں مَیں کافی پریشان ہوئی، لیکن بعد میں اس سے لطف اٹھانے لگی۔ رنگ کا بہاؤ ایک دراڑ کی طرح دکھائی دیتا تھا؛ اس نے عمارت کی جگہ کو ایک کہنہ، خستہ حال پس منظر کی شکل دے دی تھی، ایک پس منظر جس پر ایک عمارتی جگہ پینٹ کی گئی تھی۔ میں دراڑ سے یوں ہی چھیڑخانی کرنے لگی، اسے بھرنے لگی، یہ سوچنے لگی کہ اس کے پیچھے کیا دکھائی دیتا ہو گا۔ اور اس طرح میں نے اپنی پینٹنگز کا پہلا سلسلہ شروع کیا۔ میں نے اسے ’مناظر کے پیچھے‘ کا نام دیا۔ ظاہر ہے، یہ میں کسی کو دکھا وکھا نہیں سکتی تھی۔ مجھے ایکیڈمی باہر کر دیا جاتا۔ سطح پر ایک خالص حقیقی دنیا تھی، لیکن اس کے نیچے، چٹخے ہوئے کینوس کے منظر کے عقب میں، کوئی اور ہی شے گھات لگائے بیٹھی تھی، کوئی پُراسرار یا تجریدی شے‘‘۔
ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے اضافہ کیا۔ ’’سطح پر ایک قابلِ فہم دروغ؛ نیچے، ایک ناقابلِ فہم صداقت‘‘۔
تیریزا اس کی بات ایسے شدید انہماک سے سنتی رہی جو کم ہی پروفیسر حضرات کو کبھی کسی طالب علم کے چہرے پر نظر آتا ہے اور اسے یہ احساس ہونے لگا کہ سبینا کی سبھی پینٹنگز، سابقہ اور حالیہ، حقیقت میں ایک ہی خیال کو اجاگر کرتی ہیں، کہ ان سبھوں میں دو موضوعات، دو دنیاؤں کا سنگم پیش کیا گیا ہے، کہ یہ سب کی سب، یوں کہیے، ایک ڈبل ایکس پوزر ہیں۔ ایک زمینی منظر جس کے آر پار ایک پرانی طرز کا ٹیبل لیمپ جل رہا ہے۔ فطری سادگی سے متصف ایک اسٹل لائف جس میں سیب، خشک میوے اور موم بتیوں سے جگمگاتا ہوا ایک چھوٹا سا کرسمس ٹِری ہے اور ایک ہاتھ دکھایا گیا ہے جو کینوس کو چیرتا پھاڑتا چلا جا رہا ہے۔
اسے سبینا کے لیے اپنے میں تحسین ابلتی ہوئی محسوس ہوئی، اور چوں کہ سبینا کا رویہ اس کے ساتھ دوستانہ تھا، یہ تحسین خوف اور شبہے سے آزاد تھی اور جلد ہی دوستی میں بدل گئی۔
وہ یہ تقریباً بھول گئی کہ یہاں تصویریں کھینچنے آئی ہے۔ سبینا کو اس کی یاددہانی کرانی پڑی۔ با لآخر تیریزا نے پینٹنگز سے نظریں پھرائیں توکیا دیکھتی ہے کہ کمرے کے وسط میں پلنگ ایک چبوترے کی طرح رکھا ہوا ہے۔

(۲۱)
پلنگ کے برابر ایک چھوٹی سی میز تھی جس پر انسانی سر کا مثالی ڈھانچا پڑا ہوا تھا، ویساہی جس پر موتراش وگ چڑھاتے ہیں۔ سبینا کے وگ اسٹینڈ پروگ کی بہ جائے ایک بولر ہیٹ آرائشی طور پر رکھا ہوا تھا۔ ’’یہ میرے دادا کا ہوا کرتا تھا‘‘، اس نے مسکرا کر بتایا۔
یہ اس قسم کا ہیٹ تھا۔سیاہ، سخت، گول۔جو تیریزا نے صرف پردۂ سیمیں پر ہی دیکھا تھا، چیپلن جس طرح کا ہیٹ پہنتا تھا ویسا ہی۔ تیریزا بھی جواباً مسکرا دی، اور ہیٹ اٹھا کر کچھ دیر تک اسے بہ غور دیکھنے کے بعد کہا، ’’اسے پہن کر تصویر اترواؤ گی؟‘‘
سبینا اس خیال پر دیر تک ہنستی رہی۔ تیریزا نے بولر ہیٹ واپس رکھ دیا، کیمرا اٹھایا اور تصویریں کھینچنے لگی۔
جب اس عمل میں کوئی گھنٹا بھر گزر گیا تو وہ اچانک بولی، ’’چند برہنہ تصویریں اتروانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘۔
’’برہنہ تصویریں؟‘‘۔ سبینا ہنس پڑی۔
’’ہاں‘‘، تیریزا نے کہا، اپنی پیش کش کو زیادہ بے باکی سے دہراتے ہوئے، ’’برہنہ تصویریں‘‘۔
’’تو اس پر ایک جام ہو جائے‘‘، سبینا نے کہا، اور شراب کی بوتل کھولی۔
تیریزا کواپنا جسم بے جان پڑتا محسوس ہوا؛ اچانک اس کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔ درایں اثنا سبینا شراب ہاتھ میں لیے آگے پیچھے قدم اٹھاتی رہی اور اپنے دادا کے بارے میں مسلسل بولتی رہی جو ایک چھوٹے سے شہر کا رئیس بلدیہ تھا؛ سبینا نے خود کبھی اسے نہیں دیکھا تھا؛ اس کی باقیات میں صرف یہ بولر ہیٹ تھا اور ایک تصویر جس میں ایک بلند سے چبوترے پر چند معززین بیٹھے ہوئے تھے؛ ان میں سے ایک اس کا دادا تھا؛ یہ بالکل واضح نہیں تھا کہ وہ سب وہاں چبوترے پر بیٹھے کیا کر رہے تھے۔ شاید کسی تقریب کی قیادت کر رہے تھے، کسی رفیق معزز کی یادگار کی نقاب کشائی جس نے کبھی خود بھی عوامی تقاریب میں ایک بولرہیٹ ڈاٹا ہو گا۔
سبینا بولر ہیٹ اور اپنے دادا کے بارے میں مسلسل بولتی رہی تا آں کہ تیسرا جام چڑھانے کے بعد ’’بس ابھی واپس آئی‘‘ کہا اور غسل خانے میں روپوش ہو گئی۔
وہ اپنی باتھ روب پہنے ہوئے نکلی۔ تیریزا نے کیمرا اٹھا کر اپنی آنکھ سے لگایا۔ سبینا نے اپنی روب کھول ڈالی۔

(۲۲)
کیمرا تیریزا کے کام دو طرح سے آیا: ایک میکانکی آنکھ جس کے ذریعے وہ توماش کی داشتہ کا مشاہدہ کر سکتی تھی اور خود اپنے چہرے کو اس سے پوشیدہ رکھ سکتی تھی۔
سبینا کو روب سے پوری طرح باہر نکلنے پر خود کو قائل کرنے میں کچھ دیر لگی۔ وہ جِس صورت حال میں خود کو پا رہی تھی وہ اس کی توقع سے کچھ زیادہ ہی کٹھن ثابت ہو رہی تھی۔ چند منٹ پوز کرنے کے بعد، وہ تیریزا کے پاس آئی اور بولی، ’’اب تمھاری تصویریں کھینچنے کی میری باری ہے۔ اتارو کپڑے!‘‘۔
’’اُتارو کپڑے!‘‘ وہ حکم تھا جو سبینا نے اتنی بار توماش کو دیتے ہوئے سنا تھا یہ کہ اس کے حافظے میں نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ اسی طرح توماش کی داشتہ نے توماش کی بیوی کو توماش کا حکم ابھی ابھی دیا تھا۔ دونوں عورتیں ایک جیسے طلسمی لفظ میں ایک دوسرے سے بندھی تھیں۔ یہ توماش کا خاص انداز تھا جس میں وہ کسی عورت سے اپنی سیدھی سادی گفت گو کو ناگہاں ایک شہوانی صورت حال میں بدل دیتا تھا۔ پیار سے تھپ تھپانے، خوش آمدید کہنے، منت سماجت کرنے کی بہ جائے وہ ایک حکم صادر کرتا، اور اچانک، غیر متوقع طور پر، نرمی لیکن استقامت، اور تحکم سے صادر کرتا، اور فاصلے سے: ایسے موقعوں پر وہ اس عورت کو بالکل نہیں چھوتا تھا جسے مخاطب کر رہا ہو۔ یہ حکم وہ اکثر تیریزا کو بھی دیتا تھا، اور اگرچہ وہ اسے بڑی نرمی سے صادر کرتا، اگرچہ محض سرگوشی میں ہی، یہ تھا آخر کو ایک حکم ہی، اور اس کی تعمیل کرتے ہوئے تیریزا کبھی جنسی طور پر برانگیختہ ہونے میں ناکام نہ رہتی۔ اور اب اس لفظ کو سنتے ہی اسے بجا لانے کی خواہش اور بھی تند ہو گئی، کیوں کہ ایک اجنبی کے حکم کی تعمیل ایک خاص قسم کی دیوانگی ہے، ایک دیوانگی جو یہاں کچھ اور بھی زیادہ نشہ آور ہو گئی تھی کیوں کہ یہ حکم کوئی مرد نہیں دے رہا تھا بل کہ ایک عورت۔
سبینا نے کیمرا اس کے ہاتھ سے لے لیا، اور تیریزا نے اپنے کپڑے بدن سے جدا کر دیے۔ وہ اب سبینا کے سامنے ننگی اور نہتی کھڑی تھی۔ سچ مچ نہتی: اس آلے سے محروم جسے وہ اپنے چہرے کو چھپانے اور سبینا پر ایک ہتھیار کی طرح شست باندھنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ اب وہ پورے طور پر توماش کی داشتہ کے رحم و کرم پر تھی۔ اس تعمیل کی دل کشی نے تیریزا کو مدہوش کر دیا۔ اس نے خواہش کی کہ یہ لمحات جن میں وہ سبینا کے مقابل ننگی کھڑی ہے کبھی ختم نہ ہوں۔
میرا خیال ہے کہ سبینا بھی صورت حال کی عجیب سحر آفرینی کو محسوس کر رہی تھی: اس کے عاشق کی بیوی عجیب اطاعت گزاری اور شرم و جھجک کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی ہے۔ لیکن دو تین بار شٹر دبانے کے بعد، اس سحر سے تقریباً ہراساں اور اسے زائل کرنے کے لیے بے قرار ہو کر، اس نے بڑے زور کا قہقہ لگایا۔
تیریزا نے اس کااتباع کیا، اوردونوں کپڑے پہننے لگیں۔

(۲۳)
روسی سامراج کے تمام گزشتہ جرائم بڑے محتاط پردے کے پیچھے عمل میں آئے تھے۔ ایک لاکھ لتھوے نیوں کا ملک سے جبری اخراج، پولینڈ کے لاکھوں باشندوں کا قتل عام، کرے میا کے تتار کا صفایا، ہماری یاد میں محفوظ ہے، لیکن ان کی کوئی صوری شہادت موجود نہیں؛ چناں چہ، جلد یا بہ دیر انھیں جعلی قرار دے دیا جائے گا۔ لیکن یہ چیکوسلواکیا پر ۸۶۹۱ء کے حملے کے ساتھ پیش نہیں آئے گا، جس کی جامد اور متحرک دونوں طرح کی تصاویر ساری دنیا کے دستاویزاتی ذخیروں میں جمع کر دی گئی ہیں۔
چیک فوٹوگرافروں اور کیمرامینوں کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ کرنے کے لیے جوواحد چیز باقی رہ گئی ہے وہ صرف انھی کے اختیار میں ہے: مستقبل بعید کے لیے تشدد کے چہرے کا تحفظ۔ لگاتار سات دنوں تک تیریزا سڑکوں پر ماری ماری پھرتی رہی، اور روسی سپاہیوں اور آفیسروں کی بڑی مشتبہ حالتوں کی تصویریں اتاریں۔ روسی نہیں جانتے تھے کہ کریں تو کیا کریں۔ انھیں بڑی احتیاط کے ساتھ سبق پڑھایا گیا تھا کہ اگر کوئی ان پر بندوق چلائے یا پتھر پھینکے تو انھیں کیا کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی عدسے کا رُخ ان کے سامنے کر دے تو ان کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے کی بابت انھیں کسی قسم کی ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔
اس نے تصویروں کے رول کے بعد رول اتارے اور ان میں سے تقریباً آدھے بغیر ڈیویلپ کیے ہی، غیر ملکی صحافیوں کے حوالے کر دیے (سرحدیں ہنوز کھلی ہوئی تھیں اور وہاں سے گزرنے والے نامہ نگار کسی بھی شہادت کے حصول کے لیے شکرگزار تھے) ۔ اس کی بہتیری تصویریں مغربی اخباروں تک جا پہنچیں۔ یہ ٹینکوں، تہدیدی مکوں کی تصویریں تھیں، مسمار گھروں، سرخ اور سفید اور نیلے چیک پرچموں میں لپٹی ہوئی، خون آلود لاشوں، موٹرسائیکلوں پر ٹینکوں کے گرد پوری رفتار سے دوڑ لگاتے اور لمبے لمبے ہَتھوں پر چیک جھنڈے لہراتے ہوئے جوانوں کی، ناقابل یقین طور پر کوتاہ اسکرٹ پہنے ہوئے چیک لڑکیوں کی، جو جنسی طور پر بری طرح بھوکے روسی سپاہ کے عین سامنے الل ٹپ راہ گیروں کو چوم کر روسیوں کی اشتہا کو بھڑکا رہی تھیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، روسی حملہ ایک المیہ ہی نہیں تھا؛ یہ نفرت کی رنگ لی تھا جس سے ایک عجیب (اوراب اور ناقابل تشریح) جوش کی لہر ابلی پڑ رہی تھی۔

(۲۴)
وہ اپنے ساتھ کوئی پچاس کے قریب تصویریں سوئٹزرلینڈ لائی تھی۔ وہ تصویریں جو اس نے حتی المقدور احتیاط اور مہارت کے ساتھ اتاری تھیں۔ یہ اس نے ایک کثیر الاشاعت مصور رسالے کو پیش کیں۔ مدیر نے بڑی مہربانی کے ساتھ اس کی پذیرائی کی (سبھی چیکوں کے گرد ان کی بدقسمتی کا ہالہ ابھی تک پڑا ہوا تھا، اور نیک سیرت، سوئس متاثر ہوتے تھے)؛ اس نے اسے نشست پیش کی، تصویروں کو دیکھا، ان کی تعریف کی، اور پھر وضاحت کی کہ چوں کہ واقعات کو گزرے اب اچھا خاصا وقت ہو چکا ہے، ان کے چھپنے کا ادنیٰ سا امکان بھی نہیں (’’یہ بات نہیں کہ یہ تصویریں دل کش نہیں!‘‘)
’’لیکن پراگ کی افتاد ختم نہیں ہوئی ہے!‘‘ اس نے احتجاج کیا، اور اپنی خستہ سی جرمن میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ٹھیک اسی لمحے، اس کے باوجود کہ ملک پر قبضہ ہے، ہر چیز قابضوں کے خلاف جا رہی ہے، کارگاہوں میں کارکنوں کے حلقے قائم ہو رہے ہیں، طلبا ہڑتالیں منعقد کر رہے ہیں اور یہ مطالبہ کہ روسی رخصت ہوں، اور سارا ملک جو سوچ رہا ہے اس کا برملا اظہار بھی کر رہا ہے۔ ’’یہی تو اتنی ناقابل یقین بات ہے! اور یہاں کسی کو پروا ہی نہیں رہی‘‘۔
جب ایک چاق چوبند عورت دفتر میں داخل ہوئی اور ان کی گفت گو میں دخل اندازہو ئی تو مدیر کی مسرت کا ٹھکانا نہیں رہا۔ عورت نے ایک فولڈر مدیر کو پکڑا دیا اور کہا، ’’یہ رہا نیوڈسٹ بیچ والا مضمون‘‘۔
مدیر کو اس نزاکت کا خوب احساس تھا کہ ایک چیک شہری کو جس نے ٹینکوں کی تصویریں اتاری ہوں ساحل آب پر برہنہ لوگوں کی تصویریں سخت بے ہودہ نظر آئیں گی۔ اس نے فولڈر ڈیسک پر دور کھسکا دیا اور بڑی تیزی سے عورت سے کہا، ’’اپنے ایک چیک ہم کار سے ملو گی؟ یہ میرے لیے بڑی شان دار تصویریں لائی ہیں‘‘۔
عورت نے تیریزا سے ہاتھ ملایا اور اس کی تصویریں اٹھا لیں اور کہا، ’’اتنے میں میری تصویریں بھی دیکھو‘‘۔
تیریزا فولڈر کی طرف جھکی اور تصویریں نکالیں۔
مدیر نے تقریباً معذرت کے انداز میں تیریزا سے کہا، ’’یہ یقیناً تمھاری تصویروں سے بالکل مختلف ہیں‘‘۔
’’ارے کہاں؟‘‘ تیریزا بولی۔ ’’بالکل ویسی ہی تو ہیں‘‘۔
یہ بات نہ مدیر کی سمجھ میں آئی نہ دوسری عورت کی، اور خود مجھے بھی اس کی تشریح کرنے میں مشکل محسوس ہو رہی ہے کہ ایک نیوڈسٹ بیچ کا روسی حملہ سے مقابلہ کرتے وقت تیریزا کے ذہن میں کیا تھا۔ تصویریں دیکھتے ہوئے وہ ایک تصویر پر آ کر تھوڑی دیر کے لیے رُک گئی جس میں چار لوگوں کے ایک خاندان کو دائرے کی شکل میں کھڑا دکھایا گیا تھا: ایک برہنہ ماں جو اپنے بچوں پر جھکی ہوئی تھی، اس کے تھل تھلاتے ہوئے پستان کسی بکری یا گائے کے تھنوں کی طرح نیچے کو لٹکے ہوئے تھے، اور دوسری طرف اس کا شوہر بھی اسی طرح جھکا ہوا تھا، اس کا عضو اور فوطے بھی کسی چھوٹے سے تھن جیسے لگ رہے تھے۔
’’تمھیں پسند نہیں آئیں؟‘‘ مدیر نے پوچھا۔
’’اچھی تصویریں ہیں‘‘۔
’’یہ ان کے موضوع پر دنگ رہ گئی ہیں‘‘، عورت بولی۔ ’’میں تم پر بس ایک نگاہ ڈال کر ہی کَہ سکتی ہوں کہ تمھارا کبھی کسی نیوڈ بیچ پر گزر نہیں ہوا ہے‘‘۔
’’نہیں‘‘ تیریزا نے جواب دیا۔
مدیرمسکرا دیا۔ ’’تم نے دیکھا، یہ قیاس کرنا کتنا آسان ہے کہ تم کہاں سے آئی ہو۔ اشتراکی ملک ہیبت ناک طورپر کٹر واقع ہوئے ہیں‘‘۔
’’برہنہ جسم میں عیب کی کوئی بات نہیں‘‘، عورت مادرانہ شفقت سے بولی۔ ’’یہ بالکل حسب معمول بات ہے اور ہر حسب معمول بات خوب صورت ہوتی ہے‘‘۔
تیریزا کی نگاہوں کے سامنے اپنی ماں کی تصویر تیر گئی جس میں وہ ان کے فلیٹ میں برہنہ گھومتی پھر رہی تھی۔ وہ اپنے پیچھے اب بھی اس قہقہے کی آواز سن سکتی تھی جب وہ دوڑ کر پردے گرا رہی تھی کہ کہیں پڑوسی اس کی ماں کو ننگا نہ دیکھ لیں۔

(۲۵)
فوٹوگرافر عورت نے تیریزا کو رسالے کے کیفے ٹیریا میں کافی پینے کے لیے مدعو کیا۔ ’’تمھاری تصویریں بے حد دل چسپ ہیں۔ یہ بات میری توجہ میں آئے بغیر نہ رہ سکی کہ تمھیں نسوانی جسم کا کتنا زبردست شعور ہے۔ تم میری بات سمجھ رہی ہو گی۔ شہوت انگیز انداز میں وہ لڑکیاں‘‘۔
’’وہی جو روسی ٹینکوں کے سامنے راہ گیروں کو چوم رہی ہیں؟‘‘
’’ہاں۔ تم ایک درجۂ اول کی فیشن فوٹوگرافر بن سکتی ہو، کیا سمجھیں؟ لیکن پہلے تمھیں ایک موڈل تلاش کرنا پڑے گا، اپنے جیسا ہی کوئی شخص جو پاؤں جمانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہا ہو۔ پھر تم تصویروں کا ایک پورٹ فولیو مرتب کر کے ایجنسیوں کو دکھا سکو گی۔ اپنا نام پیدا کرنے میں کچھ وقت ضرور لگے گا، ظاہر ہے، لیکن میں تمھارے لیے ایک چیز یہیں کھڑے کھڑے کر سکتی ہوں: چلو، میں تمھارا تعارف ہمارے گارڈن سیکشن کے ایڈیٹر سے کروا دیتی ہوں۔ شاید اسے ناگ پھنی، گلاب، اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی ضرورت ہو‘‘۔
’’تمھارا بہت بہت شکریہ‘‘، تیریزا نے بڑے اخلاص سے کہا، کیوں کہ یہ بالکل واضح تھا کہ اس کے سامنے بیٹھی ہوئی عورت خیر خواہی سے لب ریز تھی۔
لیکن پھر اس نے اپنے سے کہا، ناگ پھنیوں کی تصویریں اتارنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ زیورچ میں بھی اسی تجربے سے دوبارہ گزرنے کی اسے کوئی خواہش نہیں جس سے وہ پہلے پراگ میں گزر چکی ہے: ملازمت اور کیریئر کے واسطے لڑائیاں، ہر اس تصویر پر جو شائع ہوتی ہے۔ اس کی بلند حوصلگی انا کی تسکین کی خاطر کبھی نہیں رہی تھی۔ وہ تو صرف اتنا ہی چاہتی تھی کہ کسی طرح اپنی ماں کی دنیا سے چھٹکارا ملے۔ ہاں، یہ اسے بالکل صاف نظر آ رہا تھا: وہ تصویریں اتارنے کی بابت خواہ کتنی بھی گرم جوش رہی ہو، حقیقت میں وہ اس گرم جوشی کا رُخ کسی بھی کوشش کی طرف اسی آسانی کے ساتھ موڑ سکتی ہے۔ فوٹوگرافی ’’کسی بلند تر چیز‘‘ تک پہنچنے اور توماش کے ساتھ زندگی گزارنے کے ایک ذریعے سے زیادہ کچھ اور نہیں تھی۔
وہ بولی، ’’میرا شوہر ڈاکٹر ہے۔ وہ میری کفالت کر سکتا ہے۔ مجھے تصویریں کھینچنے کی ضرورت نہیں‘‘۔
فوٹوگرافرعورت نے کہا، ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا عمدہ کام کرنے کے بعد تم اسے اتنی آسانی سے کیسے تج دے سکتی ہو‘‘۔
ہاں، حملے کی تصویریں کچھ اور ہی چیز تھیں۔ یہ اس نے توماش کی خاطر نہیں اتاری تھیں بل کہ ایک شدید جذبے سے مجبور ہو کر۔ لیکن یہ جذبہ فوٹوگرافی نہیں تھا۔ اس نے یہ شدید نفرت کے باعث اتاری تھیں۔ یہ صورتِ حال پھرکبھی واقع نہیں ہوگی اور یہ تصویریں، جن کو اتارنے کا محرک ایک شدید جذبہ تھا، تو ان کا کوئی گاہک نہیں تھا، کیوں کہ یہ پرانی ہو چکی تھیں۔ صرف ناگ پھنی اور سدا بہار پودے ہی کشش رکھتے ہیں۔
وہ بولی، ’’تم بڑی مہربان ہو، سچ، لیکن میرا گھر رہنا ہی بہترہو گا۔ مجھے ملازمت کی ضرورت نہیں‘‘۔
عورت نے کہا، ’’لیکن گھر پر بیٹھے بیٹھے کیا تم اپنے کو تکمیل یافتہ محسوس کرسکو گی؟‘‘
تیریزا نے جواب دیا،’’ناگ پھنیوں کی تصویریں اتارنے سے کہیں زیادہ تکمیل یافتہ‘‘۔
عورت بولی، ’’چاہے ناگ پھنیوں کی تصویریں ہی کھینچ رہی ہو، کم از کم اپنی زندگی تو گزار رہی ہو گی۔ اگر تم صرف اپنے شوہر کے لیے ہی زندہ رہتی ہو، تو تمھاری اپنی کوئی زندگی نہیں‘‘۔
تیریزا کو ایک بارگی برہمی محسوس ہوئی: ’’میرا شوہر میری زندگی ہے، ناگ پھنی نہیں‘‘۔
فوٹوگرافرعورت نے بھی ترکی بہ ترکی جواب داغ دیا: ’’یعنی تم اپنے کو خوش و خرم خیال کرتی ہو؟‘‘
تیریزا، ہنوز برہم ،بولی، ’’اس میں کیا شک ہے کہ میں خوش و خرم ہوں!‘‘
عورت نے کہا، ’’یہ بات صرف اس قسم کی عورت ہی کَہ سکتی ہے جو بہت ...‘‘ وہ ایک دم رُک گئی۔
تیریزا نے اس کی بات خود ہی پوری کر دی’’ ...محدود ہے۔ تمھارا یہی مطلب ہے نا؟‘‘
عورت نے خود پر دوبارہ قابو پا لیا اور بولی، ’’محدود نہیں... اگلے وقتوں کی‘‘۔
’’تم صحیح کَہ رہی ہو‘‘، تیریزا نے ملال کے ساتھ کہا۔ ’’میرا شوہر بھی بالکل یہی کہتا ہے‘‘۔

(۲۶)
لیکن توماش مسلسل دنوں تک اسپتال ہی میں رہتا، اور وہ گھر پر اکیلی۔ کم از کم پاس کرے نن تو تھا جسے لمبی سیروں پر ساتھ لے جا سکتی تھی! گھر لوٹ کر وہ جرمن اور فرانسیسی کے قواعد کے مطالعے میں غرق ہو جاتی۔ لیکن اداسی کے باعث ان پر ارتکاز کرنے میں دشواری ہوتی۔ ذہن بارہا دوب چیک کی اس تقریر کے طرف بھٹک جاتاجو اس نے موسکو سے واپسی پر ریڈیو پر کی تھی۔ اگرچہ وہ مکمل بھول گئی تھی کہ اس نے کہا کیاتھا، وہ اب بھی اس کی تھرتھراتی ہوئی آواز سُن سکتی تھی۔ اسے خیال آیا کہ غیرملکی سپاہیوں نے اسے، ایک خودمختار ریاست کے سربراہ کو، کس طرح اپنے ہی ملک میں زیر حراست لے لیا تھا، چار دن تک یوکرینی پہاڑوں میں قید رکھا تھا، اس سے کہا تھا کہ اس کا کام تمام کر دیں گے۔ جس طرح، دس سال قبل، انھوں نے اس کے ہنگیرین مماثل ایمرے ناج کا کام تمام کر دیا تھا۔پھر ماسکو بھیج دیا گیا تھا ،غسل اور شیو کرنے کا حکم دیا تھا،کپڑے تبدیل کرنے اور ٹائی باندھنے کا، اس کی سزا میں تخفیف سے آگاہ کیا تھا، ایک بار پھر اپنے کو ریاست کا سربراہ سمجھنے کی ہدایت کی تھی، میز پر بریزنیف کے مقابل بٹھایا تھا، اور اسے عمل کرنے پر مجبور کیا تھا۔
وہ لوٹ آیا تھا، ہزیمت خوردہ، اپنی سرافگندہ قوم سے خطاب کرنے۔ اسے اتنا ذلیل کیا گیا تھا کہ اس سے بولنا دوبھرہو رہا تھا۔ اس کے جملوں کے درمیان وہ ہول ناک وقفے، تیریزا انھیں کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔ کیا وہ اتنا زیادہ نڈھال تھا؟ کیا انھوں نے اسے منشیات پلا دی تھیں؟ یا یہ صرف مایوسی کا کیا دھرا تھا؟ اگر دوب چیک کا کچھ بھی باقی نہیں رہ جانے والا تھا، تو کم از کم وہ تکلیف دہ طور پر طویل وقفے جن میں اس سے سانس بھی نہیں لی جا رہی تھی، جب وہ ریڈیو سے چپکی ہوئی پوری قوم کے سامنے ہانپ رہا تھا، کم از کم وہ وقفے ضرور باقی رہ جائیں گے۔ ان وقفوں میں وہ تمام ہول ناکی سمٹ آئی تھی جو ان کے ملک پر نازل ہوئی تھی۔
وہ حملے کا ساتواں دن تھا۔ اس نے تقریر ایک اخبار کے ایڈیٹوریل آفس میں سنی جو راتوں رات مزاحمت کے ترجمان میں بدل گیا تھا۔ وہاں پر موجود ہر متنفس اس لمحے دوب چیک سے نفرت کر رہا تھا۔ انھوں نے اسے مفاہمت کرنے پر سخت سُست کہا؛ وہ اس کی سبک سری میں خود اپنی توہین محسوس کر رہے تھے؛ اس کا بوداپن ان کے جذبات مجروح کر رہا تھا۔
زیورچ میں ان دنوں کی بابت سوچتے ہوئے اسے اس شخص سے اب اور کراہت نہیں محسوس ہو رہی تھی۔ لفظ ’’کم زور‘‘ میں اب اور ایک فیصلے کی گونج سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ہر وہ شخص جس کا سامنا بھاری طاقت سے ہو، کم زور ہی ہوتا ہے خواہ اس کا جسم دوب چیک جتنا کسرتی کیوں نہ ہو۔ ٹھیک وہی بوداپن جو اس وقت اتنا ناقابلِ برداشت اور مکروہ نظر آتا تھا، وہ بوداپن جس نے تیریزا اور توماش کو اپنے ملک کے باہر پہنچا دیا تھا، اچانک اسے کشش انگیز معلوم ہونے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کا مقام کم زوروں کے ساتھ ہے، کم زوروں کے ڈیرے میں، کم زوروں کے ملک میں، اور یہ کہ اسے ان کے ساتھ ٹھیک اسی لیے وفاداری کرنی ہے کیوں کہ وہ کم زور ہیں اور جملوں کے بیچ دَم لینے کے لیے ہانپنے لگتے ہیں۔
اسے ان کی کم زوری میں وہی دل کشی نظر آئی جو گھمیری میں ہوتی ہے۔ وہ اس کی طرف اس لیے کھنچی چلی گئی کہ خودکم زور تھی۔ ایک بار پھر وہ رقابت محسوس کرنے لگی اور ایک بار پھر اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ جب یہ بات توماش کی توجہ میں آئی تو اس نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتا چلا آیا تھا: اس نے تیریزا کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے اور تسلی دینے کے لیے انھیں زور زور سے دبانے لگا۔ اس نے تڑپ کر اپنے ہاتھ کھینچ لیے۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں‘‘۔
’’تم کیا چاہتی ہو کہ میں تمھارے لیے کروں؟‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ تم بوڑھے ہو جاؤ۔ دس سال بوڑھے۔ بیس سال بوڑھے!‘‘
اس کا مطلب تھا: میں چاہتی ہوں کہ تم کم زور ہو جاؤ۔ اتنے ہی کم زور جتنی میں ہوں۔

(۲۷)
کرے نن سوئٹزرلینڈ نقل مکانی پر خوشی سے بے قابو نہیں ہو گیا۔ کرے نن کو تبدیلی سے نفرت تھی۔ کتے کے وقت کو ایک سیدھی لکیر کے سہارے ترتیب نہیں دیا جا سکتا؛ وہ آگے اور آگے نہیں بڑھتا چلا جاتا، ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف بل کہ ایک دائرے کی شکل میں حرکت کرتا ہے، گھڑی کی سوئیوں کی طرح، جو۔اور یہ بھی دیوانہ وار آگے بڑھنے پر غیر آمادہ۔ڈائل پر گول گول گھومتی رہتی ہیں، روز روز اور ایک ہی ڈگر پر۔ پراگ میں جب توماش اور تیریزا کوئی نئی کرسی خریدتے یا کسی پھولوں کے گملے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے، تو کرے نن اس عمل کو ناگواری سے دیکھتا۔ یہ اس کے احساس وقت میں کھنڈت ڈال دیتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا جیسے وہ ڈائل کے عددوں کو ہراپھرا کر گھڑی کی سوئیوں کو غچا دے رہے ہوں۔
اس کے باوجود، اس نے جلد ہی پرانے نظام اور سابقہ شعائر کو زیورچ کے فلیٹ میں دوبارہ قائم کر لیا۔ پراگ ہی کی طرح وہ ان کے پلنگ پر جست لگا کر پہنچتا اور نئے دن میں ان کا استقبال کرتا، تیریزا کی صبح گاہی خریداری کی سیر میں اس کی رفاقت کرتا، اور اس کا یقین بھی کر لیتا کہ اسے دوسری سیروں پر بھی لے جایا جائے گا۔
یہ ان کی زندگی کی ٹائم پیس تھا۔ مایوسی کے وقتوں میں، تیریزا کو اپنی یاددہانی کرنی پڑتی کہ اور کچھ نہیں تو اس کی خاطر ہی اسے ہمت سے کام لینا چاہیے، کیوں کہ وہ اس کے مقابلے میں کم زور ہے، شاید دوب چیک اور ان کے متروکہ وطن سے بھی زیادہ کم زور۔
ایک روز جب وہ سیر سے لوٹے، فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ اس نے چونگا اٹھایا اور پوچھا کون ہے۔
یہ کسی عورت کی آواز تھی جو جرمن بول رہی تھی اور توماش کا پوچھ رہی تھی۔ یہ ایک بے صبری آواز تھی، اور تیریزا کو اس میں تمسخر کا شائبہ بھی محسوس ہوا۔ جب اس نے بتایا کہ توماش موجود نہیں اور اسے نہیں معلوم کہ کب لوٹے گا، تو لائن کی دوسری طرف عورت ہنسنے لگی اور خدا حافظ کہے بغیر ہی فون رکھ دیا۔
تیریزا کو معلوم تھاکہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسپتال کی کوئی نرس ہو سکتی تھی، مریض، سیکرٹری، کوئی بھی۔ اس کے باوجود اس کا سکون درہم برہم ہوگیا اور وہ کسی چیز پر ٹھیک سے توجہ نہ دے سکی۔ تب ہی اسے احساس ہوا کہ اس توانائی کی تھوڑی سی مقدار بھی اس میں باقی نہیں بچی ہے جو اسے گھر پر میسر تھی: وہ اس بالکل غیر اہم واقعے کو برداشت کرنے کی مطلقاً نااہل تھی۔
غیرملک میں ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ آدمی کسی زمین کے بہت اوپر تنے ہوئے تار پر چل رہا ہے اور نیچے وہ حفاظتی جال بھی نہیں لگا ہوا ہے جو اس کا ملک مہیا کرتا ہے جہاں اس کا کنبہ کٹم ہوتا ہے، ہم کار ہوتے ہیں، دوست احباب ہوتے ہیں، جہاں وہ جو کہنا چاہتا ہے آسانی سے کَہ سکتا ہے، اور اس زبان میں جسے وہ بچپن سے جانتا ہے۔ پراگ میں اگر وہ توماش کی دست نگر تھی تو ان معاملات میں جن کا تعلق دل سے تھا؛یہاں وہ ہر معاملے میں اس کی محتاج تھی۔ اگریہاں توماش نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کیا کرے گی؟ کیا اسے اپنی ساری زندگی اسے کھو دینے کے خوف میں گزارنی پڑے گی؟
اس نے خود سے کہا : ان کی واقفیت کی بنیاد شروع ہی سے ایک غلطی پر پڑی تھی۔ اس کی بغل میں دبی ہوئی ’’اینا کرے نینا‘‘ کی جلد جعلی کاغذات کی طرح تھی؛ اس نے توماش کو غلط تاثر دیا تھا۔ اپنی چاہت کے باوجود انھوں نے ایک دوسرے کی زندگی جہنم بنا رکھی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، تو یہ محض اس بات کا ثبوت تھا کہ غلطی کا سرچشمہ خودوہ نہیں تھے، ان کا طور طریق اور احساس کا تلون نہیں تھا بل کہ ان کی عدم واقفیت یا ان مل بے جوڑی تھی: وہ زوروار تھا اور وہ کم زور ۔ وہ دوب چیک کی طرح تھی، جو ایک جملے کے درمیان تین سیکنڈ کا وقفہ ڈال دیتا تھا؛ وہ اپنے ملک کی طرح تھی جو تتلا تتلا کر بولتا تھا، سانس لینے کے لیے ہانپتا تھا، بولنے سے عاجز۔
لیکن جب زوروار اتنے کم زور ہوں کہ کم زوروں کو بھی جراحت نہ پہنچا سکیں، تو کم زوروں کو کم از کم اتنا بل وان تو ہونا چاہیے کہ چھوڑ کر جا سکیں۔
اور اپنے سے یہ سب کہنے کے بعد، اس نے اپنا چہرہ کرے نن کے پشم دار سر سے لگا کر دبایا اور بولی، ’’معاف کرنا، کرے نن۔ لگتا ہے تمھیں ایک بار پھر ہجرت کرنی پڑے گی‘‘۔

(۲۸)
ریل گاڑی کے ڈبے میں ایک کونے میں دبکے بیٹھے ہوئے، اس حال میں کہ وزنی سوٹ کیس سر کے اوپر رکھا ہوا تھا اور کیرے نن ٹانگوں میں بھنچا ہوا تھا، وہ مستقل ہوٹل کے ریستوراں کے باورچی کی بابت سوچتی رہی جب وہ وہاں کام کرتی تھی اور اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ باورچی اس کے کولھوں پر چپت مارنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتا تھا، اور سب کے سامنے یہ پوچھنے سے نہیں تھکتاتھا کہ وہ کب ہاں کرے گی اور اس کے ساتھ سوئے گی۔ عجیب بات تھی کہ صرف وہی اب اسے یاد آ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اس چیز کی اولین مثال رہا تھا جس سے اسے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ لیکن اب وہ صرف اتنا ہی سوچ سکتی تھی کہ اس کا پتا لگائے اور اس سے کہے، ’’تم کہا کرتے تھے کہ میرے ساتھ سونا چاہتے ہو۔ تو لو، میں حاضر ہوں‘‘۔
وہ کوئی ایسی بات کر گزرنے کے لیے بے چین تھی کہ جس کے بعد اس کا توماش کے پاس لوٹ آنا ممکن نہ رہے۔ وہ اپنی زندگی کے گزشتہ سات سال بڑی بے دردی کے ساتھ مٹا دینا چاہتی تھی۔ یہ گھمیری تھی۔ یہ نیچے گرنے کی سر کو چڑھ جانے والی، ناقابلِ مغلوب خواہش تھی۔
ہم گھمیری کو کم زوروں کا نشہ بھی کَہ سکتے ہیں۔ اس کم زوری سے آگاہ آدمی اس کا مقابلہ کرنے کی بہ جائے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ وہ کم زوری سے نشے میں آیا ہوا ہوتا ہے، اور بھی زیادہ کم زور ہو جانے کی خواش کرتا ہے، سب کے سامنے بیچ چوراہے پر گر جانے کی خواہش کرتا ہے، نیچے گر جانے کی خواہش کرتا ہے، تحت الثریٰ میں پہنچ جانے کی۔
اس نے پراگ کے باہر جا بسنے اور اپنا فوٹوگرافی کا پیشہ چھوڑ دینے کے لیے خود کو راضی کرنے کی کوشش کی۔ وہ اس چھوٹے سے شہر واپس چلی جائے گی جہاں سے کبھی توماش کی آواز اسے پھسلا کرباہر نکال لائی تھی۔
لیکن پراگ پہنچتے ہی اسے معلوم ہوا کہ متعدد عملی معاملات کو یک سو کرنا ہے اور یوں اپنی روانگی کو ملتوی کرتی رہی۔
پانچویں دن، توماش اچانک وہاں آ پہنچا۔ کرے نن اس پر خوب اچھلنے کودنے لگا، چناں چہ آپس میں کسی قسم کی رسمی گفت گو کا آغاز کرنے میں انھیں اچھا خاصا وقت لگ گیا۔ دونوں کو یوں لگا جیسے کسی برف پوش میدان میں کھڑے مارے سردی کے کپکپا رہے ہوں۔
پھر وہ ان عاشق و معشوق کی طرح جنھوں نے پہلے کبھی بوس و کنار نہ کیا ہو ساتھ ساتھ حرکت کرنے لگے۔
’’سب کچھ ٹھیک رہا ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘‘ ، وہ جواب میں بولی۔
’’رسالے کے دفتر گئی تھیں؟‘‘
’’انھیں فون کیا تھا‘‘۔
’’اور؟‘‘۔
’’ابھی تک توکچھ نہیں۔ میں انتظار کر رہی ہوں‘‘۔
’’کس بات کا ؟‘‘
تیریزا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اس سے یہ نہیں کَہ سکتی تھی کہ وہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔

(۲۹)
اب ہم اس لمحے کی طرف لوٹتے ہیں جس کے بارے میں ہمیں پہلے ہی معلوم ہے۔ توماش بڑے شدید طور پر ناشاد تھا اور اس کے پیٹ میں سخت درد ہو رہا تھا۔ بہت رات گزر جانے سے پہلے اسے نیند نہ آ سکی۔
اس کے بعد جلد ہی تیریزا جاگ پڑی۔ (روسی جہاز پراگ پر دائرے کی صورت میں پرواز کر رہے تھے، اور ان کے شور کے باعث سونا ناممکن تھا۔) پہلا خیال جو اسے آیا یہ تھا کہ وہ اسی کی خاطر لوٹ آیا ہے؛ اسی کی خاطر اس نے اپنی تقدیر بدل لی ہے۔ وہ اب اور تیریزا کا ذمے دار نہیں ہو گا؛ اب تیریزا کو اس کی ذمے داری سنبھالنی ہو گی۔
یہ ذمے داری اسے محسوس ہوئی، اس سے کہیں زیادہ طاقت کی مقتضی تھی جو وہ اکٹھی کرسکتی تھی۔
اچانک اسے یاد آیا کہ گزشتہ دن فلیٹ کے دروازے پر توماش کے نمودار ہونے سے ذرا پہلے گرجے کی گھنٹیوں نے چھہ بجائے تھے۔ جس دن وہ پہلی بار ملے تھے، اس کی شفٹ بھی چھہ بجے ہی ختم ہوئی تھی۔ اس نے اسے اپنے سامنے پیلی بینچ پر بیٹھے دیکھا تھا اور گرجے کے گھنٹا گھر نے چھہ بجائے تھے۔
نہیں، یہ کوئی توہم نہیں بل کہ ایک احساسِ حسن تھا جس نے اس کی گری گری حالت سے نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کے لیے ایک تازہ ولولے سے بھر دیا۔ اتفاقات کے طیور ایک بار پھر اس کے کندھوں پر اتر رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور وہ اپنے پہلو میں توماش کے سانس لینے کی آواز کو سن کر ناقابلِ بیان طور پر خوش تھی۔

ترجمہ: محمد عمر میمن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین