جمعہ، 29 جولائی، 2016

تمہید و مقدمہ (کلیات غلام عباس)/ندیم احمد



تمہید

غلام عباس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’آنندی‘‘مکتبہ جدید ،لاہور سے پہلی بار اپریل ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا ۔اس کے بعد اس مجموعے کی کسی اشاعت کا مجھے کوئی علم نہیں۔ان کا دوسرا مجموعہ ’’جاڑے کی چاندنی‘‘جولائی۱۹۶۰ء میں پہلی دفعہ شائع ہوا۔اور اس کے متعدد ایڈیشن ۱۹۸۰ء تک شائع ہوتے رہے۔عباس صاحب کا تیسرا اور آخری مجموعہ’’کن رس‘‘دسمبر ۱۹۶۹ء میں پہلی دفعہ لاہور سے شائع ہوا اور اغلب ہے کہ یہ اس کا واحد ایڈیشن تھا۔پاکستان میں وقفے وقفے سے ان کے افسانوں کے متعدد انتخابات بھی شائع ہوتے رہے لیکن ہندوستان میں غلام عباس کا ذکر بہت کم ہوا۔کم سے کم مجھے تو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ ہندوستان سے ان کے افسانوں کا کوئی مجموعہ یا انتخاب شائع ہوا ہو۔ہندوستان میں’آنندی‘ کے سوا غلام عباس کا کوئی بھی افسانہ عام اردو والوں کی دسترس میں نہیں۔۶۰ کی نسل نے تو عباس صاحب کو پڑھا بھی تھا لیکن ۸۰ کے بعد اردو میں جو نسل سامنے آئی اسے’’ کہانی کی واپسی ‘‘نے ایسا پاگل کر رکھا تھاکہ عباس صاحب جیسا غیر معمولی قصہ گو بھی ان کی نظروں سے اوجھل رہا۔’آنندی‘کو تو ہماری درسگاہیں بچا لے گئیں ورنہ اس کا بھی وہی حال ہوتا جو عباس صاحب کے دوسرے افسانوں کا ہوا۔
ہندوستان میں افسانہ ’آنندی ‘دستیاب تو ہے لیکن اس کا متن نہایت ہی ناقص اور غیر تشفی بخش ہے۔اس معاملے میں پاکستان بھی ہم سے پیچھے نہیں۔وہاں سے شائع ہونے والے انتخابات کا حال تو اتنا پتلا ہے کہ عباس صاحب کا افسانہ’’غازی مرد‘‘،’’نمازی مرد‘‘بن گیا ہے۔
عباس صاحب جیسے بڑے افسانہ نگار کے متعلق اسی غیر محتاط روئیے نے مجھے ان کے افسانوں کو جمع کرنے اور ان کا درست متن تیار کرنے پر مجبور کیا۔مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ غلام عباس کے افسانوں کی ایک نئی دنیا ہمارے سامنے آئے گی۔
افسانوں کے متن کو ہر طرح سے معتبر بنانے کے لئے ضروری تھا کہ غلام عباس صاحب کے تمام افسانوی مجموعوں کے ان اولین نسخوں کو حاصل کیا جائے جو خود غلام عباس صاحب کی نگرانی میں شائع ہوئے تھے۔چنانچہ میں نے وہ تمام نسخے حاصل کئے اور ان کی روشنی میں متن تیار کیا۔ہندوستان میں شاید میں واحد آدمی ہوں جس کی ذاتی لائبریری میں یہ تمام نسخے اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔
تحقیق کے جدید رویوں کے مطابق میں نے کلیات کو مجموعے کے اعتبار سے ترتیب دیاہے تاکہ کتاب حوالے کے طور پر استعمال کی جاسکے اور نو دریافت افسانوں کو ایک الگ باب کے تحت رکھا ہے ۔
شمس الرحمن فاروقی صاحب نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مجھے اپنے مشوروں سے نوازااور کتاب کے پس سرورق کے لئے رائے لکھی۔ان کی شفقتوں کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔کام کے دوران آصف فرخی،فضیل جعفری،شمیم حنفی،ابوالکلام قاسمی اورانیس اشفاق صاحب سے میری گفتگو ہوتی رہی ۔میں نے ان کے مشوروں سے فائدہ اٹھایا اور ان لوگوں کاشکر گزار ہوں۔
استاد محترم پروفیسر شہناز نبی صاحب نے ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھا یا ۔ان کے احسانات بے شمار ہیں مجھ پر۔میرے دوست احمد اقبال صدیقی نے کتاب کا دیدہ زیب سرورق تیار کیا جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔عزیزشاگردمحمد شہنواز عالم نے کتاب کے بعض حصوں کے پروف پڑھے اورڈاکٹرتسلیم عارف نے کتاب کے بعض حصے کی حرف کاری کی ان لوگوں کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے۔کتاب کی تکمیل میں میری شریک حیات انجم آراء نے میری کافی معاونت کی اور میرے ہر کام کواپنی توجہ سے آسان بنایا،لیکن وہاں کا معاملہ درد دل ہے۔

ندیم احمد

***

مقدمہ

غلام عباس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سب کے لئے افسانے نہیں لکھے۔ یہ بیان نظریوں کو سینے سے لگائے اور قدم قدم پر گم شدہ قاری کی تلاش میں سرگرداں ناقدوں کے لئے خاصہ پریشان کن ہے۔ پابند ادبی سیاست کے زیر اثر Politically Correct بیانات دینے کے ہم ایسے عادی ہوچکے ہیں کہ فساد خلق کا خطرہ دیکھتے ہی آئیڈیالوجی کا سہارا ڈھونڈنے لگتے ہیں خواہ اس کے نتیجے میں لفظوں کے مرکبات اور ان میں موجود تجربوں کی شکل مسخ ہی کیوں نہ ہوجائے۔ سب کے لئے افسانے لکھنا یا ایسے افسانے لکھنا جسے پڑھ کر ناتیار (Unprepared) قاری بھی رواں ہوجائے میرے خیال میں بڑا غبی فعل۔ اس کامطلب یہ نہیں کہ میں متن کے باہر قاری کے وجود سے انکاری ہوں یا متن کی تفہیم کے لئے کسی عقلیت کوش بورژوازم کا حمایتی۔ بات صرف اتنی ہے کہ آرٹ کے بغیر قاری کا وجود ممکن نہیں۔ فن کار اس لئے نہیں لکھتا کہ اسے کیسے اور کتنے قاری میسر آئیں گے۔ تخلیق کا اندرونی عمل تو اسے یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ منشائے مصنف اور متن کی پُراسراریت کے نتیجے میں معنی کی غیر قطعیت کے درمیان ایک پیکار کا عمل ہوتا ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔ رن کی اس صورت میں فن کار کو یہ مہلت ہی نہیں ملتی کہ وہ فرضی چیزوں پر اپنی توجہ صرف کرے اور تخلیقی عمل کی Originality کو خود اپنے ہاتھوں سے تہس نہس کردے۔ متن بناتے وقت ادیب کو خارجی اشیا سے بھی لڑنا پڑتا ہے اور اپنے آپ سے بھی۔ مشرقی شعریات نے عینی متن The Ideal Text کے متعلق اس حقیقت کو بہت پہلے پا لیا تھا البتہ مغربی تنقید کو اس نکتہ تک پہنچنے کے لئے والیری کا انتظار کرنا پڑا ۔ والیری کہتا تھا:
IL FANT TENTER DE VIVSE
والیری کی طرح ملارمے بھی تخلیقی عمل کو نتائج سے الگ رکھ کر دیکھتا تھا۔ ادیبوں کے ایک اجتماع کے موقع پر کہی گئی نظم ’سلام‘ Salutation میں وہ کہتا ہے:
NOTHING! THIS FORM AND VIRGIN VERSE
TO DESIGNATE NOUGHT BUT THE CUP
SUCH FAR OFF THERE PLUNGES A TROOPS
OF MANY SIRENS UPSIDE DOWN

WE ARE NAVIGATING. MY DIVERSE FRIENDS

ALREADY ON THE POOP YOU THE SPLENDID
PROW WHICH CUTS THE MAIN OF THUNDERS AND OF WINTERS

A FINE CLARITY CALLS ME WITHOUT FEAR OF ITS ROLLING TO CARRY UPRIGHT THIS TOAST

SOLITUDE IT WAS THAT WAS WORTH
OUR SAIL'S WHITE SOLICITTED
عسکری صاحب کی مانیں تو ملارمے نے نظم کی پہلی سطر میں ہی کہہ دیا ہے کہ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ یعنی یہ ساری نظم ایک کھیل ہے لیکن اس نظم کی طرح فنی تخلیق کا آغاز بھی اسی ’’کچھ بھی نہیں‘‘ اسی کھیل سے ہوتا ہے ۔ آج کل کچھ نقاد ایسے بھی ہیں جو فن کے سلسلے میں کھیل کانام سن کر بگڑ جاتے ہیں اور فوراً یہ سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ کھیل کا نفسیاتی مطلب کیا ہے اور انسان کے لئے اس کی حیاتیاتی اہمیت کتنی ہے۔ لیکن فن کار یہ سوچ کر لکھنے نہیں بیٹھتا کہ اس وقت مجھے انسان کی ایک زبردست خدمات انجام دینی ہے۔ اس کی تخلیقی سرگرمی کے نتائج انسانیت کے لئے کتنے ہی اہم کیوں نہ ہوں تخلیقی لمحے میں اسے نتائج سے سروکار نہیں ہوتا۔ عشق کرنے سے پہلے آدمی یہ نہیں سوچا کرتا کہ نسل انسانی کی افزائش میرا فرض ہے۔ فن کار بھی ایک تخلیقی شہوت کے پنجے میں گرفتار ہوتا ہے وہ اس کھیل کے لطف کی خاطر اپنے آپ کو اس تحریک کے حوالے کردیتا ہے۔ اس معاملے میں فن کار کی حیثیت کچھ عورت کی سی ہے۔ برسوں کے دکھ تخلیقی لمحے کی لذت میں تحلیل ہوکے رہ جاتے ہیں۔ اس کھیل کی مسرت میں فن کار کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ کون سی اذیت اپنے سر لے رہا ہے۔‘‘ غلام عباس نے بھی یہ اذیت اپنے سر لی ہے وہ جان بوجھ کر افسانہ لکھتے ہیں۔ ملارمے نے تخلیقی عمل کو باقاعدہ ریاضت بنا دیا تھا۔ غلام عباس کے بارے میں ایسی کوئی بات تو نہیں کہی جاسکتی لیکن انسانی ذہن کے کسی عمل کو رد کئے بغیر روز مرہ کے تجربات میں حقیقت کی تلاش ان کے افسانے کو عام انسانی سطح سے بہت بلند کردیتی ہے۔ وہ تجربات سے نہیں جھینپتے اور نہ ہی خواب دیکھنے سے بلکہ انہی کے ذریعہ ان کا تخئیل حرکت میں آتا ہے۔ فن میں جو حقیقت ہے اس کے مقابلے میں اور حقیقتیں صر ف ایک سایہ ہیں، غلام عباس کو بھی اس کا احساس ہے۔ چنانچہ حقیقت میں ڈوب جانے کے لئے کبھی تو افسانے میں انہیں روز مرہ کی حقیقت سے تھوڑے وقفے کے لئے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور کبھی ساری حقیقتیں متن کی سطح پر ایک ساتھ چلنے لگتی ہیں۔ جو لوگ افسانے میں حقیقت، موضوع، خیال یا جذبے کی وحدت کو فوراً پا لینا چاہتے ہیں انہیں غلام عباس کے افسانے ہیٹے معلوم ہوں گے۔ دراصل وحدت ان کے یہاں جلدی سے نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ منٹو اور بیدی کی طرح اچھے افسانے لکھنے کے باوجود انھیں وہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی جس کے وہ مستحق تھے۔ عسکری صاحب نے ایک موقعہ پر یہ بات کہی تھی:
عام طور پر افسانے کے متعلق جو تنقیدی مضامین لکھے جاتے ہیں ان میں عباس کا ذکر بھولے بھٹکے ہی ہوتا ہے۔ مضمون نگار ذرا باخبر یا ستھرے ذوق کا ہو تو اس نے ان کے متعلق کچھ لکھ دیا، ورنہ غائب مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی درست ہے کہ انفرادی طور سے ان کے دو تین افسانے مقبول بھی ہوئے اورمشہور بھی ہوئے بلکہ آنندی کا شمار تو اردو کے مشہور ترین افسانوں میں ہوتا ہے۔ اگر آ پ ادب سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والے کسی آدمی سے پوچھیں کہ تمہیں کون کون سے افسانے اب تک پسند آئے ہیں تو وہ آنندی کا نام ضرور لے گا۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غلام عباس مجموعی طور سے مقبول نہیں ہیں ، مگر ان کے بعض افسانے بہت مقبول ہیں۔ اگر ہم اس تضاد کی وجہ معلوم کرلیں تو ہم غلام عباس کے فن کی خصوصیت کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔
جدید ناقدوں میں فضیل جعفری نے بھی غلام عباس کے آرٹ کو ایک عرصے تک نظر انداز کئے جانے کی بات کہی ہے۔ اپنی کتاب ’آبشار اور آتش فشاں‘ میں انہوں نے عباس پر بڑا زبردست مضمون باندھا ہے۔فضیل صاحب منٹو، کرشن چندر، بیدی اور عصمت کے ساتھ غلام عباس کا نام لینا پسند کرتے ہیں۔ انہیں عباس کی تکنیک اور کردار نگاری سے دلچسپی ہے۔ ’سیاہ و سفید‘،’ بھنور‘، ’سایہ‘، ’غازی مرد ‘اور ’مردہ فروش ‘کے کرداروں کی خارجی زندگی اور داخلی پہلوؤں پر فضیل صاحب نے جو گفتگو کی ہے اس کی توقع صرف فضیل جعفری یا پھر فاروقی صاحب جیسے بڑے ناقدوں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ تکنیک اور کردار نگاری غلام عباس کی طاقت ہیں مگر ان کے فن پر نظری گفتگو کرتے وقت کچھ اور باتیں بھی بڑی توجہ طلب ہیں۔ غلام عباس نے ۳۶ء کی تحریک سے تقریباً آٹھ دس سال پہلے لکھنا شروع کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی، معاشی، سماجی اور نفسیاتی پیچیدگیاں پردے ہی پردے میں نشوونما پارہی تھیں اور اب تک واضح نہ ہوپائی تھیں۔ نفرت اور محبت کے مرکز اب تک معین نہیں تھے ۔ ادیبوں کے یہاں بغاوت یا بیزاری کا یہ عالم نہ تھا کہ وہ اپنا اصل کام چھوڑ کر چند چیزوں کے خلاف اور دوسری چند چیزوں کے حق میں لکھنا شروع کردیں یعنی نفرت اور محبت کے لئے چند چیزیں چن لیں اور پھر نظریے کی تھیلی میں بند کر کے ان چیزوں کو لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ الحمرا کے افسانے سے چل کر جزیرۂ سخنوراں اور پھر آنندی تک آئیے غلام عباس نے نظریے کا جھنجھٹ ہی نہیں پالا۔ نظریے بازی نے ان کے یہاں وہ پیچیدگی پیدا نہیں کی جو ہمیں کرشن چندر کے یہاں ملتی ہے۔ غلام عباس نے دوسرے معاصرین کے علی الرغم آئیڈیالوجی اور اس کے زیرِ اثر جعلی موضوعات سے اپنے افسانے کو الگ تھلگ رکھا ہے۔ وہ ان ادیبوں میں سے نہیں ہیں جو لکھنے سے پہلے ایسے موضوع چنتے ہیں جن کے متعلق وہ پہلے ہی سے فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ان کے مقاصد کے لئے مناسب اور موزوں ہیں۔ فارمولے کے تحت ایسے افسانے لکھنا جن سے ایک قسم کی جمالیاتی سنسنی پیدا ہوسکے، میرے خیال میں بڑا کمزور اور غیر دلچسپ کام ہے۔ ۳۶ء کی تحریک کے فوراً بعد قائم ہونے والے بہت سے جدید افسانہ نگاروں کے اسی رویہ کے متعلق عسکری صاحب نے کہا تھا:
جدید افسانہ نگاروں نے افسانے کا ایک فارمولا تیار کرلیا ہے۔ اسی کے مطابق وہ اپنے افسانے گڑھتے ہیں۔ اس فارمولا کا مقصدیہ ہے کہ ایک قسم کی جمالیاتی سنسنی پیدا ہوسکے ۔ کہیں ایک گھنٹی سی بجتی ہے لیکن اتنی مدھم اور مبہم آواز سے کہ بس کان میں ایک بھنک سی سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز اس سے زیادہ بلند نہیں ہونی چاہیے۔ فیشن کا تقاضا ہے کہ یہ آواز کئی بے آواز رموز کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہو۔ بس ہلکی سی ٹن کی آواز آنی چاہیے۔ پڑھنے والوں کا ردِّعمل بھی اب بہت مخصوص اور محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جدید افسانے پڑھتے ہوئے بس یہ دیکھ لینا کافی ہے کہ وہ وضعی اعتبار سے درست ہیں یا نہیں۔ یہ پوچھنا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ واقعی لکھنے کے قابل بھی تھے یا نہیں۔ جدید افسانوں میں زندگی کے متعلق ایک بہت ہی مخصوص و محدود اور غیر اہم رویہ ملتا ہے۔ انھیں پڑھ کر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس زندگی کا سارا مقصد ہی کوئی ایسا واقعہ فراہم کرنا ہے جو ایک مختصر سے نقش میں ٹھیک بیٹھ سکے اور اس نقش کا مقصد افسانہ نگار کو کوئی چھوٹا سا چست خیال فراہم کرنا ہے، جسے وہ اخلاقی سبق کے طور پر افسانے کے آخر میں چپکاسکے۔* 

اخلاقیات سے پیچھا چھڑانا تو فن کا رکے لئے ممکن نہیں لیکن اس لفظ کو چھوٹے سے چھوٹے اور تنگ سے تنگ معنوں میں استعمال کر کے ناتیار (Unprepared) قاری کے لئے سامان تفریح فراہم کرنا ایک نہایت ہی غیر ادبی کام ہے۔ اخلاقی رشتے حقیقت کا حصہ ہیں بلکہ سب سے بڑی حقیقت ہیں۔ غلام عباس کو بھی اس کا احساس ہے لیکن وہ ۳۶ء کی تحریک سے متاثر نوجوانوں کی طرح مابعدالطبیعیاتی معاملات کو طبیعیات کی سطح پر نہیں گھسیٹتے۔ یہ رویہ مروجہ ادبی فیشن کے خلاف تھا چنانچہ غلام عباس کو اس کا نقصان بھی اُٹھانا پڑا۔ ’آنندی‘جیسا افسانہ لکھنے کے باوجود وہ اس طرح مشہور نہ ہوپائے جس طرح کرشن چندر، منٹو، عصمت، بیدی، ممتاز مفتی اور اشک وغیرہ نے شہرت پائی۔ غلام عباس اور ان کے افسانوں سے نام نہاد قاری کی عدم دلچسپی اور اس کے نتیجے میں نقادوں کی بے توجہی کے اور بھی کئی وجوہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اپنے معاصرین کے برخلاف افسانے کو دلچسپ بنانے کے لئے وہ کسی خاص قسم کے موضوع کا انتخاب کبھی نہیں کرتے یعنی دلچسپ ہونا ان کے افسانے کی شرط نہیں۔ وہ کسی خاص موضوع ، اسلوب یا جذباتی فضا کے چوکھٹے میں بند بیانیہ کے تفاعل سے افسانہ خلق نہیں کرتے بلکہ ایک صورت حال ہوتی ہے جو بیان اور کردار کے تفاعل کو ہمارے لئے قابلِ قبول بناتی ہے اور جس کی بنا پر ہم ان سے انسانی جذبات کے دائرے میں رہ کر معاملہ کرتے ہیں۔ بیان غلام عباس کے یہاں وسیلہ ہے جس سے کہانی وجود میں آتی ہے۔ ’آنندی‘ اس کی بہترین مثال ہے۔اس میں کردار کوئی نہیں ، یہ بیانیہ اور صورت حال کے آپسی تعامل Interaction کا افسانہ ہے۔ کہانی کی بڑائی اس بات میں ہے کہ یہاں روایتی بیانیہ کا وہ عنصر موجود ہے، جہاں واقعہ یا صورت حال ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ یعنی صورت حال اور واقعہ کے آپسی تعامل میں کردار کا عمل دخل بہت کم ہو اور واقعہ اس قدر پیش منظر میں ہو کہ کردار ہمیں غیر اہم معلوم ہونے لگے۔ ’آنندی‘ میں بیانیہ کی پکڑ اتنی مضبوط ہے کہ کہانی پڑھتے وقت ہم فرضی چیز کی تلاش نہیں کرتے ہمیں اس کی فکر ہی نہیں رہتی کہ یہاں کردار کتنے ہیں اور کردار نگاری کتنی۔ ایک شہر ہے جسے غلام عباس نے طاقت ور بیانیہ کی مدد سے عدم سے وجود میں آتے، آباد ہوتے اور چلتے پھرتے دکھایاہے۔ ’آنندی‘ میں جو چیز بیش از بیش حاوی ہے، وہ دراصل وہی صورت حال ہے جو کہانی پن کو خلق کرتی ہے۔ 

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کچھاکھچ بھرا ہوا تھا اور خلاف معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کردیا جائے کیوں کہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بدنما داغ ہے۔ بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ سمجھے جاتے تھے، نہایت فصاحت سے تقریر کررہے تھے ۔ ........ اور پھر حضرات! آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گاہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار و ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے علاوہ ازیں شرفا کی پاک دامن بہو بیٹیاں اور بازار کے تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
پانسو سے کچھ اوپر بیسواؤں میں سے صرف چودہ ایسی تھیں جو اپنے عشاق کی وابستگی یا خود اپنی دل بستگی یا کسی اور وجہ سے شہر کے قریب آزادانہ رہنے پر مجبور تھیں اور اپنے دولتمند چاہنے والوں کی مستقل مالی سرپرستی کے بھروسے بادلِ ناخواستہ اس علاقے میں رہنے پر آمادہ ہوگئی تھیں، ورنہ باقی عورتوں نے سوچ رکھا تھا کہ وہ یاتو اسی شہر کے ہوٹلوں کو اپنا مسکن بنائیں گی یا بظاہر پارسائی کا جامہ پہن کر شہر کے شریف محلوں کے کونوں کھدروں میں جاچھپیں گی یا پھر اس شہر ہی کو چھوڑ دیں گی۔ یہ چودہ بیسوائیں اچھی خاصی مالدار تھیں۔ اس شہر میں ان کے جو مملوکہ مکان تھے، ان کے دام انھیں اچھے مل گئے تھے اور اس علاقے میں زمین کی قیمت برائے نام تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے ملنے والے دل وجان سے ان کی مالی امداد کرنے کے لئے تیار تھے۔ چنانچہ انھوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے عالیشان مکان بنوانے کی ٹھان لی۔ ایک اونچی اور ہموار جگہ جو ٹوٹی پھوٹی قبروں سے ہٹ کر تھی منتخب کی گئی۔ زمین کے قطعے صاف کرائے اور چابکدستی نقشہ نویسوں سے مکانوں کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہوگیا۔ دن بھر اینٹ، مٹی ، چونا، شہیتر، گارڈر اور دوسرا عمارتی سامان لاریوں، چھکڑوں، خچروں ، گدھوں او انسانو ں پر لد کر اس بستی میں آتا اور منشی حساب کتاب کی کاپیاں بغلوں میں دبائے انھیں گنواتے اور کاپیوں میں درج کرتے۔ میر عمارت معماروں کو کام کے متعلق ہدایات دیتے۔ معمار مزدوروں کو ڈانٹتے، مزدور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔ مزدور نیوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنے ساتھ کام کرنے کیلئے بلاتے ۔

ایک دن ایک دیہاتی بڑھیا جو پاس کے کسی گاؤں میں رہتی تھی، اس بستی کی خبر سن کر آگئی۔ اس کے ساتھ ایک خوردسال لڑکا تھا،۔ دونوں نے مسجد کے قریب ایک درخت کے نیچے گھٹیا سگریٹ، بیڑی چنے اور گڑ کی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگادیا۔ بڑھیا کو آئے ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سے ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنوئیں کے پاس اینٹوں کا ایک چھوٹا سا چبوترہ بنا، پیسے کے دو دو شکر کے شربت کے گلاس بیچنے لگا۔ ایک کنجڑ ے کو جو خبر ہوئی ،وہ ایک ٹوکرے میں خربوزے بھر کے لے آیا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس بیٹھ کر:’’لے لو خربوزے۔ شہد سے میٹھے خربوزے۔‘‘ کی صدا لگانے لگا۔ اس شخص نے کیا کیا گھر سے سری پائے پکا، دیگچی میں رکھ، خوانچہ میں لگا، تھوڑی سی روٹیاں مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لے کر آموجود ہوا اور اس بستی کے کارکنوں کو جنگل میں ہنڈیا کا مزا چکھانے لگا۔
ان بیسواؤں کے مکانوں کی تعمیر کی نگرانی ان کے رشتہ داریا کا رندے تو کرتے ہی تھے۔ کسی کسی دن وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر عشاق کے ہمراہ خود بھی اپنے اپنے مکانون کو بنتا دیکھنے آجاتیں اور غروب آفتاب سے پہلے یہاں سے نہ جاتیں ۔ اس موقع پر فقیروں اور فقیر ینیوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں سے آجاتیں اور جب تک خیرات نہ لے لیتیں اپنی صداؤں سے برابر شور مچاتی رہتیں اور انھیں بات نہ کرنے دیتیں۔ کبھی کبھی شہر کے لفنگے او باش بے کارمباش کچھ کیا کرکے مصداق شہر سے پیدل چل کر بیسواؤں کی اس نئی بستی کی سن گن لینے آجاتے اور اگر اس دن بیسوائیں بھی آنی ہوتیں تو ان کی عید ہوجاتی۔وہ ان سے ذرا ہٹ کر ان کے ارد گرد چکر لگاتے رہتے۔

بستی میں ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسی بزرگ کا معلوم ہوتا تھا۔ جب یہ مکان نصف سے زیادہ تعمیر ہوچکے تو ایک دن بستی کے راج مزدوروں نے کیا دیکھا کہ مزار کے پاس سے دھواں اٹھ رہا ہے اور سرخ سرخ آنکھوں والا لمبا، تڑنگا مست فقیر، لنگوٹ باندھے چار ابرو کا صفایا کرائے اس مزار کے ارد گرد پھر رہا اور کنکر پتھر اٹھا کر پرے پھینک رہا ہے۔ دوپہر کو وہ فقیر ایک گھڑالے کر کنوئیں پرآیا اور پانی بھر بھر کر مزار پر لے جانے لگا اور اسے دھونے لگا۔ ایک دفعہ جو آیا تو کنوئیں پر دوتین راج مزدور کھڑے تھے۔ وہ نیم دیوانگی اور نیم فرزانگی کے عالم میں ان سے کہنے لگا: ’’جانتے ہو یہ کس کا مزار ہے؟ کڑک شاہ پیر بادشاہ کا۔ میرے باپ دادا ان کے مجاور تھے۔‘‘ اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں میں آنسو بھر بھر کے پیر کڑک شاہ کی کچھ جلالی کرامات بھی ان راج مزدوروں سے بیان کیں۔ شام کو یہ فقیر کہیں سے مانگ تانگ کر مٹی کے دودئیے اور سرسوں کا تیل لے آیا اور پیر کڑک شاہ کی قبر کے سرہانے اور پائتی چراغ روشن کردیے۔ رات کو پچھلے پہر کبھی کبھی اس مزار سے، اللہ ہو، کامست نعرہ سنائی دے جاتا۔ چھ مہینے گزرنے نہ پائے تھے کہ یہ چودہ مکان بن کر تیار ہوگئے۔

ایسے زمانے میں جب لوگ اپنی بات کہنے کے لئے تڑپ رہے تھے۔ بعض تیار شدہ موضوعات نئے لکھنے والوں کواپنا ذریعۂ اظہار بنا کر دنیا کے سامنے آنا چاہتی تھیں۔ غلام عباس نے ایسے افسانے خلق کئے جو زبان و بیان کی سطح پر غیر معمولی طور پر صاف ستھرے اور فرضی الجھیڑوں سے پاک ہیں۔ مطالب کے اظہار پر قدر ت غلام عباس کی قوتِ بیان کا بہترین مظہر ہے۔ عسکری صاحب نے درست کہا ہے:
غلام عباس کی زبان آلائشوں اور الجھیڑوں سے پاک ہے۔ جن مطالب کو وہ بیان کرنا چاہتے ہیں ان کے اظہار پر قاد، اپنی صلاحیتوں سے واقف، اپنی حدوں کے اندر بالکل مطمئن اور ان سے متجاوز ہونے کے خیال سے گریزاں۔ یہ خوبیاں مجموعی اعتبار سے نئے افسانہ نگاروں میں کم یاب ہیں۔ عصمت چغتائی کی نثر کا تو خیر کہنا ہی کیا، وہ تو جتنا کہنا چاہتی ہیں اس سے کہیں زیادہ کہہ جاتی ہیں مگر غلام عباس کا یہ وصف ہے کہ وہ جو کہنا چاہتے ہیں اسے کہہ ضرور دیتے ہیں،یہ نہیں ہوتا کہ کہیں کوئی کسر رہ جائے اور پڑھنے والا تشنگی محسوس کرے وہ اپنی بساط سے بڑھ کر بات کہنے کی کوشش بھی نہیں کرتے جسے ان کی زبان یا اسلوب سنبھال نہ سکے۔ اگر انہیں کسی پیچیدگی یا باریکی کا بیان منظور ہوتا ہے تو وہ پہلے ٹھہر کے اسے سمجھ لیتے ہیں، اور پھر جس حد تک وہ ان کی گرفت میں آتی ہے اسی حد تک کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے انداز میں بڑا توازن، اعتدال اور قرار پیدا ہوگیا ہے جو بے حسی یا جمود ہرگز نہیں ہے۔ غلام عباس کی قوت بیان کا بہترین مظہر ان کا افسانہ ’آنندی‘ ہے ۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ زبان و بیان ہی نے اسے افسانہ بنایا ہے، ورنہ ایک چٹکلہ تھا مگر مجھے کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اظہار کے معاملے میں ان کی احتیاط اب حد سے زیادہ بڑھنے لگی ہے، سنبھال سنبھال کے قدم اٹھانا بڑی ضروری چیز ہے بلکہ نئے ادب کے ماحول میں تو قابل ستائش ہے۔ مگر اتنا سنبھلنا بھی اچھا نہیں کہ قدم ہی رکنے لگے۔ اس کشمکش میں پڑھنے والے کا ذہن جھٹکے کھانے شروع کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے آدمی افسانے کی فضا میں جذب ہوتے ہوتے پھر الگ ہوجاتا ہے۔ یہ چیز افسانے کی اثر انگیزی میں ذرا سی مانع ہوتی ہیں۔*۱
عسکری صاحب نے غلام عباس کی زبان اور اظہار کے معاملے میں ان کے محتاط رویے سے متعلق بڑی بنیادی بات کہی ہے۔ ’آنندی‘ کی زبان میں جو اعتدال اور توازن ہے وہ غلام عباس کے کسب کا نتیجہ ہے۔ ایک ذاتی مشاہدے کو بیانیہ کی مدد سے پرجلال تخلیقی تجربے میں تبدیل کردینا عباس کا ایسا کارنامہ ہے جو ان کے معاصرین میں صرف منٹو کے یہاں ملتا ہے۔ ’آنندی‘ کے متعلق خود غلام عباس کا بیان ہے:
میرا افسانہ ’آنندی‘ بھی اسی قسم کے مشاہدے پر مبنی ہے جو میں نے طوائفوں کے علاقے کی تعمیر نو کے سلسلے میں مشاہدہ کیا۔ یہ علاقہ میرے راستے میں تھا اور میں ہر روز دفتر آتے جاتے اسے بنتا سنورتا دیکھتا رہتا تھا۔ مشاہدے کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی خیال آفرینی افسانے کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ واقعہ صرف اتنا تھا کہ طوائفوں کو چاوڑی سے نکال دیا گیا تھا اور اس طبقے کو شہر سے کوسوں دور ایک اجاڑ مقام پر لے جا پھینکا گیا تھا۔ جب بیس برس بعد ان آبرو باختہ عورتوں کے ارد گرد شہر آباد ہوگیا تو اس کی میونسپل کمیٹی نے بھی اپنے علاقے سے انھیں نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ اس میں خیال آفرینی کرنی پڑتی ہے۔*۲
غلام عباس نے ’آنندی‘ کی کہانی کو جس مشاہدے پر استوار کیا ہے مجموعی طور پر ان کی بعض دوسری کہانیاں بھی اس مرکز کے قریب آجاتی ہیں۔ عباس کو انسانوں اور ان کی نفسیات سے دلچسپی ہے۔ ان کی تحقیق و تفتیش کا مرکز انسانی جبلت کا وہ احساس ہے جو انسان کو فریب اور دھوکے کے سہارے جینے اور اسی یوٹوپیا میں مسلسل فریب کھاتے رہنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ کوشش سے کچھ ثابت نہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا طاقتورفریب غلام عباس کے یہاں زندگی کو لسٹم پسٹم ہی سہی ،بحال رکھنے کا واحد ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔دھوکا کھانے کی صلاحیت اور ایک ہمہ گیر ذہنی فریب کا تجربہ ان کے زیادہ تر کرداروں کے یہاں تقریباََ المیاتی شدت اختیار کر گیا ہے۔
نِکّو پہلے ہی سے اس حملے کے لئے تیار تھا۔ پولیس کے چھاپہ مارنے سے لے کر اس وقت تک تو اس نے چپ سادھے رکھی تھی اور اس سارے قضیے میں اس کا رویہ ایک بے گانے کا سا رہا تھا۔مگر اب جبکہ سب طرف سے اس پر تیز تیز نظروں کے حملے شروع ہوئے تو اس نے ایک جھرجھری لی اور اپنی مدافعت میں ایک لطیف مسکراہٹ جس میں خفیف سی شوخی بھی ملی ہوئی تھی اپنے ہونٹوں پر طاری کی۔ یہ مسکراہٹ چند لمحے قائم رہی۔ پھر اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ سب پر ایک نظر ڈالی اور بڑی خوداعتمادی کے لہجہ میں کہا:’’ آپ لوگ بالکل بھی فکر نہ کریں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ میں سے کسی کا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔ میرے ہاں پچھلے پانچ برس میں آج تک ایسا نہیں ہوا تھا۔ اسے تو، کیا کہنا چاہئے، مذاق سمجھو مذاق!‘‘
جواری

رات کو جب وہ کھلے آسمان کے نیچے اپنے گھر کی چھت پر اکیلا بستر پر کروٹیں بدل رہا تھا۔ تو اس سنگ مرمر کے ٹکڑے کا ایک مصرف اس کے ذہن میں آیا۔ خدا کے کارخانے عجیب ہیں۔ وہ بڑا غفورالرحیم ہے۔ کیا عجب اس کے دن پھر جائیں۔ وہ کلرک درجہ دوم سے ترقی کرکے سپرنٹنڈنٹ بن جائے۔ اور اس کی تنخواہ چالیس سے بڑھ کر چار سو ہوجائے .......... یہ نہیں تو کم سے کم ہیڈ کلرکی ہی سہی۔ پھر اسے ساجھے کے مکان میں رہنے کی ضرورت نہ رہے۔ بلکہ وہ کوئی چھوٹا سا مکان لے لے۔ اور اس مرمریں ٹکڑے پر اپنا نام کندہ کراکے دروازے کے باہر نصب کردے۔
کتبہ

اس کا جواب سننے کے لئے مولانا ہی نہیں بلکہ محسن عدیل کے سارے ساتھی بھی ان ہی جیسا اشتیاق رکھتے تھے۔چنانچہ بھٹناگر جو اکیلا ہی فرش پر بازی لگا رہا تھااس کے ہاتھ میں تاش کا پتّا پکڑا کا پکڑا رہ گیا۔ دیپ کمار سراغ رسانی کا ایک انگریزی ناول پڑھ رہا تھا۔ اس کی نظریں پڑھتے پڑھتے آخری لفظ پر جم کر رہ گئیں۔اور اس کے کان محسن عدیل کی آواز پر لگ گئے۔ قاسم اور شکیبی پا س ہی پاس بیٹھے نہ جانے کن تصورات میں غرق تھے۔ دونوں نے چونک کر پر معنی نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اور پھر نظریں عدیل کے چہرے پر گاڑ دیں۔
’’بھئی تم نہیں سمجھتے۔ ‘‘آخر محسن عدیل نے کہا۔ اس کی آواز دھیمی ہوتے ہوتے ایک سرگوشی سی بن گئی تھی۔ ’’بات یہ ہے۔ اس دن وہ آئی تھیں نارات کو۔ اور پھر غسل کیا تھا نا ٹھنڈے پانی سے۔ آج سردی بہت زیادہ ہے۔ میں نے سوچا۔ بے کار بیٹھے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو لگے ہاتھوں پانی ہی گرم کردیں۔‘‘
یہ کہتے کہتے اس نے پہلو بدلا۔ اپنا سر گاؤ تکئے پر ڈال دیا اور آنکھیں بند کرلیں۔
حمام میں

جوں جوں گھر قریب آتا گیا۔ اس کے قدم آپ سے آپ تیز سے تیز تر ہوتے چلے گئے۔ آخر جب وہ گھر کے سامنے پہنچا ۔تو ایک استہزا آمیز تبسم اس کے ہونٹوں پر جھلکنے لگا۔ اس نے اپنے دل میں کہا:
’’ یہ سچ سہی کہ میری بیوی باعصمت نہیں۔ لیکن آخر وہ عورتیں بھی کون سی عفیفہ ہیں جن کے پیچھے میں قلاش ہوگیا۔اور جن سے ملنے کے لئے میں آج بھی تڑپتا رہا ہوں۔‘‘
وہ اوپر کی منزل میں تن تنہا کھلے آسمان کے نیچے چھپرکٹ پر خوشبوؤں میں بسی ہوئی کچھ سو رہی کچھ جاگ رہی تھی۔ کہ اچانک کھڑکا سن کر چونک اٹھی۔ کان آہٹ پر لگا دئیے۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی سیڑھیوں پر سہج سہج قدم دھرتا اس کے پاس آرہا ہو۔
سمجھوتہ

’’اچھا ہی ہوا کہ ہم خود اس مکان میں نہ گئے۔ایک تو اس کی بناوٹ بڑی ناقص ہے دوسرے اس میں رہنا بھی خطرے سے خالی نہیں ۔مگر اب مجھے مکان بنوانے کا بخوبی تجربہ ہو گیا ہے۔اب کے میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گااور کدا نے چاہا تو ایسا مکان بنواؤں گا جو بے عیب ہوگا۔پھر خواہ کوئی مجھے کتنا ہی روپیہ دے میں اسے کرائے پر نہیں اٹھاؤں گا ۔وہ مکان ہمارے اپنے رہنے کے لئے ہوگا۔کیوں کہ لڑکیاں بڑی ہو گئی ہیں اور ہم سب کا ایک ہی کمرے میں سونا اخلاقی لحاظ سے اچھا نہیں‘‘
یہ کہہ کراس نے اخبار اٹھایا اور اس کا وہ کالم بڑے غور سے پڑھنے لگا جس میں خالی پلاٹوں کی خرید و فروخت کے اشتہار درج تھے۔
بحران

غلام عباس کی ا س دلچسپی کے متعلق عسکری صاحب نے جو نظری بات کہی ہے اس پر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ غلام عباس کی دلچسپی اور تحقیق و تفتیش کا مرکز یہ احساس ہے کہ انسان کے دماغ میں دھوکا کھانے کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ فریب خوردگی کے بغیر اس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور وہ ہر قیمت پر کسی نہ کسی طرح کا ذہنی فریب برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے مجموعے میں دس افسانے ہیں جن میں سے پانچ کا موضوع وضاحتاً یہی ہے اور یہی پانچ افسانے غلام عباس کے بہترین افسانے ہیں۔ ان افسانوں میں کردار یا تو کسی نئے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں یا کسی فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے۔ جواری کا ہیرو اپنے ذہنی فریب کے نشے میں ایسا مست ہے کہ وہ ذلیل ہونے کے بعد بھی نہیں چونکتا بلکہ اپنے آپ کو مخمور رکھنے اور دوسروں کو بھی اسی نشے کے دو ایک گھونٹ پلانے کی جان توڑ کوشش کرتا رہتا ہے۔ کتبہ میں باپ کے خوابوں کی عمار ت تو ڈھے جاتی ہے مگر بیٹا باپ کی قبر پر کتبہ نصب کراکے اپنے لئے اہمیت کا ایک نیا فریب ایجاد کرتا ہے۔ ’حمام میں‘ کے کرداروں کے سارے ذہنی فریب خاک میں مل جاتے ہیں اور وہ صاف صاف اس کا اعلان کردینا چاہتے ہیں مگر پھر بھی ان فریبوں کے بغیر انہیں اپنی زندگی ہی ناممکن نظر آنے لگتی ہے۔ چنانچہ وہ اس شکست و ریخت کے احساس ہی کو اپنے شعور سے مٹانے کی فکر شروع کردیتے ہیں۔ انہیں زندگی کی چند تلخ حقیقتوں کو راستہ دینا پڑتا ہے اور وہ اپنے مطالبات میں ترمیم گوارا کرلیتے ہیں تاکہ زندہ رہ سکیں۔ سمجھوتہ کے ہیرو نے اخلاقیات کی دیوار کے پیچھے جھانک کے دیکھ لیا ہے مگر وہ ذرا عملی قسم کا آدمی ہے۔ دل شکستہ نہیں ہوتا۔ اپنے نئے علم سے فائد ہ اٹھاتا ہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی عقلیت پسندی بھی ایک فریب نہیں ہے؟ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اخلاقی اقدار سے سمجھوتہ کیا ہے مگر یہ سمجھوتا دراصل اس نے اپنے آپ سے کیا ہے اور ایک نئی قید کو آزادی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ’آنندی‘ میں ایک فرد کیا پوری جماعت نے اپنے آپ کو جان بوجھ کر دھوکے میں مبتلا کیا ہے۔ شہر آنندی کی تعمیر اور اس کی آبادی اور رونق میں درجہ بدرجہ اضافہ انسانی حماقت کے قصر کی تعمیر ہے۔ ’آنندی‘ میں جو نئی اینٹ دوسری اینٹ پر رکھی جاتی ہے ، وہ اس قصر کو بلند تر اور مستحکم تر بناتی ہے۔ آنندی کیا بن رہا ہے ایک نیا فریب بن رہا ہے۔ اسی وجہ سے شہر کی تعمیر ایک خاص طنزیہ معنویت اختیار کرلیتی ہے اور اس کے طول طویل بیان ہی میں ساری افسانویت ہے۔ یوں دیکھنے میں تو شہر بسنے کی کہانی بڑے مزے لے لے کر بیان کی گئی ہے مگر دراصل یہ چٹخارہ ہی ایک دبا دبا زہر خندہ ہے، جیسے انسانی حماقت کے نئے سے نئے ثبوت مہیا کرنے میں مصنف کو لطف آرہا ہو۔‘‘
انسانی سائیکی پر اتنی غیر معمولی دسترس رکھنے والے غلام عباس کا فن ایک عرصے تک اس لئے بھی مرکز نگاہ نہ بن سکا کہ اس وقت کی سب سے طاقتور تحریک سے انہوں نے خود کو جوڑنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے لکھا ہے :
میری چیزیں ترقی پسندانہ رہیں لیکن میں نے لیبل لگانا پسند نہیں کیا۔ اس تحریک سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا میں سمجھتا تھا کہ ادب کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے۔ کسی سیاسی نقطۂ نظر کو ادب یا ڈرامے کے ذریعہ پھیلا یا جائے تو میں اسے ادب نہیں سمجھتا۔ ترقی پسند تحریک دراصل کمیونسٹ تحریک تھی اور اسی لئے پروفیسر احمد علی اور احمدندیم قاسمی اس تحریک کو چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ وہ کمیونسٹ نہ تھے۔*
غلام عباس نے کافی کچھ پڑھ لکھ رکھا تھا۔ جو افسانے انہوں نے لکھے وہ کسی اعتبار سے ہیٹے یا اس دور میں لکھے گئے نمائندہ افسانوں کے مقابلے میں کم رتبہ نہیں تھے باوجود اس کے انہیں وہ مقبولیت نہ مل سکی جو ان کے دوسرے معاصرین کے حصے میں آئی۔ غالباً پہلی بار محمد حسن عسکری نے اپنے مضمون میں غلام عباس اور ان کے فن کو نظر انداز کئے جانے کی بات کہی تھی۔ عسکری صاحب کی طاقتور تحریر نے غلام عباس کو فائدہ تو پہنچایا اور اب لوگ منٹو، کرشن چندر، بیدی اور عصمت کی طرح غلام عباس کے افسانے بھی کسی نو دریافت شدہ متن کی طرح پڑھنے لگے۔ قاری، عباس کو میسر آگیا تھا لیکن نقاد کی بے توجہی کا سلسلہ تو آج تک جاری ہے۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ’آنندی‘ سے جس غلام عباس کی ادبی شہرت استوار ہوئی اس کی تصانیف کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ ’جزیرۂ سخنوراں‘ (۱۹۴۱ء) سے چل کر ’آنندی‘ (۱۹۴۷ء) ، ’الحمرا کے افسانے ‘، ’جاڑے کی چاندنی‘(۱۹۶۰ء) ،’اور پھر کن رس‘ (۱۹۶۹ء)، ’دھنک‘ (۱۹۶۹ء) ، ’گوندنی والا تکیہ‘ (۱۹۸۳ء)، ’چاند تارا ‘ اور ان کے علاوہ اعلیٰ پائے کے تراجم کا ایک تخلیقی سلسلہ ہے۔ کیا کچھ ہے اس میں ۔ کتنے اعصاب شکن تجربے ہیں۔ بیانیہ کی تکنیک اور اس کے گرد گرد نموپذیر کرداروں کا کتنا غیر معمولی مشاہدہ ہے اور ان سب سے بڑھ کر انسانی سائیکی کا کتنا غیر معمولی ادراک۔ تنوع کی بات کریں تو غلام عباس کا مقابلہ اردو کے صرف گنے چنے فکشن رائٹروں کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے۔
***

منگل، 26 جولائی، 2016

کتاب اور صاحب کتاب/ اردو ادب

(الف) آخری سواریاں مصنّف: سید محمد اشرف، مبصّر: خالد جاوید

سید محمد اشرف ہمارے زمانے کے سب سے اچھے فکشن نگاروں میں سے ایک ہیں۔ زبان و بیان پر انھیں جو دسترس حاصل ہے وہ انھیں اپنے بیشتر ہم عصر افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ اپنے ثقافتی، تہذیبی، جغرافیائی اورذہنی ماحول کو جس طرح وہ محسوس کرتے ہیں اور پھر ان تمام محسوسات اور تجربات کو جس خوبی کے ساتھ اظہار کے نت نئے سانچوں میں ڈھال دینے پر قادر نظر آتے ہیں، یہ اُن کی ایک غیر معمولی صفت ہے، اس کی کوئی دوسری مثال فی زمانہ نظر نہیں آتی۔
اپنے افسانے ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ سے سید محمد اشرف نے جو تخلیقی سفر شروع کیا تھا وہ ان کے تازہ ترین ناول’’ آخری سواریاں‘‘تک آ پہنچا ہے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس درمیان اُن کی ہر تخلیق اردو فکشن میں ایک سنگِ میل ہی ثابت ہوئی ہے۔ چاہے وہ ’’آدمی‘‘ ہو یا ’’روگ‘‘ ، ’’ساتھی‘‘ ہو یا’’ نمبر دار کا نیلا‘‘۔
آج جب اردو میں معمولی درجہ کے ناولوں کا ایک سیلاب سا آیا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ’’آخری سواریاں‘‘ کی اشاعت بے حد نیک شگون ہے۔
بقول میلان کنڈیرا ناول اگر انسان کی پوشیدہ وجودی جہات کی دریافت نہیں کرتا تو اسے نہیں لکھا جانا چاہیے۔ ’’آخری سواریاں‘‘ اگرچہ گنگا جمنی ہندو مسلم تہذیب کے گُم ہوتے جانے کا استعارہ ہے مگر اس میں انسان کے وجودی نہاں خانوں پر جو ایک ناقابلِ یقین قسم کی روشنی پڑتی ہے وہ اس ناول کے متن کو اس کے تھیم سے بلند تر اور ماورا کردیتی ہے اور مختلف معنی کی ایک روشن زنجیر جگ مگ کرنے لگتی ہے۔ اس زنجیر کے حلقوں میں ناول کا متن اپنی پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ پیوست ہے ۔ ایک مثال پیش ہے:
’’جب میرے پیر اُس کے پاؤں جتنے گرم ہوگئے تو اُس نے چاہا کہ میری گردن کے نیچے اُس کی بانہہ آجائے۔ لیکن میں بہت نیچے سرکا ہوا تھا۔ جب وہ میری گردن کے نیچے ہاتھ رکھنے میں ناکام ہوئی تو اُس نے میرے سر کو اپنے پیٹ سے لگا کر مجھے لپٹا لیا۔ پھر میں نے ایک عجیب بات محسوس کی کہ اُس کے پیروں میں گرمی اور نرمی کے علاوہ وہاں دھڑکن جیسی ایک کیفیت تھی اور وہ دھڑکنیں بہت متواتر تھیں اور اُسی کے پیٹ پر جہاں میرے رُخسار اور کان لگے ہوئے تھے وہاں بھی اُس کے دل کی دھڑکنیں مجھے صاف سُنائی دے رہی تھیں۔ کیا پیروں میں بھی دھڑکن ہوتی ہے؟ کیا انسان کے پورے بدن میں ایسی دھڑکن ہوتی ہے جسے دوسرا محسوس کرسکتا ہے۔‘‘
(آخری سواریاں، ص70)
ایک اجتماعی منظرنامے میں وجودی جہات اس لیے روشن ہوئی ہیں کہ اِسی ناول کو Polyphonicکہاجاسکتا ہے۔ Polyphonic کی اصطلاح میخائیل باختن کی دین ہے جو بیسویں صدی میں ناول کا سب سے بڑا پارکھ اور شارح ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ناول کو ہمیشہ Polyphonic ہونا چاہیے یعنی اس میں محض ایک راوی کی نہیں بلکہ بہت سے راویوں کی آوازیں شامل ہونا چاہئیں۔ ’’آخری سواریاں‘‘ میں یوں تو محض ایک ہی راوی ہے مگر راوی کی یہ آواز ایک کورس کی طرح ہے جس کے ساتھ بہت سے کرداروں کی آوازیں اپنی اپنی انفرادیت کے ساتھ صاف سُنائی دیتی ہیں۔ کسی ناول میں کئی کرداروں کا ہونا ایک عام سی بات ہے مگر اس سے بہ قول باختن کوئی ناول Polyphonic نہیں ہوجاتا۔ ضروری یہ ہے کہ ناول کے متن اور اس کے شور میں ہر کردار اپنی ایک نمایاں اور منفرد آواز بھی رکھتا ہو۔
جیسا کہ گزشتہ سطور میں عرض کیا گیا ہے کہ’’ آخری سواریاں‘‘میں مصنّف/ راوی ایک کورس (chorus)کی مانند ہر جگہ موجود ہے اور اپنے کرداروں کے رویّے کا تجزیہ کرتا رہتا ہے اور اس کے پسِ پردہ جو عوامل کارفرما ہیں، ان پر تبصرہ بھی کرتا رہتا ہے۔ دراصل ’’آخری سواریاں‘‘ میں راوی/ مصنّف پوری شدّت کے ساتھ موجود ہے جس کے سبب ناول میں سوانحی عناصر بڑے لطیف اور فطری انداز میں پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ کوئی قابلِ گرفت بات نہیں بلکہ کسی بھی سچّے ناول کی ناگزیر خوبی ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہی ناول نگار کے سوانحی عناصر بہ وجوہ ناول سے غائب ہوئے ہیں یعنی اٹھارہ ویں صدی میں راوی بہ طور ناول نگار ہمیشہ اپنے ناول میں موجود رہا ہے۔ کیوں کہ ناول نگار کا کام کسی صورتِ حال کے جوہر کو کھنگالنا ہے صرف صورتِ حال کو پیش کردینا ہی نہیں ہے۔ سید محمد اشرف نے ماضی کی جو صورتِ حال پیش کی ہے وہ صرف بیان ہی نہیں ہے بلکہ انھوں نے اس صورتِ حال کے جوہر کو کھنگالنے کی بھی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ سید محمداشرف کی دل چسپی ماضی یا گنگا جمنی تہدیب کی تاریخ میں کسی Nostalgia سے عبارت نہیں ہے بلکہ وہ ماضی کی تاریخ کے ذریعے حال کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لہٰذا انھوں نے ’’آخری سواریاں‘‘میں کم و بیش قصّہ گوئی کا وہ انداز اختیار کیا ہے جس کے سرے اٹھارہویں صدی کے مغربی ناول یا کسی حد تک داستان سے بھی جاکر ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ’’احوالِ سفرِ سمرقند‘‘ وغیرہ کی شمولیت کو اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔
میں جب یہ ناول پڑھ رہا تھاتو مجھے یہ احساس ہوا کہ میں بھی ’’آخری سواریاں‘‘ میں سے ایک ہوں۔ ناول میں مجھے اپنے سوانحی آثار بھی پیدا ہوتے نظر آئے۔ ہم میں سے ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی تاریخ کو بار بار لکھتا رہتا ہے۔ ہم ہمیشہ واقعات کو اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق مفہوم دیتے رہتے ہیں اور ایسی اشیا کو بھلا ئے رہتے ہیں جو کسی معنی میں ہمارے لیے تکلیف دہ ہوتی ہیں مگر ناول نگار کا کام بہ قول میلان کنڈیرا فراموشی کے خلاف ایک جنگ لڑنا ہے۔ ایک جینوئین ناول نگار کے لیے کچھ بھی ناقابلِ فراموش نہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں ناول نگار نہ صرف ایک عام انسان سے بلکہ جیسا کے لارنس نے کہا ہے کہ وہ ایک سائنس دان، فلسفی اور ستی جتی سے بھی بلند ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ سب لوگ زندہ انسان کے مختلف اجزا کے ماہر ہیں مگر ان اجزا کی سالم صورت کا ادراک صرف ناول نگار کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح ناول ہی فقط ایک روشن کتابِ زندگی ہے۔ ’’آخری سواریاں‘‘ اس تعریف پر پورا اُترتا ہے کیوں کہ اس ناول کے ذریعے سید محمد اشرف نے ساٹھ کی دہائی کے اجتماعی ذہن کو ’ناقابلِ فراموش‘ کی دولت سے نوازا ہے۔ فرحت احساس نے کیا عمدہ بات کہی ہے کہ ’’آخری سواریاں‘‘ کو وقت کے گزران اور ایک ثقافتی وفات کا نوحہ بھی کہا جاسکتا ہے جو افسانے کی تخلیقی نثر میں شاید پہلی بار پڑھا گیا ہے۔‘‘
وہ نسل جو ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہوئی (میرا تعلق بھی اسی نسل سے ہے) اس جذباتی کشمکش سے پوری طرح مانوس ہوسکتی ہے جسے اس ناول میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نسل نے ایک بالکل مختلف زمانے میں اپنے بچپن اور جوانی کو پلتا بڑھتا دیکھا ہے اور اب ڈھلتی ہوئی عمر کے اس پڑاؤ پر یہ نسل اُس سے قطعاً مختلف بلکہ متضاد زمانے میں بھی سانسیں لے رہی ہے۔ تبدیلی کے جس پُر اسرار عمل اور وقت کے جس بھیانک اور فنا کے تماشے کی گواہ یہ نسل ہے شاید اس سے پہلے اور اس کے بعد کی نسلیں اس احساس تک نہ پہنچ سکیں۔ اس ناول کے سچے اور ایماندار قاری وہ ہیں جو خود بھی ایک پُر اسرار اور نادیدہ گاڑی میں بیٹھ چکے ہیں اور جلد ہی یہ گاڑی ایک ابدی کہرے میں گُم ہوجانے والی ہے۔
سید محمد اشرف کا ہم جیسے لوگوں پر بڑا احسان ہے اور یہ اردو فکشن کی تاریخ میں اضافے کا سبب بھی بنا ہے کہ انھوں نے دور کہرے میں گُم ہوتے ہوئے ندی کے کنارے کو اس کے پورے خد و خال اور مکمل منظر نامے کے ساتھ ایک دستاویزی حیثیت کی شے بنا دیا ہے اور اس کے لیے اُن کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ناول کو اس طرح لکھا گیا ہے کہ اس کی تکنیک اور اس کا متن ؍ مواد آپس میں پوری طرح ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ ناول ایک زبانی ساخت ہوتا ہے اس لیے ہر درس گاہ میں اُسے اس زبان و قوم کے حوالے سے ہی پڑھایا جاتا ہے جس سے ناول کا تعلق ہو۔ اس طور دیکھیں تو ’’ آخری سواریاں‘‘ کو جس درس گاہ میں پڑھایا جانا چاہیے اس کا نام اردو معاشرہ ہے اور ہم سب کو اسے طالبِ علموں کی طرح پڑھنا چاہیے کیوں کہ یہ ناول ہمیں فراموشی کے حملے سے بچاتا ہے۔ اس کا متن ہمیں ایک بھُولاہوا سبق یاد دلاتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو پہچاننے پر مجبور کرتا ہے۔ ’’آخری سواریاں‘‘ ہمارے حافظے کا ایک مضبوط قلعہ تعمیر کرتا ہے۔
’’رخصت کے تانگے رکشے چلے گئے تو میں پیدل پیدل اسٹیشن روانہ ہوا۔ میرے پیچھے کچھ اور لوگوں کو بھی روانہ کیا گیا۔ ریل گاڑی آنے تک میں پانی کی ٹنکی کے پیچھے کھڑا رہا۔ ریل آئی، دلہن کو اُس کے بیٹوں نے سہارا دے کرچڑھایا۔ وہ کھڑکی کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ گارڈ نے سیٹی بجائی اور ہری جھنڈی دکھائی۔ میں ٹنکی کے پیچھے سے نکل کر اس ڈبّے کے سامنے آیا۔ ریل چل دی۔ اُس کا بوڑھا، کمزور باپ ریل کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اُس نے ریل کے ساتھ چلتے اپنے باپ کے ہاتھوں کو کھڑکی کی سلاخوں کے ساتھ چھُڑایا۔ دوڑتے ہوئے باپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے ساتھ چلنے سے روکا۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کردیا۔ اب دلہن نے مجھے دیکھا۔ اس نے گھونگٹ نہیں پلٹا۔ مہندی رچا ہاتھ اُٹھا دیا اور اُٹھائے رکھا۔ دور تک وہ ہاتھ نظر آتا رہا۔ میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا۔ امّاں میرا ہاتھ اٹھائے کھڑی تھیں۔ ریل کے آخری ڈبّے کی لال بتّی دھیرے دھیرے اندھیرے میں ڈوب گئی۔ میں وہیں کھڑا رہا۔ امّاں نے میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر انگلیوں سے میرے بال برابر کیے اور کہا:’’اب اس پٹری پر یہ ریل واپس نہیں آئے گی۔‘‘ (آخری سواریاں، ص 93-94 )
مندرجہ بالا اقتباس محض ایک بیان نہیں ہے ۔ کسی بھی اچھے ناول میں چیزیں اتنی سادہ اور سہل نہیں ہوتی ہیں جتنی کہ نظر آتی ہیں۔ یہ بیان ایک پینٹنگ کی طرح جامد اور ساکت ہے جسے ساٹھ کی دہائی کی آنکھ گھورتے رہنے سے تھکتی نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ منظر متحرک اور سیّال بھی ہے۔ بڑے شہروں کی تو بات ہی کیا۔ اب کسی چھوٹے سے قصبے میں بھی یہ Visualنہیں نظر آئے گا۔ جذبات کی یہ شائستگی، انسانی جسم کی حرکات و سکنات کی یہ تنظیم و ترتیب اور نظم و ضبط اب قصّۂ پارینہ ہوچکا ہے۔ اب تو بس ایک سیاہ فحش باڑھ ہے جو اپنا منہ پھاڑے چلی آتی ہے۔ سارے آرٹ، ساری تہذیب اور ساری حیاداری کو اپنے کالے پانی میں بہا لے جانے کے لیے تیار۔
مگر یہاں سب سے حیرت زدہ کردینے والی بات یہ ہے کہ سید محمد اشرف کی زبان، اس شائستگی اور تنظیم و تربیت کو ایک توانا اور جاندار پیکر میں تبدیل کردیتی ہے۔ دراصل اُن کی سب سے بڑی طاقت تو اُن کی یہ پاکیزہ اور بامعنی زبان ہی ہے جس کے ذریعے وہ کاغذ ایک سلولائیڈمیں بدل جاتا ہے جس پر اشرف کے قلم کی روشنائی پھیلتی ہے۔
زبان کے حوالے سے یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ اشرف کی تمام تحریروں میں کلچرل کوڈز، فطری اور قدرتی کوڈز کے ساتھ ایک استعاراتی نظام قائم کرلیتے ہیں اور سب سے بڑا کرشمہ جو اس عمل کے دوران رونما ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ زبان خود بھی ایک فطری یا قدرتی مظہر میں ڈھل جاتی ہے۔ ایک جنگل کی سی پُر اسراریت اور پاکیزگی لیے۔ میرا خیال ہے کہ سید محمد اشرف کی زیادہ تر تخلیقات کا مطالعہ ماحولیاتی تنقیدی نقطۂ نظر سے بھی کیا جانا چاہیے۔ ادب اور ماحول کے درمیان جو رشتہ ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور بہ قول Cheryll Glotfelty کسی فن پارے کی پوشیدہ اخلاقیات اس وژن کے ذریعے سامنے لائی جاسکتی ہیں۔ مگر ابھی میں eco-criticism اور اس مسئلے کو کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتا ہوں لیکن ناول سے یہ اقتباس ضرور پیش کرنا چاہوں گا:
’’روزانہ صبح جاگ کر مایوس ہوتا اور رات کو غمگین ہوکر سوجاتا۔ د ن میں کئی بار میلے آسمان کو تاکتا۔ چھُٹّی والے روز دوپہر کو باہر جاکر اس سبز چڑیا کا انتظار کرتا۔ ایک دن دو پہر سے پہلے میں نے کنویں سے پانی کھینچا اور کٹورے کی مدد سے نل کے منہ میں اتنا بھردیا کہ لُو اور دھوپ سے اگر خشک بھی ہوجائے تو چند قطرے ضرور باقی رہیں۔ اس دن ٹیکا ٹیک دوپہر میں دروازے کے پیچھے کھڑے ہوکر میں نے دیر تک انتظار کیا۔ اچانک وہ مجھے کنویں کے پاس والی دیوار پر نظر آئی۔ میرا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اُڑ کر وہیں ایک چھوٹا سا چکّر لگا کر پھر اسی دیوار کی منڈیر پر بیٹھ جاتی۔ وہ نل کی طرف نہیں آرہی تھی۔ وہ شاید پائپ سے مایوس ہوچکی تھی۔ اچانک وہ پھر سے اُڑی اور کنویں کے من کھنڈے پر چھوٹے چھوٹے چکّر لگانا شروع کردیے۔‘‘
(آخری سواریاں،ص 105 )
’’اس نے کنویں کے اندر وہ چمکتا ہوا پانی دیکھ لیا ہے۔ میرے دل نے مجھ سے کہا۔ کیا یہ کنویں کے اندر جاکر اپنا قطرہ لائے گی؟ لیکن یہ تو ہمیشہ بیٹھ کر پانی کا قطرہ لینے کی عادی ہے۔ تو کیا یہ کنویں میں جاکر ڈوب جائے گی۔ پھر میں بالٹی سے پانی کھینچوں گا تو اس میں ایک مُردہ سبز چڑیا بھی ہوگی جس کی چونچ کھُلی ہوئی ہوگی۔‘‘
(آخری سواریاں،ص105)
’’یہ نماز بھی ہے اور دعا بھی ہے۔ اس میں مخصوص سورتیں پڑھی جاتی ہیں۔ دعا کے لیے جب ہاتھ اُٹھاتے ہیں تو اپنی ہتھیلیاں چہرے کی طرف نہیں اوپر کی طرف بلند کر دیتے ہیں۔ عاجزی کے ساتھ اسے دکھاتے ہیں کہ اے مالک و معبود ہمارے ہاتھ خالی ہوگئے ہیں۔ سورج نکلنے کے بعد گرمی میں جاکر جنگل میں اس لیے پڑھنا لازمی ہے کہ عاجزی اور مشقّت کے بغیر کوئی بڑا انعام نہیں ملتا۔ اپنے پالتو جانور بھینس، بکریاں اور بیل بھی لے کر چلنا۔ وہ سب بھی دعا کرتے ہیں۔‘‘
(آخری سواریاں، ص102)
مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ سید محمد اشرف نے اس ناول کو داخلی طور پر دو حصّوں میں لکھا ہے۔ پہلا حصّہ وہ ہے جو جمّوکے رخصت ہونے پر ختم ہوجاتا ہے۔ ’’آخری سواریاں‘‘ میں سب سے پہلی جھلک ہمیں جمّو میں ہی نظر آتی ہے اور باقی ناول کو دوسرے حصّے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصّے میں انفرادی معصومیت کی دبازت زیادہ ہے اور دوسرے میں اجتماعی منظر نامے میں وجودی عناصر کی دریافت کی گئی ہے۔ تقریباً دو الگ الگ کہانیاں ہونے کے باوجودزیریں سطح پر دونوں کا تھیم ایک ہی ہے اور اس طرح ناول میں وحدت پیدا ہوجاتی ہے۔ انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی آپس میں مل کر ایک اِکائی خلق کرتی ہیں اور اس طرح ناول کا تھیم دو مختلف آوازوں کی جُگل بندی کے ذریعے تخلیقی طور پر ایک بامعنی اور بلند مقام حاصل کر لیتا ہے۔
مگر یہ بھی ہے کہ کوئی بھی تخلیق چاہے وہ ناول ہو یا افسانہ یا شاعری اپنی ماہیت میں ایک ہیجانی اور وجدانی تجربہ ہی ہوتی ہے۔ اس قسم کے معنی تو تجربے کے بعد ہی اس میں سے برآمد کیے جاتے ہیں۔ خود اشرف کے ناول میں کسی تبلیغ یا تلقین کا رنگ نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے تخلیقی تجربے کو خاموشی اور آہستگی کے ساتھ کاغذ پر اُتاردیا ہے۔
میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ آج ناول بھی ہر کلچر اور ہر آرٹ کی طرح ماس میڈیا کے ہاتھ میں آچکا ہے۔ یہ سہل پسندی کا دور ہے۔ لکھنے والوں سے زیادہ تو قاری سہل پسند ہوچکے ہیں۔ یہ ماس میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر کے ذریعے ہورہا ہے۔ ناول لکھے جانے کی جگہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ناول کا اسکرین پلے لکھا جارہا ہو۔ ہماری بصیرت، ہمارا عقیدہ اور ہماری فکر ریزہ ریزہ ہورہی ہے۔ اِس لیے یہ بہت اطمینان بخش امر ہے کہ ’’آخری سواریاں‘‘ ایسے زمانے میں سامنے آیا ہے جب ایک سنجیدہ اور گہرے ناول کی شدّت سے کمی محسوس کی جارہی تھی۔ ایسے ناول کو ماس میڈیا کبھی نہیں ہڑپ سکتا۔ آخری سواریاں خالص ادبی شرطوں پر پڑھے جانے کا اصرار کرتا ہے۔ یہ ناول شاید اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو زندگی کو سہل تر بنانے کے درپے ہیں بلکہ ان کے لیے جو اسے بامعنی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
میں سید محمد اشرف کے اس ناول پر بہت سی رسمی باتوں اور ادبی کلیشوں سے بہ وجوہ گریز کرتا ہوں اور آخر میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ’’آخری سواریاں‘‘ جاتے ہوئے میں نے بھی دیکھی ہیں۔
میں بھی اس کا گواہ ہوں اور میری نسل کے میری طرح کے بے شمار افراد سید محمد اشرف کے ساتھ سڑک کے اُسی موڑ کی طرف دیکھتے ہوئے اُسی جگہ بیٹھے ہیں،یہ دیکھنے کے لیے کہ سواریاں واپس آتی ہیں یا نہیں۔ 
***

(ب) نعمت خانہ مصنّف:خالد جاوید، مبصّر: سیّد خالد قادری


غالباً 1994 میں محمود ایاز کی ادارت میں شائع ہونے والے معروف ادبی جریدے ’سوغات‘ کے ستمبر کے شمارے میں خالد جاوید کی ایک نظم ’وعدہ‘ میری نظر سے گزری تھی۔ یہ نظم کچھ یوں تھی:
میں تمھارے پاس آؤں گا
تب شدید بارش ہورہی ہوگی
تمہارے گھر کے دروازے کے نیچے دلدل ہوگی
وہاں کچھ مویشوں کے کھروں کے نشان بھی ہوں گے
ان کھروں کے نشانوں پر میرے قدم شاید تم تلاش نہ کر پاؤ
جب کائی لگے سیاہ تالاب میں
کنارے اُگے اداس درخت کے
سارے جنگلی پھول گر چکے ہوں گے
تب میں آؤوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں میرے بدن کی بو کیسی ہوگی
کیچڑ میں لتھڑے پھول جیسی
مٹی جیسی
یا مچھلیوں جیسی
مجھے نہیں معلوم میں تمہارے پاس کیوں آؤں گا
لیکن میں نے آنے کا وعدہ کیا تھا کبھی
اس لیے میں آؤں گا
اور پھر تاریک سناٹے میں
دور ہوتی ہوئی راہ رو کی چاپ کی طرح
معدوم ہوجاؤں گا۔
ان دنوں اردو میں جیسی شاعری ہورہی تھی اس لحاظ سے نظم قابلِ توجہ تھی۔ پھر اس کے بعد ایک عرصے تک خالد جاوید کا نام بحیثیت Budding Poet کے ہی ذہن میں محفوظ رہا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب وہی نام کچھ الگ نہج کی چونکا دینے والی کہانیوں کے ساھ بھی جڑا دکھائی دیا تو اندازہ ہوا کہ غالباً ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا جو کئی دوسرے معروف ادیبوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے یعنی کہ وہ ادب میں اپنی تخلیقیت کی ابتدا شاعری سے کرتے ہیں مگر پھر اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بعد آخر کار اپنے لیے اس صنف کو دریافت ہی کرلیتے ہیں جو ان کے تخلیقی تشخص سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ اب پلٹ کر سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید وہ نظم بھی ان کے مستقبل کے تخلیقی رویے کو Anticipate کرتی ہوئی ہی تھی۔ پھر ایک دو دہائیوں کے اندر یہی نام تنازعات و تعصبات میں گھرے رہنے کے باوجود رد و قبول کے مراحل طے کرتا ہوا قارئین کے ایک بڑے طبقے کے لیے مابعد جدید اردو فکشن کا شناخت نامہ تصور کیا جانے لگا۔
عرصے سے اردوکا جو فکشن نظر سے گزرتا رہا ہے اس میں اکثر تازہ کاری اور تخلیقی توانائی کا فقدان محسوس ہوا ہے۔ کچھ استثنائی تخلیقات کو چھوڑ کر ان میں سے زیادہ تر ایک گھسی پٹی ڈگر پر چلنے کے باعث یکسانیت اور ذہنی بنجر پن کا احساس دلاتی ہیں۔ ہر چند کہ ان کی بھی تعریف و تحسین میں یاروں نے صفحے کے صفحے سیاہ کر ڈالے ہیں اور کرتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب خالد جاوید جیسے کسی منفرد ادیب کی تخلیق کسی ادبی دریافت کے طور پر سامنے آجاتی ہے تو آپ حیرت و مسرت سے دو چار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ان کی چند کہانیاں پڑھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ بحیثیت ایک تخلیق کار ان پر ہر راز افشاء ہوچکا ہے کہ فکر کے ازکار رفتہ سانچوں کو توڑ کر نیز اظہار کے وسیلوں (لفظ و لسان) کو روز مرہ کے عمومی استعمال سے دور لے جاکر ہی ایک عام ادیب اپنی انفرادی شناخت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات کو معنی خیزی کی نئی جہات سے روشناس کروا سکتا ہے۔ چناں چہ وہ ایک فکشن نگار کے لبادے میں مسلسل مروّجہ ذہنی تشکیلات کو مشتبہ بنانے اور اپنے چونکا دینے والے پیرایۂ اظہار میں ان کی نفی کے ذریعے نئی فکری و حسی تشکیلات کی ترسیل میں لگے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’موت کی کتاب‘‘ اور حال میں شائع ہوا ناول ’’نعمت خانہ‘‘ بھی بالواسطہ طور پر اسی اہم ادبی منصب کی تکمیل کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ناول کے روایتی Format سے انحراف کے ذریعہ بحیثیت ایک ادبی صنف اردو میں اس کے فروغ کے امکانات میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔
در اصل دنیاے انسانی اور موت و زیست کے مسائل بہت وسیع ہیں اور ان سے متعلق فکشنل بیانیہ خود اپنے آپ میں کسی قدر کا حامل نہیں۔ اسے تخلیق کرنے والا ہی اس کا موضوع و مزاج متعین کرتا ہے۔ خالد جاوید اپنی فکری تجریدیت اور الفاظ و اسلوب کی ندرت سے ان سب سے متعلق اپنی تخلیقات کو ایک ایسا قالب عطا کردیتے ہیں جو اجنبی اور نامانوس ہوتے ہوئے بھی ذہن و ادراک کو متحرک کرسکتا ہے۔ ’’برے موسم میں‘‘ یا ’’آخری دعوت‘‘ کی کہانیاں ہوں یا ’’موت کی کتاب‘‘ یا ’’نعمت خانہ‘‘ کا متن ہو سبھی جمالیات کے روایتی تصورات یا نام نہاد مطلق سچائیوں کی اپنے اپنے طور پر قلب ماہیت کرتی نظر آتی ہیں بلکہ کبھی کبھی تو انھیں اُلٹا کرکے سر کے بل بھی کھڑا کردیتے ہیں۔ ان کا بیانیہ Cause اور Effect یا عمل او ررد عمل وغیرہ کے اصولوں سے بندھا نہیں لگتا کہ یہاں واقعات یا Happenings کی لسانی تشکیل سے زیادہ کیفیت یا صورت حال کی لفظی تشکیل پر زور دکھائی دیتا ہے۔
اپنے اس مخصوص قسم کے فکشنل بیانیہ کے خالد جاوید خود موجد ہیں۔ الفاظ کی اس پُراسرار دنیا میں دبے پاؤں داخل ہوکر اس سے ایسا رشتہ انھوں نے کب اور کیسے جوڑ لیا اور کب اپنے اندر کی چنگاری کو پکڑ کر اس کے حوالے کردیا اس پر روشنی وہ خود ہی بہتر طور پر ڈال سکتے ہیں۔
اپنے تخلیقی عمل کے بارے میں حالیہ ناول ’’نعمت خانہ‘‘ کے پیش لفظ (جیسے وہ متضاد بیانات کی پانچویں قسط کہتے ہیں) میں بھی اپنے مخصوص انداز میں انھوں نے کچھ چونکا دینے والی باتیں کی ہیں:
’’میں اپنی الٹی سیدھی تحریروں کو ناول یا کہانی کا نام دیتا رہتا ہوں مگر فکشن کو بحیثیت ایک ادبی صنف لکھنے میں بہرحال ناکام ہی ثابت ہوا ہوں۔ میرا فکشن ایک جیتے جاگتے انسان کے شعور کے ذریعے لکھا گیا ہے۔ ’ادیب‘ نام کی کسی پیشہ ور مگر عمومی ہستی کے ذریعہ نہیں۔‘‘
’’میرے شعور کی مٹی دکھ سے گندھی ہوئی ہے۔ اس لیے میں جو بھی لکھتا ہوں اُسے فکشن کی ایسی دستکوں میں بدل دیتا ہوں جو ضمیرکے دھول بھرے دروازے پر دی جاتی ہیں۔ میرا انفرادی شعور (اجتماعی شعور کی طرف نہ کان دھرتا ہوں نہ میرا ناول یا افسانہ ، افسانہ یا ناول) مروجہ ادبی اخلاقیات اور جمالیات کو تواتر سے صدمہ پہنچانا چاہتا ہے۔ جمالیاتی انبساط کو مد نظر رکھ کر گزشتہ 25 سال سے نہ میں نے کوئی سطر پڑھی نہ لکھی۔‘‘
’’میں محض اپنے دماغ کے منطقی حصے نہیں لکھتا ۔ میرا شعور اکیلے ہونے کے اس تکلیف دہ عمل میں سارے جسم کو شامل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ میرے ناخن جو مردہ خلیوں کے سوا کچھ نہیں پتھر پر خراشیں ڈالنے کے لیے خود بخود لپکنے لگتے ہیں۔‘‘
’’میں اپنی تحریروں کے بارے میں کوئی بات کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں اب کچھ نہیں معلوم کیوں کہ ان سطروں کے لکھنے سے بہت پہلے ہی وہ میرے شعور سے باہر جاچکی ہیں (لاشعور کا مجھے علم نہیں)۔‘‘
یہ باتیں متضاد بھی ہیں اور چونکا دینے والی بھی مگر کیا یہ بھی سچ ہے کہ کائنات فطرت اور انسان سے تعلق پر بات تضاد اور پیچیدگی (Complexity) سے ہی عبارت ہے۔ ویسے خالد جاوید اپنی غیر روایتی سوچ اور اپنے پوری طرح شخصی و انفرادی تصورات سے متعلق کچھ نہ کچھ Clue اپنی بیش تر تحریروں میں یہاں وہاں فراہم کرتے رہتے ہیں ایک طرح کی یاد دہانی (Reminder) کے طور پر کہ انھیں اوروں کی طرح نہ سمجھ لیا جائے۔ (یہ تشویش Anxiety) ہر اس اہم تخلیق کار میں پائی جاتی ہے جو روایات کو رد کرکے خود اپنے لیے نئے راستے بناتا ہے) تو بہرحال ان اشاروں سے ان کے تخلیقی تشخص کا جو خاکہ ابھرتا ہے وہ کچھ اس طرح کا ہے۔
لکھنا ان کی ایک شخصی اور اندرونی ضرورت ہے جو ان کے لیے محض ایک Vocation یا پیشہ نہیں۔ چنانچہ ان کی تحریریں کسی مخصوص ادبی روایت میں ڈھلی ہوئی نہیں۔ نیز یہ کہ ان کے لیے یہ تحریریں ازکار رفتہ اخلاقیات و جمالیات کو رد کرنے کا ذریعہ بھی ہیں کہ وہ روایتی شعریات سے فاصلہ بناکر اپنے انفرادی شعور (ضمیر) اور ضمیر کی تحریک پر ایک الگ شعریات کی تشکیل کرنا چاہیں گے جن کے تحت تخلیقی عمل میں دنیاوی علم، منطق یا عقل کی موشگافیوں سے زیادہ چھٹی حس (Intuition) اور ادراک سے کام لیا جاسکے اور روح کے بوجھ سے دبے انسانی جسم کے آشوب کی پوری کہانی کہی جاسکے۔ اقساط میں ایک کے بعد دوسری اپنی ہر تخلیق میں وہ یہی کہانی غیر معمولی کامیابی سے کہتے آرہے ہیں جب کہ حالیہ ناول ’’نعمت خانہ‘‘ میں ان کی اس کہانی کا بیانیہ غیر معمولی وفور و شدت کا حامل ہے) مزید یہ کہ صرف ان کا ذہن نہیں بلکہ ان کا تمام تر وجود شامل ہوتا ہے ان کے تخلیقی عمل میں۔
خالد جاوید کی تحریروں کے درون میں جایا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مختلف موضوعات سے وابستہ مروجہ فکر یا چیزوں کے تسلیم شدہ رشتوں پر بہ انداز نو نظر ڈالنے کا عمل ان کے فکشنل بیانیہ پر حاوی ہے۔ (آج سے تقریباً سو سال پہلے انگریزی شاعر و نقاد Coleridge نے فینسی (Fancy) سے الگ اسے پرائمری Imagination کانام دیا تھا جو اس کے نزدیک اشیاء کے پرانے رشتوں کو Revise یا رد کرکے انھیں نئی صورتیں دیتی ہے اور یوں معنویت کے نئے تلازمے وجود میں لاتی ہے)۔ مزید یہ کہ ان کا بیشتر بیانیہ ایک مرگ آسا تخیل سے برآمد کیا گیا لگتا ہے جہاں ہر شے پر کہنگی، زوال آمادگی، انہدام اور موت کی مہریں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں تعمیر اور انہدام کے درمیان کوئی وقفہ نہیں۔ ایسے Haunted تخیل کی خلق کی ہوئی لفظی تشکیلات ہیں جہاں زندگی کا ہر مظہر تنظیم سے انہدام کی جانب رواں دواں ہے۔
اس طرح اسے عصری ادب میں کافکائی تخیل کی بازیافت کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اشیا اور زندگی کے مظاہر کی مسخ شدہ صورتوں کے تصور سے زندگی کی حقیقت کو سامنے لاتا ہے اور یوں بیانیہ کے منظر نامے کو مایوسی،تشویش، سنسنی خیزی یا خوف و ہراس سے بھر سکتا ہے۔
خالد جاوید کا پہلا ناول ’’موت کی کتاب‘‘ خود اپنی ہستی اور اس کی حریف قوتوں کے درمیان کشاکش کا ایک ایسا ڈرامائی رزمیہ معلوم ہوا جو وجود کی بریدگی سے شروع ہوکر ماں کی چھاتیاں چوس کر نئی زندگی کے حصول کی آرزو پر ختم ہوجاتا ہے۔ اپنی ہستی کا خارجی وجود یا صبح سے باہر نکلنے کے لیے اکسایا جانا۔ موت یا خودکشی پر ۔’’باہر نکلو اس ذلیل جسم سے باہر نکلو‘‘۔ اور پیدائش سے قبل ہی موت سے سابقہ۔ شاید یہی اس کے بیانیہ کا جبر (Compulsion) بھی ہے (وہ بات منظر یا واقعہ جو بیان کنندہ کی مجبوری کے طور پر اس میں موجود اس بات جذبے یا ارادے کی نمائندگی کرتا ہے جو مصنف کے تحت الشعور یا تخلیقی تشخص پر حاوی ہو)۔ چنانچہ اپنے دوسرے ناول ’’نعمت خانہ‘‘ کو بھی وہ ’’موت کی دوسری کتاب‘‘ کہتے ہیں بلکہ اپنی ہر آنے والی تحریر کو موت کی ایک اور کتاب۔ مگر مجھے کسی سنکی یا شہرت پرست ادیب کا محض سنسنی پھیلانے کے لیے دیا گیا بیان نہیں لگتا بلکہ مصنف کے اپنے شعور کے مطابق اُس کی اپنی زبان میں زندگی کے حوالے سے موت کی ناگزیریت کا ایک بلند بانگ اعلان ہوسکتا ہے۔
خالد جاوید کے بیانیہ کا ایک اور نمایاں فیچر اس کا بڑی حد تک Sinister اور Eerie ہونا بھی ہے۔ اسے فرائیڈین تنقیدی اصطلاح میں ’Uncanny‘ (اجنبی، غیر مانوس، عجیب و غریب یا ڈراؤنا) کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثالیں کسی نہ کسی درجے میں ان کے یہاں جگہ جگہ ملیں گی۔ ان کے نئے ناول ’’نعمت خانہ‘‘ سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:
’’باورچی خانے کی گرتی ہوئی دیواروں پر بے شمار کاکروچ اکٹھا ہو گئے ہیں۔ عدالت لگ گئی ہے۔
باورچی خانہ۔ ایک خطرناک جگہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا کبھی اس بات پر غور کیا گیا کہ باورچی خانے کی تقریباً تمام اشیا میں چند خاص مواقع پر ایک خطرناک ہتھیار بن جانے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ چاہے وہ ترکاری کاٹنے والی چھری ہو، توا ہو، چمٹا ہو پھکنی ہو، جلتی ہوئی لکڑی ہو...‘‘
’’گھر کے کسی اور حصے میں اتنے خطرناک بہروپئے نہیں پائے جاتے جتنے کہ رسوئی میں اور گھر کے کسی بھی مقام پر عورتیں اتنی بر انگیختہ بر افروختہ حسد سے بھری ہوئی، تشدد آمیز اور چھوٹی ذہنیت کی نہیں ہوتیں جتنی باورچی خانے میں۔ ‘‘
’’انسانی آنتوں کی بھوک اور دو وقت کی روٹی میں ایک پُراسرار اور بھیانک شہوت چھپی ہوئی ہے۔ یہ شہوت صرف سیاہی اور خون کی طرف بڑھتی ہے اور انجام کار بس ایک فحاشی اور مغالطہ آمیز بدنیتی بچی جاتی ہے جس کے نشے کے زیر اثر کال پیلی اور گوری عورتیں گرم برتنوں کو اپنے سنّ ہاتھوں سے اٹھاتے رہنے کی عادی ہوکر باورچی خانے کے برتنوں سے وہی سلوک کرنے لگتی ہیں جو وہ اپنے مردوں سے کرتی ہیں۔ ان کے مرد آہستہ آہستہ چھوٹے بڑے برتنوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ باورچی خانے میں وہ سب بے حد حاوی اور خود غرض ہوجاتی ہیں۔ عورتیں باورچی خانے کے برتنوں سے مباشرت کرتی ہیں۔‘‘
(’’نعمت خانہ‘‘۔ پہلا حصہ۔ ’ہوا‘ سے)
یہاں گھر کی عام چیزوں جیسے کہ باورچی خانے کے سامان یا روز مرہ کے معمولات جیسے کہ گھر کی عورتوں کا باورچی خانے میں کام کرنا وغیرہ کو مصنف کا Wearied تخیل ایک یکسر نئی اور سنگین معنویت سے بھر دیتا ہے۔۔۔ ایک ایسی Fatalistic تخلیقیت جو روز مرہ سے اخذ کی گئی امیجری کو مہلک اور سنگین بنا دیتی ہے۔ Domestic surrealist کی ایسی مثالیں امریکی ادیبوں جیسے کہ Dylan Thomas کے شعری مجموعے ’’Death and Entrances‘‘ کی نظموں، Marine-Moor کی شاعری اور ملویا پلاتھ کی نظموں یا ان کے معروف ناول ’’The Belljar‘‘ وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
روح کی پاکی کے تصور کے برخلاف ابن آدم کے جسم کے بدصورتی، بدبو، غلاظت اور زوال آمادگی وغیرہ سے رشتے کی ناگزیریت کا شدید احساس بھی خالد جاوید کے فکشنل بیانیہ پر حاوی ہے اور وہ بحیثیت ایک حساس فنکار انسانی وجود کی اس سفاک حقیقت سے نہ صرف پوری دیانت داری بلکہ ایک حیرت انگیز جرأت مندی کے ساتھ معاملہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بنیادی جبلّتوں کی تسکین میں لگے آج کے نام نہاد مہذب انسان کو بھی اس کی ماقبل تہذیب کی اصل حالت کے پس منظر میں میں رکھ کر ان کا وزن ایک مسخ شدہ (Distorted) اور مضحکہ خیز (Ridiculous) شکل میں دیکھتا ہے۔
ان باتوں کی توثیق کے طور پر ’’نعمت خانہ‘‘ سے چند مثالیں درج کی جاتی ہیں:
’’یہ پوری گلی ہیضے کے مریضوں سے اور پیشاب پاخانے کی ناگوار بدبوؤں سے بھرتی رہتی تھی۔ مریض ایک کے اوپر ایک لدے رہتے اور اکثر اپنی اپنی الٹیاں اور قے برداشت نہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہی کردیتے... وہ سب لگاتار الٹیوں بخار اور کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے انتہائی لاغر اور کمزور ہوچکے تھے۔ ان کی کھال گوشت اور ہڈیوں میں پانی کی بوند تک نہ بچی تھی۔‘‘
’’ان دونوں کی ہذیانی چیخوں سے سارا گھر جاگ جاتا ہے۔ مکھیاں دونوں پر بری طرح چمٹ گئی تھیں۔ چاندانی رات میں مکھیوں کے سائے بھیانک تاریک دھبّوں کی طرح اڑتے اور گردش کرتے پھر رہے تھے۔ فیروز خالو کو میں نے بھاگتے ہوئے زینے کی جانب جاتے دیکھا۔ ان کی قمیص اور پتلون ان کے کندھوں پر تھی۔ وہ بار بار اپنے نچلے حصے پر ادھر اُدھر ہاتھ مار رہے تھے شاید ان کے پوشیدہ اعضاء کو مکھیوں نے ڈنک مارے تھے۔
ثروت ممانی بری تک چیخیں مار رہی تھیں اور دیوانوں کی طرح زمین پر لوٹیں لگارہی تھیں۔ کبھی وہ اٹھ کھڑی ہوتیں اور کبھی بگولے کی طرح چکرانے لگتیں۔ ان کے بال کھل کر ان کے گھٹنوں تک جارہے تھے۔ میں نے انھیں اپنا جمپر اتارتے دیکھا۔ ان کی غیر معمولی طور پر بڑی اور بھاری بھاری لٹکی ہوئی چھاتیوں کی پرچھائیں کبھی زمین پر پڑتی کبھی دیوار پر۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ کوئی خوفناک تانڈوے ناچ ناچے رہی ہوں۔ ایک چیڑیل ایک آسیب کی مانند۔ وہ کسی غیر انسانی شے میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بالکل خاموش ہوکر وہ زمین پر ایک وزنی درخت کی مانند گر پڑیں۔ نور جہان خالہ نے ثروت ممانی کے ننگے بدن پر اپنا سوتی دوپٹہ ڈال دیا تھا مگر ڈوپٹہ ڈالنے سے پہلے میں نے ان کے سینے کی طرف دیکھا تھا۔ وہاں اب چھاتیاں نہ تھیں۔ وہ سوج کر ایک بڑے سے تھیلے میں بدل چکی تھیں۔ مجھے آٹا لانے والا تھیلا یاد آگیا۔‘‘
’’مگر انجم بانو کی ہوس اس کی روح میں پوشیدہ تھی اور اس بھیانک ہوس اور شہوت کا ساتھ دینے میں اس کا بیمار خون کی کمی کا مارا ہوا یرقان زدہ جسم ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے وہ جسم ایک خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگا۔ انجم بانو کی روح کی پیاس نہ جانے کتنی صدیوں کی پیاس تھی اور یہ پیاس اس لیے بے قابو تھی کہ انجام بانو کا جسم بیمار تھا۔ روح جسم پر اپنی شہوت، اپنی خواہش اور اپنی ہوس کے وار پر وار کھاتی جارہی تھی۔ وہ کمزور بیمار مگر پاکیزہ جسم کے ٹکڑے ٹکرے کرکے ہلاک کردینے کے درپے تھی۔‘‘
یہ آخری مثال یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مصنف نے روح اور جسم کے درمیان رشتے کے روایتی تصور کو جہاں روح جسم کے حصار میں مجبور و بے بس ہے اور اس قید سے آزاد ہونے کے لیے مضطرب تقریباً الٹا (Reverse) کردیا ہے۔ یہاں جسم پر روح کا جبر بھی ہوسکتا ہے اس کے ان مطالبات کی صورت جنھیں پورا کرنا جسم کے بس میں نہیں۔
خالد جاوید کے فکشن میں موجودہ کائنات اور انسانی زندگی کا منظر نامہ واضح طور پر نہ صرف مضحکہ خیزی و مہملت سے عبارت دکھائی دیتا ہے بلکہ اس پر غالب Imagery کے حوالے سے غور کیا جائے تو ایک مہلک قسم کی بربریت (Brutality)، اذیت پسندی اور تشدد سے بھی۔ اوپر دی گئی مثالوں کے علاوہ بھی ان کے بیانیہ میں ایسی مثالیں قدم قدم پر مل جائیں گی۔ ’’نعمت خانہ‘‘ سے کچھ اور مثالیں پیش کی جارہی ہیں:
’’وہ بہت ضدی اور شیطان قسم کا بچہ تھا۔ ایک دن اپنے باورچی خانے میں اودھم مچارہا تھا۔ وہاں بر ادے کی انگیٹھی دہک رہی تھی۔ ایک پل کے لیے ماں کی نظر بچی تو ببّو کے جی میں کیا آئی کہ انگیٹھی پر جاکر بیٹھ گیا۔ اس کے منھ سے دردناک چیخیں نکلیں۔ وہ رو بھی نہ سکا۔ اس کا رونا صرف چیخ بن کر رہ گیا۔ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی چیخ۔ اس کے ننھے معصوم پوشیدہ اعضاء جل کر رہ گئے۔ نچلا دھڑ بری طرح جھلس گیا۔ ببّو اب چالیس سال کا ہوچکا تھا۔ اس کا دماغ خراب ہوچکا تھا۔ وہ گھر میں ننگاگھوما کرتا تھا اور رات دن چیخیں مارا کرتا، بالکل اسی طرح جیسے وہ آج بھی جلتی ہوئی انگیٹھی پر بیٹھا ہوا ہو۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میں کبھی قریب سے ببّو انگیٹھی کو دیکھ نہ سکا۔ اپنی زندگی میں میں نے اسے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ اس کے تن پر صرف میلی سی پھٹی ہوئی بنیان تھی۔ میں نے غور سے اس کے نچلے دھڑ کی طرف دیکھا تھا۔ جہاں ایک خاموش مردہ سفیدی کے سوا کچھ نہ تھا۔‘‘
’’نور جہاں خالہ نے چولہے میں سے سلگتی ہوئی لکڑی نکالی اور وہیں بیٹھے بیٹھ لوٹے سے پانی ڈال کر اسے بجھا دیا۔ جلتی سلگتی لکڑی پر جیسے ہی پانی گراسن سن کی ایک تیز آواز باورچی خانے میں گونجی۔ جیک اس تیز آواز سے بری طرح خوف زدہ ہوکر حواس باختہ ہوتے ہوئے زور سے اچھلا اور چولہے میں جاگرا۔ چولہے میں تازہ بھوبھل تھی۔ اس کی تہہ میں انگارے دہک رہے تھے۔
وہ چیں چیں کی بڑی دردناک آوازیں تھیں۔ پھر چھوٹے چچا نے اسے باہر نکالا وہ چیں چیں کرتا ہوا لڑ کھڑاتا ڈگمگاتا فرش پر ادھر اُدھر چکر لگا رہا تھا۔ اس کے ننھے منّے پیر پوری طرح جل گئے تھے اور قصائی کی دوکان پر رکھے چھیچھڑوں کے مانند نظر آرہے تھے۔ اس کی جلد پر سے سفید دھاریاں غائب تھیں۔ اس کی دم جل کر ٹوٹ گئی تھی۔ وہ ایک گلہری نہ ہوکر ایک بد نما خارش زدہ اور گندا دم کٹا چوہا نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر وہ اسی طرح اچھلتا کودتا رہا پھر خاموش ہوکر فرش پر پڑگیا۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں غائب تھیں۔ سر کی جلی ہوئی کھال آگے کو لٹک رہی تھی۔‘‘
’’پام کے درخت کی جانب کھلنے والے روشندان سے انجم باجی اور انجم آپا دو بھیگی ہوئی بلیوں کی مانند کود کر اندر آگئیں۔
سفید بلی اور کالی بلی۔
وہ دونوں فرش پر مسکینیت سے بیٹھ کر اسے قتل ہوتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ اس لالچ اور امید میں کہ جب ہڈیاں ابل جائیں تو اس کی بیوی ان کا گودا نکال کر خالی ہڈیوں کو ان کے آگے چوسنے کے لیے ڈال دے۔
وہ آہستہ آہستہ قتل ہورہا ہے۔
اس نے یوں ہی کروٹ سے فرش پر گرے گرے دیکھا کہ انجم کی سفید شلوار میں سے پیروں کے پاس سے خون کی ایک لکیر رینگ کر فرش پر پھیل رہی ہے۔ شلوار کے اندر اس کی بچہ دانی کا منھ اس طرح کھل گیا ہے جس طرح شیر خوار بچہ رونے سے پہلے اپنا معصوم اور صاف ستھرا منھہ کھولتا ہے دانتوں سے پاک ایک پوپلا منھہ۔‘‘
’’دنیا کی نوٹنکی قربان گاہ میں جاری ہے۔ چاقو کے پھل میں لپٹی آنتیں ٹپکتا اور بہتا ہوا خون زمین لال نالیوں میں ۔۔۔ بہتا رکتا لال پانی۔ مجھے کھڑا تماشا دیکھنا ہے۔ ذبح کا تماشا ایک ایسا جادو جس سے دلچسپ اور کشش انگیز دوسرا کوئی کھیل نہیں ہوسکتا۔ جانور کا سرکس طرح اس کے جسم سے الگ ہوجاتا ہے اور ذرا سے فاصلے سے کنارے پر پڑے پڑے اپنے باقی جسم کے ٹکڑے اور بوٹیاں ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اس کے چہرے پر لگی حیرت زدہ آنکھیں کس طرح سب کچھ دیکھتی ہیں۔ یہ رہا گردہ اور یہ کلیجی۔ تازہ خون میں ڈوبے یہ دل یہ پھیپھڑے یہ آینتیں اور اوجھڑیاں اور یہ پائے یہ بھیجا یہ کان یہ کلّا... سب الگ الگ سلیقے سے رکھے ہوئے ہیں۔ چھریوں کے شامیانے تلے سکون اور آرام سے۔‘‘
’’نعمت خانہ‘‘ کے خصوصی حوالے سے بات کی جائے تو اس کے پروٹوگونسٹ و فرسٹ پرسن بیان کنندہ کی زندگی کی کہانی ایک شرم و جھجھک کے بوجھ تلے دبے کمسن بچے سے شروع ہوکر جو وقت سے پہلے بالغوں کی دنیا کا مشاہد بن جاتا ہے اشتہا و شہوت، جرم و سزا، علت و عذاب کے شدید احساسات سے گزرتے ہوئے Adult اور پھر انہدام ، زوال، آمادگی، ویرانی اور موت کے مقابل کھڑے بوڑھے کی داستان پر ختم ہوتی ہے۔ شاید یہی زندگی کی حقیقی کہانی بھی ہے۔ تشکیل و تنظیم سے بکھراؤ، لاتشکیل اور نیستی تک کے سفر کی۔ چناں چہ مصنف کا اپنی ہر آنے والی تخلیق کو ’’موت کی ایک اور کتاب‘‘ کہنا کچھ عجیب نہیں لگتا بلکہ اس سے آگے جاکر اس سے اتفاق کرتے ہوئے انہدام، زوال آمادگی یا موت کو زندگی سے متعلق ان کی تحریروں کا Co-author بھی کہا جاسکتا ہے۔ یوں بھی خالد جاوید کے پروٹوگونسٹ اپنی کہانی جس سفاکیت (Ruthlessness)، Cynicism، اوگھڑ پن اور غیر آرائشی کھردری زمینی زبان میں کہتے ہیں وہ انھیں اردو کے دیگر فکشن نگاروں سے ممتاز بنا دیتا ہے۔ ایسے ہی امتیاز کا حامل ان کے حالیہ ناول ’’نعمت خانہ‘‘ کا موضوع ہے (انسانی وجود کی اس کی آنتوں کی بھوک سے رشتے کی ناگزیت) اور اس سے متعلق مصنف کی آواں گار د سوچ بھی ہے۔ اسی جبلتی بنیادوں پر استوار انسان کے حیوانوں اور فطرت سے قدیم تر رشتے کے گہرے ادراک کو اس ناول میں بے شمار جانوروں (خرگوش، گلہری، بلی، چھپکلی، کاکروچ، کیچوا اور شہد کی مکھی وغیرہ) کی موجودگی کا جواز بھی بنایا جاسکتا ہے۔ مختلف فنی ثقافتوں کے تحت انگریزی کے معروف تمثیلی ناول ’’Animal Josman‘‘ (جس میں جنگل میں پائے جانے والے بڑے جانوروں کو ایک سیاسی Satire کا کردار بنایا گیا ہے) اور اردو میں کرشن چندر کے بچوں کے لیے لکھے ایسے ہی تمثیلی ناول ’’الٹا درخت‘‘ کے علاوہ میری نظر میں کوئی اور فکشنل بیانیہ ایسا نہیں جہاں اتنے جانور کسی انسانی کردار کی زندگی کی سرگزشت کا فطری طور پر حصہ بنے ہوں۔
خالد جاوید کی تحریریں یہ بھی محسوس کراتی ہیں کہ ان میں خلق کی گئی فکشنل کائنات اور اس کے ذی روح اعلیٰ جذبات و افکار کے اظہار یا انسانی رشتوں کی عظمت و رفعت کاا حساس دلانے سے کہیں زیادہ اپنی اس بنیادی سرشت اور جبلّت کا ادراک کرواتے ہیں جو اکثر عمومی ذہنوں پر حاوی بھاری بھرکم تصورات و اقدار کی نفی کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ یا پھر اس امر کو منوانے پر زور کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ محبت و نفرت، امید و نا امیدی ، حقیقی و تخیلاتی اور معقولیت وغیر معقولیت کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے یا اس کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے یہ دونوں باتیں کسی دنیاوی یا اخلاقی اصول یا منطق کے مطابق نہیں بلکہ کسی پُراسرار مابعد الطبیعاتی قوت کے زیر اثر وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں جن کا ادراک وہ عقل کے بجائے اپنی چھٹی حس (Intuition) کو بیدار رکھ کر ہی کرسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے حالیہ ناول ’’نعمت خانے‘‘ کے پلاٹ کی بنیاد انھوں نے اپنی اسی فلفسیانہ بصیرت پر رکھی ہے۔ ان کے فکشن کا ذہین قاری یہ محسوس کیے بنا بھی نہیں رہ سکتا کہ وہ اپنے بیانیہ کے توسط سے ایک ایسی دنیا خلق کرتے ہیں جس میں اپنے کرداروں ساتھ وہ خودبھی شامل ہوکر اس کے اسرار و رموز ، زندگی یا موت نیز اپنے وجود کی حقیقت سے متعلق ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں جو ان کے تخلیقی ذہن کو مضطرب رکھتے آئے ہیں۔
کچھ ادبی تخلیقات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ساتھ ان کے موضوع سے جڑا ایک یکسر نیا فلسفیانہ نقطۂ نظر بھی وجود میں آجاتا ہے۔ ’’نعمت خانہ‘‘ میرے نزدیک ایک ایسی ہی تخلیق ہے۔ یہ حقیقت کی خلق کردہ اس نئی فلسفیانہ فکر کو نہایت کامیابی اور پوری فنکاری سے سامنے لاتی ہے کہ غالباً انسان ذہنی اور روحانی طور پر اپنی آنتوں کے اندر ہی رہتا ہے۔ (یہاں اس فلسفیانہ فکر کا ماخذ بیک وقت مشاہدہ اور چھٹی حس (Intuition) دونوں ہیں۔ ساتھ ہی یہ نقطۂ نظر ایک ہی وقت میں مادی یا بدنی (Body Centric) اور مابعد الطبیعاتی مانا جاسکتا ہے) اتنا ہی نہیں یہ ناول جس سرعت و فنکارانہ چابکدستی سے اپنی یہ غیر معمولی فلسفیانہ بصیرت قاری کو سونپ دیتا ہے یہ فکشن کا ایک ایسا وصف ہے جو صرف بڑی اور اہم تخلیقات سے ہی منسوب رہا ہے اور ایسی بڑی اور اہم تخلیقات تبھی وجود میں آتی ہیں جب کوئی مصنف اپنے تخیل کی تمام تر قوت اپنی خلق کردہ فکشنل دنیا کی اندرونی تہوں تک پہنچنے میں لگادے اور ایسا کچھ ڈھونڈ کر لاسکے جو سچا ہوتے ہوئے بھی، چونکا دینے والا، پراسرار اور آسانی سے یقین میں آنے والا نہ ہو۔
خالد جاوید کی اس ناول کی قرأت کے ساتھ ذہن میں یہ خیال بھی آتا رہا کہ غالباً وہ اپنا فکشن اس انسان کے Behalf پر لکھتے ہیں جو ازل سے زوال کے مقابل کھڑا رہا ہے اور جس کی زندگی کی مملکت ہر بکھراؤ، انہدام اور موت کی حکمرانی ہے۔ چنانچہ نعمت خانے کی کہانی بھی زندگی میں موت کی اور موت میں زندگی کی یاد پر مبنی ہے اور یہاں بھی ایک بار پھر انھوں نے انسانی وجود کے ان دو سرِوں کو تخلیقی طور پر یکجا (Equate) کرنے کی ایک Brilliantکوشش کی ہے۔
میں ’’نعمت خانہ‘‘ کا شمار اردو کے ان چند نمایندہ ناولوں میں کرنا چاہوں گا جو اس کے فکشن کو مغرب کے بہترین فکشن کے ہم پلہ ثابت کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔
***

(ج) اخترالایمان نمبر، اڈیٹر: اطہر فاروقی، مبصر: بیدار بخت


اب تک اخترالایمان پر مضامین کی صرف دو کتابیں چھپی تھیں۔ پہلی کتاب محمد فیروز دہلوی کی مرتب کردہ ’اخترالایمان: مقام اور کلام‘ تھی، جس کا پہلا اڈیشن 1997 میں شائع ہوا اور دوسرا ، معمولی اضافے کے ساتھ، 2001 میں۔ دوسرے ایڈیشن میں 15 مضامین اور چار مصاحبوں کے علاوہ اخترالایمان کی نظموں کا انتخاب بھی شامل ہے۔ 44 صفحوں پر پھیلا ہوا یہ انتخاب غالباً خود محمد فیروز دہلوی نے کیا تھا۔ شاہد ماہلی کی مرتب کردہ کتاب ’اخترالایمان، عکس و جہتیں‘ 2000 میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں 29 مضامین اور مصاحبوں کے علاوہ خود اخترالایمان کے پیش لفظ اور کچھ کہانیاں، تصویریں اور خطوط بھی شامل ہیں۔ شمیم حنفی کا مرتب کردہ اخترالایمان کی نظموں کا انتخاب بھی اس کتاب میں ہے جو تقریباً 80 صفحوں کو محیط ہے۔ ان دونوں کتابوں کے اکثر مضامین پہلے ہی شائع ہو چکے تھے۔
اخترالایمان صدی کی تقریبات کے سلسلے میں انجمن ترقی اردو (ہند) نے اپنے سہ ماہی مجلّے ’اردو ادب‘ کا ایک ضخیم ’اخترالایمان نمبر‘ مارچ 2016 میں شائع کیا۔ اس مجلے میں محمد فیروز دہلوی اور شاہد ماہلی کی مرتب کردہ کتابوں سے بھی کچھ مضامین نقل کیے گئے ہیں۔ان میں پانچ ایسے مضامین بھی ہیں جو ان دونوں ہی کتابوں میں شامل ہیں۔ ان مضامین کو اخترالایمان پر شائع ہونے والی ایسی ہر کتاب میں شامل ہونا چاہیے جس میں ان کے فن و شخصیت پر مضامین شامل ہوں۔
’اردو ادب‘ کے ’اخترالایمان نمبر‘ میں 24 مضامین بالکل نئے اور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ’اخترالایمان نمبر‘ میں نظموں کا انتخاب شاید اس لیے نہیں ہے کہ اخترالایمان کی نظموں کے کئی انتخاب پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں۔ دو تو وہی ہیں جو محمد فیروز دہلوی اور شاہد ماہلی کی کتابوں میں شامل ہیں۔ ایک انتخاب شمس الرحمن فاروقی کا ہے جو 1994 میں شائع ہوا تھا، اور ایک زبیر رضوی کا انتخاب ہے جو ’ذہنِ جدید‘ کے آخری شمارے کے ’گوشۂ اخترالایمان‘ میں حال ہی میں شائع ہوا تھا۔ (ابھی تک جی نہیں چاہتا کہ زبیر رضوی کو مرحوم لکھوں۔) میرا انتخاب ’درد کی حد سے پرے‘ کے عنوان سے ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی نے 2000 میں چھاپا تھا۔
شمس الرحمن فاروقی کا مضمون حاصلِ شمارہ ہے۔ ’باقیاتِ اخترالایمان‘ کی ایک کاپی میں نے انھیں 14 فروری2016 کی شام کو دی تھی جس سے پہلے انھوں نے یہ کتاب نہیں دیکھی تھی۔ اور 17 فروری 2016 کو اطہر فاروقی نے جب مجھ سے ممبئی میں فون پر بات کی تو یہ بھی بتایا کہ فاروقی صاحب نے ’اردو ادب‘ کے اخترالایمان نمبر کے لیے ایک مضمون لکھا ہے۔ مضمون دیکھنے پر پتا چلا کہ انھوں نے ’باقیاتِ اخترالایمان‘ کے اندرجات سے بھی استفادہ کیا ہے۔ یہ تو میں جانتا تھا فاروقی صاحب کے پڑھنے اور لکھنے کی رفتار بہت تیز ہے مگر مجھے یہ علم نہیں تھا کہ اس قدر تیز ہے۔ دوڈھائی دن میں کوئی تین سو صفحے کی کتاب پڑھ لینا اور 29 صفحے کا مضمون لکھنا (خواہ اس میں بہت سے صفحے پہلے کے لکھے ہوئے ہوں) حیران کن کارنامہ ہے۔
خدا جانے فاروقی صاحب نے اخترالایمان کے’پتھر کے صنم‘ والے دو مصرعے کہاں پڑھے یا سنے تھے۔ میں نے پہلی بار انھیں ابن صفی کے جاسوسی ناول ’قاتل سنگ ریزے‘ میں پڑھا تھا، جس میں فریدی حمید سے کہتا ہے، ’’خدا کی قسم بڑا پیارا شعر کہا ہے ندیم (کذا) نے: اب یہ سوچا (کذا) ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گا، تاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں۔‘‘ جب میں نے 1964 میں ایک روپے والی سٹار پاکٹ بک سے شائع ہونے والا ’یادیں‘ کا اڈیشن پڑھا تو ابنِ صفی کی غلطی کا احساس ہوا۔
نظموں کے تجزیے کا سلسلہ بہت دلچسپ ہے اور جاری رہنا چاہیے۔ اخترالایمان کی نظم ’موت‘ کے تجزیے کا حق صرف خالد جاوید کو ہے جن کی ’موت کی کتاب‘ میری پسندیدہ کتاب ہے۔ ایسی کتابیں اردو میں کم ہی لکھی گئی ہیں۔ نظم ’موت‘ کا تجزیہ بہت اچھا ہے۔ یہ صرف خالد جاوید ہی کہہ سکتے تھے کہ ’’یہ نظم اتنی ہی پر اسرار ہے کہ جتنی ’موت‘ پر اسرار ہوتی ہے‘‘۔ اس تجزیے کا اختتام انھوں نے اس غیر معمولی جملے سے کیا ہے، جسے صرف کوئی صوفی، سادھو یا سنت ہی لکھ سکتا تھا: ’’یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ مرنا نہیں چاہتے کیوں کہ انھیں جینا نہیں آتا۔‘‘ میں نے کسی اردو نظم کا اس سے اچھا تجزیہ کبھی نہیں پڑھا، میراجی کا بھی نہیں۔
سراج اجملی کا ’کل کی بات‘ کا تجزیہ بھی خوب ہے۔ ایک مصرع میں کتابت کی غلطی در آئی ہے: ’ہم سے دور ابّا اسی کمرے کے اک کونے میں‘ والے مصرع میں ’ہم سے‘ چھوٹ گیا ہے۔ کوثر مظہری نے لکھا ہے کہ ’’اخترالایمان نے مسجد کو اسلامی حمیت اور ایمانی قوت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے‘‘۔ ایک پہلو سے یہ بات ٹھیک ہے مگر میرے خیال میں نظم کی خوبی یہ ہے کہ نظم میں ’مسجد‘ نہ صرف اسلام کی بلکہ سب مذہبی عقیدوں کی علامت ہے۔ نظم ’ایک لڑکا‘ کا تجزیہ پہلے بھی کئی لوگوں نے کیا ہے۔ شہناز نبی کا تجزیہ اچھا تو ہے، مگر اس میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی جو پہلے نہ کہی جاچکی ہو۔
اطہر فاروقی نے اپنا مضمون ’پہلا ورق‘ کے طور پر لکھا ہے۔ ’اردو ادب‘ میں یہ عنوان اداریے کے لیے مخصوص ہے۔ اداریہ ہونے کے باوجود اطہر فاروقی کا یہ مضمون بہت دلچسپ اور اس سے اخترالایمان کی زندگی کے کچھ ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو پہلے مخفی تھے۔
مجھے خوشی ہے کہ ارجمندآرا کو اخترالایمان کو پڑھنے کا ویسا ہی چسکا لگ گیا جیسا ’’اسکول کے زمانے میں ابن صفی [کو] پڑھنے کا لگا تھا‘‘۔ میں تو دونوں کی تحریروں کا تریاکیِ قدیم ہوں۔ ارجمند آرا کا مضمون احمد محفوظ کے مضمون کی طرح ڈگر سے ہٹ کر ہے، اور دونوں پڑھنے کے لائق ہیں۔
جب سے اخترالایمان نے ’بازآمد‘ کے رمضانی قصائی کو ’بنتِ لمحات‘ کے پیش لفظ میں وقت کی علامت لکھا ہے اور ایک بیان میں ruthless time کا symbol بتایا ہے، بیچارے رمضانی قصائی کی شامت آگئی ہے۔ ہر ایک اس کو بے رحم وقت کی علامت لکھتا ہے۔ قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے بھی اپنے مضمون ’اخترالایمان کی عشقیہ شاعری‘ میں اس کو وقت کی ستم ظریفی کا استعارہ بتایا ہے۔ اگر رمضانی قصائی وقت کی علامت ہے تو بھی اسے مہربان وقت کی علامت اس لیے ہونا چاہیے کہ وقت نے ایک المیے کو خوشی کے موقع میں بدل دیا۔ گویا زخم پر پھاہا رکھ دیا۔ شاعر کے اپنے شعر کی تشریح سے شعر سمجھنے میں مدد تو ملتی ہے، مگر بعض دفعہ اس کا بیان شعر کے معنی کو محدود بھی کر سکتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو رمضانی قصائی ’ظالم سماج‘ کی علامت بھی ہو سکتا جس نے نظم کے واحد متکلم کو اس کی محبوبہ سے شادی کرنے پر روکا ہوگا۔ اسی طرح وہ آگہی کی علامت بھی ہو سکتا ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ ایک فصل کا کٹ جانا کوئی ایسا بڑا المیہ نہیں ہے۔ ایک فصل کٹنے کے بعد ہی دوسری تیار ہوتی ہے جو ارتقا کے ناگزیر عمل کا حصّہ ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ ’بازآمد‘ کی حبیبہ کو اخترالایمان کی زندگی سے مربوط کرنا مناسب نہیں ہے۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تھا تو انھوں نے کہا کہ حبیبہ کا نام صرف اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس کے لغوی معنی معشوقہ ہیں۔
سرور الہدیٰ کے دونوں مضمون اچھے ہیں، مگر ’اخترالایمان کے ناقدین‘ کی خاص اہمیت ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے ان تمام سکہ بند ناقدوں کی تحریروں کا اچھا جائزہ لیا ہے جنھوں نے اخترالایمان کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے۔صرف عزیز قیسی سکہ بند نقاد نہیں تھے مگر ان کی تنقیدی بصیرت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سرور الہدیٰ تو بہت لکھاڑ ہیں۔ وہ اگر تھوڑی سی محنت اور کریں تو اس طویل مضمون کو کتاب کی شکل دے سکتے ہیں جس میں ان ناقدین کا ذکر بھی ہو سکتا ہے جو مضمون میں چھوٹ گئے ہیں۔ مثلاً عقیل احمد صدیقی (ان کا مضمون زیرِ تبصرہ مجلے میں شامل ہے)، زاہدہ زیدی (رموزِ فکر و فن، ۱۹۹۳)، فضیل جعفری (صحرا میں لفظ، 1994)۔ اور پھر کچھ کتابیں بھی ہیں جو صرف اخترالایمان کی شاعری سے متعلق ہیں۔ میرے کتب خانے میں یہ کتابیں ہیں: شفیع ایوب کی کتاب ’گرداب: ایک مطالعہ‘، شمشاد جہاں کی ’اخترالایمان کی نظم نگاری‘، خواجہ نسیم اختر کی ’اخترالایمان، تفہیم و تشخص‘، اور محمد آصف زہری کی ’اخترالایمان کی دس نظمیں: تجزیاتی مطالعہ‘۔ اور پھر اخترلایمان نمبر کے کئی اور مضامین بھی ہیں جن کا ذکر اس کتاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ناصر عباس نیّر کا مضمون ’اخترالایمان کی نظم میں جلا وطنی کا اظہار‘ اس شاعر کے شعر کی تفہیم کی نئی جہت پیش کرتا ہے، جس سے اتفاق کرنے میں مجھے قدرے تامل ہے مگر ان کے اس جملے سے اختلاف کرنے میں مجھے کوئی تکلّف نہیں ہے کہ ’’اخترالایمان نے خاصی کمزور آپ بیتی لکھی ہے‘‘۔
اخترالایمان کا تخلیقی سفر فلمی ادب میں بہت اہم مقام کا حامل ہے جسے لوگ ’کم تر ادب‘ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر منوج پنجانی کا مضمون اخترالایمان کی اس نظر انداز کی ہوئی جہت سے متعارف کرانے میں بہت مدد گار ثابت ہوگا۔ ویسے ان کا یہ بیان غلط ہے کہ اخترالایمان نے فلمی گانے کبھی نہیں لکھے۔ فلم ’بکھرے موتی‘ کے اشتہار کا عکس منسلک ہے جو اخترالایمان، میراجی اور مدھو سودن کے رسالے ’خیال‘ کے جنوری 1949 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ جیسا کہ اس اشتہار میں درج ہے کہ اس فلم کے گانے اخترالایمان لکھنے والے تھے۔ ’خیال‘ کے جون 1949 کے شمارے میں اس فلم کا اشتہار پھر چھپا مگر اس بار گانے اخترالایمان اور خمار بارہ بنکوی کے تھے۔ اخترالایمان نے صرف دو گانے لکھے تھے۔ ان میں سے ایک گانا HMV کے دس کیسیٹوں کے سیٹ ’یادوں کی منزل‘ میں ہے۔ اخترالایمان نے مجھے بتایا کہ جب وہ فلم کا گانا لکھنے بیٹھتے تھے تو گاڑی ’’چل چل چمیلی باغ میں گڈّی اڑائیں گے‘‘ سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔
فیروز دہلوی نے یہ درست لکھا ہے کہ 2000 یا اس سے کچھ پہلے میں نے، سلطانہ ایمان صاحبہ سے مشورہ کر کے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ’باقیاتِ اخترالایمان مرتب دیں۔ اور اس سلسلے میں انھیں کچھ مواد بھی دیا تھا مگر جب دس بارہ سال بعد بھی وہ کتاب پر کام نہ کرسکے تو میں نے فیصلہ کیا کہ یہ کتاب میں خود مرتب کروں۔ تب ہی یہ فیصلہ بھی کیا کہ اخترالایمان کی تین ڈائریوں سے کچھ اقتباسات بھی ’باقیاتِ اخترالایمان‘ میں شامل کر لیے جائیں۔ یہ ڈائریاں سلطانہ ایمان صاحبہ نے مجھے دی تھیں جو میں نے اپنی دوسری کتابوں کے ساتھ یونیورسٹی اوف ٹورونٹو کی لائبریری کو دے دی ہیں۔ واضح رہے کہ سب کتابیں اور ڈائیریاں، ہمارے باہمی معاہدے کے مطابق، ہیں تو یونیورسٹی اوف ٹورونٹو کی ملکیت مگر تا حیات میری تحویل میں رہیں گی۔ فیروز دہلوی نے ’ارددو ادب‘ کے قارئین سے درخواست کی ہے کہ وہ انھیں اخترالایمان کی ایسی منظوم تخلیقات بھیج دیں جو ’کلیاتِ اخترالایمان‘ اور ’باقیاتِ اخترالایمان‘ میں شامل نہیں ہیں۔ مجھے خوشی ہوگی اگر فیروز دہلوی ’بقیہ باقیاتِ اخترالایمان‘ مرتب کر سکیں۔ اپنے مضمون میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’خیال‘ اور دوسرے رسالوں کی مکمل فائلیں کہیں دستیاب نہیں ہیں۔ یہ بیان درست نہیں کیوں کہ خدابخش لائبریری میں ’خیال‘ کی پوری فائل موجود ہے۔ اس فائل کا عکس میں نے اسی لائبریری سے لیا تھا۔
’باقیاتِ اخترالایمان‘ پر میں نوشاد منظر کے مضمون کی تعریف کیسے کر سکتا ہوں جب کہ انھوں میری بہت حوصلہ افزائی کر دی ہے۔
اطہر فاروقی سے شرمندہ ہوں کہ ’توقیتِ اخترالایمان‘ میں ان کی ڈوکیومنٹری کا ذکر نہیں کر سکا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ ڈوکیومنٹری میں نے ابھی تک نہیں دیکھی۔
’دستاویز‘ میں کئی اہم مضامین شامل ہیں۔ میں گوپی چند نارنگ کی تحریر بہت شوق سے پڑھتا ہوں مگر اخترالایمان والا مضمون میری نظر سے پہلے نہیں گزرا۔ ان کا موقف ہے کہ ہر شعر میں کہانی کا عنصر ہوتا ہے۔ اس موقف کی توضیح کے لیے اخترالایمان کی نظموں سے بہتر اور کوئی مثال آسانی سے نہیں مل سکتی۔
’اردو ادب‘ کے اخترالایمان نمبر کو کچھ اضافے کے ساتھ ایک کتابی شکل میں شائع کرنا چاہیے۔ میرا مشورہ ہے کہ مندرجۂ ذیل مضامین، ایک نظم اور ایک مصاحبہ، اس کتاب میں شامل کر لیے جائیں جو محمد فیروز دہلوی اور شاہد ماہلی کی کتابوں میں شامل نہیں ہیں، سواے جمیل الدین عالی کے خاکے کے۔
(1) جمیل الدین عالی کا اخترالایمان پر خاکہ اس کی تاریخی حیثیت کی بنا پر شامل کرنا چاہیے۔ عالی صاحب نے اس مضمون کی کاپی پر میرے لیے اپنے ہاتھ سے یہ لکھا تھا: ’’یہ مضمون ’نیا دور‘ کراچی کے لیے 1955-56 میں لکھا گیا تھا۔ بہ عجلت، یک نشستی، غیر محتاط، ناپختہ مگر کوئی بات غلط نہیں لکھی۔ جمیل الدین عالی، ٹورانٹو، 12 جولائی 2000۔‘‘ عالی صاحب نے غالباً یہ اس لیے لکھا تھا کہ اخترالایمان کو عالی کا مضمون شاید اس لیے بالکل پسند نہیں تھا کہ اس میں عالی نے کچھ ایسے جملے لکھے تھے جو اخترالایمان کی نرگسیت کو گوارہ نہیں تھے۔ اخترالایمان میں تھوڑی بہت نرگسیت تو تھی ہی جو ان کی ڈائری کے اقتباسات میں نظر آتی تھی۔ اپنے مضمون میں عالی نے انھیں ’بد صورت اور غریب طالبِ علم‘ لکھا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان کے بے تکلف دوست انھیں ’بلیک جاپان‘ کہتے تھے۔
(2) اخترالایمان سے آخری ملاقات، باقر مہدی کی نظم، ’ترسیل‘، اپریل 1996۔
(3) اخترالایمان سے ایک ملاقات، مصاحبہ یونس اگاسکر اور یعقوب راہی کے ساتھ۔ ’ترسیل‘، اپریل 1996۔
(4) اخترالایمان کا انفرادی آہنگ، منظر اعجاز، اردو دنیا، نومبر 2015۔
(5) اخترالایمان کا نظمیہ افق، کرشن بھاوک، اردو دنیا، نومبر2015۔
(6) اخترالایمان کی شاعری میں قومی یکجہتی کا تصور، صدیق محی الدین، اردو دنیا، نومبر 2015۔
(7) اخترالایمان، رومانیت سے آگے کا سفر، یوسف رامپوری، اردو دنیا، نومبر2015۔
(8) روحِ کرب کا بیانیہ، محمد امتیاز احمد، اردو دنیا، نومبر2015۔
’اردو ادب‘ کا اخترالایمان نمبر اب تک اس شاعر کی زندگی اور شاعری پر سب سے مفصل اور اچھی دستاویز ہے جس کے لیے رسالے کے مدیرِ اعلا صدیق الرحمن قدوائی، مدیر، اطہر فاروقی، اور معاون مدیر، سرور الہدیٰ صاحبان مبارکباد کے مستحق ہیں۔
***

مشمولہ اردو ادب اپریل تا جون اپریل تا جون 2016
بشکریہ اطہر فاروقی

بدھ، 20 جولائی، 2016

پہلا ورق/اطہر فاروقی

استادِ محترم ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب کی ادارت میں ’اردو ادب‘ کے احیا کے بعد اس کے مندرجات کی زیادہ توجہ تنقیدی اور تحقیقی مضامین کی اشاعت پر مرکوز رہی۔ اردو میں تنقید اور تحقیق کا امتیاز اب اس قدر دھندلا ہو چلا ہے کہ اکثر تحریریں تنقید و تحقیق کا ملغوبہ معلوم ہوتی ہیں۔ نئی نسل کے نقادوں میں کم و بیش سب کے سب مشرقی تنقید کی روایت سے اس لیے ناواقف ہیں کہ اب فارسی پڑھانے کا باضابطہ نظام یونی ورسٹیوں کے اردو شعبوں میں تقریباً معدوم ہو گیا ہے اور الگ سے فارسی پڑھنا جو ے شیر لانے سے کم نہیں۔ایک فیشن کے طور پر اردو تنقید نے مغربی تنقیدی اصولوں اور رجحانات سے تھوڑی بہت روشنی کبھی حاصل کی تھی جس سے اردو ناقدین کی اکثریت ابھی تک کام چلا رہی ہے۔ انگریزی کی استعداد پرانے لوگوں میں بہت نہ تھی مگر ا نھوں نے اپنی حد تک اس استعداد کو استعمال کیا۔بیسویں صدی میں ادبی تھیوری کے فیشن میں متعارف ہونے کے بعد ادب کو سمجھنے اور سمجھا نے کے وہ سارے طور ہی بدل گئے جن سے ہم کسی متن کو دیکھتے اور دوسرے کسی متن سے اس کا موازنہ کرتے تھے۔ یہ تبدیلی، چوں کہ تبدیلی کی خاطر تھی، اس لیے، خوش گوار تھی، کیوں کہ جدید کے لذیذ ہونے کا حسنِ ظن مشرق میں عام ہے لیکن در حقیقت یہ تھیوری ہمارے اپنے ادب کو سمجھنے میں کار گر نہ ہوسکی، اس لیے، اس کے زیرِ اثر جو کچھ لکھا گیا وہ زیادہ تر تھیوری ہی تک محدود رہا، یعنی ادب کے بارے میں خیالی بات چیت، اور پھر جو بات ہوئی اس کے بارے میں بات چیت!یہ مغربی دانش کا چھوڑا ہوا ایسا شوشہ تھا جو معنی کے وجود ہی سے منکر ہوگیا۔ اردو ادب پر ادبی تھیوری کا اطلاق کرنے والی تحریروں کے مطالعے کے نتیجے میں بہ شمول دیگر مہملات کے یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوگیا کہ غالبؔ کی غزل میں معنی کس طرح سے اور کہاں سے حاصل کیے جائیں۔
کچھ عرصے سے ادبی تھیوری ایک اور طرز کی تنقید کا ہدف بنی ہوئی ہے۔ اس اعتراض کی وجہ تھیوری کا وہ نظام ہے جو سب کے لیے قابلِ فہم نہیں اور صرف اُس کے رگ و ریشے سے مکمل واقفیت رکھنے کا دعویٰ کر نے والے ہی اس کے اجارہ دار ہیں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ تھیوری کے عَلم بردار عموماً یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ ہماری بات سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ ادبی تنقید کے بعض ناقدین کے مطابق تھیوری ایک خفیہ طفیلی وجود ہے جو کسی دوسرے وجود کے اندر یا اس سے وابستہ رہ کر ہی گزران کر سکتا ہے۔
مابعد تھیوری کے ادبی رجحانات جو درجاتِ تدریس اور ادبی مباحث میں جگہ بنا رہے ہیں، ان میں Postness کو معرضِ بحث میں لایا گیا ہے اورPost Theory to Theory کا ذکر بھی آنے لگا ہے۔ یعنی یہ کہ Post سے کیا مراد ہے؟ کیا ادب میں کوئی بندھے بندھائے ادوار ہیں (جیسا کہ انگریزی تنقید نے ہمیں بتایا تھا) جن کے آغاز اور اختتام کی تاریخ، یا تاریخ نہیں تو زمانہ متعین کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا تھیوری کے بعد کوئی اور تھیوری ہوگی، جیسا کہ جدید کے بعد مابعد جدید کا اعلان کیا گیا۔ کیایہ ہو سکتا ہے کہ پوسٹ تھیوری تنقید کی ایک نئی دنیا خلق کرے جو ادبی تھیوری کے تمام فاسد یا بے معنی عناصرکو تھیوری کے نظام سے باہر کر دے؟ اگر ایسا ہوا تو یہ معرکہ کس کے حق میں جائے گا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اس وقت شاید ہی کسی کے پاس ہو۔ ہم لوگوں کو اس کی خبر ہو یا نہ ہو مگر تھیوری مغرب سے تقریباً جا چکی ہے اور Post Theory کا مستقبل کیا ہوگا یہ تو مغرب ہی بتائے گا جو اب ادب کی تعیینِ قدر کا ٹھیکے دار بن گیا ہے۔اردو تنقید کے لیے اب یہ سمجھنے کا وقت آ گیا ہے کہ ہر ادبی تہذیب اپنے معیار خود مقرر کرتی ہے اور ہمیں مغرب کی دریوزہ گری کی کچھ بہت ضرورت نہیں۔
روسنکا چودھری کی تصنیف The Literary Thing: History, Poetry and the Making of a Modern Cultural Sphere (2014) ایک قابلِ ذکر کتاب ہے جو ادبی تنقید سے متعلق بہت سے نئے سوالات اٹھاتی ہے۔ اسی طرح ٹیری ایگلٹن (Terry Eagleton) کی کتاب After Theory (2004) ہر چند کہ بارہ برس پرانی ہو چکی ہے مگر اب بھی اس کا مطالعہ ادبی تھیوری کے مستقبل کے بارے میں ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور بتا سکتاہے۔
***
ادبی دنیا میں اخترالایمان نمبر کی پذیرائی توقع سے کہیں زیادہ ہوئی۔ ’اردو ادب‘ نے اب اپنے لیے وسیع تر جولان گاہیں تلاش کرنی شروع کردی ہیں اور غیر ممالک خصوصاً پاکستان اور کینیڈا کے علمی حلقوں میں اس کی جو پذیرائی جنابِ صبا اکرام اور بیدار بخت صاحب کی کوششوں سے ہوئی، اس کے لیے ہم ان دونوں حضرات کے سپاس گزار ہیں۔

(اطہر فاروقی صاحب کا یہ مضمون تازہ ترین اردو ادب کے شمارے میں بعنوان 'پہلا ورق' شائع ہوا ہے، پہلا ورق، اردو ادب کا ایک مستقل حصہ ہے، جو کہ اس کے ہر شمارے میں سب سے پہلے شامل ہوتا ہے اور رسالے کے مدیر کی جانب سے لکھا جاتا ہے۔ شکریہ)

جمعہ، 15 جولائی، 2016

بورخیس (ایک مضمون اور تین کہانیاں)/محمود احمد قاضی


بورخیس ۔ ایک ٹیڑھا لکھاری

یہ جو دنیا ہے اس میں ہم جیسے بندے بھی ہوتے ہیں جو دنیا میں آتے ہیں اور مَر جاتے ہیں کیوں کہ یہ آتے ہی مرنے کے لیے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو ایک شان سے آتے ہیں، زندہ رہنے کے لیے آتے ہیں، وہ زندہ رہتے ہیں اور جب مرتے ہیں تو بھی نہیں مرتے کہ ان کا نام ان کا کام ہمیشہ کے لیے وقت کی پیشانی پر ثبت ہو جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو وہ دیکھنے میں ہم جیسے ہی ہوتے ہیں۔ دو کان، ناک، دو آنکھیں، دو پیر، شکم کا ایک دوزخ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ذہن کی دولت سے بھی مالا مال ہوتے ہیں اور اس مال ہی کو وہ ساری زندگی خرچ کرتے رہتے ہیں اور یہ مال ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یا یہی وہ موڑ ہے وہ علاقہ ہے جہاں وہ ہم جیسے نکموں سے علاحدہ قرار پاتے ہیں ان کی کیمسٹری کچھ اور ہی نکلتی ہے۔
دنیا کا جو سماجی نظام ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، ایک عظیم قسم کا ڈراما ہے، رپھڑ ہے۔ اگر تو اسے جوں کا توں قبول کر لیا جائے تو پھر تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ آپ آئے آپ نے زندگی جیسے تیسے کر کے گزاری اور مر لیے۔ سب کچھ خلاص، چُھٹی اور جو سوچنے لگتے ہیں اصل میں مصیبت وہ مول لیتے ہیں۔ آگاہی تو ان کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ وہ یہ عذاب ایک درویشانہ استغناکے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ سقراط، گیلیلیو ایسی ہی کیمسٹری رکھنے والے بندے تھے۔ پھر بیسویں صدی آ گئی پگ پگ چلتے وقت کے دھارے تھکے نہیں، اسی لیے آئن سٹائن آیا اور بورخیس نے بھی جنم لیا۔ وہ ایسے جیا کہ مرکر بھی نہیں مرا۔ وہ اب تک سب سے زیادہ دل چسپی سے پڑھا جانے والا پُرش ہے ۔ کیا چیز ہے یہ ارجنٹائنی! ویسے تو آج کا ینگ لیجنڈگارسیا مارکینر بھی ایک لاطینی امریکی ہی ہے لیکن یہ بورخیس جناب اس کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ اسے لیجنڈری ورثے، اساطیر، روایات سے پیار بھی ہے اور وہ ساتھ ہی ساتھ انھیں نیگیٹ بھی کیے جاتا ہے کہ ہونا اور نہ ہونا بھی تو اُس کا پیشن ہے۔اُس کے کردار ہیں بھی اور نہیں بھی۔ وہ خود ہے بھی اور نہیں بھی۔ اُس کا خدا بھی کبھی تو ہے اور کبھی بالکل ہی نہیں ہوتا۔ خدا سے وہ مسلسل چھیڑ چھاڑ کیے جاتا ہے۔ اُس کے پاس ایک ہی کہانی ہے جو مختلف کہانیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اُس کے کرداروں کے حلیے، مہاندرے، ردعمل عمومی ہیں لیکن اتنے ہی خاص منفرد اور مختلف بھی۔ وہ ان کے ہاتھ میں ایک چاقو تھما دیتا ہے۔ وہ اس سے ایک شخص کو مار دیتے ہیں۔ اُس کی کئی کہانیاں تو شروع ہی مرے ہوئے بندوں کے بیان سے ہوتی ہیں ۔ اُس کی کہانی شروع ہی تب ہوتی ہے جب کہ وہ مر چکے ہوتے۔ وہ انھیں پھر سے زندہ کرتا ہے اور ان کے ذریعے وہ مرنے سے پہلے کی اور بعض اوقات مرنے کے بعد کی کہانی بیان کرنے لگتا ہے۔’’اُس نے اپنی موت سے پہلے یا بعد میں اپنے آپ کوخدا کے حضور پایا...‘‘کہانی"Every Thing and Nothing" اور جب اُس کا کوئی کردار کسی دوسرے کو مار دیتا ہے تو بعض اوقات وہ کہتا ہے:
’’اُس نے اپنے خون آلود چاقو کو گھاس پر صاف کیا اور پیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر مکانوں کے ابھار کی طرف آہستہ سے چل دیا۔ اُس نے اپنا جائز مشن مکمل کر لیا تھا۔ وہ کوئی نہیں تھا۔ زیادہ مناسب انداز میں کہا جائے تو یہ کہ وہ ایک اجنبی بن گیا تھا۔ اس زمین پر اس کا کوئی اور مشن نہیں تھا مگر اُس نے ایک شخص کو مار دیا تھا‘‘ (کہانی"The End )۔
دنیا میں اور بھی بہت سے لکھاری ایسے ہیں جنھوں نے ایبسرڈٹی پہ بہت کچھ لکھا لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے محض اور محض ایبسرڈٹی یعنی لایعنیت کا خود بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ بورخیس کے ہاں صورتِ حال قطعی تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ وہ اس لایعنیت سے معنویت کے اکھوے کو پھوٹنے دیتا ہے ۔ وہ ایک ایسا تذبذب اور شک پیچھے چھوڑ دیتا ہے کہ یقین اور بے یقینی ایک دوسرے سے یوں گلے ملتے ہیں کہ وہ حقیقت بھی بن جاتے ہیں بل کہ حقیقت سے زیادہ ایک بڑی حقیقت۔ بڑے کینوس کی حقیقت۔ یہ کام صرف بورخیس جیسا جینیئس ہی کر پاتا ہے ورنہ مٹی کا ڈھیر تو مٹی کا ڈھیر ہی ہوتا ہے۔
’’کچھ لوگ ہیں کہانی کو مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی دوچیزیں ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعر کو تو محض ایک نظم پڑھنی تھی جب کہ عمل اس کے آخری الفاظ کی ادائی کے ساتھ ہی منظر سے مٹ گیا، غائب ہو گیا اور ختم ہو گیا۔ یقین مانیے، ایسے اسطورہ ادبی تخیلات سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ شاعر شہنشاہ کا غلام تھا اور وہ اِسی غلامی میں مر گیا۔ اس کی نظم اس کے لیے بھلا دی گئی کیوں کہ وہ فراموش کر دیے جانے کے ہی قابل تھی اور اُس کی نسل کے لوگ ابھی تک متلاشی ہیں لیکن وہ اس کائنات سے متعلق لفظ ڈھونڈ نہیں پائیں گے‘‘۔ (کہانی "Pavelile of the Palace" )
’’میں نہیں جانتا کہ ہم دونوں میں سے یہ صفحہ کون لکھ رہا ہے‘‘ (کہانی "Borges and I" )
زندگی جیسے زگ زیگ چلتی ہے وہ بھی ایسے ہی چلتا ہے۔ وہ سیدھا نہیں ہے اور سیدھا نہیں چلتا نہ ہمیں سیدھے سیدھے چلنے کی تلقین کرتا ہے کہ وہ تلقین شاہ بالکل نہیں ہے۔ وہ تو ’جو ہے ‘اس کو ’جو نہیں ہے‘ سے ایسے ملاتا ہے، آپس میں مدغم کرتا ہے کہ حقیقت حقیقت نہ رہتے ہوئے بس ایک اور طرح کی اصلی اور صحیح حقیقت بن جاتی ہے۔ وہ جھوٹ لکھتا ہے اور سچ کہتا ہے۔ وہ کہانیاں خود گھڑتا ہے، بناتا ہے جو کہ ایک فکشن نگار کا اصل وصف ہونا چاہیے۔ بہ شرطِ کہ اُس کی دنیا کوئی ماورائی دنیا نہ ہوکہ اسی دنیا سے ایک آرٹسٹ نئی دنیا میں تخلیق کر سکتا ہے۔
اگر ایک آرٹسٹ بے چین ہے، مضطرب ہے تووہ یقیناً سچا بھی ہے۔ وہ اِریٹیٹڈ ہے اسی لیے تو وہ ہمیں بھی اریٹیٹ کر سکتا ہے، خود متحیر ہوسکتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی تجربے میں شامل کر سکتا ہے کہ وہ حیرت میں مبتلا ہو کر بھی حیرتی نہیں رہتے بل کہ ایک اور نئی دنیا کا دَر اُن کے سامنے وا ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس کی سرحدیں پھر انھی کی دنیا سے آ ملتی ہیں اور آشنائی اور ناآشنائی کا یہ ایک مسلسل عمل ہمیں بے عملی اور دوغلے پن کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ہم بے چہرہ ہوتے ہوئے بھی اپنا چہرہ کھو نہیں پاتے بل کہ چہروں پر سجے مکھوٹے اترتے چلے جاتے ہیں ۔ لباس تک ہمارے بدنوں سے یوں اترتے ہیں کہ اب عریانی ہی ہمارا لباس ٹھہرتی ہے۔ یہ وہ ملبوس ہے جو مستقل ہے پائے دار ہے کیوں کہ اصل اصل ہے اور نقل نقل۔
بورخیس ایک ٹیڑھا لکھاری ہے اور متنازع بھی اور یہی چیز اُسے دوسروں سے ممتاز کر جاتی ہے۔ وہ ’گول گیٹا‘ ہر گز نہیں۔ وہ ہمیں وہ کچھ بتاتا ہے جس کے بتانے کی واقعی ضرورت رہتی ہے۔ وہ کچھ چھپا بھی لیتا ہے تو واقعی اُس کے چھپانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس چھپنے اور سامنے آنے کے بیچ میں سے وہ اپنا آپ ہم پر ظاہر کر جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ہماری انگلیوں کی پوریں تک شل ہونے لگتی ہیں۔ اپنی لکھتوں کا ایک انتخاب جو اس نے خود کیا اور اس کا نام ہی اُس نے ’’ذاتی انتخاب‘‘ رکھا ہے کے مطابق اسے اپنی کہانیاں "The Golem" "The Circular Ruins"، یا "Chess"پسند ہیں اور ساتھ ہی وہ حوالہ دیتاہے۔
"Cove hold that art is expression; to this exigency, or to a deformation of this exigency, we owe the worst literature of our time".
اور اُس کے اپنے الفاظ ہیں:
"I know that my gods grant me no move than allusion or mention". August 16, 1961 (J.L.B)
تو جناب یہ ہے ہمارا بورخیس۔ یہاں اُس سے متعلق صرف چند ایک پہلو ہی سامنے آئے ہیں اور یہاں ضرورت بھی شاید اتنی ہی تھی کہ مکمل بورخیس کے لیے تو یقیناً ایک علاحدہ سے کتاب مرتب کرنی پڑے گی۔ اس نابغہ، اس یگانہ شرفیت کے اتنے رنگ ہیں ،اتنے پہلو ہیں کہ ہم اُس کی اپنی تخلیق کردہ دنیا کی ’’بھول بھلیوں‘‘میں گم ہوتے نظر آتے ہیں ۔ تاریخ ہر آدمی، زمین اور موت کے ساتھ ’’بھول بھلیاں‘‘ بھی اُس کا ایک پیشن ہے۔ وہ تاریخ میں رہتے ہوئے ماورائے تاریخ بھی تو ہے۔


سہ چشمی کہانیاں

ہر کوئی مگر کوئی نہیں

اُس کے بغیر میں کوئی نہیں تھا (حتیٰ کہ اس عہد کی تصاویر بھی اسے کسی دوسرے سے مختلف پیش کرتی تھیں) اور اُس کے الفاظ کے پیچھے (جو کہ نمائشی، اشتعال دلانے والے اور مبالغہ آمیز تھے) کچھ نہیں تھا سوائے ایک جزوی طور پر ٹھنڈے خواب کے ،جس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ پہلے پہل اُس نے سوچا کہ ہر کوئی اُس جیسا ہی تھا۔ لیکن ایک کامریڈ نے جسے اُس نے اپنے خالی پن کا حوالہ دیا تھا اُس سے مایوس ہوتے ہوئے اُس پر اُس کی غلطی ظاہر کی تھی اور اُسے احساس دلایا تھا کہ کسی بھی فرد کو اپنی نوع سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ ایک موقعے پر اُس پر کھلا کہ اُسے اپنی مشکل کا حل کتابوں میں ڈھونڈنا چاہیے اور اس طرح اُس نے تھوڑی سی لاطینی سیکھی اور یونانی میں بھی کچھ سدھ بدھ حاصل کی جس کا مشورہ اُسے ایک ہم عصر نے دیا تھا۔ بعد میں اُس نے سوچا کہ اسے وہ کچھ ڈھونڈنا چاہیے جو اُس نے انسانیت کے اساسی رسم و رواج کی تکمیل میں پایا تھا ۔ اس طرح اس نے جون کے ایک لمبی سہ پہر میں قیلولے کے اوقات میں Anne Hathaway سے آغاز کیا۔ وہ اپنی عمر کے بیسویں سال کے آس پاس لندن آ گیا۔ جبلی طور پر، اُس نے پہلے ہی اپنے آپ کو ’’کوئی‘‘ سمجھنے کی عادت کی تربیت دے ڈالی تھی۔ اس لیے یہ دریافت نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’کوئی‘‘ نہیں تھا۔ لندن میں اُس نے پہلے سے تعین شدہ پیشے کو چنا یعنی ایک ایکٹر کا پیشہ جو کہ سٹیج پر لوگوں کے ہجوم کے سامنے’ کسی اور‘ کے ہونے کا رول ادا کرتا ہے اور لوگ بھی اُسے’ کوئی اور‘ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ اُس کے فن اداکاری نے اُسے ایک اطمینان بخشا تھا اور یہ اب تک پہلا اطمینان تھا جو اُسے حاصل ہوا تھا۔ اور پھر ایک بار جب نظم کی آخر ی لائن کو بہت سراہا گیا اور آخری مردہ شخص کو بھی سٹیج سے ہٹا لیا گیا تو اس نے مصنوعی پن کے نفرت انگیز ذائقے کو بھی چکھ لیا۔ وہ فیریکس یا تیمبرلین کی صورت میں سٹیج چھوڑتا اور دوبارہ ’کوئی نہیں‘ بن جاتا۔ پس اُس نے مغلوب ہوتے ہوئے دوسری المیہ کہانیوں اور دوسرے سورماؤں کو تصور میں لانا شروع کر دیا۔ اور اس طرح جب کہ اس کا جسم لندن کے مے کدوں اور قحبہ خانوں میں اپنے جسمانی مقدر کے تابع تھا وہ روحانی سطح پر کاہن کی پیشن گوئی کو خاطر میں نہ لانے والاسیزر تھا ۔ دل لگی کے کھیل سے شدید نفرت کرنے والی جو لیٹ اور جادوگرنیوں سے جو تباہی و بربادی (Fates) بھی تھیں خلنج زار پر اُن سے گفت گو کرنے والا میک بتھ بھی تھا۔ کوئی اور شخص اس کی طرح کبھی اتنے زیادہ آدمیوں جیسا نہیں ہوا تھا ۔مصری دیوتا(Proteus) پروٹیئس کی طرح جو ہر کسی کے روپ میں اپنے آپ کو ظاہر کر سکتا تھا۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنی اداکاری کے کسی مبہم سرے پر ایک اعتراف کرتا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اس کی کبھی رمزکشائی نہیں ہو سکتی تھی۔ رچرڈ کہتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں بہت سے کردار ادا کرتا ہے اور آئی آگو "I ago" متجسس انداز میں کہتا ہے ’’میں جو ہوں وہ نہیں ہوں‘‘۔ ہونے کے بنیادی واحد پن، خواب دیکھنے کے عمل اور اداکاری نے اس کی ذات کو کئی مشہور جملوں کے حوالے سے متحرک کیا۔
وہ بیس سال تک اس طے شدہ فریبِ نظر پر عمل پیرا رہا۔ لیکن ایک صبح وہ معدے کی گرانی، اور اُن بادشاہوں کی طرح جو بالآخر تلوار سے مر جاتے ہیں اور اُن بدقسمت عاشقوں کی طرح جو مائل اور منحرف ہوتے ہوئے ترنم ریز ہو کر مر جاتے ہیں، کے خوف میں مبتلا ہوا۔ عین اُسی دن اُس نے اپنا تھیٹر بیچ دیا۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ اپنے آبائی گاؤں میں واپس چلا آیا جہاں اُس نے اپنے لڑکپن کے درختوں اور دریاؤں کو بازیاب کیا۔ اُس نے ان درختوں اور دریاؤں کا تعلق اُس بلند مرتبہ اساطیری سراب اور لاطینی کہاوت سے نہ جوڑا جسے فن کی دیوی Muse نے جشن کے طور پر منایا تھا۔ اسے ’کوئی‘ توہونا تھاپس وہ ایک ریٹائرڈ ناظمِ تفریحات بن گیا جس نے اپنی قسمت آزمائی: اور جسے قرض دینے، قانونی مقدمات دائر کرنے اور معمولی سودخوری میں دل چسپی تھی۔ یہ کردار میں ہی تھا یعنی اس کردار میں کہ اُس نے آخری بے روح وصیت لکھوائی اور وصیت نامہ جیسے کہ ہم جانتے ہیں اُس نے جان بوجھ کر اس میں سے رقت انگیز یادداشت اور ادبی تاثر کو شامل نہیں کیا تھا۔ اس کی پس پائی کے بعد لندن کے دوست اُس سے ملنے آیا کرتے تھے اور وہ ان کے لیے ایک بار پھر شاعر کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔
تاریخی طور پر ہمیں مزید پتا چلتا ہے کہ اُس نے اپنی موت سے پہلے یا بعد میں اپنے آپ کو خدا کے حضور میں پایا اور کہا: ’’میں، جو کہ بہت سارے آدمیوں کی صورت میں رہنے میں ناکام رہا ہوں، صرف ایک آدمی بن کر رہنا چاہتا ہوں یعنی صرف خود۔ ‘‘ایک بگولے میں سے خدا کی آواز گونجی: ’’میں ’کوئی اور‘نہیں ہوں۔میں نے اسی طرح دنیا کا خواب دیکھا تھا جیسے کہ اے میرے شیکسپیئر !تم نے ،اپنی اداکاری کا خواب دیکھا تھا۔ میرے خواب کی ہیئتوں میں سے ایک تمھاری تھی جو میری طرح بہت سی ہیں اور ’’کوئی‘‘ بھی نہیں۔

خاتمہ

نیچے کی طرف ڈھلواں لیٹے ہوئے ریکابیرن نے ادھ کھلی آنکھوں سے رتن کھجوربیل سے بنی ترچھی چھت کو دیکھا۔ دوسرے کمرے سے، بڑے بے ڈھنگے انداز میں، گٹار بجانے کی آواز آ رہی تھی۔ نظر نہ آنے والا یہ آلۂ موسیقی ،ختم ہوتے لیکن پھر سے بنتے، لامحدود پیچ و خم پر مبنی چھوٹی سی بھول بھلیاں جیسا تھا۔
بہ تدریج وہ حقیقت کی جانب پلٹا۔ روزمرہ کی ان تفصیلات کی طرف، جو اَب تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ اُس نے ٹانگوں کو ڈھانپتے ہوئے کھردرے اُون سے بنے پانچوPoncho (ایک اصلاً جنوبی امریکی لباس) میں لپٹے اپنے خاصے بڑے بے کار وجود کی طرف غم گیں ہوئے بغیر دیکھا۔ باہر کھلی ہوئی کھڑکیوں کے پار میدان تھا اور سہ پہر پھیلی ہوئی تھی۔ وہ سویا رہا تھا لیکن آسمان ابھی تک روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ بائیں ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے آخرکار اُس نے چارپائی سے لٹکتی ہوئی ’’تانبے کی گٹوگھنٹی کو چھُو لیا۔ اُس نے گھنٹی کو دو تین بار بجایا۔ دروازے کی دوسری طرف سے تاروں کے آپس میں ٹکرانے کی مدھم آواز اس تک مسلسل پہنچتی رہی۔ گٹار بجانے والا ایک نیگرو تھا جس نے ایک رات اپنی گائیکی کے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اُس نے کچھ اور گٹار بجانے والوں کی سنگت میں ایک اجنبی کو گائیکی کے مقابلے کی دعوت دی تھی۔ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بہ رُوئے کار لانے کے باوجود وہ جنرل سٹور میں منڈلاتا رہا جیسے وہ کسی کا منتظر ہو۔ اُس نے بہت سا وقت گٹار بجاتے ہوئے صرف کیا لیکن دوبارہ اُس نے گانے کی ہمت نہیں کی۔ شاید اس کی شکست نے اُسے تلخ بنا دیا تھا۔ دوسرے گاہک اُس کے اس بے ضرر ساز کے عادی ہو گئے تھے۔ ریکابیرن یعنی دکان کا مالک گٹار مقابلے کی اس گائیکی کو کبھی بھلا نہیں پائے گا کیوں کہ اس سے اگلے دن ہی جب وہ خچر کی کمر پر لدے بوجھ کو درست کر رہا تھا تو اس کے جسم کا دایاں حصہ اچانک مردہ ہو گیا اور اُس کی زبان بند ہو گئی۔ ناولوں کے ہیروؤں کی بدنصیبی پر تھوڑا سا ترس کھاتے ہوئے ہم اپنی بدنصیبیوں پر بہت زیادہ ترس کھانے لگتے ہیں۔ ریکابیرن بھی ایسی استقامت کا حامل نہیں تھا جس نے اپنے فالج کو اس طرح قبول کر لیا تھا جس طرح اس سے پہلے اُس نے امریکاکی غیر مہذب تنہائی کو کیا تھا۔ جان وروں کی طرح اپنے حالات کا عادی ہوتے ہوئے اس نے اس وقت آسمان کی طرف دیکھا اور چاند کے گرد موجود ارغوانی ہالے کو بارش کی پیشین گوئی سمجھا۔
ہندوستانی خدوخال والے ایک لڑکے (غالباً اس کے بیٹوں میں سے ایک تھا) نے دروازے کو آدھا کھولا۔ ریکابیرن نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے پوچھا کہ کیا دکان میں کوئی شخص موجود تھا۔ خاموش طبع لڑکے نے نپے تلے اشاروں میں بتایا کہ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ (نیگرو بہ ہر حال اس شمار میں نہیں آتا تھا)لاچار آدمی اکیلا رہ گیا۔ اُس نے ایک ہاتھ سے مختصر دورانیے کے لیے گٹو گھنٹی بجائی جیسے اُس کے پاس حکم چلانے کی کوئی طاقت ہو۔
اس دن کے ڈوبتے سورج کے نیچے میدان تقریباً ایک خیالی چیز لگ رہا تھا جیسے کہ خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ افق پر نقطے کی طرح کچھ جھلملانے لگا پھر یہ اتنا بڑا ہو گیا کہ وہ ایک گھڑسوارمیں تبدیل ہو گیا۔ وہ آیا اور پھر بلڈنگ کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا۔ ریکابیرن نے چوڑے کنارے والا ہیٹ، لمبا سیاہ پانچو اور چتکبرا گھوڑا دیکھا لیکن اُسے اُس آدمی کا چہرہ نظر نہیں آیا ۔ آخرکار گھڑسوار نے سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے کی باگیں کھینچیں اور وہ دلکی چال چلنے لگا۔ کوئی دو سو گز دوری پر وہ تیزی سے مڑ گیا۔ ریکابیرن اب اسے دیکھ تو نہیں سکتا تھا لیکن اُس نے اُسے بولتے ہوئے سُنا۔ اُس نے اُسے نیچے اترتے ہوئے گھوڑے کو جنگلے کے ساتھ باندھتے اور مضبوط قدموں کے ساتھ دکان میں داخل ہوتے ہوئے محسوس کیا۔
نیگرو نے اپنی آنکھیں گٹار پر سے نہ ہٹاتے ہوئے جیسے کہ وہ وہاں کچھ تلاش کر رہا ہو ملائمت سے کہا۔
’’مجھے یقین تھا سینیور۔ میں آپ پر بھروسا کر سکتا تھا‘‘
دوسرے آدمی نے کھردری آواز میں جواب دیا۔
’’اور میں تم پر کر سکتا ہوں۔ کالے آدمی‘‘۔ میں نے تمھیں بہت دنوں تک انتظار میں رکھا لیکن اب میں یہاں موجود ہوں۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر نیگرو نے جواب دیا۔
’’مجھے انتظار کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔ میں نے سات سال تک انتظار کیاہے‘‘
کسی جلدی کے بغیر دوسرے نے وضاحت کی۔
میں سات سال سے زیادہ عرصے تک اپنے بچوں سے ملے بغیر رہا۔ میں نے اُس دن ہی انھیں دیکھا تھا لیکن میں ہر وقت لڑنے والا شخص نظرنہیں آنا چاہتا۔
’’میں محسوس کر سکتا ہوں، میں سمجھتا ہوں جو کچھ آپ کَہ رہے ہیں‘‘۔ نیگرو نے کہا ’’مجھے آپ پر یقین ہے کہ آپ نے انھیں اچھی حالت میں چھوڑا تھا‘‘۔
اجنبی جس نے بار میں ایک نشست سنبھال لی تھی ایک گہری ہنسی ہنسا۔ اُس نے رم کا آرڈر دیا ۔ اُس نے گہری رغبت سے اسے نوش کیا لیکن اسے بالکل ختم نہ کیا۔
’’میں نے انھیں کچھ ایسا مشورہ دیا ہے‘‘ اُس نے برملا کہا۔ ’’یہ بے موقع ہر گز نہیں اور پھر اس پر کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔ میں نے اور چیزوں کے ساتھ انھیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کا خون نہیں بہانا چاہیے‘‘۔
ایک سُست سُر نیگروکے جواب سے سبقت لے گیا۔
’’آپ نے بہت اچھا کیا ۔ اس طرح وہ ہم جیسے نہیں ہوں گے‘‘
’’کم از کم وہ میری طرح تو نہیں ہوں گے‘‘ اجنبی نے کہا اور پھر اُس نے مزید اضافہ کیا جیسے وہ اونچی آواز کے ساتھ کچھ چبا رہا ہو۔
’’تقدیر نے مجھے مارنے پر مجبور کر دیا اور اب ایک بار پھر اس نے میرے ہاتھ میں چاقو دے دیا ہے‘‘۔
نیگرو نے ،جیسے کہ اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو، ایک صاحبِ نظر کی طرح کہا۔
’’خزاں دنوں کی بڑھوتری کو مختصر کر دیتی ہے‘‘
’’جتنی روشنی رہ گئی ہے وہ میرے لیے کافی ہے‘‘ اجنبی نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا۔
اس نے نیگرو کے بالمقابل کھڑے ہوتے ہوئے اکتاہٹ کے ساتھ کہا۔
’’اس گٹار کو چھوڑو۔ آج ایک اور طرح کا راگ تمھارا منتظر ہے‘‘۔
دونوں آدمی دروازے کی طرف بڑھے۔ باہر نکلتے ہوئے نیگرو منمنایا۔
’’شاید آج یہ سب کچھ مجھ پر اتنا ہی بھاری ہو گا جیسا کہ یہ پہلی بار ہوا تھا‘‘
دوسرے نے سنجیدگی سے جواب دیا
’’پہلی بار اس کا تم پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ تم دوسری بار کے لیے منتظر تھے‘‘
وہ اکٹھے چلتے ہوئے مکانوں سے کچھ دور چلے گئے۔ میدان میں ایک مقام اتنا ہی اچھا تھا جتنا کہ کوئی دوسرا اور چاند چمک رہا تھا۔ اچانک انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ رک گئے اور اجنبی نے مہمیز کو علاحدہ کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے پہلے ہی اپنے پانچوؤں کو اپنی کلائیوں کے گرد باندھنا شروع کر دیا تھا۔ تب ہی نیگرو نے کہا۔
’’اس سے پہلے کہ ہم الجھ جائیں میں آپ سے ایک عنایت کا خواست گوار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مڈبھیڑ میں آپ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا اظہار کریں جیسے کہ آج سے سات سال پہلے آپ نے میرے بھائی کو مارتے وقت کیا تھا‘‘
مارٹن فیرو نے شاید پہلی بار اس گفت گو کے دوران نفرت کی آمیزش کو محسوس کیا تھا۔ اُس نے اپنے لہو میں ایک مہمیز سی محسوس کی۔ وہ بھِڑ گئے اور تیز دھار لوہے نے نیگرو کے چہرے کو نشانہ بنایا۔
سہ پہر کا ابھی ایک گھنٹا ہی گزرا تھا کہ لگا میدان کچھ کہنے کو تھا۔ یہ کبھی کچھ نہیں کہتایا شاید یہ بے حد و حساب کہتا ہے یا شاید ہم ہی سمجھ نہیں پاتے یا ہم سمجھ تو لیتے ہیں لیکن یہ موسیقی کی طرح قابلِ تشریح نہیں ہوتا۔
اپنی کھاٹ پر بیٹھے ہوئے ریکابیرن نے اس خاتمے کو دیکھا۔ ایک حملہ ہوا اور نیگرو پیچھے کی طرف گرا اُس کے پاؤں لڑکھڑا گئے۔ دھوکا دینے کے انداز میں وہ اپنے مخالف کے چہرے پر حملہ آور ہوا اور ایک بڑا وار کرتے ہوئے اُس نے اجنبی کی چھاتی کو چیردیا۔ پھر ایک اور زخم لگایا جو کہ دکان کا مالک واضح طور پر نہ دیکھ سکا اور فیرو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ نیگرو ساکت کھڑا اپنے دشمن کو موت کی تکلیف کو سہتے ہوئے دیکھنے لگا۔ اُس نے اپنے خون آلود چاقو کو گھاس پر صاف کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر وہ مکانوں کے ابھار کی طرف آہستہ سے چل دیا۔ اُس نے اپنا جائز مشن مکمل کر لیا تھا وہ کوئی نہیں تھا ۔ زیادہ مناسب انداز میں کہا جائے تو یہ کہ وہ ایک اجنبی بن گیا تھا۔ اس زمین پر اس کا کوئی اور مشن نہیں تھا مگر اس نے ایک شخص کو مار دیا تھا۔

محل کی حکایت

اُس دن پہلے شہنشاہ نے اپنے محل میں سے شاعر کی نمائش کا اہتمام کیا۔ جب وہ باغ کی ڈھلان سے چمک دار آئینوں اور گنجلک جونیپر ؂ ۱ کی باڑ جس کی مشابہت بھول بھلیوں جیسی تھی کی طرف چل رہے تھے۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایک کر کے مغربی طرز کی ایسی مہتابیاں ؂ ۲چھوڑے جا رہے تھے جو تقریباً لامتناہی ایمفی تھیٹر کی گریڈائن ؂ ۳ کی طرح تھیں۔ پہلے تو ایسے لگا جیسے وہ باہمی رضامندی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہوں۔ لیکن بعد میں وہ کسی بدگمانی یا اندیشے کے بغیر نیچے کی طرف جانے والے اُن سیدھے راستوں کے مسلسل نازک موڑوں اور چھپی ہوئی گولائیوں میں گم ہو گئے۔ آدھی رات کو سیاروں کے مشاہدے اور ایک بروقت اور موزوں کچھوے کی قربانی دینے کی وجہ سے ان کی اس بہ ظاہر طلسمی اقلیم سے گلوخلاصی ہوئی لیکن وہ آخر تک اپنے آپ کو گم ہو جانے کے احساس سے نہ چھڑا سکے۔ بعد میں وہ خواب گاہوں، انگنائیوں، لائبریریوں اور آبی گھڑی سے مزین ڈرائنگ روموں میں سے گزرے اور ایک صبح انھوں نے ایک بُرج سے ایک پتھر کا آدمی تخلیق کیا جو اُن سے ہمیشہ کے لیے کھو گیا۔ چندن کی لکڑی سے بنے ڈونگے میں انھوں نے سب سے درخشاں دریاؤں کو یا صرف ایک ہی دریا کوکئی بار پار کیا۔ شاہی جلوس گزرتا تو لوگ زمین بوسی کرتے لیکن ایک دن وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جہاں ایک شخص نے ایسا نہ کیا کیوں کہ اُس نے کبھی ’’آسمانی بیٹے‘‘ کو نہیں دیکھا تھا اور جلاد کو اس کا سر قلم کرنا پڑا۔ ان کی آنکھوں نے کالے بالوں والے سروں، کالے رقصوں اور سونے کے پیچیدہ نقابوں کو لاتعلقی سے دیکھا جو حقیقی تھا، خود کو اُس سے جو خواب میں دیکھا گیا تھا ،گڈمڈ کرتا تھا بل کہ اس سے بھی زیادہ جو خواب کی ہیئتوں میں سے ایک تھا وہی حقیقی تھا۔ یہ ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ زمین باغوں، آبی گزرگاہوں، فنِ عمارت گری اور شان و شوکت کی دوسری ہیئتوں کے علاوہ کوئی چیز ہو۔ ہر سو قدم پر ایک بُرج ہوا کو کاٹتا تھا۔ آنکھوں کو اُن کا رنگ ایک جیسا لگتا تھا حالاں کہ پہلا پیلا اور آخری قرمزی تھا۔ اُن کی درجہ بندی بہت نازک اور سیریز بہت لمبی تھی۔
آخری برج کی بنیاد کے قریب اُس شاعر نے (جو اُن تمام عجائبات سے جو سب کے لیے ایک عجوبہ تھے بے تعلق سا لگتا تھا) ایک مختصر نظم پڑھی جسے آج ہم ایک زندہ رہنے والی نظم کے طور پر یاد کرتے ہیں اور جیسا کہ خوش اسلوب مورخین اکثر کہتے ہیں کہ شاعر نے اس نظم کوموت اورابدیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کا متن گم ہو چکا ہے ۔کچھ کے نزدیک یہ نظم صرف ایک سطر پر مشتمل تھی جب کہ دوسرے کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک لفظ پر مبنی تھی۔ حتمی اورناقابلِ یقین بات یہ ہے کہ یہ بے حد وسیع محل اس نظم میں اپنی باریک ترین جزئیات کے ساتھ موجود تھا۔ شان دار ظروفِ چینی اور اُن کے ڈیزائن۔ صبح صادق کی روشنی اور شام کے دھندلکے، اژدہوں، دیوتاؤں اور فانیوں کے اس شان دار سلسلۂ شاہی کا یہ خوش باش یا بدقسمت باشندہ جو کہ اس کے ناقابلِ پیمائش ماضی میں آباد رہا تھا...ہر کوئی خاموش تھا لیکن شہنشاہ بے ساختہ بول اٹھا ’’تم نے مجھے میرے محل سے محروم کر دیا ہے‘‘ اور جلاد کی تلوار نے شاعر کی گردن اڑا دی۔
کچھ لوگ اس کہانی کو مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی دو چیزیں ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعر کو تو محض ایک نظم پڑھنا تھی جب کہ محل اس کے آخری الفاظ کی ادائی کے ساتھ ہی منظر سے مٹ گیا، غائب ہو گیا اور ختم ہو گیا۔ یقین مانیے ایسے اسطورہ ادبی تخئیلات سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
شاعر شہنشاہ کا غلام تھا اور وہ اسی غلامی میں مر گیا۔ اُس کی نظم اس لیے بھلا دی گئی کیوں کہ وہ فراموش کر دیے جانے کے ہی قابل تھی۔
اس کی نسل کے لوگ ابھی تک متلاشی ہیں لیکن وہ اس کائنات سے متعلق لفظ ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔


(۱) ایک قسم کی صنوبری، سدابہار جھاڑی
(۲) بالکنیاں
(۳ ) سیڑھیوں یا نشستوں کی قطار در قطار کا ایک سلسلہ

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *