منگل، 3 مئی، 2016

یہودیت کا مذہبی ارتقا/برٹرینڈ رسل

برٹرینڈرسل کی کتاب A History of Western Philosophy کا ترجمہ فلسفہ مغرب کی تاریخ کے نام سے پروفیسر محمد بشیر نے کیا ہے۔یہ ترجمہ کردہ کتاب پہلی بار 2005 میں شائع ہوئی اور اس کا دوسرا ایڈیشن بھی 2010 میں پورب اکادمی ، اسلام آباد سے شائع ہوا ، جبکہ رسل کی یہ کتاب دوسری جنگ عظیم کے دوروان 1945 میں منظر عام پر آئی تھی۔برٹرینڈر رسل کی فکریات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ا س کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔حالانکہ بشیر صاحب کا ترجمہ تھوڑا بھاری بھرکم ہے، لیکن ذرا سی محنت سے آپ کو باتیں سمجھ میں آسکتی ہیں۔میں نے خود یہ ترجمہ زیادہ شوق اور کچھ دقت سے پڑھا تھا ، حال ہی میں ہمارے دوست سید کاشف رضا نے رسل کے دو مضامین Ideas that have helped mankind اور Ideas that have harmed mankind پڑھنے کا نوجوانوں کو مشورہ بھی دیا ہے، جو کہ ان کی کتاب Unpopular Essays میں شامل ہیں۔ممکن ہوا تو ان کے ترجمے ڈھونڈ کر یا کرواکر میں جلد ادبی دنیا کے قارئین تک پہنچائوں گا۔درج ذیل مضمون اول الذکر کتاب میں شامل ہے اور اس سبب سے بہت اہم ہے کہ اس سے اول تو یہودیوں کے ابتدائی مذہبی دور اور اس میں ان کی جدو جہد کی مثالیں تاریخ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کردی گئی ہیں اور دوسرے اسےپڑھ کر ان کے اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی سخت گیری اور اپنے عقائد پر سختی سے کاربند رہنے کے غیر مصلحت پسند مزاج کی ہم آہنگی کا پتہ ملتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ فلسطین، یروشلم، قرون وسطیٰ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات اور ختنہ اور سور خوری جیسے معمولی مسائل کے تعلق سے ان کی سختی یہودیوں کے عیارانہ اور منافقانہ طرز عمل کی نفی کرتی ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ابتدا سے مذہب کے چھوٹے سے چھوٹے معاملات میں اتنے ہی ہم جیسے ہیں، جیسے ہمارے یہاں ایک ہی مذہب کے ماننے والے دو فرقے ہوا کرتے ہیں، خواہ وہ ایک دوسرے کی جان کے کتنے ہی پیاسے کیوں نہ ہوں۔(تصنیف حیدر)

دین مسیح، جیسا کہ یہ سلطنت روم سے وحشیوں کو ملا ٗ تین عناصر پر مشتمل تھا۔ اول مخصوص فلسفیانہ اعتقادات جو بیشتر افلاطون ٗ نو افلاطونیوں لیکن جزوی طورپر رواقین سے حاصل شدہ تھے۔ دوم ٗ اخلاقیات کا تصور اور تاریخ جو یہودیوں سے لی گئی تھی اور سوم‘ مخصوص نظریات ٗ جو بیشتر نجات سے متعلق تھےٗ جو مجموعی طور پر عیسائیت میں نئے تھے ٗ اگرچہ جزوی طور پر آرفی مت (Orphism) اور مشرق قریب کے اس سے ملتے جلتے مسالک سے لئے گئے تھے۔
میرے خیال میں عیسائیت میں اہم ترین یہودی عناصر درج ذیل ہیں۔
(۱) مقدس تاریخ‘ تخلیق کی ابتداء سے لے کر مستقبل میں آخرت تک اور انسان کیلئے احکام الہی کے جواز پر مشتمل ہے۔
(۲) ایسے انسانوں کے ایک چھوٹے گروہ کا وجود جنہیں خدا خاص طور پرپیار کرتا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک یہ گروہ ’’منتخب لوگوں‘‘ (chosen people) کا تھا۔ اور عیسائیوں کے خیال میں ’’پسندیدہ لوگوں‘‘ (The elect) کا۔
(۳) ’’راست شعاری‘‘ (righteousness) کا ایک نیا تصور۔
مثال کے طورپر عیسائیت نے خیرات دینے کی نیکی بعد کی یہودیت سے لی تھی۔ اس بات کا امکان ہے کہ بپتسمہ کو جو اہمیت دی گئی ہے شاید اسے آرفی مت یا مشرقی وثنی (pagan) پراسرار مذاہب سے لیا گیا ہو۔ لیکن عملی انسان دوستی ٗ جو عیسائیت میں نیکی کے تصور کا عنصر ہے‘ یہودیوں ہی سے لی گئی معلوم ہوتی ہے۔
(۴) قانون ۔ عیسائیوں نے جزوی طور پر عبرانی قانون کو اپنا لیا جس کی مثال احکام عشرہ ہے جب کہِ انہوں نے اُس کے رسمی اور دینی حصوں کو ترک کر دیا۔ لیکن عملی طور پر اس مسلک کے ساتھ ویسے ہی جذبات وابستہ کر لئے جو یہودیوں نے قانون کے ساتھ وابستہ کر رکھے تھے۔ اس سے یہ نظریہ وجود میں آیا کہ صحیح عقیدہ بھی کم ازکم ایسا ہی اہم ہے جیسا کہ نیکی کا عمل ۔یہ وہ نظریہ ہے جو بنیادی طور پر یونانی ہے۔ یہودیوں میں جو اصل بات ہے وہ بلا شرکت غیرے پسندیدہ لوگ ہونا ہے۔
(۵) مسیحا۔ یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ مسیحا ان کے لئے عارضی خوشحالی لائے گا اور انہیں یہاں زمین پر اپنے دشمنوں پر فتح دے گا۔علاوہ ازیں وہ مستقبل میں باقی رہے گا۔ عیسائیوں کے لئے مسیحا تاریخی یسوع تھا جسے یونانی فلسفہ میں کلمہ (Logos)1 سے منسوب کیا جاتا ہے ۔یہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر تھا ۔ اور مسیحا کو اپنے پیروکاروں کو اس اہل بنانا تھا کہ وہ اپنے دشمن پر غالب آئیں۔
(۶) آسمان کی بادشاہت ۔اخروی دنیا کے تصور میں یہودی اور عیسائی افلاطونیت میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تصور ان کے ہاںیونانی فلسفیوں کی بہ نسبت زیادہ محسوس صورت میں ہے۔ یونانی نظریہ۔۔۔ جو مسیحی فلسفے میں تو بہت زیادہ ہے مگر مقبول عام عیسائیت میں نہیں ۔۔۔ یہ تھا کہ ٗ زمان و مکان میں ٗ حسی دنیا ایک فریب ہے اوریہ کہ ایک شخص فکری اور اخلاقی نظم و ضبط سے اس ابدی دنیا میں رہنا سیکھ سکتا ہے۔ اورصرف یہ ابدی دنیا ہی حقیقی دنیا ہے۔ اس کے برعکس یہودی اور عیسائی نظریہ یہ تھا کہ اخروی دنیا مابعد الطبیعیاتی طور پر اس دنیا سے مختلف نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ مستقبل میں ہو گا کہ پارسا لوگ تو ابدی مسرتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور بدکار لوگ ابدی اذیت کا دکھ اٹھائیں گے۔ اس عقیدے میں انتقامی نفسیات مضمر ہے۔ یہ سب خاص و عام کیلئے قابل فہم تھا ‘جب کہ یونانی تصورات ایسے نہ تھے۔
ان عقائد کی ابتدا سمجھنے کیلئے ہمیں یہودی تاریخ کے حقائق کا جائزہ لینا لازم ہو جاتا ہے۔ اوراب ہم اپنی توجہ اس طرف مبذول کریں گے۔
اسرائیلیوں کی ابتدائی تاریخ کی تصدیق عہد نامہ قدیم کے ماخذ کے سوا اورکہیں سے نہیں ہو سکتی اور یہ جاننا ناممکن ہے کہ یہ کس مقام پر محض داستانی نہیں رہتی۔ (حضرت) داؤد اور(حضرت) سلیمان کو بحیثیت بادشاہ تسلیم کیا جا سکتا ہے اور ان کا حقیقی وجود بھی تھا۔ لیکن اولین مقامات جو یقینی طور پر تاریخی ہیں وہ یہ ہیں جب کہ پہلے ہی اسرائیل اور یہود ا کی دو بادشاہتیں قائم ہیں۔ عہد نامہ قدیم میں جس پہلے صیغہ متکلم کا ذکر ملتا ہے اور جس کا آزاد دستاویزی ثبوت ہے اسرائیلی بادشاہ آہب (Ahab) ہے۔ اس کا ذکر 853 ق م کے ایک اشوری خط میں ملتا ہے۔ اشوریوں نے بالآخر 722 ق م میں شمالی بادشاہت پر قبضہ کر لیا اور آبادی کا زیادہ تر حصہ ساتھ لے گئے۔ اس وقت صرف یہودا کی بادشاہت نے اسرائیلی مذہب اور روایت کو محفوظ رکھا۔ یہودا کی بادشاہت اشوریوں سے تو بچ رہی لیکن اس کے اقتدارکا اس وقت خاتمہ ہو گیا جب کہ بابلیوں اور میڈیا نے 606 ق م میں نینوا پر قبضہ کر لیا۔ لیکن 586 ق م میں نبوکدرزر (Nebuchadrezzar) نے یروشلم پر قبضہ کرلیا اور ہیکل (Temple) کو مسمار کر دیا اورآبادی کا زیادہ تر حصہ بابل لے گیا۔ 538 ق م میں بابلی حکومت کا اس وقت زوال ہوا جب سائرس (Cyrus) نے بابل پر قبضہ کر لیا۔ سائرس میڈیا اور ایران کا بادشاہ تھا۔ سائرس نے 537 ق م میں ایک حکمنامے کے ذریعے یہودیوں کو واپس فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ ان میں سے اکثریت نے نہمیا (Nehemiah) اور ایزرا (Ezra) کی رہنمائی میں ایسا کیا۔ ہیکل کی دوبارہ تعمیرکی گئی اور یہودی راسخ الاعتقادی نکھر کر سامنے آنا شروع ہو گئی۔
اسیری کے عرصہ میں ٗ اور اس سے کچھ پہلے اور اس کے بعد بھی ٗ یہودی مذہب بہت اہم ارتقاء میں سے گزرا۔ شروع شروع میں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلیوں اور ان کے ارد گرد قبائل کے درمیان مذہبی نقطہ نظر سے زیادہ فرق نہ تھا۔ ابتدا میں یہوواہ (Yahweh) محض ایک قبائلی دیوتا تھا جو اسرائیل کے بچوں کی حمایت کرتا تھا۔ لیکن اس سے انکار نہ تھا کہ اس کے علاوہ اوردیوتا بھی تھے اور ان کی پوجا بطور عادت کی جاتی تھی۔ لیکن جب پہلا حکم الہی کہتا ہے ’’میرے سوا تمہارا کوئی دوسرا خدا نہیں ہے‘‘ تو یہ وہ حکم تھا ٗ جو بالکل ایک جدت تھی ٗ اور جو اسیری سے کچھ دیر پہلے نازل ہوا تھا۔ اس کی تصدیق پہلے انبیاء کی متعدد کتابوں سے ہوتی ہے۔ یہ اس وقت کے انبیاء جنہوں نے یہ پہلی تعلیم دی کہ بت پرست لوگوں کے دیوتاؤں کی عبادت گناہ ہے۔ اس زمانے میں مسلسل جنگوں کو جیتنے کیلئے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ یہوداہ کی حمایت لازمی ہے اور اگر اس کے علاوہ دوسرے دیوتاؤں کو تعظیم بخشی گئی تو یہوواہ اپنی حمایت سے ہاتھ کھینچ لے گا۔ یرمیاہ اور ایزا قیل (Jeremiah and Ezekiel) نے خاص طور پر اس بات کی تعلیم دی کہ ایک مذہب کے علاوہ باقی تمام مذاہب جھوٹے ہیں اور خدا بت پرستی کی سزا دیتا ہے۔
چندحوالوں سے ایک تو ان کی تعلیمات واضح ہوں گی اور دوسرے بت پرستوں کی وہ روش سامنے آئے گی جن کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا۔ ’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ یہوداہ کے شہر اور یورو شلم کی گلیوں میں کیا کرتے ہیں؟ بچے لکڑیاں اکٹھی کرتے ہیں اورباپ آگ جلاتے ہیں اور عورتیں آسمان کی ملکہ (اشتار) کے لئے روٹی پکانے کیلئے آٹا گوندھتی ہیں اور دوسرے دیوتاؤں کو نذرانہ پیش کرنے کیلئے ان پر پانی انڈیلتی ہیں تاکہ میری ناراضگی مول لے سکیں‘‘ (17-18 یرمیاہ باب 7) خدا اس سے ناراض ہوتا ہے ’’اور انہوں نے تافت کے بڑے محلات بنائے جو ہنام کی وادی میں ہے تاکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں جلائیں۔ میں نے انہیں ایسا نہ کرنے کا حکم دیا تھا اور نہ ہی یہ خیال میرے دل میں آیا‘‘ (یرمیاہ باب 31,7)
یرمیاہ میں ایک بہت دلچسپ تحریر ہے جس میں وہ مصر میں اسرائیلیوں کی بت پرستی کی مذمت کرتا ہے۔ اس نے خود کچھ وقت ان میں گزارا تھا۔ نبی نے مصر میں پناہ گزین یہودیوں کو بتایا ہے کہ یہوداہ ان سب کو تباہ کر دے گا کیونکہ ان کی بیویاں دوسرے دیوتاؤں کے سامنے لوبان جلاتی ہیں۔ لیکن وہ اسے سننے سے انکارکر دیتی ہیں اور کہتی ہیں ’’ہم یقیناً وہی کریں گی جو ہمارے منہ سے نکلتا ہے تاکہ ہم آسمان کی ملکہ کے سامنے لوبان جلائیں اور اس پر بطور نذر پانی انڈھلیں جیسا کہ ہم نے کیا ہے اور ہمارے آباؤ اجداد نے ٗ ہمارے بادشاہوں نے اور ہمارے شہزادوں نے یہودا کے شہر اور یورو شلم کی گلیوں میں کیا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس وافر اناج تھا اور وہ اچھے بھلے تھے اور انہوں نے کوئی بدی نہ دیکھی۔‘‘ لیکن یرمیاہ انہیں یقین دلاتا ہے کہ یہوواہ نے ان کی بت پرستی کے اعمال کو ناراضگی سے دیکھا ہے اور ان کی وجہ سے بدنصیبی آئی ہے۔ ’’خدا نے کہا دیکھو! میں نے اپنے بلند نام کی قسم کھائی ہے کہ مصر کی تمام سرزمین پر یہودا کا کوئی آدمی اپنے منہ سے میرا نام نہیں لے گا۔۔۔ میں ان کے گناہ کے باعث ان پر نظر رکھوں گا اور ان کی نیکی پر نہیں اور مصر کی زمین پر یہوواہ کے تمام مرد قحط اور تلوارسے مر جائیں گے‘ یہاں تک کہ وہ سب مٹ جائیں گے۔‘‘( یرمیاہ 11-44سے آخر تک)
ایزاقیل کو بھی اسی طرح یہودیوں کی بت پرستی کے اعمال پر صدمہ ہوا۔ خدا ایک منظر میں اسے دکھاتا ہے کہ عورتیں معبد کے شمالی دروازے پر تموز (ایک بابلی دیوتا) کیلئے روتی ہیں۔ پھر وہ اسے ’’شدید کراہت‘‘ دکھاتا ہے۔ جب پچیس مرد معبد کے دروازے پر سورج کی پوجا کر رہے ہوتے ہیں، خدا کہتا ہے ’’اسی کے باعث میں سخت ناراضگی سے نمٹوں گا۔ میری آنکھیں نظر انداز نہیں کریں گی اور نہ ہی میں رحم کھاؤں گا۔ اور اگرچہ میرے کانوں میں بلند آواز سے روئیں گے لیکن میں انہیں نہیں سنوں گا‘‘ (ایزاقیل باب 7۔11 سے آخر تک)
یہ تصور کہ ایک مذہب کے سوا باقی تمام مذاہب بدکردار ہیں اور یہ کہ خدا بت پرستی کی سزا دیتا ہے ٗ صاف طور پر ان نبیوں کی اختراع تھا۔ انبیاء مجموعی طور پر شدید قوم پرست تھے اور وہ اسی دن کے انتظار میں تھے جب خدا ان بت پرستوں کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دے گا۔
اسیری کے متعلق یہی خیال کیا گیا کہ یہ نبیوں کی ملامت کا نتیجہ ہے۔ اگر یہوواہ قادر مطلق تھا اور یہودی اسی کے منتخب لوگ تھے تو پھر ان کے دکھوں کی صرف یہی وضاحت ہو سکتی ہے کہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا تھی۔ یہ آبائی اصلاح کی نفسیات ہے۔ یہودیوں کو سزا دے کر انہیں بداعمالیوں سے پاک کرنا ہے۔ اس عقیدے کے تحت‘ اسیری کے دوران‘ انہوں نے راسخ الاعتقادی ٗ بہت زیادہ سختی کے ساتھ اپنا لی۔ جب وہ آزاد تھے اس کی بہ نسبت اب وہ بلا شرکت غیرے پہلے سے بہت زیادہ قوم پرست بن گئے۔ وہ یہودی جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بابل نہیں لے جائے گئے تھے وہ اس حد تک اس ارتقاء سے متاثر نہ ہوئے۔ اسیری کے بعد جب ایزرا اور نرمیاہ واپس یوروشلم آئے تو انہیں یہ دیکھ کر صدمہ ہوا کہ مخلوط شادیاں عام ہو چکی تھیں اور انہوں نے ایسی تمام شادیوں کو ناجائز قرار دے کر ختم کر دیا۔ (ایزرا باب 5,9-10)
دوسری قدیم اقوام سے یہودی اس لحاظ سے منفرد تھے کہ ان میں کڑا قومی غرور تھا۔ دوسری اقوام جب مفتوح ہو جاتیں تو خارجی اور داخلی طور پر بھی اطاعت قبول کر لیتیں۔ صرف یہودی اپنی فضیلت و سبقت کے عقیدے پر قائم رہتے۔ ان کا اعتقاد قائم رہتا کہ ان کی بدنصیبوں کا سبب خدا کی ناراضگی ہے کیونکہ وہ اپنے ایمان و عمل کی پاکیزگی محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ عہد نامہ قدیم کی تاریخی کتابیں ٗ جو زیادہ تر اسیری کے بعد تالیف کی گئیں تھیں ٗ یہ غلط تاثر دیتی ہیں کیونکہ وہ یہ بتاتی ہیں ان کی بت پرستی کے اعمال ٗ جن کے خلاف نبیوں نے احتجاج کیا تھا ٗ وہ پہلی سی صحت و سخت پابندی سے دور ہٹ جانا تھا جبکہ حقیقت میں پہلے صحت و سخت پابندی کبھی بھی موجود نہ تھی۔ اگر بائبل کا غیر تاریخی طور پر مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انبیاءؑ کرام اس سے کہیں زیادہ حد تک مخترع تھے جتنے کہ وہ ان کتابوں سے ظاہرہوتے ہیں۔
بعد ازاں اسیری کے دوران یہودی مذہب میں بعض خصوصیات پیدا ہو گئیں تھیں جن کا ماخذ اگرچہ پہلی تعلیمات تھیں۔ ہیکل کی تباہی کے باعث ٗ جہاں صرف قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں ٗ یہودی رسومات چارو ناچار قربانیوں سے لاتعلق ہو گئیں۔ اس وقت یہودیوں کے معبدوں میں صحیفوں سے صرف ایسے حصے پڑھ کر سنائے جاتے تھے جو کہ پہلے پڑھے جاتے تھے۔ اب سبت کو پہلی دفعہ اہمیت دی گئی اور اسی طرح ختنے کو بھی جو یہودیوں کی علامت تھی۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ صرف جلا وطنی کے دوران ایسا ہوا کہ بت پرستوں کے ساتھ شادیاں ممنوع قراردی گئیں۔ ہر قسم کی غیر شراکت بڑھی ’’میں مالک تمہارا خدا ہوں جس نے تمہیں دوسرے لوگوں سے علیحدہ کیا ہے‘‘ (Leviticus xx,24)۔ ’’تم مقدس ٹھہرو گے کیونکہ میں تمہارا خدا مقدس ہوں (ایضاً) ۔قانون اس زمانے کی تحریر ہے۔ قومی وحدت محفوظ رکھنے کیلئے باقی قوتوں میں سے یہ ایک سب سے بڑی قوت تھی۔
آج ہمارے پاس جو یسعیاہ (Isaiah) کی کتاب ہے وہ دو مختلف نبیوں کی تحریریں ہیں‘ ایک جلا وطنی سے پہلے اور دوسری جلا وطنی کے بعد۔ ان میں سے دوسری کتاب جسے بائبل کے طلباء ۔۔۔Deutero-Isaiah کہتے ہیں وہ نبیوں کی کتابوں میں سب سے زیادہ قابل ذکر ہے۔ وہ پہلے نبی ہیں جو بتاتے ہیں کہ خدا کہتا ہے ’’کوئی معبود نہیں مگر میں۔‘‘ وہ روز قیامت جسم کے پھر زندہ ہونے میں یقین رکھتے ہیں۔ شاید یہ ایرانی اثر تھا۔ بڑے عہد نامہ قدیم کی کتابوں میں اس کی مسیحا کے متعلق پیش گوئیاں بعد ازاں یہ ثابت کرنے کیلئے استعمال کی گئیں کہ انبیاء نے (حضرت) عیسیٰ کی آمد کو پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔
یہودیوں اور بت پرستوں یا غیر مسیحوں کے ساتھ عیسائیوں کے دلائل نے اس Deutero-Isaiah کتاب سے بڑا اہم کارنامہ سرانجام دیا اور اسی وجہ سے میں اس میں سے وہ تمام حوالے پیش کروں گا جو سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ بالآخر تمام قومیں اپنا مذہب تبدیل کر لیں گی۔ (صفحہ 333) ’’وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے پھالوں کو ہنسوے بنا ڈالیں گے اور قوم ٗ قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے‘‘ (یسیاہ ۔ باب دوم ۔ آیت چار) ’’دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا پیدا ہو گا اس کا نام عمانویل رکھے گی‘‘ (یسیاہ ۔ باب دو ۔ آیت چھ) (اس عبارت کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں میں مناظرہ ہوتا رہا۔ یہودی کہتے ہیں کہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ایک نوجوان عورت حاملہ ہو گی لیکن عیسائیوں کا خیال تھا کہ یہودی غلط بیانی سے کام لے رہے تھے) ’’وہ لوگ جو تاریکی میں چلتے تھے‘ انہوں نے ایک بڑی روشنی دیکھی ہے۔ وہ جو موت کے سائے کی وادی میں رہتے ہیں‘ ان پر روشنی چمکی ہے۔۔۔ کیونکہ ہمارے لئے ایک بچہ پیدا ہوا ہے‘ ہمیں ایک بیٹا عطا کیا گیا ہے۔ اور حکومت اس کے کاندھوں پر ہو گی اور وہ عجیب تر‘ مشیر‘ طاقت ور خدا‘ ہمیشہ کا باپ اور امن کا شہزادہ کے ناموں سے پکارا جائے گا‘‘ (یسیاہ (6'2'x سب سے زیادہ واضح پیش گویاں باب 53کی ان عبارتوں میں ہیں جن میں مانوس متن ہیں ’’وہ آدمیوں میں حقیر و مردود‘ مرد غمناک اور رنج کا آشنا تھا۔۔۔ تو بھی اس نے ہماری مشقتیں اٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔۔۔ حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکاری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں۔۔۔ وہ ستایا گیا تو بھی اس نے برداشت کی اور منہ نہ کھولا جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے‘ اسی طرح وہ خاموش رہا‘‘ بالآخر نجات میں غیرمسیحیوں کی شمولیت واضح ہے:’’اور قومیں تری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے‘‘ (یسیاہ باب (3'60
عزرا اور نحمیاہ کے بعد یہودی کچھ عرصے کے لئے تاریخ سے غائب ہو جاتے ہیں یہودی ریاست بدستور ایک دینی حکومت قائم رہی لیکن اس کا علاقہ بہت محدود تھا۔ ای ۔ بیون (Jerusalem under the High Priests by E.Bevan)کے مطابق یہ علاقہ یورو شلم کے چاروں طرف دس سے پندرہ میل تک محدود تھا۔ سکندر کے بعد یہ علاقہ سیلوسیوں اور بطلیموسیوں کے مابین نزاع کا باعث بن گیا۔ تاہم اس کے باعث یہودی علاقے میں طویل عرصے تک کوئی جنگ نہ ہوئی اور یہودی آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل پیرا رہے۔
اس زمانے میں ان کے اخلاقی اصول ’’واعظ‘‘ (Ecclesiasticus؟) میں لکھے ہیں جو غالباً 200 ق م لکھے گئے۔ حال ہی تک یہ کتاب صرف یونانی زبان میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بے سند صحائف سمجھ کر خارج کر دیا گیا۔ لیکن حال ہی میں اس کا عبرانی مسودہ دریافت ہوا ہے جو بعض امور میں اس ترجمے سے مختلف ہے جو یونانی متن ہے۔ اس میں جس اخلاقیات کی تعلیم دی گئی ہے وہ بہت دنیاوی ہے۔ ہمسایوں میں وقار اور اچھی شہرت کو بلند مقام دیا گیا ہے۔ دیانت داری بہترین لائحہ عمل ہے کیونکہ یہ مفید بات ہے کہ یہوواہ آپ کی طرف ہو۔ خیرات کرنا سراہا گیا ہے ۔یونانی اثر کا واحد اشارہ طب کی تعریف سے ملتا ہے۔
غلاموں کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔ ’’چارہ ٗ ڈنڈا اوربوجھ گدھوں کی ضرورت ہے اور روٹی ٗ اصلاح اور کام ملازم کی۔۔۔ اسے اس کام پہ لگاؤ جس کے لئے وہ موزوں ہے۔ اگر وہ اطاعت گزار نہیں ہے تو اسے زیادہ بھاری بیڑیاں پہنا دو۔ (باب 24 ٗ 28) اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اگر وہ دوڑ گیا تو آپ کی رقم ضائع جائے گی یہ مفید سختی حد قائم کرتی ہے (ایضاً 31,30) بیٹیاں بہت پریشانی کا باعث ہوتی ہیں۔ بظاہر اس زمانے میں وہ بہت زیادہ مخرب اخلاق کی عادی ہو چکی تھیں۔ (باب 9-11,42) وہ عورتوں کے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتا۔ ’’لباس سے کیڑا نکلتا ہے اور عورت سے بدی‘‘ (ایضاً 13) بچوں کے ساتھ ہشاش بشاش ہونا غلطی ہے۔ ان کے ساتھ صحیح رویہ یہ ہے کہ ’’بچپن میں ہی ان کی گردنیں جھکا دو‘‘ (باب 24,23_7)
سراسر‘بڑے کیٹو (elder cato) کی طرح ‘وہ اچھے تاجر کے اخلاق کوبہت غیردلکش اندازمیں پیش کرتا ہے۔
آرام دہ خود پارسائی کی پرسکون زندگی سیلیوسی (Seleucid) بادشاہ انٹیوخس چہارم (Antiochus IV) کے ہاتھوں بری طرح پامال ہو گئی۔ یہ بادشاہ اپنی تمام ریاستوں کو یونانی طرز پر لانا چاہتا تھا۔ اس نے 175 ق م یورو شلم میں ایک اکھاڑا قائم کیا اور نوجوانوں کو حکم تھاکہ ہیٹ پہنیں اور ورزش کریں ۔اس کام میں جیسن نامی ایک یونانی یہودی نے اس کی مدد کی۔ اسے بادشاہ نے پادری بنا دیا۔ پیشوائی اشرافیہ غافل و کاہل ہو چکی تھی اور اس نے یونانی تہذیب میں کشش محسوس کی۔ لیکن ایک جماعت ‘جسے ہیذی ڈم2’’Hasidim‘‘ (بمعنی ’’مقدس‘‘) کہتے تھے‘ نے اس کی سخت مخالفت کی۔ دیہاتی آبادی میں وہ بہت مضبوط تھے۔ 170 ق م میں انتوخس جب مصر کے ساتھ جنگ میں مصرف ہو گیا تو یہودیوں نے بغاوت کر دی۔ اس وجہ سے انتوخس نے ہیکل سے مقدس کشتیاں نکال دیں اور ان کی جگہ پردیوتا کی شبیہ رکھ دی۔ اس نے زیئس (Zeus) کو یہوواہ کی مثل قرار دیا اور اس پر اس طرح عمل پیرا ہوا۔ یہ عمل دوسری جگہوں پر بھی ہر کہیں کامیاب رہا۔3اس نے یہودی مذہب کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ختنہ کی رسم اور اناج سے متعلق قوانین پر عمل ممنوع قرار دیا۔ ان سب باتوں کو یروشلم نے قبول کر لیا لیکن یورو شلم کے باہر یہودیوں نے شدت و سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔
اس زمانے کی کہانی میکابیز (Maccabees) کی پہلی کتاب میں بیان کی گئی ہے۔ پہلا باب یہ بتاتا ہے کہ کس طرح انتیوخس نے حکم دیا کہ اس کی بادشاہت کے تمام لوگ ایک قوم بن جائیں اور اپنے الگ قوانین ترک کر دیں۔ تمام بت پرستوں نے اور بہت اسرائیلیوں نے اس کی اطاعت کی حالانکہ بادشاہ نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ سبت کو غیر مقدس جانیں ٗ سور کے گوشت کی قربانی کریں اور اپنے بچوں کے ختنے نہ کرائیں۔ تمام وہ جو اس کی اطاعت نہ کرتے انہیں سزائے موت دی جاتی۔ اس کے باوجود بہت لوگوں نے اس حکم کے خلاف مزاحمت کی۔ ’’انہوں نے بعض ایسی عورتوں کو جان سے مار دیا جنہوں نے اپنے بچوں کے ختنے کرائے ۔اور انہوں نے شیرخوار بچوں کو گردن سے لٹکایا اور ان کے گھروں کو لوٹ لیا‘ اور انہیں قتل کر دیا جنہوں نے ختنے کئے تھے۔ تاہم اسرائیل میں بہت لوگوں نے فیصلہ کر لیا اور اسی پر پوری طرح قائم رہیں کہ جو کچھ بھی ہو وہ ناپاک چیز نہیں کھائیں گے۔ اس لئے انہوں نے موت کو ترجیح دی تاکہ وہ مختلف گوشت کھانے سے ناپاک نہ ہو جائیں اور وہ مقدس حکم کی بے حرمتی نہ کریں۔ پس یوں وہ مر گئے‘‘‘‘(میکابیز باب اول 60-63)
اسی زمانے میں یہودیوں میں بقائے روح کا عقیدہ وسعت سے عام ہوا۔ یہ تسلیم کیا جاتا تھا کہ نیکی کا بدلہ اس دنیا میں مل جاتا ہے لیکن اس ظلم و ستم نے ٗ جو نیک ترین یہودیوں پر ڈھایا گیا‘ ان پر واضح کر دیا کہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اس لئے عدل الہی کے تحفظ کے لئے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہو گیا کہ اعمال کی جزا و سزا اس دنیاوی زندگی کے بعد اخروی زندگی میں ملتی ہے۔ یہ نظریہ تمام یہودیوں نے تسلیم نہ کیا۔( حضرت عیسیٰ) کے زمانے میں Sadducees ۔۔۔ اب تک اسے تسلیم نہ کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی تعداد کم تھی اور بعد ازاں تمام یہودی بقائے روح کے عقیدہ کے قائل ہو گئے۔
یہودا میکابیس ((Judas Maccabaesنے انٹیوخس کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ ایک قابل فوجی کمانڈر تھا۔ اس نے پہلے یوروشلم (164ق م) پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور مزید حملے کرنے شروع کر دیئے۔ بعض اوقات تو وہ تمام مردوں کو مروا ڈالتا اوربعض اوقات زبردستی ان کے ختنے کراتا۔ اس کے بھائی جوناتھن کو اعلی ترین پادری مقرر کیا گیا۔ اسے ایک فوجی دستے کے ساتھ یوروشلم میں مقیم کیاگیا۔ اس نے سماریہ فتح کر لیا اور یوں جوپا Joppa اور اکرا (Akra) اس کے قبضے میں آ گئے ۔اس نے روم کے ساتھ مذاکرات کئے اور مکمل خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ہیرڈ (Herod) کے زمانے تک اسی کا خاندان اعلی ترین پادری کے عہدے پر قائم رہا۔ ان ہی کو ہیسمونین (Hasmoneon) خاندان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
اس وقت کے یہودیوں نے مظالم سہنے اور ان کی مزاحمت کرنے میں بہت بڑی بہادری دکھائی۔ انہوں نے ان باتوں کے خلاف بھی اپنا تحفظ کیا جو ہمیں زیادہ اہم معلوم نہیں ہوتی جیسے ختنہ اورسور کھانے کی بدی۔
یہودیوں کی تاریخ میں ان پر انتیوخس چہارم کے مظالم کا زمانہ بہت ہی نازک تھا۔ ادھر ادھر منتشر ہونے والے یہودی (The Jews of the Dispersion) زیادہ سے زیادہ یونانی انداز اختیار کرنے لگے۔ جودیا (Judea) کے یہودیوں کی تعداد کم تھی۔ ان میں بھی امیر اورطاقت ور یہودی یونانی اختراعات قبول کرنے پر قائل ہو گئے تھے۔ اگر ہذیڈم (Hasidim) نے جرات و بہادری سے مزاحمت نہ کی ہوتی تو شاید یہودی مذہب آسانی سے مٹ جاتا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا توعیسائیت اس صورت میں موجود نہ ہوتی جس میں وہ آج موجود ہے۔ ٹاؤن سینڈ (Townsend) میکابیز (Maccabees) کی کتاب چہارم کے ترجمے کے دبیاچے میں لکھتا ہے۔
’’یہ خوب کہا گیا ہے کہ اگر انتیوخس کے عہد میں یہودیت مٹ جاتی تو عیسائیت کا تخمی پودا نہ ہوتا اوریوں مکابی شہیدوں کا خون ٗ جس نے یہودیت کو بچایا‘ بالآخر کلیسا کا تخم بن گیا۔ اس لئے مسیحی دنیا میں توحید کا تصور مکابیوں کا مرہون منت ہے۔‘‘4
تاہم بعدازاں یہودی میکابیز کی تعریف سے دست بردار ہو گئے کیونکہ میکابیز کے خاندان کے اعلی پادریوں نے اپنی کامیابی کے بعد دنیاوی اور زمانہ سازی کی روش اختیار کر لی۔ اب صرف شہیدوں کو ہی قابل تعریف خیال کیا جاتا تھا۔ میکابیز کی کتاب چہارم ٗ جو غالباً سکندریہ میں (حضرت عیسیٰ) کے زمانے میں لکھی گئی ٗ میں اس بات اور دیگر دلچسپ امور کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے عنوان کے باوجود اس میں میکابیز کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اس میں پہلے ایک عمر رسیدہ اور پھر سات نوجوان بھائیوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس وقت نہایت ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا‘ جب انتیوخس نے پہلے انہیں اذیت دی اور پھرانہیں جلا دیا۔ اس دوران ان کی ماں ٗ جو وہاں موجود تھی ٗ انہیں ثابت قدم رہنے کی نصیحت کرتی رہی۔ بادشاہ نے پہلے تو انہیں دوست بنا کر ساتھ ملانے کی کوشش کی اور انہیں کہا کہ اگر وہ صرف سور کھانے پر رضا مند ہو جائیں وہ ان کی بہت حمایت کرے گا اورانہیں اعلی و محفوظ منصب عطا کرے گا۔ جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں اذیت دینے کے اوزار دکھائے گئے۔ لیکن ان کے پائے ثبات میں لرزش نہ آئی اور انہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ کو اس کے نتیجے میں موت کے بعد ابدی اذیت کی سزا بھگتنا پڑے گی جب کہ انہیں ابدی راحت و مسرت نصیب ہو گی۔ پھر ایک ایک کرکے ٗ ایک دوسرے کی اوران کی ماں کی موجودگی میں ٗ پہلے تو انہیں سور کھانے کی ترغیب دی اور جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو انہیں اذیت دے کر مار دیا۔ بالآخر بادشاہ اپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ اس مثالی جرات سے فائدے میں رہیں گے۔ بلا شبہ اس بیان میں زیب داستان سے مبالغہ شامل کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تاریخی طور پر سچ ہے کہ ان کی اذیت نہایت شدید تھی اور انہوں نے کمال جرات و بہادری سے اسے برداشت کیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اہم امور ختنہ اور سور کا گوشت کھانا تھے۔
یہ کتاب ایک اور اعتبار سے بھی دلچسپ ہے۔ اگرچہ لکھنے والا ٗ صاف ظاہر ہے‘ ایک راسخ العقیدہ یہودی ہے مگر وہ رواقی فلسفے کی زبان استعمال کرتا ہے وہ یہ بات ثابت کرناچاہتا ہے کہ یہودی مکمل طور پر یہودیت کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ کتاب اس جملے سے شروع ہوتی ہے۔
’’میں انتہائی فلسفیانہ درجے کا سوال زیربحث لانا چاہتا ہوں یعنی یہ کہ الہامی عقل جذبات پر اعلی ترین حکمران ہے۔ اس فلسفہ کی جانب میں سنجیدگی سے آپ کی پرخلوص توجہ کے لئے التجا کرتا ہوں۔‘‘
اسکندریہ میں رہنے والے یہودی یونانیوں سے فلسفہ کا علم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے لیکن وہ اپنے قوانین پر نہایت سختی سے کاربند رہے ٗ خصوصاً ختنہ ٗ سبت کی تعظیم و تکریم اور سور اور ناپاک گوشت کھانے سے پرہیز پر۔ نحمیاہ کے زمانے سے 70 عیسوی میں سقوط یروشلم تک ان کی قوانین کی اہمیت کے ساتھ وابستگی بتدریج بڑھتی گئی۔ وہ کسی ایسے نبی کو مزید برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے جو کوئی نئی بات کہتا۔ ان میں وہ لوگ جو یہ محسوس کرنے پر مجبور ہو جاتے کہ وہ نبیوں کے انداز میں لکھیں وہ اس بات کا سہارا لیتے کہ انہیں ایک پرانی کتاب دستیاب ہوئی ہے جو (حضرت )دانیال یا( حضرت )سلیمان یا کسی قدیم بے داغ توقیر و حرمت والے نبی کی ہے۔ ان کی رسومات کی خصوصیات نے انہیں ایک متحد قوم کے طور پر زندہ رکھا۔ لیکن دھیرے دھیرے قانون کی اصلیت پر زور ٹوٹتا چلا گیا اوراس بات نے انہیں شدید راسخ العقیدہ اور کٹر بنا دیا۔ اس سخت گیری اور کٹرپن نے سینٹ پال کی‘ قانون کے تسلط کے خلاف‘ بغاوت کو بہت نمایاں طور پر قابل ذکر بنا دیا۔
تاہم عہد نامہ جدید مکمل طورپر ایک نئی ابتداء نہیں ہے جیسا کہ یہ معلوم ہوتا دکھائی دیتا ہے جو حضرت عیسی سے ذرا پہلے کے یہودی ادب سے واقف نہیں ہیں۔ پیغمبرانہ جوش و خروش کسی طرح بھی ختم نہیں ہوا تھا‘ اگرچہ اسے فرضی نام سے منسوب کرنا پڑتا تھا تاکہ اس کی قبولیت حاصل کی جائے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ دلچسپ اناخ کی کتاب (Book of Enoch) ہے جو متعدد مصنفین کے باعث ایک مجموعہ ہے۔ یہ میکابیز کے وقت سے ذرا پہلے کی اور آخری64 ق م کی کتاب ہے۔ یہ زیادہ تر ایک خاندانی بزرگ یا رئیس قبیلہ اناخ کے فرضی الہامات بیان کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ یہودیت کی طرف سے اہم ہے جو عیسائیت میں بدل گئی۔ عہد نامہ جدید کے لکھنے والے اس سے بخوبی آگاہ تھے۔ سینٹ جیوڈ (ST.Jude) اسے واقعی اناخ کی کتاب مانتا ہے۔ اوائل کے عیسائی عالم‘ جیسے اسکندریہ کے کلیمنٹ اور ٹرٹولیئن‘ نے اسے ایک شرعی کتاب تسلیم کیا۔ لیکن جیروم اورآگسٹائن نے اسے رد کر دیا۔ بالآخر اسے بھلا دیا گیا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں حبشہ (Ethiopic) زبان میں اس کے تین مسودے ایبے سینسا (Abyssinia) میں پائے گئے۔ اس وقت سے اس کے کچھ حصوں کے مسودے یونانی اورلاطینی زبانوں میں ملے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اصل میں یہ جزوی طور پر عبرانی اور جزوی طور پر آرمینی (Aramaic) زبان میں لکھی گئی۔ اس کے مصنفین ہیزیڈیم (Hasidim) کے رکن تھے اور ان کے متبعین فریسی (Pharisees) تھے۔ یہ بادشاہوں اورشہزادوں کی مذمت کرتی ہے جن سے اس کی مراد ہیسا مون خاندان اور سیدسیز (Sadducees) سے ہے۔ اس نے عہد نامہ جدید کے نظریہ کو متاثر کیا خصوصاً مسیحا (Messiah)‘ شیول (Sheol) یعنی جہنم اور جادو منتر یا شیطان پرستی کے بارے میں۔
یہ کتاب زیادہ تر ’’اخلاقی حکایات‘‘ پرمشتمل ہے۔ جو عہد نامہ جدید کی حکایات کی بہ نسبت زیادہ آفاقی ہیں۔اس میں جنت ٗ دوزخ ٗ روزجزا و سزا اور اس طرح کی باتیں ہیں۔ اسے پڑھ کر فردوس گم گشتہ ’’Paradise Lost‘‘ کی پہلی دو کتابیں اس جگہ یاد آتی ہیں جہاں ادبی تحریر اچھی ہے اوربلیک (Blake) کی پیش گویوں کی کتابیں (Prophetic Books) جہاں اس کی تحریر ادنیٰ ہے۔
اس میں کتاب پیدائش باب 6 آیت 4,2 کی وسعت ہے۔ جو عجیب و غریب اور پرامیتھس کی سی لگتی ہے۔ فرشتوں نے انسان کو فن دھات کاری سکھایا اورانہیں ’’ابدی راز‘‘ منکشف کرنے پرسزا دی گئی۔ وہ آدم خور بھی تھے۔ وہ فرشتے جنہوں نے گناہ کئے وہ بت پرستوں کے دیوتا بن گئے اوران کی عورتیں جل پریاں بن گئیں لیکن بالآخر انہیں نہ ختم ہونے والی اذیت کی سزا دے گی۔
اس میں جنت اور دوزخ کے متعلق بھی باتیں بیان کی گئی ہیں اور ان کی زبان میں ادبی خوبی پائی جاتی ہے۔ روز حشر جزا و سزا کا فیصلہ ’’انسان کے بیٹے جو پارسائی کا حامل ہے‘‘ کے ہاتھوں ہوتا ہے اور جو اس کے جلال کے تخت پر بیٹھتا ہے۔ بالآخر مشرکین میں سے بعض توبہ کر لیں گے اور انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ لیکن بیشتر مشرکین اور تمام یونانی طرز اختیارکرنے والے یہودی دائمی سزا میں مبتلا رہیں گے کیونکہ نیکو کار مکافات کی التجا کریں گے اور ان کی التجا قبول کر لی جائے گی۔
اس میں ایک حصہ فلکیات سے متعلق ہے جس سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ سورج اور چاند ایسے رتھوں پر سوار ہیں جنہیں ہوا کھینچتی ہے۔ سال 364 دن کا ہوتا ہے۔ انسان کی بدعملی ستاروں کو اپنے صحیح راستے سے گمراہ کر دیتی ہے اور صرف پاکیزہ روح رکھنے والے لوگ ہی علم فلکیات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ٹوٹنے والے ستارے گرنے والے فرشتے ہوتے ہیں اور انہیں سات بڑے فرشتے سزا دیتے ہیں۔
اس کے بعد مقدس تاریخ آتی ہے۔ میکابیز تک وہی کچھ بیان کیا گیا ہے جو بائبل کے اوائل حصوں میں موجود ہے اور جو کچھ اس کے بعد کے حصوں سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر مصنف مستقبل میں داخل ہوتا ہے جس کے اجزا یہ ہیں: نیا یوروشلم ٗ باقی ماندہ مشرکین کی تبدیلی مذہب ٗ پارساؤں کا روز محشر نکلنا اور مسیحا۔
گنہگاروں کو سزا اور پارساؤں کو جزا کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس میں وہ رویہ نہیں جو عیسائی گنہگاروں کو معاف کر دینے کا ہے۔ ’’اے گنہگارو تم قیامت کے دن کیا کرو گے اور کہاں بھاگ کر جاؤگے جب تم پارسا لوگوں کی التجا کی آواز سنو گے؟‘‘ ’’زمین پر گناہ کو بھیجا نہیں گیا بلکہ انسان نے اسے خود پیدا کیا ہے۔‘‘ گناہوں کو آسمان میں لکھ لیا جاتا ہے۔ ’’اے گنہگارو تم پر ہمیشہ کیلئے لعنت ہو گی اور تمہیں کبھی امن و سکون نصیب نہیں ہوگا۔‘‘ گنہگار اپنی زندگی میں شاید ہمیشہ خوش رہیں اور شاید مرنے پر بھی۔ لیکن ان کی روحیں جہنم واصل ہوں گی جہاں ’’اندھیرے میں جلتے ہوئے شعلوں کی زنجیروں میں‘‘ وہ اذیت اٹھائیں گے۔ لیکن جو نیک اور پارسا ہیں ’’ان کے ساتھ میں اور میرا بیٹا ہمیشہ وابستہ رہیں گے‘‘
کتاب کے آخری الفاظ یہ ہیں ’’وہ اہل ایمان کو سچائی کی نیک راہوں پر چلنے کا مسکن عطا کرے گا۔ لیکن جو تاریکی میں پیدا ہوئے ہیں انہیں وہ تاریکی میں ہی جاتا دیکھے گا جبکہ پارسا لوگ نور سے منور ہوں گے۔ اور گنہگار چیخ و پکارکریں گے جب وہ دوسروں کو درخشاں و تاباں دیکھیں گے اور بے شک وہ وہاں جائیں گے جو جگہ ہمیشہ کیلئے ان کیلئے لکھ دی گئی ہے‘‘
عیسائیوں کی طرح یہودی بھی گناہ کے متعلق بہت سوچتے لیکن ان میں خود کو کوئی گنہگار نہ سمجھتے۔ یہ زیادہ تر عیسائیوں کی اختراع تھی جو فریسیوں اور شراب بیچنے والوں کی حکایت (Publican) سے متعارف ہوئی تھی اور( حضرت) عیسی کی فریسیوں اور کاتبوں کی مذمت کو نیکی سمجھا گیا تھا۔ عیسائیوں نے مسیحی عجز و انکساری پر عمل کرنے کی کوشش کی لیکن عمومی طور پر یہودیوں نے ایسا نہ کیا۔
تاہم (حضرت )عیسیٰ کے زمانے سے پہلے راسخ العقیدہ یہودیوں میں اہم استثنا تھے۔ مثال کے طور پر ’’بارہ بزرگوں کے عہد نامے‘‘ جو 109اور 107 ق م میں لکھے گئے وہ ایک فریسی ہی نے لکھے جس نے بیسمونی خاندان کے بلند مرتبہ پادری جان ہرکانس (John Hyr Canus) کی بہت تعریف کی۔ یہ کتاب ٗ جس صورت میں ہم تک پہنچی ہے ٗ بعض عیسائی تحریفات کی حامل ہے۔ لیکن ان سب کا تعلق عقیدے سے ہے۔ جب انہیں نکال دیا جائے تو اس کی اخلاقی تعلیم اناجیل کے بہت قریب ہے۔ جیسے ڈاکٹر آر ایچ چارلس کہتا ہے ’’پہاڑی کا وعظ کئی امور میں نہ صرف ہماری کتاب کی روح منعکس کرتا ہے بلکہ اسی ہی کے بعض جملے دہرائے گئے ہیں۔ اناجیل میں کئی عبارتیں اس کی نشاندہی کرتی ہیں اور سینٹ پال نے تو ٗ یوں معلوم ہوتا ہے ٗ اس کتاب کو بطور Vade mecum۔۔۔ استعمال کیا ہے۔ (حوالہ صفحہ 291-92) اس کتاب میں بھی ایسے فرمان ملتے جو ہم نیچے نقل کرتے ہیں۔
’’ایک دوسرے سے دل سے محبت کرو۔ اور اگر ایک شخص آپ کے ساتھ بدی کرتا ہے تو اس سے نرمی اورامن سے بات کرو اور اپنی روح میں اس کے خلاف کوئی بغض نہ رکھو اور اگر وہ پچھتاتا یا اعتراف کر لیتا ہے تو اسے معاف کر دو۔ لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کے خلاف غصے میں نہ آؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سے یہ زہر لینے کے بعد وہ اس سے دگنا گناہ کرنے کا عہد کر لے۔۔۔ اگروہ بے شرم ہے اور بدی کرنے پر مصر رہتا ہے تو بھی اسے اپنے دل سے معاف کر دو اور اس کا بدلہ خدا پر چھوڑ دو‘‘
ڈاکٹر چارلس کے خیال میں( حضرت) عیسیٰ اس عبارت سے ضرور آگاہ ہوں گے۔ ہم پھر دیکھتے ہیں۔
’’خدا سے اور اپنے پڑوسی سے محبت کرو‘‘
’’خدا سے اور ایک دوسرے سے تمام عمر سچے دل سے محبت کرو‘‘
’’میں خدا سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اسی طرح ہر آدمی سے دل سے محبت کرتا ہوں‘‘ ان کا موازنہ میتھیو کی انجیل (باب 22 آیات 37-39) سے کیا جا سکتا ہے۔ ’’بارہ بزرگوں کے عہد نامے‘‘ میں تمام نفرت کی مذمت کی گئی ہے۔ مثلاً ’’غصہ اندھا پن ہے اور اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کے چہرے کو سچائی سے دیکھا جائے‘‘
’’اس لئے نفرت بدی ہے کیونکہ اس کا مستقل طور پر جھوٹ سے سامنا رہتا ہے‘‘ اس کتاب کا مصنف ٗ جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے ٗ اس بات کا قائل ہے کہ نہ صرف یہودی بلکہ تمام مشرکین نجات پائیں گے۔
عیسائیوں نے اناجیل سے فریسیوں کے متعلق اچھی رائے حاصل نہیں کی ہے۔ مگر اس کتاب کا مصنف ایک فریسی تھا اور جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے اس نے وہی اخلاقی اصول پیش کئے ہیں جو عیسائیوں کی تعلیم میں بہت نمایاں اورواضح ہیں۔ تاہم اس کی وضاحت مشکل نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے میں ایک مستثنیٰ قسم کا فریسی تھا۔ بلا شبہ زیادہ عمومی نظریہ اناخ کی کتاب (Book of Enoch) والا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام تحریکیں زوال پذیر ہونے لگتی ہیں۔ امریکہ کے انقلاب کی بیٹیوں کے اصولوں سے جیفرسن (Jefferson ) کے اصول کا استخراج کون کر سکتا تھا؟ تیسرے یہ کہ ہم جانتے ہیں جہاں تک خصوصی طور پر فریسیوں کا تعلق ہے ان کی اپنے اصولوں کے ساتھ عقیدت ٗ بطور مطلق اور آخری سچائی کے ٗ جلد ختم ہو گئی اور ان کے ہاں فکرو احساس کی زندگی اور تازگی مرجھا گئی۔ جیسا کہ ڈاکٹر چارلس کہتا ہے۔
’’جب فریسیت نے اپنی جماعت کے قدیم تصورات سے ناطہ توڑ لیا تو اس نے خود کو سیاسی مفادات اور تحریکات میں ملوث کر لیا۔ اور وہ قانون کے الفاظ کے مطالعہ میں بہت زیادہ الجھ گئی۔ اس نے وہ اہلیت کھو دی جو اخلاقیات کا ایسا بلند نظام پیش کر سکے جیسا کہ’’ بزرگوں کا معاہدہ‘‘ میں تھا۔ یوں اوائل ہیسیڈیذ (Hasids) کے متبعین نے اوائل ہیسیڈز اور ان کی تعلیم نے یہودیت چھوڑ دی اور انہوں نے قدیم عیسائیت کی گود میں اپنا گھر بنا لیا‘‘۔
اعلیٰ پروہتوں کے زمانہ حکومت کے بعد مارک انٹونی نے یہودیوں کے بادشاہ ہیرڈ سے دوستی کر لی۔ ہیرڈ ایک خوش مزاج مہم جو تھا اور اکثر دیوالیہ پن سے ہمکنار رہتا۔ وہ رومی معاشرے کا عادی تھا اور یہودی پاکیزگی سے کوسوں دور تھا۔ اس کی بیوی اعلی پروہتوں کے خاندان سے تھی۔ لیکن وہ ایک انڈیومن (Indumaean) تھا۔ یہودیوں کے شبہات کا نشانہ بننے کیلئے صرف یہ ہی بات کافی تھی۔ وہ ہوشیار ابن الوقت تھا۔ جب اسے معلوم ہوگیا کہ اکٹیویس (Qctavious) فتح یاب ہونے والا ہے تو اس نے فوراً انٹونی (Antony) سے قطع تعلق کر لیا۔ تاہم اس نے بھرپور کوشش کی کہ یہودی اس کی حکمرانی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں۔ اس نے ہیکل دوبارہ تعمیر کرایا مگر یونانی طرز تعمیر میں کیونکہ اس نے کارنتھ انداز کے ستونوں کی قطاریں تعمیر کرائیں۔ لیکن اس نے صدر دروازے پرایک بڑا سنہری عقاب بنوا دیا جس سے دوسرے حکم الہی کی نافرمانی ہوتی تھی۔ جب یہ افواہ پھیلی کہ وہ قریب الموت ہے تو فریسیوں نے عقاب وہاں سے ہٹا دیا لیکن اس نے اس کا انتقام یوں لیا کہ اس نے متعدد فریسیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وہ 4 ق م چل بسا۔ اس کی موت کے فوراً بعد رومیوں نے بادشاہت منسوخ کر دی اور Judea کا انتظام ایک مختار کارکے سپرد کر دیا۔ پونٹیئس پائلیٹ (Pontius Pilate ) 26 عیسوی میں منتظم بنا مگر اس میں فراست و موقعہ شناسی نہ تھی ٗ اس لئے اسے اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
66 عیسوی میں یہودیوں نے مستعد اور سرگرم لوگوں کی ایک جماعت کے زیر اثر روم کے خلاف بغاوت کر دی۔ انہیں شکست ہوئی اور 70 عیسوی میں یوروشلم پر قبضہ ہو گیا۔ ہیکل مسمار کر دیا گیا اور جو دیا (Judea) میں معدودے چند یہودی رہ گئے۔
اس وقت سے صدیوں سے پہلے منتشر ہونے والے یہودی اہمیت اختیار کر چکے تھے۔ ابتدائی طور پر یہودی بیشتر پوری طرح زراعتی لوگ تھے لیکن اسیری کے دوران انہوں نے تجارت کرنا سیکھا۔ عزرا اور نحمیاہ کے زمانے کے بعد بہت یہودی بابل میں رہ گئے اور ان میں بعض بہت امیر تھے۔ اسکندریہ قائم ہونے کے بعد یہودیوں کی بڑی تعداد اس شہر میں آباد ہو گئی۔ انہوں نے اپنے لئے ایک الگ علاقہ مخصوص کر لیا جو Ghetto کی طرح کا نہ تھا بلکہ ایسا اس خطرے کے پیش نظرکیا گیا کہ مشرکین کے ساتھ رابطے کے باعث وہ ناپاک نہ ہو جائیں۔ Judea میں رہنے والے یہودیوں کی نسبت jسکندریہ میں رہنے والے یہودی زیادہ یونانی انداز میں ڈھل گئے اورعبرانی زبان بھول گئے۔ یہی وجہ تھی کہ عہد نامہ قدیم کا یونانی زبان میں ترجمہ کرنا ضروری ہو گیا۔ اسی کا نتیجہ توریت کا ہفتاوی (septuagint)ترجمہ تھا۔ توریت کی پہلی پانچ کتابوں کا ترجمہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط میں ہوا ۔باقی حصے اس سے کچھ عرصہ بعد ترجمہ ہوئے۔
ہفتاوی ترجمے کے متعلق بہت قصے پیدا ہوئے۔ اسے ہفتاوی ترجمہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے ستر مترجم تھے۔ یہ کہا جاتا تھا کہ ان میں ہر مترجم نے مکمل ترجمہ بالکل علیحدہ ہو کر کیا اور جب تمام تراجم کا تقابل کیا گیا تو وہ لفظ بلفظ یکساں پائے گئے کیونکہ تمام مترجمین کو ربانی القا ہوا۔ اس کے باوجود بعد ازاں علم نے یہ ثابت کیا کہ ہفتاوی ترجمہ شدید ناقص ہے۔ عیسائیت کے آغاز کے بعد یہودیوں نے اس ترجمے کا بہت کم استعمال کیا اور عبرانی زبان میں توریت کی طرف لوٹ گئے۔ اس کے برعکس ابتدا میں عیسائیوں نے ٗ جن میں بہت کم عبرانی جانتے تھے ٗ ہفتاوی ترجمے پر انحصار کیا یا ان تراجم پر جو اس سے لاطینی زبان میں کئے گئے۔ اوریجن (Origen) نے تیسری صدی میں بڑی محنت کے بعد ایک بہتر مسودہ پیش کیا۔ لیکن جو صرف لاطینی جانتے تھے ان کے پاس اس وقت تک ایک بہت ناقص مسودہ تھاجب تک جیروم (Jerome) نے پانچویں صدی میں بڑی عرق ریزی سے ولگیٹ (Vulgate) انجیل و توریت ترجمہ پیش نہ کیا۔ ابتداء میں تو اس ترجمے پر بہت تنقید ہوئی کیونکہ اس مسودے کو منظور و مستحکم کرانے میں یہودیوں نے اس کی مدد کی۔ بہت عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ یہودیوں نے جان بوجھ کر نبیوں کو غلط طور پر پیش کیا ہے تاکہ ان سے یسوع کے آنے کی پیش گوئی کا اظہار نہ ہونے پائے۔ تاہم آہستہ آہستہ سینٹ جیروم کے ترجمے کو تسلیم کر لیا گیا اورکیتھولک کلیسا میں آج بھی اسے مستند قراردیا جاتا ہے۔
فلسفی فلو (Philo) ٗ جو یسوع کا ہم عصر تھا ٗ فکر کے میدان میں یہودیوں پر یونانی اثر کی بہترین مثال ہے۔ فلو اگرچہ مذہب میں راسخ العقیدہ ہے لیکن فلسفے میں وہ بنیادی طور پر افلاطونی ہے۔ دیگر اہم اثرات قنوطیوں اورنو فیثاغورثیوں کے ہیں۔ یوروشلم کے سقوط کے بعد جوں ہی یہودیوں میں اس کا اثر ختم ہو گیا تو عیسائی علماء نے یہ محسوس کیا کہ اس نے یونانی فلسفے کی عبرانی مقدس کتابوں کے ساتھ مصالحت کرانے کی راہ ہموار کی۔
عہد قدیم کے ہر بڑے شہر میں یہودیوں کی بہت نو آبادیاں تھی۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو نہ تو تشکیک اور نہ ہی یونان وروم کے سرکاری مذاہب سے مطمئن تھے۔ انہوں نے بھی دوسرے مشرقی مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ اثر قبول کرنے میں شرکت کی۔ بہت نے تو یہودیت قبول کر لی ۔یہ نہ صرف سلطنت میں ہوا بلکہ جنوبی روس میں بھی۔ یہ غالباً یہودی اور نیم یہودی حلقے تھے جنہیں عیسائیت نے پہلے متاثر کیا۔ تاہم کٹر یہودی یورشلم کے سقوط کے بعد مزید راسخ العقیدہ ہوگئے۔ یہ عمل اسی طرح ہوا جیسے اس سے پہلے نبوکدنظر سے شکست کھانے کے باعث ہوا تھا۔ پہلی صدی کے بعد عیسائیت بھی نکھر کر سامنے آنے لگی اور یوں یہودیت اورعیسائیت کے مابین اچانک مخالفت شروع ہو گئی۔ ہم آگے دیکھیں گے کہ عیسائیت نے بڑی تقویت کے ساتھ یہودیت کی مخالفت کی۔ قرون وسطی کے پورے زمانے میں عیسائی ممالک کے کلچر میں یہودیوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ یہودیوں کو اتنی شدید اذیتیں دی گئیں کہ وہ تہذیب میں اضافہ کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ البتہ بڑے گرجوں کی تعمیر اوراس نوع کے کاموں میں ان کا سرمایہ ضرور استعمال ہوا۔ اس زمانے میں یہ صرف مسلمان ہی تھے جنہوں نے یہودیوں کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کیا۔ اسی کے باعث وہ اس قابل ہوئے کہ وہ فلسفہ اور روشن تفکر حاصل کر سکیں۔
قرون وسطی کے پورے عہد میں عیسائیوں کی نسبت مسلمان زیادہ مہذب اورزیادہ رحم دل تھے۔ عیسائی یہودیوں کو ٗ خصوصاً مذہبی جوش کے مواقع پر ٗ اذیتیں دیتے تھے۔ صلیبی جنگیں ہیبت ناک منظم قتل سے منسوب ہیں۔ اس کے برعکس مسلم ممالک میں یہودیوں کے ساتھ اکثر اوقات کبھی بھی کسی طرح کی بدسلوکی نہیں کی گئی۔ خاص طور مُوروں کے سپین میں انہوں نے علم میں اضافہ کیا۔ میمو نائڈز (Maimonides 1135-1204) ٗ جو قرطبہ میں پیداہوا تھا ٗ کو بعض لوگ سپنوزا کے زیادہ تر فلسفے کا ماخذ خیال کرتے ہیں۔ جب عیسائیوں نے سپین دوبارہ فتح کر لیا تو یہ زیادہ تر یہودی ہی تھے جنہوں نے موروں کے علم و فضل کا ابلاغ کیا۔ عالم و فاضل یہودیوں ٗ جو عبرانی ٗیونانی اورعربی جانتے تھے اور ارسطو کے فلسفے سے آشنا تھے ٗ نے کم تعلیم یافتہ ماہرین علم دین کو اپنا علم دیا۔انہوں نے ہی کیمیاوی گری اورعلم نجوم جیسی کم پسندیدہ باتیں بھی سکھائیں۔
قرون وسطی کے بعد بھی یہودیوں نے تہذیب میں وسیع پیمانے پر اضافہ کیا۔ لیکن یہ اضافہ انفرادی طور پر کیا ٗ کسی وقت بھی اجتماعی سطح پر نہیں۔

1 تبصرہ:

Rashid Iqbal کہا...

اچھی پوسٹ ہے۔ آپکا لکھا ہوا میں ایک بہت بڑی تحقیق کے ضمیمہ میں شائع کر رہا ہوں۔
http://deadseascrollsandislam.blogspot.com/2017/05/blog-post.html

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *