مالیاتی دہشت گردی (یعنی عوام کی روزمرہ زندگی اور معیشت پر بلاتشدد طریقوں سے قبضہ کرنا)/نجمہ صادق

علم کے تین شعبے ایسے ہیں جو انھیں جاننے کی کوشش کرنے والوں کے لیے بڑے حوصلہ شکن، بلکہ مایوس کن ثابت ہو سکتے ہیں: سیاست، قانون اور معاشیات۔ یہ ماننے کا جواز موجود ہے کہ مخصوص عالمانہ اصطلاحات پر مشتمل زبان کی ایجاد کا مقصد ہی یہ تھا کہ سیدھے سادے تصورات کے آسانی سے سمجھ میں آنے کا راستہ بند کیا جائے اور اس طرح لوگوں کی بڑی تعداد کو ’ماہرین‘ کے متبرک زمرے میں داخل ہونے سے روک دیا جائے۔
لیکن جہاں تک سیاست اور قانون کا تعلق ہے، موخرالذکر کی قرون وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی لفاظی کے باوجود، یہ دونوں شعبے کسی نہ کسی حد تک عوام کی گرفت میں آ گئے، شاید اس لیے کہ ان کو اپنی روزمرہ زندگی میں ان دونوں سے ناگزیر طور پر سابقہ پڑتا ہے۔ لیکن معاشیات کا شعبہ عام لوگوں کی دسترس سے زیادہ تر باہر ہی رہتا ہے کیونکہ اس پر غیرثابت شدہ نظری تصورات اور ایسے تجریدی خیالات کا غلبہ ہے جنھیں منصوبہ ساز بڑے شوق سے حقیقی زندگی پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، جبکہ یہ حقیقی زندگی ان کے لیے قطعی نامانوس ہے۔
یہ بات اس وقت پوری طرح ظاہر ہو جاتی ہے جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آخر کیوں نقدی اور بینکاری جیسی چیزیں، جو ہماری روزمرہ زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں، ریاضی یا معاشرتی علوم کی طرح اسکولوں کی تعلیم میں شامل نہیں کی جاتیں،یہاں تک کہ انھیں معاشیات کے مضمون میں بھی نہیں پڑھایا جاتا، سواے اعلیٰ سطح کے جب کوئی طالبعلم معاشیات کو اپنے خصوصی شعبے کے طور پر منتخب کرتا ہے؛ لیکن اس مرحلے پر بھی نقدی اور بینکاری کی تاریخ کے بعض گھناؤنے حصوں کو تعلیم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ بات یہ ہے کہ لوگوں کو ان حقائق کے بارے میں جتنا کم معلوم ہو گا، ان کو دھوکے میں رکھنا اور کنٹرول کرنا اتنا ہی آسان ہو گا۔
اس کتاب نے بلاشبہ ہمارے علم میں بہت اہم اضافہ کیا۔ یہ نقدی اور بینکاری کی ایک طویل اور تفصیلی تاریخ پر مبنی ہے۔ چونکہ اس کے مصنف ایک تحقیقی صحافی تھے جن کا اندازِتحریر بہت دلکش تھا، اس لیے یہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں کے لیے بہت قابلِ فہم تھی — اس کے باوجود ہمیں اسے پوری طرح سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کے لیے کئی بار پڑھنا اور طویل عرصے تک اس پر غور کرنا پڑا۔ اس کتاب نے دوسری اہم کتابوں اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے ایک بیش بہا ذخیرے کی طرف ہماری رہنمائی کی جن میں دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کی انتھک کوششوں کی تفصیل بیان کی گئی تھی جو عالمی بینکاری کے نظام کے تیار کیے ہوے جال کو توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ نظام ہنرمند اور نہایت قابل لوگوں کو بےبس کر کے رکھ دیتا ہے اگر ان کے پاس نقد رقم نہ ہو۔ یہ امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج کو اور بڑا کر رہا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ نقصان دہ نتائج پیدا کر رہا ہے۔
یہ نئی معلومات جدید تاریخ اور حالیہ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں پڑھنے والے کے نقطۂ نظر کو بالکل بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ مسلح افواج کے بارے میں اور استبدادی طاقت کی مزاحمت کرنے والی جمہوری حکومتوں کو سبوتاژ کرنے کی انٹیلی جنس کارروائیوں کے متعلق (جو مسئلے کی اصل جڑ معلوم ہوتی ہیں) معلومات کے بہت سے دیگر ذرائع موجود ہیں، اگرچہ ان معلومات کو مستند اور پاک صاف تدریسی کتابوں کی شکل میں کارپوریٹ پریس کی جانب سے پیش نہیں کیا جاتا۔ لیکن پورے پورے ملکوں کے عوام اور معیشتوں کو کنٹرول کرنے کا یہ موثرترین اور دکھائی نہ دینے والا طریقہ ہے جسے تشدد کا سہارا لیے بغیر اختیار کیا جاتا ہے — یعنی اگر نرمی سے کی جانے والی برین واشنگ اور زندگی بھر قائم رہنے والی عادتیں ڈالنے کو تشدد سے مبرا کہا جا سکے تو!
یہ نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا دوسرا رخ ہے جو کمزور ملک ہوں یا سپرپاور، تمام ریاستوں کی حکومتوں کو اپنا محکوم بنا کر رکھتا ہے۔ دنیا کی تاریخ — سماجی، معاشی یا سیاسی تاریخ — اس وقت تک پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک نقدی اور بینکاری کے نظام کو اچھی طرح نہ سمجھ لیا جائے۔ لالچ سے پیدا ہونے والی من مانی اور غیرذمے داری کے نتیجے میں پورے پورے ملک اور ان کی معیشتیں مفلس یا مالدار ہو جاتی ہیں۔ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور حال ہی میں 2008-9 کے امریکی مالیاتی بحران میں اس کا ایک بار پھر مشاہدہ کیا گیا۔ یہ زندہ رہنے کا کوئی خوش کن طریقہ نہیں ہے۔
فوجوں اور خفیہ ایجنٹوں کے طریقوں کے برخلاف، بینک کھلے طور پر کام کرتے ہیں — سڑکوں پر اور میڈیا کے اشتہارات میں— اور ان کی فراہم کردہ سہولتوں کو استعمال کرنا لوگوں کے روزمرہ معمول میں شامل رہتا ہے۔ لیکن اگر یہ نظام یوں سامنے دکھائی نہ دے رہا ہوتا تب بھی اس سے زیادہ پوشیدہ نہ ہوتا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ تمام بینک سماج کے لیے خطرہ ہیں۔ ایسی بات نہیں؛ ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ لیکن ان میں سے بیشتر اس نظام کی پورے یقین کے ساتھ پیروی کرتے ہیں جسے بہت مدت پہلے رائج کیا گیا تھا اور جس کے نتائج پر کبھی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ ہمیں اس نظام پر غور کرنے اور اس سے نمٹنے کے طریقے دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اور اس حقیقت کو جاننے کی ضرورت ہے کہ بینک پورے سماج کو یعنی تمام طبقوں کو خدمات فراہم نہیں کرتے۔ چنانچہ ان کے چھوڑے ہوے خلا کو پر کرنے کے دوسرے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔
زیرنظر مضمون ایک عام فرد کی جانب سے دوسرے عام افراد کے لیے کچھ ایسی معلومات پیش کرتا ہے جن کا تعلق آج کی زندگی اور نقدی کی موجودہ دنیا سے ہے۔ اس میں جامعیت یا سب کچھ جاننے کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا گیا۔ یہ محض ایک جھلک ہے، محض ایک آغاز، اور توقع ہے کہ بعد میں اس موضوع پر مزید تحریریں سامنے آئیں گی۔ لیکن اسے اتنا دعویٰ ضرور ہے کہ اس کے ذریعے لوگ نقدی اور بینکاری کے بنیادی نظام کو سمجھ سکیں گے، اس کے نقائص کو دور کرنے کے ایسے حلوں کی ابتدا کر سکیں گے جو بہت سے دوسرے لوگوں نے اختیار کیے ہیں، اور اس معاملے میں اپنی بےبسی کا خاتمہ کر سکیں گے۔
سنار سے بینکار
اس بات پر کون یقین کرے گا کہ جدید بینکاری کا تصور سناروں سے لیا گیا ہے؟ ابتدائی دور میں سنار اشیا کی حفاظت کا مضبوط ترین اور محفوظ ترین نظام فراہم کرتے تھے، کیونکہ دنیا کی سب سے قیمتی دھات کا لین دین کرنا ان کا کام تھا — ایسا نظام فراہم کرنا ان کے پیشے کی مجبوری بھی تھی۔ بیوپاری لوگ بھروسےمند سناروں سے درخواست کرنے لگے کہ وہ ان کا سونا اپنی تجوریوں میں حفاظت سے رکھ لیں اور اس کے بدلے میں اپنی فیس وصول کر لیں۔ سناروں نے یہ درخواست خوشی سے قبول کر لی، کیونکہ اس سے انھیں کسی زائد محنت مشقت یا خرچ کے بغیر فاضل آمدنی ہو رہی تھی۔
تحویل میں لیے جانے والے سونے کے بالکل درست وزن کی رسید بیوپاری کے حوالے کی جاتی جس میں یہ وعدہ کیا جاتا کہ اس رسید کو دکھا کر کسی بھی وقت سونا واپس لیا جا سکتا ہے۔ یہ رسید اتنی ہی اہمیت کی حامل تھی جتناکہ سونا، کیونکہ اس کی بدولت بیوپاری سونے کو اٹھائے پھرنے کی مصیبت اور خطرے سے بچ جاتا تھا۔ کچھ لوگ سونے کی الگ الگ مقداریں تحویل میں دے کر ان کی رسیدیں حاصل کرتے تاکہ ضرورت کے وقت پورے ذخیرے کے بجاے صرف مطلوبہ مقدار میں سونا واپس لیا جا سکے۔
لیکن اس نظام کے فوائد سب کے لیے یکساں تھے۔ یہ رسیدیں قابلِ اعتبار سناروں کی جاری کی ہوئی ہوتی تھیں، اس لیے انھیں رقم کی ادائیگی کے لیے قبول کیا جانے لگا، کیونکہ ان میں سونے کی ایک مخصوص مقدار واپس کرنے کا وعدہ درج ہوتا تھا۔ یہ رسیدیں نقدی کی اولین صورت تھیں اور رفتہ رفتہ زیادہ سے زیادہ گردش میں آتی گئیں۔ ہر ایک کو یقین ہوتا تھا کہ خواہ وہ سونا جمع کرنے والا خود ہو یا کسی ادائیگی کے متبادل کے طور پر اس رسید کو قبول کرنے والا آخری شخص، وہ کسی بھی وقت مطالبہ کر کے سونے کی اس مخصوص مقدار کو حاصل کر سکتا ہے جو اس رسید پر درج ہے۔
لیکن ہوا یہ کہ سونے کو واپس نکلوانے کے درمیانی وقفے رفتہ رفتہ بڑھنے لگے اور پہلے کئی مہینوں اور پھر ایک برس یا کئی برسوں پر پھیل گئے۔ سناروں نے اس بات کی اہمیت بھانپ لی۔ وہ یہ سوچنے لگے کہ اس بیکار پڑے ہوے سونے کا زیادہ منافع بخش استعمال کیا ہو سکتا ہے۔ انھیں یہ بات احمقانہ معلوم ہوتی تھی کہ اسے یوںہی پڑا رہنے دیا جائے اور محض اسے حفاظت سے رکھنے کی فیس وصول کرنے پر اکتفا کیا جائے۔
سنار نے قرض دینے والے (مہاجن) کا کردار اختیار کر لیا۔ اس نے اپنی تجوری میں رکھے ہوے سونے کو قرض پر دینا شروع کر دیا؛ بس فرق یہ تھا کہ وہ قرض لینے والے کو تجوری سے سونا نکال کر نہیں دیتا تھا — کیونکہ اس میں بہت خطرہ تھا۔ وہ یہ کرتا تھا کہ سونا قرض پر لینے کی شرائط کی ایک الگ دستاویز تیار کر لیتا اور اس پر دستخط کروا کے اپنے پاس رکھ لیتا اور قرض لینے والے کو ایک رسید جاری کر دیتا کہ یہ شخص سونے کی اتنی مقدار کا مالک ہے اور رسید دکھا کر اسے حاصل کر سکتا ہے۔
سنار کے اس عمل کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے سونے کی ایک مخصوص مقدار کی، جو دراصل کسی ایک شخص کی ملکیت تھی، دو افراد کو رسیدیں جاری کر دیں۔ کیا یہ بےایمانی تھی؟ درحقیقت یہ بےایمانی ہی تھی، کیونکہ اس نے سونے کے اصل مالک سے اس کی اجازت نہیں لی تھی، کیونکہ اگر اس سے اجازت مانگی جاتی تو ہو سکتا ہے وہ انکار کر دیتا، یا قرض پر حاصل ہونے والے سود میں آدھے حصے کا مطالبہ کر دیتا۔
اس میں شبہ نہیں کہ یہ خیال بےایمانی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ چالاکی کا بھی غمّاز تھا۔ اس بات کو بھانپ کر کہ سونے کے بہت سے اصل مالک لمبی لمبی مدت تک اپنا سونا واپس نہیں لیتے، سنار نے اس بات کا اندازہ لگا لیا کہ وہ اس مدت کے دوران کتنا سونا کوئی خطرہ مول لیے بغیر دوسرے افراد کو آگے قرض پر دے سکتا ہے۔
مثلاً اگر سنار اصل مالک سے سونا اپنے پاس محفوظ رکھنے کے عوض سونے کی مالیت کا 5 فیصد بطور سالانہ فیس وصول کرتا ہے، اور اسی مدت کے دوران اسی سونے کو آگے قرض پر دے کر اس پر 10 فیصد سود بھی وصول کر لیتا ہے، تو اس کا سالانہ منافع 15 فیصد ہو جاتا ہے ، اور اس میں اسے اپنے پاس سے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اگر وہ یہی سونا ایک فرد کے بجاے کئی افراد کو قرض پر دے دے تو اس کا منافع سال بھر میں سونے کی اصل مالیت کے برابر بھی پہنچ سکتا ہے۔
اس طرح سنار نے یہ بات جان لی کہ اگر وہ زیادہ لالچی نہ ہو اور ذرا سی احتیاط سے کام لے تو وہ سونے کی ایک مخصوص مقدار کو سال بھر میں تقریباً دس بار قرض پر دے سکتا ہے۔ معیشت میں سونے اور چاندی کی مقدار بڑھنے کے ساتھ ساتھ سناروں کی جاری کی ہوئی رسیدوں، یعنی کاغذی نقدی، کی تعداد بھی سونے کی اصل مقدار کی نسبت بیسیوں گنا بڑھ گئی۔
لیکن پھر کچھ عرصے بعد ایک غیرمتوقع چیز پیش آئی۔ کاغذی نقدی اب اتنی مقدار میں چیزیں نہیں خرید پاتی تھی جتنی اس کے بدلے میں پہلے خریدی جا سکتی تھیں۔ بلکہ چیزوں کی قیمتیں پہلے سے چار گنا بڑھ گئیں۔ دوسرے لفظوں میں کاغذی نقدی کی قدر بےتحاشا گھٹ گئی۔ یہ افراطِ زر تھا۔
اس نے بینکاروں اور دوسرے لوگوں کو مسئلے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ یہ بات واضح ہو گئی کہ کاغذی نقدی لامحدود تعداد میں جاری نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ اصل نقدی نہیں بلکہ صرف نقدی کی نمائندگی کرنے والی شے ہے۔ تو اب سوال پیدا ہوا کہ سونے کی مقدار اور اس کے نام پر جاری کی جانے والی کاغذی نقدی کا درست تناسب کیا ہو؟ آیا اس کا تعلق بازار میں خریدے جانے کے لیے دستیاب اشیا اور خدمات کی مجموعی مقدار سے، اور ان کی کثرت اور قلت سے بھی ہے؟ یہ سوالات ہمیں آج بھی پریشان رکھتے ہیں۔
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ آج پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے، اور اس کے نتیجے میں پہلے سے کہیں زیادہ مسائل پیدا ہو چکے ہیں، کیونکہ بہت سے بینک تو اب سونے یا چاندی سے کوئی سروکار ہی نہیں رکھتے۔ حقیقی دنیا میں اشیا اور خدمات کی جتنی تعداد دستیاب ہے، اس کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ’فرضی‘ نقدی گردش کر رہی ہے۔
ان سب باتوں کا کیا مطلب ہوا؟
مطلب یہ ہوا کہ سچ مچ کی اشیا اور خدمات کے لین دین پر مبنی سودے دن رات متواتر کیے جا رہے تھے جن میں ان اشیا اور خدمات کا عوض ایک بہت بڑی فریب کاری یعنی سونے کی نمائندگی کرنے والی کاغذی نقدی کی صورت میں ادا کیا جا رہا تھا۔ سونے کی کسی بھی مخصوص مقدار کے لیے جاری کی جانے والی صرف ایک ہی کاغذی رسید اصلی ہو سکتی تھی، لیکن ہر رسید کا مالک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی رسید اصلی ہے، اور اس واہمے سے سب کا کام چل رہا تھا۔
لیکن اگر کسی بھی ہنگامی حالت کے پیدا ہونے کی صورت میں اپنا سونا بطور امانت جمع کرانے والے تمام افراد کو اپنا سونا واپس نکلوانے کی ضرورت پیش آ جاتی تو سنار کو اپنا ضمنی پیشہ کچھ عرصے کے لیے ترک کر دینا پڑتا اور پھر حالات دوبارہ معمول پر آ جاتے۔
لیکن اگر کہیں اس نے قرض مانگنے والوں کو سونے کی کاغذی رسید جاری کرنے کے بجاے اصل سونا ہی ان کے حوالے کر دیا ہوتا، اور اس کے پاس سونا رکھوانے والے تمام گاہک ایک ساتھ اپنا سونا نکلوانے آ پہنچتے تو کیا ہوتا؟ تب تو وہ بڑی مصیبت میں پڑ جاتا۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں تھا، کیونکہ اگر وہ ایک بار بھی سونا جمع کرانے والے کا سونا اسے واپس کرنے میں ناکام رہتا تو اس کی پوری ساکھ اور اس کا تمام کاروبار ختم ہو جاتا۔
اب رہے وہ لوگ جنھوں نے سنار سے قرض لیا تھا، تو سنار نے انھیں اپنا نہیں، کسی اور کا سونا بطور ’قرض‘ دیا تھا، چنانچہ اگر وہ قرض واپس نہ بھی کرتے تو سنار کا کوئی نقصان نہ ہوتا، کیونکہ سونے کا مالک تو وہ تھا ہی نہیں۔ لیکن دوسری طرف بات یہ تھی کہ قرضدار لوگ اپنا قرض عموماً اصلی سونے کی صورت میں ادا کرنے کے پابند ہوتے تھے، جبکہ سنار نے انھیں اصلی سونا نہیں دیا تھا بلکہ صرف ایک کاغذی رسید جاری کی تھی — جو صرف فرضی نقدی کی نمائندگی کرتی تھی۔ اس رسید کے جاری کرنے کے وقت سنار قرضدار سے کسی نہ کسی قسم کی ٹھوس ضمانت حاصل کرتا، مثلاً غلے یا کسی اور جنس کا ذخیرہ، جس کو بازار میں بیچ کر اپنا قرض واپس وصول کرنے کا اسے اختیار مل جاتا اگر قرضدار اپنا قرض مقررہ وقت پر لوٹانے سے قاصر رہتا۔ یا یہ ضمانت جائیداد کی صورت میں ہو سکتی تھی۔ اس طرح قرض کے بدلے جائیداد یا اجناس کو رہن رکھنے کا نظام شروع ہوا۔
اور یوں سنار کا قرض دینے کا کاروبار — جو بڑی حد تک محض اتفاق اور باقی چالاکی پر مبنی تھا — بینکاری کے ایک باقاعدہ خوب چلتے ہوے کاروبار میں ڈھل گیا۔ سترھویں صدی کے انگلینڈ میں بینکاری سب سے زیادہ معزز پیشوں میں شامل ہو چکی تھی۔

حکمرانوں نے مالیاتی اقتدار بینکوں کے سپرد کر دیا
جدید بینکاری کے دنیا پر غلبہ پانے سے پہلے ہر ملک کے حکمران اپنے ملک کے سکّے اپنی ٹکسال میں ڈھلواتے تھے۔ یہ سکے عموماً سونے یا چاندی کے ہوتے تھے، لیکن بعض اوقات اس کے لیے دوسری، کم قیمتی دھاتیں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ دھاتوں کی بہرحال اپنی کچھ نہ کچھ داخلی قدر ہوتی تھی؛ انھیں پگھلا کر دوسری کارآمد چیزوں میں ڈھالا جا سکتا تھا۔ آجکل کی کاغذی نقدی کے برخلاف دھات کے سکوں کی خود اپنی مالیت ہوتی تھی، اور اپنی اس خصوصیت کی بدولت دھات کے سکے چیزوں کو خریدنے اور بیچنے میں تبادلے کے ذریعے کے طور پر صدیوں سے متواتر استعمال ہوتے آ رہے تھے، حالانکہ ان کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ یہ بہت وزنی تھے اور جگہ گھیرتے تھے اور انھیں لاتے لے جاتے ہوے چوری ہونے کا خطرہ رہتا تھا۔
سب سے بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انسانی آبادی اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوا، جبکہ سونے اور چاندی کی مقدار اس تناسب سے نہ بڑھی، کیونکہ یہ دھاتیں تھیں جنھیں کانوں سے نکالنا پڑتا تھا اور یہ کانیں عموماً دوردراز علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ دھات کے ان سکوں کی عدم دستیابی ہی کے باعث لوگوں کی اجرتیں بہت کم ہونے لگیں اور غریبی پیدا ہوئی۔
جنگ کرنے کی ضرورت سے جو مالیاتی مسائل پیدا ہوے انھوں نے بعض شروع کے مغربی بادشاہوں کو مجبور کیا کہ وہ پرائیویٹ بینکوں سے رجوع کریں۔ اگر وہ دانشمندی سے کام لیتے تو اس کے بجاے وہ خود اپنا ایک بینک قائم کرلیتے اور اسے چلانے کا کام قابلِ اعتبار افراد کے سپرد کرتے، خود اپنی کاغذی نقدی جاری کرتے، اس کاغذی نقدی کے استعمال کی حدیں متعین کرتے، اور قابل اور ذمےدار سرکاری اہلکاروں کو ملک کی مالیاتی معیشت کی نگرانی پر مامور کرتے۔
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ نقدی کے بنیادی تصور اور اس کے استعمال سے قطعی لاعلم تھے — اور ظاہر ہے کہ بینکاروں نے انھیں یہ باتیں بتانے اور سکھانے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی، جیساکہ وہ کرتے اگر وہ ایماندار ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکمران آسانی سے اس دھوکے میں آ گئے کہ کاغذی نقدی اتنی ہی قدر رکھتی ہے جتنی سونے کی مقدار اس پر درج ہے۔ بیشتر حکمرانوں کے لیے یہ معاملہ پیچیدہ اور سمجھ سے باہر تھا، چنانچہ انھوں نے اسے ’ماہرین‘ کے حوالے کر دیا — اور آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

چالاک حساب کتاب: جادو سے روپیہ پیدا کرنا

’’معاشیات کے کسی بھی دوسرے شعبے کے مقابلے میں نقدی کا مطالعہ ایسی چیز ہے جس میں پیچیدگی کو حقیقت چھپانے یا اس سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ حقیقت کو سامنے لانے اور ظاہر کرنے کے لیے۔ ... جس طریقے سے بینک نقدی پیدا کرتے ہیں وہ اس قدر سادہ ہے کہ ذہن کو متنفر کر دیتا ہے۔‘‘
— معاشیات داں جان کینتھ گالبریتھ، اپنی کتاب نقدی: کہاں سے آئی، کہاں گئی؟ (1975) میں، اس بات پر تبصرہ کرتے ہوے کہ بینک نقدی کو کس طرح ’تخلیق‘ کرتے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ بینک، سناروں ہی کی طرح جن سے انھوں نے اس کاروبار کے گُر سیکھے تھے اور انھیں اپنےاستعمال کے قابل بنایا تھا، اس حقیقت پر کامیابی سے پردہ ڈالے رہے کہ وہ نقدی کس طرح ’تخلیق‘ کرتے ہیں۔ انھیں معلوم تھا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ ایمانداری پر مبنی نہیں ہے اور لوگوں کو معلوم ہو گیا تو وہ ان طریقوں کو قبول نہیں کریں گے۔ پانچ سو برس کا عرصہ گزرتے گزرتے نقدی اور بینکاری کو اتنی مستند حیثیت حاصل ہو گئی ہے، وہ ہر جانب اتنے ہمہ گیر طور پر پھیل چکی ہیں اور انھیں اتنا ناگزیر سمجھا جانے لگا ہے کہ اب کوئی ان کے طریقوں پر سوال ہی نہیں اٹھاتا۔
جدید معاشیات کی درسی کتابوں میں اس عمل کی کھلی وضاحت ملتی ہے لیکن اس میں شامل بعض طریقوں کی اخلاقی نوعیت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسے ایک معمول کا عمل سمجھا جاتا ہے جسے حکومتوں نے قابل قبول اور جائز ٹھہرا دیا ہے، چنانچہ اس پر سوال اٹھانا غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ یا یہ فریب کاری اتنی ڈھٹائی سے کی جاتی ہے کہ یہ ناقابلِ یقین معلوم ہوتی ہے اور لوگوں کے ذہن میں ایسا کوئی ردعمل پیدا نہیں کرتی جو ایسی دیدہ دلیری کو عام طور پر پیدا کرنا چاہے۔
بہرکیف، بیشتر عام لوگ تو معاشیات کی درسی کتابیں پڑھتے ہی نہیں کیونکہ ان میں اصطلاحات کی بےتحاشا بھرمار ہوتی ہے اور عملی طور پر وہ کم ہی کارآمد ہوتی ہیں — حالانکہ یہ سچ ہے کہ ان میں سے بعض کتابوں میں، اور ان سے کہیں زیادہ آزاد انٹرنیٹ پر، اب بات کو صاف صاف طریقے سے کہا جانے لگا ہے۔ چونکہ نقدی ہر شخص کی زندگی کے روزمرہ معمول پر اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے یہ وضاحتیں اور بینکاری کی تاریخ کے یہ صدمہ انگیز پہلو معلوماتِ عامہ کی ہر درسی کتاب میں شامل ہونے چاہییں، کم از کم ان کتابوں میں جو ہائی اسکول کے طلبا کو پڑھائی جاتی ہیں۔
اور ان باتوں کو سمجھنا بھی مشکل نہیں۔ پیچیدہ زبان اور اصطلاحات صرف عام لوگوں کی نظروں سے حقائق کو پوشیدہ رکھنے کی غرض سے استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن لوگوں کے لیے چند بنیادی سبق حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی نقدی اور اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں، خاص کر اس وقت جب ان کے پاس نقدی کی قلت ہو، اور اس لیے بھی کہ وہ دشوار حالات سے گزرنے کے لیے خود کو مناسب طور پر تیار کر سکیں۔

بینک: محض بےتحاشا منافع کمانے کا ذریعہ
بینک نقدی قرض دینے اور اس پر سود وصول کرنے کا کاروبار منافع کمانے کی غرض سے کرتے ہیں۔ یہ بینکوں کا اصل پیشہ ہے؛ باقی سب سرگرمیاں محض آرائشی اور اتفاقیہ ہوتی ہیں۔ بیشتر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ بینک یا تو اپنی نقد رقم قرض کے طور پر دیتے ہیں یا وہ نقد رقم جو لوگوں نے ان کے پاس رکھوائی ہو۔ اگرچہ بینک اس غلط فہمی کو رفع کرنے یا لوگوں کو اصل بات بتانے کی زحمت کبھی نہیں کرتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی بینک کے اشتہار میں یہ لکھا ہوا نہیں دیکھا ہو گا: ’’ہم دوسروں کی رقم آپ کو قرض دیتے ہیں اور دونوں اس سے منافع کماتے ہیں۔‘‘ اگر یہ بات سچ ہوتی تب بھی لوگ اس سے اچھا اثر نہ لیتے۔
بیشتر ملکوں میں سکے ڈھالنے اور کاغذی نقدی (نوٹ) چھاپنے کا کام وہاں کا اسٹیٹ بینک (سنٹرل بینک) کرتا ہے۔ لیکن کمرشل یا تجارتی بینک بھی نقدی تخلیق کرتے ہیں، جو سکوں یا نوٹوں کی شکل میں نہیں ہوتی۔ اور یہ کام وہ ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔
ایک ایسے بینک کا تصور کیجیے جس نے ابھی کاروبار شروع کیا ہے۔ اس کے نقد اثاثے ضرور رکھے ہوے ہوں گے — اسٹیٹ بینک کی طرف سے یہ پابندی ہے کہ نقد رقم کی کم سے کم مقدار بینک کے پاس موجود ہونی چاہیے (ابتدائی زمانے کے سنار بھی اتنی احتیاط تو کرتے تھے) — لیکن یہ نقد اثاثے صرف منتظر ہوں گے، کچھ کر نہیں رہے ہوں گے۔ اس کے بعد کھاتےدار آنا شروع ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ اپنی نقد رقم اپنے گھر یا روزگار کی جگہ کے قریب کسی مناسب جگہ محفوظ رکھوا سکیں، اور یوں بینک کا ڈپازٹ بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بینک کے نقطۂ نظر سے اچھی بات ہے لیکن اس سے بینک کو کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔
اس کے کچھ ہی عرصے بعد انھی کھاتے داروں میں سے کچھ لوگ، یا ان سے باہر کے لوگ، قرض مانگنے پہنچ جاتے ہیں۔ فرض کیجیے کسی گاہک نے پچاس ہزارروپیہ قرض لیا۔ یہ آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ بینک نے یہ رقم کھاتےداروں کی جمع کرائی ہوئی رقم میں سے دی ہے، چنانچہ ان کے کھاتوں میں درج کی گئی رقم میں سے پچاس ہزار روپے کم ہو جانے چاہییں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
ہوتا یہ ہے کہ بینک قرض لینے والے گاہک کو ایک چیک جاری کر دیتا ہے یا اسے خود اپنے کھاتے میں درج کر لیتا ہے — لیکن اس کے پاس سے پچاس ہزار روپے کم نہیں ہوتے۔ قرض لینے والا گاہک چیک لے جا کر اپنے کھاتے میں جمع کرا دیتا ہے، اور بعد میں اس میں سے ضرورت کے مطابق چھوٹی بڑی رقمیں نکالتا رہتا ہے۔ بینک کو صرف اس ماہانہ رقم کا انتظار رہتا ہے جن کے ذریعے وہ گاہک اپنا قرض لوٹاتا ہے، جس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اور یہ عمل اگلے سال یا دو سال یا کسی بھی مقررہ مدت تک جاری رہتا ہے۔
قرض کا معاملہ وہاں ختم نہیں ہو جاتا۔ کچھ اور لوگ جن کو قرض لیے ہوے پچاس ہزار روپوں میں سے ادائیگی کی گئی، وہ اپنی رقمیں اپنے اپنے نجی کھاتوں میں اس بینک میں یا کسی اور بینک میں جمع کراتے ہیں۔ لیکن اس طرح وہی پہلےوالا عمل نئے سرے سے شروع ہو جاتا ہے۔ جمع کرائی ہوئی رقم کا مقررہ دس فیصد حصہ یعنی پانچ ہزار روپے ریزرو میں رکھ کر باقی رقم یعنی 45000 روپے ایک بار پھر کسی کو کسی نہ کسی راستے سے قرض دے دیے جاتے ہیں اور یوں معیشت میں 45000 روپیہ مزید شامل ہو جاتا ہے۔ یہ رقم بھی بینک میں جمع کرائی جاتی ہے، اور اس کا دس فیصد یعنی 4500 روپیہ ریزرو میں رکھ کر باقی رقم ایک بار پھر قرض پر دے دی جاتی ہے۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔ اس سلسلے کا اختتام کہاں ہوتا ہے؟ اس دوران وہی روپیہ باربار پیدا ہوتا اور نو یا دس بار قرض پر دیا جاتا ہے؛ یعنی 50000 روپے سے تقریباً پانچ لاکھ روپیہ تخلیق کر لیا جاتا ہے۔
لیکن اس اصل رقم پر غور کیجیے جو سب سے پہلے قرض دی گئی تھی۔ وہ کہاں سے آئی تھی؟ وہ رقم خود بھی ہوا میں سے برآمد ہوئی تھی، بالکل اسی طرح جیسے بعد میں تخلیق کی جانے والی اس سے نو یا دس گنا رقم۔ یہ اصل رقم بھی قطعی فرضی تھی۔ صرف قرض دینے کے عمل نے نئی نقدی تخلیق کر دی تھی۔ اسے سمجھنا شاید قدرے مشکل ہو، لیکن بینکاروں کو اس سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ پچاس ہزار اضافی روپوں کی اضافی قوتِ خرید معیشت میں گویا جادو کے زور سے داخل ہو گئی اور اس کے لیے بینک کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑا۔ اس کے باوجود اس رقم کو بازار میں خرچ کیا گیا، اس کے عوض حقیقی اشیا اور خدمات خریدی گئیں، بل ادا کیے گئے اور بہت کچھ کیا گیا۔
اس پورے عمل کو ممکن بنانے کے لیے بینک کو فقط اتنا کرنا پڑا کہ قرض جاری کر دیا اور یوں نئی تخلیق کردہ رقم کو، چیک، کریڈٹ کارڈ اور کسی دوسری قسم کی عددی کرنسی کی شکل میں، وجود بخش دیا۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے پرائیویٹ بینک نقدی تخلیق کر سکتے ہیں کیونکہ سکے ڈھالنے اور نوٹ چھاپنے کا کام صرف اسٹیٹ بینک یا مرکزی بینک کا ہوتا ہے (اس سلسلے میں صرف امریکہ کا فیڈرل ریزرو بینک ایک استثنیٰ ہے)۔ لیکن ان بینکوں کو نقدی تخلیق کرنے کے لیے صرف اپنے قلم کو حرکت دینی پڑتی ہے۔
بیشتر بینکوں پر مرکزی یا اسٹیٹ بینک کی طرف سے پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس جمع کرائی ہوئی رقم کو قرض دینے سے پہلے اس میں سے دس فیصد اپنے ریزرو میں ضرور رکھے (دراصل یہ دس فیصد اصل جمع کرائی ہوئی رقم نہیں بلکہ اس کا تخلیق کردہ متبادل ہوتا ہے)۔ یہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ کہیں بہت سارے کھاتےدار ایک ساتھ اپنی رقمیں نکلوانے بینک آ پہنچیں تو بینک کے پاس رقم کم نہ پڑ جائے۔ حقیقت میں یہ پورا عمل صرف کاغذ پر انجام پاتا ہے کیونکہ معیشت میں استعمال ہونے والی زیادہ تر رقم نقدی کی شکل میں موجود ہی نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود اس کو قوتِ خرید حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے بہت سے غریب ملکوں میں لازمی ریزرو کی مقررہ سطح شاید دس فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ پہلے دنیا بھر میں بینکوں پر پابندی تھی کہ وہ اپنے پاس جمع کرائی ہوئی رقم کا تیس، چالیس اور پچاس فیصد حصہ ریزرو میں رکھیں۔ امریکہ میں پرائیویٹ مالیاتی ادارے اب بہت زیادہ غیرمحتاط ہو گئے ہیں، اور اس امر نے بھی وہاں کے مالیاتی بحران میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ میں اب بینکوں پر دس فیصد ریزرو رکھنے کی بھی پابندی نہیں رہی اور اب وہ اپنے پاس جمع کرائی ہوئی سو فیصد رقم قرض کے طور پر جاری کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ایسی صورتحال جلد یا بدیر پیدا ہونے کی توقع ہے جب بینک کے تمام کھاتےدار ایک ساتھ اپنی رقم واپس نکلوانا چاہیں گے، کیونکہ جتنی فرضی رقم کا بینک کے کھاتوں میں اندراج ہوتا ہے، درحقیقت اتنی رقم نقدی کی شکل میں کبھی موجود نہیں ہوتی۔
جمع کرائی ہوئی نقد رقم سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اتنی ہی رقم بطور قرض جاری کی جا سکتی ہے جبکہ جمع کرائی ہوئی رقم جوں کی توں بینک میں موجود رہتی ہے۔ یہ بات معقول یا منطقی معلوم نہیں ہوتی، اور یہ ہے بھی نہیں۔ لیکن یہ سلسلہ اتنے لمبے عرصے سے جاری ہے کہ اسے نارمل سمجھا جانے لگا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قطعی بےایمانی ہے۔
جب بھی کوئی قرضدار اپنے قرض کا کچھ حصہ لوٹاتا ہے تو یہ رقم بھی بینک کے کھاتے میں جمع ہو جاتی ہے اور اس طرح بینک کو قرض دینے کے لیے مزید رقم مہیا ہو جاتی ہے جبکہ اسے نقدی کی صورت میں کوئی بھی رقم ادا نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے: جب قرضدار کوئی رقم ادا کرتا ہے تو یہ اس کے قرض سے کھاتے میں سے تو نکال دی جاتی ہے لیکن بینک کے روپے کے مجموعی ذخیرے سے نکالی نہیں جاتی! جس کا مطلب یہ ہے کہ بینک اس اداشدہ رقم کو خود اپنے کھاتے میں سے خارج کرنے کا پابند نہیں — حالانکہ یہ ’نقدی‘ خود ہی فرضی تھی۔ یہ نقد رقم اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ اپنا کیک کھا بھی لیں اور وہ آپ کے پاس ان کھایا موجود بھی رہے۔ ظاہر ہے، یہ دوہرے معیار کی مثال ہے۔
کچھ معیشت دانوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ لوگ جو بڑی بڑی رقمیں قرض لیتے ہیں، وہ کبھی انھیں لوٹانے کے قابل نہیں ہو سکیں گے کیونکہ انھیں صرف اصل رقم قرض دی گئی تھی جبکہ اس پر سود بھی جمع ہوتا رہتا ہے اور اسے بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ قرض کی رقم کے لحاظ سے قرضدار کچھ عرصے تک یا تو اصل رقم لوٹا سکتا ہے یا سود — دونوں ہرگز نہیں۔
اصل رقم اور اس پر لگنےوالا سود، دونوں کو لوٹانے کے لیے ضروری ہے کہ قرضدار اس کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کرے: یعنی وراثت میں ملنے والی رقم، یا کسی اور بینک میں جمع کرائی گئی بچت کی رقم وغیرہ۔ یا پھر وہ کسی اور بینک سے نیا قرض لے کر پہلے بینک کا قرض چکائے، اور یوں مزید مشکل میں پھنستا جائے — بالکل اسی طرح جیسے غریب ملک ورلڈ بینک سے لیا ہوا قرض یا اس پر لگنے والا سود چکانے کے لیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لیتے ہیں اور یوں دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

بینکاری کی خدمات: صرف مخصوص طبقے کے لیے
اگر یہ سب کچھ اتنا ہی سادہ ہے اور اس میں بینکوں کا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا، تو پھر بینک اور زیادہ قرضے کیوں جاری نہیں کرتے، خاص کر غریب لوگوں کو جنھیں روپے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؟ ایسا وہ ہرگز نہیں کریں گے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ کاغذی نقدی محض قوتِ خرید پر مشتمل ہے۔ جب اس کاغذی نقدی سے اشیا اور خدمات خریدی جا چکی ہوں گی تو پھر بازار میں خریدنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا، اور باقی کاغذی نقدی بیکار اور بےمصرف ہو کر پڑی رہ جائے گی، اور بینکوں کا فراڈ سب لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا۔
بینک اس لیے کاروبار کرتے ہیں کہ قرض دے کر، نئی نقدی تخلیق کر کے، ٹھوس حقیقی اثاثوں پر قبضہ کر کے اور اپنے جاری کیے ہوے قرضوں پر سود وصول کر کے خود اپنے لیے زیادہ سے زیادہ قوتِ خرید حاصل کریں، چنانچہ وہ اپنی خدمات کو گاہکوں کے ایک مخصوص طبقے تک محدود کر لیتے ہیں جن سے بینکوں کو فائدہ ہو۔ انھیں ان حقیر رقموں سے کوئی دلچسپی نہیں جو انھیں غریب لوگوں سے حاصل ہو سکتی ہیں؛ غریب لوگ زیادہ اونچی شرح سے سود ادا نہیں کر سکتے، اصل رقم کی واپسی کا تو سوال ہی کیا۔
تو پھر سرکاری بینکوں کا کیا مصرف ہے؟ کیا ان کا مقصد منافع اندوزی کے بجاے عوامی بھلائی کے لیے کام کرنا نہیں ہے؟ یقیناً ان کے وجود کا یہی مقصد ہے۔ کیا یہ آسان، قابلِ برداشت شرائط پر غریبوں کے لیے قرضے جاری نہیں کر سکتے؟ بلاشبہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سے انھیں کچھ خاص آمدنی نہیں ہو گی، اور یہ بات انھیں ناگوار ہے۔
لیکن جب سرکاری بینکوں کے وجود کا مقصد مفروضہ طور پر انھی لوگوں کو قرضے فراہم کرنا ہے جنھیں پرائیویٹ بینک قرض دینے سے انکار کر دیتے ہیں، اور اس طرح دولت کو نئے سرے سے تقسیم کرنا ہے، تو پھر انھیں منافع کمانے کے لالچ کی کیا ضرورت ہے؟ یہ بات درست ہے لیکن جب اندازِ فکر ہی اونچے طبقے کو ترجیح دینے اور نچلے طبقے کو نظرانداز کرنے کا بن چکا ہو تو پھر ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟
عملی طور پر بہرحال یہی ہوتا ہے کہ نقدی تخلیق کی جاتی ہے اور اسے مجموعی طور پر نو یا دس بار قرض کے طور پر جاری کیا جاتا ہے، کیونکہ ہر بار جاری کیے جانے والے قرض کی رقم بھی کسی نہ کسی بینک ہی میں جمع کرائی جاتی ہے اور اس طرح ایک بار پھر قرض کی صورت میں جاری کر دی جاتی ہے۔
عام طور پر اتنی رقم نقدی کی شکل میں گردش میں رہتی ہے جس سے روزمرہ زندگی کا لین دین جاری رکھا جا سکے، یعنی خوراک، پٹرول اور دوسری ضروری چیزیں خریدی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، نقدی کی ہر اکائی صرف ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں رہتی بلکہ دن میں کئی کئی بار ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی رہتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں نقدی کی ہر اکائی اپنی مالیت کے کئی گنا کے برابر ٹھوس افادیت مہیا کرتی ہے، اس لیے مزید نقدی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ مغربی ملکوں میں کل روپے کا صرف تین فیصد سکّوں اور نوٹوں یعنی نقدی کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔اس کے علاوہ باقی روپیہ صرف اعداد کی شکل میں حساب کتاب کے کھاتوں یا کمپیوٹروں میں ڈیٹا کی شکل میں درج رہتا ہے۔

کسی کرنسی کی قدر کم کرنا
لیکن اگر معیشت میں کاغذی نقدی کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے، یعنی جتنی اشیا اور خدمات خریدے جانے کے لیے دستیاب ہوں ان سے کہیں زیادہ قوتِ خرید بازار میں داخل ہو جائے، تو افراطِ زر پیدا ہو جاتا ہے، یعنی نقدی کی قوتِ خرید گھٹنے لگتی ہے اور قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ لیکن یہ بڑھی ہوئی قیمتیں بھی منافع اندوزوں کے لالچ کو مطمئن نہیں کر پاتیں، اور وہ یا تو ذخیرہ اندوزی کرنے لگتے ہیں یا اسمگلنگ، یا پھر برآمد کے ذریعے سرحدپار اپنی اشیا اور خدمات کے گاہک تلاش کرتے ہیں۔
یہ صورت حال مجموعی معیشت کے لیے بھی ہمیشہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی، اور تاریخ میں ایسے حالات کا ذکر ملتا ہے جب لوگ گھریلو ضرورت کی معمولی اشیا خریدنے کے لیے چھکڑے بھربھر کر نقدی لے جایا کرتے تھے۔ بہت سی حکومتیں اپنے معاشی مسائل کا حل محض کاغذی نقدی چھاپنے میں تلاش کرتی ہیں اور اس بات سے بےپروا ہو جاتی ہیں کہ ان کی مالیت کے مطابق ٹھوس دولت قدرتی اور انسانی وسائل کی صورت میں موجود بھی ہے یا نہیں؛ اور پھر وہ اپنے ملک کی پیداواری صنعتوں کو غیرملکی سرمایہ کاروں کے ہاتھ بیچنے لگتی ہیں۔ اس طرزعمل سے ظاہر ہے کہ ایسی حکومتیں کتنی مجرمانہ غفلت میں مبتلا ہوتی ہیں۔ جب سوویت یونین انتشار کے عمل کا شکار ہوا، تب اس عمل میں بینکاروں، فنانسروں اور سرمایہ کاروں کے ایک بین الاقوامی گروہ نے اہم کردار ادا کیا، اور ان کے مقامی ساتھیوں نے تباہی کے اس عمل کو مزید تیز کیا تاکہ تباہ شدہ لیکن پیداوار کے قابل صنعتوں کو اونے پونے داموں خرید سکیں۔ لوگوں کو اپنی مہینے بھر کی اجرت کے بدلے صرف ایک روٹی خریدتے دیکھا گیا۔ لیکن یہ دوسری کہانی ہے۔
اگرچہ بعض حکومتیں بےتحاشا نوٹ چھاپنے کی حماقت کی مرتکب ہوتی ہیں لیکن افراطِ زر اور مہنگائی کی یہ سب سے بڑی وجہ نہیں ہے۔ اس صورت حال کے اصل ذمےدار بینکار ہیں — کیونکہ وہ ہر بار قرض جاری کرتے وقت فرضی نقدی تخلیق کرتے ہیں، اور یہ فرضی نقدی ہر بار نئے سرے سے قرض پر دیے جانے سے دگنی ہوتی چلی جاتی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو اسے اخلاقی اعتبار سے مشتبہ لیکن عملی طور پر منفرد نظام کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جب خریداروں کی بہت بڑی تعداد کے پاس بہت ساری نقد رقم آ جاتی ہے تو دکاندار محدود تعداد میں دستیاب چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ انھی چیزوں کی ضرورت دوسرے لوگوں کو بھی ہوتی ہے، لیکن ان کے پاس نقد رقم بھی محدود ہوتی ہے، چنانچہ وہ کم چیزیں خریدتے ہیں یا بالکل ہی نہیں خرید پاتے۔
دوسرے لفظوں میں، اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس زیادہ نقد رقم ہوتی ہے، انھی کے پاس زیادہ مالیاتی اور سودےبازی کی طاقت بھی آ جاتی ہے۔ اس طرح سماج امیر آدمی یا سرمایہ کار کی دنیا میں تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کے پاس ضائع کرنے کے لیے بہت نقد رقم ہے، وہ چیزوں کی اصل مالیت سے زیادہ قیمت دے سکتے ہیں۔ وہ من مانی کر سکتے ہیں۔ یا جس چیز کی مانگ بڑھی ہوئی ہو اس کی ساری کی ساری دستیاب مقدار خرید سکتے ہیں، تاکہ اسے بعد میں اور بھی زیادہ مہنگے داموں بیچ سکیں۔ اس کے نتیجے میں کم نقد رقم رکھنے والوں کی محرومیاں اور بڑھ جاتی ہیں اور قیمتوں میں مجموعی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح بینکاری کا نظام، جو اپنی فرضی نقدی بڑے قرضداروں کو قرض دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، امیر اور غریب، خوشحال اور محروم طبقوں کے درمیان خلیج کو زیادہ وسیع کرنے میں سرگرم اور عملی کردار ادا کرتا ہے۔
اسی مقام پر آ کر نقدی، جسے تمام چیزوں کے لین دین میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ایک ایسے نظام کے تحت سب کو برابر کی سماجی آسانی فراہم نہیں کر پاتی جس نظام کو صرف منافع کمانے کی غرض سے وضع کیا گیا ہے نہ کہ سماج کے ہر فرد کو سہولت فراہم کرنے اور اس عمل میں کم لیکن معقول اور منصفانہ منافع کمانے کے مقصد سے۔
اس مسئلے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ اس پر روک لگائی جائے، اور اسے دوسرے طریقوں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے جو ایسے مضبوط افراد اور اداروں کو تباہ و برباد نہ کر ڈالیں جو پوری پیداواری صلاحیت کے حامل ہیں لیکن نقد رقم کی کمی کا شکار ہیں۔ مثلاً کوئی ایسا کارخانہ جو ایندھن کی قیمت ادا نہیں کر پاتا کیونکہ اسے اپنے گاہکوں سے واجب الادا رقم وقت پر وصول نہیں ہوئی، یا اسے جس خام مال کی ضرورت ہے اس کی ان دنوں بازار میں قلت ہے، یا اس کے پاس کارکنوں کو تنخواہیں دینے کے لیے کافی نقد رقم نہیں اور اسے کم مدتی قرض دستیاب نہیں ہو رہا۔ ایسی کسی عارضی مالی مشکل میں گرفتار کارخانے کی مشکلات کا یہ مناسب حل نہیں ہو سکتا کہ اسے بند یا فروخت کر دیا جائے۔
اور کسی بینک کے لیے بھی یہ معقول طرزِعمل نہیں کہ ایسے اداروں یا افراد کو ضرورت سے زیادہ سزا دے جو قرض کی کوئی چھوٹی سی ادائیگی عارضی طور پر ہاتھ تنگ ہونے کے باعث وقت پر نہ کر سکے ہوں؛ یا بینک ان ٹھوس اور پیداواری اثاثوں پر قبضہ کر لے اور انھیں ان کی حقیقی اور اونچی قیمت پر فروخت کر کے، پہلے سے بھی بڑی فریب کاری کی مدد سے، بےپناہ منافع حاصل کرے۔
پاکستان میں موجود بہت سے مضبوط تجارتی اداروں کو — جو ٹیکس گذاروں کے روپے سے تعمیر کیے گئے عوامی اثاثے تھے — ان کی اصل مالیت سے کہیں کم قیمت پر فروخت (’پرائیویٹائز‘) کر دیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ چلتے ہوے پیداواری اداروں کو تحفتاً منافع اندوزوں کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ ان اداروں کو درپیش مسائل کو بہتر مینجمنٹ، شفافیت اور جوابدہی کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بجاے چھوٹی کرپشن کی سزا ادارے پر قبضہ کرانے کی اس سے کہیں زیادہ بڑی کرپشن کے ذریعے دی گئی۔
یہ بات اس صورت میں اور زیادہ غیرمنصفانہ ہو جاتی ہے جب ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ بینک جو رقم قرض دیتے ہیں اس میں سے بیشتر رقم درحقیقت وجود ہی نہیں رکھتی بلکہ محض تخیل کی پیداوار ہے۔ ناکامی یہ ہے کہ بینکوں نے — اور حکومتوں نے بھی — لین دین کے اس ہمہ گیر لیکن ناقابلِ اعتبار نظام کو سہارا دینے کے لیے متبادل اور مددگار نظام تیار نہیں کیے جن پر کم از کم ہنگامی حالات کے دوران انحصار کیا جا سکے۔
جن کاشتکاروں کی اپنی زمین ہوتی ہے وہ عام طور پر ایسے بحرانوں کو جھیل لے جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ اپنی زرعی پیداوار کو نہ بھی بیچ سکیں، تب بھی وہ اپنے خاندان اور کمیونٹی کا پیٹ ضرور بھر سکتے ہیں، اور پیٹ بھرنا ہر ایک کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ زمین اپنی زرخیزی اور اپنے امکانات سے محروم نہیں ہوتی، اور جب بہتر وقت آتا ہے تو کاشتکار بازار کے لیے جنس پیدا کرنے کا کام پھر سے شروع کر سکتا ہے۔ لیکن چھوٹے زمیندار اور بٹائی پر کاشت کرنے والے اکثر یہ غلطی کر جاتے ہیں کہ پوری زمین اور اپنی تمام محنت ایک ہی فصل میں لگا دی، اور فصل خراب ہو گئی یا بازار میں اس جنس کی کثرت کے باعث بک نہ سکی تو پورا کا پورا نقصان ہو گیا۔
اسی طرح شہری علاقوں میں موجود مشکلات کا شکار ادارے اور ایسے افراد جن کے پاس سماج کو پیش کرنے کے لیے اپنی محنت اور ہنر کے سوا کچھ نہیں ہوتا، ان کے لیے کوئی بہتر انتظام موجود ہونا چاہیے۔

جب نقدی ختم ہو جائے تو اپنی نقدی کیسے بنائی جائے؟
ضرورت کو ہمیشہ سے ایجاد کی ماں کہا جاتا رہا ہے۔ بہت سے ملکوں اور ان میں بسنے والی قوموں میں ایسا ہوا ہے جہاں مختلف وجہوں سے معیشت تباہ ہو گئی اور بےروزگاری پھیل گئی۔ بہت سی مقامی معیشتیں بہت دور، لوگوں کی رسائی سے باہر واقع سرکاری وزارتوں پر انحصار کرنے لگیں کہ وہ عوامی سہولتوں کے لیے رقم مختص کریں، یا پھر بڑی کارپوریشنوں یا ان کے فرنچائز نمائندوں پر انحصار کرنے لگیں کہ وہ ان کی روزگار کی اور مادی ضروریات پوری کریں۔ جب حکومتوں نے ان کے مصائب کو نظرانداز کر دیا — عموماً رقم نہ ہونے کا بہانہ کر کے — تب وہ بےیارومددگار اور تنہا رہ گئے۔
کسی سست رفتار اور انحطاط پذیر معیشت میں پھنسے ہوے لوگ آخرکار صرف اپنی انتہائی بنیادی ضرورتیں، مثلاً خوراک، مکان کا کرایہ، بجلی، پانی، گیس وغیرہ کا خرچ پورا کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں اور اس وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں جب حالات بہتر ہوں اور وہ کچھ اور آسائشیں بھی حاصل کر سکیں۔ اگر ان کے پاس بیچنے کے لیے کوئی جنس ہو لیکن اس کا کوئی خریدار موجود نہ ہو تو وہ جنس ان کے پاس جوں کی توں پڑی رہ جاتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر کسی شخص کے پاس کوئی چیز ہے جس کی کسی اور شخص کو ضرورت ہے لیکن اس دوسرے شخص کے پاس اسے خریدنے کے لیے نقد رقم موجود نہیں ہے (اگرچہ اس کے پاس بیچنے کے لیے دوسری اشیا موجود ہیں) اور بینک اسے قرض دینے کو تیار نہیں، تو وہ اپنی ضرورت کی چیز نہیں خرید سکے گا جو دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ بےروزگار افراد ہیں جن کے پاس بیچنے کے لیے اپنی محنت یا قابلیت کے سوا کوئی چیز نہیں، لیکن جو لوگ انھیں روزگار دے سکتے ہیں ان کے پاس انھیں اجرت دینے کے لیے نقد رقم نہیں ہے۔ ان تمام صورتوں میں یہ بات ظاہر ہے کہ نقدی محض اشیا کے لین دین کا ایک متبادل ہے، نہ کہ مسئلے کا حل۔
ایسی صورت حال سے فکرمند ہو کر لوگوں نے اس کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ اس کی چند مثالیں یہ ہیں۔

اَنٹرٹگن برگر کا اچھوتا خیال
1930 کی دہائی میں ایک مشکل نام والا شخص مائیکل اَنٹرٹگن برگر، آسٹریا کے ایک شہر کا میئر تھا۔ اس شہر کی آبادی چار ہزار تھی۔ یوروپ بھر میں معاشی حالات خراب تھے اور بےروزگاری کی شرح بہت بڑھی ہوئی تھی۔ مقامی حکومت بھی قرض میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تب انٹرٹگن برگر کو ایک اچھوتا خیال سوجھا۔ اس نے شہری حکام کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ ٹوکن کی شکل میں، جنھیں ’’اسکرِپ‘‘ کہا جاتا تھا، اپنا مقامی سکہ جاری کر دے، اور ان ٹوکنوں کی مالیت سرکاری کرنسی کی طرح ایک، پانچ اور دس آسٹرین شلنگ ہو۔
شہری حکام نے اپنی بنائی ہوئی اس نقدی کو گردش میں لانے کے لیے بےروزگار افراد کو عمارتوں کی تعمیر اور سڑکوں کی مرمت جیسے کاموں کے بدلے ان ٹوکنوں کی صورت میں ادائیگی شروع کر دی۔ چونکہ حکام کی ضمانت کے تحت ان ٹوکنوں کو مقامی طور پر قوتِ خرید حاصل تھی، اس لیے وہ مزدور ان کے بدلے مقامی دکانوں سے اپنی ضرورت کا سامان خرید سکتے تھے، جبکہ دکاندار ان کے ذریعے مقامی ٹیکس اور اپنی دکانوں کو سامان سپلائی کرنے والوں کے واجبات ادا کر سکتے تھے۔
اس کے نتائج ڈرامائی نوعیت کے ہوے۔ اس کی بدولت معاشی سرگرمی اچانک زور پکڑ گئی اور اس سرگرمی کو اس شرط سے مزید سہارا ملا جو ان ٹوکنوں پر درج تھی: کہ اس ٹوکن کی مالیت ایک مہینے تک قائم رہے گی؛ اگلے مہینے اس میں ایک فیصد کی کمی ہو جائے گی، اور اسی طرح ہر مہینے اس کی مالیت ایک ایک فیصد کے حساب سے گھٹتی جائے گی، اگر اس کا مالک ٹاؤن کونسل سے ایک ٹکٹ خرید کر اس پر چسپاں نہیں کرے گا۔ یہ ایک قسم کا ٹیکس تھا جسے ادا کرنا یا نہ کرنا ٹوکن کے مالک کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
یہ ٹیکس اتنا کم تھا کہ اس سے کسی کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچتا تھا؛ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ اس ٹوکن کو خرچ کرنے والے تھے، وہ یوں بھی اسے مہینہ پورا ہونے سے پہلے پہلے خرچ کر دینے کو ترجیح دیتے تھے تاکہ ایک فیصد کے نقصان سے، جو یوں بہت ہی معمولی تھا، بچ سکیں۔ چونکہ یہ شرط ہر اس شخص پر لاگو ہوتی تھی جس کے ہاتھ میں ٹوکن ہوتا تھا، اس لیے ہر شخص اسے جلد سے جلد، یعنی ایک مہینے کی مدت پوری ہونے سے پہلے خرچ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ٹوکن معیشت میں زیادہ تیزی سے گردش کرنے لگا — معاشیات داں اسے ’’نقدی کی رفتار‘‘ کا نام دیتے ہیں۔
عملی اعتبار سے یہ ٹوکن بالکل اسی طرح نقدی کی حیثیت رکھتے تھے جیسے کہ سرکاری کرنسی، جبکہ سرکاری کرنسی کی قلت تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان ٹوکنوں کو صرف مقامی طور پر، یعنی شہر یا اس کے ساتھ براہ راست تجارت کرنے والے مضافات میں، خرچ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ ٹوکن اور ان کی پیدا کی ہوئی معاشی سرگرمی، دونوں مقامی آبادی کے استعمال کے لیے محفوظ رہے۔ یہ ٹوکن باہروالوں کو کی جانے والی ادائیگی میں ضائع نہیں ہوے؛ باہروالوں کے لیے یہ یوں بھی بےمصرف تھے۔
یہ منصوبہ بےحد کامیاب رہا،اور بہت سی جگہوں پر، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اس کی پیروی کی گئی۔ یہ اپنے بنیادی مقاصد کو پورا کرتا تھا — یعنی روزگار کو ممکن بنانا اور آمدنی حاصل کرنا — لیکن اس کی ظاہری شکل مختلف تھی؛ البتہ اسے استعمال کر کے اپنی بنیادی ضرورت کی چیزیں خریدنا اور بل ادا کرنا ممکن تھا، جبکہ اس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو مجموعی طور پر سنبھالا ملا اور اس کے اندر نئے مواقع اور نئی ترقیات پیدا ہوئیں۔
لیکن اس منصوبے کی کامیابی ظاہراً ضرورت سے کچھ زیادہ تھی، کیونکہ حکومت کو یہ بات پسند نہ آئی۔ آسٹرین نیشنل بینک نے اس پر روک لگا دی۔ اسے ڈر تھا کہ کامیاب مقامی کرنسیوں کے وجود میں آنے سے ملک کے روپے پر اس کا مرکزی کنٹرول جاتا رہے گا۔ 1933 تک امریکہ میں بہت سی مقامی کرنسیاں وجود میں آ گئیں، اور تب نیویارک کے بینکاروں نے امریکی صدر روزویلٹ پر دباؤ ڈال کر ان کرنسیوں کو غیرقانونی قرار دلوا دیا۔
جب لوگوں کے پاس نقد رقم ختم ہو گئی تو ان میں سے بعض کو اپنی مقامی کرنسی تخلیق کرنے کا خیال سوجھا جو ان کے مقامی معاشی مقاصد پورے کر سکے۔ آخر جب بینک اور حکومتیں نقدی تخلیق کر سکتی ہیں تو لوگ خود ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ پچھلے کچھ برسوں میں مقامی کرنسیاں اور مقامی کمیونٹی بینک ایک بار پھر وجود میں آنے لگے ہیں۔
دنیابھر میں متبادل کرنسیاں واپس آنے لگی ہیں، اگرچہ میڈیا میں ان کا شاذونادر ہی تذکرہ ہوتا ہے، اور مین اسٹریم میڈیا میں تو کبھی بھی نہیں ہوتا۔ ان کرنسیوں کے القاب مختلف ہیں: ’علاقائی‘، ’متبادل‘، ’کمیونٹی‘، ’اضافی‘، ’بارٹر‘ اور ’اسکرِپ‘۔ فرانس میں اسے SEL یعنی (SYSTEMES D'ECHANGE LOCAUX) کہا جاتا ہے، انگریزی بولنے والے کئی ملکوں میں LETS یعنی LOCAL EXCHANGE TRADING SYSTEMS اور امریکہ میں اسے ’ٹائم ڈالر‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت ’فی گھنٹہ مزدوری ‘ کے عوض اشیا خریدی جا سکتی ہیں۔
جب سے بہت سے یوروپی ملکوں کی قومی کرنسیوں کی جگہ یورو نے لے لی ہے، تب سے کئی خطّوں اور کمیونٹیوں نے متبادل کرنسیوں کے تجربات کرنے شروع کر دیے ہیں تاکہ یورو کے مقابلے میں، جو کئی درجن ملکوں پر مشتمل بہت بڑی یوروپی یونین کی نمائندگی کرتا ہے، مقامی کمیونٹیوں کی طاقت بڑھائی جا سکے۔ ابھی تک ان مقامی کرنسیوں کو ختم کرنے کی کوئی کوشش سامنے نہیں آئی ہے؛ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کے فوائد کو آخرکار تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ایک متروک معیشت نے خود کو کس طرح اپنے پیروں پر کھڑا کیا
انگلینڈ کو فرانس سے جدا کرنے والے رودبارِ انگلستان یا انگلش چینل میں ایک چھوٹاسا جزیرہ ہے جس کا رقبہ صرف پچیس مربع میل ہے۔اسے اسٹیٹ آف گورنسی کہا جاتا ہے۔ وہاں جو کرنسی استعمال کی جاتی تھی وہ برٹش پاؤنڈ تھی، جو انگلینڈ سے آتی تھی۔
انیسویں صدی کے شروع میں انگلینڈ اور فرانس کے درمیان جو جنگیں ہوئیں ان کے دوران دونوں ریاستیں جنگ کے لیے بینکاروں سے قرض لے رہی تھیں، اور چالاک بینکار، جو دونوں فریقوں کو قرض دے رہے تھے، اپنے کم اہم قرضداروں سے اپنا قرض واپس مانگ رہے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ قرضوں کا رخ جنگ کی طرف موڑا جا سکے۔ جزیرے میں بےروزگاری بڑھنے لگی اور جو کام پہلے معمول کی سرگرمی خیال کیے جاتے تھے، مثلاً سڑکوں، سمندری دیواروں اور مارکیٹوں کی تعمیر، ان کے لیے بھی نقد رقم باقی نہ رہی۔ جزیرے میں ایک مارکیٹ سنٹر کی اشد ضرورت تھی، چنانچہ ایک کمیٹی کو اس کا حل نکالنے کا کام سونپا گیا۔
کمیٹی نے جزیرے کے گورنر کے پاس جا کر اپنی نقد رقم کی قلت کی مشکل بیان کی۔ اس بات کی نشاندہی کرنے کے بعد کہ مزدوروں اور تعمیراتی سامان کی کوئی کمی نہیں ہے، گورنر نے پوچھا کہ جزیرے کی پارلیمنٹ خود اپنی کرنسی کیوں جاری نہیں کرتی؟ آخر جزیرے کی حکومت خودمختار ہے اور اسے اس سلسلے میں تمام اختیارات حاصل ہیں۔ یہ خیال انھیں کبھی نہیں سوجھا تھا، کیونکہ انھوں نے کبھی اس پر غور ہی نہیں کیا تھا۔
جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ یہ طریقہ کس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے، تو انھوں نے اس پر عمل شروع کیا۔ جزیرے میں کوئی بینک نہیں تھا، چنانچہ اپنا سکہ جاری کرنے کی کسی طرف سے مخالفت بھی نہیں ہوئی۔ گورنسی کی حکومت نے اپنی کرنسی جاری کر دی اور وہ مقامی سکہ بن گئی۔
نئی مارکیٹ کی عمارت بن کر تیار ہو گئی لیکن یہ سلسلہ وہاں ختم نہیں ہوا۔ لوگ اس نئے سکے سے چیزیں خریدنے اور بیچنے لگے؛ مقامی حکومت نے عوامی استعمال کی بہت سی ضروری تعمیرات کیں۔ افراطِ زر اور مہنگائی کو روکنے کے لیے زائد نقد رقم نکلوانے پر ایک ٹیکس عائد کر دیا گیا۔
جزیرے کی معیشت کو سہارا ملا اور وہ پھلنے پھولنے لگی، یہاں تک کہ دس سال بعد وہ اس قدر خوشحال ہو گئی کہ انگلینڈ کے بینک اس کی طرف تاکنے لگے۔ انھوں نے اپنی شاخیں جزیرے میں کھول دیں اور مقامی نمائندوں پر، جن میں سے بہت سوں کو اندازہ نہ تھا کہ نقدی کس طرح کام کرتی ہے، اپنا اثر ڈالنے لگے۔
چنانچہ جزیرےکو خودمختار حکومت کے طور پر اپنی کرنسی جاری کرنے اور اپنی نقدی کو خود کنٹرول کرنے کے حق سے دستبردار ہونا پڑا، اور مقامی نقدی کی جگہ پرائیویٹ بینکوں کے جاری کیے ہوے سودی قرضوں نے لے لی۔ جزیرے کو پھر کبھی ویسی خوشحالی نصیب نہ ہوئی۔
خاص بات: اوپر دی گئی دو مثالوں جیسی اور بہت سی مثالیں پیش آ چکی ہیں۔ ان کے تجربے بالکل ٹھیک کام کرنے لگتے ہیں، لیکن اسی وقت بڑے بینک انھیں برباد کر نے کے لیے آ پہنچتے ہیں اور اپنے روپے اور اثرورسوخ کی طاقت سے انھیں غیرقانونی قرار دلوا دیتے ہیں۔

عوامی مفاد کے لیے عوامی ملکیت کا بینک
نارتھ ڈکوٹا امریکہ کی چھوٹی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ آج وہ ملک کی واحد ریاست ہے جس کے پاس ریاستی ملکیت کا ایک بینک موجود ہے۔ اگرچہ اس ریاست کے پاس تیل کی دولت موجود تھی لیکن بیسویں صدی کے شروع میں اسے سخت مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا؛ یہ بالکل ایسا ہی بحران تھا جس سے آج کل امریکہ کی بیشتر ریاستیں گزر رہی ہیں۔ لیکن آج، امریکہ کی پچاس میں سے چھیالیس ریاستوں کے برخلاف، نارتھ ڈکوٹا کی ریاست کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ اس کی وجہ بہت پہلے کیا جانے والا وہ فیصلہ ہے جو اپنی مدد آپ کے ذریعے اپنے معاشی بحران کو حل کرنے اور اپنی ریاست کے لوگوں کے مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
ریاست نارتھ ڈکوٹا نے یہ کیا تھا کہ 1919 میں اپنا بینک قائم کر لیا۔ پرائیویٹ بینک نہیں، بلکہ پبلک یعنی عوامی ملکیت کا بینک، جس کے قیام کا مقصد نارتھ ڈکوٹا کے شہریوں کو خدمات فراہم کرنا تھا۔ اس نے اپنے دروازے تمام شہریوں پر کھول دیے، نہ کہ صرف ان شہریوں پر جو قرضوں پر بھاری سود ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ اس بینک نے طالبعلموں، کاشتکاروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے کم شرح سود والے قرضے جاری کیے۔
یہ بینک، دوسرے چھوٹے بینکوں کے ساتھ مل کر، ’شراکتی قرضوں‘ میں بھی حصہ لیتا ہے تاکہ وہ ساتھ مل کر بڑے بینکوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ایک کمیونٹی بینک کوئی قرضہ جاری کرتا ہے، جبکہ بینک آف نارتھ ڈکوٹا اسے فنڈ فراہم کرتا ہے اور نقصان کے خطرے اور منافع، دونوں میں شراکت کرتا ہے۔ نارتھ ڈکوٹا کی ریاست کے لیے ایک قسم کے منی سنٹرل بینک کی خدمات فراہم کرنے کی وجہ سے یہ بینک ریاست کی سرحدوں کے باہر دوسری ریاستوں کے ساتھ ہونےوالے لین دین کی بھی ذمےداری سنبھالتا ہے۔
اس خیال پر عمل کرتے ہوے کہ معاشی سرگرمی کے سلسلے میں بینک کے گاہکوں کی مدد کرنے سے کمیونٹی، ریاستی معیشت اور خود بینک،تینوں کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے، اس بینک نے اپنی بات کو2008 میں اس وقت درست ثابت کیا جب پورے امریکہ میں پرائیویٹ بینک کریش ہونے لگے لیکن بینک آف نارتھ ڈکوٹا پر ذرا بھی آنچ نہ آئی۔
درحقیقت 2009 میں بینک نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فاضل بجٹ پیش کیا۔ اس سال نارتھ ڈکوٹا امریکہ کی واحد ریاست تھی جو اپنے روزگار میں اضافہ کر رہی تھی جبکہ باقی ریاستیں بےروزگاری کا شکار ہو رہی تھیں۔ نارتھ ڈکوٹا میں ٹیکس کم کرنے اور اپنے فاضل روپے کو خرچ کرنے کے طریقے تلاش کیے جا رہے تھے!
بیشتر ریاستیں اب بڑے بینکوں سے قرض حاصل نہیں کر سکتیں، یا تو اس وجہ سے کہ ان بینکوں کے پاس نقد رقم کی قلت ہے یا اس لیے کہ یہ بینک کریش ہو رہے ہیں۔ آخرکار ان ریاستوں کو نارتھ ڈکوٹا کی قائم کی ہوئی مثال پر غور کرنا پڑا ہے جس نے نوے سال سے محتاط اور لوگوں کے مفاد میں چلائے جانے والے بینکاری کے نظام کو چلا رکھا ہے۔ اور اب کئی ریاستیں اسی مثال کی پیروی کرتے ہوے اپنے ریاستی ملکیت کے بینک قائم کرنے لگی ہیں۔ ان میں مشیگن، واشنگٹن، میساچوسٹس اور اِلی نوئے شامل ہیں جنھوں نے پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے کے لیے بل کے مسودے تیار کرنے شروع کر دیے ہیں۔ دوسری ریاستوں کے بھی ایسا ہی کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
جب امریکی ووٹر ایسے امیدواروں کی حمایت کرنے لگیں گے جن کی توجہ شکارخور بینکوں کو سہارا دینے اور بیرون ملک جنگوں میں حصہ لینے کے بجاے لوگوں کے مفاد کو سامنے رکھنے پر ہو گی، تو ممکن ہے کہ امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ آ جائے۔

سربراہانِ مملکت کو قتل کرنے کی ’ضرورت‘کیوں پیش آتی ہے؟

’’مجھے بس کسی قوم کا سکہ جاری کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کا اختیار دے دو، اس کے بعد مجھے پروا نہیں ہو گی کہ اس کے قوانین کون بناتا ہے... ‘‘
— مائر اینسلم روتھسشیلڈ
آج کی اختصاص پسند دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں قسم کے ملکوں میں ایک شعبہ ایسا ہے جس پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا جاتا ہے اور نہ اس کی چھان بین کی جاتی ہے — یہ شعبہ ہے بینکاری کا نظام۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں میں بہت سے ملکوں میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ تمام بینکوں کا طرزِعمل قانون کے مطابق نہیں ہوتا۔ وجہ یہی ہے کہ لوگوں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ نقدی اور بینکاری کے معاملات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور یہ ان کی سمجھ میں نہیں آئیں گے، اس لیے انھیں ’ماہرین‘ کے سپرد کر دینا ہی بہتر ہے۔ اس کا نتیجہ عوام کو منصوبہ بند طور پر بےخبر رکھنے کی صورت میں نکلتا ہے۔
بینکوں کی اشتہاربازی اور پبلک ریلیشنز کے زیراثر بہت سے لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ ان میں نہ تو کسی تبدیلی کی گنجائش ہے اور نہ ان کا کوئی متبادل ہے؛ یہ کہ بینک کے گاہکوں کو فریب دیے جانے کا کوئی امکان نہیں؛ یہ کہ لوگوں کی رقم اپنے پاس محفوظ رکھ کر اور انھیں اس پر سود ادا کر کے بینک دراصل لوگوں کی بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور اس کے علاوہ وہ لوگ بھی جو بینکوں میں کھاتے نہیں کھولتے، ان کی خدمات سےفائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ بیئرر چیک وہاں لے جا کر کیش کراتے ہیں۔
یہ ایک قطعی یک رخی تصویر ہے۔ بینکاری دوسری بہت سی سہولتوں کی طرح محض ایک سہولت ہے۔ اگر کوئی ایک بینک یہ سہولت فراہم نہیں کرے گا تو دوسرا کوئی بینک فراہم کر دے گا۔ اگر پرائیویٹ بینک یہ سہولت فراہم نہیں کریں گے تو سرکاری بینک میدان میں آ جائے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیابھر میں پرائیویٹ اور سرکاری دونوں قسم کے بینک ایک ہی جیسا طرزِعمل اختیار کرتے ہیں۔
جب سناروں سے ترقی کر کے پرائیویٹ بینک وجود میں آئے اور انھوں نے خود اپنی نقدی تخلیق کرنا شروع کی، تب وہ صرف ان افراد کو خدمت فراہم کرتے تھے جو ان سے قرض لیتے تھے اور جن سے وہ سود وصول کر سکتے تھے۔ یہ بینک تمام شہریوں کو خدمات فراہم نہیں کرتے تھے تاکہ وہ اشیا کے لین دین یا بارٹر کی مشکلات سے محفوظ رہیں، بلکہ ان کی خدمات صرف ان لوگوں کے لیے مخصوص تھیں جن سے انھیں منافع حاصل ہو سکے۔ آج بھی پرائیویٹ بینکوں کا کردار اس سے مختلف نہیں ہے۔ اور ان کی کارکردگی ایک ایسا خلا چھوڑ دیتی ہے جسے دنیا کے بیشتر شہریوں کی خاطر پُر کرنا ضروری ہے۔
اعتبار بینکاری کے شعبے کا ایک اہم پہلو ہے، اور بینک اس کا بہت خیال رکھتے ہیں کہ ان کا اعتبار قائم رہے، ورنہ وہ اپنے گاہکوں کو کھو بیٹھیں گے۔ لیکن اگرچہ بینکوں کے روزمرہ کے لین دین سے کوئی مسئلہ یا شبہ پیدا نہیں ہوتا — یعنی کھاتے کی کتابوں میں وہی رقمیں درج ہوتی ہیں جو جمع کرائی گئی تھیں، اور جو درست چیک پیش کیے جاتے ہیں وہ کیش ہو جاتے ہیں — لیکن بینکوں کی اصل کارگزاری سمجھ میں آنا تو درکنار، دکھائی تک نہیں دیتی۔
آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں نہ صرف ملٹی نیشنل کارپوریشنوں، اور زرعی اجناس پیدا کرنے اوران کی تجارت کرنے والے بااثر گروہوں کا حکم چلتا ہے، جو اپنی قدر کو صرف روپے کی صورت میں ناپتے ہیں، بلکہ ان حکمرانوں میں بین الاقوامی بینکار بھی شامل ہیں، جن کا کردار لوگوں کے سامنے اتنا زیادہ ظاہر نہیں ہوتا اورجو ایک الگ بااثر طبقے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
جب ہمارا ایک الگ، آزاد اور خودمختار سمجھا جانے والا ملک ہے اور ہماری کرنسی بھی اپنی ہے، تو ہم پر اس صورت حال کا کیسے اثر پڑتا ہے؟ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک، اور ہمارے جیسے بہت سے اور ملک، درحقیقت اتنے آزاد نہیں جتنا ہم انھیں سمجھتے ہیں یا سمجھنا چاہتے ہیں، کم از کم مالیاتی لحاظ سے۔ اور اس صورت حال کے لیے ہم کرپشن کے ساتھ خود اپنی بےخبری کو بھی قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں۔
جیسا کہ سنار سے بینکار بن جانے والی کہانی میں ہوا تھا، اسی طرح اس معاملے کو سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ اس کہانی کا سرا ڈھونڈا جائے کہ کس طرح اولین بینکاروں نے نوآبادیاتی انگلینڈ اور یوروپ کے بادشاہوں اور حکومتوں کو، جنگ اور امن دونوں قسم کے حالات میں، اپنا دست نگر بنا لیا تھا۔ یہ سلسلہ کئی صدیوں تک چلتا رہا، صرف اس لیے کہ قرضداروں کو یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ ان کا بینکاروں کے قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جانا قطعی غیرضروری ہے اور اس سے بچا جا سکتا ہے۔

نوآبادیاتی تسلط کے تحت امریکہ میں بینکاری
امریکہ ایک زمانے میں انگلینڈ کی نوآبادی تھا، اور انگلینڈ کے نجی ملکیت کے بینک ہی انگلینڈ اور اس کی نوآبادی امریکہ کے لیے نقدی جاری کرتے اور بینکاری کی خدمات فراہم کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک آتے آتے امریکی قیادت کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ بینک آف انگلینڈ اور روتھس شیلڈ جیسے لوگوں کے چلائے ہوے بینک کس طرح یوروپ کا طویل عرصے سے استحصال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ نتیجتاً کچھ امریکی شہریوں نے پہل کر کے خود اپنی نقدی جاری کی۔
جب بنجمن فرینکلن نے1763 میں انگلینڈ کا سفر کیا تو اس سے پوچھا گیا کہ نوآبادیوں نے اس قدر خوشحالی کیونکر حاصل کر لی۔ بہت سادہ سی بات ہے، اس نے جواب دیا، نوآبادیوں نے خود اپنی کرنسی جاری کی، جسے ’کولونیل اسکرِپ‘ کہا جاتا ہے، اور اسے اتنی ہی تعداد میں جاری کیا جاتا ہے جتنی وہاں کی صنعت اور تجارت کی اصل پیداوار اور ضرورت ہوتی ہے — اور اس کی بنیاد فرضی نقدی تخلیق کرنے پر نہیں ہوتی۔
اس کے باوجود انگلینڈ کے بینکوں کے ہاتھوں مالیاتی تسلط کا سلسلہ مزید کوئی آٹھ دہائیوں تک چلتا رہا، یعنی 1783 کے بعد تک جب امریکہ سرکاری طور پر انگلینڈ سے آزادی حاصل کر چکا تھا۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھانے لگے کہ آخر ایک غیرملکی پرائیویٹ بینک کو ایک دوسرے خودمختار ملک کا سکہ جاری کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کا اختیار کیوں حاصل ہے؟

سانپوں نے صدر اینڈریو جیکسن پر پھن اٹھا لیا
صدر اینڈریو جیکسن (1829-1837) اپنے زمانے کے لحاظ سے خاصی منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ اسے لوگوں نے براہ راست ووٹ کے ذریعے، کسی سیاسی پارٹی یا تنظیم کی حمایت کے بغیر منتخب کیا تھا۔ اسے بین الاقوامی بینکار کچھ خاص پسند نہ تھے، اور اس نے کھلم کھلا اور بڑے طیش کے ساتھ اعلان کیا: ’’تم لوگ سانپوں کا ایک ٹولا ہو۔ میرا ارادہ تمھارے نکال بھگانے کا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو میں ایسا کر کے رہوں گا۔ اگر تمھارے بنائے ہوے نقدی اور بینکاری کے نظام کی لوگوں کو سمجھ آ جائے، تو رات بھر میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔‘‘
1832 میں صدر جیکسن نے بینک آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس کے چارٹر کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد اس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ناکام رہا لیکن جیکسن جان گیا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ اس نے اپنے نائب صدر کو بتایا؛ ’’بینک مجھے قتل کرنے کی فکر میں ہے... ‘‘
صدر جیکسن امریکہ کی تاریخ کا واحد صدر ہے جس نے اپنا قومی قرضہ پورا کا پورا چُکا دیا۔ بدقسمتی سے وہ متبادل کے طور پر ایک سنٹرل بینک قائم نہ کر سکا جو خود اپنا سکہ جاری کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے دوسرے بینکوں نے قرض دینے اور نقدی تخلیق کرنے کا کام شروع کر دیا جسے سونے یا چاندی کے ذخائر کی پشت پناہی حاصل نہ تھی۔ یہ بینک سٹے بازی میں مصروف ہو گئے جس کے نتیجے میں زبردست کسادبازاری پیدا ہوئی اور قومی قرض سال بھر میں بڑھ کر دس گنا ہو گیا۔
اس وقت سے لے کر وفاقی قرض کی اصل رقم کبھی ادا نہ کی جا سکی۔ صرف سود کی ادائیگی باقاعدگی سے ہوتی ہے — جو بینکاروں کی خواہش کے عین مطابق ہے، یعنی یہ کہ کوئی حقیقی سرمایہ کاری یا محنت کیے بغیر منافع سال بہ سال وصول ہوتا رہے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو ۔
یہی وہ صورت حال ہے جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف غریب خطّوں کے ’ترقی پذیر‘ ملکوں میں جان بوجھ کر پیدا کرتے ہیں، تاکہ وہ سود کی ادائیگی ہمیشہ ہمیشہ کرتے رہیں اور یوں ان کی خودمختاری، قدرتی وسائل اور دوسرے پیداواری اثاثوں پر ان بینکوں کا تسلط قائم رہے۔

ابراہام لنکن نے امریکہ کا اپنا سکہ جاری کیا
1861 سے 1865 تک امریکہ میں وہ خانہ جنگی جاری رہی جس میں جنوب کی کپاس پیدا کرنے والی ریاستیں (جن کا انحصار غلاموں کی محنت پر تھا)، شمال کی صنعتی ریاستوں سے برسرپیکار رہیں۔ اچانک جنگ کا سامنا ہونے پر صدر لنکن کو شمالی ریاستوں کی طرف سے جنگ میں حصہ لینے کے لیے نقد رقم کی ضرورت پڑی۔ جب اس نے اس غرض سے پرائیویٹ کارپوریٹ بینکوں سے رابطہ کیا تو انھوں نے 24 سے 36 فیصد تک سود کی شرط لگائی، جس پرلنکن چراغ پا ہو گیا۔ وہ لوگ حکومت کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے کہ اس کے پاس نقد رقم کی کمی تھی، مگر لنکن کو اس سودخوری کااصل چہرہ دکھائی دے گیا۔ وہ ملک کو ایک ایسے قرض کی دلدل میں دھکیلنا نہیں چاہتا تھا جو اسے معلوم تھا کہ کبھی چکایا نہیں جا سکے گا، اس لیے اس نے قرض لینے سے انکار کر دیا۔
’’میرے دو بڑے دشمن ہیں،‘‘ اس نے زور دے کر کہا، ’’جنوبی فوج جو میرے مقابل ہے، اور مالیاتی ادارے جو میرے عقب میں ہیں۔ ان دونوں میں عقب سے وار کرنے والا دشمن زیادہ بڑا ہے۔ ... میں مستقبل میں ایک ایسا بحران پیدا ہوتے دیکھ رہا ہوں جس کے آنے کے تصور سے مجھ پر لرزہ طاری ہو رہا ہے اور میں اپنے ملک کے تحفظ کے بارے میں پریشان ہو گیا ہوں۔ جنگ کے نتیجے میں کارپوریشنوں کا تسلط قائم ہو گیا ہے اور جلد ہی اونچے عہدوں پر کرپشن کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ملک کی مالیاتی طاقتیں اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کی بدگمانیوں کو یہاں تک بھڑکائیں گی کہ تمام دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے اور جمہوریہ تباہ و برباد ہو جائے۔‘‘
اور دراصل امریکہ میں یہی ہوا ہے۔
لنکن کو نقدی اور بینکاری کے معاملات کی اچھی طرح سمجھ بوجھ تھی اس لیے اس نے ان ماہرین کے مشورے قبول کیے جو چاہتے تھے کہ حکومت خود اپنی کرنسی چھاپنا شروع کرے۔ اس نے اس مقصد سے کانگریس کی مطلوبہ حمایت بھی حاصل کر لی۔
اس نے 450 ملین ڈالر کے نوٹ چھپوائے جنھیں معیشت میں قرض اور سود سے آزاد صورت میں داخل کر دیا گیا۔ انھیں ’گرین بیکس‘ کہا جاتا تھا کیونکہ ان کی چھپائی سبز روشنائی سے ہوتی تھی۔ حکومت کو صرف کاغذ اور چھپائی کا خرچ اٹھانا پڑتا تھا، جو بہت ہی معمولی تھا۔ ڈالر تمام مقاصد کے لیے، پرائیویٹ اور سرکاری قرض چکانے کے لیے، قانونی کرنسی بن گیا۔ اس سے نہ صرف جنگی سامان اور سپاہیوں کی تنخواہوں کا خرچ پورا کیا گیا بلکہ سرکاری اہلکاروں کی تنخواہیں بھی اسی سے ادا کی گئیں۔
انگلینڈ کے بینکاروں نے اس عمل کو دیکھ لیا اور وہ بھونچکا رہ گئے۔ اگر امریکہ کے پاس سود سے آزاد نقدی آتی رہی تو یہ بینک بہت جلد بےمصرف ہو جائیں گے اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں دوسرے ملک بھی اس مثال پر عمل نہ شروع کر دیں! نقدی کا دودھ دینے والی ان کی سب سے بڑی گائے، یعنی امریکی حکومت، ان کے ہاتھوں سے نکلی جا رہی تھی۔
یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس کے فوراً ہی بعد انگلینڈ کے اخبار لندن ٹائمز میں، جس کا کنٹرول انگلینڈ اور یوروپ کے بینکاروں کے ہاتھ میں تھا، ایک خبر شائع ہوئی۔ اس میں بڑے شرمناک اور اشتعال انگیز انداز میں کہا گیا تھا:
’’اگر شمالی امریکہ سے شروع ہونے والی یہ شرانگیز مالیاتی پالیسی جڑ پکڑ کر مضبوط ہو گئی تو وہ حکومت کسی خرچ کے بغیر اپنا سکہ چلانے لگے گی۔ یہ اپنے قرضے چکا دے گی اور قرض سے آزاد ہو جائے گی۔ اس کے پاس اپنی تجارت جاری رکھنے کے لیے درکار نقد رقم موجود ہو گی۔ یہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ خوشحال ہو جائے گی۔ تمام ملکوں کی دولت اور ذہین لوگ کھنچ کر شمالی امریکہ پہنچ جائیں گے۔ اس ملک کو تباہ کرنا ضروری ہے ورنہ یہ دنیا کی ہر بادشاہت کو تباہ و برباد کر دے گا۔‘‘
(لندن ٹائمز، 1865،بعنوان “HAZARD CIRCULAR”)
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریر میں یہ اعتراف ملتا ہے کہ انگلینڈ کے بینکار وہی کام کر رہے تھے جسے کرنے سے وہ امریکی حکومت کو روکنا چاہتے تھے — یعنی اپنا سکہ چلانا ۔اس میں امریکیوں کو اس کام سے روکنے کے لیے ان کے خلاف جنگ کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی تاکہ وہ استحصالی سود سے بچنے کے لیے خود اپنے سکے پر کنٹرول نہ کر سکیں، جبکہ ایسا کرنا ایک خودمختار ملک کے طور پر ان کا حق تھا۔
برطانوی حکومت درحقیقت لندن اور باقی یوروپ کے بینکاروں کی کٹھ پتلی کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے لنکن کو شکست دینے کے لیے جنوبی ریاستوں کی مدد کرنے کی کوشش کی تاکہ لنکن کو امریکہ کے نقدی کے نظام کو اپنے کنٹرول میں لینے سے روکا جا سکے۔ لیکن اس کی کوشش شروع ہی میں ناکام ہو گئی کیونکہ لنکن نے امریکہ میں غلامی کے خاتمے کا حکم جاری کر دیا۔ اس طرح لنکن اس سے کہیں زیادہ ہوشیار ثابت ہوا جتنا وہ سمجھتے تھے۔ برطانیہ کے عوام غلامی کے رواج کے خلاف ہو چکے تھے اور کسی ایسی جنگ کی حمایت کرنے کو تیار نہ تھے جس کا مقصد اس رواج کو قائم رکھنا ہو۔ بینکاروں کو بھی اس حقیقت کا احساس ہو گیا اور انھوں نے قدم پیچھے ہٹا لیا۔
لنکن نے نہ صرف خانہ جنگی میں فتح حاصل کی بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا، جبکہ اس عمل میں ریاست یا عوام کو قرض کابھاری بوجھ بھی برداشت نہ کرنا پڑا۔ لیکن بینکاروں نے ابھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا تھا۔ جنگ ختم ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد لنکن کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے قاتل کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ایک ’تنہا‘، مفروضہ طور پر دماغی عدم توازن کا شکار ، بےروزگار شخص تھا۔
تاریخ ایسے قاتلوں سے بھری پڑی ہے جو بظاہر تنہا کام کر رہے ہوتے ہیں اور جنھیں کام پورا ہونے کے بعد ایک دوسرا قاتل ٹھکانے لگا کر خاموش کر دیتا ہے۔

نقدی کی سرکاری تخلیق کی پاداش میں قتل؟
لنکن کی موت سے بینکاروں کے سوا کسی کا مفاد وابستہ نہیں تھا۔ مگر لنکن کے قتل کے بعد امریکی کانگریس ہمت چھوڑ بیٹھی۔ جلد ہی وہ قانون واپس لے لیا گیا جس کے تحت حکومت نے اپنا بلاسودی سکہ چھاپ کر جاری کیا تھا۔
جدید محققوں نے آخرکار ایسی تحریری شہادتیں دریافت کر لی ہیں جن کی رو سے لنکن کے قتل کی بڑی سازش کا سرا بینک آف روتھس شیلڈ سے جا ملتا ہے۔ قاتل جان وِلکس بوتھ یقیناً تنہا کام نہیں کر رہا تھا۔ اس گروہ میں آٹھ دوسرے افراد بھی تھے؛ اور ستر سے زیادہ سرکاری اہلکار اور تاجر اس سازش میں شریک تھے جن کی قیادت لنکن کا سیکرٹری برائے جنگ ایڈوِن اسٹینٹن کر رہا تھا۔ بوتھ کی ڈائری، جس سے ساری چیزوں کا انکشاف ہوا، اسٹینٹن کے حوالے کی گئی تھی جس نے اسے دبا دیا تھا۔ چونکہ اس وقت کسی کو اس ڈائری کی موجودگی کا علم نہ ہوا، اس لیے اس میں موجود شہادت کو مجرموں کو پکڑنے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکا، جن کا سرا روتھس شیلڈز تک پہنچتا تھا۔
جب لنکن کی بیوی کو اس کے قتل کی خبر ملی تو وہ زور زور سے چلّانے لگی: ’’اوہ! وہ دہشتناک ہاؤس!‘‘ جس کے معنی شروع کے مورخوں نے ’وائٹ ہاؤس‘ کے نکالے۔ لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کا نام لے رہی تھی جس کا ذکر اس نے لنکن سے بارہا سنا تھا — یعنی ٹامس ڈبلیو ہاؤس، جو فنانسر ہونے کے ساتھ اسلحے کا بیوپاری بھی تھا اور خانہ جنگی کے دنوں میں روتھس شیلڈز کا ایجنٹ تھا۔
1913 میں جب کانگریس نے فیڈرل ریزرو ایکٹ پاس کیا تو امریکہ کی تقدیر پر مہر لگ گئی۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت اپنے سکے کی تخلیق کے تمام اختیارات سے دستبردار ہو گئی اور یہ اختیارات نجی ملکیت کے فیڈرل ریزرو کے حوالے کر دیے گئے۔ وہ سرکاری پریس میں ڈالر چھپواتے جس کا خرچ انھیں بہت معمولی سا ادا کرنا پڑتا، اور پھر وہ انھی کاغذی ڈالروں کو خود سرکار ہی کے ہاتھ اس قیمت پر فروخت کرتے جو ان پر چھپی ہوتی تھی!
لنکن کے ’گرین بیکس‘، جو بینکاروں کے طریقے کے برخلاف، کسی فرضی قرض کو وجود میں لائے بغیر تیار کیے جاتے تھے، بازار سے واپس لے لیے گئے۔ تاہم لنکن نے کسی شک شبے کی گنجائش کے بغیر یہ بات ثابت کر دی تھی کہ کوئی بھی باعزت حکومت اپنا خرچ اٹھانے اور اپنی معیشت کو چلانے کے لیے اپنی نقدی خود تخلیق کر سکتی ہے۔
امریکی خانہ جنگی کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد امریکہ کے محکمۂ خزانہ سے یہ حساب لگانے کو کہا گیا کہ اگر لنکن نے 400 ملین ڈالر خود چھاپنے کے بجاے بینکاروں سے قرض لیے ہوتے تو اس رقم پر کتنا سود ادا کرنا پڑتا۔ بچائے گئے سود کی رقم کا اندازہ چار بلین ڈالر سے زائد لگایا گیا! گویا امریکی حکومت کو صرف سود کی مد میں چار بلین ڈالر ادا کرنے پڑتے، یعنی قرض لی جانے والی رقم کا چالیس گنا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اسے ادا کرنے کے لیے لوگوں پر خون نچوڑنے والے ٹیکس عائد کرنے پڑتے۔ یہ ویسی ہی صورت حال ہوتی جیسی غریب ترقی پذیر ملکوں میں آج کل دیکھی جا سکتی ہے اور جسے آئی ایم ایف نے اسی آزمودہ طریقے سے پیدا کیا ہے۔
1913 کے بعد سے معاملات فیڈرل ریزرو بینک کے ہاتھ میں رہے ہیں۔ اس کی کہانی سازشی سیاست اور جوڑتوڑ کی ایک لمبی اندوہناک تاریخ ہے جسے اُس دور کے اندر کے لوگوں اور آج کل کے محققوں نے بڑی محنت سے تحریر کیا ہے، اور جس کا بڑا حصہ ویب سائٹ پر موجود ہے۔

لنکن کی نقدی کی پالیسی کے نکات
نقدی یا سکہ قانون کی تخلیق ہے، اور اس کے اصل اجرا کا مکمل اختیار قومی حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ نقدی کی ریاست کے لیے کوئی قیمت نہیں سواے اس قیمت کے جو معیشت میں اس کی گردش سے متعین ہوتی ہے۔
سرمایہ اپنا مخصوص مقام رکھتا ہے اور اسے ہر قسم کا تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ لوگوں کو ملنے والی اجرت کو معاشرے کی ساخت اور معاشرتی نظام میں نقدی پر کمائے گئے سود سے زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
حکومت کے لیے کوئی دوسرا فرض اتنا اہم نہیں جتنا لوگوں کو ایک مضبوط اور یکساں مالیت کی کرنسی فراہم کرنا، اور اشیا کے لین دین کے اس ذریعے کی گردش کو کنٹرول کرنا تاکہ محنت کو ایک غضبناک کرنسی سے تحفظ حاصل ہو اور تجارت (اشیا اور خدمات کے) ارزاں اور محفوظ لین دین کی مدد سے پھل پھول سکے۔
چونکہ سونے اور چاندی کا دستیاب ذخیرہ اتنا نہیں ہے کہ اسے ایسے سکے ڈھالنے میں استعمال کیا جا سکے جن کی اپنی دھات کی قیمت ہو اور نہ ہی اس کے بل پر ایسی کاغذی کرنسی جاری کی جا سکتی ہے جسے عوام کی ضرورت کے مطابق سکّوں کی شکل میں تبدیل کیا جا سکے، اس لیے کرنسی جاری کرنے کی کوئی دوسری بنیاد تلاش کرنی ہو گی، اور نوٹ کو سکّوں کی شکل میں بھنانے کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ دریافت کرنا ہو گا تاکہ کاغذی کرنسی یا اس کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے اور اپنی داخلی مالیت کے حامل کسی اور لین دین کے ذریعے کی قیمت میں زیادہ اتارچڑھاؤ پر روک لگائی جا سکے۔
بلند ہوتے ہوے معیارِ زندگی کے حامل لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی نقدی کی ضروریات حکومت ہی پوری کر سکتی ہے اور حکومت ہی کو کرنی چاہییں۔ یہ ضروریات قومی کرنسی کے اجرا اور ایک قومی بینکاری نظام کے جاری کیے ہوے قرضوں سے پوری ہو سکتی ہیں۔
لین دین کے ایک ایسے ذریعے کوجاری کرنا جسے حکومت کی پوری پشت پناہی حاصل ہو، اس کی نگرانی کرنا اور اسے ضائع ہونے سے بچانا اسی طرح ممکن ہے کہ جب ضرورت ہو تو اسے ٹیکسوں اور ری ڈپازٹ کی شکل میں یا کسی اور طریقے سے گردش سے واپس نکال لیا جائے۔ کسی ملک کی حکومت کو اپنی قومی کرنسی اور قومی قرضوں کو کنٹرول کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔
حکومت کو اپنی جاری کی ہوئی کرنسی اور قوم کے ڈپازٹ اور قرضوں کی پوری پشت پناہی کرنی چاہیے۔ کسی فرد کو کرنسی کی مصنوعی طور پر بڑھی ہوئی قدر کے کم ہونے سے یا بینک کے دیوالیہ ہونے سے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
حکومت کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنی کرنسی اور اپنے قرضے لین دین کے ذریعے کے طور پر تخلیق اور جاری کرے اور کرنسی اور قرضوں دونوں کی مقدار بازار میں کم کرنے کے لیے انھیں ٹیکسوں یا کسی اور صورت میں واپس طلب کر لے، اس لیے اسے سرکاری کاموں اور عوامی تعمیرات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں سرمایہ سود پر حاصل نہیں کرنا چاہیے اور نہ اسے ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اپنی قوتِ صَرف اور صارفین کی قوتِ خرید کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تمام تر کرنسی اور قرضے خود تخلیق اور جاری کرے۔ نقدی تخلیق اور جاری کرنے کا اختیار نہ صرف حکومت کا اعلیٰ ترین اختیار ہے بلکہ یہ حکومت کے لیے سب سے بڑے تخلیقی موقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان اصولوں کو اختیار کرنے سے لین دین کا ایک یکساں ذریعہ پانے کی وہ ضرورت پوری ہو جائے گی جو بہت عرصے سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ ٹیکس گذار سود، ڈسکاؤنٹ اور تبادلے کی بھاری رقمیں ادا کرنے سے محفوظ رہیں گے۔ تمام عوامی کاموں، حکومت کے استحکام اور منضبط ترقی کے لیے سرمائے کی فراہمی اور سرکاری خزانے کی کارکردگی محض عملی انتظام کے معاملات بن جائیں گے۔
شہریوں کو ان کے استعمال کے لیے اتنی ہی محفوظ کرنسی فراہم کی جا سکتی ہے، اور کی جائے گی، جتنی مضبوط ان کی حکومت ہے۔ نقدی کی حاکمانہ حیثیت ختم ہو جائے گی اور وہ انسانیت کی خادم بن جائے گی۔ جمہوریت نقدی کی طاقت پر حاوی ہو جائے گی۔
)ابراہام لنکن، ریاستی دستاویز نمبر 23، صفحہ91، 1865۔(

صدر جیمز گارفیلڈ
صدر جیمز ابراہام گارفیلڈ بھی مالیاتی معاملوں کا ماہر تھا۔ اس کی غلطی یہ تھی کہ اس نے علی الاعلان یہ کہہ دیا کہ جو نقدی کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے وہی سارے عوام کے کاروبار اور سرگرمیوں کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ 1881 میں، جبکہ اسے صدارت کا عہدہ سنبھالے صرف چار ماہ ہوے تھے، صدر گارفیلڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کے قتل کی سازش کرنے والوں کا کبھی سراغ نہ مل سکا۔

کینیڈی نے قرض سے آزاد نقدی کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا
لنکن کے قتل کے بعد سے کسی دوسرے صدر کی ہمت نہ ہوئی کہ پرائیویٹ بینکاروں کی طاقت کو چیلنج کرے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان صدور میں سے کتنے تھے جو اس نظام سے ناواقف تھے اور کتنے ایسے تھے جو اس نظام کو سمجھتے تھے مگر لنکن جیسے انجام کا خطرہ مول لینے سے ڈرتے تھے۔ لیکن جان ایف کینیڈی نے ان کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
1963 کے وسط میں صدر کینیڈی نے ایک انتظامی حکم جاری کیا جس سے اسے شہریوں کے لیے قرض اور سود سے آزاد کرنسی جاری کرنے کا اختیار مل گیا۔ اس نے فیڈرل ریزرو کے خلاف کوئی رولنگ جاری نہیں کی اور نہ ہی اس کے جاری کیے ہوے کرنسی نوٹوں کو قانونی نقدی کے طور پر منسوخ کیا۔ اس نے صرف یہ کیا کہ 4.29 بلین مالیت کے نئے ڈالر چھپوا لیے اور ان تمام ڈالروں کو گردش میں شامل کر دیا۔
جیساکہ لنکن کے معاملے میں ہوا تھا، حکومت کو صرف کاغذ اور چھپائی کا خرچ اٹھانا پڑا جو غالباً ایک سینٹ فی نوٹ کے برابر تھا۔ دوسری صورت میں جب حکومت یا کسی اور کو فیڈرل ریزرو سے رقم لینی ہوتی تو انھیں وہ پوری رقم ادا کرنی پڑتی جو نوٹ پر چھپی ہوئی ہوتی تھی جبکہ ان کی لاگت اس سے سو گنا یا ہزار گنا کم ہوتی تھی — اسے اور کچھ نہیں تو سرِعام ڈاکازنی تو ضرور کہا جا سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ وہ کینیڈی کو 1913 کا فیڈرل ریزرو ایکٹ منسوخ کرنے سے کس طرح روک سکتا تھا جس سے اس کی طاقت سلب ہو جاتی؟
چند ماہ بعد صدر کینیڈی کو قتل کر دیا گیا۔ اسے بھی ایک مفروضہ طور پر ’تنہا‘ کام کرنے والے شخص نے قتل کیا جسے خود کو بھی فوراً ہی، کسی تفتیش کے شروع ہونے سے پہلے، قتل کر دیا گیا۔ معنی خیز بات یہ ہے کہ صدر کینیڈی کے قتل کے اگلے ہی دن، 4.29 بلین ڈالر کے جو نئے نوٹ اس کے حکم پر جاری کیے گئے تھے، انھیں خاموشی سے واپس لیا جانے لگا اور بعد میں ان کو تلف کر دیا گیا۔ یہ عمل نئے صدر کے جاری کیے ہوے انتظامی حکم یا کم از کم امریکی کانگریس کی رضامندی کے بغیر غیرقانونی تھا۔ قاتلوں نے اتنی بھی شائستگی نہ دکھائی کہ کینیڈی کے سوگ کی مناسب مدت ہی پوری ہو لینے دیتے۔
امریکی عوام کے لیے نئے ڈالروں کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع جاری نہ کی گئی۔ کیا نائب صدر لنڈن بی جانسن، جسے فوراً عہدۂ صدارت پر فائز کر دیا گیا، دانستہ یا نادانستہ طور پر کینیڈی کی ہلاکت کی سازش میں شریک تھا؟ یہ فوری حکم کس نے جاری کیا کہ کینیڈی کے جاری کیے ہوے چار بلین سے زیادہ مالیت کے قرض اور سود سے آزاد ڈالر واپس لے لیے جائیں — جبکہ پورا ملک سوگ کی حالت میں تھا؟ اس قدر ناشائستہ عجلت دکھانا کیوں ضروری تھا؟ اگر یہ جرم کرنے والا شخص نظام کو پوری طرح نہیں بھی سمجھتا تھا تو اس کام کو، جو درحقیقت غیرقانونی تھا، اتنے خفیہ طور پر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ شہریوں کو اس بارے میں سچ اسی وقت معلوم ہو سکے گا جب مطلوبہ مدت گزرنے کے بعد اس دور کی دستاویزات منظرعام پر آئیں گی — اگر کبھی ایسا ہوا۔
ایک معنی خیز بات یہ بھی ہے کہ عدالت سے درخواست کر کے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت متعلقہ دستاویزات کو جاری کرانا بھی ممکن نہیں۔ لوگوں کی ایسی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ کیونکہ فیڈرل ریزرو بینک، جسے امریکہ اور پوری دنیا کے لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کے نتائج کا بخوبی علم ہے، اس بات کو بہت پہلے ہی یقینی بنا چکا ہے کہ اسے لوگوں کو کسی قسم کی اطلاعات فراہم کرنے کے سلسلے میں استثنیٰ حاصل رہے گا۔
اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے کہ ایک پرائیویٹ کارپوریٹ بینک کو غیرجمہوری طور پر اپنے معاملات کو خفیہ رکھنے کا یہ مکمل اور جوابدہی سے آزاد حق کیوں دے دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ دباؤ کی شکار امریکی کانگریس نے ہی ایسا کیا اور کسی نے فیڈرل ریزرو بینک کو — اب تک — اس سلسلے میں چیلنج کرنے کی جرأت نہیں کی۔

امریکی ارکانِ کانگریس کو بھی قیمت ادا کرنی پڑی
نسبتاً حالیہ دور میں، یعنی1970 اور1980 کی دہائیوں میں، ایک امریکی رکن کانگریس لیری پی میکڈانلڈ نے نقدی کے بین الاقوامی نظام کے خفیہ پہلوؤں اور محرکات پر سے پردہ اٹھانے کے سلسلے میں کوششیں شروع کیں۔ 1983 میں وہ اس وقت مارا گیا جب کورین ایرلائنز کے 007 طیارے کو سوویت فضائی حدود میں ’حادثاتی طور پر‘ مار گرایا گیا۔
سینیٹر جان ہائنز اور سابق سینیٹر جان ٹاور، جو سینیٹ کی بینکنگ اور فنانس کی کمیٹی کے ارکان تھے، فیڈرل ریزرو اور دوسری مالیاتی مفادات پر سخت نکتہ چینی کرتے تھے۔ 1991 میں سینیٹر جان ہائنز فلاڈلفیا کے قریب ایک طیارے کے کریش میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے اگلے ہی دن سینیٹر جان ٹاورز بھی ایک اور طیارے کے کریش میں ہلاک ہو گیا۔
جب ’تنہا‘ کام کرنے والے قاتل کی کہانی کمزور پڑ گئی تو معلوم ہوتا ہے کہ ناپسندیدہ افراد کو ٹھکانے لگانے کا طریق کار تبدیل کر دیا گیا۔ طیارے کا کریش شہادتوں کو زیادہ خوبی سے تلف کر دیتا ہے اور اس میں قاتل کو سب کی نظروں کے سامنے ٹھکانے لگانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔
آج بہت سے ملکوں کے اپنے اسٹیٹ بینک ہیں جو خود اپنی نقدی جاری کرتے ہیں، جو مفروضہ طور پر سود سے آزاد ہوتی ہے۔ تو پھر دنیا کے جنوبی نصف حصے کے غریب ملکوں کے تقریباً تمام بینک اس قدر مشکلات کا شکار کیوں ہیں؟اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اپنی نقدی جاری کرنے کے ان ملکوں کے عمل سے قرضے جاری کرنے والے بین الاقوامی بینکوں کے اس کام میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑی کہ وہ بغیر کسی بنیاد کے محض ہوا میں نقدی تخلیق کریں اور اسے قرض پر چڑھا کر ان ملکوں سے سود وصول کرنا شروع کر دیں، اور اس میں انھیں ان ملکوں کی مجبور یا سازش میں شریک حکومتوں کی عملی حمایت میسر رہے۔

فیڈرل ریزرو: جوابدہی سے آزاد
امریکی شہریوں کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ان حقیقی افراد کے بارے میں جان سکیں جو فیڈرل ریزرو کے پیچھے کام کرتے ہیں، حالانکہ آزادی سے تفتیش کرنے والے محققوں کے سامنے یہ بات ظاہر ہے کہ تقریباً دو سو شیئرہولڈر، جن میں دنیا کے مالدارترین افراد (بینکار اور سرمایہ کار) شامل ہیں، فیڈرل ریزرو کے مالک ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے اسٹاک اور شیئرز کی بھی اسٹاک ایکسچینج میں کھلے طور پر خرید و فروخت نہیں کی جاتی بلکہ یہ ان افراد کے وارثوں کو منتقل ہوتے رہتے ہیں اور یوں اس کی ملکیت بینکاری کے پیشے سے منسلک چند بےتحاشا مالدار خاندانوں کی مٹھی میں دبی رہتی ہے۔ امریکہ کی کسی دوسری کارپوریشن کو اس قسم کی مراعات حاصل نہیں جیسی فیڈرل ریزرو کو حاصل ہیں ؛ یعنی یہ کہ اس کے معاملات اس قدر خفیہ رکھے جاتے ہیں کہ ان کی تفتیش کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔
آج یہ بات کوئی راز نہیں — صرف عام امریکی شہری اس سے بےخبر ہوں تو ہوں — کہ عالمی میڈیا کی کارپوریٹ سلطنت درحقیقت مالیاتی اور کارپوریٹ مفادات ہی کی ایک توسیع ہے، اور یہ مفادات خاص طور پر امریکی ملکیت میں ہیں۔ میڈیا کو ڈس انفارمیشن، پروپیگنڈا، اہم معلومات کو پوشیدہ رکھنے اور دنیا کے حقائق کو بہت تبدیل کر کے پیش کرنے کے طریقوں سے عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقے امریکی عوام کو ’برین واش‘ کرنے کے سلسلے میں اتنے مفید ثابت ہوے ہیں کہ اس بات پر قطعی تعجب نہیں ہوتا کہ دنیابھر میں امریکی شہریوں کو اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر کی دنیا کے بارے میں — اور خود اپنے ملک کی سرحدوں کے اندر پیش آنے والے اہم معاملات کے بارے میں بھی — سب سے زیادہ لاعلم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی مین اسٹریم میڈیا جسے ’فری‘ میڈیا بھی کہا جاتا ہے، اس کا کنٹرول بھی انھی کارپوریٹ مفادات کے ہاتھوں میں ہے جو سنٹرل بینک اور دیگر بڑے پرائیویٹ بینکوں کے مالک ہیں؛ جس میڈیا کو ’آزاد‘ یا ’انڈیپینڈنٹ‘ میڈیا کہا جاتا ہے اسے بھی آج بیشتر ملکوں میں اسی طرح کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال وہ ٹِکر یا پٹّی ہے جو تجارتی پروگراموں میں ٹی وی کی اسکرینوں کے نچلے حصے پر مسلسل چلتی رہتی ہے۔ اس میں دنیابھر کے اسٹاک ایکسچینجوں سے وصول ہونے والی معلومات کو ہر لمحہ اَپ ڈیٹ کیا جاتا رہتا ہے اور ان اسٹاک ایکسچینجوں پر، خواہ وہ کسی بھی ملک میں واقع ہوں، ان ملکوں کی حکومتوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک سابق سربراہ کینٹ کوپر نے انکشاف کیا کہ ’’ہاؤس آف روتھس شیلڈ کے تحت کام کرنے والے بین الاقوامی بینکاروں نے یوروپ کی تین [نیوز] ایجنسیوں کے شیئر حاصل کر لیے ہیں۔‘‘ انھوں نے لندن میں روئٹرز، فرانس میں HAVAS اور جرمنی میں WOLF کو خرید لیا اور یوں خبروں اور اطلاعات کی فراہمی کے اس گٹھ جوڑ کا قبضہ حاصل کر لیا جو دنیا پر حکمرانی کرتا تھا۔ روئٹزر کی حکمرانی کسی حد تک آج بھی قائم ہے۔
جیساکہ لڈوِگ فان میسیز نے نشاندہی کی ہے،’’جو کوئی میڈیا اور کمیونی کیشن کی اجارہ داری حاصل کر لیتا ہے اسے دنیا میں رہنے والے افراد کے ذہنوں اور روحوں پر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔‘‘
چونکہ پریس اور میڈیا کا انحصار ایڈورٹائزنگ پر ہے، اس لیے آزاد میڈیا کا زندہ رہنا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ صرف انٹرنیٹ اطلاعات کے ایک متبادل اور آزاد ذریعہ فراہم کرتا ہے، اور آج کل اس کی طاقت کو بھی ٹھکانے لگانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔

خبردار کرنے والے
امریکہ میں بینکاری کے نظام اور اس کے ذریعے شہریوں کی لوٹ کھسوٹ کا پردہ فاش کرنے والی نمایاں ترین شخصیات میں سارا ای وی ایمری کا نام آتا ہے جو ریاست کینساس میں یونین لیبر لیکچرر تھی۔ اس نے1888 میں اس نظام کی تاریخ اور اس زمانے کے معاشی حالات کی تفصیل اپنے ایک 85 صفحات پر مشتمل کتابچے سات مالیاتی سازشیں میں بڑی وضاحت سے تحریر کی۔
اس کتابچے میں بددیانتی پر مبنی ان تمام ترکیبوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے — اور انھیں حقائق اور اعدادوشمار سے ثابت کیا گیا ہے — جو بینکاروں نے حکومت کی ایسی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے وضع کی تھیں کہ وہ ان سے نقدی جاری کرنے کا اختیار واپس لے سکے یا اس کی نگرانی کر سکے۔ تعلیم کا کردار اس سلسلے میں بہت اہم تھا؛ لوگ لکھنے پڑھنے کے قابل تھے اور یہ جان سکتے تھے کہ ان کی زندگیوں پر کون سی چیز اثرانداز ہو رہی ہے اور کیوں۔ اس کتابچے کی دو لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت یا تقسیم ہوئیں اور اس میں کیے گئے انکشافات کو پڑھ کر لوگ طیش میں آ گئے۔ اس موضوع پر یہ واحد کتاب نہیں تھی، لیکن اس کی خوبی یہ تھی کہ یہ اتنے آسان انداز میں لکھی گئی تھی کہ عام لوگ اسے سمجھ سکتے تھے۔
1915 میں جب ادیب اور صحافی اگناشیئس بالا کی کتاب روتھس شیلڈز کا رومانس شائع ہونے کو تھی، تب بڑے بینکار ناتھن میئر ڈی روتھس شیلڈ نے عدالت سے رجوع کیا تاکہ اس کتاب کی اشاعت پر روک لگائی جا سکے، اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ اس میں تحریرکردہ بعض چیزیں غلط اور اس کے لیے بدنامی کا باعث ہیں۔ تاہم وہ اپنا مقدمہ ہار گیا۔
رکنِ کانگریس چارلس لنڈبرگ سینیر اتنا خوش قسمت ثابت نہ ہوا۔ 1917 میں جب اس کی کتاب ہمارا ملک جنگ میں شامل کیوں ہے؟ شائع ہوئی، جس میں جنگ کی اصل کو نقدی کی طاقت سے جوڑا گیا تھا، تب صدر وُڈرو وِلسن نے اس کتاب کی کاپیاں اور چھپائی کی پلیٹیں ضبط کر کے تلف کرنے کا حکم جاری کیا۔
اس کے علاوہ ایک اور مثال ولیم کار کی ہے جسے روتھس شیلڈز خاندان کے مطالعے پر مبنی اپنی کتاب شائع کرنے کے لیے ناشر ہی نہ مل سکا اور اسے آخرکار یہ کتاب خود ہی شائع کرنی پڑی۔
یوسٹیس مولنز لائبریری آف کانگریس میں کام کرنے والا ایک محقق تھا، اور اسی لائبریری سے اسے فیڈرل ریزرو (اور بینک آف انگلینڈ) اور عام پرائیویٹ بینکوں کے بارے میں انتہائی چونکا دینے والے شواہد حاصل ہوے تھے۔ اس کی کتاب فیڈرل ریزرو کے راز اس قدر خطرناک سمجھی گئی کہ اٹھارہ بڑے ناشروں نے، جن میں سے بیشتر نیویارک سے تعلق رکھتے تھے جہاں تمام بڑے بینکار موجود ہیں، اسے شائع کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اسے شائع کرنے کے نتائج سے خوفزدہ تھے۔
بعض رحم دل ناشروں نے اسے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ اس کی کتاب کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ کبھی شائع نہیں ہو سکے گی۔ ان کی بات اس حد تک درست تھی کہ مولنز کو کوئی حامی میسر نہ آیا اور اسے آخرکار اپنی کتاب 1952 میں خود ہی شائع کرنی پڑی۔ اس کے فوراً ہی بعد اسے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور اسے وہ واحد شخص ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جسے لائبریری آف کانگریس سے سیاسی بنیاد پر برطرف کیا گیا تھا۔
لیکن اسی پر بس نہیں، 1954 میں اس کی کتاب کے جرمن ایڈیشن کی تمام کاپیاں سرکاری ایجنٹوں نے ضبط کر کے جلا دیں، اور اس کے پیچھے مبینہ طور پر فیڈرل ریزرو کا ہاتھ تھا۔ جب امریکی حکومت سے اپیل کی گئی تو اس نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ جرمنی میں امریکی ہائی کمشنر جیمز بی کونینٹ نے (جو ہارورڈ کا صدر بھی تھا) کتابیں جلانے کا اصل حکم منظور کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واحد کتاب ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں جلائی گئی۔
اس کے باوجود مولنز کی کتاب فیڈرل ریزرو کے راز آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں اور چیزوں کے علاوہ یہ بتایا گیا ہے کہ ہاؤس آف روتھس شیلڈ کی قیادت میں بڑے سرمایہ داروں نے کس طرح اکثریتی شیئر خرید کر میڈیا اوربڑے بڑے اشاعتی اداروں پر قبضہ جما لیا ہے، اور کس طرح وہ حکومت، بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور فاؤنڈیشنوں میں کلیدی عہدوں پر تعیناتی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دولت اور طاقت کی وہ کون سی سطح ہے جسے ہر لمحہ اپنے بکھر جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور جس کے باعث بینکاروں کا گروہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس قدر وحشیانہ طریقے اختیار کر لیتا ہے۔
کتنے لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ بین الاقوامی بینکاروں کا یہی گروہ تھا جس نے دونوں فریقوں کو قرض دے دے کر پہلی جنگ عظیم کی راہ ہموار کی تھی؟ اس پر مستزاد یہ کہ بعد میں اسی گروہ نے جنگی تاوان کی ادائیگی کا بدنامِ زمانہ ڈیویس پلان تیار کیا جو انتہائی زیادتی پر مبنی اور غیرمعقول تھا، جس کے تحت جرمن عوام کو، جو اس جنگ کے ہاتھوں مصیبت زدہ ہونے والوں میں شامل تھے، اپنی ہولناک محرومیوں کے باوجود تاوان کی ادائیگی پر مجبور کیا گیا۔ اس سے جرمن عوام میں ہٹلر کی مقبولیت کی راہ ہموار ہوئی اور جنگ میں فتح پانے والے ملکوں نے نخوت کا رویہ اختیار کیا جو آگے چل کر سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس طرح رفتہ رفتہ دوسری جنگ عظیم کے حالات پیدا ہوتے گئے جس کا خرچ اٹھانے کے لیے کسی بھی فریق کو قرض دینے کے لیے یہ بین الاقوامی بینکار پہلے کی طرح تیار اور مستعد تھے۔

بارٹر کا جدید نظام: نقدی سے زیادہ ترقی یافتہ
بارٹر، یعنی اشیا اور خدمات کا باہمی لین دین، اتنا ہی قدیم طریقہ ہے جتنی انسانی تاریخ۔ مثال کے طور پر قدیم شکاری انسان کاشتکاروں کے ساتھ جانوروں کے گوشت کا لین دین غلے اور دوسری ضروری اجناس سے کرتے رہے ہوں گے۔ اولین دور کے کاریگر بھی جانوروں کی کھالوں سے آرام دہ، کارآمد بلکہ دلکش لباس تیار کر کے اور ان پر احتیاط سے تراشی گئی سیپیاں اور چمکدار پتھر جڑ کر انھیں لین دین کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔
بارٹر کا مطلب ہے دو فریقوں کا ایک دوسرے کے ساتھ اشیا اور خدمات کا تبادلہ کرنا، اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی افہام و تفہیم پر پہنچنا کہ وہ آپس میں جن چیزوں کا تبادلہ کر رہے ہیں وہ کم و بیش یکساں قیمت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں مختلف مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایک فریق جو کچھ حاصل کرتا ہے اس سے زیادہ قیمت کی اشیا یا خدمات دوسرے فریق کو ادا کرتا ہے، اور دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوتی ہے کہ دوسرا فریق بعد میں اس زائد ادائیگی کے بدلے اشیا یا خدمات پہلے فریق کو فراہم کرے گا۔
مثلاً پہلا فریق دوسرے فریق کو 100 کلوگرام غلہ دیتا ہے جس کی دوسرے فریق کو فوری طور پر ضرورت ہے، اور اس کے بدلے میں ہاتھ سے بُنے ہوے کپڑے کی اتنی مقدار وصول کرتا ہے جسے دونوں فریق غلے کی قیمت سے آدھی قیمت کا سمجھتے ہیں۔ ان کے درمیان معاہدہ یہ ہے کہ دوسرا فریق باقی کپڑا مستقبل میں کسی وقت ادا کرے گا کیونکہ اس کی پوری مقدار ابھی اس کے پاس تیار نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دونوں فریق ایک دوسرے سے ادھار پر سودا کر رہے ہیں۔ اس قسم کے سودے بہت عام رہے ہوں گے، کیونکہ لوگوں میں متواتر سودے کرتے رہنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ ایک دوسرے پر اعتماد پیدا ہوتا چلا گیا ہو گا۔
ہوتے ہوتے اس عمل سے بارٹر کے زیادہ پیچیدہ سودوں کی شکل پیدا ہوئی جن میں دو سے زیادہ فریق شامل ہوتے تھے اور اس سودے کی شرائط وہ مل بیٹھ کر طے کرتے تھے۔ درحقیقت بارٹر کا طریقہ زیادہ عرصے تک دو فریقوں کے درمیان براہِ راست لین دین تک محدود نہ رہا۔ تین یا اس سے بھی زیادہ فریقوں کے درمیان بارٹر پر مبنی لین دین کے طریقے صدیوں سے رائج ہیں۔

بارٹر آج کی دنیا میں: پہلے کی طرح عام اور مقبول
بارٹر کا طریقہ ختم نہیں ہوا بلکہ زرخیز تخیل کے حامل کاروباری افراد نے اس کی مشکلات دور کر کے اسے ایسے طریقے میں ڈھال دیا ہے جس کے ذریعے کوئی شخص روایتی مارکیٹنگ اور تجارت کے لیے درکار نقد رقم نہ رکھتے ہوے بھی کاروبار کر سکتا ہے۔ نتیجتاً آج علاقائی اور عالمی بارٹر کی صنعت پہلے سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو چکی ہے، اس کی سالانہ مالیت دس بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اس کی نشوونما جاری ہے۔
سو سے زیادہ ملک اور چھ لاکھ سے زیادہ چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں بارٹر کی بنیاد پر تجارت میں مصروف ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ،امریکی محکمۂ تجارت اور برطانوی جریدے اکانومسٹ کے مطابق دنیا کے ملکوں کے درمیان پانچ ٹریلین ڈالر کی مالیت کی جو تجارت آج کل ہوتی ہے اس میں 8 سے 10 فیصد تک بارٹر کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہو گی کہ امریکہ جسے ڈالر کی بنیاد پر ہونے والی عالمی تجارت کی وجہ سے عالمی تجارت پر غلبہ حاصل ہے، اور جس سے بارٹر تجارت میں شامل ہونے کی توقع نہیں کی جاتی، وہاں دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں یعنی 350,000 سے زیادہ کمپنیاں بارٹر کی تجارت کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ روایتی بینکاری کا نظام ان کے لیے اطمینان بخش ثابت نہیں ہوا۔ دوسرے بیشتر ملکوں کے برخلاف امریکہ میں بارٹر کے سودوں پر تجارتی آمدنی یا تجارتی خرچ کے طور پر ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان ہونے والے چھوٹے بارٹر سودوں کے ارکان شاید سو سے بھی کم ہوں گے؛ اس کے بڑے ارکان کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
انٹرنیٹ، اور اس پر بارٹر کے لیے تیار کیے جانے والے خصوصی سافٹ ویئر پروگراموں کے باعث یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دنیابھر میں پھیلے ہوے متعدد فریقوں کے درمیان کثیر تعداد کی اشیا کا انتہائی پیچیدہ لین دین اب آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
ضرورت ہمیشہ سے ایجاد کی ماں رہی ہے، اور جدید دور کا پہلا بارٹر کا نظام ضرورت ہی کے تحت 1934 میں سوئٹزرلینڈ میں، اسٹاک مارکیٹ کے کریش کے بعد ہونے والی کرنسی کی قلت کے پیش نظر وضع کیا گیا تھا۔ یہ نظام، جسے ڈبلیو آئی آر بینک کا نام دیا گیا، آج بھی کام کر رہاہے اور صرف چھوٹی یا درمیانی کمپنیوں کو اس کی رکنیت دی جاتی ہے۔
ظاہر ہے کہ بارٹر میں حصہ لینے والوں کو اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ اتنا مقبول ہو گیا ہے۔ عالمی تجارت کے میدان میں چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں اکثر ملٹی نیشنل اور دوسری بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں۔ عام تجارتی سودوں میں زرِمبادلہ کی صورت میں ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور یہ رقم بعض اوقات بہت سے تاجروں کی استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ جدید بارٹر میں نہ صرف یہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے بلکہ تجارتی سرپلس یا ایسی اشیا بھی تیار کی جا سکتی ہیں جنھیں تیار کرنے سے بڑی کمپنیوں کو دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ، بارٹر کے سودوں کی فراہم کردہ خدمات قرضوں کی قلت کے مسئلے کو بھی کسی حد تک دور کر دیتی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں بارٹر کرنسی میں قرض کی سہولت بھی مہیا ہوتی ہے۔
بارٹر کے اس جدید نظام کے بغیر بہت سے کاروبار معاشی سرگرمی سے باہر رہ جاتے۔ درحقیقت دنیابھر میں چار سو سے زیادہ تجارتی بارٹر ایکسچینج لاکھوں چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے معاشیات داں اور مالیاتی ماہرین کا تخیل بدقسمتی سے اتنا زرخیز ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی بارٹر ایکسچینج سے منسلک ہو جائیں یا پڑوسی ملکوں اور دیگر علاقائی ملکوں کے ساتھ مل کر خود ایسا کوئی ایکسچینج وضع کر لیں۔
جب نقدی کی کمی کوئی رکاوٹ نہیں رہتی
بارٹر کا نظام خاص طور پر زرِمبادلہ کی کمی کی شکار کمزور معیشتوں اور ملکوں کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے۔ سرد جنگ کے دنوں میں کمیونسٹ ملک، جن کی کرنسیاں ڈالر، پاؤنڈ، فرانک، مارک وغیرہ جیسی بین الاقوامی کرنسیوں میں تبدیل نہیں کی جا سکتی تھیں، بارٹر ہی کے ذریعے بہت سے غیرکمیونسٹ ملکوں کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے۔
کاروبار اور تجارت میں اتارچڑھاؤ ہمیشہ آتا رہتا ہے، لیکن مالی دشواری کے زمانے میں بارٹر ایکسچینج کی بدولت معاشی سرگرمی ٹھپ نہیں ہوتی؛ خاص طور پر قرضوں کے عالمی بحران میں، جیساکہ آج کل اس نے بہت سے ترقی یافتہ، صنعتی ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بارٹر ایکسچینج قیمتوں اور زرِمبادلہ کے کنٹرول کی دشواریاں حل کرنے کا ایک قانونی طریقہ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مقامی سطح کے ساتھ ساتھ قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اور کیا جا رہا ہے۔
بارٹر غیرملکی تجارت کی منڈی میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ بھی ہے جہاں چھوٹے بیوپاری اس سے پہلے داخل نہیں ہو سکتے تھے، اور اس کے ذریعے نئی اور نامانوس منڈیاں بھی دریافت کی جا سکتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قرضوں کے قومی بحران کی صورت میں کاروبار اور تجارت کو بالکل ٹھپ ہو جانے سے محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان اور اس جیسے بہت سے دوسرے ملکوں میں اس وقت یہی صورت حال پائی جاتی ہے اور یہاں اب تک بارٹر کے موزوں نظام وجود میں آ جانے چاہیے تھے۔
بارٹر کی ایک اور خصوصیت بھی ہے۔ اس سے غیرملکی تجارت زرِمبادلہ کے نہایت کم خرچ کے ساتھ، یا اس قسم کے خرچ کے بغیر، ممکن ہو جاتی ہے۔ یہ بات اس وقت اہمیت اختیار کر لیتی ہے جب زرمبادلہ مہنگا ہو یا آسانی سے دستیاب نہ ہو رہا ہو؛ یا اس صورت میں جب کوئی شخص بیشتر نقدی مقامی یا ملکی معیشت سے باہر نہ لے جانا چاہتا ہو۔
اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ بینکوں نے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو گھماپھرا کر کام کرتا ہے، یعنی پہلے تو قرضداروں پر فرضی قرض چڑھایا جاتا ہے اور پھر ان سے کبھی نہ ختم ہونے والا سود متواتر وصول کیا جاتا ہے، جس کی کل رقم اصل قرض کی رقم سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرض فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے — ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، آئی ایف اے ( ورلڈ بینک کا وہ بازو جو نجی شعبے کو قرضے جاری کرتا ہے) اور اس قسم کے دوسرے ادارے — قرض لینے والے ملکوں کو اس سے بھی بڑا فریب دے کر ایسے قرضوں میں پھانس لیتے ہیں جنھیں چکانا کبھی ممکن ہی نہیں ہوتا۔
جب امریکہ میں حالیہ مالیاتی بحران کے شروع ہونے کے بعد بینک ایک ایک کر کے کریش ہونے لگے، اور بینکوں سے قرض حاصل کرنا انتہائی دشوار بلکہ ناممکن ہو گیا، تو بہت سی صورتوں میں بارٹر ہی نے کاروبار بچانے کا کام سرانجام دیا۔ بینکوں سے قرض لینے کی صورت میں سود بےرحمی سے بڑھتا چلا جاتا ہے؛ بارٹر میں فائدہ یہ ہے کہ ادائیگی صرف اس وقت لازم آتی ہے جب سودا پکّا ہو جائے، اور یہ ادائیگی ایک ہی بار کرنی ہوتی ہے۔ مالیاتی بحران کے بعد سے، صرف امریکہ ہی میں، چھوٹے اور درمیانے بیوپاریوں کے درمیان تین بلین ڈالر کا بیوپار ہوا ہے۔

بارٹر ایکسچینج کیسے کام کرتا ہے؟
بارٹر ایکسچینج ایک تجارتی تنظیم ہے جو بروکر اور بینک دونوں کے فرائض انجام دیتی ہے۔ اشیا اور خدمات خریدنے اور بیچنے کے خواہشمند لوگ ایکسچینج کی رکنیت حاصل کرتے ہیں جہاں فروخت کے لیے دستیاب یا خریدنے کے لیے درکار اشیا اور خدمات کے بارے میں اطلاعات متواتر اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں۔ ارکان کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ جس کے ہاتھ کوئی مال بیچیں اسی سے اپنی ضرورت کا مال خریدیں بھی۔ سودے، جہاں تک ممکن ہو، بیچنے والے کی طے کردہ قیمت پر انجام دیے جاتے ہیں، اگرچہ اسے یہ مشورہ حاصل رہتا ہے کہ وہ اس موقعے پر کتنی قیمت حاصل کرنے کی توقع کر سکتا ہے۔
جب کوئی چیز خریدی یا بیچی جاتی ہے، تو وہ چیز اور اس کی مالیت مذکورہ رکن کے کھاتے میں درج یا منہا کر لی جاتی ہے۔ اس طرح کوئی چیز بیچنے کے خواہشمند شخص کو اس چیز کے خریدار کی تلاش میں نکلنا نہیں پڑتا اور نہ خریدنے کے خواہشمند شخص کو بیچنے والے کی تلاش میں۔ یہ ایک طرح کا مارکیٹ کی اطلاعات فراہم کرنے والا دفتر اور کلیئرنگ سنٹر ہے جہاں خریدنے اور بیچنے والے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
اشیا کی مالیت ایک داخلی کرنسی میں متعین کی جاتی ہے جسے ’بارٹر ڈالر‘ یا ’ٹریڈ ڈالر‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بارٹر ایکسچینج ہر سودے پر آٹھ سے دس فیصد تک کمیشن وصول کرتا ہے؛ اس کے عوض وہ سودوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، تمام متعلقہ طریق کار وضع کرتا ہے، کاغذی حساب کتاب کرتا ہے اور ارکان کے کھاتوں کا ماہانہ اسٹیٹمنٹ جاری کرتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں بارٹر نے اپنی ’نقدی‘ تخلیق کر لی ہے، بس فرق یہ ہے کہ اسے کسی قانونی سکے میں تبدیل نہیں کرایا جا سکتا اور نہ اس کی بنیاد پر نئی، فرضی نقدی تخلیق کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک پیمانہ اور لین دین کا آلہ ہے جسے صرف اسی محدود مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہی نقدی کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔
تاہم ’بارٹر نقدی‘ اور بینکوں کی تخلیق کی ہوئی نقدی کے درمیان ایک بہت اہم فرق ہے — بارٹر کی تخلیق کی ہوئی نقدی کسی بنیاد کے بغیر نہیں ہوتی بلکہ اسے حقیقی اشیا اور خدمات کے باہمی لین دین کی ٹھوس بنیاد پر تخلیق کیا جاتا ہے؛ جبکہ بینک اپنی نقدی محض ہوا میں تخلیق کر لیتے ہیں اور پھر اسے قرض کی صورت میں جاری کر کے قرضداروں سے اس پر متواتر سود بھی وصول کرنے لگتے ہیں ۔
بارٹر ایکسچینج کے نظام میں کوئی سود ادا نہیں کرنا پڑتا۔ بارٹر ایکسچینج جو حقیقی سہولت فراہم کرتا ہے صرف اسی کے عوض متعینہ شرح سے اپنی فیس وصول کرتا ہے — بینکوں کو بھی دراصل یہی کرنا چاہیے، بجاے اس کے کہ وہ محض گزرتے ہوے وقت کی بنیاد پر اور کوئی اضافی سہولت فراہم کیے بغیر سود وصول کرتے چلے جائیں۔
بڑی کمپنیاں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنیں بھلا اس میدان میں بھی کیوں پیچھے رہتیں، انھوں نے بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے اپنے بارٹر ایکسچینج قائم کر لیے ہیں۔
چھوٹے اور درمیانے بیوپاری، تاجروں کے گروپ اور سرکاری ایجنسیاں جو اپنے بارٹر ایکسچینج قائم کرنا چاہتی ہوں یا پہلے سے موجود بارٹر ایکسچینج سے خود کو منسلک کرنا چاہیں، وہ اس سلسلے میں متعلقہ معلومات انٹرنیشنل ریسی پروکل ٹریڈ ایسوسی ایشن (IRTA) سے حاصل کر سکتے ہیں جو اس میدان میں تربیت بھی فراہم کرتی ہے اور بلند اخلاقی معیارات قائم رکھنے کی حامی ہے۔ آئی آر ٹی اے کو بیس سال پہلے قائم کیا گیا تھا جب ٹریڈ ایکسچینجوں میں ایک دوسرے کو جاننے اور مل کر کام کرنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔
تاہم آئی آر ٹی اے (WWW.IRTA.COM) نے 1996 میں اپنی ’نقدی‘ جاری کی جسے ’یونیورسل کرنسی‘ کا نام دیا گیا جس کی مدد سے بارٹر کے عمل کو زیادہ ہموار بنایا جا سکے۔ درحقیقت یونیورسل کرنسی کلیئرنگ ہاؤس (UCC) مختلف ملکوں میں قائم بارٹر ایکسچینجوں کو اپنے سودوں کی مالیت کسی بین الاقوامی کرنسی کے بجاے ’یونیورسل کرنسی‘ میں متعین کرنے کی آسانی فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام تجارتی بینکاری کے نظام کی بہ نسبت کہیں زیادہ برہ راست، تیزرفتار اور کم خرچ ہے۔
انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بارٹر کے غیررسمی نظام بھی وضع کیے گئے ہیں، تاہم انھیں ہنوز کسی معروف اور بااعتبار ادارے کی ضمانت حاصل نہیں اوران میں فراڈ سے تحفظ دینے کا کوئی طریقہ وضع نہیں کیا گیا، اس لیے فی الحال ان کے استعمال کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔

کیا جدید بارٹر نظاموں نے جدید تجارت اور بینکاری کو بیکار کر دیا ہے؟
جنوب کے ’ترقی پذیر‘ ملک آج بھی ڈالر کی بنیاد پر من مانے طریقے سے چلنے والے عالمی مالیاتی نظام کے ہاتھوں استحصال اور فریب دہی کا شکار ہو رہے ہیں جو ان ملکوں کو قرض کے جال میں پھانس کر اور ان کی قومی کرنسیوں کو تباہ کر کے ان کی برآمدات کی حقیقی قیمت کو بےحد گھٹا دیتا ہے۔
ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او کا مسلط کیا ہوا تجارتی نظام، ان اداروں کے پچھلے 70 برس کے دعووں اور وعدوں کے برخلاف، غریب ملکوں کے لیے ہرگز فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کا مقصد تھا بھی نہیں۔اس کے برعکس، منصوبے کے عین مطابق، غریب ملک بھاری قرض اور انحصار کی حالت میں مبتلا ہو گئے کیونکہ ان تینوں بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی اداروں کی ترکیب ہی یہ تھی، جس کا غریب ملکوں کو بہت دیر میں احساس ہوا، کہ غریب ملکوں کو غذائی اشیا اور دوسرا خام مال نہایت کم قیمت پر برآمد کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کا نتیجہ ضرورت سے زیادہ پیداوار اور قیمتوں میں گراوٹ کی شکل میں برآمد ہوا کیونکہ غریب ملکوں نے اپنی داخلی ضروریات کو پس پشت ڈال کر برآمدات کے میدان میں ایک دوسرے سے مسابقت شروع کر دی جبکہ غیرملکی منڈیاں سکڑتی چلی گئیں۔
فرضی اور نفرت انگیز قرضوں کی تخلیق کے ذریعے سود کی ادائیگی کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کر کے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے غریب ملکوں کو بلیک میل کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ برآمدات کریں اور اپنی منڈیاں بیرونی دنیا کے لیے کھول دیں، جبکہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ اس کا نتیجہ خود ان کی اپنی آبادی کے لیے مختلف قسم کی محرومیوں کی صورت میں نکلنے والا تھا۔
عوام کی سطح پر بارٹر
نقدی پر مکمل طور پر انحصار کرنے کے باعث ہم پاکستان اور اس جیسے دوسرے ملکوں میں ایک ایسی صورت حال میں مبتلا ہیں کہ لوگوں کے پاس بیچنے کے لیے اشیا اور خدمات موجود ہیں اور انھیں ان کے عوض کسی نہ کسی وجہ سے دوسری اشیا اور خدمات کی طلب بھی ہے، لیکن یہ دونوں کام انجام دینے کے لیے ان کے پاس مطلوبہ نقدی موجود نہیں ہے۔ مثلاً ایک دکاندار کے پاس ہزاروں روپے مالیت کا غیرفروخت شدہ مال موجود ہے (جس میں سے کچھ اس نے ادھار پر حاصل کیا ہے)، اور یہ مال رفتہ رفتہ فروخت بھی ہو جائے گا، لیکن اس کو نقدی کی فوری ضرورت ہے۔ وہ بینک سے قرض لینے کی آخری حد پر پہنچ چکا ہے، یا اتنا چھوٹا بیوپاری ہے کہ بینک اسے قرض دینے ہی کو تیار نہیں، اور اس کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں سواے اس کے کہ وہ ماہانہ سود وصول کرنے والے مہاجنوں سے قرض لے، اور وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا۔
اس کو جس فریق کی فراہم کردہ خدمات درکار ہیں وہ خود بھی مزید آمدنی حاصل کرنے کا خواہشمند ہے — یہ دیہاڑی پر کام کرنے والاکوئی بڑھئی ہو سکتا ہے، یا گاڑی کے اسپیئر پارٹس بیچنے والا کوئی دکاندار جس سے اپنے ڈلیوری ٹرک کے پرزے خریدنے کی پہلے فریق کو ضرورت ہے، یا اسے کسی ذاتی یا خاندانی ہنگامی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ لیکن وہ کوئی سودا نہیں کر پاتا کیونکہ اس کے پاس نقد رقم موجود نہیں۔
یہ تمام فریق جو نقدی کی کمی کے باعث اپنی ضرورت پوری کرنے یا آمدنی حاصل کرنے کا موقع استعمال نہیں کر پاتے، ان کی اس صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نقدی اور بینکاری کا نظام غیرموزوں ہے۔ اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں شاید بارٹر کا کوئی مقامی نظام کارآمد ثابت ہو سکتا تھا، جس کی مدد سے اس دکاندار کے عام حلقے میں یا اس کے باہر اسپیئرپارٹس سے کسی اور شے یا خدمت کے تبادلے کے لیے کوئی گاہک تلاش کیا جا سکتا۔
اگر یہ تبادلہ بڑھئی کی فراہم کردہ خدمات کی صورت میں ہوتا جس کی اسپیئر پارٹس کے دکاندار کو فوری ضرورت ہوتی تو وہ کسی ایسے بڑھئی کی خدمات حاصل کر سکتا تھا جس کو مخصوص دنوں تک کام کرنے کے عوض خشک غذائی اشیا، صفائی ستھرائی کی اشیا یا استعمال کی دیگر چیزوں کی شکل میں ادائیگی کی جا سکے جن کی قیمت ہول سیل ریٹ پر متعین کی جائے (اس ریٹ پر خریدنے والے کو بچت ہوتی ہے)۔ ہمارے ملک میں اس قسم کا نظام موجود نہیں ہے لیکن امریکہ میں ایسے نظاموں کا استعمال روزبروز بڑھ رہا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ دوسرے ملکوں تک نہ پھیل جائیں۔
امریکہ میں ایسی بارٹر ویب سائٹس وجود میں آ چکی ہیں جو کسی خاص علاقے یا شہر میں رہنے والوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں لاتی ہیں۔ لین دین کا مقامی پن بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس طرح گاہک ایک دوسرے کے براہ راست رابطے میں آ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی فراہم کردہ اشیا اور خدمات کو جانچ سکتے ہیں۔ مثلاً نیویارک میں مقیم ایک وکیل نے اپنے موکلوں کے لیے وصیتیں اور دیگر قانونی دستاویزات تیار کیں اور اس کے عوض اپنے مکان کے فرش پر پالش کرانے اور دیواروں پر رنگ کرانے کی خدمات حاصل کیں۔ اسی طرح ایک دندان ساز نے اپنے مختلف گاہکوں کو خدمات فراہم کیں جنھوں نے اس کی اجرت گھر میں بیک کیے ہوے پین کیکوں اور بسکٹوں؛ ایک پینٹنگ؛ ایک گھڑی، ایک بائیسکل اور حتیٰ کہ کتے کے ایک نوعمر پلّے کی شکل میں ادا کی جس کا دودھ ابھی چھڑایا گیا تھا اور جسے ایک گھر کی ضرورت تھی۔ اس قسم کے سودے ایک بار، کئی بار یا متواتر کیے جا سکتے ہیں۔
جیساکہ نقدی اور بینکاری کا موجودہ نظام بیشتر افراد کی ہر وقت کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا، اسی طرح بارٹر کا نظام بھی نہیں کر سکتا، لیکن یہ نقدی اور بینکاری کے نظام کی بہ نسبت کم خرچ اور لچکدار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مالیاتی نظام کو بہتر اور جدید بنایا جائے تاکہ کئی فریقوں کے درمیان بارٹر کو اس نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ بارٹر کے اس قسم کے نظام نہ صرف قائم ہو چکے ہیں بلکہ ایک چھوٹے اور درمیانے بیوپاریوں کے ایک وسیع حلقے کو خدمات فراہم کر رہے ہیں جنھیں اب تک بینکوں کے قرض کی سہولت دستیاب نہ تھی۔
اگر کوئی چیز بینکاری کے نظام کو ان مطلوبہ تبدیلیوں سے روکے ہوے ہے تو وہ ہے سود کی کبھی نہ ختم ہونے والی قسطوں سے دستبردار ہونے میں ہچکچاہٹ۔ لیکن اگر یہ تبدیلیاں نہ کی گئیں تو امکان یہ ہے کہ اس نظام کو آخرکار نقصان پہنچے گا کیونکہ جیسے جیسے بارٹر ایکسچینج کے نظام بینکوں کا کردار اپناتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے روایتی بینک اپنے گاہکوں کے لیے بےمصرف ہوتے جا رہے ہیں۔
حوالہ: غریبوں کا بین الاقوامی بینک
پانچ سو برس سے قائم جدید بینکاری کا نظام ’حوالہ‘ کے قابلِ اعتبار، کم خرچ اور شخصی بنیاد کی خدمت فراہم کرنے والے قدیم طریقے کو شکست نہیں دے سکا۔ حوالہ بینکاری نظام افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہزاروں برس سے استعمال ہو رہا ہے اور آج بھی نقدی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے موثرترین طریقے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حوالے کا طریقہ طویل فاصلوں پر واقع مقامات سے تجارت کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے وجود میں آیا۔ یہ جنوبی ایشیا میں ’بینکاری‘ کا بڑا نظام تھا جسے ’ہُنڈی‘ (یا آج کی زبان میں بل آف ایکسچینج) کہا جاتا تھا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں اس کی جگہ کمرشل بینکاری کے مغربی نظام نے لے لی۔
روایتی بینکاری کے نظام کو اگر حوالہ نظام سے شکایات ہیں تو ان کا جواز ضرور موجود ہے۔ اول تو یہ بینکوں کے کاروبار کا بڑا حصہ خود لے جاتا ہے کیونکہ اس کی فیس بینکوں کے مقابلےمیں بہت معمولی ہوتی ہے؛ دوسرے، اس کی کامیابی کا انحصار ایک ناقابلِ یقین سطح کے باہمی اعتبار کی بنیاد پر ہوتا ہے، اور یہ ایسی چیز ہے جو روایتی بینکاری کبھی حاصل کرنے کی امید نہیں کر سکتی۔
حوالہ داروں کو جو اعتبار حاصل ہے وہ کئی نسلوں کے عرصے میں رفتہ رفتہ پیدا ہوتا ہے، اور یہ نظام معمولی وسائل رکھنے والے عام لوگوں کے لیے امید کی چند کرنوں میں سے ایک ہے؛ ان میں بیرون ملک کام کرنے والے مزدور شامل ہیں جو اسے استعمال کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ ایک ایسی بددیانت اور بےرحم دنیا میں جہاں غریبوں کو لٹ جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے، وہ اس طریقے سے اپنی محدود آمدنی کی رقم اپنے وطن میں اپنے خاندانوں تک کم خرچ میں پہنچا سکتے ہیں۔ ضرورت مند لوگ اپنی کمیونٹی کے ان لوگوں سے جو حوالے کا کاروبار کرتے ہیں، جلد ہی واقف ہو جاتے ہیں؛ عموماً یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود یا جن کے باپ دادا طویل عرصے سے یہ کام کرتے آ رہے ہیں۔
پاکستانی اسکالر حیدر اے ایچ ملک نے اسے بہت خوبی سے بیان کیا ہے:
عربی لفظ ’حوالہ‘ کے معنی ’منتقلی‘ یا ’اعتماد‘ کے ہیں۔ حوالہ ایک قدیم مسلم مالیاتی نظام ہے جس کی بنیاد مکمل طور پر اعتبار پر ہوتی ہے اور جس میں شاذونادر ہی کاغذ پر کوئی ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ مثلاً نیویارک میں ٹیکسی چلانے والا ایک پاکستانی اپنے خاندان کو رقم بھجوانے کے لیے حوالہ دار کے پاس جاتا ہے۔ وہ اسے سو ڈالر کا نوٹ دیتا ہے کہ یہ رقم پاکستان میں اس کی بیوی کو پہنچا دی جائے۔اس کی فیس وہ بھجوائی جانے والی رقم کے ایک فیصد کے حساب سے ادا کرتا ہے۔ حوالہ دار پاکستان میں اپنے ساتھ کام کرنے والے شخص سے فون یا فیکس کے ذریعے رابطہ قائم کرتا ہے اور وہ زرمبادلہ کے مسابقتی ریٹ پر یہ رقم پاکستانی روپوں میں ٹیکسی ڈرائیور کی بیوی کو پہنچا دیتا ہے۔ اس طریقے میں نقدی کسی ملک کی سرحد پار نہیں کرتی اور نہ کوئی رقم روایتی بینکاری کے نظام میں داخل ہوتی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور رقم کی منتقلی کے لیے اس غیررسمی طریقے کا استعمال تین اسباب سے کرتا ہے: ایک، اسے بینک کے مقابلے میں کم فیس ادا کرنی پڑتی ہے؛ دوسرے، رقم کا اپنی منزل پر،خواہ وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، چوبیس گھنٹے کے اندر پہنچنا یقینی ہوتا ہے، اور تیسرے، حوالہ دار اسے بینک کے مقابلے میں زرمبادلہ کا بہتر ریٹ دیتا ہے۔
جیساکہ ملک نے نشاندہی کی ہے:
یہ نظام ویسٹرن یونین اور دوسرے بینکوں کے مقابلے میں بہتر متبادل ہے کیونکہ وہ بینک امریکہ سے پاکستان بھیجے جانے والے ہر 150 ڈالر پر 22 ڈالر بطور فیس وصول کرتے ہیں یعنی 15 فیصد۔ ... 1990 کی دہائی کے آخری برسوں میں سالانہ پانچ بلین ڈالر حوالہ کے طریقے سے پاکستان میں داخل ہوے یعنی یہ نظام ملک میں زرمبادلہ کی درآمد کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔
اگر حوالہ دار یہی سہولت ایک فیصد فیس کے عوض فراہم کرتے ہیں اور اس کے باوجود معقول منافع کماتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ویسٹرن یونین اور دوسرے بینک اس سے دگنا نہیں بلکہ پورے پندرہ گنا یا اس سے بھی زیادہ منافع وصول کرتے ہیں۔ اگر ویسٹرن یونین کے ذریعے کسی شخص کو اپنے گھر ایک ہزار ڈالر بھجوانے پر 150 ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں تو حوالے کے ذریعے یہی رقم بھیجنے پر صرف 10 ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے نچلے درجے کے مزدور ظاہر ہے کہ بینکوں کے ذریعے رقم بھجوانے کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، خاص طور پر آج کل جب پچھلی کئی دہائیوں سے اجرتیں بہت کم ہو گئی ہیں۔
وہی سہولت فراہم کرنے کے عوض جو حوالہ دار فراہم کرتا ہے، پندرہ فیصد کمیشن وصول کرنا بہت بڑی دھاندلی ہے۔ اور آخر اسے ادا کرنے سے گاہکوں کو کیا اضافی فائدہ حاصل ہو گا؟ ایسی بات تو ہے نہیں کہ ویسٹرن یونین ان کی بھجوائی ہوئی رقم واقعی نوٹوں کی شکل میں ان کے ملک پہنچوا رہا ہو جس کے لیے اسے سکیورٹی گارڈ درکار ہوں، جن کا خرچ اتنا زیادہ کمیشن وصول کیے بغیر ادا کرنا مشکل ہو۔ یہ محض منافع خوری کی ایک نئی شکل ہے۔ یعنی نقدی سے نقدی پیدا کرنا، اور وہ بھی کوئی سماجی فائدہ پہنچائے بغیر، اور اس عمل میں ان قوانین و ضوابط کا سہارا لینا جو طاقتور معاشی مفادات رکھنے والے لوگ پارلیمنٹ پر دباؤ ڈال کر منظور اور نافذ کرا لیتے ہیں تاکہ اس زبردستی کی لُوٹ کو جائز قرار دیا جا سکے۔ بین الاقوامی بینک اپنے اشتہاروں میں اعتماد اور اعتبار کی متواتر باتیں کرتے ہیں، جبکہ حوالہ نظام کو یہ اعتماد اور اعتبار بہت عرصہ پہلے سے حاصل ہو چکا ہے اور اس کی بنیاد محض اس کی سابقہ کارکردگی پر ہے۔ درحقیقت اس کا پچھلا ریکارڈ اسے مستقبل کے مزید گاہک فراہم کرتا ہے، نہ کہ بینکوں کی سی اشتہاربازی جس کا بھاری خرچ بھی بینکوں کے گاہکوں ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
’’سنہ 2001 کے شروع میں،‘‘ ملک نے مزید لکھا ہے، ’’پاکستان کے اس وقت کے وزیرخزانہ شوکت عزیز نے ’شکایت کی کہ سمندرپار سے پاکستان بھجوائے جانے والے چھ بلین ڈالر میں سے صرف 1.2 بلین ڈالر بینکاری کے نظام کے ذریعے بھجوائے جاتے ہیں۔‘ اب یہ رقم بڑھ کر چار بلین تک پہنچ چکی ہے۔... ‘‘
شوکت عزیز کو شکایت کیوں تھی؟ یہ رقم براہِ راست پاکستان پہنچ کر سیدھی ان غریب خاندانوں کی جیب میں جا رہی تھی جو اپنے بیرون ملک کام کرنے والے عزیزوں پر انحصار کرتے تھے اور جنھیں اس رقم کی سخت ضرورت تھی۔ اور یہ رقم پاکستان ہی میں رہنے والی تھی۔ شوکت عزیز کو شکایت اس لیے تھی کہ یہ رقم بینکوں کے ذریعے سے نہیں بھجوائی جا رہی تھی۔ اسے فکر تھی تو اسی بات کی؛ اپنی یا اپنی حکومت کی اس سماجی — یا مذہبی — ذمےداری کی اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے، کیونکہ ایسی باتیں حکمرانوں کے ذہنوں میں داخل نہیں ہو پاتیں۔
پاکستانی بینک بھی یہ سہولت حوالہ داروں والی منصفانہ شرح سے فیس وصول کر کے آسانی سے فراہم کر سکتے تھے۔ وہ ساری باتیں جو بینکاری کے پیچیدہ اور قیمتی نظام کے اخراجات کے بارے میں کی جاتی ہیں، بکواس کے سوا کچھ نہیں۔ اگر کوئی ادارہ وہ سہولت اسی قیمت پر فراہم نہیں کر سکتا جو اس کا حریف اطمینان بخش طور پر فراہم کر رہا ہے، تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس ادارے کی کارکردگی مہنگی یا ناقص ہے۔
حوالہ نظام کو نائن الیون کے باعث بہت نقصان پہنچا۔ اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ گیارہ ستمبر کو ہونے والی واردات مبیّنہ طور پر اندرونی سازش کی کارروائی ہے، اور اس سے صدر جارج بش اور اس کے ٹولے کو بہترین موقع مل گیا کہ وہ امریکہ میں کام کرنے والے حوالہ کے نظام پر قانون کے پورے زور کے ساتھ کاری وار کر سکے۔اس کے متعارف کرائے ہوے پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت دوسری کلیدی شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے ساتھ حوالہ کے نظام کا بھی آمرانہ انداز میں گلا گھونٹ دیا گیا، اور اس قانون کو من مانے اور غیرمساوی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حوالہ نظام کو مسلمان دہشت گردوں تک (جنھیں ’القاعدہ‘ کے ہمہ گیر اور اطمینان بخش عنوان کے تحت اکٹھا کر دیا گیا ہے) رقمیں منتقل کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیے جانے کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔ اس نظام کو منی لانڈرنگ یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کا بھی غلط طور پر مجرم قرار دیا گیا کیونکہ یہ الزام لگانے والوں کو اس بات کا احساس نہ تھا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کی ایسے نظام کو استعمال کرنے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے جسے اتنی وسیع تعداد میں لوگ استعمال کرتے ہیں اور جس کے لیے ذاتی اعتبار ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ اس نظام پر ٹھیک اسی وجہ سے وار کیا گیا کہ یہ انتہائی اعتبار کا حامل ہے۔
حوالہ داروں سے کہا گیا کہ اگر وہ اپنا کاروبار جاری رکھنا چاہتے ہیں تو خود کو رجسٹر کروائیں، لیکن لائسنس جاری کرنے کا طریق کار اس قدر سست رفتار اور مہنگا رکھا گیا کہ اس کے بعد گاہکوں کو رقم کی منتقلی کی کم خرچ سہولت مہیا کرنا ممکن نہ رہا، چنانچہ بیشتر حوالہ داروں نے اپنا کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
مقامی حوالہ داروں کی خدمات سے محروم ہونے والوں میں بڑی تعداد مزدوری پیشہ لوگوں کی تھی جو اپنے خاندانوں کو سو یا چند سو ڈالر بھجوایا کرتے تھے۔ میک گل یونیورسٹی میں معاشی جرائم کے مطالعے کے ماہر ٹام نایوٹ کا کہنا ہے کہ حوالہ کا کاروبار کرنے والے اتنے بڑے پیمانے پر ’کالے دھن‘ کی منتقلی میں ملوث نہیں ہو سکتے جتنے بڑے پیمانے پر بڑے اور شہرت یافتہ بینک یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی اپنے بیرون ملک خفیہ ایجنٹوں کو پوشیدہ طور پر معاوضے کی ادائیگی کرنے کے لیے بینکاری کے نظام کو استعمال کر سکتی ہیں۔
بش گروپ نے اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا کہ تارکِ وطن مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد کسی مسلمان ملک میں نہیں بلکہ ایک غیرمسلم ملک میں مقیم ہے۔ اس کے علاوہ حوالہ نظام کو صرف مسلمان استعمال نہیں کرتے۔ انٹرپول کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1998 میں ہندوستانی حوالہ نظام 680 بلین ڈالر پر مشتمل تھا یعنی اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد کے برابر — اور یہ نائن الیون سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔
جب یہ نقطۂ نظر واضح ہو کر سامنے آ گیا کہ نائن الیون ممکنہ طور پر ایک اندرونی کارروائی تھی تو امریکی حکام نے تجارتی بینکوں کے دباؤ پر حوالہ داروں کی رجسٹریشن کا حکم جاری کیا اور اس کے لیے بہت بھاری فیس عائد کر دی، جس سے امریکہ سے رقم بھجوانے میں بہت کمی واقع ہوئی کیونکہ ان کی فراہم کردہ سہولت کی خاص بات اس کا کم خرچ ہونا تھا۔ ان کا وصول کیا ہوا کمیشن آدھے فیصد سے لے کر ایک فیصد کے پانچویں حصے تک ہوتا ہے۔ تجارتی بینکوں کے اس قلیل کمیشن پر قناعت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ کے سوا دوسری جگہوں پر یہ نظام اب بھی وسیع پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
کوئی وجہ نہیں کہ گاہکوں کو کسی دوسرے مہنگے نظام یا ٹیکنالوجی کی قیمت ادا کرنی پڑے جبکہ انھیں اس سے کوئی اضافی فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو۔ جہاں کہیں پاکستانی بینکوں کی شاخیں نہیں ہیں وہاں حوالہ دار کام کر سکتے ہیں۔ درحقیقت حوالہ داروں اور پاکستانی یا دیگر غریب ملکوں یا کم از کم غریب مسلمان ملکوں کے بینک اس کام میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔ اور اگر اس سے انھیں کوئی خاص منافع حاصل نہ ہو رہا ہو تو اس کام سے باہر رہ سکتے ہیں، لیکن انھیں دوسروں سے یہ شکایت کرنے کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کے گاہک توڑ کر لے گیا، کیونکہ یہ سہولت انھوں نے کبھی فراہم کی ہی نہیں تھی۔
اگر حوالہ دار اپنے ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں تو اس کے لیے متعلقہ حکومتوں کو چاہیے کہ کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو قصوروار ٹھہرائیں۔ حکومت کو صرف یہ شرط عائد کرنی چاہیے کہ حوالہ دار خود کو رجسٹر کروائیں، لیکن ان پر بھاری رجسٹریشن فیس عائد نہیں کرنی چاہیے اور نہ طریق کار کو اتنا سست رفتار رکھنا چاہیے کہ وہ رشوت خوری کا ذریعہ بن جائے۔ زیادہ سے زیادہ فیس جو معقول طور پر عائد کی جا سکتی ہے وہ بھجوائی جانے والی رقم پر 0.5 فیصد ہے اور اتنی ہی فیس اس ملک میں بھی وصول کی جانی چاہیے جہاں یہ رقم منتقل کی جا رہی ہے۔
حوالہ کے نظام کو رسمی طور پر اختیار کرنا مسلمان ملکوں کے درمیان ممکن ہے، لیکن اس سلسلے میں مغربی ملکوں سے بھی تعاون کی ضرورت ہو گی، لیکن موجودہ حالات میں، جبکہ مالیاتی مفادات کا نقدی اور بینکاری کے تمام تر نظام پر سخت کنٹرول ہے اور مغربی ملک اپنی کرنسی کے تحفظ کے معاملے میں بہت سخت گیر ہیں، ایسا ہونا دشوار ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ اس مسئلے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ بینک اپنے معمول کے مطابق زبردست منافع خوری اور استحصال کرتے ہیں۔ بعض مغربی ملک، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی مقیم ہے، اس سلسلے میں زیادہ فراخدل ثابت ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف قوتِ خرید (جو محنت کی ان خدمات کے عوض حاصل ہوتی ہے جو پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں) ہی وہ چیز ہے جو سرحدوں کو پار کرتی ہے نہ کہ حقیقی دولت جیساکہ سونا یا اجناس۔ اور محنت سے کمائی ہوئی یہ قوتِ خرید بھی اس اونچی قوتِ خرید کے مقابلے میں اپنا اثر کھوتی جا رہی ہے (بلکہ کھو چکی ہے) جو دنیابھر میں اعلیٰ طبقے کو فراہم کی جاتی ہے یا جسے دنیا کے شکارخور مالیاتی نظام نے چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

دنیابھر کے لیے کافی سونا دستیاب نہیں
پہلے زمانوں میں دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں میں حکمران لوگ سونے یا چاندی کے یا ان کو دوسری دھاتوں کے ساتھ ملا کر ان کے سکے اپنے استعمال کے لیے بنواتے تھے۔ عام لوگوں، یعنی جاگیروں پر کام کرنے والے کھیت مزدوروں، محنت کشوں، یہاں تک کہ ہنرمندوں اور کاریگروں کے لیے بھی بارٹر ہی لین دین کا بڑا ذریعہ تھا یعنی ان کی مہیا کی ہوئی خدمات کا معاوضہ ان کو غذائی اجناس یا دیگر اشیا کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا۔
یوں تو سکے اتنی تعداد میں ہونے چاہیے تھے کہ ہر شخص اپنی خریداری کی ضروریات پوری کر سکے۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں سونے چاندی کے سکے تیار کرانا ناممکن تھا جن سے پوری آبادی کی ضروریات پوری ہو سکیں، چنانچہ جب سناروں نےاپنے پاس حفاظت کی غرض سے رکھوائے گئے سونے کے عوض جاری کی جانے والی رسیدوں کی شکل میں قرضے جاری کرنے کا سلسلہ اتفاقی طور پر ایجاد کیا تو اولین بینکاری کا یہ طریقہ درحقیقت معیشت اور تجارت کے لیے ہر سطح پر سازگار ثابت ہوا۔
سکّوں کو تیار کرنے پر جو لاگت آتی تھی وہ ان سکوں کی حقیقی مالیت کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی، چنانچہ انھیں تیار کرانے والے حکمرانوں کے لیے یہ منافعے کا سودا تھا۔ کسی حکمران کی طاقت اور دولت کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر تھا کہ اس کے چلائے ہوے سکے اس کے اپنے ملک میں اور اس کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے دوسرے ملکوں میں کتنے وسیع پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ٹیکس اور محصول بھی انھی سکوں میں ادا کرنے ہوتے تھے، اگرچہ عام لوگ اپنے محصول اشیا یا خدمات کی شکل میں ادا کرتے تھے۔ آج سکے اور بینک نوٹ نقدی کی کل مقدار کے بہت تھوڑے سے حصے پر مشتمل ہیں جبکہ نقدی اب بیشتر چیک، کریڈٹ کارڈ اور دوسری صورتوں میں پائی جاتی ہے۔
جوں جوں تجارت بڑھی، اس کے ساتھ ساتھ نقدی کا باہمی تبادلہ اور بینکاری بھی بڑھتی گئی۔ تیرھویں صدی میں ہُنڈی یا بِل آف ایکسچینج وجود میں آیا۔ مارکو پولو نے بیان کیا ہے کہ کس طرح اس اہم ایجاد نے سرحدوں کے آرپار تجارت کرنے میں بیوپاریوں کی مدد کی جبکہ ان علاقوں کے مختلف ملکوں میں الگ الگ سکے چلتے تھے۔ بیوپاری کو صرف اتنا کرنا پڑتا تھا کہ کسی بینک سے مطلوبہ مالیت کی دستاویز خرید کر حاصل کر لے۔ یہ دستاویز ہی ہُنڈی کہلاتی تھی۔ اس دستاویز میں بیوپاری کی منزلِ مقصود میں موجود بینک ایجنٹ کے نام یہ ہدایت درج ہوتی تھی کہ اس بیوپاری کو دستاویز میں درج رقم مقامی سکے میں ادا کر دی جائے۔ اس سے بعض لوگوں کو حوالہ کے اس نظام کا خیال آئے گا جو آج بھی برقرار ہے۔
اگرچہ تجارت میں بہت اضافہ ہوا، اس کے باوجود یہ بہت محدود رہی کیونکہ ضروری نہیں تھا کہ دوسرے ملک میں بھی سب لوگ اس ملک سے آنے والی کاغذی نقدی کو اتنا ہی قابل اعتبار سمجھتے ہوں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ملکوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ دوستانہ نہیں ہوتے تھے اور حکمرانوں کے مزاج کی پیشگوئی کرنا مشکل تھا۔ بہت سے لوگ تب بھی اس ضمانت پر اصرار کرتے تھے کہ انھیں ادائیگی حسب خواہش سونے یا چاندی کے سکوں میں کی جائے گی۔
جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی آ گئی۔اس نے اور دوسرے ہسپانوی مہم جوؤں نے صرف چار دہائیوں کے عرصے میں پُرامن مقامی باشندوں کی ایک بہت بڑی تعداد (تخمینے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ افراد) کو وحشیانہ انداز میں قتل کر کے ان کے سونے اور چاندی کے ذخیرے ہتھیا لیے۔
بہت سے اصلاح پسند لوگ آج بھی دنیا کے مالیاتی مسائل سلجھانے کی غرض سے سونے کے معیار کی طرف لوٹنے کی بات کرتے ہیں — یعنی اس نظام کی طرف جس کے تحت کاغذی نقدی کو سونے کی ایک مخصوص مقدار کی پشت پناہی حاصل ہو۔ لیکن اگرچہ پچھلی چند صدیوں میں سونے کی ایک بہت بڑی مقدار کانوں سے نکالی جا چکی ہے اور اس وقت حکومتوں کے پاس یا زیورات کی صورت میں بازار میں موجود ہے، پھربھی دنیا میں اتنا سونا دستیاب نہیں ہے جو تمام لوگوں کی ضرورت کو پورا کر سکے۔
مغرب کے دیہاتی اور شہری مزدور طبقوں کے لیے، جنھیں انیسویں صدی کے آخر میں بہت مصیبتیں اٹھانی پڑیں، سونے کا معیار ایک بڑا مسئلہ ثابت ہوا کیونکہ اتنا سونا دستیاب ہی نہیں تھا کہ ایک بڑھتی اور پھیلتی ہوئی معیشت کی ضروریات کو پورا کر سکے۔
بینکار نوٹوں کی شکل میں قرضے جاری کرتے تھے؛ ان قرضوں کو یقیناً سونے کی ضمانت حاصل ہوتی تھی، چنانچہ ان کی ادائیگی سونے کی شکل میں کی جاتی تھی۔ لیکن سونا بینکاروں کے کنٹرول میں رہتا تھا اور سٹےباز — جن میں بینکار خود بھی شامل تھے — سونے کی قیمت کو اپنے فائدے کے لحاظ سے گھٹاتے بڑھاتے رہتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کے دوران سونے کی قیمت بڑھتی گئی؛ لیکن مزدوروں کی اجرتیں اور کاریگروں کی خدمات کے معاوضے میں دی جانے والی اشیا کی قیمتیں اپنی جگہ رکی رہیں یا اَور کم ہو گئیں۔
ضرورت مند لوگوں کو قرضے لینے پڑے، اور بینکار ظالمانہ انداز میں وقتاًفوقتاً قرضے واپس طلب کرنے اور سود کی شرح میں اضافہ کرنے لگے تاکہ زیادہ منافع کما سکیں، جس کے نتیجے میں نقدی کی فراہمی کم ہوتی گئی۔ تب قرض اتارنے کے لیے لوگوں کے اپنی ذاتی اشیا اور اثاثے یہاں تک کہ اپنے مکان بیچنے کی نوبت آ گئی۔ وہی صورت حال آج امریکہ اور برطانیہ بھر میں دکھائی دیتی ہے جہاں بےروزگار اور مقروض (یا بےروزگار اور مقروض) لوگوں کو بینکوں کے پاس رہن رکھے ہوے اپنے مکانوں اور بیوپاروں سے محروم ہونا پڑا۔

نقدی اور عوامی مفاد
بہت سے لوگ — خاص کر وہ لوگ جن کے پاس بہت پیسہ ہے اور جو آسانی سے مزید پیسہ بنا لیتے ہیں — دعویٰ کرتے ہیں کہ نقدی ایک غیرجانبدار آلہ ہے چنانچہ ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق پیسہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ یہ خودغرضی پر مبنی مفروضہ ہے جو بیشتر صورتوں میں غلط ثابت ہوتا ہے۔
نقدی انسانی سہولت کے لیے ایجاد کی ہوئی چیز ہے، اور اپنے آپ میں کوئی خوبی نہیں رکھتی۔ اگر یہ اپنے استعمال کرنے والے افراد کو باہمی آسانی فراہم کرنے والی مطلوبہ سہولت فراہم کرتی ہے تو اچھی چیز ہے۔ اگر یہ صرف چند افراد کو منافع کمانے کا موقع دیتی اور دوسرے بہت سے افراد پر کم اُجرتی اور مفلسی کو مسلط کرتی ہے تو اسے اس کا غلط استعمال کہا جائے گا اور یہ قطعی اچھی چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ نقدی کی ایجاد خالص خودغرضی کے زیراثر ہوئی تھی — یعنی یہ کہ قرض دینے والے کو زیادہ منافع حاصل ہو — اور اسے ایجاد کرنے والوں کے ذہن میں عوامی مفاد ہرگز نہیں تھا۔ اگر نقدی کو عوامی مفاد کی ممکنہ حد تک اور مناسب طور سے خدمت کرنی ہے تو نقدی کے نظام میں بڑی اصلاحات کرنی ہوں گی اور اس نظام کی مستقل اور کڑی نگرانی کرنی ہو گی۔
نقدی کے لیے کیا کرنا ضروری ہے کہ وہ سماج اور معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو؟ یہ کہ وہ مناسب مقدار میں دستیاب رہے تاکہ لوگ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکیں۔
ٹیکسوں اور دوسرے محصولات کے ذریعے عوامی آمدنی کو بڑھانا ضروری ہے تاکہ عوامی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دیکھ بھال کی جا سکے اور عوامی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس سے کم ہی لوگ اختلاف کریں گے، لیکن مسئلہ شروع ہی میں پیش آ جاتا ہے، کیونکہ سب لوگ برابر کی حیثیت سے آغاز نہیں کرتے۔ کچھ لوگ اپنی وراثت کی بنیاد پر کروڑپتی ہوتے ہیں؛ کچھ لوگ اونچی تنخواہوں والے پیشہ ور ہوتے ہیں، جبکہ بیشتر لوگ کم اجرت پانے والے ہوتے ہیں۔
ایک تجربہ
تمام شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں (بلکہ پسندیدہ بات بھی نہیں) کہ ان کے پاس ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت پوری کرنے کے لیے الگ الگ رقمیں موجود ہوں۔ نقدی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہے کیونکہ اشیا اور خدمات کا باہمی لین دین متواتر ہوتا رہتا ہے، چنانچہ نقدی کی ایک یا چند اکائیاں کئی گاہکوں کی سب ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کاشتکار اپنا اُگایا ہوا غلہ ایک آڑھتی کے ہاتھ بیچتا ہے؛ اس کے بدلے میں حاصل ہونے والی نقدی سے وہ مختلف محکموں میں اپنے بل ادا کرتا ہے اور مختلف دکانوں سے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتا ہے؛ وہی نقدی ایک شخص سے دوسرے شخص کے ہاتھ میں منتقل ہوتی جاتی ہے — سہولیات فراہم کرنے والے ادارے، ٹرانسپورٹر، کھانے پینے اور ذاتی صفائی ستھرائی کی اشیا بیچنے والی مقامی دکانیں — اور اس عمل میں کئی بار وہی نقدی خدمات یا اشیا کے بدلے انھی افراد کے ہاتھوں میں واپس آ جاتی ہے جن کے ہاتھوں سے وہ پہلے گزر چکی ہے۔
اصل نکتہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کرنسی کی وہی اکائی کتنی بار ایک شخص سے دوسرے شخص کے ہاتھ میں منتقل ہوتی ہے — یہی وہ عمل ہے جسے معاشیات کے ماہر ’نقدی کی رفتار‘ کہتے ہیں۔ اس کا پورا پورا پتا چلانا مشکل ہے۔ تجربے کے طور پر آپ یہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے بڑے کاغذوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر فرضی کرنسی نوٹ بنائیں، جن کے مختلف رنگ مختلف مالیتوں کی نمائندگی کرتے ہوں — پانچ، دس، سو، پانچ سو اور ایک ہزار روپے۔ اس کے بعد کچھ دوسرے کاغذوں کے ٹکڑے کریں جو اشیا اور خدمات کی نمائندگی کرتے ہوں اور ان میں سے ہر ایک پر مختلف اشیا اور خدمات درج ہوں (مثلاً ’’کرایہ‘‘، ’’پانچ کلو گیہوں‘‘، دو کلو دال‘‘، ’’دس لٹر پٹرول‘‘، ’’اسکول فیس‘‘، ’’دو کلو مرغی یا بکری کا گوشت‘‘، ’’سگریٹ‘‘، ’’سنیما ٹکٹ‘‘، ’’پھل اور کیک‘‘، ’’بس یا ٹیکسی کا روزانہ کرایہ‘‘، ’’بجلی گیس کے بل‘‘، ’’مکان کی مرمت‘‘، ’’کتابیں‘‘، ’’کپڑے‘‘، ’’تحفے‘‘، ’’ہوٹل میں ڈنر‘‘، وغیرہ وغیرہ،) اور ہر چیز کے نام کے ساتھ اس کی تازہ قیمت بھی درج ہو۔ ان میں سے ہر چیز یا خدمت کی نمائندگی کرنے والے کاغذ کے ٹکڑوں کی تعداد اتنی زیادہ ضرور ہونی چاہیے کہ ہر شخص کے پاس ان کی مناسب مقدار پہنچ سکے۔
اب کھیل میں شامل افراد میں سے ہر ایک کو مساوی تعداد میں فرضی کرنسی نوٹ تقسیم کر دیے جائیں، مثلاً ہر ایک کو پندرہ ہزار روپے کے برابر۔ ہر بار پانسہ پھینکنے پر ان کو باری باری اسٹور میں دستیاب اشیا اور خدمات خریدنے کا موقع دیا جائے۔ ہر شخص اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق خریداری کرے گا۔ کوئی شخص کسی مخصوص چیز کی زیادہ مقدار خریدے گا، کوئی چیز بالکل نہیں، اور اگر فاضل رقم ہوئی تو کوئی ایسی چیز بھی خرید سکے گا جو اتنی زیادہ ضروری نہ ہو۔ الگ الگ وجوہات سے مختلف چیزوں کی خریداری مختلف ہو سکتی ہے۔
لیکن جب ہر شخص اپنی رقم خرچ کر چکا ہو یا ممکن حد تک اسے استعمال کر چکا ہو، تب خریداریوں کی نوعیت کا جائزہ لیا جائے تو غالباً یہ معلوم ہو گا کہ بعض افراد نے زیادہ غذائی چیزیں خریدی ہیں (کیونکہ ان کے کنبے میں زیادہ افراد ہیں) اور دوسری چیزوں کی اتنی ہی مقدار خریدی ہے جتنی ان کے گھروالوں کو درکار ہے۔ بعض دوسرے افراد نے کم رقم خرچ کی ہو گی کیونکہ بہت سی چیزیں انھیں غیرضروری معلوم ہوئی ہوں گی اور انھوں نے باقی رقم بچا لی ہو گی۔ بعض اور افراد کچھ چیزیں خریدنے سے قاصر رہے ہوں گے کیونکہ ان کی باری آنے سے پہلے وہ چیزیں اسٹور پر ختم ہو چکی ہوں گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات جب چیزوں کی قلت ہو تو جیب میں نقدی ہونا بھی کافی نہیں ہوتا۔ اصل دنیا میں جب اشیا کی قلت ہو تب وہ یکلخت مہنگی ہو جاتی ہیں کیونکہ قلت سے دکانداروں کو زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسے خوشحال گاہک ہمیشہ پائے جاتے ہیں جو کسی خاص شے سے محروم رہنے کے بجاے زیادہ قیمت ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اب اگر کھیل میں شامل افراد کو مساوی رقم کے بجاے الگ الگ رقم دی جائے (جیساکہ اصل زندگی میں ہوتا ہے) تب کیا ہو گا؟ ہر فرد کو بالترتیب پچاس ہزار، چالیس ہزار، تیس ہزار، بیس ہزار، دس ہزار، چھ ہزار (جو پاکستان میں مقررہ کم از کم ماہانہ اجرت ہے) اور تین ہزار (جو گھر پر رہ کر اور ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدوروں کو ملتی ہے) روپے دیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں ایک قطعی مختلف صورت سامنے آئے گی۔ غریب ترین افراد اپنی ضرورت کی کم سے کم اشیا بھی نہ خرید سکیں گے، جبکہ مالدار افراد نہ صرف اکثر اشیا کی غیرضروری مقدار بلکہ بہت سی غیرضروری اشیا بھی خرید لیں گے۔
چنانچہ جب حکومت اور آجر کم از کم اجرت کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہے کہ وہ غریب اور مراعات سے محروم باشندوں کے خلاف امتیاز سے کام لیتے ہیں، حالانکہ ان افراد کی محنت کے بغیر ان کا کام نہیں چل سکتا۔ اس امتیازی سلوک کا کوئی جواز نہیں بنتا: نہ صرف یہ کہ کسی شخص کو کم اجرت دینا اور اس کا استحصال کرنا غیرجمہوری ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
اس صورت حال کے لیے نقدی کی قوتِ خرید کو الزام نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے قصوروار وہ لوگ ہیں جو اپنے لیے کام کرنے والوں کو منصفانہ اجرت نہیں دیتے۔ ایسے معاشروں میں جہاں انتہائی امارت اور انتہائی غربت کی صورتیں موجود ہیں، ان دونوں انتہاؤں کے درمیان واقع خلیج اور وسیع ہوتی جاتی ہے کیونکہ کاروبار کے اضافی اخراجات (مثلاً ایندھن اور خام مال کا خرچ) نکالنے کے بعد، جن میں ایک حد سے زیادہ کٹوتی ممکن نہیں ہوتی، آجر لوگ صرف اپنے لیے کام کرنے والوں کی اجرت مزید گھٹا کر لاگت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب مالدار افراد کے ہاتھوں میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع ہوتی جاتی ہے تو دولتمندوں کا سرکاری اہلکاروں اور اقتدار والوں کے ساتھ گٹھ جوڑ جنم لیتا ہے جن کا مشترکہ مقصد معاشرے میں نابرابری کو قائم رکھنا ہوتا ہے، چنانچہ اس مقصد کے لیے وہ منظم طاقت کا خرچ بھی اٹھا سکتے ہیں، خواہ یہ منظم طاقت مسلح محافظوں کی صورت میں ہو یا پولیس کو رشوت دے کر اپنے ساتھ ملانے کی شکل میں، تاکہ اس صورت حال پر اٹھنے والے احتجاج کو کچلا اور اپنے مفادات کو ہر صورت میں محفوظ رکھا جا سکے۔
بہت زیادہ دولت کا اثر بیشتر انسانوں پر منفی ہوتا ہے۔ اگر اس سے وہ غیرقانونی ذریعوں سے مزید دولت جمع کرنے جیسے انتہائی اقدامات کی طرف راغب نہ بھی ہوں، تب بھی ان کے دل سرد اور اردگرد پھیلی ہوئی مفلسی سے بےپروا ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ منصفانہ اجرتیں نہیں دینا چاہتے۔ چنانچہ مالیاتی مسائل کا حل سونے کے معیار کی بحالی میں نہیں ہے جس کی دستیاب مقدار یوں بھی ناکافی ہے، بلکہ حل یہ ہے کہ نقدی صرف اتنی مقدار میں جاری کی جائے جس کے لحاظ سے اشیا اور خدمات واقعی موجود ہوں۔

جب حکومت قابلِ ترجیح ہوتی ہے
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیشتر ملک اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے کہ نقدی جاری کرنے کا اختیار صرف حکومت ہی کے ہاتھ میں ہونا بہتر ہے۔ اس طرح پبلک حکومت کی جانب سے اور اس کی ضمانت پر جاری کی ہوئی نقدی پر پورا اعتبار کر سکے گی بجاے اس کے کہ مختلف پرائیویٹ پارٹیوں کے ہاتھوں نقصان اور غیریقینی کیفیت کا شکار رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی ملکیت کا بینک یا سنٹرل بینک صرف اتنا ہی معتبر ہو سکتا ہے جتنے اس کو چلانے والے لوگ قابلِ اعتبار ہوں۔ چونکہ کاغذی نقدی کی جتنی مقدار جاری کی جاتی ہے اس میں متواتر اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کا روزمرہ زندگی اور معیشت پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے، اس لیے نقدی کو جاری کرنے کا اختیار ایک آزاد اور قابل اعتبار ادارے کو سونپا جانا چاہیے جس کے لیے اہمیت صرف کاغذی نقدی کے معتبر اور مستحکم ہونے کی ہو اور جسے بیرونی یا سیاسی اثرات سے مکمل آزادی حاصل ہو۔
آج دنیا کے بیشتر سنٹرل بینک پرائیویٹ ملکیت والے تجارتی بینک نہیں ہیں بلکہ سرکاری طور پر چلائے جانے والے ادارے ہیں۔ اس میں امریکہ کا فیڈرل ریزرو واحد استثنیٰ ہے، جو دراصل بارہ پرائیویٹ بینکوں کا ایک کنسورشیم ہے۔ بیشتر امریکی اب بھی یہ نہیں جانتے کہ ان کا مالیاتی نظام ایک پرائیویٹ ادارہ بلاشرکتِ غیرے چلا رہا ہے۔
اگرچہ دنیا کے تمام سنٹرل بینک اپنی ذمےداریاں اپنی اہلیت کے مطابق بہترین انداز سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں عوامی مفاد کو سب سے مقدم رکھتے ہیں، لیکن بعض اوقات وہ نامناسب سیاسی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس صورت میں ان کا کام انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ بیرونی دباؤ جو کسی ملک کی کرنسی کی سالمیت کے لیے خطرہ پیدا کر دیتا ہے، بالآخر اس ملک کی پوری معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے مستحکم معیشت اور قابل قبول معیارِ زندگی کا پیمانہ یہی ہے کہ روزمرہ ضرورت کی اشیا اور خدمات کی قیمتیں ان کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔ جب یہ قیمتیں غیرمستحکم ہو جاتی ہیں تو ایسی صورت میں نقدی دراصل اپنا عوامی مقصد درست طور پر پورا نہیں کر رہی ہوتی۔ لیکن آخرکار اس صورت حال کی ذمےداری انسانوں کی مداخلت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ نقدی بہرحال خود تو اپنا ذہن نہیں رکھتی ۔


قرض اور ترقی کے شائیلاک

بم کسی بھی چیز سے بنایا جا سکتا ہے۔ کاغذی بم سب سے زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔
— راج پٹیل، ’’وہ کاغذ سے بھی بم بناتے ہیں‘‘، ZNET 2001

سوزن جارج HOW THE OTHER HALF DIESنامی کتاب کی مشہورعالم مصنفہ ہیں۔ یہ کتاب (جسے اب ٹرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے) اس امر کی لرزہ خیز تفصیل پر مبنی ہے کہ مغربی سرمایہ داری نے غریب ملکوں کا کیا حشر کیا ہے۔ انھوں نے ایک اور کتاب A FATE WORSE THAN DEBT کے عنوان سے بھی لکھی ہے جو 1988 میں شائع ہوئی جس کا خاص موضوع ان ملکوں پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام سے پڑنے والے تباہ کن اثرات ہیں جنھوں نے ان دونوں قرض دینے والے اداروں سے قرض لینے کی خودکشی کا ارتکاب کیا۔ وہ لکھتی ہیں:
قرض ایک موثر اوزار ہے۔ اس سے دوسرے ملکوں کے عوام کے خام مال اور انفراسٹرکچر تک انتہائی ارزاں قیمت پر یقینی رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ سکڑتی ہوئی برآمدی منڈی تک پہنچنے کے لیے درجنوں غیرترقی یافتہ ملکوں میں مسابقت کی دوڑ لگتی ہے، اور وہ صرف چند گنی چنی مصنوعات ہی برآمد کر سکتے ہیں کیونکہ ایک تو ترقی یافتہ ملکوں نے اپنی منڈیوں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین بنا رکھے ہیں، اور دوسرے یہ کہ برآمد کرنے والے ملکوں کے پاس متنوع قسم کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے نقدی دستیاب نہیں ہے۔ اس سے منڈی میں بیچنے والوں کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے، اور برآمد کرنے والوں کی آمدنی انتہائی گھٹ جاتی ہے، اور دوسری طرف ترقی یافتہ ملکوں کی بھاری بچت ہوتی ہے۔
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف مفروضہ طور پر ’ترقیاتی‘ بینک ہیں جنھیں خودمختار حکومتوں نے قائم کیا تھا؛ ان کے قیام کا خاص مقصد یہ تھا کہ جنگ کے نتیجے میں تباہ حال یوروپی ملکوں کی معیشتوں کو بحال کیا جائے اور باہمی تجارت کرنے والے ملکوں کے درمیان زرمبادلہ کے نرخوں میں توازن لایا جائے۔ چونکہ ان ملکوں کی معیشت کی بحالی کے لیے بھاری امداد (جسے واپس نہیں کیا جانا تھا) امریکہ نے دی تھی، اس لیے بہت جلد ان دونوں اداروں کا کام ختم ہو گیا۔ اب انھیں دو باتوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا: یا تو اپنا کاروبار بند کر دیں، یا پھر کوئی نیا کاروبار تلاش کریں۔ چنانچہ یہ دونوں ادارے نئے نئے آزادی پانے والے چھوٹے ملکوں کو قرض فراہم کرنے کا کام کرنے لگے۔ ان ملکوں کی معیشتوں کو نوآبادیاتی طاقتوں (بشمول امریکہ) نے تباہ کر ڈالا تھا اور وہ شدید غربت اور کم ترقی کا شکار ہو چکے تھے۔
’ترقیاتی‘ مقاصد کے لیے قرض فراہم کرنے والوں کا کردار اختیار کر کے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے ایک طرف تو پچھلی کئی صدیوں میں کیے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کا کام کیا، اور دوسری طرف ان مظالم اور استحصال کا تاوان ادا کرنے کے بجاے غریب ملکوں کے قدرتی وسائل کی ترقی یافتہ ملکوں کی جانب منتقلی اور غریب ملکوں کی سستی لیبر کا استحصال جاری رکھنے کا متبادل طریقہ ایجاد کر لیا۔
درحقیقت ابتدا میں زیادہ غیرملکی قرضوں کی ضرورت بھی نہیں تھی؛ غریب نوآزاد ملکوں کو سب سے پہلے اپنے اثاثوں کا جائزہ لینا اور یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے بل پر کیا کچھ کر سکتے ہیں۔اس کے لیے انھیں زرعی زمین دیہی آبادی کی اکثریت کو لوٹانا ضروری تھا جنھیں بےدخل کر دیا یا حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا، اور سب سے پہلے زراعت کو ملک کی داخلی ضروریات پوری کرنے کی طرف مرکوز کرنا تھا۔ وہ اپنی بیشتر مقامی طور پر موزوں ترقیات کا خرچ اٹھانے کے لیے اپنی نقدی خود تخلیق کر سکتے تھے۔
غیرملکی قرضے صرف ایسی ٹیکنالوجیوں اور مشینوں کے لیے درکار تھے جن کے بغیر کام نہیں چل سکتا تھا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ غیرضروری چیزیں درآمد کی جانے لگیں۔ غریب ملکوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ نہایت پسماندہ ہیں (اس پسماندگی کے اسباب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا) اور یہ کہ وہ اپنے بل پر اپنی معیشت کو بحال کرنے کے قابل نہیں۔ ان غریب ملکوں کے حکمرانوں کو بھی یہ وضاحت قبول کرنا اپنے لیے فائدہ مند لگا۔ جہاں تک زرمبادلہ کے نرخوں کی دیکھ بھال کا تعلق ہے، یہ بالکل ایسا ہی تھا کہ مرغیوں کی حفاظت پر لومڑیوں کو تعینات کر دیا جائے۔
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے اپنا اصل رنگ دکھانے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ ان کا مقصد ایک ایسے نظام کو برقرار رکھنا تھا جس کے ذریعے غریب ملکوں کے خام مال اور منافع کو ترقی یافتہ ملکوں کی جانب منتقل کرنا جاری رکھا جا سکے اور یہ عمل براہ راست نوآبادیاتی استحصال معلوم نہ ہو۔ یہ فریب کارانہ طریقہ کبھی نہ ختم ہونے والے اور کبھی ادا نہ کیے جا سکنے والے قرض کے سلسلے کا تھا۔ جب تک بھاری قرضے چلتے رہیں گے، وسائل سے مالامال غیرترقی یافتہ ملکوں کی مزید ترقی میں اس حد تک رکاوٹ پڑتی رہے گی کہ وہ برآمد کرنے کے لیے نئی نئی ویلیوایڈڈ مصنوعات تیار کرنے اور ساتھ ساتھ اپنی ملکی معیشت اور منڈیوں کو فروغ دینے کے قابل نہ ہو سکیں۔ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے، اس موخرالذکر مقصد کو تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔
بہت عرصے تک غیرترقی یافتہ ملک بھی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے تخلیق کیے ہوے اس ظالمانہ سراب کو حقیقت سمجھتے رہے کہ وہ خواہ پچاس برس میں سہی، سچ مچ ایک دن اپنا پورا قرض چکا سکیں گے اور اس عمل کے دوران خوشحال بھی ہو جائیں گے، بشرطیکہ وہ اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کی پالیسیوں پر تابعداری سے عمل کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر قرضدار ملک اپنے لیے ہوے قرض کی رقم کا کئی گنا سود کی صورت میں ادا کر چکے ہیں۔ قرض کی یہ ادائیگی ایک اندھے کنویں کی مانند ہے۔
لیکن ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی پیاس بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی، اور نہ کبھی ایسا ہو گا۔ اگرچہ ان دونوں اداروں کے بارے میں کچھ اہم حقائق عام طور پر معلوم ہیں، لیکن ان کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ غیرترقی یافتہ ملک ان حقائق کا اس لیے سامنا نہیں کرتے کہ اس سے انھیں جال میں پھنسے ہوے اور بےبس ہونے کا احساس ہو گا۔ انھیں معلوم ہے کہ گو قرض لینے والے تمام ملک ان اداروں کے رکن ہیں، لیکن تمام ملکوں کی رکنیت ایک ہی معیار کی نہیں ہوتی۔ ’’ایک ڈالر ایک ووٹ‘‘ کے اصول پر، جسے غیرترقی یافتہ ملکوں کی آگاہ منظوری کے بغیر نافذ کیا گیا تھا، فیصلہ سازی میں امریکہ ہی کا زور چلتا ہے۔ آئی ایم ایف کا حال اس سے بھی بدتر ہے جس کے پچاس فیصد شیئر امریکہ کی ملکیت ہیں۔

اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بدحال زندگیاں
جب ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کوئی قرضہ منظور کرتے ہیں تو دراصل کیا ہوتا ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ تمام قرضے مشروط ہوتے ہیں۔ قرض حاصل کرنے والے ملک کو اصل رقم سے کہیں زیادہ واپس کرنا پڑتا ہے۔ یہ کوئی منصفانہ سودا نہیں ہوتا۔ کسی سودخور نے کبھی کوئی منصفانہ سودا نہیں کیا۔ ورلڈ بینک کے قرضے کی بنیاد پر ہمیں بیرونِ ملک قوتِ خرید حاصل ہونی چاہیے تاکہ ہماری حکومتیں ایسی چیزیں خرید سکیں جو ہمارے ہاں دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن پچھلی دہائیوں میں بہت کچھ نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ بہت سی ایسی چیزوں کی خریداری کی اجازت دی جاتی رہی ہے جن کی ہمیں ضرورت نہیں ہے یا ایسی چیزیں جو ہمارے ہاں بھی دستیاب ہیں، یا ایسی خدمات جو ہم خود بغیر کسی بیرونی امداد کےفراہم کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ’آزاد منڈی‘ کی شرط قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے — جس سے مراد ایسی منڈیاں ہیں جو غیرملکوں کے لیے کھلی ہوئی ہوں اور جہاں سے وہ اپنا منافع بلاروک ٹوک باہر لے جا سکیں خواہ اس کے نتیجے میں مقامی بیوپاری اپنے بیوپار سے محروم ہو جائیں۔
ہم اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کا شکار کیونکر بنتے ہیں؟ ہمیں اپنی معیشت کو ’آزاد‘ کرنا پڑتا ہے، یعنی اس بات کا انتظام کرنا پڑتا ہے کہ غیرملکی ہماری منڈیوں میں آزادی سے داخل ہو سکیں، کوئی بھی چیز ہماری منڈی میں برآمد کر سکیں، خواہ ہمیں اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، اور معدنی وسائل نکالنے کے عمل میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دینی پڑتی ہے۔ ریاست ان سب باتوں میں دخل نہیں دے سکتی، سواے اس وقت کے جب احتجاج کرنے والے مقامی باشندوں کو کچلنا ضروری ہو جائے۔
ریاستی صنعتوں کی نجکاری لازمی ہے، اور اسی طرح مقامی صنعتوں کے تحفظ میں کمی کرنا بھی ضروری ہے تاکہ غیرملکیوں کو ترجیحی سلوک حاصل ہو سکے۔ دوسری ایڈجسٹمنٹ پالیسیوں میں کرنسی کی قدر کم کرنا، سود کی شرح میں اضافہ کرنا، لیبر اور یونین سازی کے حقوق کو کم یا بالکل ختم کرنااور سبسڈی — مثلاً غذائی اشیا پر دی جانے والی سبسڈی — کا خاتمہ کرنا شامل ہیں۔
اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ میں بہت سے نقصان دہ فیصلے اور ان کے خراب ذیلی اثرات شامل ہیں۔ غیرملکی ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں اور ایسی اشیا اور خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں جو مقامی طور پر بھی دستیاب ہیں یا ہمارے لیے قطعی غیرضروری ہیں۔ یہ سودے عموماً پیکیج کی شکل میں آتے ہیں اور ان میں ایسی بہت سی چیزیں شامل ہوتی ہیں جو مقامی طور پر بھی دستیاب ہیں اور جنھیں زرمبادلہ کے عوض خریدنا غیرضروری ہے کیونکہ اس سے قرض کا بوجھ بلاوجہ بڑھ جاتا ہے۔ حقیقی ضروریات اور ترجیحات پر کوئی عوامی اور کھلا بحث مباحثہ نہیں ہوتا، عوام سے کوئی رضامندی حاصل نہیں کی جاتی؛ شہریوں کے نام پر قرض لینے کاایک غیرمنصفانہ سودا شہریوں سے خفیہ رکھ کر کیا جاتا ہے جس کی شرائط نامعلوم رہتی ہیں اور جس پر حکومت — خواہ آمرانہ حکومت ہو یا جمہوری — یکطرفہ طور پر دستخط کر کے مہر لگا دیتی ہے۔
درحقیقت آئی ایم ایف کے تحت اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پاکستان میں چوری سے لائی گئی تھیں؛ یہ سلسلہ جنرل ضیا کی فوجی آمریت کے خاتمے اور بےنظیر بھٹو کی حکومت کے قیام کے درمیانی وقفے میں شروع ہوا جب ملک کا کوئی وزیراعظم نہ تھا اور اس بات کا انتظار نہ کیا گیا کہ جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دیکھے کہ ان شرائط پر آنکھیں بند کر کے تو دستخط نہیں کر دیے گئے تھے۔ بہت سے لوگ اس عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مزید چند ہفتے انتظار کیوں نہیں کیا جا سکتا تھا؟ یہ معاملہ یقیناً اس قابل ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس پر غور کرے۔ بلاشبہ بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر منتخب حکومت بھی اس کی منظوری دیتی تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ لیکن ہمیں اس بات کا یقین کیونکر آ سکتا ہے؟اور عوام کا یہ حق مسلّم ہے کہ وہ اس کی غیرقانونی حیثیت کو اب بھی چیلنج کر سکتے ہیں اور اس کی مزاحمت کر سکتے ہیں۔
جہاں تک آئی ایم ایف کا سوال ہے، یہ جو بھی رقم قرض دیتا ہے وہ واشنگٹن سے باہر نہیں آتی۔ عملی طور پر یہ ہمارے حوالے کر دی جاتی ہے اور ہم بھی اسے سود سمیت قسطوں میں ادا کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن اس کی اصلیت محض کتاب میں کیے گئے ایک اندراج سے زیادہ نہیں ہوتی جس کے ذریعے ہمیں سود کی قسط یا کسی پرانے قرض کی ادائیگی کے نام پر قرض میں اور گہرا دفن کر دیا جاتا ہے۔ یہ سودخوری کی بدترین مثال ہے۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی تجویزکردہ پالیسیوں پر عمل کرنے والے ملک، جو کبھی اپنے اوپر انحصار کرتے تھے، خوشحال اور قدرتی وسائل سے مالامال تھے، آج شدید غربت کا شکار کیونکر ہو جاتے؟ ایمانداری سے کیا جانے والا حساب — اگر ان باتوں کا علم رکھنے والے حلقے اس کا حوصلہ پیدا کر سکیں — واضح کر دے گا کہ اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کو ٹھیک اسی مقصد سے وضع کیا گیا ہے کہ قرض ہمیشہ قائم رہے، کبھی ادا نہ ہو سکے۔ واحد مثبت چیز جو افق پر دکھائی دیتی ہے وہ بیرون ملک کام کرنے والے مزدوروں کی بھجوائی ہوئی رقمیں ہیں، لیکن یہ تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ قرضوں کی رقم سے جو بھی ٹیکنالوجی یا مہارت خریدی جاتی ہے، اس کا فائدہ صرف اعلیٰ طبقے، یا کسی حد تک درمیانہ طبقے کو پہنچتا ہے۔ ہمارے ملک کے حکمران بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔
چونکہ برآمدات سے ہونے والی آمدنی قرض چکانے کے لیے کافی نہیں، اس لیے آئی ایم ایف اس کا کچھ حصہ حکومت کے بجٹ میں سے سماجی بہبود اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں کٹوتی کروا کر چھین لیتا ہے، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والے لیبر قوانین کا خاتمہ کرا دیتا ہے اور حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ریاستی ملکیت کے تجارتی اداروں کو پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے ہاتھ بیچ ڈالے۔ ان سب اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم قرض کی محض جزوی ادائیگی کے لیے کافی ہوتی ہے جبکہ ملک کی حالت اور کمزور ہو جاتی ہے اور اس کی آمدنی مزید کم ہو جاتی ہے، چنانچہ وہ قرض کی مکمل ادائیگی کرنے کے قابل کبھی نہیں ہو سکتا۔
قرضدار ملکوں کو قرض کی ادائیگی سچ مچ کی اشیا کی ایک بھاری مقدار کی صورت میں کرنی پڑتی ہے جبکہ یہ قرض انھیں رنگدار نوٹوں کی صورت میں دیا گیا تھا جن کی قیمت اس کاغذ سے بھی کم تھی جن پر انھیں چھاپا گیا تھا۔ اس بات پر غور کیجیے کہ ان کروڑوں ڈالروں سے ہمیں کوئی حقیقی شے ہاتھ نہیں آتی؛ حقیقی اشیا کی صورت میں صرف ہم بےبس قرضداروں کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ آئی ایم ایف کو ان حقائق کا علم ہی نہ ہو؟ ہرگز نہیں۔ یہ پالیسیاں قطعی دانستہ ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ہر قرضدار ملک کو اس حد تک مفلس کر دیا جائے کہ وہ کبھی انسانی اور معاشی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل نہ ہو سکے اور ان میدانوں میں اس کی ترقی کی سطح بالکل نیچی رہے۔ زرمبادلہ کی صورت میں ہونے والی آمدنی زیادہ تر خام مال یا نیم تیار مصنوعات کی برآمد سے حاصل ہو گی اور اس آمدنی سے درآمد کی جانے والی تیار مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی قیمت کبھی پوری طرح ادا نہ کی جا سکے گی۔ اور لیبر قوانین کو ختم یا بےاثر کر دیا جائے گا تاکہ مزدوروں کو کوئی حقوق یا کم از کم اجرت کی ضمانت حاصل نہ ہو، اور اس سستی لیبر سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیرملکی کمپنیاں شوق سے آئیں گی تاکہ ان کے ملک کی مینوفیکچرنگ یہاں ہماری زمین پر کی جا سکے اور اس کے بدلے انھیں محض معمولی سی رقم ادا کرنی پڑے۔ یہ پورا نظام درحقیقت بددیانت اور فریب کارانہ بینکاری کے ذریعے عمل میں لایا جانے والا نوآبادیاتی تسلّط ہے۔
جب علاج معالجہ، پینے کا صاف پانی، تعلیم، عوامی سہولیات مثلاً گیس اور بجلی، اچھی سڑکیں، نکاس کا عمدہ نظام اور لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنانے والی کم از کم اجرت لوگوں سے چھین لی جائیں تو پھر لوگ کس طرح صحتمند، مضبوط، نارمل اور باعلم ہو کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے اور پیداواری عمل میں کیونکر بھرپور حصہ لے سکتے ہیں؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ جب لوگوں کو اندوہناک غربت میں مبتلا کرنے والے تمام عوامل اپنا کام کرنے میں پوری طرح مصروف ہوں تو ایسا کس طرح ہو سکتا ہے؟ نتیجہ یہ کہ کسی قابلِ فروخت ہنر اور باقاعدہ آمدنی سے محروم لوگ محض ایک ایک دن زندہ رہنے کے عذاب میں مبتلا ہو کر رہ جاتے ہیں۔
لیکن، جیساکہ قرضدار ملکوں کو اب اتنی تاخیر سے احساس ہو رہا ہے، اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کا مقصد قرضداروں کو قرض سے نجات حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے ہی نہیں؛ اس کا مقصد تو انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قرض میں باندھے رکھنا ہے۔ آخر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ہر سال ایک یا دو بلین ڈالر سود کی شکل میں وصول کرتے ہیں، جو اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو وہ ہر سال قرض دیتے ہیں۔ اور یہ تمام سود انھیں پرانے قرضوں پر سال بہ سال وصول ہوتا رہتا ہے۔ شائیلاک کو اتنے سازگار حالات کبھی میسر نہیں آئے تھے۔
جب لوگ اپنی زندگیوں کو کسی قدر قابلِ برداشت بنانے کے لیے اپنی مدد آپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تب بھی انتہائی محرومی کی صورت حال انھیں ان کی غربت سے کبھی اتنا اوپر اٹھنے نہیں دیتی کہ وہ نچلے درمیانہ طبقے کا معیار زندگی ہی حاصل کر سکیں۔ اس طرح قرض دینے کے عمل کے بدترین استعمال کے نتیجے میں آبادی کی اکثریت بڑے معاشی دھارے سے ہمیشہ کے لیے باہر ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ عظیم معاشی تاریخ داں جے ڈبلیو اسمتھ نے اپنی کتاب THE WORLD'S WASTED WEALTHمیں لکھا تھا، ’’ترقی یافتہ ملک مشینی طور پر تیار کی گئی (چنانچہ سستی) مصنوعات مہنگے داموں بیچ کر مالدار ہو جاتے ہیں اور ہاتھ سے تیار کی گئی (گویا مہنگی) مصنوعات کم داموں پر خرید لیتے ہیں۔ تجارت کے اس عدم توازن سے مالدار اور غریب ملکوں کے درمیان فرق بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مالدار ملک تیار مصنوعات بیچتے ہیں جنھیں استعمال یا صَرف کیا جا سکے، انھیں تیار کرنے کے اوزار نہیں بیچتے۔ اس طرح پیداواری اوزاروں کی اجارہ داری اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور مشینی مصنوعات کو بیچنے کے لیے منڈی بھی برقرار رہتی ہے۔ [پیداواری اوزاروں پر ایسا کنٹرول ایک باقاعدہ حکمت عملی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ...اس کنٹرول کو قائم رکھنے کے لیے اکثر فوجی طاقت بھی درکار ہوتی ہے۔]‘‘
اس بات کو نوٹ کیجیے کہ یہاں یہ بالکل نہیں کہا گیا کہ اس تمام انتظام کا عوام کو کیا فائدہ ہو تا ہے۔ اب پیچھے مڑ کر ماضی پر نگاہ ڈالنے سے اس بات پر غور کرنا اہم ہو جاتا ہے کہ جب ایک ادارے سے کام چل سکتا تھا تو پھر دو بینک کیوں قائم کیے گئے، خاص کر اس صورت میں کہ ان دونوں کے کرداروں میں اتنی زیادہ باتیں مشترک ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ شناخت کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ، ان سے قرضہ لینے والے صرف چند سو ملک ہیں، یعنی ایک محدود مارکیٹ۔
یہ دو بینک کیوں وجود میں ہیں جبکہ آج کل وہ دونوں ایک ہی کام انجام دے رہے ہیں؟ پہلے ورلڈ بینک صرف ترقیاتی قرضے جاری کرنے کا ذمےدار تھا۔ بدترین صورت اس وقت پیش آتی تھی جب مقروض ملک ورلڈ بینک سے اتنے زیادہ قرضے لے چکا ہوتا تھا اور قرض میں اتنا ڈوب چکا ہوتا تھا کہ اسے آئی ایم ایف سے بھی قرض لینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔ آئی ایم ایف صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی ملک سخت مالی مشکلات میں پھنس چکا ہوتا ہے، یعنی جب وہ ملک اپنے قرضوں کی قسط ورلڈ بینک کو ادا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ تب اسے اپنے پرانے قرضوں کے سود ادا کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہوتی ہے کہ اس کی زرمبادلہ کی آمدنی کم رہ جاتی ہے یا یہ کہ وہ اپنا زرمبادلہ بہت زیادہ خرچ کر بیٹھتا ہے۔ اس پر کوئی رحم نہیں کیا جاتا۔ اتنا رحم بھی نہیں جتنا بعض اوقات تجارتی بینک کرتے ہیں جب انھیں خیال ہوتا ہے کہ ان سے قرض لینے والا شخص اس طرح اپنا قرض ادا کرنے کے قابل ہو سکے گا۔
عام طور پر کسی صنعت کے اپنی سرمایہ کاری پوری کر کے نہ نفع نہ نقصان کی سطح پر پہنچنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ تعمیراتی منصوبوں مثلاً ڈیموں کو مکمل ہونے میں پوری دہائی لگ جاتی ہے اور ان کے فائدے سامنے آنے میں مزید کئی سال کا عرصہ لگتا ہے۔ لیکن معاہدے میں ایسی کوئی شرط درج نہیں ہوتی کہ سود کی ادائیگی اس نازک عرصے کے گزرنے کے بعد شروع ہو گی۔ ایسا کیوں ہے؟ آخر یہ دونوں تجارتی بینک نہیں بلکہ ترقیاتی بینک کہلاتے ہیں جن کا مقصد اپنے رکن شیئرہولڈر ملکوں کے فائدے کے لیے کام کرنا ہے۔ لیکن ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کسی بھی پرائیویٹ بینک کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ کرائے کے سپاہیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔
خود ورلڈ بینک اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پچاس سے زیادہ ترقی پذیر ملک اپنی برآمدات کی آمدنی کے نصف حصے کے لیے تین یا تین سے کم اجناس یا مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ بیس ملک ایسے ہیں جن کی برآمدی آمدنی کا نوّے فیصد حصہ اجناس کے ذریعے سے آتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ورلڈ بینک خود اعتراف کرتا ہے کہ ان ملکوں میں قرضوں کی بنیاد پر چلائے گئے تقریباً آدھے منصوبے مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں — اگرچہ ورلڈ بینک اس کا ذمےدار خود کو نہیں بلکہ مقروض ملک کو قرار دیتا ہے۔
البتہ بعض افراد نے اپنے طور پر کچھ غوروفکر ضرور کیا ہو گا، کیونکہ جب ایک کے بعد دوسرا ملک ان سودخور اداروں کے چنگل میں پھنسنے کے بعد ڈھیر ہوتا چلا جاتا ہے تو ورلڈ بینک نہایت تاخیر سے اس بات کی چھان بین پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کے اور آئی ایم ایف کے جاری کیے ہوے قرضوں کا ان ملکوں کے عوام کی حالت پر کیا اثر پڑا۔
ورلڈ بینک کی اندرونی رپورٹ ’’ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے پروگراموں کے غربت پر اثرات‘‘ (2000) اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ’’غریبوں کی حالت اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کے بغیر بہتر ہوتی۔‘‘ (واہ،کیسے تعجب کی بات ہے!) اگر انھوں نے غریبوں سے دریافت کیا ہوتا تو وہ یہ بات پچاس سال پہلے بتا دیتے۔ لیکن اس رپورٹ کا ذکر بڑے ذرائع ابلاغ میں ہرگز نہیں آیا۔ جہاں تک اس کے منظرعام پر ہونے کا سوال ہے تو یہ رپورٹ فی الحال تو بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہے، لیکن کہا نہیں جا سکتا کہ کب تک رہے گی۔
اتنی نقصان دہ کٹوتیاں کروا کے آئی ایم ایف، اور ان کٹوتیوں پر راضی ہو کر متاثرہ ملکوں کی حکومتیں کیا پیغام بھیج رہی ہیں؟ ان دونوں کا دراصل یہی کہنا ہے کہ زندگی کی بنیادی چیزوں کے بارے میں عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا قطعی قابل قبول بات ہے — صرف اس لیے کہ آئی ایم ایف اسے جائز سمجھتا ہے؛ اور ان ملکوں کی حکومتیں بھی اس پر اعتراض نہیں کرتیں، اور جب عوام احتجاج اور ہنگامہ کرتے ہیں تو وہ انھیں کچلنے کے لیے اپنی پولیس اور پیراملٹری فورس کو میدان میں اتارتی ہیں، یہاں تک کہ مظاہرین کو گولیاں مار کر ہلاک کر ڈالتی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس قسم کے واقعات کا سپریم کورٹ نے آج تک ازخود نوٹس کبھی نہیں لیا۔
مقروض ملکوں کو مزید قرض دینے کے لیے ہمیشہ منتظر اور آمادہ
کچھ باتوں کا بڑی تاخیر کے ساتھ احساس کیا جانے لگا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ آئی ایم ایف ہر ایسے ملک کو قرض دینے کے لیے ہمیشہ تیار اور منتظر رہا ہے جسے پرانا قرض چکانے کے لیے نیا قرض لینے کی ضرورت ہو؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ بات پہلے سے متوقع ہوتی ہے کہ زرمبادلہ کے نرخ ڈالر کے حق میں بےتحاشا جھکے ہونے کی وجہ سے یہ ملک لازماً مالیاتی بحران میں پھنس جائیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ بینک امریکہ اور کارپوریٹ ڈبلیو ٹی او کے مفاد کی خاطر ’’آزاد تجارت‘‘ کی اس قدر حمایت کرتے ہیں۔ جیساکہ جے ڈبلیو اسمتھ نے نشان دہی کی ہے، اس سے غیرمساوی بنیاد پر تجارت جاری رکھنا ممکن ہو جاتا ہے؛ اس تجارت میں غیرترقی یافتہ ملکوں کے پاس یہ انتخاب نہیں ہوتا کہ وہ کب، کس سے اور کتنی تجارت کریں گے اور اس کی شرائط کیا ہوں گی، بلکہ من مانی کرنے کا پورا اختیار صنعتی ترقی یافتہ ملکوں کے پاس ہوتا ہے۔ یہ بات منصوبہ بند انداز میں پہلے دن سے طےشدہ ہے۔
ایک وقت تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر افراد کو ان کے استحقاق کے مطابق منصفانہ تنخواہ دی جائے تو بدعنوانیوں کا امکان کم ہو جائے گا۔ اسی طرح کی خوش فہمیاں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بارے میں بھی پائی جاتی تھیں۔ لیکن رفتہ رفتہ معلوم ہوا کہ جب افراد ضرورت سے زیادہ کماتے ہیں یا آسانی سے دولت حاصل کر لیتے ہیں تو ان میں مزید لالچ پیدا ہو جاتا ہے — جو جاگیردارانہ ذہنیت سے بہت مماثل ہے۔ ایسی بات نہیں کہ خود ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں ایسے افراد موجود نہ رہے ہوں جو ان منفی رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد کے بہت کم ہونے کا سبب یہ ہے کہ بیشتر لوگ اس عیاشانہ طرززندگی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتے جو صرف ان بین الاقوامی بینکوں کی ملازمت سے انھیں حاصل ہو سکتا ہے۔
ان بینکوں کے ملازمین اتنی زیادہ اور بلاٹیکس تنخواہ پاتے ہیں کہ وہ پچاس کے پیٹے میں آتے ہی ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں جس کے بعد انھیں عمربھر کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان کی بچت اور لاکھوں ڈالر کی پنشن کی رقم پر انھیں اتنا سود ملتا رہتا ہے کہ باقی زندگی وہ کوئی کام کیے بغیر نہایت عیاشی سے بسر کر سکتے ہیں۔ ان میں سے جن ملازمین کی تعیناتی تیسری دنیا کے ملکوں میں ہوتی ہے انھیں ان ’دشواریوں‘ کا بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ اس ملک کے امیرترین لوگوں کے ساتھ وہاں کے مالدار علاقوں میں فرنشڈ مکانوں میں رہتے ہیں جن کا کرایہ انھیں ادا نہیں کرنا پڑتا اور مزید مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ وہ اربوں عام لوگوں کو جس اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کا شکار بناتے ہیں، خود انھیں اس کا مزہ کبھی نہیں چکھنا پڑتا۔
لیکن اس کے باوجود بعض سینئر معاشیات دانوں اور محققوں کا ضمیر بیدار ہوا جنھوں نے پچھلی کئی دہائیوں میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ملازمت سے استعفیٰ دیا۔ ان میں پہلا نام ڈیویسن بدھو کا تھا جنھیں یہ معلوم کر کے سخت اضطراب ہوا کہ آئی ایم ایف کو اپنے غلط دعووں کو سہارا دینے کے لیے جھوٹے حقائق گھڑنے اور اعدادوشمار میں ہیراپھیری کرنے سے بھی کوئی عار نہیں۔ اپنے استعفے کی وجوہ انھوں نے اپنے کھلے خط میں بیان کیں (یہ خط اب ویب سائٹ پر موجود ہے) اور اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ لیکن چونکہ بڑے کارپوریٹ ذرائع ابلاغ ایسی آوازوں کو نظرانداز کرکے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتے ہیں، اس لیے ان کی آواز بھی گویا صحرا میں گونج کر رہ گئی۔ غیرترقی یافتہ ملک بھی مغربی نیوزایجنسیوں میں دکھائی گئی مغربی دنیا کی ادھوری اور دلکش تصویر پر انحصار کرتے ہیں۔
ہرمن ڈیلی نے اس بات پر استعفیٰ دیا کہ غیرحقیقت پسندانہ، خودغرضی پر مبنی اور لغو معاشی نظریوں کو آزمودہ اور ثابت شدہ حقائق کے طور پر غیرترقی یافتہ ملکوں پر زبردستی ٹھونسا جاتا ہے۔ انھوں نے ’’لامحدود معاشی افزائش‘‘ کے خیال کو چیلنج کیا — بیشتر ملکوں کی اقتصادی منصوبہ بندی اسی خیال پر بنیاد رکھتی ہے — کیونکہ ایک محدود کرۂ ارض میں، جس کے وسائل محدود ہیں اور بیشتر کلیدی وسائل ناقابلِ تجدید ہیں، ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ ہرمن ڈیلی کو ’’ماحولیاتی معاشیات‘‘ کا بانی قرار دیا جاتا ہے جس میں روایتی معاشی نظریات کی اس غلطی کو درست کیا گیا ہے اور اس کے لیے دنیا کے حقیقی وسائل اور دیگر محدودات کو نظر میں رکھ کر اقتصادی منصوبہ بندی پر غور کیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے منصوبہ سازوں کو ابھی اس تحقیق کی خبر نہیں ملی۔

معیشتوں کی اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ: منافع کمانے کا ذریعہ
اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کی دنیابھر میں اتنی بدنامی ہوئی ہے — شاید ایک بھی ملک ایسا نہ ہوگا جس نے اس معاملے پر آئی ایم ایف کے خلاف احتجاج نہ کیا ہو — کہ 1999 میں آئی ایم ایف نے اس کا نام بدل کر پاورٹی ریڈکشن اسٹریٹجی پالیسیز (PRSPS) رکھ دیا۔ اصطلاح کی اس تبدیلی سے حکومتوں اور کنسلٹنٹس کو بہت سی کاغذی کارروائی کرنی پڑی لیکن اس سے کوئی بھی قائل نہ ہوا۔ اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ اس کے بعد بھی ویسی ہی رہی جیسی وہ پہلے دن سے تھی، یا اس سے بھی بدتر ہو گئی، بس اس کا نام بدل گیا۔
PRSPS ٹیکسوں میں اضافہ کرنے اور حکومت کے انسانی، معاشی اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے کا ایک پردہ ثابت ہوئیں۔ پرائیویٹائزیشن پہلے کی طرح جاری رہی۔ عوامی اثاثے اسی طرح پرائیویٹ سیکٹرکے ہاتھ بیچے جاتے رہے۔ مالیاتی لبرلائزیشن کو مزید تیز کیا گیا۔ بین الاقوامی سرمائے کی آمدورفت پر کوئی روک باقی نہ رہی، اور نہ ہی اس بات پر کوئی پابندی رہی کہ غیرملکی تجارتی ادارے اور بینک کیا خرید سکتے ہیں، کن چیزوں کی ملکیت حاصل کر سکتے ہیں اور کیا چیزیں چلا سکتے ہیں۔
نام نہاد ترقی پذیر ملکوں — یعنی مغرب کو مالامال کرنے والی سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات — کو مکمل طور پر بھکاری بنانے میں جتنا اہم کردار ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا ہے اتنا کسی اور بینک کا نہیں۔

مشکوک ڈالر، ’ آزاد تجارت‘ اور
اربوں انسانوں کے منھ سےنوالہ چھیننے کی کارروائی

’’وہ اب بندوقیں اور پھندے استعمال نہیں کرتے بلکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘
— ریورینڈ جیسی جیکسن

امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو کاغذی ڈالروں کی کتنی ہی بڑی تعداد اپنے پرنٹنگ پریس میں (کاغذ کی قیمت سمیت) تین یا چار سینٹ فی نوٹ کی لاگت سے چھاپ کر جاری کر سکتا ہے اور ان کو کسی بھی حقیقی شے کی ضمانت فراہم کرنے کی ذمےداری اٹھائے بغیر دنیا کو ہر نوٹ پر لکھی ہوئی مالیت — چاہے وہ پانچ ڈالر ہو یا پانچ سو ڈالر — درست ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔
امریکہ کے سوا کسی ملک نے ڈالر کو بین الاقوامی ریزرو کرنسی بنانے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اسے دنیا کے حلق میں اس وقت ٹھونسا گیا جب تمام دوسرے ملک جنگ یا نوآبادیاتی نظام کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں بدحال ہو کر گویا اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوے تھے۔
1944 میں دوسری جنگ عظیم ختم ہو رہی تھی اور سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات آزادی حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہی تھیں، کیونکہ انھیں نوآبادیات بنانے والے بیشتر ملکوں کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے تک کے قابل نہ رہے تھے، کجا یہ کہ دوسرے ملکوں پر اپنا تسلط قائم رکھ سکتے۔ امریکہ نے چوالیس ملکوں کے نمائندوں کا امریکہ میں بریٹن وُڈز کے مقام پر اجلاس بلایا تاکہ دنیا کے مالیاتی معاملات کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے جن پر تجارت کا مستقبل ٹکا ہوا تھا۔ بعد میں جب سو دیگر ملک اقوام متحدہ میں شامل ہوے، اس وقت سے لے کر آج تک ان فیصلوں پر نظرثانی یا انھیں نئے سرے سے مرتب کرنے کا کام نہیں کیا گیا ہے۔
برطانیہ نےمطالبہ کیا کہ ایک آزاد بین الاقوامی مالیاتی ادارہ قائم کیا جائے جو ایک بین الاقوامی ریزرو کرنسی جاری کرے (جسے BANCOR کا نام دیا جانا تھا) اور اسے جاری کرنے کا اختیار صرف اسی بین الاقوامی ادارے کے پاس ہو۔ یہ بندوبست منصفانہ اور غیرجانبدارانہ ہوتا، لیکن امریکہ نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔وہ اپنی اس لمحاتی خوش قسمتی سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا کہ وہ اس وقت دنیا کا واحد طاقتور ملک تھا جسے جنگ سے کوئی گزند نہ پہنچی تھی۔ اسے ہر صورت میں دنیا کے مالیاتی نظام کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا تھا۔
جب برطانیہ اور یوروپ ڈالر کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی حالت میں نہ تھے تو پھر ان کی سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات کو یہ مجال کیونکر ہو سکتی تھی جنھیں صدیوں سے جاری بےرحم معاشی استحصال نے انتہائی کمزور کر ڈالا تھا۔ جنگ سے تباہ شدہ یوروپ کی ایک نہ چلی اور امریکہ نے اپنی فوجی اور مالیاتی طاقت کے بل پر اپنی بات منوا لی۔ یہ اصول طے ہو گیا کہ آئی ایم ایف میں ووٹنگ کا حق اس سونے اور چاندی کی بنیاد پر ہو گا جو کوئی ملک اسے قائم کرنے اور چلانے کے لیے دے گا۔ چونکہ امریکہ کے پاس اس وقت سونے کے کثیر ذخائر تھے، اس لیے درجہ وار نابرابری اس نظام کا پہلے دن سے حصہ بن گئی۔
اُس وقت، جبکہ پوری دنیا معاشی طور پر بدحال تھی،صرف امریکہ آئی ایم ایف کو رقم قرض دے سکتا تھا جو وہ آگے دوسرے ملکوں کو قرض دے سکے۔ اس طرح امریکہ کو آئی ایم ایف کے فیصلوں پر اجارہ داری حاصل ہو گئی اور کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا حق مل گیا۔ اس نے یہ شرط بھی عائد کر دی کہ صرف وہ ملک ورلڈ بینک سے قرض لے سکیں گے جو فری ٹریڈ یعنی آزاد تجارت کے اصول کو تسلیم کرتے ہوں۔ اور یہ کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ورلڈ بینک کی رکنیت لازمی ہو گی!
ایک اور اَن لکھا اصول یہ تھا کہ ورلڈ بینک کا سربراہ ہمیشہ ایک امریکی اور آئی ایم کا سربراہ یوروپی ہو گا جو قرض میں پھنسی ہوئی دنیا کی جلی کٹی سنا کرے گا۔ چنانچہ بینکوں کی یہ جوڑی شروع ہی سے غیرجمہوری اور نسل پرستانہ نظریے پر قائم کی گئی۔
غریب سابقہ نوآبادیاتی ملکوں کو سب سے پہلے نوآبادیاتی تسلط کے طویل عمل سے ہونے والے نقصان اور رکی ہوئی ترقی کے عمل سے خود کو بحال کرنا تھا۔ دنیا کے مالیاتی نظام اور کرنسی کے مستقبل کے بارے میں بریٹن وڈز کے اس اجلاسوں کی کارروائی کی تفصیلات بڑی کامیابی سے پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ نابرابری پہلے ہی دن سے اس نظام پر مسلط ہے۔

پرانی طرز کے نوآبادیاتی نظام کی جگہ مالیاتی نوآبادیاتی نظام
ڈالر دنیا کا بادشاہ بن گیا۔ یہ پوری طرح قابل تبدیل تھا اور گویا سونے کے مساوی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے باوجود یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ امریکہ کے پاس ہمیشہ سونے کے اتنے لامحدود ذخائر دستیاب رہے ہوں گے کہ وہ جاری کیے جانے والے لامحدود ڈالروں کوطلب کیے جانے پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور 1971 میں، جب امریکہ کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا تو اس نے الٹی زقند بھری۔ اب ڈالروں کے بدلے کوئی سونا نہیں ملے گا! جی چاہے تو ڈالر لو، ورنہ انکار کر دو۔ کسی ماہر کے پاس ڈالر کے متبادل کا کوئی تصور نہ تھا، خود اپنے ملک یا علاقے کے لیے بھی نہیں، چنانچہ دنیا کو بےقیمت کاغذی ڈالروں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
جب کسی ملک کی تجارت کسی دوسرے ملک کی کرنسی کو استعمال کر کے چلائی جاتی ہے تو اس سے خود اس ملک کی کرنسی کی، جو اس ملک سے باہر نہیں چلتی، کوئی قدر باقی نہیں رہ جاتی۔ برآمدات کی قیمت ڈالروں میں ملتی ہے اور درآمدات کی قیمت ڈالروں میں ادا کرنی پڑتی ہے، انھی ڈالروں میں جو برآمدات کے ذریعے کمائے گئے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ڈالر کی وجہ سے غریب ملکوں (سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات) کے حالات اور خراب ہوتے گئے۔ کوئی شخص اس بات کو محسوس یا تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ پوری دنیا کی پیداوار دراصل امریکہ کے لیے ہے جو اسے قریب قریب مفت میں مل رہی ہے!
سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات کی کرنسیوں کی اصل مالیت — جسے کسی ملک کی داخلی پیداوار اور برآمدات کی بنیاد پر شمار کیا جانا چاہیے تھا — مذاکرات کے کسی طویل سلسلے کے نتیجے میں طے نہیں کی گئی بلکہ طاقتور ملکوں نے آپس میں مل بیٹھ کر اس کا فیصلہ کر لیا۔ اور غریب ملکوں کے سامنے پھر وہی کڑا انتخاب رکھ دیا گیا: مان لو یا چھوڑ دو۔
زرعی اور دوسری اجناس تمام تجارتی اشیا میں ہمیشہ سب سے نچلے درجے پر ہوتی ہیں — جو کسی قدر الٹی منطق ہے کیونکہ جب تک یہ خام مال میسر نہ ہو، تب تک کوئی صنعتی اشیا تیار نہیں کی جا سکتیں۔ اور چونکہ ان اجناس کے مہیا کرنے والے ملکوں کی خام مال کی منڈیوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہ تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ غریب ملکوں کو تیار مصنوعات درآمد کرنے کے بدلے میں اپنی اجناس کی پیداوار بڑھانی اور قیمت کم رکھنی پڑی، جبکہ خام مال خریدنے والے دولتمند ملکوں کو یہ سودا بہت سستے میں پڑا۔ یہ نظام غریبوں کو ان کے حصے سے محروم رکھنے کے فیصلے پر قائم کیا گیا۔

امریکہ نے نادانستگی میں یوروڈالر کو پروان چڑھایا
غریب ملکوں کی بہ نسبت یوروپ کے حالات بہتر رہے۔ مفت امریکی امداد، غیرملکی سرمایہ کاری، بعدازجنگ تجارتی سرگرمی اور کاروبار کی بدولت یوروپ میں ڈالروں کی ریل پیل ہو گئی۔ لیکن امریکہ کو اپنے ڈالروں کے بدلے سونا فراہم کرنے کی ہرگز خواہش نہ تھی اور اس نے یوروپی ملکوں پر واضح کر دیا کہ اس قسم کا مطالبہ کرنا شائستگی سے بعید ہو گا۔ چنانچہ یوروپ نے ان فاضل ڈالروں کے استعمال کے نئے طریقے تلاش کرنے شروع کیے۔ یہ طریقہ اسے مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاری کی دیگر صورتوں میں نظر آیا جہاں یہ ڈالر قرض پر چلائے جا سکتے تھے۔
چونکہ امریکہ سے باہر ڈالروں پر امریکی ٹیکس عائد نہیں ہو سکتا تھا، اور یوروپ کو اس غیرملکی کرنسی کو ریگولیٹ کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی، اس لیے انھوں نے ڈالروں کو کم شرحِ سود پر قرض دینا شروع کر دیا۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ڈالر کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیا اور سرمایہ کاروں نے خطیر منافع کمایا۔ اس طرح ’یوروڈالر‘ کا جنم ہوا۔ اس کا چلن یہاں تک بڑھا کہ 1980 کی دہائی میں امریکی فیڈرل ریزرو کو دنیا میں گردش کرتے ہوے ڈالروں میں سے اسّی فیصد کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ غیرذمےداری سے پرنٹنگ پریس ڈالر جاری کرنے کی پالیسی کے باعث امریکہ پر ہی اس بات کی ذمےداری عائد ہوتی ہے کہ یوروڈالر کی فراوانی سے دنیا میں کرنسی کی سٹےبازی شروع ہو گئی۔ بیرون ملک کام کرنے والے امریکی بینکوں نے بھی اس جوئے میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
لیکن امریکہ ایک شاہ خرچ ملک ہے اور کفایت شعاری کو صرف دوسرے ملکوں کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ وہ اپنے فوجی اخراجات کو کم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ فوجی طاقت پر ہی اس کے عالمی تسلط کی بنیاد ہے۔ مجموعی طور پر اس کا ادائیگیوں کا توازن خراب تھا اور وہ دنیا کا مقروض تھا۔ لیکن اسے اس بات پر کوئی تشویش نہ تھی کیونکہ وہ مزید ڈالر چھاپ کر (جن کی حیثیت قرض کی دستاویز کی سی تھی) ادائیگی کر سکتا تھا جبکہ دنیا اس انتظار میں رہتی کہ اسے اپنی فراہم کی ہوئی اشیا اور خدمات کے بدلے کبھی کوئی حقیقی شے دستیاب ہو گی۔ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ دوسرے مغربی صنعتی ملکوں نے بھی، جن کی معیشتیں جنگ کی تباہ کاریوں سے بحال ہو چکی تھیں، نئے مالیاتی متبادل تلاش کرنے میں کوئی کارکردگی نہ دکھائی۔
امریکہ نے ٹیکنالوجی میں اپنی برتری قائم رکھتے ہوے یوروپی اور دوسرے ملکوں کو یہ موقع دیا کہ وہ کنزیومر اشیا اور مشینوں وغیرہ کی منڈی پر تسلط قائم کر لیں جبکہ خود امریکہ کی توجہ کیمیائی مادّوں اور صنعتی زراعت پر مرکوز رہی۔ امریکہ نے غذائی اجناس کی پیداوار پر سب سے زیادہ زور دیا تاکہ دنیا میں غذا کی رسد اس کے کنٹرول میں آ جائے، اور اس کے علاوہ ایروناٹکس اور اسلحے کی تیاری پر پوری توجہ دی جو اس کی برآمدی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
بہت سے ملک خود اپنی تیار کردہ درمیانہ درجے کی ٹیکنالوجیوں اور اپنے انسانی وسائل کو استعمال کر کے خود کو بحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے تھے، لیکن ان ملکوں کے حکمران طبقے نے مغرب کی نقالی شروع کر دی خواہ یہ اس ملک کے لیے موزوں ہو یا نہ ہو،اور اس طرح ایجاد اور تخلیق کی مقامی قوتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملا۔
بیشتر سابقہ نوآبادیاتی مقبوضات کبھی بھی معاشی طور پر خوشحال نہ ہو سکیں، جس کے اسباب میں بنیادی طور پر غیرمنصفانہ نظام کے علاوہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی مقامی کرپٹ حکومتوں کے ساتھ سازباز بھی شامل تھی۔ بہت سے ملکوں کی ترقی کی سطح پہلے سے بھی کم ہو گئی۔ ان کے اعلیٰ طبقے ڈالر کے غلام ہو گئے اور انھوں نے اپنے عوام کو اپنا غلام بنا لیا۔
جب کسی غریب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت قلیل ہوں، اور وہ ملک دست نگر ہونے کا کردار پوری طرح نبھانے کو تیار نہ ہو، تو اسے قرضوں یا دوسری امداد کی فراہمی یکدم روک کر دھمکایا جاتا ہے۔ جو رقمیں جائز طور پر واجب الادا ہیں ان کی ادائیگی میں بھی تاخیر کر دی جاتی ہے، جبکہ پرانے قرضوں پر سود کی شرح میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، جو بلیک میل کی مختلف صورتیں ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کو من مانے طور سے روک دیا جاتا ہے۔
امریکہ میں پیش آنے والے مالیاتی بحران اور ڈالر کی بگڑتی ہوئی ساکھ کی ذمےداری خود امریکہ پر ہے؛ مالدار لوگوں کی عیاشی، جوئے بازی، وسائل کا ضیاع اور مستقبل اور دوسرے لوگوں کے مفاد سے مکمل بےپروائی — یہ تمام مظاہر صدر جارج بش اول کے اس قول میں صاف جھلکتے ہیں کہ ’’امریکہ کے معیارِ زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،‘‘ حالانکہ ان میں سے بیشتر مادّی معیارات دوسری قوموں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔
امریکہ کی جھوٹی انا اور ضد اس سطح کی ہے کہ وہ ڈالر کی بگڑتی ہوئی ساکھ کو بھی لڑے بغیر تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہ عمل بہت جلد ہونے والا نہیں، اور جب ہو گا تو بہت نقصان کے بعد ہو گا۔ اگرچہ بہت سے صنعتی ترقی یافتہ ملک، تاخیر ہی سے سہی، اپنے آپ کو ڈالر سے لاتعلق کر رہے ہیں یا ڈالر کو اپنے استعمال میں آنے والی کئی ریزرو کرنسیوں میں سے محض ایک کی حیثیت دے رہے ہیں، لیکن بیشتر غریب ملک اب تک ڈالر کے قرضوں میں بری طرح پھنسے ہوے ہیں۔


نام نہاد آزاد منڈی کے مسائل
’’آزاد منڈیوں‘‘ اور ’’آزاد تجارت‘‘ کا مغربی تصور بنیادی طور پر یہ ہے کہ ہر ایک کو کہیں بھی کسی بھی منڈی میں داخل ہونے اور کسی کے ساتھ بھی بیوپار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اور بینک اس سلسلے میں ان کی مدد کرنے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ایک محدود وسائل کی دنیا میں یہ عمل نہ تو انسانی حقوق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ماحولیاتی اعتبار سے پائیداری کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کا بلاشبہ تجارت کی آزادی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔
اس تصور سے اس حقیقت کی نفی ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام ملک قدرتی وسائل اور دیگر فوقیتوں کے معاملے میں مساوی حیثیت نہیں رکھتے، اور نہ ہی وہ، خصوصاً نوآبادیاتی تسلط کے طویل عرصے کے بعد، ترقی کے مساوی درجے پر ہیں۔ نام نہاد ’’یکساں مواقع‘‘، جسے آزاد تجارت کے حامیوں کی بنیادی اصطلاح کا درجہ حاصل ہے، درحقیقت کوئی وجود نہیں رکھتے۔ آزاد منڈی اور آزاد تجارت کے نزدیک مختلف ملکوں کے عوام کی خودمختاری کی، ان کی سرحدوں اور داخلی پیداواریت کی، اور ان کی ثقافتوں اور قدروں، خصوصاً شراکتی قدروں کی قطعی کوئی اہمیت نہیں۔
عملی طور پر یہ ہوتا ہے کہ مالدار اور طاقتور لوگ، دولت، زورزبردستی یا ننگی طاقت (یا ان تینوں) کے ذریعے منڈی پر قبضہ کر کے، تجارت پر — یعنی دراصل دوسرے لوگوں کی ملکیت پر — اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں اور باقی اکثریت کو بچے کھچے وسائل پر جیسے تیسے زندہ رہنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

غذا کی سٹے بازی — اور اربوں انسانوں کی فاقہ کشی
جب دنیابھر کے سٹےبازوں کے پاس پیسہ لگانے کا کوئی اور موقع نہیں رہا — اور محدود امکانات کی دنیا میں ایسا ہونا ناگزیر تھا — تو انھوں نے ایسے امکانات کو کھنگالنا شروع کر دیا جن سے انھیں پہلے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اور یہ ایسا موقع تھا جب دنیا پر بھوک کی مصیبت منڈلا رہی تھی۔
چونکہ غذا انسانی بقا کے لیے بنیادی طور پر ضروری ہے، اس لیے اسے روایتی طور پر تجارتی جنس کی تعریف سے باہر رکھا جاتا تھا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ حکومتیں نہ صرف اپنا احساس بلکہ اپنا ضمیر بھی کھو بیٹھیں اور غذا ان کی نظر میں کسی تقدس کی حامل نہ رہی۔ غذائی اجناس کی فصلیں تجارتی اجناس بن گئیں، یعنی ایسی اشیا جنھیں دولتمند لوگ آسانی سے خریدنے اور بیچنے لگے، خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ بہت سے انسان بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں؛ یعنی غذا کوئی انسانی حق نہ رہی جسے عوامی بہبود کے لیے ذخیرہ کر کے رکھا جائے اور بےبس اور محروم انسانوں کو ضرورت کے وقت بلاقیمت فراہم کیا جائے۔
انوسٹمنٹ بینک اور سٹےباز اس سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے۔ انھیں ان اجناس کو مادّی طور پر اٹھانے دھرنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی؛ ان کی نظر ان فصلوں کی مستقبل کی پیداوار اور اس سے کمائے جا سکنے والے منافعے پر تھی --چنانچہ انھوں نے ’ڈیری ویٹو‘( DERIVATIVES) پر سرمایہ لگانا شروع کر دیا۔ پاکستان خواہ اس سٹےبازی کا میدان نہ ہو لیکن ہم تجارت سے منسلک ہونے اور بین الاقوامی اجارہ دار گروہوں اور شکارخور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اقدامات سے متاثر ہونے کے باعث اس سٹےبازی کے اثرات سے نہیں بچ سکتے۔
مسئلے کا آغاز سنہ 2000 سے ہواجب امریکہ کی کموڈٹی فیوچرز (مستقبل کی زرعی پیداوار) کی منڈی کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں شدید افراتفری شروع ہو گئی اور سٹےبازوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ ہر قسم کے سرمایہ کاروں کو، جن میں انوسٹمنٹ بینک، پنشن فنڈ، ہیج فنڈ، ہاؤسنگ مورٹگیج وغیرہ بھی شامل تھے، کسی قسم کے ریگولیشن کے بغیر اور تفصیلات ظاہر کرنے کی شرط سے آزاد، کسی بھی جنس کی مستقبل کی پیداوار پر سٹہ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ تمام سرمایہ کار 2005 کے بعد ہونے والی غذائی اشیا کی شدید مہنگائی کے لیے براہ راست ذمےدار ہیں۔
جب مالیاتی اور اقتصادی کریش واقع ہوا، جس کا واقع ہونا ناگزیر تھا، تو اس کا ضمنی نتیجہ دنیا کے ہر چھ میں سے ایک فرد کے شدید غربت اور بھوک میں مبتلا ہونے کی صورت میں نکلا۔ کیونکہ آخرکار غذائی اشیا کی سٹےبازی کا یہ پوراعمل ہوا میں سے زیادہ سے زیادہ دولت پیدا کرنے پر ہی بنیاد رکھتا تھا۔ اصلاح پسند لوگ اصلاح کے مختلف طریقے تجویز کرتے رہتے ہیں، مثلاً یہ کہ دولتمند افراد، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں، ضرورت سے زیادہ جائیداد اور اس قسم کی دیگر چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، وغیرہ۔ لیکن جب تک نقدی اور بینکاری کا نظام بنیادی طور پر ناقص اور نقصان دہ ہے اور پوشیدہ ہتھکنڈوں کا شکار ہے، اس وقت تک ایسے اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دولت، بشمول زمین، کی ملکیت کی حد بہت اونچی ہے اور اس پابندی کو آسانی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
غذا انسانی حق ہے نہ کہ سٹےبازی کا میدان
اگر انسانیت اور جمہوریت کو ممکن بنانا ہے، خاص کر ہمارے اپنے ملک میں، تو حقیقی زرعی اصلاحات اور زمین کی نئے سرے سے تقسیم کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ زمین کے استعمال پر ضوابط عائد کرنا اور اس سلسلے میں ترجیحات کو نئے سرے سے طے کرنا ضروری ہے، مثلاً ملک کی داخلی ضروریات کو برآمدات پر فوقیت دی جائے، غذائی اشیا کو تجارتی اجناس کے دائرے سے باہر نکالا جائے اور انوسٹمنٹ بینکوں اور سٹےبازوں (یا ان کی نمائندگی کرنے والے بیوپاریوں) کو ان اشیا پر سٹہ کھیلنے سے روکا جائے۔ دولت سے دولت پیدا کرنے کے اور بہت سے راستے پہلے ہی موجود ہیں اور اس کے لیے انسانوں کو غیرانسانی اور غیرمنصفانہ طور پر بھوک اور فاقہ کشی میں مبتلا کرنا غیرضروری اور نامناسب ہے۔
لیکن جو انسانی حقوق کے کارکن اور حکومتوں میں موجود ذمےدار عناصر اس کوشش میں ہیں کہ انسانوں کی ضروریات پوری ہو سکیں، ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو وہ مہارت اور معلومات فراہم کریں جو انھیں باصلاحیت اور خود پر انحصار کرنے کے قابل بنا سکیں۔ اس کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ نقدی کی معنویت کو سمجھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ لوگ خود اپنی ضروریات کے مطابق متبادل نظام کس طرح وضع اور استعمال کر سکتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ (زرعی اصلاحات کی طرح) بینکاری کے نظام میں اصلاحات کے لیے مہم چلائیں، اور اس کا ایک طریقہ بارٹر ایکسچینج یا لین دین کے متبادل نظام وضع کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم فرضی نقدی کے جال میں ہمیشہ پھنسے رہیں گے، جو سیاسی اقتدار کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے غربت اور امارت کی تقدیر متعین کرتی رہے گی اور یہ فیصلے کرتی رہے گی کہ کون خوشحال زندگی گزار سکتا ہے اور کون نہیں، اور کسے غذا میسر ہو گی اور کس کو نہیں۔

نقدی: اتنی غیرجانبدار نہیں
کیا ہم نقدی اور بینکوں کے بغیر گزارہ کر سکتے ہیں؟ آج یا مستقبل قریب میں تو ایسا ہونا ہرگز ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے بغیر ہم روزمرہ کی خریدوفروخت کیونکر کر سکیں گے؟ ہمیں اپنی قوتِ خرید کا اندازہ کیسے ہو گا؟ ہم ایک یکساں پیمانے کے ذریعے ہر چیز کی قدر متعین کیے بغیر مختلف چیزوں کی مالیت کا موازنہ کس طرح کر سکیں گے؟
بلاشبہ انسان اپنی قوتِ ایجاد کے لیے جانا جاتا ہے اور ممکن ہے ایک دن خریدنے، بیچنے، قیمت ادا کرنے، سرمایہ کاری کرنے اور ہر قسم کی معاشی سرگرمی کے لیے کوئی ایسا طریقہ نکل آئے جو نقدی اور بینکاری کی اس صورت کی محتاج نہ ہو جسے ہم آج استعمال کرتے ہیں، اور یہ طریقہ ساتھ ساتھ سہل اور فراڈ سے محفوظ بھی ہو۔
نقدی کے استعمال بھی حالات پر منحصر ہوتے ہیں، خواہ یہ کاغذی نقدی ہو یا پلاسٹک یا الیکٹرانک نقدی۔ کسی راہب کے لیے یا جنگل یا صحرا میں خودانحصاری کی حالت میں رہنے والے کسی قبیلے کے لیے یہ بےمصرف ہو سکتی ہے۔ شدید قلت کے زمانے میں، خاص طور پر بےموسم کی غذائی فصل کے معاملے میں، یہ بیکار ہوتی ہے؛ نقدی کی کتنی بھی مقدار ہو، وہ کسی ایسی شے کو حاصل نہیں کر سکتی جو موجود ہی نہ ہو۔
چنانچہ نقدی صرف اس لحاظ سے بامعنی ہوتی ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے یا ہم کیا کرتے ہیں — یعنی ہمیں اپنی بقا کے لیے کن اشیا اور خدمات کی ضرورت پڑتی ہے، یا ہم کیا خریدتے یا بیچتے ہیں، کس چیز پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اپنی بنائی ہوئی چیزوں یا اپنی محنت سے منافع حاصل کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے لفظوں میں، نقدی کے معنی کسی معیشت کی حدود کے اندر ہی پیدا ہوتے ہیں جہاں کروڑوں افراد کے روزمرہ کی خریدوفروخت کے سودے بھی شامل ہوتے ہیں اور بہت بڑی بڑی معاشی سرگرمیاں بھی جن کا تعلق بہت بڑے سرمائے اور منڈیوں اور بیوپار سے ہوتا ہے۔
درحقیقت نقدی کے — اور بینکاری کے نظام کے بھی — محنت، پیداوار اور اصراف کے باہمی منسلک سلسلے کے باہر کوئی معنی نہیں۔ کسی ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں قدر کے پیمانے کے طور پر نقدی کا وجود نہ ہو۔ قدیم معاشروں میں، جہاں ضرورتیں کم تھیں اور سماج کے مجموعی تحفظ اور استحکام کے لیے باہمی شراکت کا کلچر لوگوں میں راسخ تھا، بارٹر یہ کام بخوبی سرانجام دے لیتا تھا کیونکہ لوگ اپنی فوری ضروریات سے زیادہ پیداوار نہیں کرتے تھے، چیزوں کو محفوظ رکھنے کی جدید سہولتیں موجود نہ تھیں اور چیزوں کو ضائع کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔
جب برادریاں اور شہر پھیلنے لگے اور چیزوں کی قسموں میں بھی اضافہ ہونے لگا، تو نئی ٹیکنالوجیوں نے سردخانوں اور بڑے گوداموں کا وجود ممکن بنا دیا، اور تب ان چیزوں کی بروقت فراہمی کے لیے نقدی کا وجود ناگزیر ہو گیا، کیونکہ ایک ہی قسم کی شے یا خدمت ایک ہی وقت میں اور ایک ہی شدت کے ساتھ سب لوگوں کو درکار نہیں ہو سکتی تھی۔ نقدی کو چیزوں کی قیمت کی اکائی کی صورت میں حساب کتاب میں استعمال کرنے سے مطلوبہ لچک حاصل ہو گئی اور یہ ممکن ہو گیا کہ چیزوں یا خدمات کی کل قیمت کو شمار کیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ کس کے ذمے کتنی رقم نکلتی ہے۔ بلاشبہ نقدی جاری کرنے والی کسی ایسی مرکزی مقتدرہ کا ہونا لازمی تھا جسے سب تسلیم کرتے ہوں اور قابل اعتبار سمجھتے ہوں۔
مثلاً ایک ہزار روپے کا نوٹ، کسی ایسے دوردراز واقع ملک میں جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی یا تجارتی تعلقات نہ ہوں، قطعی بےمصرف ہو گا۔ اسی طرح اگر حکومت اسے منسوخ کرنے یا واپس لینے کا اعلان کر دے اور کوئی شخص اسے مقررہ تاریخ سےپہلے پہلے بینک میں تبدیل نہ کرا سکے تو یہ مقامی طور پر بھی بےمصرف ہو جائے گا۔
چونکہ نقدی اتنے وسیع پیمانے پر استعمال کی جانے اور پہچانی جانے لگی، اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ شاید یا تو یہ بذاتِ خود کوئی قدروقیمت رکھتی ہے یا پھر سونے یا چاندی کی مقررہ مقدار کی یا اجناس کے کسی ذخیرے کی نمائندگی کرتی ہے — جو مفروضہ طور پر اسے کرنا بھی چاہیے۔ لیکن آج جتنی اشیا اور خدمات موجود ہیں ان سے کہیں زیادہ مقدار میں نقدی گردش میں ہے، اس لیے کہ نقدی کو خود مزید نقدی، یعنی فرضی نقدی، خریدنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قوتِ خرید نقدی کے سٹےبازوں کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے۔
بینکار، جنھیں اس صورت حال کا بہتر اندازہ ہے، کبھی لوگوں کے ذہنوں سے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیونکہ اگر لوگوں نے اصل بات جان لی تو بینکاری کی خدمات کا منافع کم ہو جائے گا، اگرچہ یہ کم منافع جائز اور منصفانہ منافع ہو گا۔
نقدی صرف ایک عارضی قوتِ خرید کا نام ہے۔ اس پر وہ مالیت درج ہوتی ہے جس مالیت کی چیزیں اسے خرچ کر کے خریدی جا سکتی ہیں۔ یہ صرف لوگوں کے نام ایک ہدایت نامہ ہے کہ اسے اشیا اور خدمات کی خریدوفروخت اور بلوں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ گویا ایک اختیار ہے جو اس کے مالک کو مختلف قسم کے لین دین کے لیے دیا گیا ہے؛ اگر یہ اختیار واپس لے لیا جائے تو اس کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر نقدی کے جاری اور استعمال کرنے کی اتنی ساری طاقت چند افراد کے ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو یہ کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے۔

محدود دنیا کے لیے محدود نقدی
لوگوں کو یہ حقیقت پوری طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایک ضروری مقصد پورا کرنے کے باوجود نقدی ایسی چیز ہے جسے غلط طور پر استعمال کیا جانا آسان ہے۔ اس کے نتیجے میں اس قسم کی فرضی دنیا کا تصور پیدا ہو گیا ہے جہاں اشیا اور خدمات کی لامحدود افزائش ممکن ہے۔
انسان نے ایسی ٹیکنالوجیاں ایجاد کر کے جن کے ذریعے زمین کی حیاتیاتی پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے، پیداواری ماحول کو پہلے ہی اتنا زہرآلود، مسخ اور تباہ کر ڈالا ہے کہ اس کا نتیجہ بھوک، شدید مفلسی اور کم از کم ایک ارب لوگوں کے روزی کمانے کے ذریعوں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ بینکاروں، سرمایہ کاروں، سٹےبازوں، مجرم حکومتوں اور کمزور جمہوریتوں کے یہ کرتوت ہی ہیں جن سے لوگوں کو بچانا ضروری ہو گیا ہے۔
بینکاری کی خدمات کی ضرورت مستقبل میں بھی پڑتی رہے گی۔ بینکاری کا اصلاح شدہ نظام زیادہ بڑی یا تمام آبادی کو خدمات فراہم کر کے منافع حاصل کرنا جاری رکھ سکتا ہے، بجاے اس کے کہ موجودہ نظام کی طرح گاہکوں کی ایک محدود تعداد کا خون نچوڑتا رہے۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد، جو آج حاشیے پر دھکیل دی گئی ہے، قرض کی سہولت حاصل کر سکتی ہے جو آج اسے حاصل نہیں، کیونکہ اصلاح شدہ صورت میں بینکاری منافع کمانے کے ساتھ ساتھ سماجی ذمےداری بھی پوری کرے گی۔

امریکہ میں 2008-9 کا بحران
جیساکہ اپنی کتاب THE DEATH OF BANKING میں ایک مالیاتی تجزیہ کار ہانس شِشٹ نے خلاصہ کیا ہے، ’’چونکہ بینکار کے پاس جتنا سرمایہ موجود ہو، اسے اس کے کئی گنا کے برابر قرض جاری کرنے کا اختیار بخش دیا جاتا ہے، اور بینکوں کے گروہ، اور سنٹرل بینکوں کو ٹریژری کاغذات کے بدلے میں نئی کاغذی نقدی جاری کرنے کا لائسنس دے دیا جاتا ہے، اس سے ان کو ہمیشہ ہمیشہ مفت میں عیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔‘‘ ہانس ششٹ نے مالیات کی دنیا کا اندرسے مشاہدہ کیا تھااور پایا تھا کہ ’’کھیل اتنا مرکز تک محدود اور گہرا ہو چکا ہے کہ امریکی بینکاری اور تجارت کا بڑا حصہ اب چند افراد پر مشتمل ایک چھوٹے سے مرکزی دائرے کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔‘‘
ششٹ نے اس کھیل کو ایک نام بھی دیا ہے: ’’مکڑی کا جالا‘‘، کیونکہ اس کھیل کے تمام پہلو ایک دوسرے سے اسی طرح جُڑے ہوے ہیں جیسے مکڑی کے جالے میں تار ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس نے بین الاقوامی بینکاروں کے طریقۂ واردات کے چار اجزا کی نشان دہی کی ہے:
1۔ دولت کے ارتکاز کو نظروں سے اوجھل رکھنا: یعنی یہ کہ تمام سودوں اور اثاثوں کی ملکیت کے بارے میں ممکنہ حد تک رازداری برقرار رکھی جائے۔
2۔ کمپنیوں کے مرجر، ٹیک اوور، قرضوں سے منسلک شرائط اور چین شیئرہولڈنگ کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم رکھنا (چین شیئرہولڈنگ سے مراد یہ ہے کہ ایک کمپنی دوسری کمپنی کے شیئر رکھتی ہو اور دوسری کمپنی مزید کمپنیوں کے)۔
3۔ انتظامیہ پر اپنی سخت اور براہ راست گرفت قائم رکھنا اور طریقۂ واردات کے بارے میں اندر کے صرف چند افراد کو (اور وہ بھی نامکمل) معلومات میں شریک کرنا۔
4۔ نقدی کی رسد کو کنٹرول کرنا اور نئی نقدی جاری کرنا، لیکن ظاہر یہ کرنا کہ یہ کام حکومت کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔

تخیل کے ڈیری ویٹو
آج کی مالیاتی تنظیمیں اب نت نئی قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی ہیں۔ اگرچہ بیشتر بینک عام لوگوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں، لیکن بعض کا تعلق صرف خاص قسم کے شعبوں سے ہوتا ہے، مثلاً زراعت، صنعت، مائیکرو فنانس، وغیرہ۔ کچھ خود کو اندرون ملک منڈیوں تک محدود رکھتے ہیں یعنی وہ قومی یا صوبائی سطح کے بینک ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے ادارے ہیں جنھیں روایتی معنوں میں بینک کہا ہی نہیں جا سکتا، یعنی جو روزمرہ کے گاہکوں کو خدمات فراہم ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی خدمات بڑے اسٹیک ہولڈروں کی ایک بہت قلیل تعداد کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ انھوں نے مختلف قسم کے گاہکوں کے لیے ان کی جیبوں کے لحاظ سے مختلف شرائط و ضوابط اور میعاد کے تحت ’نقدی پیدا کرنے‘ کے بیسیوں نت نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔
اس مقصد کے لیے دوسرے لوگوں کی امانتاً جمع کرائی ہوئی رقموں کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بینکوں کا اپنا سرمایہ لگانے کا رسک نہیں لیا جاتا۔ اس قسم کی سرمایہ کاری کو ’ڈیری ویٹو‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ سرمایہ کاری کی دوسری اسکیموں سے نکلنے والی ضمنی شاخوں کی حیثیت رکھتی ہے — اور اس اصطلاح سے اس حقیقت کی پردہ پوشی ہو جاتی ہے کہ یہ مشکوک نوعیت کی سرمایہ کاری ہے۔ یہ ایک طرح کے جوئے بازی کے کیسینو ہیں جن میں دنیابھر کے اسٹاک ایکسچینجوں کی فہرستوں میں درج اشیا کی خریدوفروخت کی جاتی ہے، اور ان چیزوں میں مستقل یا لمبے عرصے کی سرمایہ کاری کرنا سٹےباز کا مقصد نہیں ہوتا، اس لیے اسے اس سے کوئی براہ راست دلچسپی بھی نہیں ہوتی۔ اس سٹےبازی کا مقصد صرف کسی چیز کو کم قیمت پر خریدنا اور زیادہ قیمت پر بیچ دینا ہوتا ہے — اور اس کے لیے دوسرے لوگوں کی رقموں یا اثاثوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
کچھ لوگ صرف بین الاقوامی کرنسیوں کے باہمی اتارچڑھاؤ پر رقم لگاتے ہیں۔ ان سٹےبازوں کو مختلف کرنسیوں کے بڑے بڑے ذخیروں پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے جو لازمی طور پر ان کے اپنے نہیں ہوتے۔ وہ اس پر نظر رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے مقابلے میں کون سی کرنسیاں اوپر چڑھ رہی ہیں اور کون سی گر رہی ہیں۔
اس بار سٹےباز کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے اور اس کا نتیجہ 2008 کے کریش کی صورت میں نکلا۔ کسی کرنسی کی قیمت کا انتہائی بلندی پر چلا جانا اور وہاں سے نچلی ترین سطح پر گر جانا شاید کوئی اتنی بڑی بات معلوم نہ ہوتی ہو۔ لیکن سودے چھوٹی موٹی رقموں کے نہیں بلکہ بہت بڑی بڑی رقموں کے کیے جاتے ہیں، تاکہ نفع کی رقم بھی بہت بڑی ہو۔ یہ ایک رسک سے بھرپور کھیل ہے کیونکہ یہ حقیقی اشیا اور خدمات کی قدر کو اٹھاتا اور گراتا ہے، اور یہاں تک کہ ان کی قیمت اکثر ان کی اصل مالیت یا قدر کی عکاسی نہیں کرتی۔
تھوڑابہت اوپر نیچے ہونے یا قیمت گھٹنے کے بعد عام طور پر کسی کرنسی سے اپنی جگہ پر بحال ہو جانے کی توقع کی جاتی ہے — سواے ایسی صورت کے کہ متعلقہ معیشت یا ریاست ہی ناکام ہو گئی ہو۔ چنانچہ سٹےباز کسی گرتی ہوئی قیمت والی کرنسی کو بڑے پیمانے پر خریدنے کے لیے مناسب موقع تلاش کرتے ہیں جب بےخبر پبلک اسے گھبرا کر جلدی سے بیچ دینے کی فکر میں ہو۔ اس کے بعد وہ اسے اس وقت تک اپنے پاس رکھتے ہیں جب اس کی قیمت دوبارہ چڑھنے لگے، اور جب وہ اپنی پرانی قیمت پر یا اس سے اوپر آجاتی ہے تو وہ اسے بیچ کر بھاری منافع کماتے ہیں۔
چونکہ قیمتوں کا اتارچڑھاؤ چند گھنٹوں یا چند دنوں کے اندر اندر واقع ہو سکتا ہے، اس لیے فیصلے بڑی تیزی سے، یعنی چند منٹ یا چند سیکنڈ میں کرنے ہوتے ہیں، کیونکہ بیک وقت بہت سے سٹےباز تیزرفتار کمپیوٹروں کے اسکرینوں پر اسی اتارچڑھاؤ پر نظریں گاڑے بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کے کمپیوٹر دنیابھر کے اسٹاک ایکسچینجوں سے براہ راست منسلک ہوتے ہیں۔ کاغذی کرنسی کی قیمت کی بنیاد ویسے بھی کسی داخلی قوت پر تو ہوتی نہیں۔
کرنسی کی منڈی ایسی ایماندار نہیں کہ یہ راز فاش کر دے کہ یہ سارا سٹہ سٹےبازوں کی اپنی رقم سے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کی رقموں سے کھیلا جاتا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے انھیں سونپی گئی ہوتی ہیں۔ چونکہ وہ بیشتر صورتوں میں بازی ہارنے نہیں بلکہ جیتنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے وہ کچھ زیادہ ہی پراعتماد ہو کر نامناسب رسک لے بیٹھتے ہیں۔ چند سال پہلے ایک نوجوان ملازم کے ہاتھوں اسی قسم کی غیرذمےدارانہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک دو سو برس پرانا بینک (بیرنگس) صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔
پاکستان اور بہت سے دوسرے غریب ملکوں کی خوش قسمتی ہے کہ وہ 2008-9 کے امریکی مالیاتی کریش سے کچھ زیادہ متاثر نہیں ہوے، لیکن اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب تک اس انتہائی درجے کی سٹےبازی کے اوزار مہیا نہیں۔ بہرحال اس سے ہمیں یہ سبق ضرور حاصل ہو سکتا ہے کہ ہم مستقبل میں بھی اس طرح کی نوبت نہ آنے دیں۔
اگر اسے لالچ کی ایک انتہائی مثال کے طور پر دیکھا جائے جو کوئی سماجی مقصد پورا نہیں کرتی اور سنگین نقصان کا باعث ہوتی ہے، تب یہ بات معقول معلوم ہونے لگتی ہے کہ اسلام میں ، اور اس سے پہلے عیسائیت میں بھی، سودخوری کو حرام قرار دیا گیا ہے، اور ان دونوں مذاہب سے پہلے ارسطو نے بھی اسے ناجائز قرار دیا تھا۔
ایک زمانہ تھا کہ امریکی بینکاری نظام صنعت اور زراعت کو پیداواری قرضے فراہم کرتا تھا۔ آگے چل کر سٹےبازی اس کا اصل پیشہ بن گیا۔ آج ڈیری ویٹوز کی نام نہاد ’مالیت‘ 370 ٹریلین ڈالر کے برابر ہو چکی ہے۔ اس میں سے بیشتر کوئی حقیقی وجود نہیں رکھتی کیونکہ پوری امریکی معیشت کی سالانہ پیداوار صرف 13 ٹریلین ڈالر ہے، یعنی ڈیری ویٹوز کے دعوے کے اٹھائیسویں حصے کے برابر۔ یہ صرف کمپیوٹر اسکرین پر لگائی جانے والی اعداد کی بازیاں ہیں، جن کے ذریعے منڈیوں کو اوپرنیچے کر کے، کمپنیوں کو ٹیک اوور کر کے اور اچھے خاصے چلتے ہوے پیداواری کاروباروں اور صنعتوں کو بلاوجہ تلپٹ کر کے انھیں دوبارہ بیچا جاتا ہے تاکہ سٹےبازوں کو فوری نفع حاصل ہو سکے اور مسابقت کرنے والوں کو، خواہ وہ کمپنیاں ہوں یا پوری پوری معیشتیں، تباہ کیا جا سکے۔
ڈیری ویٹو بڑی بڑی رقموں کو اِدھر سے اُدھر کرنے اور پلک جھپکتے میں مالامال ہونے کی ترکیبیں ہیں، لیکن جب انھیں زیادہ دور تک کھینچا جائے تو ان کا نتیجہ کروڑوں عام لوگوں کے رہن رکھے ہوے مکانوں، زندگی بھر کی بچت، پنشن، اور انشورنس کے پیسے سے محروم ہونے کی صورت میں نکلتا ہے، جیساکہ 2008-9 میں امریکہ میں ہوا۔ اس کے بعد ذمےدار سیاست دانوں اور صارفین کی پیروکاری کی انجمنوں نے مالیاتی نظام کی اصلاح اور ڈیری ویٹوز کو زیادہ سختی سے ضوابط کے دائرے میں لائے جانے کا مطالبہ کیا۔ پچھلے سال سے مالیاتی دنیا کے ایک ہزار سے زیادہ لابی اسٹ جن میں امریکہ کے پانچ سب سے بڑے بینک، بڑی بڑی تجارتی انجمنیں اور امریکی چیمبر آف کامرس شامل ہیں، اس مہم کو ناکام بنانے میں لگے ہوے ہیں۔
سونا اب کرنسی کے معاملے سے خارج ہو چکا ہے لیکن ایک قیمتی جنس اور نقدی کے بیک اپ کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوے ہے۔ آج زیادہ بھروسا کسی ملک کی کرنسی پر پشت پر کارفرما معاشی طاقت پر کیا جاتا ہے، مثلاً صنعتی ترقی یافتہ ملکوں کی کرنسیوں پر۔ اس سے کم درجے کی کرنسیاں بھی اپنے اپنے ملک کی سرحدوں کے اندر اسی طرح کام کرتی ہیں۔
2006 تک آتے آتے امریکی حکومت کا قرض ساڑھے آٹھ ٹریلین ڈالرتک پہنچ چکا تھا۔ اگر اس میں شخصی اور کارپوریٹ قرضوں کو بھی جوڑ لیا جائے تو ان کا حاصل جمع 44 ٹریلین ڈالر نکلتا ہے، یعنی امریکہ کی کل سالانہ قومی آمدنی کا چار گنا۔
قابل احترام تاریخ داں کیرول کوئگلی نے 1966 میں اس کا مختصر لیکن جامع خلاصہ یوں بیان کیا تھا: ’’مالیاتی سرمایہ داری کی طاقت کا ایک اور دوررس مقصد ہے، یعنی یہ کہ ایک عالمی مالیاتی نظام قائم کیا جائے جس کا کنٹرول چند پرائیویٹ ہاتھوں میں ہو جو ہر ملک کے سیاسی نظام اور مجموعی طور پر پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کریں۔ اس نظام کو جاگیردارانہ انداز سے دنیا کے سنٹرل بینکوں کے گٹھ جوڑ اور پرائیویٹ اجلاسوں میں ہونے والے خفیہ فیصلوں کی بنیاد پر چلایا جانا تھا۔ اس نظام کی چوٹی پر بازیل، سوئٹزرلینڈ، میں واقع بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کو ہونا تھا جو ایک پرائیویٹ بینک ہے جس کی ملکیت اور کنٹرول دنیا کے سنٹرل بینکوں کے ہاتھ میں ہے جو بجاے خود پرائیویٹ کارپوریشنیں ہیں۔ ہر سنٹرل بینک اپنے ملک کی حکومت پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا تھا اور اس کے لیے ٹریژری قرضوں پر کنٹرول، زرمبادلہ کے اتارچڑھاؤ، ملک میں ہونے والی معاشی سرگرمی پر اثرانداز ہونے اور معاون سیاست دانوں کو تجارتی دنیا کی جانب سے انعامات کے ذریعے اپنے اثر میں لانے کے طریقے استعمال کرتا تھا۔‘‘
دنیا کا کوئی بھی ترقی یافتہ یا غیرترقی یافتہ ملک (بشمول پاکستان) لے لیجیے، ہر جگہ آپ کو ایک ہی جیسے نتائج دکھائی دیں گے، جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہر جگہ ایک ہی جیسے حالات پیش آئے ہیں۔
یہاں تک کہ THE INSIDERS: ARCHITECTS OF THE NEW WORLD ORDER نامی کتاب کے مصنف، اور دائیں بازو کی کمیونسٹ دشمن جان برچ سوسائٹی کے صدر، جان ایف میک مینس نے، جو حکومت کے محدود کردار اور شخصی آزادی کی وکالت کرتے ہیں، سرد منطق کے ساتھ اتفاق کیا کہ:
حکومت کے قرضے حکومت کے کنٹرول کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس بات پر غور کریں: قرض کا نتیجہ ٹیکسوں کی صورت میں نکلتا ہے تاکہ قرضوں کا سود ادا کیا جا سکے۔ ٹیکسوں سے وہی حکومت جس نے پہلے قرض حاصل کیا تھا، عوام پر اپنا معاشی کنٹرول بڑھا دیتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا انتہاپسندی نہیں کہ بڑھتا ہوا قرض ایک باقاعدہ منصوبے کا حصہ ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے نیا عالمی نظام قائم کرنے کا منصوبہ۔
ایک طرف ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ترقی پذیر دنیا کو کنٹرول کرنے کے آلے بن گئے ہیں تو دوسری طرف ان کو جنم دینے والے بین الاقوامی بینکار امریکہ کو خود اس کے اندر سے کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہ بات سن کر بہت سے لوگ حیران ہوں گے لیکن فیڈرل ریزرو کی بدولت، جو درجن بھر بینکوں کا ایک پرائیویٹ کنسورشیم ہے، امریکہ آج دنیا کا مقروض ترین ملک بن چکا ہے۔
امریکہ پر صنعتی، بیوروکریٹک فوجی گٹھ جوڑ کا اتنا کنٹرول نہیں رہا جتنا مالیاتی کارپوریٹ فوجی گٹھ جوڑ کا ہے، جس کی قیادت بینکوں کے کارٹل (گروہ) کے ہاتھ میں ہے۔
امریکہ اگر اب بھی چل رہا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ اس کارٹل کا ایک بڑا مرکز ہے (دوسرا بڑا مرکز یوروپ ہے) — یعنی جالوت کا وہ کندھا جس پر بینکوں کا یہ عالمی کارٹل بیٹھا ہوا ہے اور جہاں سے وہ اپنی لگام کے ذریعے اسے کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کا قائم رہنا اور قائم نہ رہنا، دونوں باتیں ممکن ہیں کیونکہ بین الاقوامی بینکاروں نے، جو تقریباً تریسٹھ ہزار ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور امریکی جنگی مشین کو سہولیات فراہم کرتے ہیں، خود کو انتہائی بڑے رِسک میں گرفتار کر لیا ہے۔ وہ یہ بات ہمیشہ بھول جاتے رہے ہیں کہ ہماری دنیا ایک محدود دنیا ہے، اور انسان کی بنائی ہوئی ضرورتیں اور آسائشیں، انسانی محنت اور اربوں انسانوں کی ممکن بنائی ہوئی منڈیوں کے بغیر نہ تو پیدا کی جا سکتی ہیں اور نہ انھیں بدلتے ہوے حالات، مثلاً قلت کی صورت حال کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

نظام کی اصلاح
ڈاکٹر کیرول کوئگلی نے، جو سابق صدر کلنٹن کے صلاح کار بھی تھے، بہت سے عالمی فنانسروں کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بینکاروں کا مقصد ’’اس سے کم کچھ نہیں کہ مالیاتی کنٹرول پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا ایک عالمی نظام تخلیق کیا جائے جو ہر ملک کے سیاسی نظام اور مجموعی طور پر دنیا کی معیشت پر غلبہ حاصل کر سکے — اور خود اس نظام کا کنٹرول جاگیردارانہ انداز سے دنیا کے سنٹرل بینکوں کے گروہ کے ہاتھ میں ہو جو خفیہ سمجھوتے کے تحت کام کرتے ہوں۔‘‘
ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور عالمی انوسٹمنٹ بینکوں کے ذریعے یہی کام کیا گیا ہے۔ اس کامیابی کا راز ایک ملک کے نقدی کے نظام پر اس طرح کنٹرول اور غلبہ حاصل کرنا ہے کہ لوگ یہ گمان کریں کہ یہ کام حکومت کر رہی ہے۔
کئی دہائیوں سے جاری اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کے ہاتھوں پورے پورے ملکوں اور ان کی معیشتوں کی تباہی کے بعد بیشتر لوگ جان گئے کہ ان کی اپنی حکومتیں، حتیٰ کہ منتخب حکومتیں بھی، پوری طرح بااختیار نہیں ہیں، اور زیادہ تر اپنے ان آقاؤں کے اشارے پر کام کرتی ہیں جو اب اتنے زیادہ پوشیدہ نہیں رہے۔ لیکن یہ علم انھیں بہت تاخیر سے ہوا ہے جب بہت سا نقصان پہنچ چکا ہے۔
علم رکھنے والے بےشمار لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بینکاری کا نظام ان لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا جو زیادہ سے زیادہ طاقت اور دولت کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے تھے۔ اس کے ناخوشگوار نتائج آج سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر قومی حکومتیں اس نظام کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتی تھیں۔ یا پھر ایسا تھا کہ انھیں جو اقدامات کرنے کو کہا گیا تھا ان پر انھوں نے کوئی سوال نہیں اٹھایا۔
غیرترقی یافتہ ملکوں نے مغربی بینکاری نظام کو (اور اس کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل مثلاً جنگلات اور معدنیات کے استحصال کو) نوآبادیاتی نظام کی توسیع کے طور پر قبول کر لیا۔ ترقی کے عمل میں وہ قدرت پر سب انسانوں کا پیدائشی مشترکہ حق تسلیم کرنے والے کلچر کو رفتہ رفتہ ترک کرتے گئے۔ جب تک ہم اس اجنبی نظام کو، جسے ہم نے جوں کا توں اپنا لیا ہے، نئے سرے سے پرکھنے اور درست کرنے کا کام شروع نہیں کرتے، اس وقت تک ہمیں اسی انجام کی توقع کرنی چاہیے جو اس نظام کے تحت دوسرے ملکوں کا ہوا ہے۔ امریکہ اب وہ سرزمین نہیں رہا جس کا خواب دیکھا جاتا تھا — اس نے بھی تمام نوآبادیاتی طاقتوں کی طرح اپنی دولت اور معاشی خوشحالی بڑی حد تک دوسروں کے وسائل کو لوٹ کر (اور ان کے علاقوں پر قبضہ کر کے)حاصل کی ہے۔
آج امریکہ کے دولتمند ترین اور طاقتورترین افراد خود اپنے ہم وطنوں کا خون نچوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے — آج امریکہ کے 83 فیصد اسٹاک صرف ایک فیصد افراد کےقبضے میں ہیں۔2001 اور 2007 کے درمیانی عرصے میں آمدنی کی افزائش کا دوتہائی حصہ صرف ایک فیصد امریکیوں کی جیبوں میں گیا؛ نچلے پچاس فیصد باروزگار امریکی سب ملا کر ایک فیصد سے کم قومی دولت کے مالک ہیں۔
ساٹھ برس پہلے ایک اوسط درجے کا ایگزیکٹو ایک اوسط درجے کے مزدور کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ کماتا تھا؛ 2000 میں یہ تناسب بڑھ کر 300 گنا ہو گیا، اور آج 500 گنا تک جا پہنچا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اوسط ایگزیکٹو نے وہ آمدنی ہتھیا لی ہے جو 500 دوسرے افراد یا خاندانوں کی روزی کا ذریعہ بن سکتی تھی۔ بیس فیصد سے زیادہ امریکی بچے وہاں کی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اوسط امریکی خوشحال نہیں بلکہ غریب ہوتا جا رہا ہے، اور یہ عمل اس غیرمنصفانہ مالیاتی نظام کا پھل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کارپوریشنوں کے ان فیصلوں کا جن کے تحت وہ روزگار اور سرمایہ کاری کو امریکہ سے باہر دنیابھر میں پھیلاتے جا رہے ہیں۔

موت، مصائب اور غلط ہتھکنڈوں سے دولت کمانا
امریکہ میں 2008-9 کے مالیاتی بحران سے مصائب کا شکار ہونے والے جو لوگ بھی ہوں، بڑے بینک ہرگز نہیں تھے۔ ان بینکوں کو امریکی حکومت نے ٹیکس گذاروں کا پیسہ استعمال کر کے مشکل سے نکال لیا — یہ رقم پہلے مرحلے میں 700 بلین ڈالر تھی — جبکہ چھوٹے بینک اور دیگر کاروبار جو متواتر بند ہوتے جا رہے ہیں، ان کی قطعی مدد نہیں کی گئی۔
جب ہزاروں کمپنیاں دیوالیہ ہونے لگیں، اور لاکھوں ملازمین کو برطرف کرنے پر مجبور ہو گئیں، تو بےروزگار ہونے والے لوگ اپنے رہن رکھے ہوے مکانوں کے قرضوں کی قسطیں وقت پر ادا نہ کر سکے، جو بڑے قرضے حاصل کرنے کا مقبول طریقہ تھا۔ بینکوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ان قرضوں کی ادائیگی کو ملتوی کر دیں گے تاکہ قرضداروں کو روزگار حاصل کر کے آمدنی پیدا کرنے کی مہلت مل سکے۔
لیکن بینک اتنے سماجی طور پر ذمےدار ثابت نہیں ہوے جیساکہ کارپوریٹ اشتہاربازی ان کے بارے میں دعوے کرتی تھی، اور انھوں نے لوگوں کے مکانات کو ان کی اصل مالیت کے ایک ذرا سے حصے کے بدلے ہتھیانا (اور پھر فوراً ہی انھیں اصل مالیت یعنی کئی گنا قیمت پر بیچنا) شروع کر دیا۔ آج امریکی تاریخ میں پہلی بار بینکوں کی ملکیت میں اتنے رہائشی مکانات ہیں جتنے امریکی شہریوں کے پاس انفرادی طور پر بھی نہیں ہیں — اور ان کو ان کے سابقہ مالکوں کی زندگیاں برباد کر کے ہتھیایا گیا ہے۔
اس طرح لاکھوں لوگ اپنے مکانوں سے محروم ہو چکے ہیں اور اب تک ہو رہے ہیں۔ ایک عورت اپنے لاکھوں ڈالر کے مکان سے صرف اس بنا پر محروم ہو گئی کہ وہ تین سو ڈالر کا ایک یوٹیلٹی بل ادا نہ کر سکی! اس مالیاتی بحران کے نتیجے میں بڑے بینکاروں نے بےشمار طریقوں سے 23 ٹریلین ڈالر کمائے جن کا ذکر اس سے پہلے کبھی سنا بھی نہیں گیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ مکانوں اور دوسری جائیداد پر قبضہ کرنے کا تھا جو دنیابھر میں کسی بھی فرد کا سب سے مہنگا اثاثہ شمار کیا جاتا ہے۔

روزویلٹ اور بینکاروں کی ’ڈیل‘
صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (1882-1945) کو سب سے زیادہ اس کی ’نئی ڈیل‘ (1933-8) کے لیے جانا جاتا ہے جو اس زبردست کسادبازاری کے بعد جسے ’دی گریٹ ڈپریشن‘ کہا گیا اور جس کے ہاتھوں ہر طرف بےروزگاری اور غریبی پھیل گئی تھی، امریکی عوام کو پیش کی گئی۔ اس منصوبے کے تحت بڑے پیمانے پر پبلک ورکس (عوامی تعمیرات) کے ذریعے لوگوں کو روزگار دیا گیا اور معیشت کو بحال کیا گیا۔ لیکن اس کے ایک اور اقدام کو اتنی زیادہ شہرت حاصل نہیں ہوئی جو اس نے بینکاروں کے خلاف اٹھایا تھا جنھیں وہ اس معاشی بدحالی کا ذمےدار گردانتا تھا۔
روزویلٹ نے بینکوں کو اس وقت تک کے لیے بند کر دیا جب تک اصلاحات اور نئی قانون سازی کا کام مکمل نہ ہو گیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی بینکوں کو کام دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی، لیکن ٹریژری کی نگرانی میں۔ بہت جلد اربوں ڈالر مالیت کا ذخیرہ کیا ہوا سونا اور کرنسی بینکوں میں واپس آنے لگی۔ روزویلٹ نے کچھ عرصے کے لیے ملک سے کرنسی کا سونے سے تعلق بھی ختم کر دیا جس کے دوران یہ لین دین کا قانونی ذریعہ نہ رہا اور سونے کے بڑے بڑے ذخیرے رکھنے والوں کو اس کے بدلے صرف ڈالر دیے گئے۔
روزویلٹ نے یہ سب کام عہدہ سنبھالنے کے پہلے سو دن کے اندر اندر شروع کر دیے۔ اس کے بعد سے اب تک ہر نئے آنے والے امریکی صدر کو اسی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے کہ پہلے سو دن میں اس کی کارکردگی کیسی رہی۔ باقی دنیا میں بھی لوگ اپنے اپنے حکمرانوں کی کارکردگی کو اسی طرح جانچنے لگے کہ انھوں نے اپنے انتخابی مہم کے وعدوں پر کس حد تک عمل کیا۔
لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ روزویلٹ نے بینکوں کے کارٹل کے خلاف کافی قدم نہیں اٹھائے کیونکہ اس نے اپنی ’نئی ڈیل‘ کے اخراجات قرض کی رقم سے پورے کیے، بجاے اس کے کہ وہ ملک کی نقدی جاری رکھنے کے خودمختار حق کو واپس لینے پر اصرار کرتا۔ سود اور قرض سے آزاد نئی نقدی تخلیق کرنے کے بجاے، جو آسانی سے کیا جا سکتا تھا، حکومت کا قرض سود کے باعث بڑھتا چلا گیا۔ بینک پہلے کی طرح ہوا میں نئی نقدی تخلیق کرتے رہے، اور روزویلٹ کے مرنے کے بعد رفتہ رفتہ انھیں پھر سے غلبہ حاصل ہو گیا۔

اوورڈرافٹ کے ذریعے انجانے قرض
کم از کم نصف صدی کے عرصے سے پرائیویٹ امریکی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے لوگوں کو آسان قرضوں پر زندہ رہنے اور اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانے کی ترغیب دیتے آ رہے ہیں۔ قسم قسم کی چیزوں میں انتخاب کی عیاشی کے زیرِاثر یہ سلسلہ غیرضروری اور نہایت غیرذمےدارانہ اصراف میں ڈھلتا گیا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بینک کا گاہک اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا، اور اسے بدعادت میں مبتلا کرنے والا بینک ساری ہمدردی چھوڑچھاڑ کر اسے قرض کے بدلے اس کے دیگر اثاثوں، مثلاً کار اور فرنیچر سے محروم کرنے پر اتر آتا ہے۔ چنانچہ افراد بہت سے غیرضروری قرضوں کے لیے براہ راست ذمےدار ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایک اور غلط رواج ظاہر ہوا ہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ تین چوتھائی امریکی بینک کبھی اپنے گاہکوں کو مطلع نہیں کرتے کہ وہ انھیں خودبخود اوورڈرافٹ دیتے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک قسم کا احسان معلوم ہوتا ہے — بشرطےکہ گاہک کو اس کا پہلے سے پتا ہو اور یہ بھی پتا ہو کہ اس کا سود کتنا ہو گا۔ بینکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گاہک کو اطلاع دیں کہ اس کا بیلنس بہت کم رہ گیا ہے، تاکہ گاہک کو اس خطرے کا سامنا نہ ہو کہ اس کا جاری کیا ہوا چیک مسترد ہو جائے۔
لیکن بیشتر امریکی بینک ایسا نہیں کرتے، بلکہ یہ پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے کہ ان کے گاہک کو اوورڈرافٹ درکار ہے یا نہیں۔ وہ بےاحتیاطی سے خرچ کرتا رہتا ہے اور اس بات سے بےپروا رہتا ہے کہ اس کے پاس بیلنس ہے یا نہیں۔ چنانچہ اسے اس وقت صدمہ اٹھانا پڑتا ہے جب بینک اس کی اگلی تنخواہ میں ایک بڑی رقم اوورڈرافٹ فیس کے طور پر کاٹ لیتا ہے، جبکہ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ اس نے ایسا کوئی قرض لے رکھا ہے۔
اپنے گاہکوں کو ادائیگی کے قابل (SOLVENT) رہنے میں مدد دینے کے بجاے امریکی بینکوں نے صرف 2009 میں 38 بلین ڈالر اوورڈرافٹ فیس کے طور پر وصول کیے۔ اوسطاً یہ فیس اتنی اونچی شرح سے وصول کی گئی جسے بینکوں کے ریگولیٹر ان قرضوں پر عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتے جو گاہک کی پیشگی منظوری سے جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بینک اوورڈرافٹ کو قرضوں میں تبدیل بھی نہیں کرتے کیونکہ اوورڈرافٹ پر وہ قیودوضوابط عائد نہیں ہوتیں جو قرضوں پر ہوتی ہیں۔چنانچہ تعجب کی بات نہیں کہ اوورڈرافٹ کا اتنا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

جدید کفن چور
امریکہ میں لائف انشورنس کی مارکیٹ کی مالیت 26 ٹریلین ڈالرہے۔ زیادہ تر لوگوں کو انفرادی اور گروپ انشورنس کے بارے میں علم ہے جس کا پریمیم ملازمت کے فوائد کے طور پر آجر ادا کرتا ہے۔اس انشورنس سے علاج معالجے اور حادثات کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔
لیکن کم ہی لوگوں نے اس مالیاتی مکینزم کے بارے میں سنا ہو گا جسے ’لائف سیٹلمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ شے نہیں ہے جسے ملازمین یا نامزد وارث کی بہبود کے کھاتے میں ڈالا جا سکے۔ یہ وہ انشورنس ہے جو اس امکان کے تحت کرائی جاتی ہے کہ کوئی ملازم ایک دن کام پر نہیں رہے گا، یعنی مر چکا ہو گا۔ یہ مندرجہ ذیل طریقے سے کام کرتا ہے: آجر اپنے ملازمین کو زمین یا مشین کی طرح کا پیداواری اثاثہ سمجھتے ہیں اور اسی طریقے سے ان کا انشورنس پریمیم ادا کرتے ہیں — ملازمین کی بہبود کے لیے نہیں بلکہ اُس موقعے پر معاوضہ خود حاصل کرنے کے لیے جب ملازم مر چکے ہوں گے، یعنی کام کے قابل نہیں رہیں گے۔ ایسا موقع آنے پر کمپنی اپنا معاوضہ انشورنس کمپنی سے وصول کر سکتی ہے۔
چونکہ نوجوان، صحتمند لوگوں سے بہت جلد مرنے کی توقع نہیں کی جاتی، اس لیے یہ اسکیم معمر اور بیمار ملازمین کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ 2009 میں کمپنیوں نے ایسے دسیوں لاکھ ملازمین کے لیے آٹھ بلین ڈالر پریمیم ادا کیا۔ لیکن کمپنیوں کو اس کا کوئی شکوہ نہیں، کیونکہ پانچ برس کے عرصے میں جب یہ ملازمین مر چکے ہوں گے تو کمپنیوں کو معاوضے کے طور پر نو بلین ڈالر ملیں گے۔ اس قسم کی اسکیم کو جائز سمجھا جاتا ہے، یہی بات صدمہ انگیز ہے۔
اب وال اسٹریٹ اس مارکیٹ سے مزید کمائی کرنا چاہتی ہے۔ وہ بیمار اور بوڑھے لوگوں کو ترغیب دے کر اس میں پھنسا لیتے ہیں اور ان کا پریمیم ایک بروکر ادا کرتا ہے، اور اس بروکر ہی کو بیمار یا بوڑھے شخص کے مرنے کے بعد انشورنس کی رقم ہاتھ آتی ہے۔ ایک ملین ڈالر کی پالیسی کے لیے کوئی بروکر چار لاکھ ڈالر تک ادا کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ امریکہ کا مالیاتی نظام سچ مچ مریضانہ اور مسخ ہو چکا ہے۔

سماجی طور پر ذمےدار بینک سے کیا توقع کی جاتی ہے؟
چونکہ خریدوفروخت، بیوروکریسی اور گورننس، ڈویلپمنٹ اور مینٹےننس، اور مزدوری، اشیا اور خدمات کے عوض ادائیگی زندگی کے ہر میدان میں، پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں میں پیش آنے والی چیزیں ہیں، اس لیے کچھ باتیں ایسی ہیں جنھیں یقینی بنانا ہر حکومت پر لازم آتا ہے۔
ایک، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہر ایک کے استعمال کے لیے نقدی کی کافی مقدار گردش میں رہے۔ کتنی نقدی کو گردش میں رہنا چاہیے، یہ طے کرنے کے بینکاروں کے پاس اپنے فارمولے ہوتے ہیں — اور ان فارمولوں میں بےروزگار اور بےکس افراد کی بہبود کی اسکیمیں شامل نہیں ہوتیں۔ آدرشی طور پر گردش میں موجود نقدی کی مقدار خرچ کرنے والے افراد کی آبادی کو نظر میں رکھ کر متعین کی جانی چاہیے؛ لیکن اس کا تعلق اس سے بھی ہونا ضروری ہے کہ کون سی اشیا اور خدمات خریدے اور بیچے جانے کے لیے دستیاب ہیں — یعنی صنعتوں، کارخانوں اور خدمات کی اصل پیداوار کتنی ہے — اور حیاتیاتی وسائل کو حقیقت پسندانہ طور پر کس حد تک دوبارہ پیدا کیا جا سکتا ہے؛ ہر موسم میں ان کی ایک مخصوص مقدار پیدا ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اس حساب میں غیرملکی قرضوں کی تبدیل شدہ شکل شامل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ قرضے مقامی طور پر کسی ٹھوس شے کے برابر نہیں ہوتے۔
لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ نقدی کو گردش میں لانے کے لیے ان سب باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بینک فرضی نقدی کو حقیقی اشیا اور خدمات کے مقابلے میں نو یا دس گنا بڑھا لیتے ہیں۔ غریب افراد کی قوتِ خرید گھٹ کر صفر کے برابر رہ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی نیک نیت حکومت بھی ہو تو وہ اتنی نقدی کو گردش میں نہیں رکھ سکتی جو تمام شہریوں کے لیے کافی ہو اور جس میں ہر ایک کے لیے بنیادی آمدنی بھی شامل ہو۔ نظام اس بات کو یقینی نہیں بناتا کہ ہر شخص کی جائز ضرورتیں پوری ہوں۔ مثال کے طور پر زیادہ نقدی رکھنے والے لوگوں کی ایک قلیل تعداد اشیا (یہاں تک کہ انتہائی ضرورت کی اشیا) کی اجارہ داری اور ذخیرہ اندوزی کر سکتی ہے، اور انھیں اس وقت تک کے لیے منڈی سے غائب کر سکتی ہے جب قیمتیں چڑھ کر عام لوگوں کی پہنچ سے باہر نکل جائیں۔ یہ پاکستان میں اور دوسری جگہوں پر اکثر ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا ضروری اشیا کو اجارہ داروں اور کاروباری گروہ بندیوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دینا چاہیے اور جب ضروری اشیا کی قلت ہو تو ان کی راشننگ کی جانی چاہیے۔
حکومتیں اکثر صورتوں میں غیرملکی تجارت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتی ہیں، جیساکہ پاکستان کی حکومت۔ برآمد کے لیے اشیا تیار کرنے کے لیے خام مال اور لیبر میں مقامی سرمایہ لگایا جاتا ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملکی معیشت میں واپس داخل نہیں ہوتا، اور انسانی ترقی کے لیے تو قطعی استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کا بیشتر حصہ عالیشان اور خودغرضانہ پروجیکٹس میں لگا کر ضائع کر دیا جاتا ہے یا اقتدار پر فائز افراد کے پُرتعیش طرزِ زندگی میں صرف ہو جاتا ہے جو نہ اس سرمائے کے مالک ہیں اور نہ اس پر استحقاق رکھتے ہیں۔
اس پس منظر میں ہماری حکومتوں کا خرچ کرنے کا طریقہ کسی بھی طرح معقول نہیں کہا جا سکتا۔ عام طور پر برآمدات کو درآمدات کے برابر ہونا چاہیے؛ یعنی جتنا زرمبادلہ کمایا گیا ہے اس سے زیادہ کی غیرملکی اشیا نہیں خریدی جانی چاہییں، ورنہ مالیاتی استحکام برقرار نہیں رہ سکتا۔

مفید اور مضر ٹیکس
دوسرے یہ کہ حکومت کو عوامی ریوینیو جمع کرنے کے لیے مختلف قسم کے ٹیکسوں اور چارجز کو استعمال کرنا چاہیے تاکہ وہ عوامی ضروریات پر ہونے والے سرکاری اخراجات پورے کر سکے — کیونکہ حکومت آخر اسی کام کے لیے ہوتی ہے۔ اس کی اصل ذمےداریاں صحت کی سہولیات، پانی کی فراہمی اور نکاس، یوٹیلیٹیز، اسکول اور تکنیکی تعلیم، پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی تعمیر کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ (بیشتر جمہوری ملکوں میں، مثلاً یوروپ کے بڑے حصے میں، سرکاری ٹیکس اور اخراجات کل داخلی پیداوار کے 40 سے 50 فیصد حصے پر مشتمل ہوتے ہیں۔)
پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے جو رقم رکھی جاتی ہے وہ شرمناک حد تک قلیل ہے۔ یہ شعبے بدقسمتی سے بری طرح نظرانداز کر دیے جاتے ہیں، جس کی وجوہ میں اقرباپروری اور غریبوں سے بےتوجہی بھی شامل ہیں، لیکن آج اس کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہے جو حکومت کو غذا جیسی چیزوں پر ٹیکس بڑھانے پر (جس سے غریب باشندے بری طرح متاثر ہوتے ہیں) اور سماجی شعبوں میں اخراجات اس غیراخلاقی حد تک کم کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ملک کی آبادی کو خدمات فراہم کرنا ممکن ہی نہیں رہتا، جبکہ یہ حکومت کا فرض ہے۔ جب تجارتی شعبے کو احساس ہوتا ہے کہ اس پر غیرمعقول ٹیکس لگائے جا رہے ہیں — اور واقعی ٹیکس غیرمعقول اور جانبدارانہ طریقے سے لگائے جاتے ہیں جبکہ بعض شعبے، مثلاً زراعت، ٹیکس سے بالکل بچ نکلتے ہیں — تو وہ ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں جو کرپٹ ٹیکس اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا بےتحاشا ٹیکس لگانا غیرموثر ثابت ہوتا ہے۔

آلودگی، ضیاع اور ناقابلِ تجدید چیزوں پر ٹیکس
لیکن ریوینیو جمع کرنے کے بہتر طریقے بھی موجود ہیں۔ اگر محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کے ہاتھوں ناقابلِ تجدید ہوتے جانے والے وسائل کی دنیا میں تجارتی اور صنعتی اداروں کو اپنا مفید اور نفع بخش کام جاری رکھنا ہے تو ان متبادل طریقوں کو اختیار کرنا روزبروز لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت اور کارخانہ داروں کے ذہن سے یہ بات نکل جاتی ہے کہ وہ بھی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل مثلاً پانی اور پانی کے ذخیرے، جنگل اور ہوا کو استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔
جدید ٹیکنالوجیوں کو کسی بھی اعتبار سے غیرمضر نہیں کہا جا سکتا؛ ان سے ان کے صارفین کو کتنی بھی مسرت حاصل ہوتی ہو، ان سے کہیں زیادہ تعداد میں غیرصارفین کو ان ٹیکنالوجیوں سے نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ ان میں معدنی ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جس سے زہریلی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ معدنیات — مثلاً کوئلہ، پٹرولیم، گیس اور ٹمبر — نکالنے والی صنعتیں ان وسائل کی قیمت ادا نہیں کرتیں، جبکہ یہ عوام کی مشترکہ ملکیت کی چیزیں ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتوں کو کھلی چھٹی دینا بند کر دیا جائے اور ان کی نکالی ہوئی معدنیات کے لحاظ سے ان پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں، کیونکہ وہ ان چیزوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں جو دوسرے افراد، خاندانوں اور پوری برادریوں کے استعمال میں آ سکتی تھیں لیکن اب وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔
اس قسم کی تجویزیں زیادہ سے زیادہ سامنے آنے لگی ہیں کہ ٹیکسوں، آمدنیوں اور منافعوں کی سطح اتنی نیچی کر دی جائے کہ عوام اور کاروباری ادارے آسانی سے ان کو ادا کر سکیں، اور اس کے بجاے ان چیزوں پرحجم اور مالیت کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے جو یہ مشترکہ وسائل میں سے اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ اگر ماحول کو معدنیات نکالنے کے عمل سے پہنچنے والے نقصان اور آلودگی سے بحال کرنا ہے تو یہ ٹیکس لگانا لازمی ہے۔اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ سرکاری رقم ناقابلِ تجدید وسائل کی ری سائیکلنگ کے لیے مختص کی جانی چاہیے۔
جس طریقے سے نئی نقدی تخلیق کی جاتی ہے اسی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ اسے کون استعمال کر سکے گا، یہ کن چیزوں پر صرف ہو گی اور کون اس سے منافع کمائے گا۔ عام طور پر اس سے فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس پہلے سے بہت دولت موجود ہے — چنانچہ وہ قرض لینے اور دینے والے دونوں کے لیے زیادہ منافع پیدا کر سکتی ہے — اور انھیں کم وسائل رکھنے والی کثیر آبادی کے مقابلے میں ترجیحی سلوک حاصل ہوتا ہے۔ جوں جوں زیادہ رقم قرض لی جانے لگتی ہے، مزید نقدی گویا ہوا سے وجود میں آتی چلی جاتی ہے۔ اور یہ نقدی کن چیزوں پر خرچ کی جائے گی، اس کی ترجیحات کی بنیاد بڑی انسانی ضروریات نہیں بلکہ بڑے انسانی لالچ پر ہوتی ہے — یعنی اس سرگرمی پر جس سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل ہو سکے۔

فریب کارانہ قرضے
جو بات تمام حکومتیں سمجھنے سے قاصر رہی ہیں — کیونکہ انھوں نے نقدی سے متعلق معاملات کو نام نہاد ماہرین کے سپرد کر رکھا ہے — وہ یہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے جتنا زیادہ قرض لیتے جاتے ہیں، انھیں اس کی اتنی ہی زیادہ بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اور یہ قیمت صرف مالی نہیں ہوتی بلکہ پیداواریت اور انسانی مصائب کی شکل میں بھی ادا کی جاتی ہے، کیونکہ صرف سود کی ادائیگی کے لیے پیداوار کو بےتحاشا بڑھایا جاتا ہے، قرض کی اصل رقم تو کبھی ادا کی ہی نہیں جا سکتی۔ سود کی شرحیں اور قرض کی شرائط اس طرح طے کی جاتی ہیں کہ اصل رقم کو ادا کرنا ناممکن بنا دیا جائے۔ اس طرح بےخبر حکومتیں باربار آئی ایم ایف کے پاس مزید قرض کے لیے جانے پر مجبور رہتی ہیں تاکہ سود کی ایک اور قسط بروقت ادا کر سکیں جو اس عرصے میں واجب الادا ہو چکی ہے، اور اس طرح قرض کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے آئی ایم ایف منافع کماتا اوراپنا کاروبار جاری رکھتا ہے — اور آخرکار اپنے منصوبے کے عین مطابق، حکومتوں کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے قومی اثاثے اور قدرتی وسائل ان کی اصل مالیت سے کہیں کم قیمت پر غیرملکی سرمایہ کاروں یا ان کے مقامی کارندوں کے ہاتھ بیچ ڈالیں۔ اس طرح حکومت کی خودانحصاری فوری طور پر کم ہو جاتی ہے اور اپنے بل پر منافع کمانے کی اس کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اس طرح ایک وقت ایسا آتا ہے جب تمام قومی اثاثے فروخت ہو چکے ہوتے ہیں اور بیچنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ تب آئی ایم ایف مزید قرض دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ طریقہ مقامی شکاری سودخوروں کے طریقے سے مختلف نہیں جو اپنے قرضدار کا کاروبار یا مکان اور دوسرے اثاثے ہتھیا لیتے ہیں۔ یہ طریقہ ٹھیک یہی مقصد حاصل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہے کہ انسانی محنت کے استعمال کو کم سے کم سطح پر لایا جائے، چنانچہ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیابھر میں پھیلتی ہوئی بےروزگاری اور دولت کے چند ہاتھوں میں سمٹنے کے عمل پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے (یہ دولت اس منافع پر مشتمل ہے جس کا رخ اربوں انسانوں کی طرف سے موڑ کر چند ہزار ارب پتیوں کی طرف کر دیا گیا)۔ سب سے گہرا نقصان زراعت کو پہنچا ہے جو ایک زمانے میں سب سے زیادہ انسانوں کو روزگار فراہم کرتی تھی، خاص طور پر آج کے غیرترقی یافتہ ملکوں میں ستر سے اسّی فیصد تک آبادی اسی شعبے میں کام کرتی تھی۔ جدید زراعت نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ ایسی ہمہ گیر فاقہ کشی اور غربت پیدا کی ہے جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی — کیونکہ غذائی اشیا کی پیداوار بڑھانا بےفائدہ ہے اگر بےروزگار لوگوں کے پاس اسے خریدنے کے لیے نقدی ہی موجود نہ ہو۔

سب کے لیے بنیادی آمدنی
چونکہ ہر انسان کو اپنی زندگی قائم رکھنے اور اس مقصد کے لیے قدرتی وسائل استعمال کرنے کا پیدائشی حق ہے — اور یہ حق بڑے کاروبار اور صنعتکاری کو ترجیح دے کر لوگوں سے چھین لیا گیا ہے — اس لیے حکومت پر ذمےداری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے ایک بنیادی آمدنی مہیا کرے، خیرات کے طور پر نہیں بلکہ قدرتی وسائل کے استعمال میں ہر فرد کے جائزحصے کے طور پر۔ خیرات کو صرف ہنگامی حالات میں استعمال کیا جانا چاہیے یا ان لوگوں کے لیے جو عارضی طور پر کام کرنے سے قاصر (مثلاً یتیم بچے یا جنگ اور قدرتی مصائب کا شکار ہونے والے لوگ) یا مستقل طور پر معذور ہوں۔ دوسری صورتوں میں خیرات تحقیر اور ذلت کا باعث ہوتی ہے اور عزتِ نفس پیدا نہیں کرتی جو خودانحصاری کے لیے ضروری ہے۔ خیرات آخرکار غریبی کو برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے جبکہ اس کے اصل اسباب کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔
انھی وجوہ کی بنا پر زیادہ سے زیادہ ملکوں میں اس خیال کو حمایت حاصل ہوتی جا رہی ہے کہ مشترکہ وسائل کی قدر میں لوگوں کے حصے کی بنیاد پر انھیں ایک بنیادی آمدنی فراہم کی جائے۔ یہ اتنی زیادہ نہیں ہو گی کہ کام کرنے کی ترغیب ہی ختم ہو جائے، لیکن اتنی ضرور ہو گی کہ غذا، رہائش، لباس اور کسی حد تک ٹرانسپورٹ اور یوٹیلٹیز (پانی، بجلی، گیس) کا خرچ پورا کر سکے۔ درحقیقت اسے حالیہ قیمتوں کی بنیاد پر طے کی ہوئی کم از کم اجرت کے برابر ہونا چاہیے۔ اس طریقے سے سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں رہے گی جو یوں بھی غیرمساوی ہیں اور تسلی بخش نتائج پیدا نہیں کرتیں۔
ہر شہری کو بنیادی آمدنی فراہم کرنا ریاست پر بوجھ نہیں ہو گا بلکہ اس سے معیشت میں حرکت پیدا ہو گی — لوگ غذا اور دوسری ضروری اشیا خریدیں گے جس سے عام اشیا کی ایک بہت بڑی منڈی وجود میں آئے گی، اور ارزاں، نچلی ٹیکنالوجی یا کاریگری والی اشیا کی پیداوار کو زبردست فروغ ملے گا۔ جو شہری کام کرنے کی عمر کے ہیں وہ تعلیم اور ہنر حاصل کر کے اپنے اوپر سرمایہ کاری کر سکیں گے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر انسانی برادری کا حصہ بن جائیں گے، اور اس غیرضروری، مصرفانہ گلوبلائزیشن کو مسترد کر دیں گے جو ماحول اور وسائل کے لیے تباہ کن ہے اور جس کے ذریعے ٹرانس نیشنل کارپوریشنیں بہت کم اجرت پر کام لیتی ہیں یا روزگار کے اربوں مواقع اور بےبہا وسائل پر قبضہ کر لیتی ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں دیتیں۔
شہریوں کو بنیادی آمدنی فراہم کرنا ایک ایماندارانہ طریقہ ہو گا — شاید واحد طریقہ — جس کے ذریعے قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کو نئے سرے سے تقسیم کیا جا سکے گا، کیونکہ یہ قدرتی وسائل درحقیقت تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ اس سے نقدی کے نظام کی اصلاح بھی ہو سکے گی جس کے نتیجے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ خود پر انحصار کریں اور اپنے انفرادی یا خاندانی مفادات کا خیال رکھتے ہوے اپنی کمیونٹی کے اجتماعی مفاد کو آگے بڑھا سکیں۔

عوام دشمن طریقوں کا خاتمہ
حکومتوں کو یہ طریقہ ترک کرنا ہو گا کہ عوامی ریوینیو سے پرائیویٹ کمپنیوں کو ادائیگی کی جائے تاکہ وہ ایسی عوامی سہولیات (مثلاً بجلی، پانی) مہیا کریں جو دراصل پبلک سیکٹر کو مہیا کرنی چاہییں۔ پرائیویٹ خدمات کے استعمال سے منافع صرف چند افراد تک محدود رہتا ہے، جس سے بددیانتی میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ پبلک سیکٹر کے ذریعے سہولیات فراہم کرنے سے اس کے فوائد دور دور تک پھیلتے ہیں اور زیادہ لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔ عوامی سہولیات فراہم کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں بھی قدرتی وسائل اور وہ انفراسٹرکچر استعمال کرتی ہیں جو ٹیکس گذاروں کے پیسے سے تعمیر کیا گیا ہے، اور وہ اس استعمال کا کوئی جزوی یا پورا معاوضہ ادا نہیں کرتیں، اور یہ ایسا نقصان ہے جو کسی حساب میں درج نہیں ہوتا۔
عوامی سہولیات، یعنی عوامی وسائل، کی نجکاری کے نتیجے میں اجارہ داری کے طریقے سے عوامی وسائل پر قبضہ کیا جاتا ہے اور شہریوں اور کمیونٹیوں کو ان کی بقا کے طریقوں سے محروم کر دیا جاتا ہے، چنانچہ یہ نجکاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور اسے آئین میں درج کر کے ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔
اگرچہ کاغذی اور الیکٹرانک نقدی استعمال میں سہل ہے لیکن مختلف بینک کھاتوں کے درمیان رقم کی براہ راست منتقلی کے ذریعے بینک اس حقیقت کی پردہ پوشی میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی بنیاد کے نئی نقدی تخلیق کر رہے ہیں اور منافع کمانے کے لیے نئے قرضے جاری کر رہے ہیں۔ اس عمل کے دوران بہت سی عوامی دولت پرائیویٹ منافع پیدا کرنے میں صرف ہو جاتی ہے اور انفرادی، کاروباری اور سرکاری قرض میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

نقدی اور بینکاری کا عوام دوست نظام
1920 کی دہائی میں جوزف اسٹیمپ بینک آف انگلینڈ کا (جو اُس زمانے میں ایک پرائیویٹ کارپوریشن تھی) ایک ڈائرکٹر اور برطانیہ کا دوسرا سب سے دولتمند شخص تھا۔ 1927 میں اسے یونیورسٹی آف ٹیکساس میں خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔ وہاں اپنے خطاب کے دوران اس نے ایک ایسا انکشاف کیا جس سے تمام حاضرین کو شدید صدمہ ہوا، اور اگر اسے پوری دنیا میں رپورٹ کیا جاتا تو پوری دنیا کو صدمہ ہوتا، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا، ورنہ آج یہ ایک زیادہ باخبر اور زیادہ منصفانہ دنیا ہوتی:
بینکاری کا جدید نظام کسی بنیاد کے بغیر نقدی کو تخلیق کرتا ہے۔ یہ عمل ہاتھ کی صفائی کا ایسا شعبدہ ہے کہ اس سے زیادہ حیران کن شعبدہ آج تک ایجاد نہیں کیا گیا۔ بینکاری کی ابتدا بےانصافی سے ہوئی اور یہ گناہ کی پیداوار ہے... بینکار اس کرۂ ارض کے مالک ہیں۔ اگر اسے ان سے لے لیا جائے لیکن نقدی کو تخلیق کرنے کا اختیار ان کے پاس رہنے دیا جائے تو وہ قلم کی ایک جنبش سے اتنی نقدی تخلیق کر لیں گے کہ کرۂ ارض کو دوبارہ خرید لیں۔ ...اگر یہ زبردست اختیار ان سے لے لیا جائے تو دولت کے بڑے بڑے ذخائر (جن میں میری دولت بھی شامل ہے) پلک جھپکتے میں غائب ہو جائیں گے، لیکن تب یہ دنیا رہنے کے لیے ایک کہیں زیادہ بہتر اور پُرمسرت دنیا ہو گی۔... لیکن اگر آپ بینکاروں کے غلام بنے رہنا اور اپنی غلامی کی قیمت خود ادا کرتے رہنا چاہتے ہیں، تو پھر نقدی تخلیق کرنے اور قرضوں کو کنٹرول کرنے کا کام بینکاروں کے ہاتھ میں رہنے دیجیے۔
جوزف اسٹیمپ نے اس لمحے یہ راز فاش کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا اسے ضمیر کی خلش محسوس ہو رہی تھی؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ حالیہ زمانے میں کھرب پتی سرمایہ کار اور فنانسر جارج سوروز نے بھی ڈیری ویٹوز کی بہت سی اقسام کی اسی طرح مذمت کی جبکہ وہ انھی طریقوں سے بےپناہ دولت کما چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ غلط ہے لیکن اگر وہ یہ کام نہ کرتا تو کوئی اور شخص کرتا۔ اسی طرح امریکہ کے بڑے بڑے بینک اور انوسٹمنٹ ہاؤسز کو 2008-9 کے کریش سے کوئی گزند نہیں پہنچی اور وہ ہمیشہ کی طرح فحش منافع کما کر کاروبار میں واپس آ گئے۔

’عوامی مفاد‘ کا اولین بینک
3000 قبل مسیح میں قدیم سُمیریوں نے — اس علاقے میں جہاں اب عراق واقع ہے — معبدوں کا ایسا نظام قائم کیا تھا جو عوام کی خدمت کے لیے تھا۔ یہ معبد صرف عبادت کے مقام نہیں تھے؛ یہ عوامی ادارے تھے جو سماجی بہبود اور عوامی مفاد کے کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ معبدوں کی ملکیت میں زرعی زمینیں ہوتی تھیں جن سے پیدا ہونے والی غذا اور خام مال بیواؤں، یتیموں، بوڑھوں اور بیماروں کے کام آتا تھا۔ یہ معبد خودمختار طریقے سے کام کرتے تھے، اپنی زمینوں اور سہولیات کو کرائے پر دیتے اور قرضوں پر سودِ محض وصول کرتے۔ اس طرح ان کا کام سنٹرل بینک جیسا بھی تھا، یعنی وہ اپنے جاری کیے ہوے سکے میں ادائیگی اور وصولی کرتے تھے۔ لیکن لوٹائے ہوے قرضوں اور سود کی رقم تمام کی تمام واپس سماجی اور معاشی کاموں اور وصول نہ ہو پانے والے قرضوں کی تلافی میں خرچ کی جاتی۔
گایوں کو نقدی سے منسلک سمجھا جاتا تھا اور سُمیری زبان میں سود کے لیے جو لفظ استعمال کیا جاتا تھا وہ بَچھڑے کے مترادف تھا۔ مویشیوں کی صورت میں دیا گیا قرض لوٹاتے وقت سود کے طور پر ایک بچھڑا بھی دینا ہوتا تھا؛ اگر یہ قرض نقدی کی صورت میں دیا جاتا تو اس پر سود ادا کرنا ہوتا، جسے اضافی طور پر کمانا ضروری ہوتا۔ لیکن گائے کے ساتھ بچھڑا دینا کوئی بوجھ نہیں ہوتا تھا، بلکہ زیادہ خوشگوار، عملی اور فائدہ مند تھا اور آگے چل کر بھی سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا تھا۔

چھوٹا پیمانہ ہمیشہ سب سے زیادہ سہل رہے گا
کچھ لوگوں کو مرحوم ماہرمعاشیات ارنسٹ فرٹز شوماخر کی وہ شاندار کتاب SMALL IS BEAUTIFUL یاد ہو گی جو 1975 میں شائع ہوئی اور جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد شائع ہونے والی سو سب سے زیادہ اثرانگیز کتابوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے بعد سے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، اس کے باوجود اس کتاب میں دیا گیا پیغام آج بھی انتہائی موثر ہے۔ درحقیقت آج اس کی معنویت پہلے کسی بھی دور کی نسبت زیادہ ہے کیونکہ اس کے بعد سے بیشتر حالات میں کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں آئی۔ یہ کتاب ہر بیوروکریٹ، سیاست داں، سماجی کارکن، ڈویلپمنٹ این جی او، سول سرونٹ، وکیل اور فکرمند شہری کو پڑھنی چاہیے اور اسے بزنس مینجمنٹ اور بینکاری کے کورسوں کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ ان کورسوں میں انسانی عنصر کی سخت کمی پائی جاتی ہے۔
بہت سے لوگ کتاب کے عنوان سے غلط فہمی میں پڑ گئے اور یوں اس کا ذیلی عنوان ECONOMICS AS IF PEOPLE MATTERED یعنی ’معاشیات گویا عوام اہمیت رکھتے ہیں‘ اکثر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ایسا معلوم ہونے لگا گویا مصنف چھوٹے کاروباری ادارے قائم کرنے اور انھیں سہارا دینے کے حق میں بات کر رہا ہے تاکہ غریبی کا خاتمہ ہو سکے۔ دراصل وہ جو خیال پیش کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ ترقی کی ایسی تجویزوں سے دور رہا جائے جن کے تحت ایک ہی سائز کو سب کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، اور جن سے غیرترقی یافتہ ملکوں میں یک رخی، معیاربند نقّالی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ ان ملکوں نے مغربی نمونوں کی اندھادھند پیروی شروع کر دی اور اس بات کی پروا نہ کی کہ یہ نمونے ان کے حالات سے مطابقت رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔
شوماخر نے تجویز پیش کی کہ اس طریقے کے بجاے ایسے معاشی اصولوں کو کام میں لایا جائے جو ہر علاقے اور ملک کے امکانات اور محدودات کو نظر میں رکھتے ہوے اپنا پیمانہ مقرر کریں، اور یہ کہ چھوٹے کاروباری ادارے اور چھوٹے زرعی رقبے قائم کرنے پر توجہ دی جائے، تاکہ علاقائی پیداوار اور تجارت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔ شوماخر نے مقامی طور پر پہلے سے موجود یا دستیاب ہو سکنے والے طریقوں کو سمجھنے کے لیے چند سادہ اصطلاحات فراہم کیں — جن میں سب سے اہم ’درمیانہ ٹیکنالوجی‘ ہے۔
مقامی ضروریات کے لیے مقامی کرنسی
ایک اور معاشی اوزار جو شوماخر نے تجویز کیا وہ مقامی کرنسی کا تصور تھا، جسے ’اضافی کرنسی‘، ’کمیونٹی کرنسی‘ یا ’متبادل کرنسی‘ جیسے مختلف نام دیے جاتے ہیں۔ یہ تصور بہت سی جگہوں پر عملی شکل اختیار کر گیا۔ یہ پاکستان کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ بیشتر بےروزگاری اور غربت غیرضروری ہے اور صرف نقدی کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ جیساکہ شوماخر نے کہا ہے، لوگوں کو اپنا پیٹ بھرنے کے واسطے معاشی طور پر کسی پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ سنہ 1800 کی دہائیوں میں امریکہ کے تقریباً تمام تجارتی بینک خود اپنی علیحدہ کرنسی جاری کیا کرتے تھے جن کے ذریعے کاروباری ادارے مینوفیکچرنگ کے لیے مشینوں اور اوزاروں کی خریداری کرتے تھے۔ یہ بینک نہ صرف قرض مانگنے والے فرد کا بلکہ اس علاقے اور مقام کے حالات کا بھی جائزہ لیتے کہ وہ مطلوبہ معاشی سرگرمی کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
یہ بات پوری طرح ظاہر ہے کہ اگر بیشتر چھوٹے کاروباری اداروں اور افراد کو قرضے مقامی بینکوں سے دستیاب ہوں جو اپنے گاہکوں سے شخصی طور پر واقف ہوں اور ان کے بارے میں حقائق کی خود چھان بین کر سکیں، تو ان اداروں اور افراد کو دیے جانے والے قرضے پیداواری طور پر زیادہ سودمنداور معیشت کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بات لغو ہے کہ کسی دوردراز شہر میں واقع بینک کسی چھوٹے قصبے کے شخص کو قرض جاری کرے جبکہ مقامی بینک مقامی آبادی اور معیشت کوخدمات فراہم کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔
انیسویں صدی کے بعد سے پیش آنے والے ہر مالیاتی بحران کے بعد بہت سے دیہات اور قصبوں نے کمیونٹی کی بنیاد پر اپنے اپنے حل وضع کیے ہیں۔آج دنیا کے کم از کم 35 ملکوں میں 3000 سے زیادہ مقامی کرنسیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ ملکی کرنسی کے ساتھ ساتھ کام کرنے والی کرنسیاں ہیں جو صرف مقامی طور پر استعمال کی جاتی ہیں — یعنی نقدی صرف کسی کمیونٹی یا طےشدہ جغرافیائی حدبندی کے اندر اندر گردش کرتی ہے اور اس کا مقصد قومی کرنسی کی جگہ لینا نہیں ہوتا۔ کتنی نقدی گردش میں رہے گی، یہ فیصلہ اس کمیونٹی کے ارکان کی حقیقی معاشی صلاحیت کا عکاس ہوتا ہے؛ اور چونکہ یہ نقدی ہمیشہ اصل پیداوار کے برابر ہوتی ہے، اس لیے افراطِ زر اور مہنگائی کی صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوتی۔
دنیا میں بیشتر معاشی لین دین، یعنی روزمرہ کیے جانے والے اربوں سودے مقامی طور پر پیش آتے ہیں؛ یہ الگ بات ہے کہ قومی اور بین الاقوامی تجارتی سودوں کی مالیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی معاشی سرگرمیاں اتنی نہیں ہوتیں جتنی ہونی چاہییں، کیونکہ کاروبار شروع کرنے کے لیے کافی سرمایہ ان کے ہاتھ نہیں آتا۔ دراصل انھیں جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ لین دین کا ایک قابلِ عمل نظام ہے۔
پاکستان اور دوسرے ملکوں میں ایسے بےشمار دورافتادہ قصبے اور دیہات ہیں جہاں انفراسٹرکچر اور کمیونی کیشن کی سہولیات آج بھی ایسی نہیں ہیں جو انھیں وسیع تر معیشت سے جوڑ سکیں۔ نظروں سے اوجھل ہونے کے باعث یہ مقامات لوگوں کے ذہنوں سے بھی اوجھل ہیں، اس لیے ترقیاتی فنڈ سے سرمایہ کاری کو مختص کرتے وقت انھیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں ان کے پاس مقامی معاشی صلاحیت اور روزگار کو بڑھانے کے لیے نقدی نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں مقامی کرنسی کا نظام اس خلا کو بھر سکتا ہے جو قومی نقدی کی قلت اور کمیونٹی کی پیداواری صلاحیت کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔
قومی کرنسیاں، قرض لینے کی سرگرمی کے باعث، ہمیشہ اور متواتر تخلیق ہوتی رہتی ہیں۔ ان پر بےرحم سود کے باعث بھی دباؤ بڑھتا جاتا ہے — اور یہ حالات مہنگائی کو پیدا کرتے ہیں۔ مقامی کرنسیوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ صرف مقامی کمیونٹی کی اصل انسانی اور مادی صلاحیت کی نمائندگی کرتی ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
ترقیاتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری دنیا کے قدرتی وسائل کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے کر قلیل اعلیٰ طبقے اور منافع خور مفادات کے لیے مخصوص کر لیتی ہیں، جبکہ ان وسائل کو سب انسانوں کے استعمال میں آنا چاہیے، چنانچہ اس کا لازمی نتیجہ غریبی اور محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف انتہائی غیرمنصفانہ ہےبلکہ قطعی غیرضروری بھی ہے۔ اکثر صورتوں میں روزگار، پیداوار اور آمدنی کی راہ میں واحد رکاوٹ اشیا اور خدمات کے لین دین کے ذریعے کی کمی ہوتی ہے جس کے لیے آج کل نقدی کا استعمال کم سے کم اور اس کی کاغذی یا الیکٹرانک شکل کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔
اگر لوگ اس جامد خیال کی گرفت سے نکل آئیں کہ معاشی سرگرمی نقدی کی صرف ایک ہی قسم کے ذریعے سے ممکن ہے، تو انھیں یکایک آزادی کا احساس ہو گا اور وہ معاشی سرگرمی کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کرنے لگیں گے۔ یہ آخرکار ایک نفسیاتی جال ہی تو ہے جسے نقدی اور بینکاری کو کنٹرول کرنے والوں نے صدیوں سے استعمال کر کر کے انتہائی موثر بنا دیا ہے۔
روایتی بینکاری اپنے بل پر تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ اس کا بڑا سائز اور بڑھتی ہوئی مرکزیت اسے چیزوں کو انسانی سطح پر دیکھنے کے ناقابل بنا دیتی ہے کیونکہ یہ انسانی سطح کسی جامد درسی فارمولے کی پابند نہیں ہوتی۔ روایتی بینکاری وہ انفرادی توجہ فراہم کرنے سے قطعی قاصر ہے جس کا یہ دعویٰ تو بہت کرتی ہے لیکن اصل میں اسے صرف بڑے بڑے گاہکوں کے لیے مخصوص رکھتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر شمشاد اختر نے حکومت کو کریڈٹ یونینوں کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا اس کا علم نہیں۔ لیکن مائیکروکریڈٹ بھی سود کی ادائیگیوں سے نہیں بچ پاتا اور اس طرح کی اسکیمیں کچھ دور تک چل کر رک جاتی ہیں۔ اسے مقامی کرنسیوں اور جدید بارٹر نظام سے تقویت دینا ضروری ہے تاکہ اس وسیع خلا کو پُر کیا جا سکے جسے دوسرے نظام بھرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیم بہت کم ہے اور پولیس اور بیوروکریسی پر جاگیردارانہ ذہنیت کا غلبہ ہے، ایسا کرنا بہت دشوار ہو گا۔ لیکن دوسرے ملکوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں اور خود کو اسی قسم کی خراب صورت حال سے باہر نکالا ہے۔

این جی اوز اور کمیونٹی تنظیمیں کس طرح کارآمد ہو سکتی ہیں
دیہات میں قائم سی بی اوز (کمیونٹی تنظیمیں) اپنی جغرافیائی حدود میں کام کرنے والے لوگوں کو اکٹھا کر کے انھیں اس بارے میں باخبر کر سکتی ہیں اور ان کی معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینے کے لیے مقامی کرنسی وضع کر سکتی ہیں۔ لوگ مختلف طریقے آزمانے سے سیکھ سیکھ کر آگے بڑھیں گے، لیکن جہاں شخصی مفاد اور باہمی فائدے کی بات ہو وہاں لوگ تیزی سے سیکھتے ہیں۔ شہری این جی اوز بھی شہر کے پسماندہ محلّوں میں یہی کام کر سکتی ہیں۔ یہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر خدمات اور رسد کے سلسلے کو دیہات سے منسلک کر سکتی ہیں جہاں سے ان شہری محلّوں کے اکثر باشندے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کام کا آغاز وہ ’کمیٹی‘ یا ’بیسی‘ کے مانوس طریقے سے کر سکتی ہیں۔

سرمائے کی فراہمی کا ’کمیٹی‘ یا ’بیسی‘ کا طریقہ
برصغیر میں عام، ان پڑھ باشندوں اور خاصے خوشحال بیوپاریوں، دونوں نے سوچ کر ایک طریقہ ایجاد کیا جس کے ذریعے وہ نسبتاً بڑی رقمیں یا سرمایہ اکٹھا کر سکیں۔ یہ طریقہ آج بھی استعمال میں ہے اور بیشتر لوگ اس سے مانوس ہیں خواہ وہ خود اسے استعمال کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں۔ لوگوں کا ایک گروپ، جو باہم واقف ہوتے اور ایک دوسرے پر بھروسا کرتے ہیں، مل کر ایک ’کمیٹی‘ بنا لیتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی موقعے پر ایک بڑی رقم کی ضرورت پڑتی ہے، خواہ یہ مشین خریدنے کے لیے ہو یا شادی بیاہ کی تقریب کا خرچ اٹھانے کے لیے یا کسی مریض کا آپریشن کرانے کے لیے، وغیرہ وغیرہ۔ کمیٹی کا ہر رکن ہر مہینے پابندی سے ایک طےشدہ رقم کمیٹی کے مشترکہ فنڈ میں جمع کراتا ہے، اور یہ رقم اتنی ہوتی ہے جو وہ نسبتاً آسانی سے اپنی آمدنی میں سے بچا سکتا ہے۔
ہر رکن کی جمع کرائی ہوئی رقم اپنے طور پر چاہے زیادہ نہ ہو، لیکن آٹھ یا دس ارکان کی رقمیں مل کر ایک خاصی بڑی رقم بن جاتی ہے، اور یہ کُل رقم قرعہ اندازی کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے ہر بار کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کا قرض ہے جو کمیٹی ہر بار اپنے ایک رکن کو دیتی ہے، اور ہر رکن اسی طرح ہر مہینے مقررہ رقم، گویا قرض کی ادائیگی کے طور پر، کمیٹی کے پاس جمع کراتا رہتا ہے۔ لیکن اس ادائیگی میں کسی قسم کا سود شامل نہیں ہوتا۔
تاہم اس نظام کے لیے باہمی بھروسا سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ جو لوگ روپے پیسے کے معاملات میں قابلِ اعتبار نہ سمجھے جاتے ہوں انھیں کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے مدعو نہیں کیا جاتا۔ ایک چکر میں کمیٹی کے ہر رکن کو جمع کی ہوئی کل رقم ایک ہی بار ملتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا ہے جب تک ہر رکن کو یہ رقم ایک ایک بار نہ مل جائے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ نئے سرے سے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کوئی متبادل نقدی تخلیق نہیں ہوتی۔
’کمیٹی‘ کا طریقہ چھوٹے گروپوں کی سطح پر کارآمد ہوتا ہے، مقامی معیشت کی سطح پر نہیں، اگرچہ یہ مقامی معیشت کو اس طرح تقویت فراہم کرتا ہے کہ اس کے ذریعے نسبتاً بڑی مشینیں خریدی جاتی ہیں اور باہمی فائدے کے دیگر کام انجام دیے جاتے ہیں۔

بارٹر کا سب سے عمدہ طریقہ
پرانے زمانے میں مغربی ملکوں میں معاشی سرگرمی کی ایک اہم کڑی دورافتادہ مقامات مثلاً الاسکا میں قائم تجارتی چوکی ہوتی تھی، کیونکہ ایسے مقامات پر کسی روایتی بینک تو کیا، چھوٹی موٹی دکان کا چلنا بھی سودمند نہیں ہوتا تھا۔ اس چوکی میں خریدار اور پرچون فروش کے کردار اکٹھے ہو جاتے تھے اور یہی وہ چیز تھی جس کی دور دور بکھرے ہوے باشندوں کو ضرورت ہوتی تھی۔ اسے آپ ایک قسم کی سپرمارکیٹ سمجھ لیجیے جہاں عام طور پر استعمال ہونے والی چیزوں کا ذخیرہ رہتا تھا مثلاً تیار ملبوسات، ان سِلا کپڑا، ڈبوں اور پیکٹوں میں بند غذائی اشیا، ہارڈویئر، غسل خانے کی اشیا، برتن اور دیگر کارآمد چیزیں۔ یہ چوکی مقامی باشندوں سے وہ چیزیں خریدتی تھی جن کی شہری باشندوں کو ضرورت ہوتی تھی، مثلاً جانوروں کی کھالیں اور کاریگروں کی بنائی ہوئی چیزیں اور مقامی لباس۔
بیشتر تجارتی چوکیوں میں ادائیگی نقدی کی شکل میں نہیں کی جاتی تھی، لیکن خریدی جانے والی چیزوں کی مالیت کا اندازہ ان کی اپنی طےکردہ ’اکائیوں‘ میں لگایا جاتا تھا — یہ ایک قسم کی کرنسی یعنی لین دین یا بارٹر کا پیمانہ تھا جس سے مختلف اشیا کے باہمی لین دین کی موجودہ شرح کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ فروخت کے لیے دستیاب چیزوں کی مالیت بھی انھی ’اکائیوں‘ میں شمار کی جاتی تھی۔ تب مقامی باشندے اپنی کمائی ہوئی ’اکائیوں‘ کے بدلے اپنی ضرورت کی چیزیں فوری طور پر خرید سکتے تھے؛ اس خریداری کے بعد اگر ان کی کمائی ہوئی ’اکائیاں‘ باقی رہ جاتیں تو وہ اسی چوکی سے آئندہ خریداری کرنے کے کام آ سکتی تھیں۔
پاکستان کے بہت سے دورافتادہ مقامات پر بھی اسی قسم کی سہولیات درکار ہیں۔ ان علاقوں میں ایسی تجارتی چوکی مقامی باشندوں کو روزگار کے شہری مواقع سے بھی باخبر کر سکتی ہے۔ چونکہ ہمارے کاروباری لوگوں میں مہم جوئی کی کمی ہے اور وہ ریڈی میڈ منڈیوں میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں سے انھیں فوری، آسان اور بڑا منافع حاصل ہو سکے، اس لیے یہ کام صرف حکومت یا کوئی بڑی این جی او، یا کئی این جی اوز مل کر شروع کر سکتی ہیں۔

عوامی بینک
صوبوں اور ضلعوں کی سطح پر ’عوامی مفاد‘ کے بینک قائم کرنے کی فوری ضرورت ہے (جیسے امریکہ میں بینک آف نویڈا ہے)، بجاے اس کے کہ مزید پرائیویٹ تجارتی بینک قائم کیے جائیں۔ یہ عوامی بینک مقامی ترقی پر توجہ مرکوز کریں گے اور جمع ہونے والی رقم کو مقامی معیشت میں دوبارہ شامل کرنے کو پہلی ترجیح دیں گے۔ ان کے جاری کردہ قرضے مقامی چھوٹے اور درمیانہ سطح کے قرضداروں کے لیے مخصوص ہوں گے، جبکہ بڑے زمیندار اور تاجر اور علاقے سے باہر کے لوگ ان بینکوں سے اسی صورت میں قرض لے سکیں گے کہ ان کا کاروبار اسی علاقے میں ہو اور ان کی آمدنی سرمائے کی صورت میں دوبارہ اسی علاقے کی معیشت میں شامل ہو۔
یہ وہ کام ہے جس میں صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں جو بہت موثر ہو سکتا ہے۔ یہ کام نہ تو بہت دشوار ہے اور نہ مالی طور پر ناممکن۔ اس کے لیے صرف سیاسی عزم اور کچھ ابتدائی سرمایہ درکار ہو گا، جو غیرضروری اور نامناسب اخراجات کو روک کر فراہم کیا جا سکتا ہے۔
آج پاکستان کے ہر صوبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم ایک بینک کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ بینک، جو صرف ان گاہکوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں جو انھیں سود دے سکیں اور جن سے وہ خطیر منافع کما سکیں، اس کام کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا مقصد عوامی مفاد کی خدمت کرنا ہے ہی نہیں — ویسے بھی یہ حکومت کی ذمےداری ہوتی ہے۔
لیکن پبلک سیکٹر کے بینک بھی صرف اسی وقت موثر کارکردگی دکھا سکتے ہیں جب انھیں سیاسی مداخلت سے آزادی حاصل ہو اور وہ شفاف طریقے سے کام کریں۔ دوسری صورت میں ان کی حالت وہی ہو گی جو برسوں پہلے پاکستان میں نیشنلائزڈ بینکوں کی تھی جب سیاست دان اور دوسرے طاقتور اور اثرورسوخ رکھنے والے لوگ انھیں اپنے ذاتی خزانے کی تجوریاں سمجھتے تھے اور ان سے اپنی مرضی کی رقمیں قرض کے نام پر نکال لیتے تھے جنھیں کبھی لوٹایا نہیں جاتا تھا۔

سود اور قرض سے آزاد ’سوشل کریڈٹ‘ بینک
یہ بات تسلیم کرنا بہت دشوار معلوم ہوتا ہے، لیکن سوئٹزرلینڈ قدرتی وسائل کے معاملے میں دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ یہ اپنے دلکش پہاڑی مناظر اور اپنے بینکوں کے لیے مشہور ہے، اور اپنی بینکاری کی مہارت اور انتہائی قابل اعتبار ہونے کی شہرت کے باعث دنیا کے مالدارترین ملکوں میں شامل ہو چکا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جب سے عطیات، غیرملکی امداداور ورلڈ بینک/آئی ایم ایف کے قرضوں نے دنیا کے غیرترقی یافتہ اور بیشتر غیرجمہوری ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، تب سے سوئٹزرلینڈ فوجی آمروں اور کرپٹ لیڈروں کی پناہ گاہ بن گیا ہے جہاں وہ عوامی فنڈز سے چُرائی ہوئی رقمیں اور بین الاقوامی سودوں سے حاصل ہونے والی رشوتیں (کِک بیک) سوئس بینکوں میں محفوظ رکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ بینک اپنے گاہکوں کے معاملات کو خفیہ رکھنے کے اصول کی انتہائی پابندی کرتے ہیں۔
لیکن سوئٹزرلینڈ میں صرف بڑے بینک ہی نہیں پائے جاتے؛ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بینک بھی کام کر رہے ہیں جو چھوٹی چھوٹی کمیونٹیوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں، اور یہ سلسلہ عوام کی نچلی ترین سطح تک پہنچتا ہے۔ ’سوشل کریڈٹ‘ کا تصور — یعنی باقاعدہ بنیادی آمدنی کے ساتھ ساتھ قرض حاصل کرنے کے حق کا تصور — پچھلی صدیوں میں بہت سے مصلحوں اور مفکروں نے پیش کیا ہے۔ لیکن سوئٹزرلینڈ نے اپنی بینکاری کی یہ عمدہ ترین عملی صورت تقریباً آٹھ دہائیوں پہلے شروع کی ہے۔
فرانسوا دی سائیبینتھال ایک سوئس معاشیات داں اور سفارت کار ہیں اور جہاں کہیں جاتے ہیں وہاں اس نظام کو متعارف کراتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک لیکچر میں جو باربار شائع اور تقسیم کیا جاتا رہا ہے، اس کی وضاحت اس طرح کی:
گزشتہ تاریخ میں سوئٹزرلینڈ میں کسان اپنے چھوٹے چھوٹے مقامی بینک خود ہی قائم کر لیتے تھے۔ بینکار خود کسان ہوتا تھا ، بینک ایک فارم ہاؤس میں قائم ہوتا تھا، اس کے گاہک بھی کسان ہوتے تھے، اور اس کے مالک بھی کسان ہی ہوتے تھے، اور آج تک ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بینک مل کر سوئٹزرلینڈ کا تیسرا سب سے بڑا بینک بنتے ہیں جس کا مالی تناسب اور انتظام سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کے کام کا خرچ انتہائی کم ہے۔ چونکہ یہ بینک بہت چھوٹے ہیں اور بہت چھوٹی عمارتوں میں قائم ہیں، اور چونکہ انھیں بڑی بڑی بکتربند گاڑیوں اور سکیورٹی اسٹاف کی ضرورت نہیں پڑتی، اس لیے ان کی کارکردگی انتہائی موثر ہے۔ ایسے ہی چھوٹے بینک آسٹریا اور کچھ دوسرے ملکوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
سوئٹرزلینڈ کے بارے میں ایک اور بات اس سے بھی کم لوگ جانتے ہیں اور وہ ہے وہاں کی مقامی نقدی، جسے ’ویر‘ (WIR) کہا جاتا ہے، جس کے معنی کمیونٹی کے ہیں۔ ’ویر‘ کو بحرانی دنوں میں ایجاد کیا گیا تھا، اور یہ 1933 سے اب تک برقرار ہے اور ضرورت کے وقت بہترین طریقے سے کام کرتا ہے۔
سود سے آزاد مقامی بینک کس طرح آسانی سے شروع کیے جا سکتے ہیں، اس کی تعلیم دیتے اور عملی مظاہرے کرتے ہوے سائیبینتھال نے، جب وہ فلپائن میں تعینات تھے، اس قسم کے 15 بینکوں کے قیام میں مدد دی۔ اس کے بعد مڈگاسکر، افریقہ، پولینڈ اور کینیڈا جیسی مختلف جگہوں پر اس قسم کے مزید بینک قائم ہوے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں: ’’یہ بینک اتنے کامیاب رہے ہیں کہ اب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو ان کی مخالفت کرنا ضروری معلوم ہونے لگا ہے۔ فلپائن میں حکومت اور اخبارات کی جانب سے ان بینکوں پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔‘‘
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جس دن ساری دنیا یہ بات جان لے گی کہ اسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، روتھس شیلڈز اور بینکاروں کے عالمی کارٹل نے (بشمول انوسمنٹ بینکوں اور سٹےبازوں کے) فراڈ اور غیرحقیقی نقدی کے ذریعے قرض میں بری طرح پھنسا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے سارےاثاثوں سے محروم ہو چکی ہے، اس دن ان سب کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ یہ راز کھلنے نہیں دینا چاہتے۔
سائیبینتھال نے اس کا بھی عملی مظاہرہ کیا کہ تھوڑی سی تعلیم رکھنے والے افراد بھی نقدی کے بغیر اپنا کام کر سکتے ہیں بلکہ خود اپنا بینک بھی چلا سکتے ہیں۔ نقدی کے بجاے ہر شخص کا حساب کارڈوں یا چھوٹے کتابچوں کی صورت میں اور ایک مشترکہ رجسٹر میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کارڈ یا کتابچہ گم بھی ہو جائے تو بھی کوئی نقدی چرائی نہیں جا سکتی — کیونکہ نقدی ہوتی ہی نہیں — اور ہر سودے میں تمام شریک افراد کو اپنے اپنے کارڈ پر دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ ان سودوں میں کوئی قرضہ، کوئی سود اور کسی کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
اگر دنیا کے دیگر مقامات پر اس قسم کے سینکڑوں بینک اور متوازی نقدی کے طریقے کام کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ پاکستان میں بھی کام نہ کر سکیں اور آئی ایم ایف کے ہاتھوں ہمارا گلا گُھٹنے کا سلسلہ ختم نہ ہو سکے۔ لوگوں کو صرف دولت کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کہ اس کا تعلق کاغذ کے ٹکڑوں سے نہیں بلکہ حقیقی وجود رکھنے والی اشیا سے ہوتا ہے۔

تبصرے

Yamin Muhammad نے کہا…
ایک انتہائی فکر انگیز تحریر. جسے ہر دردِ دل رکھنے والے کو پڑھنا چاہیے. عوام کے شعور اور مالیاتی سمجھ بوجھ میں ایسی تحریریں بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں. بہت شکریہ تصنیف
Unknown نے کہا…
ہیلو، میں مسٹر جوناتھن البرٹ ماک، ایک نجی قرض قرض خواہ کو جو زندگی وقت موقع قرضے دیتا ہوں. آپ اپنے قرض کو صاف کرنے کے لئے ایک فوری قرض کی ضرورت ہے، یا آپ کو آپ کے کاروبار کے لئے ایک سرمایہ قرض کی ضرورت ہے؟ آپ کو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے؟ ایک سمیکن قرض یا رہن کی ضرورت ہے؟ ہم آپ کے تمام مالی مشکلات ماضی کی بات بنانے کے لئے یہاں ہیں کے طور پر کوئی زیادہ تلاش،. ہم ایک بری کریڈٹ ہے یا 2 فیصد کی رقم میں کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے، بل ادا کرنے کے لئے پیسے کی ضرورت ہے کہ مالی امداد کی ضرورت میں افراد، سے فنڈز قرض. میرے خیال میں ہم قابل اعتماد اور فائدہ اٹھانے والوں میں مدد فراہم اور قرض کی پیشکش کرے گا کہ آپ کو مطلع کرنے کے لئے اس میڈیم استعمال کرنا چاہتے ہیں. jonathanalbertmak@gmail.com: آپ کا شکریہ، ہم سے رابطہ کریں آج
jonathanalbert88@outlook.com

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین