جمعہ، 17 جون، 2016

ریت آئینہ ہے/محمد انور خالد

محمد انور خالد کی نظمیں آج ادبی دنیا پر اپلوڈ کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہورہی ہے۔ابھی کچھ وقت پہلے تک میں خود اس قدر عمدہ شاعر سے واقف نہیں تھا۔انہیں زندگی مختصر ملی، مگر ان کی یہ شاندار نظمیں اردو ادب میں اب یونہی دائم و قائم رہیں گی اور اپنے حسن اور اپنی ہنرمندیوں سے بہت سے پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ کرتی رہیں گی۔ان کا یہ مجموعہ 'ریت آئینہ ہے' جو کہ ذیل میں اپلوڈ کیا جارہا ہے۔پہلی بار 'آج کی کتابیں'کے زیر اہتمام 1993-94میں شائع ہوا تھا۔بعد میں اس کی دوسری اشاعت اسی اشاعت گھر سے 2015 سے کچھ اضافتوں کے ساتھ منظر عام پر آئی۔محمد انور خالد کی نظمیں خود اپنا بہترین تعارف ہیں۔اور یہ پوسٹ اجمل کمال کی بدولت ادبی دنیا پر لگائی جاسکی ہے، اس لیے ہم ان کے بے حد شکرگزار ہیں۔محمد انور خالد کی نظموں کو آڈیو کی صورت میں ہم پہلے ایک دفعہ اجمل کمال کی آواز میں یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرچکے ہیں اور اب بہت جلد ان کی مزید نظمیں بھی دو چار روز میں آپ اس چینل کے ذریعے سن سکیں گے۔شکریہ(تصنیف حیدر)

شہر میں

بانس کی کونپلوں کی طرح رات کی رات بڑھتی ہوئی لڑکیو
آئنے کے ہر اک زاویے سے الجھتی ہوئی لڑکیو
طشتِ سیماب جھلکاتی جھکتی ہوئی لڑکیو
نت نئے موسموں کی طرح مجھ پہ بیتی ہوئی لڑکیو
میرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیں
خواب در خواب بس ایک ہی خواب ہے
میرے ہونے کا خواب
بھاگتے راستوں میں کوئی سنگ، رفتارپیما بتا دے
کہ میں چل رہا تھا
بھیڑ میں چلتے چلتے اچانک کوئی مجھ کو کہنی سے آگے بڑھا دے
کہ میں رہنما تھا
کوئی فن کی دیوی
ثریا سے اترے
مجھے اپنے اندر سمو لے
کوئی میری آنکھوں میں چبھتے ہوے ذرۂ ریگ کے واسطے
اپنے آنچل کا کونا بھگو لے
مجھے رشتۂ جسم و جاں میں پرو لے
کوئی بس گھڑی دو گھڑی ساتھ ہو لے
یا مجھے قلزمِ خودفراموشیِ ماورا میں ڈبو لے
خواب در خواب بس ایک ہی خواب ہے
میرے ہونے کا خواب
سانولی لڑکیو! چمپئی لڑکیو! نت نئی لڑکیو!
میرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیں
کون جانے درختوں کے پیچھے نئی خوشبوئیں
راستے بھر ہمارا سواگت کریں
کون جانے کہ آہٹ سے ڈرتی ہوئی پھڑپھڑاتی ہوئی فاختائیں
ہمارے سروں پر سپر تان دیں
اور ہم سرسراتے ہوے آنچلوں کی ہوا اوڑھ کرسو رہیں
یا مری جانِ جاں
کون جانے کہ آتے دنوں میں کسی روز اندھی سڑک پر
کسی چیختے بھونکتے کالے کتے سے ڈرتے ہوے
ہم اچانک کہیں آ ملیں
اجنبی راستوں کی طرف چل پڑیں
ذہن میں خواب کا سلسلہ پھیلتا ہو
آنکھ میں نیند کا ذائقہ تیرتا ہو

بہرطور آسودگی ہے
اور کہرے کی چادر
اور سلیٹی پرندوں کی مانند ساحل کو تاریک کرتی ہوئی شام ہے
اور یخ بستہ گہری دراڑیں
اور مرمر کے بھاری ستونوں سے لپٹی ہوئی لڑکیاں ہیں
اور فصیلوں کے اس پار تاتار و تیمور کا خوف ہے
اور اس پار تلوار و خنجر اٹھائے ہوے اہلکارانِ افواج بیدار ہیں
پالکی نالکی
اور کہاروں کی آواز: ’’بی بی ہٹو‘‘
اب کے بارش نے مہندی کے پیڑوں کی ساری حنا چھین لی ہے
میں کہ بےچہرہ
جسموں کے جنگل میں ہونے کا اک خواب لے کر چلا تھا
سو اب سربزانو پڑا ہوں
سانولی لڑکیو! چمپئی لڑکیو! نت نئی لڑکیو!
اس گداگر کے کشکول کی سنسناہٹ سنو
میرے ہونے کا ماتم کرو
اپنے ہونے کا ماتم کرو
اور ہر آتے جاتے مسافر سے رو کر کہو
شہر میں خیریت کے سوا کچھ نہیں ہے
***

سو اے دو پانیوں کے درمیاں

سو اے دو پانیوں کے درمیاں کلکارتی ریڈانڈین لڑکی
میں اپنی ہجرتوں کے سائباں سے تم کو کیا لکّھوں
گھروں کی اور سے چپ چاپ جاتی ملگجی سنیاسنیں سب جانتی ہیں
گھروں کی اور سے چپ چاپ جاتی ملگجی سنیاسنیں سب — جانتی ہیں
محبت جبر ہے
محبت جبر ہے ان بےصدا راتوں کا
جن کی سلوٹیں ڈسنے لگی ہوں
محبت جبر ہے ان گوش بر آواز لمحوں کا
جو جی اٹھنے کی خاطر مر گئے ہیں
محبت جبر ہے پچھلے پہر کستی ہوئی آنکھوں کا، جن کو خواب پیارے ہیں
یہ آنکھیں جن کی دہلیزوں پہ نیند آتی نہیں اور لوٹ جاتی ہے
یہ آسیبی مکانوں کی طرح وحشت زدہ آنکھیں
یہ آنکھیں جن کا گھر پہلی دفعہ خالی ہوا تھا اور یہ روئی تھیں
یہ آنکھیں، نیم وا، ٹھہری ہوئی آنکھیں
یہ آنکھیں بولتی تھیں، دیکھتی تھیں، سوچتی تھیں
سو اک دن بےگھری آئی
سو اک دن میں ان آنکھوں سے گیا
اور اب
گھروں کی اور سے چپ چاپ جاتی ملگجی سنیاسنیں سب جانتی ہیں
میں اپنی وحشتوں سے بھی گیا
حیرانیوں سے بھی
صدا دیتی ہوئی سنّاہٹوں سے بھی
سحردم نیند کی روٹھی ہوئی جھلّاہٹوں سے بھی
محبت میں تیرے سرداب خانے میں اب اس کے بعد کیا رکّھوں
کہ گھر خالی ہوا ہے اور پوری شام باقی ہے
محبت آ میں تیری ہجرتوں کی مانگ میں سیندور بھر دوں
محبت آ مرے کاندھے سے لگ جا
کہ تو بھی بےگھری کا جبر بن کر رہ گئی ہے
کہ مجھ کو بھی گناہوں میں مزہ آنے لگا ہے
سو اے گھر دیر سے جاتی ہوئی بےآسرا لڑکی
ہم اپنی نیند میں بھی جاگتے ہیں
ہم اپنے جاگتے رہنے میں بھی خوابیدہ رہتے ہیں
ابد ناآشنا لمحے مری دہلیز پر اپنا مقدر رولتے ہیں
سو میں کیسے تمھیں اپنی گزرتی رات کی تنہائیوں کی باگ دے دوں
سو میں کیسے تمھارے بھاگ کھولوں
سو اے دکھ بالکوں کے پالنے میں جھولتی کم آشنا لڑکی
محبت ان اپاہج لڑکیوں کی خواہشِ آسودگی ہے
ضیافت کی بڑی میزوں سے ہٹ کر جو مجھے اک ٹک سے دیکھے جا رہی ہیں
کہ نیلے پانیوں پر تیرتی آنکھیں کہیں تو جا لگیں گی
’’میں جب گھر سے چلی تھی...
ہوائیں میرے آنچل سے لپٹ کر روئی تھیں اور میں بہت خوش تھی
اور اس دن کاہنوں نے آگ کے چاروں طرف پھر کر مجھے رخصت کیا تھا
اور ان کی پتلیاں الٹی ہوئی تھیں
میں اس دن سے پچھل پائی ہوئی ہوں
میں اس دن سے
گھروں کی اور سے
چپ چاپ جاتی ملگجی سنیاسنوں کو دیکھتی ہوں
اور ان کی بےتحاشا جھرّیوں والی ڈراتی صورتوں کو
اور اپنی نفرتوں کو
اور اپنی اجرتوں کو
اور اپنی محوِحیرت ساعتوں کو
سو اب تو میرے آنچل کی گرہ بھی نم نہیں ہے‘‘

میں اپنے بچپنے کی کیاریوں کی گھاس چنتا ہوں
ہوائیں خوشبوؤں کا ہار لے کر میری جانب آ رہی ہیں
سو اے برسات کی بھیگی ہوئی مٹی
مجھے اپنے بدن کا بوجھ دے دے
کہ میں بھی گھر گرھستن عورتوں کی طرح اپنے تنگ کمرے لیپ ڈالوں
کہ میں بھی آنگنوں کے مہندیوں کے مٹّیوں کے خواب دیکھوں
مگر یہ بانس کی شاخوں سے لپٹی سبز سانپوں کی طرح ڈستی ہوئی آنکھیں
مگر اے صبح کی بیزاریوں میں دستکیں دیتی ہوئی لڑکی!
قسم ہے تم کو دیواروں میں در آتی ہوئی بیلوں کی
مجھ کو یاد رکھنا
قسم ہے ساحلوں پر سیپیاں چنتے ہوے آوارہ لڑکوں کی
گھروں کو لوٹنے والے پرندوں کی
اندھیرے اوڑھ کر سوتے ہوے بےخواب چہروں کی
گھروں کو دیر سے جاتے ہوے اوباش لوگوں کی
فصیلِ خیر و شر کے درمیاں بستے ہوے معصوم بچوں کی
مرے جیسے کئی الجھے ہوے سادہ مزاجوں کی
قسم ہے تم کو ہر اس چیز کی جو تم کو پیاری ہو
مجھے تم یاد رکھنا
مجھے تم یاد رکھنا، بھول جانا
اور اپنی چاہتوں سے جا کے کہہ دینا
میں اپنی شامِ غم کی پاسبانی جانتا ہوں
میں اپنی سلطنت پر حکمرانی جانتا ہوں

سو اے زرتشت کی بیٹی
سب اچھی لڑکیوں کی طرح تم بھی مجھ سے مت ملنا
میں اگنی دیوتاؤں کی کتھا لکھنے چلا ہوں
سمندر کی طرف جاتی ہوئی سب بچیوں نے بانسری کے راز جانے ہیں
سمندر بےریا، مکار، وحشی
دیوزادوں کی جٹائیں
آنگنوں میں لوبیے کی بیل
پھلتی پھولتی چکراتی بڑھتی کتنے دروازوں کے آگےجھولتی ہے
سمندر آنگنوں کی آخری حد ہے
سمندر بےنہایت ہے
سمندر بےگھری ہے، آخری گھر ہے
منڈیریں پھاند کر جاتی ہوئی
ساری پتی ورتا، ستی ساوتری، اجلی اور گلابی عورتیں سب
بانسری کے راز جانے ہیں
سمندر شام کی آزردگی ہے
رات کا غم ہے
سحر کی الکساہٹ ہے
سمندر بےنہایت ہے
سو اب جو ہے سمندر سے روایت ہے
سو اب یہ ہے کہ سارے جانے والے ایک اک کر کے گئے
اور تند لہروں کی طرف کھلتی ہوئی کھڑکی ہوا میں جھولتی ہے
سمندر میرے دروازے پہ میرا منتظر ہے
سمندر آخری گھر ہے
سو اس سے تو یہ اچھا تھا
کہ ہم سب اپنی مٹی کے ابھرتے دائروں میں دفن ہو جاتے
میں سوتی لڑکیوں کی ادھ کھلی آنکھوں میں زندہ تھا
اور اب میں ہوں
بھنور کی دائرہ در دائرہ تحریر ہے
اور بادباں کے بازوؤں میں جھولتی جاتی ہوا کا مرثیہ ہے
سمندر میرے ہونے کا پتا ہے
کہ آنکھیں کوڑیوں کے مول بیچی جا رہی ہیں
سو اے ساگر اترتی مرگ نینی لڑکیو
مجھ کو عذابوں کی بشارت دو
مجھے میرے سمندر کی نیابت دو
سمندر میری سانسیں گن رہا ہے
مجھ کو مٹی کی خلافت دو
***
 
آسماں خاکداں

راکھ اڑاتی ہوئی
اور بن خاکداں کوئی جلتا نہیں
اس ستارے کے اس پار بھی کوئی جلتا تو ہو گا کسی آسماں کے تلے
خواب نے راستوں پر دیے رکھ دیے
میں نے ہر شام دیکھا
کہ تم آئے تھے
اور مل کر گئے
اور ہر شام اک تارِ کفش و کلہ جل گیا
ایک جلتا ہوا سلسلہ جل گیا
ہاں مگر اک دیا سا اٹھائے رکھو
تارِ کفش و کلہ کے قریں
اک دیا سا جلائے رکھو
آسماں خاکداں
***

خرابی ہے محبت میں

خرابی ہے محبت میں
محبت میں خرابی ہے
یہ قبریں پانیوں میں گھل رہی ہیں
سو ان کے استخواں دیکھو!
میں مجنوں کو لڑکپن میں بہت رویا
بہت رویا میں مجنوں کو لڑکپن میں
کہ پانی مٹیوں سے پھوٹتا تھا اور مٹی گھل رہی تھی پانیوں میں
سو اس کے استخواں دیکھو!

محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی، اس کےگھر جانا
کہ آنکھیں دھل گئی ہیں اور چہرہ دھوپ دیتا ہے
گہن کی مار ہو اس آنکھ پر جو اس گھٹا میں دھوپ دیکھے

محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی
اس کے گھر جانا
محبت کی خرابی ہے
یہ قبریں پانیوں میں گھل رہی ہیں
***

ہندوستان میں تین نظمیں

مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں

مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور کے پاؤں کی مٹی ہے
دروازہ کھلا
اور ماہِ زوال در آیا
بند مکاں کے روزنِ در سے
آگے ’’سات دلہن کی قبر‘‘ ہے
نیچے کوزہ گروں کی بستی ہے
کوزہ گروں کی بستی میں مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں
بڑے قصے ہیں
بڑے قصے ہیں دل صبر و سوال کے سننے کے
بڑی باتیں سیف و کتاب پہ لکھنے کی
بڑے خواب ہیں اوڑھ کے سونے کو
کبھی خواب لکھے نہیں جاتے
کبھی باتیں سنی نہیں جاتیں
کبھی قصے کہے نہیں جاتے
کوزہ گروں کی بستی میں بڑے قصے ہیں اور خاک نہیں
مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں
اور ماہِ زوال در آیا
بند مکاں کے روزنِ در سے
آگے ’’سات دلہن کی قبر‘‘ ہے
نیچے کو زہ گروں کی بستی ہے
کوزہ گروں کی بستی میں
مرے پاؤں کے نیچے خاک نہیں کسی اور کی پاؤں کی مٹی ہے
***

اس چھالیہ کے پیڑ کے نیچے

اس چھالیہ کے پیڑ کے نیچے خداگواہ
مجھ پر نزولِ رحمت و اجلالِ حق ہوا
اور یوں ہوا کہ مجھ پہ زمیں کھول دی گئی
اور آسمان سر پہ مسلط نہیں رہا
اور یہ کہا گیا کہ جو گھر لوٹیے تو پھر
ہاتھوں میں دھوپ لے کے منڈیروں پہ ڈالیے
مٹی اگائیے کہ زمیں شورہ پشت ہے
اور یہ کہ میش و ابلق و اشتر کے واسطے
دو چھالیہ کے پیڑ، مزاروں کے تین پھول
اور ایک آنکھ جس پہ جہانِ عبث کھلے
ویسے تو گھر تک آ گئی ساعت زوال کی
***

خانہ بدوشوں کا گیت

اب کس لیے جہانِ خرابی میں گھومنا
وہ سو گئی تو اس نے نہ دیکھا کہ اس کے بعد
کتنی بڑی قطار کھلے زاویوں کی تھی
وقت آ گیا تھا وصل و مکافاتِ وصل کا
اونچی زمیں پہ ریل کی کھڑکی کے ساتھ ساتھ
غاروں میں، بستروں میں، زمیں پر، رضائی میں
اب کس لیے جہانِ خرابی میں لوٹنا
سو آشیاں کو مثلِ کبوتر اڑائیے
اور دن گزر چلے تو یہ بازو سمیٹ کر
انگشتری کو آئنے پر مار سوئیے
وقت آ گیا ہے وصل و مکافاتِ وصل کا
***

یہ کیسے لوگ ہیں

یہ کیسے لوگ ہیں جو سنگ بستہ جالیوں کی طرح آنکھیں بند رکھتے ہیں
سرھانے لڑکیوں کے رات کی بکھری کتابیں ہیں
اور ان کے خواب اندھیروں کے درکتے روزنوں سے
دھڑدھڑاتی بلیوں کی طرح گھر گھر پھیل جاتے ہیں
میں ساری رات آوازوں کا مبہم شور سنتا ہوں
اور آنکھیں بند رکھتا ہوں
اور ان کے ساتھ ہو لیتا ہوں جن کا راستہ میرا مقدر ہے
سو اب میری گواہی کون دے گا
کہ میں اپنی گواہی کے لیے زندہ نہیں ہوں

وہ ایسے لوگ تھے جو
دشتِ بےدیوار میں اپنے سفر کا نیند سے آغاز کرتے تھے
اور ان کی انگلیاں صحرائی سانپوں کی طرح ان کے بدن پر رینگتی تھیں
اور ان کی گردنیں ٹوٹی کمانوں کی طرح ان کے بدن پر جھولتی تھیں
وہ اپنی پٹ کھلی آنکھوں سے سوتے تھے
وہ چلتے تھے تو ان کی آستینیں پاؤں میں آتی تھیں
اور وہ رک کے چلتے تھے
درختوں میں کہیں بیٹھا روپہلی رت کا کارندہ
سمندر سمت کا قطبی ستارہ ہے
سمندر میری آنکھوں کا اشارہ ہے
اسے کہنا وہ میری میز پر اپنی ہتھیلی یوں جمائے مجھ کو مت دیکھے
اسے کہنا ستاروں اور ان کی چال میں کچھ فرق ہوتا ہے
اسے کہنا وہ اپنی گردنِ بےساختہ کے آئنے میں مجھ کو مت دیکھے
اسے کہنا وہ اپنی بلیوں کی گردنوں پر ہاتھ رکھ کر مجھ کو مت دیکھے
اسے کہنا محبت اک اکیلی ناؤ ہے
اور آسماں آئینہ برادری کا مجرم ہے
***

یخ زدہ انگلیاں

یخ زدہ انگلیاں
تہہ بہ تہہ برف کی چادروں سے ابھرتی ہوئی
برف اس سال اتنی پڑی ہے
کہ رستے کے سب پیچ و خم چھپ گئے ہیں
اور لڑکیاں
دور پُرنور لانبے دریچوں سے جب برف میں یخ زدہ انگلیاں
دیکھتی ہیں تو یہ پوچھتی ہیں
کہ اس برف سے پھول کیسے کھلا
کونپلیں کیسے پھوٹیں
زمیں بانجھ تھی کس طرح یک بیک حاملہ ہو گئی
***

بند گھر کا راز

تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انھیں بند کر کے گئے
اب یہ تم سے بھی کھل کر نہیں پوچھتیں
تم نے آنکھوں کو بوسہ دیا اور انھیں بند کر کے گئے؟
ایک ہی راز رہتا ہے ہر بند گھر میں
کہ گھر بند رہتا نہیں
***

دریاے چارلس کے کنارے ایک نظم

یہ گرجا ہے کہ مجھ پر آسماں کی مہربانی ہے
صلیبی جنگ میں سارے سپاہی کام آئے
اب کسے پانی پلاؤ گی تم اپنے دامنِ تر سے
اٹھاؤ گی کسے پھیلے ہوے بازو پہ، نیلے ناخنوں پر روک لو گی
آنکھ چہرہ
جب زمیں پر راکھ ہو گی اور مٹی پھیل جائے گی
طنابیں راکھ ہو جائیں تو مٹی پھیل جاتی ہے
زمینوں آسمانوں پر
سو گرجا مجھ پہ نیلے آسماں کی مہربانی ہے
یہ دریا ہے کہ مجھ پر آسماں کی مہربانی ہے
زمیں جب راکھ ہو جائے تو دریا پھیل جاتا ہے
اور اس کو روک لیتی ہو تم اپنی خشک آنکھوں میں
بدن کی آڑ دے کر
جب سپاہی راستے میں بیٹھ جاتے ہیں
بچھا دیتے ہیں سایہ پتیوں پھولوں کناروں کا
تمھارے دامنِ تر کا
اتر جاتے ہیں گیلی جھاڑیوں میں آگ لے کر
آسماں دیکھا نہیں جاتا
تو بھیگی ریت کو سوکھی ہوا میں چھانتے ہیں
اور مٹی پھیل جاتی ہے
یہ مٹی مجھ کو کل تک آسمانوں میں اڑاتی تھی
یہ دریا مجھ کو کل تک کھینچ لاتا تھا زمینوں پر
یہ مٹی پھیلتی جاتی ہے
دریا سوکھتا جاتا ہے
مجھ پر آسماں کی مہربانی ہے
***

یہ شہر تمام اندوہ میں ہے

یہ شہر تمام اندوہ میں ہے
اس رات سپاہی گشت پر آیا نہیں
تم گھر جا سکتی ہو
اور شہر کے باہر جتنے شہر ہیں سب کے سب اندوہ میں ہیں
کل ہفتے کی تعطیل کا پہلا دن ہو گا
وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ہے
اک تیز ہنسی جو سات گھروں کو چیر گئی
وہ لڑکی گھاس پہ بیٹھ کے لکھتی ہے اور ہنستی ہے
ان لفظوں پر جو اس نے لکھے
ان لفظوں پر جو اس سے پہلے آنے والے سب نے لکھے
ان لفظوں پر جو اس کے بعد کے آنے والے شاید اس پرلکھیں گے
وہ ہنستی ہے اور لکھتی ہے اور ہنستی ہے
اور شہر تمام اندوہ میں ہے
کوئی پتھر آن ہٹائے گا
اس گھر کے باہر اک گھر ہے
تم گھر میں جا کر سو رہتے
اور خواب اکیلے دم کاہے کو آنے ہیں
خواب تو رتھ پر آتے ہیں
اور تم نے رتھ دیوتا کو خواب میں ڈال دیا
اب شہر اور خواب اور آنکھ کا رشتہ ٹوٹ گیا
اب دریا پھیلتا جاتا ہے
اور کوئی کنارا پاس نہیں
اور دریا پھیلتا جاتا ہے
اور دریا پھیلتا جاتا ہے
اور دریا پھیلتا جاتا ہے
***

بہت شو ر ہے

بہت شور ہے
ماتحت لڑکیاں میرے زانو پہ سجدہ کریں
خوفِ آلودگی شور و شر کی پذیرائی میں روپڑے
یہ زمینیں سیہ نسل گھوڑوں کی آواز سے جاگتی ہیں
چشمِ شب کور ہرچاندنی رات میں ایک جلسہ کرے گی
زمیں فیلِ بےزور کی طرح پٹتی رہی ہے
انہی ساعتوں میں بشرطِ سکندر کوئی آئنے کے برابر ملے گا
وہ ہنستی ہے اور سایۂ عافیت کے تصور کو مجروح کرتی ہے
اسے فیلِ بےزور کے سامنے ڈال دو
اس کے چہرے کو ٹوٹے ہوے آئنے سے مسخر کرو
وہ ہنستی ہے اور گریۂ نیم شب کے سمندر پہ اپنا علَم کھولتی ہے
ہاتھ جل مکڑیوں سے کریدے ہوے
پاؤں میں گھاس لپٹی ہوئی
عافیت ہے سمندر کی بہتی ہوئی گھاس میں
عافیت ہے سمندر کی آواز میں
شور ہے
شور میں عافیت
ماتحت لڑکیو، میرے زانو پہ سجدہ کرو
یہ زمینیں سیہ نسل گھوڑوں کی آواز سے جاگتی ہیں
***

اس سے کہہ دو

اس سے کہہ دو کہ وہ اپنے دُکھتے ہوے بازوؤں کو یونہی تہہ رکھے
راہداری کے پرلے سرے پر وہ کس سے ملے گی
کوئی خواب، راتوں کی بوجھل ہوا میں کسی پر سمیٹے پرندے کا خواب
کوئی خواب، بیمار بستر پہ بجھتے سمے
رات کے نرم پاؤں گزرنے کا خواب
بند کمرے میں دوپہر بھر صرف اک زیرجامے میں سونے کا خواب
یا کوئی آنگنوں میں اترتی ہوئی، آنکھ کی کونپلوں سے الجھتی ہوئی دھوپ
بھک سے اڑ جانے والی سرنگوں کی مانند بچھتی ہوئی دھوپ
منھ اندھیرے یہ دانتوں تلے کرکراتی ہوئی دھوپ
اس سے کہہ دو، کہیں بھی کوئی خواب ہو، دھوپ ہو
نصف شب اپنے شوہر کے پہلو سے اٹھتی ہوئی
نیم تاریک زینے سے تھم تھم اترتی ہوئی
ایک بےانت
لمبی مسافت پہ پھیلی ہوئی راہداری کے پرلے سرے پر وہ کس سے ملے گی
اس سے کہہ دو دریچے کے پردے گرا دے
کہ کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی گرد ہی گرد ہے
مگر طاق بھی اپنی نم خوردگی میں بڑا زہر ہے
اس سے کہہ دو کہ وہ اپنے دُکھتے ہوے بازوؤں کویونہی تہہ رکھے
***

جوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

جوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو
جب گھروں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں اپنے گھر جائیں گی
اپنے رستے کی ہو جائیں گی
اور تہمینۂ بےخبر ہر گلی کی خبر
ہر گلی اک نئے گھر پہ جا کر اچٹ جائے گی
اے میری روح کے بادباں
دکھ کھلے پانیوں کا سفر،عمر بھر
جوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو
جوتشی روز ہر روز سورج کھلے پانیوں سے نکالا گیا
روز سورج کھلے پانیوں میں اتارا گیا
جوتشی دن مہینوں کی وحشت سے آگاہ مَیں
جوتشی اس اذیت سے آگاہ مَیں
جوتشی میرے ہونے کا قصہ سنو
جوتشی سانپ آنکھوں نے دیکھا تو میں سو گیا
مور پاؤں نے دیکھا تو میں سو گیا
جوتشی میرے سونے کا قصہ سنو
جوتشی میری آنکھوں میں تہمینۂ بےخبر کے لیے ان گنت خواب ہیں
خواب وحشت کے آداب ہیں
صبح سورج کا فرمان ہے
اور سورج کھلے پانیوں میں اتارا گیا
***

THE GIFT OF MAGI

میں نے اپنے لمبے بال تمھاری خاطر بیچ دیے ہیں
اور اب گھر گھر جانے والے
میرے گھر بھی آئیں گے
اور میں تیری خاطر
اجلے دن کی خاطر
رکھے جانے والے تحفے
کس کس کو تقسیم کروں گی
اور تم کس کے واسطے صندل صندل گھومو گے
تم بھی شاید اپنی آخری خواہش بیچ چکے ہو
ورنہ گھر مت آنا
***

مانسٹر

دریچہ کھلا چھوڑ کر یوں نہ جانا
کہ رستہ گزرتی کوئی اور لڑکی
مجھے خواب بنتا ہوا دیکھ لے گی
ٹھٹک جائے گی
اور مجھ سے مرے خواب کا راستہ پوچھنے کی حماقت کرے گی
***

یہ اک دوہری اذیت ہے

یہ اک دوہری اذیت ہے
اذیت بےسبب ہنسنے کی
بےآرام راتوں کی کہانی
شب زدوں کے سامنے
ہنس ہنس کے کہنے کی
’’خداوندِ خدا کی مہربانی ہے
دعائیں آپ کی ہیں
’’آپ کی سرکارمیں زندہ ہوں، خوش ہوں‘‘

بطورِناصحاں ملتا ہے کوئی
برنگِ مہرباں ملتا ہے کوئی
بہ سعیِ رائیگاں ملتا ہے کوئی

وہ کم آگاہ، کم احساس، کم آواز لڑکی ہے
وہ لڑکی مجھ سے ملتی ہے
مگر اندر اتر جائے تو چبھتی ہے
وہ اپنی کم سوادی جانتی ہے اور سسکتی ہے

عجب صورت ہے وہ جب بھی کہیں جائے تو آ جائے
کہیں رستہ کنارے مجھ سے ٹکرائے تو آ جائے
کبھی بھی اپنی کج فہمی پہ رو جائے تو آ جائے
ہواے شام کی آواز سن پائے تو آ جائے
ہواے شام، یہ کیسی محبت ہے
وہ لڑکی مجھ سے ملتی ہے
مگر اندر اتر جائے تو چبھتی ہے
وہ اپنی کم سوادی جانتی ہے اور سسکتی ہے
میں اپنی کم سوادی جانتا ہوں اور ہنستا ہوں
یہ اک دوہری اذیت ہے
***

فنا کے لیے ایک نظم

مہربانی رات کا پہلا پہر ہے
صبح زنداں کی ہلاکت
شام وحشت گر کی موت
واجب التعظیم ہے وہ شخص جو پہلے مرا
خشت سے کوزہ غنیمت
کوزۂ وحشت سے وحشت گر کی خاک
خاک سے آبِ نمک
بارشوں میں میں نمک کا گھر بناؤں
برف باری میں پرانے بانس کا
طشت میں سیندور، چھدے سکے سجا کر بیچ رستے پر رکھوں
رات کے کہرے میں کھڑکی کھول کر دیکھوں اسے
صبح تک مردہ پرندے
دوپہر تک اس کے ہونے کا گماں
شام پھر کہرا، کھلی کھڑکی، پرندے
اس کے آنگن کی وہی ہمسایگی
وہ نہیں مرتا جو پچھلی رات تک جاگا کیا

مہربانی رات کا پہلا پہر ہے
لڑکیوں نے گھاس پر نظمیں لکھیں
پاسی کے مٹکے توڑ ڈالے
آنگنوں میں گیت گائے، گھر گئیں
باشوں میں دھوپ سی اس آنکھ نے دیکھا مجھے
کس کو جنگل چاہیے کس کو سمندر چاہیے

یہ حیاآلود شام
کھڑکیوں سے کھڑکیوں تک جھلملاتی جا رہی ہے
قصہ گر زنداں سے چل کر آئے ہیں
آنگنوں کو صاف کر لو
لڑکیوں کو شام کا کھانا کھلا دو
شام سے پہلے سلا دو
وحشتوں کی نیند کچی آنکھ کو زیبا نہیں
شام خوابِ قصہ گر ہے قصۂ زندانِ شام
مہربانی رات کا پہلا پہر ہے
***

اور پانی ٹھہر گیا

اور پانی ٹھہر گیا آنکھوں میں چہرہ سیاہ ہوا
اور آنکھیں پھیل گئیں
اور آنکھیں پھیل گئیں آنکھوں میں ہونا گناہ ہوا
اس دن سارے لکھنے والے گھر آئے اور لوٹ گئے
اور سب کی آنکھیں ٹھہر گئیں اور سب کا چہرہ پھیل گیا
ماہی گیروں نے اس دن بےاندازہ جال بنے
اور بچے بھوکے ہی سوئے
اور مائیں بستر بان کسے چپ لیٹ گئیں
اور جب ماہی گیروں کی بستی میں رات آئی
سب جال سمیٹے گھر آئے اور لوٹ گئے
اور سب کی آنکھیں ٹھہر گئیں اور سب کا چہرہ پھیل گیا
یہ رات سمندر پار سے ہو کر آئی تھی
سو بیچ سمندر ٹھہر گئی
اس رات کی جس نے بات لکھی وہ گھر نہ گیا
وہ بیچ سمندر ٹھہر گیا
وہ مٹی کی زنجیروں سے آزاد ہوا
سو آنے والا کل، جو نہیں ہے، اس کا ہے

جب برف سروں پر آئے گی تم جاگو گے
اور پچھلے اونی موزے کام نہ دیں گے
اور شالیں سرسر کھلتی جائیں گی
اور بیویاں ڈر کر اٹھیں گی
اے پچھلی رت کے چلنے والے لوٹ چلو
مردے مردوں کو خود دفن کریں گے

جب بچے شاخوں پر پلتے ہوں، بارش کا کیا خوف
ہاں بارش ساگر کا پہلا ہرکارہ ہے
اور کیلوں کی یہ جوڑی، لڑکے، کل تک ساتھ نہ دے گی
وہ آنکھیں میچے ہنستی ہے اور سوتی ہے
لڑکے، جلدی گھر آ جانا
پانی ٹھہر گیا ہے
اور لڑکا گھر نہ گیا
وہ لڑکا گھر نہ گیا
اور دیکھنے والوں نے دیکھا
وہ برف کے تودے کھینچتا تھا اور روتا تھا
اور گھرپانی کے بیچ جھکولے کھاتا تھا
پانی جو ٹھہر گیا
***

اسیری

دن بادل ہے، اپنی رو میں چلتا ہے
رات آنگن ہے، اپنے اندر کھلتی ہے
جس آن تم اس مٹی پر، یا مٹی میں آئے تھے
وہ دن تھا، رات تھی
یا دن رات سے ملنے کی ایک ازلی ابدی کوشش تھی
یا سورج چاند گہن تھا
یا پکی پوری بارش تھی
دن، بادل، بارش، رات، گہن
اک گھر اور ایک اسیر
اب رات کے خواب سے مت ڈرنا
اور دن کے غم میں مت سونا
اب ہنسنا، اور ہنستے میں مر جانا
جیسے اکثر مرنے والے سوتے میں مر جاتے ہیں
اب ہنسنا اور ہنستے میں مر جانے سے مت ڈرنا
اس آن سے کیا، ہر آن یہی
دن، بادل، بارش، رات، گہن
اک گھر اور ایک اسیر
***

ریت آئینہ ہے

قیس آسودۂ نقشِ رقصِ رواں
حیرتِ چشمِ پارینہ ہے
ریت آئینہ ہے
اور زنگارِ آئینہ ہر عالمِ چوب و ابر یشم و خاکداں
ریت آئینہ ہے

جب مناروں میں گھنٹی بجی
وہ اچانک مڑی، کل یہاں کوئی تھا
وہ گجردم اٹھی
اس نے انگڑائی لی، کل یہاں کوئی تھا
سانپ لہراتی سڑکوں پہ چلتے ہوے وہ رکی
کل یہاں کوئی تھا
کل یہاں کون تھا
قیس آسودۂ نقشِ رقصِ رواں
کون سورج کو انگارزادوں کے گھر لے گیا
کل یہاں بن مرادوں کی بارش کا پہلا پھوارا پڑا
قیس آگاہِ داد و رسد
قیس بے کین و کد
ریت آئینہ ہے اور زنگارِ آئینہ ہر عالمِ چوب و ابریشم و خاکداں

خوف اک سایۂ سائباں
سارے گھر بند ہیں
سارے گھر بند ہیں اور دریچوں پہ بیٹھی ہوئی لڑکیاں مجھ پہ ہنسنے لگیں
نیند اک چاندنی
نیند پتھر پہ پھیلی ہوئی چاندنی
کون پتھر پہ چلتا رہے اور سنبھلتا رہے
کون سوتا رہے
ریت آئینہ ہے
قیس آسودۂ نقشِ رقصِ رواں
حیرتِ چشمِ پارینہ ہے
ریت آئینہ ہے
***

بات نہیں ہو سکتی

وہ جو کہتے ہیں، کسی ٹیڑھ بنا کوئی بات نہیں ہو سکتی
سو آن کی آن میں ڈور پلٹ کر ماہی گیر پہ آن پڑی
انہی موسم میں کوئی تم سا دریا پار سے آیا تھا
اور ساری بستی روئی تھی
اس دن بستی میں رونے والوں کا دن تھا، اور تم نے کہا تھا
یہ لوگ سمندر متھ کر پیتے تھے، اب روتے ہیں
اور تم نے کہا تھا
ان لوگوں سے تو ساحل پر کھو جانے والے بچے اچھے ہیں
جو ریت پہ کھیلتے کھیل کو پانی کر دیتے ہیں
سو ٹیڑھ میں تم نے بات کہی
ان لوگوں سے تو ساحل پر کھو جانے والے بچے اچھے ہیں
وہ جو کہتے ہیں، ہر بات میں کوئی ٹیڑھ سی ہو تو بہترہے
ان لوگوں سے سرِشام ملو تو بات نہیں ہو سکتی
اور دن میں ان کے ساتھ کئی دوراہے چلتے ہیں
اور رات میں ان کے گھر بس نیند کا سودا ہو سکتا ہے
اور نیند کدو کی بیل ہے، سوکھ گئی تو ساحل پر پیغمبر بچہ رہ جاتا ہے
سو ٹیڑھ میں تم نے بات کہی
اب پیغمبر سے بات نہیں ہو سکتی
وہ جو کہتے ہیں، کسی ٹیڑھ بنا کوئی بات نہیں ہو سکتی
سو آن کی آن میں ڈور پلٹ کر ماہی گیر پر آن پڑی
***

ابن زیاد کا فرمان

تمھاری ہڈیاں مڑتی نہیں ہیں
رحمِ مادر سے نکلنے کے لیے بیتاب ہو
سوتے رہو، یہ گھر گرھستی کا زمانہ ہے
مویشی اصطبل میں جائیں گے اور اونٹ خیمے میں
فرس ابنِ زیادہ کے لیے عضوِ زیادہ ہے
سواری واسطے مشکی ہرن زنجیر کرتے ہیں
زمینِ شور سے شوریدہ سر، عفریت سے بونے
سمندر سے گلابی مچھلیاں
مٹی سے سورج مکھ کا جنگل
چاردیواری سے اٹھ کر دیکھتا ہے
آنگنوں میں ہل نہیں چلتے
ابوسفیان سے میں نے سنا تھا

ابوسفیان سے میں نے سنا تھا
آنگنوں کا حال، خیموں کی خبر، گھوڑوں کے جل جانے کا قصہ
جب بدک کر بھاگ اٹھے تھے مویشی، اونٹ، سورج مکھ سپہ زاد ے،
ابوسفیان کے بیٹے
ابوسفیان سے میں نے سنا تھا

ابوسفیان سے میں نے سنا ہے
آنگنوں کی خیر لکھی ہے زیاد ابنِ زیادہ نے
نئی بیلیں چڑھائی ہیں پرانی کرسیوں پر
میز پر خرگوش پالا ہے
گھڑوں میں ناریل کی کاشت کی ہے
بیچ انگنائی میں لکھا ہے
تمھاری ہڈیاں مڑتی نہیں ہیں
رحمِ مادر سے نکلنے کے لیے بیتاب ہو
یہ گھر گرھستی کا زمانہ ہے
مویشی اصطبل میں جائیں گے اور اونٹ خیمے میں
***

سمندر کی مہربانی

یہ سمندر کی مہربانی تھی
تم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا
اب ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی
موج در موج لوٹتے ہو تم
دھوپ میں اختلاط کرتے ہو
اور ہوا تم سے کچھ نہیں کہتی
کوئی بھی تم سے کچھ نہیں کہتا
سب سمندر کی مہربانی ہے
جاؤ بارش کا اہتمام کرو
ابرِ آوارہ سے پتنگ بناؤ
اب تمھارے ہیں خیمہ و خرگاہ
دور دو بادباں چمکتے ہیں
کشتیوں میں دیے جلے ہوں گے
کوئی ساحل پہ آئے گا اس بار
تم نے سوتے میں پھر سوال کیا
کون ساحل پہ آئے گا اس بار
آؤ دریانشین ہو جائیں
ہم نے ساحل کو چھو کے دیکھ لیا
***

یہ گھر جل کر گرے گا

یہ گھر جل کر گرے گا
تم نے لو دھیمی نہیں کی
ہجرتی، گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں
چلو دو چار دن رہ لو
کسی کے آنے جانے تک
جہاں تک معصیت ہے، ارتقا کا در کھلا ہے

یہ گھر جل کر گرے گا
ان پرندوں سے کہودہلیز سے آگے نکل جائیں
خداے خشک و تر کی سلطنت اک گھر نہیں ہے
اور موسم ہیں حوادث کے
ابھی بارش بھی ہو گی

ابھی بارش بھی ہو گی
خیمہ دوزوں سے کہو اک بادباں سی لیں
کسی کی بازیابی تک یہ سارا شہر
جلنے کے لیے باقی رہے گا
تم دیے کی لو مگر آہستہ رکھنا
اور موسم ہیں حوادث کے
جہاں تک معصیت ہے، ارتقا کا در کھلا ہے
***
برف باری میں

جہاں لکڑی کی میزوں اور ننگی کرسیوں میں
شہ بلوطی گردنوں کا خم نظر آئے
وہاں جھکنا عبادت ہے
میں ننگے پاؤں باہر آ گیا تھا برف باری میں
مری کھڑکی کے نیچے چاندنی سے بھی زیادہ چاندنی تھی
جب ہوا پاگل ہوئی
اور تم نے چہرہ موڑ کر سونے کی کوشش کی
ہوا سنتی نہیں ہے
ہوا جب بھی چلے گی، کھڑکیوں پر ضرب آئے گی
کوئی آواز بھی ہو گی
چلو ایسا کرو، سو لو
تم اپنی نیند دو دن کے لیے محفوظ کر لو
برف باری میں رفاقت کی ہر اک صورت عباد ت ہے
***

اپنے نام ایک نظم

اسے دکھ کے ساتھ بیاہا گیا
کہ جب آنکھ کھلی تو سر پرسورج، جلتی ناند میں دھول
اسے دھوپ کے ساتھ بیاہا گیا
کہ جو شام پڑے سے دن گزرے تک سوتی تھی
اسے نیند کے ساتھ بیاہا گیا
کہ جو آج کے خواب سے کل کے خواب کا سودا کرتی تھی
اسے بیاہ کے ساتھ بیاہا گیا
کہ جو کشٹ اٹھاتی، دھوپ میں بیٹھی، سائے سے باتیں کرتی تھی
اسے سائے کے ساتھ بیاہا گیا
ملاحوں نے اس کی آنکھوں کی تعریف نہیں کی
بچے اس کو دیکھ کے رکے نہیں
لڑکیاں اس کے لباس پہ چونکیں نہیں
اسے یوں دفنایا جیسے مچھلیاں جال سے جال میں ڈالتے ہیں
اسے یوں نہلایا جیسے بارش آبی پودوں کو نہلا کر خوش ہوتی ہے
اسے شام کے ساتھ وداع کیا
جب چاند گھنے بادل میں چھپتا پھرتا تھا
اور آنکھیں چننے والی مچھلیاں چنی گئی تھیں
اور ناؤ نے ناؤ کے ساتھ گناہ کیا تھا
مٹی پانی کے بیٹے یہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے تو دہشت سے پہلے مر جاتے

یہ دریا دن سے دروازے پر رکا ہوا ہے
دن جو آگاہی ہے
صبح کو بستر تہہ کرنے
دھوپ میں توشک پھیلانے
کپڑے، بستربند سکھانے
رات کی بتی گل کرنے
زنجیر ہلا کر دیکھنے کی آگاہی
یہ دریا دن سے دروازے پر رکا ہوا ہے
یہ دریا رات کو اندر در آئے گا

رات عجب پچھتاوا ہے
اپنے دوسرے کی پہچان کا
دن کو گھر آنے
اک نسل کا قرض اتارنے
کانٹے چبھ کر مر جانے کا پچھتاوا
یہ رات یہ دن کیا تابڑتوڑ گزرتے ہیں
جب اوپر پانی چلتا ہے
اور نیچے مٹی سوتی ہے
اور کوئی من میں پکارتا ہے
مولا مجھ کو بادل کر دے
اور اک پچھلی رات اچانک چیخ کسی کو آ لیتی ہے
اور گھر کا گھر اٹھ جاتا ہے
اور دن کے بہلاوے میں رات بتائی جاتی ہے

اس موسم پانی آگے آئے گا، تم گھر میں مت سونا
جب چھت کی کھپچی جھک جائے
اور پانی چھل چھل دکھتا ہو
تب باہر سونا اچھا رہتا ہے
پھر موسم اپنے موسم ہو جاتے ہیں
اور رت کنیا پازیب اتار کے پھینکتی ہے
پھر کوئی کسی سے یہ نہیں کہتا
مولا مجھ کو بادل کر دے
یا سوتی مٹی
یا چلتا پانی
پھر کوئی کسی سے کچھ نہیں کہتا
پھر سب اپنی سنتے ہیں
پھر بادل بارش رات زمیں سب اک چادر میں سوتے ہیں
اور اک چادر میں چلتے ہیں
اور ہوتے ہیں اور نہیں ہوتے ہیں
اورلفظ کا واحد سرمایہ خاموشی ہے
اور جو لفظ نہیں سنتے ہیں، خاموشی بھی نہیں سنتے ہیں
جب پہلودار ستون سے ٹیک لگائے لڑکی سوتی ہے
اور حوض کے پاس کھڑے شہزادے
اور ان کی باندیاں
اور سارا شہر
اس آن کہیں چپکے سے ان میں ہو جانا
اور نہیں کہنا، میں آیا ہوں
اچھا ہے
آگاہی اور پچھتاوے اور ایسی موت سے جو یکسر نامعلوم میں ہے
***

وہ اپنے ہاتھ میں دنیا کی تہذیبیں اٹھائے آئے گی

وہ اپنے ہاتھ میں دنیا کی تہذیبیں اٹھائے آئے گی اور گر پڑے گی
میں نقشے کی مدد سے اس کے گرنے کی خبر دوں گا
سمندر بےبضاعت ہے، اگل دیتا ہے نیلی کشتیوں کو
آسماں کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے جہازوں کو
ستارے دیکھ کر چلتے نہیں، مٹی اڑا لے جائے گی ان کو
سو یہ وہ ساعتیں ہیں جب نہیں چلتے ستارے
اور مٹی پھیل جاتی ہے
وہ اپنی آستینیں دھو کے گھر آئے گی اور ان کو اجالے میں سکھائے گی
محبت ایک ڈھیلا لفظ ہے اس کے سمٹنے کا
سو وہ تو کشتنی ہے جو نہیں نکلا سفر پر اور نقشے کی مدد سے اپنے گھر پہنچا
میں آنکھیں بند کر لوں گا
وہ لمبی راہداری کے سرے پر آئے گی اور گر پڑے گی
میں نقشے کی مدد سے اس کے گرنے کی خبر دوں گا
***

بے ارادہ زیست کیجے

اکیلاپن پرندے کا
پرندے کا اکیلاپن
سماعت گاہِ ویرانی میں بلبل بولتی ہے
اکیلاپن گڈریے کا
کسی سادہ گڈریے کا اکیلاپن
وہ اس شب بھیڑیوں کے درمیاں تنہا نہیں ہو گا
اکیلاپن مسافر کا
کسی بھولے مسافر کا اکیلاپن
مسافر قوتِ پرواز سے مجبور ہے
آگے نکل جاتا ہے
ساحل پر پرندے گھاس پر ٹوٹے ہوے پر دیکھتے ہیں
مسافرچونٹیوں کے درمیاں تنہا نہیں ہو گا
اکیلاپن ستارے کا
ستارے کا اکیلاپن
ستارہ ٹوٹتا ہے، راکھ ہو جاتا ہے
مٹی سب چھپا لیتی ہے
مٹی میں کوئی تنہا نہیں ہوتا
فنا تعمیلِ درسِ بےخودی ہے
بےارادہ زیست کیجے
بےتقاضا پائیے
کوچۂ بنتِ سراے دہر میں چلیے کبھی، سر سلامت آئیے
اور اک رقصِ فنا تعمیلِ درسِ بےخودی

چونٹیوں کے درمیاں، بھیڑیوں کے درمیاں
مٹیوں کے سلسلوں کے درمیاں رقصِ فنا
بےارادہ زیست کیجے
***

زباں پر ذائقہ دو پانیوں کا ہے

زباں پر ذائقہ دو پانیوں کا ہے
سمندر درمیاں ہوتا تو اس سے پوچھتے
کس سمت جائے گا مسافر کل
خنک پانی کے بجرے پر، نمک کی گرم لہروں میں
اکیلا جانے والا جس طرف بھی جائے گا تنہا نہیں ہو گا
محبت پانیوں پر کھیلتی ہو گی
سو یہ جل مکڑیوں کی جعل سازی تھی
کہ ساحل سے الجھ کر لوگ لہروں میں اترتے
اور ان کو خوف ہوتا آنسوؤں کے پانیوں میں خشک ہونے کا
میں ان کو پانیوں کی نذر کرتا ہوں
سو اے آدھے بدن کی مہرباں مچھلی!
تم اپنے آنسوؤں کو خشک مت کرنا
محبت پانیوں پر کھیلتی ہو گی
اور اس کا ذائقہ کھل جائے گا
جس وقت جائے گا مسافر کل
خنک پانی کے بجرے پر نمک کی گرم لہروں میں
***

جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا

یہ مصدر اسمِ ماضی کا نہیں ہے
آپ کہیے تو بتا دیتے ہیں ہونے کو
جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا
’’نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا‘‘
وہ تم سے ابنِ ملجم کا پتا پوچھیں تو کہنا
چار ہفتوں سے بہت مصروف ہے
روٹی نہیں کھائی
سروں کی فصل بارِ خشک سالی سے گراں ہے

لوگ مسجد بھی نہیں جاتے
میں اس کو مسجدِ ضرار کے باہر ملوں گا

وہ گھوڑوں کی طرح تھے
فربہ اندامی پہ مائل
ساتھ والی کھڑکیوں پر ہنہناتے تھے
اب ان کے نعل ٹھونکی جا رہی ہے
میرا گھر جانا ضروری ہے
کہ ایسے میں ہمیشہ چھٹیوں کا کال ہوتا ہے

چلو گھر کی طرف چلتے ہیں
باہر برف باری ہے
میں تم پر نظم لکھوں گا
محبت لڑکیوں کو اصطبل میں چھوڑ آتی ہے
میں تم کو بیچ کھڑکی میں بٹھا کر نظم لکھوں گا
تمھیں آتا تو ہو گا درمیاں سے لوٹنا
میں لوٹنے پرنظم لکھوں گا

یہ مصدر اسمِ ماضی کا نہیں ہے
تم جو کہہ دو تو بلا لیتے ہیں گھر سے ابنِ ملجم کو
مجھے اپنی زمینِ اصطبل کی قسط دینی ہے
اسے بھی کوئی صورت چاہیے گھر سے نکلنے کی
***

جی ڈرتا ہے

جی ڈرتا ہے بےغرض محبت کرنے والے
اچھی نسل کے دوستوں سے
انھیں دریا بیچ جواب ملا
یہ کشتی چھ شہتیروں اور دس کیلوں سے
یہیں دریابیچ بنائی تھی
سواس میں آگ لگی
جی ڈرتا ہے

تمھیں لوٹ کے آنا اچھا لگا
مجھے چھت کی بیلیں ہری ملیں
انھیں دھوپ نہ دینا جاڑوں میں
یہ بستر میرے گھر کے نہیں
تمھیں فکر ہوئی، مجھے خوف آیا
سب جاننا اچھا ہوتا ہے مگر اکثر فرق نہیں پڑتا سب جاننے سے
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے
میں جانتا ہوں
مجھے تیرنا آنا چاہیے تھا
بےغرض محبت کرنے والے اچھی نسل کے دوستوں کی ہمراہی میں
مجھے ان سے الگ
کچھ اپنے لیے بھی سوچنا چاہیے تھا
میں جانتا ہوں
یہ آگ اضافی کوشش تھی
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تب کشتی ڈوبنے لگتی ہے
اب لوٹ آئے تو فکر کرو
یہ کشتی ڈوب بھی سکتی تھی
یہ بستر بھیگ بھی سکتے تھے
یہ دریا لوٹ بھی سکتا تھا
بےغرض محبت کرنے والے اچھی نسل کے دوستوں کی ہمراہی میں
ہر کام الٹ ہو سکتا تھا
***

وہ آنکھیں کنول بنیں

وہ آنکھیں کنول بنیں اور خشک ہوئیں
اور کنول بنیں اور خشک ہوئیں
کوئی دیکھنے آیا؟
آنکھیں آن کی آن میں کنول بنیں اور خشک ہوئیں
اور دلدل پھیلا سمٹ گیا
اور رات کی چادر پھیل گئی
کوئی دیکھنے آیا؟
آن کی آن میں دلدل پھیلا سمٹ گیا
اب ہاتھی دانت کے رسیا آئیں تو آئیں
تم گھر کی میلی چادر لے کر آئے تھے
اور جھاڑی میں چڑیوں کے انڈے ڈھونڈتے تھے
اور خوش تھے
اور انڈے ہاتھ ہی ہاتھ میں ٹوٹ گئے
تم روئے تھے
اور رونے والے گھر جا کر بھی روتے ہیں
وہ آنکھیں کنول بنیں اور خشک ہوئیں
اور کنول بنیں اور خشک ہوئیں
کل بارش کیسی تیز ہوئی
نت بادل پھیلے دیے جلے
میں چادر اوڑھ کے بیٹھ گیا
جو چادر اوڑھ کے بیٹھ گیا سو چادر اوڑھ کے بیٹھ گیا
پھر پتھر جیسا دن نکلا
وہ آنکھیں کنول بنیں اور خشک ہوئیں اور کنول بنیں اور خشک ہوئیں
تم جنگل جا کر دیکھو گے
جب پتے مٹی میں دب جاتے ہیں
مٹی کے ہو جاتے ہیں
اب پتوں کا کیا رونا
اور آنکھوں کا کیا رونا
اور دلدل کا کیا رونا
وہ ہاتھی دانت کے رسیا تو آئیں گے

میں کندھا دینے چلا کسی کو
اور کہیں کو چل نکلا
اب جوگی بنوں یا شعر کہوں
اب آنکھیں کنول بنیں یا بجھ جائیں
اب دلدل پھیلے یا سمٹے
اب دلدل کا کیا رونا
اب آنکھوں کا کیا رونا
اب رونے والوں پر رونے والوں کا کیا رونا
***

اور پھر چاند نکلتا ہے

اور پھر چاند نکلتا ہے
اور پھر سارا شہر سمٹ کر تیرے گھر کا آنگن بن جاتا ہے
اور شام سے پہلے سو جانے والے بچے جاگ اٹھتے ہیں
اور میں تیرے ساتھ نہ جانے کس کس گھر میں جاتا ہوں
کن کن لوگوں سے ملتا ہوں
اور تو ساتھ نہیں ہوتا ہے
اور میں تنہا ہی رہتا ہوں
اور یوں پچھلی رات کا پیلا چاند مری دہلیز پہ کچا سونا بکھراتا ہے
بھولے بسرے چہرے آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں
اور میں ٹھنڈے دروازے سے لگ کر سو جاتا ہوں
اگلے دن میں کھو جاتا ہوں
اور پھر چاند نکلتا ہے
اور پھر سارا شہر سمٹ کر تیرے گھر کا آنگن بن جاتا ہے
اور پھر میں سو جاتا ہوں

***

ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے

ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے
شاخِ صنوبر چاند کی آس میں جاگتی ہے
اور دن بھر سونے والے گھر کی دہلیزوں پر آ کر بیٹھتے ہیں
اور خواہش و خواب کے اندیشوں میں رات
سمٹتے پیراہن کی لذت بن کر روزنِ در سے جھانکتی ہے
بچے ماؤں کی گردن میں بانہیں ڈالے سوتے ہیں
خواب ہماری مائیں ہیں
خواب ہماری مائیں ہیں
اور راہ کنارے بیٹھے لڑکے گھر کو جانے والا سب سے لمبا رستہ چنتے ہیں

شادابی اس شہر میں اک دن آئی تھی
شادابی ہر شہر میں اک دن آتی ہے
اور ہر شہر کے اک گوشے میں سناٹے کی چادر تانے
ایک اکیلا گھر سوتا ہے
باری باری ایک اک آنے والا
ایک نہ اک دن اس گھر میں آتا ہے
شادابی اس شہر میں اک دن آئی تھی
اس دن شہرپناہ میں سب سے پہلا آنے والا میں تھا
اور چاند سمان جھلاجھل چہرے فانوسوں کا سوت بنے تھے
چاند اکیلا گھر
سو اک دن ہر جانے والا اس گھر میں جاتا ہے
مائیں اپنے بچوں کو اس گھر میں جا کر جنتی ہیں
بہنیں ڈھول سہاگ الاپ کے روتی ہیں
اور بیٹے
ساز سجائے میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے ہیں
خیموں میں ہر رات الاؤ جلائے جاتے ہیں
اور زخمی جسم کو داغا جاتا ہے
اور مرنے والوں کی فہرست بنائی جاتی ہے
خواہش خواب اندیشے خوف
کبھی نہ تھکنے والے پیادے
ہم میدانی لوگ
سو اک دن ہر جانے والا اس گھر میں جاتا ہے
اس کے بعد جو ہے وہ شہرپناہ میں آنے کا پچھتاوا ہے
ہونا سب سے بڑا الجھاوا ہے

***

ایک اتفاقی موت کی روداد

سراسر اتفاقی موت تھی
اس نے کہا تھا، مجھ کو جانا ہے
سو وہ ایسے گیا جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے
سراسر اتفاقاً
پاؤں چلنے کے لیے ہوتے ہیں
اتنا توسبھی تسلیم کرتے ہیں
تو ایسے میں اگر مٹی کی عریانی شکایت گر بھی ہو جائے
تو اس پر اور مٹی ڈال دیتے ہیں
سو ہم نے ڈال دی مٹی پہ مٹی
اتفاقاً
یہ تو ہوتا ہے

سراسر اتفاقی حادثہ تھا
اس نے خود لکھا تھا
دنیا بیچ آنا اتفاقی امر ہے
جانا سراسر حادثاتی
تو اس پر تو عدالت نے بھی کچھ حجت نہیں کی
اس نے خود لکھا تھا
’’حجت نفسیاتی عارضہ ہے‘‘
سو عدالت نے بلاتفتیش اسے جانے دیا
جیسے زمیں سے گھاس جاتی ہے
سراسر اتفاقاً
بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے
ہمیشہ اتفاقاً

***

اگر تم دو قدم اوپر گئے

اگر تم دو قدم اوپر گئے بادل کو چھو لو گے
کہیں بارش میں برسو گے
کسی پتھر پہ روندے جاؤ گے
چھت سے گرو گے
چھتریوں پر سوکھ جاؤ گے
نکالیں گی تمھیں گھروالیاں گھر سے
اٹھا کر ڈال دیں گی دھوپ میں
ان گدڑیوں کے ساتھ
جن کو چھوڑ کر تم دو قدم اوپر گئے تھے ایک دن
جب حبس تھا اور لوگ باہر سو رہے تھے

***

ساعتِ آغاز کی بےمعنویت

ساری بےمعنویت ساعتِ آغاز میں تھی
جب ہوا گرم ہوئی
سائبانی کے لیے دھوپ میں ایک پتھر تھا
سفر آغاز کیا
رات اعصاب شکن لائی تھی بستر پہ اسے
وہ بھی دیوار بنا جس پہ گری تھی دیوار
کوئی دم بیٹھ لیے
پھر سفر آغاز کیا
دل نے چاہا تھا کہ رو لیں مگر اب کیا رونا
دوڑ کی آخری حد پر بھی کوئی روتا ہے؟
ہاں مگر وہ جو ابھی ساعتِ آغاز میں ہے
دوڑ کی آخری حد جس کے لیے راز میں ہے

***

مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں

یہاں سے دو کنیزیں جا رہی تھیں
راستے میں خود سے آسودہ ہوئیں
اور سو گئیں
ساون کے میلے میں
مسلسل چلتے رہنے کی خوشی آسودہ کرتی ہے

مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں لیٹ جاتی ہے محبت گھاس میں،
پتھر کی سل پر، یادگاری سیڑھیوں کے بیچ
گیلے موسموں میں پاؤں میں آتی ہوئی ان سیڑھیوں کے ساتھ
جن پر لوگ چلتے ہیں
اور اک دم ہنسنے لگتے ہیں
مسلسل چلتے رہنے کی خوشی میں
اب ان کے پاؤں پر شبنم گرے گی
آؤ چل دیں،باندھ لیں جوتوں کے تسمے
آؤ چل دیں ان کنیزوں کے تعاقب میں
جو آسودہ ہوئیں
اور سو گئیں پتھر کی سل پر
یادگاری سیڑھیوں کے بیچ
گیلے موسموں میں
اب ان کے پاؤں پر شبنم گرے گی
***
 
صلیب گر پڑی

صلیب گر پڑی
مہندسوں نے درمیانِ شہر برنشیب
جو بنائی تھی
صلیب
گر پڑی
ہجوم منتظر تھا شام سے
کہ ایک سیاہ فام سے
جوانِ ناتمام سے خبر ملی
تمام رات کی تھکی ہوئی
بدن کے بوجھ سے جھکی ہوئی
نشیب سے اڑی ہوئی کھڑی تھی جو غریب
گر پڑی
ہجوم منتظر تھا شام سے
نشیب پر کسی طرح قدم جمائے اک ہجوم منتظر تھا شام سے
کہ پھرصلیب گر پڑی
صلیب گر پڑی

***

ہجوم

یہ ہجوم صورتِ آسمانِ سیاہ میرے عقب میں ہے
میں بڑے بلند شجر کا پھل، بڑے فاصلے کا شکار
غمزۂ رازدار
کہا گیا کہ زمین اک کفِ جو، پہاڑ موجِ نسیمِ گیسوے خلوتی
سو زمین سایۂ تیرگی کی مثال میرے عقب میں ہے
مجھے نیند سے جو اٹھا کے جرعۂ آب دے
جو پسِ غبار چہار سمت سے آ کے میرا ہلاک ہو
جو دمِ شگفتِ گلِ شفق میری کہنیوں سے قریب ہو
وہ ہجومِ خلوتیانِ خاص میرے عقب میں ہے
میں سماعتوں کا شکار تھا
تو سماعتوں کا سحاب صورتِ آب میرے عقب میں ہے
کوئی راستے میں نہیں ملا
کوئی برگ و بار و گل و شجر
کوئی نان و لحمِ گزشتگاں
کوئی آنکھ، نیند، خیال، خواب ابر شتاب نہیں ملا
کوئی خواب زادہ نہیں ملا
سرِخود نہادہ نہیں ملا
سرِ خود نہادہ بکف یہ مَیں کہ زمین اک کفِ جو
پہاڑ موجِ نسیمِ گیسوے خلوتی
سرِ خود نہادہ بکف یہ میں کہ ہجومِ مارِ سیاہ میرے عقب میں ہے
میں بڑے بلند شجر کا پھل
بڑے فاصلے کا شکار، غمزۂ رازدار

***

زندگی

اور طوفان کے بعد
اکھڑے گرے پیڑوں، بھیگے تنوں
صبح کی مرگھلی دھوپ میں سوکھتے سبز پتوں کی بو میں
میں تنہا چلا جا رہا ہوں
میرے چاروں طرف
ٹن کی اونچی چھتیں ہیں پتنگوں کی مانند بکھری ہوئی
اور لکڑی کی شہتیریں جیسے پتنگوں کے ٹوٹے ہوے ہاتھ
اور بجلی کی تاریں کہ جیسے پتنگوں کی الجھی ہوئی ڈور
ہوا نم ہے
اور شہر کے چوک پر گدھ اتر آئے ہیں
اور اکھڑی جڑوں کے کناروں کی گیلی زمیں پر
پھٹے بھیگے کپڑوں میں بچے
گھروندے بناتے ہیں، بلّور کی گولیاں کھیلتے ہیں

***

یہ آنکھیں

یہ آنکھیں ہر در و دیوار میں آنکھیں
یہ آنکھیں ریستورانوں میں ایوانوں میں کلبوں میں
ترے گھر کی اندھیری کوٹھری میں
جسم میں روحوں میں سانسوں میں
کلیسا کے دھواں دیتے ہوے ہر طاق میں آنکھیں
یہ آنکھیں منبر و محراب میں آنکھیں
یہ آنکھیں جاگتے میں خواب میں آنکھیں
یہ آنکھیں غول کی صورت جھپٹتی ہیں
کہ جیسے شہر میں خونی پرندے آ گئے ہیں
رفیقِ جاں، اندھیری سیڑھیوں میں یوں اکیلی مت کھڑی ہونا
یہ آنکھیں!

***

یہ اچھے لوگ ہیں

یہ اچھے لوگ ہیں ان سے نہ ملنا
اور ملنا بھی تو ان کی آستینیں دیکھ لینا
یہ اچھے لوگ ہیں اور بےشکن شائستگی ان کا مقدر ہے
یہ اچھے لوگ ہیں اور بےصدا شوریدگی ان کا مقدر ہے
لپکتے پانیوں کی آخری آسودگی ان کا مقدر ہے

یہ اچھے لوگ ہیں جب شام ہوتی ہے
تو بےآواز گلیوں کے سہارے
کنجِ گویائی میں اپنی آگ لینے جاتے ہیں
اور راستے بھر خود کو پیغمبر سمجھتے ہیں
یہ اچھے لوگ ہیں اور آگ ان کا مسئلہ ہے
یہ اچھے لوگ ہیں صدیوں سے ان کی مائیں کہتی آ رہی ہیں
پڑوسن آگ دینا
دھواں دیتے ہوے چولھے کی صبحیں
آنگنوں میں پھیلتے سائے
کرنجی دھوپ، بھوری آنکھ والی لڑکیوں جیسی
وفاناآشنا شامیں
توے کو سینکتے ٹھٹھرے ہوے ہاتھ
اور راتوں کی الجھتی سلوٹیں
جسموں کی آسودہ صلیبیں
اسپتالوں میں جنم دیتی ہوئی مرتی ہوئی مائیں
یہ شمشانوں کی بیوائیں
کئی صدیوں سے دہرائیں
’’پڑوسن آگ دینا‘‘
پڑوسن، آگ، خمیازہ
انہی رستوں کا آوازہ
انہی رستوں پہ چلنا اور یہی کہنا
یہ اچھے لوگ ہیں ان سے نہ ملنا
اور ملنا بھی تو ان کی آستینیں دیکھ لینا

***

محبت آگ ہے

یہ کیسی آگ تھی جو سربزانو لڑکیوں کے گرد ہلکورے بناتی
اٹھتی گرتی، دائروں میں رقص کرتی
پابرہنہ گھومتی تھی
محبت کرنے والوں کے لیے کم وقت تھا اس آگ میں
جو لوٹتی ہے گھاس پر
اور راکھ ہو جاتے ہیں پتے، پھول، جنگل، بوٹیاں، ریشم کے کیڑے
جب محبت کرنے والے تن برہنہ بیٹھتے ہیں
بند کمروں میں
اور ان کے درمیاں یہ آگ ہوتی ہے
مسلسل گھومتی ہے
زندگی انبار کرتی ہے
برابر تہہ بہ تہہ اک دوسرے پر ٹھیک سے رکھی ہوئی وہ زندگی
جس کے لیے کم وقت ملتا ہے محبت کرنے والوں کو محبت میں
پھر اس کے بعد دریا کا سفر اور مشتِ خاک اپنی
اور اک عالم کا اٹھ کر دیکھنا
کیسا سمندر آدمی تھا

***

آلودگی

جو کہو سچ کہو
اس لیے کہ جو کہہ دو گے سب کچھ فضا میں، سمندر میں، تحلیل ہو جائے گا
اور فضا کو، سمندر کو، آلودہ کرنے کا تم کو کوئی حق نہیں

***

مہم جو لوگ اکثر ایسے ہوتے ہیں

مہم جو لوگ اکثر ایسے ہوتے ہیں
کہ ان نے کشتیاں کاندھوں پہ ڈالیں اور ساحل پر گئے
دریا بلا کا کینہ پرور تھا
سو اکثر پھیل جاتا تھا پرانی بستیوں میں
کشتیاں نیچے اتر آتی تھیں
اتھلے پانیوں سے نیم گہرے پانیوں میں
اور دریا لوٹ جاتا تھا
پھر ان کی حیثیت ویسی نہیں رہتی تھی جیسی وہ سمجھتے تھے
مہم جو لوگ اکثر ایسے ہوتے ہیں
کہ ان نے کشتیاں کاندھوں پر ڈالیں
اور دریا پر گئے
سو ان کو لے گیا بہتے بہاتے ان نکیلے پتھروں کے درمیاں
جن میں کہیں پانی نہیں تھا
سو ان نے کشتیاں کاندھوں پہ ڈالیں
اور ساحل پر گئے
پھر کشتیاں کاندھوں پہ ڈالیں اور ساحل پر گئے
دریا بلا کا کینہ پرور تھا

اب ان سے کوئی پوچھے
کشتیاں کیسی سواری ہیں
سمندر کَے برس دن کی مسافت کا ہے
دریا کتنا زیادہ کینہ پرور ہے
اب ان سے کوئی پوچھے
کیا مہم جو لوگ سارے ایسے ہوتے ہیں

***

سفر ایسا بھی ہوتاہے

وہ اپنے خیمۂ صحرائی میں ہے
سب زمینوں سے الگ
سورج کے بالکل ٹھیک نیچے
رات کی پھیلی ہوئی شبنم اسے پہچانتی ہے
جس نے دیکھا بھی نہیں اس کو
جو اپنے خیمۂ صحرائی میں ہے

بارشوں میں کھیتیاں چاول کی کیسے جھولتی ہیں
جب ہوا چلتی ہے ان سے پوچھتی جاتی ہوئی
سب ٹھیک ہے؟
سب ٹھیک ہی ہوتا ہے اکثر
بارشوں کے درمیاں، سورج تلے
یا ان زمینوں پر جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا
مگر آنکھیں
مسلسل دیکھتی رہتی ہیں جو کچھ دیکھتی رہتی ہیں آنکھیں
اور اپنے خیمۂ صحرائی سے باہر نہیں آتیں
سفر ایسا بھی ہوتا ہے

سفر ایسا بھی ہوتا ہے چراغوں کا
جو دریا پر مخالف سمت رکھے جا رہے ہوں بےدھیانی میں
سفر ایسا بھی ہوتا ہے
سپرانداز بوڑھے قیدیوں نے جس طرح سَو ناریل پانی میں ڈالے
اور سَو واپس چلے آئے
سفر ایسا بھی ہوتا ہے
سفر ایسا بھی ہوتا ہے کہ سب زادِ سفر اپنی جگہ رہتا ہے
دروازے نہیں کھلتے
اور اس اثنا میں سارا شہر خالی ہونے لگتا ہے
مگر آنکھیں
نئے کپڑوں پرانے برتنوں کے درمیان الجھی ہوئی آنکھیں
مسلسل دیکھتی ہیں اور اپنے خیمۂ صحرائی سے آگے نہیں جاتیں
سفر ایسا بھی ہوتا ہے

***

نیر آپا کے نام

اس حد پہ کہ صحرا میں اکیلے نکل آئے
دو حرف لکھو اور سلامت بھی رہو تم
ویسے تو پس درخنک آثار ہوا ہے
***


زینی!

زینی! دروازے پر پہریدار کھڑے ہیں
گھر جانا ٹھیک نہیں ہے، سوتے ہیں
دیواروں نے دیواروں پر مہر لگائی، آنکھیں سیل گئیں
دل درویش قلندر تجھ سے مل کر جتنا غنی ہوا
سب ہار گیا
میں جھانجھر بیچنے والی عورت سے تجھے مانگ لیا اور بری ہوا
ہم دن بھر شہر میں گھومے، تنگ ہوے اور بیٹھ لیے
دو جھانجھر ایک صراحی پر ہم غنی ہوے
سو رقص کرو اور آبِ نجات پیو اور سو جاؤ
گھر جانا ٹھیک نہیں ہے زینی
دروازے پر پہریدار کھڑے ہیں

***

بہار آئی تو انجم شناس کہنے لگے

بہار آئی تو انجم شناس کہنے لگے
پتنگ ساز پہ اک نظم لکھی جائے گی
پتنگ ساز پہ اک نظم لکھی جائے گی
کہ آسماں کو تماشا بنا دیا اس نے
کہ اس کے ہاتھ میں ہے شہرِ بےمہار کی ڈور
وہ ساربان ہے اور منزلِ زفاف میں ہے

سو اس کا نام جو آئے مہِ زوال کے ساتھ
اسے سلام کرو اوراپنے گھر میں رہو
گہن کا وقت ہے، جاے نماز تہہ نہ کرو
دعا درود کی حاجت ہے شاہزادے کو
جو بےچراغ ہے اور منزلِ رفاف میں ہے

سو اس سے پہلے کہ آنگن میں چاندنی بچھ جائے
دعائیں یاد کرو وہ جو بھولنے کی ہیں
اور اپنے گھر میں رہو
کل اس پہ نظم سرِ بزم لکھی جائے گی
بہار آئی تو انجم شناس کہنے لگے

***

خراب ہو گئیں آنکھیں

خراب ہو گئیں آنکھیں، نگاہ بازوں نے
قمارخانۂ آسودگی میں دیکھا کیا
’’نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے‘‘
کسے خبر ہے کہاں کون کس کو ہار گیا
خیال روز یہی راگنی الاپتا ہے
جو چلنے والے ہیں چلتے رہیں گے پھر بھی کبھی
جو گر گئے تو اٹھا لو، جو اٹھ گئے تو الگ
ہر آنکھ اپنی جگہ ٹھیک ٹھیک دیکھتی ہے
سو آنکھ دیکھ رہی تھی کہ ساری خلقت میں
کسی نے کچھ نہ کہا اور فصیل آن گری
پھر اس کے بعد جو ملبہ ہٹا تو شہر کا شہر
یہ کہہ رہا تھا کہ آنکھیں خراب تھیں ان کی
قمارخانۂ آسودگی میں تھے سب لوگ
کسے خبرتھی کہاں کون کس کو ہار گیا

***

میں حاضر ہوں میرے رب میں حاضر ہوں

میں حاضر ہوں اے فلک الافلاک کے خالق اے روح الارواح
اے وہ جس کے لاتعداد مظاہر جس کی ایک اکیلی ذات
اے وہ جو میرے اندر ہے اور میں جس سے الجھتا رہتا ہوں
اے وہ جو میرے اندر اک گہرے دکھ کی صورت رہتا ہے
اور میں جس سے سکھ کے رستے پوچھتا ہوں
اور شام سے پہلے گھر واپس آ جاتا ہوں
اے وہ جس کا ہونا میرے ہونے کی پہلی آگاہی ہے
اے وہ جو ایک دن میری سانسوں کی گرہیں کھولے گا
اور مجھ کو مٹی کی زنجیروں سے آزاد کرے گا
اور میں کہتا جاؤں گا
میں حاضر ہوں میرے رب میں حاضر ہوں
میں حاضرہوں اے فلک الافلاک کے خالق اے روح الارواح

***

رات ڈھلنے لگی ہے

رات ڈھلنے لگی ہے
مری جاں ہو تم
چاند کو الوداع کہنے کھڑکی پہ جانا
تو میرے دریچے کی جانب ذرا دیکھ لینا
جہاں میز پر روشنی ایک ساعت بھی بجھتی نہیں ہے

***

اب ایسے بھی کوئی دن اور جی لیں گے

اب ایسے بھی کوئی دن اور جی لیں گے
منڈیروں پر جو سوتے ہوں انھیں کروٹ بدلنا کیا ضروری ہے
ہم ایسے بھی کوئی دن اور جی لیں گے
پرانی گٹھریوں کے بیچ اُکڑوں بیٹھ کر
جب آخری تحریر لکّھی جا رہی ہو
آخری لشکر گزر کر جا چکا ہو
آخری دن کی گواہی کے لیے رکنا ضروری ہو
ہم اپنی سخت جانی میں کوئی دن اور جی لیں گے
گھڑی اونچی جگہ آویزاں رکھو
پپوٹے بند کر دو ساری آنکھوں کے
کھلی آنکھیں گواہی کی ضمانت تو نہیں ہیں
ہم یہیں ہوں گے
یہ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ یونہی تاعمر رہ جائے
سو ہم بھی جیسے جتنا ہو سکے گا خود ہی جی لیں گے
ہمیں فرصت نہیں ہے خیروشر کے درمیاں تفریق کرنے کی
ہم ایسے بھی کوئی دن اور جی لیں گے
منڈیروں پر جو سوتے ہوں انھیں کروٹ بدلنا کیا ضروری ہے

***

میں نے فرمان کے حاشیے پر لکھا

میں نے فرمان کے حاشیے پر لکھا ’’مسترد‘‘
جھوٹ بازار تک ٹھیک ہے
جھوٹ بازار تک ٹھیک ہے
یا سپاہی کی رفتار تک
جس کا دشمن
کسی اور ہی شہر میں اور ہی دشمنوں کے تعاقب میں مصروف ہے
جھوٹ بازار تک ٹھیک ہے
جھوٹ بازار تک ٹھیک ہے
یا سپاہی کی تلوار تک
جس کا دشمن اِسی شہر میں اُس کے گھر خوانِ نعمت پہ موجود ہے
جھوٹ تلوار تک ٹھیک ہے
جھوٹ تلوار تک ٹھیک ہے
یا معلم کی دستار تک
جس کی مُشکیں کسی جا چکی ہیں مگر سر پہ دستار کارِ فضیلت پہ مامور ہے
جھوٹ دستار تک ٹھیک ہے
جھوٹ دستار تک ٹھیک ہے
یا دبستاں کی دیوار تک
جس کی گرتی ہوئی اینٹ کو
روک لیتی ہے ویسی ہی اک اینٹ کہتے ہوے
جھوٹ اِس بار تک ٹھیک ہے
جھوٹ اِس بار تک ٹھیک ہے
ایک گرتی ہوئی اینٹ کہتی ہے دیوار سے
اور بچا لیتی ہے ہم سے کتنے ہی اہلِ قلم کو
جو ہر صبح لکھتے ہیں دیوار پر
میں نے فرمان کے حاشیے پر لکھا ’’مسترد‘‘
اور ہر صبح اک اینٹ کہتی ہے گرتے ہوے
جھوٹ اِس بار تک ٹھیک ہے

***

اس نے تو کچھ کہا بھی نہیں
(انفعالی مزاحمت پر ایک نظم)

آموختہ فساد کا مجنوں سنائے گا
اس کو خبر ہے کوچۂ لیلیٰ میں کیا ہوا
پتھر کی چوٹ سر پہ زیادہ کہ پیٹھ پر
تکلیف دہ ہے پاس کا پتھر کہ دور کا
کتنا بلند ہاتھ ہو پتھر کے واسطے
اک ساتھ کتنے لوگ بڑھیں سنگ کے لیے
اس بات نے فساد اٹھایا ہجوم میں
اُس نے تو کچھ کہا بھی نہیں اور پڑ گیا
اس بات پر غبار اٹھایا ہجوم نے
اُس نے تو پاؤں بھی نہ ہٹائے زمین سے
اس بات نے کمال دِکھایا ہجوم میں
وہ مطمئن ہوے کہ سزا کام کر گئی
پھر دیر تک حساب رہا سنگ و دست کا
جو سنگ بچ گئے تھے وہ منہا کیے گئے
جو ہاتھ رہ گئے تھے علیحدہ کیے گئے
یوں دیر تک حساب رہا سنگ و دست کا
پھر اس نے ایک آخری کروٹ زمیں پہ لی
پھر اس نے دیر تک یہی دیکھا کہ دیکھنا
بےسود تو نہیں تھا
کہ اس دیکھنے کے ساتھ
سب دیکھنے لگے کہ کہاں کس کی بات پر
کس بات نے قتال مچایا ہجوم میں
پھر وہ ہوا کہ جس کی خبر بس اُسی کو ہے
آموزگارِ شہر کو بس انتظار ہے
آموختہ فساد کا مجنوں سنائے گا

***

آوارگی کے بڑے راستے ہیں

قسم تاج کے گنبدوں کی
شوالے کے نیچے سے بہتے ہوے پانیوں کی
یہ ساحل کی مٹی سے گوندھی ہوئی لڑکیوں کی قسم
میں ہر شام ہفتے کی ڈھلتی ہوئی شام کا ذائقہ چاہتا ہوں
زمیں خود سپردن کے عالم میں لیٹی ہوئی ایک لڑکی کی مانند ہے
اور میں چھاجوں برستے ہوے پانیوں میں
خود اپنے پروں میں چھپا جا رہا ہوں
اور اب جب مرے گھر کے آنگن میں
موسم کا پہلا شگوفہ کھلا ہے
تو میں اس کا کیسے سواگت کروں
کہ اب بھی حویلی کے پیچھے
درختوں میں آوارگی کے بڑے راستے ہیں

***

چلو یہ نظمیں تو تمام ہوئیں

چلو یہ نظمیں تو تمام ہوئیں
تم ماہ و نجوم کے بےآباد جزیروں سے اس شہر کے پرنالے تک
جتنے عالم تھے سب دیکھ آئے
مجھے چھت کی مکڑیاں گھورتی ہیں
اس کمرے میں مضبوط سا اک دروازہ ہونا چاہیے تھا
اک کھڑکی موٹی چادر کی
اک قفل جسے تم بند کرو، میں کھول سکوں
اک بستر جس کا تہہ کرنا تمھیں یاد رہے
اک روشنی جس کے بجھنے سے تمھیں نیند آئے
اک تاریکی جو میری بھی ہو تمھاری بھی
تمھیں شاد کرے
اور ماہ و نجوم کے بےآباد جزیروں سے اس شہر کے پرنالے تک
جتنے عالم ہیں سب کو آباد کرے
ان نظموں سے جو میری بھی ہوں تمھاری بھی
چلو یہ نظمیں تو تمام ہوئیں
اب کمرے میں مضبوط سا اک دروازہ لگا کر سو جاؤ
اس قفل سے جس کو میں کھولوں، تم بند کرو
یہیں بیٹھے بیٹھے بستر سے جسے تہہ کرنا
تمھیں یاد رہے

***

'ریت آئینہ ہے' کے بعد


پہلے جی بھر کے دیکھ لینے دو

پہلے جی بھر کے دیکھ لینے دو
پھر کہانی بھی میں سناؤں گا
رات جنگل کی شاہزادی کو
ایک کمسن اداس چرواہا
اصطبل میں گھسیٹ لایا تھا
یہ کہانی بھی میں سناؤں گا
پہلے جی بھر کے دیکھ لینے دو
اس کی آنکھوں نے دن نہیں دیکھے
اس کو بارش اداس کرتی تھی
اس کو دلدل سے خوف آتا تھا
یہ اُسی واپسی کا قصہ ہے
ورنہ جنگل میں کیا برائی تھی
ایک کٹیا تھی اک بچھونا تھا
اور جنگل کی شاہزادی کو
ایک کمسن اداس چرواہا
اصطبل میں گھسیٹ لایا تھا
یہ کہانی بھی میں سناؤں گا
پہلے چہرہ تو دیکھ لینے دو

***

جواں بخت کے لیے ایک نظم

خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
تیری جاگیر میں لکّھا ہے یہ شیشے کا بدن
پرِ طاؤس قلم، طرۂ پیچیدہ پر
بے سبب جھاگ اڑاتے ہوے دریا کی طرح ٹوٹ کے آیا ہوا دل
خوش ہو اے بخت کہ اب رختِ سفر باندھنا ہے
اب نہیں باندھنا دیوار سے دروازے کو
سر سے دستار نہیں باندھنی، دستار میں سر باندھنے ہیں
طرۂ پُرپیچ کے پیچ
خوش ہو اے بخت کہ دستار میں سر باندھنے ہیں
یہ کوئی بات نہیں ہے کہ بدن چھوڑ دیے جائیں گلی کوچوں میں
اور اک پالکی بیٹھے ہوے شاعر کو کوئی کاسۂ سر
چُور شکستوں سے ملے
اب کے ایسا نہیں ہو گا کہ بدن چھوڑ دیے جائیں گلی کوچوں میں
اب کے جب شہر بسیں گے
تو ہر اک گھر میں ہوادان کے ساتھ
ایک مینارِ خموشی بھی یقیناً ہو گا
اور آنگن میں ہری گھاس بچھی ہو گی
کئی مرثیہ خواں در پہ ملازم ہوں گے
بخت اے بخت اٹھا تیغ و تبر چوب و علَم سیف و کتاب
اور اس کوے خرابی میں جو جانا ہے تو جاتے جاتے
باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا نہیں اے طرفہ کلاہ
ورنہ کیوں لائے ہیںکشتی میں لگا کر کوئی سر

***

خضر سلطان برادر ِجواں بخت کے لیے ایک نظم

خضر سلطان زمانہ تجھے زندہ رکّھے
شوقِ مجہول جسے لے گیا جنگل کی طرف
اس کی وحشت تو گئی
دشت میں قیس ہوا گھوم کے فرہادکے پار
جس نے توڑے ہوں نوالے وہی پتھر توڑے
خضر سلطان نہیں توڑیو پتھر سے گلاب
انگلیاں دستِ حنائی سے لہو کھیلتی ہیں
خضر سلطان الگ آئنہ
عکس سے سو بار الگ
ایک سُو بیٹھ رہو
یہ جو شہزادیاں پتھر سی ہوئی بیٹھی ہیں
ان سے کچھ کھیل کرو
جھوٹ کے پاؤں بھی ہوتے ہیں،کہانی میں تمھیں
برق رفتار لکھیں گے یہی دنیا والے
اور یہ بھی کہ گھڑی بھر کے لیے
تم نے تلوار اٹھائی تھی تو کچھ بات تو تھی
خضر سلطان کوئی بات تو ہوتی ہےسبھی دشت کے دیوانوں میں
اور ان میں بھی جنھیں
شوقِ مجہول اڑا لے گیا جنگل کی طرف
اور وحشت بھی گئی
***
 
بس اک سانس نہیں آئی

بس اک سانس نہیں آئی
آدھی رات گزرتی تھی اور آدھے دن کا نصف
ہوا میں تھا جب پوری سانس نہیں آئی
سب کھیل کہانی ختم،
ہوا کی جنگل بانی ختم، سمندر کی آشفتہ بیانی ختم
ذرا سی سانس نہیں آئی
اب جاگنا بے مصرف ٹھہرا
اب سونے میں کوئی حرج نہیں
اب فرصتِ وصل و فراق بہت
اب سارے پچھلے کاموں میں، تم یاد کرو، جو رہتے تھے
سب کرنے ہیں
دروازے، کیلیں، شہتیریں، چوکھٹ، دیوار
پرانی چھت کا ٹوٹا حصہ جوڑ کے گھر بن سکتا ہے
تم اس گھر میں رہ سکتی ہو
میں اس کا نگران مقرر ہو سکتا ہوں
تیز نشیلی سانسوں میں
سب عدم وجود بھلایا جا سکتا ہے
اب سب کچھ پہلے کی طرح، یا کچھ بہتر
بروقت مکمل ہو سکتا ہے
سارے کام سپھل ہو سکتے ہیں
بس اک سانس کو دھیان میں رکھنا
عین فراق و وصل کے بیچ
نشیلی سانسوں کے جنگل میں
بس اک سانس نہیں آئی تو کیا ہو گا
یہ بدن تو کافی دیر تلک اپنی گرمائش رکھتا ہے
بس اک سانس نہیں آتی ہے
سو جاتی ہے، کھو جاتی ہے، تیز ہوا میں
ہو جاتی ہے ساری کھیل کہانی ختم
ہوا کی جنگل بانی ختم، سمندر کی آشفتہ بیانی ختم
ذرا سی سانس نہیں آتی ہے

***

ہر جگہ عورتیں

ہر جگہ عورتیں
جتنی لاشیں نکالی گئیں اتنی ہی عورتیں
ان کے چاروں طرف ایک پر ایک گرتی ہوئی
جیسے ملبے پہ اک اور ملبہ
ہوا رک گئی ہے
چٹانوں پہ چلتی ہوئی سرسراتی ہوا رک گئی
یہ شہر ایک آثار کے درمیاں رک گیا ہے
کوئی شہر گرتا ہے جب بھی
تو اک آن میں گھر سے نکل آتی ہیں
وصل کی دھند میں کھوئی جاتی ہوئی
دھوپ میں کسمساتی ہوئی
آئنہ بندلیٹی پڑی ادھ کھلی عورتیں
گھر سے باہر نکل آتی ہیں
ایک پر ایک گرتی ہوئی
جیسے ملبے پہ اک اور ملبہ
ہوا رک گئی ہے
یہ شہر ایک آثار بنتے ہوے رک گیاہے
تباہی کے لمحے پہ ٹھہری ہوئی چپ گھڑی رک گئی ہے

***

میں مر جاتا تواچھا تھا

تمھاری آخری آواز سے لنگر کے اٹھنے تک کا
جو وقفہ تھا، ہم اس میں
کوئی دم مر گئے ہوتے تو اچھا تھا
یہ کشتی ڈوب جائے گی
مری وحشت تمھاری نیم آزردہ ہنسی کے بوجھ سے اک دن،
زمانے کو پتا تھا،
یہ کشتی ڈوب جائے گی
کئی تختے کئی ٹوٹے ہوے تختوں کو لے کر مختلف سمتوں میں چل دیں گے
تمھاری ساحلی کھڑکی سے گہرے پانیوں تک
ایک دنیا ڈوبتی ہو گی
مگر میں جھیل جاؤں گا
میں سہہ لوں گا تمھاری آخری آواز اور لنگر کا اٹھنا
اور منظر ڈوبنے کا ایک عالم کے
میں سہہ لوں گا
میں سب کچھ جھیل جاؤں گا
مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں مرجاتا تو اچھا تھا

***

منیرہ سورتی کی مغفرت کا مسئلہ
(گجرات سے ایک نظم)

منیرہ سورتی کاٹی گئی تہہ دار اندھیرے میں
اسے موڑا گیا نچلے بدن سے
ان رسیلے زاویوں میں
جن کی تہہ داری مسلّم ہے
منیرہ سورتی نے ایک لمحے کے لیے پوری حیاتی میں
اذیت ناک لذت کا مزہ چکّھا
ہم اس کی مغفرت کے واسطے پھر بھی دعا کرتے رہیں گے
مستقل گہرے اندھیرے میں
وہ پورے ہوش میں تھی جب اٹھائی جا رہی تھیں
اس کے ہر جانب سے لاشیں
اور وہ مردہ نہیں تھی
وہ پورے ہوش میں تھی
اس کی آنکھیں دیکھتی تھیں ہر طرف
جب میں نے ان کی پتلیاں دیکھیں
وہ پورے ہوش میں تھی، اور مری بالکل نہیں تھی
آخری جھٹکے سے پہلے تک
منیرہ سورتی کی مغفرت فی الواقعہ اک مسئلہ ہے

***

تری ماں تجھ کو روئے ابنِ مقنع

تری ماں تجھ کو روئے ابنِ مقنع
چاند پچھلی رات کا پورا نہیں تھا
پہ تم پیغمبری کے زعم میں اندھے کنویں سے
چاند کا ست کھینچتے تھے اور بہت خوش تھے
اگر دو ڈول پانی کا نکل آتا تو اس میں کیا برائی تھی
ہم اس تہذیب کے مارے ہوے ہیں
جس میں ہر شے اپنی غایت سے الگ ہے
شاعری جادوگری ہے
کچھ نہیں کہنا
ہوا کی اوڑھنی میں نور و نکہت کے ستارے ٹانکنے ہیں
گفتگو بازار کی شے ہے
کتابوں میں جو ہے، ہے
لڑکیوں نے خطِ نوری میں مجھے لکّھا
کہ گھر آتے ہوے جو لوگ جنگل رک گئے تھے
کھمبیاں اُگ آئی ہیں ان کے بدن پر
ایسا ناہموار مصرع لڑکیوں نے خطِ نوری میں لکھا مجھ کو
تری ماں تجھ کو روئے
شہر جنگل ہو گئے ہیں
دھوپ میں آزار ہے
بارش جلاتی ہے
سمندر پوچھنے آتا ہے، کَے گھر رہ گئے ہیں
آسمانی گھنٹیوں کے شور میں کیسا لگے گا شورِ گریہ
گرد ساحل ریت کے طوفان میں کیسا لگے گا
لڑکیاں کیسی لگیں گی آئنوں کے سامنے ہنسی ہنساتی
قصرِ عالیشاں، منقّش بام و در،نقشین چوبی کھڑکیاں
گہرے سمندر کی طرف کھلتی ہوئی
اور شہر دریابُرد ہونے جا رہا ہے
ابنِ مقنع تجھ کو روئیں
تیرے سارے ڈھور ڈنگر، بال بچے، بیویاں، لڑکے، کنیزیں
ایک جیتی جاگتی تہذیب
جس میں ہر شے اپنی غایت سے الگ ہے
گفتگو بازار کی شے ہے
کتابوں میں جو ہے، ہے
تری ماں تجھ کو روئے ابنِ مقنع

***

عدالت نے زلیخا کو بلایا ہے

عدالت نے زلیخا کو بلایا ہے
ابویوسف پرانا چوبدار، اپنی طرف کا
جیب و دامن کی شکایت درج کرنے جا رہا تھا
گھر نہیں پہنچا
عدالت نے بلایا ہے
عدالت نے زلیخا کو بلایا ہے
زلیخا جانتی ہے پیش و پس دامانِ یوسف کا
محبت میں کہاں تک دستِ نوآموز کی حد ہے
زلیخا جانتی ہے
کچھ نہیں کہتی
عدالت میں
ابویوسف ہمیشہ کی طرح جی ہار جاتا ہے
زلیخا جیت جاتی ہے ہمیشہ کی طرح
ساری عدالت،
پورا قصہ جیب و دامن کا
ابویوسف کی ساری فوجداری

ابویوسف فقیہِ بےبدل عامل مہندس
رصدگاہوں کا رسیا
دشتِ غربت میں زلیخاوار پھرتا ہے
عدالت جانتی ہے، کچھ نہیں کہتی
زلیخا جانتی ہے
کچھ نہیں کہتی
ابویوسف کا دل سب جانتاہے
کچھ نہیں کہتا

***

میں نے تحریر کیا

میں نے گرتی ہوئی دیوار پہ تحریر کیا
جس نے آثارِ صنادید لکھی ہو وہی اسبابِ بغاوت لکّھے
اس سے پہلے مگر اک رسمِ ملاقات بھی ہے
یہ بڑھاپے کی سزا ہے کہ جوانی کا عذاب
طشت میں پھول ہیں اور سر پہ سفر کا سورج
اور جو باقی ہے وہ عیّار کی زنبیل میں ہے
میں محلّات وعمارات سے تجرید کِیا
جس نے تاریخِ فرشتہ لکّھی
وہی دربارِ عزازیل کا قصہ لکّھے
خطِ کو فی میں لکھے شام کے بازار کا حال
نسخ میں فلسفہ وفکر کی تنسیخ لکھے
خطِ عارض میں لکھے حلقۂ گردن کی گرفت
اُسی گردن کی جو عیّار کی زنبیل میں ہے
میں نے زنبیل پہ تحریر کیا
جس نے آثارِ صنادید لکھی ہو وہی اسبابِ بغاوت لکّھے

***

بخت خاں آنکھ اٹھاؤ کہ ہرا جنگل ہے

بخت خاں آنکھ اٹھاؤ کہ ہرا جنگل ہے
آسماں گیر درختوں نے نظر کی حد کو
روک رکّھا ہے کہ اب آنکھ زمیں پر اترے
بخت خاں آنکھ اٹھاؤ کہ ہوا پاگل ہے
اسی موسم میں کسی شاخِ گرہ دار کے بیچ
وہ بدن جھول گیا
جس نے تلوار کو گردن میں حمائل نہ کیا
وہ بدن جھول گیا شاخِ گرہ دار کے بیچ
بخت خاں آنکھ اٹھاؤ کہ کہانی نہ رہی
قصہ گرختم ہوے قصۂ طولانی سے
ہم نے گرتی ہوئی تہذیب کی مشکیں کس دیں
ہم اجل دیدہ، پدرسوختہ، آوارہ نصیب
ہم نکالے ہوے، پھینکے ہوے، بھاگے ہوے لوگ
ہم جسے یاد کریں اُس کی قضا آتی ہے
ہم جسے یار کریں اُس کی خبر کوئی نہیں
بخت خاں آنکھ اٹھاؤ کہ غنیمت ہے بدن
شاخِ گرہ دار کے بیچ
ورنہ ہم سوختہ جاں، شعلہ نصیب
ہم جسے یاد کریں اُس کی قضا آتی ہے
ہم جسے یار کریں اُس کی خبر کوئی نہیں 
***
 
اداس لڑکیاں

اداس لڑکیاں
اجل دریدہ و سحرزدہ ستم نصیب آئنے کے آس پاس لڑکیاں
اداس لڑکیاں
تمام رات آفتاب ان کے انتظار میں رکا رہا
کہ سو سکیں
تمام دن خزاں کی دھوپ ان کے گھر سے دور
خیمہ زن رہی
کہ تیز روشنی سے مضطرب نہ ہوں
نہیں گری کسی شجر سے کوئی شاخ ٹوٹ کر
اداس لڑکیوں کے صحن میں نہیں گری
کہیں سے ایک اینٹ بھی نہیں ہلی
سیاہ و سرخ بام و در
سفید پتھروں پہ زرد پانیوں کا عکس
اور آئنے کے آس پاس لڑکیاں
اداس لڑکیاں
اب ان کو ان کے گھر روانہ کیجیے
نشانِ راہ خود ہی چل پڑے تو پھر نشانِ راہ کس طرح بنے
یہ خانہ زاد عورتیں
اب ان کو ان کے گھر تُرنت بھیجیے
یہ زندگی کی سِل پہ پس چکیں تو رنگ آئے گا
عدم نصیب عورتیں عدم کا راستہ بتائیں گی
یہ آئنے کے اُس طرف گئیں تو آئنے کا ماجرا سنائیں گی
اداس عورتیں سفر کے راز لے کے آئیں گی
سفرنصیب عورتیں، اجل نشان عورتیں، عدم نژاد عورتیں
سو ایسا کیا ضرور ہے کہ ان کے قتل کی سزا بھی قتلِ عمد ہو

***

مفاہمت ایک ویران راستہ ہے

ندیم ورّاق خطِ طومار میں لکھے تھا
کہ کھنچ گئی ہے بہت کہانی
اگرچہ انجام سامنے تھا
بحقِ سرکار ضبط میری متاعِ ہستی
ندیم ورّاق خطِ گل میں یہ لکھ رہا تھا
کہ بجھ گئی لالٹین
بارش بھی آنے والی ہے
رات کی نیند کے پرندے سیاہ جنگل میں چیختے ہیں
میں رنگ برساؤں گا زمیں پر
میں بادلوں کا سیاہ آندھی کا سرخ
بجلی کا نقرئی رنگ برساؤں گا زمیں پر
زمین پر آبلے پڑیں گے کہ پانیوں کے محل بنیں گے
میں خطِ عارض میں اپنے چہرے کے نیل لکّھوں گا آسمانی عبارتوں میں
میں وہ کہانی لکھوں گا جس کا انجام میں نے پہلے ہی لکھ دیا ہے
میں بے حسی کی زبان میں
لمس کو باصرہ پہ حاوی نہیں لکھوں گا
میں نیند لکھوں تو لوگ خوابوں میں ڈر کے اٹھیں
میں خطِ معکوس میں لکھا ہوا حرفِ ربط
جو آئنہ پڑھے تو غبار ہو جائے
خطِ معکوس میں لکھے تھا ندیم ورّاق
خطِ معکوس میں لکھے تھا
مفاہمت زندگی کا ویران راستہ ہے
کہ میزکرسی کے ساتھ اک اور میزکرسی
یہ میں ہوں یہ میرا دوست جس پر بہت بھروسا

***

جان کہانی بند کرو

جان کہانی بند کرو دروازہ گرنے والا ہے
کچی بیل نے تھام رکھا ہے چیڑ کے بھاری دروازے کو
زرد گلاب نے روک رکھا ہے جنگل کو دیوار کے ساتھ
اتنے سارے زرد گلاب
یہ گھرہے، ایسابھی گھر ہوتا ہے
کوہِ سفید پر جست کی خالی مسجد
ڈھیروں برف کے پھول
شہزادی کو تکلے کا اک گھاؤ بہت تھا
سو گیا سارا شہر
کہانی کا در کھلا ہوا ہے
کوٹ کشن میں رادھا روز اِک شو کرتی ہے
جان کہانی بند کرو
جب شہزادے قتل ہوے تھے
تم نے پھول نہیں بھیجے تھے
اک تصویر روانہ کی تھی
اور پھر رقص میں شرکت کرنے چلے گئے تھے
اب آئے ہو
پوچھتے ہو قصہ اس گھر کا جس میں زرد گلاب تھے
اور دروازہ گرنے والا تھا
جان کہانی بند کرو
***
 
گلابی لڑکیاں

گلابی لڑکیاںجاڑوں کی لہریں
بدن کامل جہانِ آرزو ہے
بہت کھوئے گئے لوگ اس نگر میں
گلابی لڑکیاں نیلے گھروں میں شوخ رنگوں سے
ہدایت نامۂ آوارگی تحریر کرتی ہیں
بہت سنسان راتوں میں بہت انجان سوتی ہیں
گلابی لڑکیاں جاتی نہیں گھر سے
مگر دوچار گھر دوچار گلیاں
چند زیریں راستے
ناپختہ دیواروں کی میلی اوٹ میں
اپنے کیے پر مطمئن
گوری گلابی لڑکیاں
کچے مکانوں میں بہت آسودہ رہتی ہیں
اب ان کے ساتھ چلیے اور سو رہیے
محبت گھرگرھستی کے پرانے چوکھٹے میں دیر تک محفوظ رہتی ہے

***

وصل قسمت میں نہیں

صاحب الزنج امیرالامرا شیخِ حزیں
وصل قسمت میں نہیں
میاں مسکین کے کوچے میں کہیں
عشق کا نام نہیں
ہجر کو لوگ ملاقات کا ڈر کہتے ہیں
وصل سے بھاگتے ہیں
یہ اماوس کی پہر رات سے جاگی ہوئی رات
خود کو ہم پایۂ مہتاب کہا چاہتی ہے
اور سرِشام ہی سو جاتی ہے
گھر کا گھر جانتا ہے آمدِ باراں کے طفیل
ایک سیلابِ بلا ابرِ گہربار میں ہے
پھر بھی دل ساعتِ باراں میں بہت روتا ہے
صاحب الزنج امیرالامرا شیخِ حزیں
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں
وصل قسمت میں نہیں
اور دل ساعتِ باراں میں بہت روتا ہے

***

زینت محل یہ وقت ملاقات کا نہیں

زینت محل یہ وقت ملاقات کا نہیں
شہزادے قتل ہو گئے، شہزادیاں گئیں
جاٹوں نے ٹاٹ ڈال کے ان کو دکھائی آگ
اب جو نہیں ہے قصہ کہانی میں آئے گا
زنیت محل چراغ میں بتی پڑی نہیں
اور سو گیا ہے گھر
اب جو اٹھے گا بھوک سے کیا زہر کھائے گا
دروازہ توڑ گھر میں گھس آئے ہیں مردوزن
اب کون تیرے سننے سنانے میں آئے گا
زنیت محل یہ رات اندھیرے میں جائے گی
’ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے‘
شہزادہ ذی وقار تو جنگل کو جائے تھا
شہزادی پائیں باغ کے جھولے میں مر گئی
زینت محل چلو کہ چراغی کے واسطے
ہم سرزمینِ بلخ و بخارا اٹھا کے لائیں
اک خالِ سبز ہے رخِ گلنار پر غضب
اک طوفِ کوے مرگ و ملامت ہے جاں کے ساتھ
اک اسپ ہے سوار سے آگے بڑھا ہوا
زینت محل تمام خرابی ہے دل کے ساتھ
دل گردبادِ سیلِ قیامت، بلاے زرد
اک اسپ ہے سوار سے آگے بڑھا ہوا
اک تیرہ شب ہے اور گھنے جنگلوں کی ہے
زینت محل یہ رات یہ درماندگی کی رات
زینت محل یہ رات ملاقات کی نہیں
یہ وقت ہے شکستنِ گل ہاے ناز کا
’یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے‘
’گلشن میں بندوبست برنگِ دگر ہے آج
قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج‘

***

کلھاڑی آج تک پہچانی جاتی ہے

کلھاڑی اپنے پھل سے اور سرسوں پھول سے پہچانی جاتی ہے
سو ہم نے کچھ یہاں کھویا نہ پایا
عدالت زادۂ زنجیر نے مجھ کو بنایا آدمی زادہ
سو میں جیسا بھی ہوں اپنی طرح ہوں
کہ جنگل آگ سے اور آگ اپنی ہار سے پہچان پاتی ہے
کہ ہر شے جس طرح پہلے کہیں تھی پھر وہیں ہو گی
محبت یار کو لوٹائی جائے گی
عداوت بھائی کو، اور دوستی اپنی جگہ محفوظ ہو گی
صرف میں پتھر کی صورت
اسے بیگانگی کی آگ دینا
کلھاڑی اپنے سر سے اور لڑکی پاؤں سے پہچانی جاتی ہے
سو اس کو روک لیتے ہیں زمیں زادے
خود اپنے بازوؤں میں
پاؤں سے نیچے دبا کر
خاک پر ہم اس کا بڑھنا روک دیتے ہیں
مگر یہ منھ چڑھی، مٹی اڑاتی کھیلتی
کچی منڈیریں پھاندتی جاتی ہوئی لڑکی کسی سے کب رکی ہے
محبت اصطلاحاً چاہنا ہے
اور کس نے کس کو چاہا
کلھاڑی جانتی ہے
یا جو اپنے گھر نہیں پایا گیا
جس رات بارش ہو رہی تھی
اور جنگل رقص میں تھا
تیز بوچھاروں کی زد میں
دو بدن پاگل ہوے تھے
جب کلھاڑی نے انھیں دو بار کاٹا
تیز بارش، دھند، چادر، چاردیواری
کلھاڑی نے مگر سب کچھ بہت تفصیل سے دیکھا
کلھاڑی اپنا منصب جانتی ہے
اور اپنا فیصلہ نافذ بھی کرتی ہے
یہ کچی شاخ والی، سبک، روشن، ہلالی، نرم پتری
بانس سے پیوستہ
کافی ہے کسی عورت کے دل پر اپنا پہلا حرف لکھنے کو
کلھاڑی نے مگر جنگل نہیں دیکھا
کچی شاخ والی اوڑھنی کے ساتھ آویزاں کلھاڑی جیسی شے نے
آج تک جنگل نہیں دیکھا
درختوں میں ہزار آسیب
سوکھی جھاڑیوں میں آگ
مٹی میں نمک
سَو مسئلے ہیں
کلھاڑی نے ابھی جنگل نہیں دیکھا
کلھاڑی بس اسی سے آج تک پہچانی جاتی ہے

***

ابومسلم خراسانی کے لیے ایک نظم

ابومسلم خراسانی
اب آدھی رات ہے، گھر جا کے دیکھیں
کس کا آنا رہ گیا ہے
سو دھماکے دس نمازی ایک مسجد
ریاضی کی مساواتیں یہ مجھ سے حل نہیں ہوں گی
ابومسلم خراسانی
ابومسلم ہماری آنکھ کی شہتیر سے وہ گھاس کا تنکا بھی بھاری تھا
جو آسودہ ہوا شبنم سے
جب اس کی طراوت گھاس سے نیچے نہیں پہنچی
تہہِ خاک اس قدر آسودۂ افلاک
ابومسلم خراسانی
ابومسلم خراسانی چراغِ گل رخاں لاؤ
بیاضِ دلبراں لاؤ
یہ کیا بسیارگوئی
سو دھماکے دس نمازی ایک مسجد بیس لاشیں
ریاضی کی مساواتیں، ابو موسیٰ سے پوچھو، کیسے حل ہوں گی
کہ ہم کُل آٹھ تھے
دو گھر گئے
دو راہ میں ہیں
دو کا آنا رہ گیا ہے
دو کسی کروٹ نہیں سوتے
طراوت گھاس کی جاتی نہیں محراب سے چھت تک
ابومسلم یہ ہم دو اور ہیں جن کو مساواتیں بنانی ہیں
سو اس کو یوں بناتے ہیں
ابومسلم خراسانی برابر مَیں
ابومسلم خراسانی برابر مَیں ابومسلم خراسانی
برابر مَیں
کہ آخر میں عدد بس ایک رہ جاتا ہے ابجد کے طریقے سے

***

چٹان پر ہنس رہی ہے لڑکی

چٹان پر ہنس رہی ہے لڑکی
سنہرے بالوں سے کھیلتی ہیں
جنوب کی رس بھری ہوائیں
شمال کے برف زار اندر
چٹان پر ہنس رہی ہے لڑکی
میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں
تمام عالم کے خواب
باتیں جہان بھر کی
کنارِ دریا میں اس کو مشعل بدست بدمست دیکھتا ہوں
یہ شہر جلتا ہوا نہ رہ جائے، دھیان رکھنا
یہ ایک عالم کو راکھ کرتا ہوا نہ رہ جائے
دھیان رکھنا
چٹان پر ہنس رہی ہے لڑکی
اور ایک عالم لرز رہا ہے

***

پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے
(افتخار جالب کے لیے ایک نظم)

پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے جن کے ہوتے
دھوپ آنگن میں اتر آتی تھی بادل کی طرح
نرم، خوش رنگ، خوش اطوار
بہت دیر ہوئی
اب کہیں کوئی نہیں
پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے آباد جزیروں کی طرح
جن کو دریافت کیا جاتا تھا
جن کے آباد خرابے میں رہا جاتا تھا
پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے خاموش اداس
ایک سو بیٹھ گئے، صبح ہوئی، شام ہوئی
حلقہ زن بیٹھ گئے شعلۂ ناپید کے بیچ
پھر سمندر سے گرجتی ہوئی بارش آئی
اور منڈیروں کے تلے بیٹھنے والا لڑکا
خاک میں خاک ہوا
کھیتیاں ڈھے گئیں، بارش نے زمینیں کھا لیں
دل محرّر ہے سو کاغذ پہ مکاں رکھتا ہے
کوئی رویا نہ ہنسا
کہیں آیا نہ گیا
پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے ہنستے ہوے، روتے ہوے،
آباد، خراب
اے رفیقِ شبِ آزار و الم
پہلے ہر شہر میں کچھ لوگ ہوا کرتے تھے
اب کہیں کوئی نہیں
دھوپ سے رنگ اڑا جاتا ہے میدانوں کا

***

حسن کوزہ گر پر ایک اور نظم

حسن کوزہ گر عشرتِ خواب سے بےطرح مست اٹّھا
نیا دن نئی بادشاہت
میں عطّار یوسف کی دکّان سے دیکھتا تھا
حسن کوزہ گر بےطرح مست و شاداں
(محبت زدہ لوگ پہلے تو ایسے نہیں تھے)
خیابانِ حافظ کے ہر کاخ و کو پر نظر ڈالتا
حجلۂ نیم روشن کے نیچے
ذرا دیر رکتا
زمین و زماں دست و بازو میں جیسے بھرے
مست فرحاں حسن کوزہ گر
عشرتِ خواب سے مست اٹّھا
کہاں کی جہاں زاد، کیسی محبت
یہ تنّور کی پھونکنی زندگی
سانس لینے کے مشکل عمل میں
یونہی خالی خالی گزر جائے گی
حسن کوزہ گر کو خبر دو
حسن کوزہ گر شہرِ بےنام کا مرد
جس کی جوانی کا ہر دن نیا دن نئی بادشاہت
خیالوں کے جنگل کی خودرو محبت
کفِ پا سے لے کر سرِ خودنِگر تک
حسن کوزہ گر سے حسن کوزہ گر تک
جہاں زاد کے عشق میں ہے
حسن کوزہ گر کو خبر دو
تنوروں میں مٹی بھری ہے
جہاں خوابِ عشرت کا سامان تھا
نیند پاگل ہوا بن کے پھرتی ہے
آنکھوں کے روزن میں مٹی ہے
میں سوختہ بخت دکّانِ عطّار یوسف
سے سب دیکھتا تھا
حسن کوزہ گر کم سے کم ایک شب
نیند سے بےطرح مست فرحاں نہ اٹّھے
تو اس کو خبر ہو
کہاں کی جہاں زاد، کیسی محبت
تنوروں میں مٹی بھری ہے
حسن کوزہ گر سوختہ بخت سچ کہہ رہی تھی
یہ کیسا خیال آفریں عشق تھا
جب حسن کوزہ گر
اپنے کچے گھروندے سے نکلا تو وحشت زدہ
خاک بر سر، بہت سوختہ
اک تصور میں اڑتا ہوا
جیسے تاریخ اس کو بہائے لیے جا رہی ہو
حسن کوزہ گر ایسا ہوتا نہیں ہے
کہیں کوئی لکھتا نہیں داستاں ان گھروں کی
جہاں لوگ غفلت میں سوتے ہیں
وحشت میں اٹھتے ہیں
بےحال و بدمست
دامن کشیدہ، تخیل کی جولانیوں سے
بہت دور، ساحل کی بھیگی ہوئی ریت پر آرمیدہ
حسن کوزہ گر، خاک بر سر، زمیں زاد
کچے گھڑے کی طرح
سرد پانی میں گھلتا ہوا
سرد پانی میں تحلیل ہوتی ہوئی زندگی
حسن کوزہ گر کی گواہی
کہ دریا تو رکتا نہیں ہے

***

عزیزی ابنِ یعقوبی

عزیزی ابنِ یعقوبی
زمیں جب گھومتی ہے اپنے محور پر
تو دن اور رات ہوتے ہیں
کبھی سورج نہیں ہلتا
کسی کی رات کو دن سے بدلنے
یا کسی کے روزِ روشن کو شبِ اندیشہ و آزار میں تبدیل کرنے
سو بعقوبہ میں جو کچھ ہو رہا ہے
عزیزی ابنِ یعقوبی
نتیجہ ہے کسی ایسی ہی خواہش کا
کہ سورج رات دن چاروں طرف سے گھوم کر
روشن کرے ہم کو
جو اپنی ضد پہ قائم ہیں
کہ سورج کیوں نہیں ہلتا
اندھیرا پھیلتا جاتا ہے کیوں اس کنجِ عزلت میں
عزیزی ابنِ یعقوبی
بہت سا گھومنا پڑتا ہے تب جا کر
ذرا سی روشنی ملتی ہے دنیا کو
کبھی سورج نہیں ہلتا، عزیزی ابنِ یعقوبی
***
ہم وہ تھے

ہم وہ تھے جنھوں نے اپنی آنکھیں بیچ کر پلکیں خریدیں
اور بازو بیچ کر بیلوں کی جوڑی
اور جوڑی بیچ کر اک اسپِ تازہ
اور گھوڑے بیچ کے سوئے
سمندر لوگ تھے اور دکانِ کوزہ گر میں چھپ کے رہتے تھے
سو مٹی کھا گئی ہم کو

یہ دل اک طفلکِ شمشیرزن
شہزادۂ آفت رسیدہ
کاش اس کو کوئی سمجھاتا
محبت چاہتوں کے موج میلے میں
کسی کو ڈھونڈ لینے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے

***

بات صرف اتنی ہے

بات صرف اتنی ہے
کل جہاں سمندر تھا، اب وہاں چٹانیں ہیں
اس چٹان کو سننا
تم کو یاد آئے گی
ساحلوں کی طغیانی
سخت اور پتھریلی، کھردری چٹانوں سے
دور ہٹ گیا پانی
دور ہو گیا پانی
یہ تو خیر ہونا تھا
سو یہ ہو رہا آخر
شاعروں کو اس میں بھی ایک دن نظر آیا
اک جدائی کا عالم
اس طرح نہیں ہوتا
اس طرح کہ ہر منظر
ہجر کے تکلف سے
معتبر نہیں ہوتا
یہ علیحدگی جاناں، ہجر سے الگ کچھ ہے

بات صرف اتنی ہے
کل جہاں پہ ہم تم تھے
اب وہاں پرندوں نے
گھونسلا بنایا ہے
نرم اور لچکیلا سلسلہ بنایا ہے
یہ بناؤ کا عالم شوق سے الگ کچھ ہے
تم سنگھار کرتے تھے بارشوں کے موسم میں
بارشوں کے موسم میں
جب گھنی سیاہی ہو
پیڑ کا اکھڑ جانا
ڈوبتے مسافر کو دکھ بھرا نہیں لگتا
اک شکست کے آگے اک شکست کا رونا مرثیہ نہیں ہوتا
ہر گزشتنی جاناں، واقعہ نہیں ہوتا
بات صرف اتنی ہے
بارشوں کے موسم میں دو شکستہ جسموں کا
پیڑ سے کہیں لگ کر ایک ساتھ ہو جانا
وصل سے الگ کچھ ہے
شاعروں سے کیا پوچھیں
شاعروں کو کیا معلوم
بات صرف اتنی ہے
کل جہاں سمندر تھا، اب وہاں چٹانیں ہیں

***

3 تبصرے:

Mohd Arif کہا...

واقعی تصنیف اآپ نے اردو ادب کی دوبارہ بازیافت کی ۔ ہم اآپ کے مشکور ہیں

IdBa کہا...

سرشار شاعری

IdBa کہا...

سرشار شاعری

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *