بورخیس (ایک مضمون اور تین کہانیاں)/محمود احمد قاضی


بورخیس ۔ ایک ٹیڑھا لکھاری

یہ جو دنیا ہے اس میں ہم جیسے بندے بھی ہوتے ہیں جو دنیا میں آتے ہیں اور مَر جاتے ہیں کیوں کہ یہ آتے ہی مرنے کے لیے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو ایک شان سے آتے ہیں، زندہ رہنے کے لیے آتے ہیں، وہ زندہ رہتے ہیں اور جب مرتے ہیں تو بھی نہیں مرتے کہ ان کا نام ان کا کام ہمیشہ کے لیے وقت کی پیشانی پر ثبت ہو جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو وہ دیکھنے میں ہم جیسے ہی ہوتے ہیں۔ دو کان، ناک، دو آنکھیں، دو پیر، شکم کا ایک دوزخ بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ذہن کی دولت سے بھی مالا مال ہوتے ہیں اور اس مال ہی کو وہ ساری زندگی خرچ کرتے رہتے ہیں اور یہ مال ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یا یہی وہ موڑ ہے وہ علاقہ ہے جہاں وہ ہم جیسے نکموں سے علاحدہ قرار پاتے ہیں ان کی کیمسٹری کچھ اور ہی نکلتی ہے۔
دنیا کا جو سماجی نظام ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، ایک عظیم قسم کا ڈراما ہے، رپھڑ ہے۔ اگر تو اسے جوں کا توں قبول کر لیا جائے تو پھر تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ آپ آئے آپ نے زندگی جیسے تیسے کر کے گزاری اور مر لیے۔ سب کچھ خلاص، چُھٹی اور جو سوچنے لگتے ہیں اصل میں مصیبت وہ مول لیتے ہیں۔ آگاہی تو ان کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ وہ یہ عذاب ایک درویشانہ استغناکے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ سقراط، گیلیلیو ایسی ہی کیمسٹری رکھنے والے بندے تھے۔ پھر بیسویں صدی آ گئی پگ پگ چلتے وقت کے دھارے تھکے نہیں، اسی لیے آئن سٹائن آیا اور بورخیس نے بھی جنم لیا۔ وہ ایسے جیا کہ مرکر بھی نہیں مرا۔ وہ اب تک سب سے زیادہ دل چسپی سے پڑھا جانے والا پُرش ہے ۔ کیا چیز ہے یہ ارجنٹائنی! ویسے تو آج کا ینگ لیجنڈگارسیا مارکینر بھی ایک لاطینی امریکی ہی ہے لیکن یہ بورخیس جناب اس کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ اسے لیجنڈری ورثے، اساطیر، روایات سے پیار بھی ہے اور وہ ساتھ ہی ساتھ انھیں نیگیٹ بھی کیے جاتا ہے کہ ہونا اور نہ ہونا بھی تو اُس کا پیشن ہے۔اُس کے کردار ہیں بھی اور نہیں بھی۔ وہ خود ہے بھی اور نہیں بھی۔ اُس کا خدا بھی کبھی تو ہے اور کبھی بالکل ہی نہیں ہوتا۔ خدا سے وہ مسلسل چھیڑ چھاڑ کیے جاتا ہے۔ اُس کے پاس ایک ہی کہانی ہے جو مختلف کہانیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اُس کے کرداروں کے حلیے، مہاندرے، ردعمل عمومی ہیں لیکن اتنے ہی خاص منفرد اور مختلف بھی۔ وہ ان کے ہاتھ میں ایک چاقو تھما دیتا ہے۔ وہ اس سے ایک شخص کو مار دیتے ہیں۔ اُس کی کئی کہانیاں تو شروع ہی مرے ہوئے بندوں کے بیان سے ہوتی ہیں ۔ اُس کی کہانی شروع ہی تب ہوتی ہے جب کہ وہ مر چکے ہوتے۔ وہ انھیں پھر سے زندہ کرتا ہے اور ان کے ذریعے وہ مرنے سے پہلے کی اور بعض اوقات مرنے کے بعد کی کہانی بیان کرنے لگتا ہے۔’’اُس نے اپنی موت سے پہلے یا بعد میں اپنے آپ کوخدا کے حضور پایا...‘‘کہانی"Every Thing and Nothing" اور جب اُس کا کوئی کردار کسی دوسرے کو مار دیتا ہے تو بعض اوقات وہ کہتا ہے:
’’اُس نے اپنے خون آلود چاقو کو گھاس پر صاف کیا اور پیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر مکانوں کے ابھار کی طرف آہستہ سے چل دیا۔ اُس نے اپنا جائز مشن مکمل کر لیا تھا۔ وہ کوئی نہیں تھا۔ زیادہ مناسب انداز میں کہا جائے تو یہ کہ وہ ایک اجنبی بن گیا تھا۔ اس زمین پر اس کا کوئی اور مشن نہیں تھا مگر اُس نے ایک شخص کو مار دیا تھا‘‘ (کہانی"The End )۔
دنیا میں اور بھی بہت سے لکھاری ایسے ہیں جنھوں نے ایبسرڈٹی پہ بہت کچھ لکھا لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے محض اور محض ایبسرڈٹی یعنی لایعنیت کا خود بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ بورخیس کے ہاں صورتِ حال قطعی تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ وہ اس لایعنیت سے معنویت کے اکھوے کو پھوٹنے دیتا ہے ۔ وہ ایک ایسا تذبذب اور شک پیچھے چھوڑ دیتا ہے کہ یقین اور بے یقینی ایک دوسرے سے یوں گلے ملتے ہیں کہ وہ حقیقت بھی بن جاتے ہیں بل کہ حقیقت سے زیادہ ایک بڑی حقیقت۔ بڑے کینوس کی حقیقت۔ یہ کام صرف بورخیس جیسا جینیئس ہی کر پاتا ہے ورنہ مٹی کا ڈھیر تو مٹی کا ڈھیر ہی ہوتا ہے۔
’’کچھ لوگ ہیں کہانی کو مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی دوچیزیں ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعر کو تو محض ایک نظم پڑھنی تھی جب کہ عمل اس کے آخری الفاظ کی ادائی کے ساتھ ہی منظر سے مٹ گیا، غائب ہو گیا اور ختم ہو گیا۔ یقین مانیے، ایسے اسطورہ ادبی تخیلات سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ شاعر شہنشاہ کا غلام تھا اور وہ اِسی غلامی میں مر گیا۔ اس کی نظم اس کے لیے بھلا دی گئی کیوں کہ وہ فراموش کر دیے جانے کے ہی قابل تھی اور اُس کی نسل کے لوگ ابھی تک متلاشی ہیں لیکن وہ اس کائنات سے متعلق لفظ ڈھونڈ نہیں پائیں گے‘‘۔ (کہانی "Pavelile of the Palace" )
’’میں نہیں جانتا کہ ہم دونوں میں سے یہ صفحہ کون لکھ رہا ہے‘‘ (کہانی "Borges and I" )
زندگی جیسے زگ زیگ چلتی ہے وہ بھی ایسے ہی چلتا ہے۔ وہ سیدھا نہیں ہے اور سیدھا نہیں چلتا نہ ہمیں سیدھے سیدھے چلنے کی تلقین کرتا ہے کہ وہ تلقین شاہ بالکل نہیں ہے۔ وہ تو ’جو ہے ‘اس کو ’جو نہیں ہے‘ سے ایسے ملاتا ہے، آپس میں مدغم کرتا ہے کہ حقیقت حقیقت نہ رہتے ہوئے بس ایک اور طرح کی اصلی اور صحیح حقیقت بن جاتی ہے۔ وہ جھوٹ لکھتا ہے اور سچ کہتا ہے۔ وہ کہانیاں خود گھڑتا ہے، بناتا ہے جو کہ ایک فکشن نگار کا اصل وصف ہونا چاہیے۔ بہ شرطِ کہ اُس کی دنیا کوئی ماورائی دنیا نہ ہوکہ اسی دنیا سے ایک آرٹسٹ نئی دنیا میں تخلیق کر سکتا ہے۔
اگر ایک آرٹسٹ بے چین ہے، مضطرب ہے تووہ یقیناً سچا بھی ہے۔ وہ اِریٹیٹڈ ہے اسی لیے تو وہ ہمیں بھی اریٹیٹ کر سکتا ہے، خود متحیر ہوسکتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی تجربے میں شامل کر سکتا ہے کہ وہ حیرت میں مبتلا ہو کر بھی حیرتی نہیں رہتے بل کہ ایک اور نئی دنیا کا دَر اُن کے سامنے وا ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس کی سرحدیں پھر انھی کی دنیا سے آ ملتی ہیں اور آشنائی اور ناآشنائی کا یہ ایک مسلسل عمل ہمیں بے عملی اور دوغلے پن کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ہم بے چہرہ ہوتے ہوئے بھی اپنا چہرہ کھو نہیں پاتے بل کہ چہروں پر سجے مکھوٹے اترتے چلے جاتے ہیں ۔ لباس تک ہمارے بدنوں سے یوں اترتے ہیں کہ اب عریانی ہی ہمارا لباس ٹھہرتی ہے۔ یہ وہ ملبوس ہے جو مستقل ہے پائے دار ہے کیوں کہ اصل اصل ہے اور نقل نقل۔
بورخیس ایک ٹیڑھا لکھاری ہے اور متنازع بھی اور یہی چیز اُسے دوسروں سے ممتاز کر جاتی ہے۔ وہ ’گول گیٹا‘ ہر گز نہیں۔ وہ ہمیں وہ کچھ بتاتا ہے جس کے بتانے کی واقعی ضرورت رہتی ہے۔ وہ کچھ چھپا بھی لیتا ہے تو واقعی اُس کے چھپانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس چھپنے اور سامنے آنے کے بیچ میں سے وہ اپنا آپ ہم پر ظاہر کر جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ہماری انگلیوں کی پوریں تک شل ہونے لگتی ہیں۔ اپنی لکھتوں کا ایک انتخاب جو اس نے خود کیا اور اس کا نام ہی اُس نے ’’ذاتی انتخاب‘‘ رکھا ہے کے مطابق اسے اپنی کہانیاں "The Golem" "The Circular Ruins"، یا "Chess"پسند ہیں اور ساتھ ہی وہ حوالہ دیتاہے۔
"Cove hold that art is expression; to this exigency, or to a deformation of this exigency, we owe the worst literature of our time".
اور اُس کے اپنے الفاظ ہیں:
"I know that my gods grant me no move than allusion or mention". August 16, 1961 (J.L.B)
تو جناب یہ ہے ہمارا بورخیس۔ یہاں اُس سے متعلق صرف چند ایک پہلو ہی سامنے آئے ہیں اور یہاں ضرورت بھی شاید اتنی ہی تھی کہ مکمل بورخیس کے لیے تو یقیناً ایک علاحدہ سے کتاب مرتب کرنی پڑے گی۔ اس نابغہ، اس یگانہ شرفیت کے اتنے رنگ ہیں ،اتنے پہلو ہیں کہ ہم اُس کی اپنی تخلیق کردہ دنیا کی ’’بھول بھلیوں‘‘میں گم ہوتے نظر آتے ہیں ۔ تاریخ ہر آدمی، زمین اور موت کے ساتھ ’’بھول بھلیاں‘‘ بھی اُس کا ایک پیشن ہے۔ وہ تاریخ میں رہتے ہوئے ماورائے تاریخ بھی تو ہے۔


سہ چشمی کہانیاں

ہر کوئی مگر کوئی نہیں

اُس کے بغیر میں کوئی نہیں تھا (حتیٰ کہ اس عہد کی تصاویر بھی اسے کسی دوسرے سے مختلف پیش کرتی تھیں) اور اُس کے الفاظ کے پیچھے (جو کہ نمائشی، اشتعال دلانے والے اور مبالغہ آمیز تھے) کچھ نہیں تھا سوائے ایک جزوی طور پر ٹھنڈے خواب کے ،جس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ پہلے پہل اُس نے سوچا کہ ہر کوئی اُس جیسا ہی تھا۔ لیکن ایک کامریڈ نے جسے اُس نے اپنے خالی پن کا حوالہ دیا تھا اُس سے مایوس ہوتے ہوئے اُس پر اُس کی غلطی ظاہر کی تھی اور اُسے احساس دلایا تھا کہ کسی بھی فرد کو اپنی نوع سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ ایک موقعے پر اُس پر کھلا کہ اُسے اپنی مشکل کا حل کتابوں میں ڈھونڈنا چاہیے اور اس طرح اُس نے تھوڑی سی لاطینی سیکھی اور یونانی میں بھی کچھ سدھ بدھ حاصل کی جس کا مشورہ اُسے ایک ہم عصر نے دیا تھا۔ بعد میں اُس نے سوچا کہ اسے وہ کچھ ڈھونڈنا چاہیے جو اُس نے انسانیت کے اساسی رسم و رواج کی تکمیل میں پایا تھا ۔ اس طرح اس نے جون کے ایک لمبی سہ پہر میں قیلولے کے اوقات میں Anne Hathaway سے آغاز کیا۔ وہ اپنی عمر کے بیسویں سال کے آس پاس لندن آ گیا۔ جبلی طور پر، اُس نے پہلے ہی اپنے آپ کو ’’کوئی‘‘ سمجھنے کی عادت کی تربیت دے ڈالی تھی۔ اس لیے یہ دریافت نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’کوئی‘‘ نہیں تھا۔ لندن میں اُس نے پہلے سے تعین شدہ پیشے کو چنا یعنی ایک ایکٹر کا پیشہ جو کہ سٹیج پر لوگوں کے ہجوم کے سامنے’ کسی اور‘ کے ہونے کا رول ادا کرتا ہے اور لوگ بھی اُسے’ کوئی اور‘ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ اُس کے فن اداکاری نے اُسے ایک اطمینان بخشا تھا اور یہ اب تک پہلا اطمینان تھا جو اُسے حاصل ہوا تھا۔ اور پھر ایک بار جب نظم کی آخر ی لائن کو بہت سراہا گیا اور آخری مردہ شخص کو بھی سٹیج سے ہٹا لیا گیا تو اس نے مصنوعی پن کے نفرت انگیز ذائقے کو بھی چکھ لیا۔ وہ فیریکس یا تیمبرلین کی صورت میں سٹیج چھوڑتا اور دوبارہ ’کوئی نہیں‘ بن جاتا۔ پس اُس نے مغلوب ہوتے ہوئے دوسری المیہ کہانیوں اور دوسرے سورماؤں کو تصور میں لانا شروع کر دیا۔ اور اس طرح جب کہ اس کا جسم لندن کے مے کدوں اور قحبہ خانوں میں اپنے جسمانی مقدر کے تابع تھا وہ روحانی سطح پر کاہن کی پیشن گوئی کو خاطر میں نہ لانے والاسیزر تھا ۔ دل لگی کے کھیل سے شدید نفرت کرنے والی جو لیٹ اور جادوگرنیوں سے جو تباہی و بربادی (Fates) بھی تھیں خلنج زار پر اُن سے گفت گو کرنے والا میک بتھ بھی تھا۔ کوئی اور شخص اس کی طرح کبھی اتنے زیادہ آدمیوں جیسا نہیں ہوا تھا ۔مصری دیوتا(Proteus) پروٹیئس کی طرح جو ہر کسی کے روپ میں اپنے آپ کو ظاہر کر سکتا تھا۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنی اداکاری کے کسی مبہم سرے پر ایک اعتراف کرتا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اس کی کبھی رمزکشائی نہیں ہو سکتی تھی۔ رچرڈ کہتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں بہت سے کردار ادا کرتا ہے اور آئی آگو "I ago" متجسس انداز میں کہتا ہے ’’میں جو ہوں وہ نہیں ہوں‘‘۔ ہونے کے بنیادی واحد پن، خواب دیکھنے کے عمل اور اداکاری نے اس کی ذات کو کئی مشہور جملوں کے حوالے سے متحرک کیا۔
وہ بیس سال تک اس طے شدہ فریبِ نظر پر عمل پیرا رہا۔ لیکن ایک صبح وہ معدے کی گرانی، اور اُن بادشاہوں کی طرح جو بالآخر تلوار سے مر جاتے ہیں اور اُن بدقسمت عاشقوں کی طرح جو مائل اور منحرف ہوتے ہوئے ترنم ریز ہو کر مر جاتے ہیں، کے خوف میں مبتلا ہوا۔ عین اُسی دن اُس نے اپنا تھیٹر بیچ دیا۔ ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ اپنے آبائی گاؤں میں واپس چلا آیا جہاں اُس نے اپنے لڑکپن کے درختوں اور دریاؤں کو بازیاب کیا۔ اُس نے ان درختوں اور دریاؤں کا تعلق اُس بلند مرتبہ اساطیری سراب اور لاطینی کہاوت سے نہ جوڑا جسے فن کی دیوی Muse نے جشن کے طور پر منایا تھا۔ اسے ’کوئی‘ توہونا تھاپس وہ ایک ریٹائرڈ ناظمِ تفریحات بن گیا جس نے اپنی قسمت آزمائی: اور جسے قرض دینے، قانونی مقدمات دائر کرنے اور معمولی سودخوری میں دل چسپی تھی۔ یہ کردار میں ہی تھا یعنی اس کردار میں کہ اُس نے آخری بے روح وصیت لکھوائی اور وصیت نامہ جیسے کہ ہم جانتے ہیں اُس نے جان بوجھ کر اس میں سے رقت انگیز یادداشت اور ادبی تاثر کو شامل نہیں کیا تھا۔ اس کی پس پائی کے بعد لندن کے دوست اُس سے ملنے آیا کرتے تھے اور وہ ان کے لیے ایک بار پھر شاعر کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔
تاریخی طور پر ہمیں مزید پتا چلتا ہے کہ اُس نے اپنی موت سے پہلے یا بعد میں اپنے آپ کو خدا کے حضور میں پایا اور کہا: ’’میں، جو کہ بہت سارے آدمیوں کی صورت میں رہنے میں ناکام رہا ہوں، صرف ایک آدمی بن کر رہنا چاہتا ہوں یعنی صرف خود۔ ‘‘ایک بگولے میں سے خدا کی آواز گونجی: ’’میں ’کوئی اور‘نہیں ہوں۔میں نے اسی طرح دنیا کا خواب دیکھا تھا جیسے کہ اے میرے شیکسپیئر !تم نے ،اپنی اداکاری کا خواب دیکھا تھا۔ میرے خواب کی ہیئتوں میں سے ایک تمھاری تھی جو میری طرح بہت سی ہیں اور ’’کوئی‘‘ بھی نہیں۔

خاتمہ

نیچے کی طرف ڈھلواں لیٹے ہوئے ریکابیرن نے ادھ کھلی آنکھوں سے رتن کھجوربیل سے بنی ترچھی چھت کو دیکھا۔ دوسرے کمرے سے، بڑے بے ڈھنگے انداز میں، گٹار بجانے کی آواز آ رہی تھی۔ نظر نہ آنے والا یہ آلۂ موسیقی ،ختم ہوتے لیکن پھر سے بنتے، لامحدود پیچ و خم پر مبنی چھوٹی سی بھول بھلیاں جیسا تھا۔
بہ تدریج وہ حقیقت کی جانب پلٹا۔ روزمرہ کی ان تفصیلات کی طرف، جو اَب تبدیل نہیں ہو سکیں گی۔ اُس نے ٹانگوں کو ڈھانپتے ہوئے کھردرے اُون سے بنے پانچوPoncho (ایک اصلاً جنوبی امریکی لباس) میں لپٹے اپنے خاصے بڑے بے کار وجود کی طرف غم گیں ہوئے بغیر دیکھا۔ باہر کھلی ہوئی کھڑکیوں کے پار میدان تھا اور سہ پہر پھیلی ہوئی تھی۔ وہ سویا رہا تھا لیکن آسمان ابھی تک روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ بائیں ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے آخرکار اُس نے چارپائی سے لٹکتی ہوئی ’’تانبے کی گٹوگھنٹی کو چھُو لیا۔ اُس نے گھنٹی کو دو تین بار بجایا۔ دروازے کی دوسری طرف سے تاروں کے آپس میں ٹکرانے کی مدھم آواز اس تک مسلسل پہنچتی رہی۔ گٹار بجانے والا ایک نیگرو تھا جس نے ایک رات اپنی گائیکی کے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اُس نے کچھ اور گٹار بجانے والوں کی سنگت میں ایک اجنبی کو گائیکی کے مقابلے کی دعوت دی تھی۔ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بہ رُوئے کار لانے کے باوجود وہ جنرل سٹور میں منڈلاتا رہا جیسے وہ کسی کا منتظر ہو۔ اُس نے بہت سا وقت گٹار بجاتے ہوئے صرف کیا لیکن دوبارہ اُس نے گانے کی ہمت نہیں کی۔ شاید اس کی شکست نے اُسے تلخ بنا دیا تھا۔ دوسرے گاہک اُس کے اس بے ضرر ساز کے عادی ہو گئے تھے۔ ریکابیرن یعنی دکان کا مالک گٹار مقابلے کی اس گائیکی کو کبھی بھلا نہیں پائے گا کیوں کہ اس سے اگلے دن ہی جب وہ خچر کی کمر پر لدے بوجھ کو درست کر رہا تھا تو اس کے جسم کا دایاں حصہ اچانک مردہ ہو گیا اور اُس کی زبان بند ہو گئی۔ ناولوں کے ہیروؤں کی بدنصیبی پر تھوڑا سا ترس کھاتے ہوئے ہم اپنی بدنصیبیوں پر بہت زیادہ ترس کھانے لگتے ہیں۔ ریکابیرن بھی ایسی استقامت کا حامل نہیں تھا جس نے اپنے فالج کو اس طرح قبول کر لیا تھا جس طرح اس سے پہلے اُس نے امریکاکی غیر مہذب تنہائی کو کیا تھا۔ جان وروں کی طرح اپنے حالات کا عادی ہوتے ہوئے اس نے اس وقت آسمان کی طرف دیکھا اور چاند کے گرد موجود ارغوانی ہالے کو بارش کی پیشین گوئی سمجھا۔
ہندوستانی خدوخال والے ایک لڑکے (غالباً اس کے بیٹوں میں سے ایک تھا) نے دروازے کو آدھا کھولا۔ ریکابیرن نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے پوچھا کہ کیا دکان میں کوئی شخص موجود تھا۔ خاموش طبع لڑکے نے نپے تلے اشاروں میں بتایا کہ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ (نیگرو بہ ہر حال اس شمار میں نہیں آتا تھا)لاچار آدمی اکیلا رہ گیا۔ اُس نے ایک ہاتھ سے مختصر دورانیے کے لیے گٹو گھنٹی بجائی جیسے اُس کے پاس حکم چلانے کی کوئی طاقت ہو۔
اس دن کے ڈوبتے سورج کے نیچے میدان تقریباً ایک خیالی چیز لگ رہا تھا جیسے کہ خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ افق پر نقطے کی طرح کچھ جھلملانے لگا پھر یہ اتنا بڑا ہو گیا کہ وہ ایک گھڑسوارمیں تبدیل ہو گیا۔ وہ آیا اور پھر بلڈنگ کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا۔ ریکابیرن نے چوڑے کنارے والا ہیٹ، لمبا سیاہ پانچو اور چتکبرا گھوڑا دیکھا لیکن اُسے اُس آدمی کا چہرہ نظر نہیں آیا ۔ آخرکار گھڑسوار نے سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے کی باگیں کھینچیں اور وہ دلکی چال چلنے لگا۔ کوئی دو سو گز دوری پر وہ تیزی سے مڑ گیا۔ ریکابیرن اب اسے دیکھ تو نہیں سکتا تھا لیکن اُس نے اُسے بولتے ہوئے سُنا۔ اُس نے اُسے نیچے اترتے ہوئے گھوڑے کو جنگلے کے ساتھ باندھتے اور مضبوط قدموں کے ساتھ دکان میں داخل ہوتے ہوئے محسوس کیا۔
نیگرو نے اپنی آنکھیں گٹار پر سے نہ ہٹاتے ہوئے جیسے کہ وہ وہاں کچھ تلاش کر رہا ہو ملائمت سے کہا۔
’’مجھے یقین تھا سینیور۔ میں آپ پر بھروسا کر سکتا تھا‘‘
دوسرے آدمی نے کھردری آواز میں جواب دیا۔
’’اور میں تم پر کر سکتا ہوں۔ کالے آدمی‘‘۔ میں نے تمھیں بہت دنوں تک انتظار میں رکھا لیکن اب میں یہاں موجود ہوں۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر نیگرو نے جواب دیا۔
’’مجھے انتظار کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔ میں نے سات سال تک انتظار کیاہے‘‘
کسی جلدی کے بغیر دوسرے نے وضاحت کی۔
میں سات سال سے زیادہ عرصے تک اپنے بچوں سے ملے بغیر رہا۔ میں نے اُس دن ہی انھیں دیکھا تھا لیکن میں ہر وقت لڑنے والا شخص نظرنہیں آنا چاہتا۔
’’میں محسوس کر سکتا ہوں، میں سمجھتا ہوں جو کچھ آپ کَہ رہے ہیں‘‘۔ نیگرو نے کہا ’’مجھے آپ پر یقین ہے کہ آپ نے انھیں اچھی حالت میں چھوڑا تھا‘‘۔
اجنبی جس نے بار میں ایک نشست سنبھال لی تھی ایک گہری ہنسی ہنسا۔ اُس نے رم کا آرڈر دیا ۔ اُس نے گہری رغبت سے اسے نوش کیا لیکن اسے بالکل ختم نہ کیا۔
’’میں نے انھیں کچھ ایسا مشورہ دیا ہے‘‘ اُس نے برملا کہا۔ ’’یہ بے موقع ہر گز نہیں اور پھر اس پر کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔ میں نے اور چیزوں کے ساتھ انھیں یہ بھی بتا دیا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کا خون نہیں بہانا چاہیے‘‘۔
ایک سُست سُر نیگروکے جواب سے سبقت لے گیا۔
’’آپ نے بہت اچھا کیا ۔ اس طرح وہ ہم جیسے نہیں ہوں گے‘‘
’’کم از کم وہ میری طرح تو نہیں ہوں گے‘‘ اجنبی نے کہا اور پھر اُس نے مزید اضافہ کیا جیسے وہ اونچی آواز کے ساتھ کچھ چبا رہا ہو۔
’’تقدیر نے مجھے مارنے پر مجبور کر دیا اور اب ایک بار پھر اس نے میرے ہاتھ میں چاقو دے دیا ہے‘‘۔
نیگرو نے ،جیسے کہ اُس نے کچھ سنا ہی نہ ہو، ایک صاحبِ نظر کی طرح کہا۔
’’خزاں دنوں کی بڑھوتری کو مختصر کر دیتی ہے‘‘
’’جتنی روشنی رہ گئی ہے وہ میرے لیے کافی ہے‘‘ اجنبی نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا۔
اس نے نیگرو کے بالمقابل کھڑے ہوتے ہوئے اکتاہٹ کے ساتھ کہا۔
’’اس گٹار کو چھوڑو۔ آج ایک اور طرح کا راگ تمھارا منتظر ہے‘‘۔
دونوں آدمی دروازے کی طرف بڑھے۔ باہر نکلتے ہوئے نیگرو منمنایا۔
’’شاید آج یہ سب کچھ مجھ پر اتنا ہی بھاری ہو گا جیسا کہ یہ پہلی بار ہوا تھا‘‘
دوسرے نے سنجیدگی سے جواب دیا
’’پہلی بار اس کا تم پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ تم دوسری بار کے لیے منتظر تھے‘‘
وہ اکٹھے چلتے ہوئے مکانوں سے کچھ دور چلے گئے۔ میدان میں ایک مقام اتنا ہی اچھا تھا جتنا کہ کوئی دوسرا اور چاند چمک رہا تھا۔ اچانک انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ رک گئے اور اجنبی نے مہمیز کو علاحدہ کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے پہلے ہی اپنے پانچوؤں کو اپنی کلائیوں کے گرد باندھنا شروع کر دیا تھا۔ تب ہی نیگرو نے کہا۔
’’اس سے پہلے کہ ہم الجھ جائیں میں آپ سے ایک عنایت کا خواست گوار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مڈبھیڑ میں آپ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا اظہار کریں جیسے کہ آج سے سات سال پہلے آپ نے میرے بھائی کو مارتے وقت کیا تھا‘‘
مارٹن فیرو نے شاید پہلی بار اس گفت گو کے دوران نفرت کی آمیزش کو محسوس کیا تھا۔ اُس نے اپنے لہو میں ایک مہمیز سی محسوس کی۔ وہ بھِڑ گئے اور تیز دھار لوہے نے نیگرو کے چہرے کو نشانہ بنایا۔
سہ پہر کا ابھی ایک گھنٹا ہی گزرا تھا کہ لگا میدان کچھ کہنے کو تھا۔ یہ کبھی کچھ نہیں کہتایا شاید یہ بے حد و حساب کہتا ہے یا شاید ہم ہی سمجھ نہیں پاتے یا ہم سمجھ تو لیتے ہیں لیکن یہ موسیقی کی طرح قابلِ تشریح نہیں ہوتا۔
اپنی کھاٹ پر بیٹھے ہوئے ریکابیرن نے اس خاتمے کو دیکھا۔ ایک حملہ ہوا اور نیگرو پیچھے کی طرف گرا اُس کے پاؤں لڑکھڑا گئے۔ دھوکا دینے کے انداز میں وہ اپنے مخالف کے چہرے پر حملہ آور ہوا اور ایک بڑا وار کرتے ہوئے اُس نے اجنبی کی چھاتی کو چیردیا۔ پھر ایک اور زخم لگایا جو کہ دکان کا مالک واضح طور پر نہ دیکھ سکا اور فیرو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ نیگرو ساکت کھڑا اپنے دشمن کو موت کی تکلیف کو سہتے ہوئے دیکھنے لگا۔ اُس نے اپنے خون آلود چاقو کو گھاس پر صاف کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر وہ مکانوں کے ابھار کی طرف آہستہ سے چل دیا۔ اُس نے اپنا جائز مشن مکمل کر لیا تھا وہ کوئی نہیں تھا ۔ زیادہ مناسب انداز میں کہا جائے تو یہ کہ وہ ایک اجنبی بن گیا تھا۔ اس زمین پر اس کا کوئی اور مشن نہیں تھا مگر اس نے ایک شخص کو مار دیا تھا۔

محل کی حکایت

اُس دن پہلے شہنشاہ نے اپنے محل میں سے شاعر کی نمائش کا اہتمام کیا۔ جب وہ باغ کی ڈھلان سے چمک دار آئینوں اور گنجلک جونیپر ؂ ۱ کی باڑ جس کی مشابہت بھول بھلیوں جیسی تھی کی طرف چل رہے تھے۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایک کر کے مغربی طرز کی ایسی مہتابیاں ؂ ۲چھوڑے جا رہے تھے جو تقریباً لامتناہی ایمفی تھیٹر کی گریڈائن ؂ ۳ کی طرح تھیں۔ پہلے تو ایسے لگا جیسے وہ باہمی رضامندی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہوں۔ لیکن بعد میں وہ کسی بدگمانی یا اندیشے کے بغیر نیچے کی طرف جانے والے اُن سیدھے راستوں کے مسلسل نازک موڑوں اور چھپی ہوئی گولائیوں میں گم ہو گئے۔ آدھی رات کو سیاروں کے مشاہدے اور ایک بروقت اور موزوں کچھوے کی قربانی دینے کی وجہ سے ان کی اس بہ ظاہر طلسمی اقلیم سے گلوخلاصی ہوئی لیکن وہ آخر تک اپنے آپ کو گم ہو جانے کے احساس سے نہ چھڑا سکے۔ بعد میں وہ خواب گاہوں، انگنائیوں، لائبریریوں اور آبی گھڑی سے مزین ڈرائنگ روموں میں سے گزرے اور ایک صبح انھوں نے ایک بُرج سے ایک پتھر کا آدمی تخلیق کیا جو اُن سے ہمیشہ کے لیے کھو گیا۔ چندن کی لکڑی سے بنے ڈونگے میں انھوں نے سب سے درخشاں دریاؤں کو یا صرف ایک ہی دریا کوکئی بار پار کیا۔ شاہی جلوس گزرتا تو لوگ زمین بوسی کرتے لیکن ایک دن وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جہاں ایک شخص نے ایسا نہ کیا کیوں کہ اُس نے کبھی ’’آسمانی بیٹے‘‘ کو نہیں دیکھا تھا اور جلاد کو اس کا سر قلم کرنا پڑا۔ ان کی آنکھوں نے کالے بالوں والے سروں، کالے رقصوں اور سونے کے پیچیدہ نقابوں کو لاتعلقی سے دیکھا جو حقیقی تھا، خود کو اُس سے جو خواب میں دیکھا گیا تھا ،گڈمڈ کرتا تھا بل کہ اس سے بھی زیادہ جو خواب کی ہیئتوں میں سے ایک تھا وہی حقیقی تھا۔ یہ ناممکن معلوم ہوتا تھا کہ زمین باغوں، آبی گزرگاہوں، فنِ عمارت گری اور شان و شوکت کی دوسری ہیئتوں کے علاوہ کوئی چیز ہو۔ ہر سو قدم پر ایک بُرج ہوا کو کاٹتا تھا۔ آنکھوں کو اُن کا رنگ ایک جیسا لگتا تھا حالاں کہ پہلا پیلا اور آخری قرمزی تھا۔ اُن کی درجہ بندی بہت نازک اور سیریز بہت لمبی تھی۔
آخری برج کی بنیاد کے قریب اُس شاعر نے (جو اُن تمام عجائبات سے جو سب کے لیے ایک عجوبہ تھے بے تعلق سا لگتا تھا) ایک مختصر نظم پڑھی جسے آج ہم ایک زندہ رہنے والی نظم کے طور پر یاد کرتے ہیں اور جیسا کہ خوش اسلوب مورخین اکثر کہتے ہیں کہ شاعر نے اس نظم کوموت اورابدیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کا متن گم ہو چکا ہے ۔کچھ کے نزدیک یہ نظم صرف ایک سطر پر مشتمل تھی جب کہ دوسرے کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک لفظ پر مبنی تھی۔ حتمی اورناقابلِ یقین بات یہ ہے کہ یہ بے حد وسیع محل اس نظم میں اپنی باریک ترین جزئیات کے ساتھ موجود تھا۔ شان دار ظروفِ چینی اور اُن کے ڈیزائن۔ صبح صادق کی روشنی اور شام کے دھندلکے، اژدہوں، دیوتاؤں اور فانیوں کے اس شان دار سلسلۂ شاہی کا یہ خوش باش یا بدقسمت باشندہ جو کہ اس کے ناقابلِ پیمائش ماضی میں آباد رہا تھا...ہر کوئی خاموش تھا لیکن شہنشاہ بے ساختہ بول اٹھا ’’تم نے مجھے میرے محل سے محروم کر دیا ہے‘‘ اور جلاد کی تلوار نے شاعر کی گردن اڑا دی۔
کچھ لوگ اس کہانی کو مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی دو چیزیں ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعر کو تو محض ایک نظم پڑھنا تھی جب کہ محل اس کے آخری الفاظ کی ادائی کے ساتھ ہی منظر سے مٹ گیا، غائب ہو گیا اور ختم ہو گیا۔ یقین مانیے ایسے اسطورہ ادبی تخئیلات سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
شاعر شہنشاہ کا غلام تھا اور وہ اسی غلامی میں مر گیا۔ اُس کی نظم اس لیے بھلا دی گئی کیوں کہ وہ فراموش کر دیے جانے کے ہی قابل تھی۔
اس کی نسل کے لوگ ابھی تک متلاشی ہیں لیکن وہ اس کائنات سے متعلق لفظ ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔


(۱) ایک قسم کی صنوبری، سدابہار جھاڑی
(۲) بالکنیاں
(۳ ) سیڑھیوں یا نشستوں کی قطار در قطار کا ایک سلسلہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اردو کی شہوانی شاعری/ڈاکٹر سید امجد حسین