وکرم سیٹھ کے ’’یکساں سنگیت‘‘ میں شناخت اورمقام کی سیاست/اطہر فاروقی

ہماری نسل کے لیے دنیا کا مطلب جلاوطنی ہے
جو گھر میں آسودہ نہیں ہے
اورگھر سے دور بے گھر ہے
وکرم سیٹھ ،’دیوالی‘

وکرم چندر نے An Equal Music کے پیپر بیک ایڈیشن کے بلرب (Blurb) میں لکھا ہے کہ کس طرح سیٹھ نے ’انگریزی میں لکھنے والے ہندستانی ادیبوں کے لیے ایک نیا علاقہ تخلیق کیا ہے‘۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کی یہ راے اسی بے حیثیت تنقید کے بالا دست فرقے کا حصہ ہے جو[سیٹھ کے] ناول [An Equal Music] میں ملتی ہے۔یہ تنقید خود کتاب پر اس قدر مرکوز نہیں جس قدر اس طریقے پر ہے جس سے مصنف نے انگریزی میںایک دنیا خلق کرکے اسے اپنا مسکن بنایا ہے اور جس میں اپنی ہندستانی شناخت کو اس طمطراق سے چھپایا ہے کہ شرق وغرب کے اس ناز و نیاز کی جدلیات الٹ گئی ہے جس میں ہم مغرب کی بدیسی چیزوں کے رومان کا خاتمہ کرتے ہیں۔بیان کنندہ، قصاب کا بیٹا ہے؛ اس کی صورت میںہمیں ایک غیر تسکین پذیر روح نظر آتی ہے جو اپنے محنت کش طبقے کے پس منظر سے پیچھا چھڑانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے؛وہ ایک اشرافی پیشہ اختیار کرکے اپنی کایا پلٹ کرنا چاہتا ہے،خواہ اس کے لیے وہ فائوسٹ کی صورت اختیار کرلے جس نے اپنی اس غایت کے لیے اپنی روح کی قربانی دی تھی،جس میں وہ تفاخر محسوس کرسکتا،مگر وہ ہمیشہ اس سے گریزاں رہی۔ اِس کایا کلپ میں ہم ویانا، وینس اور لندن کے تین شہروں کو نمایاں ہوتے دیکھتے ہیں،جو [ناول کے] ان دیگر کرداروں کے مماثل ہیں جو بیان کنندہ کی شخصی اورتخلیقی ذات کو تبدیل کرتے ہیں۔اس مقالے میں وکرم سیٹھ کے ناول An Equal Music کی مکانی جدلیات پر نظر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی ،خصوصاً اس ناول کی پذیرائی کے تعلق سے،تاکہ واضح کیا جاسکے کہ کس طرح بیان کنندے اور مصنف دونوں کی[اپنی زمین سے ] وابستگی کا اضطراب، اُن سب ذرائع کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے اور جن میں اپنی جڑوں سے انکار کرکے ایک بالکل نئی شناخت قائم کرنا شامل ہے؛اس کا انجام [ناول کے] کردار کے لخت لخت اور بے آہنگ وجودپر ہوسکتا ہے ،اور مصنف کے لیے ایک پامال دنیا پر؛ اگرچہ عالمی سطح پر بلکہ یوں کہیں کہ عالمی ادیب کے طور پر مصنف کی حیثیت مسلّم ہوچکی ہے، تاہم اس کے ذہن کا جائزہ اس حوالے سے لیا جاسکتا ہے کہ اس نے کس طرح ’نسلی غیر‘کو ذات کے نقطہ ء نظر سے پیش کیا ہے۔
ہندستانی مہاجرت پرلکھے گئے ادب،اور اس میں پہلی اور تیسری دنیائوں کی اچھی یا بری عکاسی سے متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔کملامرکندے نے ایک مرتبہ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ امر کہ وہ ہندستان سے باہر رہتی ہیں، انھیں ایک طرح کی معروضیت فراہم کرتا ہے؛وطن سے باہر رہنا، ان کے لکھنے کے عمل کے لیے بے مثل ہے۔ایک دعویٰ اکثر ہماری نظر سے گزرتا ہے جس میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہوتا ہے کہ مصنف کی معروضیت، یا موضوعیت کا انحصار اس جگہ پر ہے ،جہاں کوئی تحریر لکھی جاتی ہے ،اور جس جگہ کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔اس تناظر کے استناد پر علمی حلقوں میں لامتناہی بحث و مباحثہ ہواہے۔ہندستانی نژاد ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف نے اپنے ایک ناول میں کہا ہے:
’’یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ ماضی وہ ملک ہے جہاں سے ہم سب نے نقلِ مکانی کی،نیز یہ کہ اس کی کمی ہماری مشترکہ انسانیت کا حصہ ہے۔یہ ایک ایسا سچ ہے ،جس کے لیے کسی دلیل کی ضـروت نہیں،لیکن میری راے میں وہ ادیب جو اپنے وطن اور یہاں تک کہ اپنی زبان سے دور ہے،اس کمی کا تجربہ ان کی تحریروں میں کہیں زیادہ شدید صورت میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ [تجربہ]اس کے لیے زیادہ ٹھوس بن جاتا ہے، اس مادی حقیقت کی وجہ سے یہ تجربہ اور زیادہ ٹھوس بن جاتا ہے کہ لکھنے والے کا رشتہ اپنے وطن سے منقطع ہے، اس کی موجودہ ذات اپنے ماضی سے مختلف جگہ پر ہے؛ ’کہیں اور‘ ہے۔ یہ امر اسے اس قابل بناسکتا ہے کہ وہ آفاقی اہمیت اور کشش کے حامل موضوع پر مناسب اور ٹھوس انداز میں بات کر سکے۔
اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ ادیب ،جو وطن سے دور ہے اور جو اس کمی کا ’’شدید صورت‘‘ میں تجربہ کرتا ہے،کیوں اور کس طرح اس کی ذات کے ’’کہیں اور‘‘ ہونے کا احساس ، اس کے فکشن کو متاثر کرتا ہے؟ جہاں تک وکرم سیٹھ کے An Equal Music کا تعلق ہے، وہ نہ صرف ہندستانی تارکین کے اشرافی گروہ میں شامل ہونے کی خصوصیات کے حامل ہیں،بلکہ وہ ایک ایسے ادیب ہیں جو صرف ہندستان کے بارے میں ہی نہیں، انگلستان کے بارے میںبھی لکھتے ہیں،نیز ان شہروں کے بارے میں بھی ان کے تجربات ان کی تخلیقی کائنات کا حصہ بنے، جنھیں مغربی دنیا کے ممالک سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جن کا موضوع قدیم ہندستانی روایت نہیں،بلکہ یورپی موسیقی جیسی خاص الخاص شے ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ قاری اور نقاد کس طرح ایک ایسے ادیب کے مرتبے یا تحریر کا تعین کرسکتا ہے ،جو ’کہیں اور‘ ہے اور جس تحریر کا جائزہ لیا جارہا ہے ،وہ ’کہیں اور‘ لکھی گئی؟ جو شخص An Equal Music (جو اس مقالے کا مرکزی موضوع ہے) کے سُر تال میں غوطہ لگانے کے لیے آمادہ ہے ،اس کے لیے یہ امر واضح طور پر لاینحل تضاد یعنی aporiaہے۔
An Equal Musicپر غیر تسلی بخش تنقید کا بڑا حصہ اس بات کے تعین کی کوشش کرتا ہے کہ ایک ہندستانی ادیب نے مغرب کی تصویر کشی کتنے مستند انداز میں کی ہے ،اور اس کو کتنا کم یا زیادہ پیش کیا ہے۔یہ تناظرمعاصر دنیا میں ہمہ دیسیت(cosmopolitainism)کو دیے گئے مرتبے کو سمجھنے میںانتہائی تکلیف دہ حد تک اہم ہے،خصوصاًادیبوں کے سیاق میں بھی یہ درست ہے؛کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تناظر اس ہمہ دیسی ادیب کے نسلی اور قومی نسب کے نتائج کو پہچاننے ، دیکھنے اورمشاہد ہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے،جو عالمیائی دنیا میں قیام پذیر ہے اور یہ اعلان کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ قومی سرحدوں سے ماورا ہوچکا ہے۔ ہندستانی نژاد مصنف کا اس سیاق و سباق میں یہ خیال اہم ہے:
’’اگر مجھے انگلستان میں ہندستانی ادیبوں کے حق میں بولنا ہو تو میں جی۔وی ۔ڈیسانی کے H. Hatterr: The migrations of fifties and sixties happenedکی تلخیص کرتے ہوئے کہوں گا: ’ہم ہیں۔ ہم یہاں ہیں‘۔اور ہم اپنے ورثے کے کسی حصے سے بے دخل کیے جانے پر آمادہ نہیں ہیں؛اس ورثے میں بریڈ فورڈ میں پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق شامل ہے کہ اس کے ساتھ برطانوی معاشرے کے مکمل رکن جیسا سلوک کیا جائے،اور مابعد مہاجرت (post-diaspora)کمیونٹی کے کسی رکن کا یہ حق بھی شامل ہے کہ اپنے فن کے لیے اپنی جڑوں تک اسی طرح پہنچے،جس طرح بے خانماں ادیبوں کی پوری عالمی کمیونٹی نے ایسا کیا ہے۔ (مثلاً مجھے گراس کے Danzing-become-Gdansk، جوائس کے چھوڑے ہوئے ڈبلن، آئزک بشیوس سنگر اورمیکسین ہانگ کنگسٹن اور میلان کنڈیرا اور کئی دوسروں کا خیال آرہا ہے۔ یہ ایک لمبی فہرست ہے)‘‘۔
اگرچہ نمائندگی کا معاملہ یہاں الٹایا جاسکتا ہے،کیوں کہ مذکورہ ہندستانی نژاد مصنف شاید ادیب کے اس حق کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ وہ اپنے وطن ،خواہ وہ کسی قدر تخیلی ہو،کے تصور کو پیش کرسکتا ہے، جب کہ ہمارے پیشِ نظر سیٹھ ہیں جو اپنے اختیار کردہ وطن کا تصور کررہے ہیں۔ تاہم[نمائندگی کے] استنادکا بنیادی مسئلہ یکساں رہتا ہے،جسے مسلسل معرضِ سوال میں رکھا جارہاہے اورجس کا جواز پیش کیا جانا ضروری ہے۔ An Equal Musicمیں یہ لاینحل تضاد دوہرا ہے،جو اتنا ہی ناول کے کبیری کردار میں ہے ،جتنا مصنف میں ہے — دونوں زندگی کے منتخبہ طریقے سے تعلق جوڑنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ماریہ سبینہ درگا الیکساندرو لکھتی ہیں:’’ اگر ایک ہندستانی ادیب کے لیے انگریزی میں لکھنے کا مطلب سابق استعمار کار کی زبان میں اپنا اظہار کرنا ہے ،تو یہ معاملہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے کہ جب کوئی شخص ایک ایسا ناول لکھتا ہے جو انگلستان یا انگریزیت سے متعلق محسوس ہوتا ہے ،جس میں سیاسی وابستگی واضح ہونے کے آثار نہیں‘‘۔۱؎
مائیکل کی صورت میں، جو انگلش سٹرنگ کوارٹٹ میں دوسرا وائلن بجانے والا ہے،جو قبول سماجی معیارات کے تحت خود کو ڈھالنے والا (Self-fashioning)ہے ،ہمیں ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جو اپنی ساری زندگی یہ کوشش کرتے ہوئے صرف کر ڈالتا ہے کہ خود کو اپنے متوسط طبقے کے پس منظر سے الگ کرسکے ،اور زیادہ نفیس زندگی اپنا سکے جس کے لیے وہ اپنے اختیارمیں موجود ہر شے آزماتاہے،انتہائی نفیس پیشے میں خود کو مصروف کرنے سے لے کر ٹیمز کے برفیلے پانی میں تیراکی تک،تاکہ وہ گریزاں لندن کو اپنا کہہ سکے۔ناول جان ڈن کے اس اقتباس سے شروع ہوتا ہے:
’’اور وہ دروازے میں داخل ہوں گے،اور اس مکان میں وہ رہیں گے،جہاں کوئی بادل ہوگا ،نہ سورج،نہ اندھیرا ہوگا ، خیرہ کن چمک،بس ایک یکساں روشنی ہوگی،نہ کوئی شور ہوگا ،نہ سکوت، بس یکساں سنگیت ہوگا،نہ کوئی اندیشے ہوں گے ،نہ امیدیں،بس ایک یکساں ملکیت ہوگی،نہ دشمن ہوں گے، نہ دوست،بس ایک یکساں رفاقت اور شناخت ہوگی،نہ آخر ہوگا،نہ آغاز،بس ایک یکساں ابدیت ہوگی‘‘۔۲؎
یہ ناول ،جو مختلف قسم کا غنائی اور یکساں طور پر متنوع ناول ہے، اس میں ’ایک سنگیت‘ اور ’ایک یکساں رفاقت اور شناخت ‘ کو گرفت میں لینے کی کوشش باعثِ نزاع ہوسکتی ہے۔ ناول میںمائیکل چارکی سنگت میں اپنے موسیقی کی بہت سی محفلوں میں باخ کی دھن بجاتے ہوئے ،یہ راے ظاہر کرتا ہے کہ ’’ہماری ہم وقتی بصیرتیں باہم ضم ہوتی ہیں،ایک دوسرے کے ساتھ، دنیا کے ساتھ،اور اس طویل وسعتوں پرپھیلی ہوئی ہستی کے ساتھ، جس کی قوت ہم تک مشرح بصیرت،اور اس کے نام کے تیز گردش کرتے ہوئے رکن کے ذریعے پہنچتی ہے‘‘۔اپنے ساتھی سازندوں ،اور دنیاکے ساتھ یکجائی کی یہ وہ آرزو ہے،جسے مائیکل اس ایک وسیلے میں تلاش کرتا ہے ،جو تمام قومی سرحدوں سے بے نیاز کرتاہے:یعنی موسیقی۔ یہ ایک ایسا ناول بھی ہے جس میں ابلاغ طاقت کے ’میں اور تو‘ کے اس مخالف جوڑے کے ذریعے لازمی طور پرواقع نہیں ہوتا،جس میں ذات اور غیر ،حاکم زبان کی سیاست کے نہ ماتحت ہیں ،نہ اس سے تشکیل پاتے ہیں۔ یہ ایسا ناول ہے ،جس میں مائیکل کی محبوبہ ژولیا ،اس کے لبوں کی قرأت سے اس سے بات چیت کرتی ہے۔یہ ایسا ناول ہے جس میں وہ موسیقی سے جڑتے ہیں۔مائیکل اپنے قارئین کو بتاتاہے:’’ جو سامعین ہمیں سنتے ہیں، وہ اس بات کا تصور نہیں کرسکتے کہ خود سے ماورا ہونے کی ہماری وہ جستجو کس قدر پرخلوص ہے،کس قدر تند مزاج ہے، کس قدر صلح جویانہ ہے،جس کا خیال ہم اپنے انفرادی نفس کے ساتھ کرتے ہیں،مگر اسے باہم مل کر صورت پذیر کرنے پر مجبور ہیں۔ ترفع کو تو چھوڑیں،اس سب میں روح کی ہم آہنگی کہاں ہے؟یہ کس قسم کی میکانیات ہیں ، کس قسم کی ابتدائیں اور انتہائیں ہیں کس قسم کی بے روک ٹوک گستاخیاں ہیں،جن کی قلب ماہیت، ہماری جھگڑالوانائوں کے باوجود ، غنائی زر میں ہو گئی ہو؟پھر بھی ، اکثر انھی معمولی ابتدائوں سے ،ہم اس فن پارے کی تفہیم تک پہنچتے ہیں،جو ہمیں بہ یک وقت سچا اور حقیقی نظر آتاہے،اور اس کا اظہار ہمارے ذہن سے موقوف ہوجاتا ہے۔۔۔کسی بھی طرح کے وہ نغمے، خواہ وہ کتنے سچے ہوں، خواہ کس قدر حقیقی ہوں، جنھیں دوسرے ہاتھوں نے بجایا ہو‘‘۔ الیکساندرو اپنے دلائل میں سائمن فیدرسٹون کا حوالہ دیتی ہیںـ:
’’سائمن فیدرسٹون اپنی کتاب Postcolonial Cultures (2005) میں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ’موسیقی کی روایات ،ثقافت کی یک دلانہ تاریخوں کی نقل کرتی ہیں،جن میں اصوات، زبانیں اور جسم یک جا ہوتے ہیں‘ اور ایسا کرنے میں ’’وہ[موسیقی کی روایات] مابعد نو آبادیات اوراس کے مہاجرت سے متعلق تجربے، دوغلی شناخت اور ثقافتی اقدارکے سیاق سے متعلق اپنے سروکاروں کے مطالعے کے لیے قابل قدر مواد مہیا کرتی ہیں‘‘۔(فیدرسٹون، 2005، ص 33)۔ بایں ہمہ اس کی کتاب میں موسیقی پر باب اور یادداشت پر باب میں کوئی واضح تعلق نہیں ہے۔فیدر سٹون کا مقصود یہ محسوس ہوتا ہے کہ مابعد نو آبادیاتی ثقافتوں میں ،موسیقی ایک قوم کی ثقافتی یادداشت کے توشہ خانوں میں سے ایک ہو سکتی ہے‘‘۔
مائیکل ،موسیقی جیسی آفاقی شے اختیار کرکے ،اپنی شناخت اور وجود کی خصوصیات سے بھاگنے کی شدت سے کوشش کرتا نظر آتاہے۔یہ ایک ایسا ناول ہے ،جس میں ہم پرانانظام ، نئے نظام سے بدلتا ہوا دیکھتے ہیں،حالاں کہ نیا نظام ضروری نہیں کہ اتنا ہی اچھا اور فائدہ مند ہو ،جتنا فرض کیا گیا ہے۔ تکلیف دہ انداز میں ماضی آفرینی کی دوسری کوششوں کی طرح ،مائیکل ہمیں اپنے وطن روشڈیل کے بارے میں بتاتاہے ،جو اب ’’ ایک شکستہ دل قصبہ ہے‘‘۔وہ کہتاہے:’’ وہ میوزک سنٹر جہاں اس علاقے کے نوجوان موسیقار ہر اتوار کو آرکیسٹرا بجانے کے لیے جمع ہوا کرتے تھے، اب لاوارث ہے۔کل میں اس کے پا س سے گزراـ : کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں؛یہ کئی سالوں سے برباد پڑاہے۔ اگر میں روشڈیل میں پانچ سال بعد پیدا ہوا ہوتا تو ،میںنہیں سمجھتا کہ کس طرح میں۔۔۔جو ایک معمولی پس منظر کا حامل ہوں ،اور بہت سے ایسے لوگ تھے جو بہت غریب تھے۔۔۔وائلن کے لیے اپنی محبت زندہ رکھ سکتا۔۔۔۔۔ تھیٹر بند ہوچکے تھے۔۔۔ ادبی اور سائنسی تنظیمیں سکڑ چکی تھیں یا ختم ہو گئی تھیں۔مجھے اپنا مایوس ہونا یاد ہے ،جب میں نے سنا کہ ہماری کتابوں کی دکان بند ہونے والی ہے‘‘۔

یہ زمانے کے بدل جانے کی نشانی ہے کہ مشینیت، آج کا دستور ہوگیا ہے؛اس میں بنی نو عِ انسان مشینی پیدائش کی گزرگاہ بن گئی ہے؛جسے ہائیڈگر ’’آدمی بہ طور ایستادہ ذخیرہ‘‘ کہتا ہے، اس میں ہر طبقہ، بحیثیت مجموعی معاشرے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہے۔اسی مشینیت میں مائیکل سنگیت کو شامل کرتا ہے ،اور وہ بھی ’یکساں سنگیت ‘کو،جو طبقوں ، قوموں اور نسلوں کو باہم جوڑتاہے۔ مائیکل اپنے مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ،امید رکھتا ہے کہ یہ حقیقت اس کے لیے وجہِ تسلی ہو گی کہ اپنے باپ اور چچا کی وفات کے بعد ،اسے کسی طور روشڈیل لوٹنا نہیں پڑے گا۔ وہ کہتا ہے:’’ مجھے شک ہے کہ میں اس کے بعد کبھی روشڈیل آئوں گا۔اگر میں خود یہ تہیہ کرچکا ہوں کہ اپنے قصبے سے رسم وراہ ختم کر لوں گا تو مجھے اس کے لیے اس برہمی کے ساتھ ماتم کرنے کا کیا حق ہے؟‘‘یہ معما وہ انتہائی بنیادی لاینحل تضاد ہے جو ناول کا مرکزی مسئلہ ہے۔مقام کی سیاست(Politics of space)اس وقت اہم ہونے لگتی ہے جب ہم یہ طے کرنے لگتے ہیں کہ وہ شخص کون ہے، اور وہ کیا بننا چاہتا ہے۔ مائیکل شدت سے کوشش کرتا ہے کہ وہ لندنی بن سکے۔وہ اسے اپنا کہتا ہے۔ پورے ناول میں اس بات کو ذہن نشین کرانے کا عمل کس قدر حقیقی ہے کہ آخر میںوہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی اصل سے مسلسل انکار ،اس کی شکستہ اور آزردہ ذات پر منتج ہوتا ہے ،یہاں تک کہ اپنے وجود کے حالات سے اس کی ذہنی جھنجھلاہٹ ہر اس شے پر سایہ فگن ہونے لگتی ہے ،جو وہ اپنی زندگی اور مستقبل محفوظ بنانے کے لیے کرتا ہے۔جب وہ ’آرٹ آف فیوگ‘کی تقریباًکامل پرفورمنس گہرے استغراق کے ساتھ سنتا ہے تو اس کا سامنا اس جمال سے ہوتا ہے جو یکساں سنگیت ہے؛یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ چوراگا سے اس کی ہم آہنگی قائم ہوگئی ہے۔مائیکل عمر بھر گریزاں رہنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جوں ہی وہ گریزاں رہنے کی خواہش ترک کرنے کا فیصلہ کرتاہے تو اسے ذہنی اطمینان نصیب ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ جس طرح سنگیت کو جغرافیائی سرحدوں میں قید نہیں کیا جاسکتا ،مائیکل کو بھی اپنی غنائی ذات کی توثیق حاصل کرنے سے باز رہنا پڑتا ہے،اور یورپ بھر کے سفر میں اسے کہیں چین نہیں پڑتا؛ وہ ذہنی ترقی کرتا ہے اور اپنی تکمیل کرتا ہے۔الیکساندرو یہ دلیل دیتی ہے کہ ’’ ناول کے تین شہر( لندن، ویانااور وینس)اسی طرح’’ یادگاری وراثت کے علامتی عناصر‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں،جس طرح ذات کی آرکیالوجی کی تشکیل کے وہ مراحل ،جو سنگیت کے مرہون ہیں(جیسے ویانا میں شوبرٹ کا ٹرائوٹ کوئینٹ ،یا وینس میں ویوالدی کا منچسٹر سوناٹا)،اور جو ناول کے آخر میں باخ کی ’آرٹ آف فیوگ‘ کی متوازن ہارمنی میں عروج کو پہنچتا ہے‘‘۔
’مقام‘ (space)کی یہی وہ سیاست کاری ہے جو مائیکل کے اس خالق کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے ،جسے اس حوالے سے نہیں پرکھا گیا کہ وہ کیا ہے ، بلکہ اس حوالے سے کہ وہ کہاں ہے۔ ناول کے کبیری کردار اور مصنف کے انگریزیت کو اختیار کرنے کے دو تاثر پذیر قطبی سرے ،اس کتاب کے ان تبصروں میں ظاہر ہوئے ہیں ،جہاں ایک طرف ہمارے پاس بروس کنگ ہیں جن کی راے ہے کہ :
’’ہرچند ناول کی کہانی ایک وائلن نواز نے ، موسیقی کے بنیادی خیال کی مانند تاثراتی انداز میں بیان کی ہے،جس میں ترغیبی قلب ِ ماہیت کے ساتھ ساتھ کلیدی [باتوں] کی بازخوانی ہے،یہاں تک کہ نغمے سے ملتے جُلتے شاعرانہ اختتامی ٹکڑے ہیں،مگر یہ ناول وسیع تحقیق کی تفاصیل سے بھرا ہواہے ،جس کی توقع ہم وکرم سیٹھ سے کرتے ہیں۔سازوں کو درست کرنے ، فن کا مظاہر ہ کرنے اوروائلن سازوں سے متعلق مباحث بے محل محسوس نہیں ہوتے۔ سیٹھ نے اب ایسی عمدہ کتابیں لکھی ہیں ،جن کا منظر نامہ امریکا،ہندستان،انگلستان اور چین ہے،اور جن کے مرکزی کردار امریکی، ہندستانی اور برطانوی ہیں؛ اس امر سے ظاہر ہے کہ نئی وضع کے عالمی ادیب کے لیے قومی سرحدیں تحلیل ہورہی ہیں‘‘۔۳؎
اگرچہ کنگ ادبی تخلیق کے عالمی ہونے میں یقین رکھتا ہے لیکن ہمارے علم میں ٹام ہالینڈ جیسے لوگ بھی ہیں ،جو اس سبب سے ناول کا مضحکہ اڑاتے ہیں کہ’’ اس میں جلی کوپر اور ٹامس مان کے بدترین پہلوئوں کو یکجا کرنے کا ناممکن کرتب دکھایا گیا ہے‘‘؛ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ سیٹھ جیسے مصنف کے لیے یہ کام تخیل سے تہی دست ہونے کی علامت ہے ،جو ایک قطعی مختلف پس منظر رکھتے ہیں ،اور اپنے طبقے سے غافل ہیں ،جہاں وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’صرف وہ وائلن نواز مغربی موسیقی کی رومانوی روایات میں مشغول ہو نے کی کوشش کرسکتا ہے جس کی تربیت ماورائیت کی ایک مختلف روایت میں ہوئی ہو‘‘۔ہالینڈ اس کتاب کو ’’ حد سے زیادہ مایوس‘‘ قرار دینے کی درج ذیل وجہ بیان کرتا ہے:
عشقیہ کہانیوں کی خصوصیت ہے کہ ان کا انحصار گھسی پٹی باتوں پر ہوتا ہے۔تاہم یکساں سنگیت کے ضمن میں جو چیز غیر معمولی ہے (مگر اسے چکر ادینے والی نہیں کہا جاسکتا)،وہ سیٹھ کا کردار نگاری کا طریقہ ہے ،جس نے A Suitable Boyمیں انتہائی چھوٹے چھوٹے کرداروں میں بھی زندگی کی روح پھونک دی تھی،مگر یکساں سنگیتمیں وہ سیٹھ کا ساتھ چھوڑ گیا ہے۔یہ اس قسم کا ناول ہے ،جس میں موسیقی کے نقاد لوگوں کو ’’ڈئیر بواے‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں،ایجنٹ ٹیکسیوں میں بیٹھنے سے پہلے ’’چما چما‘‘ (mwah-mwah) کرتے رہتے ہیں،اور فرانسیسی لڑکیاں یہ شکایت کرتی ہیں کہ ’’ تم انگریز پاگل ہو‘‘(You English are mad)۔قوتِ اختراع کا افلاس صرف کردار نگاری ہی میں نظر نہیں آتا؛تما م شہر کلیشوں کی مانند وجود رکھتے ہیں، بلکہ ’ائیر پورٹ ناول‘ کی طرح،مثلاً وینس میں عاشق اپنی انتہائی سرخوشی کے لمحات کی کہانیاں ایک دوسرے کو گرجائوں میں سناتے ہیں،جب کہ روشڈل میں جو مائیکل کا آبائی قصبہ ہے، اس کی پرانے قصاب کی دکان۔۔۔استعجاب، استعجاب۔۔۔ گرا دی گئی ہے تاکہ کار پارک تعمیر کیا جاسکے‘‘۔۴؎
اس طرح کی راے اکیلے ہالینڈ نے ظاہر نہیں کی۔ٹم پرکس نے اپنے ایک انٹرویو میں سیٹھ پر ایک خاص قسم کی ’’انگریزیت‘‘ کے مظاہرے کا الزام لگایا ہے،نیز اسے ’’ مقبولِ عوام ہونے کی ایک دوسری محتاط مشق میں غلطاں ‘‘کہا ہے۔بایں ہمہ اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،اس ہجوم سے متعلق جسے خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اور اس انگریزیت کے بارے میں،جسے وہ ناقدری کے انداز میں مبینہ طور پرگلے لگانا چاہتا ہے۔یہ حیرت کی بات ہوتی اگر سیٹھ پیدائشی طورپر برطانوی شہری ہوتا ،اور پھر بھی یہ سب کہا جاتااورہم اس امکان کو سوچنے سے باز نہیں رہ سکتے، خواہ موہوم ہی سہی ،کہ تب ایسا نہ ہوتا۔جو بات ہالینڈ کو ناگوار گزرتی ہے ،وہ مابعد نو آبادیاتی مطالعات میں مضمر مرکزی لاینحل تضاد کو سمجھنے(اور معمائی بنانے ) میں مدد سے دے سکتی ہے ،جو اس شخص کو اختیار دینے کی جدوجہد سے عبارت ہے ، جس کی خاموشی کو زبان دی جارہی ہے۔ اگر ہمہ دیسیت کا جوہر واحد شناخت سے انحراف میں ہے،اور اس بناپر بہت سے دوسروں تک رسائی ہے ،تو ہمارے لیے یہ حیران کن ہوگا ، اگر یہ [تصور]واقعتاًادبی متون کی پذیرائی کے سلسلے میں بھی کارگر ہوگا۔امیتائو کمارسیٹھ کے ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یکساں سنگیت میں والدین کی مرضی سے کی گئی شادیاں ہیں، نہ داشتائیںہیں۔اگر انگریزی میں لکھی گئی ہندستانی تحریروں میں ذات پات کے نظام کا بیان ہے تو اس لیے کہ اس بڑی خلیج کو واضح کرنے کے لیے ہمیں اس کی ضرورت ہے:ادب کے منظر نامے پر ظاہر ہونے والے نئے تارکین اپنے بیانیے ،اس مواد سے تشکیل دے رہے ہیں ،جسے مغربی قارئین مستند شناخت کے نشانات کہیں گے؛اچھی شہرت رکھنے والے ہمہ دیسی ادیب ، یعنی زیادہ پُراعتماد ذہین ادیب بھی کہیں اور اپنا مواد تلاش کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ استحقاق کی حالت ہے۔۔۔ایک ایسی حالت ،جو ایک دوسرے سیاق میں ، بہ قول طرح دار ہمہ دیسی ادیب پیکو آئر: ’’ذات کی الماری ہے ،جس سے ہم اپنی مرضی کی ذات کا انتخاب کر سکتے ہیں‘‘۔۵؎
کیا حقیقت میں یہی معاملہ ہے؟ کیا ادیب واقعی ایسی الماری رکھتا ہے جس میں ایک سے زیادہ ذاتیں ہیں،اور جن میں سے کچھ منتخب کی جاسکتی ہیں؟نو آبادیاتی عہد میں یہ عام رواج تھا کہ مغرب، مشرق کا اظہار کرتا تھا۔ کیا مغرب کے لیے اس مساوات کا الٹ دیا جانا پریشان کن بات ہے؟ اگرچہ کچھ لوگ اس خیال سے راحت محسوس نہیں کریں گے ،مگر اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ایسا واقع ہورہا ہے ،اس ادب کے ذریعے ،جو جمالیاتی طور پر اتنا ہی پُرلطف ہے ،جتنا سیاسی طور پر[ درجہ بندیوں کو ]الٹ پلٹ دینے والا۔جہاں مستقبل روشن نظر آتا ہے ، یہ اعتراف کیا جانا چاہیے کہ شناخت اور مقام کی سیاست جوں کی توں ہے؛یہ وہ سرحدیں ہیں جنھیں وکرم سیٹھ کی یکساں سنگیت جیسی کتابوں کی مدد سے توڑنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ، مَیں ہندستانی نژاد مصنف کے خیالات سے متفق ہوں:
’’ادب اپنی توثیق آپ کرتا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک کتاب کا جواز اپنے مصنف کی قدرو منزلت میں نہیں،بلکہ جو کچھ لکھا گیاہے ،اس کے معیار میں ہے۔ایسی خوفناک کتابیں بھی ہیں جو براہِ راست تجربے سے جنم لیتی ہیں،اور ایسے غیر معمولی تخیلی کارنامے بھی ہیں جو ان موضوعات سے متعلق ہیں ،جن تک رسائی مصنف کو باہر اور دور ہی سے ہو سکتی تھی۔ ادب، کچھ موضوعات،کچھ خاص گروہوں کے لیے تصنیف کا کاروبار نہیں۔جہاں تک خطرہ مول لینے کا تعلق ہے،مصنف اصل خطرات کتاب ہی میں مول لیتا ہے:اپنے تخلیقی عمل کو ممکنہ حدوں تک لے جانے کی صورت میں ، اور جو کچھ سوچنا ممکن ہے ،اس کی انتہا کو بڑھانے میں۔کتابیں اس وقت اچھی ثابت ہوتی ہیں،جب وہ اس کنارے تک جاتی ہیںاوروہاں سے گر پڑنے کا خطرہ مول لیتی ہیں۔۔۔ جب وہ فن کار کو اس استدلال کی وجہ سے خطرے میں مبتلا کرتی ہیں، جسے فنکارانہ طور پر اس نے آزمانے کی جرأت کی ہے یا نہیں‘‘۔
وکرم سیٹھ ،ان سرحدوںسے ماورا ہوکر ادیب کے اختیار اور آزادی کے حصول کی جرأت کرتا ہے تاکہ گنجائشیں سوچی جاسکیں اور پیدا کی جاسکیں ،اور ان تک آسان رسائی کے لیے ان کی اصلاح کی جاسکے؛اس طرح وہ مابعد نو آبادیات کے مقصد کی جانب عموماً اور مہاجرت کے ادب کی طرف خصوصاً ایک چھوٹا مگر اہم قدم اٹھاتا ہے۔ مائیکل اپنی زندگی میں زیادہ تر فراریت پسند رہتا ہے،مگر اسے اپنی زندگی کی ترجیحات کا فیصلہ کرتے ہوئے ان فوری مسائل سے ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے،جوشناخت اور مقام کی حدوں سے ماورا ہوکر ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم طبقے اور مکانی نقل وحرکت کی حرکیات سمجھ سکیں۔ مصنف اور بیان کنندہ دونوں کے لیے یہ نقل و حرکت اس مقصد کا انتہائی بنیادی پہلو ہے ،جسے قاری یکساں سنگیت کے نے نواز کی ہتھکڑیاں کھولتے ہوئے،اس ناول سے اخذکرسکتا ہے۔

حوالیـ
[1] Alexandru, Maria-Sabina, ‘Textualities Outside the Text: Music and the Performance of Englishness in Vikram Seth’s An Equal Music’. Web.
[2] Donne J., Sermons, XXVI, in G. Parrinder, The Routledge Dictionary of Religious and Spiritual Quotations, Routledge, London and New York. 2000.
[3] King, Bruce. Review. World Literature Today, Vol. 74, No 1. (Winter, 2000). p 241.
[4] Holland, Tom, ‘Bum Notes’, New Statesman, 3 May 1999.
[5] Kumar, Amitava, ‘Indian Music, Sans Sitar’, The Nation, July 5, 1999.


اطہر فاروقی
جنرل سکریٹری انجمن ترقی اردو (ہند)
212 راؤز ایونیو، نئی دہلی 110002-
farouqui@yahoo.co

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین